<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 14:29:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 14:29:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>150 ممالک کو ادویات کی برآمدگی: پاکستان ڈبلیو ایچ او کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے منگل کو بتایا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے مقامی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اپنی برآمدات میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آنے والے مہینوں میں ڈبلیو ایچ او لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس سے فارماسوٹیکل برآمدات کی رسائی موجودہ 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں تک ہو جائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہی، جہاں پاکستانی اور چینی ادویات ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کے خام مال (اے پی آئی) کی مقامی تیاری، ویکسین کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 8 مقامی کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح پر معتبر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن اور دیگر اہم عالمی اداروں کی منظوری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کامیابیوں نے مقامی کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت ریگولیٹڈ عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق، آئندہ ایک سے دو سالوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیوں کو ایسی عالمی سرٹیفیکیشنز ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فارماسوٹیکل برآمدات نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد نمو حاصل کی، جس سے یہ ملک کی تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک منڈیوں میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی فروخت بڑھ کر 45.7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے منگل کو بتایا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے مقامی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اپنی برآمدات میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔</strong></p>
<p>وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آنے والے مہینوں میں ڈبلیو ایچ او لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس سے فارماسوٹیکل برآمدات کی رسائی موجودہ 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں تک ہو جائے گی۔“</p>
<p>وفاقی وزیر نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہی، جہاں پاکستانی اور چینی ادویات ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کے خام مال (اے پی آئی) کی مقامی تیاری، ویکسین کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔</p>
<p>گزشتہ سال پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 8 مقامی کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح پر معتبر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن اور دیگر اہم عالمی اداروں کی منظوری شامل ہے۔</p>
<p>ان کامیابیوں نے مقامی کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت ریگولیٹڈ عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق، آئندہ ایک سے دو سالوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیوں کو ایسی عالمی سرٹیفیکیشنز ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>پاکستان کی فارماسوٹیکل برآمدات نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد نمو حاصل کی، جس سے یہ ملک کی تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک منڈیوں میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی فروخت بڑھ کر 45.7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505294</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1316094233d8ec0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1316094233d8ec0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادویات کے خام مال اور ویکسین کی مقامی تیاری: پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505292/pakistan-china-sign-10-mous-for-local-production-of-medicine-raw-material-vaccines</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے چینی فرموں کے ساتھ 10 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ادویات کے خام مال  کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان معاہدوں سے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے باہمی تعاون قائم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑے معاہدوں میں یونیکم فارماسوٹیکل پاکستان اور چین کے ’ژنژو‘ گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی شراکت داری شامل ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر ادویات سازی کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے سے اہم طبی خام مال بشمول ’اومیپرازول اے پی آئی‘ کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی، جس کا تقریباً 95 فیصد حصہ اب تک پاکستان میں درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ادویات کی مقامی فراہمی میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا معاہدہ لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسے پاکستان کی فارماسوٹیکل صنعت اور صحت کے شعبے، خاص طور پر خام مال کی مقامی تیاری کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جس کا پاکستان کو کئی سالوں سے انتظار تھا اور صحت کے شعبے میں خود انحصاری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تزویراتی صنعتی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر خام مال کی پیداوار کے آغاز سے ادویات کی قیمتوں اور طویل مدتی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں مرغیوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 45 لاکھ ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر ویکسین کی سبسڈی کے انتظامات 2030 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنے مالی وسائل سے خریدنی پڑے گی جس کے لیے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت 2030 سے پہلے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اموات کو کم کرنے میں ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے مستقبل میں آنے والی ویکسینز صحت کے شعبے کے نتائج کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے چینی فرموں کے ساتھ 10 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ادویات کے خام مال  کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان معاہدوں سے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے باہمی تعاون قائم کرنے میں مدد ملے گی۔</strong></p>
<p>وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑے معاہدوں میں یونیکم فارماسوٹیکل پاکستان اور چین کے ’ژنژو‘ گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی شراکت داری شامل ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر ادویات سازی کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس منصوبے سے اہم طبی خام مال بشمول ’اومیپرازول اے پی آئی‘ کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی، جس کا تقریباً 95 فیصد حصہ اب تک پاکستان میں درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ادویات کی مقامی فراہمی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>ایک اور بڑا معاہدہ لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔</p>
<p>اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسے پاکستان کی فارماسوٹیکل صنعت اور صحت کے شعبے، خاص طور پر خام مال کی مقامی تیاری کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔</p>
<p>وزیر صحت نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جس کا پاکستان کو کئی سالوں سے انتظار تھا اور صحت کے شعبے میں خود انحصاری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تزویراتی صنعتی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر خام مال کی پیداوار کے آغاز سے ادویات کی قیمتوں اور طویل مدتی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>تقریب میں مرغیوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 45 لاکھ ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر ویکسین کی سبسڈی کے انتظامات 2030 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنے مالی وسائل سے خریدنی پڑے گی جس کے لیے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت 2030 سے پہلے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>کرونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اموات کو کم کرنے میں ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے مستقبل میں آنے والی ویکسینز صحت کے شعبے کے نتائج کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔</p>
<p>اس تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505292</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:06:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1316030006d68b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1316030006d68b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا پر طبی مشوروں کی بھرمار: مستند اور جھوٹے دعوؤں میں فرق کیسے کریں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505266/flood-of-medical-advice-on-social-media-how-to-differentiate-between-authentic-and-fake-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"&gt; اے پی &lt;/a&gt;کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"> اے پی </a>کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔</p>
<p>نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔</p>
<p>ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505266</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 10:37:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13103639101cac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13103639101cac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہنٹا وائرس کہاں سے شروع ہوا اور کہاں تک پھیل چکا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی صحت کے اداروں اور حکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوبی امریکا سے روانہ ہونے والے ایک سیاحتی جہاز میں وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک ہائی الرٹ ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو مختلف ملکوں میں منتقل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین اموات اور کئی مشتبہ کیسز کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یورپی حکام اور مختلف ممالک کی طبی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہنٹا وائرس آخر کہاں سے شروع ہوا اور دنیا کے کن حصوں تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرس سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ملکوں میں درجنوں مسافروں کو قرنطینہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کئی حکومتیں اس پراسرار وبا کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام شہریوں کے لیے فوری خطرہ کم ہے، تاہم متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہدایات جاری کی ہیں کہ  جہاز پر موجود تمام افراد کو کم از کم 42 دن تک مانیٹر کیا جائے کیونکہ وائرس کی علامات تاخیر سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کا مرکز اس وقت ارجنٹینا بن چکا ہے کیونکہ جہاز نے یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے سفر شروع کیا تھا۔ یہ علاقہ پیٹاگونیا کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ”گیٹ وے ٹو انٹارکٹیکا“ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے افراد ایک ڈچ جوڑا تھا، جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے اوشوائیا کے قریب ایک لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا تھا جہاں وہ نایاب پرندے کی تلاش میں گئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود چوہوں کے فضلے یا آلودہ ماحول کے ذریعے وائرس منتقل ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ارجنٹائن کے مقامی حکام نے اس امکان کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد ہنٹا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وائرس پھیلانے والے روڈنٹس نئی جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;روڈنٹس دراصل اپنے آگے کے دانتوں سے کترنے والے چھوٹے جانور ہیں جیسے چوہے، گلہریاں اور دوسرے چھوٹے جانور، اس لیے علاقے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے ماہرین کو متاثرہ مقام پر بھیج دیا ہے جہاں چوہوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلی بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے کیونکہ ”اینڈیز اسٹرین“ نامی ہنٹا وائرس جنوبی چلی کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ ڈچ جوڑا کئی ماہ تک چلی اور ارجنٹینا کے مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا تھا۔ چلی کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ملک میں موجود رہے تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کا سفر وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ابتدائی طور پر چلی کو ذریعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوراگوئے کا نام بھی سامنے آیا کیونکہ یہ جوڑا وہاں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا تھا، لیکن یوراگوئے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ مریضوں میں علامات ملک چھوڑنے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس لیے وہاں مقامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جہاز کے مسافر اب دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ”نیبراسکا“ منتقل کیا جہاں انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اس میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہوگئی جہاں واپس آنے والی ایک فرانسیسی خاتون میں دورانِ پرواز علامات ظاہر ہوئیں اور بعد میں اس کی حالت بگڑ گئی۔ فرانسیسی حکومت نے تمام متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن میں منتقل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسافروں کو ابتدائی طبی نگرانی کے بعد چھ ہفتوں کے لیے سیلف آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران برطانوی فوجی طبی ماہرین کو ٹرسٹن دا کونہا بھیجا گیا جہاں ایک مشتبہ مریض پہلے ہی اتر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیدرلینڈز میں 26 افراد کو واپس لا کر گھروں میں قرنطینہ کیا گیا جبکہ جرمنی نے اپنے شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں فریکفرٹ منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی متعدد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں جہاز کا ایک ڈاکٹر اور عملے کے افراد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، پرتگال، یونان، بیلجیئم، فلپائن، یوکرین اور دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ’اینڈیز اسٹرین‘ ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام صرف متاثرہ روڈینٹس یعنی چوہوں وغیرہ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف حکومتیں غیرمعمولی احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے نہ صرف عالمی صحت کے نظام کو چوکنّا کر دیا ہے بلکہ جنوبی امریکا کی سیاحت، خاص طور پر اوشوائیا اور پیٹاگونیا جیسے علاقوں کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس تحقیق پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ وائرس پہلی بار کہاں سے جہاز تک پہنچا اور کیا اسے مزید ممالک میں پھیلنے سے روکا جا سکے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی صحت کے اداروں اور حکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوبی امریکا سے روانہ ہونے والے ایک سیاحتی جہاز میں وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک ہائی الرٹ ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو مختلف ملکوں میں منتقل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>تین اموات اور کئی مشتبہ کیسز کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یورپی حکام اور مختلف ممالک کی طبی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہنٹا وائرس آخر کہاں سے شروع ہوا اور دنیا کے کن حصوں تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>وائرس سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ملکوں میں درجنوں مسافروں کو قرنطینہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کئی حکومتیں اس پراسرار وبا کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام شہریوں کے لیے فوری خطرہ کم ہے، تاہم متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہدایات جاری کی ہیں کہ  جہاز پر موجود تمام افراد کو کم از کم 42 دن تک مانیٹر کیا جائے کیونکہ وائرس کی علامات تاخیر سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کا مرکز اس وقت ارجنٹینا بن چکا ہے کیونکہ جہاز نے یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے سفر شروع کیا تھا۔ یہ علاقہ پیٹاگونیا کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ”گیٹ وے ٹو انٹارکٹیکا“ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>ابتدائی اطلاعات کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے افراد ایک ڈچ جوڑا تھا، جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے اوشوائیا کے قریب ایک لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا تھا جہاں وہ نایاب پرندے کی تلاش میں گئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود چوہوں کے فضلے یا آلودہ ماحول کے ذریعے وائرس منتقل ہوا ہو۔</p>
<p>تاہم ارجنٹائن کے مقامی حکام نے اس امکان کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد ہنٹا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وائرس پھیلانے والے روڈنٹس نئی جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>روڈنٹس دراصل اپنے آگے کے دانتوں سے کترنے والے چھوٹے جانور ہیں جیسے چوہے، گلہریاں اور دوسرے چھوٹے جانور، اس لیے علاقے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے ماہرین کو متاثرہ مقام پر بھیج دیا ہے جہاں چوہوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>چلی بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے کیونکہ ”اینڈیز اسٹرین“ نامی ہنٹا وائرس جنوبی چلی کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ ڈچ جوڑا کئی ماہ تک چلی اور ارجنٹینا کے مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا تھا۔ چلی کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ملک میں موجود رہے تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کا سفر وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ابتدائی طور پر چلی کو ذریعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔</p>
<p>یوراگوئے کا نام بھی سامنے آیا کیونکہ یہ جوڑا وہاں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا تھا، لیکن یوراگوئے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ مریضوں میں علامات ملک چھوڑنے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس لیے وہاں مقامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔</p>
<p>اس جہاز کے مسافر اب دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ”نیبراسکا“ منتقل کیا جہاں انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اس میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔</p>
<p>فرانس میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہوگئی جہاں واپس آنے والی ایک فرانسیسی خاتون میں دورانِ پرواز علامات ظاہر ہوئیں اور بعد میں اس کی حالت بگڑ گئی۔ فرانسیسی حکومت نے تمام متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن میں منتقل کر دیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسافروں کو ابتدائی طبی نگرانی کے بعد چھ ہفتوں کے لیے سیلف آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران برطانوی فوجی طبی ماہرین کو ٹرسٹن دا کونہا بھیجا گیا جہاں ایک مشتبہ مریض پہلے ہی اتر چکا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نیدرلینڈز میں 26 افراد کو واپس لا کر گھروں میں قرنطینہ کیا گیا جبکہ جرمنی نے اپنے شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں فریکفرٹ منتقل کیا۔</p>
<p>جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی متعدد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں جہاز کا ایک ڈاکٹر اور عملے کے افراد شامل ہیں۔</p>
<p>آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، پرتگال، یونان، بیلجیئم، فلپائن، یوکرین اور دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ’اینڈیز اسٹرین‘ ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام صرف متاثرہ روڈینٹس یعنی چوہوں وغیرہ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف حکومتیں غیرمعمولی احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔</p>
<p>اس واقعے نے نہ صرف عالمی صحت کے نظام کو چوکنّا کر دیا ہے بلکہ جنوبی امریکا کی سیاحت، خاص طور پر اوشوائیا اور پیٹاگونیا جیسے علاقوں کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس تحقیق پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ وائرس پہلی بار کہاں سے جہاز تک پہنچا اور کیا اسے مزید ممالک میں پھیلنے سے روکا جا سکے گا یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505231</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 11:53:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12115001ac41750.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12115001ac41750.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پسندیدہ کھانا آہستہ آہستہ کھانا ڈائٹنگ سے بہتر قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505232/eating-your-favorite-food-slowly-found-better-than-dieting</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم زیادہ کھانا اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ ہمیں کھانے کا ذائقہ بہت پسند ہوتا ہے یا ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ لیکن ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ کھانے کا بہت زیادہ شوق نہیں بلکہ کھانے سے حقیقی لطف نہ اٹھانا اور لاپرواہی میں کھانا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر ہم آہستہ کھائیں اور کھانے کا بھرپور مزہ لیں تو یہ ڈائٹنگ کے مقابلے میں موٹاپے کو روکنے کے لیے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"&gt;جسٹن جے سنگ اور ڈانا ایم سمال &lt;/a&gt;کی 2025 کی ایک حالیہ تحقیق، جس کا عنوان ہے ”لذت کے دفاع میں“ بالکل یہی دلیل دیتی ہے۔&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/186755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/186755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق موٹاپے اور زیادہ کھانے کی اصل وجہ لذت نہیں بلکہ ہمارے دماغ اور معدے کے درمیان رابطے کا کمزور پڑ جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ہم بہت زیادہ پروسیس شدہ اور مصنوعی خوراک کھاتے ہیں تو ہمارا جسم یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ ہمارا پیٹ کب بھر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ کھانا دراصل کھانے سے بہت زیادہ محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندرونی اشاروں کی وہ کمزوری ہے جو ہمیں پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین بھوک کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جسمانی بھوک ہے جب جسم کو واقعی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری وہ بھوک ہے جسے ’ہیڈونک ہنگر‘ یا لذت کی بھوک کہا جاتا ہے۔ یہ بھوک کھانے کی خوشبو، اشتہارات یا دوسروں کو کھاتے دیکھ کر لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا، اشتہارات اور اسٹریس انسان کو بار بار کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہم ہمیشہ بھوکے نہیں ہوتے، کبھی کبھی ہم صرف اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ کھانا ہمیں اچھا محسوس کرواتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471680'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جب انسان جلدی میں کھاتا ہے یا ٹی وی اور موبائل کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ زیادہ کھا لیتا ہے کیونکہ دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل پہنچنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہت زیادہ پراسیسڈ خوراک وقت کے ساتھ جسم کے قدرتی اشاروں کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے انسان کو زیادہ ذائقہ دار اور میٹھی یا چکنائی والی غذائیں زیادہ پسند آنے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کو بوجھ یا گناہ سمجھنے کے بجائے اس سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ اگر ہم کھانے کے ذائقے اور اس کی بناوٹ پر توجہ دیں تو ہم تھوڑی مقدار میں بھی خود کو مطمئن محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ضروری ہے کہ کھانا کھاتے وقت موبائل فون سے دور رہا جائے، نوالہ اچھی طرح چبا کر کھایا جائے اور کھانے کی خوشبو و ذائقے کو محسوس کیا جائے۔ جب انسان سکون سے کھانا شروع کرتا ہے تو اسے بہت زیادہ کھانے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم زیادہ کھانا اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ ہمیں کھانے کا ذائقہ بہت پسند ہوتا ہے یا ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ لیکن ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ کھانے کا بہت زیادہ شوق نہیں بلکہ کھانے سے حقیقی لطف نہ اٹھانا اور لاپرواہی میں کھانا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر ہم آہستہ کھائیں اور کھانے کا بھرپور مزہ لیں تو یہ ڈائٹنگ کے مقابلے میں موٹاپے کو روکنے کے لیے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>محققین <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/">جسٹن جے سنگ اور ڈانا ایم سمال </a>کی 2025 کی ایک حالیہ تحقیق، جس کا عنوان ہے ”لذت کے دفاع میں“ بالکل یہی دلیل دیتی ہے۔<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"> </a></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/186755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/186755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تحقیق کے مطابق موٹاپے اور زیادہ کھانے کی اصل وجہ لذت نہیں بلکہ ہمارے دماغ اور معدے کے درمیان رابطے کا کمزور پڑ جانا ہے۔</p>
<p>جب ہم بہت زیادہ پروسیس شدہ اور مصنوعی خوراک کھاتے ہیں تو ہمارا جسم یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ ہمارا پیٹ کب بھر چکا ہے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ کھانا دراصل کھانے سے بہت زیادہ محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندرونی اشاروں کی وہ کمزوری ہے جو ہمیں پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین بھوک کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جسمانی بھوک ہے جب جسم کو واقعی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری وہ بھوک ہے جسے ’ہیڈونک ہنگر‘ یا لذت کی بھوک کہا جاتا ہے۔ یہ بھوک کھانے کی خوشبو، اشتہارات یا دوسروں کو کھاتے دیکھ کر لگتی ہے۔</p>
<p>غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا، اشتہارات اور اسٹریس انسان کو بار بار کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہم ہمیشہ بھوکے نہیں ہوتے، کبھی کبھی ہم صرف اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ کھانا ہمیں اچھا محسوس کرواتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471680'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق جب انسان جلدی میں کھاتا ہے یا ٹی وی اور موبائل کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ زیادہ کھا لیتا ہے کیونکہ دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل پہنچنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہت زیادہ پراسیسڈ خوراک وقت کے ساتھ جسم کے قدرتی اشاروں کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے انسان کو زیادہ ذائقہ دار اور میٹھی یا چکنائی والی غذائیں زیادہ پسند آنے لگتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کو بوجھ یا گناہ سمجھنے کے بجائے اس سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ اگر ہم کھانے کے ذائقے اور اس کی بناوٹ پر توجہ دیں تو ہم تھوڑی مقدار میں بھی خود کو مطمئن محسوس کریں گے۔</p>
