<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 16:12:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 16:12:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس تفتیش کے بجائے میر رضا کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے: وکیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512185/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں میر رضا علی کی موت کے معاملے میں دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے طبی شواہد کی بنیاد پر موت کو قتل قرار دیتے ہوئے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر متعدد زخم اور چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں جسم پر کالے دھبوں، پاؤں پر زخم، جبڑے کے نیچے گہری چوٹ اور ماتھے پر بھی چوٹ کے نشانات کا ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق میر رضا کی چند پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں، جب کہ جسم پر موجود زخم موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کمر پر لگنے والی گولی کے باعث پھیپھڑوں پر بھی خون جمع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی شواہد سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ میر رضا کو گولی لگی اور اس کے اثرات پانچویں پسلی پر بھی آئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512108/mir-raza-case-second-post-mortem-report-confirms-fractures-to-the-skull-ribs-and-hip'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس میر رضا کی موت کی تفتیش کرنے کے بجائے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں اور وہ پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل ڈاکٹر کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی گئی تھی، جب کہ متعلقہ ڈاکٹر کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر نے میر رضا کے معاملے میں سامنے آنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پولیس کی تفتیش پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اہلِ خانہ کے مؤقف کو نظر انداز کرنے کے بجائے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=2rKOF3gdORU'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/2rKOF3gdORU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میر رضا کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا، اسی بنیاد پر وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سامنے آنے والے طبی شواہد نے ان کے مؤقف کو تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ میر رضا کی موت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے لیے موجودہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل کیا جائے۔ کیس کی انویسٹی گیشن سے اے آئی جی کراچی کو بھی دور رکھا جائے ، انہوں نے اے آئی جی کا کراچی سے باہر تبادلہ کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران میر رضا علی کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولیس میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے، آئی جی سندھ یا وزیراعلٰی سندھ نئی تفتیشی ٹیم بناتے ہیں تو ہمیں تسلیم ہوگا، تاہم انھوں نے کہا کہ آئی جی سندھ  ذمہ دار آدمی ہو کر غلط بات کی؟ پولیس ہم سے خودکشی والی باتیں کرتی رہی، ہم پہلے روز سے کہہ رہے ہیں قاتلوں کو سامنے لاؤ، ہم اپنے وکیل جبران ناصر کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=OCXDh9kvvC0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/OCXDh9kvvC0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں کیا ہو رہے ہے، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، پولیس کی موجودہ ٹیم پر ہمیں اعتماد نہیں ہے۔ آڈیو چلائیں یا ویڈیو ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں، میر حسین علی نے آج نیوز کے پروگرام ’دس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 30 تاریخ سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، تاہم پولیس ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں میر رضا علی کی موت کے معاملے میں دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے طبی شواہد کی بنیاد پر موت کو قتل قرار دیتے ہوئے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا۔</p>
<p>دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر متعدد زخم اور چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں جسم پر کالے دھبوں، پاؤں پر زخم، جبڑے کے نیچے گہری چوٹ اور ماتھے پر بھی چوٹ کے نشانات کا ذکر کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق میر رضا کی چند پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں، جب کہ جسم پر موجود زخم موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کمر پر لگنے والی گولی کے باعث پھیپھڑوں پر بھی خون جمع ہوا۔</p>
<p>جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی شواہد سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ میر رضا کو گولی لگی اور اس کے اثرات پانچویں پسلی پر بھی آئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512108/mir-raza-case-second-post-mortem-report-confirms-fractures-to-the-skull-ribs-and-hip'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس میر رضا کی موت کی تفتیش کرنے کے بجائے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں اور وہ پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل ڈاکٹر کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی گئی تھی، جب کہ متعلقہ ڈاکٹر کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>جبران ناصر نے میر رضا کے معاملے میں سامنے آنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پولیس کی تفتیش پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اہلِ خانہ کے مؤقف کو نظر انداز کرنے کے بجائے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=2rKOF3gdORU'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/2rKOF3gdORU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میر رضا کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا، اسی بنیاد پر وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سامنے آنے والے طبی شواہد نے ان کے مؤقف کو تقویت دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ میر رضا کی موت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے لیے موجودہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل کیا جائے۔ کیس کی انویسٹی گیشن سے اے آئی جی کراچی کو بھی دور رکھا جائے ، انہوں نے اے آئی جی کا کراچی سے باہر تبادلہ کا بھی مطالبہ کیا۔</p>
<p>اس دوران میر رضا علی کے والد میر حسین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولیس میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے، آئی جی سندھ یا وزیراعلٰی سندھ نئی تفتیشی ٹیم بناتے ہیں تو ہمیں تسلیم ہوگا، تاہم انھوں نے کہا کہ آئی جی سندھ  ذمہ دار آدمی ہو کر غلط بات کی؟ پولیس ہم سے خودکشی والی باتیں کرتی رہی، ہم پہلے روز سے کہہ رہے ہیں قاتلوں کو سامنے لاؤ، ہم اپنے وکیل جبران ناصر کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=OCXDh9kvvC0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/OCXDh9kvvC0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں کیا ہو رہے ہے، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، پولیس کی موجودہ ٹیم پر ہمیں اعتماد نہیں ہے۔ آڈیو چلائیں یا ویڈیو ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔</p>
<p>بعدازاں، میر حسین علی نے آج نیوز کے پروگرام ’دس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 30 تاریخ سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، تاہم پولیس ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔</p>
<p>لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512185</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 23:07:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسینصولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08225317e175696.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08225317e175696.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا علی کی قبر کشائی آج ہوگی، نیا میڈیکل بورڈ تبدیل، پرانا بورڈ بحال</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511968/mir-raza-alis-grave-will-be-exhumed-tomorrow-new-medical-board-replaced-old-board-restored</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کی موت کی حتمی تصدیق اور حقائق سامنے لانے کے لیے قبر کشائی آج صبح 11 بجے کی جائے گی جب کہ قبر کشائی سے قبل نیا میڈیکل بورڈ ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے، پانچ رکنی بورڈ کی جگہ دوبارہ سابقہ آٹھ رکنی بورڈ بحال کر دیا گیا، جس کا باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں نوجوان میر رضا علی کی پراسرار موت اور قبر کشائی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، انتظامیہ کی جانب سے قبر کشائی کے لیے تشکیل دیا گیا نیا میڈیکل بورڈ تبدیل کرکے سابقہ بورڈ کو ہی بحال کر دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر سمعیہ سید کو ایک بار پھر بورڈ کی کنوینر مقرر کیا گیا ہے جب کہ بورڈ میں درج ذیل ماہرین اور افسران شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ فرائض انجام دیں گے، ڈاکٹر فرح وسیم بورڈ میں بطور فارنزک ایکسپرٹ، سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ بورڈ کا حصہ ہوں گے جب کہ دیگر ممبران میں ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بورڈ کے ممبر کے طور پر برقراررکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میر-رضا-علی-کی-قبرکشائی-کا-باضابطہ-شیڈول-جاری" href="#میر-رضا-علی-کی-قبرکشائی-کا-باضابطہ-شیڈول-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میر رضا علی کی قبرکشائی کا باضابطہ شیڈول جاری&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس سرجن کراچی نے میر رضا علی کی قبرکشائی کا باضابطہ شیڈول جاری کردیا ہے جب کہ قبر کشائی آج صبح 11 بجے عدالتی کی نگرانی میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام بورڈ ممبران کو صبح ساڑھے 10 بجے قبرستان پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے، قبر کشائی فیروز آباد تھانے کی حدود میں رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی موجودگی میں کارروائی ہوگی اور اس حوالے سے ایس ایس پی ایسٹ، متعلقہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسر کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میر-رضا-قتل-کیس-میں-قبر-کشائی-کا-معاملہ-مؤخر" href="#میر-رضا-قتل-کیس-میں-قبر-کشائی-کا-معاملہ-مؤخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کا معاملہ مؤخر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں کراچی میں میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے جب کہ مقتول کے اہلخانہ نے نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے میررضا کی قبر کشائی کا فیصلہ مؤخر کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیشی افسر میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں، جس کے بعد قبر کشائی سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول میررضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبر کشائی آج کے لیے مؤخر کردی گئی ہے جب کہ نیا میڈیکل بورڈ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ سے متعلق بار بار نوٹیفکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، تیسرا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے تاہم ہم تیسرے نوٹیفکیشن کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کے والدین نے بھی تفتیشی افسر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والد براہ راست وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کر رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور تبدیلی کے معاملے میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے افسران اور ڈاکٹرز کو شامل کیا جائے۔ ان کا سوال تھا کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر میررضا کے والد نے بھی میڈیکل بورڈ اور تفتیش کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کردیا گیا، اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میررضا کے والد نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ قتل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کراچی میں کوئی ڈاکٹر یا پڑھے لکھے لوگ نہیں بچے کہ میڈیکل بورڈ کے لیے اندرون سندھ سے افراد لانا پڑیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو پھر دوسرے علاقوں سے لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس کے مطابق نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات لیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرانے میڈیکل بورڈ کے ارکان بھی قبرستان پہنچ گئے تھے، تاہم انہیں نئے نوٹیفکیشن کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے دو ارکان قبرستان نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث قبر کشائی کی کارروائی مکمل نہ ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل میر رضا علی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی قانونی نوٹس ارسال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل جبران ناصر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق میر رضا علی خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم پہلے سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ ہی سے کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس سرجن کراچی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل کے مطابق مذکورہ میڈیکل بورڈ میں فرانزک اور پیتھالوجی کے ماہرین بھی شامل تھے، جبکہ مقتول کے ورثا نے اس اصل میڈیکل بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511845/mir-raza-ali-murder-case'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانونی نوٹس میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ ڈویژن کے تحت پولیس سرجن کو قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم 6 اگست کی رات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر کے مطابق نئے بورڈ کی تشکیل کے دوران سابق میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو تبدیل کردیا گیا، جس پر مقتول کے اہل خانہ کو شدید تحفظات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی عدالتی احکامات کے منافی ہے، جبکہ ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کراچی کے اختیارات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے پر رضامند نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511558/mir-raza-ali-murder-case-karachi-police-get-most-important-data-from-apple-watch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر نئے میڈیکل بورڈ کی جانب سے میر رضا علی خان کی قبر کشائی کی گئی تو اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی نے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اس لیے عدالتی احکامات کے مطابق پہلے سے تشکیل دیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کو ہی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے معاملے کو فوری طور پر درست کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی وجوہات یا اس معاملے پر مؤقف سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل میر رضا علی کے والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جس میڈیکل بورڈ پر پہلے اعتماد کیا گیا تھا، اگر اسے تبدیل کرکے نئے ارکان پر مشتمل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی کوشش کی گئی تو وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کی موت کی حتمی تصدیق اور حقائق سامنے لانے کے لیے قبر کشائی آج صبح 11 بجے کی جائے گی جب کہ قبر کشائی سے قبل نیا میڈیکل بورڈ ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے، پانچ رکنی بورڈ کی جگہ دوبارہ سابقہ آٹھ رکنی بورڈ بحال کر دیا گیا، جس کا باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں نوجوان میر رضا علی کی پراسرار موت اور قبر کشائی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، انتظامیہ کی جانب سے قبر کشائی کے لیے تشکیل دیا گیا نیا میڈیکل بورڈ تبدیل کرکے سابقہ بورڈ کو ہی بحال کر دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>نئے حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر سمعیہ سید کو ایک بار پھر بورڈ کی کنوینر مقرر کیا گیا ہے جب کہ بورڈ میں درج ذیل ماہرین اور افسران شامل ہوں گے۔</p>
<p>پروفیسر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ فرائض انجام دیں گے، ڈاکٹر فرح وسیم بورڈ میں بطور فارنزک ایکسپرٹ، سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ بورڈ کا حصہ ہوں گے جب کہ دیگر ممبران میں ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بورڈ کے ممبر کے طور پر برقراررکھا گیا ہے۔</p>
<h1><a id="میر-رضا-علی-کی-قبرکشائی-کا-باضابطہ-شیڈول-جاری" href="#میر-رضا-علی-کی-قبرکشائی-کا-باضابطہ-شیڈول-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میر رضا علی کی قبرکشائی کا باضابطہ شیڈول جاری</strong></h1>
<p>دوسری جانب پولیس سرجن کراچی نے میر رضا علی کی قبرکشائی کا باضابطہ شیڈول جاری کردیا ہے جب کہ قبر کشائی آج صبح 11 بجے عدالتی کی نگرانی میں ہوگی۔</p>
<p>تمام بورڈ ممبران کو صبح ساڑھے 10 بجے قبرستان پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے، قبر کشائی فیروز آباد تھانے کی حدود میں رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں ہوگی۔</p>
<p>سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی موجودگی میں کارروائی ہوگی اور اس حوالے سے ایس ایس پی ایسٹ، متعلقہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسر کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔</p>
<h1><a id="میر-رضا-قتل-کیس-میں-قبر-کشائی-کا-معاملہ-مؤخر" href="#میر-رضا-قتل-کیس-میں-قبر-کشائی-کا-معاملہ-مؤخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کا معاملہ مؤخر</strong></h1>
<p>قبل ازیں کراچی میں میر رضا قتل کیس میں قبر کشائی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے جب کہ مقتول کے اہلخانہ نے نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے میررضا کی قبر کشائی کا فیصلہ مؤخر کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیشی افسر میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں، جس کے بعد قبر کشائی سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔</p>
<p>مقتول میررضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبر کشائی آج کے لیے مؤخر کردی گئی ہے جب کہ نیا میڈیکل بورڈ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ سے متعلق بار بار نوٹیفکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، تیسرا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے تاہم ہم تیسرے نوٹیفکیشن کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔</p>
<p>جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کے والدین نے بھی تفتیشی افسر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والد براہ راست وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کر رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور تبدیلی کے معاملے میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وکیل نے مطالبہ کیا کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے افسران اور ڈاکٹرز کو شامل کیا جائے۔ ان کا سوال تھا کہ راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟</p>
<p>اس موقع پر میررضا کے والد نے بھی میڈیکل بورڈ اور تفتیش کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کردیا گیا، اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟</p>
<p>میررضا کے والد نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ قتل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کراچی میں کوئی ڈاکٹر یا پڑھے لکھے لوگ نہیں بچے کہ میڈیکل بورڈ کے لیے اندرون سندھ سے افراد لانا پڑیں گے؟</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو پھر دوسرے علاقوں سے لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟</p>
<p>دوسری جانب پولیس کے مطابق نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات لیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرانے میڈیکل بورڈ کے ارکان بھی قبرستان پہنچ گئے تھے، تاہم انہیں نئے نوٹیفکیشن کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے دو ارکان قبرستان نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث قبر کشائی کی کارروائی مکمل نہ ہوسکی۔</p>
<p>اس سے قبل میر رضا علی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی قانونی نوٹس ارسال کیا تھا۔</p>
<p>وکیل جبران ناصر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق میر رضا علی خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم پہلے سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ ہی سے کرایا جائے۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس سرجن کراچی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔</p>
<p>وکیل کے مطابق مذکورہ میڈیکل بورڈ میں فرانزک اور پیتھالوجی کے ماہرین بھی شامل تھے، جبکہ مقتول کے ورثا نے اس اصل میڈیکل بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511845/mir-raza-ali-murder-case'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانونی نوٹس میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ ڈویژن کے تحت پولیس سرجن کو قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم 6 اگست کی رات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔</p>
<p>جبران ناصر کے مطابق نئے بورڈ کی تشکیل کے دوران سابق میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو تبدیل کردیا گیا، جس پر مقتول کے اہل خانہ کو شدید تحفظات ہیں۔</p>
<p>نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی عدالتی احکامات کے منافی ہے، جبکہ ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کراچی کے اختیارات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔</p>
