<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy - Commodities</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:12:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:12:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اب گاڑیوں کے پرزے دوسرے ممالک کو برآمد کرے گا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30335990/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ٹویوٹا برانڈ کی گاڑیاں تیار رنے والی انڈس موٹر کمپنی نے ٹویوٹا مصر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی مصر کو برآمدات کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹرز کے چیف ایگزیکٹیو علی اصغر جمالی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ’ہم نے اس ماہ اپنی پہلی کھیپ پہلے ہی بھیج چکے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمالی نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن اسے مشکلات سے نبردآزما صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھنا جلد بازی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹر کے مطابق کمپنی سیمی پروسسٹڈ خام مال مصر کو برآمد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی اصغر جمالی نے کہا، ’اس وقت یہ ایک چھوٹا قدم ہے۔ فی الحال، ہمارے پاس ملک میں خام مال کی کمی ہے۔ جو ہمیں بڑی مقدار میں برآمدات سے روکے گی۔ لیکن میں پر امید ہوں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او نے کہا کہ کمپنی (پروڈکشن کا) صرف ایک مخصوص حصہ مصر کو برآمد کرے گی۔ ’اگر ان کا اعتماد پیدا ہوتا ہے، تو ہم سے مزید پرزے برآمد کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم ایک پارٹ کو کئی منڈیوں میں برآمد کرنے کا انتظام کر لیتے ہیں، تو اس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں امید ہے دوسرے مینوفیکچررز کو بھی اعتماد ملے گا اور وہ بھی برآمدات کے راستے تلاش کریں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کا آٹو سیکٹر، اپنی اسمبلنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کررہا ہے، اور لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) کے اجراء میں رکاوٹوں کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔ یہ رکاوٹ پاکستان کے زرمبادلہ کے کم ذخائر کی وجہ سے ہے جس نے درآمدی پابندیوں کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالانکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پابندیاں ہٹا دی ہیں، لیکن حالات معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قیمت نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ مہنگائی نے پاکستان کی کلیدی شرح سود کو بھی ریکارڈ بلندی پر پہنچا دیا ہے، جس سے خریداروں کو فنانسنگ کی حوصلہ شکنی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں، آٹو سیکٹر کے تقریباً تمام کھلاڑی پلانٹ بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;وضاحت: ترجمے کی غلطی کے سبب اس خبر کی سرخی میں پہلے گاڑیوں کی برآمد کے الفاظ شامل ہو گئے تھے۔ ادارہ معذرت خواہ ہے۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ٹویوٹا برانڈ کی گاڑیاں تیار رنے والی انڈس موٹر کمپنی نے ٹویوٹا مصر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کمپنی مصر کو برآمدات کرے گی۔</strong></p>
<p>انڈس موٹرز کے چیف ایگزیکٹیو علی اصغر جمالی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ’ہم نے اس ماہ اپنی پہلی کھیپ پہلے ہی بھیج چکے ہیں‘۔</p>
<p>جمالی نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن اسے مشکلات سے نبردآزما صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھنا جلد بازی ہوگی۔</p>
<p>انڈس موٹر کے مطابق کمپنی سیمی پروسسٹڈ خام مال مصر کو برآمد کر رہی ہے۔</p>
<p>علی اصغر جمالی نے کہا، ’اس وقت یہ ایک چھوٹا قدم ہے۔ فی الحال، ہمارے پاس ملک میں خام مال کی کمی ہے۔ جو ہمیں بڑی مقدار میں برآمدات سے روکے گی۔ لیکن میں پر امید ہوں۔‘</p>
<p>سی ای او نے کہا کہ کمپنی (پروڈکشن کا) صرف ایک مخصوص حصہ مصر کو برآمد کرے گی۔ ’اگر ان کا اعتماد پیدا ہوتا ہے، تو ہم سے مزید پرزے برآمد کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم ایک پارٹ کو کئی منڈیوں میں برآمد کرنے کا انتظام کر لیتے ہیں، تو اس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں امید ہے دوسرے مینوفیکچررز کو بھی اعتماد ملے گا اور وہ بھی برآمدات کے راستے تلاش کریں گے‘۔</p>
<p>ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کا آٹو سیکٹر، اپنی اسمبلنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کررہا ہے، اور لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) کے اجراء میں رکاوٹوں کی وجہ سے دباؤ میں ہے۔ یہ رکاوٹ پاکستان کے زرمبادلہ کے کم ذخائر کی وجہ سے ہے جس نے درآمدی پابندیوں کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>حالانکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پابندیاں ہٹا دی ہیں، لیکن حالات معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قیمت نے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ مہنگائی نے پاکستان کی کلیدی شرح سود کو بھی ریکارڈ بلندی پر پہنچا دیا ہے، جس سے خریداروں کو فنانسنگ کی حوصلہ شکنی ہوئی۔</p>
<p>اس کے جواب میں، آٹو سیکٹر کے تقریباً تمام کھلاڑی پلانٹ بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔</p>
<p><em>وضاحت: ترجمے کی غلطی کے سبب اس خبر کی سرخی میں پہلے گاڑیوں کی برآمد کے الفاظ شامل ہو گئے تھے۔ ادارہ معذرت خواہ ہے۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30335990</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Jul 2023 18:18:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/12134554198c9f3.jpg?r=134708" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/12134554198c9f3.jpg?r=134708"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں پھنسے درآمدی اشیا سے لدے کنٹینرز کو پاکستان لانے کی اجازت مل گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30438042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت کی جانب سے ایران میں پھنسے درآمدی اشیا سےلدے کنٹینرزکوالیکٹرانک امپورٹ فارم کے ذریعے60 روزتک کی چھوٹ دے دی گئی، جومال بردارگاڑیاں31 اکتوبر2024 تک یا اس سے پہلے کی ماسٹر بل آف لیڈنگ رکھتی ہیں انہیں کسٹم کلیئرنس کے بعد پاکستان آنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے اعلامیہ کے مطابق جن کلیئرنگ ایجنٹس کے پاس ایرانی کسٹمزکے وہ دستاویزات ہیں جن میں مال بردارگاڑیوں کے31 اکتوبر 2024 تک یا اس سے پہلے ایران پہنچنے کا ثبوت ہو انہیں بھی چھوٹ ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کی جانب سے ڈپٹی سیکریٹری (افغانستان، سی ای او اینڈ کارز) محمد زبیرخان کے دستخط سےجاری ایک دفتری یا داشت میں متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 جنوری 2025 کو ایڈیشنل سیکریٹری (ٹریڈ ڈیپلومیسی) وزارت تجارت کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے دوران اسٹیک ہو لڈرزکی تجاویزکی روشنی میں وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان نے درآمدی مال سےلدے کنٹینرزکو60روزتک ای آئی ایف فارم سے چھوٹ دیدی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امپورٹرزکومراسلے کے اجرا سے60 دن تک مذکورہ (نان ایرانی اوریجن) درآمدی اشیازمینی راستے لانے کی اجازت ہوگی۔ اس سلسلے میں کسٹمزودیگر کوبھی ہدایات جا ری کردی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان صنعت و تجا رت کوئٹہ بلوچستان کے پیٹرن ان چیف حاجی غلام فاروق خلجی، صدرحاجی محمد ایوب مریانی اورسینئرنائب صدرحاجی اختر کاکڑنے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چیئرمین آغاشاہ زیب درانی کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرچیمبرآف کامرس محمد ایوب مریانی کا کہناہے کہ وزارتِ تجارت کا دفتری یاداشت ہمارے لئے بڑی خوش خبری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنیئرنائب صدرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ حاجی اخترکاکڑنے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے ایران میں پھنسے ہزاروں کنٹینرز کو ہم لاسکیں گے۔ صوبےکےامپورٹرزکے ساتھ کیا ایک اوروعدہ نبھانے پرخوشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے صوبے کی درآمدی شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا اورہمیں خوشی ہے کہ ہم اس وعدے کونبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایران میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرزپھنس گئے تھے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک سرکلر جاری کیا تھا جس کے تحت امپورٹ کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم کو لازمی قراردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ مکمل طورپررک گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ کنٹینرزکولانے کے لیے چیمبرآف کامرس کےصدر، نائب صدراوردیگرنے بھاگ دوڑکی، جس کے بعد آفس میمورنڈم جاری کیا گیا کہ جوکنٹنیرزاکیتیس اکتوبر2024 سے پہلے ایران پہنچے اوروہاں پھنس گئےان کو لانے کی اجازت مل گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت کی جانب سے ایران میں پھنسے درآمدی اشیا سےلدے کنٹینرزکوالیکٹرانک امپورٹ فارم کے ذریعے60 روزتک کی چھوٹ دے دی گئی، جومال بردارگاڑیاں31 اکتوبر2024 تک یا اس سے پہلے کی ماسٹر بل آف لیڈنگ رکھتی ہیں انہیں کسٹم کلیئرنس کے بعد پاکستان آنے کی اجازت ہوگی۔</strong></p>
<p>وزارت تجارت کے اعلامیہ کے مطابق جن کلیئرنگ ایجنٹس کے پاس ایرانی کسٹمزکے وہ دستاویزات ہیں جن میں مال بردارگاڑیوں کے31 اکتوبر 2024 تک یا اس سے پہلے ایران پہنچنے کا ثبوت ہو انہیں بھی چھوٹ ملے گی۔</p>
<p>وزارت تجارت کی جانب سے ڈپٹی سیکریٹری (افغانستان، سی ای او اینڈ کارز) محمد زبیرخان کے دستخط سےجاری ایک دفتری یا داشت میں متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی گئی ہے۔</p>
<p>27 جنوری 2025 کو ایڈیشنل سیکریٹری (ٹریڈ ڈیپلومیسی) وزارت تجارت کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے دوران اسٹیک ہو لڈرزکی تجاویزکی روشنی میں وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان نے درآمدی مال سےلدے کنٹینرزکو60روزتک ای آئی ایف فارم سے چھوٹ دیدی ہے۔</p>
<p>امپورٹرزکومراسلے کے اجرا سے60 دن تک مذکورہ (نان ایرانی اوریجن) درآمدی اشیازمینی راستے لانے کی اجازت ہوگی۔ اس سلسلے میں کسٹمزودیگر کوبھی ہدایات جا ری کردی گئی ہیں۔</p>
<p>ایوان صنعت و تجا رت کوئٹہ بلوچستان کے پیٹرن ان چیف حاجی غلام فاروق خلجی، صدرحاجی محمد ایوب مریانی اورسینئرنائب صدرحاجی اختر کاکڑنے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چیئرمین آغاشاہ زیب درانی کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>صدرچیمبرآف کامرس محمد ایوب مریانی کا کہناہے کہ وزارتِ تجارت کا دفتری یاداشت ہمارے لئے بڑی خوش خبری ہیں۔</p>
<p>سنیئرنائب صدرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ حاجی اخترکاکڑنے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے ایران میں پھنسے ہزاروں کنٹینرز کو ہم لاسکیں گے۔ صوبےکےامپورٹرزکے ساتھ کیا ایک اوروعدہ نبھانے پرخوشی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے صوبے کی درآمدی شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا اورہمیں خوشی ہے کہ ہم اس وعدے کونبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایران میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرزپھنس گئے تھے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک سرکلر جاری کیا تھا جس کے تحت امپورٹ کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم کو لازمی قراردیا گیا تھا، جس کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ مکمل طورپررک گیا تھا۔</p>
<p>مذکورہ کنٹینرزکولانے کے لیے چیمبرآف کامرس کےصدر، نائب صدراوردیگرنے بھاگ دوڑکی، جس کے بعد آفس میمورنڈم جاری کیا گیا کہ جوکنٹنیرزاکیتیس اکتوبر2024 سے پہلے ایران پہنچے اوروہاں پھنس گئےان کو لانے کی اجازت مل گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30438042</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jan 2025 08:43:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مجیب احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/302338367a79236.webp?r=234027" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/302338367a79236.webp?r=234027"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طالبان نے افغانستان سے تیل نکالنا شروع کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30335482/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کی وزارت برائے کان کنی اور پٹرولیم (ایم او ایم پی) کا کہنا ہے کہ صوبہ سر پل میں واقع قشقری کنویں سے آزمائشی طور پر تیل نکالنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کومائنز اور پیٹرولیم کے وزیر شہاب الدین دلاور نے کہا کہ اس صوبے کا تیل ملک کے اہم اقتصادی وسائل میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہاب الدین نے کہا کہ اس تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک میں دیگر منصوبوں کے نفاذ کے لیے استعمال کرنا امارت اسلامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں صوبے میں قشقری تیل کے کنوؤں سے روزانہ 100 ٹن تیل نکالا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے روزانہ 150,000 ڈالر مالیت کا 200 ٹن تیل حاصل کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان کانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرپل اور فاریاب صوبوں میں قشقری، بازار کامی اور زمردسائی کے نام سے تیل کی تین فیلڈز ہیں، جن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس علاقے میں مستحکم ذخائر کی مقدار کا تخمینہ 87 ملین بیرل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی کانوں میں خاص طور پر چین سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء افغانستان کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی پروسیسنگ ملک کے اندر ہونی چاہیے کیونکہ اندرون ملک پروسیسنگ سے بہت سے شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سرپل کی قشقری آئل فیلڈ میں دس کنویں ہیں جن میں سے پانچ فعال ہیں اور ”افغان چائنا“ کمپنی نے قشقری فیلڈ میں بارہ اور اگ دریا میں مزید دو کنوؤں کی کھدائی شروع کر دی ہے، جس کا تعلق سرپل کا مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں کابل کے اقتدار پر واپسی کے بعد، طالبان نے گزشتہ سال ایک چینی کمپنی کے ساتھ سر پل سے تیل نکالنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں، افغان طالبان کی عبوری حکومت نے ایک چینی فرم کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے کہ وہ دریائے آمو کے طاس سے تیل نکالے اور شمال میں تیل کے ذخائر کو ترقی دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق چینی کمپنی پہلے سال میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو تین سالوں میں 540 ملین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باختر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق افغانستان 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کے غیر استعمال شدہ وسائل پر بیٹھا ہے، جس نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کی وزارت برائے کان کنی اور پٹرولیم (ایم او ایم پی) کا کہنا ہے کہ صوبہ سر پل میں واقع قشقری کنویں سے آزمائشی طور پر تیل نکالنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کومائنز اور پیٹرولیم کے وزیر شہاب الدین دلاور نے کہا کہ اس صوبے کا تیل ملک کے اہم اقتصادی وسائل میں سے ایک ہے۔</p>
<p>شہاب الدین نے کہا کہ اس تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک میں دیگر منصوبوں کے نفاذ کے لیے استعمال کرنا امارت اسلامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں صوبے میں قشقری تیل کے کنوؤں سے روزانہ 100 ٹن تیل نکالا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے روزانہ 150,000 ڈالر مالیت کا 200 ٹن تیل حاصل کیا جا سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان کانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>سرپل اور فاریاب صوبوں میں قشقری، بازار کامی اور زمردسائی کے نام سے تیل کی تین فیلڈز ہیں، جن کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس علاقے میں مستحکم ذخائر کی مقدار کا تخمینہ 87 ملین بیرل ہے۔</p>
<p>طالبان کی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی کانوں میں خاص طور پر چین سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>دریں اثناء افغانستان کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی پروسیسنگ ملک کے اندر ہونی چاہیے کیونکہ اندرون ملک پروسیسنگ سے بہت سے شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سرپل کی قشقری آئل فیلڈ میں دس کنویں ہیں جن میں سے پانچ فعال ہیں اور ”افغان چائنا“ کمپنی نے قشقری فیلڈ میں بارہ اور اگ دریا میں مزید دو کنوؤں کی کھدائی شروع کر دی ہے، جس کا تعلق سرپل کا مرکز ہے۔</p>
<p>2021 میں کابل کے اقتدار پر واپسی کے بعد، طالبان نے گزشتہ سال ایک چینی کمپنی کے ساتھ سر پل سے تیل نکالنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>جنوری میں، افغان طالبان کی عبوری حکومت نے ایک چینی فرم کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے کہ وہ دریائے آمو کے طاس سے تیل نکالے اور شمال میں تیل کے ذخائر کو ترقی دے سکے۔</p>
<p>معاہدے کے مطابق چینی کمپنی پہلے سال میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو تین سالوں میں 540 ملین ڈالر تک بڑھ جائے گی۔</p>
<p>باختر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق افغانستان 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کے غیر استعمال شدہ وسائل پر بیٹھا ہے، جس نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30335482</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Jul 2023 11:32:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/09112632ed899f7.webp?r=113207" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/09112632ed899f7.webp?r=113207"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان نے کمتر معیار کا تیل ایران کو واپس بھجوا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30335623/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امارت اسلامیہ کی افغانستان نیشنل اسٹینڈرڈ اتھارٹی (ANSA) کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار کم درجے کا ہائیڈرولک فیول ایران کو واپس بھیجا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این ایس اے کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معیار والے ایندھن کی درآمد کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور تاجروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم درجے کی مصنوعات درآمد کرکے معیارات کی خلاف ورزی نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے، ہائیڈرولک فیول لے جانے والے چار ٹینکرز ایران واپس بھیج دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان اتھارٹی ملک میں داخل ہونے والے فیول ٹینکرز کے مواد کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر فیول معیار سے کم پایا جاتا ہے تو ٹینکرز کو فوری طور پر واپس کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امارت اسلامیہ کی افغانستان نیشنل اسٹینڈرڈ اتھارٹی (ANSA) کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی بار کم درجے کا ہائیڈرولک فیول ایران کو واپس بھیجا ہے۔</strong></p>
<p>اے این ایس اے کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معیار والے ایندھن کی درآمد کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور تاجروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم درجے کی مصنوعات درآمد کرکے معیارات کی خلاف ورزی نہ کریں۔</p>
<p>اس ہفتے، ہائیڈرولک فیول لے جانے والے چار ٹینکرز ایران واپس بھیج دیے گئے ہیں۔</p>
<p>افغانستان اتھارٹی ملک میں داخل ہونے والے فیول ٹینکرز کے مواد کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر فیول معیار سے کم پایا جاتا ہے تو ٹینکرز کو فوری طور پر واپس کر دیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30335623</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jul 2023 13:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/10130405d002d57.webp?r=130452" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/10130405d002d57.webp?r=130452"/>
