پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر 1 رینکنگ خطرے میں کیوں؟

akbar.ali

اکبر علی |


پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر 1 رینکنگ خطرے میں کیوں؟

ایشیائی ٹیموں کیلئے دورہ آسٹریلیا ہمیشہ سے کٹھن رہا ہے، کنڈیشنز کی بات ہو یا پھر بڑے گراؤنڈ، یا پھر دنیا کی تیز ترین پچز، بڑے بڑوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔ تجربہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے اورکسی ٹیم کا نئی قیادت اور نیا کمبی نیشن ہوتو وہاں کھیلنا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ کینگروز اپنے دیس میں دھلائی بھی بہت کرتے ہیں اور وکٹیں بھی خوب اڑاتے ہیں۔

اور یہی چیلنجز پاکستانی ٹیم کو درپیش ہیں، جو تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے وہاں موجود ہے۔ اتوارکو پہلا میچ سڈنی میں شیڈول ہے جس کیلئے گرین شرٹس نے خوب تیاری کی، نسبتاً کمزور کرکٹ آسٹریلیا الیون ٹیم کیخلاف پریکٹس میچ بھی جیتا۔

یہ الگ بات ہے کہ سیریز پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان اور نئے کوچ کیلیے بہت بڑا امتحان سمجھی جارہی ہے، سرفرازاحمد کو ری پلیس کرنے والے بابراعظم پہلی بار کسی انٹرنیشنل سیریز میں قیادت کریں گے اورپہلی ہی سیریز میں پاکستان کو مختصر فارمیٹ میں ٹاپ رینکنگ بچانے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم رینکنگ کی بات کی جائے تو پاکستان ٹیم 274 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، انگلینڈ 266 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے جبکہ 262 پوائنٹس کے ساتھ آسٹریلیا کا چوتھا نمبر ہے۔ یکم نومبر 2017 میں نمبر ون بننے والی پاکستان ٹیم کو اپنی پوزیشن برقراررکھنے کیلئے آسٹریلیا سے سیریز لازمی جیتنا پڑے گی، چاہے انگلینڈ اورنیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز کا جوبھی نتیجہ نکلے۔ اگر پاکستان ایک میچ جیتنے میں کامیاب رہا تو انگلینڈ کی دو میچوں میں شکست کی دعا کرنی پڑے گی، اگر پاکستان کو کلین سوئپ شکست ہوئی تو دو سال بعد پاکستان ٹاپ پوزیشن سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

ویسے مختصر فارمیٹ میں پاکستان کا پلڑہ بھاری ہے۔ 20 میں سے 13 میچز پاکستان نے جیت رکھے ہیں، جس میں ایک کا فیصلہ سپر اوور پر ہوا تھا۔ آسٹریلوی ٹیم صرف 7 میچز جیت سکی، 6 دوطرفہ سیریز ہوئیں، پاکستان نے 4 بار اپنے نام کیں جبکہ آسٹریلوی زمین پر اب تک ایک ہی میچ ہوا، جس میں کینگروز نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد 2 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

یہ تورہی رینکنگ اور دوطرفہ ریکارڈز کی بات۔۔ ٹیم کمبی نیشن بھی بنانا بابراعظم اور ٹیم مینجمنٹ کیلئے آسان کام نہیں، افتخار احمد اور محمد رضوان کا کم بیک ہورہا ہے، جارح مزاج آصف علی مسلسل مایوس کن پرفارمنس دے رہے ہیں، بابراعظم خود فخرکے ساتھ اوپنر آئیں یا پھر امام الحق کو کھلائیں، وہ بھی اس کشمکش میں میں مبتلا ہیں۔ شاداب خان بھی گزشتہ کئی میچز سے آف کلر ہیں، انہیں کھلائیں یا پھر مرحوم عبدالقادر کے بیٹے عثمان قادر کو موقع دیں، یہ بات بھی ٹیم منیجمنٹ کے ذہن میں ہے۔

پاکستان کے پاس محمد حسنین اور موسی خان جیسے تیز بولنگ کرنے والے بولرزموجود ہیں پر اسکواڈ میں محمد عامر، وہاب ریاض کے ساتھ محمد عرفان بھی شامل ہیں، فاسٹ بولنگ کمبی نیشن کیا ہوگا، اس کا فیصلہ بھی آسان نہیں، اوپر سے آسٹریلوی بلے بازوں نے سری لنکن بولرز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں خوب دھلائی کی، ان فارم بلے بازوں کے سامنے ناتجربہ کاربولرز کو کھلانا کہیں الٹا ہی نہ پڑ جائے۔

آسٹریلیا روانگی سے قبل بابراعظم یہ بیان دے چکے ہیں کہ خود پرفارم کروں گا ساتھی کھلاڑیوں سے بھی پرفارمنس کراؤں گا، تو کپتانی کے ساتھ خود بابراعظم کی پرفارمنس کیسی رہتی ہے ٹیم کیا گل کھلاتی ہے۔ اس پر کڑوروں فینز کی نظریں جڑی ہیں۔

آسٹریلوی کپتان تو ٹی ٹوئنٹی میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کیلئے آستین چڑھائے بیٹھے ہیں اوراس کیلئے وہ سردھڑ کی بازی لگادیں گے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے تو کینگروز کو انہی کے دیس میں شکار صرف اٹیکنگ کرکٹ کھیل کرہی کیا جا سکتا ہے اور یہی بات کپتان، کھلاڑی اور کوچز بڑی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر بابراعظم کی قیادت میں آسٹریلیا کو انہی کی سررزمین پر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پاکستان کا بہت بڑا کارنامہ تصورکیا جائے گا، نئے کپتان بابراعظم اور ہیڈکوچ مصباح الحق کی بلے بلے بھی ہوگی ساتھ ہی آئندہ برس یہیں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتنے کی امیدیں بھی بندھ جائیں گی۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا مضمون اور اس کے مصنف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