لاہور قلندرز دھمال ڈالنے کیلئے تیار۔۔۔

kawish

کاوش میمن |


لاہور قلندرز دھمال ڈالنے کیلئے تیار۔۔۔

پاکستان میں ایک بار پھر کھیلوں کے میدان سجنے لگے ہیں، سری لنکا کے بعد اب بنگلادیشی ٹیم بھی پاکستان کے دورے پر ہے تو دوسری طرف پاکستان سپر لیگ کے آغاز میں بھی بس اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ شائقین کرکٹ بے صبری سے پی ایس ایل کا انتظار کر رہے ہیں ویسے تو تمام ٹیمیں ہی پاکستان سپر لیگ کی پہچان ہیں لیکن ایک ایسی ٹیم بھی ہے جو پورا سال متحرک رہتی ہے اور اسی باعث پاکستان سپر لیگ بھی پورا سال لوگوں کے ذہنوں میں رہتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو بالکل غلط نہیں ہوگا کہ لاہور قلندرز پی ایس ایل کی سب سے مقبول اور متحرک فرنچائز ہے جو بدقسمتی سے پی ایس ایل کے تقریباً تمام ہی سیزن میں  اپنی کارکردگی سے شائقین کو مایوس کردیتی ہے لیکن اس کے باوجود لاہور قلندرز کے مداح اور ٹیم ہر سال ایک نئے جذبے کے ساتھ میدان میں نظر آتے ہیں اور ان کا یہی انداز ان کی مقبولیت کی وجہ بنا ہے۔

 لاہور قلندرز گزشتہ 4 سالوں سے بہترین ٹیم اور بہترین مینجمنٹ کے باوجود اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے، ہمیشہ بڑے بڑے اور نامی گرامی کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود قلندرز نے اپنے فینز کو مایوس کیا ہے۔ اس سال بھی لاہور قلندرز میں کئی مایہ ناز کھلاڑی موجود ہیں جن میں سرفہرست آسڑیلیا سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج بلے باز کرس لین ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا یہ بڑے نام اس بار قلندرز کو میدان میں کامیابی دلا سکیں گے یا پھر ہر بار کی طرح اس سال بھی قلندرز کو سپورٹ کرنے والے مایوس ہونگے۔

 دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کے شروع ہوتے ہی ہر کسی کی زبان پر رانا فواد کا نام ضرور ہوتا ہے، یہاں تک کہ اسٹیڈیم میں کیمرے کی آنکھ بھی رانا فواد پر ہی رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رانا فواد اور قلندرز نے فراخ دلی کے ساتھ پاکستان میں کرکٹ کی خدمت کی ہے۔

ہر سال قلندرز نے اپنی کارکردگی سے تو ضرور شائقین کو مایوس کیا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کو ٹیلنٹ بھی ضرور فراہم کیا جن میں شاہین شاہ اور حارث رؤف نمایاں ہیں۔ قلندرز کی انتظامیہ پورا سال ملک بھر میں ٹینلٹ تلاش کرتی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کی کھوج لگاتی ہے۔ کرکٹ کیلئے قلندرز کی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا، جو کام پی سی بی کو کرنا چاہیئے وہ پاکستان سپر لیگ کی ایک فرنچائز کررہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیئے کہ اس کام میں قلندرز کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔

 بہرحال لاہور قلندرز اس مرتبہ ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ دھمال ڈالنے  کیلئے تیار ہے اور ٹائٹل جیتنے کے لیے پر امید ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس دفعہ قلندرز اپنے ہوم گراؤنڈ میں بہترین کارکردگی دکھا پائیں گے یا ہر بار کی طرح ان کے مداح ایک بار پھر مایوسی کا شکار رہیں گے۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مصنف کا تعارف: وفاقی اردو یونیورسٹی میں ابلاغِ عامہ کا طالب علم ہوں، سیاسی معاملات پر گہری نظر اور صحافت میں کیریئر بنانے کا شوق ہے، ابتدائی بچپن سے ہی الیکٹرانک میڈیا میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہوں۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