سپریم کورٹ :جج ارشد ملک ویڈیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری

ویب ڈیسک |


سپریم کورٹ :جج ارشد ملک ویڈیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت  اسلام آباد کے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، تحریری فیصلہ 25صفحات پر مشتمل ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے جج ویڈیواسکینڈل کیس کی سماعت کی ، بینچ میں جسٹس عظمت سعیداورجسٹس عمرعطابندیال شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا 25صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلہ  چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے ویڈیو اسکینڈل  کیس میں دائردرخواستیں نمٹاتے ہوئے تمام پٹیشنزخارج کردیں۔

عدالت عظمی کے 25صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ یہ معاملہ اسلام آبادہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے،ایف آئی اے ویڈیو اسکینڈل کی پہلے ہی تحقیقات کررہاہے،اس مرحلےپرہمارا مداخلت کرنامناسب نہیں، اس موقع پرویڈیواوراس کےاثرات پرکوئی رائےدینامناسب نہیں۔

چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے، میڈیا اور فریقین فیصلے کو ویب سائٹ پر دیکھیں۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری فیصلے میںفیصلے میں کہا گیا کیس میں 5ایشو سامنے آئے، پہلا ایشویہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہے،دوسرا ایشو ویڈیو کواصل کیسے جانا جائے،تیسرا ایشو اگرویڈیو اصل ہے تو کیسے عدالت میں ثابت کیا جا سکے گا ،چوتھا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پرکیا اثرہوسکتا ہے جبکہ پانچواں ایشو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے کنڈکٹ سے متعلق تھا۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے 5سوالات اٹھائے اور ان کے تفصیلی جوابات دیئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے معاملےپرکمیشن تشکیل دینےکی استدعا بھی مسترد کردی۔