<p>اس لیے ضروری ہے کہ کھانا کھاتے وقت موبائل فون سے دور رہا جائے، نوالہ اچھی طرح چبا کر کھایا جائے اور کھانے کی خوشبو و ذائقے کو محسوس کیا جائے۔ جب انسان سکون سے کھانا شروع کرتا ہے تو اسے بہت زیادہ کھانے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505232</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:17:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12120403e5f6828.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12120403e5f6828.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ کا وزن دوبارہ بڑھ رہا ہے؟ بس چند قدم چلیں اور وزن قابو میں رکھیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزن کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اصل امتحان اس وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی مستقل عادت اپنا لے تو وہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکتا ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ 10,000 قدم چلنا صحت بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کے لیے ایک مشہور اور مؤثر ہدف سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ہدف پورا کرنا ہر روز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور جدید طرز زندگی کے ساتھ اسے قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381033'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 10,000 قدم چلنا ایک اچھا فٹنس مقصد ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنے سے ڈائٹ کے بعد وزن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی کے شہر استنبول میں موٹاپے کے حوالے سے منعقدہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://easo.org/"&gt;بین الاقوامی کانفرنس&lt;/a&gt; (ای سی او 2026) میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے اب دس ہزار قدموں کا مشکل ہدف لازمی نہیں، بلکہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم بھی وہی نتائج دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے تین ہزار سات سو سے زائد افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ اگلے تین سے پانچ سالوں میں دوبارہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد انسانی جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم کھوئی ہوئی چربی دوبارہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں تو خوراک کی تبدیلی اور ڈائیٹنگ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر جب وزن ایک بار کم ہو جائے تو جسم اسے اکثر واپس بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یعنی پیدل چلنا لازمی ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈائٹ کے دوران اضافی قدم اٹھانے سے وزن تیزی سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس مرحلے میں وزن زیادہ تر کیلوری کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر وزن برقرار رکھنے کے لیے قدم چلنا انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے تاکہ وزن دوبارہ بڑھنے نہ پائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460873'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ڈائیٹنگ کے بعد روزانہ تقریباً 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو اپنا طرز زندگی بنا لیا، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین کلو گرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے جنہوں نے سستی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ صحت کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار قدموں کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین سے چار میل بنتا ہے، جسے ایک اوسط رفتار کا حامل شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضروری نہیں کہ یہ ہدف ایک ہی بار میں پورا کیا جائے؛ صبح کی سیر، دفتر میں چھوٹے وقفوں کے دوران چلنا اور رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی مل کر بھی یہ ہدف پورا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزن گھٹانے کے لیے ڈائیٹنگ بہترین ہے، لیکن اس کم کیے گئے وزن کو ایک جگہ روکنے یا لاک کرنے کے لیے پیدل چلنا سب سے موثر اور سستا ترین حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سادہ سی تبدیلی نہ صرف آپ کی محنت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول کی بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے ایک عارضی مشق کے بجائے مستقل طرز زندگی کے طور پر اپنانا ہی موٹاپے کے خلاف اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک مفت اور آسان حکمت عملی ہے جو آپ کی ڈائٹ کی محنت کو مستقل بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزن کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اصل امتحان اس وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی مستقل عادت اپنا لے تو وہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکتا ہے</strong>۔</p>
<p>روزانہ 10,000 قدم چلنا صحت بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کے لیے ایک مشہور اور مؤثر ہدف سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ہدف پورا کرنا ہر روز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور جدید طرز زندگی کے ساتھ اسے قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381033'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ 10,000 قدم چلنا ایک اچھا فٹنس مقصد ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنے سے ڈائٹ کے بعد وزن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>ترکی کے شہر استنبول میں موٹاپے کے حوالے سے منعقدہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://easo.org/">بین الاقوامی کانفرنس</a> (ای سی او 2026) میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے اب دس ہزار قدموں کا مشکل ہدف لازمی نہیں، بلکہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم بھی وہی نتائج دے سکتے ہیں۔</p>
<p>محققین نے تین ہزار سات سو سے زائد افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ اگلے تین سے پانچ سالوں میں دوبارہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد انسانی جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم کھوئی ہوئی چربی دوبارہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں تو خوراک کی تبدیلی اور ڈائیٹنگ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر جب وزن ایک بار کم ہو جائے تو جسم اسے اکثر واپس بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یعنی پیدل چلنا لازمی ہو جاتا ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈائٹ کے دوران اضافی قدم اٹھانے سے وزن تیزی سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس مرحلے میں وزن زیادہ تر کیلوری کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر وزن برقرار رکھنے کے لیے قدم چلنا انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے تاکہ وزن دوبارہ بڑھنے نہ پائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460873'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ڈائیٹنگ کے بعد روزانہ تقریباً 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو اپنا طرز زندگی بنا لیا، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین کلو گرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے جنہوں نے سستی دکھائی۔</p>
<p>ماہرینِ صحت کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار قدموں کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین سے چار میل بنتا ہے، جسے ایک اوسط رفتار کا حامل شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ ضروری نہیں کہ یہ ہدف ایک ہی بار میں پورا کیا جائے؛ صبح کی سیر، دفتر میں چھوٹے وقفوں کے دوران چلنا اور رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی مل کر بھی یہ ہدف پورا کر سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزن گھٹانے کے لیے ڈائیٹنگ بہترین ہے، لیکن اس کم کیے گئے وزن کو ایک جگہ روکنے یا لاک کرنے کے لیے پیدل چلنا سب سے موثر اور سستا ترین حل ہے۔</p>
<p>یہ سادہ سی تبدیلی نہ صرف آپ کی محنت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول کی بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے ایک عارضی مشق کے بجائے مستقل طرز زندگی کے طور پر اپنانا ہی موٹاپے کے خلاف اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک مفت اور آسان حکمت عملی ہے جو آپ کی ڈائٹ کی محنت کو مستقل بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505227</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 09:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12095423a0bc599.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12095423a0bc599.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'اگلی وبا کورونا سے زیادہ خطرناک ہوگی': ہنٹا وائرس پھیلنے پر بل گیٹس کا پرانا بیان پھر وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505091/hantavirus-next-pandemic-could-be-more-severe-bill-gates-claim-goes-viral</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ یا وبا پھوٹتی ہے تو اس سے متعلق سازشی نظریات بھی فوراً سامنے آجاتے ہیں۔ ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز اور ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے. اس انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبا کوِوڈ 19 سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، ان دعوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بِل گیٹس نے ’ہنٹا وائرس‘ سے متعلق پیش گوئی پہلے ہی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل گیٹس نے ایک پرانے انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا کو آئندہ وباؤں کے لیے زیادہ بہتر تیاری کرنا ہوگی کیوں کہ ’کووڈ 19‘ کوئی آخری عالمی وبا نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ وائرل ہونے والے اس انٹرویو میں بِل گیٹس نے امریکی نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگلی وبا ممکنہ طور پر کووڈ سے زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2052327588589355427'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2052327588589355427"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مختلف فیکٹ چیک رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دعوؤں میں بِل گیٹس کے پرانے عمومی بیانات کو حالیہ ہنٹا وائرس کیسز کی خبروں کے ساتھ جوڑ کر مخصوص ’پیش گوئی‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے لوگوں میں خوف اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماریوں سے متعلق ایسی افواہیں خاص طور پر اس وقت تیزی سے پھیلتی ہیں جب عوام پہلے ہی صحت سے متعلق خبروں پر حساس ہوں یا کسی وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہوں۔ اس کے علاوہ بل گیٹس نے کبھی ’ہنٹا وائرس‘ کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لوگوں کی اس معاملے پر تشویش کو اس لیے بھی درست قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ چند سال قبل ایسے ہی ایک وائرس نے دنیا بھر میں نظامِ زندگی درہم برہم کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورونا (COVID-19) نامی وائرس کی پہلی بار شناخت دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے 11 مارچ 2020 کو ایک عالمی وبا قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عالمی وبا نے نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا بلکہ دنیا کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی ڈھانچے کو بھی بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں، جبکہ کروڑوں افراد اس کا شکار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق اس وبا سے دنیا بھر میں سرکاری طور پر تقریباً 71 لاکھ سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ادارۂ صحت (سی ڈی سی) کے سابق سربراہ نے بھی حال ہی میں ایک انٹرویو میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو ’انتہائی خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ وہ اس سے قبل کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے، اس لیے اب ہنٹا وائرس پر ان کے بیانات دوبارہ وائرل ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کورونا وائرس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وائرس ’کووڈ 19‘ قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوا، بلکہ یہ چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے غیر ارادی طور پر پھیلا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2050327680038400060'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2050327680038400060"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر روبرٹ ریڈفیلڈ نے امریکی کانگریس میں پیشی کے دوران الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے ابتدا میں ’لیب لیک‘ کے امکان کا ذکر کیا تو ڈاکٹر انتھونی فاؤچی اور دیگر حکام نے انہیں سائنسی بحث سے الگ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ وائرس کی تیاری میں امریکی فنڈنگ اور تحقیق کا بھی کردار ہو سکتا ہے، حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ہنٹا وائرس دراصل جراثیم کا ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/WHO/status/2052377599272198230'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WHO/status/2052377599272198230"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مئی 2026 میں بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر اس کے پھیلاؤ کی خبروں نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ سیاحتی جہاز جس کا نام ’ایم وی ہونڈیئس‘ ہے، تقریباً تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس نے انٹارکٹیکا سمیت کئی جزائر کا دورہ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ پر اب تک اس وائرس سے متاثرہ 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/hantavirus"&gt;عالمی ادارۂ صحت&lt;/a&gt; نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ یہ صورتِ حال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور دونوں وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ یا وبا پھوٹتی ہے تو اس سے متعلق سازشی نظریات بھی فوراً سامنے آجاتے ہیں۔ ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز اور ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے. اس انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبا کوِوڈ 19 سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ہنٹا وائرس کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، ان دعوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بِل گیٹس نے ’ہنٹا وائرس‘ سے متعلق پیش گوئی پہلے ہی کردی تھی۔</p>
<p>بل گیٹس نے ایک پرانے انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا کو آئندہ وباؤں کے لیے زیادہ بہتر تیاری کرنا ہوگی کیوں کہ ’کووڈ 19‘ کوئی آخری عالمی وبا نہیں تھی۔</p>
<p>دوبارہ وائرل ہونے والے اس انٹرویو میں بِل گیٹس نے امریکی نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگلی وبا ممکنہ طور پر کووڈ سے زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2052327588589355427'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2052327588589355427"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ مختلف فیکٹ چیک رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دعوؤں میں بِل گیٹس کے پرانے عمومی بیانات کو حالیہ ہنٹا وائرس کیسز کی خبروں کے ساتھ جوڑ کر مخصوص ’پیش گوئی‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے لوگوں میں خوف اور غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماریوں سے متعلق ایسی افواہیں خاص طور پر اس وقت تیزی سے پھیلتی ہیں جب عوام پہلے ہی صحت سے متعلق خبروں پر حساس ہوں یا کسی وائرس کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہوں۔ اس کے علاوہ بل گیٹس نے کبھی ’ہنٹا وائرس‘ کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب لوگوں کی اس معاملے پر تشویش کو اس لیے بھی درست قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ چند سال قبل ایسے ہی ایک وائرس نے دنیا بھر میں نظامِ زندگی درہم برہم کردیا تھا۔</p>
<p>کورونا (COVID-19) نامی وائرس کی پہلی بار شناخت دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے 11 مارچ 2020 کو ایک عالمی وبا قرار دیا تھا۔</p>
<p>اس عالمی وبا نے نہ صرف کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا بلکہ دنیا کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی ڈھانچے کو بھی بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں، جبکہ کروڑوں افراد اس کا شکار ہوئے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق اس وبا سے دنیا بھر میں سرکاری طور پر تقریباً 71 لاکھ سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>امریکی ادارۂ صحت (سی ڈی سی) کے سابق سربراہ نے بھی حال ہی میں ایک انٹرویو میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کو ’انتہائی خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ وہ اس سے قبل کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے بیانات کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے، اس لیے اب ہنٹا وائرس پر ان کے بیانات دوبارہ وائرل ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کورونا وائرس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وائرس ’کووڈ 19‘ قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوا، بلکہ یہ چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے غیر ارادی طور پر پھیلا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2050327680038400060'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2050327680038400060"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر روبرٹ ریڈفیلڈ نے امریکی کانگریس میں پیشی کے دوران الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے ابتدا میں ’لیب لیک‘ کے امکان کا ذکر کیا تو ڈاکٹر انتھونی فاؤچی اور دیگر حکام نے انہیں سائنسی بحث سے الگ کر دیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ وائرس کی تیاری میں امریکی فنڈنگ اور تحقیق کا بھی کردار ہو سکتا ہے، حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ہنٹا وائرس دراصل جراثیم کا ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/WHO/status/2052377599272198230'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WHO/status/2052377599272198230"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مئی 2026 میں بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر اس کے پھیلاؤ کی خبروں نے دنیا بھر کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ سیاحتی جہاز جس کا نام ’ایم وی ہونڈیئس‘ ہے، تقریباً تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس نے انٹارکٹیکا سمیت کئی جزائر کا دورہ کرنا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ پر اب تک اس وائرس سے متاثرہ 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/hantavirus">عالمی ادارۂ صحت</a> نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ یہ صورتِ حال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور دونوں وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505091</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 17:24:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/08160032a713df9.webp" type="image/webp" medium="image" height="780" width="1300">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/08160032a713df9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا 'ہنٹا وائرس' کووِڈ-19 کی طرح پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ برسوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ نے پوری دنیا میں صحت کے حوالے سے ایک تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب بھی کسی نئے وائرس کا نام سامنے آتا ہے، تو ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا یہ کووڈ-19 کی طرح خطرناک ثابت ہوگا؟ ہنٹا وائرس بھی ایک ایسا ہی نام ہے جس کے بارے میں لوگ الجھن کا شکار ہورہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح پھیل سکتا ہے؟ آئیے اس وائرس کی حقیقت، اس کے پھیلاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر پوری دنیا میں پائی جارہی ہے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مرکز برائے انسدادِ امراض (سی ڈی سی) کے مطابق، ہنٹا وائرس بنیادی طور پر ایک زونیوٹک بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، نہ کہ عام حالات میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں یعنی ہنٹا وائرس، کووڈ-19 کی طرح انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یہ کووڈ جیسی کسی نئی وبا کی شروعات نہیں ہے۔ ادارہ صحت کے مطابق عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وائرس کا پھیلاؤ انسانی رابطے پر منحصر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں، گلہریوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ان جانوروں کا فضلہ، پیشاب یا تھوک ماحول میں موجود ہو، تو یہ وائرس متحرک رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ جب چوہوں کا خشک فضلہ ہوا میں اڑتا ہے اور انسان اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو وائرس پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ-19 انتہائی متعدی ہے اور کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے قطروں یا بخارات  کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس کے برعکس، ہنٹا وائرس کا ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔ صرف جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ”اینڈیز وائرس“ میں چند ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جہاں قریبی جسمانی تعلق سے یہ پھیلا ہو، ورنہ یہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، لیکن اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہنٹا وائرس کی شرحِ اموات  تقریباً 38 فیصد سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو کہ کووڈ-19 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں، جو بعد ازاں سانس کی شدید تکلیف میں بدل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ وائرس چوہوں سے وابستہ ہے، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے۔ درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں، گوداموں اور اسٹور رومز میں چوہوں کی موجودگی کو ختم کریں اور کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ برتنوں میں رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی جگہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں خشک جھاڑو دینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے آلودہ ذرات ہوا میں اڑ سکتے ہیں۔ صفائی سے پہلے ان جگہوں کو جراثیم کش لوشن سے اسپرے کرنا چاہیے تاکہ دھول مٹی نہ اُڑے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504934'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی بند جگہوں یا پرانے گوداموں کی صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی کریں۔ کسی بھی بند جگہ کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح ہوا دار بنائیں تاکہ اگر ہوا میں کوئی وائرس موجود ہو تو وہ نکل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں سے موجود ہے۔ اگرچہ اس کی شرحِ اموات بلند ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا محدود طریقہ کار اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا بننے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اس پر مسلسل نظر رکھتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور چوہوں جیسے موذی جانوروں سے دوری اختیار کریں، تو اس وائرس سے بچنا بالکل ممکن ہے۔ یاد رکھیں، کسی بھی بیماری کے خلاف ہمارا پہلا دفاع آگاہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ برسوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ نے پوری دنیا میں صحت کے حوالے سے ایک تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب بھی کسی نئے وائرس کا نام سامنے آتا ہے، تو ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا یہ کووڈ-19 کی طرح خطرناک ثابت ہوگا؟ ہنٹا وائرس بھی ایک ایسا ہی نام ہے جس کے بارے میں لوگ الجھن کا شکار ہورہے ہیں۔</strong></p>
<p>کیا ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح پھیل سکتا ہے؟ آئیے اس وائرس کی حقیقت، اس کے پھیلاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر پوری دنیا میں پائی جارہی ہے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مرکز برائے انسدادِ امراض (سی ڈی سی) کے مطابق، ہنٹا وائرس بنیادی طور پر ایک زونیوٹک بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، نہ کہ عام حالات میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں یعنی ہنٹا وائرس، کووڈ-19 کی طرح انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یہ کووڈ جیسی کسی نئی وبا کی شروعات نہیں ہے۔ ادارہ صحت کے مطابق عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وائرس کا پھیلاؤ انسانی رابطے پر منحصر نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں، گلہریوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ان جانوروں کا فضلہ، پیشاب یا تھوک ماحول میں موجود ہو، تو یہ وائرس متحرک رہتا ہے۔</p>
<p>اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ جب چوہوں کا خشک فضلہ ہوا میں اڑتا ہے اور انسان اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو وائرس پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کووڈ-19 انتہائی متعدی ہے اور کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے قطروں یا بخارات  کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس کے برعکس، ہنٹا وائرس کا ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔ صرف جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ”اینڈیز وائرس“ میں چند ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جہاں قریبی جسمانی تعلق سے یہ پھیلا ہو، ورنہ یہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، لیکن اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہنٹا وائرس کی شرحِ اموات  تقریباً 38 فیصد سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو کہ کووڈ-19 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں، جو بعد ازاں سانس کی شدید تکلیف میں بدل سکتی ہیں۔</p>
<p>چونکہ یہ وائرس چوہوں سے وابستہ ہے، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے۔ درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں، گوداموں اور اسٹور رومز میں چوہوں کی موجودگی کو ختم کریں اور کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ برتنوں میں رکھیں۔</p>
<p>ایسی جگہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں خشک جھاڑو دینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے آلودہ ذرات ہوا میں اڑ سکتے ہیں۔ صفائی سے پہلے ان جگہوں کو جراثیم کش لوشن سے اسپرے کرنا چاہیے تاکہ دھول مٹی نہ اُڑے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504934'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے ساتھ ہی بند جگہوں یا پرانے گوداموں کی صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی کریں۔ کسی بھی بند جگہ کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح ہوا دار بنائیں تاکہ اگر ہوا میں کوئی وائرس موجود ہو تو وہ نکل جائے۔</p>