<p>وکیل نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے پر رضامند نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511558/mir-raza-ali-murder-case-karachi-police-get-most-important-data-from-apple-watch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر نئے میڈیکل بورڈ کی جانب سے میر رضا علی خان کی قبر کشائی کی گئی تو اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی نے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اس لیے عدالتی احکامات کے مطابق پہلے سے تشکیل دیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کو ہی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے معاملے کو فوری طور پر درست کیا جائے۔</p>
<p>تاحال ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی وجوہات یا اس معاملے پر مؤقف سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>اس سے قبل میر رضا علی کے والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جس میڈیکل بورڈ پر پہلے اعتماد کیا گیا تھا، اگر اسے تبدیل کرکے نئے ارکان پر مشتمل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی کوشش کی گئی تو وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511968</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 00:17:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شمیل احمدشاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/07221620b18d0e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/07221620b18d0e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا کی قبر کشائی کی درخواست منظور؛ 'پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر اسامہ کہاں ہے؟'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511845/mir-raza-ali-murder-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عدالت نے کراچی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کی قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی ہے، جبکہ ان کے والد اور ان کے وکیل نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں مقتول کے والد نے پوسٹ مارٹم، تفتیشی عمل اور پولیس کے رویے پر کئی سوالات اٹھائے، جبکہ وکیل نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کا دعویٰ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو حکم دیا کہ میڈیکل بورڈ بناکر قبرکشائی کی جائے اور جتنا جلدی ہوسکے عدالتی حکم پر عمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، میر رضا کے والد میر حسین اور ان کے وکیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe id="raw-html-6a747903047f0" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 9200px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;blockquote class=&amp;quot;twitter-tweet&amp;quot; data-media-max-width=&amp;quot;560&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;p lang=&amp;quot;ur&amp;quot; dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;ہمارے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں کیے، عدالت سے انصاف کی امید ہے، والد میررضاعلی&amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/RazaMir?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#RazaMir&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/MurderCase?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#MurderCase&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/CrimeNews?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#CrimeNews&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/Investigation?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#Investigation&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/AajNews?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#AajNews&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/McCejr6Jqa&amp;quot;&amp;gt;pic.twitter.com/McCejr6Jqa&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/p&amp;gt;&amp;amp;mdash; Aaj TV Urdu (@Aaj_Urdu) &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/Aaj_Urdu/status/2085299402965705146?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;August 6, 2026&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/blockquote&amp;gt; &amp;lt;script async src=&amp;quot;https://platform.x.com/widgets.js&amp;quot; charset=&amp;quot;utf-8&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6a747903047f0&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;میر رضا کے والد میر حسین نے کہا کہ پولیس قتل کی تحقیقات کے بجائے معاملے کو فنانس اور سرمایہ کاری کی طرف موڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم اپنے بیٹے کے قتل کی بات کر رہے ہیں، لیکن کبھی فنانس کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کوئی اور پہلو سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر میرے بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511670/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اب تک واقعے کو باقاعدہ قتل تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مؤقف ریکارڈ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا، ”پولیس ہمارے سامنے کچھ اور بات کرتی ہے جبکہ میڈیا پر کچھ اور مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر حسین نے پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا، “پولیس کی جاری کردہ رپورٹ دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کس نوعیت کی تفتیش ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر اسامہ اب کہاں غائب ہے؟ پولیس کو یہ بھی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ میرے بیٹے کی شناخت کو کیوں مٹایا گیا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511558'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی موت کے صدمے سے ابھی تک نہیں نکل سکے اور اب قبر کشائی کا مرحلہ بھی ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا، ”پولیس سے جب رپورٹ طلب کی گئی تو وہ بھی میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد فراہم کی گئی، لیکن ہمیں ہر صورت اپنے بیٹے کی موت پر انصاف چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر مقتول کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس سرجن کے دفتر نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور موت کی حقیقی وجہ معلوم کرنے کے لیے قبر کشائی کی درخواست دینا پولیس کی ذمہ داری تھی، تاہم ایسا نہ ہونے پر والدین کو خود عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر حسین کے وکیل جبران ناصر کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے باوجود آج تک تفتیشی افسر نے مدعی کا باقاعدہ بیان قلمبند نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe id="raw-html-6a747903049cf" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 9200px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;blockquote class=&amp;quot;twitter-tweet&amp;quot; data-media-max-width=&amp;quot;560&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;p lang=&amp;quot;ur&amp;quot; dir=&amp;quot;rtl&amp;quot;&amp;gt;وہ بندوق لے کر گیا، قرضہ تھا، ڈیجیٹل کرنسی تھی، یہ سب افواہیں ہیں، وکیل جبران ناصر&amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/JibranNasir?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#JibranNasir&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/MirRaza?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#MirRaza&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/hashtag/AajNews?src=hash&amp;amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;#AajNews&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/yS7UPJ3RAq&amp;quot;&amp;gt;pic.twitter.com/yS7UPJ3RAq&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/p&amp;gt;&amp;amp;mdash; Aaj TV Urdu (@Aaj_Urdu) &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/Aaj_Urdu/status/2085298845970526366?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;August 6, 2026&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/blockquote&amp;gt; &amp;lt;script async src=&amp;quot;https://platform.x.com/widgets.js&amp;quot; charset=&amp;quot;utf-8&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6a747903049cf&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف افواہوں کے باوجود پولیس کوئی ٹھوس شواہد جمع نہیں کر سکی، جبکہ ڈاکٹر اسامہ کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی پولیس سرجن کے دفتر میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ادارے تفتیش کے ہر مرحلے پر مدعی کو اعتماد میں لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں، عدالتی حکم کے بعد سیکرٹری صحت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا، جو جمعہ کی صبح 9 بجے قبر کشائی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ بورڈ قبر کشائی کے بعد ضروری طبی اور فرانزک معائنہ کرکے اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر فرح وسیم (اسسٹنٹ پروفیسر، فارنزک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ، سندھ میڈیکل کالج)، عامر حسن خان (فارنزک آئیڈنٹیفکیشن ایکسپرٹ، ای ٹی ایف)، ڈاکٹر شری چند (ایڈیشنل پولیس سرجن)، ڈاکٹر کامران خان (میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)، ڈاکٹر دانیال مرزا (میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)، ڈاکٹر محمد یاسین (ایڈمن انچارج، پولیس سرجن آفس کراچی) اور پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عدالت نے کراچی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کی قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی ہے، جبکہ ان کے والد اور ان کے وکیل نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں مقتول کے والد نے پوسٹ مارٹم، تفتیشی عمل اور پولیس کے رویے پر کئی سوالات اٹھائے، جبکہ وکیل نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کا دعویٰ کیا۔</strong></p>
<p>عدالت نے قبر کشائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو حکم دیا کہ میڈیکل بورڈ بناکر قبرکشائی کی جائے اور جتنا جلدی ہوسکے عدالتی حکم پر عمل کیا جائے۔</p>
<p>قبل ازیں، میر رضا کے والد میر حسین اور ان کے وکیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔</p>
<iframe id="raw-html-6a747903047f0" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 9200px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot; data-media-max-width=&quot;560&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ur&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;ہمارے بیانات تاحال ریکارڈ نہیں کیے، عدالت سے انصاف کی امید ہے، والد میررضاعلی&lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/RazaMir?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#RazaMir&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/MurderCase?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#MurderCase&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/CrimeNews?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#CrimeNews&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/Investigation?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#Investigation&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/AajNews?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#AajNews&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/McCejr6Jqa&quot;&gt;pic.twitter.com/McCejr6Jqa&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Aaj TV Urdu (@Aaj_Urdu) &lt;a href=&quot;https://x.com/Aaj_Urdu/status/2085299402965705146?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;August 6, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src=&quot;https://platform.x.com/widgets.js&quot; charset=&quot;utf-8&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6a747903047f0&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p>میر رضا کے والد میر حسین نے کہا کہ پولیس قتل کی تحقیقات کے بجائے معاملے کو فنانس اور سرمایہ کاری کی طرف موڑ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم اپنے بیٹے کے قتل کی بات کر رہے ہیں، لیکن کبھی فنانس کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کوئی اور پہلو سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر میرے بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511670/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اب تک واقعے کو باقاعدہ قتل تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مؤقف ریکارڈ کیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا، ”پولیس ہمارے سامنے کچھ اور بات کرتی ہے جبکہ میڈیا پر کچھ اور مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔“</p>
<p>میر حسین نے پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا، “پولیس کی جاری کردہ رپورٹ دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کس نوعیت کی تفتیش ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر اسامہ اب کہاں غائب ہے؟ پولیس کو یہ بھی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ میرے بیٹے کی شناخت کو کیوں مٹایا گیا۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511558'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی موت کے صدمے سے ابھی تک نہیں نکل سکے اور اب قبر کشائی کا مرحلہ بھی ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا، ”پولیس سے جب رپورٹ طلب کی گئی تو وہ بھی میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد فراہم کی گئی، لیکن ہمیں ہر صورت اپنے بیٹے کی موت پر انصاف چاہیے۔“</p>
<p>اس موقع پر مقتول کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس سرجن کے دفتر نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اصل حقائق سامنے لانے اور موت کی حقیقی وجہ معلوم کرنے کے لیے قبر کشائی کی درخواست دینا پولیس کی ذمہ داری تھی، تاہم ایسا نہ ہونے پر والدین کو خود عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔</p>
<p>میر حسین کے وکیل جبران ناصر کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے باوجود آج تک تفتیشی افسر نے مدعی کا باقاعدہ بیان قلمبند نہیں کیا۔</p>
<iframe id="raw-html-6a747903049cf" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 9200px; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot; data-media-max-width=&quot;560&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;ur&quot; dir=&quot;rtl&quot;&gt;وہ بندوق لے کر گیا، قرضہ تھا، ڈیجیٹل کرنسی تھی، یہ سب افواہیں ہیں، وکیل جبران ناصر&lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/JibranNasir?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#JibranNasir&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/MirRaza?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#MirRaza&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://x.com/hashtag/AajNews?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;#AajNews&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/yS7UPJ3RAq&quot;&gt;pic.twitter.com/yS7UPJ3RAq&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Aaj TV Urdu (@Aaj_Urdu) &lt;a href=&quot;https://x.com/Aaj_Urdu/status/2085298845970526366?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;August 6, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src=&quot;https://platform.x.com/widgets.js&quot; charset=&quot;utf-8&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6a747903049cf&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p>انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف افواہوں کے باوجود پولیس کوئی ٹھوس شواہد جمع نہیں کر سکی، جبکہ ڈاکٹر اسامہ کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی پولیس سرجن کے دفتر میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وکیل نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ادارے تفتیش کے ہر مرحلے پر مدعی کو اعتماد میں لیں اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔</p>
<p>بعدازاں، عدالتی حکم کے بعد سیکرٹری صحت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا، جو جمعہ کی صبح 9 بجے قبر کشائی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ بورڈ قبر کشائی کے بعد ضروری طبی اور فرانزک معائنہ کرکے اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گا۔</p>
<p>تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر فرح وسیم (اسسٹنٹ پروفیسر، فارنزک میڈیسن ڈیپارٹمنٹ، سندھ میڈیکل کالج)، عامر حسن خان (فارنزک آئیڈنٹیفکیشن ایکسپرٹ، ای ٹی ایف)، ڈاکٹر شری چند (ایڈیشنل پولیس سرجن)، ڈاکٹر کامران خان (میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)، ڈاکٹر دانیال مرزا (میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)، ڈاکٹر محمد یاسین (ایڈمن انچارج، پولیس سرجن آفس کراچی) اور پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511845</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 17:07:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/061349178573794.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/061349178573794.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا کیس: پولیس سرجن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 خامیوں کی نشاندہی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511670/mir-raza-case-14-flaws-identified-in-police-surgeons-post-mortem-report</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے، پولیس سرجن کراچی کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جن سے کیس میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے میر رضا علی کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ 29 جولائی 2026 کو ہونے والے پوسٹ مارٹم میں متعدد اہم فارنزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مراسلے میں لکھا گیا کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، گن شاٹ ریزیڈیو کے لیے ہاتھوں کے سواب بھی نہیں لیے گئے، گولی لگنے والے زخم پر موجود کیمیکل تجزیے کے لیے نمونہ نہیں لیا گیا۔ کھوپڑی کے معائنے کے لیے سر کی جلد نہیں ہٹائی گئی اور نہ ہی کھوپڑی کو اندرونی معائنے کے لیے کھولا گیا، گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن نے ان کوتاہیوں کے باعث اہم شواہد نظر انداز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مراسلے میں مزید لکھا گیا کہ آتشی اسلحے سے زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی کرائم سین پر لاش کی مناسب تصاویر لی گئیں، گولی کے داخل اور خارج ہونے والے زخموں کی درست پوزیشن ہڈیوں کی نشانیوں کے مطابق واضح نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس سرجن کے مطابق رپورٹ میں داخل ہونے والے زخم کا سائز خارج ہونے والے زخم سے بڑا لکھا گیا، کپڑوں پر موجود پھٹنے کے نشانات اور ریشوں کی سمت کا ذکر بھی رپورٹ میں شامل نہیں، جسم کے اندر گولی کا راستہ اور ٹریجیکٹری بھی رپورٹ میں واضح نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں مزید کہا گیا کہ زخموں کی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر بھی دستیاب نہیں، جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کی کیفیت کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی، چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود مثبت شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خامیوں کی نشاندہی کے بعد پولیس سرجن کراچی نے دوبارہ جانچ کی سفارش کردی۔ تمام سوالات کے تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں قبر کشائی کرکے دوبارہ معائنہ کرنے کی سفارش بھی کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میر-رضا-کیس-کی-ابتدائی-تفتیش-پر-بھی-سنگین-سوالات-اٹھنے-لگے" href="#میر-رضا-کیس-کی-ابتدائی-تفتیش-پر-بھی-سنگین-سوالات-اٹھنے-لگے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میر رضا کیس کی ابتدائی تفتیش پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کراچی میں نوجوان میر رضا کی پُراسرار موت کی تحقیقات میں ابتدائی تفتیش پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جائے وقوعہ کے معائنے، شواہد کے تحفظ اور میڈیکو لیگل کارروائی میں مبینہ کوتاہیوں کے باعث کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے کے بعد کرائم سین یونٹ اور اور میڈیکو لیگل ڈپارٹمنٹ کی مبینہ غفلت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ اور لاش کا درست طریقے سے معائنہ نہ ہونے کے باعث کئی اہم شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق میڈیکو لیگل افسر نے مبینہ طور پر لاش کا خود معائنہ کرنے کے بجائے صرف تصاویر کی بنیاد پر ابتدائی رپورٹ مرتب کی جس کے باعث میڈیکل رپورٹ اور کرائم سین یونٹ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات مفروضوں کی بنیاد پر شروع کی گئیں، جب کہ جائے وقوعہ سے خون کے واضح شواہد بھی نہیں ملے۔ دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ زیادہ خون بہنا قرار دی گئی، جس سے تفتیش میں کئی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گولی کا خول ملا اور نہ ہی گولی برآمد ہو سکی جب کہ پولیس واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی تاحال برآمد نہیں کرسکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ ”پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں بلکہ میڈیکولیگل افسر جاری کرتا ہے اور پولیس سرجن نے میر رضا علی کی میت کا خود معائنہ کرنے کے بجائے تصاویر کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس چیف نے مزید کہا کہ ”پولیس سرجن کو یہ بات تحریری صورت میں دینی چاہیے تھی کیونکہ پولیس نے ایم ایل او کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی اپنی ابتدائی تفتیشی رائے قائم کی تھی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس چیف نے واضح کیا کہ کیس کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور اہل خانہ کی درخواست یا قانونی تقاضوں کی روشنی میں قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا قانونی اختیار موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=TMJszQu4WQs&amp;amp;pp=0gcJCaMLAYcqIYzv'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/TMJszQu4WQs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کراچی پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تفتیشی افسران کو نوے فیصد یقین ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے اور متوفی شدید مالی دباؤ اور قرضوں کا شکار تھا۔ تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ دوستوں، قرض داروں اور راہگیروں سمیت 19 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر بیانات لیے گئے ہیں اور اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں پریس کانفرنس کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی سندھ نے میر رضا کی اسمارٹ واچ ان لاک کر کے مالی حساب کتاب کا اہم ڈیٹا برآمد کر لیا ہے، تاہم آئی فون کا کوڈ ابھی تک کریک نہیں ہو سکا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے متوفی کا موبائل اور پستول کا ہولسٹر ملا ہے، جبکہ ایک سی سی ٹی وی میں میر رضا کو اپنی دکان سے اسلحہ اٹھاتے اور سڑک پر چمکتی چیز پھینکتے دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میر رضا کے والد حسین رضا نے پولیس تفتیش اور میڈیکل رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے خودکشی کے امکان کو رد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین رضا نے کہا کہ ”میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا اور اسے پیچھے سے گولی ماری گئی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے اور اس میں تشدد کا ذکر کیوں نہیں؟ 28 جولائی کو لاپتہ ہونے کے بعد 29 جولائی تک میرا بیٹا 24 گھنٹے کہاں تھا؟ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے مطابق بھی میرا بیٹا خوش تھا اور گاڑی میں گانے سن رہا تھا“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=fCSDnhZ5OEQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/fCSDnhZ5OEQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے لاش پر گلنے سڑنے کے آثار تھے لیکن جلائے جانے کا ثبوت نہیں ملا۔ تاہم اب ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کے نئے انکشافات کے بعد میڈیکل رپورٹ کی شفافیت پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل کی فرانزک اور تمام تر قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے، پولیس سرجن کراچی کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جن سے کیس میں نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کو پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے میر رضا علی کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ 29 جولائی 2026 کو ہونے والے پوسٹ مارٹم میں متعدد اہم فارنزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔</p>