        <media:title>علامتی تصویر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برقی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے کے باوجود حکومت نے ٹیکس وصولی کا نیا راستہ ڈھونڈ لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334686/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برقی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے کے باوجود حکومت نے ٹیکس وصولی کا نیا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے، انجن کپیسٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے پچاس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں (ای گاڑیوں) کی رجسٹریشن کے وقت 3 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2023 میں ”ای وہیکلز“ کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکس کی شرح کا ذکر ہی نہیں کیا گیا، لیکن ٹیکس ماہرین کے مطابق ٹیکس کی شرح 3 فیصد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ایسی گاڑیوں کے زمرے میں آتی ہیں جن کے انجن کی گنجائش کو نہیں دیکھا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ ان صورتوں میں جہاں انجن کپیسٹی لاگو نہ ہو اور گاڑی کی مالیت 50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو، ٹیکس وصولی کی شرح درآمدی قیمت کا 3 فیصد ہوگی، جو کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی صورت میں لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ایکٹ 2023 کے مطابق، 2001 سی سی سے 2500 سی سی تک کی گاڑیاں اور 3000 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کی قیمت کا تعین ان نکات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں درآمد کی گئی گاڑیاں: قیمت کا تخمینہ کسٹم حکام کی جانب سے
کسٹم ڈیوٹی میں اضافے، درآمدی مرحلے پر قابل ادائیگی فیڈرل ایکسائز
ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے زریعے لگایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی گئی گاڑیاں: قیمت کا تعین
انوائس ویلیو جس میں تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس شامل ہوں، اس سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;نیلام شدہ گاڑیوں کی قیمت کا تعین: نیلامی کی قیمت جس میں تمام ڈیوٹیز
اور ٹیکس شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;2000 سی سی سے زیادہ گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس بڑھا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2023 کے تحت حکومت نے 2001 سی سی سے 3000 سی سی سے اوپر کی درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں پر ایک فکسڈ ٹیکس عائد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے انکم ٹیکس سلیب کے تحت ٹیکس کی مقررہ شرح 2001 سی سی سے 2500 سی سی انجن کی صلاحیت والی گاڑی کی قیمت کا 6 فیصد ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس کی مقررہ شرح 2501 سی سی سے 3000 سی سی انجن کی گنجائش والی گاڑی کی قیمت کا 8 فیصد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرے نظر ثانی شدہ سلیب کے تحت ٹیکس کی مقررہ شرح 3000 سی سی سے زیادہ انجن کی گنجائش والی گاڑی کی قیمت کا 10 فیصد ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برقی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کرنے کے باوجود حکومت نے ٹیکس وصولی کا نیا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے، انجن کپیسٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے پچاس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں (ای گاڑیوں) کی رجسٹریشن کے وقت 3 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>فنانس ایکٹ 2023 میں ”ای وہیکلز“ کی رجسٹریشن کے لیے ٹیکس کی شرح کا ذکر ہی نہیں کیا گیا، لیکن ٹیکس ماہرین کے مطابق ٹیکس کی شرح 3 فیصد ہوگی۔</p>
<p>ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ایسی گاڑیوں کے زمرے میں آتی ہیں جن کے انجن کی گنجائش کو نہیں دیکھا جاتا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ ان صورتوں میں جہاں انجن کپیسٹی لاگو نہ ہو اور گاڑی کی مالیت 50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو، ٹیکس وصولی کی شرح درآمدی قیمت کا 3 فیصد ہوگی، جو کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی صورت میں لاگو ہوگا۔</p>
<p><strong>فنانس ایکٹ 2023 کے مطابق، 2001 سی سی سے 2500 سی سی تک کی گاڑیاں اور 3000 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کی قیمت کا تعین ان نکات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔</strong></p>
<ul>
<li>
<p>پاکستان میں درآمد کی گئی گاڑیاں: قیمت کا تخمینہ کسٹم حکام کی جانب سے
کسٹم ڈیوٹی میں اضافے، درآمدی مرحلے پر قابل ادائیگی فیڈرل ایکسائز
ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے زریعے لگایا جائے گا۔</p>
</li>
<li>
<p>پاکستان میں مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی گئی گاڑیاں: قیمت کا تعین
انوائس ویلیو جس میں تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس شامل ہوں، اس سے کیا جائے گا۔</p>
</li>
<li>
<p>نیلام شدہ گاڑیوں کی قیمت کا تعین: نیلامی کی قیمت جس میں تمام ڈیوٹیز
اور ٹیکس شامل ہوں۔</p>
</li>
<li>
<p>2000 سی سی سے زیادہ گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس بڑھا دیا گیا۔</p>
</li>
</ul>
<p>فنانس ایکٹ 2023 کے تحت حکومت نے 2001 سی سی سے 3000 سی سی سے اوپر کی درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں پر ایک فکسڈ ٹیکس عائد کر دیا ہے۔</p>
<p>نئے انکم ٹیکس سلیب کے تحت ٹیکس کی مقررہ شرح 2001 سی سی سے 2500 سی سی انجن کی صلاحیت والی گاڑی کی قیمت کا 6 فیصد ہو گی۔</p>
<p>ٹیکس کی مقررہ شرح 2501 سی سی سے 3000 سی سی انجن کی گنجائش والی گاڑی کی قیمت کا 8 فیصد ہوگی۔</p>
<p>تیسرے نظر ثانی شدہ سلیب کے تحت ٹیکس کی مقررہ شرح 3000 سی سی سے زیادہ انجن کی گنجائش والی گاڑی کی قیمت کا 10 فیصد ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334686</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 11:29:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/04112721ecccb2d.webp?r=112956" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/04112721ecccb2d.webp?r=112956"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مئی کے مقابلے مہنگائی کی شرح میں کمی، 29.4 فیصد تک آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334555/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ماہ جون میں مہنگائی میں 0.26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق دار کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 29.4 فیصد پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ جون 2023 میں 29.40 فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ ماہ مئی میں 38 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال مہنگائی کی مجموعی شرح 29.18 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق ماہ جون میں شہروں میں مہنگائی کی شرح میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--flourish  media__item--relative'&gt;&lt;div class="flourish-embed" data-src="visualisation/11066541"&gt;&lt;script src="https://public.flourish.studio/resources/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ جون میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 0.76 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال میں سگریٹ کی قیمت میں 129 فیصد اضافہ ہوا، چائے 113 فیصد سے زائد