داڑھی سے متعلق 9 دلچسپ اور حیران کن حقائق
داڑھی رکھنا نہ صرف ہمارے پیارے نبیﷺ کی سنّت ہے بلکہ یہ مردوں کی خوبصورتی کو بھی نکھارتی ہے۔ داڑھی رکھنا عموماً تمام مردوں کو ہی پسند ہوتا ہے، کچھ مرد سنت سمجھ کر اور کچھ فیشن کے طور پر داڑھی کو رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق کہ مطابق، خواتین کی اکثریت داڑھی رکھنے والے مردوں کو پسند کرتی ہے۔
آج ہم آپ کو داڑھی کے بارے میں دلچسپ حقائق بتائیں گے، جو یقیناً آپ نہیں جانتے ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: داڑھی میں مرد کی خوبصورتی مزید نکھر جاتی ہے، تصاویر دیکھیں
٭ داڑھی سے خوف کی بیماری کو 'پوگونوفوبیا' کہتے ہیں۔اس بیماری میں مبتلا لوگ داڑھی کو دیکھ کرخوف زدہ ہوجاتے ہیں، متلی محسوس کرتے ہیں، انہیں ضرورت سے زیادہ پسینہ آنے لگتا ہے اور ان کےدل کی دھڑکن بے قاعدہ ہوجاتی ہے۔

٭ 2012 میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق، داڑھی رکھنے والے مردوں کو اعلیٰ سماجی حیثیت کے مالک سمجھاجاتا ہے۔

٭ داڑھی رات کے مقابلے دن میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔

٭ انٹر نیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن میں باکسرز کو داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

٭ قدیم روم میں جب فیملی میں کسی کا انتقال ہوجاتا تھا ،تو اس فیملی کے زیادہ تر مرد حضرات داڑھی صاف کروا لیتے تھے۔

٭ داڑھی مردوں کو پولَنز اور دھول مٹی سے بچاتی ہے، جو جلد میں الرجی کا سبب بنتی ہے۔

٭ اگر کوئی مرد داڑھی صاف کرنا چھوڑ دے تو اس کی داڑھی 27 اعشاریہ 5 فٹ تک بڑھ سکتی ہے۔

٭ یونیورسٹی آف ساؤتھرن کوئنز لینڈ میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق، داڑھی منہ پر پڑنے والی سورج کی خطرناک یووی ریز کو 95 فیصد تک روکتی اور اس سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھاپے کی علامات کو ظاہر ہونے سے بھی روکتی ہے۔

٭ پہلے زمانے میں مخصوص جگہوں پر داڑھی رکھنے پر ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا۔ سترہویں صدی کے دوران روس میں داڑھی رکھنے پر لوگوں کو 100 رَبلز ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا۔

Thanks to scoopwhoop

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