<p>ہنٹا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں سے موجود ہے۔ اگرچہ اس کی شرحِ اموات بلند ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا محدود طریقہ کار اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا بننے سے روکتا ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اس پر مسلسل نظر رکھتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور چوہوں جیسے موذی جانوروں سے دوری اختیار کریں، تو اس وائرس سے بچنا بالکل ممکن ہے۔ یاد رکھیں، کسی بھی بیماری کے خلاف ہمارا پہلا دفاع آگاہی ہے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505055</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/08122242d0f1ed7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/08122242d0f1ed7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کمر درد رات کو سونے نہیں دیتا؟ لہسن والا دودھ آزمائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505044/cant-sleep-at-night-due-to-back-pain-try-garlic-milk</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل کی بھاگتی دوڑتی طرز زندگی میں گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنے اور غلط طریقے سے اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد ہونا ایک عام سی بات بن گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دن بھر تو کام میں مصروف رہتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو سونے کے لیے لیٹتے ہیں، کمر درد اور سائٹیکا کی لہریں انہیں بے چین کر دیتی ہیں۔ اس تکلیف کی وجہ سے نہ صرف نیند پوری نہیں ہوتی بلکہ انسان اگلے دن تھکن اور چڑچڑے پن کا شکار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/lower-back-pain-at-night-try-this-simple-garlic-milk-remedy-201778200314635.html"&gt;ہندوستان ڈاٹ کام &lt;/a&gt;کے مطابق ایسی صورتحال میں ماہرین کچھ گھریلو ٹوٹکوں کو جسم کو سکون پہنچانے کے لیے مفید قرار دیتے ہیں، جن میں لہسن اور دودھ سے تیار کردہ مشروب نہایت کارآمد سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364112'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس خاص مشروب کو تیار کرنا نہایت آسان ہے اور اس کے لیے تمام اجزاء آپ کے کچن میں ہی موجود ہوتے ہیں۔ اسے بنانے کے لیے آپ کو ایک گلاس دودھ اورتین جوئے لہسن کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے لہسن کے جوئے ہلکا سا کچل لیں، پھر ایک برتن میں دودھ ڈال کر اس میں یہ کچلا ہوا لہسن شامل کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مکسچر کو ہلکی آنچ پر چند منٹ تک ابالیں تاکہ لہسن کے تمام قدرتی خواص دودھ میں اچھی طرح شامل ہو جائیں۔ جب دودھ ابل جائے تو اسے چھان لیں اور رات کو سونے سے پہلے نیم گرم حالت میں پی لیں۔ اگر ذائقہ بہتر بنانا ہو تو اس میں تھوڑا سا شہد بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق لہسن اور دودھ کا یہ ملاپ ایک قدرتی ٹانک کے طور پر کام کرتا ہے۔ لہسن میں الیسن نامی ایک خاص جز پایا جاتا ہے جو جسم میں خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔ جب خون کی روانی بہتر ہوتی ہے تو ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود اعصاب پر دباؤ کم ہوتا ہے اور درد میں راحت ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دودھ میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور اس میں موجود قدرتی اجزاء دماغ کو پرسکون کر کے گہری نیند لانے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر سائٹیکا کے مریضوں کے لیے یہ اس لیے مفید ہے کیونکہ لہسن میں سوجن ختم کرنے کی قدرتی طاقت ہوتی ہے جو متاثرہ رگ کے کھچاؤ کو کم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472560'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لوگ اس گھریلو نسخے کا استعمال کیوں کرتے ہیں، اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔ لہسن میں ایسی قدرتی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جسم میں سوجن اور درد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرم دودھ پینے سے جسم کو راحت ملتی ہے اور اعصاب پرسکون ہوتے ہیں، جس سے رات کو بار بار آنکھ نہیں کھلتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اسے رات کو سونے سے پہلے پینے کا مشورہ اس لیے دیتے ہیں کیونکہ جب جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو یہ نسخہ زیادہ موثر طریقے سے اپنا کام کر پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس نسخے کو استعمال کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک گھریلو ٹوٹکا ہے اور اسے کسی باقاعدہ طبی علاج کا نعم البدل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کمر کا درد بہت زیادہ ہو یا کافی عرصے سے برقرار ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وہ لوگ جنہیں دودھ یا لہسن سے الرجی ہو، یا جو خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں، انہیں اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمر درد سے مستقل نجات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ وزن اٹھاتے وقت احتیاط کریں، بیٹھنے کا انداز درست رکھیں اور ہلکی ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل کی بھاگتی دوڑتی طرز زندگی میں گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنے اور غلط طریقے سے اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد ہونا ایک عام سی بات بن گئی ہے۔</strong></p>
<p>بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دن بھر تو کام میں مصروف رہتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو سونے کے لیے لیٹتے ہیں، کمر درد اور سائٹیکا کی لہریں انہیں بے چین کر دیتی ہیں۔ اس تکلیف کی وجہ سے نہ صرف نیند پوری نہیں ہوتی بلکہ انسان اگلے دن تھکن اور چڑچڑے پن کا شکار رہتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/lower-back-pain-at-night-try-this-simple-garlic-milk-remedy-201778200314635.html">ہندوستان ڈاٹ کام </a>کے مطابق ایسی صورتحال میں ماہرین کچھ گھریلو ٹوٹکوں کو جسم کو سکون پہنچانے کے لیے مفید قرار دیتے ہیں، جن میں لہسن اور دودھ سے تیار کردہ مشروب نہایت کارآمد سمجھا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364112'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس خاص مشروب کو تیار کرنا نہایت آسان ہے اور اس کے لیے تمام اجزاء آپ کے کچن میں ہی موجود ہوتے ہیں۔ اسے بنانے کے لیے آپ کو ایک گلاس دودھ اورتین جوئے لہسن کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>سب سے پہلے لہسن کے جوئے ہلکا سا کچل لیں، پھر ایک برتن میں دودھ ڈال کر اس میں یہ کچلا ہوا لہسن شامل کر دیں۔</p>
<p>اس مکسچر کو ہلکی آنچ پر چند منٹ تک ابالیں تاکہ لہسن کے تمام قدرتی خواص دودھ میں اچھی طرح شامل ہو جائیں۔ جب دودھ ابل جائے تو اسے چھان لیں اور رات کو سونے سے پہلے نیم گرم حالت میں پی لیں۔ اگر ذائقہ بہتر بنانا ہو تو اس میں تھوڑا سا شہد بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق لہسن اور دودھ کا یہ ملاپ ایک قدرتی ٹانک کے طور پر کام کرتا ہے۔ لہسن میں الیسن نامی ایک خاص جز پایا جاتا ہے جو جسم میں خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔ جب خون کی روانی بہتر ہوتی ہے تو ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود اعصاب پر دباؤ کم ہوتا ہے اور درد میں راحت ملتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب دودھ میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور اس میں موجود قدرتی اجزاء دماغ کو پرسکون کر کے گہری نیند لانے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر سائٹیکا کے مریضوں کے لیے یہ اس لیے مفید ہے کیونکہ لہسن میں سوجن ختم کرنے کی قدرتی طاقت ہوتی ہے جو متاثرہ رگ کے کھچاؤ کو کم کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472560'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لوگ اس گھریلو نسخے کا استعمال کیوں کرتے ہیں، اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔ لہسن میں ایسی قدرتی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جسم میں سوجن اور درد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>گرم دودھ پینے سے جسم کو راحت ملتی ہے اور اعصاب پرسکون ہوتے ہیں، جس سے رات کو بار بار آنکھ نہیں کھلتی۔</p>
<p>ماہرین اسے رات کو سونے سے پہلے پینے کا مشورہ اس لیے دیتے ہیں کیونکہ جب جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو یہ نسخہ زیادہ موثر طریقے سے اپنا کام کر پاتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس نسخے کو استعمال کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔</p>
<p>یہ ایک گھریلو ٹوٹکا ہے اور اسے کسی باقاعدہ طبی علاج کا نعم البدل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کمر کا درد بہت زیادہ ہو یا کافی عرصے سے برقرار ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا لازمی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ وہ لوگ جنہیں دودھ یا لہسن سے الرجی ہو، یا جو خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں، انہیں اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔</p>
<p>کمر درد سے مستقل نجات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ وزن اٹھاتے وقت احتیاط کریں، بیٹھنے کا انداز درست رکھیں اور ہلکی ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505044</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:29:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/08103230895c700.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/08103230895c700.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کتنی دیر میں موت واقع ہوتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504934/how-long-does-it-take-for-death-to-occur-after-being-infected-with-hantavirus</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیپ وردے کے ساحل پر لنگر انداز ایک جہاز پر موجود مسافروں کے لیے تفریحی سفر اب زندگی اور موت کی جنگ بن چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحر اوقیانوس کے ایک پرتعیش بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس پر سوار تقریباً 150 افراد اس وقت ایک سنگین طبی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جب جہاز پر چوہوں سے پھیلنے والے ایک نایاب ہینٹا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ارجنٹائن سے روانہ ہونے والے اس جہاز پر اب تک سات کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504564'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس ایک جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہے، جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ عام عوام کے لیے عالمی سطح پر خطرہ فی الحال کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرس چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک میں پائے جانے والے خوردبینی ذرات کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اکثر اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کسی پرانے اسٹور روم یا بند کمرے میں سانس لیتے ہوئے اس مہلک بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفیکشن کا آغاز بہت خاموشی سے ہوتا ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران وائرس جسم کے اندر خاموشی سے اپنی تعداد بڑھاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری بہت خطرناک ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر اسے عام فلو یا کورونا وائرس سمجھا جاتا ہے کیونکہ مریض کو بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور پیٹ کی تکلیف جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ لیکن چند ہی دنوں میں یہ وائرس اپنا اصل رنگ دکھاتا ہے اور پھیپھڑوں کے خانوں میں سیال مادہ بھرنا شروع ہو جاتا ہے جس سے سانس لینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30453030'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30453030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق، کارڈیوپلمونری مرحلے کے آغاز کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر مناسب علاج کے موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہینٹا وائرس کا فی الحال کوئی خاص علاج، ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ یعنی آئی سی یو میں رکھیں اور اس کے آکسیجن لیول اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دراصل انسانی مدافعتی نظام اور وائرس کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا ہے جہاں ڈاکٹر صرف وقت خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر علاج بروقت نہ ملے تو پھیپھڑوں کی تکلیف شروع ہونے کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم وی ہونڈیئس پر موجود مسافر اس وقت اسی خوفناک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سفر کے اس دور میں دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے چوہوں کی غلاظت سمندر کے بیچوں بیچ بھی انسانوں تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت یاب ہونے والے مریضوں کو بھی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور وہ مہینوں تک تھکن محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں اس بحری جہاز پر لگی ہیں جہاں زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیپ وردے کے ساحل پر لنگر انداز ایک جہاز پر موجود مسافروں کے لیے تفریحی سفر اب زندگی اور موت کی جنگ بن چکا ہے۔</strong></p>
<p>بحر اوقیانوس کے ایک پرتعیش بحری جہاز ایم وی ہونڈیئس پر سوار تقریباً 150 افراد اس وقت ایک سنگین طبی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جب جہاز پر چوہوں سے پھیلنے والے ایک نایاب ہینٹا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ارجنٹائن سے روانہ ہونے والے اس جہاز پر اب تک سات کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504564'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہنٹا وائرس ایک جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہے، جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ عام عوام کے لیے عالمی سطح پر خطرہ فی الحال کم ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرس چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک میں پائے جانے والے خوردبینی ذرات کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اکثر اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کسی پرانے اسٹور روم یا بند کمرے میں سانس لیتے ہوئے اس مہلک بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔</p>
<p>انفیکشن کا آغاز بہت خاموشی سے ہوتا ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران وائرس جسم کے اندر خاموشی سے اپنی تعداد بڑھاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری بہت خطرناک ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر اسے عام فلو یا کورونا وائرس سمجھا جاتا ہے کیونکہ مریض کو بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور پیٹ کی تکلیف جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ لیکن چند ہی دنوں میں یہ وائرس اپنا اصل رنگ دکھاتا ہے اور پھیپھڑوں کے خانوں میں سیال مادہ بھرنا شروع ہو جاتا ہے جس سے سانس لینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30453030'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30453030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>طبی ماہرین کے مطابق، کارڈیوپلمونری مرحلے کے آغاز کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بغیر مناسب علاج کے موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہینٹا وائرس کا فی الحال کوئی خاص علاج، ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مریض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ یعنی آئی سی یو میں رکھیں اور اس کے آکسیجن لیول اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>یہ دراصل انسانی مدافعتی نظام اور وائرس کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا ہے جہاں ڈاکٹر صرف وقت خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر علاج بروقت نہ ملے تو پھیپھڑوں کی تکلیف شروع ہونے کے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایم وی ہونڈیئس پر موجود مسافر اس وقت اسی خوفناک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سفر کے اس دور میں دور دراز علاقوں میں پائے جانے والے چوہوں کی غلاظت سمندر کے بیچوں بیچ بھی انسانوں تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>صحت یاب ہونے والے مریضوں کو بھی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور وہ مہینوں تک تھکن محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں اس بحری جہاز پر لگی ہیں جہاں زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504934</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:50:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07124132c2abfb8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07124132c2abfb8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں پہلی بار پھلوں کے ذائقے والے ای سگریٹس کی منظوری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504811/first-ever-approval-of-fruit-flavored-e-cigarettes-in-the-united-states</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں صحت کے امور کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پہلی بار بالغ سگریٹ نوشوں کے لیے پھلوں کے ذائقے والے الیکٹرانک سگریٹ یعنی ویپ کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ جسے ماہرین صحت اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/ecigarettes-fda-flavors-vaping-fruit-trump-ff2701ce00d797194666917beca43de6"&gt; اے پی &lt;/a&gt; کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ایک اہم پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل حکام نے برسوں تک ایسے ذائقوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو اس کی لت سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461149'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا فائدہ لاس اینجلس کی ایک کمپنی گلاس ان کو ہوا ہے جس کے مینگو، بلیو بیری اور مینتھول کے ذائقوں والے ویپس اب قانونی طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی اے کے بیان کے مطابق کمپنی ان مصنوعات کو ’گولڈ‘، ’سیفائر‘، ’کلاسک مینتھول‘ اور ’فریش مینتھول‘ کے ناموں سے مارکیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویپنگ کی صنعت سے وابستہ لوگ طویل عرصے سے یہ دلیل دے رہے تھے کہ پھلوں کے ذائقے والے یہ آلات بالغ افراد کو روایتی سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، جو امریکہ میں کینسر اور دل کی بیماریوں جیسی وجوہات کی بنا پر سالانہ لاکھوں اموات کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میٹھے ذائقے ہی وہ بنیادی وجہ ہیں جو کم عمر بچوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی پروڈکٹ کی منظوری یا توثیق نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان بالغ افراد کے لیے ایک متبادل ہے جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/603'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اجازت کے ساتھ سخت شرائط بھی وابستہ کی گئی ہیں تاکہ یہ مصنوعات بچوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ادارے کے مطابق، یہ مصنوعات صرف 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایف ڈی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ کمپنی کا ڈیجیٹل ایج ویریفکیشن سسٹم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کم عمر افراد تک ان مصنوعات کی رسائی مشکل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک ایسا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارف کو اپنے موبائل فون پر سرکاری شناختی کارڈ کے ذریعے اپنی عمر کی تصدیق کرنی ہوگی۔ تصدیق کے بعد ہی یہ ای سگریٹ بلوٹوتھ کے ذریعے فون سے منسلک ہو کر کام کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ٹروتھ انیشیٹو کی نمائندہ کیتھی کروسبی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھلوں والے ان نئے ذائقوں کی اجازت ایک اہم آزمائشی کیس ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30342007'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’ہمیں نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا اور ان منظور شدہ مصنوعات کے استعمال پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔‘ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ اگر ان سے بچوں کے متاثر ہونے کی شرح بڑھی تو اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں نوعمر افراد میں ویپنگ کی شرح گزشتہ 10 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور میٹھے ذائقوں والے ای سگریٹس ماضی میں کم عمر صارفین کو زیادہ متوجہ کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکومت کی مختلف پالیسیوں میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ویپنگ کی صنعت کو بچانے کا وعدہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے ای سگریٹ بنانے والی کمپنیوں اور دکان داروں نے ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے دور میں پہلی بار فلیور پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں اور تمباکو خریدنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کی گئی تھی۔ جسے نوعمر ویپنگ میں کمی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ دور حکومت میں ایف ڈی اے نے لاکھوں ایسی درخواستیں مسترد کی تھیں جن میں کینڈی یا پھلوں کے ذائقے شامل تھے، مگر اب نئی انتظامیہ کے تحت ترجیحات بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکہ میں ابھی بھی بہت سے غیر قانونی ویپس دستیاب ہیں,  لیکن اس قانونی اجازت سے مقامی صنعت کو ایک نئی راہ ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں صحت کے امور کے نگران ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پہلی بار بالغ سگریٹ نوشوں کے لیے پھلوں کے ذائقے والے الیکٹرانک سگریٹ یعنی ویپ کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ جسے ماہرین صحت اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/ecigarettes-fda-flavors-vaping-fruit-trump-ff2701ce00d797194666917beca43de6"> اے پی </a> کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ایک اہم پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل حکام نے برسوں تک ایسے ذائقوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو اس کی لت سے بچایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461149'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس فیصلے کا فائدہ لاس اینجلس کی ایک کمپنی گلاس ان کو ہوا ہے جس کے مینگو، بلیو بیری اور مینتھول کے ذائقوں والے ویپس اب قانونی طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔</p>
<p>ایف ڈی اے کے بیان کے مطابق کمپنی ان مصنوعات کو ’گولڈ‘، ’سیفائر‘، ’کلاسک مینتھول‘ اور ’فریش مینتھول‘ کے ناموں سے مارکیٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>ویپنگ کی صنعت سے وابستہ لوگ طویل عرصے سے یہ دلیل دے رہے تھے کہ پھلوں کے ذائقے والے یہ آلات بالغ افراد کو روایتی سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں، جو امریکہ میں کینسر اور دل کی بیماریوں جیسی وجوہات کی بنا پر سالانہ لاکھوں اموات کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>تاہم صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میٹھے ذائقے ہی وہ بنیادی وجہ ہیں جو کم عمر بچوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں۔</p>
<p>ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی پروڈکٹ کی منظوری یا توثیق نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان بالغ افراد کے لیے ایک متبادل ہے جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/603'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/603"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس اجازت کے ساتھ سخت شرائط بھی وابستہ کی گئی ہیں تاکہ یہ مصنوعات بچوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ادارے کے مطابق، یہ مصنوعات صرف 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایف ڈی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ کمپنی کا ڈیجیٹل ایج ویریفکیشن سسٹم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کم عمر افراد تک ان مصنوعات کی رسائی مشکل ہو۔</p>
<p>کمپنی نے ایک ایسا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارف کو اپنے موبائل فون پر سرکاری شناختی کارڈ کے ذریعے اپنی عمر کی تصدیق کرنی ہوگی۔ تصدیق کے بعد ہی یہ ای سگریٹ بلوٹوتھ کے ذریعے فون سے منسلک ہو کر کام کر سکیں گے۔</p>
<p>تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ٹروتھ انیشیٹو کی نمائندہ کیتھی کروسبی نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھلوں والے ان نئے ذائقوں کی اجازت ایک اہم آزمائشی کیس ثابت ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30342007'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا، ’ہمیں نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا اور ان منظور شدہ مصنوعات کے استعمال پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔‘ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ اگر ان سے بچوں کے متاثر ہونے کی شرح بڑھی تو اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں نوعمر افراد میں ویپنگ کی شرح گزشتہ 10 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور میٹھے ذائقوں والے ای سگریٹس ماضی میں کم عمر صارفین کو زیادہ متوجہ کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی حکومت کی مختلف پالیسیوں میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ویپنگ کی صنعت کو بچانے کا وعدہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے ای سگریٹ بنانے والی کمپنیوں اور دکان داروں نے ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔</p>
<p>ان کے دور میں پہلی بار فلیور پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں اور تمباکو خریدنے کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کی گئی تھی۔ جسے نوعمر ویپنگ میں کمی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ دور حکومت میں ایف ڈی اے نے لاکھوں ایسی درخواستیں مسترد کی تھیں جن میں کینڈی یا پھلوں کے ذائقے شامل تھے، مگر اب نئی انتظامیہ کے تحت ترجیحات بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ میں ابھی بھی بہت سے غیر قانونی ویپس دستیاب ہیں,  لیکن اس قانونی اجازت سے مقامی صنعت کو ایک نئی راہ ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504811</guid>
      <pubDate>Wed, 06 May 2026 12:34:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/061231343a8ad2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/061231343a8ad2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فریکچر میں ٹوٹی ہڈیوں کو تیزی سے جوڑنے والی جادوئی غذائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504790/magical-foods-that-help-fractured-bones-heal-faster-and-precautionary-measures</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہڈی ٹوٹ جانے یا فریکچر کی صورت میں صرف ادویات اور آرام ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ صحیح غذا کا انتخاب اور چند اہم احتیاطی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹتی ہے تو اسے دوبارہ جڑنے کے لیے عام حالات سے کہیں زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہڈی جلدی جڑ سکے اور کمزوری اور درد بھی کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر اس نازک وقت میں خوراک کا خیال نہ رکھا جائے تو ہڈی جڑنے میں نہ صرف زیادہ وقت لگ سکتا ہے بلکہ مریض کو شدید کمزوری اور درد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492957'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہڈیوں کی مرمت اور انہیں اندرونی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کیلشیم، پروٹین، وٹامن ڈی اور وٹامن سی جیسے اجزاء بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ اور اس سے بنی اشیاء جیسے دہی اور پنیر کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، میتھی اور سرسوں  کیلشیم اور آئرن کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر ہلدی والے دودھ کا استعمال بھی بہت مفید ہے کیونکہ ہلدی میں موجود خصوصیات درد اور سوجن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسمانی ٹشوز کی مرمت اور ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے پروٹین بھی لازمی ہے۔ اس کے لیے دالیں، انڈے، چکن اور سویا بین جیسی اشیاء کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ خشک میوہ جات جیسے بادام، اخروٹ اور کاجو بھی جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹامن سی  سے بھرپور پھل جیسے مالٹا، لیموں اور آملہ کولاجن بنانے میں مدد دیتے ہیں، جو ہڈیوں کے جڑنے کے لیے بنیادی اینٹ کا کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442927'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہڈیوں کی صحت کے لیے دھوپ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے روزانہ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کا زیادہ استعمال بھی اس عمل میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالتا ہے اور خلیات کی تعمیر میں مددگار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کی اجازت سے جسم کے باقی حصوں کی ہلکی حرکت بھی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے جس سے غذائیت متاثرہ حصے تک تیزی سے پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ زیادہ نمک اور چینی کا استعمال ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ نمک جسم سے کیلشیم کو باہر نکال دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولڈ ڈرنکس، چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بھی ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ خاص طور پر تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہڈیوں تک خون کی فراہمی کو روک دیتی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ جگہ کی مالش سے گریز کریں کیونکہ یہ ہڈی کی قدرتی پوزیشن کو خراب کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ فریکچر کے دوران صحیح خوراک ہڈیوں کے جڑنے کے عمل کو تیز کرتی ہے اور جسمانی کمزوری کم کرتی ہے۔  اس طرح آپ جلد اپنی معمول کی زندگی میں واپس آ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی خاص معلومات درکار ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ لینا بہتر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہڈی ٹوٹ جانے یا فریکچر کی صورت میں صرف ادویات اور آرام ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ صحیح غذا کا انتخاب اور چند اہم احتیاطی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔</strong></p>