<p>پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مراسلے میں لکھا گیا کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، گن شاٹ ریزیڈیو کے لیے ہاتھوں کے سواب بھی نہیں لیے گئے، گولی لگنے والے زخم پر موجود کیمیکل تجزیے کے لیے نمونہ نہیں لیا گیا۔ کھوپڑی کے معائنے کے لیے سر کی جلد نہیں ہٹائی گئی اور نہ ہی کھوپڑی کو اندرونی معائنے کے لیے کھولا گیا، گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا۔</p>
<p>پولیس سرجن نے ان کوتاہیوں کے باعث اہم شواہد نظر انداز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مراسلے میں مزید لکھا گیا کہ آتشی اسلحے سے زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی کرائم سین پر لاش کی مناسب تصاویر لی گئیں، گولی کے داخل اور خارج ہونے والے زخموں کی درست پوزیشن ہڈیوں کی نشانیوں کے مطابق واضح نہیں کی گئی۔</p>
<p>پولیس سرجن کے مطابق رپورٹ میں داخل ہونے والے زخم کا سائز خارج ہونے والے زخم سے بڑا لکھا گیا، کپڑوں پر موجود پھٹنے کے نشانات اور ریشوں کی سمت کا ذکر بھی رپورٹ میں شامل نہیں، جسم کے اندر گولی کا راستہ اور ٹریجیکٹری بھی رپورٹ میں واضح نہیں کی گئی۔</p>
<p>مراسلے میں مزید کہا گیا کہ زخموں کی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر بھی دستیاب نہیں، جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کی کیفیت کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی، چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود مثبت شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ان خامیوں کی نشاندہی کے بعد پولیس سرجن کراچی نے دوبارہ جانچ کی سفارش کردی۔ تمام سوالات کے تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں قبر کشائی کرکے دوبارہ معائنہ کرنے کی سفارش بھی کردی گئی۔</p>
<h1><a id="میر-رضا-کیس-کی-ابتدائی-تفتیش-پر-بھی-سنگین-سوالات-اٹھنے-لگے" href="#میر-رضا-کیس-کی-ابتدائی-تفتیش-پر-بھی-سنگین-سوالات-اٹھنے-لگے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میر رضا کیس کی ابتدائی تفتیش پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے</strong></h1>
<p>دوسری جانب کراچی میں نوجوان میر رضا کی پُراسرار موت کی تحقیقات میں ابتدائی تفتیش پر بھی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جائے وقوعہ کے معائنے، شواہد کے تحفظ اور میڈیکو لیگل کارروائی میں مبینہ کوتاہیوں کے باعث کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے کے بعد کرائم سین یونٹ اور اور میڈیکو لیگل ڈپارٹمنٹ کی مبینہ غفلت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ اور لاش کا درست طریقے سے معائنہ نہ ہونے کے باعث کئی اہم شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق میڈیکو لیگل افسر نے مبینہ طور پر لاش کا خود معائنہ کرنے کے بجائے صرف تصاویر کی بنیاد پر ابتدائی رپورٹ مرتب کی جس کے باعث میڈیکل رپورٹ اور کرائم سین یونٹ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p>تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات مفروضوں کی بنیاد پر شروع کی گئیں، جب کہ جائے وقوعہ سے خون کے واضح شواہد بھی نہیں ملے۔ دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ زیادہ خون بہنا قرار دی گئی، جس سے تفتیش میں کئی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گولی کا خول ملا اور نہ ہی گولی برآمد ہو سکی جب کہ پولیس واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی تاحال برآمد نہیں کرسکی ہے۔</p>
<p>کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ ”پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں بلکہ میڈیکولیگل افسر جاری کرتا ہے اور پولیس سرجن نے میر رضا علی کی میت کا خود معائنہ کرنے کے بجائے تصاویر کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی“۔</p>
<p>کراچی پولیس چیف نے مزید کہا کہ ”پولیس سرجن کو یہ بات تحریری صورت میں دینی چاہیے تھی کیونکہ پولیس نے ایم ایل او کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی اپنی ابتدائی تفتیشی رائے قائم کی تھی“۔</p>
<p>پولیس چیف نے واضح کیا کہ کیس کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور اہل خانہ کی درخواست یا قانونی تقاضوں کی روشنی میں قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا قانونی اختیار موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=TMJszQu4WQs&amp;pp=0gcJCaMLAYcqIYzv'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/TMJszQu4WQs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل کراچی پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تفتیشی افسران کو نوے فیصد یقین ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے اور متوفی شدید مالی دباؤ اور قرضوں کا شکار تھا۔ تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ دوستوں، قرض داروں اور راہگیروں سمیت 19 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر بیانات لیے گئے ہیں اور اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں پریس کانفرنس کی جائے گی۔</p>
<p>سی ٹی ڈی سندھ نے میر رضا کی اسمارٹ واچ ان لاک کر کے مالی حساب کتاب کا اہم ڈیٹا برآمد کر لیا ہے، تاہم آئی فون کا کوڈ ابھی تک کریک نہیں ہو سکا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے متوفی کا موبائل اور پستول کا ہولسٹر ملا ہے، جبکہ ایک سی سی ٹی وی میں میر رضا کو اپنی دکان سے اسلحہ اٹھاتے اور سڑک پر چمکتی چیز پھینکتے دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب میر رضا کے والد حسین رضا نے پولیس تفتیش اور میڈیکل رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے خودکشی کے امکان کو رد کر دیا ہے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین رضا نے کہا کہ ”میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا اور اسے پیچھے سے گولی ماری گئی“۔</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے اور اس میں تشدد کا ذکر کیوں نہیں؟ 28 جولائی کو لاپتہ ہونے کے بعد 29 جولائی تک میرا بیٹا 24 گھنٹے کہاں تھا؟ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے مطابق بھی میرا بیٹا خوش تھا اور گاڑی میں گانے سن رہا تھا“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=fCSDnhZ5OEQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/fCSDnhZ5OEQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے لاش پر گلنے سڑنے کے آثار تھے لیکن جلائے جانے کا ثبوت نہیں ملا۔ تاہم اب ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کے نئے انکشافات کے بعد میڈیکل رپورٹ کی شفافیت پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل کی فرانزک اور تمام تر قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511670</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 20:41:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسینصولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/052036431b01aad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/052036431b01aad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی رپورٹ سے واضح ہو جائے گا کہ زخم میر رضا نے خود لگایا یا تشدد ہوا: وکیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میر رضا علی ہلاکت کیس کی پیروی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ لاش سے نمونے لے لیے گئے ہیں، ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمونوں کی جانچ میں میر رضا کا قتل ثابت ہوا تو آئی جی دو دن میں کیس حل ہونے والے بیان پر قائم رہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبر کشائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی کارکردگی اور تفتیش کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ پچھلے دس دنوں سے میر رضا کی کوئی آڈیو سامنے نہیں آئی تھی، لیکن کل اچانک پولیس نے میڈیا پر میر رضا کی ایک آڈیو چلوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف بیان بازی کے علاوہ کچھ نہ کر سکی اور وہ مقتول کے والدین کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے بجائے تمام تفتیش میڈیا پر شیئر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے واضح کیا کہ پہلے بورڈ میں شامل ڈاکٹرز کے نام انہوں نے یا خاندان نے نہیں دیے تھے، بلکہ یہ انتظامیہ کا اپنا فیصلہ تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512108/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدلیہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک جوڈیشل افسر اور مجسٹریٹ کی فعال موجودگی کی وجہ سے ہی یہ انکوائری صرف دو روز میں مکمل ہو سکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبران ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد جو بھی حتمی رپورٹ آئے گی، اس سے سب کچھ دنیا کے سامنے صاف ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ قتل کا تھا یا خودکشی کا، اس کا پتا شام چھ بجے تک نمونوں کی ابتدائی جانچ کے بعد چل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کی ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ حتمی اور مکمل رپورٹ کیمیکل ایگزامینیشن یعنی کیمیائی تجزیے کے بعد مرتب کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ جسم پر موجود زخم خود لگایا گیا تھا یا مقتول پر تشدد کیا گیا تھا، اور اگر یہ قتل ثابت ہوتا ہے تو رپورٹ کی مدد سے تشدد کی اصل نوعیت اور اس میں ملوث ممکنہ ملزمان کی تعداد کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا ماننا ہے کہ سائنسی حقائق سامنے آنے کے بعد کیس سے جڑی تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قتل ثابت ہوا تو پھر آئی جی صاحب نے دو دن میں کیس حل کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ اس پر قائم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/eUba3A64sVc?t=42'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/eUba3A64sVc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میر رضا کے والد میر حسین نے بھی اس اہم مرحلے کے مکمل ہونے پر میڈیا سے بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ آج شام چھ بجے تک متوقع ہے اور اس رپورٹ کے آتے ہی تمام اصل حقائق عوام کے سامنے واضح ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کیس میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ اور ہمدردی کی وجہ سے ہی اس کیس میں یہ پیش رفت ممکن ہو سکی ہے، ورنہ تفتیش سست روی کا شکار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے والد نے دوبارہ معائنہ کرنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے مکمل کی ہیں اور انہوں نے میڈیکل بورڈ کی کارروائی اور ممکنہ رپورٹ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کی جانب سے جب میر رضا کے والد سے گزشتہ روز وائرل ہونے والے مبینہ آڈیو پیغام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے صاف گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مؤقف تھا کہ جب تک اس آڈیو کی باقاعدہ فارنزک تصدیق سامنے نہیں آ جاتی، وہ اس پر کسی قسم کی رائے نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ایک حساس قانونی معاملے میں کسی بھی غیر مصدقہ آڈیو پر بات کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hIoi2_RfuQQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/hIoi2_RfuQQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے عدالتی نگرانی میں قبر کشائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس انتہائی حساس کارروائی کے دوران میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے جسم سے مختلف اعضا کے نمونے حاصل کیے، جس کے بعد لاش کو دوبارہ احترام کے ساتھ تدفین کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم کارروائی کے بعد میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد نے میڈیا کو بتایا کہ بورڈ نے اپنا تفویض کردہ ٹاسک مکمل کر لیا ہے اور وہ بہت جلد اس معائنے کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ حکام کو ارسال کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارروائی کے لیے فیروز آباد تھانے کی حدود میں واقع رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ اس پورے عمل کے دوران سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ اور کیس کے تفتیشی افسر بھی موقع پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511670/mir-raza-case-14-flaws-identified-in-police-surgeons-post-mortem-report'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، مقتول کے خاندان کے شدید احتجاج اور تحفظات کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات بدلا گیا پانچ رکنی بورڈ منسوخ کر کے سابقہ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ اس بحال شدہ بورڈ کی سربراہی ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں، جنہوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چودہ بڑی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر فرح وسیم، سی پی ایل سی کے عامر حسن خان، اور ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جب بورڈ تبدیل کیا گیا تھا تو میر رضا کے والد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پچھلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کر دیا گیا اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو دوسرے علاقوں سے لوگ لانے کی کیا ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے تمام نمونے، جن میں بال، ناخن، ہڈیاں، دانت اور ٹشوز شامل ہیں، فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان نمونوں کی مدد سے زہر، ادویات، گن پاؤڈر، پرانی چوٹوں اور گولی لگنے کے زاویے کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلی رپورٹ کے تضادات کو دور کیا جا سکے۔ اب سب کی نظریں فرانزک رپورٹ پر لگی ہیں جس سے میر رضا کی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میر رضا علی ہلاکت کیس کی پیروی کرنے والے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ لاش سے نمونے لے لیے گئے ہیں، ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نمونوں کی جانچ میں میر رضا کا قتل ثابت ہوا تو آئی جی دو دن میں کیس حل ہونے والے بیان پر قائم رہیں۔</strong></p>
<p>قبر کشائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی کارکردگی اور تفتیش کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھائے۔</p>
<p>جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ پچھلے دس دنوں سے میر رضا کی کوئی آڈیو سامنے نہیں آئی تھی، لیکن کل اچانک پولیس نے میڈیا پر میر رضا کی ایک آڈیو چلوا دی۔</p>
<p>انہوں نے پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف بیان بازی کے علاوہ کچھ نہ کر سکی اور وہ مقتول کے والدین کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے بجائے تمام تفتیش میڈیا پر شیئر کر رہی ہے۔</p>
<p>وکیل نے واضح کیا کہ پہلے بورڈ میں شامل ڈاکٹرز کے نام انہوں نے یا خاندان نے نہیں دیے تھے، بلکہ یہ انتظامیہ کا اپنا فیصلہ تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512108/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے عدلیہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک جوڈیشل افسر اور مجسٹریٹ کی فعال موجودگی کی وجہ سے ہی یہ انکوائری صرف دو روز میں مکمل ہو سکی ہے۔</p>
<p>جبران ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد جو بھی حتمی رپورٹ آئے گی، اس سے سب کچھ دنیا کے سامنے صاف ہو جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ قتل کا تھا یا خودکشی کا، اس کا پتا شام چھ بجے تک نمونوں کی ابتدائی جانچ کے بعد چل جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کی ابتدائی رپورٹ آج شام تک جاری ہونے کا امکان ہے، جبکہ حتمی اور مکمل رپورٹ کیمیکل ایگزامینیشن یعنی کیمیائی تجزیے کے بعد مرتب کی جائے گی۔</p>
<p>وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ جسم پر موجود زخم خود لگایا گیا تھا یا مقتول پر تشدد کیا گیا تھا، اور اگر یہ قتل ثابت ہوتا ہے تو رپورٹ کی مدد سے تشدد کی اصل نوعیت اور اس میں ملوث ممکنہ ملزمان کی تعداد کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا۔</p>
<p>ان کا ماننا ہے کہ سائنسی حقائق سامنے آنے کے بعد کیس سے جڑی تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قتل ثابت ہوا تو پھر آئی جی صاحب نے دو دن میں کیس حل کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ اس پر قائم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/eUba3A64sVc?t=42'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/eUba3A64sVc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب میر رضا کے والد میر حسین نے بھی اس اہم مرحلے کے مکمل ہونے پر میڈیا سے بات چیت کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ آج شام چھ بجے تک متوقع ہے اور اس رپورٹ کے آتے ہی تمام اصل حقائق عوام کے سامنے واضح ہو جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کیس میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی دباؤ اور ہمدردی کی وجہ سے ہی اس کیس میں یہ پیش رفت ممکن ہو سکی ہے، ورنہ تفتیش سست روی کا شکار تھی۔</p>
<p>مقتول کے والد نے دوبارہ معائنہ کرنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے مکمل کی ہیں اور انہوں نے میڈیکل بورڈ کی کارروائی اور ممکنہ رپورٹ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔</p>
<p>میڈیا کی جانب سے جب میر رضا کے والد سے گزشتہ روز وائرل ہونے والے مبینہ آڈیو پیغام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے صاف گریز کیا۔</p>
<p>ان کا مؤقف تھا کہ جب تک اس آڈیو کی باقاعدہ فارنزک تصدیق سامنے نہیں آ جاتی، وہ اس پر کسی قسم کی رائے نہیں دے سکتے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ایک حساس قانونی معاملے میں کسی بھی غیر مصدقہ آڈیو پر بات کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=hIoi2_RfuQQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/hIoi2_RfuQQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے عدالتی نگرانی میں قبر کشائی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس انتہائی حساس کارروائی کے دوران میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے جسم سے مختلف اعضا کے نمونے حاصل کیے، جس کے بعد لاش کو دوبارہ احترام کے ساتھ تدفین کر دیا گیا۔</p>
<p>اس اہم کارروائی کے بعد میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد نے میڈیا کو بتایا کہ بورڈ نے اپنا تفویض کردہ ٹاسک مکمل کر لیا ہے اور وہ بہت جلد اس معائنے کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ حکام کو ارسال کر دیں گے۔</p>
<p>اس کارروائی کے لیے فیروز آباد تھانے کی حدود میں واقع رحمانیہ مسجد سے متصل قبرستان میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ اس پورے عمل کے دوران سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ اور کیس کے تفتیشی افسر بھی موقع پر موجود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511670/mir-raza-case-14-flaws-identified-in-police-surgeons-post-mortem-report'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل، مقتول کے خاندان کے شدید احتجاج اور تحفظات کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات بدلا گیا پانچ رکنی بورڈ منسوخ کر کے سابقہ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ اس بحال شدہ بورڈ کی سربراہی ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں، جنہوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چودہ بڑی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔</p>
<p>اس بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر فرح وسیم، سی پی ایل سی کے عامر حسن خان، اور ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا شامل ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل جب بورڈ تبدیل کیا گیا تھا تو میر رضا کے والد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پچھلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو کہاں غائب کر دیا گیا اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں تو دوسرے علاقوں سے لوگ لانے کی کیا ضرورت تھی۔</p>
