<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:23:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:23:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کو 6، 6 بار سزائے موت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504602/chotu-gang-kacha-robbers-supreme-court-of-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں اور انہیں سنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی چھ چھ بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں اور انہیں سنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔</strong></p>
<p>جسٹس ہاشم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔</p>
<p>کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں۔</p>
<p>اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا۔</p>
<p>ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی۔</p>
<p>اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟</p>
<p>تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی چھ چھ بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504602</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 14:02:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/0413512993867a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/0413512993867a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں فائرنگ سے خاتون اور دو بچے قتل، ملزم نے خود کشی کر لی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504383/lah</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے مزنگ میں ایک فلیٹ کے اندر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں خاتون سمیت دو بچے جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہو گئے، پولیس کے مطابق ملزم نے واردات کے بعد خودکشی کرلی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے مزنگ میں واقع ایک رہائشی فلیٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت دو بچے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں دو بچے زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق خاتون کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ جاں بحق بچوں میں 14 سالہ مصفیرا اور 12 سالہ منیب شامل ہیں۔ زخمی بچوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30386138'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزم نے خودکشی کرلی۔ پولیس نے ملزم کی شناخت شاہد جٹ کے نام سے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے مزنگ میں ایک فلیٹ کے اندر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں خاتون سمیت دو بچے جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہو گئے، پولیس کے مطابق ملزم نے واردات کے بعد خودکشی کرلی۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے مزنگ میں واقع ایک رہائشی فلیٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت دو بچے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں دو بچے زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق خاتون کی شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ جاں بحق بچوں میں 14 سالہ مصفیرا اور 12 سالہ منیب شامل ہیں۔ زخمی بچوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30386138'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزم نے خودکشی کرلی۔ پولیس نے ملزم کی شناخت شاہد جٹ کے نام سے کی ہے۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504383</guid>
      <pubDate>Sat, 02 May 2026 09:33:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/020932116495c26.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/020932116495c26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاکھوں روپے اور نوکری کا لالچ: بیٹی نے عاشق کے ساتھ مل کر ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504154/lure-of-lakhs-of-rupees-and-a-job-daughter-along-with-her-lover-killed-her-mother</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں لالچ اور سنگدلی کی لرزہ خیز واردات میں ایک 17 سالہ لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ماں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق  پولیس کا کہنا ہے کہ  مقتولہ ناہیدہ پروین کے شوہر بجلی کے محکمے میں ملازم تھے، جن کے انتقال کے بعد ناہیدہ کو 45 لاکھ روپے کی رقم ملی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناہیدہ کی لے پالک بیٹی اس رقم کی واحد نامزد وارث تھی اور ناہیدہ اسی  بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504065/four-members-of-a-family-lost-their-lives-after-consuming-biryani-and-watermelon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لڑکی اکثر بینک سے رقم نکال کر اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ ارباز کو دیتی تھی، جس پر ناہیدہ نے سخت اعتراض کیا اور رقم دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ لڑکی اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ اور اس کے چند دوستوں کے ساتھ مل کر والدہ کے پیسے حاصل کرنے کی خواہش میں اس منصوبے میں شامل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دولت کے راستے میں ماں کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے لڑکی اور اس کے دوست نے ناہیدہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا، تاکہ وہ رقم، جائیداد اور والد کی جگہ ملنے والی سرکاری ملازمت حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 اپریل کی رات جب ناہیدہ پروین سو رہی تھیں، ملزمان نے ان پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق بیٹی نے اس قتل کے لیے 12 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملزم نے تکیے سے ناہیدہ کا منہ دبایا، جبکہ دیگر نے ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ لیے۔ مزاحمت کے دوران ناہیدہ کی گردن پر گہرا زخم آیا اور وہ دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاش کو ایک ڈیپ فریزر میں چھپا دیا گیا اور خون آلود بستر کو گھر کے قریب درختوں میں چھپا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504092/man-digs-up-sisters-skeleton'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگلی صبح، بیٹی نے رشتہ داروں کو فون کر کے بتایا کہ اس کی ماں باتھ روم میں گرنے کی وجہ سے انتقال کر گئی ہیں۔ اگلے دن مرحومہ کو دفن کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کچھ رشتہ داروں کو شک ہوا جب انہوں نے پروین کی گردن پر زخموں کے نشانات دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پروین کے بہنوئی نے اتوار کے روز تحریری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش کو قبر سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا۔ سٹی ایس پی پارس رانا کے مطابق، زیرِ حراست لڑکی نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بہار کے ضلع گیا سے بوائے فرینڈ ارباز خان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں لالچ اور سنگدلی کی لرزہ خیز واردات میں ایک 17 سالہ لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ماں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق  پولیس کا کہنا ہے کہ  مقتولہ ناہیدہ پروین کے شوہر بجلی کے محکمے میں ملازم تھے، جن کے انتقال کے بعد ناہیدہ کو 45 لاکھ روپے کی رقم ملی تھی۔</p>
<p>ناہیدہ کی لے پالک بیٹی اس رقم کی واحد نامزد وارث تھی اور ناہیدہ اسی  بیٹی کے ساتھ رہتی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504065/four-members-of-a-family-lost-their-lives-after-consuming-biryani-and-watermelon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لڑکی اکثر بینک سے رقم نکال کر اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ ارباز کو دیتی تھی، جس پر ناہیدہ نے سخت اعتراض کیا اور رقم دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔</p>
<p>تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ لڑکی اپنے 20 سالہ بوائے فرینڈ اور اس کے چند دوستوں کے ساتھ مل کر والدہ کے پیسے حاصل کرنے کی خواہش میں اس منصوبے میں شامل ہوئی۔</p>
<p>دولت کے راستے میں ماں کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے لڑکی اور اس کے دوست نے ناہیدہ کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا، تاکہ وہ رقم، جائیداد اور والد کی جگہ ملنے والی سرکاری ملازمت حاصل کر سکیں۔</p>
<p>24 اپریل کی رات جب ناہیدہ پروین سو رہی تھیں، ملزمان نے ان پر حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق بیٹی نے اس قتل کے لیے 12 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔</p>
<p>ایک ملزم نے تکیے سے ناہیدہ کا منہ دبایا، جبکہ دیگر نے ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ لیے۔ مزاحمت کے دوران ناہیدہ کی گردن پر گہرا زخم آیا اور وہ دم توڑ گئیں۔</p>
<p>لاش کو ایک ڈیپ فریزر میں چھپا دیا گیا اور خون آلود بستر کو گھر کے قریب درختوں میں چھپا دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504092/man-digs-up-sisters-skeleton'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگلی صبح، بیٹی نے رشتہ داروں کو فون کر کے بتایا کہ اس کی ماں باتھ روم میں گرنے کی وجہ سے انتقال کر گئی ہیں۔ اگلے دن مرحومہ کو دفن کر دیا گیا۔</p>
<p>تاہم کچھ رشتہ داروں کو شک ہوا جب انہوں نے پروین کی گردن پر زخموں کے نشانات دیکھے۔</p>
<p>بعد ازاں پروین کے بہنوئی نے اتوار کے روز تحریری طور پر پولیس میں شکایت درج کروائی۔</p>
<p>پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش کو قبر سے نکالا اور پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا۔ سٹی ایس پی پارس رانا کے مطابق، زیرِ حراست لڑکی نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔</p>
<p>پولیس نے بہار کے ضلع گیا سے بوائے فرینڈ ارباز خان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504154</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 11:03:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/30105722b74c663.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/30105722b74c663.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب اور سندھ میں 24 گھنٹوں کے دوران اپنوں کے ہاتھوں قتل کی کئی لرزہ خیز وارداتیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں قتل کی متعدد دل دہلا دینے والی وارداتیں سامنے آئی ہیں جہاں رشتوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے قریبی عزیزوں نے ہی ایک دوسرے کی جان لے لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگودھا کے نواحی علاقے میلوال میں رشتے کے تنازع نے تین زندگیوں کے چراغ گل کر دیے جہاں ایک ملزم نے فائرنگ کر کے اپنی چچی، کزن اور گھر کی ملازمہ کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس لرزہ خیز واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے اور مفرور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر گوجرانوالہ کے علاقے رحمت پورہ میں ایک گھر سے ماں اور بیٹی کی لاشیں ملنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا ہے جبکہ مقتولہ کی ایک بیٹی اس حملے میں خوش قسمتی سے محفوظ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک قتل کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں تاہم تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503860/lahore-children-murder-mother-confession'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لودھراں میں بھی ایک سنگین واقعہ پیش آیا جہاں عثمان نامی شخص نے اپنی بیوی مریم کا تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے ایک ماہ قبل ہی چار بچوں کی ماں مریم سے پسند کی شادی کی تھی لیکن گھریلو جھگڑے نے اس خونی انجام کی شکل اختیار کر لی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف والا میں سفاکی کی تمام حدیں اس وقت پار ہو گئیں جب ایک گھر داماد نے اپنی تریسٹھ سالہ ساس بشریٰ بی بی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ نے حال ہی میں بھینس فروخت کی تھی جس پر ملزم نے ان سے چھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور انکار پر چاقو کے وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503797/lured-by-a-promise-of-a-western-style-proposal-girlfriend-burns-her-lover-alive'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزم نے جرم چھپانے کے لیے پہلے لاش گھر میں رکھی اور پھر اس کے ٹکڑے کر کے کھیتوں میں دبا دیے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر جب ملزم سے پوچھ گچھ کی تو اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے ضلع بدین میں بھی انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں ایک نشئی بیٹے وسیم ملاح نے کلہاڑی کے وار کر کے اپنی ہی ماں کی جان لے لی۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرپورخاص میں بھی کلہاڑیوں کے وار سے لکھا ڈنو نامی شخص کو قتل کر دیا گیا، جہاں گھر والے ہی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتول کے بیٹے نے اپنے چچا کو قاتل قرار دیا جبکہ مقتول کے بھائی نے اپنے ہی بھتیجوں پر قتل کا الزام عائد کر دیا۔ پولیس نے ان تمام واقعات کی تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں قتل کی متعدد دل دہلا دینے والی وارداتیں سامنے آئی ہیں جہاں رشتوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے قریبی عزیزوں نے ہی ایک دوسرے کی جان لے لی۔</strong></p>
