سب کچھ بدل گیا، کچھ نہیں بدلا تو وہ ہے لاہور کی قسمت

kawish

کاوش میمن |


سب کچھ بدل گیا، کچھ نہیں بدلا تو وہ ہے لاہور کی قسمت

پاکستان سپر لیگ کے سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے شائقین کرکٹ پر جوش ہیں اور اس میگا ایونٹ کو خوب انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم اور پسندیدہ کھلاڑیوں کو سپورٹ بھی کررہے ہیں۔ دوسری جانب لاہور قلندرز نے ایک دفعہ پھر اپنی غلطیوں اور خامیوں سے کچھ نہیں سیکھا اور ہر سال کی طرح اس سال کا آغاز بھی یکے بعد دیگرے شکست سے کیا ہے۔

لاہور قلندرز کے فینز ایک بار پھر مایوس ہوگئے اور یہی صورتحال لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں بھی دیکھی گئی جہاں میزبان ٹیم کے میچز ہونے کے باوجود شائقین کی تعداد کم رہی ہے۔ لاہور قلندرز کو پے درپے شکست کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کا خوب مذاق بھی بنایا جارہا ہے۔

 سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسلسل پانچویں ایڈیشن میں بھی ٹیم وہی غلطیاں دوہرائے جارہی ہیں، سب سے پہلے تو سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی کے باجود ایک ناتجربہ کار کھلاڑی کو کپتان بنادیا گیا۔

عاقب جاوید گزشتہ 5 برسوں سے لاہور قلندرز کے ساتھ منسلک ہیں لیکن ان کی موجودگی سے ٹیم کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے اور ایک کے بعد ایک سیزن میں ٹیم شکستوں کے بھنور میں دھنستی ہی چلی جارہی ہے۔

ٹیمیں ہار سے بہت کچھ سیکھ جاتی ہیں لیکن لاہور قلندرز نے 5 سالوں میں اس سے کچھ نہیں سیکھا۔ ٹیم کے کرتا دھرتا پورا سال کھلاڑیوں کی کھوج میں شہر شہر جاتے اور محنت کرتے ہیں لیکن جب کارکردگی دکھانے کا وقت آتا ہے تو ٹیم ہر سال کی طرح سب سے آخری نمبر پر ہی نظر آتی ہے۔

میرا یہ خیال ہے کہ لاہور قلندرز جب تک اپنی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرے گی اور ٹیم میں کپتان سمیت پوری مینجمنٹ میں بڑی تبدیلیاں نہیں کرے گی تب تک ان کیلئے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

اختتام کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک بات یہ بھی آرہی ہے کہ دن بدل گئے، سال بدل گیا۔۔۔ یہاں تک ہے کہ وزیراعظم بھی بدل گیا لیکن نہیں بدلا تو لاہور قلندرز اور رانا صاحب کا نصیب۔۔۔


نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا مصنف یا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