‘اسپتال ٹیسٹ کے نام پر پیسے لے رہے ہیں، حکومت نے انہیں یہ جگہ فلاحی مقصد کےلئے دی تھی’

kamran.sheikh

کامران شیخ‎ |


‘اسپتال ٹیسٹ کے نام پر پیسے لے رہے ہیں، حکومت نے انہیں یہ جگہ فلاحی مقصد کےلئے دی تھی’

 بد قسمتی ہے کہ ملک حالت وباء میں ہے اورکورونا وائرس کے ٹیسٹ کےلئے بھاری رقم وصول کررہے ہیں۔ بعض اسپتال ٹیسٹ کے نام پر پیسے لے رہے ہیں ، نام نہیں لونگا۔لیکن انہیں سوچنا چاہیئے کہ حکومتوں نےانہیں اسپتال کےلئے جو جگہ دی تھی وہ فلاحی مقصد کےلئے تھی ان سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔

یہ الفاظ آج ایک ایسی شخصیت نے کہے جو کار مسلسل کا ایک نام اور پاکستان کے اس ادارے کے بانی ہیں جسے بین القوامی سطح پر توقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔بالکل میرا مطلب معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر ادیب رضوی ہیں جن سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کوکورونا وائرس کے ٹیسٹ  کےلئے تیار کرلیاگیاہے۔کٹس بھی مل چکی ہیں اور آٹھ مشتہ افراد کے ٹیسٹ لیے جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں زیر علاج مریضوں کا مدافعتی نظام کمزور ہے اس لیے وہ کورونا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ادیب رضوی نے گفتگو میں کہا کہ تمام مریض ہماری ذمہ داری ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ٹیسٹ لیے جارہے ہیں۔

لیکن ہر شخص کو ضرورت نہیں صرف ایسے افراد جنہوں نے متاثرہ ممالک کا سفر کیا ہو یا کسی سے ملاقات کی ہو یا پھر نمونیا، نزلہ زکام، چیسٹ انفیکشن اور کھانسی ہو تو انہیں احتیاطی طور پر ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔

ایس آئی یو ٹی میں یہ سہولت مفت صبح دس بجے سے رات دس بجے تک فراہم کی جائیگی۔

انہوں نے انتہائی افسوس کے ساتھ توجہ دلائی اور نام لیے بغیر کہا کہ بہت سے نامور نجی اسپتال کورونا ٹیسٹ کرنے کے نام پر بھاری رقوم وصول کررہے ہیں۔انہیں اس کام کو قومی فریضہ سمجھنا چاہیئے۔ حکومت وقت نے انہیں زمین فلاحی کاموں کےلئے فراہم کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ادیب رضوی نے کہا کہ روزانہ کھانے اور کمانے والوں کےلئے انتہائی کٹھن مرحلہ ہے کہ گھروں میں رہنا پڑے لیکن ہم سب کو ملکر اس بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ کورونا سے بچاو کےلئے حکومتی اعلانات اپنی جگہ بالکل درست ہیں کہ گھروں میں رہیں،میل جول سے گریز کریں لیکن دیہاڑی دار طبقہ  اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔

شاید یہ بات ڈاکٹر ادیب رضوی نے اس لیے کہی یا سوچی کہ انکا اپنا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا وہ جب حصول علم کےلئے پاکستان آئے تو یہاں اخبارات بھی بیچے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہاسٹل میں پڑھنے والے طلباء کس قدر مشکل حالات میں نہ صرف تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ آگے بڑھنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے بھی یہی ٹھان لی اور جہد مسلسل کا آغازہوا کہ آٹھ بستروں پر مشتمل چھوٹی سی جگہ پر گردوں کا وارڈ بنایا جس میں آج 970 ڈائلائسز اور 5680 ٹرانسپلانٹ کیے جارہے ہیں ۔ یہ ادارہ ایک ایسا درخت بن چکا ہے کہ بین القوامی سطح پر اسے حوصلہ افزائی مل چکی ہے۔

ڈاکٹر ادیب رضوی کو مختلف قومی و بین القوامی اعزازات و انعامات کے ساتھ ساتھ برٹش ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل کی اعزازی رکنیت بھی دی گئی ہے۔

انہوں نے پاکستانی عوام، بالخصوص سندھ کےلوگوں کو پیغام دیا کہ اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور فی الحال گھروں پر آئسولیٹ ہوجائیں ، رابطے کم کردیں ۔ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں سب نے ملکر اس وباء سے لڑنا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