<p>سرگودھا کے نواحی علاقے میلوال میں رشتے کے تنازع نے تین زندگیوں کے چراغ گل کر دیے جہاں ایک ملزم نے فائرنگ کر کے اپنی چچی، کزن اور گھر کی ملازمہ کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس لرزہ خیز واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے اور مفرور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ادھر گوجرانوالہ کے علاقے رحمت پورہ میں ایک گھر سے ماں اور بیٹی کی لاشیں ملنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا ہے جبکہ مقتولہ کی ایک بیٹی اس حملے میں خوش قسمتی سے محفوظ رہی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک قتل کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں تاہم تحقیقات جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503860/lahore-children-murder-mother-confession'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لودھراں میں بھی ایک سنگین واقعہ پیش آیا جہاں عثمان نامی شخص نے اپنی بیوی مریم کا تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔</p>
<p>پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے ایک ماہ قبل ہی چار بچوں کی ماں مریم سے پسند کی شادی کی تھی لیکن گھریلو جھگڑے نے اس خونی انجام کی شکل اختیار کر لی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔</p>
<p>عارف والا میں سفاکی کی تمام حدیں اس وقت پار ہو گئیں جب ایک گھر داماد نے اپنی تریسٹھ سالہ ساس بشریٰ بی بی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ نے حال ہی میں بھینس فروخت کی تھی جس پر ملزم نے ان سے چھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور انکار پر چاقو کے وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503797/lured-by-a-promise-of-a-western-style-proposal-girlfriend-burns-her-lover-alive'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزم نے جرم چھپانے کے لیے پہلے لاش گھر میں رکھی اور پھر اس کے ٹکڑے کر کے کھیتوں میں دبا دیے۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر جب ملزم سے پوچھ گچھ کی تو اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔</p>
<p>سندھ کے ضلع بدین میں بھی انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں ایک نشئی بیٹے وسیم ملاح نے کلہاڑی کے وار کر کے اپنی ہی ماں کی جان لے لی۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p>میرپورخاص میں بھی کلہاڑیوں کے وار سے لکھا ڈنو نامی شخص کو قتل کر دیا گیا، جہاں گھر والے ہی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے نظر آئے۔</p>
<p>مقتول کے بیٹے نے اپنے چچا کو قاتل قرار دیا جبکہ مقتول کے بھائی نے اپنے ہی بھتیجوں پر قتل کا الزام عائد کر دیا۔ پولیس نے ان تمام واقعات کی تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504060</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 09:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/28090000eabd6a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/28090000eabd6a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں پولیس اہلکار بن کر شہریوں سے لوٹ مار کرنے والا ملزم گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504035/lahore-police-impersonator-arrested</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں ٹبی سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکار بن کر شہریوں کو لوٹنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا، جو مبینہ طور پر شہر میں درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے ٹبی سٹی میں پولیس نے کامیاب کارروائی کے دوران ایک ایسے ملزم کو گرفتار کیا ہے جو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے شہریوں سے نقد رقم اور موبائل فون چھینتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس پی سٹی کے مطابق ملزم چند روز قبل بھی تلاشی کے بہانے شہری سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کی واردات میں ملوث تھا، جبکہ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ ملزم اب تک 50 سے زائد وارداتیں کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم وارداتوں کے دوران پولیس یونیفارم کی پینٹ اور جوتے استعمال کرتا تھا تاکہ خود کو اہلکار ظاہر کر سکے، جبکہ شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے نیلی بتی والی موٹر سائیکل بھی استعمال کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503756/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزم شہریوں کو روک کر کہتا تھا کہ انہوں نے ناکہ توڑا ہے، لہٰذا تلاشی دینی ہوگی۔ اس دوران وہ نقد رقم اور موبائل فون چھین لیتا اور متاثرہ شہری کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر موقع سے فرار ہو جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ملزم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گلی محلوں کا سہارا لیتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی اسے واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او ٹبی سٹی حسن نقوی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں ٹبی سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکار بن کر شہریوں کو لوٹنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا، جو مبینہ طور پر شہر میں درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے ٹبی سٹی میں پولیس نے کامیاب کارروائی کے دوران ایک ایسے ملزم کو گرفتار کیا ہے جو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے شہریوں سے نقد رقم اور موبائل فون چھینتا تھا۔</p>
<p>ایس پی سٹی کے مطابق ملزم چند روز قبل بھی تلاشی کے بہانے شہری سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کی واردات میں ملوث تھا، جبکہ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ ملزم اب تک 50 سے زائد وارداتیں کر چکا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم وارداتوں کے دوران پولیس یونیفارم کی پینٹ اور جوتے استعمال کرتا تھا تاکہ خود کو اہلکار ظاہر کر سکے، جبکہ شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے نیلی بتی والی موٹر سائیکل بھی استعمال کرتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503756/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزم شہریوں کو روک کر کہتا تھا کہ انہوں نے ناکہ توڑا ہے، لہٰذا تلاشی دینی ہوگی۔ اس دوران وہ نقد رقم اور موبائل فون چھین لیتا اور متاثرہ شہری کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر موقع سے فرار ہو جاتا۔</p>
<p>حکام کے مطابق ملزم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گلی محلوں کا سہارا لیتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی اسے واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>ایس ایچ او ٹبی سٹی حسن نقوی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504035</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 12:27:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/27122718f280e79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/27122718f280e79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں تین بچوں کا ہولناک قتل، گرفتار ماں کے شوہر پر سنگین الزامات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503937/love-greed-lahore-triple-murder</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل کے کیس میں ایک نیا اور اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں گرفتار ملزمہ ردا، جو کہ بچوں کی سگی ماں ہے، اس نے پولیس تفتیش کے دوران اپنے شوہر پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے تینوں جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف تو پہلے ہی کر لیا تھا لیکن اب اس نے اس انتہائی قدم کے پیچھے چھپے گھریلو حالات سے پردہ اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ ردا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کا شوہر اسے زبردستی غیر مردوں سے فون پر بات کرنے اور ان سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا تھا جو اسے کسی صورت پسند نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کے شوہر کو شہریار نامی شخص سے اس کے رابطے کا بھی علم تھا اور شوہر کے کہنے پر ہی انہوں نے ایک پیر سے بھی رابطہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ردا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے اس غیر اخلاقی رویے اور روزانہ کے جھگڑوں کی وجہ سے اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی تھی لیکن طلاق کی صورت میں اسے اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503860/lahore-children-murder-mother-confession'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ کے بقول جب اس نے اپنے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے حوالے سے میکے والوں سے بات کی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد اسے لگا کہ طلاق کے بعد ان بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ ردا اور شہریار کے درمیان ہونے والی 746 فون کالز کا ریکارڈ مل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ملزمہ نے بچوں سے کھیلتے ہوئے انہیں باری باری قتل کیا اور تہرے قتل کے بعد کپڑے تبدیل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ہولناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزمہ نے اپنے پانچ سالہ، چار سالہ اور ڈیڑھ سالہ بچوں کے گلے کاٹ کر انہیں ابدی نیند سلا دیا اور پھر جرم چھپانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکل گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503930/kohat-firing-five-killed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واپسی پر اس نے شور مچا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے کسی نامعلوم شخص نے یہ کارروائی کی ہے اور ابتدائی طور پر اس قتل کا الزام اپنی ساس پر دھرنے کی بھی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پولیس نے جب جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو ملزمہ کے بیانات میں تضاد کھل کر سامنے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے گھریلو جھگڑوں اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو اس سفاکانہ فعل کی وجہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503931/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503931"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمہ سے ابھی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس کیس سے جڑے دیگر تمام حقائق اور شوہر کے کردار کی حقیقت کو بھی سامنے لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا اندھا قتل تھا جسے ملزمہ نے بڑی چالاکی سے چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن سائنسی بنیادوں پر کی گئی تفتیش نے آخر کار اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس کیس میں ملزمہ کے شوہر کے خلاف الزامات کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل کے کیس میں ایک نیا اور اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں گرفتار ملزمہ ردا، جو کہ بچوں کی سگی ماں ہے، اس نے پولیس تفتیش کے دوران اپنے شوہر پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے تینوں جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف تو پہلے ہی کر لیا تھا لیکن اب اس نے اس انتہائی قدم کے پیچھے چھپے گھریلو حالات سے پردہ اٹھایا ہے۔</p>
<p>ملزمہ ردا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کا شوہر اسے زبردستی غیر مردوں سے فون پر بات کرنے اور ان سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا تھا جو اسے کسی صورت پسند نہیں تھا۔</p>
<p>ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کے شوہر کو شہریار نامی شخص سے اس کے رابطے کا بھی علم تھا اور شوہر کے کہنے پر ہی انہوں نے ایک پیر سے بھی رابطہ کیا تھا۔</p>
