<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:57:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 15:57:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505375/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بانڈ مارکیٹیں اب یوں محسوس ہونے لگی ہیں جیسے ان کا صبر آخرکار جواب دے گیا ہو۔ برطانیہ میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز حال ہی میں 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز بار بار مانیٹری نرمی کی توقعات کے باوجود بلند ہیں۔ سرمایہ کار اب کھل کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی مہنگائی کے مسئلے کا حصہ تو نہیں بن چکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مالیاتی منڈیوں نے بھاری خساروں، انتہائی سستی رقوم اور اس مسلسل دعوے کو برداشت کیے رکھا کہ قرض اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مگر اب مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے والی پرانی قوتیں دوبارہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ ویجلانٹیز ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصطلاح 1980 کی دہائی میں اُس وقت سامنے آئی تھی جب ایسے سرمایہ کاروں کو بیان کرنا مقصود تھا جو مالیاتی بے احتیاطی کی مرتکب سمجھی جانے والی حکومتوں کو سزا دینے کے لیے حکومتی بانڈز خریدنے پر بہت زیادہ منافع طلب کرتے تھے۔ یہ اصطلاح کسی پرانی مالیاتی مغربی فلم کے مکالمے جیسی ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار نہایت سخت اور سادہ ہے۔ اگر سرمایہ کار کسی حکومت کی اخراجات یا مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت پر اعتماد کھو بیٹھیں تو قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اور جب یہ لاگت طویل عرصے تک بلند رہے تو بالآخر سیاسی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اس عمل کی تلخی پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 2022 میں غیر مالی معاونت والے ٹیکس کٹوتیوں کے خلاف بانڈ مارکیٹ کے ردعمل کے بعد لز ٹرس (Liz Truss) صرف چند ہفتے ہی اقتدار میں رہ سکیں۔ اب ایک بار پھر گِلٹ سرمایہ کار اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، کیونکہ کیر اسٹارمر( Keir Starmer) سے متعلق سیاسی بے یقینی، اور ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے باعث ابھرنے والے مہنگائی کے نئے خدشات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بانڈ ٹریڈرز اب صرف معاشی اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ کھل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ کون سے سیاستدان ”مارکیٹ دوست“ دکھائی دیتے ہیں اور کون مزید بڑے خساروں کا خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے انتخابات کی اہمیت آہستہ آہستہ بانڈ مارکیٹ کی منظوری کے مقابلے میں ثانوی بنتی جا رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وقت ہرگز اتفاقی نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی حکومتیں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجاتی تقاضوں اور دوسری جانب مالیاتی گنجائش میں کمی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، عمر رسیدہ آبادی کی کفالت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جبکہ وبا کے بعد کے برسوں میں قرضوں کا بوجھ پہلے ہی تاریخی سطحوں پر موجود ہے۔ پھر ایک اور توانائی بحران نے جنم لیا۔ ایران کے گرد تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے وہی مہنگائی کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہیں مرکزی بینک 2022 میں پیچھے چھوڑ دینے کی امید کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی بانڈ مارکیٹیں بے چینی کا شکار تھیں، جبکہ تیل کے جھٹکے نے صرف پہلے سے موجود دراڑوں کو گہرا کر دیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار طویل مدتی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوں ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک چکر جنم لیتا ہے جو پہلے ہی قرض لینے کی بڑھتی ضرورتوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھتی جاتی ہے، جبکہ پالیسی سازوں پر مزید اخراجات کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید یہیں وہ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور بڑھتے خساروں کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار تھا؟ ممکن ہے توانائی کا یہ جھٹکا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے، مگر بانڈ مارکیٹیں اب زیادہ تر اُس طویل المدتی حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں قرض پر چلنے والی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مستقل طور پر بلند رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار بانڈ مارکیٹوں کی ایک عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ حد سے زیادہ پُرامید اندازوں پر کھڑے نظاموں کو دوبارہ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومتیں صرف منڈیوں کی عارضی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں، یا پھر یہ اُس کہیں زیادہ سخت مرحلے کی ابتدا ہے جہاں جنگ، قرضوں اور مہنگائی کی تھکن سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دنیا میں مالیاتی خطرات کی نئی اور کڑی قیمت لگنا شروع ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 14 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بانڈ مارکیٹیں اب یوں محسوس ہونے لگی ہیں جیسے ان کا صبر آخرکار جواب دے گیا ہو۔ برطانیہ میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز حال ہی میں 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز بار بار مانیٹری نرمی کی توقعات کے باوجود بلند ہیں۔ سرمایہ کار اب کھل کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی مہنگائی کے مسئلے کا حصہ تو نہیں بن چکیں۔</strong></p>
<p>برسوں تک مالیاتی منڈیوں نے بھاری خساروں، انتہائی سستی رقوم اور اس مسلسل دعوے کو برداشت کیے رکھا کہ قرض اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مگر اب مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے والی پرانی قوتیں دوبارہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔</p>
<p>بانڈ ویجلانٹیز ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ اصطلاح 1980 کی دہائی میں اُس وقت سامنے آئی تھی جب ایسے سرمایہ کاروں کو بیان کرنا مقصود تھا جو مالیاتی بے احتیاطی کی مرتکب سمجھی جانے والی حکومتوں کو سزا دینے کے لیے حکومتی بانڈز خریدنے پر بہت زیادہ منافع طلب کرتے تھے۔ یہ اصطلاح کسی پرانی مالیاتی مغربی فلم کے مکالمے جیسی ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار نہایت سخت اور سادہ ہے۔ اگر سرمایہ کار کسی حکومت کی اخراجات یا مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت پر اعتماد کھو بیٹھیں تو قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اور جب یہ لاگت طویل عرصے تک بلند رہے تو بالآخر سیاسی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں۔</p>
<p>برطانیہ اس عمل کی تلخی پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 2022 میں غیر مالی معاونت والے ٹیکس کٹوتیوں کے خلاف بانڈ مارکیٹ کے ردعمل کے بعد لز ٹرس (Liz Truss) صرف چند ہفتے ہی اقتدار میں رہ سکیں۔ اب ایک بار پھر گِلٹ سرمایہ کار اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، کیونکہ کیر اسٹارمر( Keir Starmer) سے متعلق سیاسی بے یقینی، اور ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے باعث ابھرنے والے مہنگائی کے نئے خدشات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بانڈ ٹریڈرز اب صرف معاشی اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ کھل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ کون سے سیاستدان ”مارکیٹ دوست“ دکھائی دیتے ہیں اور کون مزید بڑے خساروں کا خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے انتخابات کی اہمیت آہستہ آہستہ بانڈ مارکیٹ کی منظوری کے مقابلے میں ثانوی بنتی جا رہی ہو۔</p>
<p>یہ وقت ہرگز اتفاقی نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی حکومتیں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجاتی تقاضوں اور دوسری جانب مالیاتی گنجائش میں کمی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، عمر رسیدہ آبادی کی کفالت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جبکہ وبا کے بعد کے برسوں میں قرضوں کا بوجھ پہلے ہی تاریخی سطحوں پر موجود ہے۔ پھر ایک اور توانائی بحران نے جنم لیا۔ ایران کے گرد تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے وہی مہنگائی کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہیں مرکزی بینک 2022 میں پیچھے چھوڑ دینے کی امید کر رہے تھے۔</p>
<p>یہیں سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی بانڈ مارکیٹیں بے چینی کا شکار تھیں، جبکہ تیل کے جھٹکے نے صرف پہلے سے موجود دراڑوں کو گہرا کر دیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار طویل مدتی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوں ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک چکر جنم لیتا ہے جو پہلے ہی قرض لینے کی بڑھتی ضرورتوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھتی جاتی ہے، جبکہ پالیسی سازوں پر مزید اخراجات کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔</p>
<p>برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔</p>
<p>شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔</p>
<p>اور شاید یہیں وہ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور بڑھتے خساروں کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار تھا؟ ممکن ہے توانائی کا یہ جھٹکا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے، مگر بانڈ مارکیٹیں اب زیادہ تر اُس طویل المدتی حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں قرض پر چلنے والی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مستقل طور پر بلند رہ سکتی ہے۔</p>
<p>اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔</p>
<p>برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔</p>
<p>شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔</p>
<p>آخرکار بانڈ مارکیٹوں کی ایک عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ حد سے زیادہ پُرامید اندازوں پر کھڑے نظاموں کو دوبارہ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومتیں صرف منڈیوں کی عارضی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں، یا پھر یہ اُس کہیں زیادہ سخت مرحلے کی ابتدا ہے جہاں جنگ، قرضوں اور مہنگائی کی تھکن سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دنیا میں مالیاتی خطرات کی نئی اور کڑی قیمت لگنا شروع ہو چکی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 14 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505375</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:07:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/151511192dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/151511192dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یونیورسٹی روڈ، نئی شناخت کے ساتھ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505271/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ان دنوں کراچی کی یونیورسٹی روڈ کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کی موجودہ حالت کے حوالے سے یہ کئی لطیفوں کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تاریخ اور اس اہم کردار کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں جو اس نے اپنے وجود کے دوران، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ کی زندگی میں ادا کیا، بالخصوص 1959 میں جامعہ کراچی کی اس علاقے میں منتقلی کے بعد سے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سڑک کے اردگرد ماحول میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک مقامی اردو اخبار میں ایک ہفتہ وار کالم ”کراچی سے 12 میل دور“ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ یہ جامعہ کراچی کی سرگرمیوں پر مبنی مستقل کالم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت یونیورسٹی واقعی شہر سے کافی فاصلے پر تھی، اور اگرچہ کچھ طلبہ کے پاس اپنی سواری موجود تھی، لیکن اکثریت بسوں کے ذریعے سفر کرتی تھی۔ ابتدا میں اس سڑک کو کنٹری کلب روڈ کہا جاتا تھا، اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کا نام یونیورسٹی روڈ رکھ دیا گیا۔ اس سڑک کی خاموش گزرگاہ سے ایک مصروف شہری شاہراہ میں تبدیلی 1960 سے 1990 کے دوران گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر جیسے اطرافی علاقوں کی ترقی کے بعد آئی۔ رہائشی علاقوں نے تجارتی سرگرمیوں کو جنم دیا، جن سے مزید عمارتیں تعمیر ہوئیں اور نتیجتاً ٹریفک میں اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کاروباری مراکز کے باعث اب اس سڑک پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جبکہ ایک زمانے میں یہ زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کے استعمال میں رہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گویا یہ کافی نہیں تھا کہ اس سڑک پر ٹریفک کئی گنا بڑھ گئی، بلکہ اسے ٹریفک بہتری کے ایک منصوبے میں بھی شامل کر لیا گیا اور تیزی سے کام مکمل کرنے کے وعدوں کے ساتھ اسے کھود دیا گیا تاکہ اس سڑک کی قسمت بدل دی جائے۔ لیکن جیسا کہ اکثر منصوبوں میں ہوتا ہے، عملدرآمد کے دوران کئی تبدیلیاں شامل کی گئیں، جس سے یہ منصوبہ ایک دن سے دوسرے دن اور پھر ایک سال سے دوسرے سال تک تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سڑک پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ٹریفک کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے کیونکہ ظاہر ہے اسے درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا، ورنہ اس اہم شاہراہ پر مزید رکاوٹیں اور بدترین ٹریفک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ کام کی رفتار کافی سست ہو گئی ہے، لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ جلد ہی اس پر دوبارہ بھرپور انداز میں کام شروع ہو گا، اور سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو صرف اس اہم شاہراہ پر جاری ترقیاتی کام کے بارے میں مختصر ذکر تھا، لیکن اصل کہانی اس سڑک کی ہے جو جامعہ کراچی کی طرف جاتی ہے، اور یہ کہ خود یونیورسٹی میں حالات کیسے بدل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی ماحول میں طلبہ یونین انتخابات پر پابندی کے بعد بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طلبہ یونینز، یا بعض تعلیمی اداروں میں جنہیں اسٹوڈنٹ کونسلز کہا جاتا تھا، کے انتخابات پورے شہر میں ایک ہی دن منعقد ہوتے تھے۔ اس دن پورا شہر ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں تمام تعلیمی ادارے مختلف امیدواروں کے بینرز اور پوسٹروں سے سجے ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولنگ سے پہلے کے دنوں میں تمام ادارے، خاص طور پر جامعہ کراچی، سرگرمیوں سے بھرے رہتے تھے۔ مختلف امیدواروں کی کارنر میٹنگز پورے کیمپس میں منعقد ہوتی تھیں، جو امیدواروں کے منشور اور خیالات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بنتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹس فیکلٹی کا لان یونیورسٹی کے تمام امیدواروں کے لیے گویا نشتر پارک کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں وہ باری باری نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ منشوروں اور پمفلٹس کی نقول تقسیم کی جاتیں اور سامعین انہیں سنجیدگی سے پڑھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کوئی تشدد نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی روڈ بھی سرگرمیوں سے بھری رہتی تھی، جہاں مختلف امیدواروں کے حامی جلوسوں کی صورت میں آتے جاتے اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی روڈ کوئی عام سڑک نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کئی مشہور شخصیات نے اسی سڑک پر سفر کر کے اپنی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جن کی بنیاد پر وہ چیئرمین سینیٹ، صوبائی محتسب، گورنر اور اس سے بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک ہمیشہ خبروں میں رہتی ہے۔ امید قائم رکھیے، اس بار حکومت واقعی اس سڑک کو مکمل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی ہم تمام مشکلات اور پریشانیوں کو بھول کر ایک نئی یونیورسٹی روڈ کے فوائد سے لطف اندوز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ان دنوں کراچی کی یونیورسٹی روڈ کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کی موجودہ حالت کے حوالے سے یہ کئی لطیفوں کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تاریخ اور اس اہم کردار کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں جو اس نے اپنے وجود کے دوران، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ کی زندگی میں ادا کیا، بالخصوص 1959 میں جامعہ کراچی کی اس علاقے میں منتقلی کے بعد سے۔</strong></p>
<p>اس سڑک کے اردگرد ماحول میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک مقامی اردو اخبار میں ایک ہفتہ وار کالم ”کراچی سے 12 میل دور“ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ یہ جامعہ کراچی کی سرگرمیوں پر مبنی مستقل کالم تھا۔</p>
<p>اس وقت یونیورسٹی واقعی شہر سے کافی فاصلے پر تھی، اور اگرچہ کچھ طلبہ کے پاس اپنی سواری موجود تھی، لیکن اکثریت بسوں کے ذریعے سفر کرتی تھی۔ ابتدا میں اس سڑک کو کنٹری کلب روڈ کہا جاتا تھا، اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کا نام یونیورسٹی روڈ رکھ دیا گیا۔ اس سڑک کی خاموش گزرگاہ سے ایک مصروف شہری شاہراہ میں تبدیلی 1960 سے 1990 کے دوران گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر جیسے اطرافی علاقوں کی ترقی کے بعد آئی۔ رہائشی علاقوں نے تجارتی سرگرمیوں کو جنم دیا، جن سے مزید عمارتیں تعمیر ہوئیں اور نتیجتاً ٹریفک میں اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کاروباری مراکز کے باعث اب اس سڑک پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جبکہ ایک زمانے میں یہ زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کے استعمال میں رہتی تھی۔</p>
<p>گویا یہ کافی نہیں تھا کہ اس سڑک پر ٹریفک کئی گنا بڑھ گئی، بلکہ اسے ٹریفک بہتری کے ایک منصوبے میں بھی شامل کر لیا گیا اور تیزی سے کام مکمل کرنے کے وعدوں کے ساتھ اسے کھود دیا گیا تاکہ اس سڑک کی قسمت بدل دی جائے۔ لیکن جیسا کہ اکثر منصوبوں میں ہوتا ہے، عملدرآمد کے دوران کئی تبدیلیاں شامل کی گئیں، جس سے یہ منصوبہ ایک دن سے دوسرے دن اور پھر ایک سال سے دوسرے سال تک تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔</p>
<p>اس سڑک پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ٹریفک کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے کیونکہ ظاہر ہے اسے درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا، ورنہ اس اہم شاہراہ پر مزید رکاوٹیں اور بدترین ٹریفک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ کام کی رفتار کافی سست ہو گئی ہے، لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ جلد ہی اس پر دوبارہ بھرپور انداز میں کام شروع ہو گا، اور سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔</p>
<p>یہ تو صرف اس اہم شاہراہ پر جاری ترقیاتی کام کے بارے میں مختصر ذکر تھا، لیکن اصل کہانی اس سڑک کی ہے جو جامعہ کراچی کی طرف جاتی ہے، اور یہ کہ خود یونیورسٹی میں حالات کیسے بدل چکے ہیں۔</p>
<p>درحقیقت، پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی ماحول میں طلبہ یونین انتخابات پر پابندی کے بعد بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طلبہ یونینز، یا بعض تعلیمی اداروں میں جنہیں اسٹوڈنٹ کونسلز کہا جاتا تھا، کے انتخابات پورے شہر میں ایک ہی دن منعقد ہوتے تھے۔ اس دن پورا شہر ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں تمام تعلیمی ادارے مختلف امیدواروں کے بینرز اور پوسٹروں سے سجے ہوتے تھے۔</p>
<p>پولنگ سے پہلے کے دنوں میں تمام ادارے، خاص طور پر جامعہ کراچی، سرگرمیوں سے بھرے رہتے تھے۔ مختلف امیدواروں کی کارنر میٹنگز پورے کیمپس میں منعقد ہوتی تھیں، جو امیدواروں کے منشور اور خیالات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بنتی تھیں۔</p>
<p>آرٹس فیکلٹی کا لان یونیورسٹی کے تمام امیدواروں کے لیے گویا نشتر پارک کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں وہ باری باری نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ منشوروں اور پمفلٹس کی نقول تقسیم کی جاتیں اور سامعین انہیں سنجیدگی سے پڑھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کوئی تشدد نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی روڈ بھی سرگرمیوں سے بھری رہتی تھی، جہاں مختلف امیدواروں کے حامی جلوسوں کی صورت میں آتے جاتے اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔</p>
<p>یونیورسٹی روڈ کوئی عام سڑک نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کئی مشہور شخصیات نے اسی سڑک پر سفر کر کے اپنی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جن کی بنیاد پر وہ چیئرمین سینیٹ، صوبائی محتسب، گورنر اور اس سے بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک ہمیشہ خبروں میں رہتی ہے۔ امید قائم رکھیے، اس بار حکومت واقعی اس سڑک کو مکمل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی ہم تمام مشکلات اور پریشانیوں کو بھول کر ایک نئی یونیورسٹی روڈ کے فوائد سے لطف اندوز ہوں گے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505271</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:42:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13113950820a947.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13113950820a947.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ڈویژن کی ماہانہ اشاعت ’’اپریل اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک‘‘ میں کچھ تشویشناک معاشی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، یا ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کو، یا پھر اُن سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو جن پر پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اتفاق کیا؟ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مجموعہ ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ایک بہتر پیمانہ گزشتہ چار برس کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران پر امریکا/اسرائیل حملے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جولائی تا مارچ 2026 کے لیے سی پی آئی کی شرح 5.9 فیصد اندازہ کی گئی، مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی، جب کہ جولائی تا مارچ 2025 میں یہ 5.3 فیصد اور مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق اپریل 2026 میں سی پی آئی کی شرح 10.8 فیصد رہی، جبکہ جولائی تا اپریل قومی اوسط شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی، تاہم جولائی تا اپریل 2023-24 کے دوران یہ شرح کہیں زیادہ یعنی 25.97 فیصد رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023-24 میں ’’شدید مہنگائی‘‘ کی بنیادی وجہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار (28 ستمبر 2022 تا 10 اگست 2023) کی انتہائی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحاتی اقدامات کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر جون 2023 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے نو ماہہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اتفاق کیا گیا تھا۔ ان اقدامات میں شامل تھے: (الف) جون/جولائی 2023 میں روپے کی قدر میں بڑا انحطاط، جس کی ضرورت اُس وقت موجود متعدد شرح مبادلہ نظام کے باعث پیش آئی تھی — اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو برقرار رکھنے کی اُس پالیسی کا براہِ راست نتیجہ تھی جو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور یہ پالیسی اُس وقت بھی جاری رکھی گئی جب فروری/مارچ 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر مداخلت کرکے ایس بی اے کو یقینی بنانا پڑا۔ (ب) اسحاق ڈار نے اکتوبر 2022 میں امیر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر 110 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کا اعلان کیا، جبکہ اُس وقت 3 کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تھا۔ (ج) 2023-24 کے بجٹ میں مجموعی محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس اضافوں پر اتفاق کیا گیا؛ (د) پالیسی ریٹ کو 22 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھا گیا؛ اور (ہ) مکمل لاگت وصولی یقینی بنانے کے لیے یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جو کم از کم ایک بڑا چیلنج تھا، خاص طور پر اُس حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس کے تحت قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً گھریلو سولر پینلز، کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوئی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا، جن پر 2014 میں نواز شریف کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اگرچہ ناقص پالیسیوں نے عوام کے معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کی روایتی شرائط ، جو بنیادی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر زور دیتی ہیں، نے معاشی ترقی کی اُس شرح کے حصول کو متاثر کیا جو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کو کھپا سکتی، اور یہی ملک میں بڑھتی غربت کی ایک اہم وجہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی حکومتوں نے اُن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ افراد پاکستان کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 7 فیصد ہیں، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت کی شرح 2023-24 میں بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی، جو 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2021-22 میں 18.31 فیصد تھی، جبکہ 2024-25 میں یہ مزید بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح یومیہ 3.20 ڈالر آمدن کی بنیاد پر نکالی گئی؛ تاہم اگر اسے غذائی توانائی کی ضروریات (کیلوریز) کے پیمانے پر جانچا جائے تو ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد تک بتائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک امر یہ ہے کہ ناقص پالیسیاں آج بھی جاری ہیں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے۔ رواں سال 1.25 کھرب روپے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے گئے جو زیادہ شرح منافع پر حاصل کیے گئے تھے، اور ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی توجہ اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بلند پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس بلند شرح سود کی ادائیگی بنیادی طور پر حکومت کو اپنی بھاری سالانہ خسارے کی مالی ضروریات کے باعث کرنا پڑتی ہے، جس سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض لینا نسبتاً بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان کی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو پاکستانی صنعت کی علاقائی مسابقت میں مسلسل گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا مارچ 2026 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 410.7 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.5 ارب ڈالر تھی۔ اگرچہ یہ کمی تشویشناک ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی انتہائی کم سطح پر تھی — بھارت میں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً 48 ارب ڈالر رہی۔ یہ صورتِ حال حکومت کی اُن کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے تحت خصوصی مراعات (مالیاتی اور مانیٹری) اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی کی ضمانتیں دے کر سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی نمائندگی پر مشتمل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی تاکہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دو وجوہات کی بنا پر ایف ڈی آئی تاحال خاطر خواہ انداز میں نہیں آ سکی: (i) معیشت کی کمزوری بدستور برقرار ہے، جس کا اندازہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ یہ مصنوعات ہماری مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں پر مبنی 15.1 ارب ڈالر تھے۔ اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.45 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کا اعلان کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ ذخائر کے اعداد میں اس ادائیگی کو شامل کیا گیا تھا یا سعودی عرب سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر قرض کو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط، خصوصاً ترقی مخالف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں، کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور کسی غیر روایتی یا ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ حل پر غور نہیں کیا جا رہا، جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس نے پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کو بھی ایل ایس ایم پیداوار میں شامل کیا ہے، حالانکہ یہ اشیا زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، اور جولائی تا مارچ ایل ایس ایم نمو سالانہ بنیاد پر 6.48 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایل ایس ایم میں اضافہ دراصل پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے بجائے ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے غیر روایتی حل مرتب اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی جائے — خواہ یہ تنخواہوں میں جمود، خریداریوں پر پابندی (آپریشنل اخراجات کے سوا)، پنشن نظام میں وسیع اصلاحات (آج ریاست کے تحت ملازم 7 فیصد افراد سے پنشن میں شراکت شروع کرنا) یا اندرونی قرض گیری پر پابندی کی صورت میں ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس ڈویژن کی ماہانہ اشاعت ’’اپریل اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک‘‘ میں کچھ تشویشناک معاشی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، یا ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کو، یا پھر اُن سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو جن پر پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اتفاق کیا؟ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مجموعہ ہیں؟</strong></p>
<p>اس کا ایک بہتر پیمانہ گزشتہ چار برس کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران پر امریکا/اسرائیل حملے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جولائی تا مارچ 2026 کے لیے سی پی آئی کی شرح 5.9 فیصد اندازہ کی گئی، مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی، جب کہ جولائی تا مارچ 2025 میں یہ 5.3 فیصد اور مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تھی۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق اپریل 2026 میں سی پی آئی کی شرح 10.8 فیصد رہی، جبکہ جولائی تا اپریل قومی اوسط شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی، تاہم جولائی تا اپریل 2023-24 کے دوران یہ شرح کہیں زیادہ یعنی 25.97 فیصد رہی تھی۔</p>
<p>2023-24 میں ’’شدید مہنگائی‘‘ کی بنیادی وجہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار (28 ستمبر 2022 تا 10 اگست 2023) کی انتہائی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحاتی اقدامات کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر جون 2023 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے نو ماہہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اتفاق کیا گیا تھا۔ ان اقدامات میں شامل تھے: (الف) جون/جولائی 2023 میں روپے کی قدر میں بڑا انحطاط، جس کی ضرورت اُس وقت موجود متعدد شرح مبادلہ نظام کے باعث پیش آئی تھی — اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو برقرار رکھنے کی اُس پالیسی کا براہِ راست نتیجہ تھی جو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور یہ پالیسی اُس وقت بھی جاری رکھی گئی جب فروری/مارچ 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔</p>
<p>اُس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر مداخلت کرکے ایس بی اے کو یقینی بنانا پڑا۔ (ب) اسحاق ڈار نے اکتوبر 2022 میں امیر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر 110 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کا اعلان کیا، جبکہ اُس وقت 3 کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تھا۔ (ج) 2023-24 کے بجٹ میں مجموعی محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس اضافوں پر اتفاق کیا گیا؛ (د) پالیسی ریٹ کو 22 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھا گیا؛ اور (ہ) مکمل لاگت وصولی یقینی بنانے کے لیے یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جو کم از کم ایک بڑا چیلنج تھا، خاص طور پر اُس حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس کے تحت قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً گھریلو سولر پینلز، کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوئی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا، جن پر 2014 میں نواز شریف کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>چنانچہ اگرچہ ناقص پالیسیوں نے عوام کے معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کی روایتی شرائط ، جو بنیادی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر زور دیتی ہیں، نے معاشی ترقی کی اُس شرح کے حصول کو متاثر کیا جو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کو کھپا سکتی، اور یہی ملک میں بڑھتی غربت کی ایک اہم وجہ بنی۔</p>
<p>موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی حکومتوں نے اُن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ افراد پاکستان کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 7 فیصد ہیں، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں۔</p>
<p>غربت کی شرح 2023-24 میں بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی، جو 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2021-22 میں 18.31 فیصد تھی، جبکہ 2024-25 میں یہ مزید بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح یومیہ 3.20 ڈالر آمدن کی بنیاد پر نکالی گئی؛ تاہم اگر اسے غذائی توانائی کی ضروریات (کیلوریز) کے پیمانے پر جانچا جائے تو ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد تک بتائی ہے۔</p>
<p>افسوسناک امر یہ ہے کہ ناقص پالیسیاں آج بھی جاری ہیں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے۔ رواں سال 1.25 کھرب روپے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے گئے جو زیادہ شرح منافع پر حاصل کیے گئے تھے، اور ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی توجہ اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بلند پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس بلند شرح سود کی ادائیگی بنیادی طور پر حکومت کو اپنی بھاری سالانہ خسارے کی مالی ضروریات کے باعث کرنا پڑتی ہے، جس سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض لینا نسبتاً بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان کی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو پاکستانی صنعت کی علاقائی مسابقت میں مسلسل گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔</p>
<p>جولائی تا مارچ 2026 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 410.7 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.5 ارب ڈالر تھی۔ اگرچہ یہ کمی تشویشناک ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی انتہائی کم سطح پر تھی — بھارت میں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً 48 ارب ڈالر رہی۔ یہ صورتِ حال حکومت کی اُن کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے تحت خصوصی مراعات (مالیاتی اور مانیٹری) اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی کی ضمانتیں دے کر سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی نمائندگی پر مشتمل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی تاکہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ دو وجوہات کی بنا پر ایف ڈی آئی تاحال خاطر خواہ انداز میں نہیں آ سکی: (i) معیشت کی کمزوری بدستور برقرار ہے، جس کا اندازہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ یہ مصنوعات ہماری مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں پر مبنی 15.1 ارب ڈالر تھے۔ اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.45 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کا اعلان کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ ذخائر کے اعداد میں اس ادائیگی کو شامل کیا گیا تھا یا سعودی عرب سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر قرض کو۔</p>
<p>حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط، خصوصاً ترقی مخالف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں، کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور کسی غیر روایتی یا ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ حل پر غور نہیں کیا جا رہا، جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس نے پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کو بھی ایل ایس ایم پیداوار میں شامل کیا ہے، حالانکہ یہ اشیا زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، اور جولائی تا مارچ ایل ایس ایم نمو سالانہ بنیاد پر 6.48 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایل ایس ایم میں اضافہ دراصل پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے بجائے ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوا۔</p>
<p>آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے غیر روایتی حل مرتب اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی جائے — خواہ یہ تنخواہوں میں جمود، خریداریوں پر پابندی (آپریشنل اخراجات کے سوا)، پنشن نظام میں وسیع اصلاحات (آج ریاست کے تحت ملازم 7 فیصد افراد سے پنشن میں شراکت شروع کرنا) یا اندرونی قرض گیری پر پابندی کی صورت میں ہو۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505379</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:36:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/15152923ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/15152923ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حالیہ معاشی نتائج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505270/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے منفی اثرات ظاہر ہو چکے ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جنگ سے پہلے فروری میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل کے آخر تک 108 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ 101 امریکی ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔ ایل این جی، ایل پی جی، اور کھاد جیسی اہم اشیاء کی برآمدات کے ذریعے سپلائی میں زبردست کمی کی گئی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے درآمدات اور مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء دونوں کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد مارچ اور اپریل میں خاص طور پر پچھلے مہینوں کے سلسلے میں اہم اقتصادی تغیرات جیسے مہنگائی کی شرح، درآمدات اور برآمدات کی سطح، ترسیلات زر، ٹیکس محصولات وغیرہ کی شدت میں تبدیلی کی حد کا تعین کرنا ہے۔ تاہم، پی بی ایس (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس) اور ایس بی پی (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) نے ابھی تک اپریل 2026 کے متعدد متغیرات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا متغیر جس کا تجزیہ فروری، مارچ اور اپریل 2026 کے مہینوں کے رجحانات کے تناظر میں کیا گیا ہے، وہ مہنگائی کی شرح ہے۔ واضح طور پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سالانہ بنیاد پر، یہ فروری میں 7 فیصد تھی، مارچ میں معمولی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی اور اب اپریل میں بڑی حد تک بڑھ کر دو ہندسوں کی شرح یعنی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں موٹر فیول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 40 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ تقریباً 38 فیصد کے اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ سروسز کے چارجز کا ملاپ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، غیر خوراکی اشیاء کی قیمتیں اپریل میں تقریباً 14 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے، خوراک کی قیمتوں میں معتدل اضافہ ہوا ہے، جو 7 فیصد تک ہے۔ غیر خوراکی اشیاء کے گروپ میں، بجلی کے چارجز میں 34 فیصد، گیس کے چارجز میں 23 فیصد اور مائع ہائیڈروکاربنز میں 63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار سپلائی پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے مطابق جو ہفتہ 7 مئی 2026 کو ختم ہوا، مہنگائی کی شرح مزید بڑھ کر 15.2 فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ 28 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح صرف 4 فیصد تھی۔ لہٰذا مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے موجودہ کھاتے میں حالیہ رجحانات کی طرف آتے ہیں۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے بھی تجارتی توازن پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں درآمدات میں 29 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، اپریل میں تجارتی توازن کا خسارہ 4.1 ارب امریکی ڈالر ہے، جو فروری کے خسارے سے 40 فیصد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ممکنہ طور پر بہت تشویشناک ہے۔ اگر پہلے ہدف شدہ سالانہ خسارہ موجودہ کھاتے میں 2.4 ارب امریکی ڈالر کا متوقع تھا، تو خطرہ ہے کہ یہ 2025-26 کے آخر تک تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ کھاتے کے خسارے میں اضافہ ہوم ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق، فروری 2026 کے مقابلے میں ریمیٹنسیز میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کا آدھا سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں، خاص طور پر یو اے ای سے، ہوم ریمیٹنسیز کے بہاؤ میں مزید بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زر مبادلہ کے ذخائر میں مارچ کے 16.4 ارب امریکی ڈالر سے 24 اپریل 2026 تک 15.8 ارب امریکی ڈالر تک 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، یو اے ای میں ٹائم ڈپازٹس کے واپسی کے ساتھ سعودی عرب سے ڈپازٹس کی آمد بھی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) میں قلیل مدتی رجحانات کچھ حد تک متضاد ہیں۔ سالانہ بنیاد پر، مارچ میں پیداوار 11 فیصد سے زائد بڑھ گئی، مگر ماہانہ بنیاد پر یہ 5 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ صنعتیں جو جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں براہِ راست متاثر ہوں گی، اس وقت متضاد رجحانات دکھا رہی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات (پی او ایل) کی صنعت نے مارچ میں سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کی ترقی حاصل کی، جو جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والی تقریباً 11 فیصد کی شرح نمو سے کہیں کم ہے۔ خوش قسمتی سے، اس بڑے اضافے نے قلت کو محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، دیگر صنعتیں، خاص طور پر درآمد شدہ ان پٹس کی کمی کی وجہ سے، زوال دکھانے لگیں ہیں۔ فرٹیلائزر کی پیداوار مارچ میں 8 فیصد کم ہوئی، جبکہ پہلے یہ صنعت صرف 1 فیصد کمی دکھا رہی تھی۔ اسی طرح، سیمنٹ کی پیداوار مارچ میں تقریباً 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ پچھلے مہینوں میں اس میں 9 فیصد مثبت نمو دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل کی صنعت مسلسل مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہے۔ جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے عرصے میں اس صنعت کی پیداوار میں تقریباً صفر نمو رہی۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برآمدات بڑھانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جو 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقریباً 13.5 ارب امریکی ڈالر پر جامد رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی محصولات کی سطح آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اہم ہدف ہے۔ 2025-26 کے لیے ہدف شدہ سالانہ نمو کی شرح 19 فیصد ہے۔ پہلے نو ماہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب تقریباً 700 ارب روپے کا خلا ہے۔ خوش قسمتی سے، اپریل میں نمو کی شرح بظاہر زیادہ رہی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر درآمدات کی سی آئی ایف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے، جس سے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی محصولات بڑھیں۔ مارچ اور اپریل میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی محصولات کے اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے معیشت پر پہلے ہی کچھ منفی اثرات واضح ہو چکے ہیں۔ 2025-26 کے اختتام تک بیلنس آف پیمنٹس میں موجودہ کھاتے کا خسارہ اصل پیش گوئی سے کافی زیادہ ہوگا۔ یہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آنے والے 1.2 ملین امریکی ڈالر کی ریلیز کے بعد بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والا بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے اقدامات 2026-27 میں معیشت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں سال کے لیے مقرر کردہ اصل اہداف اب بڑھتی ہوئی حد تک قابل اطلاق نہیں رہے۔ ہم پروگرام کے تیسرے جائزے کی اسٹاف رپورٹ کی پیشکش کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ 2026-27 کے لیے معیشت کے تخمینے دیکھے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 12 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔</strong></p>
<p>بہت سے منفی اثرات ظاہر ہو چکے ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جنگ سے پہلے فروری میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل کے آخر تک 108 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ 101 امریکی ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔ ایل این جی، ایل پی جی، اور کھاد جیسی اہم اشیاء کی برآمدات کے ذریعے سپلائی میں زبردست کمی کی گئی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے درآمدات اور مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء دونوں کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>اس مضمون کا مقصد مارچ اور اپریل میں خاص طور پر پچھلے مہینوں کے سلسلے میں اہم اقتصادی تغیرات جیسے مہنگائی کی شرح، درآمدات اور برآمدات کی سطح، ترسیلات زر، ٹیکس محصولات وغیرہ کی شدت میں تبدیلی کی حد کا تعین کرنا ہے۔ تاہم، پی بی ایس (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس) اور ایس بی پی (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) نے ابھی تک اپریل 2026 کے متعدد متغیرات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔</p>
<p>سب سے پہلا متغیر جس کا تجزیہ فروری، مارچ اور اپریل 2026 کے مہینوں کے رجحانات کے تناظر میں کیا گیا ہے، وہ مہنگائی کی شرح ہے۔ واضح طور پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سالانہ بنیاد پر، یہ فروری میں 7 فیصد تھی، مارچ میں معمولی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی اور اب اپریل میں بڑی حد تک بڑھ کر دو ہندسوں کی شرح یعنی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>اپریل میں موٹر فیول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 40 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ تقریباً 38 فیصد کے اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ سروسز کے چارجز کا ملاپ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر، غیر خوراکی اشیاء کی قیمتیں اپریل میں تقریباً 14 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے، خوراک کی قیمتوں میں معتدل اضافہ ہوا ہے، جو 7 فیصد تک ہے۔ غیر خوراکی اشیاء کے گروپ میں، بجلی کے چارجز میں 34 فیصد، گیس کے چارجز میں 23 فیصد اور مائع ہائیڈروکاربنز میں 63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ہفتہ وار سپلائی پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے مطابق جو ہفتہ 7 مئی 2026 کو ختم ہوا، مہنگائی کی شرح مزید بڑھ کر 15.2 فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ 28 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح صرف 4 فیصد تھی۔ لہٰذا مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اب ہم پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے موجودہ کھاتے میں حالیہ رجحانات کی طرف آتے ہیں۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے بھی تجارتی توازن پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں درآمدات میں 29 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، اپریل میں تجارتی توازن کا خسارہ 4.1 ارب امریکی ڈالر ہے، جو فروری کے خسارے سے 40 فیصد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ممکنہ طور پر بہت تشویشناک ہے۔ اگر پہلے ہدف شدہ سالانہ خسارہ موجودہ کھاتے میں 2.4 ارب امریکی ڈالر کا متوقع تھا، تو خطرہ ہے کہ یہ 2025-26 کے آخر تک تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>موجودہ کھاتے کے خسارے میں اضافہ ہوم ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق، فروری 2026 کے مقابلے میں ریمیٹنسیز میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کا آدھا سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں، خاص طور پر یو اے ای سے، ہوم ریمیٹنسیز کے بہاؤ میں مزید بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>زر مبادلہ کے ذخائر میں مارچ کے 16.4 ارب امریکی ڈالر سے 24 اپریل 2026 تک 15.8 ارب امریکی ڈالر تک 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، یو اے ای میں ٹائم ڈپازٹس کے واپسی کے ساتھ سعودی عرب سے ڈپازٹس کی آمد بھی ہوئی ہے۔</p>
<p>کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) میں قلیل مدتی رجحانات کچھ حد تک متضاد ہیں۔ سالانہ بنیاد پر، مارچ میں پیداوار 11 فیصد سے زائد بڑھ گئی، مگر ماہانہ بنیاد پر یہ 5 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے۔</p>
<p>وہ صنعتیں جو جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں براہِ راست متاثر ہوں گی، اس وقت متضاد رجحانات دکھا رہی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات (پی او ایل) کی صنعت نے مارچ میں سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کی ترقی حاصل کی، جو جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والی تقریباً 11 فیصد کی شرح نمو سے کہیں کم ہے۔ خوش قسمتی سے، اس بڑے اضافے نے قلت کو محدود رکھا۔</p>
<p>تاہم، دیگر صنعتیں، خاص طور پر درآمد شدہ ان پٹس کی کمی کی وجہ سے، زوال دکھانے لگیں ہیں۔ فرٹیلائزر کی پیداوار مارچ میں 8 فیصد کم ہوئی، جبکہ پہلے یہ صنعت صرف 1 فیصد کمی دکھا رہی تھی۔ اسی طرح، سیمنٹ کی پیداوار مارچ میں تقریباً 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ پچھلے مہینوں میں اس میں 9 فیصد مثبت نمو دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>ٹیکسٹائل کی صنعت مسلسل مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہے۔ جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے عرصے میں اس صنعت کی پیداوار میں تقریباً صفر نمو رہی۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برآمدات بڑھانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جو 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقریباً 13.5 ارب امریکی ڈالر پر جامد رہیں۔</p>
<p>ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی محصولات کی سطح آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اہم ہدف ہے۔ 2025-26 کے لیے ہدف شدہ سالانہ نمو کی شرح 19 فیصد ہے۔ پہلے نو ماہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب تقریباً 700 ارب روپے کا خلا ہے۔ خوش قسمتی سے، اپریل میں نمو کی شرح بظاہر زیادہ رہی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر درآمدات کی سی آئی ایف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے، جس سے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی محصولات بڑھیں۔ مارچ اور اپریل میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی محصولات کے اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے معیشت پر پہلے ہی کچھ منفی اثرات واضح ہو چکے ہیں۔ 2025-26 کے اختتام تک بیلنس آف پیمنٹس میں موجودہ کھاتے کا خسارہ اصل پیش گوئی سے کافی زیادہ ہوگا۔ یہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آنے والے 1.2 ملین امریکی ڈالر کی ریلیز کے بعد بھی۔</p>
