<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 00:20:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 00:20:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا-ایران کشیدگی کے 3 ممکنہ منظرنامے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508208/us-iran-tension-3-scenarios-global-war-threat</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا ایک مرتبہ پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں چند سفارتی فیصلے عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا رخ بدل سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا نازک پل ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی منڈیوں تک ہر سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور باہمی عدم اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ کئی بار مذاکرات کے ذریعے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی واقعہ اس عمل کو سبوتاژ کر دیتا رہا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غزہ، لبنان، شام، عراق اور یمن کے تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے آ گئے تو یہ بحران کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ نہیں کہ حالیہ حملوں کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر یہ کشیدگی معاہدے کی ناکامی پر منتج ہوئی تو اس کے بعد دنیا کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;br&gt;سب سے پہلے اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ میں سامنے آئیں گے۔ ایران کے اتحادی مختلف ممالک میں متحرک ہیں، جبکہ امریکا، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادی پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس سے بحری راستے، توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی تجارت براہِ راست متاثر ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ممکنہ بحران کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ توانائی مہنگی ہونے سے صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، فضائی سفر اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال عالمی مہنگائی میں اضافے، اسٹاک مارکیٹوں میں غیر یقینی کیفیت اور سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ معیشتیں جو توانائی درآمد کرتی ہیں، اس دباؤ کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع صرف امریکا اور ایران کا نہیں۔ چین، روس، یورپ اور خلیجی ممالک کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ چین اپنی توانائی کی مسلسل فراہمی چاہتا ہے، یورپ کسی نئے توانائی بحران سے بچنا چاہتا ہے، روس خطے میں اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرے گا، جبکہ خلیجی ممالک ہر قیمت پر جنگ کو اپنے دروازے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ مذاکرات کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اسرائیل کا کردار بھی زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع صرف دو ممالک کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سیکورٹی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات بحیرہ احمر، خلیج عمان اور عالمی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھی اس صورتِ حال سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اہم سفارتی تعلقات ہیں، اس لیے اسلام آباد کے لیے متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحران میں پاکستان کے لیے ایک سفارتی موقع بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خطے میں متوازن اور محتاط سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے امریکا، ایران، سعودی عرب، قطر اور چین کے ساتھ بیک وقت روابط موجود ہیں، جو اسے محدود ہی سہی، مگر اعتماد سازی کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر اسلام آباد دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر خاموش سفارت کاری کو مؤثر بناتا ہے تو وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے دن تین ممکنہ منظرنامے سامنے لا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ممالک محدود کشیدگی کے بعد دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹ آئیں، جو عالمی امن اور معیشت کے لیے سب سے بہتر راستہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ حملے جاری رہیں مگر جنگ محدود دائرے میں رہے، جس سے غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہے گی۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ سفارت کاری مکمل طور پر ناکام ہو جائے، آبنائے ہرمز متاثر ہو، علاقائی اتحادی بھی میدان میں آجائیں اور مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملے نہ کرنے کا معاہدہ موجود ہے جس کی خلاف ورزی کے الزامات دونوں فریق ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں معاہدے صرف قانونی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ اعتماد اور امن کی بنیاد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج دنیا کو طاقت کے اظہار سے زیادہ دانش مندانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ جنگ کا آغاز چند لمحوں میں ہو سکتا ہے، مگر اعتماد کی بحالی میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سمیت خطے کے تمام ذمہ دار ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ آنے والے چند دن صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کا نہیں بلکہ عالمی امن، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی معیشت کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا ایک مرتبہ پھر ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں چند سفارتی فیصلے عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا رخ بدل سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا نازک پل ٹوٹ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی منڈیوں تک ہر سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور باہمی عدم اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ کئی بار مذاکرات کے ذریعے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی واقعہ اس عمل کو سبوتاژ کر دیتا رہا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غزہ، لبنان، شام، عراق اور یمن کے تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران پھر آمنے سامنے آ گئے تو یہ بحران کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔</p>
<p>اصل سوال یہ نہیں کہ حالیہ حملوں کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر یہ کشیدگی معاہدے کی ناکامی پر منتج ہوئی تو اس کے بعد دنیا کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔<br>سب سے پہلے اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ میں سامنے آئیں گے۔ ایران کے اتحادی مختلف ممالک میں متحرک ہیں، جبکہ امریکا، اسرائیل اور اس کے علاقائی اتحادی پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔</p>
<p>اگر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو محدود فوجی کارروائیاں ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس سے بحری راستے، توانائی کی تنصیبات اور بین الاقوامی تجارت براہِ راست متاثر ہو گی۔</p>
<p>اس ممکنہ بحران کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگا۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ توانائی مہنگی ہونے سے صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، فضائی سفر اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال عالمی مہنگائی میں اضافے، اسٹاک مارکیٹوں میں غیر یقینی کیفیت اور سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ معیشتیں جو توانائی درآمد کرتی ہیں، اس دباؤ کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہیں۔</p>
<p>یہ تنازع صرف امریکا اور ایران کا نہیں۔ چین، روس، یورپ اور خلیجی ممالک کے سیاسی اور معاشی مفادات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ چین اپنی توانائی کی مسلسل فراہمی چاہتا ہے، یورپ کسی نئے توانائی بحران سے بچنا چاہتا ہے، روس خطے میں اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرے گا، جبکہ خلیجی ممالک ہر قیمت پر جنگ کو اپنے دروازے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ مذاکرات کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت برقرار رہے۔</p>
<p>اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اسرائیل کا کردار بھی زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع صرف دو ممالک کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سیکورٹی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات بحیرہ احمر، خلیج عمان اور عالمی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان بھی اس صورتِ حال سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اہم سفارتی تعلقات ہیں، اس لیے اسلام آباد کے لیے متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔</p>
<p>اس بحران میں پاکستان کے لیے ایک سفارتی موقع بھی موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خطے میں متوازن اور محتاط سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے امریکا، ایران، سعودی عرب، قطر اور چین کے ساتھ بیک وقت روابط موجود ہیں، جو اسے محدود ہی سہی، مگر اعتماد سازی کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر اسلام آباد دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر خاموش سفارت کاری کو مؤثر بناتا ہے تو وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>آنے والے دن تین ممکنہ منظرنامے سامنے لا سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ممالک محدود کشیدگی کے بعد دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹ آئیں، جو عالمی امن اور معیشت کے لیے سب سے بہتر راستہ ہوگا۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ حملے جاری رہیں مگر جنگ محدود دائرے میں رہے، جس سے غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہے گی۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ سفارت کاری مکمل طور پر ناکام ہو جائے، آبنائے ہرمز متاثر ہو، علاقائی اتحادی بھی میدان میں آجائیں اور مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملے نہ کرنے کا معاہدہ موجود ہے جس کی خلاف ورزی کے الزامات دونوں فریق ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں معاہدے صرف قانونی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ اعتماد اور امن کی بنیاد ہوتے ہیں۔</p>
<p>آج دنیا کو طاقت کے اظہار سے زیادہ دانش مندانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ جنگ کا آغاز چند لمحوں میں ہو سکتا ہے، مگر اعتماد کی بحالی میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سمیت خطے کے تمام ذمہ دار ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ آنے والے چند دن صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کا نہیں بلکہ عالمی امن، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی معیشت کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508208</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 15:11:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/10145859d27fac8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/10145859d27fac8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تو کیا واقعی سب کچھ "ختم"ہو گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508070/iran-israel-war-iran-us-dollars-us-federal-reserve-us-treasury-donald-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟</strong></p>
<p>منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟</p>
<p>یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔</p>
<p>منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔</p>
<p>کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟</p>
<p>ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔</p>
<p>شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔</p>
<p>منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔</p>
<p>ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔</p>
<p>شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508070</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 14:56:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/091452082dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/091452082dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507954/fbr-psdp-taxes-bisp-super-tax-budget-2026-27-federal-budget-2026-2027</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خدمات کا شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلاصہ اور نتیجہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی.&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 07 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:</strong></p>
<p>شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔</p>
<p><strong>زرعی شعبہ</strong></p>
<p>پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>صنعتی شعبہ</strong></p>
<p>اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔</p>
<p>انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔</p>
<p>تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p><strong>خدمات کا شعبہ</strong></p>
<p>آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔</p>
<p>آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔</p>
<p><strong>خلاصہ اور نتیجہ</strong></p>
<p>مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی.</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 07 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507954</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 15:15:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/081510254b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/081510254b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اصلاحات خواب ہی رہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 06 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔</p>
<p>اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔</p>
<p>دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“</p>
<p>دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔</p>
<p>اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔</p>
<p>بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔</p>
<p>تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔</p>
<p>غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 06 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507811</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 15:07:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/07145018ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/07145018ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں بیان کرتا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507449/finance-bill-2026-fbr-ministry-of-finance-national-assembly-pakistans-economy-federal-budget-fy2026-27-federal-budget-fy27-finance-act</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 03 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔</strong></p>
<p>14برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔</p>
<p>امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔</p>
<p>سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔</p>
<p>پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔</p>
<p>اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔</p>
<p>آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔</p>
<p>جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔</p>
<p>تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔</p>
<p>اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔</p>
<p>یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔</p>
<p>فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔</p>
<p>تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔</p>
<p>کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔</p>
<p>14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 03 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507449</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 16:20:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/041617106d246a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/041617106d246a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ابھی سے امن پر بھروسا کر لیا گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507326/oil-prices-strait-of-hormuz-gasoline-prices-oil-markets-petrol-prices-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 02 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟</p>
<p>منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟</p>
<p>یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔</p>
<p>سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟</p>
<p>یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟</p>
<p>موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔</p>
<p>تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 02 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507326</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 16:02:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/031600272dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/031600272dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دانستہ چشم پوشی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک یونانی المیہ ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی، اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر یکم جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔</p>
<p>اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک یونانی المیہ ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔</p>
<p>رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔</p>
<p>ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔</p>
<p>ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔</p>
<p>لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔</p>
<p>تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔</p>
<p>دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی، اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر یکم جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507024</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 15:52:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/0115465742fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/0115465742fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبوں کے بجٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506948/ishaq-dar-balochistan-khyber-pakhtunkhwa-punjab-fbr-imf-sindh-federal-board-of-revenue-international-monetary-fund-imf-nfc-imf-and-pakistan-province-of-pakistan-budget-2026-27</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی اور صوبائی بجٹوں کے درمیان تعلق جیسا کہ مئی 2026 میں جاری پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی دستاویزات میں طے کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی ٹیکس محصولات کے اہداف ایسے مقرر کیے جائیں کہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب میں 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافی حصہ شامل ہو، اور اسی کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے برائے نام مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 452 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر صوبوں کا متوقع حصہ 1.356 ارب ڈالر، یا اگلے مالی سال کے لیے ایک ڈالر کے 290 روپے کے متوقع زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے تقریباً 398 ارب روپے بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”صوبے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مؤثر نفاذ کا دائرہ مسلسل اور ثابت قدمی سے وسیع کرتے ہوئے اسے بتدریج معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلائیں گے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی آمدنی پر نئے ٹیکس کی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدنی پر لاگو ہوں گی، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اثر مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا۔ صوبوں نے ملکی محصولات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات پر جی ایس ٹی کے دائرۂ کار میں توسیع اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نفاذ کے باعث صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافہ برائے نام جی ڈی پی کی شرح نمو سے خاصا زیادہ رہا ہے۔ تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی نظرثانی شدہ شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملدرآمد سے متعلق دیگر مشکلات کے باعث توقعات سے کم رہی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اول، 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے صوبے آج تک مطلوبہ انتظامی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، حالانکہ ان شعبوں پر وفاقی بجٹ کے اخراجات ختم ہونا تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں ہر سال ایک فیصد اضافہ کیا جائے، جس سے وفاق اپنی اخراجاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات حاصل کر سکتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009-10 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.9 فیصد تھا، جو 2025 تک معمولی اضافے کے ساتھ 11.2 فیصد تک پہنچا، جبکہ 2025-26 کے لیے اس کا تخمینہ 11.1 فیصد لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی تینوں بڑی قومی جماعتوں کی حکومتوں نے، اندرونِ ملک بھاری قرض لینے اور جب بھی جاری کھاتوں کا خسارہ ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچا تو 2008، 2013، 2019، 2023 اور 2024 میں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے رجوع کرنے کے علاوہ، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو اہم ذرائع آمدن پر انحصار کیا۔ ان میں پہلا صوبائی سرپلس ہے، جو 2010-11 میں 150 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 1.79 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے، جسے دیگر ٹیکسز کے خانے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت سیلز ٹیکس ہے اور اسے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کے ذیلی خانے میں شامل ہونا چاہیے تھا، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل میں بھی اس کا حصہ نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010-11 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 135 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم حقیقی وصولی 82.75 ارب روپے رہی۔ اس کے برعکس 2026-27 کے بجٹ میں اس مد سے 1.67 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ”پیٹرولیم مصنوعات پر مؤثر ٹیکس کی شرح 166 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حکومتی محصولات کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر عائد ٹیکسوں پر ہے اور یہ کسی بھی بیرونی جھٹکے سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے والی سیاسی جماعتیں، عمران خان کے دورِ حکومت کے ساڑھے تین برسوں کو چھوڑ کر، 2010 سے مسلسل اقتدار میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تقریباً ہر مذاکرات میں ان کا مؤقف یہی رہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی تاکہ صوبوں کے حصے میں کمی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض مبصرین اس طرزِ فکر کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایسے ٹیکنوکریٹس کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جنہیں اٹھارویں ترمیم کے پس منظر یا اس سے وابستگی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اسحاق ڈار، جنہوں نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل پنجاب کی نمائندگی کی اور اپنی جماعت کی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، وہ بھی نجی اور عوامی سطح پر متعدد بار ایف بی آر کے محصولات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بھی وقفے وقفے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محصولات کی تقسیم میں توازن پیدا کیا جائے، خواہ اس کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے، جس کا فیصلہ، وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ سال تک مؤخر کر دیا گیا ہے، یا پھر صوبوں کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2026 میں وزیرِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ ”تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا اقدام اختیار نہیں کریں گے جسے اس خط یا اس کے ساتھ منسلک معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشتوں میں درج وعدوں اور پالیسیوں کے منافی یا انہیں کمزور کرنے والا سمجھا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی صوبائی سرپلس 1.79 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ پنجاب نے 910 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ لگایا ہے، جو اس کی مجموعی صوبائی وصولیوں 749 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے اور قابلِ تقسیم محاصل میں اس کے 51.74 فیصد حصے سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بھی نظرثانی شدہ 363 ارب روپے سے بڑھا کر 521 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو 44 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس سندھ نے 36.9 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، تاہم خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 2025-26 کے نظرثانی شدہ 362 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 456 ارب روپے رکھا ہے، جو 26 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ نسبتاً حقیقت پسندانہ سمجھے جانے والے اس ہدف کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پنجاب کا 44 فیصد اضافہ حاصل کرنا واقعی ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح خیبر پختونخوا نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 57 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 80 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو 40 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کا بجٹ تاحال متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا، اس لیے خدمات پر ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو۔ پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں محض 12.5 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، جبکہ رواں مالی سال میں 3.99 ارب روپے وصول ہوئے، حالانکہ بجٹ میں 10.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 8 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے وصولیوں کا ہدف 6 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی صرف 13 کروڑ روپے رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 16 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے حوالے سے اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی بجٹ کی طرح صوبوں کا انحصار بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ ان ٹیکسوں کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اپنی اپنی انتخابی حلقوں میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے مخصوص شعبوں کو سبسڈیز بھی دی جا رہی ہیں، جبکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے 80 فیصد سے زائد ارکان پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی اور صوبائی بجٹوں کے درمیان تعلق جیسا کہ مئی 2026 میں جاری پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی دستاویزات میں طے کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی ٹیکس محصولات کے اہداف ایسے مقرر کیے جائیں کہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب میں 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافی حصہ شامل ہو، اور اسی کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں۔</strong></p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے برائے نام مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 452 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر صوبوں کا متوقع حصہ 1.356 ارب ڈالر، یا اگلے مالی سال کے لیے ایک ڈالر کے 290 روپے کے متوقع زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے تقریباً 398 ارب روپے بنتا ہے۔</p>
<p>دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”صوبے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مؤثر نفاذ کا دائرہ مسلسل اور ثابت قدمی سے وسیع کرتے ہوئے اسے بتدریج معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلائیں گے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی آمدنی پر نئے ٹیکس کی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدنی پر لاگو ہوں گی، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اثر مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا۔ صوبوں نے ملکی محصولات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات پر جی ایس ٹی کے دائرۂ کار میں توسیع اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نفاذ کے باعث صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافہ برائے نام جی ڈی پی کی شرح نمو سے خاصا زیادہ رہا ہے۔ تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی نظرثانی شدہ شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملدرآمد سے متعلق دیگر مشکلات کے باعث توقعات سے کم رہی۔“</p>
<p>اس ضمن میں دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اول، 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے صوبے آج تک مطلوبہ انتظامی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، حالانکہ ان شعبوں پر وفاقی بجٹ کے اخراجات ختم ہونا تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا تھا۔</p>
