<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:17:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 22:17:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرگودھا: ننھی منتہا سے زیادتی اور قتل کا ملزم سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506749/sargodha-accused-of-raping-and-murdering-young-muntabha-has-been-killed-in-ccd-encounter</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرگودھا میں آٹھ سال کی معصوم بچی منتہا کو مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم ارسلان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگودھا پولیس کے مطابق کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سرگودھا کی ٹیم ملزم ارسلان کو گرفتار کرنے کے بعد تھانہ جھال چکیاں کے علاقے میں قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کرانے کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں گھات لگائے بیٹھے ملزم کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں مرکزی ملزم ارسلان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بن کر موقع پر ہی مارا گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں بنا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506726/sargodha-girl-murder-case-four-suspects-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پولیس نے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر بنائی گئی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت چھ افراد کو گزشتہ روز گرفتار کیا تھا، جن میں دکان کا مالک حنیف، اس کا بیٹا اور دیگر مشتبہ افراد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو واقعے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ملی ہے جس میں معصوم بچی کو دکان کے اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے لیکن وہ وہاں سے باہر آتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتولہ بچی کے والد کی دکان کے مالک سے کچھ دن پہلے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی اور دکاندار نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں، اسی لیے پولیس اس دشمنی کے زاویے پر بھی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ بچی کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ مکمل ہونے میں مزید چوبیس گھنٹے لگ سکتے ہیں جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506696/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف معصوم منتہا کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنازے میں شہریوں اور رشتہ داروں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر غم سے نڈھال والدین اور اہل علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ کیس کے دیگر ملزمان کو بھی سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف مل سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرگودھا میں آٹھ سال کی معصوم بچی منتہا کو مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم ارسلان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔</strong></p>
<p>سرگودھا پولیس کے مطابق کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سرگودھا کی ٹیم ملزم ارسلان کو گرفتار کرنے کے بعد تھانہ جھال چکیاں کے علاقے میں قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کرانے کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں گھات لگائے بیٹھے ملزم کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔</p>
<p>اس دوران پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں مرکزی ملزم ارسلان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بن کر موقع پر ہی مارا گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں بنا دی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506726/sargodha-girl-murder-case-four-suspects-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ پولیس نے ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر بنائی گئی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت چھ افراد کو گزشتہ روز گرفتار کیا تھا، جن میں دکان کا مالک حنیف، اس کا بیٹا اور دیگر مشتبہ افراد شامل ہیں۔</p>
<p>پولیس کو واقعے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ملی ہے جس میں معصوم بچی کو دکان کے اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے لیکن وہ وہاں سے باہر آتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p>ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتولہ بچی کے والد کی دکان کے مالک سے کچھ دن پہلے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی اور دکاندار نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں، اسی لیے پولیس اس دشمنی کے زاویے پر بھی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔</p>
<p>مقتولہ بچی کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ مکمل ہونے میں مزید چوبیس گھنٹے لگ سکتے ہیں جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506696/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506696"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف معصوم منتہا کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی۔</p>
<p>جنازے میں شہریوں اور رشتہ داروں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر غم سے نڈھال والدین اور اہل علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ کیس کے دیگر ملزمان کو بھی سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506749</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 10:27:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Jahanzeb Khan)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413123105e0440.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2413123105e0440.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 30 کروڑ کی کیش وین ڈکیتی کا معمہ حل، سرغنہ گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506734/karachi-cash-van-robbery-case-solved</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے جوہر آباد میں سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر کے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس نے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے ہائی پروفائل کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے مبینہ سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد کے علاقے میں ایک سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو لوٹا گیا تھا، جس میں تقریباً 30 کروڑ روپے کی رقم چھین لی گئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد شواہد اکٹھے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کیش وین کا چیف کریو واجد مبینہ طور پر واردات میں ملوث تھا۔ حکام کے مطابق اندرونی معاونت کے شواہد سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی میں ملوث گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق گروہ کے نیٹ ورک اور واردات کی منصوبہ بندی سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی رقم اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور باقی ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے جوہر آباد میں سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر کے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی پولیس نے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے ہائی پروفائل کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے مبینہ سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد کے علاقے میں ایک سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو لوٹا گیا تھا، جس میں تقریباً 30 کروڑ روپے کی رقم چھین لی گئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد شواہد اکٹھے کیے۔</p>
<p>پولیس تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کیش وین کا چیف کریو واجد مبینہ طور پر واردات میں ملوث تھا۔ حکام کے مطابق اندرونی معاونت کے شواہد سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی میں ملوث گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق گروہ کے نیٹ ورک اور واردات کی منصوبہ بندی سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی رقم اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور باقی ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506734</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:10:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23190942e031dbd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23190942e031dbd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرگودھا: 8 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل، مرکزی ملزم سمیت 6 افراد گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506726/sargodha-girl-murder-case-four-suspects-arrested</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرگودھا کے تھانہ سٹی کی حدود میں 8 سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگودھا میں 8 سالہ بچی منتہا کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں دکان کا مالک حنیف، اس کا بیٹا اور دیگر مشتبہ افراد بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ گزشتہ روز مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں مرکزی ملزم کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر کیس کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔ پولیس کے مطابق مختلف ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد مقامات پر چھاپے مارے جبکہ مرکزی ملزم کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sargodhapolice/status/2069373759719399892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sargodhapolice/status/2069373759719399892"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتولہ کے والد کی اپنی دکان کے مالک سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق دکاندار کی جانب سے مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں، جس زاویے کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔ فوٹیج میں بچی کو ایک دکان کے اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم وہ بعد ازاں وہاں سے باہر آتی نظر نہیں آتی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مقتولہ کی میڈیکل رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔ ڈاکٹروں کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں مزید 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے بعد واقعے کی نوعیت اور موت کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مقتولہ منتہا کو گزشتہ روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر اہل خانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ غم سے نڈھال والدین نے واقعے میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے اور فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرگودھا کے تھانہ سٹی کی حدود میں 8 سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔</strong></p>
<p>سرگودھا میں 8 سالہ بچی منتہا کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں دکان کا مالک حنیف، اس کا بیٹا اور دیگر مشتبہ افراد بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ گزشتہ روز مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں مرکزی ملزم کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔</p>
<p>ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر کیس کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔ پولیس کے مطابق مختلف ٹیموں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد مقامات پر چھاپے مارے جبکہ مرکزی ملزم کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sargodhapolice/status/2069373759719399892'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sargodhapolice/status/2069373759719399892"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتولہ کے والد کی اپنی دکان کے مالک سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق دکاندار کی جانب سے مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں، جس زاویے کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔ فوٹیج میں بچی کو ایک دکان کے اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم وہ بعد ازاں وہاں سے باہر آتی نظر نہیں آتی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔</p>
<p>دوسری جانب مقتولہ کی میڈیکل رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔ ڈاکٹروں کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں مزید 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے بعد واقعے کی نوعیت اور موت کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ مقتولہ منتہا کو گزشتہ روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر اہل خانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ غم سے نڈھال والدین نے واقعے میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے اور فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506726</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 18:59:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Jahanzeb Khan)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23144741983e997.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23144741983e997.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں رنگ روڈ پر گاڑی سے لاش برآمد، پولیس کی وردی بھی موجود</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506712/lahore-ring-road-car-body-found-police-uniform</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے رنگ روڈ پر ایک گاڑی سے شہری کی لاش برآمد ہونے کے واقعے نے شہر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس کے مطابق سفید رنگ کی ایک گاڑی مشکوک حالت میں کھڑی پائی گئی جس کی تلاشی کے دوران اندر سے ایک شخص کی لاش ملی، جس کی شناخت عادل کے نام سے ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق عادل کو گاڑی کے اندر گولیاں ماری گئیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔  جب پولیس نے گاڑی کو چیک کیا تو لاش ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھی ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی رنگ روڈ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق موقع سے فرانزک ٹیموں نے اہم شواہد حاصل کیے ہیں جبکہ ایس پی کینٹ نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506650/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی سے ایک سب انسپکٹر کی وردی بھی برآمد ہوئی جس کی شناخت سب انسپکٹر طاہر کی وردی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ طاہر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں تعینات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ معاملہ قتل کے بجائے خودکشی کا بھی ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلخانہ سے حاصل ہونے والے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عادل گزشتہ کچھ عرصے سے ذہنی دباؤ اور خاندانی تنازعات کا شکار تھا۔ اہلخانہ کے مطابق اس کے خلاف مختلف اداروں میں درخواستیں بھی دائر تھیں جس کی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے کہا ہے کہ تمام زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کی اصل نوعیت پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید فرانزک نتائج کے بعد واضح ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے رنگ روڈ پر ایک گاڑی سے شہری کی لاش برآمد ہونے کے واقعے نے شہر میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ پولیس کے مطابق سفید رنگ کی ایک گاڑی مشکوک حالت میں کھڑی پائی گئی جس کی تلاشی کے دوران اندر سے ایک شخص کی لاش ملی، جس کی شناخت عادل کے نام سے ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق عادل کو گاڑی کے اندر گولیاں ماری گئیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔  جب پولیس نے گاڑی کو چیک کیا تو لاش ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھی ۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی رنگ روڈ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق موقع سے فرانزک ٹیموں نے اہم شواہد حاصل کیے ہیں جبکہ ایس پی کینٹ نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506650/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی سے ایک سب انسپکٹر کی وردی بھی برآمد ہوئی جس کی شناخت سب انسپکٹر طاہر کی وردی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ طاہر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں تعینات ہے۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں دوست تھے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ معاملہ قتل کے بجائے خودکشی کا بھی ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>اہلخانہ سے حاصل ہونے والے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عادل گزشتہ کچھ عرصے سے ذہنی دباؤ اور خاندانی تنازعات کا شکار تھا۔ اہلخانہ کے مطابق اس کے خلاف مختلف اداروں میں درخواستیں بھی دائر تھیں جس کی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا تھا۔</p>