<p>قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے تمام نمونے، جن میں بال، ناخن، ہڈیاں، دانت اور ٹشوز شامل ہیں، فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان نمونوں کی مدد سے زہر، ادویات، گن پاؤڈر، پرانی چوٹوں اور گولی لگنے کے زاویے کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلی رپورٹ کے تضادات کو دور کیا جا سکے۔ اب سب کی نظریں فرانزک رپورٹ پر لگی ہیں جس سے میر رضا کی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512138</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 15:23:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/081455586850d9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="972" width="1617">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/081455586850d9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں زیرِ حراست دو خواتین ہلاک، واقعے کی انکوائری شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511671/lahore-two-women-die-in-police-custody</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں زیرِ حراست دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی حالت حراست کے دوران اچانک خراب ہوئی، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں موجود دو خواتین ملزمان دورانِ منتقلی طبیعت خراب ہونے پر ہلاک ہو گئیں۔ پولیس نے واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق انمول اور آمنہ نامی دونوں خواتین کو مبینہ چوری اور فراڈ کے الزام میں شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ مزید قانونی کارروائی کے لیے دونوں خواتین کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دونوں خواتین ریکارڈ یافتہ تھیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق بظاہر منشیات استعمال کرنے کی عادی بھی تھیں، تاہم ان کی موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر جائزہ لینے کے لیے انکوائری جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں زیرِ حراست دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی حالت حراست کے دوران اچانک خراب ہوئی، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔</strong></p>
<p>ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں موجود دو خواتین ملزمان دورانِ منتقلی طبیعت خراب ہونے پر ہلاک ہو گئیں۔ پولیس نے واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق انمول اور آمنہ نامی دونوں خواتین کو مبینہ چوری اور فراڈ کے الزام میں شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ مزید قانونی کارروائی کے لیے دونوں خواتین کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دونوں خواتین ریکارڈ یافتہ تھیں اور ابتدائی معلومات کے مطابق بظاہر منشیات استعمال کرنے کی عادی بھی تھیں، تاہم ان کی موت کی حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر جائزہ لینے کے لیے انکوائری جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511671</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 13:00:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/05095634a1931b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/05095634a1931b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا علی قتل کیس: کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511558/mir-raza-ali-murder-case-karachi-police-get-most-important-data-from-apple-watch</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا جب کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے ایپل واچ ان لاک کرکے اہم ڈیٹا برآمد کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ سندھ نے میر رضا علی کی ایپل واچ کامیابی سے ان لاک کرلی ہے۔ پولیس کو میر رضا علی کی ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا ملا ہے، جس میں لین دین کے حساب سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹ پولیس نے میر رضا کا موبائل فون اور گھڑی حاصل کی تھی جس سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا تھا، ملنے والے دونوں ثبوت کیس کے لیے اہم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون اور ایپل واچ کو سی ٹی ڈی کے خصوصی سینٹر بھیجا گیا تھا تاہم ٹیکنیکل ٹیم سے تاحال آئی فون کا کوڈ کریک نہیں ہوسکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے ملنے والی معلومات کیس حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس پر مزید اہم معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں جب کہ تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پولیس-نے-میر-رضا-کے-موبائل-فون-کا-ڈیٹا-حاصل-کر-لیا" href="#پولیس-نے-میر-رضا-کے-موبائل-فون-کا-ڈیٹا-حاصل-کر-لیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پولیس نے میر رضا کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر لیا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کراچی پولیس نے میر رضا کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، جس کی مدد سے ان کے آخری رابطوں، پیغامات اور مالی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو بھیجے گئے پیغام میں 3 کروڑ روپے ادھار دینے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ پیغام میں مقتول نے خود کو مشکل میں قرار دیتے ہوئے فوری مالی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے کی رات میر رضا کی منگیتر نے بھی انہیں متعدد پیغامات بھیجے، تاہم مقتول کی جانب سے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کا قرض دار تھا۔ اسی تناظر میں پولیس نے میر رضا کے ساتھ مالی لین دین رکھنے والے تمام افراد کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اب تک 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سمیت کم از کم 15 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بھائیوں سمیت آٹھ افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ دو بھائیوں پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر افراد پر لاکھوں روپے کے واجبات تھے، اسی لیے ان تمام افراد سے مالی معاملات اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات میں شامل حکام کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سے چھ کا تعلق ایک گیسٹ ہاؤس سے ہے، جبکہ کرائم سین کے قریب سے گزرنے والے چار افراد کو بھی تحقیقات کے لیے پولیس تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق ہر ممکن معلومات حاصل کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں نوجوان کی موت وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہل خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل، اس بارے میں تاحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا ہے جب کہ تمام شواہد، فرانزک رپورٹس، موبائل ڈیٹا، مالی معاملات اور عینی شواہد کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے دوران ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس نے تحقیقات میں اہم پیش رفت پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ویڈیو میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی یہ چیز موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک شہری نے متعلقہ موبائل فون ملنے کی اطلاع دی اور پولیس کو اس مقام کی نشاندہی بھی کی۔ شہری کے مطابق اسے فون اسی جگہ سے ملا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو کوئی چیز پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیٹا حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے، جبکہ قتل کیس کے تمام پہلوؤں، مالی معاملات، رابطوں اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511384/mir-raza-ali-murder-case'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے والد میر حسین علی نے بتایا تھا کہ میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خود کشی کی ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس کو ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا مل گیا جب کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے ایپل واچ ان لاک کرکے اہم ڈیٹا برآمد کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ سندھ نے میر رضا علی کی ایپل واچ کامیابی سے ان لاک کرلی ہے۔ پولیس کو میر رضا علی کی ایپل واچ سے اہم ترین ڈیٹا ملا ہے، جس میں لین دین کے حساب سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔</p>
<p>ایسٹ پولیس نے میر رضا کا موبائل فون اور گھڑی حاصل کی تھی جس سے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا گیا تھا، ملنے والے دونوں ثبوت کیس کے لیے اہم تھے۔</p>
<p>آئی فون اور ایپل واچ کو سی ٹی ڈی کے خصوصی سینٹر بھیجا گیا تھا تاہم ٹیکنیکل ٹیم سے تاحال آئی فون کا کوڈ کریک نہیں ہوسکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے ملنے والی معلومات کیس حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل واچ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس پر مزید اہم معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں جب کہ تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔</p>
<h1><a id="پولیس-نے-میر-رضا-کے-موبائل-فون-کا-ڈیٹا-حاصل-کر-لیا" href="#پولیس-نے-میر-رضا-کے-موبائل-فون-کا-ڈیٹا-حاصل-کر-لیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پولیس نے میر رضا کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر لیا</strong></h1>
<p>دوسری جانب کراچی پولیس نے میر رضا کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، جس کی مدد سے ان کے آخری رابطوں، پیغامات اور مالی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تفتیشی حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا نے اپنے ایک دوست کو بھیجے گئے پیغام میں 3 کروڑ روپے ادھار دینے کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ پیغام میں مقتول نے خود کو مشکل میں قرار دیتے ہوئے فوری مالی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے کی رات میر رضا کی منگیتر نے بھی انہیں متعدد پیغامات بھیجے، تاہم مقتول کی جانب سے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>تفتیشی ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا مختلف افراد کا قرض دار تھا۔ اسی تناظر میں پولیس نے میر رضا کے ساتھ مالی لین دین رکھنے والے تمام افراد کو بھی تحقیقات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اب تک 18 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سمیت کم از کم 15 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بھائیوں سمیت آٹھ افراد پر میر رضا کی رقم واجب الادا تھی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ دو بھائیوں پر کروڑوں روپے جبکہ دیگر افراد پر لاکھوں روپے کے واجبات تھے، اسی لیے ان تمام افراد سے مالی معاملات اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>تحقیقات میں شامل حکام کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سے چھ کا تعلق ایک گیسٹ ہاؤس سے ہے، جبکہ کرائم سین کے قریب سے گزرنے والے چار افراد کو بھی تحقیقات کے لیے پولیس تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق ہر ممکن معلومات حاصل کی جا سکیں۔</p>
<p>دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی مکمل میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں نوجوان کی موت وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہل خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا قتل، اس بارے میں تاحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکا ہے جب کہ تمام شواہد، فرانزک رپورٹس، موبائل ڈیٹا، مالی معاملات اور عینی شواہد کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے دوران ایک نئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس نے تحقیقات میں اہم پیش رفت پیدا کر دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق ویڈیو میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک روشن چیز نکال کر سڑک کنارے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی یہ چیز موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک شہری نے متعلقہ موبائل فون ملنے کی اطلاع دی اور پولیس کو اس مقام کی نشاندہی بھی کی۔ شہری کے مطابق اسے فون اسی جگہ سے ملا تھا جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو کوئی چیز پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور ڈیجیٹل ڈیٹا حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے، جبکہ قتل کیس کے تمام پہلوؤں، مالی معاملات، رابطوں اور شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511384/mir-raza-ali-murder-case'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔</p>
<p>ان کے والد میر حسین علی نے بتایا تھا کہ میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔</p>
<p>میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خود کشی کی ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511558</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 22:38:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04225159128bfe6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04225159128bfe6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا علی قتل کیس: نئے شواہد سامنے آگئے، تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511384/mir-raza-ali-murder-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوع کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے مبینہ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے بعد تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے تین رکنی ٹیم قائم کرتے ہوئے کیس کے ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=Snu6FkRz7OY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/Snu6FkRz7OY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کے احکامات پر قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کریں گے، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے چھان بین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹیم ضرورت پڑنے پر کسی بھی پولیس افسر یا متعلقہ ادارے سے معاونت حاصل کرنے کی مجاز ہوگی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510817/karachi-mir-reza-ali-murder-case'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب نصب اہم سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی، جس میں 29 جولائی کی رات ایک مشکوک موٹرسائیکل ویران مقام پر آ کر تقریباً 22 سیکنڈ تک رکی رہی۔ تحقیقاتی ذرائع کا شبہ ہے کہ اسی مختصر وقفے کے دوران میر رضا علی کی لاش جھاڑیوں میں پھینکی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کو لاش ملنے کے فوراً بعد کی ابتدائی ویڈیو بھی موصول ہوئی ہے، جس میں لاش گلنے سڑنے کی حالت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم پولیس سرجن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش کو جلائے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے، بلکہ شدید گرمی اور وقت گزرنے کے باعث جسم پر گلنے سڑنے کے آثار پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے پستول کا ہولسٹر بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعض شواہد خودکشی کے امکان کو کمزور کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو گھر سے نکلتے وقت پستول کے ساتھ اکیلے جاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم تفتیش کو صرف ایک پہلو تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے مقتول کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات میں موبائل یا دیگر سامان چھینے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا علی گھر سے نکلنے سے قبل کچھ رقم منتقل کر گئے تھے اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ڈیلیٹ کر دیے تھے۔ پولیس نے فون ریکارڈ، رابطوں کی تفصیلات، مالی لین دین اور ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے والد میر حسین علی کے مطابق میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور زیادہ خون بہنے کے باعث ہوئی۔ ابتدا میں لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی، جس کے بعد ان کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران پولیس کو جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے پر مقتول کا موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر بھی ملا۔ پولیس نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کیا، جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سے ٹیکسی لی تھی اور گلستانِ جوہر میں اترے تھے، تاہم وہ اپنے کاروباری مقام تک نہیں پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا علی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کسی سے دشمنی یا مالی تنازع نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے بے حد پرجوش تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کیس کا حتمی نتیجہ مزید شواہد اور مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پراسرار موت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوع کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔</strong></p>
<p>آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے مبینہ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے بعد تعینات ہونے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے تین رکنی ٹیم قائم کرتے ہوئے کیس کے ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=Snu6FkRz7OY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/Snu6FkRz7OY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کے احکامات پر قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کریں گے، جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے چھان بین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ٹیم ضرورت پڑنے پر کسی بھی پولیس افسر یا متعلقہ ادارے سے معاونت حاصل کرنے کی مجاز ہوگی، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو پیش کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510817/karachi-mir-reza-ali-murder-case'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب نصب اہم سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی، جس میں 29 جولائی کی رات ایک مشکوک موٹرسائیکل ویران مقام پر آ کر تقریباً 22 سیکنڈ تک رکی رہی۔ تحقیقاتی ذرائع کا شبہ ہے کہ اسی مختصر وقفے کے دوران میر رضا علی کی لاش جھاڑیوں میں پھینکی گئی۔</p>
<p>آج نیوز کو لاش ملنے کے فوراً بعد کی ابتدائی ویڈیو بھی موصول ہوئی ہے، جس میں لاش گلنے سڑنے کی حالت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم پولیس سرجن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاش کو جلائے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے، بلکہ شدید گرمی اور وقت گزرنے کے باعث جسم پر گلنے سڑنے کے آثار پیدا ہوئے۔</p>
<p>تحقیقاتی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے پستول کا ہولسٹر بھی برآمد ہوا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم کے بعض شواہد خودکشی کے امکان کو کمزور کرتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو گھر سے نکلتے وقت پستول کے ساتھ اکیلے جاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم تفتیش کو صرف ایک پہلو تک محدود نہیں رکھا جا رہا۔</p>
<p>پولیس نے مقتول کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات میں موبائل یا دیگر سامان چھینے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا علی گھر سے نکلنے سے قبل کچھ رقم منتقل کر گئے تھے اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ڈیلیٹ کر دیے تھے۔ پولیس نے فون ریکارڈ، رابطوں کی تفصیلات، مالی لین دین اور ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ، 25 سالہ نوجوان تاجر اور ’وافلکس‘ کے بانی میر رضا علی خان 28 جولائی کی شب اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ وہ چند منٹ میں واپس آ جائیں گے، تاہم وہ گھر نہ لوٹے۔</p>
<p>ان کے والد میر حسین علی کے مطابق میر رضا اس رات اپنی دکان سے واپس آنے کے بعد والدہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ صرف دس منٹ میں واپس آ جائیں گے، لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگلے روز، 29 جولائی کو گلستانِ جوہر بلاک ون میں جھاڑیوں سے ان کی لاش برآمد ہوئی۔</p>
<p>پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور زیادہ خون بہنے کے باعث ہوئی۔ ابتدا میں لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی، جس کے بعد ان کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511146/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات کے دوران پولیس کو جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے پر مقتول کا موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر بھی ملا۔ پولیس نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کیا، جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سے ٹیکسی لی تھی اور گلستانِ جوہر میں اترے تھے، تاہم وہ اپنے کاروباری مقام تک نہیں پہنچ سکے۔</p>