<p>آنے والا بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے اقدامات 2026-27 میں معیشت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں سال کے لیے مقرر کردہ اصل اہداف اب بڑھتی ہوئی حد تک قابل اطلاق نہیں رہے۔ ہم پروگرام کے تیسرے جائزے کی اسٹاف رپورٹ کی پیشکش کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ 2026-27 کے لیے معیشت کے تخمینے دیکھے جا سکیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 12 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505270</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:29:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13112603c288e3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13112603c288e3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روپے کی قدر میں مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی سطح پر خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان اپنی عالمی مسابقت کھو رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی شعبوں میں، جس کی بڑی وجہ ایک اسٹکی یعنی غیر لچکدار ایکسچینج ریٹ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشکلات موجودہ کموڈیٹی پرائس شاک کے باعث مزید بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی کرنسیاں، بشمول بھارت کی کرنسی، بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حساس رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی روپے نے گزشتہ تین سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چند فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے والے سال میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی، اور یہ ایڈجسٹمنٹ افراط زر اور شرح سود کے فرق کے مطابق نہیں تھی، جس کا اندازہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ یعنی آر ای ای آر کی ویلیو 85 سے 87 سے ہوتا ہے، جو 2023 کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے دو سال ایک کیچ اپ پیریڈ رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا، اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی کے بعد افراط زر بھی کم ہوا۔ تاہم حالیہ عرصے میں، عالمی تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ دوبارہ اوور ویلیوڈ دکھائی دے رہا ہے۔ آر ای ای آر مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.2 تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس کا تدریجی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، ورنہ چند مہینوں یا سہ ماہیوں میں کرنسی اچانک اور شدید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، جو صحت مند عمل نہیں ہوگا اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے، جس سے مسابقت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ برآمدات صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بڑھتیں، جو جزوی طور پر درست ہے، لیکن اوور ویلیوڈ کرنسی موجودہ ایکسپورٹ بیس کو کمزور کرتی ہے اور درآمدات کو سستا کر کے تجارتی خسارے پر دباؤ ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سالوں میں، 12 ماہ کے رولنگ بیس پر، اندرونی ترسیلات زر میں 13 ارب ڈالر یعنی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے، اگرچہ اسی مدت میں تجارتی توازن 12 ارب ڈالر تک خراب ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خلیجی ممالک کی معیشتوں میں سست روی اور ایران امریکہ جنگ کے بعد ممکنہ اثرات کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 50 فیصد ترسیلات انہی ممالک سے آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں قیمتوں کے بڑھنے سے دباؤ مزید بڑھے گا، جو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے اور امکان ہے کہ جون میں مزید اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی مئی اور جون میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ ایکسچینج ریٹ کو بھی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا جائے، جس سے برآمدات کو استحکام ملے گا۔ ترسیلات زر شرح مبادلہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتیں، لیکن برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک کم ویلیو ایڈڈ یارن اور فیبرک ہے، جس کا حصہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ زیادہ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور اپیرل لے رہا ہے۔ یہ مثبت بات ہے، لیکن بڑھتا ہوا شعبہ اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ معروف ٹیکسٹائل ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کے مطابق مزدوری لاگت کل اخراجات کا 20 سے 25 فیصد ہے، جو ڈالر میں گزشتہ تین سالوں میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کم از کم اجرت میں دو سال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے انڈسٹری کے مارجنز میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، جہاں پہلے ہی مارجنز بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجرتوں میں اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن ساتھ ہی روپے کی قدر کو بھی اس طرح ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا کہ برآمد کنندگان کے مارجنز برقرار رہیں۔ یہی صورتحال آئی ٹی برآمدات میں بھی ہے، جہاں لیبر لاگت 70 سے 80 فیصد ہے اور وہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص آر ای ای آر لیول کے ساتھ ایک واضح ایکسچینج ریٹ پالیسی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے بینکوں کے ٹریژری افسران بھی سمجھتے ہیں کہ روپے میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، تاہم ایک بینکر کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک یا پالیسی ساز اداروں کو کسی مخصوص سطح کے ساتھ شادی نہیں کرلینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈالر نہ خریدے ہوتے تو کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی تھی اور روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2023 کے بعد سے مجموعی طور پر صرف 0.3 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جو بیرونی قرضوں اور واجبات کو منہا کرنے کے بعد دیکھے جائیں، صرف 3.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ (اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 13.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 10 ارب ڈالر بڑھ گئے۔) اگر ہم فارورڈ واجبات میں 3 ارب ڈالر کی کمی کو بھی شامل کریں تو مجموعی طور پر نیٹ ذخائر، جو فارورڈ واجبات کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے ہوں، 6.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خریدے گئے 27 ارب ڈالر میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر دراصل کرنٹ اکاؤنٹ کو فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوئے، کیونکہ اسٹیٹ بینک حکومتی قرض پر سود ادا کرتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بنتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا ایک غیر اعلانیہ اصول یہ بھی ہے کہ بینک ایک دوسرے سے ڈالر نہ خریدیں بلکہ اپنی آؤٹ فلو ضروریات اپنی ان فلو سے پوری کریں۔ اس کے بعد جو اضافی ڈالر بچیں وہ اسٹیٹ بینک جذب کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکمت عملی آئندہ ممکنہ طور پر کارآمد نہیں رہے گی، کیونکہ امکان ہے کہ مالی سال 27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا، جس سے ذخائر میں اضافہ رک سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جائیں، ورنہ آنے والے مہینوں یا سہ ماہیوں میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کا نسخہ یہ ہے کہ کرنسی میں 3 سے 5 فیصد تک تدریجی کمی کی جائے، اور اسے واضح اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو، مسابقت بحال ہو، اور بعد میں زیادہ شدید اور نقصان دہ ایڈجسٹمنٹ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی سطح پر خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان اپنی عالمی مسابقت کھو رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی شعبوں میں، جس کی بڑی وجہ ایک اسٹکی یعنی غیر لچکدار ایکسچینج ریٹ ہے۔</strong></p>
<p>یہ مشکلات موجودہ کموڈیٹی پرائس شاک کے باعث مزید بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔</p>
<p>علاقائی کرنسیاں، بشمول بھارت کی کرنسی، بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حساس رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔</p>
<p>پاکستانی روپے نے گزشتہ تین سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چند فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے والے سال میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی، اور یہ ایڈجسٹمنٹ افراط زر اور شرح سود کے فرق کے مطابق نہیں تھی، جس کا اندازہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ یعنی آر ای ای آر کی ویلیو 85 سے 87 سے ہوتا ہے، جو 2023 کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔</p>
<p>اگلے دو سال ایک کیچ اپ پیریڈ رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا، اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی کے بعد افراط زر بھی کم ہوا۔ تاہم حالیہ عرصے میں، عالمی تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ دوبارہ اوور ویلیوڈ دکھائی دے رہا ہے۔ آر ای ای آر مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.2 تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس کا تدریجی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، ورنہ چند مہینوں یا سہ ماہیوں میں کرنسی اچانک اور شدید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، جو صحت مند عمل نہیں ہوگا اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے، جس سے مسابقت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ برآمدات صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بڑھتیں، جو جزوی طور پر درست ہے، لیکن اوور ویلیوڈ کرنسی موجودہ ایکسپورٹ بیس کو کمزور کرتی ہے اور درآمدات کو سستا کر کے تجارتی خسارے پر دباؤ ڈالتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ تین سالوں میں، 12 ماہ کے رولنگ بیس پر، اندرونی ترسیلات زر میں 13 ارب ڈالر یعنی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے، اگرچہ اسی مدت میں تجارتی توازن 12 ارب ڈالر تک خراب ہوا ہے۔</p>
<p>اب خلیجی ممالک کی معیشتوں میں سست روی اور ایران امریکہ جنگ کے بعد ممکنہ اثرات کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 50 فیصد ترسیلات انہی ممالک سے آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں قیمتوں کے بڑھنے سے دباؤ مزید بڑھے گا، جو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کرے گا۔</p>
<p>درآمدی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے اور امکان ہے کہ جون میں مزید اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی مئی اور جون میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ ایکسچینج ریٹ کو بھی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا جائے، جس سے برآمدات کو استحکام ملے گا۔ ترسیلات زر شرح مبادلہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتیں، لیکن برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک کم ویلیو ایڈڈ یارن اور فیبرک ہے، جس کا حصہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ زیادہ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور اپیرل لے رہا ہے۔ یہ مثبت بات ہے، لیکن بڑھتا ہوا شعبہ اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ معروف ٹیکسٹائل ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کے مطابق مزدوری لاگت کل اخراجات کا 20 سے 25 فیصد ہے، جو ڈالر میں گزشتہ تین سالوں میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کم از کم اجرت میں دو سال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے انڈسٹری کے مارجنز میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، جہاں پہلے ہی مارجنز بہت کم ہیں۔</p>
<p>اجرتوں میں اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن ساتھ ہی روپے کی قدر کو بھی اس طرح ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا کہ برآمد کنندگان کے مارجنز برقرار رہیں۔ یہی صورتحال آئی ٹی برآمدات میں بھی ہے، جہاں لیبر لاگت 70 سے 80 فیصد ہے اور وہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص آر ای ای آر لیول کے ساتھ ایک واضح ایکسچینج ریٹ پالیسی ہونی چاہیے۔</p>
<p>بڑے بینکوں کے ٹریژری افسران بھی سمجھتے ہیں کہ روپے میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، تاہم ایک بینکر کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک یا پالیسی ساز اداروں کو کسی مخصوص سطح کے ساتھ شادی نہیں کرلینی چاہیے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈالر نہ خریدے ہوتے تو کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی تھی اور روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2023 کے بعد سے مجموعی طور پر صرف 0.3 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جو بیرونی قرضوں اور واجبات کو منہا کرنے کے بعد دیکھے جائیں، صرف 3.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ (اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 13.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 10 ارب ڈالر بڑھ گئے۔) اگر ہم فارورڈ واجبات میں 3 ارب ڈالر کی کمی کو بھی شامل کریں تو مجموعی طور پر نیٹ ذخائر، جو فارورڈ واجبات کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے ہوں، 6.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خریدے گئے 27 ارب ڈالر میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر دراصل کرنٹ اکاؤنٹ کو فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوئے، کیونکہ اسٹیٹ بینک حکومتی قرض پر سود ادا کرتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بنتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا ایک غیر اعلانیہ اصول یہ بھی ہے کہ بینک ایک دوسرے سے ڈالر نہ خریدیں بلکہ اپنی آؤٹ فلو ضروریات اپنی ان فلو سے پوری کریں۔ اس کے بعد جو اضافی ڈالر بچیں وہ اسٹیٹ بینک جذب کر لیتا ہے۔</p>
<p>یہ حکمت عملی آئندہ ممکنہ طور پر کارآمد نہیں رہے گی، کیونکہ امکان ہے کہ مالی سال 27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا، جس سے ذخائر میں اضافہ رک سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جائیں، ورنہ آنے والے مہینوں یا سہ ماہیوں میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کا نسخہ یہ ہے کہ کرنسی میں 3 سے 5 فیصد تک تدریجی کمی کی جائے، اور اسے واضح اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو، مسابقت بحال ہو، اور بعد میں زیادہ شدید اور نقصان دہ ایڈجسٹمنٹ سے بچا جا سکے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505377</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:23:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/151513532a529b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/151513532a529b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بے سمت معیشت؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔</strong></p>
<p>وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p>قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔</p>
<p>رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘</p>
<p>بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔</p>
<p>جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘</p>
<p>اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p>پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔</p>
<p>اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔</p>
<p>جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔</p>
<p>اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔</p>
<p>اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘</p>
<p>تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔</p>
<p>ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505147</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/091557345439a1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/091557345439a1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیمتوں کی جھلکیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505146/uae-pricing-trump-oilprices-opel-gulf-straitof-hormuz</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کے تاجر ایک بار پھر یوں ردِعمل دکھا رہے ہیں گویا وائٹ ہاؤس کی بریفنگ اور فیوچر مارکیٹ کی اسکرینوں کے بیچ کہیں اچانک امن قائم ہو گیا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نہ کسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کی خبروں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ تازہ سرخیوں میں ”پیش رفت“، ”فریم ورک“ اور ”کشیدگی میں کمی“ جیسے الفاظ گونج رہے ہیں۔ اور منڈیوں نے، حسبِ معمول، سب سے پہلے وہی ایک لفظ سنا جس پر ان کی نظریں ہمیشہ جمی رہتی ہیں: ریلیف یعنی راحت۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ردِعمل بالکل متوقع رہا۔ حصصِ بازار بڑھے، ڈالر نرم ہوا اور خطرہ مول لینے کا رجحان تقریباً وقت پر واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ قبل یہی منڈی میزائل حملوں، بند شدہ شپنگ لائنز اور طویل مدتی سپلائی بحران کے خدشات کو مدِ نظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہی تھی۔ اب یہ دوبارہ سفارت کاری کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا توانائی کی بنیادی صورتِ حال میں واقعی کچھ بدل گیا ہے، یا تاجر بس اپنی پسندیدہ جدید سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر واپس آگئے ہیں: ٹرمپ کے ہر اشارے پر خریداری کرنا، جیسے یہ طے شدہ حکمت عملی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ اصل مارکیٹ ابھی بھی کاغذی مارکیٹ جتنا پرسکون نہیں لگتی۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی مرحلے کے بعد پیدا شدہ ہنگامی قیمتوں سے تیل واپس آ گیا ہے، قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر اوپر ہیں اور ہر نئی خبر کے ساتھ اتار چڑھاؤ تیز ہے۔ حقیقی کروڈ کیریجز ابھی بھی بعض علاقوں میں بلند پریمیم پر تجارت کر رہی ہیں، ہرمز کے راستے شپنگ کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اور بیمہ کمپنیاں خلیج میں خطرے کے بارے میں محتاط ہیں۔ اگر واقعی خلل ختم ہو گیا ہے تو پھر مارکیٹ کے ڈھانچے کا رویہ ابھی بھی ایسا کیوں ہے جیسے یہ پوری طرح مطمئن نہ ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تیل کوئی عام خام مال نہیں ہے۔ یہ براہِ راست مال برداری، ڈیزل، ہوائی جہاز، کھاد اور صنعتی پیداوار میں دخل اندازی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جب خام تیل کی قیمتیں واپس آ جاتی ہیں، تو اس کے مہنگائی پر اثرات نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات کے ذریعے کافی دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بانڈ مارکیٹیں حصصِ بازار کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ منافع کی شرحیں جنگ سے پہلے کے سطح کے مقابلے میں بلند ہیں اور جارحانہ شرح سود میں کمی کی توقعات تنازع کے آغاز کے بعد واضح طور پر سرد پڑ گئی ہیں۔ اگر توانائی کے خطرات واقعی اتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں جتنا حصصِ بازار کے تاجر اب سمجھ رہے ہیں، تو پھر مالیاتی پالیسی کی توقعات اب بھی اتنی محتاط رویے سے کیوں برتاؤ کر رہی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب عارضی سکون اور حقیقی حل کے فرق میں پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ منڈیوں کو لگتا ہے کہ فوری کشیدگی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، مگر کشیدگی کے کئی بنیادی نکات ابھی حل طلب ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے جادوئی طور پر غیر اہم نہیں بن گئی، اور ایران نے کبھی بھی ایسے ریاستی مذاکرات کا مظاہرہ نہیں کیا جس میں وہ مکمل تباہی کے نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہو۔ حکومت برقرار ہے، کچھ اندازوں کے مطابق حتیٰ کہ مضبوط بھی ہوئی ہے، اور یہ اب بھی دنیا کے سب سے حساس توانائی راستے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ یہ مفروضہ مشکل ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو محض ایک مختصر مدتی جغرافیائی سیاسی خطرہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع اس کے پیچھے چھپی پیچیدہ حکمتِ عملی کی حساب کتاب کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ واشنگٹن ایسا ظاہر ہوا جیسے فوجی دباؤ جلد ہی توازن کو اپنے حق میں بدل دے گا اور ساتھ ہی اتحادیوں کو یقین دلائے گا کہ توانائی کی منڈیاں قابو میں رہیں گی۔ لیکن دنیا نے کئی ہفتے یہ جاننے میں گزار دی کہ تیل کے ارد گرد مکمل قیمتوں کا ڈھانچہ ابھی بھی کس حد تک نازک ہے۔ تاریخ میں سب سے بڑی مربوط ریلیز بھی اسٹریٹجک اسٹاک سے مارکیٹ کو زیادہ دیر تک پرسکون نہیں رکھ سکی۔ اسٹریٹجک ذخائر وقتی طور پر اتار چڑھاؤ کو کم کر سکتے ہیں، مگر یہ مستقل شپنگ لائنز پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سیاسی پیغامات تقریباً اتنے ہی غیر مستحکم ہو گئے ہیں جتنی کہ خود تیل کی منڈی۔ ایک ہفتے زبان سے شدید کشیدگی ظاہر ہوتی ہے، اگلے ہفتے اچانک سفارت کاری دوبارہ مقبول ہو جاتی ہے۔ منڈیاں اسی کے مطابق جھولتی ہیں: خوشگوار توقعات پر تیل گر جاتا ہے، ناکامیوں پر دوبارہ بڑھتا ہے، پھر مذاکرات کی افواہوں پر دوبارہ گرتا ہے۔ بعض اوقات کروڈ مارکیٹ قیمتوں کے تعین کے بجائے صدر کے موڈ کے بارے میں حقیقی وقت میں رائے شماری کا منظر دیتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے فیوچرز میں پرامیدی اور حقیقی مارکیٹ کی محتاط رویے کے درمیان فرق زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ فیوچرز کے تاجر امن کی خبریں فوراً قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں کیونکہ کاغذی بیرل لمحوں میں حرکت کرتے ہیں، مگر حقیقی بیرل نہیں۔ ٹینکرز اب بھی سیکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں، ریفائنریز سپلائی کے تسلسل کے بارے میں فکر مند ہیں اور بیمہ کمپنیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو پرانے انداز سے حساب لگاتی ہیں، یعنی ہر نئی خلل کی توقع کرتے ہوئے کہ پچھلا بحران مکمل ختم بھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک وسیع تر ساختی سوال بھی خاموشی سے نمودار ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ طویل مدتی سپلائی کے منظرنامے میں ایک اور غیر یقینی تہہ ڈال دیتا ہے، چاہے جنگ مختصر مدتی قیمتوں پر حاوی ہو۔ خلیج میں میزائلوں کے اڑنے سے پہلے بھی کارٹل کی پابندی کمزور ہو رہی تھی۔ یہ تنازع بس یہ ظاہر کر گیا کہ عالمی منڈیاں کس حد تک اس خطے پر انحصار کرتی ہیں، جو بیک وقت دنیا کی معیشت کو طاقت دیتا ہے اور کبھی کبھار اسے خوفزدہ بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس کے اثرات بدقسمتی سے کافی جانے پہچانے ہیں۔ تیل کی ہر باربڑھتی ہوئی قیمت آخر کار ملکی مہنگائی، کرنسی پر دباؤ اور پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر نئے دباؤ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ پالیسی ساز شاید اس ہفتے کم قیمتوں کا خیرمقدم کریں، لیکن صرف بدلتی ہوئی خبروں پر مبنی راحت کوئی حقیقی توانائی کی حکمت عملی نہیں ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ سیکھا ہے کہ درآمد شدہ توانائی کے جھٹکے اکثر اسی وقت واپس آ جاتے ہیں جب حکومتیں یقین کرنے لگتی ہیں کہ بدترین صورتحال گزر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں منڈی ایک بار پھر اسی سوال کا سامنا کر رہی ہے: کیا تیل واقعی حقیقی کشیدگی میں کمی کی قیمت لگا رہا ہے، یا محض موجودہ سفارتی منظرنامے پر ردعمل دے رہا ہے، اس سے پہلے کہ اگلی خلل انگیزی واقع ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 7 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کے تاجر ایک بار پھر یوں ردِعمل دکھا رہے ہیں گویا وائٹ ہاؤس کی بریفنگ اور فیوچر مارکیٹ کی اسکرینوں کے بیچ کہیں اچانک امن قائم ہو گیا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نہ کسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کی خبروں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ تازہ سرخیوں میں ”پیش رفت“، ”فریم ورک“ اور ”کشیدگی میں کمی“ جیسے الفاظ گونج رہے ہیں۔ اور منڈیوں نے، حسبِ معمول، سب سے پہلے وہی ایک لفظ سنا جس پر ان کی نظریں ہمیشہ جمی رہتی ہیں: ریلیف یعنی راحت۔</strong></p>
<p>ردِعمل بالکل متوقع رہا۔ حصصِ بازار بڑھے، ڈالر نرم ہوا اور خطرہ مول لینے کا رجحان تقریباً وقت پر واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ قبل یہی منڈی میزائل حملوں، بند شدہ شپنگ لائنز اور طویل مدتی سپلائی بحران کے خدشات کو مدِ نظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہی تھی۔ اب یہ دوبارہ سفارت کاری کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا توانائی کی بنیادی صورتِ حال میں واقعی کچھ بدل گیا ہے، یا تاجر بس اپنی پسندیدہ جدید سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر واپس آگئے ہیں: ٹرمپ کے ہر اشارے پر خریداری کرنا، جیسے یہ طے شدہ حکمت عملی ہو۔</p>
<p>کیونکہ اصل مارکیٹ ابھی بھی کاغذی مارکیٹ جتنا پرسکون نہیں لگتی۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی مرحلے کے بعد پیدا شدہ ہنگامی قیمتوں سے تیل واپس آ گیا ہے، قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر اوپر ہیں اور ہر نئی خبر کے ساتھ اتار چڑھاؤ تیز ہے۔ حقیقی کروڈ کیریجز ابھی بھی بعض علاقوں میں بلند پریمیم پر تجارت کر رہی ہیں، ہرمز کے راستے شپنگ کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اور بیمہ کمپنیاں خلیج میں خطرے کے بارے میں محتاط ہیں۔ اگر واقعی خلل ختم ہو گیا ہے تو پھر مارکیٹ کے ڈھانچے کا رویہ ابھی بھی ایسا کیوں ہے جیسے یہ پوری طرح مطمئن نہ ہو؟</p>
<p>یہ تضاد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تیل کوئی عام خام مال نہیں ہے۔ یہ براہِ راست مال برداری، ڈیزل، ہوائی جہاز، کھاد اور صنعتی پیداوار میں دخل اندازی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جب خام تیل کی قیمتیں واپس آ جاتی ہیں، تو اس کے مہنگائی پر اثرات نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات کے ذریعے کافی دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بانڈ مارکیٹیں حصصِ بازار کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ منافع کی شرحیں جنگ سے پہلے کے سطح کے مقابلے میں بلند ہیں اور جارحانہ شرح سود میں کمی کی توقعات تنازع کے آغاز کے بعد واضح طور پر سرد پڑ گئی ہیں۔ اگر توانائی کے خطرات واقعی اتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں جتنا حصصِ بازار کے تاجر اب سمجھ رہے ہیں، تو پھر مالیاتی پالیسی کی توقعات اب بھی اتنی محتاط رویے سے کیوں برتاؤ کر رہی ہیں؟</p>
<p>اس کا جواب عارضی سکون اور حقیقی حل کے فرق میں پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ منڈیوں کو لگتا ہے کہ فوری کشیدگی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، مگر کشیدگی کے کئی بنیادی نکات ابھی حل طلب ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے جادوئی طور پر غیر اہم نہیں بن گئی، اور ایران نے کبھی بھی ایسے ریاستی مذاکرات کا مظاہرہ نہیں کیا جس میں وہ مکمل تباہی کے نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہو۔ حکومت برقرار ہے، کچھ اندازوں کے مطابق حتیٰ کہ مضبوط بھی ہوئی ہے، اور یہ اب بھی دنیا کے سب سے حساس توانائی راستے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ یہ مفروضہ مشکل ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو محض ایک مختصر مدتی جغرافیائی سیاسی خطرہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ تنازع اس کے پیچھے چھپی پیچیدہ حکمتِ عملی کی حساب کتاب کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ واشنگٹن ایسا ظاہر ہوا جیسے فوجی دباؤ جلد ہی توازن کو اپنے حق میں بدل دے گا اور ساتھ ہی اتحادیوں کو یقین دلائے گا کہ توانائی کی منڈیاں قابو میں رہیں گی۔ لیکن دنیا نے کئی ہفتے یہ جاننے میں گزار دی کہ تیل کے ارد گرد مکمل قیمتوں کا ڈھانچہ ابھی بھی کس حد تک نازک ہے۔ تاریخ میں سب سے بڑی مربوط ریلیز بھی اسٹریٹجک اسٹاک سے مارکیٹ کو زیادہ دیر تک پرسکون نہیں رکھ سکی۔ اسٹریٹجک ذخائر وقتی طور پر اتار چڑھاؤ کو کم کر سکتے ہیں، مگر یہ مستقل شپنگ لائنز پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>دریں اثنا، سیاسی پیغامات تقریباً اتنے ہی غیر مستحکم ہو گئے ہیں جتنی کہ خود تیل کی منڈی۔ ایک ہفتے زبان سے شدید کشیدگی ظاہر ہوتی ہے، اگلے ہفتے اچانک سفارت کاری دوبارہ مقبول ہو جاتی ہے۔ منڈیاں اسی کے مطابق جھولتی ہیں: خوشگوار توقعات پر تیل گر جاتا ہے، ناکامیوں پر دوبارہ بڑھتا ہے، پھر مذاکرات کی افواہوں پر دوبارہ گرتا ہے۔ بعض اوقات کروڈ مارکیٹ قیمتوں کے تعین کے بجائے صدر کے موڈ کے بارے میں حقیقی وقت میں رائے شماری کا منظر دیتی رہی ہے۔</p>
<p>اسی لیے فیوچرز میں پرامیدی اور حقیقی مارکیٹ کی محتاط رویے کے درمیان فرق زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ فیوچرز کے تاجر امن کی خبریں فوراً قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں کیونکہ کاغذی بیرل لمحوں میں حرکت کرتے ہیں، مگر حقیقی بیرل نہیں۔ ٹینکرز اب بھی سیکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں، ریفائنریز سپلائی کے تسلسل کے بارے میں فکر مند ہیں اور بیمہ کمپنیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو پرانے انداز سے حساب لگاتی ہیں، یعنی ہر نئی خلل کی توقع کرتے ہوئے کہ پچھلا بحران مکمل ختم بھی نہیں ہوا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک وسیع تر ساختی سوال بھی خاموشی سے نمودار ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ طویل مدتی سپلائی کے منظرنامے میں ایک اور غیر یقینی تہہ ڈال دیتا ہے، چاہے جنگ مختصر مدتی قیمتوں پر حاوی ہو۔ خلیج میں میزائلوں کے اڑنے سے پہلے بھی کارٹل کی پابندی کمزور ہو رہی تھی۔ یہ تنازع بس یہ ظاہر کر گیا کہ عالمی منڈیاں کس حد تک اس خطے پر انحصار کرتی ہیں، جو بیک وقت دنیا کی معیشت کو طاقت دیتا ہے اور کبھی کبھار اسے خوفزدہ بھی کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس کے اثرات بدقسمتی سے کافی جانے پہچانے ہیں۔ تیل کی ہر باربڑھتی ہوئی قیمت آخر کار ملکی مہنگائی، کرنسی پر دباؤ اور پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر نئے دباؤ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ پالیسی ساز شاید اس ہفتے کم قیمتوں کا خیرمقدم کریں، لیکن صرف بدلتی ہوئی خبروں پر مبنی راحت کوئی حقیقی توانائی کی حکمت عملی نہیں ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ سیکھا ہے کہ درآمد شدہ توانائی کے جھٹکے اکثر اسی وقت واپس آ جاتے ہیں جب حکومتیں یقین کرنے لگتی ہیں کہ بدترین صورتحال گزر چکی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں منڈی ایک بار پھر اسی سوال کا سامنا کر رہی ہے: کیا تیل واقعی حقیقی کشیدگی میں کمی کی قیمت لگا رہا ہے، یا محض موجودہ سفارتی منظرنامے پر ردعمل دے رہا ہے، اس سے پہلے کہ اگلی خلل انگیزی واقع ہو؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 7 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505146</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:50:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/100832146bee4e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/100832146bee4e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپریشن معرکۂ حق: 72 گھنٹوں میں کیا ہوا تھا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504908/india-pakistan-war-operation-bunyan-al-marsoos-operation-marka-e-haq-india-pakistan-clash-7th-may</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے گزرے ہیں جو پوری قوم کے لیے آزمائش ثابت ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر 1965 ایسا ہی ایک دن تھا، اور پھر مئی 2025 میں بھارت کی جارحیت کے خلاف شروع کیا گیا ’آپریشن معرکۂ حق‘ بھی انہی تاریخی لمحات میں شامل ہو گیا۔ یہ صرف میزائلوں، جہازوں اور بارود کی جنگ نہیں تھی، بلکہ اعصاب، حوصلے، سفارت کاری، میڈیا اور قومی اتحاد کی جنگ تھی۔ ان 72 گھنٹوں میں پورا پاکستان تمام اختلافات بھلا کر ایک آواز ہو گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانی شروع ہوئی 6 مئی کی تاریک رات سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی عوام معمول کے مطابق سو رہے تھے، لیکن سرحد کے اُس پار بھارت نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے پاکستان میں بہاولپور کے احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، مظفرآباد اور کوٹلی سمیت چھ مقامات پر حملے کیے۔ ان حملوں میں 36 معصوم پاکستانی شہید ہوئے، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ بھارت نے براہموس کروز میزائل استعمال کیے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن کے ساتھ خطرناک کھیل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اندر غصہ تھا، دکھ تھا، لیکن گھبراہٹ نہیں تھی۔ قوم جانتی تھی کہ جواب ضرور آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے حملے کا جواز پہلگام واقعے کو بنایا، جہاں مقبوضہ کشمیر میں 26 سیاح مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا، یعنی ایسا واقعہ جس کا الزام پاکستان پر ڈال کر جنگی ماحول بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے کئی مقاصد تھے۔ ایک مقصد پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی کا حامی ثابت کرنا تھا، دوسرا مقصد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا بہانہ بنانا تھا، جبکہ تیسرا مقصد بہار کے انتخابات سے پہلے مودی حکومت کی اندرونی سیاست کو فائدہ پہنچانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شاید بھارت نے پاکستان کے ردعمل کا اندازہ غلط لگا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 مئی کی صبح وہ لمحہ آیا جس نے جنگ کا رخ بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایئر فورس نے ایسا جواب دیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سات رافیل طیارے تباہ ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بھارت کے اندر ہلچل مچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بار بار کہا، ”پاکستان نے بھارتی جہاز گرائے“۔ انہوں نے تعداد ”سات سے گیارہ تک“ تک بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اندر اس خبر نے قوم کا حوصلہ آسمان تک پہنچا دیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ایک ہی بات ہو رہی تھی: ”پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اس صدمے کے بعد مزید بوکھلا گیا۔ اس نے ڈرون حملے شروع کیے، پاکستانی ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں نور خان، شورکوٹ، بھولاری، جیکب آباد اور رفیقی بیس شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن پاکستان نے یہاں بھی بھرپور دفاع کیا۔ 84 بھارتی ڈرون تباہ کیے گئے جبکہ کئی میزائل راستے میں ہی تباہ کردیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر آیا 10 مئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اُڑی، راجوڑی، پونچھ، سرسا، انبالہ، جموں، بھوج اور کئی فوجی اڈے حملوں کی زد میں آئے۔ سب سے زیادہ تباہی بھارتی پنجاب میں واقع بھٹنڈہ ایئربیس پر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر 50 بھارتی فوجی مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کے مشہور ایس-400 دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہی وہ سسٹم تھا جسے بھارت اپنی فضائی ڈھال سمجھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ صرف فوجی کامیابی نہیں تھی، بلکہ نفسیاتی فتح بھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کو تقریباً 84 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ عالمی سطح پر بھی بھارت پر تنقید شروع ہو گئی کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار بھارت نے امریکا سے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتحال میں سب سے اہم کردار جو سامنے آیا وہ تھے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، جو کہ ’اسٹریٹجک ماسٹر مائنڈ‘ ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نہ صرف جنگی حکمت عملی بنائی بلکہ سفارتی میدان میں بھی پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی نسبتاً محتاط اور پرسکون سفارتی انداز اپنایا۔ اور اس دوہری اسٹریٹیجی نے ثابت کیا کہ جب تلوار اور قلم ایک ساتھ چلیں تو دشمن زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معرکۂ حق نے ایک اور حقیقت واضح کر دی: پاکستان اب 1971 والا پاکستان نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;‘آپریشن بنیان مرصوص‘ 1987 کے ’آپریشن براس ٹیکس‘ کی بھی یاد دلاتا ہے، جب بھارت نے سرحد پر فوجیں جمع کر لی تھیں۔ اُس وقت جنرل ضیاء الحق نے ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بھارت کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب آگ سے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ میڈیا اور سفارت کاری میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس بار دنیا نے ہر بھارتی دعوے کو فوراً قبول نہیں کیا۔ کئی عالمی حلقوں نے سوال اٹھائے کہ اگر بھارت کے پاس ثبوت تھے تو وہ دنیا کے سامنے کیوں پیش نہ کیے گئے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اندر اس جنگ نے قوم کو متحد کر دیا۔ لوگ سیاسی اختلافات بھول کر فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ شہداء کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، بچوں نے پاکستانی جھنڈے اٹھائے، اور ہر طرف ایک ہی جذبہ تھا: ’پاکستان زندہ باد‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن معرکۂ حق کے اثرات اب بھی نظر آرہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست بدل رہی ہے، عالمی طاقتیں نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، اور پاکستان اب خود کو صرف دفاعی ملک نہیں بلکہ خطے کے ’سیکیورٹی اسٹیبلائزر‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی عوام کے لیے یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی۔ یہ عزت، بقا، خودمختاری اور جواب دینے کی صلاحیت کا امتحان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پاکستان اس امتحان میں سرخرو ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے گزرے ہیں جو پوری قوم کے لیے آزمائش ثابت ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر 1965 ایسا ہی ایک دن تھا، اور پھر مئی 2025 میں بھارت کی جارحیت کے خلاف شروع کیا گیا ’آپریشن معرکۂ حق‘ بھی انہی تاریخی لمحات میں شامل ہو گیا۔ یہ صرف میزائلوں، جہازوں اور بارود کی جنگ نہیں تھی، بلکہ اعصاب، حوصلے، سفارت کاری، میڈیا اور قومی اتحاد کی جنگ تھی۔ ان 72 گھنٹوں میں پورا پاکستان تمام اختلافات بھلا کر ایک آواز ہو گیا تھا۔</strong></p>
<p>یہ کہانی شروع ہوئی 6 مئی کی تاریک رات سے۔</p>
<p>پاکستانی عوام معمول کے مطابق سو رہے تھے، لیکن سرحد کے اُس پار بھارت نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا تھا۔</p>
<p>بھارت نے پاکستان میں بہاولپور کے احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، مظفرآباد اور کوٹلی سمیت چھ مقامات پر حملے کیے۔ ان حملوں میں 36 معصوم پاکستانی شہید ہوئے، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ شامل تھے۔</p>
<p>سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ بھارت نے براہموس کروز میزائل استعمال کیے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حملہ نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن کے ساتھ خطرناک کھیل تھا۔</p>
<p>پاکستان کے اندر غصہ تھا، دکھ تھا، لیکن گھبراہٹ نہیں تھی۔ قوم جانتی تھی کہ جواب ضرور آئے گا۔</p>
<p>بھارت نے حملے کا جواز پہلگام واقعے کو بنایا، جہاں مقبوضہ کشمیر میں 26 سیاح مارے گئے تھے۔</p>
<p>پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا، یعنی ایسا واقعہ جس کا الزام پاکستان پر ڈال کر جنگی ماحول بنایا گیا۔</p>
<p>پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے کئی مقاصد تھے۔ ایک مقصد پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی کا حامی ثابت کرنا تھا، دوسرا مقصد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا بہانہ بنانا تھا، جبکہ تیسرا مقصد بہار کے انتخابات سے پہلے مودی حکومت کی اندرونی سیاست کو فائدہ پہنچانا تھا۔</p>
<p>لیکن شاید بھارت نے پاکستان کے ردعمل کا اندازہ غلط لگا لیا تھا۔</p>
<p>7 مئی کی صبح وہ لمحہ آیا جس نے جنگ کا رخ بدل دیا۔</p>
<p>پاکستان ایئر فورس نے ایسا جواب دیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق سات رافیل طیارے تباہ ہوئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بھارت کے اندر ہلچل مچ گئی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بار بار کہا، ”پاکستان نے بھارتی جہاز گرائے“۔ انہوں نے تعداد ”سات سے گیارہ تک“ تک بتائی۔</p>
<p>پاکستان کے اندر اس خبر نے قوم کا حوصلہ آسمان تک پہنچا دیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ایک ہی بات ہو رہی تھی: ”پاک فضائیہ نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔“</p>
<p>بھارت اس صدمے کے بعد مزید بوکھلا گیا۔ اس نے ڈرون حملے شروع کیے، پاکستانی ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں نور خان، شورکوٹ، بھولاری، جیکب آباد اور رفیقی بیس شامل تھیں۔</p>
<p>لیکن پاکستان نے یہاں بھی بھرپور دفاع کیا۔ 84 بھارتی ڈرون تباہ کیے گئے جبکہ کئی میزائل راستے میں ہی تباہ کردیے گئے۔</p>
<p>پھر آیا 10 مئی۔</p>
<p>پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اُڑی، راجوڑی، پونچھ، سرسا، انبالہ، جموں، بھوج اور کئی فوجی اڈے حملوں کی زد میں آئے۔ سب سے زیادہ تباہی بھارتی پنجاب میں واقع بھٹنڈہ ایئربیس پر ہوئی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر 50 بھارتی فوجی مارے گئے۔</p>
<p>سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کے مشہور ایس-400 دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہی وہ سسٹم تھا جسے بھارت اپنی فضائی ڈھال سمجھتا تھا۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ صرف فوجی کامیابی نہیں تھی، بلکہ نفسیاتی فتح بھی تھی۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کو تقریباً 84 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ عالمی سطح پر بھی بھارت پر تنقید شروع ہو گئی کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔</p>
<p>آخرکار بھارت نے امریکا سے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی درخواست کی۔</p>
<p>اس تمام صورتحال میں سب سے اہم کردار جو سامنے آیا وہ تھے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، جو کہ ’اسٹریٹجک ماسٹر مائنڈ‘ ثابت ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے نہ صرف جنگی حکمت عملی بنائی بلکہ سفارتی میدان میں بھی پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا۔</p>
<p>اسی دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی نسبتاً محتاط اور پرسکون سفارتی انداز اپنایا۔ اور اس دوہری اسٹریٹیجی نے ثابت کیا کہ جب تلوار اور قلم ایک ساتھ چلیں تو دشمن زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>معرکۂ حق نے ایک اور حقیقت واضح کر دی: پاکستان اب 1971 والا پاکستان نہیں رہا۔</p>
<p>‘آپریشن بنیان مرصوص‘ 1987 کے ’آپریشن براس ٹیکس‘ کی بھی یاد دلاتا ہے، جب بھارت نے سرحد پر فوجیں جمع کر لی تھیں۔ اُس وقت جنرل ضیاء الحق نے ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کے ذریعے بھارت کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب آگ سے دیا جائے گا۔</p>
<p>معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ میڈیا اور سفارت کاری میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس بار دنیا نے ہر بھارتی دعوے کو فوراً قبول نہیں کیا۔ کئی عالمی حلقوں نے سوال اٹھائے کہ اگر بھارت کے پاس ثبوت تھے تو وہ دنیا کے سامنے کیوں پیش نہ کیے گئے؟</p>
<p>پاکستان کے اندر اس جنگ نے قوم کو متحد کر دیا۔ لوگ سیاسی اختلافات بھول کر فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ شہداء کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، بچوں نے پاکستانی جھنڈے اٹھائے، اور ہر طرف ایک ہی جذبہ تھا: ’پاکستان زندہ باد‘۔</p>
<p>آپریشن معرکۂ حق کے اثرات اب بھی نظر آرہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست بدل رہی ہے، عالمی طاقتیں نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، اور پاکستان اب خود کو صرف دفاعی ملک نہیں بلکہ خطے کے ’سیکیورٹی اسٹیبلائزر‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی عوام کے لیے یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی۔ یہ عزت، بقا، خودمختاری اور جواب دینے کی صلاحیت کا امتحان تھا۔</p>
<p>اور پاکستان اس امتحان میں سرخرو ہوا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504908</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:47:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/071243578305c1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/071243578305c1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعت کے لیے مراعات انتہائی منتخب ہونی چاہئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بڑی برآمدی صنعتیں پالیسی میں نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ چین اور بھارت جیسے علاقائی بڑے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ ماضی میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں جن کے تحت منتخب صنعتوں کو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالیاتی اور مالی مراعات دی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مراعات سابقہ ادوارِ حکومت، خواہ سول ہوں یا عسکری، میں ان صنعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تناسب سے دی جاتی رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مراعات کے بارے میں آئی ایم ایف کا جائزہ سخت تنقیدی تھا، جسے اکتوبر 2024 میں جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کے اسٹاف لیول معاہدے میں بیان کیا گیا:“ ”سبسڈیز عموماً کم لاگت فنانسنگ اور دیگر رعایتوں کی صورت میں دی جاتی رہی ہیں، جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں، تاہم ان کے نتیجے میں سبسڈی کے بعد فنانسنگ اور ٹیکسز کی مجموعی صورتِ حال ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار رہی، جبکہ کم ترجیحی شعبے نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس نظام کو وسیع پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل رہی، نیز اسپیشل اکنامک زونز کے پھیلاؤ کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بشمول زرعی اجناس، فیول مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیادوں پر)—کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ نے مسابقتی میدان کو منتخب گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام تر معاونت کے باوجود کاروباری شعبہ معیشت کی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرنے کے ساتھ وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (بشمول مسلسل ”نوزائیدہ“ کہلانے والی) صنعتوں میں پھنسا دیتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے مراعات کے خاتمے (اور بعض صورتوں میں بتدریج کمی) کی شرائط عائد کیں، جبکہ صنعت کی جانب سے متعدد پالیسی اصلاحات کی سفارش کی گئی، جن میں شامل ہیں: (الف) بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا خاتمہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حال ہی میں ضدی سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے 1.25 کھرب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا، جسے فنڈ نے صارفین پر منتقل کرنے کی منظوری دی، یہ منظوری اس شرط سے مشروط تھی کہ اس وقت پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تھا اور توقع تھی کہ گزشتہ سال دسمبر تک اس میں مزید کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فنڈ نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ ہو تو حکومت ٹیرف میں ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرے گی تاکہ ٹیرف قرض کی ادائیگی کو پورا کر سکے؛ (ب) مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا، جس سے ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؛ اور (ج) پیٹرولیم لیوی کو قابو میں رکھا جائے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے (مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد 2 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر گیس ڈیٹ کے خاتمے کے لیے اس لیوی میں اضافے کی تجویز مؤخر کر دی گئی)، جس کے مہنگائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے پروگرام (جو وبا کے باعث 2020 اور 2021 میں مؤخر کیا گیا)، جولائی 2023 کے پروگرام، اور اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والے جاری پروگرام، ان تینوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک مسلسل پروگرام درکار ہے، جس میں نہ تاخیر ہو اور نہ ہی معطلی، کیونکہ دو دوست ممالک نے واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ فعال پروگرام کے بغیر سالانہ 9 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز واپس لے لیے جائیں گے، جو ڈیفالٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک زیادہ مرحلہ وار حکمتِ عملی پر مذاکرات کر رہی ہے، یعنی مخصوص صنعتوں کے لیے نسبتاً زیادہ مراعات، تاہم اب تک اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ صنعت کی چار اقسام میں سے کن کو مراعات دی جانی چاہئیں۔ پہلی قسم بنیادی صنعت (پرائمری انڈسٹری) ہے، جس میں زراعت، جنگلات، ماہی گیری، کان کنی، کھدائی اور معدنیات کا استخراج شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پیداوار اب بھی موسمی حالات کی مرہونِ منت ہے اور حکومتی معاونت کے باوجود فی ہیکٹر اوسط پیداوار علاقائی اوسط سے کم ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے اور پاکستان کو جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی کا سامنا ہے؛ رپورٹس کے مطابق 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر یہ تقریباً 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے، یعنی 33 برس میں 18 فیصد کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر ان کے استخراج کے لیے مہارت اور سرمایہ دونوں کی کمی ہے۔ موجودہ سمیت تمام حکومتوں نے اس دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاقِ رائے کی کمی اور معاہدوں کی جانچ پڑتال میں قانونی مہارت کے فقدان کے باعث غیر ملکی دلچسپی متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے کچھ معاہدے اندرونِ ملک عدالتی تنازعات (جیسے پاکستان اسٹیل) کا شکار ہوئے، جبکہ بین الاقوامی ثالثی میں بھی اکثر فیصلے پاکستان کے خلاف آئے، جس کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر جرمانوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانوی صنعت (سیکنڈری انڈسٹری) سے مراد وہ مینوفیکچرنگ ہے جو خام مال پر منحصر ہو، چاہے مقامی ہو (جیسے کپاس اور چینی) یا کم پیداوار کی صورت میں درآمد کیا جائے، یا نیم تیار اشیا یا کیپیٹل گڈز کی پروسیسنگ، جن سے صارف اشیا (مثلاً پیک شدہ دودھ اور چینی) تیار کی جاتی ہیں۔ غیر صارف اشیا میں ہائیڈرو پاور پلانٹس اور گاڑیاں شامل ہیں، تاہم پاکستان میں گاڑیاں زیادہ تر اسمبل کی جاتی ہیں اور مقامی پیداوار (انڈیجینائزیشن) محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات کو زیادہ ویلیو ایڈیشن والی مصنوعات پر مرکوز کرے، مثلاً مولاسس اور بیگاس (جو توانائی/ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانوی صنعت کو تیسری صنعت (سروسز سیکٹر) کہا جاتا ہے، جس میں سیاحت، بینکنگ، مالیات، انشورنس، سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت نے سیاحت کو فعال طور پر فروغ دیا، تاہم یہ زیادہ تر اندرونی سیاحت تک محدود رہی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ” تین فریقین، خود مختار (حکومت)، کمرشل بینکس اور مرکزی بینک، کے بیلنس شیٹس ایک دوسرے سے انتہائی مربوط طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدہ سہ فریقی تعلق اس بات کا باعث بنتا ہے کہ ایک شعبے (مثلاً مالیاتی یا مانیٹری پالیسی اور بینکاری نظام) میں ہونے والی تبدیلیاں معیشت کے دیگر حصوں پر وسیع اثرات ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال مانیٹری پالیسی کی ترسیل کی طاقت کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہ پالیسی ریٹس، نجی قرضے، اور نجی سرمایہ کاری و کھپت کے فیصلوں کے درمیان تعلق کو متاثر کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ فنڈ نے حکومت پر زور دیا کہ ” درمیانی مدت میں مالیاتی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں حائل ساختی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جن میں غیر رسمی معیشت کا حجم بھی شامل ہے۔“ پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر بڑی حد تک منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں پالیسی تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کافی حد تک محدود کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں چوتھی صنعت ( کوارٹرنری انڈسٹری) ہے، جو تیسری صنعت کا توسیعی حصہ ہے اور معلوماتی یا علم پر مبنی مصنوعات اور خدمات پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کی کوششیں شامل ہیں۔ امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی میں مسابقت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی اے آئی پالیسی گزشتہ سال منظور کی گئی تھی جو ہر سال صرف 2000 طلبہ کی تدریس اور تعلیمی ٹیکنالوجیز تک محدود ہے، جو ایک نہایت کم تعداد ہے۔ تاہم امید کی جانی چاہیے کہ حکومت کی مالی اور مانیٹری مراعات (بشمول چین اور امریکہ کے اسکالرشپس) چوتھے درجے کی صنعتوں کی ترقی پر مرکوز ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ حکومت کو ان صنعتوں کو مراعات دینے پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو محض ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالی اور مالیاتی مراعات کے سہارے زندہ ہیں، بلکہ ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جو عالمی سطح پر مستقبل کا راستہ ہیں اور جن میں زیادہ ویلیو ایڈیشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بڑی برآمدی صنعتیں پالیسی میں نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ چین اور بھارت جیسے علاقائی بڑے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ ماضی میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں جن کے تحت منتخب صنعتوں کو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالیاتی اور مالی مراعات دی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مراعات سابقہ ادوارِ حکومت، خواہ سول ہوں یا عسکری، میں ان صنعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تناسب سے دی جاتی رہی ہیں۔</strong></p>
<p>ان مراعات کے بارے میں آئی ایم ایف کا جائزہ سخت تنقیدی تھا، جسے اکتوبر 2024 میں جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کے اسٹاف لیول معاہدے میں بیان کیا گیا:“ ”سبسڈیز عموماً کم لاگت فنانسنگ اور دیگر رعایتوں کی صورت میں دی جاتی رہی ہیں، جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں، تاہم ان کے نتیجے میں سبسڈی کے بعد فنانسنگ اور ٹیکسز کی مجموعی صورتِ حال ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار رہی، جبکہ کم ترجیحی شعبے نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔</p>
<p>ٹیکس نظام کو وسیع پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل رہی، نیز اسپیشل اکنامک زونز کے پھیلاؤ کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی گئی۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بشمول زرعی اجناس، فیول مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیادوں پر)—کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ نے مسابقتی میدان کو منتخب گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔“</p>
<p>تمام تر معاونت کے باوجود کاروباری شعبہ معیشت کی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرنے کے ساتھ وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (بشمول مسلسل ”نوزائیدہ“ کہلانے والی) صنعتوں میں پھنسا دیتی رہیں۔</p>
<p>اس جائزے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے مراعات کے خاتمے (اور بعض صورتوں میں بتدریج کمی) کی شرائط عائد کیں، جبکہ صنعت کی جانب سے متعدد پالیسی اصلاحات کی سفارش کی گئی، جن میں شامل ہیں: (الف) بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا خاتمہ۔</p>