<p>دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں ہر سال ایک فیصد اضافہ کیا جائے، جس سے وفاق اپنی اخراجاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات حاصل کر سکتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009-10 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.9 فیصد تھا، جو 2025 تک معمولی اضافے کے ساتھ 11.2 فیصد تک پہنچا، جبکہ 2025-26 کے لیے اس کا تخمینہ 11.1 فیصد لگایا گیا ہے۔</p>
<p>2010 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی تینوں بڑی قومی جماعتوں کی حکومتوں نے، اندرونِ ملک بھاری قرض لینے اور جب بھی جاری کھاتوں کا خسارہ ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچا تو 2008، 2013، 2019، 2023 اور 2024 میں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے رجوع کرنے کے علاوہ، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو اہم ذرائع آمدن پر انحصار کیا۔ ان میں پہلا صوبائی سرپلس ہے، جو 2010-11 میں 150 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 1.79 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے، جسے دیگر ٹیکسز کے خانے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت سیلز ٹیکس ہے اور اسے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کے ذیلی خانے میں شامل ہونا چاہیے تھا، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل میں بھی اس کا حصہ نہیں رکھا گیا۔</p>
<p>2010-11 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 135 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم حقیقی وصولی 82.75 ارب روپے رہی۔ اس کے برعکس 2026-27 کے بجٹ میں اس مد سے 1.67 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ”پیٹرولیم مصنوعات پر مؤثر ٹیکس کی شرح 166 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حکومتی محصولات کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر عائد ٹیکسوں پر ہے اور یہ کسی بھی بیرونی جھٹکے سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔“</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے والی سیاسی جماعتیں، عمران خان کے دورِ حکومت کے ساڑھے تین برسوں کو چھوڑ کر، 2010 سے مسلسل اقتدار میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تقریباً ہر مذاکرات میں ان کا مؤقف یہی رہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی تاکہ صوبوں کے حصے میں کمی کی جا سکے۔</p>
<p>بعض مبصرین اس طرزِ فکر کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایسے ٹیکنوکریٹس کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جنہیں اٹھارویں ترمیم کے پس منظر یا اس سے وابستگی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اسحاق ڈار، جنہوں نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل پنجاب کی نمائندگی کی اور اپنی جماعت کی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، وہ بھی نجی اور عوامی سطح پر متعدد بار ایف بی آر کے محصولات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بھی وقفے وقفے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محصولات کی تقسیم میں توازن پیدا کیا جائے، خواہ اس کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے، جس کا فیصلہ، وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ سال تک مؤخر کر دیا گیا ہے، یا پھر صوبوں کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>اپریل 2026 میں وزیرِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ ”تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا اقدام اختیار نہیں کریں گے جسے اس خط یا اس کے ساتھ منسلک معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشتوں میں درج وعدوں اور پالیسیوں کے منافی یا انہیں کمزور کرنے والا سمجھا جائے۔“</p>
<p>وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی صوبائی سرپلس 1.79 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ پنجاب نے 910 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ لگایا ہے، جو اس کی مجموعی صوبائی وصولیوں 749 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے اور قابلِ تقسیم محاصل میں اس کے 51.74 فیصد حصے سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بھی نظرثانی شدہ 363 ارب روپے سے بڑھا کر 521 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو 44 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس سندھ نے 36.9 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، تاہم خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 2025-26 کے نظرثانی شدہ 362 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 456 ارب روپے رکھا ہے، جو 26 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ نسبتاً حقیقت پسندانہ سمجھے جانے والے اس ہدف کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پنجاب کا 44 فیصد اضافہ حاصل کرنا واقعی ممکن ہوگا۔</p>
<p>اسی طرح خیبر پختونخوا نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 57 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 80 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو 40 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔</p>
<p>بلوچستان کا بجٹ تاحال متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا، اس لیے خدمات پر ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو۔ پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں محض 12.5 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، جبکہ رواں مالی سال میں 3.99 ارب روپے وصول ہوئے، حالانکہ بجٹ میں 10.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 8 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے وصولیوں کا ہدف 6 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی صرف 13 کروڑ روپے رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 16 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے حوالے سے اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی بجٹ کی طرح صوبوں کا انحصار بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ ان ٹیکسوں کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اپنی اپنی انتخابی حلقوں میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے مخصوص شعبوں کو سبسڈیز بھی دی جا رہی ہیں، جبکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے 80 فیصد سے زائد ارکان پر بھی ہوگا۔</p>
<p>آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506948</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 12:32:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30115513ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30115513ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمسی انقلاب اور اس کا تضاد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506914/electricity-energy-sector-solar-energy-electricity-generation-solar-pv-european-union-european-union-solar-power-power-sector-power-sector-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیس برس میں اگر کسی ایک ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی امید دی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹا ہے تو وہ شمسی توانائی (سولر انرجی) ہے۔ جو سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز کبھی عام آدمی کی پہنچ سے دور اور انتہائی مہنگے ہوا کرتے تھے وہ آج کرۂ ارض پر بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ انقلابی ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط ستون بننے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 2010 میں بمشکل 40 گیگا واٹ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1.6 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہے، غیر مستحکم فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی مارکیٹوں پر انحصار گھٹاتی، گھروں کے بجلی کے بل کم کرتی اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی توانائی کی رسائی کو وسعت دیتی ہے۔ یہ ایک صاف ستھرے اور زیادہ غیر مرکزی توانائی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے وہ یہ کہ ہر سولر پینل کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ زیادہ تر فوٹو وولٹک پینل 25 سے 30 سال تک چلنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان سے لے کر چین، امریکہ اور دیگر ممالک تک میں بڑے پیمانے پر لگائی گئی پہلی نسل کے پینلز اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں۔ اس کے نتیجے میں کچرے کی ایک ایسی بڑی لہر ابھر رہی ہے جس کا متبادل توانائی کے شعبے کو اب تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں 78 سے 80 ملین میٹرک ٹن سولر پینل کا کچرا پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وزن ایفل ٹاور کے مجموعی وزن سے 8,000 گنا زیادہ یا سینکڑوں ہزاروں مکمل طور پر لوڈڈ ہوائی جہازوں کے برابر بنتا ہے۔ خطرہ خود سولر ٹیکنالوجی سے نہیں ہے بلکہ خطرہ اس بات سے ہے کہ جب ہم ان پینلز کی عمر ختم ہونے پر ان کے ٹھکانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر عمر پوری کر چکے ان پینلز کو عام کچرے کی طرح سمجھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اگرچہ پینل زیادہ تر شیشے اور ایلومینیم سے بنتے ہیں لیکن ان میں سیسہ، کیڈمیئم اور دیگر دھاتوں سمیت معمولی مقدار میں زہریلے مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا خاص طور پر کھلے ڈھیروں یا غیر منظم لینڈ فلز میں جو کہ ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں عام ہیں، ان مواد کو مٹی اور زیرِ زمین پانی میں شامل کر سکتا ہے، جس سے مقامی ماحول اور عوامی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی پینلز کو کچرے میں پھینکنے کا مطلب انتہائی قیمتی وسائل کو ضائع کرنا بھی ہے۔ ایک عام سولر ماڈیول میں اعلیٰ معیار کا شیشہ، ایلومینیم، تانبا، چاندی اور سلیکان شامل ہوتے ہیں، یہ وہ مواد ہیں جنہیں نکالنے اور صاف کرنے کے لیے بھاری مقدار میں توانائی، پانی اور مائننگ (کان کنی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ضائع کرنا نہ صرف ماحولیاتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی غیر منطقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ ناکارہ سولر پینلز سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے مواد کی مالیت 2050 تک 15 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ خام مال کی یہ مقدار اسی سطح پر دوبارہ نئی کانیں کھودے بغیر تقریباً 2 ارب نئے سولر پینل بنانے کے لیے کافی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کل کا سولر کچرا کل کی کلین انرجی کی سپلائی چین بن سکتا ہے۔ اصل موقع یہیں پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر تضاد (سولر پیراڈوکس) ناگزیر نہیں ہے۔ یہ پالیسی سازی کا ایک چیلنج ہے اور ایک ایسا چیلنج ہے جسے حل کرنا ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز سولر پینل کے 90 سے 95 فیصد مادی وزن کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ جدید ترین پلانٹس فریموں اور وائرنگ کو الگ کرنے کے لیے مکینیکل علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک پولیمر کو ہٹانے کے لیے تھرمل ٹریٹمنٹ اور چاندی و سیمی کنڈکٹر گریڈ سلیکان نکالنے کے لیے کیمیکل ریفائننگ کا استعمال کرتے ہیں۔ شیشے کو دوبارہ مینوفیکچرنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایلومینیم کو لامتناہی طور پر پگھلایا جا سکتا ہے، تانبا دوبارہ الیکٹریکل سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے اور سلیکان کو صاف کرکے دوبارہ فوٹو وولٹک کی تیاری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ممالک اب درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ پیش رفت اب بھی ناہموار ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی سولر پینلز کو الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے فضلے کے ڈائریکٹو کے تحت درجہ بندی کر چکی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں اس کچرے کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کی قانونی پابندی ہے۔ فرانس پی وی سائیکل کے ذریعے سولر پینلز کو واپس لینے کا ایک جدید ترین نظام چلا رہا ہے۔ جاپان نے ابتدائی تنصیبات کے ناکارہ ہونے پر پینل ری سائیکلنگ کے لیے قومی روڈ میپ متعارف کرائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک میں اب بھی جامع قومی فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کو ٹھکانے لگانے کا عمل بکھرا ہوا، رضاکارانہ یا معاشی طور پر غیر پرکشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کا یہ خلا بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک توانائی کی عدم سیکیورٹی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کے لیے بے مثال رفتار سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اپنی مدت پوری کرنے والے سولر ماڈیولز کے لیے ری سائیکلنگ کا بنیادی ڈھانچہ یہاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب پالیسی مداخلت کے بغیر متعدد ممالک ایک ماحولیاتی چیلنج، فوسل فیول پر انحصار کو دوسرے چیلنج یعنی کلین ٹیکنالوجی کے غیر منظم کچرے سے بدلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل پینلز کے لینڈ فل تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو فوری طور پر ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلیٹی، (ای پی آر) قانون نافذ کرنا چاہیے، جس کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے اپنی مدت پوری کرنے والے پینلز کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکل کرنے کے اخراجات خود اٹھانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ کار پینلز کو ٹھکانے لگانے کے اخراجات بلدیاتی اداروں اور صارفین سے ہٹا کر کمپنیوں پر ڈالے گا، جس سے کمپنیاں ایسے ماڈیولز ڈیزائن کرنے کی طرف مائل ہوں گی جنہیں الگ کرنا اور ان سے مواد دوبارہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ پبلک انویسٹمنٹ (سرکاری سرمایہ کاری) کو علاقائی سطح پرری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کرنی چاہیے۔ یورپ اور مشرقی ایشیا سے باہر ری سائیکلنگ کے پلانٹس بہت کم اور مہنگے ہیں۔ اکثر پینل کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینکنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ سبسڈی، ٹیکس مراعات اور لینڈ فل پر پابندیوں کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا یہ کہ ہمیں مینوفیکچرنگ کے عمل میں ہی ڈیزائن فارسرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ڈیزائن) کو شامل کرنا ہوگا۔ اگلی نسل کے سولر پینلز کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ انہیں آسانی سے کھولا جا سکے، ان میں کم زہریلے گوند استعمال ہوں، فریم ماڈیولر ہوں، معیاری مواد استعمال کیا جائے اور اجزاء کی علیحدگی آسان ہو ، تاکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے اخراجات کم ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداری کی پالیسی بھی اس مانگ کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے حکومتوں، افادیت کے اداروں (یوٹیلیٹیز) اور بڑے خریداروں کو ان پینلز کو ترجیح دینی چاہیے جن میں تصدیق شدہ ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوا ہو اور جن کا لائف اینڈ ریکوری پلان شفاف ہو۔ کلین انرجی کی خریداری میں صرف کاربن اکاونٹنگ ہی نہیں بلکہ سرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کی صلاحیت) کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی کا مطلب صرف صاف بجلی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صنعتی نظاموں کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہے کہ ترقی کا انحصار وسائل نکالنے، انہیں ختم کرنے یا کچرے میں پھینکنے پر نہ رہے۔ شمسی توانائی اب بھی انسانیت کی سب سے بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے لیکن اگر ہم پینلز کی عمر ختم ہونے کے بعد کے اثرات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم اس ماحولیاتی وعدے کو ہی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیں گے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صاف توانائی کی منتقلی کا عمل یکطرفہ یا لکیری نہیں ہو سکتا، یعنی کان کنی کرو، بناؤ، لگاؤ اور پھینک دو۔ اسے لازمی طور پر سرکلر (دائرہ نما) ہونا چاہیے، یعنی ڈیزائن کرو، پیدا کرو، دوبارہ حاصل کرو اور پھر سے بناؤ۔ صرف اس دائرے کو مکمل کر کے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سورج کی طرف ہماری یہ دوڑ زمین پر کوئی مستقل داغ نہ چھوڑ جائے۔ شمسی توانائی اب بھی ماحولیات کے لیے ہمارا سب سے روشن حل ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم اس کے پیچھے چھوڑے جانے والے مواد کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم نظام تیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 28 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیس برس میں اگر کسی ایک ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی امید دی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹا ہے تو وہ شمسی توانائی (سولر انرجی) ہے۔ جو سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز کبھی عام آدمی کی پہنچ سے دور اور انتہائی مہنگے ہوا کرتے تھے وہ آج کرۂ ارض پر بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ انقلابی ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط ستون بننے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 2010 میں بمشکل 40 گیگا واٹ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1.6 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہے، غیر مستحکم فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی مارکیٹوں پر انحصار گھٹاتی، گھروں کے بجلی کے بل کم کرتی اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی توانائی کی رسائی کو وسعت دیتی ہے۔ یہ ایک صاف ستھرے اور زیادہ غیر مرکزی توانائی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔</p>
<p>لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے وہ یہ کہ ہر سولر پینل کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ زیادہ تر فوٹو وولٹک پینل 25 سے 30 سال تک چلنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان سے لے کر چین، امریکہ اور دیگر ممالک تک میں بڑے پیمانے پر لگائی گئی پہلی نسل کے پینلز اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں۔ اس کے نتیجے میں کچرے کی ایک ایسی بڑی لہر ابھر رہی ہے جس کا متبادل توانائی کے شعبے کو اب تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p>انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں 78 سے 80 ملین میٹرک ٹن سولر پینل کا کچرا پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وزن ایفل ٹاور کے مجموعی وزن سے 8,000 گنا زیادہ یا سینکڑوں ہزاروں مکمل طور پر لوڈڈ ہوائی جہازوں کے برابر بنتا ہے۔ خطرہ خود سولر ٹیکنالوجی سے نہیں ہے بلکہ خطرہ اس بات سے ہے کہ جب ہم ان پینلز کی عمر ختم ہونے پر ان کے ٹھکانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔</p>
<p>اگر عمر پوری کر چکے ان پینلز کو عام کچرے کی طرح سمجھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اگرچہ پینل زیادہ تر شیشے اور ایلومینیم سے بنتے ہیں لیکن ان میں سیسہ، کیڈمیئم اور دیگر دھاتوں سمیت معمولی مقدار میں زہریلے مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا خاص طور پر کھلے ڈھیروں یا غیر منظم لینڈ فلز میں جو کہ ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں عام ہیں، ان مواد کو مٹی اور زیرِ زمین پانی میں شامل کر سکتا ہے، جس سے مقامی ماحول اور عوامی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی پینلز کو کچرے میں پھینکنے کا مطلب انتہائی قیمتی وسائل کو ضائع کرنا بھی ہے۔ ایک عام سولر ماڈیول میں اعلیٰ معیار کا شیشہ، ایلومینیم، تانبا، چاندی اور سلیکان شامل ہوتے ہیں، یہ وہ مواد ہیں جنہیں نکالنے اور صاف کرنے کے لیے بھاری مقدار میں توانائی، پانی اور مائننگ (کان کنی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ضائع کرنا نہ صرف ماحولیاتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی غیر منطقی ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ ناکارہ سولر پینلز سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے مواد کی مالیت 2050 تک 15 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ خام مال کی یہ مقدار اسی سطح پر دوبارہ نئی کانیں کھودے بغیر تقریباً 2 ارب نئے سولر پینل بنانے کے لیے کافی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کل کا سولر کچرا کل کی کلین انرجی کی سپلائی چین بن سکتا ہے۔ اصل موقع یہیں پر موجود ہے۔</p>
<p>سولر تضاد (سولر پیراڈوکس) ناگزیر نہیں ہے۔ یہ پالیسی سازی کا ایک چیلنج ہے اور ایک ایسا چیلنج ہے جسے حل کرنا ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز سولر پینل کے 90 سے 95 فیصد مادی وزن کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ جدید ترین پلانٹس فریموں اور وائرنگ کو الگ کرنے کے لیے مکینیکل علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک پولیمر کو ہٹانے کے لیے تھرمل ٹریٹمنٹ اور چاندی و سیمی کنڈکٹر گریڈ سلیکان نکالنے کے لیے کیمیکل ریفائننگ کا استعمال کرتے ہیں۔ شیشے کو دوبارہ مینوفیکچرنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایلومینیم کو لامتناہی طور پر پگھلایا جا سکتا ہے، تانبا دوبارہ الیکٹریکل سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے اور سلیکان کو صاف کرکے دوبارہ فوٹو وولٹک کی تیاری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مختلف ممالک اب درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ پیش رفت اب بھی ناہموار ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی سولر پینلز کو الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے فضلے کے ڈائریکٹو کے تحت درجہ بندی کر چکی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں اس کچرے کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کی قانونی پابندی ہے۔ فرانس پی وی سائیکل کے ذریعے سولر پینلز کو واپس لینے کا ایک جدید ترین نظام چلا رہا ہے۔ جاپان نے ابتدائی تنصیبات کے ناکارہ ہونے پر پینل ری سائیکلنگ کے لیے قومی روڈ میپ متعارف کرائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک میں اب بھی جامع قومی فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کو ٹھکانے لگانے کا عمل بکھرا ہوا، رضاکارانہ یا معاشی طور پر غیر پرکشش ہے۔</p>
<p>پالیسی کا یہ خلا بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک توانائی کی عدم سیکیورٹی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کے لیے بے مثال رفتار سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اپنی مدت پوری کرنے والے سولر ماڈیولز کے لیے ری سائیکلنگ کا بنیادی ڈھانچہ یہاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب پالیسی مداخلت کے بغیر متعدد ممالک ایک ماحولیاتی چیلنج، فوسل فیول پر انحصار کو دوسرے چیلنج یعنی کلین ٹیکنالوجی کے غیر منظم کچرے سے بدلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔</p>
<p>اس کا حل پینلز کے لینڈ فل تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو فوری طور پر ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلیٹی، (ای پی آر) قانون نافذ کرنا چاہیے، جس کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے اپنی مدت پوری کرنے والے پینلز کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکل کرنے کے اخراجات خود اٹھانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ کار پینلز کو ٹھکانے لگانے کے اخراجات بلدیاتی اداروں اور صارفین سے ہٹا کر کمپنیوں پر ڈالے گا، جس سے کمپنیاں ایسے ماڈیولز ڈیزائن کرنے کی طرف مائل ہوں گی جنہیں الگ کرنا اور ان سے مواد دوبارہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہو۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ پبلک انویسٹمنٹ (سرکاری سرمایہ کاری) کو علاقائی سطح پرری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کرنی چاہیے۔ یورپ اور مشرقی ایشیا سے باہر ری سائیکلنگ کے پلانٹس بہت کم اور مہنگے ہیں۔ اکثر پینل کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینکنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ سبسڈی، ٹیکس مراعات اور لینڈ فل پر پابندیوں کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔</p>
<p>تیسرا یہ کہ ہمیں مینوفیکچرنگ کے عمل میں ہی ڈیزائن فارسرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ڈیزائن) کو شامل کرنا ہوگا۔ اگلی نسل کے سولر پینلز کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ انہیں آسانی سے کھولا جا سکے، ان میں کم زہریلے گوند استعمال ہوں، فریم ماڈیولر ہوں، معیاری مواد استعمال کیا جائے اور اجزاء کی علیحدگی آسان ہو ، تاکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے اخراجات کم ہو سکیں۔</p>
<p>خریداری کی پالیسی بھی اس مانگ کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے حکومتوں، افادیت کے اداروں (یوٹیلیٹیز) اور بڑے خریداروں کو ان پینلز کو ترجیح دینی چاہیے جن میں تصدیق شدہ ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوا ہو اور جن کا لائف اینڈ ریکوری پلان شفاف ہو۔ کلین انرجی کی خریداری میں صرف کاربن اکاونٹنگ ہی نہیں بلکہ سرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کی صلاحیت) کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔</p>
<p>قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی کا مطلب صرف صاف بجلی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صنعتی نظاموں کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہے کہ ترقی کا انحصار وسائل نکالنے، انہیں ختم کرنے یا کچرے میں پھینکنے پر نہ رہے۔ شمسی توانائی اب بھی انسانیت کی سب سے بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے لیکن اگر ہم پینلز کی عمر ختم ہونے کے بعد کے اثرات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم اس ماحولیاتی وعدے کو ہی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیں گے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>صاف توانائی کی منتقلی کا عمل یکطرفہ یا لکیری نہیں ہو سکتا، یعنی کان کنی کرو، بناؤ، لگاؤ اور پھینک دو۔ اسے لازمی طور پر سرکلر (دائرہ نما) ہونا چاہیے، یعنی ڈیزائن کرو، پیدا کرو، دوبارہ حاصل کرو اور پھر سے بناؤ۔ صرف اس دائرے کو مکمل کر کے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سورج کی طرف ہماری یہ دوڑ زمین پر کوئی مستقل داغ نہ چھوڑ جائے۔ شمسی توانائی اب بھی ماحولیات کے لیے ہمارا سب سے روشن حل ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم اس کے پیچھے چھوڑے جانے والے مواد کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم نظام تیار کریں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 28 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506914</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 15:47:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر مدیحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/29153826c2123f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/29153826c2123f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نارکو دہشت گردی کے مہلک پنجے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506912/drug-abuse-internationaltea-day-against-drug-abuse-illicit-trafficking-narcoterrorism-drugs-and-crime</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1987 میں اس عالمی دن کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عالمی برادری میں منشیات کے استعمال کے خطرات سے آگاہی بڑھانا، اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم ( یواین اوڈی سی) اس دن کے لیے ایک موضوع مقرر کرتا ہے۔ رواں سال کا موضوع ہے: ”منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور جدت پر مبنی حل“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام، اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں تیار ہونے والی بیشتر منشیات (خصوصاً ہیروئن اور افیون) پاکستان کے راستے منتقل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ زمینی راہداریاں پاکستان، افغانستان، ایران اور بھارت کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم حکام کے مطابق بڑی مقدار میں منشیات پاکستان کی بحری حدود سے بھی نسبتاً آزادانہ طور پر اسمگل کی جاتی ہیں“۔(انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ مارچ 2025)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی، منشیات کے بدلے اسلحے کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ کئی ممالک کے سیاسی اور مالیاتی استحکام کو بھی متزلزل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان سے لے کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور القاعدہ سے داعش تک، اصل مسئلہ قانونی اور غیر قانونی رقوم کی بلا روک ٹوک آمدورفت ہے۔ آج تک عالمی برادری ان گروہوں کی مالی شہ رگ کاٹنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک کھلا راز ہے کہ طالبان کے بعد کے افغانستان میں منشیات کی تجارت کو کس طرح ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور افغانستان کے متعدد صوبوں میں جنگجو سرداروں کی سرپرستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب افغانستان کے اندر بڑے پیمانے پر افیون کو مارفین اور ہیروئن میں تبدیل کیا جانے لگا تو اس سے زمینی کمانڈروں کے لیے بے پناہ مالی وسائل پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2004 سے 2021 تک افغانستان میں قائم محدود یا کنٹرولڈ جمہوریت نے، جو زیادہ منظم اور منشیات سے مالا مال جنگجو کمانڈروں کے مفادات کے تابع رہی، نہایت تباہ کن نتائج پیدا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی 2004 سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے، بخوبی جانتے تھے کہ ہر انتخاب میں ووٹ کیسے خریدا یا طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے تاکہ افیون سے وابستہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وسطی ایشیا کے مجرمانہ گروہوں نے 2015 میں افیونی منشیات کی اسمگلنگ سے 15.2 ارب ڈالر کمائے، جو صرف دو برس میں بڑھ کر 22.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (&lt;em&gt;ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2017&lt;/em&gt;)۔ 