مہنگی ہوئی، آٹا 90 فیصد تک مہنگا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ایک سال میں چاول کی قیمت میں 73 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آلو 65 فیصد اور گندم 62 فیصد سے زائد مہنگی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سال میں مرغی کا گوشت 58 فیصد مہنگا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، اور جمعہ کو آئی ایم ایف سے 3 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ حاصل ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیورو کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2022-23 (جون جولائی) میں اوسطاً افراط زر گزشتہ سال کے 12.15 فیصد کے مقابلے میں 29.18 فیصد پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ سیکیورٹیز کے سربراہ، طاہر عباس نے کہا، ’اس کمی کی وجہ بنیادی طور پر اعلیٰ بنیادی اثرات اور خوراک اور گھریلو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ماہ جون میں مہنگائی میں 0.26 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ وزیر خزانہ اسحاق دار کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 29.4 فیصد پر ہے۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ جون 2023 میں 29.40 فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ ماہ مئی میں 38 فیصد تھی۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال مہنگائی کی مجموعی شرح 29.18 فیصد رہی۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق ماہ جون میں شہروں میں مہنگائی کی شرح میں 0.10 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--flourish  media__item--relative'><div class="flourish-embed" data-src="visualisation/11066541"><script src="https://public.flourish.studio/resources/embed.js"></script></div></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہ جون میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 0.76 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال میں سگریٹ کی قیمت میں 129 فیصد اضافہ ہوا، چائے 113 فیصد سے زائد مہنگی ہوئی، آٹا 90 فیصد تک مہنگا ہوا۔</p>
<p>ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ایک سال میں چاول کی قیمت میں 73 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آلو 65 فیصد اور گندم 62 فیصد سے زائد مہنگی ہوئی۔</p>
<p>ایک سال میں مرغی کا گوشت 58 فیصد مہنگا ہوا۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، اور جمعہ کو آئی ایم ایف سے 3 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ حاصل ہوا ہے۔</p>
<p>بیورو کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2022-23 (جون جولائی) میں اوسطاً افراط زر گزشتہ سال کے 12.15 فیصد کے مقابلے میں 29.18 فیصد پر رہا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ سیکیورٹیز کے سربراہ، طاہر عباس نے کہا، ’اس کمی کی وجہ بنیادی طور پر اعلیٰ بنیادی اثرات اور خوراک اور گھریلو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334555</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Jul 2023 15:15:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/0315022632a449f.png?r=150310" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/0315022632a449f.png?r=150310"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں ساڑھے 3 لاکھ سے دستیاب سوزوکی آلٹو کا نیا ماڈل جس نے پرانی آلٹو کی پیداوار بند کرا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334479/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوزوکی انڈیا جسے ”ماروتی سوزوکی“ بھی کہا جاتا ہے، نے اپنے انٹری لیول ہیچ بیک ماڈل ”آلٹو 800“ کی پروڈکشن بند کر دی ہے۔ کمپنی اب صرف ان چند یونٹس فروخت کرے گی جو اسٹاک میں ہیں۔ اس کی جگہ اب آلٹو کا نیا ماڈل ”کے 10“ لے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماروتی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، آلٹو 800 کی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار (تقریباً 12 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) سے 5 لاکھ 13 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 17 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے) کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ آلتو کے پاکستانی ورژنز کی قیمت 26 لاکھ روپے سے 30 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماروتی 800 کی جگہ لینے والی آلٹو ”K10“ کی قیمت 3 لاکھ 99 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 13 لاکھ 92 ہزار پاکستانی روپے) سے 5 لاکھ 94 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 20 لاکھ 72 ہزار پاکستانی روپے) کے درمیان ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سوزوکی آلٹو 2023 اس وقت اپنی آٹھویں جنریشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 1979 میں سوزوکی آلٹو کو پاکستانی آٹوموبائل مارکیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت اسے سوزوکی 800 اور سوزوکی ایف ایکس جیسے متبادل ناموں سے لانچ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقتاً فوقتاً مینوفیکچررز نے کار کو اپ ڈیٹ کیا اور اس کا ”چہرہ“ تبدیل کیا اور آخر کار، یہ گاڑی کی موجودہ 8ویں جنریشن تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوزوکی آلٹو کی آٹھویں جنریشن کو باضابطہ طور پر پاکستان میں سال 2014 میں لانچ کیا گیا تھا، اس میں 2019 میں فیس لفٹ کے ساتھ کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور پھر اسے 2020 میں دوبارہ لانچ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="انجن-پاکستانی-آلٹو-بقابلہ-بھارتی-آلٹو-کے-10" href="#انجن-پاکستانی-آلٹو-بقابلہ-بھارتی-آلٹو-کے-10" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انجن: پاکستانی آلٹو بقابلہ  بھارتی آلٹو ”کے 10“&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سوزوکی آلٹو 2023 کے تمام ویریئنٹس 658 سی سی DOHC 12 والو،  تین سلنڈر پیٹرول انجن کے ساتھ تقویت یافتہ ہیں جو 6500 آر پی ایم پر 29 ہارس پاور اور 4 ہزار آر پی ایم پر 56 نیوٹن میٹر کا ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو بریکس پاکستان میں سوزوکی کی طرف سے جاری کردہ تمام گاڑیوں کے لیے مخصوص ہیں وہی اس کی ٹو وہیل ڈرائیو کی خصوصیت کے لیے بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے VXR اور VX ٹرم میں 5 اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن پیش کی گئی ہے، جبکہ VXL ٹرم میں آٹو گیئر شفٹ ٹرانسمیشن پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتی آلٹو ”کے 10“ میں  998 سی سی  DOHC 4 والو،  تین سلنڈر پیٹرول انجن کے ساتھ تقویت یافتہ ہیں جو 6000 آر پی ایم پر 67 ہارس پاور اور 3500 آر پی ایم پر 90 نیوٹن میٹر کا ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوزوکی انڈیا جسے ”ماروتی سوزوکی“ بھی کہا جاتا ہے، نے اپنے انٹری لیول ہیچ بیک ماڈل ”آلٹو 800“ کی پروڈکشن بند کر دی ہے۔ کمپنی اب صرف ان چند یونٹس فروخت کرے گی جو اسٹاک میں ہیں۔ اس کی جگہ اب آلٹو کا نیا ماڈل ”کے 10“ لے گا۔</strong></p>