<p>میر رضا علی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کسی سے دشمنی یا مالی تنازع نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے بے حد پرجوش تھے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کیس کا حتمی نتیجہ مزید شواہد اور مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511384</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 13:31:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0311213753f775b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0311213753f775b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے مقتول نوجوان علی رضا کا فون مل گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511146/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملنے والی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی لاش کے معائنے اور تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق 25 سالہ علی رضا کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور شدید خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے، تاہم گرمی اور وقت گزرنے کی وجہ سے جسم پر گلنے سڑنے کے آثار موجود تھے جس کی پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بھی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ابتدائی طور پر لاش کی حالت کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی تھی، جس پر والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کو اندھے قتل کے اس کیس میں جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے سے مقتول کا گمشدہ موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر ملا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510861/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510861"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پراسرار طور پر بند کر دیے گئے تھے، جس کے بعد اب ٹیلی کام کمپنی سے فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو شاملِ تفتیش کر کے بیان لیا گیا ہے جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بجکر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے ٹیکسی لی تھی اور انہیں گلستانِ جوہر میں اتارا گیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق مقتول اپنے بزنس سیٹ اپ کے کچن تک نہیں پہنچ سکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے والد میر حسین علی نے پولیس کو واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا ’وافلکس‘ کا بانی تھا اور گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ 28 جولائی کی شب وہ اپنی دکان سے گھر واپس آیا اور والدہ سے یہ کہہ کر باہر نکلا کہ وہ 10 منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے، لیکن پھر واپس نہیں لوٹا۔ ایک روز بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون سے جھاڑیوں سے ان کی لاش ملی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509908/all-three-under-investigation-suspects-in-the-dr-akash-murder-case-were-killed-in-an-alleged-police-encounter'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے والد نے غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازع نہیں تھا، ان کا بیٹا مارکیٹنگ کا ایک قابل طالب علم تھا اور ان کا غرور تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے تمام ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملنے والی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی لاش کے معائنے اور تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق 25 سالہ علی رضا کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور شدید خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔</strong></p>
<p>تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے، تاہم گرمی اور وقت گزرنے کی وجہ سے جسم پر گلنے سڑنے کے آثار موجود تھے جس کی پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بھی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ابتدائی طور پر لاش کی حالت کے باعث شناخت میں دشواری پیش آئی تھی، جس پر والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی تھی۔</p>
<p>تفتیشی حکام کو اندھے قتل کے اس کیس میں جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے سے مقتول کا گمشدہ موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر ملا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510861/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510861"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پراسرار طور پر بند کر دیے گئے تھے، جس کے بعد اب ٹیلی کام کمپنی سے فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی طلب کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو شاملِ تفتیش کر کے بیان لیا گیا ہے جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بجکر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے ٹیکسی لی تھی اور انہیں گلستانِ جوہر میں اتارا گیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق مقتول اپنے بزنس سیٹ اپ کے کچن تک نہیں پہنچ سکے تھے۔</p>
<p>مقتول کے والد میر حسین علی نے پولیس کو واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا ’وافلکس‘ کا بانی تھا اور گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ 28 جولائی کی شب وہ اپنی دکان سے گھر واپس آیا اور والدہ سے یہ کہہ کر باہر نکلا کہ وہ 10 منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے، لیکن پھر واپس نہیں لوٹا۔ ایک روز بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون سے جھاڑیوں سے ان کی لاش ملی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509908/all-three-under-investigation-suspects-in-the-dr-akash-murder-case-were-killed-in-an-alleged-police-encounter'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقتول کے والد نے غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔</p>
<p>میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازع نہیں تھا، ان کا بیٹا مارکیٹنگ کا ایک قابل طالب علم تھا اور ان کا غرور تھا۔</p>
<p>پولیس نے تمام ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511146</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 13:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/01122246ac3481e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/01122246ac3481e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈی آئی خان: پولیس گاڑی پر فائرنگ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511117/di-khan-firing-on-police-vehicle-two-personnel-including-an-asi-martyred</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی موبائل پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی فقیر حسین اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان شہید ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب متاثرہ پولیس موبائل درابن سے واپس آ رہی تھی۔ راستے میں نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر اچانک فائرنگ کر دی، جس سے اے ایس آئی فقیر حسین اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510743/security-forces-kill-32-terrorists-in-operations-in-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے شہید اہلکاروں کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی موبائل پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی فقیر حسین اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان شہید ہو گئے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب متاثرہ پولیس موبائل درابن سے واپس آ رہی تھی۔ راستے میں نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر اچانک فائرنگ کر دی، جس سے اے ایس آئی فقیر حسین اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510743/security-forces-kill-32-terrorists-in-operations-in-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس نے شہید اہلکاروں کی لاشیں ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511117</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 08:53:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0108440280cf9ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0108440280cf9ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: 3 بچوں کے قتل کا ڈراپ سین، سفاک ماں ہی مرکزی ملزمہ نکلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے سنسنی خیز مقدمے کا معمہ حل ہوگیا۔ لاہور پولیس کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے آن لائن منگوائے گئے پوٹاشیم سائنائیڈ کو آئس کریم میں ملا کر اپنے تین بچوں کو کھلایا اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا کر جان دے دی۔ پولیس نے ممنوعہ کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں کیمیکل شاپ کے مالک اور ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے کاہنہ میں 17 جولائی کو پیش آنے والے امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تفتیش، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول بچوں کی والدہ ہی اپنے تینوں بچوں کے قتل کی مرکزی ملزمہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں آن لائن ممنوعہ کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور کیمیکل کی ترسیل کرنے والا رائیڈر شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے خودکشی کے طریقوں سے متعلق کئی ماہ تک انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ نومبر سے اس کے موبائل فون پر خودکشی سے متعلق مختلف مضامین اور معلومات موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق خاتون نے ایک آن لائن رابطے کے ذریعے پوٹاشیم سائنائیڈ منگوایا اور اس کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اس نے کیمیکل والا پارسل اپنی ایک سہیلی کے گھر منگوایا، جبکہ 16 جولائی کو نجی پیزا شاپ پر سہیلی سے ملاقات کے دوران پارسل وصول کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سہیلی کو پارسل کے مندرجات سے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور 9 سالہ بیٹے ارسل کو کھلا دیا۔ بچوں کو زہر دینے کے بعد خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510241/lahore-valencia-town-woman-three-children-death-us-embassy-investigation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510241"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہر ملی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس سے محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیشان رضا نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا اور ہر پہلو سے تحقیقات کی گئیں، تاہم تمام فرانزک شواہد اور واقعاتی ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خاتون نے پہلے اپنے بچوں کو زہر دیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ خاتون شدید ڈپریشن کا شکار تھی، اس کا علاج جاری تھا اور وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون پورے خاندان کی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے اگلے روز خاندان نے سیالکوٹ جانا تھا، جبکہ اس سے قبل خاتون نے گروسری کی خریداری کے ساتھ ممنوعہ کیمیکل بھی حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق چونکہ متاثرہ خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے &lt;strong&gt;ایف بی آئی&lt;/strong&gt; کی ٹیم نے بھی اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کے حوالے سے متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے کیس حل کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے سنسنی خیز مقدمے کا معمہ حل ہوگیا۔ لاہور پولیس کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے آن لائن منگوائے گئے پوٹاشیم سائنائیڈ کو آئس کریم میں ملا کر اپنے تین بچوں کو کھلایا اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا کر جان دے دی۔ پولیس نے ممنوعہ کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں کیمیکل شاپ کے مالک اور ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے کاہنہ میں 17 جولائی کو پیش آنے والے امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تفتیش، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول بچوں کی والدہ ہی اپنے تینوں بچوں کے قتل کی مرکزی ملزمہ تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں آن لائن ممنوعہ کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور کیمیکل کی ترسیل کرنے والا رائیڈر شامل ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے خودکشی کے طریقوں سے متعلق کئی ماہ تک انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ نومبر سے اس کے موبائل فون پر خودکشی سے متعلق مختلف مضامین اور معلومات موجود تھیں۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق خاتون نے ایک آن لائن رابطے کے ذریعے پوٹاشیم سائنائیڈ منگوایا اور اس کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اس نے کیمیکل والا پارسل اپنی ایک سہیلی کے گھر منگوایا، جبکہ 16 جولائی کو نجی پیزا شاپ پر سہیلی سے ملاقات کے دوران پارسل وصول کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سہیلی کو پارسل کے مندرجات سے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور 9 سالہ بیٹے ارسل کو کھلا دیا۔ بچوں کو زہر دینے کے بعد خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510241/lahore-valencia-town-woman-three-children-death-us-embassy-investigation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510241"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہر ملی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس سے محفوظ رہے۔</p>
<p>ذیشان رضا نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا اور ہر پہلو سے تحقیقات کی گئیں، تاہم تمام فرانزک شواہد اور واقعاتی ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خاتون نے پہلے اپنے بچوں کو زہر دیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔</p>
<p>ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ خاتون شدید ڈپریشن کا شکار تھی، اس کا علاج جاری تھا اور وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون پورے خاندان کی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے اگلے روز خاندان نے سیالکوٹ جانا تھا، جبکہ اس سے قبل خاتون نے گروسری کی خریداری کے ساتھ ممنوعہ کیمیکل بھی حاصل کیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق چونکہ متاثرہ خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے <strong>ایف بی آئی</strong> کی ٹیم نے بھی اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کے حوالے سے متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے کیس حل کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511023</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 13:15:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/311303254936e2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1260" width="2100">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/311303254936e2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: تربت میں 6 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے ناصر آباد سے 6 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی معائنے میں لاشوں پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتولین کو فائرنگ کر کے جان سے مارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر اہلکار موقع پر پہنچے، لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی، تاہم شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ قتل کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید معلومات سامنے لائی جائیں گی۔ فی الحال حکام نے کسی بھی ممکنہ محرک یا ذمہ دار گروہ کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے ضلع کیچ کے شہر تربت کے علاقے ناصر آباد سے 6 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔</p>
<p>ابتدائی معائنے میں لاشوں پر گولیوں کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتولین کو فائرنگ کر کے جان سے مارا گیا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر اہلکار موقع پر پہنچے، لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی، تاہم شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ قتل کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید معلومات سامنے لائی جائیں گی۔ فی الحال حکام نے کسی بھی ممکنہ محرک یا ذمہ دار گروہ کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510861</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 14:05:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30121107be67d61.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30121107be67d61.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: فیروز آباد سے لاپتہ نوجوان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510817/karachi-mir-reza-ali-murder-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پھر گولیاں مار کر قتل کیا گیا جبکہ شواہد مٹانے کے لیے لاش کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق میر رضا علی پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی اور کاروباری تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ دو روز قبل بہادرآباد میں واقع اپنی دکان سے گھر واپس آئے تھے، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ باہر جانے کے لیے آن لائن ٹیکسی بک کی اور اہل خانہ کو بتایا کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہل خانہ کے مطابق اس کے بعد میر رضا علی کا موبائل فون بند ہوگیا اور وہ گھر واپس نہ آئے۔ مسلسل تلاش اور رابطے کی کوششیں ناکام ہونے پر ان کے والد میر حسین علی نے فیروز آباد تھانے میں اغواء کا مقدمہ درج کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب ایک لاش کی اطلاع ملی۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے تو لاش کی شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول کو پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کے مختلف حصے جھلسے ہوئے تھے، جس سے شبہ ہے کہ شواہد مٹانے کے لیے اسے جلانے کی کوشش کی گئی۔ حکام کے مطابق لاش چند روز پرانی معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جب کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام اغوا، ذاتی دشمنی، مالی تنازع اور دیگر ممکنہ محرکات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کے اغواء سے لے کر قتل تک کے تمام واقعات کی کڑیاں جوڑی جا رہی ہیں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج، آن لائن ٹیکسی کی تفصیلات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قتل کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پھر گولیاں مار کر قتل کیا گیا جبکہ شواہد مٹانے کے لیے لاش کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق میر رضا علی پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی اور کاروباری تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ دو روز قبل بہادرآباد میں واقع اپنی دکان سے گھر واپس آئے تھے، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ باہر جانے کے لیے آن لائن ٹیکسی بک کی اور اہل خانہ کو بتایا کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔</p>
<p>اہل خانہ کے مطابق اس کے بعد میر رضا علی کا موبائل فون بند ہوگیا اور وہ گھر واپس نہ آئے۔ مسلسل تلاش اور رابطے کی کوششیں ناکام ہونے پر ان کے والد میر حسین علی نے فیروز آباد تھانے میں اغواء کا مقدمہ درج کرایا۔</p>
<p>اسی دوران گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب ایک لاش کی اطلاع ملی۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے تو لاش کی شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔</p>
<p>ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول کو پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کے مختلف حصے جھلسے ہوئے تھے، جس سے شبہ ہے کہ شواہد مٹانے کے لیے اسے جلانے کی کوشش کی گئی۔ حکام کے مطابق لاش چند روز پرانی معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جب کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام اغوا، ذاتی دشمنی، مالی تنازع اور دیگر ممکنہ محرکات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کے اغواء سے لے کر قتل تک کے تمام واقعات کی کڑیاں جوڑی جا رہی ہیں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج، آن لائن ٹیکسی کی تفصیلات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قتل کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510817</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 23:39:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/292337185c0af45.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/292337185c0af45.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈاکٹر آکاش قتل کیس کے تینوں زیرِ تفتیش ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509908/all-three-under-investigation-suspects-in-the-dr-akash-murder-case-were-killed-in-an-alleged-police-encounter</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع تین تلوار کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 28 سالہ ڈاکٹر آکاش کے کیس میں گرفتار تینوں زیرِ تفتیش ملزمان گلشنِ معمار کے علاقے میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) سی آئی اے کے ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے مطابق، ایس آئی یو کی ٹیم نے گلشنِ معمار کے عمر بروہی گوٹھ کے قریب نادرن بائی پاس کے پاس چھاپہ مارا تھا، تینوں ملزمان کو ان کے مزید ساتھیوں کی گرفتاری کی نشاندہی کے لیے ساتھ لایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارروائی کے دوران ملزمان کے مفرور ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی، اور دونوں طرف سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود تینوں ملزمان گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508957'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت سریش، رام چند اور انیل کے ناموں سے ہوئی ہے جنہیں ساؤتھ زون پولیس نے 15 جولائی کو ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لرزہ خیز واردات کے حوالے سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں اور واردات کے وقت ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی کار میں موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان نے ڈکیتی کے فوراً بعد رقم کی تقسیم کی تھی جس میں ایک ملزم نے اپنے حصے میں آنے والی ایک لاکھ 25 ہزار روپے کی رقم ایزی پیسہ کے ذریعے گاؤں بھیجی جبکہ دوسرے ملزم رام چند نے اپنے حصے کے 70 ہزار میں سے 30 ہزار روپے مکان کے کرائے کی مد میں دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509669/azans-fathers-friend-turns-out-to-be-the-main-planner-of-the-kidnapping-3-suspects-including-the-main-suspect-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رام چند نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس کی ملاقات اسلم بابا سے 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اس گینگ کی بنیاد رکھی اور ایک ہی مہینے کے دوران بینکوں کے باہر متعدد بڑی ڈکیتیاں انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش کے قتل کی منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم نے پہلے گارڈ اور پھر پیسوں کے بیگ کی چھین چھپٹ کے دوران ڈاکٹر آکاش پر براہِ راست فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول 28 سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کا تعلق ایک معروف کاروباری خاندان سے تھا۔ واقعے کے وقت گاڑی میں ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع تین تلوار کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 28 سالہ ڈاکٹر آکاش کے کیس میں گرفتار تینوں زیرِ تفتیش ملزمان گلشنِ معمار کے علاقے میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) سی آئی اے کے ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے مطابق، ایس آئی یو کی ٹیم نے گلشنِ معمار کے عمر بروہی گوٹھ کے قریب نادرن بائی پاس کے پاس چھاپہ مارا تھا، تینوں ملزمان کو ان کے مزید ساتھیوں کی گرفتاری کی نشاندہی کے لیے ساتھ لایا گیا تھا۔</p>