<p>پولیس نے کہا ہے کہ تمام زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کی اصل نوعیت پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید فرانزک نتائج کے بعد واضح ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506712</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 11:01:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23110122ad6856b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23110122ad6856b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر: گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی فرانسیسی خاتون بچوں سمیت بازیاب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506696/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر کی تحصیل باڑہ میں مبینہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون کو 4 بچوں سمیت بازیاب کرالیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران فرانسیسی خاتون سلویٰ یاسمین کو بازیاب کرا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق خاتون کو ایک چھاپے کے دوران تحویل میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ غیرملکی خاتون مبینہ طور پر تشدد کا شکار تھیں، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeFaheem/status/2068990679976677664?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MeFaheem/status/2068990679976677664?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ فرانسیسی خاتون نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی تھی اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے باڑہ میں مقیم تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ذرائع کے مطابق خاتون 2014 سے تحصیل باڑہ میں رہائش پذیر تھیں۔ اس حوالے سے میاں سعید نے بتایا کہ سلویٰ یاسمین گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے علاقے میں مقیم تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506678/shikarpur-8-mourners-killed-after-a-tree-tree-collided-with-electricity-wire'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بازیابی کے بعد فرانسیسی خاتون اور ان کے چار بچوں کو مزید قانونی اور حفاظتی اقدامات کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متعلقہ قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر کی تحصیل باڑہ میں مبینہ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون کو 4 بچوں سمیت بازیاب کرالیا گیا۔</strong></p>
<p>خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران فرانسیسی خاتون سلویٰ یاسمین کو بازیاب کرا لیا۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق خاتون کو ایک چھاپے کے دوران تحویل میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ غیرملکی خاتون مبینہ طور پر تشدد کا شکار تھیں، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeFaheem/status/2068990679976677664?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MeFaheem/status/2068990679976677664?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ فرانسیسی خاتون نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی تھی اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے باڑہ میں مقیم تھیں۔</p>
<p>مقامی ذرائع کے مطابق خاتون 2014 سے تحصیل باڑہ میں رہائش پذیر تھیں۔ اس حوالے سے میاں سعید نے بتایا کہ سلویٰ یاسمین گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے علاقے میں مقیم تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506678/shikarpur-8-mourners-killed-after-a-tree-tree-collided-with-electricity-wire'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق بازیابی کے بعد فرانسیسی خاتون اور ان کے چار بچوں کو مزید قانونی اور حفاظتی اقدامات کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متعلقہ قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506696</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 16:19:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سدرۃ الزّرہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/22150333dc65dd8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/22150333dc65dd8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: شاہ لطیف ٹاؤن سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506650/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان رینجرز سندھ نے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت جاوید خان عرف سواتی کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع سوات کے علاقے شکردرہ کا رہائشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ملزم کا تعلق کالعدم دہشت گرد کمانڈر فضل اللہ گروپ سے ہے اور وہ دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مطلوب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینجرز کے مطابق جاوید خان عرف سواتی نے سال 2007 میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506102/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506102"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم متعدد اسکولوں، پولیس چوکیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس پر سرکاری اسلحہ لوٹنے اور مختلف جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کے الزامات بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ سال 2008 میں سوات میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران ملزم مینگورہ میں روپوش رہا اور بعد ازاں ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک چلا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506462/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جاوید خان سال 2022 میں دوبارہ پاکستان واپس آیا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر متحرک ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسے قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سوات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، جبکہ گرفتار ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائیوں کا بھی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان رینجرز سندھ نے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔</strong></p>
<p>ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت جاوید خان عرف سواتی کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع سوات کے علاقے شکردرہ کا رہائشی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق ملزم کا تعلق کالعدم دہشت گرد کمانڈر فضل اللہ گروپ سے ہے اور وہ دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مطلوب تھا۔</p>
<p>رینجرز کے مطابق جاوید خان عرف سواتی نے سال 2007 میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506102/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506102"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم متعدد اسکولوں، پولیس چوکیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس پر سرکاری اسلحہ لوٹنے اور مختلف جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کے الزامات بھی ہیں۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ سال 2008 میں سوات میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران ملزم مینگورہ میں روپوش رہا اور بعد ازاں ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک چلا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506462/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506462"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق جاوید خان سال 2022 میں دوبارہ پاکستان واپس آیا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر متحرک ہوگیا۔</p>
<p>رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسے قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سوات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، جبکہ گرفتار ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائیوں کا بھی امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506650</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 08:47:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/210845404ddf894.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/210845404ddf894.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی ڈی فائرنگ کیس: آسٹریلوی نژاد بچی کی ہلاکت پر پولیس سے جواب طلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506583/chakwal-hania-killing-lhc-notices-issued</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ میں چکوال میں سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ ہانیہ کے جاں بحق ہونے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر ابتدائی سماعت ہوئی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چکوال میں سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ ہانیہ کے قتل کے خلاف رٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ رٹ پٹیشن ایڈووکیٹ میاں آصف محمود نے عوامی مفاد میں دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے پٹیشن پر عائد تمام اعتراضات ختم کرتے ہوئے اسے باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او چکوال کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506542/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چکوال کا واقعہ ریاستی اداروں کے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق سی سی ڈی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ جاں بحق ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹیشن میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور یہ واقعہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے، واقعے کی عدالتی انکوائری کرائی جائے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، جب کہ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آسٹریلوی شہریت رکھنے والی چار افراد پر مشتمل یہ فیملی اپنے رشتہ داروں سے ملنے چکوال آئی تھی۔ خاندان میں 39 سالہ عدیل احمد، ان کی بیوی ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور نو سال کی بیٹی ہانیہ احمد شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 10 جون کو جب فیملی ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر گاڑی میں موجود تھی، اچانک موٹر سائیکل سوار دو ڈاکوؤں نے ان سے نقدی اور زیورات لوٹ لیے۔ اسی دوران پولیس موقع پر پہنچی تو پولیس سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ڈاکو فرار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران بچی کے والد عدیل احمد نے اپنی فیملی کو بچانے کے لیے گاڑی دور لے جانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان شدید زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روز قبل جاری ہونے والی ہانیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے 11 نشانات پائے گئے، جب کہ متعدد گولیاں لگنے اور زیادہ خون بہنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے پر آسٹریلوی حکام نے بھی نوٹس لیا تھا جب کہ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ میں چکوال میں سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ ہانیہ کے جاں بحق ہونے کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر ابتدائی سماعت ہوئی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔</strong></p>
<p>لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چکوال میں سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ ہانیہ کے قتل کے خلاف رٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ رٹ پٹیشن ایڈووکیٹ میاں آصف محمود نے عوامی مفاد میں دائر کی تھی۔</p>
<p>ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے پٹیشن پر عائد تمام اعتراضات ختم کرتے ہوئے اسے باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او چکوال کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506542/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چکوال کا واقعہ ریاستی اداروں کے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق سی سی ڈی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ جاں بحق ہوئی۔</p>
<p>پٹیشن میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور یہ واقعہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔</p>
<p>درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے، واقعے کی عدالتی انکوائری کرائی جائے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، جب کہ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ آسٹریلوی شہریت رکھنے والی چار افراد پر مشتمل یہ فیملی اپنے رشتہ داروں سے ملنے چکوال آئی تھی۔ خاندان میں 39 سالہ عدیل احمد، ان کی بیوی ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور نو سال کی بیٹی ہانیہ احمد شامل تھے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 10 جون کو جب فیملی ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر گاڑی میں موجود تھی، اچانک موٹر سائیکل سوار دو ڈاکوؤں نے ان سے نقدی اور زیورات لوٹ لیے۔ اسی دوران پولیس موقع پر پہنچی تو پولیس سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ڈاکو فرار ہوگئے۔</p>
<p>اسی دوران بچی کے والد عدیل احمد نے اپنی فیملی کو بچانے کے لیے گاڑی دور لے جانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے غلط فہمی کی بنیاد پر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان شدید زخمی ہو گئے۔</p>
<p>دو روز قبل جاری ہونے والی ہانیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے 11 نشانات پائے گئے، جب کہ متعدد گولیاں لگنے اور زیادہ خون بہنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔</p>
<p>اس واقعے پر آسٹریلوی حکام نے بھی نوٹس لیا تھا جب کہ پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث اہلکار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506583</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 18:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181850019e436b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181850019e436b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق ہانیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جسم پر گولیوں اور زخموں کے 11 نشانات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506542/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چکوال میں سی سی ڈی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی نو سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے گیارہ نشانات پائے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کی موت جسم میں متعدد گولیاں لگنے اور ان کے گہرے زخموں کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز نے اپنی رائے دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گولیاں لگنے کے بعد شدید صدمے اور جسم سے بہت زیادہ خون نکل جانے کی وجہ سے بچی کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا جس سے اس کی جان چلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کے معصوم جسم پر گولیوں اور زخموں کے مجموعی طور پر گیارہ نشانات پائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپتال میں معائنے کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا بھی برآمد ہوا ہے جسے ڈاکٹروں نے پولیس کے حوالے کر دیا ہے تاکہ گولی چلانے والے کا پتہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے بچی کی دائیں ران کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک گولی لگنے کی وجہ سے بچی کا دایاں پھیپھڑا بہت زیادہ متاثر ہوا اور اس کے اثر سے چھاتی کے اندر کافی خون جمع ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فائرنگ کے باعث معصوم بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، بچی کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے بہت گہرے زخم موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز نے بتایا کہ ہانیہ کے جسم پر موجود تمام زخم اینٹی مارٹم ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں اس وقت ماری گئیں جب بچی زندہ تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506422/revelations-of-the-fitnat-al-kharijite-in-wasiristan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506422"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ زخم اتنے شدید اور گہرے تھے کہ عام حالات میں ان کی وجہ سے کوئی بھی انسان فوراً دم توڑ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کے مطابق گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان کا وقت بالکل فوری رہا، یعنی گولی لگتے ہی بچی کی جان چلی گئی اور اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق بچی کی موت ہونے اور اس کا پوسٹ مارٹم شروع کیے جانے کے درمیان چھ سے آٹھ گھنٹے کا وقت گزرا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکسرے کی فلمیں اور دیگر تمام ضروری شواہد کو اچھی طرح سیل کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس کیس کی قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چکوال میں سی سی ڈی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی نو سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے گیارہ نشانات پائے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کی موت جسم میں متعدد گولیاں لگنے اور ان کے گہرے زخموں کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز نے اپنی رائے دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گولیاں لگنے کے بعد شدید صدمے اور جسم سے بہت زیادہ خون نکل جانے کی وجہ سے بچی کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا جس سے اس کی جان چلی گئی۔</p>