<p>جب جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹتی ہے تو اسے دوبارہ جڑنے کے لیے عام حالات سے کہیں زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہڈی جلدی جڑ سکے اور کمزوری اور درد بھی کم ہو۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر اس نازک وقت میں خوراک کا خیال نہ رکھا جائے تو ہڈی جڑنے میں نہ صرف زیادہ وقت لگ سکتا ہے بلکہ مریض کو شدید کمزوری اور درد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492957'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492957"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہڈیوں کی مرمت اور انہیں اندرونی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کیلشیم، پروٹین، وٹامن ڈی اور وٹامن سی جیسے اجزاء بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ اور اس سے بنی اشیاء جیسے دہی اور پنیر کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، میتھی اور سرسوں  کیلشیم اور آئرن کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر ہلدی والے دودھ کا استعمال بھی بہت مفید ہے کیونکہ ہلدی میں موجود خصوصیات درد اور سوجن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p>جسمانی ٹشوز کی مرمت اور ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے پروٹین بھی لازمی ہے۔ اس کے لیے دالیں، انڈے، چکن اور سویا بین جیسی اشیاء کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ خشک میوہ جات جیسے بادام، اخروٹ اور کاجو بھی جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>وٹامن سی  سے بھرپور پھل جیسے مالٹا، لیموں اور آملہ کولاجن بنانے میں مدد دیتے ہیں، جو ہڈیوں کے جڑنے کے لیے بنیادی اینٹ کا کام کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442927'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442927"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہڈیوں کی صحت کے لیے دھوپ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے روزانہ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>پانی کا زیادہ استعمال بھی اس عمل میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالتا ہے اور خلیات کی تعمیر میں مددگار ہوتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر کی اجازت سے جسم کے باقی حصوں کی ہلکی حرکت بھی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے جس سے غذائیت متاثرہ حصے تک تیزی سے پہنچتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ زیادہ نمک اور چینی کا استعمال ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ نمک جسم سے کیلشیم کو باہر نکال دیتا ہے۔</p>
<p>کولڈ ڈرنکس، چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بھی ہڈیوں کی مرمت کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ خاص طور پر تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہڈیوں تک خون کی فراہمی کو روک دیتی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ جگہ کی مالش سے گریز کریں کیونکہ یہ ہڈی کی قدرتی پوزیشن کو خراب کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ فریکچر کے دوران صحیح خوراک ہڈیوں کے جڑنے کے عمل کو تیز کرتی ہے اور جسمانی کمزوری کم کرتی ہے۔  اس طرح آپ جلد اپنی معمول کی زندگی میں واپس آ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی خاص معلومات درکار ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ لینا بہتر رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504790</guid>
      <pubDate>Wed, 06 May 2026 11:10:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/06100806148694c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/06100806148694c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمیوں میں لسّی پینا کن لوگوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تپتی دھوپ اور شدید گرمی کے موسم میں لسی کا ایک ٹھنڈا گلاس کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہی سے تیار ہونے والا یہ روایتی مشروب نہ صرف زبان کو ذائقہ دیتا ہے بلکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی پورا کرنے کے لیے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں لوگ اسے اپنی روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ سفید رنگ کا فرحت بخش مشروب اپنے اندر بے شمار فوائد چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہ ہر انسان کے لیے یکساں مفید ثابت نہیں ہوتی۔ اگر لسی غلط وقت پر یا ضرورت سے زیادہ پی جائے تو یہ فائدے کے بجائے الٹا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30405681'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق لسی نظام ہضم کو بہتر بنانے میں جادوئی اثر رکھتی ہے کیونکہ اس میں موجود پروبائیوٹکس معدے کو صحت مند رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے یہ جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور ہائیڈریشن برقرار رکھنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ لیکن صحت کے حوالے سے کچھ مخصوص مسائل کا شکار افراد کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لوگ جو دودھ یا دہی سے الرجی رکھتے ہیں، ان کے لیے لسی پیٹ میں درد، گیس یا دست کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو اکثر نزلہ، زکام یا گلے کی خرابی کی شکایت رہتی ہے، انہیں لسی سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو مسئلے کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کم بلڈ پریشر کے مریضوں کو بھی لسی کے استعمال میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ فشار خون کو مزید کم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسّی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صحیح وقت، صحیح مقدار اور صحیح طریقے سے پیا جائے۔ ماہرین نے کہا کہ دن کے وقت، خاص طور پر دوپہر میں لسّی پینا بہتر ہے کیونکہ اس وقت ہاضمہ فعال ہوتا ہے اور جسم کو قدرتی ٹھنڈک بھی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ تازہ اور گھر کی بنی ہوئی لسی کو ترجیح دیں، کیونکہ بازار میں ملنے والی لسی میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہو سکتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ لسی پیتے وقت اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، دن میں ایک گلاس لسی کافی ہوتی ہے اور بہت زیادہ ٹھنڈی لسی پینے سے گریز کریں تاکہ گلے کی خرابی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کو کوئی سنگین طبی مسئلہ درپیش ہے تو لسی کو اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ آپ اس کے فوائد سے صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تپتی دھوپ اور شدید گرمی کے موسم میں لسی کا ایک ٹھنڈا گلاس کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>دہی سے تیار ہونے والا یہ روایتی مشروب نہ صرف زبان کو ذائقہ دیتا ہے بلکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی پورا کرنے کے لیے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں لوگ اسے اپنی روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ بناتے ہیں۔</p>
<p>تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ سفید رنگ کا فرحت بخش مشروب اپنے اندر بے شمار فوائد چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہ ہر انسان کے لیے یکساں مفید ثابت نہیں ہوتی۔ اگر لسی غلط وقت پر یا ضرورت سے زیادہ پی جائے تو یہ فائدے کے بجائے الٹا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30405681'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق لسی نظام ہضم کو بہتر بنانے میں جادوئی اثر رکھتی ہے کیونکہ اس میں موجود پروبائیوٹکس معدے کو صحت مند رکھتے ہیں۔</p>
<p>گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے یہ جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور ہائیڈریشن برقرار رکھنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ لیکن صحت کے حوالے سے کچھ مخصوص مسائل کا شکار افراد کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔</p>
<p>ایسے لوگ جو دودھ یا دہی سے الرجی رکھتے ہیں، ان کے لیے لسی پیٹ میں درد، گیس یا دست کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو اکثر نزلہ، زکام یا گلے کی خرابی کی شکایت رہتی ہے، انہیں لسی سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے جو مسئلے کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کم بلڈ پریشر کے مریضوں کو بھی لسی کے استعمال میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ فشار خون کو مزید کم کر سکتی ہے۔</p>
<p>لسّی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صحیح وقت، صحیح مقدار اور صحیح طریقے سے پیا جائے۔ ماہرین نے کہا کہ دن کے وقت، خاص طور پر دوپہر میں لسّی پینا بہتر ہے کیونکہ اس وقت ہاضمہ فعال ہوتا ہے اور جسم کو قدرتی ٹھنڈک بھی ملتی ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ تازہ اور گھر کی بنی ہوئی لسی کو ترجیح دیں، کیونکہ بازار میں ملنے والی لسی میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہو سکتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ لسی پیتے وقت اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، دن میں ایک گلاس لسی کافی ہوتی ہے اور بہت زیادہ ٹھنڈی لسی پینے سے گریز کریں تاکہ گلے کی خرابی سے بچا جا سکے۔</p>
<p>اگر آپ کو کوئی سنگین طبی مسئلہ درپیش ہے تو لسی کو اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ آپ اس کے فوائد سے صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504689</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 12:15:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/0512003836fb449.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/0512003836fb449.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دل کا دورہ پڑنے پر ایک منٹ کی یہ بروقت کوشش زندگی بچا سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504678/a-timely-effort-of-just-one-minute-during-a-heart-attack-can-save-a-life</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دل کے امراض آج کل بہت عام ہو چکے ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسی ہنگامی صورتحال میں کارڈيو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) کا علم ہونا ہر شہری کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسی تکنیک ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی شخص کی سانس رک جائے یا دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہر خاندان میں صرف ایک فرد سی پی آر دینا سیکھ لے تو ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30243509'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30243509"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سی پی آر کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی آر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ضرورت پڑنے پر سینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے۔ جب ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، تو سی پی آر عارضی طور پر خون کی گردش کو بحال رکھ کر دماغ اور دیگر اعضاء کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین اس بارے میں مشورہ دیتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں ہر ایک سیکنڈ بہت قیمتی ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے صحیح طریقے سے سینے کو دبانے کا عمل شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے سامنے کوئی شخص اچانک بے ہوش ہو کر گر جائے تو سب سے پہلے ایمبولینس کے لیے یا متعلقہ ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک طبی مدد نہیں پہنچتی، آپ مریض کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ کیا وہ اوپر نیچے ہورہا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد مریض کے چہرے کے قریب جا کر اس کی سانس کو محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سانس نہیں آ رہی تو جبڑے اور گردن کے درمیان موجود حصے کو چھو کر نبض چیک کریں۔ اگر نبض اور سانس دونوں بند ہوں تو بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر سی پی آر شروع کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی آر دینے کے لیے مریض کو ہمیشہ کسی سخت اور ہموار جگہ یعنی فرش پر لٹانا چاہیے، کیونکہ نرم بستر یا گدے پر سینے کو دبانے سے دل پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینے کے عین درمیان میں موجود ہڈی کے نچلے حصے پر اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی رکھیں اور دوسرے ہاتھ کو اس کے اوپر رکھ کر انگلیوں کو آپس میں جوڑ لیں۔ اپنی کہنیوں کو بالکل سیدھا رکھیں اور اپنے جسم کے وزن کا استعمال کرتے ہوئے سینے کو دبانا شروع کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503793/heart-attack-from-sun-exposure-5-symptoms-and-preventive-measures'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آپ کو ایک منٹ میں 100 سے 120 بار سینے کو دبانا چاہیے اور ہر بار سینہ تقریباً 2 انچ تک نیچے دبنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ تربیت یافتہ ہیں تو ہر 30 بار سینہ دبانے کے بعد 2 بار مریض کو منہ کے ذریعے مصنوعی سانس بھی دے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ طریقہ نہیں جانتے تو صرف سینہ پر دباؤ ڈالنے کا عمل بھی کافی کارگر ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک مریض کو ہوش نہ آ جائے یا ایمبولینس نہ پہنچ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مریض کی سانس بحال ہو جائے تو اسے فوری طور پر کروٹ کے بل لٹا دیں تاکہ اسے سانس لینے میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں، اسے پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہ سمجھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دل کے امراض آج کل بہت عام ہو چکے ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں بھی ہارٹ اٹیک کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسی ہنگامی صورتحال میں کارڈيو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) کا علم ہونا ہر شہری کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ ایک ایسی تکنیک ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی شخص کی سانس رک جائے یا دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہو۔</p>
<p>ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہر خاندان میں صرف ایک فرد سی پی آر دینا سیکھ لے تو ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات میں 60 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30243509'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30243509"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>سی پی آر کیا ہے؟</strong></p>
<p>سی پی آر ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ضرورت پڑنے پر سینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے۔ جب ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، تو سی پی آر عارضی طور پر خون کی گردش کو بحال رکھ کر دماغ اور دیگر اعضاء کو زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین اس بارے میں مشورہ دیتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں ہر ایک سیکنڈ بہت قیمتی ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے صحیح طریقے سے سینے کو دبانے کا عمل شروع کر دیا جائے تو مریض کے بچنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>اگر آپ کے سامنے کوئی شخص اچانک بے ہوش ہو کر گر جائے تو سب سے پہلے ایمبولینس کے لیے یا متعلقہ ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔</p>
<p>جب تک طبی مدد نہیں پہنچتی، آپ مریض کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ کیا وہ اوپر نیچے ہورہا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد مریض کے چہرے کے قریب جا کر اس کی سانس کو محسوس کریں۔</p>
<p>اگر سانس نہیں آ رہی تو جبڑے اور گردن کے درمیان موجود حصے کو چھو کر نبض چیک کریں۔ اگر نبض اور سانس دونوں بند ہوں تو بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر سی پی آر شروع کر دینا چاہیے۔</p>
<p>سی پی آر دینے کے لیے مریض کو ہمیشہ کسی سخت اور ہموار جگہ یعنی فرش پر لٹانا چاہیے، کیونکہ نرم بستر یا گدے پر سینے کو دبانے سے دل پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑتا۔</p>
<p>سینے کے عین درمیان میں موجود ہڈی کے نچلے حصے پر اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی رکھیں اور دوسرے ہاتھ کو اس کے اوپر رکھ کر انگلیوں کو آپس میں جوڑ لیں۔ اپنی کہنیوں کو بالکل سیدھا رکھیں اور اپنے جسم کے وزن کا استعمال کرتے ہوئے سینے کو دبانا شروع کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503793/heart-attack-from-sun-exposure-5-symptoms-and-preventive-measures'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق آپ کو ایک منٹ میں 100 سے 120 بار سینے کو دبانا چاہیے اور ہر بار سینہ تقریباً 2 انچ تک نیچے دبنا چاہیے۔</p>
<p>اگر آپ تربیت یافتہ ہیں تو ہر 30 بار سینہ دبانے کے بعد 2 بار مریض کو منہ کے ذریعے مصنوعی سانس بھی دے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ طریقہ نہیں جانتے تو صرف سینہ پر دباؤ ڈالنے کا عمل بھی کافی کارگر ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک مریض کو ہوش نہ آ جائے یا ایمبولینس نہ پہنچ جائے۔</p>
<p>اگر مریض کی سانس بحال ہو جائے تو اسے فوری طور پر کروٹ کے بل لٹا دیں تاکہ اسے سانس لینے میں آسانی ہو۔</p>
<p><strong>نوٹ:</strong> یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں، اسے پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہ سمجھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504678</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 11:22:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/05110604f1d1fdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/05110604f1d1fdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہنٹا وائرس کیا ہے؟ علامات اور بچاؤ کے طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہنٹا وائرس دراصل جراثیم کا ایک ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر جب انسان ایسی جگہوں پر صفائی کرتے ہیں جہاں یہ غلاظت موجود ہو، تو وہاں اڑنے والی دھول کے ساتھ یہ وائرس سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں یہ وائرس دو طرح کی سنگین بیماریاں پیدا کرتا ہے، جن میں سے ایک پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے اور دوسری گردوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور کینیڈا جیسے ملکوں میں پایا جانے والا ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے جس میں شرح اموات تقریباً 40 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں یہ گردوں کی خرابی اور خون بہنے والے بخار کا باعث بنتا ہے جس میں شرح اموات ایک سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیماری کی علامات عام طور پر وائرس لگنے کے ایک سے آٹھ ہفتوں کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں اور شروع میں یہ کسی عام وائرل انفیکشن جیسی لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی مرحلے میں مریض کو اچانک تیز بخار، کپکپاہٹ، سر درد اور کمر و کولہوں کے پٹھوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504564'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر پھیپھڑوں والی قسم ہو تو چار سے دس دن کے اندر مریض کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگتی ہے کیونکہ پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے سانس یا دل کی حرکت بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری صورت میں مریض کا بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، جسم کے اندرونی حصوں سے خون بہہ سکتا ہے اور گردے اچانک کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم طریقہ چوہوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفیکشن کا سب سے بڑا ذریعہ وہ خشک ذرات ہیں جو چوہوں کے فضلے سے ہوا میں شامل ہوتے ہیں، خاص طور پر پرانے گوداموں یا بند کمروں کی صفائی کے دوران یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ چوہے کے کاٹنے یا آلودہ سطح کو چھونے سے بھی یہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم ایک انسان سے دوسرے انسان میں اس کا پھیلاؤ انتہائی نایاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صفائی کے دوران احتیاط کی تاکید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو وہاں جھاڑو یا ویکیوم کلینر استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے وائرس ہوا میں اڑتا ہے، اس کے بجائے بلیچ کے محلول سے جگہ کو گیلا کریں اور دستانے و ماسک کا استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال اس وائرس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اور متاثرہ مریضوں کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھ کر ان کی علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہنٹا وائرس دراصل جراثیم کا ایک ایسا گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مخصوص اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ان جانوروں کو خود تو بیمار نہیں کرتا لیکن ان کے فضلے، پیشاب اور تھوک کے ذریعے ماحول میں پھیل جاتا ہے۔</strong></p>
<p>عام طور پر جب انسان ایسی جگہوں پر صفائی کرتے ہیں جہاں یہ غلاظت موجود ہو، تو وہاں اڑنے والی دھول کے ساتھ یہ وائرس سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں یہ وائرس دو طرح کی سنگین بیماریاں پیدا کرتا ہے، جن میں سے ایک پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے اور دوسری گردوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔</p>
<p>امریکا اور کینیڈا جیسے ملکوں میں پایا جانے والا ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے جس میں شرح اموات تقریباً 40 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں یہ گردوں کی خرابی اور خون بہنے والے بخار کا باعث بنتا ہے جس میں شرح اموات ایک سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے۔</p>
<p>اس بیماری کی علامات عام طور پر وائرس لگنے کے ایک سے آٹھ ہفتوں کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں اور شروع میں یہ کسی عام وائرل انفیکشن جیسی لگتی ہیں۔</p>
<p>ابتدائی مرحلے میں مریض کو اچانک تیز بخار، کپکپاہٹ، سر درد اور کمر و کولہوں کے پٹھوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504564'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504564"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر پھیپھڑوں والی قسم ہو تو چار سے دس دن کے اندر مریض کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگتی ہے کیونکہ پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے سانس یا دل کی حرکت بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>دوسری صورت میں مریض کا بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، جسم کے اندرونی حصوں سے خون بہہ سکتا ہے اور گردے اچانک کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم طریقہ چوہوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔</p>
<p>انفیکشن کا سب سے بڑا ذریعہ وہ خشک ذرات ہیں جو چوہوں کے فضلے سے ہوا میں شامل ہوتے ہیں، خاص طور پر پرانے گوداموں یا بند کمروں کی صفائی کے دوران یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ چوہے کے کاٹنے یا آلودہ سطح کو چھونے سے بھی یہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم ایک انسان سے دوسرے انسان میں اس کا پھیلاؤ انتہائی نایاب ہے۔</p>
<p>ماہرین صفائی کے دوران احتیاط کی تاکید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو وہاں جھاڑو یا ویکیوم کلینر استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے وائرس ہوا میں اڑتا ہے، اس کے بجائے بلیچ کے محلول سے جگہ کو گیلا کریں اور دستانے و ماسک کا استعمال کریں۔</p>
<p>فی الحال اس وائرس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اور متاثرہ مریضوں کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھ کر ان کی علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504566</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 10:29:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/04094208c47945f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/04094208c47945f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمی کی شدید لہر سے کیسے بچیں؟ ماہرین نے آسان حل بتا دیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504498/how-to-stay-safe-during-a-heatwave-experts-share-simple-solutions-tags</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کے بیشتر حصے شدید گرمی اور خشک موسم کی لپیٹ میں ہیں۔ جبکہ کراچی میں گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہرِ قائد میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسم کی بدلتی صورتحال اور گرمی کی انتہا نے انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ملک میں موسم اب پہلے جیسا نہیں رہا بلکہ یہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں پہلے سے زیادہ سخت گرمیاں طویل ہیٹ ویوز کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہے، جن میں دماغ، دل، ہارمونز اور ذہنی صحت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دماغی صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا انحصار خون کے بہاؤ، آکسیجن اور سیال مادوں کے توازن پر ہوتا ہے۔ پانی کی کمی سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے جس سے سر درد، چکر آنا اور تھکاوٹ جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30395632'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی باقاعدگی سے پانی پئیں اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں نمکیات کا استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دل کی صحت کے بارے میں امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد اور گرم دونوں موسم دل پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش دل کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، جس سے نہ صرف ذیابیطس اور بلڈ پریشر بلکہ دل کے مسائل کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناک، کان اور گلے کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر سکتی ہے جس سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے حملہ آور ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504164'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504164"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا مشورہ ہے کہ دوپہر کی شدید گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور بیماری کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹکس لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارمونز کے نظام پر گرمی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم میں اسٹریس ہارمونز کو بڑھا دیتی ہے جس سے چڑچڑاپن اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیابیطس کے مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ گرمی میں شوگر لیول متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے شوگر لیول کی بار بار جانچ کریں اور انسولین کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہنی صحت کے بارے میں ماہر نفسیات کہتے ہیں۔ شدید گرمی جذباتی توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے نیند اور بھوک میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کام ٹھنڈے اوقات میں مکمل کریں، بھرپور نیند لیں اور اپنی پریشانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں اور پانی کا زیادہ استعمال ان موسمی خطرات سے بچنے کا بہترین حل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کے بیشتر حصے شدید گرمی اور خشک موسم کی لپیٹ میں ہیں۔ جبکہ کراچی میں گرمی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہرِ قائد میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>موسم کی بدلتی صورتحال اور گرمی کی انتہا نے انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ملک میں موسم اب پہلے جیسا نہیں رہا بلکہ یہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں پہلے سے زیادہ سخت گرمیاں طویل ہیٹ ویوز کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہے، جن میں دماغ، دل، ہارمونز اور ذہنی صحت شامل ہیں۔</p>