<p>حکومت نے حال ہی میں ضدی سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے 1.25 کھرب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا، جسے فنڈ نے صارفین پر منتقل کرنے کی منظوری دی، یہ منظوری اس شرط سے مشروط تھی کہ اس وقت پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تھا اور توقع تھی کہ گزشتہ سال دسمبر تک اس میں مزید کمی آئے گی۔</p>
<p>تاہم فنڈ نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ ہو تو حکومت ٹیرف میں ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرے گی تاکہ ٹیرف قرض کی ادائیگی کو پورا کر سکے؛ (ب) مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا، جس سے ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؛ اور (ج) پیٹرولیم لیوی کو قابو میں رکھا جائے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے (مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد 2 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر گیس ڈیٹ کے خاتمے کے لیے اس لیوی میں اضافے کی تجویز مؤخر کر دی گئی)، جس کے مہنگائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>2019 کے پروگرام (جو وبا کے باعث 2020 اور 2021 میں مؤخر کیا گیا)، جولائی 2023 کے پروگرام، اور اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والے جاری پروگرام، ان تینوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک مسلسل پروگرام درکار ہے، جس میں نہ تاخیر ہو اور نہ ہی معطلی، کیونکہ دو دوست ممالک نے واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ فعال پروگرام کے بغیر سالانہ 9 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز واپس لے لیے جائیں گے، جو ڈیفالٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک زیادہ مرحلہ وار حکمتِ عملی پر مذاکرات کر رہی ہے، یعنی مخصوص صنعتوں کے لیے نسبتاً زیادہ مراعات، تاہم اب تک اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ صنعت کی چار اقسام میں سے کن کو مراعات دی جانی چاہئیں۔ پہلی قسم بنیادی صنعت (پرائمری انڈسٹری) ہے، جس میں زراعت، جنگلات، ماہی گیری، کان کنی، کھدائی اور معدنیات کا استخراج شامل ہے۔</p>
<p>زرعی پیداوار اب بھی موسمی حالات کی مرہونِ منت ہے اور حکومتی معاونت کے باوجود فی ہیکٹر اوسط پیداوار علاقائی اوسط سے کم ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے اور پاکستان کو جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی کا سامنا ہے؛ رپورٹس کے مطابق 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر یہ تقریباً 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے، یعنی 33 برس میں 18 فیصد کمی۔</p>
<p>پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر ان کے استخراج کے لیے مہارت اور سرمایہ دونوں کی کمی ہے۔ موجودہ سمیت تمام حکومتوں نے اس دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>بدقسمتی سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاقِ رائے کی کمی اور معاہدوں کی جانچ پڑتال میں قانونی مہارت کے فقدان کے باعث غیر ملکی دلچسپی متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے کچھ معاہدے اندرونِ ملک عدالتی تنازعات (جیسے پاکستان اسٹیل) کا شکار ہوئے، جبکہ بین الاقوامی ثالثی میں بھی اکثر فیصلے پاکستان کے خلاف آئے، جس کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر جرمانوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>ثانوی صنعت (سیکنڈری انڈسٹری) سے مراد وہ مینوفیکچرنگ ہے جو خام مال پر منحصر ہو، چاہے مقامی ہو (جیسے کپاس اور چینی) یا کم پیداوار کی صورت میں درآمد کیا جائے، یا نیم تیار اشیا یا کیپیٹل گڈز کی پروسیسنگ، جن سے صارف اشیا (مثلاً پیک شدہ دودھ اور چینی) تیار کی جاتی ہیں۔ غیر صارف اشیا میں ہائیڈرو پاور پلانٹس اور گاڑیاں شامل ہیں، تاہم پاکستان میں گاڑیاں زیادہ تر اسمبل کی جاتی ہیں اور مقامی پیداوار (انڈیجینائزیشن) محدود ہے۔</p>
<p>حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات کو زیادہ ویلیو ایڈیشن والی مصنوعات پر مرکوز کرے، مثلاً مولاسس اور بیگاس (جو توانائی/ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔</p>
<p>ثانوی صنعت کو تیسری صنعت (سروسز سیکٹر) کہا جاتا ہے، جس میں سیاحت، بینکنگ، مالیات، انشورنس، سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت نے سیاحت کو فعال طور پر فروغ دیا، تاہم یہ زیادہ تر اندرونی سیاحت تک محدود رہی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ” تین فریقین، خود مختار (حکومت)، کمرشل بینکس اور مرکزی بینک، کے بیلنس شیٹس ایک دوسرے سے انتہائی مربوط طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدہ سہ فریقی تعلق اس بات کا باعث بنتا ہے کہ ایک شعبے (مثلاً مالیاتی یا مانیٹری پالیسی اور بینکاری نظام) میں ہونے والی تبدیلیاں معیشت کے دیگر حصوں پر وسیع اثرات ڈال سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال مانیٹری پالیسی کی ترسیل کی طاقت کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہ پالیسی ریٹس، نجی قرضے، اور نجی سرمایہ کاری و کھپت کے فیصلوں کے درمیان تعلق کو متاثر کرتی ہے۔“</p>
<p>مزید یہ کہ فنڈ نے حکومت پر زور دیا کہ ” درمیانی مدت میں مالیاتی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں حائل ساختی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جن میں غیر رسمی معیشت کا حجم بھی شامل ہے۔“ پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر بڑی حد تک منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں پالیسی تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کافی حد تک محدود کیا گیا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں چوتھی صنعت ( کوارٹرنری انڈسٹری) ہے، جو تیسری صنعت کا توسیعی حصہ ہے اور معلوماتی یا علم پر مبنی مصنوعات اور خدمات پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کی کوششیں شامل ہیں۔ امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی میں مسابقت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی اے آئی پالیسی گزشتہ سال منظور کی گئی تھی جو ہر سال صرف 2000 طلبہ کی تدریس اور تعلیمی ٹیکنالوجیز تک محدود ہے، جو ایک نہایت کم تعداد ہے۔ تاہم امید کی جانی چاہیے کہ حکومت کی مالی اور مانیٹری مراعات (بشمول چین اور امریکہ کے اسکالرشپس) چوتھے درجے کی صنعتوں کی ترقی پر مرکوز ہوں گی۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ حکومت کو ان صنعتوں کو مراعات دینے پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو محض ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالی اور مالیاتی مراعات کے سہارے زندہ ہیں، بلکہ ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جو عالمی سطح پر مستقبل کا راستہ ہیں اور جن میں زیادہ ویلیو ایڈیشن موجود ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504706</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 13:24:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07132606a7cf52a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07132606a7cf52a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دستاویزی شعبے پر بوجھ، غیر دستاویزی شعبے کو انعام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاریخی طور پر پاکستان نے بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، جو نہ صرف مہنگائی کے اثرات پیدا کرتے ہیں بلکہ درمیانی اور کم آمدنی والے گھرانوں پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ جتنی کم آمدنی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ ٹیکس کا اثر ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس ٹی (جی ایس ٹی) ابتدائی 2000 کی دہائی میں 15 فیصد تھا، اور اگرچہ اسے کم کرنے کے اعلانات کیے گئے، لیکن یہ مرحلہ وار بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران ویلیو چین کو دستاویزی بنانے کے لیے جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ فارم میں نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ اور نان فائلرز پر مختلف اقسام کے اضافی ٹیکس بھی لگائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور رسمی معیشت کا دائرہ بڑھانا تھا۔ بظاہر یہ کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں، کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھنے کے بجائے غیر دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرنسی ان سرکولیشن (سی آئی سی) کا مانیٹری ایگریگیٹ (ایم ٹو) کے ساتھ تناسب مالی سال 2015 میں 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 30 فیصد تک پہنچا، جس کے بعد اس میں معمولی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسمی کارپوریٹ سیکٹر، جو مکمل طور پر ٹیکس قوانین کی پابندی کرتا ہے، نقصان میں ہے۔ یہ کمپنیاں غیر رسمی شعبے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں جو ٹیکس سے بچ کر مارکیٹ شیئر حاصل کرتا ہے۔ نتیجتاً نہ ٹیکس نیٹ وسیع ہوا اور نہ ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے مقابلے کے لیے حکومت نے بڑے کاروباروں پر سپر ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز و تاجروں پر اضافی جرمانہ ٹیکس متعارف کرایا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں معمولی اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ محدود بنیاد پر بوجھ ڈالنے سے ہوا، جبکہ دستاویزی معیشت نہیں بڑھ رہی اور ریٹیلرز رجسٹر نہیں ہو رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مہنگائی پر اثرات بھی ہیں۔ مزید یہ کہ رسمی کمپنیوں کے مارجنز کم ہو جاتے ہیں، جس سے وہ مارکیٹ شیئر کھو دیتی ہیں۔ آج غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بالواسطہ شکل میں مزید ڈائریکٹ ٹیکس بھی لاگو ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ٹیکس گورننس کا نظام بہتر نہیں ہوتا اور ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کا خلا ختم نہیں ہوتا، شرحیں بڑھانے سے صرف غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے جبکہ بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی ٹیکس ڈھانچہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ویلیو چین میں ٹیکس وصولی کی ذمہ داری بنیادی طور پر رسمی اداروں پر آ جاتی ہے۔ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھتی ہے اور ٹیکس معاملات میں غیر ضروری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے نکل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ ٹیکس ڈھانچے کو سادہ بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان اشیا میں زیادہ ہے جو سیلز ٹیکس کے اسٹینڈرڈ سسٹم میں آتی ہیں، جہاں ویلیو چین کے مختلف مراحل پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس سے پیچیدگی بڑھتی ہے، خاص طور پر جب غیر رسمی کاروبار دستاویزات سے گریز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں تھرڈ شیڈول کا نظام بہتر ہے، جہاں مکمل سیلز ٹیکس ابتدائی مرحلے میں ہی مینوفیکچررز ادا کرتے ہیں۔ ریٹیل قیمتیں پرنٹ ہوتی ہیں اور جی ایس ٹی ویلیو چین کی طرف سے مینوفیکچرر ادا کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ نظام میں ہر مرحلہ حصہ ڈالتا ہے، اور یہاں ڈسٹری بیوٹر یا مینوفیکچرر بعض اوقات 6.5 فیصد اضافی ٹیکس، 4 فیصد مزید ٹیکس اور 2.5 فیصد انکم ٹیکس غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی طرف سے ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر مصنوعات پہلے ہی تھرڈ شیڈول میں شامل ہیں، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات، انفینٹ فارمولا اور چند دیگر اشیا کو بھی اسی شیڈول میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس نظام آسان ہو اور مینوفیکچررز اور صارفین پر بوجھ کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ڈیری اور دیگر شعبوں میں مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ برآمدات کی صلاحیت اور بعض کیٹیگریز میں لوکلائزیشن کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، خاص طور پر انفینٹ فارمولا کے معاملے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اصلاحات سے نئی مارکیٹس پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال کافی کو تھرڈ شیڈول میں منتقل کیا گیا، جس سے نہ صرف زیادہ ریونیو حاصل ہوا بلکہ کمپنیوں نے کافی ویلیو چین کے کچھ حصے کو مقامی سطح پر بھی منتقل کرنا شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس پالیسی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بگاڑ درست کرے اور سادہ قواعد و ضوابط کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے۔ اس حوالے سے تھرڈ شیڈول کی طرف منتقلی کچھ شعبوں میں موجود بگاڑ ختم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاریخی طور پر پاکستان نے بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، جو نہ صرف مہنگائی کے اثرات پیدا کرتے ہیں بلکہ درمیانی اور کم آمدنی والے گھرانوں پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ جتنی کم آمدنی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ ٹیکس کا اثر ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>جی ایس ٹی (جی ایس ٹی) ابتدائی 2000 کی دہائی میں 15 فیصد تھا، اور اگرچہ اسے کم کرنے کے اعلانات کیے گئے، لیکن یہ مرحلہ وار بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران ویلیو چین کو دستاویزی بنانے کے لیے جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ فارم میں نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ اور نان فائلرز پر مختلف اقسام کے اضافی ٹیکس بھی لگائے گئے۔</p>
<p>مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور رسمی معیشت کا دائرہ بڑھانا تھا۔ بظاہر یہ کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں، کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھنے کے بجائے غیر دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرنسی ان سرکولیشن (سی آئی سی) کا مانیٹری ایگریگیٹ (ایم ٹو) کے ساتھ تناسب مالی سال 2015 میں 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 30 فیصد تک پہنچا، جس کے بعد اس میں معمولی کمی آئی۔</p>
<p>رسمی کارپوریٹ سیکٹر، جو مکمل طور پر ٹیکس قوانین کی پابندی کرتا ہے، نقصان میں ہے۔ یہ کمپنیاں غیر رسمی شعبے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں جو ٹیکس سے بچ کر مارکیٹ شیئر حاصل کرتا ہے۔ نتیجتاً نہ ٹیکس نیٹ وسیع ہوا اور نہ ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس صورتحال کے مقابلے کے لیے حکومت نے بڑے کاروباروں پر سپر ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز و تاجروں پر اضافی جرمانہ ٹیکس متعارف کرایا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں معمولی اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ محدود بنیاد پر بوجھ ڈالنے سے ہوا، جبکہ دستاویزی معیشت نہیں بڑھ رہی اور ریٹیلرز رجسٹر نہیں ہو رہے۔</p>
<p>اس کے مہنگائی پر اثرات بھی ہیں۔ مزید یہ کہ رسمی کمپنیوں کے مارجنز کم ہو جاتے ہیں، جس سے وہ مارکیٹ شیئر کھو دیتی ہیں۔ آج غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بالواسطہ شکل میں مزید ڈائریکٹ ٹیکس بھی لاگو ہوتے ہیں۔</p>
<p>حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ٹیکس گورننس کا نظام بہتر نہیں ہوتا اور ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کا خلا ختم نہیں ہوتا، شرحیں بڑھانے سے صرف غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے جبکہ بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔</p>
<p>مجموعی ٹیکس ڈھانچہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ویلیو چین میں ٹیکس وصولی کی ذمہ داری بنیادی طور پر رسمی اداروں پر آ جاتی ہے۔ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھتی ہے اور ٹیکس معاملات میں غیر ضروری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے نکل رہی ہیں۔</p>
<p>پالیسی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ ٹیکس ڈھانچے کو سادہ بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان اشیا میں زیادہ ہے جو سیلز ٹیکس کے اسٹینڈرڈ سسٹم میں آتی ہیں، جہاں ویلیو چین کے مختلف مراحل پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس سے پیچیدگی بڑھتی ہے، خاص طور پر جب غیر رسمی کاروبار دستاویزات سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے مقابلے میں تھرڈ شیڈول کا نظام بہتر ہے، جہاں مکمل سیلز ٹیکس ابتدائی مرحلے میں ہی مینوفیکچررز ادا کرتے ہیں۔ ریٹیل قیمتیں پرنٹ ہوتی ہیں اور جی ایس ٹی ویلیو چین کی طرف سے مینوفیکچرر ادا کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ نظام میں ہر مرحلہ حصہ ڈالتا ہے، اور یہاں ڈسٹری بیوٹر یا مینوفیکچرر بعض اوقات 6.5 فیصد اضافی ٹیکس، 4 فیصد مزید ٹیکس اور 2.5 فیصد انکم ٹیکس غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی طرف سے ادا کرتا ہے۔</p>
<p>زیادہ تر مصنوعات پہلے ہی تھرڈ شیڈول میں شامل ہیں، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات، انفینٹ فارمولا اور چند دیگر اشیا کو بھی اسی شیڈول میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس نظام آسان ہو اور مینوفیکچررز اور صارفین پر بوجھ کم ہو۔</p>
<p>پاکستان کو ڈیری اور دیگر شعبوں میں مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ برآمدات کی صلاحیت اور بعض کیٹیگریز میں لوکلائزیشن کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، خاص طور پر انفینٹ فارمولا کے معاملے میں۔</p>
<p>ان اصلاحات سے نئی مارکیٹس پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال کافی کو تھرڈ شیڈول میں منتقل کیا گیا، جس سے نہ صرف زیادہ ریونیو حاصل ہوا بلکہ کمپنیوں نے کافی ویلیو چین کے کچھ حصے کو مقامی سطح پر بھی منتقل کرنا شروع کیا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس پالیسی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بگاڑ درست کرے اور سادہ قواعد و ضوابط کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے۔ اس حوالے سے تھرڈ شیڈول کی طرف منتقلی کچھ شعبوں میں موجود بگاڑ ختم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504703</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 13:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/05131845152e2dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/05131845152e2dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپیک سے علیحدگی: متحدہ عرب امارات کے لیے فائدہ یا نقصان؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504205/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس سے یکم مئی کو باضابطہ طور پر الگ ہو جائے گا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی اس تنظیم میں اوپیک اور اس کے اتحادی، بشمول روس، شامل ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای) کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال یہ گروپ دنیا کے تقریباً 50 فیصد تیل اور دیگر مائع ایندھن کی پیداوار کا ذمہ دار تھا۔ متحدہ عرب امارات اوپیک میں چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان کی یہ خبر محض ایک معاشی فیصلے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈی، خلیجی سیاست اور بین الاقوامی طاقت کے توازن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 60 سال تک اس اتحاد کا حصہ رہنے کے بعد یو اے ای کا الگ ہونا ایک ایسا قدم ہے جسے نہ صرف جراتمندانہ کہا جا سکتا ہے بلکہ ایک بڑی آزمائش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی یو اے ای کے لیے فائدہ مند ہوگا یا اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے فائدے کی بات کی جائے تو یو اے ای کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس کی معاشی خودمختاری ہے۔ اوپیک کے اندر رہتے ہوئے ہر ملک کو ایک مخصوص کوٹے کا پابند ہونا پڑتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی تیل کی پیداوار ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا۔ یہ نظام بظاہر عالمی منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر یو اے ای جیسے ممالک کے لیے یہ ایک رکاوٹ بن چکا تھا، جو اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی نے حالیہ برسوں میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت اس کا ہدف امریکی۔ اسرائیلی ایران جنگ سے قبل 34 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو بڑھا کر 2027 تک 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور بعد ازاں اس میں مزید اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات اپنی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب میں ممکنہ کمی کے پیشِ نظر اپنے ذخائر کو غیر استعمال شدہ رہ جانے کے خطرے سے بچانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر، جن پر امارات طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، ابوظہبی کے حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے بعد اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب یو اے ای اس اتحاد سے باہر آ چکا ہے تو وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے زیادہ برآمدات، زیادہ زرمبادلہ اور بظاہر ایک مضبوط معیشت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا فائدہ لچکدار پالیسی سازی ہے۔ اوپیک کے اندر فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں، جن میں وقت لگتا ہے اور اکثر سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ یو اے ای اب ایک آزاد کھلاڑی کے طور پر عالمی مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکتا ہے۔ وہ قیمتوں، طلب اور رسد کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک برتری دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی یہ قدم مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہو جاتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، کیونکہ انہیں ایک واضح اور مستقل حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یو اے ای پہلے ہی مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا سرمایہ کاری مرکز ہے، اور یہ فیصلہ اس کی کشش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ہر فائدے کے ساتھ ایک قیمت بھی ہوتی ہے، اور یو اے ای کو بھی اس فیصلے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا خطرہ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا ہے۔ اگر یو اے ای اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے تو مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جائے گی۔ جب سپلائی زیادہ ہو اور طلب میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہو تو قیمتیں گرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں یو اے ای کو زیادہ تیل بیچنے کے باوجود وہ آمدنی حاصل نہیں ہو پائے گی جس کی اسے توقع ہے۔ یعنی مقدار بڑھے گی، مگر منافع کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ صرف یو اے ای بلکہ دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر قیمتوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی تو یہ عالمی سطح پر ایک’’قیمتوں کی جنگ‘‘ کا آغاز بھی کر سکتی ہے، جہاں ہر ملک زیادہ سے زیادہ تیل بیچنے کی کوشش کرے گا، چاہے قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا نقصان سفارتی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اوپیک محض ایک معاشی تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی ہے، جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس اتحاد سے نکل کر یو اے ای خود کو ایک حد تک تنہا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ایک اہم پہلو ہے۔ اوپیک کی قیادت روایتی طور پر سعودی عرب کے پاس رہی ہے، اور یو اے ای کا اس اتحاد سے نکلنا اس قیادت کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو یہ خلیجی سیاست میں ایک نئی تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ خلیجی خطہ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتا ہوا تناؤ کسی بھی وقت عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے میں اوپیک جیسے اتحاد کا حصہ ہونا ایک طرح کا حفاظتی حصار بھی فراہم کرتا تھا۔ اب یو اے ای کو اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ محتاط اور خود انحصار ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور پہلو عالمی سیاست کا ہے۔ امریکا ہمیشہ  تیل کی کم قیمتوں کا حامی رہا ہے، کیونکہ اس سے اس کی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ یو اے ای کا زیادہ تیل مارکیٹ میں لانا امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ یعنی یو اے ای ایک طرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو دوسری طرف نئے تنازعات کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ یو اے ای اسے کس طرح نافذ کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی پیداوار کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور سفارتی تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتا ہے تو یہ قدم اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اگر اس نے صرف پیداوار بڑھانے پر توجہ دی اور دیگر پہلوؤں کو نظرانداز کیا تو یہ فیصلہ اس کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر یہ کہ یو اے ای نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو امکانات سے بھرا ہوا ہے، مگر خطرات سے بھی خالی نہیں۔ یہ راستہ اسے ایک مضبوط معاشی طاقت بنا سکتا ہے، مگر اس کے لیے دانشمندی، توازن اور دوراندیشی کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک سے علیحدگی یو اے ای کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر وہ اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے تو یہ فیصلہ تاریخ میں ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ورنہ یہ ایک ایسی جرات مندی ثابت ہو سکتی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس سے یکم مئی کو باضابطہ طور پر الگ ہو جائے گا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی اس تنظیم میں اوپیک اور اس کے اتحادی، بشمول روس، شامل ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای) کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال یہ گروپ دنیا کے تقریباً 50 فیصد تیل اور دیگر مائع ایندھن کی پیداوار کا ذمہ دار تھا۔ متحدہ عرب امارات اوپیک میں چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان کی یہ خبر محض ایک معاشی فیصلے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈی، خلیجی سیاست اور بین الاقوامی طاقت کے توازن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p>تقریباً 60 سال تک اس اتحاد کا حصہ رہنے کے بعد یو اے ای کا الگ ہونا ایک ایسا قدم ہے جسے نہ صرف جراتمندانہ کہا جا سکتا ہے بلکہ ایک بڑی آزمائش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی یو اے ای کے لیے فائدہ مند ہوگا یا اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے؟</p>
<p>سب سے پہلے فائدے کی بات کی جائے تو یو اے ای کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس کی معاشی خودمختاری ہے۔ اوپیک کے اندر رہتے ہوئے ہر ملک کو ایک مخصوص کوٹے کا پابند ہونا پڑتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی تیل کی پیداوار ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا۔ یہ نظام بظاہر عالمی منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر یو اے ای جیسے ممالک کے لیے یہ ایک رکاوٹ بن چکا تھا، جو اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ابوظہبی نے حالیہ برسوں میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت اس کا ہدف امریکی۔ اسرائیلی ایران جنگ سے قبل 34 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو بڑھا کر 2027 تک 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور بعد ازاں اس میں مزید اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات اپنی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب میں ممکنہ کمی کے پیشِ نظر اپنے ذخائر کو غیر استعمال شدہ رہ جانے کے خطرے سے بچانا چاہتا ہے۔</p>
<p>اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر، جن پر امارات طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، ابوظہبی کے حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے بعد اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔</p>
<p>اب جب یو اے ای اس اتحاد سے باہر آ چکا ہے تو وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے زیادہ برآمدات، زیادہ زرمبادلہ اور بظاہر ایک مضبوط معیشت۔</p>
<p>دوسرا بڑا فائدہ لچکدار پالیسی سازی ہے۔ اوپیک کے اندر فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں، جن میں وقت لگتا ہے اور اکثر سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ یو اے ای اب ایک آزاد کھلاڑی کے طور پر عالمی مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکتا ہے۔ وہ قیمتوں، طلب اور رسد کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک برتری دے سکتی ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی یہ قدم مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہو جاتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، کیونکہ انہیں ایک واضح اور مستقل حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یو اے ای پہلے ہی مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا سرمایہ کاری مرکز ہے، اور یہ فیصلہ اس کی کشش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>مگر ہر فائدے کے ساتھ ایک قیمت بھی ہوتی ہے، اور یو اے ای کو بھی اس فیصلے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>سب سے بڑا خطرہ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا ہے۔ اگر یو اے ای اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے تو مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جائے گی۔ جب سپلائی زیادہ ہو اور طلب میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہو تو قیمتیں گرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں یو اے ای کو زیادہ تیل بیچنے کے باوجود وہ آمدنی حاصل نہیں ہو پائے گی جس کی اسے توقع ہے۔ یعنی مقدار بڑھے گی، مگر منافع کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ صرف یو اے ای بلکہ دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر قیمتوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی تو یہ عالمی سطح پر ایک’’قیمتوں کی جنگ‘‘ کا آغاز بھی کر سکتی ہے، جہاں ہر ملک زیادہ سے زیادہ تیل بیچنے کی کوشش کرے گا، چاہے قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔</p>
<p>دوسرا بڑا نقصان سفارتی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اوپیک محض ایک معاشی تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی ہے، جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس اتحاد سے نکل کر یو اے ای خود کو ایک حد تک تنہا کر رہا ہے۔</p>
<p>خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ایک اہم پہلو ہے۔ اوپیک کی قیادت روایتی طور پر سعودی عرب کے پاس رہی ہے، اور یو اے ای کا اس اتحاد سے نکلنا اس قیادت کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو یہ خلیجی سیاست میں ایک نئی تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ خلیجی خطہ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتا ہوا تناؤ کسی بھی وقت عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے میں اوپیک جیسے اتحاد کا حصہ ہونا ایک طرح کا حفاظتی حصار بھی فراہم کرتا تھا۔ اب یو اے ای کو اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ محتاط اور خود انحصار ہونا پڑے گا۔</p>
<p>ایک اور پہلو عالمی سیاست کا ہے۔ امریکا ہمیشہ  تیل کی کم قیمتوں کا حامی رہا ہے، کیونکہ اس سے اس کی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ یو اے ای کا زیادہ تیل مارکیٹ میں لانا امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ یعنی یو اے ای ایک طرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو دوسری طرف نئے تنازعات کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ یو اے ای اسے کس طرح نافذ کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی پیداوار کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور سفارتی تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتا ہے تو یہ قدم اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اگر اس نے صرف پیداوار بڑھانے پر توجہ دی اور دیگر پہلوؤں کو نظرانداز کیا تو یہ فیصلہ اس کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>مختصر یہ کہ یو اے ای نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو امکانات سے بھرا ہوا ہے، مگر خطرات سے بھی خالی نہیں۔ یہ راستہ اسے ایک مضبوط معاشی طاقت بنا سکتا ہے، مگر اس کے لیے دانشمندی، توازن اور دوراندیشی کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>اوپیک سے علیحدگی یو اے ای کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر وہ اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے تو یہ فیصلہ تاریخ میں ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ورنہ یہ ایک ایسی جرات مندی ثابت ہو سکتی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504205</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 14:15:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/3014142034f7224.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/3014142034f7224.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیادت کا زوال اور مودی امیت شاہ گٹھ جوڑ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504200/the-abominable-modi-shah-duo</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں کی نبض پڑھ سکیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، یعنی عوام۔ جو لیڈر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ بالآخر عوام کی طاقت کے ہاتھوں اپنے عہدوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بات کارپوریٹ قیادت کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے تناظر میں زیادہ سچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود ہوتا ہے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہنے والے سی ای او سے نمٹ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو آموز جمہوریتوں میں ضدی اور غیر مقبول قیادت کو عموماً فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے، جس کی آئینی گنجائش ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ایسی ریاستوں میں ہمیشہ ایک تابعدار عدلیہ میسر ہوتی ہے جو بعد میں اس بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں یہ عوام کی گلی کوچوں کی طاقت ہی ہے جو ایک غیر مقبول لیڈر کا تختہ الٹنا ممکن بناتی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں کو ان کے اپنے ہی لوگوں نے سڑکوں پر گھسیٹا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اسے کب قیادت کرنی ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے۔ پیانگ یانگ کے کم خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک بے شرمی اور مسلسل خاندانی سیاسی حکمرانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ لوگ عموماً ایک ہی جیسے چہروں کو دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں جو پرانی شراب کو نئی پیکنگ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمالیہ جیسے بلند و بانگ وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیتے جو شاذ و نادر ہی پورے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دور میں ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر ایک قابل ذکر استثنیٰ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کیا ہے لیکن وہ بالکل مختلف سیاسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر سوشلسٹ ہے اور نہ ہی بے لگام سرمایہ دارانہ ہے، یہ ایک منفرد سیاسی اور معاشی نظام ہے جسے اپنانے کا حوصلہ بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود چین میں بھی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں لیکن زیادہ تر طویل اور مستحکم ادوار کے بعد۔ اس کا بنیادی اصول مسلسل معاشی اور سیاسی فوائد کا حصول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نظریاتی اصولوں کے برعکس نریندر مودی مجھے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ان الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ مجھے چار تعریفیں یاد آتی ہیں، ایک بنیاد پرست وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہوتے ہیں۔ ایک قدامت پسند وہ ہے جس کی ٹانگیں تو ٹھیک ہیں لیکن اس نے کبھی آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ ایک رجعت پسند وہ ہے جو نیند میں پیچھے کی طرف چلتا ہے۔ اور ایک لبرل وہ ہے جو اپنے دماغ کے حکم پر اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتا ہے۔مودی کے اکھنڈ بھارت کی عظمت کے سراب میں یہ تمام اوصاف نظر آتے ہیں۔ وہ روزویلٹ کی ان تمام تعریفوں کا مجموعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نئی دہلی میں گجرات کی معاشی کامیابی کی کہانی کے ساتھ وارد ہوئے، اگرچہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے احمد آباد اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کا حکم دیا تھا۔ معصوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اس مظلم نے امریکہ کو ان کا ویزا مسترد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے اس توہین کو پی لیا، کیونکہ ان کی شخصیت پر وہ مگر مچھ کی کھال چڑھی ہے جسے وہ زعفرانی لباس کے پیچھے چھپانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی جڑیں بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس میں پیوست ہیں۔ بی جے پی کی یہ سیاسی شہ رگ 1920 کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے قتل عام اور باقاعدہ فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار رہی ہے۔ ان کی اسی زعفرانی اپیل نے انہیں گجرات کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ تیزی سے پارٹی کی صفوں میں اوپر چڑھے اور بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ایک کٹر فرقہ پرست اور مسلم دشمن کا سیکولر انڈیا کا پی ایم بننا ایک مذاق ہے۔ بھارتی سیاست میں ان کی شمولیت شاید اس کی تاریخ کا سب سے طویل خودکشی کا نوٹ ہے۔ وہ بھارت کو دنیا کا عقل مند ترین بیوقوف ملک بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پربھارت شروع میں کوئی ایک ملک یا قوم نہیں تھا اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی ہندو انڈیا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے تمام تاریخ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ انڈیا ہمیشہ سیکولر رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے انڈیا مختلف مہاراجاؤں، شہزادوں اور بادشاہوں کی چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ حیدرآباد دکن، جو فرانس جتنا بڑا تھا، انڈین یونین کا حصہ نہیں تھا، اس کا حکمران مسلمان تھا جبکہ رعایا کی اکثریت ہندو تھی۔ جوناگڑھ، کشمیر اور پٹیالہ وغیرہ سب آزاد ریاستیں تھیں۔ پٹیل نے انہیں طاقت کے زور پر ہڑپ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل از مسیح کے دور میں بھی انڈیا کوئی ہندو ملک نہیں تھا۔ موریا سلطنت زیادہ تر بدھ مت پر مبنی تھی، وہاں جین مت کا بھی غلبہ تھا۔ برہمن ازم (ہندو مت) تیسرے نمبر پر تھا۔ اشوک نے انڈیا میں بدھ مت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اشوک کے اخلاقی ضابطے کا سنگ بنیاد تمام مذاہب کے پرامن بقائے باہمی پر تھا۔ مودی انڈیا کی امن و رواداری پر مبنی بہترین تاریخی روایات کو مٹا رہے ہیں۔ آج معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے اور اسے نفرت کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہرو، گاندھی اور آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والے ان کے تمام ساتھی (بجز مسلم دشمن ہوم منسٹر ولبھ بھائی پٹیل کے) سیکولر تھے۔ انہوں نے کبھی ہندو انڈیا کے تصور کی حمایت نہیں کی۔ پٹیل کا تعلق بھی گجرات سے تھا اور وہ آر ایس ایس کے فعال حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے گاندھی اور نہرو کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ آر ایس ایس کا ہی ایک فعال رکن نتھورام گوڈسے تھا، جس نے چند گولیوں سے گاندھی کا قصہ تمام کر دیا۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرا گمان ہے کہ اگر ولبھ بھائی پٹیل مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو نہرو کو بھی پٹیل کی رہنمائی میں آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی اور ان کے داغدار کابینہ ساتھی (اور گہرے دوست) امیت شاہ آر ایس ایس کی حقیقی اولاد اور مسلم دشمنوں کے سرپرست ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں، بدھ متوں، جینیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے بڑے پیمانے پرقتل عام کی صدارت کی ہے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ، جس پر ملک کو چند دہائیاں پہلے تک فخر تھا اب بھارتی معاشرے کا سب سے زیادہ مذہبی طور پر متعصب حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش ان پر اس طرح الٹ گئی ہے کہ اب ان کی اپنی ناک لہولہان ہے۔ پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد فضائی جھڑپ، جس میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے (بشمول رافیل جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا) مار گرائے، اس کے بعد سے مودی کی مقبولیت گر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی فیاضی میں گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی نئی محبت میں انہوں نے براہِ راست اور بالواسطہ مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا آج مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے اور ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مودی کے تباہ کن فیصلوں کے بعد عالمی برادری انہیں ایک قابلِ بھروسہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے مودی کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں ایک وفادار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے سپاہی اور ساز و سامان پہلے ہی سعودی سر زمین پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی تو انڈین ٹی وی چینلز کے اینکرز آپے سے باہر ہو گئے، ان میں سے ہر ایک سامعین کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ واقعی چارلس ڈاروین کے نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ وہ اسٹوڈیو میں بے شرمی سے پاکستان کی مخالفت میں اچھل کود کر رہے تھے لیکن اب تمام توپوں کا رخ مودی اور ان کی نااہلیوں کی طرف ہے، جس کی وجہ سے انڈیا بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سفارت کاری آج اپنے عروج پر ہے، جیسا کہ 1974 میں لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت تھی۔ انڈین میڈیا اب پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں بلکہ نریندر مودی پر تنقید اور ملامت کرنے کے لیے۔ مودی بہت زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں، جس کا اعتراف کرنے سے وہ انکاری ہیں۔ وہ انتقام پسند ہیں اور پچھلے اپریل میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کے زخم چاٹ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آج اچانک انتخابات کرائے جائیں تو مودی یقینی طور پر ہار جائیں گے۔ لہذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ عہدے سے الگ ہو جائیں اور امیت شاہ کو بھی اپنے ساتھ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں لے جائیں۔ اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جو مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے اکھنڈ بھارت کے سراب یا ہندو برتری کے زہر سے متاثر نہیں ہے تو اسے آگے آنا چاہیے، تاکہ انڈیا کو دوبارہ پنچ شیل اور سیکولرزم کے نظریات کی طرف لے جایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے بارے میں مودی کا نظریہ اتنا متعصب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی ہم وطن ششی تھرور کی وہ تقریر سننی چاہیے کہ اسلام کیرالہ میں کیسے آیا، تاکہ ان کی تاریخی حس درست ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہین لیڈر جانتے ہیں کہ اسٹیج کی روشنیاں کب مدھم ہونے والی ہیں۔ جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے شہنشاہ رضا پہلوی، فلپائن کے فرڈینینڈ مارکوس اور حال ہی میں حسینہ واجد نے ضد دکھائی اور اقتدار سے چمٹے رہے، پھر وقت کے پہیے نے انہیں ذلت کے ساتھ ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کے دور میں انڈیا اپنا کردار اور شناخت کھو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی عوام اس طویل مدتی نقصان کا ادراک کریں جو ان کا وزیر اعظم سماجی ڈھانچے کو پہنچا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا معاشرہ جو نفرت پر پلتا ہو کبھی ترقی یا استحکام حاصل نہیں کر سکا ہے۔ فطری انصاف غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ انڈیا کی بربادی کو اب انڈیا کے لوگوں کو خود روکنا ہوگا، جو کہ اکثریت میں امن پسند ہندو ہیں اور ہندو مت کا بنیادی اصول اہنسا یعنی عدم تشدد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی اور امیت شاہ کو تمام ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے۔ اگر انہوں نے نئی اور روشن خیال قیادت کے لیے راستہ صاف نہ کیا تو تباہی سامنے کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں کی نبض پڑھ سکیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، یعنی عوام۔ جو لیڈر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ بالآخر عوام کی طاقت کے ہاتھوں اپنے عہدوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بات کارپوریٹ قیادت کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے تناظر میں زیادہ سچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود ہوتا ہے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہنے والے سی ای او سے نمٹ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>نو آموز جمہوریتوں میں ضدی اور غیر مقبول قیادت کو عموماً فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے، جس کی آئینی گنجائش ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ایسی ریاستوں میں ہمیشہ ایک تابعدار عدلیہ میسر ہوتی ہے جو بعد میں اس بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں یہ عوام کی گلی کوچوں کی طاقت ہی ہے جو ایک غیر مقبول لیڈر کا تختہ الٹنا ممکن بناتی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں کو ان کے اپنے ہی لوگوں نے سڑکوں پر گھسیٹا۔</p>
<p>ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اسے کب قیادت کرنی ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے۔ پیانگ یانگ کے کم خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک بے شرمی اور مسلسل خاندانی سیاسی حکمرانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ لوگ عموماً ایک ہی جیسے چہروں کو دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں جو پرانی شراب کو نئی پیکنگ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمالیہ جیسے بلند و بانگ وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیتے جو شاذ و نادر ہی پورے ہوتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ دور میں ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر ایک قابل ذکر استثنیٰ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کیا ہے لیکن وہ بالکل مختلف سیاسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر سوشلسٹ ہے اور نہ ہی بے لگام سرمایہ دارانہ ہے، یہ ایک منفرد سیاسی اور معاشی نظام ہے جسے اپنانے کا حوصلہ بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود چین میں بھی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں لیکن زیادہ تر طویل اور مستحکم ادوار کے بعد۔ اس کا بنیادی اصول مسلسل معاشی اور سیاسی فوائد کا حصول ہے۔</p>
<p>ان نظریاتی اصولوں کے برعکس نریندر مودی مجھے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ان الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ مجھے چار تعریفیں یاد آتی ہیں، ایک بنیاد پرست وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہوتے ہیں۔ ایک قدامت پسند وہ ہے جس کی ٹانگیں تو ٹھیک ہیں لیکن اس نے کبھی آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ ایک رجعت پسند وہ ہے جو نیند میں پیچھے کی طرف چلتا ہے۔ اور ایک لبرل وہ ہے جو اپنے دماغ کے حکم پر اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتا ہے۔مودی کے اکھنڈ بھارت کی عظمت کے سراب میں یہ تمام اوصاف نظر آتے ہیں۔ وہ روزویلٹ کی ان تمام تعریفوں کا مجموعہ ہیں۔</p>
<p>مودی نئی دہلی میں گجرات کی معاشی کامیابی کی کہانی کے ساتھ وارد ہوئے، اگرچہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے احمد آباد اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کا حکم دیا تھا۔ معصوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اس مظلم نے امریکہ کو ان کا ویزا مسترد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے اس توہین کو پی لیا، کیونکہ ان کی شخصیت پر وہ مگر مچھ کی کھال چڑھی ہے جسے وہ زعفرانی لباس کے پیچھے چھپانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔</p>
<p>مودی کی جڑیں بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس میں پیوست ہیں۔ بی جے پی کی یہ سیاسی شہ رگ 1920 کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے قتل عام اور باقاعدہ فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار رہی ہے۔ ان کی اسی زعفرانی اپیل نے انہیں گجرات کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ تیزی سے پارٹی کی صفوں میں اوپر چڑھے اور بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ایک کٹر فرقہ پرست اور مسلم دشمن کا سیکولر انڈیا کا پی ایم بننا ایک مذاق ہے۔ بھارتی سیاست میں ان کی شمولیت شاید اس کی تاریخ کا سب سے طویل خودکشی کا نوٹ ہے۔ وہ بھارت کو دنیا کا عقل مند ترین بیوقوف ملک بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>تاریخی طور پربھارت شروع میں کوئی ایک ملک یا قوم نہیں تھا اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی ہندو انڈیا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے تمام تاریخ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ انڈیا ہمیشہ سیکولر رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے انڈیا مختلف مہاراجاؤں، شہزادوں اور بادشاہوں کی چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ حیدرآباد دکن، جو فرانس جتنا بڑا تھا، انڈین یونین کا حصہ نہیں تھا، اس کا حکمران مسلمان تھا جبکہ رعایا کی اکثریت ہندو تھی۔ جوناگڑھ، کشمیر اور پٹیالہ وغیرہ سب آزاد ریاستیں تھیں۔ پٹیل نے انہیں طاقت کے زور پر ہڑپ کیا۔</p>
<p>قبل از مسیح کے دور میں بھی انڈیا کوئی ہندو ملک نہیں تھا۔ موریا سلطنت زیادہ تر بدھ مت پر مبنی تھی، وہاں جین مت کا بھی غلبہ تھا۔ برہمن ازم (ہندو مت) تیسرے نمبر پر تھا۔ اشوک نے انڈیا میں بدھ مت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اشوک کے اخلاقی ضابطے کا سنگ بنیاد تمام مذاہب کے پرامن بقائے باہمی پر تھا۔ مودی انڈیا کی امن و رواداری پر مبنی بہترین تاریخی روایات کو مٹا رہے ہیں۔ آج معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے اور اسے نفرت کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>نہرو، گاندھی اور آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والے ان کے تمام ساتھی (بجز مسلم دشمن ہوم منسٹر ولبھ بھائی پٹیل کے) سیکولر تھے۔ انہوں نے کبھی ہندو انڈیا کے تصور کی حمایت نہیں کی۔ پٹیل کا تعلق بھی گجرات سے تھا اور وہ آر ایس ایس کے فعال حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے گاندھی اور نہرو کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ آر ایس ایس کا ہی ایک فعال رکن نتھورام گوڈسے تھا، جس نے چند گولیوں سے گاندھی کا قصہ تمام کر دیا۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرا گمان ہے کہ اگر ولبھ بھائی پٹیل مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو نہرو کو بھی پٹیل کی رہنمائی میں آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا۔</p>
<p>مودی اور ان کے داغدار کابینہ ساتھی (اور گہرے دوست) امیت شاہ آر ایس ایس کی حقیقی اولاد اور مسلم دشمنوں کے سرپرست ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں، بدھ متوں، جینیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے بڑے پیمانے پرقتل عام کی صدارت کی ہے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ، جس پر ملک کو چند دہائیاں پہلے تک فخر تھا اب بھارتی معاشرے کا سب سے زیادہ مذہبی طور پر متعصب حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔</p>
<p>مودی کی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش ان پر اس طرح الٹ گئی ہے کہ اب ان کی اپنی ناک لہولہان ہے۔ پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد فضائی جھڑپ، جس میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے (بشمول رافیل جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا) مار گرائے، اس کے بعد سے مودی کی مقبولیت گر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی فیاضی میں گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی نئی محبت میں انہوں نے براہِ راست اور بالواسطہ مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔</p>
<p>انڈیا آج مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے اور ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مودی کے تباہ کن فیصلوں کے بعد عالمی برادری انہیں ایک قابلِ بھروسہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے مودی کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں ایک وفادار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے سپاہی اور ساز و سامان پہلے ہی سعودی سر زمین پر موجود ہیں۔</p>
<p>جب پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی تو انڈین ٹی وی چینلز کے اینکرز آپے سے باہر ہو گئے، ان میں سے ہر ایک سامعین کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ واقعی چارلس ڈاروین کے نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ وہ اسٹوڈیو میں بے شرمی سے پاکستان کی مخالفت میں اچھل کود کر رہے تھے لیکن اب تمام توپوں کا رخ مودی اور ان کی نااہلیوں کی طرف ہے، جس کی وجہ سے انڈیا بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سفارت کاری آج اپنے عروج پر ہے، جیسا کہ 1974 میں لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت تھی۔ انڈین میڈیا اب پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں بلکہ نریندر مودی پر تنقید اور ملامت کرنے کے لیے۔ مودی بہت زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں، جس کا اعتراف کرنے سے وہ انکاری ہیں۔ وہ انتقام پسند ہیں اور پچھلے اپریل میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کے زخم چاٹ رہے ہیں۔</p>