<p>ردا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے اس غیر اخلاقی رویے اور روزانہ کے جھگڑوں کی وجہ سے اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی تھی لیکن طلاق کی صورت میں اسے اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503860/lahore-children-murder-mother-confession'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزمہ کے بقول جب اس نے اپنے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے حوالے سے میکے والوں سے بات کی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد اسے لگا کہ طلاق کے بعد ان بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ ردا اور شہریار کے درمیان ہونے والی 746 فون کالز کا ریکارڈ مل گیا ہے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ ملزمہ نے بچوں سے کھیلتے ہوئے انہیں باری باری قتل کیا اور تہرے قتل کے بعد کپڑے تبدیل کیے۔</p>
<p>پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ہولناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزمہ نے اپنے پانچ سالہ، چار سالہ اور ڈیڑھ سالہ بچوں کے گلے کاٹ کر انہیں ابدی نیند سلا دیا اور پھر جرم چھپانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکل گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503930/kohat-firing-five-killed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واپسی پر اس نے شور مچا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے کسی نامعلوم شخص نے یہ کارروائی کی ہے اور ابتدائی طور پر اس قتل کا الزام اپنی ساس پر دھرنے کی بھی کوشش کی۔</p>
<p>تاہم پولیس نے جب جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو ملزمہ کے بیانات میں تضاد کھل کر سامنے آگیا۔</p>
<p>تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے گھریلو جھگڑوں اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو اس سفاکانہ فعل کی وجہ قرار دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503931/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503931"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق ملزمہ سے ابھی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس کیس سے جڑے دیگر تمام حقائق اور شوہر کے کردار کی حقیقت کو بھی سامنے لایا جا سکے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا اندھا قتل تھا جسے ملزمہ نے بڑی چالاکی سے چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن سائنسی بنیادوں پر کی گئی تفتیش نے آخر کار اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔</p>
<p>اب اس کیس میں ملزمہ کے شوہر کے خلاف الزامات کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503937</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 19:35:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/25135617df063f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/25135617df063f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں گھریلو جھگڑے پر خاتون سمیت 4 افراد قتل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کے علاقے تھانہ نون میں گھریلو جھگڑے کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے تھانہ نون کے علاقے میں گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت چار افراد قتل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مقتولین کی لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ اصل محرکات کا تعین کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کے علاقے تھانہ نون میں گھریلو جھگڑے کے دوران فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں خاتون سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد کے تھانہ نون کے علاقے میں گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت چار افراد قتل ہو گئے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مقتولین کی لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ اصل محرکات کا تعین کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503931</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:56:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/251255218f7cf47.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/251255218f7cf47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوہاٹ: فائرنگ سے کمسن بچہ اور خاتون سمیت 5 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503930/kohat-firing-five-killed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے مضافاتی علاقے شاہی بانڈہ میں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کمسن بچے اور خاتون سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہاٹ میں تحصیل لاچی کے علاقے شاہی بانڈہ میں دو فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں افسوسناک طور پر پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کمسن بچہ اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی وجوہات معلوم کی جا رہی ہیں اور علاقے میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے مضافاتی علاقے شاہی بانڈہ میں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کمسن بچے اور خاتون سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔</strong></p>
<p>کوہاٹ میں تحصیل لاچی کے علاقے شاہی بانڈہ میں دو فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں افسوسناک طور پر پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کمسن بچہ اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی وجوہات معلوم کی جا رہی ہیں اور علاقے میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503930</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 13:19:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علیم حیدر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/25124652c15497d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/25124652c15497d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں تین بچوں کا لرزہ خیز قتل، ماں نے جرم کا اعتراف کرلیا: پولیس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503860/lahore-children-murder-mother-confession</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کے کیس میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ماں نے بچوں کے سفاکانہ قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ نے جرم چھپانے کے لیے ساس پر الزام دھرنے کی کوشش کی تاہم شواہد اور متضاد بیانات نے بھانڈا پھوڑ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق اچھرہ میں واقع ایک عمارت کے فلیٹ سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں ملنے کے اندھے قتل کا معمہ آخر کار حل ہو گیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں یہ ہولناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ بچوں کی سگی ماں نے ہی اپنے جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا اور پھر اس واقعے کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش کے آغاز ہی سے بچوں کی ماں کا کردار مشکوک تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تو شواہد اور بیانات کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف شک کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمہ نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا۔ خاتون میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکلی اور بعد ازاں اپنے شوہر کو فون کر کے گھر بلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ گھر واپس آئی تو صورتِ حال کو مختلف رخ دینے کی کوشش کی اور اس قتل کا الزام ابتدائی طور پر ساس پر ڈالنے کی کوشش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق واقعہ کی ممکنہ وجہ گزشتہ رات گھر میں پیش آنے والے گھریلو جھگڑا کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا ہے، جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لرزہ خیز واقعہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی فلیٹ سے دو بچیوں اور ایک کمسن بچے کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو بچوں کی عمریں پانچ اور چار سال جب کہ ایک بچی کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ تینوں بچوں کو مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے والدین نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلیٹ کو باہر سے تالا لگا کر بازار گئے تھے اور واپسی پر انہیں گھر میں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں۔ پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے چچا کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں بچوں کے والدین، چچی اور دادی کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ زیرِ حراست تمام افراد کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا ہے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/bP0CUb1wWG8?si=CFiT0YPW8OSsjpKw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/bP0CUb1wWG8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے گھر کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں، جس کے فرانزک تجزیے اور اوقاتِ کار کے باریک بینی سے جائزے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت والدین کے بازار جانے کے بعد بچوں کے چچا کو عمارت سے نکلتے دیکھا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی والدہ گھر واپس آتی نظر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام نے جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور واقعے کو جان بوجھ کر مختلف رخ دینے کی کوشش کے واضح شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کے کیس میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ماں نے بچوں کے سفاکانہ قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ نے جرم چھپانے کے لیے ساس پر الزام دھرنے کی کوشش کی تاہم شواہد اور متضاد بیانات نے بھانڈا پھوڑ دیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق اچھرہ میں واقع ایک عمارت کے فلیٹ سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں ملنے کے اندھے قتل کا معمہ آخر کار حل ہو گیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں یہ ہولناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ بچوں کی سگی ماں نے ہی اپنے جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا اور پھر اس واقعے کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش کے آغاز ہی سے بچوں کی ماں کا کردار مشکوک تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تو شواہد اور بیانات کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف شک کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمہ نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا۔ خاتون میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکلی اور بعد ازاں اپنے شوہر کو فون کر کے گھر بلایا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ گھر واپس آئی تو صورتِ حال کو مختلف رخ دینے کی کوشش کی اور اس قتل کا الزام ابتدائی طور پر ساس پر ڈالنے کی کوشش بھی کی۔</p>
<p>حکام کے مطابق واقعہ کی ممکنہ وجہ گزشتہ رات گھر میں پیش آنے والے گھریلو جھگڑا کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کرلیا ہے، جس کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ لرزہ خیز واقعہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی فلیٹ سے دو بچیوں اور ایک کمسن بچے کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو بچوں کی عمریں پانچ اور چار سال جب کہ ایک بچی کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ تینوں بچوں کو مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔</p>
<p>بچوں کے والدین نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلیٹ کو باہر سے تالا لگا کر بازار گئے تھے اور واپسی پر انہیں گھر میں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں۔ پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے چچا کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں بچوں کے والدین، چچی اور دادی کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا۔</p>
<p>پولیس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ زیرِ حراست تمام افراد کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا ہے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/bP0CUb1wWG8?si=CFiT0YPW8OSsjpKw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/bP0CUb1wWG8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے گھر کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں، جس کے فرانزک تجزیے اور اوقاتِ کار کے باریک بینی سے جائزے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت والدین کے بازار جانے کے بعد بچوں کے چچا کو عمارت سے نکلتے دیکھا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی والدہ گھر واپس آتی نظر آئیں۔</p>