<p>پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کے معصوم جسم پر گولیوں اور زخموں کے مجموعی طور پر گیارہ نشانات پائے گئے ہیں۔</p>
<p>ہسپتال میں معائنے کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا بھی برآمد ہوا ہے جسے ڈاکٹروں نے پولیس کے حوالے کر دیا ہے تاکہ گولی چلانے والے کا پتہ لگایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں گولی لگنے سے بچی کی دائیں ران کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک گولی لگنے کی وجہ سے بچی کا دایاں پھیپھڑا بہت زیادہ متاثر ہوا اور اس کے اثر سے چھاتی کے اندر کافی خون جمع ہو گیا تھا۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فائرنگ کے باعث معصوم بچی کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہو گئی تھیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، بچی کی دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے بہت گہرے زخم موجود تھے۔</p>
<p>ڈاکٹرز نے بتایا کہ ہانیہ کے جسم پر موجود تمام زخم اینٹی مارٹم ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں اس وقت ماری گئیں جب بچی زندہ تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506422/revelations-of-the-fitnat-al-kharijite-in-wasiristan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506422"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ زخم اتنے شدید اور گہرے تھے کہ عام حالات میں ان کی وجہ سے کوئی بھی انسان فوراً دم توڑ دیتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹروں کے مطابق گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان کا وقت بالکل فوری رہا، یعنی گولی لگتے ہی بچی کی جان چلی گئی اور اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔</p>
<p>میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق بچی کی موت ہونے اور اس کا پوسٹ مارٹم شروع کیے جانے کے درمیان چھ سے آٹھ گھنٹے کا وقت گزرا تھا۔</p>
<p>ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچی کے خون آلود کپڑے، ایکسرے کی فلمیں اور دیگر تمام ضروری شواہد کو اچھی طرح سیل کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس کیس کی قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506542</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Jun 2026 13:21:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/171310207e17c94.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/171310207e17c94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈرگ ڈیلر پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا حاصل کرلیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506505/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانزک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کے مطابق حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506492/challan-in-drug-case-against-anmol-pinky-submitted-in-court-sensational-revelations'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چالان کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چالان میں بتایا گیا کہ ابتدا میں پنکی نے شریک ملزمہ صابرہ کے ذریعے لوکل بسوں سے کوکین کراچی بھیجی، ملزمہ صابرہ کو ایک پھیرے کے 50 ہزار روپے ادا کیے جاتے۔2019 میں اکاؤنٹ منجمد ہونے کے بعد پنکی نے صابرہ کے نام پراکاؤنٹ کھولے، صابرہ گرفتار ہوئی تو حمیرا کو استعمال کیا، ایک اور شریک ملزمہ اینا فی چکر 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی، کراچی سے 3 رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506148/permission-granted-to-move-cocaine-queen-pinky-to-lahore-police-to-go-to-karachi-for-investigation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چالان میں مزید کہا گیا تھا کہ پنکی نے ملزم سمیر کے نام پر بھی مختلف اکاؤنٹ کھلوا رکھے تھے، پنکی کے قبضے سے اسی ملزم سمیر کا اے ٹی ایم کارڈ بھی برآمد ہوا، پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔</p>
<p>تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔</p>
<p>فرانزک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا۔</p>
<p>تفتیشی حکام کے مطابق حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506492/challan-in-drug-case-against-anmol-pinky-submitted-in-court-sensational-revelations'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں۔</p>
<p>چالان کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔</p>
<p>چالان میں بتایا گیا کہ ابتدا میں پنکی نے شریک ملزمہ صابرہ کے ذریعے لوکل بسوں سے کوکین کراچی بھیجی، ملزمہ صابرہ کو ایک پھیرے کے 50 ہزار روپے ادا کیے جاتے۔2019 میں اکاؤنٹ منجمد ہونے کے بعد پنکی نے صابرہ کے نام پراکاؤنٹ کھولے، صابرہ گرفتار ہوئی تو حمیرا کو استعمال کیا، ایک اور شریک ملزمہ اینا فی چکر 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی، کراچی سے 3 رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506148/permission-granted-to-move-cocaine-queen-pinky-to-lahore-police-to-go-to-karachi-for-investigation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506148"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی۔</p>
<p>ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا۔</p>
<p>چالان میں مزید کہا گیا تھا کہ پنکی نے ملزم سمیر کے نام پر بھی مختلف اکاؤنٹ کھلوا رکھے تھے، پنکی کے قبضے سے اسی ملزم سمیر کا اے ٹی ایم کارڈ بھی برآمد ہوا، پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔</p>
<p>تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506505</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 13:41:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/161324384ebc3b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/161324384ebc3b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی ڈی کی فائرنگ سے آسٹریلین لڑکی کی ہلاکت، زخمیوں کی حالت کیسی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506462/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اہلکار کی مبینہ فائرنگ کے افسوس ناک واقعے میں زخمی ہونے والے آسٹریلیا پلٹ باپ اور بیٹے کا راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو اسپتال میں علاج جاری ہے، جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال ذرائع اور معالجین کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے والد اور بیٹے کو فوری طور پر بے نظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے تفصیلی طبی معائنے کے بعد آپریشن کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دونوں زخمیوں کے جسموں میں لگی گولیاں کامیابی سے نکال دی گئی ہیں، جبکہ انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ معالجین کے مطابق دونوں مریضوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور ان کی صحت میں بہتری آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ چکوال میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہانیہ جاں بحق ہوگئی تھی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506457/chakwal-ccd-official-arrested-in-murder-of-australian-girl-transferred-to-jail-on-judicial-remand'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506457"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی شہریت رکھنے والی چار افراد پر مشتمل یہ فیملی پرتھ سے چکوال میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی۔ اس خاندان میں 39 سالہ عدیل احمد، ان کی بیوی ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور نو سال کی بیٹی ہانیہ احمد شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skynews.com.au/australia-news/crime/nineyearold-australian-girl-fatally-shot-after-pakistani-police-mistook-her-familys-car-for-armed-robbers/news-story/cf0475799bbce4bd5e3dcd2a1e94160d"&gt;’اسکائی نیوز‘&lt;/a&gt; کے مطابق، بدھ کی رات یہ فیملی اپنے ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر اپنی گاڑی میں موجود تھی کہ اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ڈاکو وہاں پہنچ گئے۔ ان مسلح ڈاکوؤں نے کار کو گھیرا اور ان سے نقدی اور زیورات لوٹ لیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سڑک کے دوسری طرف موجود پولیس اسٹیشن سے ایک پولیس اہلکار واپس آ رہا تھا، جس نے یہ ڈکیتی ہوتے دیکھی اور فوراً ڈاکوؤں کو روکنے کے لیے ان پر فائرنگ کی اور دونوں طرف سے گولیوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد ڈاکو موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران بچی کے والد عدیل احمد نے اپنی فیملی کو بچانے کے لیے وہاں سے گاڑی بھگانے کی کوشش کی۔ بالکل اسی وقت پولیس کی مزید نفری بھی موقع پر پہنچ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، پولیس والوں نے عدیل احمد کو گاڑی بھگاتے دیکھا تو انہیں لگا کہ شاید یہ گاڑی ان ہی ڈاکوؤں کی ہے جو لوٹ مار کر کے بھاگ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غلط فہمی کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں نو سالہ ہانیہ احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان شدید زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے عدیل احمد کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان اس حملے میں بالکل محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اہلکار کی مبینہ فائرنگ کے افسوس ناک واقعے میں زخمی ہونے والے آسٹریلیا پلٹ باپ اور بیٹے کا راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو اسپتال میں علاج جاری ہے، جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔</strong></p>
<p>اسپتال ذرائع اور معالجین کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے والد اور بیٹے کو فوری طور پر بے نظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے تفصیلی طبی معائنے کے بعد آپریشن کیے گئے۔</p>
<p>ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دونوں زخمیوں کے جسموں میں لگی گولیاں کامیابی سے نکال دی گئی ہیں، جبکہ انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ معالجین کے مطابق دونوں مریضوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور ان کی صحت میں بہتری آرہی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ چکوال میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہانیہ جاں بحق ہوگئی تھی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506457/chakwal-ccd-official-arrested-in-murder-of-australian-girl-transferred-to-jail-on-judicial-remand'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506457"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آسٹریلوی شہریت رکھنے والی چار افراد پر مشتمل یہ فیملی پرتھ سے چکوال میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی۔ اس خاندان میں 39 سالہ عدیل احمد، ان کی بیوی ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور نو سال کی بیٹی ہانیہ احمد شامل تھے۔</p>
<p>آسٹریلوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skynews.com.au/australia-news/crime/nineyearold-australian-girl-fatally-shot-after-pakistani-police-mistook-her-familys-car-for-armed-robbers/news-story/cf0475799bbce4bd5e3dcd2a1e94160d">’اسکائی نیوز‘</a> کے مطابق، بدھ کی رات یہ فیملی اپنے ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر اپنی گاڑی میں موجود تھی کہ اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ڈاکو وہاں پہنچ گئے۔ ان مسلح ڈاکوؤں نے کار کو گھیرا اور ان سے نقدی اور زیورات لوٹ لیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506450/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی دوران سڑک کے دوسری طرف موجود پولیس اسٹیشن سے ایک پولیس اہلکار واپس آ رہا تھا، جس نے یہ ڈکیتی ہوتے دیکھی اور فوراً ڈاکوؤں کو روکنے کے لیے ان پر فائرنگ کی اور دونوں طرف سے گولیوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد ڈاکو موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>اس دوران بچی کے والد عدیل احمد نے اپنی فیملی کو بچانے کے لیے وہاں سے گاڑی بھگانے کی کوشش کی۔ بالکل اسی وقت پولیس کی مزید نفری بھی موقع پر پہنچ چکی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، پولیس والوں نے عدیل احمد کو گاڑی بھگاتے دیکھا تو انہیں لگا کہ شاید یہ گاڑی ان ہی ڈاکوؤں کی ہے جو لوٹ مار کر کے بھاگ رہے ہیں۔</p>
<p>اس غلط فہمی کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں نو سالہ ہانیہ احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کا بیٹا عفان شدید زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>خوش قسمتی سے عدیل احمد کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان اس حملے میں بالکل محفوظ رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506462</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 09:07:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/1509074279ea3d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/1509074279ea3d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 3 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے پراسرار واقعات، 2 افراد جاں بحق، 9 زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506435/shooting-incidents-in-karachi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے مختلف علاقوں میں محض تین گھنٹوں کے دوران نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں کے متعدد واقعات میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 9 شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں اتوار کے روز چند گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 9 شہری زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھیپا ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی کے علاقے رشید آباد میں مدینہ مسجد کے قریب گھر میں موجود 35 سالہ خاتون ملیار زوجہ محمد خان نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نارتھ کراچی سیکٹر 7-A بلال کالونی میں 5 سالہ بچہ عرفان ولد رحمان گھر میں موجود تھا کہ نامعلوم سمت سے چلنے والی گولی کا نشانہ بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگی ٹاؤن سیکٹر 7-A نورانی مسجد کے قریب 65 سالہ عبداللہ ولد گل رسول بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے، جبکہ نیو کراچی کے علاقے لاسی گوٹھ میں 70 سالہ رحیم بی بی زوجہ گل منان زخمی ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگی ٹاؤن بلاک ایل میں رحمانیہ مسجد کے قریب 34 سالہ یاسر ولد اسماعیل بھی نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید واقعات میں اعظم بستی لال مسجد کے قریب 40 سالہ ارشاد بی بی زوجہ خالد، کورنگی بلال کالونی سیکٹر 8-B میں 17 سالہ عافیہ دختر بخش زمان، کلفٹن پنجاب چورنگی کے قریب 35 سالہ شوکت ولد علی گل اور اورنگی ٹاؤن ہریانہ کالونی میں 13 سالہ عبدالواسط ولد عبدالواحد بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد کے جاں بحق اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فائرنگ کے واقعات میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پولیس کو گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی، جبکہ شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے مختلف علاقوں میں محض تین گھنٹوں کے دوران نامعلوم سمت سے چلنے والی گولیوں کے متعدد واقعات میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 9 شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔</strong></p>
<p>کراچی میں اتوار کے روز چند گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 9 شہری زخمی ہوگئے۔</p>
<p>چھیپا ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی کے علاقے رشید آباد میں مدینہ مسجد کے قریب گھر میں موجود 35 سالہ خاتون ملیار زوجہ محمد خان نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔</p>
<p>اسی طرح نارتھ کراچی سیکٹر 7-A بلال کالونی میں 5 سالہ بچہ عرفان ولد رحمان گھر میں موجود تھا کہ نامعلوم سمت سے چلنے والی گولی کا نشانہ بن گیا۔</p>
<p>اورنگی ٹاؤن سیکٹر 7-A نورانی مسجد کے قریب 65 سالہ عبداللہ ولد گل رسول بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے، جبکہ نیو کراچی کے علاقے لاسی گوٹھ میں 70 سالہ رحیم بی بی زوجہ گل منان زخمی ہوئیں۔</p>
<p>اورنگی ٹاؤن بلاک ایل میں رحمانیہ مسجد کے قریب 34 سالہ یاسر ولد اسماعیل بھی نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔</p>
