ماحولیاتی شور کے انسانی دماغ پر چار برے اثرات

شائع 22 اپريل 2016 09:45am

noise2

ہم اپنی روز مرہ زندگی ارد گرد موجود شور میں گزارتے ہیں۔ رش ، لوگوں کو شور و گل، ٹریفک، موسیقی اور ٹی وی۔ ہم ان آوازوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے یہ تمام پس منظر کی آوازیں عام بات ہے۔ اور ہم ان آوازوں کی طرف بالکل دیہان نہیں دیتے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے لئے خاموشی کتنی ضروری ہے۔ ماحول کی خاموشی کے ان فوائد پر ضرور غور کریں۔

دو ہزار تیرہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دو گھنٹے خاموشی میں گزارنا ہمارے دماغ کے مخصوص حصے ہیپوکیمپس میں نئے خلیے بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

ہیپوکیمپس کا حصہ یاداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور جذبات میں توازن کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

ہمارا دماغ مسلسل کام کرتا رہتا ہے، حتی کہ جب ہم آرام بھی کر رہے ہوں۔آرام کی حالت میں ہمارا دماغ تیزی سے کام کرتے ہوئے دن بھر ہوئے واقعات اور معمولات کو پروسس کرتا ہے۔

شور کی غیر موجودگی میں جب یہ عمل احسن انداز میں سرانجام پائے تو دماغ انسان میں تجربات، تجزیات اور یاداشت سے متعلق نئی صلاحیتیں پیدا کرتا ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دماغ کو چند گھنٹوں کا سکون ملنا کتنا اہم ہے کیونکہ یہ دماغ کے ان خلیوں کو کھولتا ہے جن کی مدد سے ہم دنیاوی چیزوں کو مزید بہتر طریقے سے جان سکتے ہیں۔

مسلسل شور شرابے میں رہنا ذہنی دباؤ اور ہامون لیولز کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس خاموشی بہت سی پریشانیاں ختم کرنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ہمارا بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے۔

تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ محض دو منٹ کی خاموشی بھی انسان کے لئے بے حد مفید ہے۔

ایک اور مطالعہ کے مطابق شور شرابے میں رہنے والے بچوں کے اندر سیکھنے اور یاد کرنے کا مادہ کم ہوتا ہے اور وہ پڑھنے میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ بچے جو پر سکون علاقوں میں مقیم ہیں ان میں پڑھنے لکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت بانسبت زیادہ ہے۔