<p>تفتیشی حکام نے جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور واقعے کو جان بوجھ کر مختلف رخ دینے کی کوشش کے واضح شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503860</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 21:06:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2320000925ffec0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2320000925ffec0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریٹائرڈ ایس پی کے بیٹے کی جھگڑے کے دوران فائرنگ، ایف بی آر افسر زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503854/retired-sp-son-firing-fbr-officer-injured</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے کلفٹن میں گاڑی ٹکرانے کے بعد ہونے والے جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایف بی آر کا ایک افسر زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا ملزم ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا بیٹا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق کلفٹن میں اوشین مال کے قریب گاڑی ٹکرانے پر دو فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا، جو شدت اختیار کرتے ہوئے فائرنگ تک جا پہنچا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایف بی آر کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات کے مطابق فائرنگ کرنے والا ملزم آغا شاہ میر ہے، جو ریٹائرڈ ایس پی آغا اصغر پٹھان کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے کلفٹن میں گاڑی ٹکرانے کے بعد ہونے والے جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایف بی آر کا ایک افسر زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا ملزم ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کا بیٹا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق کلفٹن میں اوشین مال کے قریب گاڑی ٹکرانے پر دو فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا، جو شدت اختیار کرتے ہوئے فائرنگ تک جا پہنچا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایف بی آر کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقات کے مطابق فائرنگ کرنے والا ملزم آغا شاہ میر ہے، جو ریٹائرڈ ایس پی آغا اصغر پٹھان کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503854</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 13:56:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23131634830cf28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23131634830cf28.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیرپور: ڈاکوؤں کے ٹھکانے پر پولیس کا ڈرون حملہ، 2 بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503849/khairpur-police-drone-strike</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیرپور کے نواحی گاؤں سعید لاکو میں پولیس کی جانب سے ڈرون کے ذریعے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے شدید احتجاج کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خیرپور کے نواحی علاقے گاؤں سعید لاکو میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران ڈرون کا استعمال کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ واقعے کی نوعیت اور ہلاکتوں کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد دھاریجہ برادری کے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا، جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل ہو گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے اور ٹریفک بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خیرپور میں مبینہ پولیس آپریشن کے دوران بچی سمیت تین افراد کی ہلاکت کے معاملے پر آئی جی سندھ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تین ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471799'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471799"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سکھر سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے معطل افسران کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی گھوٹکی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں حکم دیا گیا ہے کہ واقعے میں قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیرپور کے نواحی گاؤں سعید لاکو میں پولیس کی جانب سے ڈرون کے ذریعے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے شدید احتجاج کیا۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق خیرپور کے نواحی علاقے گاؤں سعید لاکو میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران ڈرون کا استعمال کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ واقعے کی نوعیت اور ہلاکتوں کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد دھاریجہ برادری کے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا، جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل ہو گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے اور ٹریفک بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب خیرپور میں مبینہ پولیس آپریشن کے دوران بچی سمیت تین افراد کی ہلاکت کے معاملے پر آئی جی سندھ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تین ایس ایچ اوز کو معطل کر دیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471799'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471799"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سکھر سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے معطل افسران کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی گھوٹکی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔</p>
<p>مزید برآں حکم دیا گیا ہے کہ واقعے میں قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503849</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 14:04:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم علی سومرو)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23112911e58edcf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23112911e58edcf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیاری گینگ وار کے اہم کارندے وصی اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503810/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم کی سنگین وارداتوں میں مطلوب لیاری گینگ وار کے مبینہ کارندے وصی اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ پولیس کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم وصی اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ وارنٹ کے اجرا کے لیے انٹرپول سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ریڈ وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق وصی اللہ لاکھو لیاری گینگ وار کا ایک اہم کارندہ ہے اور وہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات میں مطلوب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف 60 سے زائد مقدمات درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ملزم پر تاجروں کو بھتے کے لیے دھمکانے اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈ وارنٹ میں ملزم کو انتہائی خطرناک اور مفرور قرار دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹ کے اجرا کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم کی سنگین وارداتوں میں مطلوب لیاری گینگ وار کے مبینہ کارندے وصی اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>سندھ پولیس کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم وصی اللہ لاکھو کے خلاف ریڈ وارنٹ کے اجرا کے لیے انٹرپول سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ریڈ وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق وصی اللہ لاکھو لیاری گینگ وار کا ایک اہم کارندہ ہے اور وہ دہشت گردی، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات میں مطلوب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف 60 سے زائد مقدمات درج ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ملزم پر تاجروں کو بھتے کے لیے دھمکانے اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی ہیں۔</p>
<p>ریڈ وارنٹ میں ملزم کو انتہائی خطرناک اور مفرور قرار دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹ کے اجرا کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503810</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:36:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/221435505cbd1f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/221435505cbd1f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ویسٹرن اسٹائل‘ میں پروپوز کرنے کا جھانسہ، گرل فرینڈ نے محبوب کو زندہ جلا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503797/lured-by-a-promise-of-a-western-style-proposal-girlfriend-burns-her-lover-alive</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے شہر بنگلور میں ایک لرزہ خیز واقعہ میں ایک خاتون نے اپنے ہی محبوب کو ’مغربی انداز‘ میں پروپوز کرنے کا جھانسہ دے کر زندہ جلا دیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 سالہ ملزمہ پریما اور مقتول کرن ایک ہی کمپنی میں ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے درمیان گہرے مراسم تھے۔  مگرحالیہ دنوں میں مبینہ طور پر اختلافات بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499739/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منگل کی دوپہر جب کرن ملزمہ کے گھر پہنچا تو وہ اکیلی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ پریمہ نے نوجوان کرن کو کہا کہ وہ اسے ’ویسٹرن اسٹائل‘ میں پرپوز کرے گی، جس میں عام طور پر ایک پارٹنر گھٹنے ٹیک کر محبت کا اظہار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی بہانے اس نے کرن کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بھی باندھ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق جب مقتول نے اس پر سوال کیا تو پریما نے اسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ یہ سب ’پروپوزل‘ کے ڈرامے کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی کرن بے بس ہوا، ملزمہ نے پہلے سے تیار مٹی کا تیل اس پر چھڑک کر آگ لگا دی۔ کرن شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500061/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، کیونکہ جائے وقوعہ پر پہلے سے کیروسین موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ پریما گزشتہ کچھ عرصے سے کرن سے ناراض تھی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ کرن اسے نظر انداز کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا ملزمہ نے اس پوری لرزہ خیز واردات کی موبائل فون سے ویڈیو بھی بنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی سی پی (نارتھ ویسٹ) ڈی ایل ناگیش کے مطابق، مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمہ پولیس کی تحویل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں تاکہ اس خوفناک جرم کے محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے شہر بنگلور میں ایک لرزہ خیز واقعہ میں ایک خاتون نے اپنے ہی محبوب کو ’مغربی انداز‘ میں پروپوز کرنے کا جھانسہ دے کر زندہ جلا دیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 سالہ ملزمہ پریما اور مقتول کرن ایک ہی کمپنی میں ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے درمیان گہرے مراسم تھے۔  مگرحالیہ دنوں میں مبینہ طور پر اختلافات بڑھ گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499739/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>منگل کی دوپہر جب کرن ملزمہ کے گھر پہنچا تو وہ اکیلی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ پریمہ نے نوجوان کرن کو کہا کہ وہ اسے ’ویسٹرن اسٹائل‘ میں پرپوز کرے گی، جس میں عام طور پر ایک پارٹنر گھٹنے ٹیک کر محبت کا اظہار کرتا ہے۔</p>
<p>اسی بہانے اس نے کرن کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بھی باندھ دی۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق جب مقتول نے اس پر سوال کیا تو پریما نے اسے یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ یہ سب ’پروپوزل‘ کے ڈرامے کا حصہ ہے۔</p>
<p>جیسے ہی کرن بے بس ہوا، ملزمہ نے پہلے سے تیار مٹی کا تیل اس پر چھڑک کر آگ لگا دی۔ کرن شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500061/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، کیونکہ جائے وقوعہ پر پہلے سے کیروسین موجود تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ پریما گزشتہ کچھ عرصے سے کرن سے ناراض تھی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ کرن اسے نظر انداز کر رہا ہے۔</p>
<p>پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا ملزمہ نے اس پوری لرزہ خیز واردات کی موبائل فون سے ویڈیو بھی بنائی تھی۔</p>
<p>ڈی سی پی (نارتھ ویسٹ) ڈی ایل ناگیش کے مطابق، مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمہ پولیس کی تحویل میں ہے۔</p>