2026 میں یہ حجم 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق تاریخ، غربت اور جغرافیائی عوامل کے امتزاج کے باعث تاجکستان منشیات کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ منشیات کی تجارت اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ تھی، جس کے اڈے افغانستان اور تاجکستان میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی جنگ کے بعد اگرچہ آئی ایم یو اپنی زیادہ تر قوت کھو بیٹھی، تاہم منشیات کی تجارت بدستور جاری رہی اور سیاسی یا مذہبی شدت پسندوں کی جگہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں ہر دس میں سے آٹھ افراد نے، جو کسی حیرت کی بات نہیں، یہ کہا کہ ”منشیات کی اسمگلنگ کی طرف جانے کی بنیادی وجہ بہت زیادہ دولت کمانا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیہ نے بھی تاجکستان کے منشیات کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ افغانستان کے ساتھ اس کی 1,400 کلومیٹر طویل سرحد وسطی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل ہے، جس کی مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی دشوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں، جہاں پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے، تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے زیادہ تر منشیات ازبکستان اور کرغزستان منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ آگے قازقستان اور پھر روس پہنچتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" href="#گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’گولڈن ٹرائی اینگل‘ مہلک ترین منشیات کا بڑا مرکز&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین اوڈی سی) کی ’ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025‘ کے مطابق میانمار (برما) میں 2025 کے دوران افیون کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ کر 53 ہزار 100 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی میانمار نے افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’2024 یو این او ڈی سی میانمار افیون سروے: کاشت، پیداوار اور مضمرات‘ کے مطابق میانمار نے 2024 میں 995 میٹرک ٹن افیون پیدا کی، جو 2023 میں پیدا ہونے والی 1,080 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ (آئی این سی ایس آر)، مارچ 2025 کے مطابق 2023 میں خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 190 میٹرک ٹن میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جو اب تک کی ریکارڈ مقدار ہے۔ اس میں سے 73 فیصد برما، تھائی لینڈ اور لاؤس پر مشتمل ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس منشیات کی زیادہ تر پیداوار بھی میانمار میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران افغانستان کے منشیات پیدا کرنے والے پانچ بڑے صوبوں میں سے ہلمند، ارزگان اور قندھار ایک نئے ’کولمبیا‘ کی شکل اختیار کر گئے، جہاں منشیات کے سرغناؤں نے نہ صرف حکومتوں بلکہ معیشت کو بھی اپنے شکنجے میں لے کر تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دینے کے سوا اس کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”امریکی صدر کی مالی سال 2025 کے لیے جاری کردہ فہرست کے مطابق افغانستان اب بھی منشیات کی پیداوار اور ترسیل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ افیون، ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اصلاحات اور اقدامات کو اس حد تک مؤثر سمجھا گیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی انسدادِ منشیات معاہدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔“(آئی این سی ایس آر &lt;em&gt;2025)&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی این سی ایس آر 2025 نے، سابقہ رپورٹس کی طرح، طالبان کے خطرے پر تو زور دیا، لیکن افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے مقامی سیاست دانوں کے نزدیک یہ معاشی عوامل، قدرتی آفات اور سرحدی مسائل طالبان سے کہیں زیادہ سنگین چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ماضی اور حال دونوں میں ’طالبان کے خطرے‘ کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہر قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔ تاہم وہ حلقے بھی، جو اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کو حقیقی خطرہ سمجھتے تھے، امریکی حمایت یافتہ حکومتوں پر یہ تنقید کرتے رہے کہ انہوں نے طالبان کا مقابلہ معاشی ترقی اور روزگار کے ذریعے کرنے کے بجائے محض عسکری حکمت عملی اپنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد دوسری مرتبہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے آئی این سی ایس آر 2025 کے مطابق پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت میں کمی لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ”اگرچہ افغانستان کئی دہائیوں سے دنیا میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور دیگر ذرائع کی حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ طالبان کی 2022 کی انسدادِ منشیات پابندی کے بعد مسلسل دوسرے سال بھی پوست کی کاشت میں نمایاں کمی برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2024 میں یو این او ڈی سی نے پوست کی کاشت کا تخمینہ 12 ہزار 800 ہیکٹر لگایا، جو 2023 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ رقبہ 2022 کے 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال افغانستان میں، خصوصاً خواتین میں، منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ آئی این سی ایس آر 2025 میں اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”افغانستان اس وقت منشیات کے استعمال کے شدید بحران سے دوچار ہے اور فی کس منشیات کے عادی افراد کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں منشیات کے استعمال میں اضافہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے باوجود طالبان کے زیر انتظام منشیات کے علاج کے مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ ایران کی ان کوششوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کر کے مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، جن کے تحت منشیات کی تجارت میں ملوث جنگجو سرداروں اور کمانڈروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، مگر مصنف کے مطابق امریکی پالیسی ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے آزاد خیال مبصرین افغانستان اور دیگر خطوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق چین بھی اسی تناظر میں اسے امریکہ کا ایک خفیہ ایجنڈا قرار دیتا ہے، جس کا مقصد سی آئی اے کی مبینہ سرپرستی میں عسکریت پسندی کو فروغ دے کر، سابق سوویت یونین کے خلاف زبگنیو برژنسکی کی حکمت عملی کو چین کے خلاف جاری رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف مزید دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں، کارکنوں، تاجروں اور اساتذہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کے حملے، جنہیں وہ را، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق ان تمام کوششوں کا مقصد چین کے اہم منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے، کو ناکام بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1987 میں اس عالمی دن کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عالمی برادری میں منشیات کے استعمال کے خطرات سے آگاہی بڑھانا، اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ہر سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم ( یواین اوڈی سی) اس دن کے لیے ایک موضوع مقرر کرتا ہے۔ رواں سال کا موضوع ہے: ”منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور جدت پر مبنی حل“۔</p>
<p>”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام، اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہے۔</p>
<p>افغانستان میں تیار ہونے والی بیشتر منشیات (خصوصاً ہیروئن اور افیون) پاکستان کے راستے منتقل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ زمینی راہداریاں پاکستان، افغانستان، ایران اور بھارت کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم حکام کے مطابق بڑی مقدار میں منشیات پاکستان کی بحری حدود سے بھی نسبتاً آزادانہ طور پر اسمگل کی جاتی ہیں“۔(انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ مارچ 2025)</p>
<p>دہشت گردی، منشیات کے بدلے اسلحے کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ کئی ممالک کے سیاسی اور مالیاتی استحکام کو بھی متزلزل کر رہے ہیں۔</p>
<p>شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان سے لے کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور القاعدہ سے داعش تک، اصل مسئلہ قانونی اور غیر قانونی رقوم کی بلا روک ٹوک آمدورفت ہے۔ آج تک عالمی برادری ان گروہوں کی مالی شہ رگ کاٹنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>یہ ایک کھلا راز ہے کہ طالبان کے بعد کے افغانستان میں منشیات کی تجارت کو کس طرح ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور افغانستان کے متعدد صوبوں میں جنگجو سرداروں کی سرپرستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔</p>
<p>جب افغانستان کے اندر بڑے پیمانے پر افیون کو مارفین اور ہیروئن میں تبدیل کیا جانے لگا تو اس سے زمینی کمانڈروں کے لیے بے پناہ مالی وسائل پیدا ہوئے۔</p>
<p>2004 سے 2021 تک افغانستان میں قائم محدود یا کنٹرولڈ جمہوریت نے، جو زیادہ منظم اور منشیات سے مالا مال جنگجو کمانڈروں کے مفادات کے تابع رہی، نہایت تباہ کن نتائج پیدا کیے۔</p>
<p>اب یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی 2004 سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے، بخوبی جانتے تھے کہ ہر انتخاب میں ووٹ کیسے خریدا یا طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے تاکہ افیون سے وابستہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔</p>
<p>افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وسطی ایشیا کے مجرمانہ گروہوں نے 2015 میں افیونی منشیات کی اسمگلنگ سے 15.2 ارب ڈالر کمائے، جو صرف دو برس میں بڑھ کر 22.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (<em>ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2017</em>)۔ 2026 میں یہ حجم 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔</p>
<p>تازہ ترین ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق تاریخ، غربت اور جغرافیائی عوامل کے امتزاج کے باعث تاجکستان منشیات کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔</p>
<p>1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ منشیات کی تجارت اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ تھی، جس کے اڈے افغانستان اور تاجکستان میں موجود تھے۔</p>
<p>افغانستان کی جنگ کے بعد اگرچہ آئی ایم یو اپنی زیادہ تر قوت کھو بیٹھی، تاہم منشیات کی تجارت بدستور جاری رہی اور سیاسی یا مذہبی شدت پسندوں کی جگہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے لے لی۔</p>
<p>اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں ہر دس میں سے آٹھ افراد نے، جو کسی حیرت کی بات نہیں، یہ کہا کہ ”منشیات کی اسمگلنگ کی طرف جانے کی بنیادی وجہ بہت زیادہ دولت کمانا ہے۔“</p>
<p>جغرافیہ نے بھی تاجکستان کے منشیات کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ افغانستان کے ساتھ اس کی 1,400 کلومیٹر طویل سرحد وسطی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل ہے، جس کی مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی دشوار ہے۔</p>
<p>افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں، جہاں پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے، تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے زیادہ تر منشیات ازبکستان اور کرغزستان منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ آگے قازقستان اور پھر روس پہنچتی ہیں۔</p>
<h3><a id="گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" href="#گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’گولڈن ٹرائی اینگل‘ مہلک ترین منشیات کا بڑا مرکز</strong></h3>
<p>اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین اوڈی سی) کی ’ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025‘ کے مطابق میانمار (برما) میں 2025 کے دوران افیون کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ کر 53 ہزار 100 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی میانمار نے افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔</p>
<p>’2024 یو این او ڈی سی میانمار افیون سروے: کاشت، پیداوار اور مضمرات‘ کے مطابق میانمار نے 2024 میں 995 میٹرک ٹن افیون پیدا کی، جو 2023 میں پیدا ہونے والی 1,080 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھی۔</p>
<p>انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ (آئی این سی ایس آر)، مارچ 2025 کے مطابق 2023 میں خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 190 میٹرک ٹن میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جو اب تک کی ریکارڈ مقدار ہے۔ اس میں سے 73 فیصد برما، تھائی لینڈ اور لاؤس پر مشتمل ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس منشیات کی زیادہ تر پیداوار بھی میانمار میں ہوئی۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران افغانستان کے منشیات پیدا کرنے والے پانچ بڑے صوبوں میں سے ہلمند، ارزگان اور قندھار ایک نئے ’کولمبیا‘ کی شکل اختیار کر گئے، جہاں منشیات کے سرغناؤں نے نہ صرف حکومتوں بلکہ معیشت کو بھی اپنے شکنجے میں لے کر تباہ کر دیا۔</p>
<p>افغانستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دینے کے سوا اس کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکیں۔</p>
<p>”امریکی صدر کی مالی سال 2025 کے لیے جاری کردہ فہرست کے مطابق افغانستان اب بھی منشیات کی پیداوار اور ترسیل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ افیون، ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اصلاحات اور اقدامات کو اس حد تک مؤثر سمجھا گیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی انسدادِ منشیات معاہدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔“(آئی این سی ایس آر <em>2025)</em></p>
<p>آئی این سی ایس آر 2025 نے، سابقہ رپورٹس کی طرح، طالبان کے خطرے پر تو زور دیا، لیکن افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>بہت سے مقامی سیاست دانوں کے نزدیک یہ معاشی عوامل، قدرتی آفات اور سرحدی مسائل طالبان سے کہیں زیادہ سنگین چیلنج تھے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ماضی اور حال دونوں میں ’طالبان کے خطرے‘ کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہر قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔ تاہم وہ حلقے بھی، جو اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کو حقیقی خطرہ سمجھتے تھے، امریکی حمایت یافتہ حکومتوں پر یہ تنقید کرتے رہے کہ انہوں نے طالبان کا مقابلہ معاشی ترقی اور روزگار کے ذریعے کرنے کے بجائے محض عسکری حکمت عملی اپنائی۔</p>
<p>2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد دوسری مرتبہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے آئی این سی ایس آر 2025 کے مطابق پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت میں کمی لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ”اگرچہ افغانستان کئی دہائیوں سے دنیا میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور دیگر ذرائع کی حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ طالبان کی 2022 کی انسدادِ منشیات پابندی کے بعد مسلسل دوسرے سال بھی پوست کی کاشت میں نمایاں کمی برقرار رہی۔</p>
<p>اگرچہ 2024 میں یو این او ڈی سی نے پوست کی کاشت کا تخمینہ 12 ہزار 800 ہیکٹر لگایا، جو 2023 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ رقبہ 2022 کے 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔“</p>
<p>تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال افغانستان میں، خصوصاً خواتین میں، منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ آئی این سی ایس آر 2025 میں اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”افغانستان اس وقت منشیات کے استعمال کے شدید بحران سے دوچار ہے اور فی کس منشیات کے عادی افراد کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں منشیات کے استعمال میں اضافہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے باوجود طالبان کے زیر انتظام منشیات کے علاج کے مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔</p>
<p>امریکہ ایران کی ان کوششوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کر کے مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، جن کے تحت منشیات کی تجارت میں ملوث جنگجو سرداروں اور کمانڈروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، مگر مصنف کے مطابق امریکی پالیسی ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی۔</p>
<p>اسی لیے آزاد خیال مبصرین افغانستان اور دیگر خطوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>مصنف کے مطابق چین بھی اسی تناظر میں اسے امریکہ کا ایک خفیہ ایجنڈا قرار دیتا ہے، جس کا مقصد سی آئی اے کی مبینہ سرپرستی میں عسکریت پسندی کو فروغ دے کر، سابق سوویت یونین کے خلاف زبگنیو برژنسکی کی حکمت عملی کو چین کے خلاف جاری رکھنا ہے۔</p>
<p>مصنف مزید دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں، کارکنوں، تاجروں اور اساتذہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کے حملے، جنہیں وہ را، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>مصنف کے مطابق ان تمام کوششوں کا مقصد چین کے اہم منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے، کو ناکام بنانا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506912</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 15:27:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/29152655b1ff435.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/29152655b1ff435.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اب ’’گرین اسپین پُٹ‘‘ کو خیرباد کہنے کا وقت آ گیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506847/us-federal-reserve-kevin-warsh-ben-bernanke-greenspan-bernanke-put-us-chip-stocks-technological-investment-fed-chairman</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟</strong></p>
<p>اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔</p>
<p>امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔</p>
<p>گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔</p>
<p>گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔</p>
<p>یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔</p>
<p>گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔</p>
<p>بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔</p>
<p>منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔</p>
<p>گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔</p>
<p>یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔</p>
<p>یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔</p>
<p>یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p>اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔</p>
<p>ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔</p>
<p>یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔</p>
<p>کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔</p>
<p>شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔</p>
<p>لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p>اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟</p>
<p>یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔</p>
<p>ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506847</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:18:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271416372dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271416372dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ 2026-27 کی خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506722/fbr-psdp-taxes-bisp-super-tax-budget-2026-27-federal-budget-2026-2027</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔</p>
<p>دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔</p>
<p>مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔</p>
<p>تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔</p>
<p>اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟</p>
<p>جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔</p>
<p>دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔</p>
<p>بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔</p>
<p>مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔</p>
<p>آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506722</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/231323014b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/231323014b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارٹر آف اکانومی: ایک غیر ضروری تصور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506720/nawaz-sharif-ishaq-dar-benazir-bhutto-political-parties-federal-board-of-revenue-ataullah-tarar-budget-2026-27-current-expenditure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔</strong></p>
<p>ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔</p>
<p>مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔</p>
<p>لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔</p>
<p>آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔</p>
<p>بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔</p>
<p>پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔</p>
<p>دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔</p>
<p>رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘</p>
<p>پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔</p>
<p>پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔</p>
<p>آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔</p>
<p>چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔</p>
<p>تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟</p>
<p>تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟</p>
<p>ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506720</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23131143ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23131143ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزگار کا خاموش بحران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔</p>
<p>تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔</p>
<p>درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔</p>
<p>یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔</p>
<p>بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506690</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:47:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/221244507e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/221244507e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنانس بل 2026: ٹیکس بٹورنے سے کام نہیں چل سکتا!</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔</strong></p>
<p>اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟</p>
<p>فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔</p>
<p>تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔</p>
<p>بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔</p>
<p>پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔</p>
<p>ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p>اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔</p>
<p>شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔</p>
<p>قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔</p>
<p>اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔</p>
<p>مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔</p>
<p>یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔</p>
<p>دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔</p>
<p>تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔</p>
<p>پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟</p>
<p>فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
<p>جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506631</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 12:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122706c81d4b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/20122706c81d4b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمین میں احساسِ ملکیت پیدا کرنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔</p>
<p>یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔</p>
<p>ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“</p>
<p>اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔</p>
<p>مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔</p>
<p>رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:</p>
<p><strong>پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی</strong></p>
<p>لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔</p>
<p>انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔</p>
<p>ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔</p>
<p><strong>دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق</strong></p>
<p>ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟</p>
<p>ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔</p>
<p>وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“</p>
<p>ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“</p>
<p>یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا</strong></p>
<p>ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔</p>
<p>ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“</p>
<p>فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔</p>
<p>اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“</p>
<p>ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔</p>
<p>عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔</p>
<p>تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔</p>
<p>یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506577</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 14:50:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181446132f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181446132f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی اہم خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506580/imf-imf-and-pakistan-budget-2026-27-federal-budget-fy2026-27-budget-fy27-fy2026-27-budget-federal-budget-2026-2027-federal-budget-fy2026-27-key-features-of-budget</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی استحکام میں کامیابی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی حکومتوں پر دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p><strong>مالیاتی استحکام میں کامیابی</strong></p>
<p>ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔</p>
<p>خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔</p>
<p>اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:</p>
<p><strong>وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔</p>
<p><strong>صوبائی حکومتوں پر دباؤ</strong></p>
<p>صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔</p>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔</p>
<p>تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔</p>
<p><strong>ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف</strong></p>
<p>مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔</p>
