ڈاکٹر فرقان کا قاتل کون؟ کورونا یا نظام


ڈاکٹر فرقان کا قاتل کون؟ کورونا یا نظام

کورونا وائرس ہوجانے کا جرم اور پورے اہلخانہ کی گرفتاری کے خوف کا ڈر لیے ڈاکٹر فرقان الحق بالاآخر دم توڑ گئے۔

جب جان لبوں پرتھی اسوقت وہ خود فون پر اپنی بھتیجی کو کھ رہے تھے کہ “نہیں بیٹا تم نہیں جانتیں کہ سب کو پتہ چل گیاتو کیا ہوگا”۔ محلے میں تماشا بن جائیگا،گھر میں بیٹیوں کا ساتھ ہے۔ یعنی محلے میں بدنامی کےخوف نے بہت دیر تک انھیں اسپتال جانے سے روکےرکھا۔

اس وقت کراچی میں صورتحال کچھ یوں ہے کہ خوف کےمارے مشتبہ افراد بھی اپنا کورونا کا ٹیسٹ نہیں کروارہے کیونکہ اگر مثبت آگیا تو محکمہ صحت اور متعلقہ ادارے وہ تماشا بنائیں گے کہ بدنامی سے ڈرتے ہوئے ہی جان نکل جائے۔ پورے اہلخانہ کو  گھر میں بند کرکے سب جیل بنادیا جائیگا۔ پاکستان میں کورونا وائرس کا مریض ہونا ایک ایسا سماجی دھبہ بنتا جارہاہے کہ عام بیمار شہری بھی اسپتال جانے سے گریز کررہےہیں۔

وہ چونسٹھ سالہ  ڈاکٹر فرقان جنھوں نے ساری زندگی کسی مریض کا علاج کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ خود اپنے مریضوں کے ساتھ ہنس کر انکی ہمت بڑھانے والے دو گھنٹے تک ایمبولینس میں مارے مارے پھرتے رہےلیکن کسی بھی اسپتال نے انھیں ایڈمٹ نہیں کیا۔ باعث شرم بات تو یہ کہ جس پرائیویٹ اسپتال میں وہ پندرہ سال سے ملازمت کررہے تھے اس نے بھی لینے سے منع کردیا تو آخری سانسیں لیتے واپس گھر پہنچے اور اہلیہ کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔

ڈاکٹرفرقان الحق کا تعلق سندھ سے تھا وہ ماہر امراض قلب اور بلدیہ عظمی کراچی کے اسپتال کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز (سولہ نمبر۔ فیڈرل بی ایریا) میں بطور ریذیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آرایم او) تعینات تھے۔ وہ دسمبر 2016 میں ریٹائر ہوئے اور دستگیر میں قائم نجی اسپتال ٹرائیمیکس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے سرکاری جاب کے ساتھ اس نجی اسپتال میں اپنی خدمات پندرہ سالوں سے جاری رکھی ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر فرقان کی اہلیہ صائمہ فرقان کے مطابق انتقال سے ایک ہفتے قبل انکی طبیعیت بگڑی اور انھوں نے ڈاو یونیورسٹی اسپتال سےکورونا کا ٹیسٹ کروایا جوکہ مثبت آیا انھوں نے خود اپنے آپکو گھر میں ہی قرنطینہ کرلیا تھا۔

اتوار تین مئی کو انکی طبیعیت بگڑی تو انکے کچھ جاننے والے ڈاکٹرز نے گھر آکر چیک کرکے فوری طور پر اسپتال جانے کا مشورہ دیا لیکن وہ تماشا بننے اور سماجی بد نامی کے ڈر سے کتراتے رہے۔

سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ زیر گردش ہے جس میں انکی بھتیجی انھیں قائل کررہی ہیں کہ آپ اسپتال چلے جائیں اس میں بھی ڈاکٹر فرقان کہہ رہے ہیں کہ بیٹا تم نہیں جانتیں کہ یہاں یہ کتنا بڑا مسئلہ بن جائیگا اور محلے میں تماشا بنے گا۔

ڈاکٹر ندا جوکہ ڈاکٹر فرقان کی بھتیجی ہیں وہ اس آڈیو کلپ میں اپنے چچا سے گفتگو کررہی تھیں۔ اہلیہ کے مطابق جب انکی طبیعیت زیادہ بگڑی،سانس لینے میں دشواری کا سامنا زیادہ ہوا تو اسوقت انکی بھتیجی نے بتایا کہ انڈس اسپتال میں ابھی بیڈ خالی نہیں ہے۔ اسکے بعد آغا خان اسپتال فون کرکے معلوم کیا گیا تو فون پر منع کردیا گیا۔ اس دوران انھوں نے کال کرکے امن ایمبولینس کو بلایا توایمبولینس کے عملے میں سے کسی نے بھی ڈاکٹر کو ہاتھ تک نہ لگایا انکی اہلیہ اور چاروں بیٹیوں نے ملکر انھیں ایمبولینس پر منتقل کیا اور یوں وہ عزیزآباد کے ایک نجی اسپتال گئے وہاں داخلہ نہیں ملا۔

پھر ایس آئی یو ٹی گئے جہاں بھی وینٹی لیٹر میسر نہ ہونے پر مایوسی کاسامنا کرنا پڑا۔ پھر واپس اس اسپتال یعنی ٹرائمیکس پہنچے جہاں وہ گذشتہ پندرہ سالوں سے خدمات انجام دے رہے تھے اس اسپتال نے بھی انھیں یہ کھ کر طبی امداد نہ دی کہ کورونا کے مریضوں کےلیے یہاں سہولت نہیں ہے۔ بالاآخر حالت نزع کو پہنچنے کےبعد سب جگہ سے مایوس ہوکر وہ گھر لوٹے اور اپنی اہلیہ کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔

محکمہ صحت نے اس پر موقف اپنایا ہے کہ ڈاکٹر فرقان دو گھنٹے تک ایمبولینس میں ایک سے دوسرے اسپتال جاتے رہے لیکن کہیں مطمئن نہ ہوئے۔

جبکہ ایس آئی یوٹی کے ترجمان نے بھی تردید جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کے انتقال پر افسوس ہے اور ادارے نے پوری تحقیق کی ہےکہ ڈاکٹر فرقان ایس آئی یوٹی نہیں آئے۔ ترجمان کی پریس ریلیز میں یہ بھی لکھا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی ڈاکٹر فرقان کو آتے نہیں دیکھا گیا۔

محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق کراچی کے جناح اسپتال میں 45، اوجھا انسٹیٹیوٹ کراچی میں 30، ایس آئی یوٹی میں 50، ڈاکٹر رتھ فاو سول اسپتال میں 84، لیاری جنرل اسپتال میں 6، قطر اسپتال میں 2، این آئی سی ایچ میں 37، بینظیربھٹو ٹراما سینٹر میں 26، سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں 4 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں جو کہ مکمل فنکشنل ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈاکٹر فرقان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی جو کہ ان تمام اسپتالوں کے علاوہ کسی نجی اسپتال می بھی نہ ملا اور نتیجتاً ایک ایسا مسیحا اس دنیا سے چلاگیا جس نے خود کبھی کسی مریض کو علاج سے منع نہیں کیا۔ اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے۔۔۔

سندھ حکومت نے اس پر بھی ایک کمیٹی بنادی ہے جوکہ  کی تحقیقات کررہی ہے۔

ڈاکٹرفرقان تو چلے گئے لیکن کئی سوالات اس نظام کےلیے چھوڑ گئے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