<p>جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں تاکہ اس خوفناک جرم کے محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503797</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 11:05:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/221058186232e68.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/221058186232e68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نواب شاہ: تھانے میں قیدی کی پراسرار ہلاکت، پولیس کا بیان سامنے آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نواب شاہ میں بی سیکشن پولیس تھانے کے لاک اپ میں زیرِ حراست ملزم ارشد بھٹی کی پراسرار ہلاکت کے بعد صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مقتول کے ورثا نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ارشد بھٹی کو دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورثا کا کہنا ہے کہ متوفی ارشد بھٹی کا تعلق شہدادپور سے تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے موبائل ٹیکنیشن تھا۔ واقعے کے بعد اہلخانہ اور مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503584/three-people-killed-in-the-name-of-honor-in-taxila'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503584"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تین روز قبل چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد اسے گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا مؤقف ہے کہ زیرحراست ملزم نے تھانے کے باتھ روم میں پھندا لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پیپلز میڈیکل یونیورسٹی منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نواب شاہ میں بی سیکشن پولیس تھانے کے لاک اپ میں زیرِ حراست ملزم ارشد بھٹی کی پراسرار ہلاکت کے بعد صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق مقتول کے ورثا نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ارشد بھٹی کو دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔</p>
<p>ورثا کا کہنا ہے کہ متوفی ارشد بھٹی کا تعلق شہدادپور سے تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے موبائل ٹیکنیشن تھا۔ واقعے کے بعد اہلخانہ اور مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503584/three-people-killed-in-the-name-of-honor-in-taxila'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503584"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تین روز قبل چوری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد اسے گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا مؤقف ہے کہ زیرحراست ملزم نے تھانے کے باتھ روم میں پھندا لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پیپلز میڈیکل یونیورسٹی منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔</p>
<p>واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503756</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:52:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21120156ad94522.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21120156ad94522.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: 15 سالہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملزم گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں 15 سالہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ملزم کو ماڈل ٹاؤن پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت رب نواز کے نام سے ہوئی ہے جو فیصل آباد کا رہائشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق متاثرہ بچی اپنے والد کے ساتھ نواز شریف پارک موجود تھی، والد کینٹین سے پانی لینے گیا تو اوباش نے لڑکی کو اکیلا پاکر چھیڑ خانی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے، سوشل میڈیا صارفین پولیس سے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں 15 سالہ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ملزم کو ماڈل ٹاؤن پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت رب نواز کے نام سے ہوئی ہے جو فیصل آباد کا رہائشی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق متاثرہ بچی اپنے والد کے ساتھ نواز شریف پارک موجود تھی، والد کینٹین سے پانی لینے گیا تو اوباش نے لڑکی کو اکیلا پاکر چھیڑ خانی کی تھی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے، سوشل میڈیا صارفین پولیس سے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503773</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 15:59:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21155906441df23.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21155906441df23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر پولیس کا مبینہ تشدد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503706/lahore-domestic-worker-police-alleged-torture</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس کی جانب سے گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی منظرعام پر آگیا، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ لڑکی نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار انہیں تھانے لے گئے جہاں ان پر تھپڑ مارے گئے اور بہیمانہ تشدد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑکی کے مطابق پولیس اہلکار ان پر انگوٹھی چوری کا الزام تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، تاہم انکار کرنے پر انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو بیان میں متاثرہ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ دورانِ حراست کوئی لیڈی پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک اہلکار نے اس کے بھائی کو بھی تھپڑ مارے اور اسے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے کہا کہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس کی جانب سے گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان بھی منظرعام پر آگیا، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے ڈیفنس اے میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک گھریلو ملازمہ اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔</p>
<p>متاثرہ لڑکی نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار انہیں تھانے لے گئے جہاں ان پر تھپڑ مارے گئے اور بہیمانہ تشدد کیا گیا۔</p>
<p>لڑکی کے مطابق پولیس اہلکار ان پر انگوٹھی چوری کا الزام تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، تاہم انکار کرنے پر انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو بیان میں متاثرہ لڑکی نے یہ بھی کہا کہ دورانِ حراست کوئی لیڈی پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔</p>
<p>متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک اہلکار نے اس کے بھائی کو بھی تھپڑ مارے اور اسے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے کہا کہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔</p>
<p>واقعے کے سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔</p>
<p>متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503706</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:41:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/200940494d96f4a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/200940494d96f4a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پسند کی شادی: بھائی نے بہن، بہنوئی اور بھابھی کو قتل کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503584/three-people-killed-in-the-name-of-honor-in-taxila</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکسلا میں نام نہاد غیرت کے نام پر افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے تیز دھار آلے سے اپنی بہن، بہنوئی اور بھابھی کو قتل کر دیا، واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا جبکہ پولیس نے تلاش شروع کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم نجیب اللہ نے تیز دھار آلے سے حملہ کر کے اپنی بہن، بہنوئی اور بھابھی کا گلا کاٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا ہے جس کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے، جبکہ پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات کے مطابق 23 سالہ مقتولہ نے پسند کی شادی کی تھی، جس پر ملزم نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 40 سالہ خاتون، 26 سالہ نوجوان اور 23 سالہ لڑکی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ سی پی او راولپنڈی کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکسلا میں نام نہاد غیرت کے نام پر افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے تیز دھار آلے سے اپنی بہن، بہنوئی اور بھابھی کو قتل کر دیا، واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا جبکہ پولیس نے تلاش شروع کر دی ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم نجیب اللہ نے تیز دھار آلے سے حملہ کر کے اپنی بہن، بہنوئی اور بھابھی کا گلا کاٹ دیا۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا ہے جس کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے، جبکہ پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقات کے مطابق 23 سالہ مقتولہ نے پسند کی شادی کی تھی، جس پر ملزم نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ جاں بحق ہونے والوں میں 40 سالہ خاتون، 26 سالہ نوجوان اور 23 سالہ لڑکی شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ سی پی او راولپنڈی کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503584</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 14:58:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1612072983256f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1612072983256f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیرپور : جرگے کے حکم پر خاتون قتل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503531/khairpur-woman-killed-jirga-order-video-viral</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیر پور میں میں سیاہ کاری کے الزام پر جرگے کے حکم کے بعد ایک خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق 10 اپریل کو ٹنڈو مستی کے قریب خاتون خالدہ چانڈیو کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، جن میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترقی نسواں سندھ شاہینہ شیر علی نے خیرپورمیں نام نہاد غیرت کے نام پر خاتون کے قتل کا نوٹس لے لیا ہے۔ شاہینہ شیرعلی نے کہا کہ غیرت کے نام پر خاتون کو بے دردی سے قتل کیا جانا انتہائی افسوسناک و قابل مذمت ہے، افسوسناک واقعے میں علاقہ مکینوں کی جانب سے خاموش تماشائی کا کردار بھی قابل افسوس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہینہ شیر علی نے ڈی آئی جی سکھر سے واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، کہا واقعے میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، سخت کاروائی کی جائے، حکومت سندھ نے خواتین کے فوری تحفظ کے لیے سیف ہاؤسز و دارالامان قائم کیے ہیں، گھریلو و صنفی تشدد کی شکار خواتین خود کو تنہا نہ سمجھیں، مزید تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیر پور میں میں سیاہ کاری کے الزام پر جرگے کے حکم کے بعد ایک خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق 10 اپریل کو ٹنڈو مستی کے قریب خاتون خالدہ چانڈیو کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔</p>
<p>واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، جن میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترقی نسواں سندھ شاہینہ شیر علی نے خیرپورمیں نام نہاد غیرت کے نام پر خاتون کے قتل کا نوٹس لے لیا ہے۔ شاہینہ شیرعلی نے کہا کہ غیرت کے نام پر خاتون کو بے دردی سے قتل کیا جانا انتہائی افسوسناک و قابل مذمت ہے، افسوسناک واقعے میں علاقہ مکینوں کی جانب سے خاموش تماشائی کا کردار بھی قابل افسوس ہے۔</p>