<p>ماروتی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، آلٹو 800 کی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار (تقریباً 12 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) سے 5 لاکھ 13 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 17 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے) کے درمیان ہے۔</p>
<p>جبکہ آلتو کے پاکستانی ورژنز کی قیمت 26 لاکھ روپے سے 30 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔</p>
<p>ماروتی 800 کی جگہ لینے والی آلٹو ”K10“ کی قیمت 3 لاکھ 99 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 13 لاکھ 92 ہزار پاکستانی روپے) سے 5 لاکھ 94 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 20 لاکھ 72 ہزار پاکستانی روپے) کے درمیان ہوگی۔</p>
<p>پاکستان میں سوزوکی آلٹو 2023 اس وقت اپنی آٹھویں جنریشن میں ہے۔</p>
<p>سال 1979 میں سوزوکی آلٹو کو پاکستانی آٹوموبائل مارکیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس وقت اسے سوزوکی 800 اور سوزوکی ایف ایکس جیسے متبادل ناموں سے لانچ کیا گیا تھا۔</p>
<p>وقتاً فوقتاً مینوفیکچررز نے کار کو اپ ڈیٹ کیا اور اس کا ”چہرہ“ تبدیل کیا اور آخر کار، یہ گاڑی کی موجودہ 8ویں جنریشن تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سوزوکی آلٹو کی آٹھویں جنریشن کو باضابطہ طور پر پاکستان میں سال 2014 میں لانچ کیا گیا تھا، اس میں 2019 میں فیس لفٹ کے ساتھ کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور پھر اسے 2020 میں دوبارہ لانچ کیا گیا۔</p>
<h2><a id="انجن-پاکستانی-آلٹو-بقابلہ-بھارتی-آلٹو-کے-10" href="#انجن-پاکستانی-آلٹو-بقابلہ-بھارتی-آلٹو-کے-10" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انجن: پاکستانی آلٹو بقابلہ  بھارتی آلٹو ”کے 10“</h2>
<p>پاکستانی سوزوکی آلٹو 2023 کے تمام ویریئنٹس 658 سی سی DOHC 12 والو،  تین سلنڈر پیٹرول انجن کے ساتھ تقویت یافتہ ہیں جو 6500 آر پی ایم پر 29 ہارس پاور اور 4 ہزار آر پی ایم پر 56 نیوٹن میٹر کا ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>جو بریکس پاکستان میں سوزوکی کی طرف سے جاری کردہ تمام گاڑیوں کے لیے مخصوص ہیں وہی اس کی ٹو وہیل ڈرائیو کی خصوصیت کے لیے بھی ہیں۔</p>
<p>اس کے VXR اور VX ٹرم میں 5 اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن پیش کی گئی ہے، جبکہ VXL ٹرم میں آٹو گیئر شفٹ ٹرانسمیشن پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بھارتی آلٹو ”کے 10“ میں  998 سی سی  DOHC 4 والو،  تین سلنڈر پیٹرول انجن کے ساتھ تقویت یافتہ ہیں جو 6000 آر پی ایم پر 67 ہارس پاور اور 3500 آر پی ایم پر 90 نیوٹن میٹر کا ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334479</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Jul 2023 09:33:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/07/03093019e334f17.webp?r=093300" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/07/03093019e334f17.webp?r=093300"/>
        <media:title>پاکستانی آلٹو بمقابلہ بھارتی آلٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یکم جولائی 2023 سے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے 6 روپے کمی کا امکان ہے۔ تاہم، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے 90 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے ایل این جی کنٹریکٹس حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے سی این جی ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ایل این جی فراہمی کا مسئلہ ہے، خاص طور پر پنجاب میں جہاں گزشتہ کئی سالوں سے دیسی گیس دستیاب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع بتاتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیاں پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی موجودہ شرحوں پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے پیٹرول کے لیے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ کا تخمینہ 1.50 روپے فی لیٹر ہے، اور ڈیزل کے لیے یہ تخمینہ 1.45 روپے فی لیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر منظوری دی گئی تو پیٹرول کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں ایکس ڈپو قیمت 255.52 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جو کہ موجودہ 262 روپے فی لیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ڈیزل کی قیمتیں 266.84 روپے فی لیٹر کی ایکس ڈپو قیمت تک بڑھ سکتی ہیں، جو کہ موجودہ 253 روپے فی لیٹر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممکنہ تبدیلیوں نے ان صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے جو نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیزل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 5.41 روپے فی لیٹر کا اضافہ متوقع ہے، جس سے ایکس ڈپو قیمت 169.48 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، لائٹ ڈیزل آئل میں 4.35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ایکس ڈپو قیمت 154.55 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایڈجسٹمنٹ کھانا پکانے کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کرنے والے گھرانوں اور مختلف صنعتی عمل کے لیے ایل ڈی او پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی طرف سے IFEM  میں ترمیم کی جاتی ہے تو قیمتوں کی حتمی ایڈجسٹمنٹ میں فرق آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یکم جولائی 2023 سے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے 6 روپے کمی کا امکان ہے۔ تاہم، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے 90 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے ایل این جی کنٹریکٹس حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے سی این جی ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ایل این جی فراہمی کا مسئلہ ہے، خاص طور پر پنجاب میں جہاں گزشتہ کئی سالوں سے دیسی گیس دستیاب نہیں ہے۔</p>
<p>صنعتی ذرائع بتاتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیاں پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی موجودہ شرحوں پر مبنی ہیں۔</p>
<p>پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے پیٹرول کے لیے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ کا تخمینہ 1.50 روپے فی لیٹر ہے، اور ڈیزل کے لیے یہ تخمینہ 1.45 روپے فی لیٹر ہے۔</p>
<p>پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر پیٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اگر منظوری دی گئی تو پیٹرول کی قیمت میں کمی کے نتیجے میں ایکس ڈپو قیمت 255.52 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جو کہ موجودہ 262 روپے فی لیٹر ہے۔</p>
<p>تاہم، ڈیزل کی قیمتیں 266.84 روپے فی لیٹر کی ایکس ڈپو قیمت تک بڑھ سکتی ہیں، جو کہ موجودہ 253 روپے فی لیٹر ہیں۔</p>