<p>دماغی صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا انحصار خون کے بہاؤ، آکسیجن اور سیال مادوں کے توازن پر ہوتا ہے۔ پانی کی کمی سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے جس سے سر درد، چکر آنا اور تھکاوٹ جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30395632'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی باقاعدگی سے پانی پئیں اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں نمکیات کا استعمال کریں۔</p>
<p>دل کی صحت کے بارے میں امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد اور گرم دونوں موسم دل پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش دل کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، جس سے نہ صرف ذیابیطس اور بلڈ پریشر بلکہ دل کے مسائل کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔</p>
<p>ناک، کان اور گلے کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر سکتی ہے جس سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے حملہ آور ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504164'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504164"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا مشورہ ہے کہ دوپہر کی شدید گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور بیماری کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹکس لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔</p>
<p>ہارمونز کے نظام پر گرمی کے اثرات کے حوالے سے ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ شدید گرمی جسم میں اسٹریس ہارمونز کو بڑھا دیتی ہے جس سے چڑچڑاپن اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>ذیابیطس کے مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ گرمی میں شوگر لیول متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے شوگر لیول کی بار بار جانچ کریں اور انسولین کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔</p>
<p>ذہنی صحت کے بارے میں ماہر نفسیات کہتے ہیں۔ شدید گرمی جذباتی توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے نیند اور بھوک میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کام ٹھنڈے اوقات میں مکمل کریں، بھرپور نیند لیں اور اپنی پریشانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں اور پانی کا زیادہ استعمال ان موسمی خطرات سے بچنے کا بہترین حل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504498</guid>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 13:48:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/03134555b6d86dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/03134555b6d86dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ذہنی صحت کی آگاہی فائدے کے ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے، نئی تحقیق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504496/mental-health-awareness-can-cause-harm-along-with-benefits-says-new-study</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو اپنے مسائل پر بات کرنے، مدد حاصل کرنے اور خود کو تنہا محسوس نہ کرنے میں مدد دی ہے، بہت سے لوگوں کو اپنے مسائل بیان کرنے اور مدد لینے کا حوصلہ دیا ہے، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں پر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماہر نفسیات مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے کبھی کبھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر ذہنی صحت سے متعلق ویڈیوز اور معلومات بار بار دیکھنے سے لوگ اپنے عام جذبات کو بھی بیماری سمجھنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346455'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، ’لوگ معمولی اداسی، دباؤ یا گھبراہٹ کو بھی مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں، جو کہ زندگی کا عام حصہ ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک نوجوان سوشل میڈیا پر ذہنی دباؤ کی علامات سے متعلق کوئی ویڈیو دیکھتا ہے اور ان علامات کو اپنے روزمرہ کے معمولات سے جوڑنے لگتا ہے تو وہ غیر محسوس طریقے سے خود کو بیمار سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر وقت اپنے خیالات اور احساسات پر نظر رکھنے لگتا ہے، جس سے اس کی پریشانی اور بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص خود کو کسی مسئلے کا شکار سمجھنے لگتا ہے، تو اس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خود کو اینزائٹی کا مریض سمجھ لے، تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا کم کر سکتا ہے، جس سے مسئلہ اور بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں تین اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آگاہی مہمات کی وجہ سے ذہنی امراض کی تعریف اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ روزمرہ کی عام پریشانی، اداسی یا گھبراہٹ کو بھی لوگ سنگین بیماری سمجھنے لگے ہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ لوگ ہر وقت اپنے خیالات اور جذبات کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگتے ہیں جس سے وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے بارے میں بھی حساس ہو جاتے ہیں اور یہ عمل سکون دینے کے بجائے بے چینی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی خاص بیماری کا لیبل خود پر لگا لیتا ہے تو اس کا رویہ بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی خود کو ذہنی دباؤ کا شکار سمجھ لے تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے جس سے اس کا وہ فرضی مسئلہ حقیقت بننے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/minzlicht/status/2049493735453389276?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2049493735453389276%7Ctwgr%5Edb2577789b15943504ee33efdd8e851a35035f9c%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fhealth%2Fstory%2Fmental-health-awareness-study-warns-social-media-may-heighten-anxiety-in-young-people-2904420-2026-05-02'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/minzlicht/status/2049493735453389276?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2049493735453389276%7Ctwgr%5Edb2577789b15943504ee33efdd8e851a35035f9c%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fhealth%2Fstory%2Fmental-health-awareness-study-warns-social-media-may-heighten-anxiety-in-young-people-2904420-2026-05-02"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس حوالے سے شواہد بھی کافی ہیں۔ یہ جاننا کہ تنہائی نقصان دہ ہے، اکیلے رہنے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ جاننا کہ دباؤ نقصان دہ ہے، انسان کی کارکردگی اور ذہنی حالت کو مزید خراب کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446519'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446519"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ فرضی بیماریوں جیسے ”ونڈ ٹربائن سنڈروم“ کے بارے میں آگاہی ویڈیوز بھی لوگوں میں حقیقی سر درد پیدا کر دیتی ہیں۔ اسی طرح ”ٹرگر وارننگز“ پریشانی کو کم کرنے کے بجائے پہلے سے بے چینی بڑھا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اور اسکولوں میں چلائے جانے والے تعلیمی پروگرام بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے لیکن کبھی کبھی یہ پروگرام عام انسانی جذبات اور طبی لحاظ سے سنگین امراض کے درمیان فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی صحت کی آگاہی کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نے بہت سے لوگوں کو مدد لینے کی ہمت دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں توازن ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کا موقف ہے کہ آگاہی کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہونا چاہیے کہ انہیں کب واقعی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اپنے ہر چھوٹے بڑے احساس پر شک کرنا شروع کر دیں۔ ماہرین کے مطابق ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر طرح کی اداسی یا تناؤ کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ زندگی کا ایک نارمل حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو اپنے مسائل پر بات کرنے، مدد حاصل کرنے اور خود کو تنہا محسوس نہ کرنے میں مدد دی ہے، بہت سے لوگوں کو اپنے مسائل بیان کرنے اور مدد لینے کا حوصلہ دیا ہے، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوانوں پر۔</strong></p>
<p>امریکی ماہر نفسیات مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے کبھی کبھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>اس تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر ذہنی صحت سے متعلق ویڈیوز اور معلومات بار بار دیکھنے سے لوگ اپنے عام جذبات کو بھی بیماری سمجھنے لگتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346455'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق، ’لوگ معمولی اداسی، دباؤ یا گھبراہٹ کو بھی مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں، جو کہ زندگی کا عام حصہ ہے۔‘</p>
<p>تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب ایک نوجوان سوشل میڈیا پر ذہنی دباؤ کی علامات سے متعلق کوئی ویڈیو دیکھتا ہے اور ان علامات کو اپنے روزمرہ کے معمولات سے جوڑنے لگتا ہے تو وہ غیر محسوس طریقے سے خود کو بیمار سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر وقت اپنے خیالات اور احساسات پر نظر رکھنے لگتا ہے، جس سے اس کی پریشانی اور بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص خود کو کسی مسئلے کا شکار سمجھنے لگتا ہے، تو اس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی خود کو اینزائٹی کا مریض سمجھ لے، تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا کم کر سکتا ہے، جس سے مسئلہ اور بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں تین اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آگاہی مہمات کی وجہ سے ذہنی امراض کی تعریف اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ روزمرہ کی عام پریشانی، اداسی یا گھبراہٹ کو بھی لوگ سنگین بیماری سمجھنے لگے ہیں۔<br></p>
<p>دوسرا یہ کہ لوگ ہر وقت اپنے خیالات اور جذبات کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگتے ہیں جس سے وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے بارے میں بھی حساس ہو جاتے ہیں اور یہ عمل سکون دینے کے بجائے بے چینی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی خاص بیماری کا لیبل خود پر لگا لیتا ہے تو اس کا رویہ بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی خود کو ذہنی دباؤ کا شکار سمجھ لے تو وہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے جس سے اس کا وہ فرضی مسئلہ حقیقت بننے لگتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/minzlicht/status/2049493735453389276?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2049493735453389276%7Ctwgr%5Edb2577789b15943504ee33efdd8e851a35035f9c%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fhealth%2Fstory%2Fmental-health-awareness-study-warns-social-media-may-heighten-anxiety-in-young-people-2904420-2026-05-02'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/minzlicht/status/2049493735453389276?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2049493735453389276%7Ctwgr%5Edb2577789b15943504ee33efdd8e851a35035f9c%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fhealth%2Fstory%2Fmental-health-awareness-study-warns-social-media-may-heighten-anxiety-in-young-people-2904420-2026-05-02"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق اس حوالے سے شواہد بھی کافی ہیں۔ یہ جاننا کہ تنہائی نقصان دہ ہے، اکیلے رہنے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ یہ جاننا کہ دباؤ نقصان دہ ہے، انسان کی کارکردگی اور ذہنی حالت کو مزید خراب کر دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446519'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446519"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہاں تک کہ فرضی بیماریوں جیسے ”ونڈ ٹربائن سنڈروم“ کے بارے میں آگاہی ویڈیوز بھی لوگوں میں حقیقی سر درد پیدا کر دیتی ہیں۔ اسی طرح ”ٹرگر وارننگز“ پریشانی کو کم کرنے کے بجائے پہلے سے بے چینی بڑھا دیتی ہیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا اور اسکولوں میں چلائے جانے والے تعلیمی پروگرام بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے لیکن کبھی کبھی یہ پروگرام عام انسانی جذبات اور طبی لحاظ سے سنگین امراض کے درمیان فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی صحت کی آگاہی کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس نے بہت سے لوگوں کو مدد لینے کی ہمت دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں توازن ضروری ہے۔</p>
<p>مائیکل انزلچٹ اور ان کی ٹیم کا موقف ہے کہ آگاہی کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہونا چاہیے کہ انہیں کب واقعی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے، نہ کہ اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ اپنے ہر چھوٹے بڑے احساس پر شک کرنا شروع کر دیں۔ ماہرین کے مطابق ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر طرح کی اداسی یا تناؤ کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ زندگی کا ایک نارمل حصہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504496</guid>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 12:33:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/0312305228c5bbe.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/0312305228c5bbe.webp"/>
        <media:title>تصویر/ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول پمپ کے قریب رہنے والے بچوں میں کینسر کا خطرہ: تحقیق میں انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504396/health-childhoodcancer-gasstation-airpollution-benzeneexposure-environment-publichealthresearch</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مونٹریال یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول پمپ کے قریب رہائش پذیر بچوں میں کینسر، بالخصوص خون کے کینسر کا خطرہ دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://phys.org/news/2026-05-gas-station-childhood-cancer.html"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; کے سربراہ پروفیسر اسٹیفن بیوٹو کے مطابق، بچوں میں کینسر کی صرف 5 سے 10 فیصد وجوہات جینیٹکس ہوتی ہیں، جبکہ باقی ماندہ خطرات ماحولیاتی عوامل، خاص طور پر فضائی آلودگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول میں ’بینزین‘ نامی ایک انتہائی خطرناک اور کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی، گاڑیوں میں ایندھن بھرنے اور ٹینکرز سے پیٹرول نکالنے کے دوران بخارات بن کر فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کے محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق، پیٹرول پمپ سے خارج ہونے والے یہ بخارات قریبی رہائشیوں، بالخصوص حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30423557'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محققین نے ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بچے جن کی پیدائش کے وقت ان کے گھر پیٹرول پمپ سے 250 میٹر کے فاصلے کے اندر تھے، ان میں خون کے کینسر کا خطرہ واضح طور پر زیادہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب گھر کا فاصلہ 100 میٹر یا اس سے بھی کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول پمپس سے نکلنے والی گیسیں اور بخارات ہوا میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بخارات خاص طور پر اس وقت خارج ہوتے ہیں جب پمپ کے ٹینک بھرے جا رہے ہوں یا گاڑیوں میں پٹرول ڈالا جا رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تحقیق کینیڈا میں کی گئی، لیکن اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یہ خطرہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کم دیکھا گیا، جس کی وجہ وہاں کے سخت قوانین ہیں۔ وہاں ایسے جدید نظام ’ویپر ریکوری سسٹم‘ استعمال کیے جاتے ہیں جو زہریلے بخارات کو ہوا میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹڈی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حمل کے دوران اور پیدائش کے فوراً بعد کا وقت انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ اس دورانیے میں زہریلے ماحولیاتی اثرات بچوں کے جسمانی خلیات پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30288151'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30288151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تجویز دی ہے کہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز کو پٹرول پمپوں سے ایک مناسب فاصلے  پر تعمیر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس پر گیسوں کے اخراج کو روکنے والے آلات کی تنصیب لازمی قرار دی جانی چاہیے، تاکہ بچوں کو ان جان لیوا ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین اب اپنی اگلی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ صنعتی دھوئیں اور ہوا میں موجود باریک گرد و غبار بچوں کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مونٹریال یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول پمپ کے قریب رہائش پذیر بچوں میں کینسر، بالخصوص خون کے کینسر کا خطرہ دیگر بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>اس <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://phys.org/news/2026-05-gas-station-childhood-cancer.html">تحقیق</a> کے سربراہ پروفیسر اسٹیفن بیوٹو کے مطابق، بچوں میں کینسر کی صرف 5 سے 10 فیصد وجوہات جینیٹکس ہوتی ہیں، جبکہ باقی ماندہ خطرات ماحولیاتی عوامل، خاص طور پر فضائی آلودگی سے وابستہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول میں ’بینزین‘ نامی ایک انتہائی خطرناک اور کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی، گاڑیوں میں ایندھن بھرنے اور ٹینکرز سے پیٹرول نکالنے کے دوران بخارات بن کر فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کینیڈا کے محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق، پیٹرول پمپ سے خارج ہونے والے یہ بخارات قریبی رہائشیوں، بالخصوص حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30423557'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محققین نے ڈیٹا کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بچے جن کی پیدائش کے وقت ان کے گھر پیٹرول پمپ سے 250 میٹر کے فاصلے کے اندر تھے، ان میں خون کے کینسر کا خطرہ واضح طور پر زیادہ دیکھا گیا۔</p>
<p>یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب گھر کا فاصلہ 100 میٹر یا اس سے بھی کم ہو۔</p>
<p>پٹرول پمپس سے نکلنے والی گیسیں اور بخارات ہوا میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بخارات خاص طور پر اس وقت خارج ہوتے ہیں جب پمپ کے ٹینک بھرے جا رہے ہوں یا گاڑیوں میں پٹرول ڈالا جا رہا ہو۔</p>
<p>اگرچہ یہ تحقیق کینیڈا میں کی گئی، لیکن اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں یہ خطرہ دوسرے علاقوں کے مقابلے میں کم دیکھا گیا، جس کی وجہ وہاں کے سخت قوانین ہیں۔ وہاں ایسے جدید نظام ’ویپر ریکوری سسٹم‘ استعمال کیے جاتے ہیں جو زہریلے بخارات کو ہوا میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔</p>
<p>اسٹڈی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حمل کے دوران اور پیدائش کے فوراً بعد کا وقت انسانی صحت کے لیے سب سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ اس دورانیے میں زہریلے ماحولیاتی اثرات بچوں کے جسمانی خلیات پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30288151'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30288151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین نے تجویز دی ہے کہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ڈے کیئر سینٹرز کو پٹرول پمپوں سے ایک مناسب فاصلے  پر تعمیر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس پر گیسوں کے اخراج کو روکنے والے آلات کی تنصیب لازمی قرار دی جانی چاہیے، تاکہ بچوں کو ان جان لیوا ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p>محققین اب اپنی اگلی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ صنعتی دھوئیں اور ہوا میں موجود باریک گرد و غبار بچوں کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504396</guid>
      <pubDate>Sat, 02 May 2026 13:11:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/02125812ea04b8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/02125812ea04b8c.webp"/>
        <media:title>تصویر: اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئمنگ کے دوران آنکھوں کا انفیکشن، بچنے کے آسان طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504320/eye-infections-during-swimming-easy-ways-to-prevent-them</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمی کی شدت بڑھتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے سوئمنگ پولز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بغیر تیراکی آنکھوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کی تپش سے بچنے کے لیے سوئمنگ پول کا رخ کرنا ایک بہترین تفریح ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پول کا پانی آپ کی بینائی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟ ماہرین امراضِ چشم کے مطابق، پول میں موجود کلورین اور جراثیم آنکھوں میں سرخی، خارش اور انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/107319'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/107319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آنکھوں کی جلن صرف کلورین کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پول کے پانی میں پی ایچ لیول کا توازن بگڑنا اصل وجہ بنتا ہے۔ اگر پانی زیادہ تیزابی ہو جائے تو یہ آنکھوں کے قدرتی حفاظتی آنسوؤں کی تہہ کو ختم کر دیتا ہے، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احتیاطی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان تدابیر اختیار کر کے آنکھوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئمنگ سے پہلے غسل ضروری ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پول میں جانے سے پہلے صاف پانی سے نہانا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے چہرے پر موجود تیل، کریم یا لوشن صاف ہو جاتے ہیں۔ چہرے پر لگی کریم یا لوشن جب کلورین سے ملتے ہیں تو ایسے کیمیکلز بناتے ہیں جو آنکھوں میں شدید چبھن کا باعث بنتے ہیں۔ شاور لینے سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معیاری گوگلز کا استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کے اندر آنکھوں کو براہِ راست رابطے سے بچانے کے لیے اچھی فٹنگ والے چشمے پہنیں۔ ایسے گوگلز کا انتخاب کریں جو آنکھوں پر اچھی طرح فٹ ہوں اور پانی اندر نہ جانے دیں۔ اینٹی فوگ اور اینٹی گلیئر چشمے پانی کے اندر صاف دیکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کونٹیکٹ لینز اتار دیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئمنگ کے دوران لینز ہرگز نہ پہنیں۔ پانی میں موجود بیکٹیریا لینز کے نیچے پھنس کر کارنیا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ متبادل کے طور پر نمبر والے گوگلز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30402276/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہائیڈریشن اور دھوپ کا چشمہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیراکی کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، کیونکہ پانی کی کمی سے آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پول سے باہر نکلنے پر یو وی پروٹیکشن والے سن گلاسز پہنیں تاکہ سورج کی شعاعوں کے انعکاس سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پول سے واپسی پر کیا کریں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پول سے نکلنے کے بعد فوری طور پر صاف اور ٹھنڈے پانی سے آنکھوں کو دھوئیں۔ اس سے کلورین اور دیگر کیمیکلز صاف ہو جاتے ہیں۔ اگر جلن برقرار رہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں، آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے خراشیں پڑ سکتی ہیں اور انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ ٹھنڈے پانی کا استعمال زیادہ محفوظ ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی آنکھیں انتہائی حساس ہوتی ہیں، اس لیے والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے پانی کے اندر آنکھیں نہ کھولیں اور ہمیشہ معیاری گوگلز استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کا لطف اٹھائیں مگر آنکھوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔ ان سادہ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ اپنی بینائی کو محفوظ  بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرمی کی شدت بڑھتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے سوئمنگ پولز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بغیر تیراکی آنکھوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>گرمیوں کی تپش سے بچنے کے لیے سوئمنگ پول کا رخ کرنا ایک بہترین تفریح ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پول کا پانی آپ کی بینائی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟ ماہرین امراضِ چشم کے مطابق، پول میں موجود کلورین اور جراثیم آنکھوں میں سرخی، خارش اور انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/107319'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/107319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آنکھوں کی جلن صرف کلورین کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پول کے پانی میں پی ایچ لیول کا توازن بگڑنا اصل وجہ بنتا ہے۔ اگر پانی زیادہ تیزابی ہو جائے تو یہ آنکھوں کے قدرتی حفاظتی آنسوؤں کی تہہ کو ختم کر دیتا ہے، جس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p><strong>احتیاطی تدابیر</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان تدابیر اختیار کر کے آنکھوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>سوئمنگ سے پہلے غسل ضروری ہے</strong></p>
<p>پول میں جانے سے پہلے صاف پانی سے نہانا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے چہرے پر موجود تیل، کریم یا لوشن صاف ہو جاتے ہیں۔ چہرے پر لگی کریم یا لوشن جب کلورین سے ملتے ہیں تو ایسے کیمیکلز بناتے ہیں جو آنکھوں میں شدید چبھن کا باعث بنتے ہیں۔ شاور لینے سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p><strong>معیاری گوگلز کا استعمال</strong></p>
<p>پانی کے اندر آنکھوں کو براہِ راست رابطے سے بچانے کے لیے اچھی فٹنگ والے چشمے پہنیں۔ ایسے گوگلز کا انتخاب کریں جو آنکھوں پر اچھی طرح فٹ ہوں اور پانی اندر نہ جانے دیں۔ اینٹی فوگ اور اینٹی گلیئر چشمے پانی کے اندر صاف دیکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔</p>
<p><strong>کونٹیکٹ لینز اتار دیں</strong></p>
<p>سوئمنگ کے دوران لینز ہرگز نہ پہنیں۔ پانی میں موجود بیکٹیریا لینز کے نیچے پھنس کر کارنیا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ متبادل کے طور پر نمبر والے گوگلز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30402276/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402276"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ہائیڈریشن اور دھوپ کا چشمہ</strong></p>
<p>تیراکی کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، کیونکہ پانی کی کمی سے آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پول سے باہر نکلنے پر یو وی پروٹیکشن والے سن گلاسز پہنیں تاکہ سورج کی شعاعوں کے انعکاس سے بچا جا سکے۔</p>
<p><strong>پول سے واپسی پر کیا کریں؟</strong></p>
<p>پول سے نکلنے کے بعد فوری طور پر صاف اور ٹھنڈے پانی سے آنکھوں کو دھوئیں۔ اس سے کلورین اور دیگر کیمیکلز صاف ہو جاتے ہیں۔ اگر جلن برقرار رہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس استعمال کریں۔</p>
<p>یاد رکھیں، آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے خراشیں پڑ سکتی ہیں اور انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ ٹھنڈے پانی کا استعمال زیادہ محفوظ ہے</p>
<p>بچوں کی آنکھیں انتہائی حساس ہوتی ہیں، اس لیے والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے پانی کے اندر آنکھیں نہ کھولیں اور ہمیشہ معیاری گوگلز استعمال کریں۔</p>
<p>گرمیوں کا لطف اٹھائیں مگر آنکھوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔ ان سادہ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ اپنی بینائی کو محفوظ  بنا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504320</guid>