<p>اگر آج اچانک انتخابات کرائے جائیں تو مودی یقینی طور پر ہار جائیں گے۔ لہذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ عہدے سے الگ ہو جائیں اور امیت شاہ کو بھی اپنے ساتھ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں لے جائیں۔ اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جو مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے اکھنڈ بھارت کے سراب یا ہندو برتری کے زہر سے متاثر نہیں ہے تو اسے آگے آنا چاہیے، تاکہ انڈیا کو دوبارہ پنچ شیل اور سیکولرزم کے نظریات کی طرف لے جایا جا سکے۔</p>
<p>تاریخ کے بارے میں مودی کا نظریہ اتنا متعصب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی ہم وطن ششی تھرور کی وہ تقریر سننی چاہیے کہ اسلام کیرالہ میں کیسے آیا، تاکہ ان کی تاریخی حس درست ہو سکے۔</p>
<p>ذہین لیڈر جانتے ہیں کہ اسٹیج کی روشنیاں کب مدھم ہونے والی ہیں۔ جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے شہنشاہ رضا پہلوی، فلپائن کے فرڈینینڈ مارکوس اور حال ہی میں حسینہ واجد نے ضد دکھائی اور اقتدار سے چمٹے رہے، پھر وقت کے پہیے نے انہیں ذلت کے ساتھ ہٹا دیا۔</p>
<p>نریندر مودی کے دور میں انڈیا اپنا کردار اور شناخت کھو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی عوام اس طویل مدتی نقصان کا ادراک کریں جو ان کا وزیر اعظم سماجی ڈھانچے کو پہنچا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا معاشرہ جو نفرت پر پلتا ہو کبھی ترقی یا استحکام حاصل نہیں کر سکا ہے۔ فطری انصاف غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ انڈیا کی بربادی کو اب انڈیا کے لوگوں کو خود روکنا ہوگا، جو کہ اکثریت میں امن پسند ہندو ہیں اور ہندو مت کا بنیادی اصول اہنسا یعنی عدم تشدد ہے۔</p>
<p>نریندر مودی اور امیت شاہ کو تمام ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے۔ اگر انہوں نے نئی اور روشن خیال قیادت کے لیے راستہ صاف نہ کیا تو تباہی سامنے کھڑی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504200</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:52:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/071330499bddc5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/071330499bddc5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیادت کی ٹیم میں اختلافات کا مؤثر حل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504166/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ غیر حقیقی سوچ کا حامل ہے۔ وہ بہت خوش مزاج ہے۔ وہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا پسند کرتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کا بہتر استعمال جانتی ہے۔ یہ کچھ تاثرات ہیں جو میں نے اعلیٰ سطح کی ٹیم کے ارکان کے بارے میں سنے ہیں۔ ایک حالیہ کوچنگ سیشن میں کمپنی کے سی ای او شدت جذبات سے پریشان ہو کر واقعی پاگل ہو رہے تھے۔ وہ بار بار ”بگاڑنے والوں“ کا ذکر کر کے اپنی بے چینی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک خاص سینئر رکن ایسے تھے جو انہیں پاگل کئے جارہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;” وہ اپنے کام میں ماہر ہے۔ اپنی ٹیم کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔ بات کرتا ہے، کبھی کبھار بے ترتیبی سے بھی۔ اچھا ہے مگر برا بھی۔ برا ہے مگر پیشہ ورانہ ہے۔ قابو سے باہر ہے مگر بہت ایماندار ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت سے بہت مطمئن ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پوچھا، ”اس میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دے رہی ہے؟” جواب آیا، ”زیادہ کچھ نہیں، بس اس کا زیادہ محنتی اور بلند حوصلہ نہ ہونا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک عام صورتحال ہے، سی ای او اور سینئر قیادت کے درمیان تصادم۔ سی ای او کی آواز میں جو بے چینی تھی، وہ تجربہ کار افراد کے ساتھ نمٹنے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی مہارت اور ذاتی وقار کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر قیادت کی دنیا کچھ اور ہے۔ وہ درمیانی سطح کے مینیجر نہیں جو نسبتاً نئے ہوں اور اوپر والوں کے احکامات پر چلنے کی توقع کی جاتی ہو۔ سینئر رہنما ایسے لوگ ہیں جن کے اپنے مضبوط انا ہیں اور جو تقریباً عروج پر پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کئی کے پاس سی اوی او سے زیادہ تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ بعض اوقات وہ اندرونی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل کمپنی کے سربراہ وہی ہیں۔ کچھ، جو پرانے اور اندرونی رکن ہیں، کسی چھوٹی عمر کے یا باہر سے آئے سی ای او پر ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے، جو کسی اور کمپنی سے آئے ہیں، اس کشمکش کو دیکھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ سی ای او یا کمپنی کے سربراہ پہلے بھی مشکل لوگوں سے نمٹ چکے ہوتے ہیں، وہ عام طور پر اس سطح کی قیادت میں ہونے والے اندرونی تنازعات کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ڈویلپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل (ڈی ڈی آئی ) کے عالمی قیادت کے جائزوں میں 70,000 سے زائد مینیجر امیدواروں کا مطالعہ کیا گیا، جس میں تقریباً نصف (49 فیصد) موثر تنازع مینجمنٹ کی مہارت دکھانے میں ناکام رہے اور صرف 12 فیصد نے اس شعبے میں اعلیٰ مہارت دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک باعث تشویش امر ہے۔ جو اوپر ہوتا ہے، بالآخر نیچے بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اوپر تنازع نہ صرف اہم شعبوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ نیچے تک اثر انداز ہوتا ہے۔ سی ای او کے لیے یہ صلاحیت کہ مختلف رائے کو پروان چڑھنے دے لیکن ٹیم کی سمت نہ بگڑنے دے، ایک اعلیٰ کارکردگی والی قیادت ٹیم بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ توازن قائم کرنے کے لیے، قیادت کے سربراہ کو درج ذیل &lt;strong&gt;تنازع کے محرکات&lt;/strong&gt; سمجھنے ہوں گے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 1 – سب سے ہوشیار شخص&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ لوگ توجہ اپنی طرف مرکوز کرتے ہیں۔ زیادہ بولتے ہیں اور کم سنتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنی شاندار تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ تقریباً ہر موضوع کے ماہر ہیں۔ ایک اجلاس میں جس میں سینئر ٹیم کے اراکین کی تجاویز پر بات ہونی تھی، یہ شخص بولے،&lt;br&gt;”مجھے معلوم ہے کہ میرے ساتھیوں کے پاس شاندار آئیڈیاز ہیں، لیکن میری رائے میں…“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی تجویز پیش کرتے رہے۔ جب انہوں نے آخرکار بات ختم کی اور دیگر لوگ بولنے لگے، تو وہ مسلسل اپنی تجویز کا دفاع کرتے رہے، یہ بتاتے ہوئے کہ دیگر تجاویز اتنی موثر کیوں نہیں ہیں۔ کچھ ارکان نے اسے اچھا نہیں سمجھا اور کہا کہ یہ اجلاس آئیڈیاز جمع کرنے کے لیے تھا، کسی کو صحیح اور کسی کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تنازع واضح تھا اور اجلاس بے نتیجہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 2 – فیڈبیک سے بچنے والا/جوابی مزاحمت کرنے والا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;ایک اور مسئلہ سینئر رکن ہے، جو فیڈبیک کو مثبت طور پر نہیں لیتا۔ اگر اس کی ٹیم کی ترقی کی ضرورت ہو، تو وہ موضوع کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف بتاتا ہے کہ اہداف کیسے پورے ہو رہے ہیں۔ اگر اس کا رویہ بدلنے کی ضرورت ہو، تو وہ بار بار کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر فیڈبیک دہرانا پڑے، تو وہ جوابی کارروائی میں چلا جاتا ہے اور الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ سینئر سطح پر یہ ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ تجربہ اور انا کی وجہ سے ایسے لوگ رویے میں تبدیلی پر کم آمادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 3 – ’میں‘ اول، ’ہم‘ بعد میں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پھر وہ سینئر رکن ہے جو ٹیم کے ساتھ میل جول کم رکھتا ہے۔ ایک سینئر ٹیم کے منصوبہ بندی کے ریٹریٹ میں، میں نے دیکھا کہ یہ لوگ تنہا چہل قدمی کر رہے تھے جبکہ باقی ٹیم ایک ساتھ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ یہ افراد انٹروورٹ ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ٹیم میں غلط پیغامات دیتے ہیں۔ دیگر اراکین انہیں ” میں، خود اور صرف میں“ والا شخص سمجھنے لگے، جو ٹیم میں ذاتی تعلقات بنانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 4 – ’ہاں‘ بولنے والا مگر ’نہیں‘ کرنے والا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پھر وہ کلاسیکی ”زبان سے ہاں، عمل سے نہیں“ کرنے والا رکن ہے۔ وہ اجلاسوں اور بات چیت میں سب کو خوش کرنے والا دکھائی دیتا ہے، لیکن پیچھے اپنا ایجنڈا چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کے کچھ قریبی تعلقات بورڈ کے کچھ ڈائریکٹرز کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ سینئر ٹیم کے لیے یہ احساس کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، انتظامی عہدوں میں اختلافات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ سینئر ٹیم کی متضاد شخصیات اور انداز کو کس طرح سنبھالا جائے۔ اگرچہ تنوع مختلف انداز کی ضرورت رکھتا ہے، لیکن یہ ٹیم میں تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ سی ای او کو حکمت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ٹیم کو سنبھالیں، انہیں مصروف رکھیں اور ٹیم کو متحد رکھیں۔ اس کے لیے چند طریقے یہ ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1. ٹیم کے ارکان کو سمجھیں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;متنوع ٹیم جس میں مختلف انداز موجود ہوں، یقیناً طاقت ہے۔ لیکن اگر ان اختلافات کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالا جائے، تو ٹیم غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سی ای او کو ٹیم کے پس منظر اور مہارت کو سمجھ کر کردار تفویض کرنے چاہئیں۔ غالب شخصیات کو قابو میں رکھنے کے لیے، کرداروں کی تقسیم اسٹریٹجک ہونی چاہیے۔ انہیں ایسے کردار دیں جہاں وہ محسوس کریں کہ وہ قیادت کر رہے ہیں۔ کچھ ذیلی کمیٹیاں بنائیں اور انہیں ان کمیٹیوں کی سربراہی کرنے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2. رویے اور جوابدہی کا مظاہرہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;اجلاسوں میں مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کے اصول مقرر کریں اور ایک غیر جانبدار شخص کو اجلاس چلانے کے لیے تعینات کریں۔ آئیڈیاز پیش کرنے کے وقت کے لیے سخت قواعد ہوں اور ہر کسی کو بات سننے کا موقع ملے۔ مثال قائم کرنے کے لیے، سی ای او خود شروع کریں، وقت سے زیادہ بولیں اور پھر اجلاس کے کنٹرولر سے چیک کرائیں تاکہ یہ پیغام جائے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3. کوچنگ کے اقدامات تیار کریں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;رویے میں تبدیلی کے لیے، سینئر ارکان کے لیے ایک سے ایک بیرونی کوچنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ پیشہ ورانہ مدد حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کرنے کے لیے، سی ای او یا قیادت ٹیم کے سربراہ کو یہ ذہن سازی کرنی ہوگی کہ اگرچہ تنوع ایک بہت بڑی خوبی ہے، اتنی ہی اہم وضاحت اور جوابدہی بھی ہے۔ تنازعات سے بچنا، انہیں نظر انداز کرنا یا فرار اختیار کرنا حل نہیں ہے، بلکہ ان سے موثر انداز میں نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ تھامس کرم نے کہا ہے کہ: ”ہماری زندگی کا معیار اس بات پر نہیں کہ ہمارے درمیان تنازعات ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم ان سے کس طرح نمٹتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وہ غیر حقیقی سوچ کا حامل ہے۔ وہ بہت خوش مزاج ہے۔ وہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا پسند کرتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کا بہتر استعمال جانتی ہے۔ یہ کچھ تاثرات ہیں جو میں نے اعلیٰ سطح کی ٹیم کے ارکان کے بارے میں سنے ہیں۔ ایک حالیہ کوچنگ سیشن میں کمپنی کے سی ای او شدت جذبات سے پریشان ہو کر واقعی پاگل ہو رہے تھے۔ وہ بار بار ”بگاڑنے والوں“ کا ذکر کر کے اپنی بے چینی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک خاص سینئر رکن ایسے تھے جو انہیں پاگل کئے جارہے تھے۔</strong></p>
<p>” وہ اپنے کام میں ماہر ہے۔ اپنی ٹیم کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔ بات کرتا ہے، کبھی کبھار بے ترتیبی سے بھی۔ اچھا ہے مگر برا بھی۔ برا ہے مگر پیشہ ورانہ ہے۔ قابو سے باہر ہے مگر بہت ایماندار ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت سے بہت مطمئن ہیں۔“</p>
<p>میں نے پوچھا، ”اس میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دے رہی ہے؟” جواب آیا، ”زیادہ کچھ نہیں، بس اس کا زیادہ محنتی اور بلند حوصلہ نہ ہونا۔“</p>
<p>یہ ایک عام صورتحال ہے، سی ای او اور سینئر قیادت کے درمیان تصادم۔ سی ای او کی آواز میں جو بے چینی تھی، وہ تجربہ کار افراد کے ساتھ نمٹنے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی مہارت اور ذاتی وقار کے حامل ہیں۔</p>
<p>سینئر قیادت کی دنیا کچھ اور ہے۔ وہ درمیانی سطح کے مینیجر نہیں جو نسبتاً نئے ہوں اور اوپر والوں کے احکامات پر چلنے کی توقع کی جاتی ہو۔ سینئر رہنما ایسے لوگ ہیں جن کے اپنے مضبوط انا ہیں اور جو تقریباً عروج پر پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کئی کے پاس سی اوی او سے زیادہ تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ بعض اوقات وہ اندرونی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل کمپنی کے سربراہ وہی ہیں۔ کچھ، جو پرانے اور اندرونی رکن ہیں، کسی چھوٹی عمر کے یا باہر سے آئے سی ای او پر ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے، جو کسی اور کمپنی سے آئے ہیں، اس کشمکش کو دیکھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ سی ای او یا کمپنی کے سربراہ پہلے بھی مشکل لوگوں سے نمٹ چکے ہوتے ہیں، وہ عام طور پر اس سطح کی قیادت میں ہونے والے اندرونی تنازعات کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ڈویلپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل (ڈی ڈی آئی ) کے عالمی قیادت کے جائزوں میں 70,000 سے زائد مینیجر امیدواروں کا مطالعہ کیا گیا، جس میں تقریباً نصف (49 فیصد) موثر تنازع مینجمنٹ کی مہارت دکھانے میں ناکام رہے اور صرف 12 فیصد نے اس شعبے میں اعلیٰ مہارت دکھائی۔</p>
<p>یہ ایک باعث تشویش امر ہے۔ جو اوپر ہوتا ہے، بالآخر نیچے بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اوپر تنازع نہ صرف اہم شعبوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ نیچے تک اثر انداز ہوتا ہے۔ سی ای او کے لیے یہ صلاحیت کہ مختلف رائے کو پروان چڑھنے دے لیکن ٹیم کی سمت نہ بگڑنے دے، ایک اعلیٰ کارکردگی والی قیادت ٹیم بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ توازن قائم کرنے کے لیے، قیادت کے سربراہ کو درج ذیل <strong>تنازع کے محرکات</strong> سمجھنے ہوں گے:</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 1 – سب سے ہوشیار شخص</strong><br>یہ لوگ توجہ اپنی طرف مرکوز کرتے ہیں۔ زیادہ بولتے ہیں اور کم سنتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنی شاندار تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ تقریباً ہر موضوع کے ماہر ہیں۔ ایک اجلاس میں جس میں سینئر ٹیم کے اراکین کی تجاویز پر بات ہونی تھی، یہ شخص بولے،<br>”مجھے معلوم ہے کہ میرے ساتھیوں کے پاس شاندار آئیڈیاز ہیں، لیکن میری رائے میں…“</p>
<p>وہ اپنی تجویز پیش کرتے رہے۔ جب انہوں نے آخرکار بات ختم کی اور دیگر لوگ بولنے لگے، تو وہ مسلسل اپنی تجویز کا دفاع کرتے رہے، یہ بتاتے ہوئے کہ دیگر تجاویز اتنی موثر کیوں نہیں ہیں۔ کچھ ارکان نے اسے اچھا نہیں سمجھا اور کہا کہ یہ اجلاس آئیڈیاز جمع کرنے کے لیے تھا، کسی کو صحیح اور کسی کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تنازع واضح تھا اور اجلاس بے نتیجہ رہا۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 2 – فیڈبیک سے بچنے والا/جوابی مزاحمت کرنے والا</strong><br>ایک اور مسئلہ سینئر رکن ہے، جو فیڈبیک کو مثبت طور پر نہیں لیتا۔ اگر اس کی ٹیم کی ترقی کی ضرورت ہو، تو وہ موضوع کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف بتاتا ہے کہ اہداف کیسے پورے ہو رہے ہیں۔ اگر اس کا رویہ بدلنے کی ضرورت ہو، تو وہ بار بار کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر فیڈبیک دہرانا پڑے، تو وہ جوابی کارروائی میں چلا جاتا ہے اور الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ سینئر سطح پر یہ ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ تجربہ اور انا کی وجہ سے ایسے لوگ رویے میں تبدیلی پر کم آمادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 3 – ’میں‘ اول، ’ہم‘ بعد میں</strong><br>پھر وہ سینئر رکن ہے جو ٹیم کے ساتھ میل جول کم رکھتا ہے۔ ایک سینئر ٹیم کے منصوبہ بندی کے ریٹریٹ میں، میں نے دیکھا کہ یہ لوگ تنہا چہل قدمی کر رہے تھے جبکہ باقی ٹیم ایک ساتھ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ یہ افراد انٹروورٹ ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ٹیم میں غلط پیغامات دیتے ہیں۔ دیگر اراکین انہیں ” میں، خود اور صرف میں“ والا شخص سمجھنے لگے، جو ٹیم میں ذاتی تعلقات بنانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 4 – ’ہاں‘ بولنے والا مگر ’نہیں‘ کرنے والا</strong><br>پھر وہ کلاسیکی ”زبان سے ہاں، عمل سے نہیں“ کرنے والا رکن ہے۔ وہ اجلاسوں اور بات چیت میں سب کو خوش کرنے والا دکھائی دیتا ہے، لیکن پیچھے اپنا ایجنڈا چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کے کچھ قریبی تعلقات بورڈ کے کچھ ڈائریکٹرز کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ سینئر ٹیم کے لیے یہ احساس کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، انتظامی عہدوں میں اختلافات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ سینئر ٹیم کی متضاد شخصیات اور انداز کو کس طرح سنبھالا جائے۔ اگرچہ تنوع مختلف انداز کی ضرورت رکھتا ہے، لیکن یہ ٹیم میں تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ سی ای او کو حکمت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ٹیم کو سنبھالیں، انہیں مصروف رکھیں اور ٹیم کو متحد رکھیں۔ اس کے لیے چند طریقے یہ ہیں:</p>
<p><strong>1. ٹیم کے ارکان کو سمجھیں</strong><br>متنوع ٹیم جس میں مختلف انداز موجود ہوں، یقیناً طاقت ہے۔ لیکن اگر ان اختلافات کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالا جائے، تو ٹیم غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سی ای او کو ٹیم کے پس منظر اور مہارت کو سمجھ کر کردار تفویض کرنے چاہئیں۔ غالب شخصیات کو قابو میں رکھنے کے لیے، کرداروں کی تقسیم اسٹریٹجک ہونی چاہیے۔ انہیں ایسے کردار دیں جہاں وہ محسوس کریں کہ وہ قیادت کر رہے ہیں۔ کچھ ذیلی کمیٹیاں بنائیں اور انہیں ان کمیٹیوں کی سربراہی کرنے دیں۔</p>
<p><strong>2. رویے اور جوابدہی کا مظاہرہ کریں</strong><br>اجلاسوں میں مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کے اصول مقرر کریں اور ایک غیر جانبدار شخص کو اجلاس چلانے کے لیے تعینات کریں۔ آئیڈیاز پیش کرنے کے وقت کے لیے سخت قواعد ہوں اور ہر کسی کو بات سننے کا موقع ملے۔ مثال قائم کرنے کے لیے، سی ای او خود شروع کریں، وقت سے زیادہ بولیں اور پھر اجلاس کے کنٹرولر سے چیک کرائیں تاکہ یہ پیغام جائے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔</p>
<p><strong>3. کوچنگ کے اقدامات تیار کریں</strong><br>رویے میں تبدیلی کے لیے، سینئر ارکان کے لیے ایک سے ایک بیرونی کوچنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ پیشہ ورانہ مدد حاصل ہو۔</p>
<p>یہ سب کرنے کے لیے، سی ای او یا قیادت ٹیم کے سربراہ کو یہ ذہن سازی کرنی ہوگی کہ اگرچہ تنوع ایک بہت بڑی خوبی ہے، اتنی ہی اہم وضاحت اور جوابدہی بھی ہے۔ تنازعات سے بچنا، انہیں نظر انداز کرنا یا فرار اختیار کرنا حل نہیں ہے، بلکہ ان سے موثر انداز میں نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ تھامس کرم نے کہا ہے کہ: ”ہماری زندگی کا معیار اس بات پر نہیں کہ ہمارے درمیان تنازعات ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم ان سے کس طرح نمٹتے ہیں۔“</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504166</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:29:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07132920691607e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07132920691607e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لچکدار معیشت یا پھر کشکول اٹھانا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504087/flexible-economy-or-austerity</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے مالیات خرم شہزاد نے گزشتہ پیر کو ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اضافی 250 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، گرین شو آپشن کے ذریعے (جس کے تحت بانڈ جاری کرنے والا سرمایہ کاروں کی زیادہ طلب کو پورا کرنے اور ثانوی منڈی میں بانڈ کی قیمت کو مستحکم کرنے کے لیے بانڈ کے سائز میں اضافہ کرتا ہے، جس سے بانڈ کی اصل قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے)، جس کے نتیجے میں یوروبانڈ کے اجراء کا مجموعی حجم 750 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یوروبانڈ اپریل 2029 میں میچور ہوگا، اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ ( جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت واحد بک میکر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ تھا۔ اس اجراء کا مقصد جزوی طور پر متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی ادائیگیوں (اس ماہ کے آخر تک 4.5 بلین ڈالر) کو اسی شرحِ سود، 6.975 فیصد، پر تبدیل کرنا تھا۔ اس شرح پر تین سالانہ ادائیگیاں ہر سال 52.31 ملین ڈالر ہوں گی، جس کا کل حجم اپریل 2029 تک 156.9 ملین ڈالر بنتا ہے اور اس کے بعد حکومت کو اصل رقم 750 ملین ڈالر واپس کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کبھی اپنے بیرونی قرضوں میں ڈیفالٹ نہیں کیا، اور مشیر نے فوری طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان نے 8 اپریل کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈ کی ادائیگی کی اور دیگر یوروبانڈ اجراء پر 126.125 ملین ڈالر کے کوپن واجبات بھی ادا کیے، ساتھ ہی کہا کہ ” قرض کی ادائیگی“ اب بھی بغیر کسی رکاوٹ یا افراتفری کے جاری ہے، جو استحکام، نظم و ضبط اور مضبوط صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔“ تاہم، انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ قرض کی یہ ادائیگی 8,206,667 ملین روپے پر مشتمل ہے، جو 2025-26 کے کل بجٹ کا 47 فیصد بنتا ہے، اور یہ امکان ہے کہ یہ رقم مزید بڑھے کیونکہ دسمبر 2025 تک متوقع پالیسی ریٹ میں کمی عمل میں نہیں آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، مشیر کے دعوے میں وزن ہے کیونکہ اس سے پہلے، ایکوئٹی مارکیٹ سے قرضہ حاصل کرنا موخر کرنا پڑا تھا، اس وجہ سے کہ متوقع سرمایہ کاروں کے لیے قابل قبول شرح سود بہت زیادہ تھی: دسمبر 2023 میں پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند سطح پر تھا، جس پر اس وقت کی نگراں وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے کہا تھا کہ ملک اس پیش کردہ شرح پر قرضہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس حقیقت کے باوجود تھا کہ ملک نو ماہ کے سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تھا (جولائی 2023 سے مارچ 2024 میں شیڈول انتخابات کے بعد تک)۔ صورتحال اب کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر آ گیا ہے اور مہنگائی، جو 2023 میں 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد تک گر گئی ہے۔&lt;br&gt;تاہم، حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) تیل کی رسد میں خلل کے سبب بڑھ رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر نے مزید کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ”تین مختلف مالیاتی ڈھانچوں کے تحت انڈر رائٹرز اور مشیروں کا انتخاب کیا جائے“، جو درج ذیل ہیں:(1) کنسورشیم 1 میں زیادہ سے زیادہ پانچ روایتی بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے جو یوروبانڈز کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر مقرر ہوں گے۔ یہ کنسورشیم مشترکہ طور پر ڈھانچہ سازی، قیمت طے کرنا، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں سے رابطہ، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور الاٹمنٹ کی ذمہ داری اٹھائے گا، تاکہ وسیع بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بک کو یقینی بنایا جا سکے۔(2) کنسورشیم 2 میں زیادہ سے زیادہ پانچ بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جن میں کم از کم ایک بین الاقوامی اسلامی مالیاتی ادارہ بھی ہوگا، جو بین الاقوامی سکوک کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر کام کرے گا۔(3) کنسورشیم 3 میں زیادہ سے زیادہ تین بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جو جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت پاکستانی روپے میں نامزد، مگر امریکی ڈالر میں طے شدہ بین الاقوامی بانڈ کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز کے طور پر مقرر کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے قرض مینجمنٹ دفتر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات نے مشیر کے بیان کو مضبوط کیا، خاص طور پر اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ”وزارتِ خزانہ یہ فیصلہ کرے گی کہ اگلے تین سال میں بیرونی مالی ضروریات کی بنیاد پر مارکیٹ کو کب فعال کیا جائے؛“ دستاویزات میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، خاص طور پر یہ کہ ”آلات کے اجراء کا وقت موجودہ مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا، جیسا کہ منتخب شدہ ٹرانزیکشن مشیروں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، اور پاکستان کی مالی ضروریات کے تابع ہوگا۔ ہر اجراء کا حجم اس وقت کے مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا۔ منتخب کنسورشیمز کو ان پروگراموں سے متعلق تمام سرگرمیوں کی تشکیل، مشاورت، انتظام، ہم آہنگی اور نفاذ کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام پر آئی ایم ایف کے دوسرے جائزے کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ سال کے لیے بیرونی مالی ضروریات 19.398 ارب ڈالر ہیں، جو اگلے مالی سال میں معمولی کمی کے ساتھ 19.123 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے اور 2027-28 میں بڑھ کر 29.914 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جولائی تا فروری 2026 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کل قرض کے بہاؤ (کثیر الجہتی/دو طرفہ امداد، آئی ایم ایف، تجارتی بینک) 5,862.05 ملین ڈالر رہا، اور اگر اس میں چین اور سعودی عرب سے 9 ارب ڈالر کے رول اوورز شامل کیے جائیں تو بھی کل مطلوبہ رقم پورے نہیں ہوتے، جو ممکنہ طور پر ایکوئٹی مارکیٹ سے قرض لینے کی کوشش کی وجہ کی وضاحت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تخمینے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کے مطابق موجودہ پروگرام، جو 2027 میں ختم ہونے والا ہے، ملک کا آخری وہ پروگرام ہوگا جس کے لیے بیرونی مالی وسائل حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ ادائیگیوں اور اصل رقم کی آخری ادائیگی کی آسانی متعدد عوامل پر منحصر ہوگی، جن میں شامل ہیں: بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا ماخذ (جو فی الحال زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں)، یہ کہ کیا برآمدات، موجودہ حالات کے برخلاف، درآمدات سے تیز رفتار سے بڑھیں گی، ریمیٹنس کی آمد جاری رہے گی (اگرچہ توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی وجہ سے یہ متاثر ہوں گے)، اور آیا حکومت اپنے موجودہ اخراجات (خاص طور پر غیر عملیاتی اخراجات) میں کمی کرے گی، جس سے قرض لینے کی ضرورت کم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے سوال یہ ہے: کیا وہ سرمایہ کاری اعتماد جو حکومت کو ایکوئٹی مارکیٹ میں جانے کی اجازت دیتا ہے، معیشت کی لچک کا پیمانہ ہے یا محض ”کشکول“ یعنی ”بھیک کے کٹورے“ کے دور کا تسلسل ہے، جو متواتر پاکستانی حکومتوں، سویلین اورعسکری، کی ترجیحی پالیسی رہی ہے۔ اکثر سیاسی جوابات تعصبی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غیر جانبدارانہ نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے موجودہ اخراجات میں بڑی کمی کرے، جس میں شامل ہیں:(1) ملک میں ملازمت یافتہ کل افراد کے 7 فیصد پر تنخواہوں کا منجمد کرنا، جو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہیں؛(2) پنشن اصلاحات (ملازمین کی شراکت کے ساتھ)؛(3) سبسڈی کو صرف غریب اور کمزور طبقوں تک محدود کرنا (جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شناخت شدہ ہیں)؛(4) بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی کو کم کرنے کے لیے صرف تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر توجہ دینے کے بجائے، 2005 میں نجکاری شدہ کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کو آج تک 125 ارب روپے سالانہ سبسڈی ملنے کی اجازت دینے والی غلط ٹیرف پالیسی کا خاتمہ کرنا، جسے سرمایہ کاروں کی دلچسپی نہ ہونے اور ملازمین کی احتجاج کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں،آئندہ سال کے بجٹ میں موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کمی سے ان سخت، غیر لچکدار اور معاشی ترقی مخالف اورمالیاتی پالیسیوں کی ضرورت کم ہوگی جو آئی ایم ایف کے اصرار کی وجہ سے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم کے مشیر برائے مالیات خرم شہزاد نے گزشتہ پیر کو ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اضافی 250 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، گرین شو آپشن کے ذریعے (جس کے تحت بانڈ جاری کرنے والا سرمایہ کاروں کی زیادہ طلب کو پورا کرنے اور ثانوی منڈی میں بانڈ کی قیمت کو مستحکم کرنے کے لیے بانڈ کے سائز میں اضافہ کرتا ہے، جس سے بانڈ کی اصل قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے)، جس کے نتیجے میں یوروبانڈ کے اجراء کا مجموعی حجم 750 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ یوروبانڈ اپریل 2029 میں میچور ہوگا، اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ ( جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت واحد بک میکر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ تھا۔ اس اجراء کا مقصد جزوی طور پر متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی ادائیگیوں (اس ماہ کے آخر تک 4.5 بلین ڈالر) کو اسی شرحِ سود، 6.975 فیصد، پر تبدیل کرنا تھا۔ اس شرح پر تین سالانہ ادائیگیاں ہر سال 52.31 ملین ڈالر ہوں گی، جس کا کل حجم اپریل 2029 تک 156.9 ملین ڈالر بنتا ہے اور اس کے بعد حکومت کو اصل رقم 750 ملین ڈالر واپس کرنی ہوگی۔</p>
<p>پاکستان نے کبھی اپنے بیرونی قرضوں میں ڈیفالٹ نہیں کیا، اور مشیر نے فوری طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان نے 8 اپریل کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈ کی ادائیگی کی اور دیگر یوروبانڈ اجراء پر 126.125 ملین ڈالر کے کوپن واجبات بھی ادا کیے، ساتھ ہی کہا کہ ” قرض کی ادائیگی“ اب بھی بغیر کسی رکاوٹ یا افراتفری کے جاری ہے، جو استحکام، نظم و ضبط اور مضبوط صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔“ تاہم، انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ قرض کی یہ ادائیگی 8,206,667 ملین روپے پر مشتمل ہے، جو 2025-26 کے کل بجٹ کا 47 فیصد بنتا ہے، اور یہ امکان ہے کہ یہ رقم مزید بڑھے کیونکہ دسمبر 2025 تک متوقع پالیسی ریٹ میں کمی عمل میں نہیں آئی تھی۔</p>
<p>اس کے باوجود، مشیر کے دعوے میں وزن ہے کیونکہ اس سے پہلے، ایکوئٹی مارکیٹ سے قرضہ حاصل کرنا موخر کرنا پڑا تھا، اس وجہ سے کہ متوقع سرمایہ کاروں کے لیے قابل قبول شرح سود بہت زیادہ تھی: دسمبر 2023 میں پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند سطح پر تھا، جس پر اس وقت کی نگراں وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے کہا تھا کہ ملک اس پیش کردہ شرح پر قرضہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔</p>
<p>یہ اس حقیقت کے باوجود تھا کہ ملک نو ماہ کے سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تھا (جولائی 2023 سے مارچ 2024 میں شیڈول انتخابات کے بعد تک)۔ صورتحال اب کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر آ گیا ہے اور مہنگائی، جو 2023 میں 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد تک گر گئی ہے۔<br>تاہم، حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) تیل کی رسد میں خلل کے سبب بڑھ رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>مشیر نے مزید کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ”تین مختلف مالیاتی ڈھانچوں کے تحت انڈر رائٹرز اور مشیروں کا انتخاب کیا جائے“، جو درج ذیل ہیں:(1) کنسورشیم 1 میں زیادہ سے زیادہ پانچ روایتی بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے جو یوروبانڈز کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر مقرر ہوں گے۔ یہ کنسورشیم مشترکہ طور پر ڈھانچہ سازی، قیمت طے کرنا، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں سے رابطہ، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور الاٹمنٹ کی ذمہ داری اٹھائے گا، تاکہ وسیع بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بک کو یقینی بنایا جا سکے۔(2) کنسورشیم 2 میں زیادہ سے زیادہ پانچ بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جن میں کم از کم ایک بین الاقوامی اسلامی مالیاتی ادارہ بھی ہوگا، جو بین الاقوامی سکوک کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر کام کرے گا۔(3) کنسورشیم 3 میں زیادہ سے زیادہ تین بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جو جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت پاکستانی روپے میں نامزد، مگر امریکی ڈالر میں طے شدہ بین الاقوامی بانڈ کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز کے طور پر مقرر کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے قرض مینجمنٹ دفتر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات نے مشیر کے بیان کو مضبوط کیا، خاص طور پر اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ”وزارتِ خزانہ یہ فیصلہ کرے گی کہ اگلے تین سال میں بیرونی مالی ضروریات کی بنیاد پر مارکیٹ کو کب فعال کیا جائے؛“ دستاویزات میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، خاص طور پر یہ کہ ”آلات کے اجراء کا وقت موجودہ مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا، جیسا کہ منتخب شدہ ٹرانزیکشن مشیروں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، اور پاکستان کی مالی ضروریات کے تابع ہوگا۔ ہر اجراء کا حجم اس وقت کے مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا۔ منتخب کنسورشیمز کو ان پروگراموں سے متعلق تمام سرگرمیوں کی تشکیل، مشاورت، انتظام، ہم آہنگی اور نفاذ کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔“</p>
<p>دسمبر 2025 میں جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام پر آئی ایم ایف کے دوسرے جائزے کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ سال کے لیے بیرونی مالی ضروریات 19.398 ارب ڈالر ہیں، جو اگلے مالی سال میں معمولی کمی کے ساتھ 19.123 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے اور 2027-28 میں بڑھ کر 29.914 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جولائی تا فروری 2026 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کل قرض کے بہاؤ (کثیر الجہتی/دو طرفہ امداد، آئی ایم ایف، تجارتی بینک) 5,862.05 ملین ڈالر رہا، اور اگر اس میں چین اور سعودی عرب سے 9 ارب ڈالر کے رول اوورز شامل کیے جائیں تو بھی کل مطلوبہ رقم پورے نہیں ہوتے، جو ممکنہ طور پر ایکوئٹی مارکیٹ سے قرض لینے کی کوشش کی وجہ کی وضاحت کرتا ہے۔</p>
<p>یہ تخمینے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کے مطابق موجودہ پروگرام، جو 2027 میں ختم ہونے والا ہے، ملک کا آخری وہ پروگرام ہوگا جس کے لیے بیرونی مالی وسائل حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>سالانہ ادائیگیوں اور اصل رقم کی آخری ادائیگی کی آسانی متعدد عوامل پر منحصر ہوگی، جن میں شامل ہیں: بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا ماخذ (جو فی الحال زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں)، یہ کہ کیا برآمدات، موجودہ حالات کے برخلاف، درآمدات سے تیز رفتار سے بڑھیں گی، ریمیٹنس کی آمد جاری رہے گی (اگرچہ توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی وجہ سے یہ متاثر ہوں گے)، اور آیا حکومت اپنے موجودہ اخراجات (خاص طور پر غیر عملیاتی اخراجات) میں کمی کرے گی، جس سے قرض لینے کی ضرورت کم ہوگی۔</p>
<p>اس لیے سوال یہ ہے: کیا وہ سرمایہ کاری اعتماد جو حکومت کو ایکوئٹی مارکیٹ میں جانے کی اجازت دیتا ہے، معیشت کی لچک کا پیمانہ ہے یا محض ”کشکول“ یعنی ”بھیک کے کٹورے“ کے دور کا تسلسل ہے، جو متواتر پاکستانی حکومتوں، سویلین اورعسکری، کی ترجیحی پالیسی رہی ہے۔ اکثر سیاسی جوابات تعصبی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غیر جانبدارانہ نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے موجودہ اخراجات میں بڑی کمی کرے، جس میں شامل ہیں:(1) ملک میں ملازمت یافتہ کل افراد کے 7 فیصد پر تنخواہوں کا منجمد کرنا، جو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہیں؛(2) پنشن اصلاحات (ملازمین کی شراکت کے ساتھ)؛(3) سبسڈی کو صرف غریب اور کمزور طبقوں تک محدود کرنا (جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شناخت شدہ ہیں)؛(4) بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی کو کم کرنے کے لیے صرف تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر توجہ دینے کے بجائے، 2005 میں نجکاری شدہ کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کو آج تک 125 ارب روپے سالانہ سبسڈی ملنے کی اجازت دینے والی غلط ٹیرف پالیسی کا خاتمہ کرنا، جسے سرمایہ کاروں کی دلچسپی نہ ہونے اور ملازمین کی احتجاج کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔</p>
<p>آخر میں،آئندہ سال کے بجٹ میں موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کمی سے ان سخت، غیر لچکدار اور معاشی ترقی مخالف اورمالیاتی پالیسیوں کی ضرورت کم ہوگی جو آئی ایم ایف کے اصرار کی وجہ سے موجود ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504087</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 15:49:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/281547575738652.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/281547575738652.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عبوری معیشت میں پاکستان کا نیا مقام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504022/pakistan-economy-new-position</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کے مرکز (ٹرانزٹ ہب) کے طور پر پاکستان کا ابتدائی فائدہ جغرافیہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے میں کم سرمایہ کاری اور آپریشنل مسابقت کے نقصان کی وجہ سے ختم ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اور لاگت کے دباؤ ہوا بازی اور بحری نیٹ ورکس کی شکل بدل رہے ہیں، ایک محدود مگر عملی موقع دوبارہ کھل گیا ہے، یہ موقع جو بلند پروازی موازنوں یا خلیجی میگا ہبز کے ساتھ مقابلے کرنے کی بجائے حکمت عملی کے مطابق دوبارہ مقام حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کبھی قدرتی فائدے کا حامل تھا، مغرب اور مشرق کے درمیان ایک کلیدی نقطہ کے طور پر، جہاں ہوا بازی کے لیے ایندھن بھرنے، بحری رابطے اور تجارتی راستے موجود تھے۔ خاص طور پر کراچی، یورپ اور شمالی امریکہ کو جنوب اور مشرقی ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ مقام حادثاتی طور پر نہیں کھویا، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے کی رکاؤٹ اور مسابقتی خلیجی ہبز کی وجہ سے جس نے جغرافیہ کو درست سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا، کمزور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج سوال یہ نہیں کہ کیا پاکستان خلیجی ہبز کی جگہ لے سکتا ہے، یہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان عبوری، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیڈ ٹریفک میں معنی خیز حصہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ جواب مثبت ہے، اور یہ ایک مربوط حکمت عملی میں چھپا ہے جو ہوا بازی، بحری لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کو قومی سطح کے ایک ہم آہنگ منصوبے میں ضم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی خواہش کو ”ہب“ سے بدل کر ”اہمیت کے نقطے“ کے طور پر دوبارہ متعین کرنا ہوگا۔ موجودہ میگا ہبز سے براہِ راست مقابلہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی درست نہیں۔ اس کے بجائے، کراچی اور گوادر کو مہارت یافتہ عبوری اور دوبارہ تقسیم کے مراکز کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جن کا مرکزیت جنوبی ایشیا، مغربی چین، وسطی ایشیا اور مشرقی افریقہ کے کچھ حصے ہوں۔ یہ محدود اور گہری توجہ وسائل پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پاکستان کو اپنے جغرافیے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، لاگت میں مسابقت کو ساختی طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ تاریخی طور پر، خلیجی ہبز کم ٹرن اراؤنڈ لاگت، مؤثر زمینی خدمات اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری ماحول فراہم کرکے کامیاب ہوئے۔ پاکستان ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے چارجز کو مناسب بنانے، ایئر لائنز اور شپنگ لائنز کے لیے حجم پر مبنی مراعات متعارف کرانے، اور ضمنی خدمات،ایندھن، دیکھ بھال، کیٹرنگ، کی مسابقتی قیمت یقینی بنانے کے ذریعے دوبارہ جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ریگولیٹری وضاحت اور عارضی پالیسیوں سے تحفظ ضروری ہے، جو تاریخی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ضروری ہے مگر عملی مہارت کے بغیر ناکافی۔ پاکستان کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں صرف توسیع نہیں چاہتے؛ انہیں ڈیجیٹلائزیشن، خودکاری اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ اسمارٹ کارگو ہینڈلنگ سسٹمز، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور بلا رکاوٹ کسٹم کلیئرنس ڈویل ٹائم کم کر سکتے ہیں، جو ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں دونوں کے لیے ایک اہم پیمانہ (میٹرک) ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کارگو کلیئرنس کے لحاظ سے خطے کے سب سے تیز بندرگاہوں میں شامل ہو، چاہے حجم میں سب سے بڑا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، ہوابازی کی پالیسی کو تحفظ پسندی سے شراکت داری کی جانب موڑنا ہوگا۔ قومی کیریئر اکیلا ہب حکمت عملی کا مرکز نہیں بن سکتا۔ پاکستان کو بین الاقوامی ایئر لائنز کو کھلے فضائی معاہدے، پانچویں آزادی کے حقوق، اور دیکھ بھال، مرمت، اور اوورہال (ایم آر او) سروسز میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے متوجہ کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط ایم آر او ماحولیاتی نظام ایئر لائنز کو پاکستان میں تکنیکی آپریشنز قائم کرنے کی طرف راغب کر سکتا ہے، جس سے صرف عبوری نقل و حرکت سے آگے مستقل تعلق قائم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچواں، گوادر ایک اسٹریٹجک وائلڈ کارڈ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترقی سست رہی ہے، لیکن بڑے شپنگ راستوں کے قریب اس کا مقام طویل مدتی ممکنہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ کراچی کی نقل کی کوشش کرنے کے بجائے، گوادر کو ٹرانس شپمنٹ اور توانائی لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے، جو مغربی چین اور وسطی ایشیا کے اندرونی رابطے کے ساتھ مربوط ہو۔ اس کے لیے صرف بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد سڑک اور ریلوے ٹریک بھی ضروری ہیں، بغیر ان کے گوادر زیرِ استعمال رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھٹا، ریگولیٹری اصلاح کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کار اور آپریٹر مراعات کی بجائے پیش گوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان کو کسٹم کے طریقہ کار کو ہموار کرنا، بیوروکریٹک اوورلیپ کم کرنا، اور لاجسٹکس اور ہوابازی کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ون ونڈو آپریشن قائم کرنا ہوگا۔ عبوری معیشتوں میں وقت کرنسی ہے؛ کلیئرنس میں ہر بچایا گیا گھنٹہ مسابقتی فائدے میں بدلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتواں، سیکیورٹی کے تاثر کو فعال طور پر منظم کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان نے داخلی سیکیورٹی میں اہم پیش رفت کی ہے، عالمی تاثر اکثر حقیقت سے پیچھے رہتا ہے۔ ایک ہدف شدہ بین الاقوامی آگہی مہم، قابلِ تصدیق کارکردگی معیارات کے ساتھ،پاکستان کو محفوظ اور قابلِ اعتماد عبوری ماحول کے طور پر دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر اعلیٰ قیمت والے کارگو اور پریمیم مسافر ٹریفک کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹھواں، انسانی وسائل کی ترقی اکثر نظر انداز کی جاتی ہے مگر لازمی ہے۔ مؤثر ہبز کو ماہر لاجسٹکس مینیجرز، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، بندرگاہ آپریٹرز، اور کسٹم کے پیشہ ور افراد سے طاقت ملتی ہے۔ پاکستان کو خصوصی تربیتی اداروں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنی چاہیے تاکہ ایسی ورک فورس تیار کی جا سکے جو بین الاقوامی معیار پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواں، علاقائی جیوپولیٹکس کو خوفزدہ ہونے کی بجائے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز متنوع ہو رہی ہیں اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں تجارتی راستوں کی شکل بدل رہی ہیں، پاکستان کا مقام زیادہ—not less—مفید ہو جاتا ہے۔ ابھرتے ہوئے راہوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور عبوری سہولت کار کے طور پر غیر جانبداری پیش کر کے، پاکستان خود کو ایک پُل کے طور پر پیش کر سکتا ہے نہ کہ کسی محاذ جنگ کے طور پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، کامیابی کا دارومدار حکمرانی کی نظم و ضبط پر ہوگا۔ تاریخی طور پر بڑے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک مخصوص، بااختیار اتھارٹی—جو ہوابازی اور بحری یکجہتی کے لیے ذمہ دار ہو—سیاسی دورانیوں کے دوران تسلسل یقینی بنا سکتی ہے اور وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی کھوئی ہوئی پوزیشن ناگزیر نہیں تھی، اور اس کی جزوی بحالی ناممکن نہیں۔ واحد عالمی ہبز کا دور اب تقسیم شدہ نیٹ ورکس کے دور میں بدل رہا ہے۔ ایسے منظرنامے میں، پاکستان کو اپنے حریفوں سے زیادہ تعمیر یا زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں؛ اسے صرف ایک واضح طور پر متعین شعبے میں بہتر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں، نہ کہ ماضی کے دور کی یادگار کے طور پر، بلکہ ایک نئے اقتصادی مستقبل کے عملی ذرائع کے طور پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کے مرکز (ٹرانزٹ ہب) کے طور پر پاکستان کا ابتدائی فائدہ جغرافیہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے میں کم سرمایہ کاری اور آپریشنل مسابقت کے نقصان کی وجہ سے ختم ہوا۔</strong></p>
<p>جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اور لاگت کے دباؤ ہوا بازی اور بحری نیٹ ورکس کی شکل بدل رہے ہیں، ایک محدود مگر عملی موقع دوبارہ کھل گیا ہے، یہ موقع جو بلند پروازی موازنوں یا خلیجی میگا ہبز کے ساتھ مقابلے کرنے کی بجائے حکمت عملی کے مطابق دوبارہ مقام حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کبھی قدرتی فائدے کا حامل تھا، مغرب اور مشرق کے درمیان ایک کلیدی نقطہ کے طور پر، جہاں ہوا بازی کے لیے ایندھن بھرنے، بحری رابطے اور تجارتی راستے موجود تھے۔ خاص طور پر کراچی، یورپ اور شمالی امریکہ کو جنوب اور مشرقی ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ مقام حادثاتی طور پر نہیں کھویا، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے کی رکاؤٹ اور مسابقتی خلیجی ہبز کی وجہ سے جس نے جغرافیہ کو درست سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا، کمزور ہوا۔</p>
<p>آج سوال یہ نہیں کہ کیا پاکستان خلیجی ہبز کی جگہ لے سکتا ہے، یہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان عبوری، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیڈ ٹریفک میں معنی خیز حصہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ جواب مثبت ہے، اور یہ ایک مربوط حکمت عملی میں چھپا ہے جو ہوا بازی، بحری لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کو قومی سطح کے ایک ہم آہنگ منصوبے میں ضم کرتی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی خواہش کو ”ہب“ سے بدل کر ”اہمیت کے نقطے“ کے طور پر دوبارہ متعین کرنا ہوگا۔ موجودہ میگا ہبز سے براہِ راست مقابلہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی درست نہیں۔ اس کے بجائے، کراچی اور گوادر کو مہارت یافتہ عبوری اور دوبارہ تقسیم کے مراکز کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جن کا مرکزیت جنوبی ایشیا، مغربی چین، وسطی ایشیا اور مشرقی افریقہ کے کچھ حصے ہوں۔ یہ محدود اور گہری توجہ وسائل پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پاکستان کو اپنے جغرافیے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>دوسرا، لاگت میں مسابقت کو ساختی طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ تاریخی طور پر، خلیجی ہبز کم ٹرن اراؤنڈ لاگت، مؤثر زمینی خدمات اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری ماحول فراہم کرکے کامیاب ہوئے۔ پاکستان ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے چارجز کو مناسب بنانے، ایئر لائنز اور شپنگ لائنز کے لیے حجم پر مبنی مراعات متعارف کرانے، اور ضمنی خدمات،ایندھن، دیکھ بھال، کیٹرنگ، کی مسابقتی قیمت یقینی بنانے کے ذریعے دوبارہ جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ریگولیٹری وضاحت اور عارضی پالیسیوں سے تحفظ ضروری ہے، جو تاریخی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر چکی ہیں۔</p>
<p>تیسرا، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ضروری ہے مگر عملی مہارت کے بغیر ناکافی۔ پاکستان کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں صرف توسیع نہیں چاہتے؛ انہیں ڈیجیٹلائزیشن، خودکاری اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ اسمارٹ کارگو ہینڈلنگ سسٹمز، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور بلا رکاوٹ کسٹم کلیئرنس ڈویل ٹائم کم کر سکتے ہیں، جو ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں دونوں کے لیے ایک اہم پیمانہ (میٹرک) ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کارگو کلیئرنس کے لحاظ سے خطے کے سب سے تیز بندرگاہوں میں شامل ہو، چاہے حجم میں سب سے بڑا نہ ہو۔</p>
<p>چوتھا، ہوابازی کی پالیسی کو تحفظ پسندی سے شراکت داری کی جانب موڑنا ہوگا۔ قومی کیریئر اکیلا ہب حکمت عملی کا مرکز نہیں بن سکتا۔ پاکستان کو بین الاقوامی ایئر لائنز کو کھلے فضائی معاہدے، پانچویں آزادی کے حقوق، اور دیکھ بھال، مرمت، اور اوورہال (ایم آر او) سروسز میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے متوجہ کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط ایم آر او ماحولیاتی نظام ایئر لائنز کو پاکستان میں تکنیکی آپریشنز قائم کرنے کی طرف راغب کر سکتا ہے، جس سے صرف عبوری نقل و حرکت سے آگے مستقل تعلق قائم ہوتا ہے۔</p>
<p>پانچواں، گوادر ایک اسٹریٹجک وائلڈ کارڈ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترقی سست رہی ہے، لیکن بڑے شپنگ راستوں کے قریب اس کا مقام طویل مدتی ممکنہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ کراچی کی نقل کی کوشش کرنے کے بجائے، گوادر کو ٹرانس شپمنٹ اور توانائی لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے، جو مغربی چین اور وسطی ایشیا کے اندرونی رابطے کے ساتھ مربوط ہو۔ اس کے لیے صرف بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد سڑک اور ریلوے ٹریک بھی ضروری ہیں، بغیر ان کے گوادر زیرِ استعمال رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>چھٹا، ریگولیٹری اصلاح کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کار اور آپریٹر مراعات کی بجائے پیش گوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان کو کسٹم کے طریقہ کار کو ہموار کرنا، بیوروکریٹک اوورلیپ کم کرنا، اور لاجسٹکس اور ہوابازی کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ون ونڈو آپریشن قائم کرنا ہوگا۔ عبوری معیشتوں میں وقت کرنسی ہے؛ کلیئرنس میں ہر بچایا گیا گھنٹہ مسابقتی فائدے میں بدلتا ہے۔</p>
<p>ساتواں، سیکیورٹی کے تاثر کو فعال طور پر منظم کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان نے داخلی سیکیورٹی میں اہم پیش رفت کی ہے، عالمی تاثر اکثر حقیقت سے پیچھے رہتا ہے۔ ایک ہدف شدہ بین الاقوامی آگہی مہم، قابلِ تصدیق کارکردگی معیارات کے ساتھ،پاکستان کو محفوظ اور قابلِ اعتماد عبوری ماحول کے طور پر دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر اعلیٰ قیمت والے کارگو اور پریمیم مسافر ٹریفک کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>آٹھواں، انسانی وسائل کی ترقی اکثر نظر انداز کی جاتی ہے مگر لازمی ہے۔ مؤثر ہبز کو ماہر لاجسٹکس مینیجرز، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، بندرگاہ آپریٹرز، اور کسٹم کے پیشہ ور افراد سے طاقت ملتی ہے۔ پاکستان کو خصوصی تربیتی اداروں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنی چاہیے تاکہ ایسی ورک فورس تیار کی جا سکے جو بین الاقوامی معیار پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔</p>
<p>نواں، علاقائی جیوپولیٹکس کو خوفزدہ ہونے کی بجائے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز متنوع ہو رہی ہیں اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں تجارتی راستوں کی شکل بدل رہی ہیں، پاکستان کا مقام زیادہ—not less—مفید ہو جاتا ہے۔ ابھرتے ہوئے راہوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور عبوری سہولت کار کے طور پر غیر جانبداری پیش کر کے، پاکستان خود کو ایک پُل کے طور پر پیش کر سکتا ہے نہ کہ کسی محاذ جنگ کے طور پر۔</p>