<p>قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p>اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506580</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 15:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181501374b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181501374b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ، ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے لے لینا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506511/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2027 کو بعض حلقوں میں جشن کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ تاہم یہ جشن قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نہ تو پرو گروتھ (ترقی پر مبنی) بجٹ ہے اور نہ ہی توسیعی نوعیت کا۔ مجموعی ترقیاتی اخراجات، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کم ہونے جا رہے ہیں۔ جو مالی گنجائش پیدا کی گئی ہے، وہ زیادہ تر ایک محدود اشرافیہ کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جن کے اخراجاتی انداز معیشت کی شرحِ نمو میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کریں گے۔ وفاقی سطح پر یہ ایک ریلیف بجٹ ہے، اور کاغذی طور پر اسے صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے فنانس کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت مالیاتی وفاقیت (فنانشل فیڈرلزم) کے ایک بنیادی ساختی نقص کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر غیر روایتی طریقوں سے۔ آئی ایم ایف نے 2017 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان کا مالیاتی نظام دوسرے ممالک کے مقابلے میں کچھ حد تک منفرد ہے، اور یہ انفرادیت 7ویں این ایف سی ایوارڈ سے پیدا ہونے والے بڑے عدم توازن کی وجہ سے ہے، جہاں صوبوں کا آمدن میں حصہ ان کی ریسورس موبلائزیشن کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالہا سال تک وفاقی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کا زیادہ بوجھ اٹھایا جبکہ صوبوں نے نسبتاً زیادہ اخراجات کیے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی سرپلسز بڑی حد تک صوبوں کے پاس ہی جمع رہے، اور بعد ازاں یہ بالآخر ٹی بلز میں سرمایہ کاری کے ذریعے وفاقی مالی خسارے کو فنانس کرتے رہے۔ یہ جمع شدہ سرپلسز ایک طرح کا ڈرائی پاؤڈر ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کے ختم ہونے کے بعد استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کا بجٹ، کاغذی طور پر، اس صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے تحت ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رقم وفاقی حکومت کو منتقل کی جا رہی ہے۔ اس سے اسلام آباد کو یہ گنجائش ملتی ہے کہ وہ اخراجات میں کمی کیے بغیر ٹیکس کم کر سکے، اور ہدف شدہ مالی توازن بھی برقرار رہے۔ تاہم اس میں تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ صوبے اپنی مکمل آمدنی کا حصہ اس وقت تک حاصل کرتے ہیں جب تک ایف بی آر کی وصولیاں 13.35 ٹریلین روپے تک نہ پہنچ جائیں؛ اس کے بعد اضافی حصہ وفاقی حکومت کو گرانٹ کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر ایف بی آر ہدف حاصل نہ کرے تو صوبے مکمل آمدنی کے رسک سے محفوظ رہتے ہیں، بجائے روایتی 43 فیصد شیئر کے۔ یہ انتظام صوبوں کے رضاکارانہ تعاون پر بھی منحصر ہے، اس لیے یہ کوئی مستقل ساختی حل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے اس مالی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے رسمی، امیر اور درمیانی آمدنی والے طبقات کو ریلیف دیا ہے، جن میں تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے جن پر گزشتہ برسوں میں ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر اور غیر متناسب طور پر بڑھایا گیا تھا۔ اب ان کا ٹیکس کم ہے، تاہم وہ اب بھی 2022 کے مقابلے میں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ برآمد کنندگان کو کاغذی طور پر بہتر آمدنی نظر آئے گی، لیکن اس بجٹ میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہت کم اقدامات ہیں۔ کوئی بھی فریق نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر طبقہ زیادہ خرچ کرے گا، غالباً درآمدی اشیا اور خدمات پر۔ تنخواہ دار گھرانوں کے پاس قابلِ خرچ آمدن میں معمولی اضافہ ہوگا، مگر یہ کسی بڑے ڈیمانڈ ملٹی پلائر کا سبب نہیں بنتا جو ترقی کی سمت بدل سکے۔ اور غریب و غیر رسمی نچلے اور درمیانی طبقے کے لیے عملاً کچھ بھی نہیں ہے۔ جو معمولی فائدہ ہوگا وہ پہلے سے موجود پٹرولیم لیویز کے باعث ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا بمشکل ازالہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے اہداف حقیقت سے دور حد تک پرامید ہیں۔ براہِ راست ٹیکس وصولی میں 18.3 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں 13.2 فیصد اضافہ متوقع ہے، اور یہ سب ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود۔ کسٹمز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافے کی توقع ہے، حالانکہ اسٹیٹ بینک غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور تجارتی ٹیرف کم ہو رہے ہیں۔ یہ حساب کتاب ہم آہنگ نہیں بیٹھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ خلا ظاہر ہوں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ ہوں گے—تو دباؤ دوبارہ ایف بی آر پر آئے گا کہ وہ کارکردگی دکھائے۔ اس کا مطلب ہے کہ رسمی شعبے پر مزید دباؤ: ایڈوانس ادائیگیوں کا مطالبہ، سخت وصولی اقدامات کا اطلاق، اور انہی ٹیکس دہندگان کی طرف دوبارہ رجوع جو ابھی ریلیف کا جشن منا رہے ہیں۔ امیر طبقے کی خوشی مختصر ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران حکومت کے پاس پٹرولیم لیویز بڑھانے کی کافی گنجائش موجود ہے، اور وہ بھی صارفین پر مکمل اثر ڈالے بغیر، خاص طور پر اگر ایران-امریکا ممکنہ معاہدہ تیل کی قیمتوں کو محدود رکھتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی دیگر اقسام بھی دستیاب ہیں۔ یہ آلات جب استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ ایک چھوٹے طبقے کی طرف سے، جو صرف ریلیف والی سمت دیکھ رہا ہے، ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ وہ دوسری سمت کا حساب نہیں لگا رہے۔ ریلیف حقیقی ہے، لیکن یہ کاغذی اہداف پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ اہداف پورے نہیں ہوتے—جیسا کہ پہلے ادوار میں بھی ہوا ہے—تو آئی ایم ایف سخت اقدامات پر زور دے گا، اور حکومت دوبارہ انہی جیبوں کی طرف جائے گی جنہیں وہ ابھی جزوی طور پر خالی کر چکی ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرے گی جو عام پاکستانیوں کے معیارِ زندگی کو مزید دباؤ میں لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتیاط ضروری ہے۔ کچھ افراطِ زر کے اثرات کا امکان موجود ہے۔ مرکزی بینک کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2027 کو بعض حلقوں میں جشن کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ تاہم یہ جشن قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ نہ تو پرو گروتھ (ترقی پر مبنی) بجٹ ہے اور نہ ہی توسیعی نوعیت کا۔ مجموعی ترقیاتی اخراجات، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کم ہونے جا رہے ہیں۔ جو مالی گنجائش پیدا کی گئی ہے، وہ زیادہ تر ایک محدود اشرافیہ کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جن کے اخراجاتی انداز معیشت کی شرحِ نمو میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کریں گے۔ وفاقی سطح پر یہ ایک ریلیف بجٹ ہے، اور کاغذی طور پر اسے صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے فنانس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>حکومت مالیاتی وفاقیت (فنانشل فیڈرلزم) کے ایک بنیادی ساختی نقص کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر غیر روایتی طریقوں سے۔ آئی ایم ایف نے 2017 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان کا مالیاتی نظام دوسرے ممالک کے مقابلے میں کچھ حد تک منفرد ہے، اور یہ انفرادیت 7ویں این ایف سی ایوارڈ سے پیدا ہونے والے بڑے عدم توازن کی وجہ سے ہے، جہاں صوبوں کا آمدن میں حصہ ان کی ریسورس موبلائزیشن کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔</p>
<p>سالہا سال تک وفاقی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کا زیادہ بوجھ اٹھایا جبکہ صوبوں نے نسبتاً زیادہ اخراجات کیے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی سرپلسز بڑی حد تک صوبوں کے پاس ہی جمع رہے، اور بعد ازاں یہ بالآخر ٹی بلز میں سرمایہ کاری کے ذریعے وفاقی مالی خسارے کو فنانس کرتے رہے۔ یہ جمع شدہ سرپلسز ایک طرح کا ڈرائی پاؤڈر ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کے ختم ہونے کے بعد استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2027 کا بجٹ، کاغذی طور پر، اس صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے تحت ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رقم وفاقی حکومت کو منتقل کی جا رہی ہے۔ اس سے اسلام آباد کو یہ گنجائش ملتی ہے کہ وہ اخراجات میں کمی کیے بغیر ٹیکس کم کر سکے، اور ہدف شدہ مالی توازن بھی برقرار رہے۔ تاہم اس میں تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ صوبے اپنی مکمل آمدنی کا حصہ اس وقت تک حاصل کرتے ہیں جب تک ایف بی آر کی وصولیاں 13.35 ٹریلین روپے تک نہ پہنچ جائیں؛ اس کے بعد اضافی حصہ وفاقی حکومت کو گرانٹ کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر ایف بی آر ہدف حاصل نہ کرے تو صوبے مکمل آمدنی کے رسک سے محفوظ رہتے ہیں، بجائے روایتی 43 فیصد شیئر کے۔ یہ انتظام صوبوں کے رضاکارانہ تعاون پر بھی منحصر ہے، اس لیے یہ کوئی مستقل ساختی حل نہیں۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے اس مالی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے رسمی، امیر اور درمیانی آمدنی والے طبقات کو ریلیف دیا ہے، جن میں تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے جن پر گزشتہ برسوں میں ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر اور غیر متناسب طور پر بڑھایا گیا تھا۔ اب ان کا ٹیکس کم ہے، تاہم وہ اب بھی 2022 کے مقابلے میں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ برآمد کنندگان کو کاغذی طور پر بہتر آمدنی نظر آئے گی، لیکن اس بجٹ میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہت کم اقدامات ہیں۔ کوئی بھی فریق نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آتا۔</p>
<p>امیر طبقہ زیادہ خرچ کرے گا، غالباً درآمدی اشیا اور خدمات پر۔ تنخواہ دار گھرانوں کے پاس قابلِ خرچ آمدن میں معمولی اضافہ ہوگا، مگر یہ کسی بڑے ڈیمانڈ ملٹی پلائر کا سبب نہیں بنتا جو ترقی کی سمت بدل سکے۔ اور غریب و غیر رسمی نچلے اور درمیانی طبقے کے لیے عملاً کچھ بھی نہیں ہے۔ جو معمولی فائدہ ہوگا وہ پہلے سے موجود پٹرولیم لیویز کے باعث ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا بمشکل ازالہ کرے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کے اہداف حقیقت سے دور حد تک پرامید ہیں۔ براہِ راست ٹیکس وصولی میں 18.3 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں 13.2 فیصد اضافہ متوقع ہے، اور یہ سب ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود۔ کسٹمز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافے کی توقع ہے، حالانکہ اسٹیٹ بینک غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور تجارتی ٹیرف کم ہو رہے ہیں۔ یہ حساب کتاب ہم آہنگ نہیں بیٹھتا۔</p>
<p>جب یہ خلا ظاہر ہوں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ ہوں گے—تو دباؤ دوبارہ ایف بی آر پر آئے گا کہ وہ کارکردگی دکھائے۔ اس کا مطلب ہے کہ رسمی شعبے پر مزید دباؤ: ایڈوانس ادائیگیوں کا مطالبہ، سخت وصولی اقدامات کا اطلاق، اور انہی ٹیکس دہندگان کی طرف دوبارہ رجوع جو ابھی ریلیف کا جشن منا رہے ہیں۔ امیر طبقے کی خوشی مختصر ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران حکومت کے پاس پٹرولیم لیویز بڑھانے کی کافی گنجائش موجود ہے، اور وہ بھی صارفین پر مکمل اثر ڈالے بغیر، خاص طور پر اگر ایران-امریکا ممکنہ معاہدہ تیل کی قیمتوں کو محدود رکھتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی دیگر اقسام بھی دستیاب ہیں۔ یہ آلات جب استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ بجٹ ایک چھوٹے طبقے کی طرف سے، جو صرف ریلیف والی سمت دیکھ رہا ہے، ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ وہ دوسری سمت کا حساب نہیں لگا رہے۔ ریلیف حقیقی ہے، لیکن یہ کاغذی اہداف پر مبنی ہے۔</p>
<p>جب یہ اہداف پورے نہیں ہوتے—جیسا کہ پہلے ادوار میں بھی ہوا ہے—تو آئی ایم ایف سخت اقدامات پر زور دے گا، اور حکومت دوبارہ انہی جیبوں کی طرف جائے گی جنہیں وہ ابھی جزوی طور پر خالی کر چکی ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرے گی جو عام پاکستانیوں کے معیارِ زندگی کو مزید دباؤ میں لاتے ہیں۔</p>
<p>احتیاط ضروری ہے۔ کچھ افراطِ زر کے اثرات کا امکان موجود ہے۔ مرکزی بینک کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506511</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 15:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/161541237e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/161541237e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج ریلیف، کل کا کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجٹ تقریر نے کسی حد تک امید کی کرن دکھائی ہے۔ ابتدائی تاثر یہ ہے کہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ شعبے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، خاص طور پر برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشنرز کی پنشن میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اب معیشت کو استحکام کے مرحلے سے نکال کر نمو کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں، خصوصاً ایف بی آر کے پرعزم ٹیکس ہدف کا حصول اور اس صورت میں درآمدات پر قابو رکھنا، اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا، معیشت ابھی بھی گویا کوما میں ہے، البتہ چند ’’لالی پاپ‘‘ بانٹ دیے گئے ہیں، اور ان کا بڑا حصہ خوش حال طبقے کے حصے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے ریلیف اقدامات اور آمدنی بڑھانے کے کسی بڑے نئے اقدام کے بغیر حکومت یہ توقع کیسے کر رہی ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 17.6 فیصد بڑھ جائیں گی، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں صرف 13.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے؟ اضافی 4.4 فیصد کہاں سے آئے گا، اور ٹیکس ریلیف کی لاگت کس طرح پوری کی جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فرض کر چکی ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا، اور مالیاتی فریم ورک میں پیدا ہونے والا خلا آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے ایک مرتبہ ملنے والی 1.1 کھرب روپے کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔ اس سے بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری فسکل بیلنس) کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت محصولات کے معاملے میں آئی ایم ایف سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جیسا کہ 2013 سے 2016 کے پروگرام کے دوران اُس وقت کی مسلم لیگ (ن) حکومت نے متعدد بار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق صوبوں کو ایف بی آر کی 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں پر این ایف سی کے تحت اپنا مکمل حصہ ملے گا۔ تاہم 13.35 کھرب روپے سے 15.3 کھرب روپے تک کی اضافی وصولیوں پر صوبوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حصے کا 57.5 فیصد وفاق کو بطور گرانٹ واپس کریں گے۔ اگر ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے کم رہتی ہیں، جس کا امکان بہت سے مبصرین ظاہر کر رہے ہیں، تو صوبائی گرانٹ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال تاہم حکومت داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔ خوش حال طبقے کے پاس خوشی منانے کی کئی وجوہات ہیں۔ سپر ٹیکس سے استثنا کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، بیرون ملک اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، بزنس کلاس سفر پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، غیرملکی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کی جانب سے بھی مثبت ردعمل متوقع ہے۔ سولر انڈسٹری اس بات پر مطمئن ہے کہ مجوزہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی درآمدات پر دی گئی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ وسیع تر آٹو پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ چند رعایتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان بھی مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے نقد رقوم کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، اگرچہ برآمد کنندگان کی خواہش تھی کہ کم از کم ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس استثنا میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے، رعایتی مالیاتی سہولتوں پر شرحیں کم کی گئی ہیں اور دیگر مراعات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ اقدامات برآمدات میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ برآمد کنندگان کی آمدنی میں بہتری یقینی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر برادری بھی خوش ہے کیونکہ یہ اقدامات عملی طور پر ایک طرح کی ایمنسٹی اسکیم کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض ایف ایم سی جی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ کچھ مصنوعات کو تھرڈ شیڈول سے نکال کر عمومی جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اضافی 4 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ٹیکسوں کے باعث مختلف شعبوں کی منافع آوری بڑھے گی اور اسی کے نتیجے میں کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ریفائنری اور آٹو سیکٹر کی آئندہ پالیسیوں میں مزید مراعات دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقے بھی خاصے پُرجوش ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی اور بعض معروف وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کی متوقع آمد، جائیداد اور حصص بازار دونوں میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بجٹ میں سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کوئی بامعنی ریلیف نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں خوش حال طبقے، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں اور متوسط طبقے کے بڑے حصے کو ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں، وہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات سے نبرد آزما کم آمدن والے افراد کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ سہارا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم اجرت میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ایسے وقت میں ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے جب مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور ایندھن کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ کم آمدن والے گھرانوں کے لیے، جن کے اخراجات پر ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نسبتاً زیادہ اثر پڑتا ہے، یہ اضافہ کسی نمایاں ریلیف کا باعث بنتا نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان میں تو امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود طبقات کے لیے اس کے فوائد بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری طور پر اقتصادی نمو کا ہدف صرف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ تباہ کن نہیں، لیکن اسے مضبوط اقتصادی بحالی کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال سبھی اس ’’لالی پاپ‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مگر جلد یا بدیر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ممکن ہے صوبائی گرانٹس مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں۔ اگر آئی ایم ایف نے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تو منی بجٹ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اور اگر چھوٹ مل بھی جاتی ہے تو تیز تر اقتصادی نمو درآمدات اور بیرونی شعبے کے عدم توازن کے ذریعے ایک بار پھر معیشت کو ضرورت سے زیادہ گرم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجٹ تقریر نے کسی حد تک امید کی کرن دکھائی ہے۔ ابتدائی تاثر یہ ہے کہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ شعبے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، خاص طور پر برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشنرز کی پنشن میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اب معیشت کو استحکام کے مرحلے سے نکال کر نمو کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>تاہم سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں، خصوصاً ایف بی آر کے پرعزم ٹیکس ہدف کا حصول اور اس صورت میں درآمدات پر قابو رکھنا، اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔</p>
<p>جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا، معیشت ابھی بھی گویا کوما میں ہے، البتہ چند ’’لالی پاپ‘‘ بانٹ دیے گئے ہیں، اور ان کا بڑا حصہ خوش حال طبقے کے حصے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے ریلیف اقدامات اور آمدنی بڑھانے کے کسی بڑے نئے اقدام کے بغیر حکومت یہ توقع کیسے کر رہی ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 17.6 فیصد بڑھ جائیں گی، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں صرف 13.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے؟ اضافی 4.4 فیصد کہاں سے آئے گا، اور ٹیکس ریلیف کی لاگت کس طرح پوری کی جائے گی؟</p>
<p>بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فرض کر چکی ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا، اور مالیاتی فریم ورک میں پیدا ہونے والا خلا آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے ایک مرتبہ ملنے والی 1.1 کھرب روپے کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔ اس سے بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری فسکل بیلنس) کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت محصولات کے معاملے میں آئی ایم ایف سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جیسا کہ 2013 سے 2016 کے پروگرام کے دوران اُس وقت کی مسلم لیگ (ن) حکومت نے متعدد بار کیا تھا۔</p>
<p>مگر اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی موجود ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق صوبوں کو ایف بی آر کی 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں پر این ایف سی کے تحت اپنا مکمل حصہ ملے گا۔ تاہم 13.35 کھرب روپے سے 15.3 کھرب روپے تک کی اضافی وصولیوں پر صوبوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حصے کا 57.5 فیصد وفاق کو بطور گرانٹ واپس کریں گے۔ اگر ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے کم رہتی ہیں، جس کا امکان بہت سے مبصرین ظاہر کر رہے ہیں، تو صوبائی گرانٹ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گی۔</p>
<p>فی الحال تاہم حکومت داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔ خوش حال طبقے کے پاس خوشی منانے کی کئی وجوہات ہیں۔ سپر ٹیکس سے استثنا کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، بیرون ملک اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، بزنس کلاس سفر پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، غیرملکی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کی جانب سے بھی مثبت ردعمل متوقع ہے۔ سولر انڈسٹری اس بات پر مطمئن ہے کہ مجوزہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی درآمدات پر دی گئی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ وسیع تر آٹو پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ چند رعایتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان بھی مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے نقد رقوم کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، اگرچہ برآمد کنندگان کی خواہش تھی کہ کم از کم ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔</p>
<p>آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس استثنا میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے، رعایتی مالیاتی سہولتوں پر شرحیں کم کی گئی ہیں اور دیگر مراعات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ اقدامات برآمدات میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ برآمد کنندگان کی آمدنی میں بہتری یقینی نظر آتی ہے۔</p>
<p>تاجر برادری بھی خوش ہے کیونکہ یہ اقدامات عملی طور پر ایک طرح کی ایمنسٹی اسکیم کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض ایف ایم سی جی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ کچھ مصنوعات کو تھرڈ شیڈول سے نکال کر عمومی جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اضافی 4 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ٹیکسوں کے باعث مختلف شعبوں کی منافع آوری بڑھے گی اور اسی کے نتیجے میں کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ریفائنری اور آٹو سیکٹر کی آئندہ پالیسیوں میں مزید مراعات دی جائیں گی۔</p>
<p>رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقے بھی خاصے پُرجوش ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی اور بعض معروف وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کی متوقع آمد، جائیداد اور حصص بازار دونوں میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس بجٹ میں سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کوئی بامعنی ریلیف نظر نہیں آتا۔</p>
<p>جہاں خوش حال طبقے، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں اور متوسط طبقے کے بڑے حصے کو ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں، وہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات سے نبرد آزما کم آمدن والے افراد کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ سہارا دکھائی نہیں دیتا۔</p>
<p>کم از کم اجرت میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ایسے وقت میں ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے جب مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور ایندھن کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ کم آمدن والے گھرانوں کے لیے، جن کے اخراجات پر ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نسبتاً زیادہ اثر پڑتا ہے، یہ اضافہ کسی نمایاں ریلیف کا باعث بنتا نظر نہیں آتا۔</p>
<p>یہ بجٹ سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان میں تو امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود طبقات کے لیے اس کے فوائد بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری طور پر اقتصادی نمو کا ہدف صرف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ تباہ کن نہیں، لیکن اسے مضبوط اقتصادی بحالی کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔</p>
<p>فی الحال سبھی اس ’’لالی پاپ‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مگر جلد یا بدیر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ممکن ہے صوبائی گرانٹس مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں۔ اگر آئی ایم ایف نے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تو منی بجٹ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اور اگر چھوٹ مل بھی جاتی ہے تو تیز تر اقتصادی نمو درآمدات اور بیرونی شعبے کے عدم توازن کے ذریعے ایک بار پھر معیشت کو ضرورت سے زیادہ گرم کر سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 13 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506484</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 16:12:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/151610387e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/151610387e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ برائے مالی سال 2026-27</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506483/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری گرما گرم بحث نے ان توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا کہ صوبے قومی وسائل کے قابلِ تقسیم پول (ڈیوزبل پول) میں اپنے سالانہ حصے کے اضافے سے وفاق کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے لیکن مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ان تمام امیدوں پر ایسا پانی پھیرا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم دی ہالو مین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا کہ یہ سفر کسی دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دھیمی سسکی کے ساتھ تمام ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان توقعات کی توثیق بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے اس وقت کے ٹیلی ویژن خطاب سے بھی ہوئی تھی جو انہوں نے کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے بجٹ کی کلیدی تجاویز پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے اور اتفاق کرنے پر اپنے بھائی (پارٹی قائد)، اپنی بھتیجی (وزیراعلیٰ پنجاب)، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی تعریف کی تھی۔ تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ اعلان کہ اس اقدام کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا وہ آئندہ سال اس وعدے کو پورا کر پائیں گے جبکہ وہ موجودہ بجٹ کے دیگر امور پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے، جس کے لیے ہائبرڈ حکومت کی مداخلت اور وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ 30 سے 40 منٹ طویل گفتگو کی ضرورت پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود بجٹ میں موجودہ سال کے دوران صوبوں سے تقریباً ایک ٹریلین روپے اضافی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ایسا اضافہ جس کی معاشی نقطہ نظر سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ صوبائی سرپلس کو 1379 ارب روپے (2025-26 کے ترمیمی تخمینے) سے بڑھا کر 2026-27 میں 1794 ارب روپے کرنا شامل ہے، جس سے وفاق کے لیے 415 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی رقم کو گزشتہ سال کے 2.869 ٹریلین روپے سے کم کرکے اگلے سال کے لیے 2.224 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس سے مزید 649 ارب روپے وفاق کے کھاتے میں چلے جائیں گے۔یہاں دو مشاہدات اہم ہیں۔اول یہ کہ وفاق اس رقم کو اپنے جاری غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کرے گا، جو گزشتہ سال کی طرح بجٹ 2026-27 کا 93 فیصد بنتے ہیں اور یہ عمل ترقی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ دوم یہ اقدام اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن) کی جانب پیش رفت کو مزید سست کر دے گا، جو کہ مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے بجائے وفاق حکومت کے اگلے درجے یعنی صوبوں سے منصوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے گا، اگرچہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ جو پارٹی سیاسی طور پر جتنی مضبوط ہوگی وفاق اس کے مخصوص منصوبوں کے مطالبات پر اتنی ہی زیادہ توجہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ پچھلے بجٹوں سے کچھ مختلف ہے؟ یہاں پانچ ایسے اہم نکات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ پہلا یہ کہ بیرونی قرضوں پر انحصار اگلے سال بڑھ کر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا (290 روپے فی ڈالر کے حساب سے)، جبکہ رخصت ہونے والے سال کے لیے یہ ہدف 19.9 ارب ڈالر تھا، لیکن آخری گنتی تک 2025-26 میں صرف 11.068 ارب ڈالر ہی حاصل ہو سکے، یہ ایک ایسی آمد ہے جو یقیناً حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کمرشل قرضوں تک رسائی بڑھانے، پانڈا بانڈز (جس میں سے صرف 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈز جاری کیے گئے ہیں) اور دیگر ڈیٹ ایکویٹی آلات جیسے سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء پر بہت زیادہ زور دیا۔ مقامی قرضوں اور مارک اپ سمیت کل قرضہ اگلے سال 16 فیصد بڑھنے کا تخمینہ ہے، جو کہ ترمیمی تخمینوں کے 6.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کراگلے سال 8.05 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں لیکن بہرحال ایک قرض ہی ہے، وہ متوقع گارنٹی شدہ قرضہ ہے جو 30 جون 2025 کو عارضی واجبات کے اجراء کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.950 ٹریلین روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جو بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق 372 ارب روپے کم دکھایا گیا تھا۔ 30 جون 2027 تک اس میں متوقع اضافہ 5.005 ٹریلین روپے یا 16 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ جاری اخراجات کے تمام اجزاء میں اضافہ کیا گیا جو اشرافیہ کی اس نااہلی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی۔ پنشن کے لیے اگلے سال 1.16 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رخصت ہونے والے سال میں یہ رقم 1.05 ٹریلین روپے تھی، اگرچہ دستاویزات میں ظاہری طور پر 10 ارب روپے کے پنشن فنڈ کا ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈ ٹیکس دہندگان کے خرچے پر قائم کیا گیا ہے یا یہ گزشتہ سال اعلانیہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت صرف نئے ملازمین کے لیے حصہ داری لازمی قرار دی گئی تھی۔ دفاعی بجٹ میں بھی 412 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، حالانکہ اس کا بڑا حصہ دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کے باعث آپریشنل اخراجات کے لیے ہے (اور یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی اس میں شامل ہے)۔تیسرا یہ کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 2026-27 میں ایک ٹریلین روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، جو کہ 2025-26 میں مختص کردہ رقم کے برابر ہی ہے۔ تاہم رخصت ہونے والے سال میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اصل ادائیگی اب تک 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ یہ الاٹمنٹس مسلم لیگ (ن) کے اس پرانے فلسفے کی عکاس ہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے ترقی کے ساتھ ساتھ پارٹی کی مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار بھی توجہ پانی کے ذخائر کے بجائے سڑکوں پر ہی رہی، حالانکہ ملک اب پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 17.5 فیصد اضافے کے ساتھ 15.26 ٹریلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14 ٹریلین روپے تھا جسے بعد میں کم کرکے 12.9 ٹریلین روپے کیا گیا (اگرچہ ایف بی آر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شارٹ فال اب بھی 800 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اور بجٹ میں ٹیکس کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ مزید برآں سرکاری ریونیو کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس سے حاصل ہونا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اس میں 4.9 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کی مد میں شامل ہیں اور مزید 5.3 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکسز سے آئیں گے جو سیلز ٹیکس کے موڈ میں لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں انکم ٹیکس کے کھاتے میں کریڈٹ کیا جاتا ہے (یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جس سے ایف بی آر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتا) اور پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے، جس سے اگلے مالی سال میں 1.67 ٹریلین روپے پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ نتیجے کے طور پر سیلز ٹیکس کے ان تین ذرائع سے عوام پر بوجھ اگلے سال 11.8 ٹریلین روپے ہوگا، ایک ایسا حقیقت پسندانہ منظرنامہ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 838 ارب روپے کی رقم کی افادیت کو کمزور کرتا ہے، خاص طور پر جب کیلوریز کی مقدار کے حساب سے ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط کی وجہ سے نافذ العمل شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے پیشِ نظر اگلے سال کی 4 فیصد معاشی ترقی (گروتھ) کے ہدف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ 2026-27 کے الفاظ میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے ذریعے سرکاری ریونیو کو کم کر سکتی ہے، جبکہ اخراجات کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر سوشل سیفٹی نیٹ ورک پر۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری گرما گرم بحث نے ان توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا کہ صوبے قومی وسائل کے قابلِ تقسیم پول (ڈیوزبل پول) میں اپنے سالانہ حصے کے اضافے سے وفاق کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے لیکن مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ان تمام امیدوں پر ایسا پانی پھیرا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم دی ہالو مین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا کہ یہ سفر کسی دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دھیمی سسکی کے ساتھ تمام ہوا۔</strong></p>