      <pubDate>Fri, 01 May 2026 15:16:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/011514514eea354.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/011514514eea354.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا گیلے کپڑے سے سر ڈھانپنا ہیٹ ویو سے بچا سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504164/can-covering-your-head-with-a-wet-cloth-protect-you-from-a-heatwave-find-out-what-doctors-say</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر نے عام انسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ایسے میں لوگ تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے مختلف دیسی طریقے اپنا رہے ہیں۔ ان میں سب سے عام طریقہ سر پر گیلا دوپٹہ، رومال یا سوتی کپڑا لپیٹنا ہے جو ہمیں اکثر سڑکوں پر چلنے والے اور مزدوروں کے سر پر نظر آتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقہ واقعی ہمیں لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک جیسی خطرناک صورتحال سے بچا سکتا ہے؟ ماہرین صحت کے مطابق یہ طریقہ کچھ حد تک تو فائدہ مند ہے لیکن اسے مکمل تحفظ سمجھ لینا ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/does-wrapping-a-wet-dupatta-or-cloth-around-the-head-protect-from-heatwaves-doctor-explains-11419192?pfrom=home-ndtv_icymistories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق بچوں کی ماہر اور نومولود بچوں کی معالج منی پال اسپتال گوا کی ڈاکٹر پریتی پریرا اس بارے میں سائنسی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گیلا کپڑا بخارات بننے کے عمل کے ذریعے جلد کو ٹھنڈا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30395632'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے پانی خشک ہوتا ہے وہ آپ کے جسم کی حرارت کو اپنے ساتھ کھینچ لیتا ہے، جس سے سطح کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور عارضی طور پر سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے انسانی جسم کو پسینہ آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر پریرا نے خبردار بھی کیا کہ ہیٹ ویو میں یہ طریقہ مکمل علاج نہیں ہے کیونکہ جب ہوا میں نمی کا تناسب یا نمی بہت زیادہ ہو تو پانی کے خشک ہونے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور اس طرح ٹھنڈک کا یہ اثر بھی ختم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے لو نہیں لگے گی، تاہم طبی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر پریرا کے مطابق یہ طریقہ ہیٹ اسٹروک کو نہیں روک سکتا، جو کہ ایک ایسی طبی ہنگامی صورتحال ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور جسم خود کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان گیلے کپڑے کی وجہ سے خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ اس سے انسان کو جھوٹی تسلی مل سکتی ہے کہ گرمی یا دھوپ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اس دھوکے میں وہ پانی پینا یا سائے میں آرام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ اس خوف سے بھی گیلے کپڑے کا استعمال نہیں کرتے کہ کہیں انہیں زکام یا فلو نہ ہو جائے۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر پریرا کہتی ہیں کہ یہ طریقہ نزلہ یا فلو کا باعث نہیں بنتا کیونکہ یہ بیماریاں وائرس سے پھیلتی ہیں نہ کہ پانی یا نمی سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ زیادہ دیر تک گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے کچھ لوگوں کو سر درد، بے چینی یا سائنس کی تکلیف ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی اگر کپڑا صاف نہ ہو تو جلد اور سر کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30387912'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387912"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ صحت مند افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں وہ اس طریقے کو اپنا سکتے ہیں، لیکن بوڑھے افراد، چھوٹے بچے، دائمی مریض اور کمزور قوت مدافعت والے لوگوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ یہ طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر ہدایت دیتی ہیں کہ ہمیشہ صاف اور ٹھنڈا پانی استعمال کریں، بہت زیادہ برف والا پانی نہ لیں اور جیسے ہی کپڑا خشک ہونے لگے اسے دوبارہ گیلا کریں بجائے اس کے کہ اسے گھنٹوں سر پر لٹکائے رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمی کی لہر سے بچنے کا بہترین حل صرف ایک گیلا کپڑا نہیں بلکہ ایک مکمل حکمت عملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی تنظیمیں مشورہ دیتی ہیں کہ کثرت سے پانی پیئیں، دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں، ہلکے رنگ کے اور ہوا دار کپڑے پہنیں اور جتنا ممکن ہو سائے یا ٹھنڈی جگہوں پر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں کہ گیلا دوپٹہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے صرف ایک اضافی مدد ہے، اصل بچاؤ پانی پینے اور احتیاط کرنے میں ہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر نے عام انسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ایسے میں لوگ تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے مختلف دیسی طریقے اپنا رہے ہیں۔ ان میں سب سے عام طریقہ سر پر گیلا دوپٹہ، رومال یا سوتی کپڑا لپیٹنا ہے جو ہمیں اکثر سڑکوں پر چلنے والے اور مزدوروں کے سر پر نظر آتا ہے۔</strong></p>
<p>لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقہ واقعی ہمیں لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک جیسی خطرناک صورتحال سے بچا سکتا ہے؟ ماہرین صحت کے مطابق یہ طریقہ کچھ حد تک تو فائدہ مند ہے لیکن اسے مکمل تحفظ سمجھ لینا ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/does-wrapping-a-wet-dupatta-or-cloth-around-the-head-protect-from-heatwaves-doctor-explains-11419192?pfrom=home-ndtv_icymistories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق بچوں کی ماہر اور نومولود بچوں کی معالج منی پال اسپتال گوا کی ڈاکٹر پریتی پریرا اس بارے میں سائنسی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گیلا کپڑا بخارات بننے کے عمل کے ذریعے جلد کو ٹھنڈا کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30395632'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جیسے جیسے پانی خشک ہوتا ہے وہ آپ کے جسم کی حرارت کو اپنے ساتھ کھینچ لیتا ہے، جس سے سطح کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے اور عارضی طور پر سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے انسانی جسم کو پسینہ آتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر پریرا نے خبردار بھی کیا کہ ہیٹ ویو میں یہ طریقہ مکمل علاج نہیں ہے کیونکہ جب ہوا میں نمی کا تناسب یا نمی بہت زیادہ ہو تو پانی کے خشک ہونے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور اس طرح ٹھنڈک کا یہ اثر بھی ختم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ شاید گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے لو نہیں لگے گی، تاہم طبی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔</p>
<p>ڈاکٹر پریرا کے مطابق یہ طریقہ ہیٹ اسٹروک کو نہیں روک سکتا، جو کہ ایک ایسی طبی ہنگامی صورتحال ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور جسم خود کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان گیلے کپڑے کی وجہ سے خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ اس سے انسان کو جھوٹی تسلی مل سکتی ہے کہ گرمی یا دھوپ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اس دھوکے میں وہ پانی پینا یا سائے میں آرام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اکثر لوگ اس خوف سے بھی گیلے کپڑے کا استعمال نہیں کرتے کہ کہیں انہیں زکام یا فلو نہ ہو جائے۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر پریرا کہتی ہیں کہ یہ طریقہ نزلہ یا فلو کا باعث نہیں بنتا کیونکہ یہ بیماریاں وائرس سے پھیلتی ہیں نہ کہ پانی یا نمی سے۔</p>
<p>البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ زیادہ دیر تک گیلا کپڑا سر پر رکھنے سے کچھ لوگوں کو سر درد، بے چینی یا سائنس کی تکلیف ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی اگر کپڑا صاف نہ ہو تو جلد اور سر کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30387912'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387912"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ صحت مند افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں وہ اس طریقے کو اپنا سکتے ہیں، لیکن بوڑھے افراد، چھوٹے بچے، دائمی مریض اور کمزور قوت مدافعت والے لوگوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔</p>
<p>اگر آپ یہ طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر ہدایت دیتی ہیں کہ ہمیشہ صاف اور ٹھنڈا پانی استعمال کریں، بہت زیادہ برف والا پانی نہ لیں اور جیسے ہی کپڑا خشک ہونے لگے اسے دوبارہ گیلا کریں بجائے اس کے کہ اسے گھنٹوں سر پر لٹکائے رکھیں۔</p>
<p>گرمی کی لہر سے بچنے کا بہترین حل صرف ایک گیلا کپڑا نہیں بلکہ ایک مکمل حکمت عملی ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی تنظیمیں مشورہ دیتی ہیں کہ کثرت سے پانی پیئیں، دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں، ہلکے رنگ کے اور ہوا دار کپڑے پہنیں اور جتنا ممکن ہو سائے یا ٹھنڈی جگہوں پر رہیں۔</p>
<p>یاد رکھیں کہ گیلا دوپٹہ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے صرف ایک اضافی مدد ہے، اصل بچاؤ پانی پینے اور احتیاط کرنے میں ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504164</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:29:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/30125634d88bc0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/30125634d88bc0c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزانہ برش کرنے کے باوجود دانت کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ وجہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504150/why-do-teeth-break-even-after-brushing-daily-find-out-the-reason</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب عمر بڑئتی ہے تو جسم میں ہونے والی مختلف تبدیلیوں کے ساتھ دانت کا گرنا بھی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جدید سائنس اس مفروضے کی نفی کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحیح دیکھ بھال اور طرزِ زندگی اپنایا جائے تو انسان ایک طویل عرصے تک اپنے اصلی دانتوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ بلکہ زیادہ دیر تک کیسز میں دانتوں کو زندگی بھر کے لیے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30344294'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344294"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/you-may-be-brushing-daily-but-still-losing-teeth-heres-why-2903171-2026-04-29"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کی ایک رپورٹ کے مطابق روبی ہال کلینک کے چیف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سچیو نندا کہتے ہیں، دانت اچانک نہیں گرتے، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسوڑھوں کی بیماری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسوڑھوں کی سوزش شروع شروع میں معمولی لگتی ہے، لیکن اگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو یہ ایک سنگین بیماری میں بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مرض دانتوں پر پلاک کے جمنے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر اسے بروقت صاف نہ کیا جائے تو یہ مسوڑھوں اور دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی کو تباہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیویٹیز (کیڑا لگنا)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹھی اشیاء کا زیادہ استعمال اور صفائی کی کمی سے دانتوں میں  کیڑا لگ جاتا ہے، اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ دانت کی جڑ تک پہنچ کر اسے مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے سے دانت خودبخود نہیں گرتے، البتہ عمر کے ساتھ کچھ عوامل خطرہ ضرور بڑھا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منہ کا خشک رہنا:&lt;/strong&gt; بڑھتی عمر میں بلڈ پریشر یا دیگر امراض کی ادویات تھوک کی مقدار کم کر دیتی ہیں، جس سے جراثیم کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مدافعتی نظام کی کمزوری:&lt;/strong&gt; ذیابیطس جیسے امراض مسوڑھوں کی انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497598'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دانتوں کی گھساوٹ:&lt;/strong&gt; دہائیوں تک سخت چیزیں چبانے سے دانتوں کی حفاظتی تہہ پتلی ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض برش کرنا کافی نہیں، ماہرین کے مطابق چند آسان عادات اپنا کر دانتوں کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برش کرنے کا صحیح طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف برش کرنا اہم نہیں بلکہ 45 ڈگری کے زاویے پر مسوڑھوں کے ساتھ نرمی سے برش کرنا ضروری ہے۔ سخت برش دانتوں کی اینمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زبان کی صفائی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبان پر موجود بیکٹیریا سانس کی بو اور دانتوں کی خرابی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے ٹنگ کلینر کا استعمال لازمی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پانی کا زیادہ استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی نہ صرف منہ کو صاف رکھتا ہے بلکہ تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے جو دانتوں کو گھلانے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وٹامن سی اور کیلشیم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسوڑھوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن سی (لیمو، مالٹا) اور دانتوں کی ہڈی کے لیے کیلشیم (دودھ، دہی) کو خوراک کا حصہ بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانتوں کی صحت کا تعلق براہِ راست دل کی صحت سے بھی ہے۔ مسوڑھوں کی بیماریوں کے جراثیم خون کے ذریعے دل تک پہنچ کر پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا، ہر 6 ماہ بعد ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا نہ صرف دانتوں بلکہ مجموعی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ کی مسکراہٹ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بڑھاپا آپ سے آپ کے دانت نہیں چھینتا، بلکہ دانتوں کی دیکھ بھال میں کی گئی سستی آپ کو مصنوعی دانتوں کی طرف دھکیلتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب عمر بڑئتی ہے تو جسم میں ہونے والی مختلف تبدیلیوں کے ساتھ دانت کا گرنا بھی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جدید سائنس اس مفروضے کی نفی کرتی ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحیح دیکھ بھال اور طرزِ زندگی اپنایا جائے تو انسان ایک طویل عرصے تک اپنے اصلی دانتوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ بلکہ زیادہ دیر تک کیسز میں دانتوں کو زندگی بھر کے لیے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30344294'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344294"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/you-may-be-brushing-daily-but-still-losing-teeth-heres-why-2903171-2026-04-29">انڈیا ٹوڈے</a> کی ایک رپورٹ کے مطابق روبی ہال کلینک کے چیف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سچیو نندا کہتے ہیں، دانت اچانک نہیں گرتے، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>مسوڑھوں کی بیماری</strong></p>
<p>مسوڑھوں کی سوزش شروع شروع میں معمولی لگتی ہے، لیکن اگر اسے نظر انداز کردیا جائے تو یہ ایک سنگین بیماری میں بدل سکتی ہے۔</p>
<p>یہ مرض دانتوں پر پلاک کے جمنے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر اسے بروقت صاف نہ کیا جائے تو یہ مسوڑھوں اور دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی کو تباہ کر دیتا ہے۔</p>
<p><strong>کیویٹیز (کیڑا لگنا)</strong></p>
<p>میٹھی اشیاء کا زیادہ استعمال اور صفائی کی کمی سے دانتوں میں  کیڑا لگ جاتا ہے، اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ دانت کی جڑ تک پہنچ کر اسے مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے سے دانت خودبخود نہیں گرتے، البتہ عمر کے ساتھ کچھ عوامل خطرہ ضرور بڑھا دیتے ہیں۔</p>
<p><strong>منہ کا خشک رہنا:</strong> بڑھتی عمر میں بلڈ پریشر یا دیگر امراض کی ادویات تھوک کی مقدار کم کر دیتی ہیں، جس سے جراثیم کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔</p>
<p><strong>مدافعتی نظام کی کمزوری:</strong> ذیابیطس جیسے امراض مسوڑھوں کی انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497598'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>دانتوں کی گھساوٹ:</strong> دہائیوں تک سخت چیزیں چبانے سے دانتوں کی حفاظتی تہہ پتلی ہو جاتی ہے۔</p>
<p>محض برش کرنا کافی نہیں، ماہرین کے مطابق چند آسان عادات اپنا کر دانتوں کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>برش کرنے کا صحیح طریقہ</strong></p>
<p>صرف برش کرنا اہم نہیں بلکہ 45 ڈگری کے زاویے پر مسوڑھوں کے ساتھ نرمی سے برش کرنا ضروری ہے۔ سخت برش دانتوں کی اینمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔</p>
<p><strong>زبان کی صفائی</strong></p>
<p>زبان پر موجود بیکٹیریا سانس کی بو اور دانتوں کی خرابی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے ٹنگ کلینر کا استعمال لازمی کریں۔</p>
<p><strong>پانی کا زیادہ استعمال</strong></p>
<p>پانی نہ صرف منہ کو صاف رکھتا ہے بلکہ تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے جو دانتوں کو گھلانے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p><strong>وٹامن سی اور کیلشیم</strong></p>
<p>مسوڑھوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن سی (لیمو، مالٹا) اور دانتوں کی ہڈی کے لیے کیلشیم (دودھ، دہی) کو خوراک کا حصہ بنائیں۔</p>
<p>دانتوں کی صحت کا تعلق براہِ راست دل کی صحت سے بھی ہے۔ مسوڑھوں کی بیماریوں کے جراثیم خون کے ذریعے دل تک پہنچ کر پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ لہذا، ہر 6 ماہ بعد ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا نہ صرف دانتوں بلکہ مجموعی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>آپ کی مسکراہٹ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بڑھاپا آپ سے آپ کے دانت نہیں چھینتا، بلکہ دانتوں کی دیکھ بھال میں کی گئی سستی آپ کو مصنوعی دانتوں کی طرف دھکیلتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504150</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 10:19:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/30101817e69854b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/30101817e69854b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے سی والا کمرہ آپ کے گردوں میں پتھری پیدا کر رہا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504116/an-air-conditioned-room-is-contributing-to-the-formation-of-kidney-stones-in-your-body</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے جیسے  درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، ڈاکٹروں نے ایک ایسی خاموش بیماری کی نشاندہی کی ہے جو اب صرف دھوپ میں کام کرنے والوں تک محدود نہیں رہی اور وہ ہے ’گردے کی پتھری‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیماری پہلے صرف پانی کی کمی اور شدید پسینے سے جوڑی جاتی تھی، اب ان لوگوں کو بھی اپنا شکار بنا رہی ہے جو اپنا سارا وقت ایئر کنڈیشنڈ دفاتر یا گھروں میں گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اب یہ بیماری صرف کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں زیادہ وقت گزارنے والے لوگ بھی اس کے خطرے کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345465'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ ماحول اگرچہ ٹھنڈک فراہم کرتا ہے اور ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے سے انسان ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رہتا ہے، مگر یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے سی ہوا سے نمی کو ختم کردیتا ہے، جس سے جسم سے  پانی کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھنڈک کی وجہ سے انسان کو پسینہ نہیں آتا اور پیاس بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن اندرونی طور پر جسم پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/kidney-stones-in-summer-why-ac-rooms-and-hidden-dehydration-raise-risk-2902721-2026-04-29"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کے مطابق سینئر یورولوجسٹ ڈاکٹر دیپک راگوری کا کہنا ہے کہ ”جب پیشاب میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے، تو کیلشیم، آکسالیٹ اور یورک ایسڈ جیسے معدنیات کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو چند ہی دنوں میں پتھری بن سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق گرمیوں میں یہ خطرہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ لوگ پانی کے بجائے چائے، کافی یا میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جو جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473750'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ نمکین لسی یا زیادہ نمک والا پانی بھی بعض صورتوں میں کیلشیم کی مقدار بڑھا کر پتھری کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں جیسے پالک، چقندر، خشک میوہ جات اور چاکلیٹ بھی خطرہ بڑھا سکتی ہیں، اگر پانی کی مقدار مناسب نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سب سے آسان بچاؤ کا طریقہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔ عام طور پر دن بھر میں کم از کم ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضروری ہوتا ہے، جبکہ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑھانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاتر میں کام کرنے والے افراد اکثر کام کے دباؤ یا اسکرین میں گم ہونے کی وجہ سے پانی پینا بھول جاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں اور ہر ایک گھنٹے بعد پانی پینے کا الارم لگائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478653'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پانی کے علاوہ ناریل پانی اور لیموں پانی کا استعمال کریں، جو گردوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لیموں پانی صرف پیاس نہیں بجھاتا، بلکہ اس میں موجود سائٹریٹ گردے کی پتھری بننے کے عمل کو قدرتی طور پر روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشاب میں موجود کیلشیم کے ساتھ مل کر اسے کرسٹل بننے سے روک دیتا ہے۔ اگر آپ اے سی میں بیٹھے ہیں، تو سادہ پانی میں لیموں کے چند قطرے شامل کرنا پتھری کے خلاف ایک ڈھال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ نمک، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈز کے زیادہ استعمال سے پرہیز ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کیلشیم کو مکمل طور پر غذا سے ختم کرنا درست نہیں۔ کیلشیم چھوڑنے سے پتھری کا خطرہ الٹا بڑھ سکتا ہے، اس لیے متوازن خوراک ہی گردوں کی صحت کے لیے بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے افراد جنہیں پہلے پتھری ہو چکی ہے، انہیں گرمیوں میں زیادہ محتاط رہنے اور باقاعدگی سے چیک اپ کروانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے جیسے  درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، ڈاکٹروں نے ایک ایسی خاموش بیماری کی نشاندہی کی ہے جو اب صرف دھوپ میں کام کرنے والوں تک محدود نہیں رہی اور وہ ہے ’گردے کی پتھری‘۔</strong></p>
<p>یہ بیماری پہلے صرف پانی کی کمی اور شدید پسینے سے جوڑی جاتی تھی، اب ان لوگوں کو بھی اپنا شکار بنا رہی ہے جو اپنا سارا وقت ایئر کنڈیشنڈ دفاتر یا گھروں میں گزارتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اب یہ بیماری صرف کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں زیادہ وقت گزارنے والے لوگ بھی اس کے خطرے کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345465'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ ماحول اگرچہ ٹھنڈک فراہم کرتا ہے اور ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے سے انسان ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رہتا ہے، مگر یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔</p>
<p>اے سی ہوا سے نمی کو ختم کردیتا ہے، جس سے جسم سے  پانی کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ٹھنڈک کی وجہ سے انسان کو پسینہ نہیں آتا اور پیاس بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن اندرونی طور پر جسم پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/kidney-stones-in-summer-why-ac-rooms-and-hidden-dehydration-raise-risk-2902721-2026-04-29">انڈیا ٹوڈے</a> کے مطابق سینئر یورولوجسٹ ڈاکٹر دیپک راگوری کا کہنا ہے کہ ”جب پیشاب میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے، تو کیلشیم، آکسالیٹ اور یورک ایسڈ جیسے معدنیات کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو چند ہی دنوں میں پتھری بن سکتے ہیں۔“</p>
<p>ماہرین کے مطابق گرمیوں میں یہ خطرہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ لوگ پانی کے بجائے چائے، کافی یا میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جو جسم میں پانی کی کمی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473750'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473750"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ نمکین لسی یا زیادہ نمک والا پانی بھی بعض صورتوں میں کیلشیم کی مقدار بڑھا کر پتھری کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔<br></p>
<p>اسی طرح آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں جیسے پالک، چقندر، خشک میوہ جات اور چاکلیٹ بھی خطرہ بڑھا سکتی ہیں، اگر پانی کی مقدار مناسب نہ ہو۔</p>
<p>ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سب سے آسان بچاؤ کا طریقہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔ عام طور پر دن بھر میں کم از کم ڈھائی سے تین لیٹر پانی ضروری ہوتا ہے، جبکہ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں یہ مقدار مزید بڑھانی چاہیے۔</p>
<p>دفاتر میں کام کرنے والے افراد اکثر کام کے دباؤ یا اسکرین میں گم ہونے کی وجہ سے پانی پینا بھول جاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پاس پانی کی بوتل رکھیں اور ہر ایک گھنٹے بعد پانی پینے کا الارم لگائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478653'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پانی کے علاوہ ناریل پانی اور لیموں پانی کا استعمال کریں، جو گردوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لیموں پانی صرف پیاس نہیں بجھاتا، بلکہ اس میں موجود سائٹریٹ گردے کی پتھری بننے کے عمل کو قدرتی طور پر روکتا ہے۔</p>
<p>یہ پیشاب میں موجود کیلشیم کے ساتھ مل کر اسے کرسٹل بننے سے روک دیتا ہے۔ اگر آپ اے سی میں بیٹھے ہیں، تو سادہ پانی میں لیموں کے چند قطرے شامل کرنا پتھری کے خلاف ایک ڈھال بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ نمک، میٹھے مشروبات اور پراسیسڈ فوڈز کے زیادہ استعمال سے پرہیز ضروری ہے۔</p>
<p>ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کیلشیم کو مکمل طور پر غذا سے ختم کرنا درست نہیں۔ کیلشیم چھوڑنے سے پتھری کا خطرہ الٹا بڑھ سکتا ہے، اس لیے متوازن خوراک ہی گردوں کی صحت کے لیے بہتر ہے۔</p>
<p>ایسے افراد جنہیں پہلے پتھری ہو چکی ہے، انہیں گرمیوں میں زیادہ محتاط رہنے اور باقاعدگی سے چیک اپ کروانے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504116</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 11:49:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2911451694712c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2911451694712c5.webp"/>