<p>آخرکار، کامیابی کا دارومدار حکمرانی کی نظم و ضبط پر ہوگا۔ تاریخی طور پر بڑے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک مخصوص، بااختیار اتھارٹی—جو ہوابازی اور بحری یکجہتی کے لیے ذمہ دار ہو—سیاسی دورانیوں کے دوران تسلسل یقینی بنا سکتی ہے اور وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کر سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی کھوئی ہوئی پوزیشن ناگزیر نہیں تھی، اور اس کی جزوی بحالی ناممکن نہیں۔ واحد عالمی ہبز کا دور اب تقسیم شدہ نیٹ ورکس کے دور میں بدل رہا ہے۔ ایسے منظرنامے میں، پاکستان کو اپنے حریفوں سے زیادہ تعمیر یا زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں؛ اسے صرف ایک واضح طور پر متعین شعبے میں بہتر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں، نہ کہ ماضی کے دور کی یادگار کے طور پر، بلکہ ایک نئے اقتصادی مستقبل کے عملی ذرائع کے طور پر۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 25 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504022</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 11:08:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/27110735cbc9965.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/27110735cbc9965.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انتہائی عجلت میں امن کی قیمت کا تعین؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503928/urgent-peace-price</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسا لگتا ہے کہ بازاروں نے جنگ سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹاک کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، تیل تین ہندسوں کے کھیل کے بعد 100 ڈالر کی حد سے نیچے آ گیا ہے، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں خطرہ مول لینا دوبارہ شروع کر چکے ہیں، جس سے ڈالر میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عام طور پر یہ تمام اشارے ایک واضح پیغام دیتے ہیں: سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال پیچھے رہ گئی، بدترین خدشات مارکیٹ میں شامل ہو چکے، اور بتدریج معمول کی زندگی کی طرف واپسی ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ وہی منظر نامہ ہے جو اصل اعداد و شمار بتاتے ہیں، یا وہی جو سرمایہ کار دیکھنا چاہتے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اشارے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ برینٹ کروڈ تیل، حالیہ کمی کے باوجود، اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند ہے۔ ابتدائی حملوں کے بعد جو اضافہ ہوا تھا، اور ہرمز کے راستے میں خلل کے خدشات نے اسے مزید بڑھا دیا تھا، وہ مکمل طور پر واپس نہیں آیا۔ قیمتوں کی حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ دو متضاد کہانیوں کو سمجھننے کی کوشش کر رہی ہے: ایک پھیلاؤ میں کمی کی، اور دوسری حل نہ ہونے والے ساختی خطرے کی۔ اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود جنگ بندی کی توسیع نے بھی اس سوال کو واضح نہیں کیا۔ یہ یکطرفہ اعلان کیا گیا، نہ تہران کی فوری تصدیق ہوئی اور نہ ہی اسرائیل کی واضح حمایت سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ نے اپنا بحری محاصرہ برقرار رکھا، جسے ایران اب بھی جنگ کا عمل سمجھتا ہے۔ اگر واقعی تنازعہ ختم ہو رہا ہے، تو بنیادی اختلافات اب بھی کیوں برقرار ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی مارکیٹ، جیسا کہ ہمیشہ، اس تضاد کی سب سے واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ قیمتیں کچھ نرم ہوئی ہیں، لیکن پہلے کے بڑے جھٹکے کے مقابلے میں صرف معمولی حد تک۔ برینٹ اب بھی اپنی جنگ سے پہلے کی حد سے تقریباً 10–15 فیصد اوپر ہے، جس میں اب بھی خطرے کا خاص عنصر شامل ہے۔ ہرمز کے ذریعے حقیقی تیل کی ترسیل کسی بھی قابلِ بھروسہ انداز میں معمول پر نہیں آئی، اور تجارتی جہازوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر دنیا کی سب سے اہم توانائی کی شریان اب بھی محدود ہے، تو پھر یہ مفروضہ کس بنیاد پر بنایا جا رہا ہے کہ صدمہ ختم ہو چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، اسٹاک مارکیٹس ایسا لگتا ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے میں مطمئن ہیں۔ ریکوری تیز اور وسیع البنیاد رہی ہے، اور امریکہ کے فیوچرز اور عالمی سطح پر اہم انڈیکسز نے اپنی زیادہ تر کمی واپس کر لی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے، اور معمولی کمی کو پھر سے خریداری کا موقع سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ رویہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ سرمایہ کار کسی ممکنہ حل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد کیا بنیادی حقائق پر مبنی ہے، یا محض ہفتوں کی ہیڈ لائنز پر مبنی تجارت کے بعد تھکن کا نتیجہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ مارکیٹس اس خوش دلی کو بڑھانے کے معاملے میں اتنی پرجوش نہیں دکھائی دیتیں۔ پیداوار (ییلڈز) جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے، جو توانائی کی قیمتوں سے جڑی مستقل مہنگائی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ شرح سود میں کمی کی توقعات کم کی گئی ہیں، نہ کہ مضبوط کی گئی ہیں۔ اگر تیل بلند سطح پر قائم رہتا ہے، تو مرکزی بینک اتنی جلدی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے امکانات نہیں رکھیں گے جتنا مارکیٹس نے اس سال کے آغاز میں امید کی تھی۔ اگر ایسا ہے، تو اسٹاک مارکیٹس کیوں اس طرح حرکت کر رہی ہیں کہ جیسے مالی حالات آسان ہو جائیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹس صورتحال میں ایک اور مبہم پہلو ڈالتی ہیں۔ ڈالر، جو تنازع کے عروج پر محفوظ پناہ (محفوظ سرمایہ کاری کا وسیلہ) کی طلب سے مستفید ہوا، حالیہ سیشنز میں کچھ کمزور ہوا ہے، لیکن ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔ بڑی کرنسی جوڑیوں میں حرکات نسبتاً محدود رہی ہیں۔ یورو اور پاؤنڈ زیادہ تر ایک محدود دائرے میں ہیں، جبکہ ین اپنی روایتی محفوظ پناہ کی حیثیت کے باوجود کمزور رہتا ہے۔ حتیٰ کہ آسٹریلین ڈالر، جو عام طور پر عالمی خطرے کی بھوک میں تبدیلیوں کے حساس ہوتا ہے، صرف معمولی اضافہ کر سکا ہے۔ کیا یہ واقعی خطرے کی طرف فیصلہ کن منتقل ہونے کی علامت ہے، یا مارکیٹ دونوں سمتوں میں یقین کے بغیر ہچکچاہٹ میں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد کی کمی شاید سب سے زیادہ اہم اشارہ ہے۔ تاجر بظاہر کسی معمولی مثبت نتیجے کی قیمت لگانے کے لیے تیار ہیں، لیکن اتنی پرعزم نہیں کہ مکمل یقین کے ساتھ اس پر سرمایہ کاری کریں۔ یہ ہچکچاہٹ بنیادی غیر یقینی صورتحال کی عکاس ہے: جنگ بندی کی مدت اور اس کی ساکھ۔ اگر یہ برقرار رہتی ہے، تو حالیہ اضطراب واقعی وقتی صدمے کی طرح ختم ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو مارکیٹس کو دوبارہ وہی خطرات دوبارہ قیمت میں شامل کرنے پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی حقیقت تنازع کے پس منظر میں موجود مفروضات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی حکمت عملی واضح طور پر ایک فوری اور فیصلہ کن نتیجے پر مبنی تھی، جو میدان میں طاقت کا توازن بدل دے۔ لیکن ایران نے ابتدائی مرحلے کو اندرونی تقسیم کے بغیر برداشت کیا، اگرچہ اس کی اعلیٰ کمانڈ کو منظم طور پر ختم کیا گیا، اور مارکیٹس کے لیے سب سے اہم جگہوں پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا، خاص طور پر توانائی کے بہاؤ کے ذریعے۔ کسی قسم کی واضح ہتھیار ڈالنے کی نشانی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت یہ بتاتی ہے کہ اثر و رسوخ کی تقسیم ابھی تک اصل منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ حقیقت موجودہ مارکیٹ کہانی کے مطابق ہے؟ جنگ بندی کی توسیع ممکنہ کمی کی خواہش ظاہر کر سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی کشیدگی کو خود بخود حل نہیں کرتی۔ آبنائے ہرمزاب بھی ایک غیر یقینی عنصر ہے۔ شپنگ کے خطرات برقرار ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، اگرچہ اپنے عروج سے نیچے آئی ہیں، پھر بھی اتنی بلند ہیں کہ مہنگائی کے رجحانات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ حالات جاری رہیں، تو مارکیٹس اتنی تیزی سے جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر واپس آنے کا جواز کیسے پیش کر سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ مستقبل کی توقعات میں اصل میں کس چیز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں کا نقشہ (آئل کروَ) اب ہموار ہونا شروع ہو گیا ہے، جو اس مفروضے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ رسد میں خلل کم ہو جائے گا۔ لیکن ماضی میں ایسے مفروضے اکثر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اسٹریٹیجک ریزروز عارضی جھٹکوں کو تو کم کر سکتے ہیں، لیکن اگر خلل دیرپا ہو تو مستقل رسد کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اگر مارکیٹ اس خطرے کو کم سمجھ رہی ہے، تو بعد میں ایڈجسٹمنٹ زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر سطح پر یہ واقعہ ایک پرانے سوال کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے: مالیاتی مارکیٹس جھٹکے سے معمول کی حالت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتی ہیں۔ وہی نظام جس نے ابتدائی شدت پر شدید ردعمل دکھایا، اب اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے خلل پہلے ہی قابو میں ہے۔ کیا یہ لچک ہے، یا اطمینانِ ناقص؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید سب سے متعلقہ سوال آسان ہے: کیا مارکیٹس واقعات کے راستے کو درست پڑھ رہی ہیں، یا ایک وقفے کو پھر سے نتیجہ سمجھ بیٹھی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسا لگتا ہے کہ بازاروں نے جنگ سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹاک کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، تیل تین ہندسوں کے کھیل کے بعد 100 ڈالر کی حد سے نیچے آ گیا ہے، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں خطرہ مول لینا دوبارہ شروع کر چکے ہیں، جس سے ڈالر میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عام طور پر یہ تمام اشارے ایک واضح پیغام دیتے ہیں: سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال پیچھے رہ گئی، بدترین خدشات مارکیٹ میں شامل ہو چکے، اور بتدریج معمول کی زندگی کی طرف واپسی ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ وہی منظر نامہ ہے جو اصل اعداد و شمار بتاتے ہیں، یا وہی جو سرمایہ کار دیکھنا چاہتے ہیں؟</strong></p>
<p>اصل اشارے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ برینٹ کروڈ تیل، حالیہ کمی کے باوجود، اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند ہے۔ ابتدائی حملوں کے بعد جو اضافہ ہوا تھا، اور ہرمز کے راستے میں خلل کے خدشات نے اسے مزید بڑھا دیا تھا، وہ مکمل طور پر واپس نہیں آیا۔ قیمتوں کی حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ دو متضاد کہانیوں کو سمجھننے کی کوشش کر رہی ہے: ایک پھیلاؤ میں کمی کی، اور دوسری حل نہ ہونے والے ساختی خطرے کی۔ اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟</p>
<p>خود جنگ بندی کی توسیع نے بھی اس سوال کو واضح نہیں کیا۔ یہ یکطرفہ اعلان کیا گیا، نہ تہران کی فوری تصدیق ہوئی اور نہ ہی اسرائیل کی واضح حمایت سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ نے اپنا بحری محاصرہ برقرار رکھا، جسے ایران اب بھی جنگ کا عمل سمجھتا ہے۔ اگر واقعی تنازعہ ختم ہو رہا ہے، تو بنیادی اختلافات اب بھی کیوں برقرار ہیں؟</p>
<p>تیل کی مارکیٹ، جیسا کہ ہمیشہ، اس تضاد کی سب سے واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ قیمتیں کچھ نرم ہوئی ہیں، لیکن پہلے کے بڑے جھٹکے کے مقابلے میں صرف معمولی حد تک۔ برینٹ اب بھی اپنی جنگ سے پہلے کی حد سے تقریباً 10–15 فیصد اوپر ہے، جس میں اب بھی خطرے کا خاص عنصر شامل ہے۔ ہرمز کے ذریعے حقیقی تیل کی ترسیل کسی بھی قابلِ بھروسہ انداز میں معمول پر نہیں آئی، اور تجارتی جہازوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر دنیا کی سب سے اہم توانائی کی شریان اب بھی محدود ہے، تو پھر یہ مفروضہ کس بنیاد پر بنایا جا رہا ہے کہ صدمہ ختم ہو چکا ہے؟</p>
<p>اس کے باوجود، اسٹاک مارکیٹس ایسا لگتا ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے میں مطمئن ہیں۔ ریکوری تیز اور وسیع البنیاد رہی ہے، اور امریکہ کے فیوچرز اور عالمی سطح پر اہم انڈیکسز نے اپنی زیادہ تر کمی واپس کر لی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے، اور معمولی کمی کو پھر سے خریداری کا موقع سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ رویہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ سرمایہ کار کسی ممکنہ حل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد کیا بنیادی حقائق پر مبنی ہے، یا محض ہفتوں کی ہیڈ لائنز پر مبنی تجارت کے بعد تھکن کا نتیجہ ہے؟</p>
<p>بانڈ مارکیٹس اس خوش دلی کو بڑھانے کے معاملے میں اتنی پرجوش نہیں دکھائی دیتیں۔ پیداوار (ییلڈز) جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے، جو توانائی کی قیمتوں سے جڑی مستقل مہنگائی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ شرح سود میں کمی کی توقعات کم کی گئی ہیں، نہ کہ مضبوط کی گئی ہیں۔ اگر تیل بلند سطح پر قائم رہتا ہے، تو مرکزی بینک اتنی جلدی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے امکانات نہیں رکھیں گے جتنا مارکیٹس نے اس سال کے آغاز میں امید کی تھی۔ اگر ایسا ہے، تو اسٹاک مارکیٹس کیوں اس طرح حرکت کر رہی ہیں کہ جیسے مالی حالات آسان ہو جائیں گے؟</p>
<p>کرنسی مارکیٹس صورتحال میں ایک اور مبہم پہلو ڈالتی ہیں۔ ڈالر، جو تنازع کے عروج پر محفوظ پناہ (محفوظ سرمایہ کاری کا وسیلہ) کی طلب سے مستفید ہوا، حالیہ سیشنز میں کچھ کمزور ہوا ہے، لیکن ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔ بڑی کرنسی جوڑیوں میں حرکات نسبتاً محدود رہی ہیں۔ یورو اور پاؤنڈ زیادہ تر ایک محدود دائرے میں ہیں، جبکہ ین اپنی روایتی محفوظ پناہ کی حیثیت کے باوجود کمزور رہتا ہے۔ حتیٰ کہ آسٹریلین ڈالر، جو عام طور پر عالمی خطرے کی بھوک میں تبدیلیوں کے حساس ہوتا ہے، صرف معمولی اضافہ کر سکا ہے۔ کیا یہ واقعی خطرے کی طرف فیصلہ کن منتقل ہونے کی علامت ہے، یا مارکیٹ دونوں سمتوں میں یقین کے بغیر ہچکچاہٹ میں ہے؟</p>
<p>اعتماد کی کمی شاید سب سے زیادہ اہم اشارہ ہے۔ تاجر بظاہر کسی معمولی مثبت نتیجے کی قیمت لگانے کے لیے تیار ہیں، لیکن اتنی پرعزم نہیں کہ مکمل یقین کے ساتھ اس پر سرمایہ کاری کریں۔ یہ ہچکچاہٹ بنیادی غیر یقینی صورتحال کی عکاس ہے: جنگ بندی کی مدت اور اس کی ساکھ۔ اگر یہ برقرار رہتی ہے، تو حالیہ اضطراب واقعی وقتی صدمے کی طرح ختم ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو مارکیٹس کو دوبارہ وہی خطرات دوبارہ قیمت میں شامل کرنے پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہی حقیقت تنازع کے پس منظر میں موجود مفروضات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی حکمت عملی واضح طور پر ایک فوری اور فیصلہ کن نتیجے پر مبنی تھی، جو میدان میں طاقت کا توازن بدل دے۔ لیکن ایران نے ابتدائی مرحلے کو اندرونی تقسیم کے بغیر برداشت کیا، اگرچہ اس کی اعلیٰ کمانڈ کو منظم طور پر ختم کیا گیا، اور مارکیٹس کے لیے سب سے اہم جگہوں پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا، خاص طور پر توانائی کے بہاؤ کے ذریعے۔ کسی قسم کی واضح ہتھیار ڈالنے کی نشانی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت یہ بتاتی ہے کہ اثر و رسوخ کی تقسیم ابھی تک اصل منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہی۔</p>
<p>کیا یہ حقیقت موجودہ مارکیٹ کہانی کے مطابق ہے؟ جنگ بندی کی توسیع ممکنہ کمی کی خواہش ظاہر کر سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی کشیدگی کو خود بخود حل نہیں کرتی۔ آبنائے ہرمزاب بھی ایک غیر یقینی عنصر ہے۔ شپنگ کے خطرات برقرار ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، اگرچہ اپنے عروج سے نیچے آئی ہیں، پھر بھی اتنی بلند ہیں کہ مہنگائی کے رجحانات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ حالات جاری رہیں، تو مارکیٹس اتنی تیزی سے جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر واپس آنے کا جواز کیسے پیش کر سکتی ہیں؟</p>
<p>ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ مستقبل کی توقعات میں اصل میں کس چیز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں کا نقشہ (آئل کروَ) اب ہموار ہونا شروع ہو گیا ہے، جو اس مفروضے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ رسد میں خلل کم ہو جائے گا۔ لیکن ماضی میں ایسے مفروضے اکثر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اسٹریٹیجک ریزروز عارضی جھٹکوں کو تو کم کر سکتے ہیں، لیکن اگر خلل دیرپا ہو تو مستقل رسد کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اگر مارکیٹ اس خطرے کو کم سمجھ رہی ہے، تو بعد میں ایڈجسٹمنٹ زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔</p>
<p>وسیع تر سطح پر یہ واقعہ ایک پرانے سوال کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے: مالیاتی مارکیٹس جھٹکے سے معمول کی حالت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتی ہیں۔ وہی نظام جس نے ابتدائی شدت پر شدید ردعمل دکھایا، اب اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے خلل پہلے ہی قابو میں ہے۔ کیا یہ لچک ہے، یا اطمینانِ ناقص؟</p>
<p>شاید سب سے متعلقہ سوال آسان ہے: کیا مارکیٹس واقعات کے راستے کو درست پڑھ رہی ہیں، یا ایک وقفے کو پھر سے نتیجہ سمجھ بیٹھی ہیں؟</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 23 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503928</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:12:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07133241baaf478.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07133241baaf478.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس کیسز کا بڑھتا انبار، حل کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے—یعنی بہت زیادہ کیسز، کم ججز اور ناکافی انفراسٹرکچر۔ یہ وضاحت اگرچہ آسان اور قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ نظام کے ڈیزائن اور اس کے اندر موجود ترغیبات میں ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جو ادارہ جاتی بہتری اور ہائی کورٹ ججز کے برابر تنخواہوں کے باوجود مسلسل بڑھتے ہوئے زیرِ التوا کیسز کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِاعظم کو دیے گئے اعداد و شمار، جو پریس میں رپورٹ ہوئے، کے مطابق عدالتوں اور اپیلیٹ ٹربیونلز میں زیرِ التوا متنازع کیسز کا مجموعی حجم 2024 میں 3.76 کھرب روپے سے بڑھ کر 5.457 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے—یعنی 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ایک بڑا حصہ—3.3 کھرب روپے سے زائد—صرف اے ٹی آئی آر میں زیرِ التوا ہے، جہاں بیس ہزار سے زیادہ کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ بہتر تنخواہوں اور وقفے وقفے سے تقرریوں کے باوجود کیسز کا فیصلہ کرنے کی رفتار ہمیشہ نئے کیسز کے آنے کی رفتار سے کم رہتی ہے۔ &lt;strong&gt;ٹیبل I&lt;/strong&gt; ٹیکس لٹیگیشن کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے بیک لاگ اور اس میں شامل بھاری رقوم کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;=================================================================
     Table I: Tax Litigation Backlog in Pakistan (April 2026)    
=================================================================
Forum                              Number of Cases               
                                 Amount Involved (Rs)            
=================================================================
Supreme Court of Pakistan           3,277             169 billion
Islamabad High Court                1,979             482 billion
Lahore High Court                   7,490             963 billion
Sindh High Court                    2,081             480 billion
Peshawar High Court                   241              27 billion
Balochistan High Court                 37               6 billion
Total (Superior Courts)            11,938          ~1.96 trillion
Appellate Tribunal Inland 
Revenue (ATIR)                    21,767+          3.33 trillion+
=================================================================
&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
&lt;p&gt;کیسز کے آنے اور نمٹائے جانے کے درمیان خلا مسلسل بڑھ رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عدالتی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام میں داخل ہونے والے کیسز کی تعداد اور نوعیت کا بھی ہے۔ یہ عدم توازن نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ناقابلِ اجتناب—یہ براہِ راست ایک ایسے ٹیکس انتظامی ماڈل کا نتیجہ ہے جو تصفیہ کے بجائے لٹیگیشن کو فروغ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شدت والے اسیسمنٹس، جو اکثر طے شدہ قانون کو نظرانداز کر کے بنائے جاتے ہیں، ابتدائی مرحلے پر ہی تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اپیلیٹ مراحل میں ان میں سے بہت سے کیسز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اپنے رویے کو درست کرنے کے بجائے ایف بی آر معمول کے مطابق اور اکثر غیر ضروری اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں کیسز اس رفتار سے داخل ہوتے ہیں جس رفتار سے وہ کبھی نمٹائے نہیں جا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ جاتی ردعمل متوقع لیکن غیر مؤثر رہا ہے: مزید ججز تعینات کیے جائیں، مزید فنڈز مختص کیے جائیں اور انفرااسٹرکچر کو وسعت دی جائے۔ یہ طریقہ کار صرف علامات کا علاج کرتا ہے جبکہ اصل وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایسے نظام میں جہاں غیر ضروری لٹیگیشن مسلسل پیدا ہو رہی ہو، وہاں عدالتی صلاحیت بڑھانا ایسے ہی ہے جیسے نالی کو چوڑا کرنا مگر پانی کے بہاؤ کے اصل منبع کو نہ روکنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی آئی آر کے اندر موجود عملی کمزوریاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں (ٹیبل II)۔ کیسز کے بہاؤ، زیرِ التواء صورتحال اور فیصلوں کی رفتار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کوئی مربوط ڈیش بورڈ موجود نہیں۔ ورچوئل سماعتیں تقریباً موجود نہیں۔ کیس مینجمنٹ بکھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس قانون میں خصوصی مہارت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، جو فیصلوں کے معیار اور تسلسل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;==========================================================
              Table II: Trend in ATIR Backlog             
==========================================================
Year             Number of Cases      Amount Involved (Rs)
==========================================================
2022                63,655                   1.46 trillion
2024              Not disclosed             2.235 trillion
Latest (2026)   21,767+ (active)            3.33 trillion+
==========================================================
&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ عدلیہ کی صورتحال بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس میں ٹیکس قانون میں گہری مہارت رکھنے والے خصوصی بینچز شاذ و نادر ہی ٹیکس کیسز سنتے ہیں۔ مخصوص ٹیکس بینچز کی عدم موجودگی سے عدالتی نظائر میں عدم تسلسل، طویل سماعتیں اور اپیلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ماڈل کیوں ناکام ہوتا ہے، تقابلی نظاموں (ٹیبل III) کا جائزہ لینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس صورتحال واضح طور پر مختلف ہے۔ برطانیہ میں، اگرچہ بعض اوقات کیسز کے بیک لاگ کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، لیکن متبادل تنازعہ حل(اے ڈی آر) جیسے نظام کے ذریعے زیادہ تر تنازعات چند ماہ میں حل کر لیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی فریق تصفیہ سے انکار کرے تو اس کا اثر اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں تنازعات کو ابتدائی مرحلے پر ہی انتظامی نظرثانی اور منظم قانونی کارروائی کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے، جبکہ کاسٹ ریکوری میکنزم نظام میں نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں رسمی تنازعہ حل کرنے کے فریم ورک کا مقصد ہی یہ ہے کہ تنازعات پیدا ہی نہ ہوں، اور اس کے لیے یقین دہانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ان تمام نظاموں میں ایک اصول مشترک ہے: قانونی چارہ جوئی (لیٹگیشن) کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا نظام اس کے برعکس اصول پر کام کرتا ہے۔ یہاں قانونی چارہ جوئی عملی طور پر ریاست کے لیے بغیر کسی مالی ذمہ داری کے ہے۔ ٹیکس حکام بغیر کسی مالی جوابدہی کے اپیلیں دائر کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں۔ یہی نتائج کے عدم موجودگی بیک لاگ کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجہ قابلِ پیش گوئی ہے۔ معاملات سالہا سال مختلف فورمز سے گزرتے رہتے ہیں اور عدالتی وقت اور عوامی وسائل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان نظاموں میں جہاں مؤثر کاسٹ ریجیم موجود ہیں، فریقین کو کمزور کیسز دائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی ٹربیونل بیک لاگز اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مقدمات کی آمد فیصلوں سے بڑھ جائے—اور اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پالیسی و طریقہ کار میں اصلاحات کے ذریعے اسے درست کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصلاحی نظام موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر نظام بھی اسی غیر مؤثر کارکردگی کو مضبوط کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی پورے قانونی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب وکلا کے لیے زیادہ کام، عدالتی صلاحیت بڑھانے کا زیادہ جواز، اور ادارہ جاتی جمود میں اضافہ ہے۔ یوں یہ نظام اپنے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی ترغیبات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے معاشی اثرات سنگین ہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو غیر یقینی صورتحال اور طویل تنازعہ جاتی عمل سے عبارت ہو، سرمایہ کاری کو روکتا ہے، تعمیل کو کم کرتا ہے اور محصولات کی وصولی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ٹیکس انصاف کی غیر مؤثر فراہمی کے کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حل صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ ترغیبات درست کرنے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اصلاح ضروری ہے۔ جارحانہ تشریحات کی بنیاد پر کیے جانے والے اضافوں کی حوصلہ شکنی داخلی احتساب کے ذریعے ہونی چاہیے، اور کارکردگی کے پیمانے کو غیر حقیقی ٹیکس مطالبات کے بجائے پائیدار آمدنی کی طرف منتقل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مؤثر لاگت اور مالی جرمانوں کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے۔ عدالتوں اور ٹربیونلز کو غیر ضروری یا فضول مقدمہ بازی پر حقیقت پسندانہ اخراجات عائد کرنے چاہئیں، بشمول سرکاری محکموں کے۔ جب تک مالی نتائج موجود نہیں ہوں گے، رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ جاتی تنظیم نو بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک نیشنل ٹیکس کورٹ کا قیام تقسیم کو کم کر سکتا ہے اور یکسانیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اپیلوں کو صرف قانون کے اہم نکات تک محدود کیا جانا چاہیے، جن کی منظوری نیشنل ٹیکس کورٹ دے، اور انٹرا کورٹ اپیل کی گنجائش موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی مہارت کو بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ ہائی کورٹس میں مخصوص ٹیکس بینچز اور تکنیکی طور پر ماہر ٹربیونل اراکین مؤثر اور معیاری فیصلوں کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز، ورچوئل سماعتیں اور ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کوئی لگژری نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، نظام کو یقینی نتائج اور انصاف کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کا حل؛ جہاں ٹیکس دہندگان انصاف کو محسوس کرتے ہیں، وہاں قانونی چارہ جوئی کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا موجودہ طریقہ کار—زیادہ فنڈز مختص کرنا اور زیادہ ججز تعینات کرنا—اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ بیک لاگ کو صلاحیت کا مسئلہ سمجھتا ہے، نہ کہ ترغیبات کا مسئلہ۔ اربوں روپے کی زیر التوا قانونی چارہ جوئی کا تسلسل اتفاقی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو مناسب احتساب کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصلاح کا مطلب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو ایسا نظام چلاتا رہے جو تنازعات پیدا کرتا ہے، یا ایسا نظام دوبارہ ڈیزائن کرے جو انہیں روکتا ہے۔ صرف دوسرا راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 24 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے—یعنی بہت زیادہ کیسز، کم ججز اور ناکافی انفراسٹرکچر۔ یہ وضاحت اگرچہ آسان اور قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔</strong></p>
<p>اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ نظام کے ڈیزائن اور اس کے اندر موجود ترغیبات میں ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جو ادارہ جاتی بہتری اور ہائی کورٹ ججز کے برابر تنخواہوں کے باوجود مسلسل بڑھتے ہوئے زیرِ التوا کیسز کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔</p>
<p>چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِاعظم کو دیے گئے اعداد و شمار، جو پریس میں رپورٹ ہوئے، کے مطابق عدالتوں اور اپیلیٹ ٹربیونلز میں زیرِ التوا متنازع کیسز کا مجموعی حجم 2024 میں 3.76 کھرب روپے سے بڑھ کر 5.457 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے—یعنی 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اس کا ایک بڑا حصہ—3.3 کھرب روپے سے زائد—صرف اے ٹی آئی آر میں زیرِ التوا ہے، جہاں بیس ہزار سے زیادہ کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ بہتر تنخواہوں اور وقفے وقفے سے تقرریوں کے باوجود کیسز کا فیصلہ کرنے کی رفتار ہمیشہ نئے کیسز کے آنے کی رفتار سے کم رہتی ہے۔ <strong>ٹیبل I</strong> ٹیکس لٹیگیشن کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے بیک لاگ اور اس میں شامل بھاری رقوم کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<pre><code>=================================================================
     Table I: Tax Litigation Backlog in Pakistan (April 2026)    
=================================================================
Forum                              Number of Cases               
                                 Amount Involved (Rs)            
=================================================================
Supreme Court of Pakistan           3,277             169 billion
Islamabad High Court                1,979             482 billion
Lahore High Court                   7,490             963 billion
Sindh High Court                    2,081             480 billion
Peshawar High Court                   241              27 billion
Balochistan High Court                 37               6 billion
Total (Superior Courts)            11,938          ~1.96 trillion
Appellate Tribunal Inland 
Revenue (ATIR)                    21,767+          3.33 trillion+
=================================================================
</code></pre>
<p>کیسز کے آنے اور نمٹائے جانے کے درمیان خلا مسلسل بڑھ رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عدالتی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام میں داخل ہونے والے کیسز کی تعداد اور نوعیت کا بھی ہے۔ یہ عدم توازن نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ناقابلِ اجتناب—یہ براہِ راست ایک ایسے ٹیکس انتظامی ماڈل کا نتیجہ ہے جو تصفیہ کے بجائے لٹیگیشن کو فروغ دیتا ہے۔</p>
<p>زیادہ شدت والے اسیسمنٹس، جو اکثر طے شدہ قانون کو نظرانداز کر کے بنائے جاتے ہیں، ابتدائی مرحلے پر ہی تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اپیلیٹ مراحل میں ان میں سے بہت سے کیسز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اپنے رویے کو درست کرنے کے بجائے ایف بی آر معمول کے مطابق اور اکثر غیر ضروری اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں کیسز اس رفتار سے داخل ہوتے ہیں جس رفتار سے وہ کبھی نمٹائے نہیں جا سکتے۔</p>
<p>ادارہ جاتی ردعمل متوقع لیکن غیر مؤثر رہا ہے: مزید ججز تعینات کیے جائیں، مزید فنڈز مختص کیے جائیں اور انفرااسٹرکچر کو وسعت دی جائے۔ یہ طریقہ کار صرف علامات کا علاج کرتا ہے جبکہ اصل وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایسے نظام میں جہاں غیر ضروری لٹیگیشن مسلسل پیدا ہو رہی ہو، وہاں عدالتی صلاحیت بڑھانا ایسے ہی ہے جیسے نالی کو چوڑا کرنا مگر پانی کے بہاؤ کے اصل منبع کو نہ روکنا۔</p>
<p>اے ٹی آئی آر کے اندر موجود عملی کمزوریاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں (ٹیبل II)۔ کیسز کے بہاؤ، زیرِ التواء صورتحال اور فیصلوں کی رفتار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کوئی مربوط ڈیش بورڈ موجود نہیں۔ ورچوئل سماعتیں تقریباً موجود نہیں۔ کیس مینجمنٹ بکھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس قانون میں خصوصی مہارت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، جو فیصلوں کے معیار اور تسلسل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔</p>
<pre><code>==========================================================
              Table II: Trend in ATIR Backlog             
==========================================================
Year             Number of Cases      Amount Involved (Rs)
==========================================================
2022                63,655                   1.46 trillion
2024              Not disclosed             2.235 trillion
Latest (2026)   21,767+ (active)            3.33 trillion+
==========================================================
</code></pre>
<p>اعلیٰ عدلیہ کی صورتحال بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس میں ٹیکس قانون میں گہری مہارت رکھنے والے خصوصی بینچز شاذ و نادر ہی ٹیکس کیسز سنتے ہیں۔ مخصوص ٹیکس بینچز کی عدم موجودگی سے عدالتی نظائر میں عدم تسلسل، طویل سماعتیں اور اپیلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ماڈل کیوں ناکام ہوتا ہے، تقابلی نظاموں (ٹیبل III) کا جائزہ لینا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس صورتحال واضح طور پر مختلف ہے۔ برطانیہ میں، اگرچہ بعض اوقات کیسز کے بیک لاگ کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، لیکن متبادل تنازعہ حل(اے ڈی آر) جیسے نظام کے ذریعے زیادہ تر تنازعات چند ماہ میں حل کر لیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی فریق تصفیہ سے انکار کرے تو اس کا اثر اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>کینیڈا میں تنازعات کو ابتدائی مرحلے پر ہی انتظامی نظرثانی اور منظم قانونی کارروائی کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے، جبکہ کاسٹ ریکوری میکنزم نظام میں نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں رسمی تنازعہ حل کرنے کے فریم ورک کا مقصد ہی یہ ہے کہ تنازعات پیدا ہی نہ ہوں، اور اس کے لیے یقین دہانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ان تمام نظاموں میں ایک اصول مشترک ہے: قانونی چارہ جوئی (لیٹگیشن) کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا نظام اس کے برعکس اصول پر کام کرتا ہے۔ یہاں قانونی چارہ جوئی عملی طور پر ریاست کے لیے بغیر کسی مالی ذمہ داری کے ہے۔ ٹیکس حکام بغیر کسی مالی جوابدہی کے اپیلیں دائر کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں۔ یہی نتائج کے عدم موجودگی بیک لاگ کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجہ قابلِ پیش گوئی ہے۔ معاملات سالہا سال مختلف فورمز سے گزرتے رہتے ہیں اور عدالتی وقت اور عوامی وسائل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان نظاموں میں جہاں مؤثر کاسٹ ریجیم موجود ہیں، فریقین کو کمزور کیسز دائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی ٹربیونل بیک لاگز اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مقدمات کی آمد فیصلوں سے بڑھ جائے—اور اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پالیسی و طریقہ کار میں اصلاحات کے ذریعے اسے درست کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصلاحی نظام موجود نہیں۔</p>
<p>وسیع تر نظام بھی اسی غیر مؤثر کارکردگی کو مضبوط کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی پورے قانونی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب وکلا کے لیے زیادہ کام، عدالتی صلاحیت بڑھانے کا زیادہ جواز، اور ادارہ جاتی جمود میں اضافہ ہے۔ یوں یہ نظام اپنے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی ترغیبات رکھتا ہے۔</p>
<p>اس کے معاشی اثرات سنگین ہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو غیر یقینی صورتحال اور طویل تنازعہ جاتی عمل سے عبارت ہو، سرمایہ کاری کو روکتا ہے، تعمیل کو کم کرتا ہے اور محصولات کی وصولی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ٹیکس انصاف کی غیر مؤثر فراہمی کے کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حل صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ ترغیبات درست کرنے میں ہے۔</p>
<p>اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اصلاح ضروری ہے۔ جارحانہ تشریحات کی بنیاد پر کیے جانے والے اضافوں کی حوصلہ شکنی داخلی احتساب کے ذریعے ہونی چاہیے، اور کارکردگی کے پیمانے کو غیر حقیقی ٹیکس مطالبات کے بجائے پائیدار آمدنی کی طرف منتقل کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایک مؤثر لاگت اور مالی جرمانوں کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے۔ عدالتوں اور ٹربیونلز کو غیر ضروری یا فضول مقدمہ بازی پر حقیقت پسندانہ اخراجات عائد کرنے چاہئیں، بشمول سرکاری محکموں کے۔ جب تک مالی نتائج موجود نہیں ہوں گے، رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔</p>
<p>ادارہ جاتی تنظیم نو بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک نیشنل ٹیکس کورٹ کا قیام تقسیم کو کم کر سکتا ہے اور یکسانیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اپیلوں کو صرف قانون کے اہم نکات تک محدود کیا جانا چاہیے، جن کی منظوری نیشنل ٹیکس کورٹ دے، اور انٹرا کورٹ اپیل کی گنجائش موجود ہو۔</p>
<p>خصوصی مہارت کو بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ ہائی کورٹس میں مخصوص ٹیکس بینچز اور تکنیکی طور پر ماہر ٹربیونل اراکین مؤثر اور معیاری فیصلوں کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز، ورچوئل سماعتیں اور ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کوئی لگژری نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔</p>
<p>آخر میں، نظام کو یقینی نتائج اور انصاف کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کا حل؛ جہاں ٹیکس دہندگان انصاف کو محسوس کرتے ہیں، وہاں قانونی چارہ جوئی کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا موجودہ طریقہ کار—زیادہ فنڈز مختص کرنا اور زیادہ ججز تعینات کرنا—اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ بیک لاگ کو صلاحیت کا مسئلہ سمجھتا ہے، نہ کہ ترغیبات کا مسئلہ۔ اربوں روپے کی زیر التوا قانونی چارہ جوئی کا تسلسل اتفاقی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو مناسب احتساب کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصلاح کا مطلب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔</p>
<p>انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو ایسا نظام چلاتا رہے جو تنازعات پیدا کرتا ہے، یا ایسا نظام دوبارہ ڈیزائن کرے جو انہیں روکتا ہے۔ صرف دوسرا راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 24 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503926</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 11:52:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/25115038996f344.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/25115038996f344.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میدانِ کارزار سے آگے کی جنگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503844/war-beyond-battlefield</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھماکوں کے ذریعے جنگ کو دیکھنے میں ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ ایک حملہ ہوتا ہے۔ ہدف نشانہ بنتا ہے۔ نقشے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ٹھوس، تقریباً قابلِ پیمائش محسوس ہوتا ہے۔ آپ اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں، ”یہی وہ جگہ ہے جہاں جنگ کا فیصلہ ہو رہا ہے“۔ مگر ذرا پیچھے ہٹ کر ایک مشکل سوال پوچھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر میدانِ جنگ اب وہ جگہ ہی نہ رہا ہو جہاں جنگیں جیتی جاتی ہیں؟ اگر یہ محض وہ مقام ہو جہاں وہ ٹکراتی ہیں… جبکہ اصل مقابلہ کہیں اور، زیادہ خاموش، کہیں کم دکھائی دینے والا اور کہیں زیادہ فیصلہ کن انداز میں جاری ہو؟ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ لمحہ کچھ ایسا ہی ظاہر کرنا شروع کر رہا ہے۔ اصل کہانی آسمانوں یا صحراؤں میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منڈیوں میں ہے۔ اور منڈیاں، میزائلوں کے برعکس، ایک بار نہیں پھٹتیں—وہ بتدریج اثر جمع کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغاز کریں آبنائے ہرمز سے، پانی کی ایک تنگ پٹی جو بطور جغرافیائی خصوصیت شاید عالمی نقشے پر خاص توجہ حاصل نہ کرے، مگر تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل اسی سے گزرتی ہے۔ یہ بات جتنی سادہ لگتی ہے، اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ دنیا کو جھٹکا محسوس کرنے کے لیے تیل کی کمی ضروری نہیں۔ صرف اس کی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کافی ہوتی ہے۔ اور آج کی مالیاتی نوعیت اختیار کر چکی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اس گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے، ردِعمل تقریباً فوری ہوتا ہے۔ ٹینکروں کی انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں۔ فریٹ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ شپنگ روٹس پر نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔ تاجر ایک بیرل بھی ضائع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خلل کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں، وہ توقعات پر حرکت کرتی ہیں۔ چنانچہ ہرمز کی بندش نہیں بلکہ اس کا محض خطرہ بھی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس لہر کو آگے بڑھتے دیکھیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی توقعات کو تقویت دیتی ہیں۔ توانائی کوئی عام جنس نہیں؛ یہ نقل و حمل، مینوفیکچرنگ، زراعت اور بجلی کی پیداوار کی بنیاد ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اخراجات پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اور جب مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں تو ایک اور چیز حرکت میں آتی ہے، ایسی چیز جو خود تیل سے کہیں زیادہ فیصلہ کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ ییلڈز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مقام ہے جہاں جنگ خاموشی سے اپنا میدان بدلتی ہے۔ کیونکہ اصل دباؤ کا مرکز محض خام تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ قیمتیں امریکی ٹریژری مارکیٹ پر کیا اثر ڈالتی ہیں، وہ بنیاد جس پر عالمی مالیاتی نظام کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹریژریز صرف حکومتی قرض نہیں۔ یہ وہ معیار ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کے تقریباً ہر اثاثے کی قیمت لگتی ہے۔ مورگیجز، کارپوریٹ قرضے، ایکویٹی ویلیوایشن، سب بالآخر اسی مارکیٹ میں متعین ہونے والی ”رسک فری ریٹ“ سے جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب ییلڈز بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے بلکہ پھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگیج ریٹس بڑھتے ہیں، جس سے ہاؤسنگ ڈیمانڈ سست پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، سرمایہ کاری موخر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکویٹی مارکیٹس میں ڈسکاؤنٹ ریٹس بڑھنے کے باعث ازسرِنو قیمتیں متعین ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں تک عالمی توانائی کی تجارت امریکی ڈالر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ڈالر میں تیل کی قیمت مقرر ہونے سے اس کرنسی کی مستقل طلب پیدا ہوتی رہی، جس نے امریکی مالیاتی برتری کو مضبوط کیا، جسے ماہرینِ معاشیات طویل عرصے سے ” ایگزوربیٹنٹ پریولیج“ کہتے آئے ہیں۔ مگر خلل کے ایسے لمحات، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم گزرگاہی مقامات کے گرد، ان سوالات کو تیز کر دیتے ہیں جو کبھی محض نظریاتی تھے۔ اگر توانائی کی تجارت ڈالر سے ہٹ کر متنوع ہونا شروع ہو جائے تو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں چینی یوآن سامنے آتا ہے۔ چین گزشتہ ایک دہائی میں خاموشی سے اس تبدیلی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا رہا ہے—دو طرفہ کرنسی معاہدوں، متبادل ادائیگی نظاموں، اور توانائی کی ایسی تجارت کے ذریعے جو مکمل طور پر مغربی مالیاتی نظام پر انحصار نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی پیش رفت الگ الگ دیکھنے میں ڈرامائی نہیں لگتی۔ مگر مجموعی طور پر یہ کسی زیادہ سوچے سمجھے عمل، ایک متبادل مالیاتی ڈھانچے—کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سپلائی روٹس متاثر ہو سکتے ہیں، ادائیگی کے نظام خود ایک طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور چین نے حسبِ روایت شور کے بجائے صبر کے ساتھ اس سمت میں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہمیں جغرافیہ اور حکمتِ عملی کی طرف لے آتا ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر بندرگاہ کی ترقی کو اکثر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اسے بہتر طور پر ”ردِعملی متبادل“ ( ریڈنڈنسی) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، ایک ایسے خطرے کے مقابلے میں حفاظتی انتظام کے طور پر جو کسی گزرگاہ کے بند ہونے سے پیدا ہو۔ یہ روایتی بحری راستوں کا جزوی متبادل ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بھی کہ ہرمز جیسے ایک اہم راستے پر انحصار ایک ساختی کمزوری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہیں، گوادر ہرمز کی جگہ نہیں لیتا، اور اسے لینے کی ضرورت بھی نہیں۔ یہ محض انحصار کو کم کرتا ہے، اور جغرافیائی سیاست میں انحصار کم کرنا خود ایک طاقت ہے۔ چنانچہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک امتحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ سپلائی چینز واقعی کتنی مضبوط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ مہنگائی کی توقعات کس حد تک جمی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ ڈالر کی بالادستی بار بار کے جھٹکوں کو کس حد تک برداشت کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ متبادل نظام، مالیاتی اور لاجسٹک، کس حد تک خاموشی سے ترقی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید سب سے اہم، یہ سیاسی برداشت کا امتحان ہے۔ کیونکہ جدید جنگیں اب صرف عسکری برتری سے طے نہیں ہوتیں۔ وہ اس صلاحیت سے طے ہوتی ہیں کہ کون مسلسل معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے اور کون اسے برداشت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا معیشتیں طویل عرصے تک زیادہ توانائی قیمتوں کو برداشت کر سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا مالیاتی نظام طویل غیر یقینی صورتحال کو جھیل سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا حکومتیں عالمی جھٹکوں کے داخلی اثرات سے بچ سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہی سوالات اہم ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کون علاقہ کنٹرول کرتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اگرچہ فیصلہ کن لمحات تلاش کرنا پرکشش لگتا ہے، میدانِ جنگ میں کوئی بڑا موڑ، اچانک زوال، واضح فاتح،مگر اب نتائج عموماً اس طرح طے نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بتدریج سامنے آتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں روزانہ خطرات کی قیمت لگاتی ہیں، بانڈ مارکیٹس ہر گھنٹے توقعات کو ایڈجسٹ کرتی ہیں، مرکزی بینک دباؤ میں پالیسی ترتیب دیتے ہیں، اور گھرانے بڑھتی لاگت کے ساتھ خاموشی سے اپنی خرچ کرنے کی عادات بدلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید تنازعات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ کسی ایک فیصلہ کن حملے سے نہیں، بلکہ ہزاروں مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے جو وقت کے ساتھ نظام کو نئی شکل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو ہاں، میدانِ جنگ اب بھی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر جتنا ہم سمجھتے ہیں، اس سے کم۔ کیونکہ اصل مقابلہ اب صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ مالیاتی کشش (فنانشل گریویٹی) کا ہے، کون نظام کو اپنے حق میں کھینچ سکتا ہے؟ اور جب حالات اس کے خلاف ہوں تو کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں میزائل تماشہ پیدا کرتے ہیں، وہیں منڈیاں نتائج پیدا کرتی ہیں۔ اور جس دنیا میں ہم داخل ہو رہے ہیں، وہاں فیصلہ کن عنصر تیزی سے یہی دوسرا پہلو بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دھماکوں کے ذریعے جنگ کو دیکھنے میں ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ ایک حملہ ہوتا ہے۔ ہدف نشانہ بنتا ہے۔ نقشے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ٹھوس، تقریباً قابلِ پیمائش محسوس ہوتا ہے۔ آپ اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں، ”یہی وہ جگہ ہے جہاں جنگ کا فیصلہ ہو رہا ہے“۔ مگر ذرا پیچھے ہٹ کر ایک مشکل سوال پوچھیں۔</strong></p>
<p>اگر میدانِ جنگ اب وہ جگہ ہی نہ رہا ہو جہاں جنگیں جیتی جاتی ہیں؟ اگر یہ محض وہ مقام ہو جہاں وہ ٹکراتی ہیں… جبکہ اصل مقابلہ کہیں اور، زیادہ خاموش، کہیں کم دکھائی دینے والا اور کہیں زیادہ فیصلہ کن انداز میں جاری ہو؟ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ لمحہ کچھ ایسا ہی ظاہر کرنا شروع کر رہا ہے۔ اصل کہانی آسمانوں یا صحراؤں میں نہیں ہے۔</p>
<p>یہ منڈیوں میں ہے۔ اور منڈیاں، میزائلوں کے برعکس، ایک بار نہیں پھٹتیں—وہ بتدریج اثر جمع کرتی ہیں۔</p>
<p>آغاز کریں آبنائے ہرمز سے، پانی کی ایک تنگ پٹی جو بطور جغرافیائی خصوصیت شاید عالمی نقشے پر خاص توجہ حاصل نہ کرے، مگر تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل اسی سے گزرتی ہے۔ یہ بات جتنی سادہ لگتی ہے، اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ دنیا کو جھٹکا محسوس کرنے کے لیے تیل کی کمی ضروری نہیں۔ صرف اس کی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کافی ہوتی ہے۔ اور آج کی مالیاتی نوعیت اختیار کر چکی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔</p>
<p>جیسے ہی اس گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے، ردِعمل تقریباً فوری ہوتا ہے۔ ٹینکروں کی انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں۔ فریٹ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ شپنگ روٹس پر نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔ تاجر ایک بیرل بھی ضائع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خلل کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں، وہ توقعات پر حرکت کرتی ہیں۔ چنانچہ ہرمز کی بندش نہیں بلکہ اس کا محض خطرہ بھی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔</p>
<p>اب اس لہر کو آگے بڑھتے دیکھیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی توقعات کو تقویت دیتی ہیں۔ توانائی کوئی عام جنس نہیں؛ یہ نقل و حمل، مینوفیکچرنگ، زراعت اور بجلی کی پیداوار کی بنیاد ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اخراجات پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اور جب مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں تو ایک اور چیز حرکت میں آتی ہے، ایسی چیز جو خود تیل سے کہیں زیادہ فیصلہ کن ہے۔</p>
<p>بانڈ ییلڈز۔</p>
<p>یہ وہ مقام ہے جہاں جنگ خاموشی سے اپنا میدان بدلتی ہے۔ کیونکہ اصل دباؤ کا مرکز محض خام تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ قیمتیں امریکی ٹریژری مارکیٹ پر کیا اثر ڈالتی ہیں، وہ بنیاد جس پر عالمی مالیاتی نظام کھڑا ہے۔</p>
<p>امریکی ٹریژریز صرف حکومتی قرض نہیں۔ یہ وہ معیار ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کے تقریباً ہر اثاثے کی قیمت لگتی ہے۔ مورگیجز، کارپوریٹ قرضے، ایکویٹی ویلیوایشن، سب بالآخر اسی مارکیٹ میں متعین ہونے والی ”رسک فری ریٹ“ سے جڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا جب ییلڈز بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے بلکہ پھیلتے ہیں۔</p>
<p>مورگیج ریٹس بڑھتے ہیں، جس سے ہاؤسنگ ڈیمانڈ سست پڑتی ہے۔</p>
<p>کارپوریٹ قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، سرمایہ کاری موخر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ایکویٹی مارکیٹس میں ڈسکاؤنٹ ریٹس بڑھنے کے باعث ازسرِنو قیمتیں متعین ہوتی ہیں۔</p>
<p>کئی دہائیوں تک عالمی توانائی کی تجارت امریکی ڈالر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ڈالر میں تیل کی قیمت مقرر ہونے سے اس کرنسی کی مستقل طلب پیدا ہوتی رہی، جس نے امریکی مالیاتی برتری کو مضبوط کیا، جسے ماہرینِ معاشیات طویل عرصے سے ” ایگزوربیٹنٹ پریولیج“ کہتے آئے ہیں۔ مگر خلل کے ایسے لمحات، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم گزرگاہی مقامات کے گرد، ان سوالات کو تیز کر دیتے ہیں جو کبھی محض نظریاتی تھے۔ اگر توانائی کی تجارت ڈالر سے ہٹ کر متنوع ہونا شروع ہو جائے تو؟</p>