<p>مزید واقعات میں اعظم بستی لال مسجد کے قریب 40 سالہ ارشاد بی بی زوجہ خالد، کورنگی بلال کالونی سیکٹر 8-B میں 17 سالہ عافیہ دختر بخش زمان، کلفٹن پنجاب چورنگی کے قریب 35 سالہ شوکت ولد علی گل اور اورنگی ٹاؤن ہریانہ کالونی میں 13 سالہ عبدالواسط ولد عبدالواحد بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد کے جاں بحق اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور فائرنگ کے واقعات میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
<p>ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے پولیس کو گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی، جبکہ شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506435</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 10:05:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/14094258cfd7379.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/14094258cfd7379.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھریلو ملازمہ اسقاط حمل و ہلاکت کیس: 3 لیڈی ڈاکٹرز معطل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506327/domestic-worker-abortion-and-death-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منصورہ مرزا بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ابتدائی الزامات اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں ڈاکٹرز مبینہ طور پر کیس سے متعلق شواہد کے ضیاع میں ملوث ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے معطل ڈاکٹرز کو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506306/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ گھریلو ملازمہ نے اپنے بیان میں مالک کے بیٹے عون اور ڈرائیور حسن پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس میں اسقاط حمل اور بعد ازاں ملازمہ کی ہلاکت کے معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گوجرہ میں بھی گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک نمبردار کے بیٹے عثمان نثار پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اسے بلیک میل کرتا رہا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے کیس میں سروسز اسپتال کی تین لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منصورہ مرزا بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق ابتدائی الزامات اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں ڈاکٹرز مبینہ طور پر کیس سے متعلق شواہد کے ضیاع میں ملوث ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے معطل ڈاکٹرز کو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506306/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>متاثرہ گھریلو ملازمہ نے اپنے بیان میں مالک کے بیٹے عون اور ڈرائیور حسن پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ کیس میں اسقاط حمل اور بعد ازاں ملازمہ کی ہلاکت کے معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب گوجرہ میں بھی گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک نمبردار کے بیٹے عثمان نثار پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ملازمہ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کی ویڈیو بنائی اور بعد ازاں اسے بلیک میل کرتا رہا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506327</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 09:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/11091333038e058.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/11091333038e058.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عیشال فاطمہ کیس: زیادتی کی تصدیق نہیں ہوسکی، موت کی وجہ نشہ آور چیز ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506306/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ عیشال فاطمہ کی موت کے معاملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ رپورٹ میں ابتدائی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبہ کی موت کی وجہ کسی زہریلی یا نشہ آور چیز کا استعمال ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عیشال فاطمہ چار روز سے لاپتہ تھیں۔ پیر کو کچھ نامعلوم افراد انہیں انتہائی تشویش ناک اور بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال انتظامیہ نے طالبہ کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی لیکن حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے جب تحقیقات شروع کیں تو ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی، جس میں عیشال فاطمہ کو انتہائی خراب حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2064154371143917815'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2064154371143917815"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد تفتیشی اداروں نے شواہد، بیانات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چار ملزمان کو نامزد کیا، جن میں سے تین ملزمان حسیب، امیش اور حسن اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے بتایا ہے کہ عیشال فاطمہ کے معدے سے حاصل کیے گئے نمونے مزید گہرے تجزیے کے لیے لاہور میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل اور حتمی وجہ کا پتہ چل سکے گا اور اس رپورٹ کے موصول ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ عیشال فاطمہ کی موت کے معاملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ رپورٹ میں ابتدائی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبہ کی موت کی وجہ کسی زہریلی یا نشہ آور چیز کا استعمال ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>پولیس ذرائع نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عیشال فاطمہ چار روز سے لاپتہ تھیں۔ پیر کو کچھ نامعلوم افراد انہیں انتہائی تشویش ناک اور بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔</p>
<p>اسپتال انتظامیہ نے طالبہ کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی لیکن حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے جب تحقیقات شروع کیں تو ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی، جس میں عیشال فاطمہ کو انتہائی خراب حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2064154371143917815'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2064154371143917815"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے کے بعد تفتیشی اداروں نے شواہد، بیانات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چار ملزمان کو نامزد کیا، جن میں سے تین ملزمان حسیب، امیش اور حسن اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506293/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506293"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس حکام نے بتایا ہے کہ عیشال فاطمہ کے معدے سے حاصل کیے گئے نمونے مزید گہرے تجزیے کے لیے لاہور میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل اور حتمی وجہ کا پتہ چل سکے گا اور اس رپورٹ کے موصول ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506306</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 14:35:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وحید ملک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/10143026b30748c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/10143026b30748c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اغوا، کروڑوں کا فراڈ اور دھمکیاں: لاہور میں ڈی ایس پی کا بیٹا گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506293/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے کینٹ سے پولیس نے ڈی ایس پی اظہر نوید کے بیٹے محمد نائل اظہر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ نائل خان کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں پولیس اہلکاروں کو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل خان پر شہر کے مختلف تھانوں میں اغوا، کروڑوں روپے کے مالیاتی فراڈ اور شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں، جس کے باعث وہ اور ان کے والد گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی تنازعات کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ریکارڈ کے مطابق نائل خان کے خلاف فیصل ٹاؤن تھانے میں ایک شہری حارث کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج ہے، جبکہ تھانہ سرور روڈ میں بھی شہریوں کو ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506246/quetta-husband-commits-suicide-after-killing-wife-and-4-children'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ نائل خان کا مجرمانہ ریکارڈ پرانا ہے اور ان پر سنہ 2025 میں ڈیفنس اے تھانے میں امانت میں خیانت کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائل خان اور ان کے والد ڈی ایس پی اظہر نوید اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوئے جب ان پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کے بڑے مالیاتی فراڈ کا الزام سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے فراڈ کے حوالے سے درج کرائی گئی شکایت میں ایک شہری حسام خان نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506277/fia-arrested-suspects-issuing-passports-to-afgahan-citizens'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حسام خان نے اپنے باقاعدہ بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایس پی اظہر نوید اور ان کے بیٹے نائل اظہر نے قیمتی اور پرتعیش گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ایک سودے میں دھوکہ دہی کی، انہوں نے مجھ سے تین کروڑ تینتیس لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم وصول کی لیکن نہ تو گاڑیاں فراہم کیں اور نہ ہی میری رقم واپس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو پہلے ہی گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی تھی، جبکہ ان کے بیٹے نائل اظہر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے عبوری ضمانت کی درخواست کر رکھی تھی، تاہم اب پولیس نے انہیں کینٹ کے علاقے سے حراست میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے کینٹ سے پولیس نے ڈی ایس پی اظہر نوید کے بیٹے محمد نائل اظہر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ نائل خان کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں پولیس اہلکاروں کو انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>نائل خان پر شہر کے مختلف تھانوں میں اغوا، کروڑوں روپے کے مالیاتی فراڈ اور شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں، جس کے باعث وہ اور ان کے والد گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی تنازعات کی زد میں ہیں۔</p>
<p>پولیس ریکارڈ کے مطابق نائل خان کے خلاف فیصل ٹاؤن تھانے میں ایک شہری حارث کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج ہے، جبکہ تھانہ سرور روڈ میں بھی شہریوں کو ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506246/quetta-husband-commits-suicide-after-killing-wife-and-4-children'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ نائل خان کا مجرمانہ ریکارڈ پرانا ہے اور ان پر سنہ 2025 میں ڈیفنس اے تھانے میں امانت میں خیانت کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔</p>
<p>نائل خان اور ان کے والد ڈی ایس پی اظہر نوید اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوئے جب ان پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کے بڑے مالیاتی فراڈ کا الزام سامنے آیا۔</p>
<p>اس بڑے فراڈ کے حوالے سے درج کرائی گئی شکایت میں ایک شہری حسام خان نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506277/fia-arrested-suspects-issuing-passports-to-afgahan-citizens'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حسام خان نے اپنے باقاعدہ بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایس پی اظہر نوید اور ان کے بیٹے نائل اظہر نے قیمتی اور پرتعیش گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ایک سودے میں دھوکہ دہی کی، انہوں نے مجھ سے تین کروڑ تینتیس لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم وصول کی لیکن نہ تو گاڑیاں فراہم کیں اور نہ ہی میری رقم واپس کی۔</p>
<p>اس شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو پہلے ہی گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی تھی، جبکہ ان کے بیٹے نائل اظہر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے عبوری ضمانت کی درخواست کر رکھی تھی، تاہم اب پولیس نے انہیں کینٹ کے علاقے سے حراست میں لے لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506293</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 10:19:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/10100958e00248b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/10100958e00248b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پسند کی شادی کا ہولناک انجام: نوبیاہتا دُلہا قتل، پولیس اہلکار دُلہن گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506313/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن دس نمبر میں دو ماہ قبل پسند کی شادی کرنے والے نوبیاہتا نوجوان حمزہ کی پراسرار موت کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ جسے ابتدائی طور پر خودکشی سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل ایک بے رحمانہ اور منصوبہ بند قتل نکلا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے اس لرزہ خیز واقعے میں ملوث مقتول کی بیوی دعا کو گرفتار کر لیا ہے جو خود بھی ایک پولیس اہلکار ہے، جبکہ واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول حمزہ کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور خوشیوں بھرے گھر میں اچانک ماتم چھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لواحقین کا کہنا ہے کہ حمزہ کی شادی محض دو ماہ قبل پسند کی بنیاد پر ہوئی تھی اور ابھی چند ہی دنوں بعد یعنی اٹھارہ جون کو اس کا ولیمہ ہونا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی یہ ہولناک واقعہ پیش آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کی والدہ نے روتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے جبکہ مقتول کی بہن کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کو بے دردی سے مارا گیا اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ ملزمان بچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ لرزہ خیز قتل انتہائی سفاکی سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمہ دعا نے اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر حمزہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ مقتول کے منہ میں پہلے کپڑے کا موزا ٹھونسا گیا تاکہ وہ شور نہ مچا سکے، اس کے بعد اس کے ہاتھ مضبوطی سے باندھے گئے اور پھر بے دردی سے گلا دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق، ملزمان نے جرم چھپانے کے لیے لاش کو پنکھے سے لٹکا دیا تاکہ دنیا کو یہ لگے کہ حمزہ نے خودکشی کی ہے، تاہم پولیس نے سائنسی اور روایتی تفتیش کی مدد سے سچائی کا پتہ لگا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مومن آباد پولیس نے مقتول حمزہ کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن دس نمبر میں دو ماہ قبل پسند کی شادی کرنے والے نوبیاہتا نوجوان حمزہ کی پراسرار موت کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ جسے ابتدائی طور پر خودکشی سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل ایک بے رحمانہ اور منصوبہ بند قتل نکلا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس نے اس لرزہ خیز واقعے میں ملوث مقتول کی بیوی دعا کو گرفتار کر لیا ہے جو خود بھی ایک پولیس اہلکار ہے، جبکہ واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p>مقتول حمزہ کے لواحقین شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور خوشیوں بھرے گھر میں اچانک ماتم چھا گیا ہے۔</p>
<p>لواحقین کا کہنا ہے کہ حمزہ کی شادی محض دو ماہ قبل پسند کی بنیاد پر ہوئی تھی اور ابھی چند ہی دنوں بعد یعنی اٹھارہ جون کو اس کا ولیمہ ہونا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی یہ ہولناک واقعہ پیش آ گیا۔</p>
<p>مقتول کی والدہ نے روتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے جبکہ مقتول کی بہن کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کو بے دردی سے مارا گیا اور واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ ملزمان بچ سکیں۔</p>
<p>تفتیشی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ لرزہ خیز قتل انتہائی سفاکی سے کیا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمہ دعا نے اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر حمزہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ مقتول کے منہ میں پہلے کپڑے کا موزا ٹھونسا گیا تاکہ وہ شور نہ مچا سکے، اس کے بعد اس کے ہاتھ مضبوطی سے باندھے گئے اور پھر بے دردی سے گلا دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔</p>
<p>حکام کے مطابق، ملزمان نے جرم چھپانے کے لیے لاش کو پنکھے سے لٹکا دیا تاکہ دنیا کو یہ لگے کہ حمزہ نے خودکشی کی ہے، تاہم پولیس نے سائنسی اور روایتی تفتیش کی مدد سے سچائی کا پتہ لگا لیا۔</p>
