شاعرناصرکاظمی کوہم سے بچھڑے44 برس بیت گئے

شائع 02 مارچ 2016 06:41am

nasir-kamzi

لاہور:اردو ادب کے ممتاز شاعر اور غزل گو ناصر کاظمی کو ہم سے بچھڑے چوالیس برس بیت گئے،ناصر کاظمی نے اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

ناصر رضا کاظمی ایٹھ دسمبر انیس سو پچیس کو انبالہ میں پیدا ہوئے مگر تقسیم ہند کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ ناصر کاظمی نے شعر گوئی کا آغاز جوانی سے ہی کردیا تھا، انیس سو چون میں '' برگ نے '' کے نام سے شائع ہونے والے -پہلے ہی مجموعے نے انھیں اردو غزل کے صف اول کے شعرا میں لاکھڑا کیا۔

انہیں شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی، ناصر کاظمی نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا۔ میڈیم نور جہاں کی ایواز میں گائی ہوئی غزل ''دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا '' اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ناصر کاظمی نے میر تقی میر کی طرح غموں کو اپنے شعروں میں سمویا اور ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا، معدے کے کینسر میں مبتلا ناصر کاظمی نے دو مارچ انیس سو بہتتر کو لاہور کے ایک اسپتال میں دنیائے فانی کو خیر باد کہ دیا۔