<p>کارروائی کے دوران ملزمان کے مفرور ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی، اور دونوں طرف سے فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود تینوں ملزمان گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508957'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت سریش، رام چند اور انیل کے ناموں سے ہوئی ہے جنہیں ساؤتھ زون پولیس نے 15 جولائی کو ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p>اس لرزہ خیز واردات کے حوالے سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں اور واردات کے وقت ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی کار میں موجود تھی۔</p>
<p>ملزمان نے ڈکیتی کے فوراً بعد رقم کی تقسیم کی تھی جس میں ایک ملزم نے اپنے حصے میں آنے والی ایک لاکھ 25 ہزار روپے کی رقم ایزی پیسہ کے ذریعے گاؤں بھیجی جبکہ دوسرے ملزم رام چند نے اپنے حصے کے 70 ہزار میں سے 30 ہزار روپے مکان کے کرائے کی مد میں دیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509669/azans-fathers-friend-turns-out-to-be-the-main-planner-of-the-kidnapping-3-suspects-including-the-main-suspect-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رام چند نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ اس کی ملاقات اسلم بابا سے 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اس گینگ کی بنیاد رکھی اور ایک ہی مہینے کے دوران بینکوں کے باہر متعدد بڑی ڈکیتیاں انجام دیں۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش کے قتل کی منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ملزم نے پہلے گارڈ اور پھر پیسوں کے بیگ کی چھین چھپٹ کے دوران ڈاکٹر آکاش پر براہِ راست فائرنگ کی۔</p>
<p>مقتول 28 سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کا تعلق ایک معروف کاروباری خاندان سے تھا۔ واقعے کے وقت گاڑی میں ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509908</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 12:19:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2312170302bf650.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2312170302bf650.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 2 سالہ اذان کے اغوا کا ڈراپ سین، ملزمان والد کے قریبی نکلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509669/azans-fathers-friend-turns-out-to-be-the-main-planner-of-the-kidnapping-3-suspects-including-the-main-suspect-arrested</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے 2 سالہ آذان کے اغوا کیس کا معمہ حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق 2 سالہ آذان کے اغوا کیس میں مرکزی ملزم محمد احتشام بچے کے والد کا قریبی دوست نکلا، جس نے واردات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بچے کو اغوا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات سے 3 روز قبل متعلقہ نجی سوسائٹی کی مسلسل ریکی کی اور اغوا کی کارروائی کے لیے پہلے سے موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ اور دیگر سامان کا انتظام کر رکھا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزم کو بچے کو اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد تکنیکی شواہد کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21191824d1d9077.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21191824d1d9077.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان نے بچے کے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور اس مقصد کے لیے بیرونِ ملک سے چلنے والے واٹس ایپ نمبرز استعمال کیے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واردات کے بعد مرکزی ملزم نے مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 2 روز تک بچے کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی تلاش میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی ویسٹ طارق الہیٰ مستوئی کے مطابق پولیس کی مسلسل کارروائی، تکنیکی تحقیقات، میڈیا پر بھرپور تشہیر اور معززین کے دباؤ کے باعث ملزمان گھبرا گئے اور انہوں نے بچے کو کراچی سے گھارو منتقل کر دیا۔ بعد ازاں پولیس ٹیم نے گھارو کے قریب بروقت کارروائی کرتے ہوئے معصوم آذان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509473/karachi-abducted-2-year-old-azan-recovered-from-naya-nazimabad'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے مرکزی ملزم محمد احتشام سمیت تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ دورانِ تفتیش تینوں ملزمان نے اغوا میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا جب کہ پولیس نے تکنیکی شواہد کی مدد سے ان کے بیانات کی تصدیق کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ، واردات کے دوران استعمال کیے گئے کپڑے اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی سربراہی میں انجام دی گئی، جنہوں نے کامیاب آپریشن پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے 2 سالہ آذان کے اغوا کیس کا معمہ حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق 2 سالہ آذان کے اغوا کیس میں مرکزی ملزم محمد احتشام بچے کے والد کا قریبی دوست نکلا، جس نے واردات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بچے کو اغوا کیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات سے 3 روز قبل متعلقہ نجی سوسائٹی کی مسلسل ریکی کی اور اغوا کی کارروائی کے لیے پہلے سے موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ اور دیگر سامان کا انتظام کر رکھا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزم کو بچے کو اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد تکنیکی شواہد کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21191824d1d9077.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21191824d1d9077.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان نے بچے کے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور اس مقصد کے لیے بیرونِ ملک سے چلنے والے واٹس ایپ نمبرز استعمال کیے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واردات کے بعد مرکزی ملزم نے مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 2 روز تک بچے کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی تلاش میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دے۔</p>
<p>ایس ایس پی ویسٹ طارق الہیٰ مستوئی کے مطابق پولیس کی مسلسل کارروائی، تکنیکی تحقیقات، میڈیا پر بھرپور تشہیر اور معززین کے دباؤ کے باعث ملزمان گھبرا گئے اور انہوں نے بچے کو کراچی سے گھارو منتقل کر دیا۔ بعد ازاں پولیس ٹیم نے گھارو کے قریب بروقت کارروائی کرتے ہوئے معصوم آذان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509473/karachi-abducted-2-year-old-azan-recovered-from-naya-nazimabad'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس نے مرکزی ملزم محمد احتشام سمیت تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ دورانِ تفتیش تینوں ملزمان نے اغوا میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا جب کہ پولیس نے تکنیکی شواہد کی مدد سے ان کے بیانات کی تصدیق کر لی ہے۔</p>
<p>پولیس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ، واردات کے دوران استعمال کیے گئے کپڑے اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی سربراہی میں انجام دی گئی، جنہوں نے کامیاب آپریشن پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509669</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 19:18:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2119101696f06e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2119101696f06e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پتوکی: دوست نے دوست کا گردہ نکال کر فروخت کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509589/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب کے شہر پتوکی میں ایک شہری نے اپنے دوست پر مبینہ طور پر نوکری کا جھانسہ دے کر اغوا کرنے، نشہ آور مشروب پلا کر بے ہوش کرنے اور اس کا گردہ نکلوا کر فروخت کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری رحمت، جو محلہ پرانی منڈی کا رہائشی ہے نے بتایا کہ اس کا دوست رضا اسے اچھی نوکری دلانے کا وعدہ کرکے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رحمت کا کہنا تھا کہ راستے میں رضا نے اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسے گاڑی میں بٹھایا، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور جوس پلایا گیا، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509193/lahore-valencia-woman-three-children-found-dead'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رحمت نے بتایا کہ جب اسے ہوش آیا تو وہ راولپنڈی میں موجود تھا اور اسے معلوم ہوا کہ اس کا آپریشن کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جب وہ واپس پتوکی پہنچا تو طبیعت خراب ہونے پر اس نے الٹراساؤنڈ کروایا، جس سے مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ اس کا ایک گردہ موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اسے شبہ ہے کہ اس کے دوست اور اس کے ساتھیوں نے منصوبہ بندی کے تحت اس کا گردہ نکال کر فروخت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509347/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے پولیس یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ خبر میں لگائے گئے الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔ حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب کے شہر پتوکی میں ایک شہری نے اپنے دوست پر مبینہ طور پر نوکری کا جھانسہ دے کر اغوا کرنے، نشہ آور مشروب پلا کر بے ہوش کرنے اور اس کا گردہ نکلوا کر فروخت کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری رحمت، جو محلہ پرانی منڈی کا رہائشی ہے نے بتایا کہ اس کا دوست رضا اسے اچھی نوکری دلانے کا وعدہ کرکے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔</p>
<p>رحمت کا کہنا تھا کہ راستے میں رضا نے اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسے گاڑی میں بٹھایا، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور جوس پلایا گیا، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509193/lahore-valencia-woman-three-children-found-dead'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رحمت نے بتایا کہ جب اسے ہوش آیا تو وہ راولپنڈی میں موجود تھا اور اسے معلوم ہوا کہ اس کا آپریشن کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں جب وہ واپس پتوکی پہنچا تو طبیعت خراب ہونے پر اس نے الٹراساؤنڈ کروایا، جس سے مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ اس کا ایک گردہ موجود نہیں ہے۔</p>
<p>متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اسے شبہ ہے کہ اس کے دوست اور اس کے ساتھیوں نے منصوبہ بندی کے تحت اس کا گردہ نکال کر فروخت کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509347/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔</p>
<p>دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے پولیس یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ خبر میں لگائے گئے الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔ حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509589</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 09:10:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/210910433875ac2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/210910433875ac2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509346/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ کے اندر غیر ملکی خاتون سے مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد درخشاں تھانے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون کی مدعیت میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم آدی محمود کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 17 جولائی کی رات کو پیش آیا اور معاملے کی مزید باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو درج کرائے گئے مقدمے کے متن میں متاثرہ غیر ملکی خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم آدی محمود انہیں گھر چھوڑنے کے لیے آیا تھا، جس پر میں نے اسے مشروب پینے کے لیے گھر کے اندر آنے کی اجازت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509347/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مشروب پی کر گہری نیند سو گئیں اور جب ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے خود کو زیادتی کا نشانہ بنتا ہوا پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اس صورتحال پر شور مچایا تو ملزم گھبرا کر موقع سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق، خاتون نے بتایا کہ ملزم واردات کے بعد فرار تو ہو گیا تھا لیکن بعد میں وہ اپنا موبائل فون لینے کے لیے دوبارہ اسی اپارٹمنٹ میں آیا۔ اس دوران خاتون نے اسے پکڑنے کے لیے مزاحمت بھی کی لیکن ملزم دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا فوری طور پر طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ضروری نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ کے اندر غیر ملکی خاتون سے مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد درخشاں تھانے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون کی مدعیت میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم آدی محمود کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 17 جولائی کی رات کو پیش آیا اور معاملے کی مزید باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>پولیس کو درج کرائے گئے مقدمے کے متن میں متاثرہ غیر ملکی خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم آدی محمود انہیں گھر چھوڑنے کے لیے آیا تھا، جس پر میں نے اسے مشروب پینے کے لیے گھر کے اندر آنے کی اجازت دے دی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509347/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مشروب پی کر گہری نیند سو گئیں اور جب ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے خود کو زیادتی کا نشانہ بنتا ہوا پایا۔</p>
<p>خاتون نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اس صورتحال پر شور مچایا تو ملزم گھبرا کر موقع سے فرار ہو گیا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق، خاتون نے بتایا کہ ملزم واردات کے بعد فرار تو ہو گیا تھا لیکن بعد میں وہ اپنا موبائل فون لینے کے لیے دوبارہ اسی اپارٹمنٹ میں آیا۔ اس دوران خاتون نے اسے پکڑنے کے لیے مزاحمت بھی کی لیکن ملزم دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا فوری طور پر طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ضروری نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509346</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:25:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19102304f3d4927.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19102304f3d4927.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: دو ڈکیت پولیس اہلکار گرفتار، ایک فرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509347/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں شہریوں کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر لوٹنے والے تین پولیس اہلکاروں کے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کاہنہ کی حدود میں خیابانِ امین سوسائٹی کے قریب پیش آیا، جہاں تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ناکہ لگا رکھا تھا اور شہریوں کو ڈرا دھمکا کر اسلحے کے زور پر لوٹ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر پٹرولنگ پولیس نے فوری کارروائی کی۔ پولیس کو دیکھتے ہی اہلکار سجاد موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ دیگر دو اہلکار علی حسن اور کبیر علی کو گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکار علی حسن تھانہ سندر جبکہ کبیر علی تھانہ گارڈن ٹاؤن میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرار ہونے والا اہلکار سجاد بھی پولیس میں کانسٹیبل ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک گروہ بنا رکھا تھا اور شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گرفتار دونوں اہلکاروں کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ تینوں اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508551/year-biggest-robbery-in-gadap-town'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکار سجاد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان اس نوعیت کی کتنی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور آیا ان کے ساتھ کوئی اور افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں شہریوں کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر لوٹنے والے تین پولیس اہلکاروں کے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کاہنہ کی حدود میں خیابانِ امین سوسائٹی کے قریب پیش آیا، جہاں تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ناکہ لگا رکھا تھا اور شہریوں کو ڈرا دھمکا کر اسلحے کے زور پر لوٹ رہے تھے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر پٹرولنگ پولیس نے فوری کارروائی کی۔ پولیس کو دیکھتے ہی اہلکار سجاد موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ دیگر دو اہلکار علی حسن اور کبیر علی کو گرفتار کر لیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار اہلکار علی حسن تھانہ سندر جبکہ کبیر علی تھانہ گارڈن ٹاؤن میں کانسٹیبل کے طور پر تعینات ہیں۔</p>
<p>فرار ہونے والا اہلکار سجاد بھی پولیس میں کانسٹیبل ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تینوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک گروہ بنا رکھا تھا اور شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث تھے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق گرفتار دونوں اہلکاروں کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ تینوں اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508551/year-biggest-robbery-in-gadap-town'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکار سجاد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔</p>
<p>حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان اس نوعیت کی کتنی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور آیا ان کے ساتھ کوئی اور افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509347</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:24:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19102415a1c9486.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19102415a1c9486.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: تین بچوں کی ہلاکت کا افسوس ناک واقعہ، ماں بھی اسپتال میں چل بسی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509193/lahore-valencia-woman-three-children-found-dead</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے ویلنشیا میں مبینہ طور پر زہر خورانی سے تین بچوں کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے بچوں کے والد ناصر ڈوگر کو حراست میں لے لیا ہے، جب کہ بچوں کی والدہ بھی اسپتال میں دم توڑ گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ناصر ڈوگر چند روز قبل بیرون ملک سے پاکستان واپس آیا تھا۔ واقعے کے وقت وہ گھر سے گراسری لینے مارکیٹ گیا ہوا تھا، تاہم واپسی پر اس نے اپنے تین بچوں کو مردہ حالت میں پایا، جب کہ اہلیہ کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عرشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو شبہ ہے کہ بچوں کو زہر ملا کھانا کھلایا گیا، جب کہ خاتون نے بعد ازاں خود بھی وہی زہریلا کھانا کھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس، تفتیشی حکام اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جب کہ چاروں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ناصر ڈوگر کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کے بعد سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے ویلنشیا میں مبینہ طور پر زہر خورانی سے تین بچوں کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے بچوں کے والد ناصر ڈوگر کو حراست میں لے لیا ہے، جب کہ بچوں کی والدہ بھی اسپتال میں دم توڑ گئی ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق ناصر ڈوگر چند روز قبل بیرون ملک سے پاکستان واپس آیا تھا۔ واقعے کے وقت وہ گھر سے گراسری لینے مارکیٹ گیا ہوا تھا، تاہم واپسی پر اس نے اپنے تین بچوں کو مردہ حالت میں پایا، جب کہ اہلیہ کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ عرشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی ہے۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو شبہ ہے کہ بچوں کو زہر ملا کھانا کھلایا گیا، جب کہ خاتون نے بعد ازاں خود بھی وہی زہریلا کھانا کھایا۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس، تفتیشی حکام اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جب کہ چاروں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ناصر ڈوگر کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کے بعد سامنے آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509193</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 23:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17225408b3e01d9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17225408b3e01d9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈاکٹر آکاش کا قتل: ملزمان کا گینگ کیسے بنا، لوٹے گئے پیسوں کا بٹوارا کیسے ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508957/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کے معاملے میں گرفتار تین ملزمان سے پولیس کی تفتیش جاری ہے اور اس دوران انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں، جبکہ واردات کے وقت کار میں اسلم بابا کے ہمراہ ایک لڑکی بھی سوار تھی جو اس گینگ کا حصہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے واردات کے فوراً بعد آپس میں چھینے گئے پیسوں کا بٹوارا کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے حصے میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے آئے تھے، جس نے ایزی پیسہ کی دکان سے یہ تمام رقم اپنے بھائی کشور کو گاؤں بھجوا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دوسرے گرفتار ملزم رام چند کے حصے میں ستر ہزار روپے آئے جس میں سے اس نے تیس ہزار روپے اپنے مکان مالک کو کرائے کی مد میں دیے۔ رام چند بھی قائد آباد کا رہائشی ہے اور فرمان نامی شخص کے گھر کرائے پر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار ملزم رام چند نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس کی گینگ کے سرغنہ اسلم بابا سے ملاقات 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی، جہاں ان کی دوستی ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ گینگ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق، رام چند نے اعتراف کیا کہ ان کے گینگ نے صرف ایک مہینے کے بارہ دنوں میں بینکوں کے باہر سے تین بڑی ڈکیتیاں کیں، جن میں ایک واردات کے دوران ایک لاکھ اور دوسری میں دو لاکھ روپے چھینے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک پولیس ٹیم اندرونِ سندھ بھی بھیجی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے جس میں ایک ملزم بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آتا ہے اور پہلے گارڈ پر فائرنگ کرتا ہے، جس کے بعد وہ کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508030/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹھائیس سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بھیانک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے غم اور غصے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کھیم چند نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ”بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کے معاملے میں گرفتار تین ملزمان سے پولیس کی تفتیش جاری ہے اور اس دوران انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا اور اس کے دیگر کارندے قائد آباد کے رہائشی ہیں، جبکہ واردات کے وقت کار میں اسلم بابا کے ہمراہ ایک لڑکی بھی سوار تھی جو اس گینگ کا حصہ ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے واردات کے فوراً بعد آپس میں چھینے گئے پیسوں کا بٹوارا کر لیا تھا۔</p>