<p>یہاں چینی یوآن سامنے آتا ہے۔ چین گزشتہ ایک دہائی میں خاموشی سے اس تبدیلی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا رہا ہے—دو طرفہ کرنسی معاہدوں، متبادل ادائیگی نظاموں، اور توانائی کی ایسی تجارت کے ذریعے جو مکمل طور پر مغربی مالیاتی نظام پر انحصار نہیں کرتی۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی پیش رفت الگ الگ دیکھنے میں ڈرامائی نہیں لگتی۔ مگر مجموعی طور پر یہ کسی زیادہ سوچے سمجھے عمل، ایک متبادل مالیاتی ڈھانچے—کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سپلائی روٹس متاثر ہو سکتے ہیں، ادائیگی کے نظام خود ایک طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور چین نے حسبِ روایت شور کے بجائے صبر کے ساتھ اس سمت میں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>یہ ہمیں جغرافیہ اور حکمتِ عملی کی طرف لے آتا ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر بندرگاہ کی ترقی کو اکثر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اسے بہتر طور پر ”ردِعملی متبادل“ ( ریڈنڈنسی) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، ایک ایسے خطرے کے مقابلے میں حفاظتی انتظام کے طور پر جو کسی گزرگاہ کے بند ہونے سے پیدا ہو۔ یہ روایتی بحری راستوں کا جزوی متبادل ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بھی کہ ہرمز جیسے ایک اہم راستے پر انحصار ایک ساختی کمزوری ہے۔</p>
<p>نہیں، گوادر ہرمز کی جگہ نہیں لیتا، اور اسے لینے کی ضرورت بھی نہیں۔ یہ محض انحصار کو کم کرتا ہے، اور جغرافیائی سیاست میں انحصار کم کرنا خود ایک طاقت ہے۔ چنانچہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک امتحان ہے۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ سپلائی چینز واقعی کتنی مضبوط ہیں۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ مہنگائی کی توقعات کس حد تک جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ ڈالر کی بالادستی بار بار کے جھٹکوں کو کس حد تک برداشت کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ متبادل نظام، مالیاتی اور لاجسٹک، کس حد تک خاموشی سے ترقی کر چکے ہیں۔</p>
<p>اور شاید سب سے اہم، یہ سیاسی برداشت کا امتحان ہے۔ کیونکہ جدید جنگیں اب صرف عسکری برتری سے طے نہیں ہوتیں۔ وہ اس صلاحیت سے طے ہوتی ہیں کہ کون مسلسل معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے اور کون اسے برداشت کر سکتا ہے۔</p>
<p>کیا معیشتیں طویل عرصے تک زیادہ توانائی قیمتوں کو برداشت کر سکتی ہیں؟</p>
<p>کیا مالیاتی نظام طویل غیر یقینی صورتحال کو جھیل سکتے ہیں؟</p>
<p>کیا حکومتیں عالمی جھٹکوں کے داخلی اثرات سے بچ سکتی ہیں؟</p>
<p>اب یہی سوالات اہم ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کون علاقہ کنٹرول کرتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اگرچہ فیصلہ کن لمحات تلاش کرنا پرکشش لگتا ہے، میدانِ جنگ میں کوئی بڑا موڑ، اچانک زوال، واضح فاتح،مگر اب نتائج عموماً اس طرح طے نہیں ہوتے۔</p>
<p>وہ بتدریج سامنے آتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں روزانہ خطرات کی قیمت لگاتی ہیں، بانڈ مارکیٹس ہر گھنٹے توقعات کو ایڈجسٹ کرتی ہیں، مرکزی بینک دباؤ میں پالیسی ترتیب دیتے ہیں، اور گھرانے بڑھتی لاگت کے ساتھ خاموشی سے اپنی خرچ کرنے کی عادات بدلتے ہیں۔</p>
<p>جدید تنازعات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ کسی ایک فیصلہ کن حملے سے نہیں، بلکہ ہزاروں مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے جو وقت کے ساتھ نظام کو نئی شکل دیتے ہیں۔</p>
<p>تو ہاں، میدانِ جنگ اب بھی اہم ہے۔</p>
<p>مگر جتنا ہم سمجھتے ہیں، اس سے کم۔ کیونکہ اصل مقابلہ اب صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ مالیاتی کشش (فنانشل گریویٹی) کا ہے، کون نظام کو اپنے حق میں کھینچ سکتا ہے؟ اور جب حالات اس کے خلاف ہوں تو کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟</p>
<p>جہاں میزائل تماشہ پیدا کرتے ہیں، وہیں منڈیاں نتائج پیدا کرتی ہیں۔ اور جس دنیا میں ہم داخل ہو رہے ہیں، وہاں فیصلہ کن عنصر تیزی سے یہی دوسرا پہلو بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 22 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503844</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 10:45:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23104537d1d03f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23104537d1d03f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ابتدائی اثرات کے آثار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سات ہفتے بیت چکے ہیں، تاہم پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کے بعد فی الحال دو ہفتوں کی جنگ بندی برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے عالمی معیشت پر دو بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اول یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک عالمی سطح پر خام تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ دوم، اگر ان ممالک میں کساد بازاری جنم لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف دیگر ممالک سے درآمدات کم ہو سکتی ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی پیداوار اور برآمدات پہلے ہی متعدد حوالوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف پیداوار سے جڑے انفرااسٹرکچر اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر عائد قدغنوں نے ترسیلی نظام کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیگر اثرات میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی شامل ہے، جبکہ ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس) نے مارچ 2026 کے لیے قیمتوں کے اشاریے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ( ایل ایس ایم) اور اشیا کی درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار بروقت جاری کیے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے بھی مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری مالیات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی محصولات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار بھی مارچ 2026 کے لیے دستیاب ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدتی تبدیلی کا پہلا نمایاں اشارہ حساس قیمتوں کے اشاریے ( ایس پی آئی ) میں دیکھا جا سکتا ہے، جسے پی بی ایس ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشاریے کے مطابق 16 اپریل تک سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ جدول 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سات ہفتوں کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی غیر معمولی رہی ہے، اور یہ وہی عرصہ ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد کا بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اس اچانک اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو جدول 2 میں ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تخمینہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد حصہ ایندھن کی اشیا کے باعث ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے بھی مہنگائی میں ہمہ گیر اضافے کو ہوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس قیمتوں کا اشاریہ ( ایس پی آئی ) اپنے نام کے مطابق قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی) میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، جو فروری 2026 میں 7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 7.3 فیصد تک پہنچی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کم اضافہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی درآمدات میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں نمایاں لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں تھرمل پاور کا حصہ 61 فیصد سے زائد ہے۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پاور جنریشن کے لیے گیس کی دستیابی میں شدید کمی ہے، جبکہ بظاہر ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوڈشیڈنگ کی واپسی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ملک میں تقریباً 35 فیصد بجلی صنعت اور تجارت کے شعبے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ اثرات آگے بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے تجارتی اور بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار بھی اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی ) کی درآمدات میں مارچ کے دوران 48.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کھاد کی درآمدات بھی 33 فیصد تک گر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم امکان ہے کہ گیس کی قلت کے باعث خاص طور پر کھاد کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2026 کے بیلنس آف پیمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ ترسیلاتِ زر میں کمی آئی۔ یہ مارچ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دبئی سے ترسیلات میں 11 فیصد تک زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا تھا۔ واضح ہے کہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی معاشی صورتحال اب ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہو رہی ہے، جو پاکستان کو آنے والی مجموعی ترسیلات کا 55 فیصد حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں معاشی سست روی کا ایک اور اشارہ مارچ میں ایف بی آر محصولات کی شرح نمو میں نمایاں کمی ہے، جو گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی، جبکہ اس سے قبل دو ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں تیزی آئی ہے، کچھ صنعتوں کی پیداوار لوڈشیڈنگ اور خام مال کی کمی کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حالیہ تخمینوں سے مختلف ہیں، جس کے مطابق 2025-26 میں جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات محدود رہیں گے، جبکہ 2026-27 کے لیے اثرات کا انحصار تنازع کے دورانیے پر مبنی مختلف منظرناموں سے جوڑا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی غیر معمولی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی اور ان منفی اثرات کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 21 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سات ہفتے بیت چکے ہیں، تاہم پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کے بعد فی الحال دو ہفتوں کی جنگ بندی برقرار ہے۔</strong></p>
<p>اس تنازع کے عالمی معیشت پر دو بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اول یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک عالمی سطح پر خام تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ دوم، اگر ان ممالک میں کساد بازاری جنم لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف دیگر ممالک سے درآمدات کم ہو سکتی ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی پیداوار اور برآمدات پہلے ہی متعدد حوالوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف پیداوار سے جڑے انفرااسٹرکچر اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر عائد قدغنوں نے ترسیلی نظام کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p>ایندھن کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیگر اثرات میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی شامل ہے، جبکہ ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس) نے مارچ 2026 کے لیے قیمتوں کے اشاریے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ( ایل ایس ایم) اور اشیا کی درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار بروقت جاری کیے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے بھی مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری مالیات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی محصولات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار بھی مارچ 2026 کے لیے دستیاب ہو چکے ہیں۔</p>
<p>قلیل مدتی تبدیلی کا پہلا نمایاں اشارہ حساس قیمتوں کے اشاریے ( ایس پی آئی ) میں دیکھا جا سکتا ہے، جسے پی بی ایس ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کرتا ہے۔</p>
<p>اس اشاریے کے مطابق 16 اپریل تک سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ جدول 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ سات ہفتوں کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی غیر معمولی رہی ہے، اور یہ وہی عرصہ ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد کا بنتا ہے۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اس اچانک اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو جدول 2 میں ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تخمینہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد حصہ ایندھن کی اشیا کے باعث ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے بھی مہنگائی میں ہمہ گیر اضافے کو ہوا دی ہے۔</p>
<p>حساس قیمتوں کا اشاریہ ( ایس پی آئی ) اپنے نام کے مطابق قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی) میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، جو فروری 2026 میں 7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 7.3 فیصد تک پہنچی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کم اضافہ رہا۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی درآمدات میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں نمایاں لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں تھرمل پاور کا حصہ 61 فیصد سے زائد ہے۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پاور جنریشن کے لیے گیس کی دستیابی میں شدید کمی ہے، جبکہ بظاہر ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔</p>
<p>لوڈشیڈنگ کی واپسی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ملک میں تقریباً 35 فیصد بجلی صنعت اور تجارت کے شعبے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ اثرات آگے بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>مارچ کے تجارتی اور بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار بھی اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی ) کی درآمدات میں مارچ کے دوران 48.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کھاد کی درآمدات بھی 33 فیصد تک گر گئیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم امکان ہے کہ گیس کی قلت کے باعث خاص طور پر کھاد کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہو۔</p>
<p>مارچ 2026 کے بیلنس آف پیمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ ترسیلاتِ زر میں کمی آئی۔ یہ مارچ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دبئی سے ترسیلات میں 11 فیصد تک زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا تھا۔ واضح ہے کہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی معاشی صورتحال اب ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہو رہی ہے، جو پاکستان کو آنے والی مجموعی ترسیلات کا 55 فیصد حصہ ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں معاشی سست روی کا ایک اور اشارہ مارچ میں ایف بی آر محصولات کی شرح نمو میں نمایاں کمی ہے، جو گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی، جبکہ اس سے قبل دو ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔</p>
<p>ان تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں تیزی آئی ہے، کچھ صنعتوں کی پیداوار لوڈشیڈنگ اور خام مال کی کمی کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>یہ نتائج انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حالیہ تخمینوں سے مختلف ہیں، جس کے مطابق 2025-26 میں جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات محدود رہیں گے، جبکہ 2026-27 کے لیے اثرات کا انحصار تنازع کے دورانیے پر مبنی مختلف منظرناموں سے جوڑا گیا ہے۔</p>
<p>امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی غیر معمولی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی اور ان منفی اثرات کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 21 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503807</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:09:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07133403b853644.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07133403b853644.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر جغرافیائی بحران کا شکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں شمالی علاقوں میں حالیہ بجلی کی کمی دراصل پیداواری صلاحیت کی کمی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ سستی بجلی موجود ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ غلط جگہ پر موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں شامل کی گئی، جن میں جوہری توانائی، درآمدی کوئلہ اور تھر کے منصوبے شامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ شمالی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کو اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ صارفین ایسی اضافی پیداواری صلاحیت کی قیمت ادا کر رہے ہیں جسے ہر وقت اور ہر جگہ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد گزشتہ ہفتے واضح طور پر سامنے آیا۔ حتیٰ کہ پیک اوقات میں بھی جنوبی علاقوں کے کئی کم لاگت والے پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پر چل رہے تھے، باوجود اس کے کہ ان کے ٹیرف تقریباً 14 روپے فی یونٹ یا اس سے کم تھے۔ اسی وقت شمالی علاقوں میں مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو زیادہ استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ آر ایل این جی کی کمی پوری کی جا سکے، جبکہ عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہائیڈل پیداوار پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس طرح ایک ایسا نظام جو اضافی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، وہی نظام کمی کا شکار نظر آیا۔ یہ پیداواری مسئلہ نہیں، یہ منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسے جلدی سے ٹرانسمیشن کے بڑے منصوبوں کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر چشمہ-فائیو جیسے بڑے منصوبے 2030 تک مکمل ہو جاتے ہیں تو آج کے کچھ گرڈ اسٹیبلٹی اور لوڈ بیلنسنگ مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اربوں ڈالر ایسے ٹرانسمیشن منصوبوں پر خرچ کرنا جو اسی وقت فعال ہوں گے، سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ پرانی منصوبہ بندی کی عادت کا تسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال کو قبول کر لیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی کا رخ بدلنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بجلی کو طلب تک پہنچانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ طلب کو بجلی کے قریب کیسے لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی پاکستان پہلے ہی کم لاگت بجلی کے ایک بڑے مگر کم استعمال ہونے والے حصے کا حامل ہے۔ اگر یہ بجلی شمال تک مؤثر طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتی تو پھر توانائی سے بھرپور صنعتوں کو اسی علاقے کے قریب منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ زیادہ منطقی طویل المدتی حل ہے۔ صارفین پہلے ہی غیر فعال جنوبی پلانٹس کی کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اس لیے کم از کم یہ تو یقینی بنایا جائے کہ اس ضائع شدہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں بدلا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو انتظامی عادت کے بجائے مسابقتی برتری پر مبنی ہو۔ کراچی اور جنوبی کوریڈور، بندرگاہوں اور نسبتاً سستی بجلی کی دستیابی کے ساتھ، توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے قدرتی مقام ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان واقعی ایسے شعبے چلانا چاہتا ہے جنہیں مستحکم اور زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی جگہ یہی ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ محنت طلب صنعتوں کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہیے جہاں مزدور وافر ہوں اور زمین سستی ہو، جیسے جنوبی پنجاب کے کچھ حصے۔ وہاں گارمنٹس کا کلسٹر بنانا زیادہ منطقی ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر صنعتوں کا دباؤ بڑھایا جاتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اب صنعتی ترقی کے بارے میں مبہم باتوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک مختلف نقشے کی ضرورت ہے۔ ایک کلسٹر توانائی کی منطق پر ہونا چاہیے، اور دوسرا مزدور کی منطق پر۔ ملک بہت عرصے سے یہ فرض کرتا آیا ہے کہ ترقی صرف اسلام آباد سے منظم کی جا سکتی ہے، جبکہ مقام، ایندھن، لاجسٹکس اور گرڈ کی حقیقتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال میں حالیہ بجلی کی کمی کو اسی لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پیداواری منصوبہ بندی، ٹرانسمیشن، ایندھن اور صنعتی پالیسی الگ الگ چلائی جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ ریاست نے اضافی صلاحیت تو پیدا کی لیکن اس کے استعمال کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ اس نے طلب کو مرکوز کیا لیکن سپلائی کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ اب صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اضافی اور غیر مؤثر نظام دونوں کی قیمت ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے یہ بحران بنیادی طور پر صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اس بجلی کی ادائیگی کر چکا ہے جسے وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہا۔ اگلا قدم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس معیشت کو اس نظام کے مطابق ڈھالنا ہے جو حقیقت میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں شمالی علاقوں میں حالیہ بجلی کی کمی دراصل پیداواری صلاحیت کی کمی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ سستی بجلی موجود ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ غلط جگہ پر موجود ہے۔</strong></p>
<p>اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں شامل کی گئی، جن میں جوہری توانائی، درآمدی کوئلہ اور تھر کے منصوبے شامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ شمالی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کو اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ صارفین ایسی اضافی پیداواری صلاحیت کی قیمت ادا کر رہے ہیں جسے ہر وقت اور ہر جگہ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>یہ تضاد گزشتہ ہفتے واضح طور پر سامنے آیا۔ حتیٰ کہ پیک اوقات میں بھی جنوبی علاقوں کے کئی کم لاگت والے پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پر چل رہے تھے، باوجود اس کے کہ ان کے ٹیرف تقریباً 14 روپے فی یونٹ یا اس سے کم تھے۔ اسی وقت شمالی علاقوں میں مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو زیادہ استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ آر ایل این جی کی کمی پوری کی جا سکے، جبکہ عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہائیڈل پیداوار پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس طرح ایک ایسا نظام جو اضافی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، وہی نظام کمی کا شکار نظر آیا۔ یہ پیداواری مسئلہ نہیں، یہ منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔</p>
<p>اب یہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسے جلدی سے ٹرانسمیشن کے بڑے منصوبوں کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر چشمہ-فائیو جیسے بڑے منصوبے 2030 تک مکمل ہو جاتے ہیں تو آج کے کچھ گرڈ اسٹیبلٹی اور لوڈ بیلنسنگ مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اربوں ڈالر ایسے ٹرانسمیشن منصوبوں پر خرچ کرنا جو اسی وقت فعال ہوں گے، سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ پرانی منصوبہ بندی کی عادت کا تسلسل۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال کو قبول کر لیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی کا رخ بدلنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بجلی کو طلب تک پہنچانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ طلب کو بجلی کے قریب کیسے لایا جائے۔</p>
<p>جنوبی پاکستان پہلے ہی کم لاگت بجلی کے ایک بڑے مگر کم استعمال ہونے والے حصے کا حامل ہے۔ اگر یہ بجلی شمال تک مؤثر طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتی تو پھر توانائی سے بھرپور صنعتوں کو اسی علاقے کے قریب منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ زیادہ منطقی طویل المدتی حل ہے۔ صارفین پہلے ہی غیر فعال جنوبی پلانٹس کی کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اس لیے کم از کم یہ تو یقینی بنایا جائے کہ اس ضائع شدہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں بدلا جائے۔</p>
<p>اس کے لیے ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو انتظامی عادت کے بجائے مسابقتی برتری پر مبنی ہو۔ کراچی اور جنوبی کوریڈور، بندرگاہوں اور نسبتاً سستی بجلی کی دستیابی کے ساتھ، توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے قدرتی مقام ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان واقعی ایسے شعبے چلانا چاہتا ہے جنہیں مستحکم اور زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی جگہ یہی ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ محنت طلب صنعتوں کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہیے جہاں مزدور وافر ہوں اور زمین سستی ہو، جیسے جنوبی پنجاب کے کچھ حصے۔ وہاں گارمنٹس کا کلسٹر بنانا زیادہ منطقی ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر صنعتوں کا دباؤ بڑھایا جاتا رہے۔</p>
<p>پاکستان کو اب صنعتی ترقی کے بارے میں مبہم باتوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک مختلف نقشے کی ضرورت ہے۔ ایک کلسٹر توانائی کی منطق پر ہونا چاہیے، اور دوسرا مزدور کی منطق پر۔ ملک بہت عرصے سے یہ فرض کرتا آیا ہے کہ ترقی صرف اسلام آباد سے منظم کی جا سکتی ہے، جبکہ مقام، ایندھن، لاجسٹکس اور گرڈ کی حقیقتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔</p>
<p>شمال میں حالیہ بجلی کی کمی کو اسی لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پیداواری منصوبہ بندی، ٹرانسمیشن، ایندھن اور صنعتی پالیسی الگ الگ چلائی جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ ریاست نے اضافی صلاحیت تو پیدا کی لیکن اس کے استعمال کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ اس نے طلب کو مرکوز کیا لیکن سپلائی کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ اب صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اضافی اور غیر مؤثر نظام دونوں کی قیمت ادا کریں۔</p>
<p>اسی لیے یہ بحران بنیادی طور پر صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اس بجلی کی ادائیگی کر چکا ہے جسے وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہا۔ اگلا قدم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس معیشت کو اس نظام کے مطابق ڈھالنا ہے جو حقیقت میں موجود ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503765</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:18:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211416500ed858b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211416500ed858b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرمبادلہ ذخائر سنبھالنے کو مملکت میدان میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رواں ماہ 3.45 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے قرض کی واپسی ہے، 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر کے رول اوورز (جو 2019 سے ہر سال تجدید ہوتے رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی مدت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے)، اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ بدھ کو یہ اعلان کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران مملکت نے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، یقیناً معاشی منتظمین، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد (جو اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے)، کے لیے خوش آئند ریلیف ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز (2031 اور 2036 میں میچور ہونے والے) کی قیمت میں 0.8 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ادائیگی کی مدت اور عائد کردہ شرحِ سود کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں (13 سے 18 اپریل) کے دوران اورنگزیب نے عندیہ دیا کہ حکومت تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز/یورو بانڈز یا ممکنہ طور پر سکوک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان بانڈز (کمرشل قرض) پر منافع کا انحصار (الف) تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی درجہ بندی پر ہے، جو حالیہ بہتری کے باوجود اب بھی نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس پر عموماً دوطرفہ یا کثیرالجہتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ منافع دینا ہوگا؛ اور (ب) معیشت کی مجموعی صورتحال پر بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زرمبادلہ ذخائر تقریباً مکمل طور پر بیرونی قرض پر مشتمل ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت پیشگی شرائط پر بدستور سختی سے عمل کرنا ہوگا، جو معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں اور غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی ٹیم کے یہ دونوں قائدین مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات کو بنیاد بنا کر ان شرائط میں نرمی یا ان کی مرحلہ وار ترتیبِ نو (ری فیزنگ) پر کامیاب مذاکرات کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق 27 مارچ 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 38 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مجموعی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے—یہ ایک بڑی رقم ہے، جس کی واپسی اگر سعودی عرب کی یقین دہانی کے بغیر ہوتی تو نہ صرف ضروری درآمدات (ایندھن اور خوراک، جن کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں) کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوتی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے نسبتاً مستحکم روپے، ڈالر برابری بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں بجٹ میں مختص مارک اپ اخراجات میں اضافہ ہوتا، جو پہلے ہی اوپر کی جانب نظرثانی کے مراحل میں ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے (آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے)، اور یوں 27 اپریل 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر شدید دباؤ پڑتا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے مزید بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں سابقہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی خرابی سے جوڑ رہا ہے، تاہم ایک نامعلوم سینئر پاکستانی عہدیدار، جس کے عہدے اور متعلقہ وزارت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ یہ واپسی قومی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزارتِ خارجہ کی جانب سے 4 اپریل کو یو اے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کو جاری کردہ بیان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ ”گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں“ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈپازٹس دوطرفہ کمرشل معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حمایت کا مظہر ہیں۔ چنانچہ باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے، اب میچور ہونے والے یہ ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کی مالیاتی لین دین ہے اور اسے کسی اور زاویے سے پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ تعلق وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس کلیدی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے اس دیرپا دوستی کی بنیاد رکھنے میں ادا کیا، نیز پاکستان کے لیے ان کی خصوصی محبت کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اس پائیدار تعلق کو مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ نے بجا طور پر ’وقار‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ ”میڈیا کے بعض حلقوں میں حکومتِ پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ سے متعلق قیاس آرائیوں اور تبصروں کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتِ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات پورے کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“ یہ ایک مناسب ردِعمل تھا، کیونکہ معیاری معاہداتی شق کے تحت قرض دہندہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت میعاد پوری ہونے سے پہلے اصل زر، اس پر واجب الادا سود یا کسی بھی فیس کی واپسی کا تقاضا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ قرض کی واپسی کی معاشی وجوہات میں میکرو اکنامک دباؤ (ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، بلند مہنگائی، علاقائی تنازعات یا دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی جو جاری تنازع کا نتیجہ ہو سکتی ہے) شامل ہیں،اور یہ تمام عوامل موجودہ صورتحال میں لاگو بھی ہوتے ہیں،تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اس قرض کی واپسی میں جیو پولیٹکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بہرحال، وزارتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھیں اور جو افراد کسی معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں، وہ عوامی بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسے سوالات متعلقہ وزارت کی جانب بھیجیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس بھی تین ایسے پہلو ہیں جنہیں اب تک کابینہ کے کسی رکن نے اجاگر نہیں کیا۔ اول، اتصالات اب بھی 2005 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں 80 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الادا ہے، جس پر جمع ہونے والا سود بھی تاحال شمار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والی متعدد حکومتوں نے یو اے ای سے اس معاملے پر مفاہمت کی کوشش کی مگر تاحال کامیابی نہیں ملی۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت قرض کی واپسی کے تناظر میں اس رقم کے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، یو اے ای میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، جو وہاں دوسری بڑی قومی برادری ہیں، ملازمت کرتے ہیں (غیر ہنر مند/نیم ہنر مند اور بڑھتی تعداد میں ہنر مند افراد بھی شامل ہیں)۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خود یو اے ای کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ان پاکستانیوں نے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 10 فیصد بھیجا، 3 ارب 71 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، جو کل 38 ارب 29 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ہے۔ مارچ 2026 میں یو اے ای سے ترسیلاتِ زر 82 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں، جو اس ماہ کی مجموعی وصولیوں (3 ارب 83 کروڑ 14 لاکھ ڈالر) کا تقریباً 21.4 فیصد بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کا تخمینہ، جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ تھے، تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا تھا (جس میں بینک ڈپازٹس اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں)۔ اگرچہ تنازع کے باعث رئیل اسٹیٹ کی قدر میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستانی اب بھی یو اے ای میں قابلِ ذکر اثاثے رکھتے ہیں، جن میں سیاستدانوں، نجی شعبے اور دیگر افراد کی ملکیت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، پاکستان بدستور اپنے زرمبادلہ ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور بطور ثالث ملک کا کردار اس کی قرض لینے کی صلاحیت کو تقویت دے رہا ہے، تاہم امید یہی ہے کہ شرحِ سود اور ادائیگی کی مدت پر پیشگی اور مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کے اندر غیر روایتی مگر مؤثر پالیسی اقدامات (خصوصاً جاری اخراجات میں کمی) وضع اور نافذ کیے جائیں تاکہ بیرونی و داخلی قرضوں پر انحصار کم ہو، جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رواں ماہ 3.45 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے قرض کی واپسی ہے، 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر کے رول اوورز (جو 2019 سے ہر سال تجدید ہوتے رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی مدت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے)، اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر۔</strong></p>
<p>گزشتہ بدھ کو یہ اعلان کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران مملکت نے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، یقیناً معاشی منتظمین، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد (جو اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے)، کے لیے خوش آئند ریلیف ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز (2031 اور 2036 میں میچور ہونے والے) کی قیمت میں 0.8 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ادائیگی کی مدت اور عائد کردہ شرحِ سود کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں (13 سے 18 اپریل) کے دوران اورنگزیب نے عندیہ دیا کہ حکومت تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز/یورو بانڈز یا ممکنہ طور پر سکوک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان بانڈز (کمرشل قرض) پر منافع کا انحصار (الف) تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی درجہ بندی پر ہے، جو حالیہ بہتری کے باوجود اب بھی نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس پر عموماً دوطرفہ یا کثیرالجہتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ منافع دینا ہوگا؛ اور (ب) معیشت کی مجموعی صورتحال پر بھی ہے۔</p>
<p>اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زرمبادلہ ذخائر تقریباً مکمل طور پر بیرونی قرض پر مشتمل ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت پیشگی شرائط پر بدستور سختی سے عمل کرنا ہوگا، جو معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں اور غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی ٹیم کے یہ دونوں قائدین مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات کو بنیاد بنا کر ان شرائط میں نرمی یا ان کی مرحلہ وار ترتیبِ نو (ری فیزنگ) پر کامیاب مذاکرات کر سکیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق 27 مارچ 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 38 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مجموعی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے—یہ ایک بڑی رقم ہے، جس کی واپسی اگر سعودی عرب کی یقین دہانی کے بغیر ہوتی تو نہ صرف ضروری درآمدات (ایندھن اور خوراک، جن کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں) کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوتی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے نسبتاً مستحکم روپے، ڈالر برابری بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں بجٹ میں مختص مارک اپ اخراجات میں اضافہ ہوتا، جو پہلے ہی اوپر کی جانب نظرثانی کے مراحل میں ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے (آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے)، اور یوں 27 اپریل 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر شدید دباؤ پڑتا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے مزید بڑھایا جائے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں سابقہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی خرابی سے جوڑ رہا ہے، تاہم ایک نامعلوم سینئر پاکستانی عہدیدار، جس کے عہدے اور متعلقہ وزارت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ یہ واپسی قومی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔</p>
<p>دوسری جانب وزارتِ خارجہ کی جانب سے 4 اپریل کو یو اے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کو جاری کردہ بیان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ ”گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں“ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ ڈپازٹس دوطرفہ کمرشل معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حمایت کا مظہر ہیں۔ چنانچہ باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے، اب میچور ہونے والے یہ ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کی مالیاتی لین دین ہے اور اسے کسی اور زاویے سے پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ تعلق وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس کلیدی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے اس دیرپا دوستی کی بنیاد رکھنے میں ادا کیا، نیز پاکستان کے لیے ان کی خصوصی محبت کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اس پائیدار تعلق کو مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ نے بجا طور پر ’وقار‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ ”میڈیا کے بعض حلقوں میں حکومتِ پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ سے متعلق قیاس آرائیوں اور تبصروں کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p>حکومتِ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات پورے کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“ یہ ایک مناسب ردِعمل تھا، کیونکہ معیاری معاہداتی شق کے تحت قرض دہندہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت میعاد پوری ہونے سے پہلے اصل زر، اس پر واجب الادا سود یا کسی بھی فیس کی واپسی کا تقاضا کر سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ قرض کی واپسی کی معاشی وجوہات میں میکرو اکنامک دباؤ (ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، بلند مہنگائی، علاقائی تنازعات یا دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی جو جاری تنازع کا نتیجہ ہو سکتی ہے) شامل ہیں،اور یہ تمام عوامل موجودہ صورتحال میں لاگو بھی ہوتے ہیں،تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اس قرض کی واپسی میں جیو پولیٹکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بہرحال، وزارتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھیں اور جو افراد کسی معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں، وہ عوامی بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسے سوالات متعلقہ وزارت کی جانب بھیجیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس بھی تین ایسے پہلو ہیں جنہیں اب تک کابینہ کے کسی رکن نے اجاگر نہیں کیا۔ اول، اتصالات اب بھی 2005 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں 80 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الادا ہے، جس پر جمع ہونے والا سود بھی تاحال شمار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والی متعدد حکومتوں نے یو اے ای سے اس معاملے پر مفاہمت کی کوشش کی مگر تاحال کامیابی نہیں ملی۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت قرض کی واپسی کے تناظر میں اس رقم کے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>دوم، یو اے ای میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، جو وہاں دوسری بڑی قومی برادری ہیں، ملازمت کرتے ہیں (غیر ہنر مند/نیم ہنر مند اور بڑھتی تعداد میں ہنر مند افراد بھی شامل ہیں)۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خود یو اے ای کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ان پاکستانیوں نے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 10 فیصد بھیجا، 3 ارب 71 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، جو کل 38 ارب 29 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ہے۔ مارچ 2026 میں یو اے ای سے ترسیلاتِ زر 82 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں، جو اس ماہ کی مجموعی وصولیوں (3 ارب 83 کروڑ 14 لاکھ ڈالر) کا تقریباً 21.4 فیصد بنتی ہیں۔</p>
<p>سوم، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کا تخمینہ، جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ تھے، تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا تھا (جس میں بینک ڈپازٹس اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں)۔ اگرچہ تنازع کے باعث رئیل اسٹیٹ کی قدر میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستانی اب بھی یو اے ای میں قابلِ ذکر اثاثے رکھتے ہیں، جن میں سیاستدانوں، نجی شعبے اور دیگر افراد کی ملکیت شامل ہے۔</p>
<p>آخر میں، پاکستان بدستور اپنے زرمبادلہ ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور بطور ثالث ملک کا کردار اس کی قرض لینے کی صلاحیت کو تقویت دے رہا ہے، تاہم امید یہی ہے کہ شرحِ سود اور ادائیگی کی مدت پر پیشگی اور مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کے اندر غیر روایتی مگر مؤثر پالیسی اقدامات (خصوصاً جاری اخراجات میں کمی) وضع اور نافذ کیے جائیں تاکہ بیرونی و داخلی قرضوں پر انحصار کم ہو، جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503764</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:17:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2114061001d3c05.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2114061001d3c05.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اور عالمِ اسلام میں مزاحمت کی لہر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503704/greater-israel-plan-islamic-resistance</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیسویں صدی میں تین بڑے انقلابات آئے۔ 1917 کے بالشویک انقلاب نے سوویت یونین (یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس) کی بنیاد رکھی جو 1991 میں اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ 1949 کا چینی انقلاب اب بھی اپنی راہ پر گامزن ہے اور عوامی جمہوریہ چین اب امریکہ کی جگہ دنیا کی غالب سپر پاور بننے کے لیے تیار ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوویت سوشلسٹ سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے چین کی سوشلزم کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ 1989 میں بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مدد سے ڈینگ شیاؤ پنگ نے اسے کچل دیا اور انقلاب اپنی راہ پر قائم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تہران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج ) کے ذریعے ایرانی انقلاب کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت گریٹر اسرائیل کے قیام اور ایران کی قیادت میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لیے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی کو دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا صیہونی ریاست کی مکمل زمینی مدد حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے بعد ایران مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے۔ امریکہ، جو دنیا کی قدیم ترین آئینی جمہوریت ہے، کئی مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے غیر مقبول اور آمرانہ بادشاہتوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ شکاری کے ساتھ شکار اور خرگوش کے ساتھ بھاگنے (دوغلی پالیسی) کی بہترین مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ابہام اور دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے۔ 1980 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عراق نے صدام حسین کی قیادت میں عرب بادشاہتوں کی درپردہ حمایت سے ایران پر حملہ کیا۔ اس کا مقصد امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کو روکنا تھا، جس نے قبائلی اور خاندانی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ صدام حسین کو استعمال کر کے کمزور کیا گیا اور بالآخر 2003 کے حملے میں اسے ختم کر دیا گیا۔ ایران نے 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد بھی اپنا راستہ برقرار رکھا اور 28 فروری 2026 کو ان کے جانشین علی خامنہ ای کی شہادت بھی اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب ایران میں اسلام لائے جو زمین کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایرانیوں نے نظریے کو اپنایا لیکن عرب طور طریقوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف پیغام کو سمجھا بلکہ تصوف کے ذریعے اس کی روحانی گہرائیوں میں اتر گئے۔ تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی اور بیسویں صدی میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اس پیغام کی نئی تفہیم پیش کی۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے خیالات کو ایران منتقل کیا اور اس بیداری کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اقبال لاہوری کو ایران میں ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح ہیں۔ مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے، جس کے لیے عوام کو آمریتوں اور قبائلی حکمرانی کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ مغربی طاقتوں اور محصور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پرامن علیحدگی ہونی چاہیے۔ تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بعد تمام امریکی اڈے بند کیے جانے چاہئیں۔ تب ہی اسرائیل اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے اور توسیع پسندانہ عزائم چھوڑنے پر مجبور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی پیش قدمی اور اسلامی بیداری اب ناقابلِ تسخیر ہے۔ خفیہ کارروائیوں اور قتل و غارت گری کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے صرف بادشاہت سے نجات حاصل نہیں کی بلکہ اس کے تمام نشانات بھی مٹا دیے ہیں۔ اب محمد رضا پہلوی کے بیٹے کے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔ سی آئی اے 1953 میں محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ کو واپس لائی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بدل چکی ہے۔ 21 ویں صدی کو چین کی صدی اور اسلامی بیداری کا دور قرار دیا گیا ہے، جبکہ مغرب زوال پذیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جنگی جنون کی منتر سے دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ امن کو دوستانہ طریقوں سے غالب آنے دیں۔ صیہونی ریاست کو امن سے رہنے کے لیے دو ریاستی فارمولا تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے 1930 کی دہائی میں ہی سرمایہ داری کے خاتمے اور چینی سوشلزم کے عروج کی پیش گوئی کر دی تھی ” &lt;em&gt;گیا دورِ سرمایہ داری گیا، تماشا دکھا کر مداری گیا&lt;/em&gt; ”رومی اور اقبال کا اسلام آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو نئی زندگی عطا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیسویں صدی میں تین بڑے انقلابات آئے۔ 1917 کے بالشویک انقلاب نے سوویت یونین (یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس) کی بنیاد رکھی جو 1991 میں اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ 1949 کا چینی انقلاب اب بھی اپنی راہ پر گامزن ہے اور عوامی جمہوریہ چین اب امریکہ کی جگہ دنیا کی غالب سپر پاور بننے کے لیے تیار ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔</strong></p>
<p>سوویت سوشلسٹ سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے چین کی سوشلزم کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ 1989 میں بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مدد سے ڈینگ شیاؤ پنگ نے اسے کچل دیا اور انقلاب اپنی راہ پر قائم رہا۔</p>
<p>آج تہران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج ) کے ذریعے ایرانی انقلاب کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت گریٹر اسرائیل کے قیام اور ایران کی قیادت میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لیے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی کو دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا صیہونی ریاست کی مکمل زمینی مدد حاصل ہے۔</p>
<p>اسرائیل کے بعد ایران مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے۔ امریکہ، جو دنیا کی قدیم ترین آئینی جمہوریت ہے، کئی مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے غیر مقبول اور آمرانہ بادشاہتوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ شکاری کے ساتھ شکار اور خرگوش کے ساتھ بھاگنے (دوغلی پالیسی) کی بہترین مثال ہے۔</p>
<p>اس ابہام اور دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے۔ 1980 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عراق نے صدام حسین کی قیادت میں عرب بادشاہتوں کی درپردہ حمایت سے ایران پر حملہ کیا۔ اس کا مقصد امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کو روکنا تھا، جس نے قبائلی اور خاندانی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ صدام حسین کو استعمال کر کے کمزور کیا گیا اور بالآخر 2003 کے حملے میں اسے ختم کر دیا گیا۔ ایران نے 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد بھی اپنا راستہ برقرار رکھا اور 28 فروری 2026 کو ان کے جانشین علی خامنہ ای کی شہادت بھی اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہے گی۔</p>
<p>عرب ایران میں اسلام لائے جو زمین کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایرانیوں نے نظریے کو اپنایا لیکن عرب طور طریقوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف پیغام کو سمجھا بلکہ تصوف کے ذریعے اس کی روحانی گہرائیوں میں اتر گئے۔ تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی اور بیسویں صدی میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اس پیغام کی نئی تفہیم پیش کی۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے خیالات کو ایران منتقل کیا اور اس بیداری کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اقبال لاہوری کو ایران میں ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے۔</p>
<p>آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح ہیں۔ مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے، جس کے لیے عوام کو آمریتوں اور قبائلی حکمرانی کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ مغربی طاقتوں اور محصور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پرامن علیحدگی ہونی چاہیے۔ تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بعد تمام امریکی اڈے بند کیے جانے چاہئیں۔ تب ہی اسرائیل اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے اور توسیع پسندانہ عزائم چھوڑنے پر مجبور ہوگا۔</p>
<p>چین کی پیش قدمی اور اسلامی بیداری اب ناقابلِ تسخیر ہے۔ خفیہ کارروائیوں اور قتل و غارت گری کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے صرف بادشاہت سے نجات حاصل نہیں کی بلکہ اس کے تمام نشانات بھی مٹا دیے ہیں۔ اب محمد رضا پہلوی کے بیٹے کے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔ سی آئی اے 1953 میں محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ کو واپس لائی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔</p>