<p>ان توقعات کی توثیق بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے اس وقت کے ٹیلی ویژن خطاب سے بھی ہوئی تھی جو انہوں نے کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے بجٹ کی کلیدی تجاویز پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے اور اتفاق کرنے پر اپنے بھائی (پارٹی قائد)، اپنی بھتیجی (وزیراعلیٰ پنجاب)، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی تعریف کی تھی۔ تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ اعلان کہ اس اقدام کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا وہ آئندہ سال اس وعدے کو پورا کر پائیں گے جبکہ وہ موجودہ بجٹ کے دیگر امور پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے، جس کے لیے ہائبرڈ حکومت کی مداخلت اور وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ 30 سے 40 منٹ طویل گفتگو کی ضرورت پڑی۔</p>
<p>اس کے باوجود بجٹ میں موجودہ سال کے دوران صوبوں سے تقریباً ایک ٹریلین روپے اضافی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ایسا اضافہ جس کی معاشی نقطہ نظر سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ صوبائی سرپلس کو 1379 ارب روپے (2025-26 کے ترمیمی تخمینے) سے بڑھا کر 2026-27 میں 1794 ارب روپے کرنا شامل ہے، جس سے وفاق کے لیے 415 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی رقم کو گزشتہ سال کے 2.869 ٹریلین روپے سے کم کرکے اگلے سال کے لیے 2.224 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس سے مزید 649 ارب روپے وفاق کے کھاتے میں چلے جائیں گے۔یہاں دو مشاہدات اہم ہیں۔اول یہ کہ وفاق اس رقم کو اپنے جاری غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کرے گا، جو گزشتہ سال کی طرح بجٹ 2026-27 کا 93 فیصد بنتے ہیں اور یہ عمل ترقی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ دوم یہ اقدام اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن) کی جانب پیش رفت کو مزید سست کر دے گا، جو کہ مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے بجائے وفاق حکومت کے اگلے درجے یعنی صوبوں سے منصوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے گا، اگرچہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ جو پارٹی سیاسی طور پر جتنی مضبوط ہوگی وفاق اس کے مخصوص منصوبوں کے مطالبات پر اتنی ہی زیادہ توجہ دے گا۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ پچھلے بجٹوں سے کچھ مختلف ہے؟ یہاں پانچ ایسے اہم نکات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ پہلا یہ کہ بیرونی قرضوں پر انحصار اگلے سال بڑھ کر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا (290 روپے فی ڈالر کے حساب سے)، جبکہ رخصت ہونے والے سال کے لیے یہ ہدف 19.9 ارب ڈالر تھا، لیکن آخری گنتی تک 2025-26 میں صرف 11.068 ارب ڈالر ہی حاصل ہو سکے، یہ ایک ایسی آمد ہے جو یقیناً حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کمرشل قرضوں تک رسائی بڑھانے، پانڈا بانڈز (جس میں سے صرف 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈز جاری کیے گئے ہیں) اور دیگر ڈیٹ ایکویٹی آلات جیسے سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء پر بہت زیادہ زور دیا۔ مقامی قرضوں اور مارک اپ سمیت کل قرضہ اگلے سال 16 فیصد بڑھنے کا تخمینہ ہے، جو کہ ترمیمی تخمینوں کے 6.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کراگلے سال 8.05 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں لیکن بہرحال ایک قرض ہی ہے، وہ متوقع گارنٹی شدہ قرضہ ہے جو 30 جون 2025 کو عارضی واجبات کے اجراء کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.950 ٹریلین روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جو بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق 372 ارب روپے کم دکھایا گیا تھا۔ 30 جون 2027 تک اس میں متوقع اضافہ 5.005 ٹریلین روپے یا 16 فیصد ہے۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ جاری اخراجات کے تمام اجزاء میں اضافہ کیا گیا جو اشرافیہ کی اس نااہلی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی۔ پنشن کے لیے اگلے سال 1.16 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رخصت ہونے والے سال میں یہ رقم 1.05 ٹریلین روپے تھی، اگرچہ دستاویزات میں ظاہری طور پر 10 ارب روپے کے پنشن فنڈ کا ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈ ٹیکس دہندگان کے خرچے پر قائم کیا گیا ہے یا یہ گزشتہ سال اعلانیہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت صرف نئے ملازمین کے لیے حصہ داری لازمی قرار دی گئی تھی۔ دفاعی بجٹ میں بھی 412 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، حالانکہ اس کا بڑا حصہ دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کے باعث آپریشنل اخراجات کے لیے ہے (اور یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی اس میں شامل ہے)۔تیسرا یہ کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 2026-27 میں ایک ٹریلین روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، جو کہ 2025-26 میں مختص کردہ رقم کے برابر ہی ہے۔ تاہم رخصت ہونے والے سال میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اصل ادائیگی اب تک 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ یہ الاٹمنٹس مسلم لیگ (ن) کے اس پرانے فلسفے کی عکاس ہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے ترقی کے ساتھ ساتھ پارٹی کی مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار بھی توجہ پانی کے ذخائر کے بجائے سڑکوں پر ہی رہی، حالانکہ ملک اب پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔</p>
<p>چوتھا یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 17.5 فیصد اضافے کے ساتھ 15.26 ٹریلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14 ٹریلین روپے تھا جسے بعد میں کم کرکے 12.9 ٹریلین روپے کیا گیا (اگرچہ ایف بی آر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شارٹ فال اب بھی 800 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اور بجٹ میں ٹیکس کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ مزید برآں سرکاری ریونیو کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس سے حاصل ہونا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اس میں 4.9 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کی مد میں شامل ہیں اور مزید 5.3 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکسز سے آئیں گے جو سیلز ٹیکس کے موڈ میں لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں انکم ٹیکس کے کھاتے میں کریڈٹ کیا جاتا ہے (یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جس سے ایف بی آر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتا) اور پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے، جس سے اگلے مالی سال میں 1.67 ٹریلین روپے پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ نتیجے کے طور پر سیلز ٹیکس کے ان تین ذرائع سے عوام پر بوجھ اگلے سال 11.8 ٹریلین روپے ہوگا، ایک ایسا حقیقت پسندانہ منظرنامہ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 838 ارب روپے کی رقم کی افادیت کو کمزور کرتا ہے، خاص طور پر جب کیلوریز کی مقدار کے حساب سے ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہو۔</p>
<p>اور آخر میں آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط کی وجہ سے نافذ العمل شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے پیشِ نظر اگلے سال کی 4 فیصد معاشی ترقی (گروتھ) کے ہدف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ 2026-27 کے الفاظ میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے ذریعے سرکاری ریونیو کو کم کر سکتی ہے، جبکہ اخراجات کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر سوشل سیفٹی نیٹ ورک پر۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506483</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 16:16:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/15160511ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/15160511ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کے بغیر استحکام پر مبنی ایک اور بجٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506263/pakistan-karachi-fbr-imf-inflation-budget-2026-27-punjab-budget-2026-2027-federal-budget-fy2026-27-sindh-budget-2026-27</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتکاروں، بینکوں، تنخواہ دار طبقے اور وسیع تر عوام میں اس بات کی بہت کم امید ہے کہ آئندہ بجٹ کوئی مثبت سرپرائز دے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہی پرانی صورتحال برقرار رہے گی، اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے مزید دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے، تاہم آئی ایم ایف اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اس نام نہاد رضاکارانہ طور پر 1.7 کھرب روپے کی حوالگی کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ کوئی بھی آئندہ بجٹ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عملاً انہی پالیسی سازوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پانچواں بجٹ ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے حیرت ہوئی یا مزید وقت درکار ہے۔ سوچ میں تسلسل ضرور ہے، لیکن یہ سوچ محض استحکام سے آگے نہیں بڑھی۔ توجہ اب بھی آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ملکی رپورٹ خود بجٹ تقریر سے بہتر پیشگی خاکہ فراہم کر سکتی ہے۔ مجموعی مالیاتی فریم ورک پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؛ اسلام آباد کا کام زیادہ تر خالی جگہیں پر کرنا رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بڑا چیلنج مالی سال 2027 کے لیے 15.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ہے، جو آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026 کی ممکنہ وصولیوں سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، آئندہ سال کے ایف بی آر اہداف محض اشارتی نہیں بلکہ مقداری کارکردگی کے اہداف ہیں۔ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو حکومت کو چھوٹ لینا پڑے گی۔ وہ صرف ترقیاتی اخراجات کم کر کے یا پیٹرولیم لیوی بڑھا کر خلا پورا نہیں کر سکے گی۔ اور اگر فرق پیدا ہوا تو منی بجٹ کا امکان موجود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل ٹیکس اسکیم اصلاح سے زیادہ ایک ڈھونگ ہے۔ آئی ایم ایف اس سے ناخوش ہے کیونکہ یہ کم رقم کی ادائیگی کے ذریعے ریٹیلرز کو عملاً بری الذمہ کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ بہرحال، اس اسکیم سے کسی بڑی آمدنی کی توقع نہیں کی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کوئی بھی قابلِ ذکر ریلیف کی توقع نہیں کر رہا۔ پورے سال حکومت اور آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ اشارہ دیا کہ بہتر دن آنے والے ہیں اور ٹیکس کی شرحیں کم ہوں گی۔ لیکن آج زیادہ تر کاروبار ایک اور مشکل سال کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے بار بار اعلان کے باوجود آئی ایم ایف کا عملہ مطمئن نہیں ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ کفایت شعاری کے لیے بھی کم عزم ہے اور ساختی اصلاحات میں بھی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر برقرار ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت پیٹرول کی قیمت کا تقریباً نصف لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 14 فیصد ہے۔ اگر لیوی جی ایس ٹی کی جگہ لینے کے لیے تھی تاکہ آمدنی صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنی پڑے، تو یہ 18 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر عملی طور پر یہ بحث ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کے لیے بہترین ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ لیوی میں مزید اضافہ نہ ہو، جی ایس ٹی 19 فیصد تک نہ جائے، اور کوئی بڑا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں، اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں معمولی کمی دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا برآمد کرنے والوں کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جس میں آمدنی پر اضافی 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے جو پہلے ہی موجود 1 فیصد ٹیکس کے اوپر لگتا ہے۔ اس سے کیش فلو بہتر ہوگا۔ دوسری جانب خدمات برآمد کرنے والا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیاں، فری لانس آمدنی پر زیادہ ٹیکس کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہوتا ہے تو پالیسی سازوں کو آئی ٹی ایکسپورٹس کو دی جانے والی مراعات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صوبے اخراجات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ خیبر سے کراچی تک ایک عوامی تعلقات کی مشق بن چکی ہے۔ پنجاب اکیلا نہیں، ہر صوبہ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ زور اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور نمائش پر ہے۔ پلاننگ کمیشن اب بھی روایتی پی ایس ڈی پی ماڈل کو وسعت دینے کی بات کر رہا ہے۔ مگر مالی گنجائش محدود ہے۔ اسی لیے اصل تنازع وفاق کی جانب سے صوبوں کے 1.7 کھرب روپے کے مجوزہ بچت کے استعمال پر ہے جس سے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ بندوبست ایک مرتبہ کا ہے یا مستقل۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اتحادی شراکت دار اس سے خوش نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس حقیقی ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کا ماحول بھی بدستور جمود کا شکار رہے گا۔ ایف بی آر کی بنیادی توجہ نفاذ پر رہے گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ سیاسی عزم موجود نہیں، حالانکہ متعلقہ ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے۔ نتیجتاً وہی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک ریاست ٹیکس کا بوجھ اسی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ڈالتی رہے گی، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کرے گی، تب تک استحکام خود ایک مقصد رہے گا، ترقی کی طرف پل نہیں بن سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتکاروں، بینکوں، تنخواہ دار طبقے اور وسیع تر عوام میں اس بات کی بہت کم امید ہے کہ آئندہ بجٹ کوئی مثبت سرپرائز دے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہی پرانی صورتحال برقرار رہے گی، اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے مزید دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔</strong></p>
<p>مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے، تاہم آئی ایم ایف اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اس نام نہاد رضاکارانہ طور پر 1.7 کھرب روپے کی حوالگی کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ کوئی بھی آئندہ بجٹ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>یہ عملاً انہی پالیسی سازوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پانچواں بجٹ ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے حیرت ہوئی یا مزید وقت درکار ہے۔ سوچ میں تسلسل ضرور ہے، لیکن یہ سوچ محض استحکام سے آگے نہیں بڑھی۔ توجہ اب بھی آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ملکی رپورٹ خود بجٹ تقریر سے بہتر پیشگی خاکہ فراہم کر سکتی ہے۔ مجموعی مالیاتی فریم ورک پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؛ اسلام آباد کا کام زیادہ تر خالی جگہیں پر کرنا رہ گیا ہے۔</p>
<p>اصل بڑا چیلنج مالی سال 2027 کے لیے 15.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ہے، جو آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026 کی ممکنہ وصولیوں سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، آئندہ سال کے ایف بی آر اہداف محض اشارتی نہیں بلکہ مقداری کارکردگی کے اہداف ہیں۔ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو حکومت کو چھوٹ لینا پڑے گی۔ وہ صرف ترقیاتی اخراجات کم کر کے یا پیٹرولیم لیوی بڑھا کر خلا پورا نہیں کر سکے گی۔ اور اگر فرق پیدا ہوا تو منی بجٹ کا امکان موجود رہے گا۔</p>
<p>ریٹیل ٹیکس اسکیم اصلاح سے زیادہ ایک ڈھونگ ہے۔ آئی ایم ایف اس سے ناخوش ہے کیونکہ یہ کم رقم کی ادائیگی کے ذریعے ریٹیلرز کو عملاً بری الذمہ کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ بہرحال، اس اسکیم سے کسی بڑی آمدنی کی توقع نہیں کی جا رہی۔</p>
<p>اس طرح کوئی بھی قابلِ ذکر ریلیف کی توقع نہیں کر رہا۔ پورے سال حکومت اور آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ اشارہ دیا کہ بہتر دن آنے والے ہیں اور ٹیکس کی شرحیں کم ہوں گی۔ لیکن آج زیادہ تر کاروبار ایک اور مشکل سال کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے بار بار اعلان کے باوجود آئی ایم ایف کا عملہ مطمئن نہیں ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ کفایت شعاری کے لیے بھی کم عزم ہے اور ساختی اصلاحات میں بھی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر برقرار ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت پیٹرول کی قیمت کا تقریباً نصف لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 14 فیصد ہے۔ اگر لیوی جی ایس ٹی کی جگہ لینے کے لیے تھی تاکہ آمدنی صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنی پڑے، تو یہ 18 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر عملی طور پر یہ بحث ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>عوام کے لیے بہترین ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ لیوی میں مزید اضافہ نہ ہو، جی ایس ٹی 19 فیصد تک نہ جائے، اور کوئی بڑا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں، اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں معمولی کمی دے سکتی ہے۔</p>
<p>اشیا برآمد کرنے والوں کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جس میں آمدنی پر اضافی 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے جو پہلے ہی موجود 1 فیصد ٹیکس کے اوپر لگتا ہے۔ اس سے کیش فلو بہتر ہوگا۔ دوسری جانب خدمات برآمد کرنے والا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیاں، فری لانس آمدنی پر زیادہ ٹیکس کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہوتا ہے تو پالیسی سازوں کو آئی ٹی ایکسپورٹس کو دی جانے والی مراعات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>دوسری جانب صوبے اخراجات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ خیبر سے کراچی تک ایک عوامی تعلقات کی مشق بن چکی ہے۔ پنجاب اکیلا نہیں، ہر صوبہ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ زور اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور نمائش پر ہے۔ پلاننگ کمیشن اب بھی روایتی پی ایس ڈی پی ماڈل کو وسعت دینے کی بات کر رہا ہے۔ مگر مالی گنجائش محدود ہے۔ اسی لیے اصل تنازع وفاق کی جانب سے صوبوں کے 1.7 کھرب روپے کے مجوزہ بچت کے استعمال پر ہے جس سے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ بندوبست ایک مرتبہ کا ہے یا مستقل۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اتحادی شراکت دار اس سے خوش نہیں ہیں۔</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس حقیقی ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کا ماحول بھی بدستور جمود کا شکار رہے گا۔ ایف بی آر کی بنیادی توجہ نفاذ پر رہے گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ سیاسی عزم موجود نہیں، حالانکہ متعلقہ ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے۔ نتیجتاً وہی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔</p>
<p>پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک ریاست ٹیکس کا بوجھ اسی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ڈالتی رہے گی، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کرے گی، تب تک استحکام خود ایک مقصد رہے گا، ترقی کی طرف پل نہیں بن سکے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506263</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:00:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/091201537e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/091201537e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی بحران میں گھرا پاکستان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506264/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی معیشت میں کسی بھی بنیادی شے (پروڈکٹ) کی سپلائی میں تعطل صرف کاروباری نقصان نہیں لاتا بلکہ ایک نئی عالمی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جنگوں، آفات یا تجارتی پابندیوں کے فوری بعد دنیا بھر کی حکومتیں دفاعی پوزیشن میں آکر اپنے محفوظ ذخائر جاری کرتی ہیں اور مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم طویل مدتی معاشی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ متبادل ذرائع پر منتقلی اس قدر مہنگی اور پیچیدہ ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سپلائی کی بحالی کے ساتھ ہی طلب کا پہیہ دوبارہ اپنے پرانے مرکز پر گھومنے لگتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک مثال اکتوبر 1973 میں عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے یوم کپور جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف لگائی جانے والی تیل کی پابندی ہے۔ تاہم جب مارچ 1974 میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو تیل کی عالمی طلب تیزی سے بحال ہو گئی کیونکہ اقتصادی طور پر یہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل پروڈکٹ تھا۔ آج تکنیکی ترقی کے ساتھ جوہری اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مزید متبادل موجود ہیں اور اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ سپلائی بحال ہوتے ہی طلب بھی بحال ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک واضح حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے دنیا بھر میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے علامتی طور پر سوال کیا کہ ہمیں کس چیز نے متاثر کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک سپلائی شاک جو بڑا، عالمی اور غیر متناسب ہے، یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کا روزانہ کا بہاؤ لگ بھگ 13 فیصد اور ایل این جی کا بہاؤ تقریباً 20 فیصد کم ہوا ہے۔ یہ عالمی اس لیے ہے کیونکہ اب ہم سب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز درہم برہم ہو چکی ہیں اور یہ غیر متناسب اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت پر منحصر ہے، اس بات پر کہ آیا آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی کی گنجائش کتنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی درآمد پر شدید انحصار نے پاکستان کو توانائی کے عالمی بحرانوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رکھا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس کے مطابق پاکستان کا پورا انرجی مکس روایتی تیل اور گیس کے گرد گھوم رہا ہے اور پن بجلی کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ سے زائد پاکستانی سرے سے بجلی کی نعمت ہی سے محروم ہیں، جبکہ آدھی آبادی کے پاس صاف ستھرے چولہے تک میسر نہیں، جو کہ ملک میں توانائی کی شدید عدم مساوات اور غربت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے مزید نوٹ کیا کہ توانائی کی کل کھپت کا 48 فیصد استعمال رہائشی شعبے میں، 23 فیصد صنعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں صنعت کی کل کھپت کا 30 فیصد قدرتی گیس اور 27 فیصد کوئلہ اور اس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ جو بجلی چھ سال پہلے 16 روپے کی تھی، آج وہ 33 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے؟ یہ ہے وہ مہنگائی کا بم جو پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی نے عوام پر گرایا ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز کے پیچھے چھپی شرائط کا لب لباب صرف ایک ہی ہے کہ غریب صارفین سے پائی پائی وصول کی جائے۔ ہماری حکومتوں نے گرڈ اسٹیشنز کی خرابیوں کو دور کرنے اور سسٹم کو جدید بنانے کے بجائے فی یونٹ قیمتیں بڑھا کر اپنی جان چھڑائی اور ظلم کی انتہا دیکھیے چوری روکنے کے لیے لاء انفورسمنٹ کا سہارا لینے کے بجائے پورے کے پورے محلوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ مجرمانہ پالیسی اس ملک کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے مقامی تجارتی بینکوں سے اندھا دھند قرضے لیے گئے‘ وہ بینک جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ادھار دے دے کر تھک چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم قرضے پر لگنے والے سود کا ایک ایک پیسہ غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑا جا رہا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے بینکوں سے تقریباً 500 ارب روپے ادھار لیے تھے، مگر یہ مرض بڑھتا ہی گیا اور 2024 تک یہ گردشی قرضہ ہولناک حد تک بڑھ کر 2.5 ٹریلین (2500 ارب) روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سال اسی ناکام نسخے کو دہراتے ہوئے 1.25 ٹریلین روپے کا نیا قرضہ اٹھا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرض کی اس مے سے ابھرنے والا یہ گردشی قرضے کا سائے دار جن کب دوبارہ عوام پر حملہ آور ہوتا ہے!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے کے ماہرین پاکستان کے موجودہ بحران کے پیچھے چار بنیادی ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم چیلنج روایتی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ میں حائل شدید معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اس مسئلے کا آغاز 2002 اور 2012 کی پاور پالیسیز سے ہوا، جہاں خودمختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کی رو سے طلب میں کمی کے باوجود حکومت کو ان نجی کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہی تھے۔ یہ شرط اب گرین انرجی یا متبادل ذرائع کو اپنانے کی تمام کوششوں کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پالیسی سازی کی اس سنگین خامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دستخط کیے جانے والے توانائی کے نئے منصوبوں میں بھی انہی شرائط کا تسلسل برقرار رکھا گیا جس نے اس دلدل کو مزید گہرا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بنیادی نکتہ ہمارے پالیسی سازوں کی وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے جو بہترین الفاظ میں ناقص تشخیص اور بدترین صورت میں گیس اور بجلی کی طلب کا تخمینہ لگانے کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے پر مبنی تھی۔ اس کی واضح مثال 2016 کا قطر ایل این جی معاہدہ ہے، جہاں معاشی ترقی کے ایسے اہداف طے کیے گئے جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت عارضی معطلی کا اعلان سامنے آیا تو معاشی ٹیم کے رہنماؤں نے اسے ایک بڑا ریلیف سمجھا۔ تاہم اس کے منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں کیونکہ معاہدے کے تحت آنے والے چھ آر ایل این جی کارگوز میں سے دو کی ماہانہ فراہمی معطل ہونے سے ملکی ضروریات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب مارکیٹ میں گیس کا بحران سر اٹھا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سنگین المیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی مجرمانہ جلد بازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے ہمارے حکمران کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جو آگے چل کر گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مضحکہ خیز مثال کوئلے کی کانوں سے سینکڑوں میل دور کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات آسمان پر پہنچ گئے اور قریبی آبادیوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور پراجیکٹس کا تماشہ لگایا گیا، جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اصرار کیا اور جب آڈٹ ہوا تو اس نے ان معاہدوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ اب تازہ ترین حماقت دیکھیے حکومت نے خود گھروں کے لیے سولر پینلز کی حوصلہ افزائی کی اور جب لوگوں نے سولر لگوا لیے تو نیشنل گریڈ سے بجلی کی طلب کم ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب خالی پڑے بجلی گھروں کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو گھوم پھر کر غریب صارفین پر ہی گر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی بحران کی چوتھی اورآخری اہم وجہ ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کا مسلسل کم ہونا ہے، جس نے پاکستان کو درآمدی ایندھن کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس ایندھن کی خریداری کے لیے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ مئی 2026 کے اختتام پر اگرچہ ملکی ذخائر ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے قریب ہونے کی وجہ سے مستحکم نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیاد قرضوں پر کھڑی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب روایتی پالیسیوں کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکومت کو ٹیرف کی برابری کی حکمتِ عملی ختم کرنی چاہیے جس کے ذریعے نااہل ڈسکوز کو عوامی ٹیکسوں سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ کے الیکٹرک کی 2005 میں ہونے والی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جو اب بھی نیشنل گریڈ کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے اور اپنے صارفین کو موثر طریقے سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں رخصت ہونے والے مالی سال میں اسے 135 ارب روپے کی خطیر سرکاری سبسڈی دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض نجکاری سے مسائل حل نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی معیشت میں کسی بھی بنیادی شے (پروڈکٹ) کی سپلائی میں تعطل صرف کاروباری نقصان نہیں لاتا بلکہ ایک نئی عالمی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جنگوں، آفات یا تجارتی پابندیوں کے فوری بعد دنیا بھر کی حکومتیں دفاعی پوزیشن میں آکر اپنے محفوظ ذخائر جاری کرتی ہیں اور مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم طویل مدتی معاشی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ متبادل ذرائع پر منتقلی اس قدر مہنگی اور پیچیدہ ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سپلائی کی بحالی کے ساتھ ہی طلب کا پہیہ دوبارہ اپنے پرانے مرکز پر گھومنے لگتا ہے۔</strong></p>
