تھوڑا گھبرالیں اور گھروں میں رہیں

kawish

کاوش میمن |


تھوڑا گھبرالیں اور گھروں میں رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہلک وبا نے پنجے گاڑلیے ہیں چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس اب دنیا کے مختلف ممالک میں تباہی مچا رہا ھے ترقی یافتہ ممالک اس وبا سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤن جیسے سخت فیصلے کررہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے یقیناً صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مدد مل رہی ہے وہیں دوسری طرف اگر ہم پاکستان بھارت جیسے ممالک کی بات کریں تو یہاں لاک ڈاؤن نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ دیہاڑی دار طبقہ شدید متاثر ہورہا ہے دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگیا ہے۔

پاکستان میں لاک ڈاؤن سے کیسز کی تعداد میں تو کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ٹیسٹنگ کی تعداد کو بڑھایا نہیں جارہا ہے جس سے صورتحال واضح ہوسکے کہ پاکستان میں کل کتنے مریض اس مہلک وائرس کا شکار ہیں تاکہ ان افراد کو الگ تھلگ کردیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہمیں ایک پیج پر نظر نہیں آتیں، اس کٹھن وقت میں بھی صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر نااہلی کے الزامات لگا رہی ہیں۔

وزیراعظم صاحب آپ قوم سے کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے خدارا اس قوم سے کہیں کہ تھوڑا گھبرا لیں، اس وائرس کے سامنے  جہاں کئی ایٹمی طاقتیں بے بس ہوگئی ہیں وہیں اگر ہم اپنی بات کریں تو ہمارے ملک میں صحت کے حوالے سے جو صورتحال ہے اس سے سب اچھی طرح واقف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صوبہ سندھ نے سب سے پہلے اس وائرس سے نمٹنے کیلئے سخت فیصلے کیے۔ تعلیمی اداروں سمیت تمام ان مقامات کو بند کردیا جہاں عوام کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔

سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر دیکھتے دیکھتے بزدار سرکار سمیت دیگر صوبوں نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اور پھر وزیراعظم بھی قوم سے مخاطب ہوئے اور بتایا کہ لاک ڈاؤن ضروری ہے۔ خان صاحب آپ درست فرماتے ہیں کہ پاکستان میں متوسط طبقہ متاثر ہوگا لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ حاکم وقت کی ذمہ داری ہے کہ ان غریب لوگوں کی مدد کی جائے اور ان  تک راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

خان صاحب آپ نے غریب اور مستحق افراد کو احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے دیئے ہیں جو کہ یقیناً قابل تعریف ہے لیکن ابھی بھی ایسے کئی مستحق خاندان جو اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں ان لوگوں تک بھی آپ کے ٹائیگر فورس کے ذریعے راشن فراہم کیا جائے۔ لیکن سلام پیش کرتا ہوں میں ان فلاحی اداروں کو جو اس مشکل وقت میں آگے آئے اور اپنی مدد آپ کے تحت مستحق افراد کی مدد کررہے ہیں افسوس کہ جو کام حکومتوں کو کرنا چاہیئے وہ کام یہ فلاحی ادارے کررہے ہیں۔

آخر میں اپنے ہم وطنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ خدارا اپنے گھروں میں رہیں اور غیر ضروری سڑکوں پر مٹر گشت نہ کریں ایسے بہت سے کام آپ گھر میں رہ کر کرسکتے ہیں جس کیلئے آپ وقت کی تلاش میں رہتے تھے۔ پورا دن موبائل فون یا دیگر دوسرے فضول کاموں میں مصروف رہنے سے بہتر ہے کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اس قرنطینہ زندگی کو گزاریں۔ دوسرا یہ کہ مساجد میں اجتماعات پر تو پابندی ہے اسی لئے اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں اور اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ پوری دنیا کو اس جان لیوا وبا سے جلد نجات عطا فرمائے۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