<p>دنیا بدل چکی ہے۔ 21 ویں صدی کو چین کی صدی اور اسلامی بیداری کا دور قرار دیا گیا ہے، جبکہ مغرب زوال پذیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جنگی جنون کی منتر سے دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ امن کو دوستانہ طریقوں سے غالب آنے دیں۔ صیہونی ریاست کو امن سے رہنے کے لیے دو ریاستی فارمولا تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے 1930 کی دہائی میں ہی سرمایہ داری کے خاتمے اور چینی سوشلزم کے عروج کی پیش گوئی کر دی تھی ” <em>گیا دورِ سرمایہ داری گیا، تماشا دکھا کر مداری گیا</em> ”رومی اور اقبال کا اسلام آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو نئی زندگی عطا کرے گا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 19 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503704</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:34:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر فرید اے ملک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/200929438e99378.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/200929438e99378.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مڈل ایسٹ پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن، نئے عالمی نظام کا حل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503707/middle-east-pakistan-treaty-organization-new-world-order-solution</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کچھ بھی ہوں، اصل فاتح پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور یہی عالمی امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس عمل میں پاکستان ایک قابلِ اعتماد واسطہ بن کر ابھرا ہے جس نے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بلاشبہ تاریخ کے صفحات میں پاکستان کی آزادی کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر درج ہوگی۔ دراصل یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر اسے اپنے مخالفین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971 میں پاکستان وہ پل تھا جس کے ذریعے امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان پہلی بار رابطہ قائم ہوا، جب 1949 میں کمیونسٹ چین کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح اس بار بھی تقریباً 50 سال کے وقفے کے بعد پاکستان کی سرزمین نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی ملاقات کی راہ ہموار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر اس منفرد مقام کے حصول نے اب بھارت کے دارالحکومت میں 7 سے 8 شدت کے سیاسی جھٹکے پیدا کر دیے ہیں۔ بھارتی ٹی وی اینکرز اور نام نہاد دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بے قابو ردِعمل ناقابلِ یقین ہے۔ درحقیقت یہ عالمی سطح پر جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود ایک طرح کی مزاحیہ تفریح بن گیا ہے۔ وہ مسخروں اور جوکروں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، پہلے تو وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں (جو کسی حد تک درست ہے) اور دوسرے نمبر پر پاکستان کے امن قائم کرنے والے کردار کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی (اپنے چند نفرت انگیز وزرا کے ساتھ) بھارت کی تنہائی کا بنیادی ذمہ دار ہے۔ اس نے اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف صف بندی کو دانشمندی سمجھا۔ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، حالانکہ ایران پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلق رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے اس دوستی سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھایا، تاہم بچھو کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈنک مارتا ہے، اور بالکل یہی بھارت نے ایران کے ساتھ کیا۔ مودی نے 22 سے 25 فروری کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا اور انہیں سرخ قالین استقبال اور اعزاز سے نوازا گیا۔ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی کی، اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس سے سفارتی دوغلے پن اور دوہرے معیار کا ایک بہت تکلیف دہ سبق سیکھا ہے۔ جے شنکر دی پرنس (میکیاولی) کا ایک اچھا شاگرد بن کر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے خود کو ایسی آگ پر کھڑا کر لیا ہے جس میں وہ اپنے سفارتی وجود کی چتا کے نیچے صندل کی لکڑیاں خود ہی جلا رہا ہے۔ ردعمل کی یہ دیوانگی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ ایک سابق امریکی سفارتکار نے ایک معتبر بھارتی ٹی وی چینل پر اینکرز، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو اسکول کے بچے قرار دے دیا۔ اس نے انہیں ایک بہترین خاموش رہنے کا مشورہ دیا، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، کیونکہ بھارت میں فضا صرف اس بات کی گونج سے بھری ہوئی ہے کہ پاکستان نے یہ مقام اور اعتماد کیسے حاصل کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاگل پن میں بھی کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے، مگر یہاں ایسا کچھ نہیں—یہ ایک مکمل افراتفری ہے۔ ایک اینکر نے تو حد سے بڑھ کر تصوراتی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس کو لے جانے والا طیارہ پرواز کے دوران واپس مڑ گیا۔ آخرکار اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہوگا کہ نائب صدر کے طیارے کے پہیے اسلام آباد کی زمین (ٹارمک) کو چھو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی خاموش مگر مسلسل سفارتی کوششیں، جو ریاض، ابوظہبی، دوحہ، تہران، استنبول، قاہرہ اور خاص طور پر ماسکو اور بیجنگ کے ذریعے کی گئیں، قابلِ ستائش ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی۔ دنیا کے تمام رہنماؤں نے، سوائے ناراض مشرقی ہمسایہ کے، پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے غیر معروف ہیروز کو قوم کا سلام پیش کرنا چاہیے۔ وہ واقعی بہترین قیادت میں کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفارتی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد، بااعتماد اور قابلِ بھروسہ کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ طویل عرصے بعد پاکستان درست وجوہات کی بنا پر آکلینڈ سے اینکریج تک، ٹوکیو سے مونٹیویڈیو تک ٹی وی اسکرینوں پر نمایاں نظر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج فارس کا بحران بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسے فریقین کی جانب سے دی جانے والی سلامتی کی ضمانتیں جو خود خطے کا حصہ نہیں ہوتے، زیادہ قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ نیٹو اس کی ایک مثال ہے۔ 1949 میں قائم ہونے والا یہ اتحاد ایک سیاسی و عسکری اتحاد تھا جو امن اور استحکام کے لیے ایک ٹرانس اٹلانٹک پل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کے اجتماعی دفاع کے اصول (آرٹیکل 5) کے مطابق ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے 32 اراکین ہیں (جس میں سویڈن تازہ ترین رکن ہے)۔ درحقیقت یہ اتحاد اب بکھر چکا ہے۔ یوکرین اس کی ایک اور مثال ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیٹو سے متعلق ناراضگی اس وقت ظاہر ہوئی جب انہوں نے 32 ممالک کے رہنماؤں کو بزدل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹو (1955) سوویت یونین (کمیونسٹ) کی مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندی کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ اس میں ترکی، عراق، ایران اور پاکستان شامل تھے۔ سینٹو کی قیادت امریکہ نے ایک مستحکم ضامن کے طور پر کی۔ 1965 اور 1971 میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سینٹو تماشائیوں کے بکس میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے 1972 میں پاکستان کو سینٹو سے نکال لیا۔ سینٹو 1979 میں نظراندازی کی موت مر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیٹو(1954) کمیونزم کے پھیلاؤ کو ایشیا میں روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ 1953 کی کوریا جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا؛ اس کے اراکین میں وہ ممالک بھی شامل تھے جو ایشیا کا حصہ نہیں تھے (ضامن قوتیں) — امریکہ، فرانس، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا۔ ایک بار پھر، ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں سیٹو کو چھوڑنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ویتنام جنگ کے دوران بھی سیٹو منظر سے غائب رہا۔ یہ اتحاد بھی اپنی انجامِ کار کو پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بات یہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی فریق، جو خود خطے کا حصہ نہ ہو، سیکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ حالیہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ، اس کے باوجود کہ خطے میں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خطے کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک زیادہ قابلِ اعتماد اتحادی ہے۔ آج (12 اپریل 2026) خبروں میں تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی فوجی اور طیارے سعودی سرزمین پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دے کر ترکی، عراق، شام، لبنان، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، یمن، عمان اور قطر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے؛ اس سے مڈل ایسٹ-پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن (میپٹو) کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ اس نظام میں پاکستان، جو واحد ایٹمی طاقت ہوگا، اس تنظیم کی قیادت کرے، جس کا واحد مقصد خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہو؛ اور تمام باہمی اختلافات جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیے جائیں۔ امریکہ کا اعتماد حاصل ہونے کے بعد پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ بن سکتا ہے۔ کسی بھی معاشی اتحاد، خواہ کثیرالملکی ہو یا دو طرفہ، اس تعاون کے ضمنی فوائد ہو سکتے ہیں۔ میپٹو کا ہیڈکوارٹر استنبول میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل اور خطے کے اندر یا باہر کسی بھی عسکری مہم جو ملک کو قابو میں رکھا جا سکے؛ میپٹو کا ادارہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین، جس نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کو اس طرح کے کسی بھی پاکستانی عسکری اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چونکہ خطے کے تقریباً تمام ممالک کے امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں، اس لیے ان کی رضامندی اور منظوری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار، بالغ اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے۔ صرف اسلام آباد مذاکرات کا انعقاد ہی میپٹو کی ضرورت اور جواز کو ثابت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صیہونی اور ہندوتوا سے متاثر میڈیا یہ ثابت کرنے کے لیے اضافی وقت کام کرے گا کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ مخالفین کے لیے 50 سال کے وقفے کے بعد ملاقات خود ایک کامیابی ہے۔ اس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں تھیں وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھیں، انہوں نے ایک شاندار کام کیا اور واقعی امریکہ اور ایرانیوں کے درمیان خلا کو پُر کرنے اور معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیحہ لودھی ایک صحافی اور بہترین سفارتکار، نے ایک ٹویٹ میں نہایت درست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں کسی بھی فوری فیصلے سے گریز کرنا چاہیے جو ابھی بمشکل شروع ہوئے ہیں۔ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی واقعہ نہیں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ عمل جلد کوئی نتیجہ دے گا وہ غلط ہے۔ اسے نہ تو بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ناکامی کے طور پر۔ یہ واضح ہے کہ لبنان پر حملہ اسرائیل کی جانب سے اس لیے کیا گیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس کی منصوبہ بندی، نیت اور ڈیزائن کا مقصد مذاکرات کو کمزور کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے دنوں میں ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے اتحاد اور انضمام کے رجحان کے بارے میں پڑھا تھا جیسے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (یو اے آر) جو مصر اور شام کے درمیان تھا اور صرف چند سال ہی چل سکا۔ اسی طرح لیبیا کا مصر اور شام کے ساتھ اتحاد بھی فائل میں ہی ختم ہو گیا۔ یہ کلاسیکی مثالیں ہیں، اور ایسے اتحادوں پر طلبہ مزاحاً کہا کرتے تھے کہ دو برادر ممالک نے بہنوں جیسے تعلقات قائم کر لیے یا دو بہن ریاستوں نے برادرانہ تعلقات قائم کر لیے! یہ تمام اتحاد ہوا میں تحلیل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسے ادارے طویل عرصے سے آئی سی یو میں ہیں — بہتر ہوگا کہ ان کے وینٹی لیٹرز ہٹا دیے جائیں اور انہیں ایک پرامن موت/اختتام دیا جائے۔ میپٹو نئی عالمی ترتیب میں حل ہے۔ پاکستان اس کی قیادت کر سکتا ہے، کیونکہ اب اسے مغرب اور بحرِ اوقیانوس کے ممالک میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کچھ بھی ہوں، اصل فاتح پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور یہی عالمی امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس عمل میں پاکستان ایک قابلِ اعتماد واسطہ بن کر ابھرا ہے جس نے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بلاشبہ تاریخ کے صفحات میں پاکستان کی آزادی کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر درج ہوگی۔ دراصل یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر اسے اپنے مخالفین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔</strong></p>
<p>1971 میں پاکستان وہ پل تھا جس کے ذریعے امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان پہلی بار رابطہ قائم ہوا، جب 1949 میں کمیونسٹ چین کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح اس بار بھی تقریباً 50 سال کے وقفے کے بعد پاکستان کی سرزمین نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی ملاقات کی راہ ہموار کی۔</p>
<p>عالمی سطح پر اس منفرد مقام کے حصول نے اب بھارت کے دارالحکومت میں 7 سے 8 شدت کے سیاسی جھٹکے پیدا کر دیے ہیں۔ بھارتی ٹی وی اینکرز اور نام نہاد دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بے قابو ردِعمل ناقابلِ یقین ہے۔ درحقیقت یہ عالمی سطح پر جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود ایک طرح کی مزاحیہ تفریح بن گیا ہے۔ وہ مسخروں اور جوکروں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، پہلے تو وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں (جو کسی حد تک درست ہے) اور دوسرے نمبر پر پاکستان کے امن قائم کرنے والے کردار کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>مودی (اپنے چند نفرت انگیز وزرا کے ساتھ) بھارت کی تنہائی کا بنیادی ذمہ دار ہے۔ اس نے اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف صف بندی کو دانشمندی سمجھا۔ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، حالانکہ ایران پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلق رکھتا ہے۔</p>
<p>بھارت نے اس دوستی سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھایا، تاہم بچھو کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈنک مارتا ہے، اور بالکل یہی بھارت نے ایران کے ساتھ کیا۔ مودی نے 22 سے 25 فروری کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا اور انہیں سرخ قالین استقبال اور اعزاز سے نوازا گیا۔ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی کی، اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس سے سفارتی دوغلے پن اور دوہرے معیار کا ایک بہت تکلیف دہ سبق سیکھا ہے۔ جے شنکر دی پرنس (میکیاولی) کا ایک اچھا شاگرد بن کر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>بھارت نے خود کو ایسی آگ پر کھڑا کر لیا ہے جس میں وہ اپنے سفارتی وجود کی چتا کے نیچے صندل کی لکڑیاں خود ہی جلا رہا ہے۔ ردعمل کی یہ دیوانگی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ ایک سابق امریکی سفارتکار نے ایک معتبر بھارتی ٹی وی چینل پر اینکرز، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو اسکول کے بچے قرار دے دیا۔ اس نے انہیں ایک بہترین خاموش رہنے کا مشورہ دیا، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، کیونکہ بھارت میں فضا صرف اس بات کی گونج سے بھری ہوئی ہے کہ پاکستان نے یہ مقام اور اعتماد کیسے حاصل کیا؟</p>
<p>عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاگل پن میں بھی کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے، مگر یہاں ایسا کچھ نہیں—یہ ایک مکمل افراتفری ہے۔ ایک اینکر نے تو حد سے بڑھ کر تصوراتی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس کو لے جانے والا طیارہ پرواز کے دوران واپس مڑ گیا۔ آخرکار اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہوگا کہ نائب صدر کے طیارے کے پہیے اسلام آباد کی زمین (ٹارمک) کو چھو رہے تھے۔</p>
<p>پاکستان کی خاموش مگر مسلسل سفارتی کوششیں، جو ریاض، ابوظہبی، دوحہ، تہران، استنبول، قاہرہ اور خاص طور پر ماسکو اور بیجنگ کے ذریعے کی گئیں، قابلِ ستائش ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی۔ دنیا کے تمام رہنماؤں نے، سوائے ناراض مشرقی ہمسایہ کے، پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے غیر معروف ہیروز کو قوم کا سلام پیش کرنا چاہیے۔ وہ واقعی بہترین قیادت میں کام کر رہے تھے۔</p>
<p>اس سفارتی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد، بااعتماد اور قابلِ بھروسہ کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ طویل عرصے بعد پاکستان درست وجوہات کی بنا پر آکلینڈ سے اینکریج تک، ٹوکیو سے مونٹیویڈیو تک ٹی وی اسکرینوں پر نمایاں نظر آیا۔</p>
<p>خلیج فارس کا بحران بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسے فریقین کی جانب سے دی جانے والی سلامتی کی ضمانتیں جو خود خطے کا حصہ نہیں ہوتے، زیادہ قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ نیٹو اس کی ایک مثال ہے۔ 1949 میں قائم ہونے والا یہ اتحاد ایک سیاسی و عسکری اتحاد تھا جو امن اور استحکام کے لیے ایک ٹرانس اٹلانٹک پل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کے اجتماعی دفاع کے اصول (آرٹیکل 5) کے مطابق ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے 32 اراکین ہیں (جس میں سویڈن تازہ ترین رکن ہے)۔ درحقیقت یہ اتحاد اب بکھر چکا ہے۔ یوکرین اس کی ایک اور مثال ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیٹو سے متعلق ناراضگی اس وقت ظاہر ہوئی جب انہوں نے 32 ممالک کے رہنماؤں کو بزدل قرار دیا۔</p>
<p>سینٹو (1955) سوویت یونین (کمیونسٹ) کی مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندی کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ اس میں ترکی، عراق، ایران اور پاکستان شامل تھے۔ سینٹو کی قیادت امریکہ نے ایک مستحکم ضامن کے طور پر کی۔ 1965 اور 1971 میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سینٹو تماشائیوں کے بکس میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے 1972 میں پاکستان کو سینٹو سے نکال لیا۔ سینٹو 1979 میں نظراندازی کی موت مر گیا۔</p>
<p>سیٹو(1954) کمیونزم کے پھیلاؤ کو ایشیا میں روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ 1953 کی کوریا جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا؛ اس کے اراکین میں وہ ممالک بھی شامل تھے جو ایشیا کا حصہ نہیں تھے (ضامن قوتیں) — امریکہ، فرانس، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا۔ ایک بار پھر، ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں سیٹو کو چھوڑنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ویتنام جنگ کے دوران بھی سیٹو منظر سے غائب رہا۔ یہ اتحاد بھی اپنی انجامِ کار کو پہنچ گیا۔</p>
<p>یہاں بات یہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی فریق، جو خود خطے کا حصہ نہ ہو، سیکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ حالیہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ، اس کے باوجود کہ خطے میں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خطے کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک زیادہ قابلِ اعتماد اتحادی ہے۔ آج (12 اپریل 2026) خبروں میں تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی فوجی اور طیارے سعودی سرزمین پر موجود ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دے کر ترکی، عراق، شام، لبنان، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، یمن، عمان اور قطر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے؛ اس سے مڈل ایسٹ-پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن (میپٹو) کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ اس نظام میں پاکستان، جو واحد ایٹمی طاقت ہوگا، اس تنظیم کی قیادت کرے، جس کا واحد مقصد خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہو؛ اور تمام باہمی اختلافات جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیے جائیں۔ امریکہ کا اعتماد حاصل ہونے کے بعد پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ بن سکتا ہے۔ کسی بھی معاشی اتحاد، خواہ کثیرالملکی ہو یا دو طرفہ، اس تعاون کے ضمنی فوائد ہو سکتے ہیں۔ میپٹو کا ہیڈکوارٹر استنبول میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل اور خطے کے اندر یا باہر کسی بھی عسکری مہم جو ملک کو قابو میں رکھا جا سکے؛ میپٹو کا ادارہ ضروری ہے۔</p>
<p>چین، جس نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کو اس طرح کے کسی بھی پاکستانی عسکری اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چونکہ خطے کے تقریباً تمام ممالک کے امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں، اس لیے ان کی رضامندی اور منظوری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔</p>
<p>پاکستان نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار، بالغ اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے۔ صرف اسلام آباد مذاکرات کا انعقاد ہی میپٹو کی ضرورت اور جواز کو ثابت کرتا ہے۔</p>
<p>صیہونی اور ہندوتوا سے متاثر میڈیا یہ ثابت کرنے کے لیے اضافی وقت کام کرے گا کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ مخالفین کے لیے 50 سال کے وقفے کے بعد ملاقات خود ایک کامیابی ہے۔ اس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں تھیں وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھیں، انہوں نے ایک شاندار کام کیا اور واقعی امریکہ اور ایرانیوں کے درمیان خلا کو پُر کرنے اور معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ملیحہ لودھی ایک صحافی اور بہترین سفارتکار، نے ایک ٹویٹ میں نہایت درست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں کسی بھی فوری فیصلے سے گریز کرنا چاہیے جو ابھی بمشکل شروع ہوئے ہیں۔ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی واقعہ نہیں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ عمل جلد کوئی نتیجہ دے گا وہ غلط ہے۔ اسے نہ تو بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ناکامی کے طور پر۔ یہ واضح ہے کہ لبنان پر حملہ اسرائیل کی جانب سے اس لیے کیا گیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس کی منصوبہ بندی، نیت اور ڈیزائن کا مقصد مذاکرات کو کمزور کرنا تھا۔</p>
<p>یونیورسٹی کے دنوں میں ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے اتحاد اور انضمام کے رجحان کے بارے میں پڑھا تھا جیسے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (یو اے آر) جو مصر اور شام کے درمیان تھا اور صرف چند سال ہی چل سکا۔ اسی طرح لیبیا کا مصر اور شام کے ساتھ اتحاد بھی فائل میں ہی ختم ہو گیا۔ یہ کلاسیکی مثالیں ہیں، اور ایسے اتحادوں پر طلبہ مزاحاً کہا کرتے تھے کہ دو برادر ممالک نے بہنوں جیسے تعلقات قائم کر لیے یا دو بہن ریاستوں نے برادرانہ تعلقات قائم کر لیے! یہ تمام اتحاد ہوا میں تحلیل ہو گئے۔</p>
<p>عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسے ادارے طویل عرصے سے آئی سی یو میں ہیں — بہتر ہوگا کہ ان کے وینٹی لیٹرز ہٹا دیے جائیں اور انہیں ایک پرامن موت/اختتام دیا جائے۔ میپٹو نئی عالمی ترتیب میں حل ہے۔ پاکستان اس کی قیادت کر سکتا ہے، کیونکہ اب اسے مغرب اور بحرِ اوقیانوس کے ممالک میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503707</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:44:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/20094406542a6d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/20094406542a6d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فتح کے بغیر جنگ بندی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503490/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی 40 روزہ محاذ آرائی کی مدھم پڑتی بازگشت کے درمیان، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو نظامی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے تک پہنچا دیا، ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: یہ ایسی جنگ تھی جس نے امن نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کیا، اور جو فتح کے بجائے دونوں جانب کی تھکن پر ختم ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ ایسے مرحلے تک جا پہنچی تھی جہاں اس کا تسلسل نہ صرف علاقائی فریقین بلکہ خود عالمی نظام کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک ایسے فریق کے طور پر ابھرتا ہے جو نہ صرف اس بحران سے بچ نکلا بلکہ اس کی سودے بازی کی پوزیشن بھی مزید مضبوط ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت طویل عرصے سے جاری ’ایران نیوکلیئر اسٹینڈ آف‘ ( ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر پیدا ہونے والا طویل تعطل یا کشیدگی، جہاں ایران اور مغربی طاقتوں (خصوصاً امریکہ) کے درمیان اعتماد کا فقدان، پابندیاں، اور مذاکرات ایک پیچیدہ تنازع کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔) سے ہٹ کر ایک جیوپولیٹیکل و معاشی مقابلے کی جانب ڈرامائی تبدیلی کی عکاس ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسائل مذاکراتی میز پر آئیں گے۔ آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور ان میں بارہا اتار چڑھاؤ اور نازک چیلنجز درپیش رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب قائم ہونے والی جنگ بندی مفاہمت یا کسی حتمی حل کا نتیجہ نہیں، بلکہ حریف قوتوں کے اس مشترکہ ادراک کی پیداوار ہے کہ مزید کشیدگی نہ صرف تزویراتی طور پر بے سود بلکہ معاشی طور پر خود تباہ کن ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس اچانک جنگ بندی کی کوئی ایک بنیادی وجہ بیان کی جائے تو وہ بڑھتے ہوئے معاشی خطرات کے دباؤ میں باہمی حدود کا ادراک ہے۔ ایران نے اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً عالمی توانائی کی شہ رگ،( آبنائے ہرمز) کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کی، جبکہ اس کے مخالفین نے مسلسل مگر غیر فیصلہ کن نقصان پہنچانے کی اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوں جوں تیل کی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوئیں، بحری راستے غیر یقینی بنتے گئے اور عالمی معیشت اس جھٹکے کو جذب کرنے لگی، لاگت اور فائدے کا توازن واضح طور پر تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ یہ تنازع وہ نتائج حاصل نہ کر سکا جن کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، یعنی نہ تو حکومت کا عدم استحکام پیدا ہوا اور نہ ہی اسٹریٹجک سطح پر جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیلا جا سکا۔ مزید برآں، جنگ کے بعد مذاکرات کا ایجنڈا اب محض جوہری معاملے تک محدود نہیں رہا، جو جنگ سے قبل سفارت کاری کا مرکزی محور تھا۔ اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ دائرے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت کے نظم و نسق میں باضابطہ کردار، حتیٰ کہ اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے یا تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کا تقاضا بھی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال عدم پھیلاؤ کے ایک محدود تنازع سے نکل کر خودمختاری، عالمی توانائی راہداریوں پر کنٹرول اور جنگی اخراجات کی نئی تقسیم پر مبنی ایک وسیع تر جیو اکنامک مقابلے میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جنگ بندی کو امن کی تمہید قرار دینا تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک وقفہ ہے، نازک، مشروط اور کسی بھی وقت پلٹ جانے کے امکان سے دوچار۔ تنازع کے بنیادی اسباب بدستور حل طلب ہیں: جوہری معاملہ، پابندیوں کا نظام، خطے میں پراکسی کشمکش اور گہری جڑیں رکھنے والا عدم اعتماد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی منظم سیاسی فریم ورک یا قابلِ عمل ضمانتوں کی عدم موجودگی اس بندوبست کی پائیداری کو مزید کمزور کرتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی جنگ بندیاں اکثر مستقل امن میں ڈھلنے کے بجائے طویل سرد کشیدگی میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جہاں وقفے وقفے سے تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کے اثرات فوری میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے سب سے بڑا نتیجہ اس کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ بیرونی سکیورٹی ضمانتوں کی وہ قابلِ بھروسا حیثیت، جسے طویل عرصے سے مسلمہ سمجھا جاتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکی ہے، جس کے باعث علاقائی ریاستیں اپنی تزویراتی وابستگیوں پر ازسرِنو غور کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ خودمختار دفاعی حکمتِ عملیوں اور متنوع اتحادوں کی جانب جھکاؤ تیز ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی غیر مستحکم خطے میں پیچیدگی کی ایک نئی سطح کا اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعتبار سے بھی یہ جنگ ایسے نقصانات چھوڑ گئی ہے جو جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں خلل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مجموعی کمی نے مل کر ایک ساختی لاگت مسلط کر دی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں استحکام واپس آ بھی جائے، مگر نفسیاتی اثرات، خصوصاً بڑھتے ہوئے خطرات کے تاثر، طویل عرصے تک برقرار رہیں گے، جو اقتصادی منصوبہ بندی اور علاقائی انضمام کو متاثر کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا، اور بالخصوص پاکستان کے لیے یہ تنازع ایک طرف موقع اور دوسری طرف خطرات کا پیچیدہ امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک جانب پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور مصالحتی کوششوں میں کردار نے اسے ایک پولرائزڈ ماحول میں قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہ ایک وسیع تر تزویراتی امکان کی عکاسی بھی کرتا ہے: یعنی خود کو ایک حاشیائی فریق سے نکال کر ایک ایسے رابطہ کار مرکز ( کنیکٹیو پی وٹ) کے طور پر ازسرِنو متعین کرنا جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں کو جوڑ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس کے فوری معاشی اثرات سنگین چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مالی دباؤ کو بڑھاتا ہے، بیرونی کھاتوں میں عدم توازن کو وسیع کرتا ہے، اور مہنگائی کے رجحانات کو تیز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، جیوپولیٹیکل اثرات کے پھیلاؤ کا خطرہ، خواہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ہو یا علاقائی پراکسی وابستگیوں کے ذریعے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی تنازعات اکثر اندرونی سطح پر بھی جھلک دکھاتے ہیں، خصوصاً ایسے معاشروں میں جو سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع سے حاصل ہونے والا بنیادی اسٹریٹجک سبق کسی نئے عالمی نظام کا ظہور نہیں بلکہ پہلے سے جاری اس تبدیلی کے عمل میں تیزی ہے جو کثیر القطبی (ملٹی پولر) عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کسی ایک فریق نے فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی، بلکہ اس جنگ نے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے عالمی نظام میں طاقت کے محدود دائرۂ کار کو بے نقاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازعات کے نتائج کی تشکیل میں غیر روایتی عوامل، معاشی باہمی انحصار، عالمی منڈیوں کی حساسیت، اور تیسرے فریق کی ثالثی، کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دیا مگر تنازعات کو حل نہیں کیا۔ اس نے ڈیٹرنس کو تو مضبوط کیا لیکن اعتماد کی بنیاد استوار نہیں کی۔ اس نے تشدد کو وقتی طور پر روک تو دیا، مگر اس کے بنیادی اسباب کو چھوا تک نہیں۔ نتیجتاً یہ خطہ ایک ایسے نازک توازن میں معلق ہو گیا ہے جو فوری طور پر کسی بڑے انہدام کو تو روکتا ہے، لیکن حقیقی امن کی راہ بھی مسدود رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں اس نوعیت کے کئی مواقع پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جو اسٹریٹجک تبدیلی کا راستہ کھول سکتے تھے، مگر اکثر ضائع کر دیے گئے۔ یہ جنگ بندی، اپنی کمزوریوں کے باوجود، بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن موڑ ( انفلیکشن پوائنٹ ) ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ استحکام کی بنیاد میں ڈھلتی ہے یا ایک اور تصادم کے سلسلے میں تحلیل ہو جاتی ہے، اور اس کا انحصار کشیدگی کے خاتمے پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فریقین کی حقیقت پسندی اور سنجیدہ عزم کے ساتھ ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال بندوقیں خاموش ضرور ہو گئی ہیں، مگر ایجنڈا وسیع ہو چکا ہے، اور یہ کشمکش محض اپنی شکل و صورت بدلتی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی 40 روزہ محاذ آرائی کی مدھم پڑتی بازگشت کے درمیان، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو نظامی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے تک پہنچا دیا، ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: یہ ایسی جنگ تھی جس نے امن نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کیا، اور جو فتح کے بجائے دونوں جانب کی تھکن پر ختم ہوئی۔</strong></p>
<p>یہ جنگ ایسے مرحلے تک جا پہنچی تھی جہاں اس کا تسلسل نہ صرف علاقائی فریقین بلکہ خود عالمی نظام کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک ایسے فریق کے طور پر ابھرتا ہے جو نہ صرف اس بحران سے بچ نکلا بلکہ اس کی سودے بازی کی پوزیشن بھی مزید مضبوط ہو گئی۔</p>
<p>یہ پیش رفت طویل عرصے سے جاری ’ایران نیوکلیئر اسٹینڈ آف‘ ( ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر پیدا ہونے والا طویل تعطل یا کشیدگی، جہاں ایران اور مغربی طاقتوں (خصوصاً امریکہ) کے درمیان اعتماد کا فقدان، پابندیاں، اور مذاکرات ایک پیچیدہ تنازع کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔) سے ہٹ کر ایک جیوپولیٹیکل و معاشی مقابلے کی جانب ڈرامائی تبدیلی کی عکاس ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسائل مذاکراتی میز پر آئیں گے۔ آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور ان میں بارہا اتار چڑھاؤ اور نازک چیلنجز درپیش رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اب قائم ہونے والی جنگ بندی مفاہمت یا کسی حتمی حل کا نتیجہ نہیں، بلکہ حریف قوتوں کے اس مشترکہ ادراک کی پیداوار ہے کہ مزید کشیدگی نہ صرف تزویراتی طور پر بے سود بلکہ معاشی طور پر خود تباہ کن ہو چکی تھی۔</p>
<p>اگر اس اچانک جنگ بندی کی کوئی ایک بنیادی وجہ بیان کی جائے تو وہ بڑھتے ہوئے معاشی خطرات کے دباؤ میں باہمی حدود کا ادراک ہے۔ ایران نے اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً عالمی توانائی کی شہ رگ،( آبنائے ہرمز) کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کی، جبکہ اس کے مخالفین نے مسلسل مگر غیر فیصلہ کن نقصان پہنچانے کی اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>جوں جوں تیل کی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوئیں، بحری راستے غیر یقینی بنتے گئے اور عالمی معیشت اس جھٹکے کو جذب کرنے لگی، لاگت اور فائدے کا توازن واضح طور پر تبدیل ہو گیا۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ یہ تنازع وہ نتائج حاصل نہ کر سکا جن کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، یعنی نہ تو حکومت کا عدم استحکام پیدا ہوا اور نہ ہی اسٹریٹجک سطح پر جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیلا جا سکا۔ مزید برآں، جنگ کے بعد مذاکرات کا ایجنڈا اب محض جوہری معاملے تک محدود نہیں رہا، جو جنگ سے قبل سفارت کاری کا مرکزی محور تھا۔ اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ دائرے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت کے نظم و نسق میں باضابطہ کردار، حتیٰ کہ اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے یا تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کا تقاضا بھی کرے گا۔</p>
<p>یہ صورتِ حال عدم پھیلاؤ کے ایک محدود تنازع سے نکل کر خودمختاری، عالمی توانائی راہداریوں پر کنٹرول اور جنگی اخراجات کی نئی تقسیم پر مبنی ایک وسیع تر جیو اکنامک مقابلے میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس جنگ بندی کو امن کی تمہید قرار دینا تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک وقفہ ہے، نازک، مشروط اور کسی بھی وقت پلٹ جانے کے امکان سے دوچار۔ تنازع کے بنیادی اسباب بدستور حل طلب ہیں: جوہری معاملہ، پابندیوں کا نظام، خطے میں پراکسی کشمکش اور گہری جڑیں رکھنے والا عدم اعتماد۔</p>
<p>کسی منظم سیاسی فریم ورک یا قابلِ عمل ضمانتوں کی عدم موجودگی اس بندوبست کی پائیداری کو مزید کمزور کرتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی جنگ بندیاں اکثر مستقل امن میں ڈھلنے کے بجائے طویل سرد کشیدگی میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جہاں وقفے وقفے سے تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔</p>
<p>اس جنگ کے اثرات فوری میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے سب سے بڑا نتیجہ اس کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ بیرونی سکیورٹی ضمانتوں کی وہ قابلِ بھروسا حیثیت، جسے طویل عرصے سے مسلمہ سمجھا جاتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکی ہے، جس کے باعث علاقائی ریاستیں اپنی تزویراتی وابستگیوں پر ازسرِنو غور کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ خودمختار دفاعی حکمتِ عملیوں اور متنوع اتحادوں کی جانب جھکاؤ تیز ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی غیر مستحکم خطے میں پیچیدگی کی ایک نئی سطح کا اضافہ کرے گا۔</p>
<p>معاشی اعتبار سے بھی یہ جنگ ایسے نقصانات چھوڑ گئی ہے جو جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں خلل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مجموعی کمی نے مل کر ایک ساختی لاگت مسلط کر دی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں استحکام واپس آ بھی جائے، مگر نفسیاتی اثرات، خصوصاً بڑھتے ہوئے خطرات کے تاثر، طویل عرصے تک برقرار رہیں گے، جو اقتصادی منصوبہ بندی اور علاقائی انضمام کو متاثر کرتے رہیں گے۔</p>
<p>جنوبی ایشیا، اور بالخصوص پاکستان کے لیے یہ تنازع ایک طرف موقع اور دوسری طرف خطرات کا پیچیدہ امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک جانب پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور مصالحتی کوششوں میں کردار نے اسے ایک پولرائزڈ ماحول میں قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہ ایک وسیع تر تزویراتی امکان کی عکاسی بھی کرتا ہے: یعنی خود کو ایک حاشیائی فریق سے نکال کر ایک ایسے رابطہ کار مرکز ( کنیکٹیو پی وٹ) کے طور پر ازسرِنو متعین کرنا جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں کو جوڑ سکے۔</p>
<p>دوسری جانب اس کے فوری معاشی اثرات سنگین چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مالی دباؤ کو بڑھاتا ہے، بیرونی کھاتوں میں عدم توازن کو وسیع کرتا ہے، اور مہنگائی کے رجحانات کو تیز کرتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، جیوپولیٹیکل اثرات کے پھیلاؤ کا خطرہ، خواہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ہو یا علاقائی پراکسی وابستگیوں کے ذریعے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی تنازعات اکثر اندرونی سطح پر بھی جھلک دکھاتے ہیں، خصوصاً ایسے معاشروں میں جو سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہوں۔</p>
<p>اس تنازع سے حاصل ہونے والا بنیادی اسٹریٹجک سبق کسی نئے عالمی نظام کا ظہور نہیں بلکہ پہلے سے جاری اس تبدیلی کے عمل میں تیزی ہے جو کثیر القطبی (ملٹی پولر) عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کسی ایک فریق نے فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی، بلکہ اس جنگ نے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے عالمی نظام میں طاقت کے محدود دائرۂ کار کو بے نقاب کیا۔</p>
<p>اس نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازعات کے نتائج کی تشکیل میں غیر روایتی عوامل، معاشی باہمی انحصار، عالمی منڈیوں کی حساسیت، اور تیسرے فریق کی ثالثی، کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>بالآخر یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دیا مگر تنازعات کو حل نہیں کیا۔ اس نے ڈیٹرنس کو تو مضبوط کیا لیکن اعتماد کی بنیاد استوار نہیں کی۔ اس نے تشدد کو وقتی طور پر روک تو دیا، مگر اس کے بنیادی اسباب کو چھوا تک نہیں۔ نتیجتاً یہ خطہ ایک ایسے نازک توازن میں معلق ہو گیا ہے جو فوری طور پر کسی بڑے انہدام کو تو روکتا ہے، لیکن حقیقی امن کی راہ بھی مسدود رکھتا ہے۔</p>
<p>تاریخ میں اس نوعیت کے کئی مواقع پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جو اسٹریٹجک تبدیلی کا راستہ کھول سکتے تھے، مگر اکثر ضائع کر دیے گئے۔ یہ جنگ بندی، اپنی کمزوریوں کے باوجود، بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن موڑ ( انفلیکشن پوائنٹ ) ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ استحکام کی بنیاد میں ڈھلتی ہے یا ایک اور تصادم کے سلسلے میں تحلیل ہو جاتی ہے، اور اس کا انحصار کشیدگی کے خاتمے پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فریقین کی حقیقت پسندی اور سنجیدہ عزم کے ساتھ ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر ہے۔</p>
<p>فی الحال بندوقیں خاموش ضرور ہو گئی ہیں، مگر ایجنڈا وسیع ہو چکا ہے، اور یہ کشمکش محض اپنی شکل و صورت بدلتی جاری ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 11 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503490</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:35:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/141135130b6385b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/141135130b6385b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کا تنازع، پاکستان پر اثرات مرتب ہونا شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503489/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔</strong></p>
<p>اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔</p>
<p>مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔</p>
<p>پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503489</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1411300415e0161.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1411300415e0161.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی، مذاکرات اور اسلام آباد کا کردار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503335/ceasefire-talks-islamabad-role</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جنگ عین اس مرحلے پر رکی جب چند گھنٹوں میں صورتِ حال مزید بگڑ سکتی تھی۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے فوری تباہی کا خطرہ تو ٹال دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقی امن کی شروعات ہے یا صرف ایک وقتی وقفہ؟ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران، امریکا مذاکرات اسی نازک پس منظر میں ایک بڑے سفارتی امتحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ جنگ نے نہ صرف ایران، امریکا اور اسرائیل کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایسے میں پاکستان، مصر، ترکی، چین اور روس کی مشترکہ سفارت کاری کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔ یہ پیش رفت بظاہر فوری تباہی کو روکنے میں کامیاب رہی، مگر اس کے اندر کئی پیچیدہ سوالات بھی پوشیدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس سارے عمل میں ایک متحرک کردار ادا کیا۔ ایک طرف اس نے امریکا کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تو دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو کم کرنے کی بھی سعی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے لیے یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی تھی، کیوں کہ جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس جنگ بندی کی حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ ایران اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملے اس پورے عمل پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کا یہ مؤقف کہ لبنان حملے سیز فائر میں شامل نہیں، دراصل جنگ بندی کی ایک محدود اور مفاداتی تشریح ہے، جو امن کے تصور کو کمزور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکراتی عمل کو نازک بنا رہا ہے۔ ایک طرف میز پر بات چیت جاری ہے، دوسری طرف میدان میں کارروائیاں رک نہیں رہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ حکمتِ عملی نئی نہیں، مگر اس کا سب سے بڑا نقصان اعتماد کے فقدان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی حکمت عملی بھی محتاط ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، مگر دوسری طرف واضح طور پر یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ بغیر ضمانت کے کسی بھی معاہدے پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ عدم اعتماد دراصل ماضی کے تجربات اور موجودہ زمینی حقائق کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیل کو بھی اس جنگ میں داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اس کی قیادت امریکا سے مکمل حمایت نہ ملنے پر نالاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے، جہاں داخلی تنقید اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر منوائے، مگر اس کے لیے اسے نہایت باریک توازن قائم رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل چیلنج یہی ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے؟ اس کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آیا فریقین دو بنیادی نکات پر اتفاق کر سکتے ہیں یا نہیں، اول، مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات سے نکالا جائے۔ دوم، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھا جائے اور الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ علاقائی تنازعات فوری حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، مستقل مزاجی اور باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ دو ہفتوں میں کوئی بڑا حل نکل آئے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے کشیدگی کم ہوتی ہے اور بات چیت کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ خود ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک طویل سفارتی عمل کا آغاز ہیں، اختتام نہیں۔ اگر فریقین نے اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کیا تو یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ محض ایک وقفہ ثابت ہوگا، جس کے بعد کشیدگی پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ سکتی ہے۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی حالیہ جنگ عین اس مرحلے پر رکی جب چند گھنٹوں میں صورتِ حال مزید بگڑ سکتی تھی۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے فوری تباہی کا خطرہ تو ٹال دیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقی امن کی شروعات ہے یا صرف ایک وقتی وقفہ؟ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران، امریکا مذاکرات اسی نازک پس منظر میں ایک بڑے سفارتی امتحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔</p>
<p>حالیہ جنگ نے نہ صرف ایران، امریکا اور اسرائیل کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایسے میں پاکستان، مصر، ترکی، چین اور روس کی مشترکہ سفارت کاری کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔ یہ پیش رفت بظاہر فوری تباہی کو روکنے میں کامیاب رہی، مگر اس کے اندر کئی پیچیدہ سوالات بھی پوشیدہ ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے اس سارے عمل میں ایک متحرک کردار ادا کیا۔ ایک طرف اس نے امریکا کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تو دوسری جانب ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی کو کم کرنے کی بھی سعی کی۔</p>
<p>اسلام آباد کے لیے یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی تھی، کیوں کہ جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچ سکتے تھے۔</p>
<p>تاہم، اس جنگ بندی کی حقیقت اتنی سادہ نہیں۔ ایران اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملے اس پورے عمل پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کا یہ مؤقف کہ لبنان حملے سیز فائر میں شامل نہیں، دراصل جنگ بندی کی ایک محدود اور مفاداتی تشریح ہے، جو امن کے تصور کو کمزور کرتی ہے۔</p>
<p>یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکراتی عمل کو نازک بنا رہا ہے۔ ایک طرف میز پر بات چیت جاری ہے، دوسری طرف میدان میں کارروائیاں رک نہیں رہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ حکمتِ عملی نئی نہیں، مگر اس کا سب سے بڑا نقصان اعتماد کے فقدان کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔</p>
<p>ایران کی حکمت عملی بھی محتاط ہے۔ وہ ایک طرف مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، مگر دوسری طرف واضح طور پر یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ بغیر ضمانت کے کسی بھی معاہدے پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ عدم اعتماد دراصل ماضی کے تجربات اور موجودہ زمینی حقائق کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>ادھر اسرائیل کو بھی اس جنگ میں داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اس کی قیادت امریکا سے مکمل حمایت نہ ملنے پر نالاں دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے، جہاں داخلی تنقید اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا معاملہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر منوائے، مگر اس کے لیے اسے نہایت باریک توازن قائم رکھنا ہوگا۔</p>
<p>اصل چیلنج یہی ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے؟ اس کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آیا فریقین دو بنیادی نکات پر اتفاق کر سکتے ہیں یا نہیں، اول، مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات سے نکالا جائے۔ دوم، مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھا جائے اور الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ علاقائی تنازعات فوری حل نہیں ہوتے۔ ان کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، مستقل مزاجی اور باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ دو ہفتوں میں کوئی بڑا حل نکل آئے گا، شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔</p>
<p>اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے کشیدگی کم ہوتی ہے اور بات چیت کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ خود ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔</p>