<p>تفتیشی حکام نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے حصے میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے آئے تھے، جس نے ایزی پیسہ کی دکان سے یہ تمام رقم اپنے بھائی کشور کو گاؤں بھجوا دی تھی۔</p>
<p>اسی طرح دوسرے گرفتار ملزم رام چند کے حصے میں ستر ہزار روپے آئے جس میں سے اس نے تیس ہزار روپے اپنے مکان مالک کو کرائے کی مد میں دیے۔ رام چند بھی قائد آباد کا رہائشی ہے اور فرمان نامی شخص کے گھر کرائے پر رہتا ہے۔</p>
<p>گرفتار ملزم رام چند نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس کی گینگ کے سرغنہ اسلم بابا سے ملاقات 2021 میں لانڈھی جیل میں ہوئی تھی، جہاں ان کی دوستی ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ گینگ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508953/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق، رام چند نے اعتراف کیا کہ ان کے گینگ نے صرف ایک مہینے کے بارہ دنوں میں بینکوں کے باہر سے تین بڑی ڈکیتیاں کیں، جن میں ایک واردات کے دوران ایک لاکھ اور دوسری میں دو لاکھ روپے چھینے گئے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک پولیس ٹیم اندرونِ سندھ بھی بھیجی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے جس میں ایک ملزم بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آتا ہے اور پہلے گارڈ پر فائرنگ کرتا ہے، جس کے بعد وہ کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508030/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔</p>
<p>اٹھائیس سالہ غیر شادی شدہ ڈاکٹر آکاش پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔</p>
<p>اس بھیانک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے غم اور غصے کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کھیم چند نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ”بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508957</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:54:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1611533391ecd11.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1611533391ecd11.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'مالک کے کہنے پر افسر کو کچلا': اوور لوڈڈ ڈمپر روکنے والا ہائی وے پولیس اہلکار جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ پر ایک انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں لارنس پور ٹول پلازہ کے قریب ایک ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر فرض شناس ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس افسر کو کچل کر شہید کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی وے پولیس کے مطابق یہ ڈمپر اوور لوڈ تھا اور پٹرولنگ آفیسر جاوید اکبر نے اسے روکنے کا اشارہ کیا تھا۔ انہوں نے ڈرائیور سے اوور لوڈنگ کے چالان کے لیے رسید اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا لیکن ڈرائیور نے دستاویزات دینے کے بجائے گاڑی سڑک کنارے کھڑے ڈیوٹی افسر کے اوپر چڑھا دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو اس ہولناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موصول ہو گئی ہے جس کی مدد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹروے پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مفرور ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کی ترغیب پر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرک کے مالک نے ڈرائیور کو موبائل پر کہا کہ اس کو کچل دو اور ڈمپر بھگا دو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508949/horrific-accident-in-peshawar-six-people-including-four-children-killed-in-house-fire'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سفاکانہ حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور نے پولیس افسر جاوید اکبر پر ڈمپر چڑھا دیا اور انہیں کچلتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اکبر کے ناحق قتل کے تمام تر پختہ شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں اور ٹرک کے مالک اور ڈرائیور دونوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دونوں ملزمان اس وقت روپوش ہیں لیکن انہیں بہت جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہید ہونے والے فرض شناس پولیس افسر جاوید اکبر کے سوگواران میں ایک بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ناگہانی موت کی خبر ملتے ہی ان کے گھر میں کہرام مچ گیا اور پورے علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہید جاوید اکبر کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمازِ جنازہ اور تدفین میں پولیس حکام، اہلخانہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/2077401905702301923?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/2077401905702301923?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دکھ کی گھڑی میں آئی جی موٹروے پولیس نے شہید کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی موٹروے نے اپنے پیغام میں کہا کہ محکمہ اس مشکل وقت میں شہید کے ورثا کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ جاوید اکبر جیسے فرض شناس اور بہادر پولیس افسران پر پورے محکمے کو فخر ہے جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ پر ایک انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں لارنس پور ٹول پلازہ کے قریب ایک ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کے کہنے پر فرض شناس ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس افسر کو کچل کر شہید کر دیا۔</strong></p>
<p>ہائی وے پولیس کے مطابق یہ ڈمپر اوور لوڈ تھا اور پٹرولنگ آفیسر جاوید اکبر نے اسے روکنے کا اشارہ کیا تھا۔ انہوں نے ڈرائیور سے اوور لوڈنگ کے چالان کے لیے رسید اور ڈرائیونگ لائسنس مانگا لیکن ڈرائیور نے دستاویزات دینے کے بجائے گاڑی سڑک کنارے کھڑے ڈیوٹی افسر کے اوپر چڑھا دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>پولیس کو اس ہولناک واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موصول ہو گئی ہے جس کی مدد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>موٹروے پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مفرور ڈمپر ڈرائیور نے اپنے مالک کی ترغیب پر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔</p>
<p>پولیس نے درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرک کے مالک نے ڈرائیور کو موبائل پر کہا کہ اس کو کچل دو اور ڈمپر بھگا دو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508949/horrific-accident-in-peshawar-six-people-including-four-children-killed-in-house-fire'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سفاکانہ حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور نے پولیس افسر جاوید اکبر پر ڈمپر چڑھا دیا اور انہیں کچلتا ہوا موقع سے فرار ہو گیا۔</p>
<p>موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اکبر کے ناحق قتل کے تمام تر پختہ شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں اور ٹرک کے مالک اور ڈرائیور دونوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دونوں ملزمان اس وقت روپوش ہیں لیکن انہیں بہت جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔</p>
<p>شہید ہونے والے فرض شناس پولیس افسر جاوید اکبر کے سوگواران میں ایک بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔</p>
<p>ان کی ناگہانی موت کی خبر ملتے ہی ان کے گھر میں کہرام مچ گیا اور پورے علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔</p>
<p>شہید جاوید اکبر کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>نمازِ جنازہ اور تدفین میں پولیس حکام، اہلخانہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NHMPofficial/status/2077401905702301923?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NHMPofficial/status/2077401905702301923?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس دکھ کی گھڑی میں آئی جی موٹروے پولیس نے شہید کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>آئی جی موٹروے نے اپنے پیغام میں کہا کہ محکمہ اس مشکل وقت میں شہید کے ورثا کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508910/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے شہید کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ جاوید اکبر جیسے فرض شناس اور بہادر پولیس افسران پر پورے محکمے کو فخر ہے جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا لیکن قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508953</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:15:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16110543ad3c88a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16110543ad3c88a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک سے چار افراد کی لاشیں برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں مقتولین کی شناخت زبیر احمد، خلیل الرحمان، صادق اور فرید کے نام سے کر لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق چاروں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے، جبکہ مقتول فرید کو مانگی ڈیم واقعے کے دوران مبینہ طور پر اغواء کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507699/hanna-urak-operation-three-militants-killed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور متعلقہ اداروں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کر دیا ہے، جہاں ضروری کارروائی کے ساتھ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد ہنہ اوڑک اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ مقتولین کے قتل کے محرکات، واقعے کے پسِ پردہ عوامل اور ملوث افراد سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں میں آج مزید 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد آپریشن شعبان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 88 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں مزید 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد آپریشن شعبان کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 88 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508852/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 126 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں مقتولین کی شناخت زبیر احمد، خلیل الرحمان، صادق اور فرید کے نام سے کر لی گئی ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق چاروں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے، جبکہ مقتول فرید کو مانگی ڈیم واقعے کے دوران مبینہ طور پر اغواء کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507699/hanna-urak-operation-three-militants-killed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس اور متعلقہ اداروں نے لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کر دیا ہے، جہاں ضروری کارروائی کے ساتھ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد ہنہ اوڑک اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ مقتولین کے قتل کے محرکات، واقعے کے پسِ پردہ عوامل اور ملوث افراد سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں میں آج مزید 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد آپریشن شعبان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 88 ہو گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں مزید 3 خارجی دہشت گرد ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد آپریشن شعبان کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 88 ہو گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508852/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 126 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508910</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 20:30:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل احمد کاسی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/152024093a433b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/152024093a433b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: ڈکیتی کے دوران ڈاکٹر آکاش کا قتل، دو مشتبہ افراد گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کیس میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایک پولیس ٹیم اندرونِ سندھ بھی روانہ کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بنا دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایک ٹیم کارروائی کے لیے اندرون سندھ بھی روانہ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے ڈاکوؤں کے گینگ کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں اور پولیس ذرائع کے مطابق اس گینگ میں ایک خاتون کی موجودگی کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ivAe0Kv9x-I'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ivAe0Kv9x-I?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقتول ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات کے لیے کلفٹن میں رحمت شیریں کے پاس سے جلوس کی شکل میں لوگ روانہ ہوں گے اور ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508551/year-biggest-robbery-in-gadap-town'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، تین تلوار کے قریب ڈاکٹر آکاش کی گاڑی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لٹیرا بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آیا اور اس نے پہلے وہاں موجود گارڈ پر فائرنگ کی، جس کے بعد اس نے جلدی سے کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور فائرنگ ہوتے ہی وہاں اردگرد کے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sumair_shah123/status/2076643012445458925?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sumair_shah123/status/2076643012445458925?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے اس بھیانک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508030/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے چچا کھیم چند نے غمگین اور مایوس کن لہجے میں مزید کہا کہ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ اٹھائیس سالہ ڈاکٹر آکاش ابھی غیر شادی شدہ تھے اور وہ پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، لیکن ڈاکوؤں نے ان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کیس میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایک پولیس ٹیم اندرونِ سندھ بھی روانہ کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بنا دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایک ٹیم کارروائی کے لیے اندرون سندھ بھی روانہ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے ڈاکوؤں کے گینگ کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں اور پولیس ذرائع کے مطابق اس گینگ میں ایک خاتون کی موجودگی کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=ivAe0Kv9x-I'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ivAe0Kv9x-I?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقتول ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات کے لیے کلفٹن میں رحمت شیریں کے پاس سے جلوس کی شکل میں لوگ روانہ ہوں گے اور ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508551/year-biggest-robbery-in-gadap-town'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف، تین تلوار کے قریب ڈاکٹر آکاش کی گاڑی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لٹیرا بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آیا اور اس نے پہلے وہاں موجود گارڈ پر فائرنگ کی، جس کے بعد اس نے جلدی سے کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیا۔</p>
<p>ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور فائرنگ ہوتے ہی وہاں اردگرد کے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sumair_shah123/status/2076643012445458925?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sumair_shah123/status/2076643012445458925?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے اس بھیانک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے حکومت پر غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508030/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقتول کے چچا کھیم چند نے غمگین اور مایوس کن لہجے میں مزید کہا کہ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ اٹھائیس سالہ ڈاکٹر آکاش ابھی غیر شادی شدہ تھے اور وہ پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، لیکن ڈاکوؤں نے ان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508703</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:37:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1412291429dbf2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1412291429dbf2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/92aXOXxk5JQ/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/92aXOXxk5JQ/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=92aXOXxk5JQ"/>
        <media:title>Dr Akash Case Update | Two Suspects Detained in Karachi Investigation - Aaj News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508551/year-biggest-robbery-in-gadap-town</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی ہے، جہاں آٹھ مسلح ملزمان ایک بنگلے میں گھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنانے کے بعد کروڑوں روپے مالیت کا سونا، چاندی اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق واردات گڈاپ سٹی کے علاقے رمضان لاسی گوٹھ میں پیش آئی، جہاں چار موٹر سائیکلوں پر سوار آٹھ مسلح ملزمان شہری دھرم داس کلپرانی کے بنگلے کے عقب سے داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سب سے پہلے بنگلے کے چوکیدار کو قابو میں لیا اور اہل خانہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان نے گھر میں موجود خواتین، بچوں اور دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا اور مزاحمت کرنے پر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471973'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471973"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے ایک ایک کمرے کی تفصیلی تلاشی لی اور گھر میں موجود قیمتی سامان سمیٹ کر فرار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان 150 تولہ سونا، بڑی مقدار میں چاندی اور 25 لاکھ روپے نقد لوٹ کر لے گئے، جبکہ مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے واقعے کے بعد شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر پہلوؤں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی ہے، جہاں آٹھ مسلح ملزمان ایک بنگلے میں گھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنانے کے بعد کروڑوں روپے مالیت کا سونا، چاندی اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔</strong></p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق واردات گڈاپ سٹی کے علاقے رمضان لاسی گوٹھ میں پیش آئی، جہاں چار موٹر سائیکلوں پر سوار آٹھ مسلح ملزمان شہری دھرم داس کلپرانی کے بنگلے کے عقب سے داخل ہوئے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سب سے پہلے بنگلے کے چوکیدار کو قابو میں لیا اور اہل خانہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہوگئے۔</p>
<p>ملزمان نے گھر میں موجود خواتین، بچوں اور دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا اور مزاحمت کرنے پر اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471973'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471973"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے ایک ایک کمرے کی تفصیلی تلاشی لی اور گھر میں موجود قیمتی سامان سمیٹ کر فرار ہوگئے۔</p>