        <media:title>تصویر/ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمیوں میں گول گپے کھانا کتنا خطرناک ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504083/how-dangerous-is-it-to-eat-gol-gappa-in-the-summer</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسٹریٹ فوڈ کے شوقین افراد کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پھیری والے سے گول گپے کھانے کے بعد گاؤں کے متعدد افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے نتیجے میں 18 افراد ہسپتال داخل ہوئے اور ایک 7 سالہ معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس واقعہ نے گرمی کے موسم میں خوراک کی حفاظت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق گول گپے بظاہر سادہ اسنیک ہے، مگر اس میں استعمال ہونے والے اجزاء اگر صاف ستھرے اور تازہ نہ ہوں تو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر پانی، جو اس ڈش کا بنیادی حصہ ہے، اگر صاف اور فلٹر شدہ نہ ہو تو اس میں نقصان دہ بیکٹیریا جیسے ای کولی اور سالمونیلا پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504065/four-members-of-a-family-lost-their-lives-after-consuming-biryani-and-watermelon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شدید گرمی ان بیکٹیریا کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے محض چند گھنٹوں میں سادہ سا پانی ایک مہلک زہر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیکٹیریا جسم میں داخل ہو کر ایسے ٹاکسنز پیدا کرتے ہیں جو تیزی سے پانی کی کمی اور اعضاء کی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف پانی ہی نہیں بلکہ اس میں استعمال ہونے والے دیگر اجزاء جیسے ابلے ہوئے آلو، چنے اور کچی سبزیاں بھی گرمی کے باعث جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر انہیں طویل عرصے تک کھلا رکھا جائے تو وہ جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ناقص صفائی، گندے ہاتھ، دوبارہ استعمال ہونے والے برتن، اور مکھیوں یا دھول انفیکشن کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بیماری صرف جراثیم سے نہیں بلکہ ان کے پیدا کردہ زہریلے مادوں سے بھی ہوتی ہے، جو جسم میں پانی کی شدید کمی، اعضاء پر دباؤ، اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اسٹریٹ فوڈ سے مکمل پرہیز ضروری نہیں، لیکن احتیاط بہت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504070/reality-show-contestant-attacked-face-injured'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہمیشہ ایسے اسٹال کا انتخاب کریں جہاں کھانا آپ کے سامنے تیار کیا جائے اورصفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہو اور اجزاء کو ڈھانپ کر رکھا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ رش والے اسٹال عام طور پر تازہ کھانا فراہم کرتے ہیں، جبکہ کھلی ہوئی چٹنیاں اور سبزیاں خطرناک ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں اسٹریٹ فوڈ کھانے کے بعد اگر کسی کو بھی الٹی، دست یا شدید کمزوری محسوس ہو تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے فوری طور پر او آر ایس کا استعمال اور قریبی ہسپتال سے رجوع کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالخصوص بچوں اور معمر افراد، جن کی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے، انہیں ایسی اشیاء سے دور رکھنا چاہیے جن میں کچے پانی یا باسی اجزاء کا استعمال ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کے معاملے میں تھوڑی سی بیداری اور احتیاط نہ صرف آپ کو بیماریوں سے بچا سکتی ہے بلکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسٹریٹ فوڈ کے شوقین افراد کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔</strong></p>
<p>ایک پھیری والے سے گول گپے کھانے کے بعد گاؤں کے متعدد افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے نتیجے میں 18 افراد ہسپتال داخل ہوئے اور ایک 7 سالہ معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس واقعہ نے گرمی کے موسم میں خوراک کی حفاظت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق گول گپے بظاہر سادہ اسنیک ہے، مگر اس میں استعمال ہونے والے اجزاء اگر صاف ستھرے اور تازہ نہ ہوں تو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر پانی، جو اس ڈش کا بنیادی حصہ ہے، اگر صاف اور فلٹر شدہ نہ ہو تو اس میں نقصان دہ بیکٹیریا جیسے ای کولی اور سالمونیلا پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504065/four-members-of-a-family-lost-their-lives-after-consuming-biryani-and-watermelon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شدید گرمی ان بیکٹیریا کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے محض چند گھنٹوں میں سادہ سا پانی ایک مہلک زہر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>یہ بیکٹیریا جسم میں داخل ہو کر ایسے ٹاکسنز پیدا کرتے ہیں جو تیزی سے پانی کی کمی اور اعضاء کی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>صرف پانی ہی نہیں بلکہ اس میں استعمال ہونے والے دیگر اجزاء جیسے ابلے ہوئے آلو، چنے اور کچی سبزیاں بھی گرمی کے باعث جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر انہیں طویل عرصے تک کھلا رکھا جائے تو وہ جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔<br></p>
<p>اسی طرح ناقص صفائی، گندے ہاتھ، دوبارہ استعمال ہونے والے برتن، اور مکھیوں یا دھول انفیکشن کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بیماری صرف جراثیم سے نہیں بلکہ ان کے پیدا کردہ زہریلے مادوں سے بھی ہوتی ہے، جو جسم میں پانی کی شدید کمی، اعضاء پر دباؤ، اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اسٹریٹ فوڈ سے مکمل پرہیز ضروری نہیں، لیکن احتیاط بہت اہم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504070/reality-show-contestant-attacked-face-injured'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہمیشہ ایسے اسٹال کا انتخاب کریں جہاں کھانا آپ کے سامنے تیار کیا جائے اورصفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہو اور اجزاء کو ڈھانپ کر رکھا گیا ہو۔</p>
<p>زیادہ رش والے اسٹال عام طور پر تازہ کھانا فراہم کرتے ہیں، جبکہ کھلی ہوئی چٹنیاں اور سبزیاں خطرناک ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں اسٹریٹ فوڈ کھانے کے بعد اگر کسی کو بھی الٹی، دست یا شدید کمزوری محسوس ہو تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔</p>
<p>جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے فوری طور پر او آر ایس کا استعمال اور قریبی ہسپتال سے رجوع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>بالخصوص بچوں اور معمر افراد، جن کی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے، انہیں ایسی اشیاء سے دور رکھنا چاہیے جن میں کچے پانی یا باسی اجزاء کا استعمال ہو۔</p>
<p>خوراک کے معاملے میں تھوڑی سی بیداری اور احتیاط نہ صرف آپ کو بیماریوں سے بچا سکتی ہے بلکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504083</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 14:32:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2814273076deded.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2814273076deded.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جیب میں پیاز رکھنا گرمی اور لُو سے بچاؤ کا حل ہے یا صرف وہم؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504063/is-keeping-an-onion-in-your-pocket-a-real-way-to-protect-yourself-from-heat-and-heatstroke-or-just-a-myth</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ہی ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں لوگ مختلف گھریلو ٹوٹکے آزماتے ہیں، جن میں پیاز کا استعمال بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ گرمیوں میں گھر سے باہر نکلتے وقت پیاز ساتھ رکھنا لُو لگنے سے بچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے بزرگوں کا بھی یہی ماننا تھا کہ پیاز گرم ہوا کو اپنے اندرجذب کر لیتی ہے، اس لیے وہ اکثر تپتی دوپہر میں باہر نکلنے والے بچوں کی جیب میں پیاز رکھ دیا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466628'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466628"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لُو لگنے کی صورت میں پیاز کا رس سینے یا پاؤں کے تلووں پر ملنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے منطق ہے کہ رس کے بخارات بن کر اڑنے سے جلد کو عارضی ٹھنڈک ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا واقعی جیب میں پیاز رکھنا سائنسی طور پر کوئی فائدہ دیتا ہے؟ آئیے ان قدیم ٹوٹکوں کی حقیقت جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق، پیاز کی تاثیر بلاشبہ ٹھنڈی ہے، لیکن اس کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب اسے کھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیاز میں وٹامن سی، وٹامن بی6، پوٹاشیم، اینٹی آکسیڈنٹس اور پانی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس میں موجود مرکب ’کوئرسیٹن‘ سوزش کے خلاف کام کرتا ہے اور جسم کو اندرونی طور پر ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسی طور پر یہ ثابت ہے کہ پیاز کھانے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیاز کو سلاد کے طور پر استعمال کرنا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ پیاز جیب میں رکھ کر لُو یا ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503330'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;,&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی اور لُو سے بچنے کے مستند طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ واقعی گرمی کی تپش سے بچنا چاہتے ہیں، تو ماہرین ان طریقوں کو اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر آدھے گھنٹے بعد پانی پئیں، چاہے پیاس نہ بھی ہو۔ گلوکوز، ناریل پانی اور سکنجبین کا استعمال کریں، تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالے سوتی کپڑے پہنیں تاکہ جسم کو ہوا لگتی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باہر نکلتے وقت سر اور چہرے کو گیلے کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر 12 سے 4 بجے تک، جب دھوپ کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے، بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیاز کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں، لیکن تپتی دھوپ کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف پیاز پر بھروسہ کرنے کے بجائے سائنسی طور پر ثابت شدہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت کے اضافے کے ساتھ ہی ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں لوگ مختلف گھریلو ٹوٹکے آزماتے ہیں، جن میں پیاز کا استعمال بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ گرمیوں میں گھر سے باہر نکلتے وقت پیاز ساتھ رکھنا لُو لگنے سے بچاتا ہے۔</p>
<p>ہمارے بزرگوں کا بھی یہی ماننا تھا کہ پیاز گرم ہوا کو اپنے اندرجذب کر لیتی ہے، اس لیے وہ اکثر تپتی دوپہر میں باہر نکلنے والے بچوں کی جیب میں پیاز رکھ دیا کرتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466628'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466628"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لُو لگنے کی صورت میں پیاز کا رس سینے یا پاؤں کے تلووں پر ملنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے منطق ہے کہ رس کے بخارات بن کر اڑنے سے جلد کو عارضی ٹھنڈک ملتی ہے۔</p>
<p>لیکن کیا واقعی جیب میں پیاز رکھنا سائنسی طور پر کوئی فائدہ دیتا ہے؟ آئیے ان قدیم ٹوٹکوں کی حقیقت جانتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق، پیاز کی تاثیر بلاشبہ ٹھنڈی ہے، لیکن اس کا فائدہ تبھی ہوتا ہے جب اسے کھایا جائے۔</p>
<p>پیاز میں وٹامن سی، وٹامن بی6، پوٹاشیم، اینٹی آکسیڈنٹس اور پانی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس میں موجود مرکب ’کوئرسیٹن‘ سوزش کے خلاف کام کرتا ہے اور جسم کو اندرونی طور پر ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔</p>
<p>سائنسی طور پر یہ ثابت ہے کہ پیاز کھانے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیاز کو سلاد کے طور پر استعمال کرنا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ پیاز جیب میں رکھ کر لُو یا ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503330'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>,</figcaption>
    </figure>
<p><strong>شدید گرمی اور لُو سے بچنے کے مستند طریقے</strong></p>
<p>اگر آپ واقعی گرمی کی تپش سے بچنا چاہتے ہیں، تو ماہرین ان طریقوں کو اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔</p>
<p>ہر آدھے گھنٹے بعد پانی پئیں، چاہے پیاس نہ بھی ہو۔ گلوکوز، ناریل پانی اور سکنجبین کا استعمال کریں، تاکہ جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو۔</p>
<p>ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالے سوتی کپڑے پہنیں تاکہ جسم کو ہوا لگتی رہے۔</p>
<p>باہر نکلتے وقت سر اور چہرے کو گیلے کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپ لیں۔</p>
<p>دوپہر 12 سے 4 بجے تک، جب دھوپ کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے، بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں۔</p>
<p>پیاز کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں، لیکن تپتی دھوپ کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف پیاز پر بھروسہ کرنے کے بجائے سائنسی طور پر ثابت شدہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504063</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 09:49:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/280945586bce28e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/280945586bce28e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جم میں ورزش کے دوران نوجوان فالج کا شکار، وجوہات اور بچاؤ کی تدابیر جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیادہ ورزش کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ناگپور سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے فٹنس کے شوقین افراد کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق ایک 23 سالہ نوجوان، جو جم میں سخت ورزش کا عادی تھا، دماغی شریان پھٹنے کے باعث فالج کا شکار ہو گیا۔ اگرچہ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی، لیکن یہ واقعہ اس بات کی وارننگ ہے کہ ورزش اچھی چیز ہے، لیکن حد سے زیادہ ورزش نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/23-year-old-gets-a-paralysis-attack-due-to-over-gymming-doctors-explain-why-this-happens-shares-prevention-tips-11403830?pfrom=home-ndtv_icymistories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق ماہرِ اعصاب ڈاکٹر ونیت بنگا کہتی ہیں، انسانی جسم میں برداشت کی ایک قدرتی حد ہوتی ہے جس کا احترام کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463832/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ جب ورزش کے دوران جسم کو اس کی برداشت سے زیادہ دباؤ میں ڈالا جائے اور آرام کا موقع نہ دیا جائے تو دماغ اور جسم دونوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ ورزش دراصل جسم پر ایک ’کنٹرولڈ اسٹریس‘ ڈالتی ہے تاکہ وہ مضبوط بنے۔ لیکن اگر یہ دباؤ مسلسل ہو اور آرام کے بغیر بڑھتا رہے، تو جسم کی مرمت کا نظام رک جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹھوں میں مستقل چوٹیں اور ہارمونی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کمزور ہونے سے بیماریاں جلد حملہ آور ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوور ٹریننگ کا اثر صرف پٹھوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ دماغ بھی اس کی زد میں آتا ہے۔ شدید ورزش اور آرام کی کمی سے ’کورٹیسول‘ جیسے اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت تھکا ہوا محسوس کرتا ہے اور ورزش کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔ چڑچڑاپن، بے چینی اور نیند کے نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ صورتوں میں بہت زیادہ ورزش، پانی کی کمی اور بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے دماغی بیماری جیسے برین ہیمبرج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو فالج یا دوسرے شدید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق ایک اور مسئلہ ’اوورٹریننگ سنڈروم‘ ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہونے لگتی ہے۔ اس میں انسان مسلسل تھکا ہوا رہتا ہے، نیند خراب ہو جاتی ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے اور جسم کمزور محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے نجات کے لیے محض چند دن نہیں بلکہ طویل آرام اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اصل بہتری ورزش کے دوران نہیں بلکہ ریکوری (آرام) کے وقت آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صحت مند فٹنس روٹین کے لیے درج ذیل اصول اپنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مناسب نیند:&lt;/strong&gt; روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غذا اور پانی:&lt;/strong&gt; ٹشوز کی مرمت کے لیے بھرپور غذا اور پانی کا استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسم کی پکار سنیں:&lt;/strong&gt; اگر جسم مسلسل تھکن، نیند کی خرابی یا غیر معمولی کمزوری کے اشارے دے، تو فوراً ورزش کا بوجھ کم کر دیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹنس کا مطلب زیادہ ورزش نہیں بلکہ متوازن زندگی ہے۔ بہتر صحت کے لیے ورزش، آرام، اچھی خوراک اور ذہنی سکون سب کا توازن ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زیادہ ورزش کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ناگپور سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے فٹنس کے شوقین افراد کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق ایک 23 سالہ نوجوان، جو جم میں سخت ورزش کا عادی تھا، دماغی شریان پھٹنے کے باعث فالج کا شکار ہو گیا۔ اگرچہ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی، لیکن یہ واقعہ اس بات کی وارننگ ہے کہ ورزش اچھی چیز ہے، لیکن حد سے زیادہ ورزش نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/23-year-old-gets-a-paralysis-attack-due-to-over-gymming-doctors-explain-why-this-happens-shares-prevention-tips-11403830?pfrom=home-ndtv_icymistories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق ماہرِ اعصاب ڈاکٹر ونیت بنگا کہتی ہیں، انسانی جسم میں برداشت کی ایک قدرتی حد ہوتی ہے جس کا احترام کرنا لازم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463832/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463832"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ جب ورزش کے دوران جسم کو اس کی برداشت سے زیادہ دباؤ میں ڈالا جائے اور آرام کا موقع نہ دیا جائے تو دماغ اور جسم دونوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ ورزش دراصل جسم پر ایک ’کنٹرولڈ اسٹریس‘ ڈالتی ہے تاکہ وہ مضبوط بنے۔ لیکن اگر یہ دباؤ مسلسل ہو اور آرام کے بغیر بڑھتا رہے، تو جسم کی مرمت کا نظام رک جاتا ہے۔</p>
<p>پٹھوں میں مستقل چوٹیں اور ہارمونی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کمزور ہونے سے بیماریاں جلد حملہ آور ہوتی ہیں۔</p>
<p>اوور ٹریننگ کا اثر صرف پٹھوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ دماغ بھی اس کی زد میں آتا ہے۔ شدید ورزش اور آرام کی کمی سے ’کورٹیسول‘ جیسے اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت تھکا ہوا محسوس کرتا ہے اور ورزش کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔ چڑچڑاپن، بے چینی اور نیند کے نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کچھ صورتوں میں بہت زیادہ ورزش، پانی کی کمی اور بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے دماغی بیماری جیسے برین ہیمبرج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو فالج یا دوسرے شدید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق ایک اور مسئلہ ’اوورٹریننگ سنڈروم‘ ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہونے لگتی ہے۔ اس میں انسان مسلسل تھکا ہوا رہتا ہے، نیند خراب ہو جاتی ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے اور جسم کمزور محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>اس سے نجات کے لیے محض چند دن نہیں بلکہ طویل آرام اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔</p>
<p>ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اصل بہتری ورزش کے دوران نہیں بلکہ ریکوری (آرام) کے وقت آتی ہے۔</p>
<p>ایک صحت مند فٹنس روٹین کے لیے درج ذیل اصول اپنائیں۔</p>
<p><strong>مناسب نیند:</strong> روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں۔</p>
<p><strong>غذا اور پانی:</strong> ٹشوز کی مرمت کے لیے بھرپور غذا اور پانی کا استعمال کریں۔</p>
<p><strong>جسم کی پکار سنیں:</strong> اگر جسم مسلسل تھکن، نیند کی خرابی یا غیر معمولی کمزوری کے اشارے دے، تو فوراً ورزش کا بوجھ کم کر دیں۔<br></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ فٹنس کا مطلب زیادہ ورزش نہیں بلکہ متوازن زندگی ہے۔ بہتر صحت کے لیے ورزش، آرام، اچھی خوراک اور ذہنی سکون سب کا توازن ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503966</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 12:33:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2612301593475fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="1440" width="2400">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2612301593475fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عام بخار اور ملیریا کے بخار میں کیا فرق ہے؟ علامات جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503927/common-fever-vs-malaria-fever</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں ہر سال 25 اپریل کو ’ورلڈ ملیریا ڈے‘ منایا جاتا ہےتاکہ اس جان لیوا بیماری کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال ڈاکٹرز نے موسمی تبدیلیوں کے دوران ہونے والے عام بخار اور ملیریا کے درمیان فرق کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، کیونکہ غلط تشخیص علاج میں تاخیر اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/world-malaria-day-doctor-explains-the-difference-between-normal-fever-and-malaria-fever-11406682?pfrom=home-ndtv_lateststories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ، بخار خود ایک بیماری نہیں بلکہ جسم میں کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503878'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام بخار زیادہ تر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن جیسے نزلہ، زکام یا فلو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں جسم کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور مریض کو جسم میں درد، گلا خراب ہونا، کمزوری اور ہلکی کپکپی جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہ بخار چند دن میں آرام، پانی کی مناسب مقدار اور سادہ ادویات سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ملیریا بخار ایک خاص جراثیم ”پلازموڈیم“ کی وجہ سے ہوتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس بخار کی خاص علامت اس کا وقفے وقفے سے آنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریض کو پہلے اچانک تیز بخار ہوتا ہے، پھر شدید کپکپی اور بعد میں پسینہ آ کر بخار کم ہو جاتا ہے، لیکن کچھ دن بعد یہ دوبارہ لوٹ آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ملیریا میں سر درد، متلی، قے اور شدید تھکن بھی عام علامات ہیں۔ اس بیماری میں مریض کو کچھ وقت کے لیے آرام محسوس ہوتا ہے لیکن پھر بخار دوبارہ شدت سے آ جاتا ہے، جو اسے عام بخار سے مختلف بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق مریض اکثر بخار کے درمیان وقفے میں خود کو نارمل محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ یہی تاخیر ملیریا کو خطرناک بنا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا بار بار کپکپی اور پسینہ آئے تو فوراً طبی معائنہ کروانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیریا کی تصدیق کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کے بعد مخصوص ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق ملیریا اگر علاج کے بغیر رہ جائے تو یہ جگر، گردوں اور خون کی کمی جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط، صاف پانی اور مچھر سے بچاؤ اس بیماری سے حفاظت کے اہم طریقے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں، عام بخار سادہ ادویات سے ٹھیک ہوسکتا ہے، لیکن ملیریا کے لیے ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ مخصوص دوا ہی واحد حل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں ہر سال 25 اپریل کو ’ورلڈ ملیریا ڈے‘ منایا جاتا ہےتاکہ اس جان لیوا بیماری کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>اس سال ڈاکٹرز نے موسمی تبدیلیوں کے دوران ہونے والے عام بخار اور ملیریا کے درمیان فرق کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، کیونکہ غلط تشخیص علاج میں تاخیر اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/world-malaria-day-doctor-explains-the-difference-between-normal-fever-and-malaria-fever-11406682?pfrom=home-ndtv_lateststories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ، بخار خود ایک بیماری نہیں بلکہ جسم میں کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503878'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام بخار زیادہ تر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن جیسے نزلہ، زکام یا فلو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں جسم کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور مریض کو جسم میں درد، گلا خراب ہونا، کمزوری اور ہلکی کپکپی جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>عام طور پر یہ بخار چند دن میں آرام، پانی کی مناسب مقدار اور سادہ ادویات سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس ملیریا بخار ایک خاص جراثیم ”پلازموڈیم“ کی وجہ سے ہوتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس بخار کی خاص علامت اس کا وقفے وقفے سے آنا ہے۔</p>
<p>مریض کو پہلے اچانک تیز بخار ہوتا ہے، پھر شدید کپکپی اور بعد میں پسینہ آ کر بخار کم ہو جاتا ہے، لیکن کچھ دن بعد یہ دوبارہ لوٹ آتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ملیریا میں سر درد، متلی، قے اور شدید تھکن بھی عام علامات ہیں۔ اس بیماری میں مریض کو کچھ وقت کے لیے آرام محسوس ہوتا ہے لیکن پھر بخار دوبارہ شدت سے آ جاتا ہے، جو اسے عام بخار سے مختلف بناتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق مریض اکثر بخار کے درمیان وقفے میں خود کو نارمل محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ یہی تاخیر ملیریا کو خطرناک بنا دیتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا بار بار کپکپی اور پسینہ آئے تو فوراً طبی معائنہ کروانا چاہیے۔</p>
<p>ملیریا کی تصدیق کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کے بعد مخصوص ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق ملیریا اگر علاج کے بغیر رہ جائے تو یہ جگر، گردوں اور خون کی کمی جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے احتیاط، صاف پانی اور مچھر سے بچاؤ اس بیماری سے حفاظت کے اہم طریقے ہیں۔</p>