<p>اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک طویل سفارتی عمل کا آغاز ہیں، اختتام نہیں۔ اگر فریقین نے اس موقع کو سنجیدگی سے استعمال کیا تو یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ محض ایک وقفہ ثابت ہوگا، جس کے بعد کشیدگی پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ سکتی ہے۔<br><br><strong>نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503335</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 16:24:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/101623040be9bdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/101623040be9bdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی، کریڈٹ اور سراب کی قیمت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503332/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹیں تقریباً میکانکی درستگی کے ساتھ دوبارہ ریلیف کی جانب پلٹ آئی ہیں، مگر ریلیف ایک ٹریڈ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، ایکویٹیز میں تیزی دیکھی گئی ہے، اور ڈالر کمزور ہوا ہے کیونکہ فوری جنگی رسک پریمیم ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اس تیز رفتار واپسی نے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال کو جنم دیا ہے: آخر قیمتوں میں کن عوامل کو شامل کیا جا رہا ہے، اور ان میں سے کتنا حصہ ایسے مفروضے پر مبنی ہے جو اگلے خبروں کے چکر سے آگے برقرار نہ رہ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس بار خود کو اس سوال کا مرکز بن گیا ہے۔ مذاکرات کی میزبانی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی پر زور دینے کے فیصلے نے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی سفارتی اہمیت دے دی ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ اس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ جب کشیدگی حکمتِ عملی سے آگے نکل جائے تو نتائج تک پہنچانے کی صلاحیت کس کے پاس اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں ایک نسبتاً خاموش پہلو بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ایسے وقت میں وقفہ یقینی بنایا جب تنازع کی سمت تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وقفہ امریکہ کو ناکامی تسلیم کیے بغیر صورتِ حال کو مستحکم کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ وہ اب بھی یہ دعویٰ برقرار رکھ سکتا ہے کہ دباؤ نے نتائج دیے۔ تاہم یہ دعویٰ کس حد تک جانچ پڑتال پر پورا اترتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ خود مذاکراتی فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران نے وہ اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے جس کی اس سے اس تنازع میں داخل ہوتے وقت توقع نہیں کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسبِ معمول، مارکیٹیں سیاست سے زیادہ تیزی سے حرکت میں آئی ہیں۔ برینٹ کروڈ میں نمایاں کمی دیکھی گئی کیونکہ جنگ بندی نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور سپلائی کی رکاوٹوں میں جزوی نرمی کا اشارہ دیا۔ ایکویٹی مارکیٹس میں مختلف خطوں میں تیزی آئی، جو مجموعی طور پر رسک لینے کے رجحان کی واپسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بانڈ مارکیٹس نے شرحِ سود کی توقعات کی نئی قیمت بندی کی صورت میں ردِعمل دیا، جہاں توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے فوری افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کے باعث ییلڈز نیچے آئیں۔ کرنسی مارکیٹس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، ڈالر کمزور ہوا کیونکہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب گھٹ گئی اور ہائی بیٹا کرنسیاں اپنی حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں بیانیہ اتنا سیدھا نہیں رہتا۔ تیل کی فروخت میں کمی اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل بحال ہو جائے گی، مگر حقیقی مارکیٹ ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ صلاحیت میں خلل پہلے ہی سپلائی چینز کا حصہ بن چکا ہے۔ ٹینکرز اب بھی رکے ہوئے ہیں، انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، اور پیداوار بڑھانے والے ممالک اس وقت تک تیزی سے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ سامان کی ترسیل میں جمع شدہ بیک لاگ وقتی قلت کو کم تو کر سکتا ہے، مگر معمولات کو راتوں رات بحال نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدت کا سوال بھی اہم ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی اس تناظر میں وقت کا عنصر شامل کرتی ہے، مگر وقت دونوں طرف اثر ڈالتا ہے۔ یہ مذاکرات شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک ایسی متعین مدت بھی پیدا کرتا ہے جس میں توقعات مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ مارکیٹیں اب کسی خلل کی قیمت نہیں لگا رہیں بلکہ ایک ممکنہ حل کے امکانات کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر ان امکانات پر نظرثانی ہو تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود کی مارکیٹس کا رویہ اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں توانائی سے جڑی افراطِ زر کی خدشات بڑھنے کے باعث ییلڈز میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اب یہ دباؤ کم ہوا ہے، اور ییلڈ کروز زیادہ تعمیری انداز میں اسٹیپن ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ قلیل مدتی شرحِ سود کی توقعات ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کسی اطمینان کا اشارہ نہیں دے رہے۔ توانائی کے ذریعے افراطِ زر پہلے ہی معیشت میں منتقل ہو چکا ہے، اور اس کے ثانوی اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ فوری دباؤ میں کمی اس بنیادی رجحان کی پائیداری کو ختم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹس ایک اور ابہام کی تہہ پیش کرتی ہیں۔ جنگ بندی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی فوری طلب میں کمی آئی ہے جس سے ڈالر کمزور ہوا، مگر یہ حرکت زیادہ تر پوزیشننگ سے متاثر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کسی مضبوط یقین سے۔ تنازع کے عروج پر بھی ڈالر کی تیزی اتنی فیصلہ کن نہیں تھی جتنی ماضی کے رجحانات کی روشنی میں متوقع تھی، اور یہی ہچکچاہٹ اب منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور رسک سینٹیمنٹ مستحکم ہوتا ہے تو ڈالر دباؤ میں رہ سکتا ہے، لیکن اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو لیکویڈیٹی کی بنیادی طلب تیزی سے واپس آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایکویٹی مارکیٹس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ریلیف ٹریڈ کو اپنایا ہے۔ سائیکلیکل سیکٹرز نے بحالی کی قیادت کی ہے، جسے توانائی کی کم قیمتوں اور سپلائی چین دباؤ میں ممکنہ کمی نے سہارا دیا۔ تاہم یہ ردِعمل زیادہ تر ایکسٹریم پوزیشننگ کے کھلنے ( ڈی کمپریشن) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی نئی گروتھ ٹریجیکٹری کی واضح توثیق۔ یہی مارکیٹس چند روز قبل تک غیر معمولی پیمانے کے خلل کی قیمت لگا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی آئندہ ہفتوں کا بنیادی سوال ہے: یہ ری سیٹ کتنی پائیدار ہے؟ اگر مذاکرات کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرتے ہیں تو موجودہ مارکیٹ ٹریجیکٹری کو سہارا مل سکتا ہے۔ اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو حالیہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پوزیشننگ اتنی ہی تیزی سے الٹی سمت میں بھی کھل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ایک وسیع تر پہلو بھی جڑا ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں مگر اس کے اثرات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے 110 ڈالر اور 90 ڈالر فی بیرل تیل کے درمیان فرق معمولی نہیں؛ یہ قابلِ برداشت مہنگائی اور پالیسی پر دباؤ کے درمیان فرق ہے۔ جنگ بندی وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر ساختی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ سپلائی چینز بدستور نازک ہیں، اور کسی بھی نئی رکاوٹ کا اثر براہِ راست مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں پاکستان کا کردار بیک وقت موقع بھی ہے اور پابندی بھی۔ سفارتی اہمیت اسٹریٹجک نمایاں حیثیت میں بدل سکتی ہے، مگر یہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ نہیں بناتی۔ بلکہ یہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اندرونی استحکام اب بھی ان عوامل سے جڑا ہوا ہے جو اس کے اپنے کنٹرول سے کہیں باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی پر مارکیٹ کا ردِعمل تیز، مربوط اور کئی حوالوں سے معقول رہا ہے، تاہم یہ ایسے مفروضوں پر قائم ہے جن کی ابھی آزمائش باقی ہے۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، ترسیل کی بحالی، مذاکرات کی پائیداری، اور تمام فریقوں کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھنے کی آمادگی، یہ سب ابھی کھلے سوالات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں نے پہلے ہی دکھا دیا ہے کہ جب ان مفروضوں کو چیلنج کیا جائے تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ طے کرے گا کہ آیا موجودہ خوش فہمی ایک زیادہ مستحکم توازن کی شروعات ہے یا محض ایک ایسے چکر کا نیا موڑ جو ابھی اپنی نچلی سطح تک نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 9 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹیں تقریباً میکانکی درستگی کے ساتھ دوبارہ ریلیف کی جانب پلٹ آئی ہیں، مگر ریلیف ایک ٹریڈ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، ایکویٹیز میں تیزی دیکھی گئی ہے، اور ڈالر کمزور ہوا ہے کیونکہ فوری جنگی رسک پریمیم ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اس تیز رفتار واپسی نے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال کو جنم دیا ہے: آخر قیمتوں میں کن عوامل کو شامل کیا جا رہا ہے، اور ان میں سے کتنا حصہ ایسے مفروضے پر مبنی ہے جو اگلے خبروں کے چکر سے آگے برقرار نہ رہ سکے۔</strong></p>
<p>پاکستان اس بار خود کو اس سوال کا مرکز بن گیا ہے۔ مذاکرات کی میزبانی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی پر زور دینے کے فیصلے نے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی سفارتی اہمیت دے دی ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ اس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ جب کشیدگی حکمتِ عملی سے آگے نکل جائے تو نتائج تک پہنچانے کی صلاحیت کس کے پاس اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس میں ایک نسبتاً خاموش پہلو بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ایسے وقت میں وقفہ یقینی بنایا جب تنازع کی سمت تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وقفہ امریکہ کو ناکامی تسلیم کیے بغیر صورتِ حال کو مستحکم کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ وہ اب بھی یہ دعویٰ برقرار رکھ سکتا ہے کہ دباؤ نے نتائج دیے۔ تاہم یہ دعویٰ کس حد تک جانچ پڑتال پر پورا اترتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ خود مذاکراتی فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران نے وہ اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے جس کی اس سے اس تنازع میں داخل ہوتے وقت توقع نہیں کی جا رہی تھی۔</p>
<p>حسبِ معمول، مارکیٹیں سیاست سے زیادہ تیزی سے حرکت میں آئی ہیں۔ برینٹ کروڈ میں نمایاں کمی دیکھی گئی کیونکہ جنگ بندی نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور سپلائی کی رکاوٹوں میں جزوی نرمی کا اشارہ دیا۔ ایکویٹی مارکیٹس میں مختلف خطوں میں تیزی آئی، جو مجموعی طور پر رسک لینے کے رجحان کی واپسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بانڈ مارکیٹس نے شرحِ سود کی توقعات کی نئی قیمت بندی کی صورت میں ردِعمل دیا، جہاں توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے فوری افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کے باعث ییلڈز نیچے آئیں۔ کرنسی مارکیٹس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، ڈالر کمزور ہوا کیونکہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب گھٹ گئی اور ہائی بیٹا کرنسیاں اپنی حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔</p>
<p>لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں بیانیہ اتنا سیدھا نہیں رہتا۔ تیل کی فروخت میں کمی اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل بحال ہو جائے گی، مگر حقیقی مارکیٹ ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ صلاحیت میں خلل پہلے ہی سپلائی چینز کا حصہ بن چکا ہے۔ ٹینکرز اب بھی رکے ہوئے ہیں، انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، اور پیداوار بڑھانے والے ممالک اس وقت تک تیزی سے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ سامان کی ترسیل میں جمع شدہ بیک لاگ وقتی قلت کو کم تو کر سکتا ہے، مگر معمولات کو راتوں رات بحال نہیں کرتا۔</p>
<p>مدت کا سوال بھی اہم ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی اس تناظر میں وقت کا عنصر شامل کرتی ہے، مگر وقت دونوں طرف اثر ڈالتا ہے۔ یہ مذاکرات شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک ایسی متعین مدت بھی پیدا کرتا ہے جس میں توقعات مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ مارکیٹیں اب کسی خلل کی قیمت نہیں لگا رہیں بلکہ ایک ممکنہ حل کے امکانات کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر ان امکانات پر نظرثانی ہو تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔</p>
<p>شرحِ سود کی مارکیٹس کا رویہ اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں توانائی سے جڑی افراطِ زر کی خدشات بڑھنے کے باعث ییلڈز میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اب یہ دباؤ کم ہوا ہے، اور ییلڈ کروز زیادہ تعمیری انداز میں اسٹیپن ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ قلیل مدتی شرحِ سود کی توقعات ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کسی اطمینان کا اشارہ نہیں دے رہے۔ توانائی کے ذریعے افراطِ زر پہلے ہی معیشت میں منتقل ہو چکا ہے، اور اس کے ثانوی اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ فوری دباؤ میں کمی اس بنیادی رجحان کی پائیداری کو ختم نہیں کرتی۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹس ایک اور ابہام کی تہہ پیش کرتی ہیں۔ جنگ بندی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی فوری طلب میں کمی آئی ہے جس سے ڈالر کمزور ہوا، مگر یہ حرکت زیادہ تر پوزیشننگ سے متاثر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کسی مضبوط یقین سے۔ تنازع کے عروج پر بھی ڈالر کی تیزی اتنی فیصلہ کن نہیں تھی جتنی ماضی کے رجحانات کی روشنی میں متوقع تھی، اور یہی ہچکچاہٹ اب منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور رسک سینٹیمنٹ مستحکم ہوتا ہے تو ڈالر دباؤ میں رہ سکتا ہے، لیکن اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو لیکویڈیٹی کی بنیادی طلب تیزی سے واپس آ سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ایکویٹی مارکیٹس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ریلیف ٹریڈ کو اپنایا ہے۔ سائیکلیکل سیکٹرز نے بحالی کی قیادت کی ہے، جسے توانائی کی کم قیمتوں اور سپلائی چین دباؤ میں ممکنہ کمی نے سہارا دیا۔ تاہم یہ ردِعمل زیادہ تر ایکسٹریم پوزیشننگ کے کھلنے ( ڈی کمپریشن) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی نئی گروتھ ٹریجیکٹری کی واضح توثیق۔ یہی مارکیٹس چند روز قبل تک غیر معمولی پیمانے کے خلل کی قیمت لگا رہی تھیں۔</p>
<p>یہی آئندہ ہفتوں کا بنیادی سوال ہے: یہ ری سیٹ کتنی پائیدار ہے؟ اگر مذاکرات کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرتے ہیں تو موجودہ مارکیٹ ٹریجیکٹری کو سہارا مل سکتا ہے۔ اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو حالیہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پوزیشننگ اتنی ہی تیزی سے الٹی سمت میں بھی کھل سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ایک وسیع تر پہلو بھی جڑا ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں مگر اس کے اثرات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے 110 ڈالر اور 90 ڈالر فی بیرل تیل کے درمیان فرق معمولی نہیں؛ یہ قابلِ برداشت مہنگائی اور پالیسی پر دباؤ کے درمیان فرق ہے۔ جنگ بندی وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر ساختی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ سپلائی چینز بدستور نازک ہیں، اور کسی بھی نئی رکاوٹ کا اثر براہِ راست مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔</p>
<p>اس تناظر میں پاکستان کا کردار بیک وقت موقع بھی ہے اور پابندی بھی۔ سفارتی اہمیت اسٹریٹجک نمایاں حیثیت میں بدل سکتی ہے، مگر یہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ نہیں بناتی۔ بلکہ یہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اندرونی استحکام اب بھی ان عوامل سے جڑا ہوا ہے جو اس کے اپنے کنٹرول سے کہیں باہر ہیں۔</p>
<p>جنگ بندی پر مارکیٹ کا ردِعمل تیز، مربوط اور کئی حوالوں سے معقول رہا ہے، تاہم یہ ایسے مفروضوں پر قائم ہے جن کی ابھی آزمائش باقی ہے۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، ترسیل کی بحالی، مذاکرات کی پائیداری، اور تمام فریقوں کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھنے کی آمادگی، یہ سب ابھی کھلے سوالات ہیں۔</p>
<p>گزشتہ چند ہفتوں نے پہلے ہی دکھا دیا ہے کہ جب ان مفروضوں کو چیلنج کیا جائے تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ طے کرے گا کہ آیا موجودہ خوش فہمی ایک زیادہ مستحکم توازن کی شروعات ہے یا محض ایک ایسے چکر کا نیا موڑ جو ابھی اپنی نچلی سطح تک نہیں پہنچا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 9 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503332</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 15:20:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/10151337041d84c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/10151337041d84c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگی حالات میں فری مارکیٹ پالیسی کا محدود فائدہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503298/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق تنازعہ ایک متوقع نتیجے پر ختم ہوا: مکمل لاگت صارفین پر منتقل کر دی گئی، ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی، اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ عالمی سطح پر قیمتیں کئی ہفتوں سے بڑھ رہی تھیں جبکہ حکومت نے مصنوعی طور پر قیمتیں برقرار رکھیں، حالانکہ سبسڈیز کو سہارا دینے کے لیے مالی گنجائش موجود نہیں تھی۔ لیکن پالیسی کا امتزاج غلط ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی جھٹکے کے دوران پٹرولیم لیویز، کلائمٹ لیویز اور کسٹمز ڈیوٹیز کو کم از کم منجمد ہونا چاہیے۔ حکومت کی یہ ناکامی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ایک گہری ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کے صارفین پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ تقریباً 75 فیصد ڈیزل ملکی سطح پر تیار ہوتا ہے، اس لیے امپورٹڈ ڈیزل (ایف او بی پلاٹس) کو معیار بنانا قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھاتا ہے اور ریفائنریوں کو غیر معمولی منافع دیتا ہے۔ خام تیل پر مبنی معیار زیادہ مناسب ہوتا، لیکن حکومت نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل 86 فیصد۔ دونوں اب ڈالر کے لحاظ سے خطے میں سب سے مہنگے ہیں۔ اپریل تا جون افراطِ زر 12 سے 14 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب واضح ہے۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی لینڈڈ قیمت 140 ڈالر فی بیرل (246 روپے فی لیٹر) اور ایچ ایس ڈی 262 ڈالر فی بیرل (460 روپے فی لیٹر) تھی، جبکہ خام تیل کی لینڈڈ قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایچ ایس ڈی پر پریمیم غیر معمولی طور پر زیادہ یعنی تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تھا۔ اگر پاکستان تمام ڈیزل درآمد کرتا تو مکمل لاگت صارفین پر منتقل کرنا ناگزیر ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ 75 فیصد ڈیزل مقامی طور پر ریفائن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے اور اسے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل میں ریفائن کرتا ہے۔ موجودہ مارجنز پر ریفائنریاں ڈیزل پر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کما رہی ہیں، جبکہ معمول کا مارجن تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہوتا ہے۔ یہ غیر معمولی منافع مکمل طور پر صارفین کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنریاں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ ایچ ایس ڈی کے منافع سے پیٹرول پر تقریباً 20 ڈالر فی بیرل اور فرنس آئل پر 50 ڈالر فی بیرل کے نقصانات پورے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی میں بھی نقصان ہے۔ لیکن مجموعی تناسب بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ ایک بیرل سے پاکستان کی ریفائنریاں عام طور پر ڈیزل کی دو یونٹس اور پیٹرول اور فرنس آئل کی ایک ایک یونٹ پیدا کرتی ہیں۔ مجموعی غیر معمولی منافع تقریباً 35 ڈالر فی بیرل ہے، یعنی 62 روپے فی لیٹر۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرول اور فرنس آئل کے نقصانات کا ازالہ کرے، لیکن ڈیزل کے غیر معمولی منافع کو بلاحد و حساب منتقل نہ ہونے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال سادہ ہے: کیا ریفائنریوں کو ایک نایاب موقع کے منافع کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ اس کی قیمت ہر پاکستانی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟ جب یہ سوال حکام سے پوچھا گیا تو جواب تھا کہ ہم ریفائنریوں کو قومی تحویل میں نہیں لینا چاہتے۔ یہ نیشنلائزیشن نہیں بلکہ جنگی حالات میں ریگولیشن ہے۔ مزید یہ کہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پارکو 60 فیصد حکومتی ملکیت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی اپنی توانائی کے بیشتر شعبے کو سختی سے ریگولیٹ کرتا ہے۔ ای اینڈ پی کمپنیاں، آئی پی پیز اور او ایم سیز سب ریگولیٹڈ مارجنز کے تحت کام کرتے ہیں۔ اسی منطق کو موجودہ بحران میں ریفائنریوں پر بھی لاگو کرنا نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی نئی بات۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو خدشہ ہے کہ قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ قابلِ انتظام ہے: ریفائنریوں کو ان کے معمول کے مارجنز کی ضمانت دی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ سپلائی چین برقرار رہے گی اور مہنگائی کا جھٹکا جہاں ہونا چاہیے وہاں جذب ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب واضح ہے۔ دیگر مصنوعات کی قیمتیں اور لیویز برقرار رکھتے ہوئے اور مقامی ایچ ایس ڈی پر ریفائنری مارجن کو ریگولیٹ کرتے ہوئے، ڈیزل کی اوسط قیمت جو 75 فیصد مقامی اور 25 فیصد درآمدی قیمت پر مبنی ہے، 460 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 380 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کسٹمز ڈیوٹی میں 35 روپے فی لیٹر کمی کر سکتی ہے، جس کا زیادہ حصہ ریفائنریوں کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ اقدامات مالی طور پر غیر جانبدار ہوں گے اور اس مہنگائی کے طوفان کو روک سکتے ہیں جو ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور کھاد کی لاگت پر پڑنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونڈ فال ٹیکس، جس پر حکومت اب غور کر رہی ہے، درست حل نہیں ہے۔ یہ پہلے سے پیدا شدہ مہنگائی کے اثرات کو ختم نہیں کر سکے گا، اور اس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس پالیسی سے اس کا موازنہ اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقامی گیس کی قیمت 3 سے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رکھتا ہے، جو درآمدی آر ایل این جی سے بہت کم ہے، اور اس میں سے کچھ کھاد کی پیداوار کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ دانستہ پالیسی غذائی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے۔ یہی منطق ڈیزل پر بھی لاگو ہوتی ہے جو بڑی حد تک مقامی طور پر تیار ہوتا ہے۔ درآمدی خام تیل کی مارکیٹ قیمت ادا کی جائے اور صارفین سے وصول کی جائے، لیکن ریفائنریوں کو ایسے غیر معمولی منافع نہ لینے دیا جائے جو اصل لاگت سے مطابقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری مارکیٹ قیمتیں امن کے حالات میں ایک سہولت ہیں۔ جب تنازع ختم ہو جائے تو حکومت دوبارہ موجودہ فارمولے پر واپس جا سکتی ہے اور ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ سکتی ہے، جیسا کہ پیٹرولیم وزیر نے اشارہ دیا ہے۔ لیکن اس وقت ترجیح توانائی اور خوراک کی سلامتی ہونی چاہیے، نہ کہ ریفائنریوں کی بیلنس شیٹس۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6  اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق تنازعہ ایک متوقع نتیجے پر ختم ہوا: مکمل لاگت صارفین پر منتقل کر دی گئی، ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی، اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ عالمی سطح پر قیمتیں کئی ہفتوں سے بڑھ رہی تھیں جبکہ حکومت نے مصنوعی طور پر قیمتیں برقرار رکھیں، حالانکہ سبسڈیز کو سہارا دینے کے لیے مالی گنجائش موجود نہیں تھی۔ لیکن پالیسی کا امتزاج غلط ہے۔</strong></p>
<p>بیرونی جھٹکے کے دوران پٹرولیم لیویز، کلائمٹ لیویز اور کسٹمز ڈیوٹیز کو کم از کم منجمد ہونا چاہیے۔ حکومت کی یہ ناکامی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ایک گہری ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کے صارفین پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ تقریباً 75 فیصد ڈیزل ملکی سطح پر تیار ہوتا ہے، اس لیے امپورٹڈ ڈیزل (ایف او بی پلاٹس) کو معیار بنانا قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھاتا ہے اور ریفائنریوں کو غیر معمولی منافع دیتا ہے۔ خام تیل پر مبنی معیار زیادہ مناسب ہوتا، لیکن حکومت نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل 86 فیصد۔ دونوں اب ڈالر کے لحاظ سے خطے میں سب سے مہنگے ہیں۔ اپریل تا جون افراطِ زر 12 سے 14 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>حساب کتاب واضح ہے۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی لینڈڈ قیمت 140 ڈالر فی بیرل (246 روپے فی لیٹر) اور ایچ ایس ڈی 262 ڈالر فی بیرل (460 روپے فی لیٹر) تھی، جبکہ خام تیل کی لینڈڈ قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایچ ایس ڈی پر پریمیم غیر معمولی طور پر زیادہ یعنی تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تھا۔ اگر پاکستان تمام ڈیزل درآمد کرتا تو مکمل لاگت صارفین پر منتقل کرنا ناگزیر ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ 75 فیصد ڈیزل مقامی طور پر ریفائن ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے اور اسے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل میں ریفائن کرتا ہے۔ موجودہ مارجنز پر ریفائنریاں ڈیزل پر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کما رہی ہیں، جبکہ معمول کا مارجن تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہوتا ہے۔ یہ غیر معمولی منافع مکمل طور پر صارفین کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>ریفائنریاں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ ایچ ایس ڈی کے منافع سے پیٹرول پر تقریباً 20 ڈالر فی بیرل اور فرنس آئل پر 50 ڈالر فی بیرل کے نقصانات پورے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی میں بھی نقصان ہے۔ لیکن مجموعی تناسب بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ ایک بیرل سے پاکستان کی ریفائنریاں عام طور پر ڈیزل کی دو یونٹس اور پیٹرول اور فرنس آئل کی ایک ایک یونٹ پیدا کرتی ہیں۔ مجموعی غیر معمولی منافع تقریباً 35 ڈالر فی بیرل ہے، یعنی 62 روپے فی لیٹر۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرول اور فرنس آئل کے نقصانات کا ازالہ کرے، لیکن ڈیزل کے غیر معمولی منافع کو بلاحد و حساب منتقل نہ ہونے دے۔</p>
<p>سوال سادہ ہے: کیا ریفائنریوں کو ایک نایاب موقع کے منافع کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ اس کی قیمت ہر پاکستانی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟ جب یہ سوال حکام سے پوچھا گیا تو جواب تھا کہ ہم ریفائنریوں کو قومی تحویل میں نہیں لینا چاہتے۔ یہ نیشنلائزیشن نہیں بلکہ جنگی حالات میں ریگولیشن ہے۔ مزید یہ کہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پارکو 60 فیصد حکومتی ملکیت میں ہے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی اپنی توانائی کے بیشتر شعبے کو سختی سے ریگولیٹ کرتا ہے۔ ای اینڈ پی کمپنیاں، آئی پی پیز اور او ایم سیز سب ریگولیٹڈ مارجنز کے تحت کام کرتے ہیں۔ اسی منطق کو موجودہ بحران میں ریفائنریوں پر بھی لاگو کرنا نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی نئی بات۔</p>
<p>حکومت کو خدشہ ہے کہ قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ قابلِ انتظام ہے: ریفائنریوں کو ان کے معمول کے مارجنز کی ضمانت دی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ سپلائی چین برقرار رہے گی اور مہنگائی کا جھٹکا جہاں ہونا چاہیے وہاں جذب ہو جائے گا۔</p>
<p>حساب کتاب واضح ہے۔ دیگر مصنوعات کی قیمتیں اور لیویز برقرار رکھتے ہوئے اور مقامی ایچ ایس ڈی پر ریفائنری مارجن کو ریگولیٹ کرتے ہوئے، ڈیزل کی اوسط قیمت جو 75 فیصد مقامی اور 25 فیصد درآمدی قیمت پر مبنی ہے، 460 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 380 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کسٹمز ڈیوٹی میں 35 روپے فی لیٹر کمی کر سکتی ہے، جس کا زیادہ حصہ ریفائنریوں کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ اقدامات مالی طور پر غیر جانبدار ہوں گے اور اس مہنگائی کے طوفان کو روک سکتے ہیں جو ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور کھاد کی لاگت پر پڑنے والا ہے۔</p>
<p>ونڈ فال ٹیکس، جس پر حکومت اب غور کر رہی ہے، درست حل نہیں ہے۔ یہ پہلے سے پیدا شدہ مہنگائی کے اثرات کو ختم نہیں کر سکے گا، اور اس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔</p>
<p>گیس پالیسی سے اس کا موازنہ اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقامی گیس کی قیمت 3 سے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رکھتا ہے، جو درآمدی آر ایل این جی سے بہت کم ہے، اور اس میں سے کچھ کھاد کی پیداوار کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ دانستہ پالیسی غذائی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے۔ یہی منطق ڈیزل پر بھی لاگو ہوتی ہے جو بڑی حد تک مقامی طور پر تیار ہوتا ہے۔ درآمدی خام تیل کی مارکیٹ قیمت ادا کی جائے اور صارفین سے وصول کی جائے، لیکن ریفائنریوں کو ایسے غیر معمولی منافع نہ لینے دیا جائے جو اصل لاگت سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p>فری مارکیٹ قیمتیں امن کے حالات میں ایک سہولت ہیں۔ جب تنازع ختم ہو جائے تو حکومت دوبارہ موجودہ فارمولے پر واپس جا سکتی ہے اور ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ سکتی ہے، جیسا کہ پیٹرولیم وزیر نے اشارہ دیا ہے۔ لیکن اس وقت ترجیح توانائی اور خوراک کی سلامتی ہونی چاہیے، نہ کہ ریفائنریوں کی بیلنس شیٹس۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6  اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503298</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 14:35:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09151622ad673b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09151622ad673b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگا تیل نہیں، کمزور معاشی ڈھانچہ اصل مسئلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503179/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری کوئی بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان ساختی انتخابات کا نتیجہ ہے جو ہم نے توانائی کی پیداوار، برآمدات اور استعمال کے حوالے سے کیے ہیں۔ ایران تنازع کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایک بیرونی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ کچھ اور ہے، یہ ایک امتحان ہے۔ یہ عالمی منڈیوں کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا امتحان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے نتائج فوری ہوتے ہیں: درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی پر دباؤ۔ لیکن پاکستان کے لیے اصل مسئلہ خود جھٹکا نہیں بلکہ اس کے مقابل ہماری کمزوری ہے۔ ہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار جنگ کو ٹھہرا سکتے ہیں، مگر اپنی تیل پر انحصار کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں ٹھہرا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافہ سالانہ درآمدی بل میں تقریباً 2 سے 2.5 ارب ڈالر کا اضافہ کرتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ مزید خراب ہوتا ہے اور روپے پر دباؤ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوری نئی نہیں بلکہ برسوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ توانائی کو کم قیمت پر فراہم کیا گیا، گیس کی غلط تقسیم کی گئی، اور متبادل ذرائع کے باوجود تنوع میں تاخیر کی گئی۔ پاکستان کا توانائی کا نظام اب بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، حالانکہ شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور پن بجلی کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار فرق یہ ہے کہ یہ جھٹکا واضح نظر آ رہا ہے۔ توانائی کے اخراجات کو سبسڈی یا گردشی قرض میں چھپانے کے بجائے صارفین تک منتقل کیا جا رہا ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت صرف درآمدات کو متاثر نہیں کرتی بلکہ برآمدات کو بھی کمزور کرتی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور پاکستانی برآمدات کم مسابقتی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طلب کمزور ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 55 سے 60 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے، مگر اس کا بڑا حصہ کم ویلیو مصنوعات جیسے سوت، گرے کلاتھ اور بنیادی ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جن میں قیمت بڑھانے کی گنجائش کم ہوتی ہے اور خریدار معمولی قیمت کے فرق پر سپلائر تبدیل کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ تیل مہنگا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو جو فروخت کرتے ہیں وہ زیادہ تر کم قیمت کا ہے۔ اس کے برعکس اٹلی اعلیٰ معیار کے ٹیکسٹائل اور فیشن مصنوعات برآمد کرتا ہے، جرمنی اور جاپان اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات، جبکہ بھارت آئی ٹی سروسز برآمد کرتا ہے، جو توانائی پر کم انحصار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو ممالک آئیڈیاز، برانڈز اور ٹیکنالوجی برآمد کرتے ہیں وہ تیل کے جھٹکوں سے محفوظ رہتے ہیں، جبکہ خام یا کم ویلیو مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس بحران کو صرف تیل کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی ساخت کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں ایک موقع بھی موجود ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور ایک زیادہ مؤثر توانائی معیشت کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضروری ہے کہ توانائی کو سیاست کے بجائے پیداوار کے لیے مختص کیا جائے، گیس کو برآمدی صنعت کو ترجیح دی جائے، اور قابل تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوا کے منصوبوں کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات یہ ہے کہ برآمدی حکمت عملی کو بدلنا ہوگا۔ جب تک پاکستان قیمت پر مقابلہ کرتا رہے گا، ہر عالمی جھٹکا اندرونی بحران میں تبدیل ہوتا رہے گا۔ ویلیو چین میں اوپر جانا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، جو قابلِ تعریف ہے، مگر بیرونی بحران ہمیں اندرونی مسائل کی یاد بھی دلاتے ہیں۔ حقیقی طاقت اسی وقت آتی ہے جب معیشت مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحران کا سبق صرف توانائی تک محدود نہیں۔ پاکستان کو صرف توانائی کی سلامتی نہیں بلکہ معاشی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ کوئی ملک اس وقت محفوظ نہیں بنتا جب وہ توانائی کی حقیقی قیمت تسلیم کرے، بلکہ اس وقت بنتا ہے جب وہ ایسی معیشت تعمیر کرے جو ان قیمتوں کو برداشت کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری کوئی بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان ساختی انتخابات کا نتیجہ ہے جو ہم نے توانائی کی پیداوار، برآمدات اور استعمال کے حوالے سے کیے ہیں۔ ایران تنازع کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ایک بیرونی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ کچھ اور ہے، یہ ایک امتحان ہے۔ یہ عالمی منڈیوں کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا امتحان ہے۔</strong></p>
<p>تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے نتائج فوری ہوتے ہیں: درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی پر دباؤ۔ لیکن پاکستان کے لیے اصل مسئلہ خود جھٹکا نہیں بلکہ اس کے مقابل ہماری کمزوری ہے۔ ہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار جنگ کو ٹھہرا سکتے ہیں، مگر اپنی تیل پر انحصار کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں ٹھہرا سکتے۔</p>
<p>پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے لیے انتہائی حساس ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافہ سالانہ درآمدی بل میں تقریباً 2 سے 2.5 ارب ڈالر کا اضافہ کرتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ مزید خراب ہوتا ہے اور روپے پر دباؤ بڑھتا ہے۔</p>
<p>یہ کمزوری نئی نہیں بلکہ برسوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ توانائی کو کم قیمت پر فراہم کیا گیا، گیس کی غلط تقسیم کی گئی، اور متبادل ذرائع کے باوجود تنوع میں تاخیر کی گئی۔ پاکستان کا توانائی کا نظام اب بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، حالانکہ شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور پن بجلی کے منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔</p>
<p>اس بار فرق یہ ہے کہ یہ جھٹکا واضح نظر آ رہا ہے۔ توانائی کے اخراجات کو سبسڈی یا گردشی قرض میں چھپانے کے بجائے صارفین تک منتقل کیا جا رہا ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا حصہ ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی لاگت صرف درآمدات کو متاثر نہیں کرتی بلکہ برآمدات کو بھی کمزور کرتی ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور پاکستانی برآمدات کم مسابقتی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طلب کمزور ہو۔</p>
<p>پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 55 سے 60 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے، مگر اس کا بڑا حصہ کم ویلیو مصنوعات جیسے سوت، گرے کلاتھ اور بنیادی ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جن میں قیمت بڑھانے کی گنجائش کم ہوتی ہے اور خریدار معمولی قیمت کے فرق پر سپلائر تبدیل کر لیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ تیل مہنگا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو جو فروخت کرتے ہیں وہ زیادہ تر کم قیمت کا ہے۔ اس کے برعکس اٹلی اعلیٰ معیار کے ٹیکسٹائل اور فیشن مصنوعات برآمد کرتا ہے، جرمنی اور جاپان اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات، جبکہ بھارت آئی ٹی سروسز برآمد کرتا ہے، جو توانائی پر کم انحصار کرتی ہیں۔</p>
<p>جو ممالک آئیڈیاز، برانڈز اور ٹیکنالوجی برآمد کرتے ہیں وہ تیل کے جھٹکوں سے محفوظ رہتے ہیں، جبکہ خام یا کم ویلیو مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس بحران کو صرف تیل کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی ساخت کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>اس صورتحال میں ایک موقع بھی موجود ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور ایک زیادہ مؤثر توانائی معیشت کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔</p>
<p>اب ضروری ہے کہ توانائی کو سیاست کے بجائے پیداوار کے لیے مختص کیا جائے، گیس کو برآمدی صنعت کو ترجیح دی جائے، اور قابل تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوا کے منصوبوں کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>سب سے اہم بات یہ ہے کہ برآمدی حکمت عملی کو بدلنا ہوگا۔ جب تک پاکستان قیمت پر مقابلہ کرتا رہے گا، ہر عالمی جھٹکا اندرونی بحران میں تبدیل ہوتا رہے گا۔ ویلیو چین میں اوپر جانا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔</p>
<p>پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، جو قابلِ تعریف ہے، مگر بیرونی بحران ہمیں اندرونی مسائل کی یاد بھی دلاتے ہیں۔ حقیقی طاقت اسی وقت آتی ہے جب معیشت مضبوط ہو۔</p>
<p>اس بحران کا سبق صرف توانائی تک محدود نہیں۔ پاکستان کو صرف توانائی کی سلامتی نہیں بلکہ معاشی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ کوئی ملک اس وقت محفوظ نہیں بنتا جب وہ توانائی کی حقیقی قیمت تسلیم کرے، بلکہ اس وقت بنتا ہے جب وہ ایسی معیشت تعمیر کرے جو ان قیمتوں کو برداشت کر سکے۔</p>
<p>نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503179</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 10:53:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/07105801e759e38.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/07105801e759e38.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دولت مند خلیجی ممالک کی مغرب میں سرمایہ کاری، غیر ملکی اثاثوں کی قدر (دوسرا حصہ)</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئیے دیکھتے ہیں کہ قطر اور قطری عوام حقیقت میں کیا چیزیں رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اثاثہ ہمیشہ لندن میں موجود رہے گا، جو برطانیہ کے لوگوں اور عوام کے لیے معاشی فائدہ اور طاقت کا ذریعہ فراہم کرتا رہے گا، اور ساتھ ہی مالکان سے ٹیکس بھی وصول کرتا رہے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگر کبھی ایسا ممکن بھی ہو تو نقد رقم کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم قطر میں کسی مفید استعمال کے قابل نہیں ہوگی، کیونکہ قطری عوام کے پاس نہ تو ایسی بڑی آبادی ہے اور نہ ہی ایسا موسم کہ وہ اس دولت سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ قطریوں نے یہی تجربہ فیفا ورلڈ کپ کے ذریعے بھی کیا تھا، تاہم اب ان کے 90 فیصد اسٹیڈیم ضائع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پیسہ موجود ہے، مگر لوگ موجود نہیں جو اس پیسے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس صورت میں یہ دولت غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ یہ سرمایہ کاری فنڈز بوئنگ کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ یہ کمپنی ہوائی جہاز بناتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی اصل قیمت کیا ہے؟ کیا یہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر موجود مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہے؟ دیکھنے میں تو ایسا ہی ہے، لیکن عملی طور پر یہ صرف ایک کاغذی حصہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیئرمین کی ایک نشست ہے۔ کمپنی کے اصل اثاثے جیسے (الف) ٹیکنالوجی، (ب) افرادی قوت، (ج) روزگار اور سماجی فوائد، (د) دانشورانہ ملکیت وغیرہ، ہمیشہ ان سرمایہ کاری فنڈز کے کنٹرول سے باہر رہیں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو بوئنگ جیسی کمپنی کے مالک ہونے سے اصل میں کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور مغرب کے درمیان سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، بوئنگ وہاں موجود نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایمریٹس کے 100 فیصد پائلٹس اماراتی ہو جائیں گے، تب بھی اصل سوال یہ ہے کہ ایئرلائن کی فراہم کردہ سہولیات سے حتمی طور پر فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔ یہ ایک عالمی حقیقت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ پیسہ، لوگ اور تہذیب جغرافیہ اور آبادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کسی اثاثے کی اصل قدر صرف اس حد تک ہے جس حد تک اس سے معاشی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کی حقیقی افادیت صرف ان ممالک میں ہے جو قطر سے جغرافیائی اور موسمی لحاظ سے دور ہیں، مثلاً یورپ، امریکہ، چین یا بھارت۔ قطر اور قطری عوام کے لیے فائدہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ اثاثہ ان کے ملک سے باہر موجود ہو اور وہ وہاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے تقریباً غیر مؤثر ہے جنہوں نے یہ دولت پیدا کی ہے یا جہاں یہ پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ دولت بینک لاکرز میں جمع ہو جائے گی اور اس سے مغربی معیشتوں اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس صورتحال میں مصنف اس اثاثے کی قدر ایک مختلف انداز میں کرے گا۔ ایک اکاؤنٹنٹ کے طور پر اس ویلیو ایشن طریقے کو اصل ملک میں افادیت کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے۔ مصنف کے مطابق اس پیمانے پر یہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ باقی 90 فیصد فائدہ ان لوگوں اور مقامات کو حاصل ہوتا ہے جو اس دولت کے اصل پیدا ہونے کی جگہ سے مختلف ہیں۔ اسے ورچولی فیروزن ایسٹ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سوالات جو مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو، اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز اور روایتی ویلیو ایشن طریقوں کی الجھن کو نظر انداز کرتے ہوئے، خود سے پوچھنے چاہئیں وہ یہ ہیں کہ کیا یہ دولت ان کے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ان کے اپنے ملک میں رہتے ہوئے کبھی غیر مؤثر ہو جائے گی۔ حال ہی میں مصنف نے دوحہ کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ٹیکسی ڈرائیور جو خود قطری تھا نے بتایا کہ تقریباً 90 فیصد قطری اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مغربی ممالک میں گزارتے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باقی وقت میں وہ مغرب کی ہائی اسٹریٹس کے لیے بڑے خرچ کرنے والے اور معاشی معاون بن جاتے ہیں، جو ان معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خالص سرمایہ داری کا ایک جال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص محدود حد تک پیٹیک فلپ یا ہرمیس جیسی لگژری اشیاء خرید سکتا ہے، لیکن یہ اشیاء وہ عزت اور وقار فراہم نہیں کرتیں جو کسی بھی مغربی معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ ہریڈزکے مالک محمد الفايد اس کی ایک مثال ہیں۔ اس طرح آخر میں یہ پورا معاملہ ایک تماشا بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی صورتحال یورپ اور ایشیا کی سابقہ شاہی خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آ چکی ہے۔ ہمیں تین امیر بادشاہوں کو نہیں بھولنا چاہیے: حیدرآباد کے نظام (1940 میں 2 ارب ڈالر)، مصر کے شاہ فاروق (2.3 ارب ڈالر)، اور ایران کے رضا شاہ (1 ارب ڈالر)۔ موجودہ دور کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی دولت اگرچہ ان شاہی خاندانوں کی ذاتی دولت نہیں، بلکہ ریاستی سرمایہ کاری فنڈز وغیرہ کی دولت ہے، لیکن جب اس کی اصل افادیت اور حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذکورہ بادشاہوں نے اس وقت کی سب سے بڑی دولت چھوڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے بادشاہوں کی طرح یہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی ایک جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2026 کے آغاز تک رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اپنے فلیگ شپ 170 کلومیٹر طویل دی لائن کو، جو نیوم منصوبے کا حصہ ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں ہے، کافی حد تک محدود کر دیا ہے—اور بعض پہلوؤں میں اسے عملی طور پر سست یا منجمد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ صرف مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اس کی حتمی افادیت کا سوال بھی ہے۔ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان لوگوں کے لیے ہوگی جو سہولت چاہتے ہیں۔ سعودی پہلے ہی سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ عیش و آرام چاہتے ہیں، جو اے آئی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ عیش و آرام صرف قدرتی ماحول سے حاصل ہوتا ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، یا یورپ میں سوئٹزرلینڈ میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ فطرت کو سائنس کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ سے سیکھتے ہوئے، جو کہ ناقابلِ تردید ہے، بہتر ہوگا کہ یہ فنڈز اپنی اصل بیلنس شیٹ کو مکمل طور پر دوبارہ دیکھیں۔ حل سرمایہ کاری کی ایسی جگہوں میں تنوع ہے جیسے پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، چین، بھارت اور دیگر ممالک۔ اس کے علاوہ کمزور ممالک کے عوام میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی یا سماجی بحران کی صورت میں مثبت سیاسی تصویر برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت اور سیاست کبھی بھی اس انداز میں تبدیل نہیں ہوئے جیسے پیش گوئی کی گئی تھی۔ لہٰذا جو کچھ ہارورڈ اور کیمبرج میں پڑھایا گیا تھا، اسے ایک پانچ فٹ قد والے شخص ڈینگ ژیاو پنگ نے غیر مؤثر بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس 200 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا موقع ہے اور یہ دنیا میں کہیں بھی حاصل ہونے والے نتائج سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف مستقبل کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اثاثوں کی درست ویلیوایشن کا طریقہ اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئیے دیکھتے ہیں کہ قطر اور قطری عوام حقیقت میں کیا چیزیں رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اثاثہ ہمیشہ لندن میں موجود رہے گا، جو برطانیہ کے لوگوں اور عوام کے لیے معاشی فائدہ اور طاقت کا ذریعہ فراہم کرتا رہے گا، اور ساتھ ہی مالکان سے ٹیکس بھی وصول کرتا رہے گا۔</strong></p>
<p>اور اگر کبھی ایسا ممکن بھی ہو تو نقد رقم کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم قطر میں کسی مفید استعمال کے قابل نہیں ہوگی، کیونکہ قطری عوام کے پاس نہ تو ایسی بڑی آبادی ہے اور نہ ہی ایسا موسم کہ وہ اس دولت سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ قطریوں نے یہی تجربہ فیفا ورلڈ کپ کے ذریعے بھی کیا تھا، تاہم اب ان کے 90 فیصد اسٹیڈیم ضائع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پیسہ موجود ہے، مگر لوگ موجود نہیں جو اس پیسے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس صورت میں یہ دولت غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>دوسری مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ یہ سرمایہ کاری فنڈز بوئنگ کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ یہ کمپنی ہوائی جہاز بناتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی اصل قیمت کیا ہے؟ کیا یہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر موجود مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہے؟ دیکھنے میں تو ایسا ہی ہے، لیکن عملی طور پر یہ صرف ایک کاغذی حصہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیئرمین کی ایک نشست ہے۔ کمپنی کے اصل اثاثے جیسے (الف) ٹیکنالوجی، (ب) افرادی قوت، (ج) روزگار اور سماجی فوائد، (د) دانشورانہ ملکیت وغیرہ، ہمیشہ ان سرمایہ کاری فنڈز کے کنٹرول سے باہر رہیں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو بوئنگ جیسی کمپنی کے مالک ہونے سے اصل میں کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور مغرب کے درمیان سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، بوئنگ وہاں موجود نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہاں تک کہ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایمریٹس کے 100 فیصد پائلٹس اماراتی ہو جائیں گے، تب بھی اصل سوال یہ ہے کہ ایئرلائن کی فراہم کردہ سہولیات سے حتمی طور پر فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔ یہ ایک عالمی حقیقت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ پیسہ، لوگ اور تہذیب جغرافیہ اور آبادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کسی اثاثے کی اصل قدر صرف اس حد تک ہے جس حد تک اس سے معاشی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p>لہٰذا ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کی حقیقی افادیت صرف ان ممالک میں ہے جو قطر سے جغرافیائی اور موسمی لحاظ سے دور ہیں، مثلاً یورپ، امریکہ، چین یا بھارت۔ قطر اور قطری عوام کے لیے فائدہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ اثاثہ ان کے ملک سے باہر موجود ہو اور وہ وہاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے تقریباً غیر مؤثر ہے جنہوں نے یہ دولت پیدا کی ہے یا جہاں یہ پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>بالآخر یہ دولت بینک لاکرز میں جمع ہو جائے گی اور اس سے مغربی معیشتوں اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس صورتحال میں مصنف اس اثاثے کی قدر ایک مختلف انداز میں کرے گا۔ ایک اکاؤنٹنٹ کے طور پر اس ویلیو ایشن طریقے کو اصل ملک میں افادیت کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے۔ مصنف کے مطابق اس پیمانے پر یہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ باقی 90 فیصد فائدہ ان لوگوں اور مقامات کو حاصل ہوتا ہے جو اس دولت کے اصل پیدا ہونے کی جگہ سے مختلف ہیں۔ اسے ورچولی فیروزن ایسٹ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>وہ سوالات جو مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو، اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز اور روایتی ویلیو ایشن طریقوں کی الجھن کو نظر انداز کرتے ہوئے، خود سے پوچھنے چاہئیں وہ یہ ہیں کہ کیا یہ دولت ان کے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ان کے اپنے ملک میں رہتے ہوئے کبھی غیر مؤثر ہو جائے گی۔ حال ہی میں مصنف نے دوحہ کا دورہ کیا۔</p>
<p>وہ ٹیکسی ڈرائیور جو خود قطری تھا نے بتایا کہ تقریباً 90 فیصد قطری اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مغربی ممالک میں گزارتے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باقی وقت میں وہ مغرب کی ہائی اسٹریٹس کے لیے بڑے خرچ کرنے والے اور معاشی معاون بن جاتے ہیں، جو ان معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خالص سرمایہ داری کا ایک جال ہے۔</p>
<p>کوئی بھی شخص محدود حد تک پیٹیک فلپ یا ہرمیس جیسی لگژری اشیاء خرید سکتا ہے، لیکن یہ اشیاء وہ عزت اور وقار فراہم نہیں کرتیں جو کسی بھی مغربی معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ ہریڈزکے مالک محمد الفايد اس کی ایک مثال ہیں۔ اس طرح آخر میں یہ پورا معاملہ ایک تماشا بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہی صورتحال یورپ اور ایشیا کی سابقہ شاہی خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آ چکی ہے۔ ہمیں تین امیر بادشاہوں کو نہیں بھولنا چاہیے: حیدرآباد کے نظام (1940 میں 2 ارب ڈالر)، مصر کے شاہ فاروق (2.3 ارب ڈالر)، اور ایران کے رضا شاہ (1 ارب ڈالر)۔ موجودہ دور کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی دولت اگرچہ ان شاہی خاندانوں کی ذاتی دولت نہیں، بلکہ ریاستی سرمایہ کاری فنڈز وغیرہ کی دولت ہے، لیکن جب اس کی اصل افادیت اور حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی نکلتا ہے۔</p>
<p>ان مذکورہ بادشاہوں نے اس وقت کی سب سے بڑی دولت چھوڑی تھی۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے بادشاہوں کی طرح یہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی ایک جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2026 کے آغاز تک رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اپنے فلیگ شپ 170 کلومیٹر طویل دی لائن کو، جو نیوم منصوبے کا حصہ ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں ہے، کافی حد تک محدود کر دیا ہے—اور بعض پہلوؤں میں اسے عملی طور پر سست یا منجمد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کی وجہ صرف مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اس کی حتمی افادیت کا سوال بھی ہے۔ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان لوگوں کے لیے ہوگی جو سہولت چاہتے ہیں۔ سعودی پہلے ہی سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ عیش و آرام چاہتے ہیں، جو اے آئی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ عیش و آرام صرف قدرتی ماحول سے حاصل ہوتا ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، یا یورپ میں سوئٹزرلینڈ میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ فطرت کو سائنس کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>تاریخ سے سیکھتے ہوئے، جو کہ ناقابلِ تردید ہے، بہتر ہوگا کہ یہ فنڈز اپنی اصل بیلنس شیٹ کو مکمل طور پر دوبارہ دیکھیں۔ حل سرمایہ کاری کی ایسی جگہوں میں تنوع ہے جیسے پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، چین، بھارت اور دیگر ممالک۔ اس کے علاوہ کمزور ممالک کے عوام میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی یا سماجی بحران کی صورت میں مثبت سیاسی تصویر برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>معیشت اور سیاست کبھی بھی اس انداز میں تبدیل نہیں ہوئے جیسے پیش گوئی کی گئی تھی۔ لہٰذا جو کچھ ہارورڈ اور کیمبرج میں پڑھایا گیا تھا، اسے ایک پانچ فٹ قد والے شخص ڈینگ ژیاو پنگ نے غیر مؤثر بنا دیا۔</p>
<p>پاکستان کے پاس 200 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا موقع ہے اور یہ دنیا میں کہیں بھی حاصل ہونے والے نتائج سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف مستقبل کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اثاثوں کی درست ویلیوایشن کا طریقہ اپنانا ہوگا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503150</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 13:45:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/091510543575214.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/091510543575214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