<p>مومن آباد پولیس نے مقتول حمزہ کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506313</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 15:42:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/101538037c047a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/101538037c047a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/l1Jc6Lnq-Ro/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/l1Jc6Lnq-Ro/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=l1Jc6Lnq-Ro"/>
        <media:title>Karachi Orangi Town Case | Marriage Dispute Incident | Police Detain Bride - Aaj News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جھنگ: 18 سالہ طالبہ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے ملزمان گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506272/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جھنگ میں چار روز قبل لاپتہ ہونے والی گیارہویں جماعت کی 18 سالہ طالبہ عیشال فاطمہ&lt;/strong&gt; &lt;strong&gt;کے مبینہ اغواء اور زیادتی سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اسپتال لائی جانے والی عیشال فاطمہ دورانِ علاج دم توڑ گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھنگ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے، جبکہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عیشال فاطمہ چند روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AthSal01/status/2064154371143917815'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AthSal01/status/2064154371143917815"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور طالبہ کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم افراد عیشال فاطمہ کو بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور واقعے کے حالات کے پیشِ نظر کیس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا پہلو شامل ہوسکتا ہے تاہم حتمی رائے میڈیکل، فرانزک اور دیگر تفتیشی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد طالبہ کی حالت تشویش ناک ہونے پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف شواہد اکٹھے کیے۔ دورانِ تفتیش سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں عیشال فاطمہ کو انتہائی تشویش ناک حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر حسیب، امیش اور حسن نامی تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Pmln_Pak00/status/2064233748426875245'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Pmln_Pak00/status/2064233748426875245"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لڑکی کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جھنگ میں چار روز قبل لاپتہ ہونے والی گیارہویں جماعت کی 18 سالہ طالبہ عیشال فاطمہ</strong> <strong>کے مبینہ اغواء اور زیادتی سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اسپتال لائی جانے والی عیشال فاطمہ دورانِ علاج دم توڑ گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>جھنگ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے، جبکہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>عیشال فاطمہ چند روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی، جس کے بعد اہل خانہ کی درخواست پر تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AthSal01/status/2064154371143917815'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AthSal01/status/2064154371143917815"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور طالبہ کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نامعلوم افراد عیشال فاطمہ کو بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد اور واقعے کے حالات کے پیشِ نظر کیس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا پہلو شامل ہوسکتا ہے تاہم حتمی رائے میڈیکل، فرانزک اور دیگر تفتیشی رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی قائم کی جائے گی۔</p>
<p>اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد طالبہ کی حالت تشویش ناک ہونے پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف شواہد اکٹھے کیے۔ دورانِ تفتیش سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں عیشال فاطمہ کو انتہائی تشویش ناک حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
<p>فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر حسیب، امیش اور حسن نامی تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Pmln_Pak00/status/2064233748426875245'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Pmln_Pak00/status/2064233748426875245"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب لڑکی کے والد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506272</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 16:47:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وحید ملک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/091507024fab6da.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/091507024fab6da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد شوہر کی خود کشی کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506246/quetta-husband-commits-suicide-after-killing-wife-and-4-children</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گھریلو تنازع پر شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق پیر کو کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں رہائش پذیر سرکاری ملازم محمد آصف بلوچ نے گھریلو ناچاقی کے باعث مشتعل ہوکر اپنی بیوی اور 4 بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد ملزم آصف نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی تاہم اسے تشویشناک حالت میں نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468875/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468875"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے میں جاں بحق ہونے والی خاتون اور چاروں بچوں کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول بچوں کی عمریں 4 سے 9 سال کے درمیان تھیں۔ ذرائع کے مطابق ملزم سرکاری ملازم تھا اور ایک ماہ قبل اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی جب کہ اہل علاقہ اس افسوسناک سانحے پر صدمے اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خود-کشی-کی-کوشش-کرنے-والے-شخص-کا-ویڈیو-بیان" href="#خود-کشی-کی-کوشش-کرنے-والے-شخص-کا-ویڈیو-بیان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خود کشی کی کوشش کرنے والے شخص کا ویڈیو بیان&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کوئٹہ میں شوہر کے ہاتھوں بیوی اور بچوں کے مبینہ قتل کی تحقیقات میں اہم موڑ آگیا ہے، خود کشی کی کوشش کرنے والے شخص آصف خان  نے چند روز قبل ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کیا تھا، جس میں اس نے کئی سرکاری افسران کے نام لیے تھے اور کہا تھا کہ  اسے یہ افراد تنگ کررہے ہیں اور اس کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف نے بتایا تھا کہ اسے مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اگر یہ ویڈیو دیکھیں تو اس کے ساتھ انصاف کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف کی جانب سے بیوی بچوں کو قتل کرنے کے بعد اس ویڈیو بیان کی بنیاد پر قانون حرکت میں آگیا اور کئی اعلیٰ افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ حراست میں لیے گئے افراد میں انڈر سیکریٹری آفتاب جبل، ڈائریکٹر انڈسٹریز اقبال اور سعید مینگل شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس  تحقیقات کررہی ہے کہ یہ افسران کیوں  آصف کو تنگ کررہے تھے اور اس کے اصل محرکات کیا ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گھریلو تنازع پر شوہر نے فائرنگ کرکے اپنی بیوی اور 4 بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق پیر کو کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں رہائش پذیر سرکاری ملازم محمد آصف بلوچ نے گھریلو ناچاقی کے باعث مشتعل ہوکر اپنی بیوی اور 4 بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔</p>
<p>واقعے کے بعد ملزم آصف نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی تاہم اسے تشویشناک حالت میں نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468875/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468875"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے میں جاں بحق ہونے والی خاتون اور چاروں بچوں کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول بچوں کی عمریں 4 سے 9 سال کے درمیان تھیں۔ ذرائع کے مطابق ملزم سرکاری ملازم تھا اور ایک ماہ قبل اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس آیا تھا۔</p>
<p>پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی جب کہ اہل علاقہ اس افسوسناک سانحے پر صدمے اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔</p>
<h1><a id="خود-کشی-کی-کوشش-کرنے-والے-شخص-کا-ویڈیو-بیان" href="#خود-کشی-کی-کوشش-کرنے-والے-شخص-کا-ویڈیو-بیان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خود کشی کی کوشش کرنے والے شخص کا ویڈیو بیان</strong></h1>
<p>دوسری جانب کوئٹہ میں شوہر کے ہاتھوں بیوی اور بچوں کے مبینہ قتل کی تحقیقات میں اہم موڑ آگیا ہے، خود کشی کی کوشش کرنے والے شخص آصف خان  نے چند روز قبل ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کیا تھا، جس میں اس نے کئی سرکاری افسران کے نام لیے تھے اور کہا تھا کہ  اسے یہ افراد تنگ کررہے ہیں اور اس کی زندگی اجیرن بنادی گئی ہے۔</p>
<p>آصف نے بتایا تھا کہ اسے مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اگر یہ ویڈیو دیکھیں تو اس کے ساتھ انصاف کریں۔</p>
<p>آصف کی جانب سے بیوی بچوں کو قتل کرنے کے بعد اس ویڈیو بیان کی بنیاد پر قانون حرکت میں آگیا اور کئی اعلیٰ افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ حراست میں لیے گئے افراد میں انڈر سیکریٹری آفتاب جبل، ڈائریکٹر انڈسٹریز اقبال اور سعید مینگل شامل ہیں۔</p>
<p>پولیس  تحقیقات کررہی ہے کہ یہ افسران کیوں  آصف کو تنگ کررہے تھے اور اس کے اصل محرکات کیا ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506246</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:48:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/08164901ac2ae3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/08164901ac2ae3b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: تیزاب گردی کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، متاثرہ ڈاکٹر کراچی منتقل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506190/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ ملزم اسپتال میں لفٹ آپریٹر تھا، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ کے سول اسپتال میں تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ہمایوں شاہ نامی لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر اسپتال کی ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا۔ اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم اب انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے حملے کے دوران مدد کیلئے آگے بڑھنے والے ایک اور شخص پر بھی تیزاب پھینکا تھا اور موقع سے فرار ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ وزیر صحت نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بخت محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ خاتون ڈاکٹر پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بعدازاں لیڈی ڈاکٹرماہ نور کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کی۔ پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ فرار ہونے کی کوشش میں سریاب روڈ کے بس اسٹینڈ پہنچا، جہاں پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی، اسی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور چار گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ کے سول اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ ملزم اسپتال میں لفٹ آپریٹر تھا، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج میں لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>کوئٹہ کے سول اسپتال میں تیزاب گردی کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ہمایوں شاہ نامی لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر اسپتال کی ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا۔ اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور شدید زخمی ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم اب انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔</p>
<p>ملزم نے حملے کے دوران مدد کیلئے آگے بڑھنے والے ایک اور شخص پر بھی تیزاب پھینکا تھا اور موقع سے فرار ہوگیا تھا۔</p>
<p>صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے واقعے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان کو ملزم کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ وزیر صحت نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمی ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرے گی۔</p>
<p>بخت محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ خاتون ڈاکٹر پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بعدازاں لیڈی ڈاکٹرماہ نور کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کارروائی شروع کی۔ پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ فرار ہونے کی کوشش میں سریاب روڈ کے بس اسٹینڈ پہنچا، جہاں پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی، اسی فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور چار گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506190</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 18:55:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد خالد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/06163844b21fbdb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/06163844b21fbdb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور گھریلو ملازمہ اسقاط حمل کیس: والد کے بیان نے معاملہ مشکوک بنا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506104/lahore-domestic-worker-abortion-case-fathers-statement-raises-suspicions</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہلاکت کے کیس میں نئی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل نے اس کیس کو انتہائی اہم اور ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ اپنے پاس طلب کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری فراہم کرے گی، جبکہ مقدمے میں شامل دفعات اور دیگر شواہد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ اسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے پہلے ہی درج کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے اُس دوسرے بیان سے دستبرداری کا اعلان کیا جس میں مالکان کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑکی کے والد نے اب نیا موقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتماعی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505996/female-investigation-officer-alleges-corruption-in-serial-rape-case'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لڑکی کے جاں بحق ہونے سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں عائشہ نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو بیان کے مطابق ڈرائیور حسن اسے نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی تحریری طور پر یہی بیان دے چکی تھی جس کے بعد عدالت نے مالک مکان کے بیٹے کی ضمانت منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، لیکن اب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کرکے تفتیش کو جینڈر سیل سے لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا تھا جب عائشہ کی درخواست پر ماڈل ٹاؤن پولیس نے مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ نے اپنی ابتدائی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ تھی، جہاں نومبر 2025 میں مالک مکان کا بیٹا اپنی اہلیہ سے ناراضی کے بعد رہنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ کا الزام تھا کہ مالک مکان کا بیٹا اور گھر کا ڈرائیور مختلف اوقات میں اس کا ریپ کرتے رہے جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اس نے مالکن کو بتایا تو اسے اسقاط حمل کی دوائیاں دی گئیں اور حالت خراب ہونے پر بیس دن کی چھٹی دے کر فیصل آباد گھر بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل آباد میں طبیعت زیادہ بگڑنے پر جب والدین اسے کلینک لے گئے تو انہیں حمل کا پتہ چلا۔ ایف آئی آر کے مطابق مالکان کے مشورے پر لڑکی کو دوبارہ لاہور لایا گیا جہاں مالکن اور ان کی بہن نے ڈرا دھمکا کر اس کا آپریشن کروایا تو معلوم ہوا کہ پانچ ماہ کا بچہ پیٹ میں مر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں حالت مزید خراب ہونے پر اسے سول ہسپتال داخل کرایا گیا۔ پولیس کے مطابق عائشہ 26 مئی کو سروسز ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس افسوسناک واقعے پر عائشہ کے والد جاوید نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو گھریلو کام کاج کے لیے لاہور بھجوایا تھا لیکن وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504035/lahore-police-impersonator-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ہمارا اپنی بیٹی کے ساتھ فون پر رابطہ تھا اور اس نے ابتدا میں کبھی کوئی ایسی بات نہ بتائی تھی جس سے ہمیں لگا ہو کہ اس کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والد کے مطابق جب وہ فیصل آباد آئی اور ڈاکٹر نے حمل کی تصدیق کی تو یہ بات سن کر تو میری ٹانگیں کانپ گئیں، یوں لگا جیسے ابھی آسمان میرے سر پر آ گرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ہم کمزور لوگ ہیں، مقابلہ نہیں کر سکتے، بس حکومت سے اپیل ہے وہ ہمارے ساتھ انصاف کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ملزمان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور فی الحال معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جب انہیں تفتیش کے لیے بلایا جائے گا تو وہ شامل تفتیش ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اب عائشہ کے عدالتی بیان کا دوبارہ قانونی جائزہ لے رہی ہے اور پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کی مبینہ زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہلاکت کے کیس میں نئی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>پنجاب حکومت کے پراسیکیوٹر جنرل نے اس کیس کو انتہائی اہم اور ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ اپنے پاس طلب کر لیا ہے۔</p>