<p>ان ممکنہ تبدیلیوں نے ان صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے جو نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیزل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 5.41 روپے فی لیٹر کا اضافہ متوقع ہے، جس سے ایکس ڈپو قیمت 169.48 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p>مزید برآں، لائٹ ڈیزل آئل میں 4.35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے ایکس ڈپو قیمت 154.55 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔</p>
<p>یہ ایڈجسٹمنٹ کھانا پکانے کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کرنے والے گھرانوں اور مختلف صنعتی عمل کے لیے ایل ڈی او پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی طرف سے IFEM  میں ترمیم کی جاتی ہے تو قیمتوں کی حتمی ایڈجسٹمنٹ میں فرق آسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334124</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jun 2023 12:15:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/2912144816315d1.webp?r=121504" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/2912144816315d1.webp?r=121504"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم لیوی کی حد میں اضافہ، کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یکم جولائی سے بڑھیں گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30334029/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس بل 2023 میں طے شدہ پیٹرولیم لیوی میں مزید 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد لیوی 60 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے یکمشت نہیں ہوگا، کیونکہ صارفین پر پہلے ہی 67.50 روپے فی لیٹر ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے حکام نے &lt;a href="https://www.brecorder.com/news/40250213/pl-hike-may-not-be-levied-in-one-go"&gt;بزنس ریکارڈر&lt;/a&gt; کو بتایا کہ اس وقت ان کی ترجیح اتنا مالی خلا پیدا کرنا ہے جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو زیر التواء نویں جائزے پر اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے مطمئن کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ اگلے چند روز میں پتا چلے گا کہ پٹرولیم ڈویژن کا نقطہ نظر وزارت خزانہ کی ضروریات کو پورا کرپائے گا یا نہیں۔
 
پیٹرولیم لیوی کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کا ہدف 869 ارب روپے رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022-2023 کے دوران، حکومت نے لیوی کے ذریعے 855 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ رکھا تھا، تاہم، اس ہدف کو کم کر کے 542 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ مالی سال کے ہدف میں کمی کرنے کی تین اہم وجوہات بیان کی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;گزرے سال کے پہلے 10 مہینوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس
ڈی) کی کھپت میں ڈرامائی کمی ہوئی، جو 23 فیصد کم ہو کر اوسطاً 1.37
بلین لیٹر ماہانہ پر پہنچ گئی۔ جس کی بنیادی وجہ بہت زیادہ افراط زر کی
شرح اور روپے کی گرتی قدر تھی۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سیاسی وجوہات کی بناء پر پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے کی زیادہ سے زیادہ
شرح تک کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پیٹرول پر زیادہ سے زیادہ لیوی نومبر
میں اور ایچ ایس ڈی پر اپریل 2023 میں لگائی گئی تھی۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تیل اور مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ روپے کی
قدر میں ڈالر کےمقابلے کمی۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے پہلے ہی یکم جولائی 2023 سے پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کی کمی کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، جس نے مارکیٹ کو یہ اشارہ دیا کہ تیل اور مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پیٹرولیم لیوی کو زیادہ سے زیادہ 60 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ سیاسی طور پر اور بھی مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیوی میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس میں خراب ہونے والی چیزوں کی کھیت سے منڈی تک نقل و حمل بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح خورانی اشیاء کی قیمتیں موجودہ 50 فیصد کی بلند ترین سطح سے مزید بڑھ جائیں گی، اور لوگوں کو مزید غربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس بل 2023 میں طے شدہ پیٹرولیم لیوی میں مزید 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد لیوی 60 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔</strong></p>
<p>لیکن پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2023 سے یکمشت نہیں ہوگا، کیونکہ صارفین پر پہلے ہی 67.50 روپے فی لیٹر ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے حکام نے <a href="https://www.brecorder.com/news/40250213/pl-hike-may-not-be-levied-in-one-go">بزنس ریکارڈر</a> کو بتایا کہ اس وقت ان کی ترجیح اتنا مالی خلا پیدا کرنا ہے جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو زیر التواء نویں جائزے پر اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے مطمئن کرسکے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ اگلے چند روز میں پتا چلے گا کہ پٹرولیم ڈویژن کا نقطہ نظر وزارت خزانہ کی ضروریات کو پورا کرپائے گا یا نہیں۔
 
پیٹرولیم لیوی کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کا ہدف 869 ارب روپے رکھا گیا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2022-2023 کے دوران، حکومت نے لیوی کے ذریعے 855 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ رکھا تھا، تاہم، اس ہدف کو کم کر کے 542 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔</p>
<p><strong>گزشتہ مالی سال کے ہدف میں کمی کرنے کی تین اہم وجوہات بیان کی گئی ہیں۔</strong></p>
<ul>
<li>گزرے سال کے پہلے 10 مہینوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس
ڈی) کی کھپت میں ڈرامائی کمی ہوئی، جو 23 فیصد کم ہو کر اوسطاً 1.37
بلین لیٹر ماہانہ پر پہنچ گئی۔ جس کی بنیادی وجہ بہت زیادہ افراط زر کی
شرح اور روپے کی گرتی قدر تھی۔</li>
<li>سیاسی وجوہات کی بناء پر پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے کی زیادہ سے زیادہ
شرح تک کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پیٹرول پر زیادہ سے زیادہ لیوی نومبر
میں اور ایچ ایس ڈی پر اپریل 2023 میں لگائی گئی تھی۔</li>
<li>تیل اور مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ روپے کی
قدر میں ڈالر کےمقابلے کمی۔</li>
</ul>
