ادارے غریب، ملازمین امیر


ادارے غریب، ملازمین امیر

کراچی کے خوشحال بلدیاتی ادارے جس تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں انکے ملازمین اس سے دگنی رفتار سے امارت کی منازل طے کرتے جارہے ہیں، کے ڈی اے ہو یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا پھر واٹر بورڈ کسی نہ کسی مافیا کی جکڑ میں ہیں، کے ڈی اے میں جعلسازیوں کے ذریعے زمینوں پر قبضے اور ہیرا پھریوں سے ادارے کو کنگال کیا گیا اور اب یہ عالم ہے کہ ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کیلئے ہر ماہ سندھ حکومت کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ مگر ادارے میں کوئی کام بغیر رشورت کے ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

دوسرا ادارہ ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، جو کبھی کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہوا کرتا تھا، ادارے کو تباہ کرنا مقصود تھا لہذا اسے سندھ حکومت کے ماتحت کرکے ایس بی سی اے بنادیا گیا، سندھ میں بھی دفاتر کھولے گئے، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے 60 اور 40 کے تناسب سے سیاسی بھرتیاں کی اور پھر لوٹ مار کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک بغیر کسی وقفہ کے جاری ہے۔ ہر ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسٹیٹن ڈائریکٹر، سینئر بلڈنگ انسپکٹر اور بلڈنگ انسپکٹر ہی نہیں بلکہ چند نائب قاصد بھی کروڑ پتی ہیں۔

سپریم کورٹ نوٹس لے لیا کوئی اور غیرقانونی تعمیرات کے دھدنے میں اتنا پیسہ ہے کہ کوئی اسے نہ تو رکواسکتا ہے اور نہ ہی ختم کراسکتا ہے، بلڈنگ کنٹرول میں آغا مقصودعباس نے سیٹ کی اصطلاح متعارف کرائی تھی، اس سیٹ اپ سے جو جوڑا مالا مال ہوگیا، 15، 16، 17 اور 18 گریڈ کے ملازمین کے اہل خانہ کے ہمراہ دوروں کی طویل فہرست ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

جس ادارے کا ڈائریکٹر جنرل سال میں بمشکل ایک سے دو بار بیرون ملک جاسکے مگر اسی ادارے کا انسپکڑ اور اے ڈی کئی کئی بار دنیا کے مہنگے ممالک میں گھر والوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے جائے تو حیرت تو ہوگی۔ اور ان کے پاسپورٹ کئی کئی بکس دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کہاں کہاں کا سفر کرچکے ہیں۔

یہ تو بات تھے ڈپٹی ڈائریکٹرز تک کی، ڈائریکٹرز کو تو ملازمت کی ضرورت ہی نہیں رہی، کئی تو خود تعمیراتی صنعت سے وابستہ ہیں، بھائی، بہنوئی یا بیٹوں کے ذریعے بلڈرر سے شراکت داری ہے اور کاروبار سیٹ ہے۔ لیکن لالچ بری بلا ہے، حوس کم ہی نہیں ہوتی، گلشن اقبال، جشمید کواٹرز، گلبرگ، لیاقت آباد، ناظم آباد، سائٹ، شاہ فیصل کالونی، لانڈھی اور کورنگی سمت شہر کا کونسا علاقہ ہے جسے مسلسل جاری غیرقانونی تعمیرات کے ذریعے تباہ نہیں جایا جارہا۔ نئے ڈی جی کے آنے پر نیا سیٹ اپ بنایا جارہاہے، پرانے کارندوں کی جگہ نئے کاروندوں کو دی جارہی ہے، عابد شاہ، الطاف کھوکھر، راشد ناریجو، شہزاد کھوکھر، ضیا کالا، آصف شیخ کی جگہ سمیع ڈانسر، شکیل جمالی، شریف موٹا، جہانگیر مگسی، اظہر خان، زرغام لے رہے ہیں کیونکہ سیٹ اپ کو پیسہ چاھیئے، پہلے جمیل دیتا تھا اب کوئی اور دے گا، پھر رشوت کے نوٹ گنے کی ویڈیو منظر عام پر آئے یا رشوت کیلئے بلڈنگ توڑنے کی دھمکیوں بھری آڈیو لیک ہوجائے ایک شو کاز نوٹس سے آگے کچھ نہیں ہوگا، ورنہ انکوائری ادریس عبدالغفار کو نہیں بلک صامت علی خان کررہے ہوتے ۔

لیکن اس سب کھیل یہ اس شہر کی جو بربادی ہورہی ہے وہ بھگتیں گے ہم سب، رشورت لے کر تباہی کی اجازت دینے والے بھی اور حرام کمائی کے ذریعے دولت اکھٹی کرنے والے بھی۔۔۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