<p>پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن تفتیشی افسر کو لائن آف انکوائری فراہم کرے گی، جبکہ مقدمے میں شامل دفعات اور دیگر شواہد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ لاہور میں اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ اسپتال میں دم توڑ گئی تھی جس کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے پہلے ہی درج کر رکھا ہے۔</p>
<p>اس کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کے اُس دوسرے بیان سے دستبرداری کا اعلان کیا جس میں مالکان کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>لڑکی کے والد نے اب نیا موقف اختیار کیا ہے کہ مالکان کے اجتماعی زیادتی میں ملوث نہ ہونے کا بیان دباؤ میں دیا گیا تھا اور معاملے کی ازسرنو تفتیش کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505996/female-investigation-officer-alleges-corruption-in-serial-rape-case'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب لڑکی کے جاں بحق ہونے سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں عائشہ نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ڈرائیور حسن نے کیا، جبکہ مالکان اس واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ کیس میں شامل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس ویڈیو بیان کے مطابق ڈرائیور حسن اسے نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کرتا رہا اور اسی نے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی موت سے قبل عدالت میں بھی تحریری طور پر یہی بیان دے چکی تھی جس کے بعد عدالت نے مالک مکان کے بیٹے کی ضمانت منظور کی تھی۔</p>
<p>تاہم پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کا بار بار موقف تبدیل کرنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے، لیکن اب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کرکے تفتیش کو جینڈر سیل سے لاہور انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا تھا جب عائشہ کی درخواست پر ماڈل ٹاؤن پولیس نے مبینہ اجتماعی ریپ کی ایف آئی آر درج کی تھی۔</p>
<p>عائشہ نے اپنی ابتدائی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ تھی، جہاں نومبر 2025 میں مالک مکان کا بیٹا اپنی اہلیہ سے ناراضی کے بعد رہنے آیا تھا۔</p>
<p>عائشہ کا الزام تھا کہ مالک مکان کا بیٹا اور گھر کا ڈرائیور مختلف اوقات میں اس کا ریپ کرتے رہے جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔</p>
<p>جب اس نے مالکن کو بتایا تو اسے اسقاط حمل کی دوائیاں دی گئیں اور حالت خراب ہونے پر بیس دن کی چھٹی دے کر فیصل آباد گھر بھیج دیا گیا۔</p>
<p>فیصل آباد میں طبیعت زیادہ بگڑنے پر جب والدین اسے کلینک لے گئے تو انہیں حمل کا پتہ چلا۔ ایف آئی آر کے مطابق مالکان کے مشورے پر لڑکی کو دوبارہ لاہور لایا گیا جہاں مالکن اور ان کی بہن نے ڈرا دھمکا کر اس کا آپریشن کروایا تو معلوم ہوا کہ پانچ ماہ کا بچہ پیٹ میں مر چکا ہے۔</p>
<p>بعد میں حالت مزید خراب ہونے پر اسے سول ہسپتال داخل کرایا گیا۔ پولیس کے مطابق عائشہ 26 مئی کو سروسز ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گئی۔</p>
<p>اس افسوسناک واقعے پر عائشہ کے والد جاوید نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو گھریلو کام کاج کے لیے لاہور بھجوایا تھا لیکن وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504035/lahore-police-impersonator-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ ہمارا اپنی بیٹی کے ساتھ فون پر رابطہ تھا اور اس نے ابتدا میں کبھی کوئی ایسی بات نہ بتائی تھی جس سے ہمیں لگا ہو کہ اس کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>والد کے مطابق جب وہ فیصل آباد آئی اور ڈاکٹر نے حمل کی تصدیق کی تو یہ بات سن کر تو میری ٹانگیں کانپ گئیں، یوں لگا جیسے ابھی آسمان میرے سر پر آ گرے گا۔</p>
<p>جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ہم کمزور لوگ ہیں، مقابلہ نہیں کر سکتے، بس حکومت سے اپیل ہے وہ ہمارے ساتھ انصاف کروائیں۔</p>
<p>دوسری طرف ملزمان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور فی الحال معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، جب انہیں تفتیش کے لیے بلایا جائے گا تو وہ شامل تفتیش ہو جائیں گے۔</p>
<p>پولیس اب عائشہ کے عدالتی بیان کا دوبارہ قانونی جائزہ لے رہی ہے اور پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506104</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:38:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041534280351372.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041534280351372.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: دہشت گرد عناصر ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں سرگرم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کے گٹھ جوڑ کی ایک خطرناک شکل سامنے آگئی ہے، جہاں دہشت گردی میں ملوث عناصر مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی سرگرم پائے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق بلال کالونی میں پولیس مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے ملزم نعمان برمی نے دورانِ تفتیش اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ریڈ بک میں شامل مطلوب دہشت گرد قاری جمیل برمی اسٹریٹ کرائم کے ایک منظم گینگ کی سرپرستی کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری جمیل برمی کا شمار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب خطرناک دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق گرفتار ملزم نعمان برمی دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا ہے اور اس کے گروہ نے مالی وسائل کے حصول کے لیے اسٹریٹ کرائم کا راستہ اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان موٹر سائیکلیں چھیننے، گھروں میں ڈکیتیوں اور بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506049/drug-queen-arrested-from-karachi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گرفتار ملزم بم سازی اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے کا ماہر بھی ہے، جبکہ وہ 2012 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر طویل عرصے سے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں سرگرم تھے اور ان جرائم سے حاصل ہونے والی رقم مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس گروہ کا ایک اہم کارندہ قاری بلال تھا، جو چند ماہ قبل گلستانِ جوہر میں واردات کے دوران مارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاری بلال کو ایک شہری نے مزاحمت کے دوران فائرنگ کرکے گلستانِ جوہر پل کے قریب ہلاک کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور انکشافات کی روشنی میں گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کے گٹھ جوڑ کی ایک خطرناک شکل سامنے آگئی ہے، جہاں دہشت گردی میں ملوث عناصر مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی سرگرم پائے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس حکام کے مطابق بلال کالونی میں پولیس مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے ملزم نعمان برمی نے دورانِ تفتیش اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ریڈ بک میں شامل مطلوب دہشت گرد قاری جمیل برمی اسٹریٹ کرائم کے ایک منظم گینگ کی سرپرستی کر رہا تھا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری جمیل برمی کا شمار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب خطرناک دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔</p>
<p>ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق گرفتار ملزم نعمان برمی دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا ہے اور اس کے گروہ نے مالی وسائل کے حصول کے لیے اسٹریٹ کرائم کا راستہ اختیار کیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان موٹر سائیکلیں چھیننے، گھروں میں ڈکیتیوں اور بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506049/drug-queen-arrested-from-karachi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق گرفتار ملزم بم سازی اور دھماکا خیز مواد تیار کرنے کا ماہر بھی ہے، جبکہ وہ 2012 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔</p>
<p>تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر طویل عرصے سے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں سرگرم تھے اور ان جرائم سے حاصل ہونے والی رقم مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔</p>
<p>پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس گروہ کا ایک اہم کارندہ قاری بلال تھا، جو چند ماہ قبل گلستانِ جوہر میں واردات کے دوران مارا گیا تھا۔</p>
<p>قاری بلال کو ایک شہری نے مزاحمت کے دوران فائرنگ کرکے گلستانِ جوہر پل کے قریب ہلاک کر دیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور انکشافات کی روشنی میں گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506102</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:26:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041502280b31800.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041502280b31800.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور ڈرگ کوئین گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506049/drug-queen-arrested-from-karachi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ماضی میں بھی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ہیروئن، چرس سمیت دیگر منشیات کی فروخت کے کاروبار میں ملوث تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں تقریباً 35 مقدمات درج ہیں، جبکہ وہ چند سال قبل بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق ملزمہ ماضی میں سہراب گوٹھ کے علاقے میں منشیات کا بڑا اڈہ چلاتی رہی ہے۔ دو سال قبل جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ منشیات کے کاروبار کا آغاز کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوا تھا، جس کے باعث اس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور اس کے بیٹوں سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ماضی میں بھی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔</strong></p>
<p>کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ہیروئن، چرس سمیت دیگر منشیات کی فروخت کے کاروبار میں ملوث تھی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں تقریباً 35 مقدمات درج ہیں، جبکہ وہ چند سال قبل بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات کے مطابق ملزمہ ماضی میں سہراب گوٹھ کے علاقے میں منشیات کا بڑا اڈہ چلاتی رہی ہے۔ دو سال قبل جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ منشیات کے کاروبار کا آغاز کردیا تھا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوا تھا، جس کے باعث اس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور اس کے بیٹوں سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506049</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:03:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03085808af24923.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03085808af24923.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس افسر پر ریپ کیس کے ملزم کو سہولیات دینے کا الزام لگانے والی خاتون اہلکار کی آج نیوز سے گفتگو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505996/female-investigation-officer-alleges-corruption-in-serial-rape-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سیریل ریپ کیس کی خاتون تفتیشی افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ نے اپنے ہی محکمے کے افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے الزامات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں سیریل ریپ کیس کی تفتیش کرنے والی خاتون پولیس افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں انہوں نے اپنے ہی محکمہ پولیس کے افسران پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبینا بلوچ نے دعویٰ کیا کہ سیریل ریپ کیس کی تفتیش کے دوران ڈی ایس پی نیپیئر ظفر اقبال نے مرکزی ملزم کو غیر معمولی سہولیات فراہم کیں اور تھانے کو مبینہ طور پر ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون تفتیشی افسر کے مطابق تھانے میں معمول کے سرکاری امور انجام دینے کے لیے بھی مبینہ طور پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ روزنامچہ استعمال کرنے، تفتیش کے لیے کرسی حاصل کرنے یا تھانے سے متعلق دیگر سہولیات کے استعمال کے عوض بھی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=VJ8C7xIKnn8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/VJ8C7xIKnn8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;روبینا بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ رقوم مبینہ طور پر ڈی ایس پی ظفر اقبال کو دی جاتی ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سوشل میڈیا پر تھانہ نیپئر سے متعلق وائرل لیڈی پولیس آفیسر کی ویڈیو کا ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لے لیا۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حقائق پر مبنی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SindhPoliceDMC/status/2061374173029728714'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SindhPoliceDMC/status/2061374173029728714"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک الزامات کو ابتدائی دعوے تصور کیا جائے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف بھی سنا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض صارفین نے خاتون افسر کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے انکوائری رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین کے مطابق پولیس محکمے کے اندرونی معاملات سے متعلق اس نوعیت کے الزامات نے محکمانہ احتساب، شفافیت اور تفتیشی نظام کی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ الزامات میں کس حد تک حقیقت ہے اور آیا اس معاملے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سیریل ریپ کیس کی خاتون تفتیشی افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ نے اپنے ہی محکمے کے افسران پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے الزامات سامنے آنے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں سیریل ریپ کیس کی تفتیش کرنے والی خاتون پولیس افسر سب انسپکٹر روبینا بلوچ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں انہوں نے اپنے ہی محکمہ پولیس کے افسران پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔</p>