<p>شاہینہ شیر علی نے ڈی آئی جی سکھر سے واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، کہا واقعے میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں، سخت کاروائی کی جائے، حکومت سندھ نے خواتین کے فوری تحفظ کے لیے سیف ہاؤسز و دارالامان قائم کیے ہیں، گھریلو و صنفی تشدد کی شکار خواتین خود کو تنہا نہ سمجھیں، مزید تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503531</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 12:19:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم علی سومرو)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/15110106d0d255b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/15110106d0d255b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں 29 ارب سے زائد ایرانی ریال اسمگل کرنے کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503512/karachi-iranian-currency-smuggling-attempt-foiled</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں کیماڑی پولیس نے اربوں روپے کی ایرانی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسمگلنگ نیٹ ورک کے 9 ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق منگل کو کراچی کے ضلع کیماڑی میں موچکو پولیس نے بین الصوبائی اسمگلروں کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 29 ارب 69 کروڑ سے زائد ایرانی ریال اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی جانے والی کارروائی میں ایک انتہائی مطلوب اسمگلنگ نیٹ ورک کے 9 ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان دو گاڑیوں میں سوار ہو کر بلوچستان کے راستے کراچی پہنچے تھے، جن کی تلاشی لینے پر ایرانی کرنسی کے 236 بنڈل برآمد ہوئے جن کی مجموعی مالیت اربوں میں بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار ملزمان میں گروہ کا سرغنہ اصغر، عبدالغفار، تاج محمد، نسیم اور دیگر شامل ہیں جب کہ خواتین میں بی بی سہارا، گل سیما اور بی بی افسانہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیماڑی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد تمام ملزمان، برآمد ہونے والی کرنسی اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں کیماڑی پولیس نے اربوں روپے کی ایرانی کرنسی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسمگلنگ نیٹ ورک کے 9 ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس حکام کے مطابق منگل کو کراچی کے ضلع کیماڑی میں موچکو پولیس نے بین الصوبائی اسمگلروں کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 29 ارب 69 کروڑ سے زائد ایرانی ریال اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی جانے والی کارروائی میں ایک انتہائی مطلوب اسمگلنگ نیٹ ورک کے 9 ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ملزمان دو گاڑیوں میں سوار ہو کر بلوچستان کے راستے کراچی پہنچے تھے، جن کی تلاشی لینے پر ایرانی کرنسی کے 236 بنڈل برآمد ہوئے جن کی مجموعی مالیت اربوں میں بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>گرفتار ملزمان میں گروہ کا سرغنہ اصغر، عبدالغفار، تاج محمد، نسیم اور دیگر شامل ہیں جب کہ خواتین میں بی بی سہارا، گل سیما اور بی بی افسانہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔</p>
<p>کیماڑی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد تمام ملزمان، برآمد ہونے والی کرنسی اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503512</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 19:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انور)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1419295329d50e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1419295329d50e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: سریاب روڈ پر فائرنگ کا واقعہ، تین افراد جاں بحق دو زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503495/quetta-saryab-road-shooting-three-killed-two-injured</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے ہیں، واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر قبائلی تنازع کے باعث پیش آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503440/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے بعد جاں بحق افراد اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے ہیں، واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر قبائلی تنازع کے باعث پیش آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503440/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فائرنگ کے بعد جاں بحق افراد اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش بھی جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503495</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 12:40:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/141239457eaa491.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/141239457eaa491.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس پارٹی پر فائرنگ، ایک اہلکار شہید 4 زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503440/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہنگو میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور پولیس پارٹی پر نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ ٹل پولیس اسٹیشن کے علاقے چھپری وزیران کے قریب پیش آیا، جہاں پولیو مہم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار اسرار الحق شہید ہو گئے جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق شہید ہونے والے اہلکار اسرار الحق کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا اور وہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں انٹرمیڈیٹ کورس کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہنگو میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور پولیس پارٹی پر نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ ٹل پولیس اسٹیشن کے علاقے چھپری وزیران کے قریب پیش آیا، جہاں پولیو مہم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار اسرار الحق شہید ہو گئے جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق شہید ہونے والے اہلکار اسرار الحق کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا اور وہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں انٹرمیڈیٹ کورس کر رہے تھے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503440</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 11:42:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/131142298739da6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/131142298739da6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: خاتون کو ہراساں کرنے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503113/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے سرور روڈ میں خاتون کو ہراساں کرنے اور تھپڑ مار کر فرار ہونے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور سرور روڈ پولیس نے خاتون کو ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی مدعیت میں ملزم رضوان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس پی کینٹ کے مطابق ملزم نے دورانِ سفر خاتون کو گاڑی میں ہراساں کیا، بعد ازاں اسے راستے میں اتار کر اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور موقع سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس پی کینٹ کو ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک سونپا، جس پر عمل کرتے ہوئے ایس پی کینٹ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30366434'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366434"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایس ایچ او سرور روڈ رانا محمد عرفان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک گھنٹے کے اندر گاڑی کو ٹریس کیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم رضوان کو گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے سرور روڈ میں خاتون کو ہراساں کرنے اور تھپڑ مار کر فرار ہونے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔</strong></p>
<p>لاہور سرور روڈ پولیس نے خاتون کو ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی مدعیت میں ملزم رضوان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p>ایس پی کینٹ کے مطابق ملزم نے دورانِ سفر خاتون کو گاڑی میں ہراساں کیا، بعد ازاں اسے راستے میں اتار کر اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور موقع سے فرار ہو گیا۔</p>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس پی کینٹ کو ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک سونپا، جس پر عمل کرتے ہوئے ایس پی کینٹ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30366434'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366434"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایس ایچ او سرور روڈ رانا محمد عرفان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک گھنٹے کے اندر گاڑی کو ٹریس کیا، جس کے بعد پولیس نے ملزم رضوان کو گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503113</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 10:46:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0510431670e0654.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0510431670e0654.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ کی بے بسی، زمینوں پر قبضے میں ملوث افسر سندھ پولیس کے حساس عہدے پر تعینات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ میں ایک حیران کن پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیے گئے ایک پولیس افسر کو دوبارہ ایک حساس یونٹ میں تعینات کر دیا گیا، ماضی میں خود وزیراعلیٰ سندھ اس افسر کے خلاف کھل کر بیان دے چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے متنازع افسر اور سابق ایس ایس پی کورنگی کامران خان کو ایک بار پھر اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ انہیں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) جیسے حساس شعبے میں تعینات کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق مذکورہ افسر کو ماضی میں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال شارع فیصل پر ایک ماڈل تھانے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف ان کا نام لیا بلکہ انہیں قبضہ گروپ کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ایسے متنازع افسران کو صوبے میں کسی صورت تعینات نہیں کیا جائے گا، تاہم حالیہ نوٹیفکیشن میں اسی افسر کی حساس یونٹ میں تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498699/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ انتظامی معاملات میں اعلیٰ سطح کے فیصلوں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد موجود ہے اور بظاہر وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد صوبے میں گڈ گورننس اور احتساب کے دعووں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی افسر پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوں اور اسے خود صوبے کی اعلیٰ قیادت متنازع قرار دے چکی ہو تو ایسے میں اسے ایک حساس یونٹ میں تعینات کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ میں ایک حیران کن پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیے گئے ایک پولیس افسر کو دوبارہ ایک حساس یونٹ میں تعینات کر دیا گیا، ماضی میں خود وزیراعلیٰ سندھ اس افسر کے خلاف کھل کر بیان دے چکے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے متنازع افسر اور سابق ایس ایس پی کورنگی کامران خان کو ایک بار پھر اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ انہیں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) جیسے حساس شعبے میں تعینات کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق مذکورہ افسر کو ماضی میں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال شارع فیصل پر ایک ماڈل تھانے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف ان کا نام لیا بلکہ انہیں قبضہ گروپ کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ایسے متنازع افسران کو صوبے میں کسی صورت تعینات نہیں کیا جائے گا، تاہم حالیہ نوٹیفکیشن میں اسی افسر کی حساس یونٹ میں تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498699/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ انتظامی معاملات میں اعلیٰ سطح کے فیصلوں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد موجود ہے اور بظاہر وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔</p>
