ترکش ڈرامے ‘ارطغرل’ کی مخالفت کرنے والے اداکاروں کو نیلم منیر کا جواب

ویب ڈیسک |


ترکش ڈرامے ‘ارطغرل’ کی مخالفت کرنے والے اداکاروں کو نیلم منیر کا جواب

اسلامی تاریخ پر مبنی ترکش ڈرامہ ‘ارطغرل’ اس وقت پاکستان میں نئے ریکارڈز قائم کررہا ہے اور اسے ناظرین کی جانب سے خوب پسند کیا جارہا ہے تاہم سرکاری ٹی وی پر لوکل کنٹینٹ کی بجائے بین الاقوامی کنٹینٹ کو پروموٹ کرنے پر اب تک پاکستان کے کئی نامور اداکار اس فیصلے کی مخالفت اور تنقید کرچکے ہیں۔

ترکش کنٹینٹ کو نشر کئے جانے پر اداکار شان، اداکارہ ریما خان اور یاسر حسین مخالفت کرچکے ہیں۔

آج نیوز کی رمضان ٹرانسمیشن ‘باران رحمت’ کی میزبانی کے فرائض انجام دینے والی اداکارہ ریما خان چند روز قبل کہا تھا کہ دوسرے ممالک کے ڈرامے نشر کرنے سے مقامی فنکاروں اور تخلیق کاروں کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کے کام کو بھی خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ سب سے پہلے فنکار شان شاہد نے اس مسئلے پر آواز اُٹھائی کہ سرکاری چینل پر ہمیں کسی دوسرے ملک کے ڈرامے نشر نہیں کرنے چاہئیں۔

ریما نے مزید کہا تھا کہ آپ کے پاس نشر کرنے کو اپنا مواد بڑی تعداد میں موجود ہے، آپ کے اپنے فنکار گھروں میں بیٹھے ہیں لیکن پھر بھی آپ دوسروں سے مواد خرید کر اس کی تشہیر کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ چیز مجھے بہت تکلیف دیتی ہے کیونکہ ٹیکس دوسرے ملک کے آرٹسٹ نہیں بلکہ ملک کے آرٹسٹ دیتے ہیں۔

ریما نے شان کی مخالفت کو ‘حق کی آواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مل کر اپنی لوکل انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب اب نوجوان پاکستانی اداکارہ نیلم منیر نے اس حوالے سے لب کشائی کردی ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘اگرچہ میں اپنی برداری میں تمام لوگوں کے خیالات اور رائے کا احترام کرتی ہوں لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ترکش یا پاکستانی مواد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں اس سے باہر نکلنا کر دیکھنا چاہیئے’۔

انہوں نے لکھا کہ ‘یہ اسلامی مواد ہے، جس میں بہت ہی زیادہ حکمت ہے اور یہ ہمیں مسلمانوں کی تاریخ اور اقدار کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، انہوں نے انصاف کے قیام کیلئے اپنی جانیں قربان کیں اور اللہ کے راستے پر چلتے رہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کوئی مسلمانوں کی تاریخ پر لکھی کتاب پڑھ رہے ہوں’۔

نیلم منیر نے مزید لکھا کہ ‘آئیں اسلامی ورثے پر فخر کریں اور ایسا ہی مواد پاکستان میں بھی بنانے کے جذبے سے کام کریں جس پر ہم بھی فخر کرسکیں’۔

واضح رہے کہ ارطغرل غازی ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں “سلطنت عثمانیہ” کے قیام سے قبل کی ہے اور ڈرامے کی مرکزی کہانی “ارطغرل” نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں “ارطغرل غازی” بھی کہا جاتا ہے۔

ڈرامے میں کام کرنے والے تمام اداکار راتوں رات پاکستان میں اس حد تک مقبول ہوگئے کے ان کی فین فالوونگ میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ڈرامے کو ترکی کا “گیم آف تھرونز” بھی کہا جاتا ہے اور اس ڈرامے کو 13ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

یہ ڈرامہ پاکستان میں اردو زبان میں پیش کیے جانے سے قبل ہی دنیا کے 60 ممالک میں مختلف زبانوں میں نشر کیا جا چکا ہے۔ یہ ڈراما پانچ سیزن اور مجموعی طور پر 179 قسطوں پر مبنی ہے، اس ڈرامے کو ابتدائی طور پر 2014 میں ٹی آر ٹی پر نشر کیا گیا تھا اور اب یہ ڈراما “نیٹ فلیکس” سمیت دیگر آن لائن اسٹریمنگ چینلز پر موجود ہے۔