<p>روبینا بلوچ نے دعویٰ کیا کہ سیریل ریپ کیس کی تفتیش کے دوران ڈی ایس پی نیپیئر ظفر اقبال نے مرکزی ملزم کو غیر معمولی سہولیات فراہم کیں اور تھانے کو مبینہ طور پر ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>خاتون تفتیشی افسر کے مطابق تھانے میں معمول کے سرکاری امور انجام دینے کے لیے بھی مبینہ طور پر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ روزنامچہ استعمال کرنے، تفتیش کے لیے کرسی حاصل کرنے یا تھانے سے متعلق دیگر سہولیات کے استعمال کے عوض بھی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=VJ8C7xIKnn8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/VJ8C7xIKnn8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>روبینا بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ رقوم مبینہ طور پر ڈی ایس پی ظفر اقبال کو دی جاتی ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ افسران کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دوسری جانب سوشل میڈیا پر تھانہ نیپئر سے متعلق وائرل لیڈی پولیس آفیسر کی ویڈیو کا ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لے لیا۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حقائق پر مبنی انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SindhPoliceDMC/status/2061374173029728714'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SindhPoliceDMC/status/2061374173029728714"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جس کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ نے معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک الزامات کو ابتدائی دعوے تصور کیا جائے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف بھی سنا جائے گا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض صارفین نے خاتون افسر کے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے انکوائری رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>مبصرین کے مطابق پولیس محکمے کے اندرونی معاملات سے متعلق اس نوعیت کے الزامات نے محکمانہ احتساب، شفافیت اور تفتیشی نظام کی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ الزامات میں کس حد تک حقیقت ہے اور آیا اس معاملے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505996</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 19:19:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01182239627a54d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01182239627a54d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: باتھ روم کے روشن دان سے خاتون کی ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم صابر ولد قادر کے خلاف تھانہ بلدیہ میں مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے 29 مئی کو خاتون کی نازیبا ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم باتھ روم کے روشن دان سے خاتون کی ویڈیو بنا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے دوران خاتون نے اہل خانہ کی موجودگی میں شور مچایا، جس پر ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471077'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعے کے فوری بعد ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بعد ازاں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم صابر ولد قادر کے خلاف تھانہ بلدیہ میں مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے 29 مئی کو خاتون کی نازیبا ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم باتھ روم کے روشن دان سے خاتون کی ویڈیو بنا رہا تھا۔</p>
<p>واقعے کے دوران خاتون نے اہل خانہ کی موجودگی میں شور مچایا، جس پر ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471077'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق واقعے کے فوری بعد ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بعد ازاں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505987</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 15:41:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01142315440a4e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01142315440a4e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیر زادوں کا حساس ادارے کے افسر سمیت 3 افراد پر تشدد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس بی میں مبینہ طور پر لگژری گاڑی میں سوار بااثر نوجوانوں نے راستہ مانگنے پر حساس ادارے کے ایک افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، جبکہ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی شروع کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے علاقے ڈیفنس بی میں پیش آیا جہاں شہری قوسین حیدر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک لگژری گاڑی سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی، جس پر گاڑی کو سائیڈ پر کرنے کیلئے ہارن اور ڈپر کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست کے مطابق اس بات پر لگژری گاڑی میں سوار افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مبینہ طور پر بیچ سڑک ڈنڈوں، الیکٹرک راڈ اور اسلحے کے زور پر حساس ادارے کے افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی بھی کوشش کی گئی۔ واقعے کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے جس میں مبینہ تشدد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے تشدد، حبسِ بے جا اور دھمکیوں سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق نامزد ملزمان میں لاہور کی ایک معروف کاروباری شخصیت کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس بی میں مبینہ طور پر لگژری گاڑی میں سوار بااثر نوجوانوں نے راستہ مانگنے پر حساس ادارے کے ایک افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، جبکہ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی شروع کردی۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق واقعہ لاہور کے علاقے ڈیفنس بی میں پیش آیا جہاں شہری قوسین حیدر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایک لگژری گاڑی سڑک پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی، جس پر گاڑی کو سائیڈ پر کرنے کیلئے ہارن اور ڈپر کا استعمال کیا گیا۔</p>
<p>درخواست کے مطابق اس بات پر لگژری گاڑی میں سوار افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مبینہ طور پر بیچ سڑک ڈنڈوں، الیکٹرک راڈ اور اسلحے کے زور پر حساس ادارے کے افسر سمیت تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو حبسِ بے جا میں رکھنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی بھی کوشش کی گئی۔ واقعے کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے جس میں مبینہ تشدد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>پولیس نے تشدد، حبسِ بے جا اور دھمکیوں سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق نامزد ملزمان میں لاہور کی ایک معروف کاروباری شخصیت کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505968</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 09:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01091625ec96ee3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01091625ec96ee3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ذہنی مریض بھائی نے بہن کا سر تن سے جدا کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505855/bahawalpur-mentally-ill-brother-beheads-sister</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بہاولپور کے علاقے موضع سلطان پور اوچ روڈ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر ذہنی معذور بھائی نے اپنی 20 سالہ بہن کو قتل کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق لڑکی گھر میں کھانا بنا رہی تھی کہ اس دوران اس کے سگے بھائی نے کدال کے وار کرکے اسے قتل کردیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ لڑکی کا سر تن سے جدا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ لاش کو ٹی ایچ کیو اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عمران کو گرفتار کرکے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رشتہ داروں اور اہلِ علاقہ کے مطابق ملزم عمران فاتر العقل اور ذہنی مریض ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بہاولپور کے علاقے موضع سلطان پور اوچ روڈ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر ذہنی معذور بھائی نے اپنی 20 سالہ بہن کو قتل کردیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق لڑکی گھر میں کھانا بنا رہی تھی کہ اس دوران اس کے سگے بھائی نے کدال کے وار کرکے اسے قتل کردیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ لڑکی کا سر تن سے جدا ہوگیا۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ لاش کو ٹی ایچ کیو اسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عمران کو گرفتار کرکے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>رشتہ داروں اور اہلِ علاقہ کے مطابق ملزم عمران فاتر العقل اور ذہنی مریض ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505855</guid>
      <pubDate>Wed, 27 May 2026 09:48:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسن اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/270948446407ae4.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/270948446407ae4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی فائرنگ سے قتل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505811/karachi-couple-killed-in-firing-after-love-marriage</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے ملیر میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے علاقے ملیر آر سی ڈی گراؤنڈ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کار میں سوار تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول جوڑے نے پسند کی شادی کی تھی، جب کہ جاں بحق خاتون کی شناخت نادیہ کے نام سے ہوئی ہے، واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق مقتول میاں بیوی نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی، مقتول جوڑے کے خلاف تھانہ سچل میں مقدمہ درج تھا، عدالت نے دفعہ 63 سی آر پی سی کے تحت ریلیف دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں، ملیر سعود آباد میں کار پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج نیوز کو موصول ہوگئی، فوٹیج میں موٹر سائیکل سوار 2 افراد کو سفید رنگ کی کار پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جنھوں نے انتہائی قریب سے فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے عقب سے پھر کار کے دائیں جانب سے فائرنگ کی، ملزمان چلتی گاڑی پر گولیاں برسا کر با آسانی فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے ملیر میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کی۔</strong></p>
<p>کراچی کے علاقے ملیر آر سی ڈی گراؤنڈ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کار میں سوار تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول جوڑے نے پسند کی شادی کی تھی، جب کہ جاں بحق خاتون کی شناخت نادیہ کے نام سے ہوئی ہے، واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق مقتول میاں بیوی نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی، مقتول جوڑے کے خلاف تھانہ سچل میں مقدمہ درج تھا، عدالت نے دفعہ 63 سی آر پی سی کے تحت ریلیف دیا تھا۔</p>
<p>بعدازاں، ملیر سعود آباد میں کار پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج نیوز کو موصول ہوگئی، فوٹیج میں موٹر سائیکل سوار 2 افراد کو سفید رنگ کی کار پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جنھوں نے انتہائی قریب سے فائرنگ کی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے عقب سے پھر کار کے دائیں جانب سے فائرنگ کی، ملزمان چلتی گاڑی پر گولیاں برسا کر با آسانی فرار ہو گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505811</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 21:20:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/25175435dd7af89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/25175435dd7af89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جیکب آباد: 'سرداروں کے لوگ ہم تک پہنچ گئے': پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو جان کا خطرہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505719/couple-in-jacobabad-facing-death-threat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کے ضلع جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے نے اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد حسن برڑو نے اپنی ویڈیو بیان میں کہا کہ سردار صدام حسین برڑو اس وقت کراچی میں موجود ہیں جبکہ ان کے تین افراد ان تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو قتل کروایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد حسن برڑو نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سدرہ چنہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہوں نے پسند کی شادی کی ہے اور کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی کی اجازت مذہب اور قانون دونوں دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458629/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سدرہ چنہ نے الزام عائد کیا کہ سردار صدام برڑو اور سردار احمد علی چنہ نے تنازع کھڑا کرکے 400 سے 500 افراد کے ہمراہ 121 لوگوں کے گھروں کو جلایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان سرداروں کے نام دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کیوں نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان سرداروں سے انہیں، ان کے شوہر اور دونوں خاندانوں کو جانی و مالی خطرات لاحق ہیں۔ سدرہ چنہ نے خود کو ’’سندھ کی بیٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ دونوں سرداروں کو دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کرکے تحقیقات کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ چنہ کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دونوں سردار علاقے میں خونریزی اور بڑا تصادم پیدا کر سکتے ہیں، جسے بعد میں روکنا مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کے ضلع جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے نے اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کر دی۔</strong></p>
<p>محمد حسن برڑو نے اپنی ویڈیو بیان میں کہا کہ سردار صدام حسین برڑو اس وقت کراچی میں موجود ہیں جبکہ ان کے تین افراد ان تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو قتل کروایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>محمد حسن برڑو نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب سدرہ چنہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہوں نے پسند کی شادی کی ہے اور کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی کی اجازت مذہب اور قانون دونوں دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458629/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سدرہ چنہ نے الزام عائد کیا کہ سردار صدام برڑو اور سردار احمد علی چنہ نے تنازع کھڑا کرکے 400 سے 500 افراد کے ہمراہ 121 لوگوں کے گھروں کو جلایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان سرداروں کے نام دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کیوں نہیں کیے گئے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان سرداروں سے انہیں، ان کے شوہر اور دونوں خاندانوں کو جانی و مالی خطرات لاحق ہیں۔ سدرہ چنہ نے خود کو ’’سندھ کی بیٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ دونوں سرداروں کو دہشت گردی کے مقدمات میں شامل کرکے تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p>سدرہ چنہ کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو دونوں سردار علاقے میں خونریزی اور بڑا تصادم پیدا کر سکتے ہیں، جسے بعد میں روکنا مشکل ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505719</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 13:03:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2312283675cc5da.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2312283675cc5da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے تاجروں کو دوبارہ بھتے کی پرچیاں ملنے لگیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505646/karachi-traders-start-receiving-allowance-slips-again</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں ایک بار پھر تاجر برادری بھتہ خوروں کے نشانے پر آ گئی۔ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مختلف تاجروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہونے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ ملزمان نے رقم نہ دینے اور پولیس سے رابطہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے ضلع سینٹرل میں بھتہ خوری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں تاجروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق مٹھائی کے کاروبار سے وابستہ تاجر بلال سے 10 لاکھ روپے جبکہ سگریٹ کے کاروبار سے منسلک تاجر صادق سے 15 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں واقعات کے مقدمات نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تھانے میں درج کر لیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے متن کے مطابق 17 مئی کی رات ایک نامعلوم شخص دکان پر بھتے کا لفافہ دے کر فرار ہوگیا۔ لفافے میں 10 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کی پرچی موجود تھی، جس میں تاجر کو دھمکی دی گئی کہ اگر زندگی عزیز ہے تو رقم 4K چورنگی پر پہنچا دی جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30363777/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری واردات میں ایک نامعلوم خاتون دکان پر پہنچی اور بھتے کی پرچی دے کر فوری طور پر فرار ہوگئی۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جو آج نیوز نے حاصل کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون موٹر سائیکل پر دکان کے قریب پہنچتے ہیں، جس کے بعد خاتون اتر کر دکان میں داخل ہوتی ہے اور پرچی دے کر واپس موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھتہ خوروں کی جانب سے تاجر صادق سے 15 لاکھ روپے طلب کیے گئے جبکہ پرچی میں دھمکی دی گئی کہ اگر پولیس یا کسی اور سے رابطہ کیا گیا تو باپ بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پے در پے بھتہ خوری کے واقعات کے بعد نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کے تاجروں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کیلئے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں ایک بار پھر تاجر برادری بھتہ خوروں کے نشانے پر آ گئی۔ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مختلف تاجروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہونے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ ملزمان نے رقم نہ دینے اور پولیس سے رابطہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔</strong></p>