<p>یاد رکھیں، عام بخار سادہ ادویات سے ٹھیک ہوسکتا ہے، لیکن ملیریا کے لیے ماہر ڈاکٹر کی تجویز کردہ مخصوص دوا ہی واحد حل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503927</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 13:16:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/251310047b9828c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/251310047b9828c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مچھر بھی ملیریا کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ نئی تحقیق نے سب کو چونکا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503878/mosquitoes-malaria-eradication-research</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اب سائنسدان ایک نیا طریقہ آزما رہے ہیں جس میں مچھروں کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ بیماری نہ پھیلا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، یہ طریقہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے مچھروں کو مارنے یا ان سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس نئی ٹیکنالوجی میں مچھروں کی جینیاتی ساخت کو تبدیل کر کے انہیں بیماری پھیلانے کے قابل ہی نہیں رہنے دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/do-you-know-genetically-altered-mosquitoes-could-help-fight-malaria-heres-how-11397211?pfrom=home-ndtv_health_healthImg"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق ٹرینڈز ان پیراسائٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق  بتاتی ہے کہ جین ڈرائیو ٹیکنالوجی ایک ایسی جدید ایجاد ہے جو کسی مخصوص آبادی میں ٹارگٹڈ جینیاتی خصوصیات کو تیزی سے پھیلا سکتی ہے اور یوں ملیریا سمیت دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/159989'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/159989"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ماہر ڈاکٹر شری ندھی کے مطابق، اس حکمت عملی کا مقصد اینوفیلس مچھر کی آبادی میں تبدیلی لانا ہے، جو اس بیماری کے اصل ذمہ دار ہیں۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جدید طریقے کے طور پر آزمایا جا رہا ہے تاکہ یا تو انہیں اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ پیراسائٹ کو اپنے ساتھ لے جا سکیں یا پھر ان کی افزائشِ نسل کی صلاحیت کو کم کر دیا جائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدان اس مقصد کے لیے دو اہم طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے طریقے میں مچھروں کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ ملیریا پھیلانے والے پیراسائٹ کو اپنے جسم میں پروان نہیں چڑھا سکتے۔ اس طرح جب یہ مچھر افزائش نسل کرتے ہیں تو یہ خصوصیت اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے بیماری کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا طریقہ ”جین ڈرائیو“ کہلاتا ہے، اس تکنیک کے ذریعے مچھروں کی آبادی میں صرف نر مچھروں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے۔ چونکہ صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے، اس لیے مادہ مچھروں کی کمی سے بیماری کا پھیلاؤ خود بخود کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;افریقہ سمیت مختلف خطوں میں ہونے والے ابتدائی تجربات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ پیتھوجینز اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق  2025 اور 2026  کے دوران آکسی ٹیک نامی ادارے نے ایسے نر مچھر چھوڑے جن کی وجہ سے مادہ مچھر جوان ہونے سے پہلے ہی مر جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیکا اور ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کی آبادی میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افریقہ کے مختلف حصوں میں ہونے والے ابتدائی فیلڈ ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ کنٹرولڈ ماحول میں جینیاتی مچھر چھوڑنے کے بعد ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طریقے جیسے مچھر دانیاں اور ادویات اب بھی مؤثر ہیں، لیکن وقت کے ساتھ مچھروں اور جراثیم میں ان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں جینیاتی تبدیلی پر مبنی یہ طریقہ کیمیائی ادویات پر انحصار کم کرتا ہے اور جڑ سے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502700'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جہاں یہ ٹیکنالوجی امید کی کرن ہے، وہاں کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کو اس بات کی فکر ہے کہ مچھروں کی تعداد میں کمی سے ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کو فطرت میں چھوڑنے کے حوالے سے اخلاقی اور قانونی سوالات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ملیریا کے خلاف کوئی تنہا حل نہیں ہیں، لیکن موجودہ احتیاطی تدابیر (جیسے مچھر دانیاں اور ادویات) کے ساتھ مل کر اس عالمی مرض کے خاتمے میں اہم ترین ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اب سائنسدان ایک نیا طریقہ آزما رہے ہیں جس میں مچھروں کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ بیماری نہ پھیلا سکیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق، یہ طریقہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ہے۔ عام طور پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے مچھروں کو مارنے یا ان سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس نئی ٹیکنالوجی میں مچھروں کی جینیاتی ساخت کو تبدیل کر کے انہیں بیماری پھیلانے کے قابل ہی نہیں رہنے دیا جاتا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/do-you-know-genetically-altered-mosquitoes-could-help-fight-malaria-heres-how-11397211?pfrom=home-ndtv_health_healthImg">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق ٹرینڈز ان پیراسائٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق  بتاتی ہے کہ جین ڈرائیو ٹیکنالوجی ایک ایسی جدید ایجاد ہے جو کسی مخصوص آبادی میں ٹارگٹڈ جینیاتی خصوصیات کو تیزی سے پھیلا سکتی ہے اور یوں ملیریا سمیت دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/159989'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/159989"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ماہر ڈاکٹر شری ندھی کے مطابق، اس حکمت عملی کا مقصد اینوفیلس مچھر کی آبادی میں تبدیلی لانا ہے، جو اس بیماری کے اصل ذمہ دار ہیں۔۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ’جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو ملیریا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جدید طریقے کے طور پر آزمایا جا رہا ہے تاکہ یا تو انہیں اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ پیراسائٹ کو اپنے ساتھ لے جا سکیں یا پھر ان کی افزائشِ نسل کی صلاحیت کو کم کر دیا جائے۔‘</p>
<p>سائنسدان اس مقصد کے لیے دو اہم طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے طریقے میں مچھروں کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ ملیریا پھیلانے والے پیراسائٹ کو اپنے جسم میں پروان نہیں چڑھا سکتے۔ اس طرح جب یہ مچھر افزائش نسل کرتے ہیں تو یہ خصوصیت اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے بیماری کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>دوسرا طریقہ ”جین ڈرائیو“ کہلاتا ہے، اس تکنیک کے ذریعے مچھروں کی آبادی میں صرف نر مچھروں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے۔ چونکہ صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے، اس لیے مادہ مچھروں کی کمی سے بیماری کا پھیلاؤ خود بخود کم ہو جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>افریقہ سمیت مختلف خطوں میں ہونے والے ابتدائی تجربات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ پیتھوجینز اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق  2025 اور 2026  کے دوران آکسی ٹیک نامی ادارے نے ایسے نر مچھر چھوڑے جن کی وجہ سے مادہ مچھر جوان ہونے سے پہلے ہی مر جاتی ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے زیکا اور ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کی آبادی میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>افریقہ کے مختلف حصوں میں ہونے والے ابتدائی فیلڈ ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ کنٹرولڈ ماحول میں جینیاتی مچھر چھوڑنے کے بعد ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>روایتی طریقے جیسے مچھر دانیاں اور ادویات اب بھی مؤثر ہیں، لیکن وقت کے ساتھ مچھروں اور جراثیم میں ان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں جینیاتی تبدیلی پر مبنی یہ طریقہ کیمیائی ادویات پر انحصار کم کرتا ہے اور جڑ سے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502700'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جہاں یہ ٹیکنالوجی امید کی کرن ہے، وہاں کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کو اس بات کی فکر ہے کہ مچھروں کی تعداد میں کمی سے ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کو فطرت میں چھوڑنے کے حوالے سے اخلاقی اور قانونی سوالات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر ملیریا کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ملیریا کے خلاف کوئی تنہا حل نہیں ہیں، لیکن موجودہ احتیاطی تدابیر (جیسے مچھر دانیاں اور ادویات) کے ساتھ مل کر اس عالمی مرض کے خاتمے میں اہم ترین ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503878</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 09:32:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/24092618bd8a2fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/24092618bd8a2fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے کی غیر قانونی طبی اشیاء کی فروخت میں ملوث ڈیجیٹل مواد کے خلاف کارروائی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503853/pta-action-illegal-medical-content</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے طبی اشیاء کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مواد ہٹوانے کا اعلان کیا ہے۔ ان طبی اشیاء میں ادویات، طبی آلات اور ویکسین شامل ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے مطابق پی ٹی اے نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی درخواست پر ایسی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جو غیر مجاز اور غیر رجسٹرڈ طبی اشیاء کی فروخت میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ”پی ٹی اے نے نشاندہی کیے گئے مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے ضروری نافذ العمل اقدامات کیے۔ متعلقہ ویب سائٹس نے غیر قانونی مصنوعات کو ہٹانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رپورٹ کردہ پیجز اور گروپس کو جلد از جلد ہٹانے کے لیے فعال طور پر رابطہ کیا جا رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے مزید کہا کہ ”پی ٹی اے عوامی صحت کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قومی ریگولیٹری کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق بروقت کارروائی جاری رکھے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، مقامی ادویات سازوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں اسمگل شدہ اور جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ متعلقہ حکام نے گزشتہ ایک سال کے دوران کینسر، دل اور بلڈ پریشر سمیت دیگر نئی اور جدید ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچررز کے مطابق، انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت سے تقریباً 80 سے 90 ادویات کی ریٹیل قیمتیں مقرر کرنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ ڈریپ اور متعلقہ پرائسنگ کمیٹی پہلے ہی ان نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، تاہم ملک کے اعلیٰ ترین ادارے، یعنی وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جس میں کافی طویل عرصہ لگ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے طبی اشیاء کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ مواد ہٹوانے کا اعلان کیا ہے۔ ان طبی اشیاء میں ادویات، طبی آلات اور ویکسین شامل ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر کے مطابق پی ٹی اے نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی درخواست پر ایسی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جو غیر مجاز اور غیر رجسٹرڈ طبی اشیاء کی فروخت میں ملوث تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ”پی ٹی اے نے نشاندہی کیے گئے مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے ضروری نافذ العمل اقدامات کیے۔ متعلقہ ویب سائٹس نے غیر قانونی مصنوعات کو ہٹانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رپورٹ کردہ پیجز اور گروپس کو جلد از جلد ہٹانے کے لیے فعال طور پر رابطہ کیا جا رہا ہے۔“</p>
<p>اتھارٹی نے مزید کہا کہ ”پی ٹی اے عوامی صحت کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قومی ریگولیٹری کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے مطابق بروقت کارروائی جاری رکھے گی۔“</p>
<p>دوسری جانب، مقامی ادویات سازوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی مارکیٹ میں اسمگل شدہ اور جعلی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ متعلقہ حکام نے گزشتہ ایک سال کے دوران کینسر، دل اور بلڈ پریشر سمیت دیگر نئی اور جدید ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔</p>
<p>مینوفیکچررز کے مطابق، انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت سے تقریباً 80 سے 90 ادویات کی ریٹیل قیمتیں مقرر کرنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ ڈریپ اور متعلقہ پرائسنگ کمیٹی پہلے ہی ان نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، تاہم ملک کے اعلیٰ ترین ادارے، یعنی وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جس میں کافی طویل عرصہ لگ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503853</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 12:45:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/231244161edd19a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/231244161edd19a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دھوپ سے دل کا دورہ: 5 علامات اور بچاؤ کی تدابیر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503793/heart-attack-from-sun-exposure-5-symptoms-and-preventive-measures</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھوپ میں زیادہ دیر تک دھوپ میں شدید گرمی اور لو کے تھپیڑے نہ صرف ہیٹ اسٹروک کا سبب بنتے ہیں، بلکہ یہ انسانی دل کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین امراضِ قلب  کے مطابق شدید گرمی میں جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات تیزی سے خارج ہوتے ہیں، جس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑھے خون کو پمپ کرنے کے لیے دل کو عام حالات سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جو بالآخر ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30384071'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ہیٹ ویو یا لو لگنے کی صورت میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کی کارکردگی کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ 5 اہم علامات جنہیں نظرانداز نہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گرمی کے موسم میں آپ کو درج ذیل علامات محسوس ہوں، تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سانس لینے میں دشواری:&lt;/strong&gt; اگر بیٹھے بٹھائے دم گھٹنے لگے یا سینے پر بوجھ اور جلن محسوس ہو، تو یہ دل کی تکلیف کا اشارہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر معمولی پسینہ آنا:&lt;/strong&gt; اگر آپ اے سی یا ٹھنڈی جگہ پر بیٹھے ہیں اور پھر بھی ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں، تو یہ بی پی لو ہونے یا دل کی شریانوں میں رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چکر آنا یا بے ہوشی:&lt;/strong&gt; شدید دھوپ میں چکر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ جسم میں پانی کی شدید کمی ہو چکی ہے، جو دل پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متلی اور گھبراہٹ:&lt;/strong&gt; اچانک دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور مسلسل الٹی یا گھبراہٹ محسوس ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید ڈائریا:&lt;/strong&gt; ہیضہ یا پیٹ خراب ہونے سے جسم کا سارا پانی نکل جاتا ہے، جس سے الیکٹرولائٹ توازن بگڑ جاتا ہے اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30377661'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور ہائی کولیسٹرول کے مریضوں کو گرمی میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ معمر افراد، موٹاپے کا شکار لوگ اور وہ مزدور جو براہِ راست دھوپ میں کام کرتے ہیں، ان کے لیے یہ موسم زیادہ پرخطر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بچاؤ کی حفاظتی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پانی کا کثرت سے استعمال:&lt;/strong&gt; ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گرمی میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ پیاس نہ بھی ہو، تب بھی ہر آدھے گھنٹے بعد پانی پئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قدرتی غذاؤں کا انتخاب:&lt;/strong&gt; تربوز، خربوزہ اور کھیرے جیسے پھل کھائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھوپ سے بچاؤ:&lt;/strong&gt; دھوپ میں زیادہ دیر تک کام نہ کریں۔ کوشش کریں کہ دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک باہر نہ نکلیں اور اگر نکلنا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز:&lt;/strong&gt; گرمی میں باہر کے تلے ہوئے اور بھاری کھانوں سے دور رہیں کیونکہ یہ ہاضمے کے ساتھ ساتھ دل پر بھی بوجھ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دھوپ میں زیادہ دیر تک دھوپ میں شدید گرمی اور لو کے تھپیڑے نہ صرف ہیٹ اسٹروک کا سبب بنتے ہیں، بلکہ یہ انسانی دل کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین امراضِ قلب  کے مطابق شدید گرمی میں جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات تیزی سے خارج ہوتے ہیں، جس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>گاڑھے خون کو پمپ کرنے کے لیے دل کو عام حالات سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، جو بالآخر ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30384071'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30384071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مزید برآں، ہیٹ ویو یا لو لگنے کی صورت میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کی کارکردگی کو متاثر کر کے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>وہ 5 اہم علامات جنہیں نظرانداز نہ کریں</strong></p>
<p>اگر گرمی کے موسم میں آپ کو درج ذیل علامات محسوس ہوں، تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں</p>
<p><strong>سانس لینے میں دشواری:</strong> اگر بیٹھے بٹھائے دم گھٹنے لگے یا سینے پر بوجھ اور جلن محسوس ہو، تو یہ دل کی تکلیف کا اشارہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>غیر معمولی پسینہ آنا:</strong> اگر آپ اے سی یا ٹھنڈی جگہ پر بیٹھے ہیں اور پھر بھی ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں، تو یہ بی پی لو ہونے یا دل کی شریانوں میں رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>چکر آنا یا بے ہوشی:</strong> شدید دھوپ میں چکر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ جسم میں پانی کی شدید کمی ہو چکی ہے، جو دل پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔</p>
<p><strong>متلی اور گھبراہٹ:</strong> اچانک دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور مسلسل الٹی یا گھبراہٹ محسوس ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔</p>
<p><strong>شدید ڈائریا:</strong> ہیضہ یا پیٹ خراب ہونے سے جسم کا سارا پانی نکل جاتا ہے، جس سے الیکٹرولائٹ توازن بگڑ جاتا ہے اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30377661'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377661"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟</strong></p>
<p>ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور ہائی کولیسٹرول کے مریضوں کو گرمی میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ معمر افراد، موٹاپے کا شکار لوگ اور وہ مزدور جو براہِ راست دھوپ میں کام کرتے ہیں، ان کے لیے یہ موسم زیادہ پرخطر ہے۔</p>
<p><strong>بچاؤ کی حفاظتی تدابیر</strong></p>
<p><strong>پانی کا کثرت سے استعمال:</strong> ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گرمی میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ پیاس نہ بھی ہو، تب بھی ہر آدھے گھنٹے بعد پانی پئیں۔</p>
<p><strong>قدرتی غذاؤں کا انتخاب:</strong> تربوز، خربوزہ اور کھیرے جیسے پھل کھائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔</p>
<p><strong>دھوپ سے بچاؤ:</strong> دھوپ میں زیادہ دیر تک کام نہ کریں۔ کوشش کریں کہ دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک باہر نہ نکلیں اور اگر نکلنا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر رکھیں۔</p>
<p><strong>تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز:</strong> گرمی میں باہر کے تلے ہوئے اور بھاری کھانوں سے دور رہیں کیونکہ یہ ہاضمے کے ساتھ ساتھ دل پر بھی بوجھ ڈالتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503793</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 10:07:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/221004151ebe97b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/221004151ebe97b.webp"/>
        <media:title>تصویر/ اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلڈ شوگر کم ہونے پر دماغ میں گلوکوز کی کمی کی علامات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503759/symptoms-of-glucose-deprivation-in-the-brain-when-blood-sugar-drops</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر لوگ خون میں شوگر کی کمی (ہائپو گلیسیمیا) کو محض عارضی تھکن یا نقاہت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ لاپرواہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی دماغ اپنی توانائی کے لیے گلوکوز پر پوری طرح انحصار کرتا ہے۔ جب جسم میں گلوکوز کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے تو دماغ،  متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے، دماغی خلیات مفلوج ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اعصاب ڈاکٹر سری لکشمی کے مطابق، جسم کے دیگر اعضاء کے برعکس دماغ گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جیسے ہی شوگر لیول گرتا ہے، دماغی سگنلز درہم برہم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دورے، بے ہوشی یا جسم میں کپکپی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ حالت زیادہ دیر تک برقرار رہے تو مستقل دماغی نقصان کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503620/king-of-fruits-vs-refreshing-watermelon-which-one-causes-a-faster-blood-sugar-spike'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی علامات میں چکر آنا، الجھن، دھندلا نظر آنا، غیر معمولی رویہ اور شدید بھوک شامل ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ملے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے یا اسے شدید جھٹکے لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق اس کیفیت کے خطرات ان افراد میں زیادہ ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض ہوں، نومولود بچے ہوں یا گردے اور جگر کے مریض ہوں۔ بعض صورتوں میں علامات اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ مریض یا اہل خانہ انہیں پہچان نہیں پاتے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیر خوار بچوں میں شوگر کی کمی کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان میں یہ دورے صرف آنکھوں کے غیر معمولی طور پر پھرنے یا بار بار منہ چلانے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ صحت کے مطابق خون میں شکر کی خطرناک کمی عموماً ادویات اور خوراک کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں انسولین کی غلط مقدار لینا یا اسے غلط وقت پر استعمال کرنا، انسولین لینے کے بعد کھانا چھوڑ دینا یا تاخیر کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح خالی پیٹ سخت جسمانی مشقت یا الکحل کا استعمال بھی خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے کم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا مریضوں میں ادویات جسم میں زیادہ دیر تک موجود رہتی ہیں، جس کی وجہ سے شوگر گرنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی طبی گائیڈ لائنز کے مطابق اگر خون میں شوگر کی سطح کم ہونے لگے تو فوری طور پر“15-15 اصول“ پر عمل کرنا چاہیے۔ اس طریقے کے تحت مریض کو فوراً 15 گرام سادہ کاربوہائیڈریٹ لینا ہوتا ہے، جیسے تقریباً 3 چمچ گلوکوز پاؤڈر، آدھا کپ پھلوں کا رس یا 1 چمچ شہد۔ اس کے بعد 15 منٹ انتظار کر کے دوبارہ بلڈ شوگر چیک کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس وقت بھی شوگر کی سطح 70 mg/dL سے کم رہے تو یہی عمل دوبارہ دہرایا جاتا ہے تاکہ خطرناک کمی کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہائی رسک مریضوں کو ہمیشہ اپنے پاس ’گلوکوز ٹیبلٹس‘ یا چینی رکھنی چاہیے۔&lt;br&gt;گلوکومیٹر اور گلوکوز پاؤڈر کو فرسٹ ایڈ کٹ کا لازمی حصہ بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مریض بے ہوش ہو جائے تو اسے زبردستی کچھ کھلانے کی کوشش نہ کریں (اس سے دم گھٹ سکتا ہے)، بلکہ فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کریں تاکہ اسے ڈرپ کے ذریعے گلوکوز دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ باقاعدہ خوراک، ادویات کے درست استعمال اور بلڈ شوگر کی نگرانی کو معمول بنائیں تاکہ ایسے خطرناک حالات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں: مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ آلات اور بروقت آگاہی کے ذریعے ان جان لیوا دوروں سے سو فیصد بچاؤ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی خوراک کے اوقات اور ادویات کی مقدار میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر لوگ خون میں شوگر کی کمی (ہائپو گلیسیمیا) کو محض عارضی تھکن یا نقاہت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ لاپرواہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>انسانی دماغ اپنی توانائی کے لیے گلوکوز پر پوری طرح انحصار کرتا ہے۔ جب جسم میں گلوکوز کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے تو دماغ،  متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے، دماغی خلیات مفلوج ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرِ اعصاب ڈاکٹر سری لکشمی کے مطابق، جسم کے دیگر اعضاء کے برعکس دماغ گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جیسے ہی شوگر لیول گرتا ہے، دماغی سگنلز درہم برہم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دورے، بے ہوشی یا جسم میں کپکپی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ حالت زیادہ دیر تک برقرار رہے تو مستقل دماغی نقصان کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503620/king-of-fruits-vs-refreshing-watermelon-which-one-causes-a-faster-blood-sugar-spike'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی علامات میں چکر آنا، الجھن، دھندلا نظر آنا، غیر معمولی رویہ اور شدید بھوک شامل ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ملے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے یا اسے شدید جھٹکے لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق اس کیفیت کے خطرات ان افراد میں زیادہ ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مریض ہوں، نومولود بچے ہوں یا گردے اور جگر کے مریض ہوں۔ بعض صورتوں میں علامات اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ مریض یا اہل خانہ انہیں پہچان نہیں پاتے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔</p>
<p>شیر خوار بچوں میں شوگر کی کمی کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان میں یہ دورے صرف آنکھوں کے غیر معمولی طور پر پھرنے یا بار بار منہ چلانے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرینِ صحت کے مطابق خون میں شکر کی خطرناک کمی عموماً ادویات اور خوراک کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں انسولین کی غلط مقدار لینا یا اسے غلط وقت پر استعمال کرنا، انسولین لینے کے بعد کھانا چھوڑ دینا یا تاخیر کرنا شامل ہے۔</p>
<p>اسی طرح خالی پیٹ سخت جسمانی مشقت یا الکحل کا استعمال بھی خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے کم کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ گردوں کے دائمی امراض میں مبتلا مریضوں میں ادویات جسم میں زیادہ دیر تک موجود رہتی ہیں، جس کی وجہ سے شوگر گرنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>عالمی طبی گائیڈ لائنز کے مطابق اگر خون میں شوگر کی سطح کم ہونے لگے تو فوری طور پر“15-15 اصول“ پر عمل کرنا چاہیے۔ اس طریقے کے تحت مریض کو فوراً 15 گرام سادہ کاربوہائیڈریٹ لینا ہوتا ہے، جیسے تقریباً 3 چمچ گلوکوز پاؤڈر، آدھا کپ پھلوں کا رس یا 1 چمچ شہد۔ اس کے بعد 15 منٹ انتظار کر کے دوبارہ بلڈ شوگر چیک کی جاتی ہے۔</p>
<p>اگر اس وقت بھی شوگر کی سطح 70 mg/dL سے کم رہے تو یہی عمل دوبارہ دہرایا جاتا ہے تاکہ خطرناک کمی کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہائی رسک مریضوں کو ہمیشہ اپنے پاس ’گلوکوز ٹیبلٹس‘ یا چینی رکھنی چاہیے۔<br>گلوکومیٹر اور گلوکوز پاؤڈر کو فرسٹ ایڈ کٹ کا لازمی حصہ بنائیں۔</p>
<p>اگر مریض بے ہوش ہو جائے تو اسے زبردستی کچھ کھلانے کی کوشش نہ کریں (اس سے دم گھٹ سکتا ہے)، بلکہ فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کریں تاکہ اسے ڈرپ کے ذریعے گلوکوز دیا جا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ باقاعدہ خوراک، ادویات کے درست استعمال اور بلڈ شوگر کی نگرانی کو معمول بنائیں تاکہ ایسے خطرناک حالات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>یاد رکھیں: مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ آلات اور بروقت آگاہی کے ذریعے ان جان لیوا دوروں سے سو فیصد بچاؤ ممکن ہے۔</p>
<p>اپنی خوراک کے اوقات اور ادویات کی مقدار میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503759</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 13:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211234043ebb2f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211234043ebb2f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