<p>سعودی عرب نے پہلے ہی یکم جولائی 2023 سے پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کی کمی کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، جس نے مارکیٹ کو یہ اشارہ دیا کہ تیل اور مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اس سے پیٹرولیم لیوی کو زیادہ سے زیادہ 60 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ سیاسی طور پر اور بھی مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>لیوی میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس میں خراب ہونے والی چیزوں کی کھیت سے منڈی تک نقل و حمل بھی شامل ہے۔</p>
<p>اس طرح خورانی اشیاء کی قیمتیں موجودہ 50 فیصد کی بلند ترین سطح سے مزید بڑھ جائیں گی، اور لوگوں کو مزید غربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30334029</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jun 2023 15:52:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Business Recorder)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/06/28152903a19d61b.webp?r=152943" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/06/28152903a19d61b.webp?r=152943"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارلیمنٹ لاجز ،وزارت داخلہ سمیت درجنوں سرکاری ادارے اربوں روپے کے نادہندہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30317119/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئیسکو نے درجنوں سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو اربوں روپے بجلی واجبات ادا کرنے کے لئے نوٹسز جاری کردیئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے درجنوں سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)  کے اربوں کے نادہندہ نکلے، اور آئیسکو نے ادائیگیاں نہ کرنے والے ان اداروں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان آئیسکو کا کہنا ہے کہ اداروں کو جاری نوٹسز میں بتادیا گیا ہے کہ بجلی واجبات ادا نہ ہوئے تو پیشگی اطلاع یا بغیر کسی نوٹس کے بجلی منقطع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیسکو کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ کے زیر انتظام اسپتالوں کے 198ملین کے بل جمع نہیں ہوئے، پارلیمنٹ لاجز 112 ملین اور وزارت داخلہ نے 83 ملین ادا نہیں کیے، جب کہ  وزارت ریلوے پر 147 ملین اور وفاقی پولیس پر 146 ملین رقم واجب الادا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا ہے کہ آزاد جموں کشمیر نے 105335 ملین دینے ہیں، سی ڈی اے 2880 ملین کا نادہندہ ہے، کینٹ بورڈ چکلالہ 896 ملین اور واسا 449 ملین کا مقروض ہے، جب کہ چیف کمشنر اسلام آباد 70 ملین، وزارت صحت 58 ملین اور وزارت کلچر اینڈ اسپورٹس 54 ملین کے نادہندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان آئیسکو کے مطابق ڈیفنس پروڈیکشن ڈویژن پر 263 ملین، پاکستان پی ڈبلیو ڈی پر 200 ملین اور ٹی ایم اے راول ٹاؤن پر 125 ملین واجب الادا ہیں، وزارت تعلیم 47 ملین، ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی 39 ملین، ایف ڈبلیو او 37 ملین، این ایچ اے 33 ملین، پنجاب ہیلتھ اینڈ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ 32ملین اور پی او ایف واہ ٹیکسلا 30 ملین کے نادہندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح  پنجاب میٹرو بس 18 ملین، ہیلتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ جہلم 18 ملین اور وزارت لوکل گورنمنٹ 17ملین کے نادہندہ ہیں۔  ترجمان نے کہا ہے کہ  بجلی واجبات ادا نہ کرنے والے سرکاری اور نیم سرکاری نادہندگان کی بجلی منقطع کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئیسکو نے درجنوں سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو اربوں روپے بجلی واجبات ادا کرنے کے لئے نوٹسز جاری کردیئے۔</strong></p>
<p>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے درجنوں سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)  کے اربوں کے نادہندہ نکلے، اور آئیسکو نے ادائیگیاں نہ کرنے والے ان اداروں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>ترجمان آئیسکو کا کہنا ہے کہ اداروں کو جاری نوٹسز میں بتادیا گیا ہے کہ بجلی واجبات ادا نہ ہوئے تو پیشگی اطلاع یا بغیر کسی نوٹس کے بجلی منقطع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔</p>
<p>آئیسکو کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ کے زیر انتظام اسپتالوں کے 198ملین کے بل جمع نہیں ہوئے، پارلیمنٹ لاجز 112 ملین اور وزارت داخلہ نے 83 ملین ادا نہیں کیے، جب کہ  وزارت ریلوے پر 147 ملین اور وفاقی پولیس پر 146 ملین رقم واجب الادا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا ہے کہ آزاد جموں کشمیر نے 105335 ملین دینے ہیں، سی ڈی اے 2880 ملین کا نادہندہ ہے، کینٹ بورڈ چکلالہ 896 ملین اور واسا 449 ملین کا مقروض ہے، جب کہ چیف کمشنر اسلام آباد 70 ملین، وزارت صحت 58 ملین اور وزارت کلچر اینڈ اسپورٹس 54 ملین کے نادہندہ ہیں۔</p>
<p>ترجمان آئیسکو کے مطابق ڈیفنس پروڈیکشن ڈویژن پر 263 ملین، پاکستان پی ڈبلیو ڈی پر 200 ملین اور ٹی ایم اے راول ٹاؤن پر 125 ملین واجب الادا ہیں، وزارت تعلیم 47 ملین، ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی 39 ملین، ایف ڈبلیو او 37 ملین، این ایچ اے 33 ملین، پنجاب ہیلتھ اینڈ ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ 32ملین اور پی او ایف واہ ٹیکسلا 30 ملین کے نادہندہ ہیں۔</p>
<p>اسی طرح  پنجاب میٹرو بس 18 ملین، ہیلتھ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ جہلم 18 ملین اور وزارت لوکل گورنمنٹ 17ملین کے نادہندہ ہیں۔  ترجمان نے کہا ہے کہ  بجلی واجبات ادا نہ کرنے والے سرکاری اور نیم سرکاری نادہندگان کی بجلی منقطع کردی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30317119</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Feb 2023 11:28:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/02/20105356a83f1aa.png?r=105405" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/02/20105356a83f1aa.png?r=105405"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کردی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30316640/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے دسمبر 2022 کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، جس کے مطابق دسمبر کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں کمی کا اطلاق صرف فروری کے ماہ کے بلوں پر ہوگا، جب کہ الیکٹرک صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>نیپرا نے دسمبر 2022 کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، جس کے مطابق دسمبر کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی کی گئی ہے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں کمی کا اطلاق صرف فروری کے ماہ کے بلوں پر ہوگا، جب کہ الیکٹرک صارفین پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30316640</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Feb 2023 17:12:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/02/1617101384acbf9.png?r=171149" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/02/1617101384acbf9.png?r=171149"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