<p>ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان 150 تولہ سونا، بڑی مقدار میں چاندی اور 25 لاکھ روپے نقد لوٹ کر لے گئے، جبکہ مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کا سامان لوٹے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس نے واقعے کے بعد شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی شواہد اور دیگر پہلوؤں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508551</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 14:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/13114128dd536b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/13114128dd536b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/QS2bXiENk-I/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/QS2bXiENk-I/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=QS2bXiENk-I"/>
        <media:title>Gadap House Robbery | Gold and Cash Taken - Aaj News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>11 سالہ بچی فروخت کے بعد 80 سالہ بوڑھے سے بیاہ دی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیرہ غازی خان کے علاقے پھگلہ میں 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے میں فروخت کرکے 80 سالہ شخص سے نکاح کرانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس کے بعد بارڈر ملٹری پولیس نے معمر دولہا کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے کمانڈنٹ امیر تیمور کو تمام ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم پی کے مطابق 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا گیا اور اس کا نکاح 80 سالہ شخص سے کرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈنٹ امیر تیمور نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 80 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کے والد نے مبینہ طور پر رقم کے عوض اپنی بیٹی کو فروخت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کم عمر بچی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم پی کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیرہ غازی خان کے علاقے پھگلہ میں 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے میں فروخت کرکے 80 سالہ شخص سے نکاح کرانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس کے بعد بارڈر ملٹری پولیس نے معمر دولہا کو گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔</strong></p>
<p>ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے کمانڈنٹ امیر تیمور کو تمام ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔</p>
<p>بی ایم پی کے مطابق 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا گیا اور اس کا نکاح 80 سالہ شخص سے کرایا گیا۔</p>
<p>کمانڈنٹ امیر تیمور نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 80 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کے والد نے مبینہ طور پر رقم کے عوض اپنی بیٹی کو فروخت کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کم عمر بچی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p>بی ایم پی کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508453</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 12:30:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1212281522d6239.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1212281522d6239.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ طالبہ کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508230/lahore-how-did-a-10-year-old-student-die-at-a-tuition-center-postmortem-report-revealed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی 10 سالہ طالبہ نعیمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق بچی کی موت گلے میں پھندا لگنے سے دم گھٹنے کے باعث ہوئی جب کہ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے اتحاد کالونی اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر جانے والی 10 سالہ معصوم طالبہ کی پر اسرار ہلاکت کے معاملے میں تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے عمل کے بعد چھٹی جماعت کی مقتول طالبہ نعیمہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجوہات بتائی گئیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ کے گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان پایا گیا ہے اور موت کی وجہ گلے میں پھندا لگنا قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبہ کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر موجود واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ کی چھوٹی بہن نے سب سے پہلے واش روم کا دروازہ کھولا جب کہ دروازہ نہ کھلنے پر بڑی بہن اندر گئی اور نعیمہ کی لاش دیکھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508128/lahore-mysterious-death-of-10-year-old-girl-at-ichhra-tuition-center-owner-of-house-under-arrest'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق طالبہ کی بڑی بہن نے بیان دیا کہ نعیمہ نے 2 سال قبل گھر میں گلے میں دوپٹہ ڈال کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم بچی کے والد عدنان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ کھیل کے دوران گلے میں دوپٹہ ڈال کر بچوں کے ساتھ مذاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لواحقین کا کہنا ہے کہ ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں ایک رسی لٹک رہی تھی، جسے پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس نے ٹیوشن سینٹر سے کچھ فاصلے پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچی کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نعیمہ نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس سمیت دیگر شواہد اکٹھے کر کے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے سے متعلق حتمی رائے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے سلسلے میں ٹیوشن سینٹر کے مالک عبدالروف اور اس کے دو بیٹوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر تین افراد سے تفتیش جاری ہے جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی 10 سالہ طالبہ نعیمہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق بچی کی موت گلے میں پھندا لگنے سے دم گھٹنے کے باعث ہوئی جب کہ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے اتحاد کالونی اچھرہ میں ٹیوشن سینٹر جانے والی 10 سالہ معصوم طالبہ کی پر اسرار ہلاکت کے معاملے میں تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے عمل کے بعد چھٹی جماعت کی مقتول طالبہ نعیمہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے، ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجوہات بتائی گئیں ہیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں طالبہ کے گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان پایا گیا ہے اور موت کی وجہ گلے میں پھندا لگنا قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبہ کے جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر موجود واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ کی چھوٹی بہن نے سب سے پہلے واش روم کا دروازہ کھولا جب کہ دروازہ نہ کھلنے پر بڑی بہن اندر گئی اور نعیمہ کی لاش دیکھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508128/lahore-mysterious-death-of-10-year-old-girl-at-ichhra-tuition-center-owner-of-house-under-arrest'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق طالبہ کی بڑی بہن نے بیان دیا کہ نعیمہ نے 2 سال قبل گھر میں گلے میں دوپٹہ ڈال کر خودکشی کی کوشش کی تھی تاہم بچی کے والد عدنان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ کھیل کے دوران گلے میں دوپٹہ ڈال کر بچوں کے ساتھ مذاق کیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب لواحقین کا کہنا ہے کہ ٹیوشن سینٹر کے واش روم میں ایک رسی لٹک رہی تھی، جسے پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس نے ٹیوشن سینٹر سے کچھ فاصلے پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>بچی کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نعیمہ نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس سمیت دیگر شواہد اکٹھے کر کے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی واقعے سے متعلق حتمی رائے دی جائے گی۔</p>
<p>تحقیقات کے سلسلے میں ٹیوشن سینٹر کے مالک عبدالروف اور اس کے دو بیٹوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر تین افراد سے تفتیش جاری ہے جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508230</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 18:16:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/10175145020325b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/10175145020325b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>6 سالہ محمد ولی قتل کیس: مرکزی ملزم کے والد، چچا اور بھائی بھی گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508163/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 6 سالہ محمد ولی کے اغوا اور قتل کیس میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم حمزہ کے والد، چچا اور بھائی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے اہلخانہ پر جرم چھپانے اور پولیس کو بروقت اطلاع نہ دینے کا شبہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم حمزہ کے والد، چچا اور بھائی کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم کے اہلخانہ نے واقعے کو چھپانے میں معاونت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق 6 سالہ محمد ولی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں تار ڈال کر قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق واردات کے بعد ملزم نے بچے کی لاش اپنے گھر کی ایک الماری میں چھپا دی۔ بعد ازاں جب بچے کے اہلخانہ نے اس کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی اور پولیس نے تلاش شروع کی تو ملزم نے مبینہ طور پر رات کی تاریکی میں لاش گھر کی چھت سے ملحقہ خالی پلاٹ میں پھینک دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم حمزہ کو علاقے کے ایک شہری کی نشاندہی اور مدد سے گرفتار کیا گیا، جبکہ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کے اہلخانہ نے واقعے کے بارے میں پولیس کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے لی مارکیٹ میں 6 سالہ محمد ولی کے اغوا اور قتل کیس میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم حمزہ کے والد، چچا اور بھائی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے اہلخانہ پر جرم چھپانے اور پولیس کو بروقت اطلاع نہ دینے کا شبہ ہے۔</strong></p>
<p>تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم حمزہ کے والد، چچا اور بھائی کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملزم کے اہلخانہ نے واقعے کو چھپانے میں معاونت کی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق 6 سالہ محمد ولی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں تار ڈال کر قتل کیا گیا۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق واردات کے بعد ملزم نے بچے کی لاش اپنے گھر کی ایک الماری میں چھپا دی۔ بعد ازاں جب بچے کے اہلخانہ نے اس کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی اور پولیس نے تلاش شروع کی تو ملزم نے مبینہ طور پر رات کی تاریکی میں لاش گھر کی چھت سے ملحقہ خالی پلاٹ میں پھینک دی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم حمزہ کو علاقے کے ایک شہری کی نشاندہی اور مدد سے گرفتار کیا گیا، جبکہ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کے اہلخانہ نے واقعے کے بارے میں پولیس کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508163</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 11:46:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/101140132ff38b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/101140132ff38b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دولت کا لالچ؛ بچوں نے باپ کو ذہنی مریضوں کے اسپتال میں داخل کروا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508030/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرائے گئے شہری ناصر خان دولتانہ کو بازیاب کرا کے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ میں مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر ایک شہری کو ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس فاروق حیدر نے درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران تھانہ شادمان پولیس نے ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار عامر کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے عدالت کو بتایا کہ ناصر خان دولتانہ کے نام لڈن، ضلع وہاڑی میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ناصر خان دولتانہ نے 19 جون 2026 کو آٹھ ایکڑ اراضی 28 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ زمین کی فروخت کے معاہدے کے بعد ناصر خان دولتانہ کے چار بچوں نے رنجش کی بنیاد پر انہیں ذہنی مریض قرار دے دیا اور 28 جون 2026 کو زبردستی ایک ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر خان دولتانہ اس سے قبل اپنے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے نام 80 ایکڑ اراضی بھی منتقل کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں جائیداد کے تنازع پر بحالی مرکز پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک صحت مند شخص کو غیر قانونی طور پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں رکھنے کا نوٹس لیا جائے اور انہیں بازیاب کرا کے آزاد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے ناصر خان دولتانہ کو بحالی مرکز سے بازیاب کرا کے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرائے گئے شہری ناصر خان دولتانہ کو بازیاب کرا کے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔</strong></p>
<p>لاہور ہائیکورٹ میں مبینہ طور پر جائیداد کے تنازع پر ایک شہری کو ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔</p>
<p>جسٹس فاروق حیدر نے درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران تھانہ شادمان پولیس نے ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔</p>
<p>درخواست گزار عامر کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے عدالت کو بتایا کہ ناصر خان دولتانہ کے نام لڈن، ضلع وہاڑی میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ناصر خان دولتانہ نے 19 جون 2026 کو آٹھ ایکڑ اراضی 28 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ زمین کی فروخت کے معاہدے کے بعد ناصر خان دولتانہ کے چار بچوں نے رنجش کی بنیاد پر انہیں ذہنی مریض قرار دے دیا اور 28 جون 2026 کو زبردستی ایک ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کرا دیا۔</p>
<p>عدالت کو بتایا گیا کہ ناصر خان دولتانہ اس سے قبل اپنے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے نام 80 ایکڑ اراضی بھی منتقل کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں جائیداد کے تنازع پر بحالی مرکز پہنچایا گیا۔</p>
<p>درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک صحت مند شخص کو غیر قانونی طور پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں رکھنے کا نوٹس لیا جائے اور انہیں بازیاب کرا کے آزاد کیا جائے۔</p>
<p>دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے ناصر خان دولتانہ کو بحالی مرکز سے بازیاب کرا کے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508030</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 11:53:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناطق ریحان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/09130737a920d5c.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/09130737a920d5c.gif"/>
        <media:title>علامتی تصویر</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی خاتون زیادتی کیس: ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507661/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور شواہد کی تصدیق کے بعد تفتیش مزید آگے بڑھا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ حراست ملزمان میں ایک نواز نامی ملزم بھی شامل ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ملزم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے دیگر ملزمان کو بھی مبینہ جرم پر اکسایا، جس کے بعد باقی افراد نے بھی مبینہ طور پر اس واقعے میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507585/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں اس واقعے کی ایف آئی آر 2 جولائی کو درج کرائی گئی تھی۔ جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کی شکایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار ڈچ شہری اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507440/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین میں ایک نیدرلینڈ اور دوسری وینزویلا کی شہری ہیں، جو 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں اور اسی روز انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا تھا کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد کی جانب سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی کال کے بعد دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جنہیں عدالت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر چکی ہے۔ پانچویں ملزم، جو پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ ہے، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ساتھ ہی مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ زیادتی کا شکار دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے اپنے ملک روانہ ہوچکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں شراکت داری موجود تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی میں منافع کے دعوے دار تھے اور خواتین کو مزید سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور شواہد کی تصدیق کے بعد تفتیش مزید آگے بڑھا دی گئی ہے۔</p>
<p>زیرِ حراست ملزمان میں ایک نواز نامی ملزم بھی شامل ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>اسی ملزم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے دیگر ملزمان کو بھی مبینہ جرم پر اکسایا، جس کے بعد باقی افراد نے بھی مبینہ طور پر اس واقعے میں حصہ لیا۔</p>
<p>تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507585/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں اس واقعے کی ایف آئی آر 2 جولائی کو درج کرائی گئی تھی۔ جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کی شکایت کی تھی۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار ڈچ شہری اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507440/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین میں ایک نیدرلینڈ اور دوسری وینزویلا کی شہری ہیں، جو 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں اور اسی روز انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا تھا کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد کی جانب سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی کال کے بعد دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔</p>
<p>مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جنہیں عدالت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر چکی ہے۔ پانچویں ملزم، جو پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ ہے، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ساتھ ہی مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا گیا ہے۔</p>
<p>مبینہ زیادتی کا شکار دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے اپنے ملک روانہ ہوچکی تھیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں شراکت داری موجود تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی میں منافع کے دعوے دار تھے اور خواتین کو مزید سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507661</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 12:41:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/0612405309a8fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/0612405309a8fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اڈیالہ جیل کی وین سے فرار مزید تین قیدی گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507112/</link>
      <description>&lt;p&gt;راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کی قیدی وین سے فرار ہونے والے حوالاتیوں میں سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد دوبارہ گرفتار ہونے والے مفرور حوالاتیوں کی تعداد 8 ہو گئی، جبکہ 6 ملزمان اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزم کی شناخت وہاب کے نام سے ہوئی ہے، جسے گرفتار کرنے کے بعد تھانہ سہالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ چکیاں کہوٹہ روڈ پر قیدیوں کو منتقل کرنے والی وین سے مجموعی طور پر 14 حوالاتی &lt;strong&gt;فرار&lt;/strong&gt; ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 8 مفرور حوالاتیوں کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی 6 مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں درج کیا گیا ہے، جس میں غفلت اور لاپرواہی برتنے پر پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کی قیدی وین سے فرار ہونے والے حوالاتیوں میں سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد دوبارہ گرفتار ہونے والے مفرور حوالاتیوں کی تعداد 8 ہو گئی، جبکہ 6 ملزمان اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزم کی شناخت وہاب کے نام سے ہوئی ہے، جسے گرفتار کرنے کے بعد تھانہ سہالہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ چکیاں کہوٹہ روڈ پر قیدیوں کو منتقل کرنے والی وین سے مجموعی طور پر 14 حوالاتی <strong>فرار</strong> ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 8 مفرور حوالاتیوں کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی 6 مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں درج کیا گیا ہے، جس میں غفلت اور لاپرواہی برتنے پر پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507112</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:08:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/02090740a0eebed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/02090740a0eebed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
