ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

kawish

کاوش میمن |


ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

لاہور قلندرز کی دریافت اور پاکستان سپر لیگ سے پروان چڑھنے والے نوجوان فاسٹ بولر حارث رؤف کے ان دنوں سوشل میڈیا سمیت پوری دنیا میں چرچے ہورہے ہیں، نوجوان کھلاڑی نے اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ بگ بیش لیگ میں کیا جہاں انہوں نے صرف 3 میچز میں 10 سے زائد وکٹیں لیں اور ہیٹ ٹرک حاصلِ کرکے شاندار ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایس ایل سے نیا ٹیلنٹ ملا ہے، کئی ایسے کھلاڑی ملے جنہیں کوئی منہ تک نہیں لگاتا تھا اور اب وہ بھی اپنی کارکردگی سے منظر عام پر آگئے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کی مقبول فرنچائز لاہور قلندرز کی کارکردگی اتنی اچھی تو نہیں رہی اور اب تک پی ایس ایل کے تمام ایڈیشن میں آخری نمبر پر رہی ہے لیکن پلیئرز ڈیولپمنٹ کے معاملے میں قلندرز نے دیگر تمام فرنچائز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کام پی سی بی کو کرنا تھا وہ لاہور قلندرز کرنے لگی اور ملک کے چپے چپے میں نوجوان کھلاڑیوں کے ٹرائلز لیے ان ہی نوجوان کھلاڑیوں میں حارث رؤف بھی شامل تھے جسے عاقب جاوید نے جانچ لیا۔ اس کے بعد حارث کی صلاحیتوں کو مذید نکھارا گیا اور آسڑیلیا میں مقامی کلب کیلئے میچز کھیلے اس کے بعد پی ایس ایل میں قلندرز کا حصہ رہے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب حال ہی میں بگ بیش لیگ میں میلبورن اسٹارز کے ساتھ  معاہدہ ہوا۔

قسمت اچھی تھی کہ ڈیل اسٹین کے فٹنس مسائل کی وجہ انہیں کارکردگی دکھانے کا موقع ملا، حارث نے آغاز ہی میں دو وکٹیں حاصل کرکے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے جس کے بعد ایک میچ میں تو ہیٹ ٹرک بھی حاصل کی۔ اس شاندار کارکردگی دکھانے پر حارث کے چرچے ہونے لگے اور راتوں رات مقبول ہوگئے۔

بین الاقوامی اخبارات کے صفحہ اول پر حارث رؤف کی تصاویر کے ساتھ سرخیاں لگ گئیں، ایسے باصلاحیت کھلاڑی اس وقت ارباب اختیار کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن افسوس! یہاں کون کس کی سنتا ہے؟ ہاں اگر کسی کا چچا چیف سلیکٹر ہو یا پھر کوئی بڑے عہدے پر ہو تو اس کو فوراً موقع مل جاتا ہے اور باصلاحیت کھلاڑی موقع کا انتظار کرتے ہی رہ جاتے ہیں۔

پی سی بی کو چاہیئے کہ وہ اچھے کھلاڑیوں کا انتخاب کرکے انہیں نیشنل کرکٹ  اکیڈمی میں لائے اور ان کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائے، پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے بس تراشنے کی ضرورت ہے۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