<p>آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد صوبے میں گڈ گورننس اور احتساب کے دعووں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی افسر پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوں اور اسے خود صوبے کی اعلیٰ قیادت متنازع قرار دے چکی ہو تو ایسے میں اسے ایک حساس یونٹ میں تعینات کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502987</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 09:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/020917545d8144a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/020917545d8144a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرس میلے میں عجب کرپشن: ’پیسے نہ دیے تو سائیں ناراض ہو جائیں گے‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502934/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے دربار پر عرس میلہ منسوخ ہونے کے باوجود محکمہ اوقاف کے بعض اہلکاروں کی جانب سے زائرین سے نذرانے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں عقیدت مندوں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ اگر پیسے نہ دیے تو ’’سائیں ناراض ہو جائیں گے‘‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے دربار پر محکمہ اوقاف کے بعض ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر قانون شکنی اور کرپشن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق عرس میلہ منسوخ ہونے کے باوجود اہلکاروں نے نذرانے کے ڈبے دربار سے باہر رکھ دیے اور زائرین سے پیسے وصول کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق زائرین کو مختلف حیلوں بہانوں سے قائل کیا گیا، یہاں تک کہ انہیں ڈرایا گیا کہ اگر انہوں نے نذرانہ ادا نہ کیا تو ’’سائیں ناراض ہو جائیں گے‘‘۔ بعض اہلکاروں نے آفات اور مشکلات سے بچاؤ کے نام پر بھی عقیدت مندوں سے رقم وصول کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے پر عوامی شکایات سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دربار کے منیجر سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ میلہ منسوخی کے باوجود اس طرح نذرانے وصول کرنا نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی عقیدت کا غلط استعمال بھی ہے، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے دربار پر عرس میلہ منسوخ ہونے کے باوجود محکمہ اوقاف کے بعض اہلکاروں کی جانب سے زائرین سے نذرانے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں عقیدت مندوں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ اگر پیسے نہ دیے تو ’’سائیں ناراض ہو جائیں گے‘‘۔</strong></p>
<p>ڈیرہ غازی خان میں حضرت سخی سرور کے دربار پر محکمہ اوقاف کے بعض ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر قانون شکنی اور کرپشن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق عرس میلہ منسوخ ہونے کے باوجود اہلکاروں نے نذرانے کے ڈبے دربار سے باہر رکھ دیے اور زائرین سے پیسے وصول کرتے رہے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق زائرین کو مختلف حیلوں بہانوں سے قائل کیا گیا، یہاں تک کہ انہیں ڈرایا گیا کہ اگر انہوں نے نذرانہ ادا نہ کیا تو ’’سائیں ناراض ہو جائیں گے‘‘۔ بعض اہلکاروں نے آفات اور مشکلات سے بچاؤ کے نام پر بھی عقیدت مندوں سے رقم وصول کی۔</p>
<p>واقعے پر عوامی شکایات سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دربار کے منیجر سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ میلہ منسوخی کے باوجود اس طرح نذرانے وصول کرنا نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی عقیدت کا غلط استعمال بھی ہے، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502934</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 09:30:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Muhammad Abdullah)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0108584374ce2be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0108584374ce2be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کندھ کوٹ کے ایس ایس پی آفس میں بنائی گئی ڈاکوؤں کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502881/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں پولیس کے حساس دفتر سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ڈاکوؤں ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہے۔ ویڈیو سامنے آںے کے بعد سیکیورٹی انتظامات اور پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوکاری گینگ سے تعلق رکھنے والا مبینہ بدنام ڈاکو صدام نندوانی اور بھیو گینگ کا ایک سرگرم ملزم صدام عرف ادھڑ بھیو مبینہ طور پر کندھ کوٹ کے ایس ایس پی آفس کے اندر موجود ہیں اور بغیر کسی خوف کے ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=I8Xyj8yyCf0'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/I8Xyj8yyCf0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یہ ویڈیو ایس ایس پی آفس کے اندر کی ہے تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے کیونکہ ایسے حساس مقام پر جرائم پیشہ افراد کی موجودگی سیکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال پولیس کی جانب سے اس ویڈیو کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں پولیس کے حساس دفتر سے ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ڈاکوؤں ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہے۔ ویڈیو سامنے آںے کے بعد سیکیورٹی انتظامات اور پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔</strong></p>
<p>وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوکاری گینگ سے تعلق رکھنے والا مبینہ بدنام ڈاکو صدام نندوانی اور بھیو گینگ کا ایک سرگرم ملزم صدام عرف ادھڑ بھیو مبینہ طور پر کندھ کوٹ کے ایس ایس پی آفس کے اندر موجود ہیں اور بغیر کسی خوف کے ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=I8Xyj8yyCf0'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/I8Xyj8yyCf0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p>مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یہ ویڈیو ایس ایس پی آفس کے اندر کی ہے تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے کیونکہ ایسے حساس مقام پر جرائم پیشہ افراد کی موجودگی سیکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p>شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاحال پولیس کی جانب سے اس ویڈیو کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502881</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 11:08:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/31091302cc9aab6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/31091302cc9aab6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اُمِّ رباب چانڈیو اہلِ خانہ قتل کیس: پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سمیت تمام 7 ملزمان بری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502847/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کے شہر دادو کی مقامی عدالت نے اُم رباب چانڈیو کے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادو کی متعلقہ عدالت نے پیر کو امِ رباب کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=4ioydIUhww4'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/4ioydIUhww4?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزمان کے وکیل کے مطابق عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔ وکیل نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ کیس آٹھ سال سے زیر سماعت تھا اور اسے سندھ کے اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُم رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو 17 جنوری 2018ء کو قتل کیا گیا تھا۔ جس کا مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت سات ملزمان کے خلاف درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے بعد اُم رباب چانڈیو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت جان چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس جیت چکے ہیں اور میں خود کو سرخرو سمجھتی ہوں۔“ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ بالآخر انصاف حاصل کریں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30305957'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30305957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اُم رباب چانڈیو نے مزید کہا کہ کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا حیران کن ہے، حتیٰ کہ وہ ملزمان بھی بچ گئے جو تین سال تک روپوش رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک جدوجہد کی علامت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے حوصلے کم نہیں ہوئے بلکہ مزید بلند ہوئے ہیں۔“ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے کے موقع پر دو اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے طاقتور طبقے کو قانون سے بالاتر سمجھا جا رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُم رباب چانڈیو نے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس سے متعلق عدالتی فیصلہ سامنے آںے کے بعد ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کسی بھی فورم پر آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے فیصلہ چیلنج کرنے اور ہائی کورٹ جانے کا عزم ظاہر کیا اور عدالتوں میں سرداروں کے اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=WDZHq8eez64'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/WDZHq8eez64?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ام رباب چانڈیو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عدالتی فیصلے سے قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملنے کا تاثر جا رہا ہے، جس سے عدل و انصاف کے نظام پر سنگین سوالیہ نشان لگتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ تین قتل کے کیسز میں کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالتوں پر الزام عائد کیا کہ بعض اوقات سردار اور طاقتور حلقے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے عام شہریوں کا اعتماد عدالتی نظام پر کمزور پڑتا ہے۔ ام رباب نے کہا کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی طرح سے نہیں ڈریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ام رباب نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گی اور انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا، انصاف میرا حق ہے، میں اسے لے کر رہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کے شہر دادو کی مقامی عدالت نے اُم رباب چانڈیو کے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>دادو کی متعلقہ عدالت نے پیر کو امِ رباب کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=4ioydIUhww4'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/4ioydIUhww4?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزمان کے وکیل کے مطابق عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔ وکیل نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ کیس آٹھ سال سے زیر سماعت تھا اور اسے سندھ کے اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>اُم رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو 17 جنوری 2018ء کو قتل کیا گیا تھا۔ جس کا مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت سات ملزمان کے خلاف درج ہے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
<p>فیصلے کے بعد اُم رباب چانڈیو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت جان چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس جیت چکے ہیں اور میں خود کو سرخرو سمجھتی ہوں۔“ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ بالآخر انصاف حاصل کریں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30305957'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30305957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اُم رباب چانڈیو نے مزید کہا کہ کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا حیران کن ہے، حتیٰ کہ وہ ملزمان بھی بچ گئے جو تین سال تک روپوش رہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک جدوجہد کی علامت تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے حوصلے کم نہیں ہوئے بلکہ مزید بلند ہوئے ہیں۔“ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے کے موقع پر دو اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے طاقتور طبقے کو قانون سے بالاتر سمجھا جا رہا ہو۔</p>
<p>اُم رباب چانڈیو نے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس سے متعلق عدالتی فیصلہ سامنے آںے کے بعد ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کسی بھی فورم پر آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے فیصلہ چیلنج کرنے اور ہائی کورٹ جانے کا عزم ظاہر کیا اور عدالتوں میں سرداروں کے اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=WDZHq8eez64'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/WDZHq8eez64?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ام رباب چانڈیو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عدالتی فیصلے سے قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملنے کا تاثر جا رہا ہے، جس سے عدل و انصاف کے نظام پر سنگین سوالیہ نشان لگتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ تین قتل کے کیسز میں کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی۔</p>
<p>انہوں نے عدالتوں پر الزام عائد کیا کہ بعض اوقات سردار اور طاقتور حلقے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے عام شہریوں کا اعتماد عدالتی نظام پر کمزور پڑتا ہے۔ ام رباب نے کہا کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی طرح سے نہیں ڈریں گی۔</p>
