ہندو انتہاء پسندوں کی خواہش متنازع قانون کی شکل میں ڈھل گئی

mehdi-kazi

مہدی قاضی |


ہندو انتہاء پسندوں کی خواہش متنازع قانون کی شکل میں ڈھل گئی

سن 1989 میں بھارتی قبضے کےخلاف شروع ہونے والی مسلح جدوجہد کے بعد سے آفیشل اعداد و شمار کے مطابق 50ہزار افراد سے زائد شہید ہوچکے ہیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں اجتماعی قبریں دریافت کی جاچکی ہیں اور انٹرنیشنل کرائسز گروپ کےاندازے کے مطابق مقبوضہ وادی میں 30ہزار بچے یتیم اور کم از کم ہزار خواتین تقریباً بیوہ ہیں۔ ‘تقریباً بیوہ’ سے مراد ہے وہ خواتین جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور ان کی موت کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

گزشتہ متعدد سالوں سے کشمیری نوجوان مسلح بھارتی افواج پر احتجاجاً پتھراؤ کررہے ہیں جو بھارتی قبضے کےخلاف کشمیریوں کے جذبات کا اظہار ہے۔

رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو دلّی سرکار نے آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 اے نکال کر مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ ساتھ ہی مسلم اکثریتی خطے کو دو یونین ٹیریٹریزمیں تقسیم کردیا گیا جس میں ایک علاقہ لداخ ہے اور کشمیر کو جموں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔

بھارتی سرکاری کی جانب سے کیےجانے والے اس فیصلے سے گھنٹوں پہلے مقبوضہ وادی میں خطرناک کرفیو نافذ کردیا گیا اور دیگر دنیا کے تمام رابطوں کو معطل کردیا گیا۔

اگرچہ نئی دہلی نے سالوں میں جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو کافی حد تک ختم کردیا تھا لیکن یہ اب بھی کافی اہم کام انجام دےدہی تھی۔جیسے کہ آرٹیکل 35 اے کسی بھی قسم کی آبادیاتی تبدیلی سے روکتا تھا کیونکہ یہ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں زمین خریدنے سے روکتا ہے۔

اس اہم چیز کے ختم ہونے کی صورت میں کشمیریوں اور بھارت کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی ہے اور کشمیریوں کی آواز دبانے کےلئے عین ممکن ہے بھارت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل غارت کی جائے۔

آرٹیکل 35اے کو ہٹانے سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کشمیر کی ہیئت کو بدل دےگا۔ 2011 میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیر کی سوا کروڑ کی آبادی کا 68فیصد مسلمان ہے۔ مقامی حکومت اب غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے سے روک سکتی۔ ممکن ہے جس طرح چین نے تبت میں ‘ہان چینی’ آبادی بڑھائی ویسے ہی بھارت کشمیر میں ہندو آبادی بڑھائے۔

ترقی کے نام پر کیے جانے والے بھارتی سرکار کا فیصلہ، ہندو انتہاء پسند اور مسلح تنظیم آر ایس ایس کا کافی عرصے سے تقاضہ تھا۔ بھارتی جنتا پارٹی کو آر ایس ایس کی ہی اولاد تصور کیا جاتا ہے۔

دوہزاردو میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا نعرہ لگا کر آر ایس ایس نے ایک قرارداد منظور کی جس کے مطابق صاف دِکھتا تھا کہ ہندو انتہاء پسند مقبوضہ وادی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی ایک اور ہندو انتہاء پسند تنظیم وشوا ہندو پرشاد نے ایک اور قرارداد پیش کی جس میں جموں اور کشمیر کے پانچ ہندو اکثریت اضلاع کو علیحدہ ریاست قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ کشمیر کی وادی میں دریائے جہلم کا شمال مشرقی علاقہ ہندوؤں کو بسانے کےلئے اور لداخ کو یونین ٹیریٹریز کی حیثیت دی جائے۔

اب ان تقاضوں کو قانون کی شکل دےدی گئی ہے۔ لداخ پر مرکز میں موجود بی جے پی حکومت کرے گی۔ اس انتظامیہ کے تحت مسلمان ویسے ہی غیر محفوظ محسوس کریں گے جیسے بھارت کے دیگر حصوں میں کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ مسلمانوں اور بدھ متوں کے درمیان موجود توازن کو ہندوں کو زمینیں خریدنے کی اجازت دے کر تبدیل کیا جاسکے گا۔