<p>اس کی ایک مثال اکتوبر 1973 میں عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے یوم کپور جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف لگائی جانے والی تیل کی پابندی ہے۔ تاہم جب مارچ 1974 میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو تیل کی عالمی طلب تیزی سے بحال ہو گئی کیونکہ اقتصادی طور پر یہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل پروڈکٹ تھا۔ آج تکنیکی ترقی کے ساتھ جوہری اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مزید متبادل موجود ہیں اور اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ سپلائی بحال ہوتے ہی طلب بھی بحال ہو جائے گی۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک واضح حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے دنیا بھر میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے علامتی طور پر سوال کیا کہ ہمیں کس چیز نے متاثر کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک سپلائی شاک جو بڑا، عالمی اور غیر متناسب ہے، یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کا روزانہ کا بہاؤ لگ بھگ 13 فیصد اور ایل این جی کا بہاؤ تقریباً 20 فیصد کم ہوا ہے۔ یہ عالمی اس لیے ہے کیونکہ اب ہم سب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز درہم برہم ہو چکی ہیں اور یہ غیر متناسب اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت پر منحصر ہے، اس بات پر کہ آیا آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی کی گنجائش کتنی ہے۔</p>
<p>تیل کی درآمد پر شدید انحصار نے پاکستان کو توانائی کے عالمی بحرانوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رکھا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس کے مطابق پاکستان کا پورا انرجی مکس روایتی تیل اور گیس کے گرد گھوم رہا ہے اور پن بجلی کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ سے زائد پاکستانی سرے سے بجلی کی نعمت ہی سے محروم ہیں، جبکہ آدھی آبادی کے پاس صاف ستھرے چولہے تک میسر نہیں، جو کہ ملک میں توانائی کی شدید عدم مساوات اور غربت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p>آئی ای اے نے مزید نوٹ کیا کہ توانائی کی کل کھپت کا 48 فیصد استعمال رہائشی شعبے میں، 23 فیصد صنعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں صنعت کی کل کھپت کا 30 فیصد قدرتی گیس اور 27 فیصد کوئلہ اور اس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔</p>
<p>کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ جو بجلی چھ سال پہلے 16 روپے کی تھی، آج وہ 33 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے؟ یہ ہے وہ مہنگائی کا بم جو پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی نے عوام پر گرایا ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز کے پیچھے چھپی شرائط کا لب لباب صرف ایک ہی ہے کہ غریب صارفین سے پائی پائی وصول کی جائے۔ ہماری حکومتوں نے گرڈ اسٹیشنز کی خرابیوں کو دور کرنے اور سسٹم کو جدید بنانے کے بجائے فی یونٹ قیمتیں بڑھا کر اپنی جان چھڑائی اور ظلم کی انتہا دیکھیے چوری روکنے کے لیے لاء انفورسمنٹ کا سہارا لینے کے بجائے پورے کے پورے محلوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ مجرمانہ پالیسی اس ملک کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔</p>
<p>دوسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے مقامی تجارتی بینکوں سے اندھا دھند قرضے لیے گئے‘ وہ بینک جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ادھار دے دے کر تھک چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم قرضے پر لگنے والے سود کا ایک ایک پیسہ غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑا جا رہا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے بینکوں سے تقریباً 500 ارب روپے ادھار لیے تھے، مگر یہ مرض بڑھتا ہی گیا اور 2024 تک یہ گردشی قرضہ ہولناک حد تک بڑھ کر 2.5 ٹریلین (2500 ارب) روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سال اسی ناکام نسخے کو دہراتے ہوئے 1.25 ٹریلین روپے کا نیا قرضہ اٹھا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرض کی اس مے سے ابھرنے والا یہ گردشی قرضے کا سائے دار جن کب دوبارہ عوام پر حملہ آور ہوتا ہے!</p>
<p>توانائی کے شعبے کے ماہرین پاکستان کے موجودہ بحران کے پیچھے چار بنیادی ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم چیلنج روایتی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ میں حائل شدید معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اس مسئلے کا آغاز 2002 اور 2012 کی پاور پالیسیز سے ہوا، جہاں خودمختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کی رو سے طلب میں کمی کے باوجود حکومت کو ان نجی کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہی تھے۔ یہ شرط اب گرین انرجی یا متبادل ذرائع کو اپنانے کی تمام کوششوں کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پالیسی سازی کی اس سنگین خامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دستخط کیے جانے والے توانائی کے نئے منصوبوں میں بھی انہی شرائط کا تسلسل برقرار رکھا گیا جس نے اس دلدل کو مزید گہرا کر دیا۔</p>
<p>دوسرا بنیادی نکتہ ہمارے پالیسی سازوں کی وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے جو بہترین الفاظ میں ناقص تشخیص اور بدترین صورت میں گیس اور بجلی کی طلب کا تخمینہ لگانے کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے پر مبنی تھی۔ اس کی واضح مثال 2016 کا قطر ایل این جی معاہدہ ہے، جہاں معاشی ترقی کے ایسے اہداف طے کیے گئے جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت عارضی معطلی کا اعلان سامنے آیا تو معاشی ٹیم کے رہنماؤں نے اسے ایک بڑا ریلیف سمجھا۔ تاہم اس کے منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں کیونکہ معاہدے کے تحت آنے والے چھ آر ایل این جی کارگوز میں سے دو کی ماہانہ فراہمی معطل ہونے سے ملکی ضروریات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب مارکیٹ میں گیس کا بحران سر اٹھا چکا ہے۔</p>
<p>تیسرا سنگین المیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی مجرمانہ جلد بازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے ہمارے حکمران کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جو آگے چل کر گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مضحکہ خیز مثال کوئلے کی کانوں سے سینکڑوں میل دور کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات آسمان پر پہنچ گئے اور قریبی آبادیوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور پراجیکٹس کا تماشہ لگایا گیا، جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اصرار کیا اور جب آڈٹ ہوا تو اس نے ان معاہدوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ اب تازہ ترین حماقت دیکھیے حکومت نے خود گھروں کے لیے سولر پینلز کی حوصلہ افزائی کی اور جب لوگوں نے سولر لگوا لیے تو نیشنل گریڈ سے بجلی کی طلب کم ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب خالی پڑے بجلی گھروں کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو گھوم پھر کر غریب صارفین پر ہی گر رہا ہے۔</p>
<p>توانائی بحران کی چوتھی اورآخری اہم وجہ ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کا مسلسل کم ہونا ہے، جس نے پاکستان کو درآمدی ایندھن کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس ایندھن کی خریداری کے لیے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ مئی 2026 کے اختتام پر اگرچہ ملکی ذخائر ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے قریب ہونے کی وجہ سے مستحکم نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیاد قرضوں پر کھڑی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب روایتی پالیسیوں کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکومت کو ٹیرف کی برابری کی حکمتِ عملی ختم کرنی چاہیے جس کے ذریعے نااہل ڈسکوز کو عوامی ٹیکسوں سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ کے الیکٹرک کی 2005 میں ہونے والی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جو اب بھی نیشنل گریڈ کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے اور اپنے صارفین کو موثر طریقے سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں رخصت ہونے والے مالی سال میں اسے 135 ارب روپے کی خطیر سرکاری سبسڈی دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض نجکاری سے مسائل حل نہیں ہوتے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506264</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:16:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/09120729ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/09120729ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506143/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے مسائل کا ذکر چھیڑ دیں، چند ہی لمحوں میں کوئی نہ کوئی یہ فیصلہ سنا دیتا ہے ”کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔“ یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ  شہر چلانے والے ادارے کہاں تھے؟ سڑکیں بنانا، پانی فراہم کرنا، سیوریج کا نظام چلانا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا، کچرا اٹھانا اور شہری منصوبہ بندی کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا یہ کام بھی ان لوگوں کے سپرد تھے جو روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی آئے تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ہی ہجرت کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مہاجر یہاں آ بسے۔ بعد ازاں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ انہی لوگوں نے فیکٹریوں میں کام کیا، بندرگاہ کو افرادی قوت دی، ٹرانسپورٹ چلائی، کاروبار کھڑے کیے اور معیشت کا پہیہ گھمایا۔ اگر کراچی نے پاکستان کے معاشی دارالحکومت کا مقام حاصل کیا تو اس میں مقامی اور غیر مقامی دونوں کا حصہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے بڑے شہر آبادی بڑھنے سے تباہ نہیں ہوتے، ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی بھی ہجرتوں کے مراکز ہیں، مگر وہاں حکمران آنے والی آبادی کے مطابق سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔ کراچی میں بدقسمتی سے ایسا کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر پھیلتا گیا مگر انفرااسٹرکچر سکڑتا گیا۔ آبادی بڑھتی گئی مگر پانی کا نظام وہی پرانا رہا۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں مگر پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوتی گئی۔ بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہوتی رہیں مگر نکاسی آب کے منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی بارش بھی کراچی کو مفلوج کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/05161824286b059.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/05161824286b059.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کراچی قومی خزانے میں اربوں روپے کا حصہ ڈالتا ہے تو اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب مسائل کا ذکر ہو تو سارا ملبہ ”غیر مقامی افراد“ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمران، منصوبہ ساز اور ادارے اس پوری کہانی میں کہیں موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور دیگر اہم شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے ماتحت رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، کچرے کے پہاڑ کھڑے ہیں اور سیوریج کا نظام ناکام ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلدیاتی نظام کی حالت بھی کسی راز سے کم نہیں۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل محدود ہیں اور سیاسی رسہ کشی الگ جاری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ شہری آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کے علاقے کی ٹوٹی سڑک، ابلتا گٹر یا جمع کچرا آخر کس کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی شاید دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ آبادی نہیں، منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کراچی کیوں آئے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے ان کے آنے کے لیے تیاری کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحث کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب مسائل کا ذمہ دار کسی مخصوص زبان، نسل یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔ کراچی ماضی میں اس کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کو نقصان اگر کسی نے پہنچایا ہے تو وہ غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص منصوبہ بندی اور جواب دہی کے فقدان نے پہنچایا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان عوامل پر کم اور الزام تراشی پر زیادہ بات ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اب وقت آ گیا ہے کہ آسان جوابات کے بجائے مشکل سوالات پوچھے جائیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزی کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے؟ یا وہ نظام جو دہائیوں تک بڑھتے ہوئے مسائل کو نظر انداز کرتا رہا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی کہانی ہجرت کی نہیں، حکمرانی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک الزام بدلتے رہیں گے مگر شہر کے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے مسائل کا ذکر چھیڑ دیں، چند ہی لمحوں میں کوئی نہ کوئی یہ فیصلہ سنا دیتا ہے ”کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔“ یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟</p>
<p>اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ  شہر چلانے والے ادارے کہاں تھے؟ سڑکیں بنانا، پانی فراہم کرنا، سیوریج کا نظام چلانا، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا، کچرا اٹھانا اور شہری منصوبہ بندی کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا یہ کام بھی ان لوگوں کے سپرد تھے جو روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی آئے تھے؟</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ ہی ہجرت کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مہاجر یہاں آ بسے۔ بعد ازاں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ انہی لوگوں نے فیکٹریوں میں کام کیا، بندرگاہ کو افرادی قوت دی، ٹرانسپورٹ چلائی، کاروبار کھڑے کیے اور معیشت کا پہیہ گھمایا۔ اگر کراچی نے پاکستان کے معاشی دارالحکومت کا مقام حاصل کیا تو اس میں مقامی اور غیر مقامی دونوں کا حصہ شامل ہے۔</p>
<p>دنیا کے بڑے شہر آبادی بڑھنے سے تباہ نہیں ہوتے، ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی بھی ہجرتوں کے مراکز ہیں، مگر وہاں حکمران آنے والی آبادی کے مطابق سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی منصوبوں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔ کراچی میں بدقسمتی سے ایسا کبھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا۔</p>
<p>شہر پھیلتا گیا مگر انفرااسٹرکچر سکڑتا گیا۔ آبادی بڑھتی گئی مگر پانی کا نظام وہی پرانا رہا۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں مگر پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوتی گئی۔ بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہوتی رہیں مگر نکاسی آب کے منصوبے کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی بارش بھی کراچی کو مفلوج کر دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/05161824286b059.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/05161824286b059.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کراچی قومی خزانے میں اربوں روپے کا حصہ ڈالتا ہے تو اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب مسائل کا ذکر ہو تو سارا ملبہ ”غیر مقامی افراد“ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمران، منصوبہ ساز اور ادارے اس پوری کہانی میں کہیں موجود ہی نہیں۔</p>
<p>سندھ حکومت کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور دیگر اہم شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے ماتحت رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، کچرے کے پہاڑ کھڑے ہیں اور سیوریج کا نظام ناکام ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟</p>
<p>بلدیاتی نظام کی حالت بھی کسی راز سے کم نہیں۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل محدود ہیں اور سیاسی رسہ کشی الگ جاری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ شہری آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کے علاقے کی ٹوٹی سڑک، ابلتا گٹر یا جمع کچرا آخر کس کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>کراچی شاید دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔</p>
<p>اصل مسئلہ آبادی نہیں، منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کراچی کیوں آئے، سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے ان کے آنے کے لیے تیاری کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا حقیقت سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔</p>
<p>اس بحث کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ جب مسائل کا ذمہ دار کسی مخصوص زبان، نسل یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔ کراچی ماضی میں اس کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔</p>
<p>شہر کو نقصان اگر کسی نے پہنچایا ہے تو وہ غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص منصوبہ بندی اور جواب دہی کے فقدان نے پہنچایا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان عوامل پر کم اور الزام تراشی پر زیادہ بات ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید اب وقت آ گیا ہے کہ آسان جوابات کے بجائے مشکل سوالات پوچھے جائیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزی کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے؟ یا وہ نظام جو دہائیوں تک بڑھتے ہوئے مسائل کو نظر انداز کرتا رہا؟</p>
<p>کراچی کی کہانی ہجرت کی نہیں، حکمرانی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک الزام بدلتے رہیں گے مگر شہر کے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506143</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 16:24:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05160955d27fac8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05160955d27fac8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506139/tokyo-oil-prices-japan-asia-us-dollars-iran-israel-war-yen-yen-warning</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟</p>
<p>اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔</p>
<p>ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟</p>
<p>حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟</p>
<p>اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟</p>
<p>ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506139</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 15:17:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/051513502dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/051513502dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوامی بیانیے اور بند کمرہ بریفنگز کا دلچسپ کھیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘ کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔</p>
<p>شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔</p>
<p>سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔</p>
<p>خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔</p>
<p>1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔</p>
<p>چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔</p>
<p>ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘ کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔</p>
<p>اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔</p>
<p>رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘ ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔</p>
<p>چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p>چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔</p>
<p>رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔</p>
<p>اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ کے مترادف ہے۔</p>
<p>کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔</p>
<p>ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506099</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0413541442fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0413541442fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈی فیکٹر ۔ خوابوں سے تقدیر تک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506098/abraham-lincoln-michael-phelps-university-of-scranton-mandelas</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کچھ لوگ کامیابی کی منزل کیوں پا لیتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ وہ کون سا ’’ایکس فیکٹر‘‘ ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے؟ کیا وہ پیدائشی فاتح ہوتے ہیں؟ ان کی کامیابی کی کہانیوں میں قسمت کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کو متجسس رکھا ہے۔ متعدد اہلِ علم نے ان موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے اور بے شمار نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان سب نے کامیابی کے عوامل کو سمجھنے میں کسی نہ کسی حد تک بصیرت فراہم کی ہے۔تحقیقات سے بھری پڑی ہیں جو بتاتی ہیں کہ کامیاب افراد کے پاس ایک واضح وژن ہوتا ہے۔ ایسی بے شمار کتابیں موجود ہیں جو ان کی خواب دیکھنے اور دوسروں کو خواب دکھانے کی صلاحیت کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک اور مقبول موضوع ’’تقدیر‘‘ بھی اپنی مدد آپ ( سیلف ہیلپ ) کی ادبیات کا پسندیدہ محور رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ان لوگوں کے ذہن میں ایک واضح اور حتمی مقصد موجود ہوتا ہے، کامیابی کے حصول میں ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔ تقدیر یا منزل کے تصور کے بغیر خواب بیچنے والے بھی محض راہگیر بن کر رہ جاتے ہیں۔ سرنگ کے اختتام پر دکھائی دینے والی روشنی مسافر کو مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، اور مطلوبہ منزل ہی وہ مقصد ہوتی ہے جو ہر قدم کی سمت متعین کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تمام باتیں درست ہیں۔ یہ سب کامیابی کی عمارت کی اینٹیں ہیں۔ یہ سب حوصلہ افزا اور تحریک دینے والی ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں، بہت سے مستقبل کا تصور کرتے ہیں، کچھ اپنی تقدیر پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور کچھ کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا واضح خاکہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر وہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ امریکی یونیورسٹی آف اسکرینٹن کی ایک معروف تحقیق کے مطابق نئے سال کے لیے اہداف مقرر کرنے والے 92 فیصد افراد پہلے ہی مہینے میں انہیں ترک کر دیتے ہیں۔ یعنی صرف 8 فیصد لوگ اپنے اہداف کے تعاقب میں ثابت قدم رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کتنے لوگ واقعی اپنے مقاصد حاصل کر پاتے ہیں، یہ شرح یقیناً اس سے بھی کم ہوگی۔ عام طور پر پیش کی جانے والی وجوہات یہ ہوتی ہیں: ’’میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘، ’’قسمت میرا ساتھ نہیں دے رہی‘‘، ’’میرے حالات ایسے ہیں کہ…‘‘، ’’یہ عملی نہیں ہے‘‘ وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور تقدیر کے درمیان موجود گمشدہ کڑی سامنے آتی ہے۔ یہ کڑی بھی حرف D سے شروع ہوتی ہے، اور وہ ہے ڈسپلن (نظم و ضبط)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط کے بغیر خواب دراصل ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔ بظاہر نظم و ضبط ایک منظم اور بار بار دہرایا جانے والا عمل محسوس ہوتا ہے، اور یقیناً یہ ہے بھی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ دراصل اس بات کا حقیقی امتحان ہے کہ آپ اپنے خوابوں اور اپنے جذبے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کس طرح حقیقی معنوں میں کھیل کا رخ بدل دینے والا عنصر ثابت ہوتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 1: اپنے اصولوں اور اقدار سے وابستگی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط محض قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی منزل سے آگاہ ہونے اور اس تک درست طریقے سے پہنچنے کے عزم کا نام ہے۔ ایک رہنما کی شخصیت ان اقدار اور اصولوں پر استوار ہوتی ہے جنہیں وہ اختیار کرتا اور برقرار رکھتا ہے۔ نظم و ضبط کا پہلا امتحان اس وقت سامنے آتا ہے جب ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی کے حالات آپ پر ان اصولوں کے خلاف جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ میں اتنا نظم و ضبط موجود ہے کہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکیں اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے نتائج قبول کر سکیں؟ اس وابستگی کے لیے اس وقت ’’نہیں‘‘ کہنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے جب ’’ہاں‘‘ کہنا کہیں زیادہ آسان ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیانت داری ایک ایسی قدر ہے جس کا ذکر لوگ، خصوصاً قائدین، سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے کتنی ہی بار دیکھا ہے کہ کاروباری دنیا کے انتہائی معروف اور قابلِ تعریف رہنما بھی دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں کمپنیوں کی مالیت بڑھانے کے لیے مالی اعداد و شمار میں رد و بدل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ہم دنیا کے ان عظیم رہنماؤں کے نظم و ضبط اور ثابت قدمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جیسے نیلسن منڈیلا، جنہوں نے شدید مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں کا دامن نہیں چھوڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری دنیا میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی ایک معروف کمپنی کے سربراہ نے کووڈ-19 کے دوران، مختلف فریقوں کے دباؤ کے باوجود، نچلے درجے کے ملازمین کو برقرار رکھنے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس نظم و ضبط کی مثال ہے جو انسان کو اپنے نظریات اور اقدار پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنا ہی ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا پہلا اور بنیادی مظہر ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو خوابوں کو محض خواہشات سے نکال کر تقدیر میں بدلنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 2: جذبے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر 92 فیصد لوگ اپنے عزم اور ارادوں پر قائم نہیں رہ پاتے تو یہ ایک واضح کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کا جذبہ مشکلات کے سامنے کتنا گہرا، پائیدار اور ثابت قدم ہے۔ جب ہر چیز آپ کو ہار مان لینے پر آمادہ کر رہی ہو، تب بھی آگے بڑھتے رہنے کا نظم و ضبط ہی وہ نمایاں خصوصیت ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے الگ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے عام مثال وزن کم کرنے کی کوشش ہے۔ بیشتر غذائی منصوبے (ڈائٹس) ناکام ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر ورزش کے پروگرام ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر جلنے والی آگ کتنی شدید اور کتنی مستقل ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں کی دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد جلد ہی منظر سے غائب ہو گئے۔ اس کے برعکس، نسبتاً کم صلاحیت رکھنے والے بہت سے لوگوں نے محض اپنے مستقل جذبے اور ثابت قدمی کی بدولت سفر کی تمام نشیب و فراز عبور کیے اور کامیابی حاصل کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں کون ایسا ہے جو صبح چار بجے خوش دلی اور تازگی کے ساتھ بیدار ہوتا ہو؟ ہر شخص نیند، بوجھل سر، سست قدموں اور اس ذہن سے نبرد آزما ہوتا ہے جو ایک اضافی گھنٹے کی نیند کے لیے سیکڑوں بہانے تراش رہا ہوتا ہے۔ نرم اور گرم بستر اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن چیمپئن وہ ہوتے ہیں جو الارم کی آواز، اپنی سستی اور جسمانی بوجھل پن پر قابو پانے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں۔ دوسری جانب صرف صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنے والے بہت سے لوگ روزانہ اسی الارم کے ہاتھوں شکست کھاتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ کسی طرح اٹھ بھی جائیں تو کبھی موسم، کبھی گاڑی اور کبھی دروازے کی چابی ان کے لیے نئے بہانے بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت کامیابی کا راز صرف جذبہ رکھنے میں نہیں بلکہ اس جذبے کو ہر مشکل، ہر رکاوٹ اور ہر مایوسی کے باوجود زندہ رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی پائیدار جذبہ اور اس کے ساتھ جڑا نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اور نہایت اہم ستون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل فلپس، جنہوں نے تیراکی میں آٹھ اولمپک طلائی تمغے جیتے، مسلسل 700 دن سے زائد عرصے تک بغیر ناغہ تربیت کرتے رہے۔ گرمی ہو یا برف باری، بارش ہو یا سالگرہ، حتیٰ کہ کرسمس کا دن بھی ہو، وہ ہر روز حاضر ہوتے، مشق کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 3: ناکامی پر ردِعمل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مزاج پر قابو رکھنے کا نظم و ضبط کامیابی کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔ جب حالات سازگار ہوں تو آپ کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے، لیکن جب معاملات بگڑ جائیں تو کیا آپ کا موڈ بھی گر جاتا ہے اور آپ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے جذبات اور موڈ کو قابو میں رکھنے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں، یا پھر آپ کے موڈ ہی آپ کو کنٹرول کرتے ہیں؟ یہی ایک بڑا ’’ڈی فیکٹر‘‘ ہے۔ جب مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہو، لیکن اس کے باوجود آپ اپنی ماند پڑتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر ایک اور کوشش کرنے کے لیے تیار رہیں، تو دراصل یہی وہ امتحان ہے جس میں کامیابی حاصل کرنا اصل فتح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہم لنکن نے کامیابی حاصل کرنے سے قبل آٹھ مرتبہ مختلف نامزدگیوں اور انتخابات میں شکست کا سامنا کیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں راجر فیڈرر نے ڈرٹ ماؤتھ کالج کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:’’جب آپ اوسطاً ہر دوسرا پوائنٹ ہار رہے ہوتے ہیں تو آپ سیکھ جاتے ہیں کہ ہر شاٹ پر پچھتاوے میں نہ الجھیں۔ آپ خود کو یہ سوچنے کی تربیت دیتے ہیں: ’ٹھیک ہے، مجھ سے ڈبل فالٹ ہوا، لیکن یہ صرف ایک پوائنٹ تھا۔‘‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی شناخت نہیں بناتے۔ وہ اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں، اپنی تقدیر نہیں۔ ان کے لیے ہر شکست محض ایک سبق ہوتی ہے، آخری فیصلہ نہیں۔ یہی ذہنی استقامت اور جذباتی نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا تیسرا اور نہایت طاقتور پہلو ہے، جو انسان کو بار بار گرنے کے باوجود دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی قوت عطا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ’’جب آپ ایک پوائنٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کی سب سے اہم چیز ہوتا ہے، اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن جب وہ پوائنٹ گزر جائے تو اسے گزر جانے دینا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ آپ کو آزادی دیتا ہے کہ آپ پوری شدت، واضح سوچ اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے پوائنٹ اور پھر اس کے بعد آنے والے پوائنٹ پر اپنی تمام توانائیاں مرکوز کر سکیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناکامی کامیابی کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ دراصل یہی نظم و ضبط کہ آپ ناکامی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، عام اور غیرمعمولی افراد کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط قائدانہ صلاحیت کی پہچان ہے۔ یہ عزم کا نام ہے۔ یہ اپنے خوابوں سے وفاداری کا نام ہے۔ یہ حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود ثابت قدمی سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ یہ رکاوٹوں کو اپنی راہ کا اختتام نہ بننے دینے کا نام ہے۔ یہ اس وقت بھی کام کرتے رہنے کا نام ہے جب آپ کا دل بالکل نہ چاہ رہا ہو۔ یہ اس وقت سنبھل کر کھڑے ہونے کا نام ہے جب سب کچھ بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہار نہ ماننے کا نام ہے۔ یہ دباؤ کے آگے سر نہ جھکانے کا نام ہے۔ یہ اعتبار اور ساکھ کا نام ہے۔ یہ لچک، استقامت اور ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہ خود احتسابی کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام اقدار وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں جن پر افراد، اداروں اور قوموں کے کردار کی مضبوطی قائم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ لو ہولٹز نے کہا تھا:’’ذاتی نظم و ضبط کے بغیر کامیابی ناممکن ہے،بس، بات ختم یا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کچھ لوگ کامیابی کی منزل کیوں پا لیتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ وہ کون سا ’’ایکس فیکٹر‘‘ ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے؟ کیا وہ پیدائشی فاتح ہوتے ہیں؟ ان کی کامیابی کی کہانیوں میں قسمت کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کو متجسس رکھا ہے۔ متعدد اہلِ علم نے ان موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے اور بے شمار نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان سب نے کامیابی کے عوامل کو سمجھنے میں کسی نہ کسی حد تک بصیرت فراہم کی ہے۔تحقیقات سے بھری پڑی ہیں جو بتاتی ہیں کہ کامیاب افراد کے پاس ایک واضح وژن ہوتا ہے۔ ایسی بے شمار کتابیں موجود ہیں جو ان کی خواب دیکھنے اور دوسروں کو خواب دکھانے کی صلاحیت کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک اور مقبول موضوع ’’تقدیر‘‘ بھی اپنی مدد آپ ( سیلف ہیلپ ) کی ادبیات کا پسندیدہ محور رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ان لوگوں کے ذہن میں ایک واضح اور حتمی مقصد موجود ہوتا ہے، کامیابی کے حصول میں ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔ تقدیر یا منزل کے تصور کے بغیر خواب بیچنے والے بھی محض راہگیر بن کر رہ جاتے ہیں۔ سرنگ کے اختتام پر دکھائی دینے والی روشنی مسافر کو مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، اور مطلوبہ منزل ہی وہ مقصد ہوتی ہے جو ہر قدم کی سمت متعین کرتی ہے۔</strong></p>
<p>مذکورہ تمام باتیں درست ہیں۔ یہ سب کامیابی کی عمارت کی اینٹیں ہیں۔ یہ سب حوصلہ افزا اور تحریک دینے والی ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں، بہت سے مستقبل کا تصور کرتے ہیں، کچھ اپنی تقدیر پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور کچھ کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا واضح خاکہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر وہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ امریکی یونیورسٹی آف اسکرینٹن کی ایک معروف تحقیق کے مطابق نئے سال کے لیے اہداف مقرر کرنے والے 92 فیصد افراد پہلے ہی مہینے میں انہیں ترک کر دیتے ہیں۔ یعنی صرف 8 فیصد لوگ اپنے اہداف کے تعاقب میں ثابت قدم رہتے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کتنے لوگ واقعی اپنے مقاصد حاصل کر پاتے ہیں، یہ شرح یقیناً اس سے بھی کم ہوگی۔ عام طور پر پیش کی جانے والی وجوہات یہ ہوتی ہیں: ’’میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘، ’’قسمت میرا ساتھ نہیں دے رہی‘‘، ’’میرے حالات ایسے ہیں کہ…‘‘، ’’یہ عملی نہیں ہے‘‘ وغیرہ۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور تقدیر کے درمیان موجود گمشدہ کڑی سامنے آتی ہے۔ یہ کڑی بھی حرف D سے شروع ہوتی ہے، اور وہ ہے ڈسپلن (نظم و ضبط)۔</p>
<p>نظم و ضبط کے بغیر خواب دراصل ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔ بظاہر نظم و ضبط ایک منظم اور بار بار دہرایا جانے والا عمل محسوس ہوتا ہے، اور یقیناً یہ ہے بھی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ دراصل اس بات کا حقیقی امتحان ہے کہ آپ اپنے خوابوں اور اپنے جذبے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کس طرح حقیقی معنوں میں کھیل کا رخ بدل دینے والا عنصر ثابت ہوتا ہے:</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 1: اپنے اصولوں اور اقدار سے وابستگی</h3>
<p>نظم و ضبط محض قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی منزل سے آگاہ ہونے اور اس تک درست طریقے سے پہنچنے کے عزم کا نام ہے۔ ایک رہنما کی شخصیت ان اقدار اور اصولوں پر استوار ہوتی ہے جنہیں وہ اختیار کرتا اور برقرار رکھتا ہے۔ نظم و ضبط کا پہلا امتحان اس وقت سامنے آتا ہے جب ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی کے حالات آپ پر ان اصولوں کے خلاف جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔</p>
<p>کیا آپ میں اتنا نظم و ضبط موجود ہے کہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکیں اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے نتائج قبول کر سکیں؟ اس وابستگی کے لیے اس وقت ’’نہیں‘‘ کہنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے جب ’’ہاں‘‘ کہنا کہیں زیادہ آسان ہو۔</p>
<p>دیانت داری ایک ایسی قدر ہے جس کا ذکر لوگ، خصوصاً قائدین، سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے کتنی ہی بار دیکھا ہے کہ کاروباری دنیا کے انتہائی معروف اور قابلِ تعریف رہنما بھی دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں کمپنیوں کی مالیت بڑھانے کے لیے مالی اعداد و شمار میں رد و بدل کیا گیا۔</p>
<p>اس کے برعکس، ہم دنیا کے ان عظیم رہنماؤں کے نظم و ضبط اور ثابت قدمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جیسے نیلسن منڈیلا، جنہوں نے شدید مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں کا دامن نہیں چھوڑا۔</p>
<p>کاروباری دنیا میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی ایک معروف کمپنی کے سربراہ نے کووڈ-19 کے دوران، مختلف فریقوں کے دباؤ کے باوجود، نچلے درجے کے ملازمین کو برقرار رکھنے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس نظم و ضبط کی مثال ہے جو انسان کو اپنے نظریات اور اقدار پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔</p>
<p>درحقیقت، اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنا ہی ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا پہلا اور بنیادی مظہر ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو خوابوں کو محض خواہشات سے نکال کر تقدیر میں بدلنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 2: جذبے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت</h3>
<p>اگر 92 فیصد لوگ اپنے عزم اور ارادوں پر قائم نہیں رہ پاتے تو یہ ایک واضح کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کا جذبہ مشکلات کے سامنے کتنا گہرا، پائیدار اور ثابت قدم ہے۔ جب ہر چیز آپ کو ہار مان لینے پر آمادہ کر رہی ہو، تب بھی آگے بڑھتے رہنے کا نظم و ضبط ہی وہ نمایاں خصوصیت ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے الگ کرتی ہے۔</p>
<p>اس کی سب سے عام مثال وزن کم کرنے کی کوشش ہے۔ بیشتر غذائی منصوبے (ڈائٹس) ناکام ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر ورزش کے پروگرام ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر جلنے والی آگ کتنی شدید اور کتنی مستقل ہے؟</p>
<p>کھیلوں کی دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد جلد ہی منظر سے غائب ہو گئے۔ اس کے برعکس، نسبتاً کم صلاحیت رکھنے والے بہت سے لوگوں نے محض اپنے مستقل جذبے اور ثابت قدمی کی بدولت سفر کی تمام نشیب و فراز عبور کیے اور کامیابی حاصل کر لی۔</p>
<p>دنیا میں کون ایسا ہے جو صبح چار بجے خوش دلی اور تازگی کے ساتھ بیدار ہوتا ہو؟ ہر شخص نیند، بوجھل سر، سست قدموں اور اس ذہن سے نبرد آزما ہوتا ہے جو ایک اضافی گھنٹے کی نیند کے لیے سیکڑوں بہانے تراش رہا ہوتا ہے۔ نرم اور گرم بستر اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>لیکن چیمپئن وہ ہوتے ہیں جو الارم کی آواز، اپنی سستی اور جسمانی بوجھل پن پر قابو پانے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں۔ دوسری جانب صرف صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنے والے بہت سے لوگ روزانہ اسی الارم کے ہاتھوں شکست کھاتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ کسی طرح اٹھ بھی جائیں تو کبھی موسم، کبھی گاڑی اور کبھی دروازے کی چابی ان کے لیے نئے بہانے بن جاتے ہیں۔</p>
<p>درحقیقت کامیابی کا راز صرف جذبہ رکھنے میں نہیں بلکہ اس جذبے کو ہر مشکل، ہر رکاوٹ اور ہر مایوسی کے باوجود زندہ رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی پائیدار جذبہ اور اس کے ساتھ جڑا نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اور نہایت اہم ستون ہے۔</p>
<p>مائیکل فلپس، جنہوں نے تیراکی میں آٹھ اولمپک طلائی تمغے جیتے، مسلسل 700 دن سے زائد عرصے تک بغیر ناغہ تربیت کرتے رہے۔ گرمی ہو یا برف باری، بارش ہو یا سالگرہ، حتیٰ کہ کرسمس کا دن بھی ہو، وہ ہر روز حاضر ہوتے، مشق کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 3: ناکامی پر ردِعمل</h3>
<p>مزاج پر قابو رکھنے کا نظم و ضبط کامیابی کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔ جب حالات سازگار ہوں تو آپ کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے، لیکن جب معاملات بگڑ جائیں تو کیا آپ کا موڈ بھی گر جاتا ہے اور آپ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں؟</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے جذبات اور موڈ کو قابو میں رکھنے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں، یا پھر آپ کے موڈ ہی آپ کو کنٹرول کرتے ہیں؟ یہی ایک بڑا ’’ڈی فیکٹر‘‘ ہے۔ جب مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہو، لیکن اس کے باوجود آپ اپنی ماند پڑتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر ایک اور کوشش کرنے کے لیے تیار رہیں، تو دراصل یہی وہ امتحان ہے جس میں کامیابی حاصل کرنا اصل فتح ہے۔</p>
<p>ابراہم لنکن نے کامیابی حاصل کرنے سے قبل آٹھ مرتبہ مختلف نامزدگیوں اور انتخابات میں شکست کا سامنا کیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیاب ہوئے۔</p>
<p>حال ہی میں راجر فیڈرر نے ڈرٹ ماؤتھ کالج کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:’’جب آپ اوسطاً ہر دوسرا پوائنٹ ہار رہے ہوتے ہیں تو آپ سیکھ جاتے ہیں کہ ہر شاٹ پر پچھتاوے میں نہ الجھیں۔ آپ خود کو یہ سوچنے کی تربیت دیتے ہیں: ’ٹھیک ہے، مجھ سے ڈبل فالٹ ہوا، لیکن یہ صرف ایک پوائنٹ تھا۔‘‘‘</p>
<p>کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی شناخت نہیں بناتے۔ وہ اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں، اپنی تقدیر نہیں۔ ان کے لیے ہر شکست محض ایک سبق ہوتی ہے، آخری فیصلہ نہیں۔ یہی ذہنی استقامت اور جذباتی نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا تیسرا اور نہایت طاقتور پہلو ہے، جو انسان کو بار بار گرنے کے باوجود دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی قوت عطا کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ’’جب آپ ایک پوائنٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کی سب سے اہم چیز ہوتا ہے، اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن جب وہ پوائنٹ گزر جائے تو اسے گزر جانے دینا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ آپ کو آزادی دیتا ہے کہ آپ پوری شدت، واضح سوچ اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے پوائنٹ اور پھر اس کے بعد آنے والے پوائنٹ پر اپنی تمام توانائیاں مرکوز کر سکیں۔‘‘</p>
<p>ناکامی کامیابی کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ دراصل یہی نظم و ضبط کہ آپ ناکامی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، عام اور غیرمعمولی افراد کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>نظم و ضبط قائدانہ صلاحیت کی پہچان ہے۔ یہ عزم کا نام ہے۔ یہ اپنے خوابوں سے وفاداری کا نام ہے۔ یہ حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود ثابت قدمی سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ یہ رکاوٹوں کو اپنی راہ کا اختتام نہ بننے دینے کا نام ہے۔ یہ اس وقت بھی کام کرتے رہنے کا نام ہے جب آپ کا دل بالکل نہ چاہ رہا ہو۔ یہ اس وقت سنبھل کر کھڑے ہونے کا نام ہے جب سب کچھ بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہو۔</p>
<p>یہ ہار نہ ماننے کا نام ہے۔ یہ دباؤ کے آگے سر نہ جھکانے کا نام ہے۔ یہ اعتبار اور ساکھ کا نام ہے۔ یہ لچک، استقامت اور ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہ خود احتسابی کا نام ہے۔</p>
<p>یہ تمام اقدار وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں جن پر افراد، اداروں اور قوموں کے کردار کی مضبوطی قائم ہوتی ہے۔</p>
<p>جیسا کہ لو ہولٹز نے کہا تھا:’’ذاتی نظم و ضبط کے بغیر کامیابی ناممکن ہے،بس، بات ختم یا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔“</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506098</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:49:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041345072f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041345072f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے ٹیکسیشن سسٹم کی خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506069/pakistan-fbr-imf-income-tax-agricultural-tax-reforms-banking-sector-acconomy-lsm-sector</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس مضمون کا مقصد پاکستان کے ٹیکسیشن نظام کی اہم خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے تاکہ اس کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس سے ایسے ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کی تشکیل کی بنیاد فراہم ہوگی جو محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے فروغ، اور ٹیکس وصولی کے عمل میں کارکردگی بہتر بنانے کے نقطۂ نظر سے مرتب کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی ٹیکس محصولات کا طویل مدتی رجحان یو( U ) شکل کا رہا ہے۔ ٹیکس محصولات میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل ہے، جو 2022-23 میں سیلز ٹیکس کے خاتمے کے بعد سامنے آئی۔ وفاقی حکومت اسے غیر ٹیکس آمدن قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسے ٹیکس کے زمرے میں شمار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 میں مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا تخمینہ 12.6 فیصد ہے۔ یہ شرح 2024-25 میں نمایاں اضافے کے ساتھ جی ڈی پی کے 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2003-04 میں ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح صرف 7.1 فیصد کی کم ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد سے اس شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس نظام وفاقی اور صوبائی سطحوں کے درمیان غیر متوازن ہے۔ قومی سطح پر مجموعی ٹیکس محصولات میں وفاقی ٹیکس محصولات کا حصہ 92 فیصد سے زیادہ ہے۔ صوبائی ٹیکس محصولات کا محض 8 فیصد حصہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ 2015-16 سے خدمات پر سیلز ٹیکس کی صورت میں ایک بڑی اور ممکنہ طور پر زیادہ آمدن دینے والا ٹیکس موجود ہے۔ بھارت بھی ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں قومی ٹیکس محصولات کا تقریباً 30 فیصد ریاستی حکومتیں جمع کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک اور بڑی مثبت پیش رفت براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ مجموعی ٹیکس محصولات میں صرف 20 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تبدیلی نے ملک کے ٹیکس نظام کو نسبتاً زیادہ منصفانہ اور ترقی پسند بنایا ہے۔ اس وقت ودہولڈنگ ٹیکسوں سے انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً 60 فیصد حاصل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی سطح پر بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی مشترکہ وصولیوں کا ہے، جو 71 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی اہمیت اور ان کا مالیاتی کردار گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ اس وقت ان دونوں محصولات کی مشترکہ وصولی جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا ایشیا کے بعض ممالک سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ 2024-25 میں یہ شرح جی ڈی پی کے 12.2 فیصد کے برابر تھی، جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم یہ بھارت، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح سے کم ہے، جہاں یہ شرح جی ڈی پی کے 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو اب بھی خاطر خواہ پیش رفت اور دیگر ممالک کے برابر آنے کے لیے کافی سفر طے کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر سیلز ٹیکس کی شرح نسبتاً بلند، یعنی 18 فیصد ہے، جبکہ درآمدی محصولات (امپورٹ ٹیرف) کے لحاظ سے پاکستان درمیانی درجے میں آتا ہے، جہاں اوسط شرح 9.9 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم تقابل انکم ٹیکس کی شرحوں کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، جو دیگر ایشیائی ممالک میں 20 سے 35 فیصد کے درمیان پائی جانے والی شرحوں کے وسط میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم ذاتی آمدن پر عائد زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد نسبتاً بلند ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں یہ شرح 25 فیصد جبکہ بھارت میں 30 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ممکنہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کے تعین کے لیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے گئے ہیں۔ ایشیائی ممالک کے ایک نمونے میں ممکنہ ٹیکس محصولات سے متعلق معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ’’نمائندہ ٹیکس نظام‘‘ (رپریزنٹیٹیو ٹیکس سسٹم) کے طریقۂ کار سے حاصل ہونے والے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 2024-25 میں اضافے کے باوجود پاکستان کی حقیقی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح اپنی ممکنہ سطح سے تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی کم ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کم از کم 15 فیصد تک پہنچائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ’’ٹیکس گیپ‘‘ (ٹیکس کا خلا) کے تخمینے کے لیے ’’باٹم اپ‘‘ طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے مختلف ٹیکسوں میں موجود ممکنہ اضافی محصولات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ذاتی آمدن پر عائد انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن موجودہ سطح سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ سیلز ٹیکس کی وصولیاں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ صوبائی ٹیکسوں میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ انتہائی وسیع ہے۔ 2023-24 میں زرعی آمدن پر عائد ٹیکس کا ’’ٹیکس گیپ‘‘ 880 ارب روپے لگایا گیا، جبکہ اس مد میں حقیقی وصولیاں صرف 10 ارب روپے تھیں۔ اسی طرح خدمات پر سیلز ٹیکس میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ تقریباً 650 ارب روپے کے برابر ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صوبائی ٹیکس نظام کو مؤثر، جامع اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائیداد سے متعلق ٹیکس محصولات میں بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جائیداد سے متعلق پانچ مختلف ٹیکس عائد ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدن جی ڈی پی کے 0.3 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اس شعبے کی ممکنہ آمدن جی ڈی پی کے 0.8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ کس طبقے پر پڑتا ہے، اس اہم سوال کی طرف آئیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کے باعث ٹیکس نظام میں نسبتاً زیادہ ترقی پسندانہ ( پروگریسیو) رجحان پیدا ہوا ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے نے ٹیکس نظام کی رجعتی ( ری گریسیو) نوعیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاکستان میں مختلف آمدنی والے طبقات پر ٹیکسوں کے اثرات سے متعلق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام اب بھی ’’ہلکا رجعتی‘‘ ( مائلڈلی ری گریسیو) ہے۔ بین الاقوامی تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ ترقی پسند ہے، لیکن انڈونیشیا، بھارت اور ملائیشیا کے ٹیکس نظاموں کے مقابلے میں زیادہ رجعتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کے مختلف شعبوں کے درمیان بھی ٹیکسوں کے بوجھ میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے، جس کا اندازہ مختلف ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی مجموعی وصولیوں کو شعبہ جاتی ویلیو ایڈڈ کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ کی تفصیل جدول نمبر 1 میں دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مختلف ممالک میں مالیاتی مراعات ( فسکل انسنٹیوز) کے نظام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب مراعات میں درج ذیل اقدامات شامل رہے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• کئی ممالک میں سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ( ٹیکس ہالیڈے) دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بنگلہ دیش میں برآمدات کے لیے زیادہ موافق شرحِ مبادلہ اور ٹیکس استثنا فراہم کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• تھائی لینڈ میں منافع کے تعین کے وقت توانائی کے اخراجات کو حقیقی لاگت سے زیادہ شمار کرنے کی اجازت دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بھارت میں مخصوص سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر سرمایہ کاری الاؤنس یا ٹیکس استثنا دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاکستان اور دیگر ممالک کے ٹیکس نظام کے اس جائزے سے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ترقی کے لیے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• خدمات پر سیلز ٹیکس، زرعی آمدن پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق ٹیکسوں جیسے صوبائی محصولات کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• 2026-27 سے 2027-28 تک ہر سال ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح میں جی ڈی پی کے ایک فیصد کے مساوی اضافہ کیا جائے، تاکہ یہ شرح 15 فیصد سے تجاوز کر جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• ذاتی آمدن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو زیادہ معقول بنایا جائے اور پیٹرولیم لیوی کی شرحوں میں کمی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بڑے پیمانے کی صنعت ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ)، بینکاری، انشورنس اور تعمیرات جیسے شعبوں پر مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا جائے، جبکہ زراعت، تھوک و خوردہ تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے مالیاتی مراعات کا ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس مضمون کا مقصد پاکستان کے ٹیکسیشن نظام کی اہم خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے تاکہ اس کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس سے ایسے ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کی تشکیل کی بنیاد فراہم ہوگی جو محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے فروغ، اور ٹیکس وصولی کے عمل میں کارکردگی بہتر بنانے کے نقطۂ نظر سے مرتب کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی ٹیکس محصولات کا طویل مدتی رجحان یو( U ) شکل کا رہا ہے۔ ٹیکس محصولات میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل ہے، جو 2022-23 میں سیلز ٹیکس کے خاتمے کے بعد سامنے آئی۔ وفاقی حکومت اسے غیر ٹیکس آمدن قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسے ٹیکس کے زمرے میں شمار کرتا ہے۔</p>
<p>2025-26 میں مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا تخمینہ 12.6 فیصد ہے۔ یہ شرح 2024-25 میں نمایاں اضافے کے ساتھ جی ڈی پی کے 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2003-04 میں ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح صرف 7.1 فیصد کی کم ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد سے اس شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکس نظام وفاقی اور صوبائی سطحوں کے درمیان غیر متوازن ہے۔ قومی سطح پر مجموعی ٹیکس محصولات میں وفاقی ٹیکس محصولات کا حصہ 92 فیصد سے زیادہ ہے۔ صوبائی ٹیکس محصولات کا محض 8 فیصد حصہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ 2015-16 سے خدمات پر سیلز ٹیکس کی صورت میں ایک بڑی اور ممکنہ طور پر زیادہ آمدن دینے والا ٹیکس موجود ہے۔ بھارت بھی ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں قومی ٹیکس محصولات کا تقریباً 30 فیصد ریاستی حکومتیں جمع کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک اور بڑی مثبت پیش رفت براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ مجموعی ٹیکس محصولات میں صرف 20 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تبدیلی نے ملک کے ٹیکس نظام کو نسبتاً زیادہ منصفانہ اور ترقی پسند بنایا ہے۔ اس وقت ودہولڈنگ ٹیکسوں سے انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً 60 فیصد حاصل ہو رہا ہے۔</p>
