حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سماعت میں دشواری ہو سکتی ہے
ایک تحقیق میں کچھ لوگوں سے ان کی سماعت کی حس اور تین مہینے کے عرصے میں ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثات کے بارے میں پوچھا گیا۔ ایک مفروضے کے تحت ان افراد کا حادثاتی طور پر زخمی ہوجانے کا امکان دگنا ہوتا ہے جنہیں سُننے میں دشواری ہوتی ہے، بانسبت ان افراد کے جن کی سُننے کی صلاحیت بہترین ہوتی ہے۔
جن لوگوں نے اپنی سُننے کی حس کو بہترین کہا تھا ان کے مقابلے میں، جنہیں سُننے میں مشکل پیش آتی تھی ان کے ساتھ حادثہ پیش آنے کا امکان 60 فیصد تھا۔ جبکہ معتدل درجے کی سماعت رکھنے والے افراد میں یہ امکان 70 فیصد تھا۔
جن لوگوں نے یہ بتایا کہ انہیں سُننے میں بہت ذیادہ دشواری پیش آتی ہے ان کے ساتھ حادثہ پیش آنے کا امکان 90 فیصد دیکھا گیا۔

ان نتائج کی بڑی وجہ یہ سامنے آئی کہ سماعت ایک خاص حس ہے۔ اس حس کے بنیادی افعال میں جسم کو خطرے کا انتباہ کرنا بھی شامل ہے۔ اس لئے جن لوگوں کی سُننے کی حس متاثر ہوتی ہے وہ لوگ خطرے کا انتباہ پہچاننے سے کسی حد تک قاسر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی گاڑی ہارن دے رہی ہو یا کوئی آواز لگا رہا ہو یا کوئی گاڑی ان کی طرف آرہی ہو، جب وہ اسے سُننے سے قاسر رہیں گے تو ان کے ساتھ حادثہ پیش آنے کا امکان بڑھ جائے گا۔
البتہ حادثاتی طور پر لگنے والی چوٹوں کا بڑا سبب سماعت میں دشواری ہوسکتا ہے۔ تحقیق کاروں نے صرف سماعت میں دشواری کا درجہ نہیں دیکھا بلکہ اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ حادثے کا شکار ہونے والے افراد اس وقت کیا کام کر رہے تھے جب حادثہ پیش آیا۔ اس مشاہدے میں یہ انکشاف ہوا کہ گاڑی چلاتے وقت یا کھیل کے دوران پیش آنے والے حادثات میں سماعت کا اہم کردار تھا۔
حالنکہ اس تحقیق کا مقصد اس بات کو ثابت کرنا نہیں تھا، اور نہ یہ بات مکمل طور پر ثابت ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں اس پہلو پر اتنا زور نہیں دیا گیا کہ حادثے کے وقت متاثرہ افراد کیا کر رہے تھے۔ اس لئے ان کا حادثے کا شکار ہونے کی وجہ صرف سماعت نہیں کچھ اور بھی ہو سکتی ہے۔
البتہ حادثات کا شکار ہونے کا خطرہ خراب سماعت والے افراد میں ذیادہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے جو افراد سُننے میں دشواری محسوس کرتے ہیں انہیں اپنے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیئے اور عام افراد کو بھی اپنا طبی معائنہ کروا کے اپنی صحت کا مکمل جائزہ لینا چاہیئے۔
Thanks to DC
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