<p>ام رباب نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گی اور انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا، انصاف میرا حق ہے، میں اسے لے کر رہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502847</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 14:55:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/30102533662698b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/30102533662698b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں کار سوار کی فائرنگ، 2 مبینہ ڈاکو ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گلستان جوہر ملینیئم مال کے قریب پر جوہر پُل پر کار سوار شہری کی فائرنگ سے دو مبینہ ڈاکو ہلاک ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوار تین ڈاکو راشد منہاس روڈ لال فلیٹ کے قریب پھل خریدنے والے کار سوار عبدالغفار سے لوٹ مار کرکے فرار ہو رہے تھے کہ متاثرہ شہری نے ان کا تعاقب کیا اور ملینیئم کے قریب جوہر پل پر ڈاکوؤں نے کار سوار شہری پر فائرنگ کی جس پر شہری کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446220/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446220"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے تبادلے میں دو مبینہ ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک ملزم زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ملزم کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گلستان جوہر ملینیئم مال کے قریب پر جوہر پُل پر کار سوار شہری کی فائرنگ سے دو مبینہ ڈاکو ہلاک ہوگئے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوار تین ڈاکو راشد منہاس روڈ لال فلیٹ کے قریب پھل خریدنے والے کار سوار عبدالغفار سے لوٹ مار کرکے فرار ہو رہے تھے کہ متاثرہ شہری نے ان کا تعاقب کیا اور ملینیئم کے قریب جوہر پل پر ڈاکوؤں نے کار سوار شہری پر فائرنگ کی جس پر شہری کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446220/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446220"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فائرنگ کے تبادلے میں دو مبینہ ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک ملزم زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ملزم کی تلاش جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502765</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 09:27:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/28090401074af66.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/28090401074af66.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>25 کروڑ کی چوری کا مقدمہ: گھریلو ملازمہ بری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کی ایک عدالت نے گھریلو ملازمہ کے خلاف کروڑوں روپے مالیت کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین  نے ملزمہ رخسانہ بی بی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون ساجدہ زاہد نے جنوری 2024 میں تھانہ لوئی بھیر میں درخواست دی تھی کہ ان کی گھریلو ملازمہ نے گھر سے نقدی اور غیر ملکی کرنسی چوری کی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ کی جانب سے وکیل حبیب ہنزہلہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کو بارہا مواقع دیے گئے، تاہم وہ اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ قبول گواہ پیش نہ کر سکا۔ عدالت کے مطابق شواہد نہ ہونے کے باعث سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھنا اور اس کی چابی گھریلو ملازمہ کے حوالے کرنا قابلِ فہم نہیں لگتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مبینہ چوری سے متعلق کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30352416'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ ہمسایوں نے ملازمہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا، تاہم ان میں سے کسی کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ تفتیش کے دوران ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے، جن کی بھی کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی کہانی مشکوک ہے اور قانون کے مطابق شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے، لہٰذا مزید کارروائی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-اے کے تحت رخسانہ بی بی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کی ایک عدالت نے گھریلو ملازمہ کے خلاف کروڑوں روپے مالیت کی چوری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے بری کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین  نے ملزمہ رخسانہ بی بی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا۔</p>
<p>مقدمے کے مطابق پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون ساجدہ زاہد نے جنوری 2024 میں تھانہ لوئی بھیر میں درخواست دی تھی کہ ان کی گھریلو ملازمہ نے گھر سے نقدی اور غیر ملکی کرنسی چوری کی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بتائی گئی۔</p>
<p>عدالت میں سماعت کے دوران ملزمہ کی جانب سے وکیل حبیب ہنزہلہ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے۔</p>
<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ کو بارہا مواقع دیے گئے، تاہم وہ اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ قبول گواہ پیش نہ کر سکا۔ عدالت کے مطابق شواہد نہ ہونے کے باعث سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھنا اور اس کی چابی گھریلو ملازمہ کے حوالے کرنا قابلِ فہم نہیں لگتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مبینہ چوری سے متعلق کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30352416'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ ہمسایوں نے ملازمہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا، تاہم ان میں سے کسی کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ تفتیش کے دوران ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے، جن کی بھی کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی کہانی مشکوک ہے اور قانون کے مطابق شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے، لہٰذا مزید کارروائی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-اے کے تحت رخسانہ بی بی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502665</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 13:25:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/2513192935f52fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/2513192935f52fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوہاٹ: ڈاکٹر مہوش قتل کیس میں مطلوب دو ملزمان گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500165/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش کے قتل میں مطلوب دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو 9 ایم ایم پستول کی سات گولیاں ماری گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہاٹ میں ڈسٹرکٹ اسپتال کی ڈاکٹر مہوش کے قتل کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس نے واردات میں مطلوب دونوں ملزمان حیات گل اور سیف علی خان کو گرفتار کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دونوں ملزمان واقعے کے بعد روپوش ہوگئے تھے، ڈی پی او کوہاٹ شہباز الٰہی کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے تعاون سے ملزموں کی گرفتاری ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈاکٹر مہوش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق مقتولہ کو نائن ایم ایم پستول کی سات گولیاں ماری گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولیاں ہاتھوں، سینے اور پیٹ میں لگیں۔ شدید فائرنگ کے باعث دل، پھیپڑے، جگر اور گردے سمیت اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچا، جو موت کا سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ مالاکنڈ اور مردان ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ہڑتال کر رکھی ہے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ڈاکٹر مہوش کو گذشتہ دنوں اسپتال سے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش کے قتل میں مطلوب دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو 9 ایم ایم پستول کی سات گولیاں ماری گئیں۔</strong></p>
<p>کوہاٹ میں ڈسٹرکٹ اسپتال کی ڈاکٹر مہوش کے قتل کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس نے واردات میں مطلوب دونوں ملزمان حیات گل اور سیف علی خان کو گرفتار کرلیا ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دونوں ملزمان واقعے کے بعد روپوش ہوگئے تھے، ڈی پی او کوہاٹ شہباز الٰہی کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے تعاون سے ملزموں کی گرفتاری ممکن ہوئی۔</p>
<p>دوسری جانب ڈاکٹر مہوش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق مقتولہ کو نائن ایم ایم پستول کی سات گولیاں ماری گئیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولیاں ہاتھوں، سینے اور پیٹ میں لگیں۔ شدید فائرنگ کے باعث دل، پھیپڑے، جگر اور گردے سمیت اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچا، جو موت کا سبب بنا۔</p>
<p>واقعے کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ مالاکنڈ اور مردان ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز نے ہڑتال کر رکھی ہے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ڈاکٹر مہوش کو گذشتہ دنوں اسپتال سے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500165</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 22:15:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/262212222ddc153.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/262212222ddc153.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے آوارہ کتوں نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500135/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں ایک حیرت انگیز اور دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے جہاں گلی کے آوارہ کتوں نے ڈکیتی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ دو روز قبل ایک جنرل اسٹور پر پیش آیا جہاں دو مسلح ڈاکو لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے تھے، لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ گلی کے آوارہ کتے ان کے لیے بڑی رکاوٹ بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دکاندار کے مطابق جس وقت مسلح ملزمان دکان میں داخل ہوئے اور کیش کاؤنٹر کھلوانے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران گلی میں موجود چار آوارہ کتوں نے دکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500061/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کتوں نے دکان کے اطراف ایک حصار سا بنا لیا اور ملزمان پر مسلسل بھونکنا شروع کر دیا جس سے ڈاکو بوکھلا گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتوں کی اس غیر متوقع مزاحمت اور شور کی وجہ سے ڈاکوؤں کے لیے وہاں مزید رکنا مشکل ہو گیا اور وہ پکڑے جانے کے ڈر سے بغیر لوٹ مار کیے ہی فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا، لیکن پولیس کی جانب سے تاحال جائے وقوعہ کا دورہ نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں ایک حیرت انگیز اور دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے جہاں گلی کے آوارہ کتوں نے ڈکیتی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔</strong></p>
<p>یہ واقعہ دو روز قبل ایک جنرل اسٹور پر پیش آیا جہاں دو مسلح ڈاکو لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے تھے، لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ گلی کے آوارہ کتے ان کے لیے بڑی رکاوٹ بن جائیں گے۔</p>
<p>دکاندار کے مطابق جس وقت مسلح ملزمان دکان میں داخل ہوئے اور کیش کاؤنٹر کھلوانے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران گلی میں موجود چار آوارہ کتوں نے دکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500061/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کتوں نے دکان کے اطراف ایک حصار سا بنا لیا اور ملزمان پر مسلسل بھونکنا شروع کر دیا جس سے ڈاکو بوکھلا گئے۔</p>
<p>کتوں کی اس غیر متوقع مزاحمت اور شور کی وجہ سے ڈاکوؤں کے لیے وہاں مزید رکنا مشکل ہو گیا اور وہ پکڑے جانے کے ڈر سے بغیر لوٹ مار کیے ہی فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔</p>
<p>یہ واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا، لیکن پولیس کی جانب سے تاحال جائے وقوعہ کا دورہ نہیں کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500135</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Feb 2026 11:11:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/2610592269bc300.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/2610592269bc300.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