<p>کراچی کے ضلع سینٹرل میں بھتہ خوری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں تاجروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہوئیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق مٹھائی کے کاروبار سے وابستہ تاجر بلال سے 10 لاکھ روپے جبکہ سگریٹ کے کاروبار سے منسلک تاجر صادق سے 15 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>دونوں واقعات کے مقدمات نیو کراچی انڈسٹریل ایریا تھانے میں درج کر لیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر کے متن کے مطابق 17 مئی کی رات ایک نامعلوم شخص دکان پر بھتے کا لفافہ دے کر فرار ہوگیا۔ لفافے میں 10 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کی پرچی موجود تھی، جس میں تاجر کو دھمکی دی گئی کہ اگر زندگی عزیز ہے تو رقم 4K چورنگی پر پہنچا دی جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30363777/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری واردات میں ایک نامعلوم خاتون دکان پر پہنچی اور بھتے کی پرچی دے کر فوری طور پر فرار ہوگئی۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جو آج نیوز نے حاصل کر لی۔</p>
<p>فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون موٹر سائیکل پر دکان کے قریب پہنچتے ہیں، جس کے بعد خاتون اتر کر دکان میں داخل ہوتی ہے اور پرچی دے کر واپس موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہوجاتی ہے۔</p>
<p>بھتہ خوروں کی جانب سے تاجر صادق سے 15 لاکھ روپے طلب کیے گئے جبکہ پرچی میں دھمکی دی گئی کہ اگر پولیس یا کسی اور سے رابطہ کیا گیا تو باپ بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا۔</p>
<p>پے در پے بھتہ خوری کے واقعات کے بعد نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کے تاجروں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کیلئے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505646</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 13:07:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/211304417be7e26.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/211304417be7e26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداکاروں سمیت کئی معروف نام منشیات فروش پنکی کے کسٹمر ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505619/pinky-case-16-different-accounts-traced-several-well-known-names-revealed-in-money-transfers</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے کیس میں بڑا اور سنسنی خیز موڑ آگیا، تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا، تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کردی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق رقم بھیجنے والوں میں ایم این اے صادق افتخار، اداکارمنیب بٹ، اداکارہ میرا، ماڈل سارہ سمیت دیگرشامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے ہائی پروفائل ’انمول پنکی کیس‘ میں ایک ایسا دھماکا خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی اور شوبز حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505579/anmol-pinky-drug-dealer-pinky-ctd-karachi-police-fia'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505579"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر سولہ مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505573/a-thrilling-twist-in-the-investigation-of-the-pinky-case-2-ctd-officials-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور  محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئے۔ تحقیقات کے مطابق رقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505543/journalists-blocked-from-covering-cocaine-queen-pinky'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505448/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505448"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے کیس میں بڑا اور سنسنی خیز موڑ آگیا، تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر 16 مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا، تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کردی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق رقم بھیجنے والوں میں ایم این اے صادق افتخار، اداکارمنیب بٹ، اداکارہ میرا، ماڈل سارہ سمیت دیگرشامل ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی کے ہائی پروفائل ’انمول پنکی کیس‘ میں ایک ایسا دھماکا خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی اور شوبز حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیس کی انتہائی حساس اور اہم دستاویزات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کر دی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505579/anmol-pinky-drug-dealer-pinky-ctd-karachi-police-fia'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505579"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستاویزات کے مطابق انمول پنکی کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے منتقل کرنے والوں میں حکمران اتحاد کے ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ اور پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے نام سامنے آ گئے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 6 مختلف اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 3 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا جب کہ تحقیقاتی ٹیم نے مجموعی طور پر سولہ مختلف اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا۔</p>
<p>سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق گزشتہ 18 مہینوں کے دوران 6 مختلف بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ 67 ہزار روپے منتقل کیے گئے، اس رقم کی منتقلی میں 21 خواتین اور 117 مرد شامل ہیں، جن میں ایم این اے صادق افتخار، ان کی اہلیہ سمیت اداکار منیب بٹ، اداکارہ میرا اور ماڈل سارہ کے ناموں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505573/a-thrilling-twist-in-the-investigation-of-the-pinky-case-2-ctd-officials-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیسل امیکا نامی خاتون کے ایک اکاؤنٹ میں 85 لاکھ 62 ہزار روپے منتقل ہوئے، صداقت اللہ نامی شخص کے اکاؤنٹ میں 16 لاکھ 50 ہزار روپے ڈالے گئے، ہانی فرقان کے اکاؤنٹ میں 77 لاکھ 50 ہزار اور  محمد سمیر کے اکاؤنٹ میں 63 لاکھ 75 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔</p>
<p>اسی طرح ظفرعلی کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ 80 ہزار منتقل ہوئے، اسکائے اوورسیز نامی اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل ہوئے۔ تحقیقات کے مطابق رقم منتقلی ذیشان اور سہیل نامی افراد کے ذریعے کی جاتی تھی۔</p>
<p>کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سینیٹ کمیٹی کو کیس پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنکی کیس میں لا انفورسمنٹ والوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، پنجاب میں 2018 سے 2024 تک 5 کیسز بنائے گئے، سندھ پولیس نے اب تک 4 کیسسز بنائے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505543/journalists-blocked-from-covering-cocaine-queen-pinky'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ پنکی کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی، ملزمہ کے فون کا بھی فرانزک کرایا گیا ہے، نادرا اورایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔</p>
<p>اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505448/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505448"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔</p>
<p>کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505619</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 08:44:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/202152215a9c34a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/202152215a9c34a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنکی کیس: تھانے کی ویڈیو غائب، خواتین اہلکار کلیئر، ایس ایچ او کا کردار مشکوک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505579/anmol-pinky-drug-dealer-pinky-ctd-karachi-police-fia</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی نے اپنے ہی دو اعلیٰ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر حراست اہلکاروں میں اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں جو سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل فارنزک اور موبائل ڈیٹا کی گہرائی سے جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ دونوں اہلکار ملزمہ پنکی کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں تھے اور مبینہ طور پر حساس تفتیش کے اہم راز ملزمہ تک پہنچا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران وی آئی پی پروٹوکول دینے کے معاملے پر ڈی آئی جی ویسٹ کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے جس نے محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا پول کھول دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ملزمہ پنکی پر پولیس افسران اور اہلکاروں کی غیر معمولی نوازشات کے واضح شواہد ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ کو نہ صرف پروٹوکول دیا گیا بلکہ دورانِ پیشی اسے موبائل فون بھی فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505543/journalists-blocked-from-covering-cocaine-queen-pinky'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساؤتھ زون کے بعض افسران اور گارڈن تھانے کے اہلکاروں کے درمیان مسلسل رابطے تھے اور اس پورے معاملے کو چھپانے کے لیے گارڈن تھانے کا سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی غائب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی کمیٹی نے اس غفلت پر ضلعی ایس ایس پی، ایس ایچ او گارڈن اور ایس آئی او گارڈن کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ ایس ایس پی سٹی، ایس پی انوسٹی گیشن سمیت 17 افسران و اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کا قانون کے مطابق سی آر او یعنی مجرمانہ ریکارڈ کا اندراج نہیں کرایا گیا اور آپریشن پولیس نے گرفتاری کے حوالے سے انوسٹی گیشن پولیس کو اندھیرے میں رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی کمیٹی نے ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کا کردار انتہائی مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ الگ سے انکوائری کی سفارش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، پہلے سے معطل کی جانے والی دو خواتین پولیس اہلکاروں کو کمیٹی نے کلیئر قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ اس طرح کے ہائی پروفائل کیس کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھیں اور انہیں ملزمہ کے پس منظر کے بارے میں پہلے سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505524/drug-dealer-arrested-in-hyderabad-reveals-contacts-with-10-police-officers'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505524"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملزمہ کو پروٹوکول دینے سے پولیس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ اس سنگین غفلت پر وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی اس پورے معاملے پر پولیس کی نالائقی کا اعتراف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ملزمہ پنکی کو کسی سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کیس میں کئی معتبر اور بڑے نام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید واضح کیا کہ ملزمہ کے خلاف مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ منی لانڈرنگ کے معاملے کو اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے دیکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر منگل کو ملزمہ پنکی کو سخت سیکیورٹی میں ایک بار پھر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ملزمہ کا چار مقدمات میں بائیس مئی تک جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا درخشاں اور گزری تھانوں کے دو مقدمات میں مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی نے اپنے ہی دو اعلیٰ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔</strong></p>
<p>زیر حراست اہلکاروں میں اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں جو سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات تھے۔</p>
<p>سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل فارنزک اور موبائل ڈیٹا کی گہرائی سے جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہ دونوں اہلکار ملزمہ پنکی کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں تھے اور مبینہ طور پر حساس تفتیش کے اہم راز ملزمہ تک پہنچا رہے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران وی آئی پی پروٹوکول دینے کے معاملے پر ڈی آئی جی ویسٹ کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے جس نے محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا پول کھول دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ملزمہ پنکی پر پولیس افسران اور اہلکاروں کی غیر معمولی نوازشات کے واضح شواہد ملے ہیں۔</p>
<p>تفتیشی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ کو نہ صرف پروٹوکول دیا گیا بلکہ دورانِ پیشی اسے موبائل فون بھی فراہم کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505543/journalists-blocked-from-covering-cocaine-queen-pinky'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساؤتھ زون کے بعض افسران اور گارڈن تھانے کے اہلکاروں کے درمیان مسلسل رابطے تھے اور اس پورے معاملے کو چھپانے کے لیے گارڈن تھانے کا سی سی ٹی وی ریکارڈ بھی غائب کیا گیا۔</p>
<p>تحقیقاتی کمیٹی نے اس غفلت پر ضلعی ایس ایس پی، ایس ایچ او گارڈن اور ایس آئی او گارڈن کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ ایس ایس پی سٹی، ایس پی انوسٹی گیشن سمیت 17 افسران و اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کا قانون کے مطابق سی آر او یعنی مجرمانہ ریکارڈ کا اندراج نہیں کرایا گیا اور آپریشن پولیس نے گرفتاری کے حوالے سے انوسٹی گیشن پولیس کو اندھیرے میں رکھا۔</p>
<p>تحقیقاتی کمیٹی نے ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کا کردار انتہائی مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ الگ سے انکوائری کی سفارش کی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف، پہلے سے معطل کی جانے والی دو خواتین پولیس اہلکاروں کو کمیٹی نے کلیئر قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ اس طرح کے ہائی پروفائل کیس کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھیں اور انہیں ملزمہ کے پس منظر کے بارے میں پہلے سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505524/drug-dealer-arrested-in-hyderabad-reveals-contacts-with-10-police-officers'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505524"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملزمہ کو پروٹوکول دینے سے پولیس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ اس سنگین غفلت پر وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایس پی سٹی علی حسن کو عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی اس پورے معاملے پر پولیس کی نالائقی کا اعتراف کیا ہے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ملزمہ پنکی کو کسی سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کیس میں کئی معتبر اور بڑے نام شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید واضح کیا کہ ملزمہ کے خلاف مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ منی لانڈرنگ کے معاملے کو اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے دیکھے گا۔</p>
<p>ادھر منگل کو ملزمہ پنکی کو سخت سیکیورٹی میں ایک بار پھر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ملزمہ کا چار مقدمات میں بائیس مئی تک جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا درخشاں اور گزری تھانوں کے دو مقدمات میں مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505579</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 08:36:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20083433cf01e78.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20083433cf01e78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
