!کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے

kawish

کاوش میمن |


!کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے وار جاری ہیں پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آچکا ہے اب تک 2450 سے زائد کیس رپورٹ اور 35 افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں۔ جہاں مختلف ممالک اس وبا سے نمٹنے کیلئے سخت فیصلے کررہے ہیں وہیں پاکستان میں بھی اب سخت اور کٹھن فیصلے کئے جارہے متعدد ممالک لاک ڈاؤن جاری ہے اور لوگوں کی نقل و حمل کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔ چونکہ اس وائرس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا اس لیے ممالک اپنے طور پر فیصلے کررہے ہیں۔

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے معاملے پر مختلف آراء پائے جاتی ہیں، سندھ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے دیگر تمام صوبوں نے بھی لاک ڈاؤن کردیا۔ اس فیصلے سے یقیناً ایک طرف تو اس وباء پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے جیسا کے ہمارے سامنے چین کی مثال موجود ہے لیکن دوسری طرف وہ مزدور طبقہ جو روز کماتا ہے اس کا کیا ہوگا؟ اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ وہی غریب طبقہ متاثر ہورہا ہے جس کی طرف ہمارے وزیراعظم صاحب بھی بار بار اشارہ کررہے ہیں کہ اگر پورے ملک کو بند کردیا جائے گا تو وہ غریب طبقہ جو روزانہ کماتا اور کھاتا ہے وہ تو ویسے ہی مر جائے گا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن سے اس وائرس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اب تک اس کے مثبت اثرات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں مگر دوسری جانب ہمیں ان غریب لوگوں کی امداد کیلئے بھی اقدامات کرنے پڑیں گے اور ایک جامع پلان مرتب کرنا پڑے گا جس کے تحت مستحق افراد کو راشن پہنچایا جاسکے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شہری بھی اب اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں تاکہ وہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بناسکیں۔ ہم نے کراچی سمیت دیگر شہروں میں دیکھا کہ پابندی کے باجود شہری گلی محلوں میں مٹر گشت کرتے رہے ہیں۔ لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ اس وبا کا پوری قوم کو یکجا ہو کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔

چین یا دیگر ممالک کی اگر ہم مثال دیتے ہیں تو وہاں کی عوام نے اپنی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ان کی ہدایت پر عمل بھی کیا۔ سندھ حکومت اور وفاقی سے اپیل بھی کرتا ہوں کہ صرف اعلان سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ سختی کی جائے کیونکہ ہمارے ملک میں بسنے والے باسیوں کو ہر بات تھوڑی دیر سے سمجھ میں آتی ہے مگر اس معاملے میں اگر دیر کی گئی تو بہت دیر ہو جائے گی اور پھر ہمارے پاس سوائے افسوس کہ اور کچھ نہیں ہوگا البتہ حکومت کو چاہیئے کہ جو فیصلہ کریں اس پرعملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