<p>وفاقی سطح پر بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی مشترکہ وصولیوں کا ہے، جو 71 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی اہمیت اور ان کا مالیاتی کردار گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ اس وقت ان دونوں محصولات کی مشترکہ وصولی جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے برابر ہے۔</p>
<p>پاکستان کی مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا ایشیا کے بعض ممالک سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ 2024-25 میں یہ شرح جی ڈی پی کے 12.2 فیصد کے برابر تھی، جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم یہ بھارت، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح سے کم ہے، جہاں یہ شرح جی ڈی پی کے 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو اب بھی خاطر خواہ پیش رفت اور دیگر ممالک کے برابر آنے کے لیے کافی سفر طے کرنا ہے۔</p>
<p>ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر سیلز ٹیکس کی شرح نسبتاً بلند، یعنی 18 فیصد ہے، جبکہ درآمدی محصولات (امپورٹ ٹیرف) کے لحاظ سے پاکستان درمیانی درجے میں آتا ہے، جہاں اوسط شرح 9.9 فیصد ہے۔</p>
<p>اہم تقابل انکم ٹیکس کی شرحوں کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، جو دیگر ایشیائی ممالک میں 20 سے 35 فیصد کے درمیان پائی جانے والی شرحوں کے وسط میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم ذاتی آمدن پر عائد زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد نسبتاً بلند ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں یہ شرح 25 فیصد جبکہ بھارت میں 30 فیصد ہے۔</p>
<p>پاکستان کی ممکنہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کے تعین کے لیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے گئے ہیں۔ ایشیائی ممالک کے ایک نمونے میں ممکنہ ٹیکس محصولات سے متعلق معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ’’نمائندہ ٹیکس نظام‘‘ (رپریزنٹیٹیو ٹیکس سسٹم) کے طریقۂ کار سے حاصل ہونے والے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 2024-25 میں اضافے کے باوجود پاکستان کی حقیقی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح اپنی ممکنہ سطح سے تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی کم ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کم از کم 15 فیصد تک پہنچائی جائے۔</p>
<p>اس کے بعد ’’ٹیکس گیپ‘‘ (ٹیکس کا خلا) کے تخمینے کے لیے ’’باٹم اپ‘‘ طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے مختلف ٹیکسوں میں موجود ممکنہ اضافی محصولات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ذاتی آمدن پر عائد انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن موجودہ سطح سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ سیلز ٹیکس کی وصولیاں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ صوبائی ٹیکسوں میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ انتہائی وسیع ہے۔ 2023-24 میں زرعی آمدن پر عائد ٹیکس کا ’’ٹیکس گیپ‘‘ 880 ارب روپے لگایا گیا، جبکہ اس مد میں حقیقی وصولیاں صرف 10 ارب روپے تھیں۔ اسی طرح خدمات پر سیلز ٹیکس میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ تقریباً 650 ارب روپے کے برابر ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صوبائی ٹیکس نظام کو مؤثر، جامع اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔</p>
<p>جائیداد سے متعلق ٹیکس محصولات میں بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جائیداد سے متعلق پانچ مختلف ٹیکس عائد ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدن جی ڈی پی کے 0.3 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اس شعبے کی ممکنہ آمدن جی ڈی پی کے 0.8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ کس طبقے پر پڑتا ہے، اس اہم سوال کی طرف آئیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کے باعث ٹیکس نظام میں نسبتاً زیادہ ترقی پسندانہ ( پروگریسیو) رجحان پیدا ہوا ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے نے ٹیکس نظام کی رجعتی ( ری گریسیو) نوعیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر پاکستان میں مختلف آمدنی والے طبقات پر ٹیکسوں کے اثرات سے متعلق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام اب بھی ’’ہلکا رجعتی‘‘ ( مائلڈلی ری گریسیو) ہے۔ بین الاقوامی تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ ترقی پسند ہے، لیکن انڈونیشیا، بھارت اور ملائیشیا کے ٹیکس نظاموں کے مقابلے میں زیادہ رجعتی ہے۔</p>
<p>معیشت کے مختلف شعبوں کے درمیان بھی ٹیکسوں کے بوجھ میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے، جس کا اندازہ مختلف ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی مجموعی وصولیوں کو شعبہ جاتی ویلیو ایڈڈ کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ کی تفصیل جدول نمبر 1 میں دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مختلف ممالک میں مالیاتی مراعات ( فسکل انسنٹیوز) کے نظام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب مراعات میں درج ذیل اقدامات شامل رہے ہیں:</p>
<p>• کئی ممالک میں سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ( ٹیکس ہالیڈے) دینا۔</p>
<p>• بنگلہ دیش میں برآمدات کے لیے زیادہ موافق شرحِ مبادلہ اور ٹیکس استثنا فراہم کرنا۔</p>
<p>• تھائی لینڈ میں منافع کے تعین کے وقت توانائی کے اخراجات کو حقیقی لاگت سے زیادہ شمار کرنے کی اجازت دینا۔</p>
<p>• بھارت میں مخصوص سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر سرمایہ کاری الاؤنس یا ٹیکس استثنا دینا۔</p>
<p>مجموعی طور پر پاکستان اور دیگر ممالک کے ٹیکس نظام کے اس جائزے سے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ترقی کے لیے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:</p>
<p>• خدمات پر سیلز ٹیکس، زرعی آمدن پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق ٹیکسوں جیسے صوبائی محصولات کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔</p>
<p>• 2026-27 سے 2027-28 تک ہر سال ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح میں جی ڈی پی کے ایک فیصد کے مساوی اضافہ کیا جائے، تاکہ یہ شرح 15 فیصد سے تجاوز کر جائے۔</p>
<p>• ذاتی آمدن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو زیادہ معقول بنایا جائے اور پیٹرولیم لیوی کی شرحوں میں کمی کی جائے۔</p>
<p>• بڑے پیمانے کی صنعت ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ)، بینکاری، انشورنس اور تعمیرات جیسے شعبوں پر مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا جائے، جبکہ زراعت، تھوک و خوردہ تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>• سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے مالیاتی مراعات کا ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔</p>
<hr />
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506069</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03145228c288e3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03145228c288e3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 27-2026 کا بجٹ : توقعات اور اُمیدیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔</strong></p>
<p>دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔</p>
<p>اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔</p>
<p>چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔</p>
<p>ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔</p>
<p>حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔</p>
<p>رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔</p>
<p>اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔</p>
<p>مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔</p>
<p>دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔</p>
<p>ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔</p>
<p>اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔</p>
<p>دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔</p>
<p>تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506037</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:51:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02154713ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02154713ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے مسلسل بدلتے پینترے، اپنے ہی بیانات سے مکرنے کا رجحان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔</p>
<p>31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔</p>
<p>سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔</p>
<p>جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔</p>
<p>مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔</p>
<p>جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔</p>
<p>آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506036</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:44:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02154259a60c106.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02154259a60c106.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قائد کی آواز کی گونج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بولنے اور مؤثر آواز رکھنے میں فرق ہوتا ہے۔ بیشتر رہنما بہت زیادہ بولتے ہیں، بلکہ کئی مواقع پر ضرورت سے بھی زیادہ، مگر اس کے باوجود اُن کی آواز اثر نہیں چھوڑ پاتی۔ قیادت کی تربیتی نشستوں میں رہنماؤں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ’’ملازمین سنتے ہی نہیں‘‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر رہنما اس مسلسل ذہنی بوجھ سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ایک ہی بات بار بار دہرانا پڑتی ہے۔ بعض اوقات وہ کارکنوں کی بے حسی اور عدم توجہی پر سخت جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ’’یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں دیوار سے بات کر رہا ہوں، سب سر تو ہلا دیتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ بات اُن کے ذہن میں اترتی ہی نہیں۔‘‘ ایک اور پریشان رہنما کا کہنا تھا، ’’سب لوگ کام پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعد میں مجھے ہی بار بار یاددہانی کرانا پڑتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے احساسات رفتہ رفتہ رہنما کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مزید دہرانے، مزید دباؤ ڈالنے اور زیادہ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ابلاغ کا ایک ایسا منفی دائرہ جنم لیتا ہے جو نتیجہ خیز ہونے کے بجائے اشتعال انگیز اور غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کا اسلوبِ گفتگو دراصل وہ محرک ہے جو ادارے کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رہنما کی آواز میں ایسی قوت اور بازگشت ہوتی ہے جو ادارے کے گوشے گوشے تک سنائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے عموماً اپنی ’’اسٹریٹجک بیانیے‘‘ کی بات کرتے ہیں، مگر ایسا بیانیہ نہایت بصیرت اور مہارت سے ترتیب دینا اور دانشمندی سے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مطلوبہ اثر پیدا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کی آواز وہ پکار ہوتی ہے جسے لوگ سنتے بھی ہیں اور جس کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اگر یہ آواز بے ربط اور غیر واضح ہو تو ممکن ہے اثر دکھائے، اور ممکن ہے بالکل بے اثر رہے۔ حقیقی تحریک اور ادارہ جاتی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ رہنما کی آواز اپنے مخاطبین کے دل و دماغ میں اترے اور اُن کے احساسات سے ہم آہنگ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کی آواز صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ کہانیوں، گفتگوؤں، طرزِ بیان، رویّوں اور عملی کردار کے ذریعے اظہار پاتی ہے۔ بہت سے رہنما نہایت شستہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر توجہ کو تحریک میں بدلنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ رہنما کی آواز محض نعرہ نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ جوابدہی اور عملی کردار بھی موجود ہو۔ یہی چیز اعتماد پیدا کرتی ہے، یہی وابستگی کو جنم دیتی ہے اور یہی کردار سازی کی بنیاد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کو سنجیدگی سے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نوع کی گفتگو چاہتا ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو، یاد رکھی جائے اور آگے بیان کی جائے۔ وہ کون سی کہانیاں ہیں جنہیں لوگ دہرانا چاہیں، اور وہ کون سی گفتگو ہے جسے لوگ بار بار زندہ رکھیں۔ انسان دراصل چار عناصر، دل، دماغ، جسم اور روح، کا مجموعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو آواز ان چاروں سطحوں کو مخاطب کرتی ہے، وہی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ وہی دلوں میں گونجتی ہے اور وہی حقیقی معنوں میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اُن چار آوازوں کا جائزہ ضروری ہے جنہیں ہر رہنما کو اپنے اندر پروان چڑھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ اوّل: دل سے دل تک&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ قیادت کی وہ آواز ہے جو خلوص، توجہ اور احساسِ تعلق کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہماری گفتگو لوگوں کے اندر جذبات اور احساسات پیدا کرتی ہے، اور یہی احساسات اُن کے ردِعمل کی بنیاد بنتے ہیں۔ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مکالمے اور طرزِ عمل اختیار کریں جن سے لوگوں کو محسوس ہو کہ وہ واقعی اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکنوں سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک ادارے میں قیادت کے بارے میں رائے جاننے کے لیے ہونے والے اجلاس میں ملازمین نے کہا، ’’ہماری بہت سی گفتگو ہوتی ہے، مگر وہ زیادہ تر صرف کام تک محدود رہتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمین کی ذاتی زندگی، اُن کی خوشیوں، مسائل اور پیش رفت میں بھی دلچسپی لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ادارے میں سربراہ کا معمول تھا کہ وہ صبح دفتر پہنچ کر راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا، اُس کے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں دریافت کرتا۔ اُس کا یہ طرزِ عمل لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ ملازمین آج بھی اُس واقعے کو محبت سے یاد کرتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دل سے دل تک پہنچنے والی گفتگو کی مثال قائم کرے۔ ایسی گفتگو میں اُن کے اہلِ خانہ، ذاتی دلچسپیوں، شوق اور اُن معاملات پر بات ہونی چاہیے جہاں رہنما اُن کی مدد کر سکتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن رہنماؤں کے بارے میں میں نے سب سے زیادہ مثبت بازگشت سنی، وہ دراصل اُن کے چھوٹے مگر خلوص بھرے رویّوں کی وجہ سے تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ اُس کا مینیجر ہر ملازم کی سالگرہ یاد رکھتا ہے اور اُس کے شوق کے مطابق کیک تیار کرواتا ہے۔ اُس نے حیرت سے بتایا کہ اُس کے کیک پر اُس کی پسندیدہ گاڑی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ایک اور ملازم نے کہا کہ وہ اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکا جب اُس کے سربراہ اُس کی دادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُس کی پرورش دادی ہی نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفاظ کم بھی ہوں اور عمل بظاہر معمولی بھی، مگر اگر اُن میں خلوص ہو تو اُن کا اثر دلوں پر گہرا ثبت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ دوم: مقصد سے ہم آہنگی&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;رہنما کی پکار ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ دے اور انہیں وہ زاویے دکھائے جو وہ خود نہیں دیکھ پاتے۔ انسانی ذہن محض مشینی انداز میں کام کرنے کے لیے نہیں بنا؛ وہ تجزیہ، وسعتِ فکر اور فکری تحریک چاہتا ہے۔ آج بیشتر کارکن جس بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ کام سے جذباتی لاتعلقی ہے۔ وہ صبح سے شام تک کے معمول میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ زندگی ایک بے روح مشق محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ دفتر آتے ہیں، کام کرتے ہیں، خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور تھکے ماندے و بے دِل واپس لوٹ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں رہنما کی پکار کو ذہنوں میں حرکت پیدا کرنا ہوتی ہے۔ افسوس کہ قیادت کے جس پہلو کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، وہ مقصد کی وضاحت پر مبنی گفتگو ہے۔ اجلاسوں میں مقصد کی بات نہایت اہم ہوتی ہے، جبکہ تقریبات اور روزمرہ سرگرمیوں میں معمولات کو کسی بڑے مقصد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب رہنما اپنے لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ اُن کا ہر عمل محض ایک کام نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے، لوگوں کو سیکھنے کے مواقع دینے یا معاشرے میں بہتری لانے کی ایک کوشش ہے، تو وہ اُنہیں ایک بلند تر مقصد سے وابستہ کر دیتا ہے۔ یوں ذہن میں معنی اور مقصد کا ایسا رشتہ قائم ہوتا ہے جو انسان کو اپنے کام پر فخر محسوس کراتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار اجلاس اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ رہنما کو چاہیے کہ وہ ہر ملاقات میں ادارے کے وژن اور مقصد کو واضح انداز میں دہرائے۔ اس مقصد کو ادارے کی نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مینیجرز کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ وہ ہر میٹنگ اور انفرادی نشست میں اپنے ساتھیوں سے ادارے کے مقصد اور اس کی اہمیت پر گفتگو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ سوم: توانائی کو مہمیز دینا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;انسانی جسم حرکت اور تازگی کا تقاضا کرتا ہے، اور توانائی دراصل کارکردگی میں اضافے کی بنیادی قوت ہے۔ رہنما کو اپنی ٹیم میں جس توانائی کی خواہش ہو، اُسے پہلے خود اپنے طرزِ عمل میں ظاہر کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کی توانائی اُس کے مزاج، اندازِ گفتگو، نظم و ضبط اور جسمانی فعالیت سے جھلکتی ہے۔ طویل اجلاسوں میں اُس کی مسلسل توجہ، چستی اور مثبت انداز دوسروں کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اسی طرح اگر رہنما اپنے لوگوں کی صحت اور فٹنس کے بارے میں سنجیدہ ہو، اُن کے لیے واک، یوگا، جم یا فلاحی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرے، صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائے اور ہر چھ ماہ بعد طبی معائنوں کا اہتمام کرے، تو یہ تمام اقدامات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ادارے کے لیے لوگ محض منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ چہارم: روح کو بیدار کرنا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ قیادت کی سب سے اہم پکار ہے، کیونکہ یہی ملازمت سے آگے بڑھ کر وابستگی اور تعلق پیدا کرتی ہے۔ رہنما کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیاں ادارے کی شناخت کا حصہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیراتی کام، رضاکارانہ منصوبے اور محروم طبقات کی رہنمائی و سرپرستی جیسے اقدامات لوگوں کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی احساس انسان کی روحانی تسکین اور معنویت کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما دراصل اُس بنیادی فکر اور نظریے کے ترجمان ہوتے ہیں جس پر ادارہ قائم ہوتا ہے۔ اُن کی باتیں پورے ماحول میں گونجتی ہیں۔ جب اُن کے الفاظ، گفتگو، طرزِ عمل اور رویّے متاثر کن اور ولولہ انگیز بن جاتے ہیں تو لوگوں کے دل، دماغ، جسم اور روح، سب ادارے کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’قیادت عہدے کا نام نہیں، بلکہ اُن گفتگو اور اثرات کا نام ہے جو آپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بولنے اور مؤثر آواز رکھنے میں فرق ہوتا ہے۔ بیشتر رہنما بہت زیادہ بولتے ہیں، بلکہ کئی مواقع پر ضرورت سے بھی زیادہ، مگر اس کے باوجود اُن کی آواز اثر نہیں چھوڑ پاتی۔ قیادت کی تربیتی نشستوں میں رہنماؤں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ’’ملازمین سنتے ہی نہیں‘‘۔</strong></p>
<p>اکثر رہنما اس مسلسل ذہنی بوجھ سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ایک ہی بات بار بار دہرانا پڑتی ہے۔ بعض اوقات وہ کارکنوں کی بے حسی اور عدم توجہی پر سخت جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ’’یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں دیوار سے بات کر رہا ہوں، سب سر تو ہلا دیتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ بات اُن کے ذہن میں اترتی ہی نہیں۔‘‘ ایک اور پریشان رہنما کا کہنا تھا، ’’سب لوگ کام پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعد میں مجھے ہی بار بار یاددہانی کرانا پڑتی ہے۔‘‘</p>
<p>ایسے احساسات رفتہ رفتہ رہنما کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مزید دہرانے، مزید دباؤ ڈالنے اور زیادہ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ابلاغ کا ایک ایسا منفی دائرہ جنم لیتا ہے جو نتیجہ خیز ہونے کے بجائے اشتعال انگیز اور غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p>قیادت کا اسلوبِ گفتگو دراصل وہ محرک ہے جو ادارے کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رہنما کی آواز میں ایسی قوت اور بازگشت ہوتی ہے جو ادارے کے گوشے گوشے تک سنائی دیتی ہے۔</p>
<p>ادارے عموماً اپنی ’’اسٹریٹجک بیانیے‘‘ کی بات کرتے ہیں، مگر ایسا بیانیہ نہایت بصیرت اور مہارت سے ترتیب دینا اور دانشمندی سے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مطلوبہ اثر پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p>قیادت کی آواز وہ پکار ہوتی ہے جسے لوگ سنتے بھی ہیں اور جس کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اگر یہ آواز بے ربط اور غیر واضح ہو تو ممکن ہے اثر دکھائے، اور ممکن ہے بالکل بے اثر رہے۔ حقیقی تحریک اور ادارہ جاتی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ رہنما کی آواز اپنے مخاطبین کے دل و دماغ میں اترے اور اُن کے احساسات سے ہم آہنگ ہو۔</p>
<p>رہنما کی آواز صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ کہانیوں، گفتگوؤں، طرزِ بیان، رویّوں اور عملی کردار کے ذریعے اظہار پاتی ہے۔ بہت سے رہنما نہایت شستہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر توجہ کو تحریک میں بدلنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ رہنما کی آواز محض نعرہ نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ جوابدہی اور عملی کردار بھی موجود ہو۔ یہی چیز اعتماد پیدا کرتی ہے، یہی وابستگی کو جنم دیتی ہے اور یہی کردار سازی کی بنیاد بنتی ہے۔</p>
<p>رہنما کو سنجیدگی سے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نوع کی گفتگو چاہتا ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو، یاد رکھی جائے اور آگے بیان کی جائے۔ وہ کون سی کہانیاں ہیں جنہیں لوگ دہرانا چاہیں، اور وہ کون سی گفتگو ہے جسے لوگ بار بار زندہ رکھیں۔ انسان دراصل چار عناصر، دل، دماغ، جسم اور روح، کا مجموعہ ہے۔</p>
<p>جو آواز ان چاروں سطحوں کو مخاطب کرتی ہے، وہی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ وہی دلوں میں گونجتی ہے اور وہی حقیقی معنوں میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اُن چار آوازوں کا جائزہ ضروری ہے جنہیں ہر رہنما کو اپنے اندر پروان چڑھانا چاہیے۔</p>
<p><strong>بازگشتِ اوّل: دل سے دل تک</strong><br>یہ قیادت کی وہ آواز ہے جو خلوص، توجہ اور احساسِ تعلق کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہماری گفتگو لوگوں کے اندر جذبات اور احساسات پیدا کرتی ہے، اور یہی احساسات اُن کے ردِعمل کی بنیاد بنتے ہیں۔ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مکالمے اور طرزِ عمل اختیار کریں جن سے لوگوں کو محسوس ہو کہ وہ واقعی اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکنوں سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کیا جائے۔</p>
<p>حال ہی میں ایک ادارے میں قیادت کے بارے میں رائے جاننے کے لیے ہونے والے اجلاس میں ملازمین نے کہا، ’’ہماری بہت سی گفتگو ہوتی ہے، مگر وہ زیادہ تر صرف کام تک محدود رہتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمین کی ذاتی زندگی، اُن کی خوشیوں، مسائل اور پیش رفت میں بھی دلچسپی لیں۔</p>
<p>ایک ادارے میں سربراہ کا معمول تھا کہ وہ صبح دفتر پہنچ کر راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا، اُس کے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں دریافت کرتا۔ اُس کا یہ طرزِ عمل لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ ملازمین آج بھی اُس واقعے کو محبت سے یاد کرتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔</p>
<p>رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دل سے دل تک پہنچنے والی گفتگو کی مثال قائم کرے۔ ایسی گفتگو میں اُن کے اہلِ خانہ، ذاتی دلچسپیوں، شوق اور اُن معاملات پر بات ہونی چاہیے جہاں رہنما اُن کی مدد کر سکتا ہو۔</p>
<p>جن رہنماؤں کے بارے میں میں نے سب سے زیادہ مثبت بازگشت سنی، وہ دراصل اُن کے چھوٹے مگر خلوص بھرے رویّوں کی وجہ سے تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ اُس کا مینیجر ہر ملازم کی سالگرہ یاد رکھتا ہے اور اُس کے شوق کے مطابق کیک تیار کرواتا ہے۔ اُس نے حیرت سے بتایا کہ اُس کے کیک پر اُس کی پسندیدہ گاڑی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ایک اور ملازم نے کہا کہ وہ اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکا جب اُس کے سربراہ اُس کی دادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُس کی پرورش دادی ہی نے کی تھی۔</p>
<p>الفاظ کم بھی ہوں اور عمل بظاہر معمولی بھی، مگر اگر اُن میں خلوص ہو تو اُن کا اثر دلوں پر گہرا ثبت ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>بازگشتِ دوم: مقصد سے ہم آہنگی</strong><br>رہنما کی پکار ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ دے اور انہیں وہ زاویے دکھائے جو وہ خود نہیں دیکھ پاتے۔ انسانی ذہن محض مشینی انداز میں کام کرنے کے لیے نہیں بنا؛ وہ تجزیہ، وسعتِ فکر اور فکری تحریک چاہتا ہے۔ آج بیشتر کارکن جس بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ کام سے جذباتی لاتعلقی ہے۔ وہ صبح سے شام تک کے معمول میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ زندگی ایک بے روح مشق محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ دفتر آتے ہیں، کام کرتے ہیں، خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور تھکے ماندے و بے دِل واپس لوٹ جاتے ہیں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں رہنما کی پکار کو ذہنوں میں حرکت پیدا کرنا ہوتی ہے۔ افسوس کہ قیادت کے جس پہلو کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، وہ مقصد کی وضاحت پر مبنی گفتگو ہے۔ اجلاسوں میں مقصد کی بات نہایت اہم ہوتی ہے، جبکہ تقریبات اور روزمرہ سرگرمیوں میں معمولات کو کسی بڑے مقصد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>جب رہنما اپنے لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ اُن کا ہر عمل محض ایک کام نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے، لوگوں کو سیکھنے کے مواقع دینے یا معاشرے میں بہتری لانے کی ایک کوشش ہے، تو وہ اُنہیں ایک بلند تر مقصد سے وابستہ کر دیتا ہے۔ یوں ذہن میں معنی اور مقصد کا ایسا رشتہ قائم ہوتا ہے جو انسان کو اپنے کام پر فخر محسوس کراتا ہے۔</p>
<p>ہفتہ وار اجلاس اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ رہنما کو چاہیے کہ وہ ہر ملاقات میں ادارے کے وژن اور مقصد کو واضح انداز میں دہرائے۔ اس مقصد کو ادارے کی نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مینیجرز کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ وہ ہر میٹنگ اور انفرادی نشست میں اپنے ساتھیوں سے ادارے کے مقصد اور اس کی اہمیت پر گفتگو کریں۔</p>
<p><strong>بازگشتِ سوم: توانائی کو مہمیز دینا</strong><br>انسانی جسم حرکت اور تازگی کا تقاضا کرتا ہے، اور توانائی دراصل کارکردگی میں اضافے کی بنیادی قوت ہے۔ رہنما کو اپنی ٹیم میں جس توانائی کی خواہش ہو، اُسے پہلے خود اپنے طرزِ عمل میں ظاہر کرنا چاہیے۔</p>
<p>رہنما کی توانائی اُس کے مزاج، اندازِ گفتگو، نظم و ضبط اور جسمانی فعالیت سے جھلکتی ہے۔ طویل اجلاسوں میں اُس کی مسلسل توجہ، چستی اور مثبت انداز دوسروں کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اسی طرح اگر رہنما اپنے لوگوں کی صحت اور فٹنس کے بارے میں سنجیدہ ہو، اُن کے لیے واک، یوگا، جم یا فلاحی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرے، صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائے اور ہر چھ ماہ بعد طبی معائنوں کا اہتمام کرے، تو یہ تمام اقدامات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ادارے کے لیے لوگ محض منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p><strong>بازگشتِ چہارم: روح کو بیدار کرنا</strong><br>یہ قیادت کی سب سے اہم پکار ہے، کیونکہ یہی ملازمت سے آگے بڑھ کر وابستگی اور تعلق پیدا کرتی ہے۔ رہنما کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیاں ادارے کی شناخت کا حصہ ہوں۔</p>
<p>خیراتی کام، رضاکارانہ منصوبے اور محروم طبقات کی رہنمائی و سرپرستی جیسے اقدامات لوگوں کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی احساس انسان کی روحانی تسکین اور معنویت کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔</p>
<p>رہنما دراصل اُس بنیادی فکر اور نظریے کے ترجمان ہوتے ہیں جس پر ادارہ قائم ہوتا ہے۔ اُن کی باتیں پورے ماحول میں گونجتی ہیں۔ جب اُن کے الفاظ، گفتگو، طرزِ عمل اور رویّے متاثر کن اور ولولہ انگیز بن جاتے ہیں تو لوگوں کے دل، دماغ، جسم اور روح، سب ادارے کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے لگتے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’قیادت عہدے کا نام نہیں، بلکہ اُن گفتگو اور اثرات کا نام ہے جو آپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505925</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 14:11:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/301410072f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/301410072f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
