<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 10:11:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 10:11:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رات کو سوتے ہوئے ناک بند کیوں ہوجاتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512240/why-does-your-nose-get-blocked-while-sleeping-at-night</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ دن کے وقت بالکل ٹھیک سانس لیتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو بستر پر لیٹتے ہیں، ناک بند ہونا شروع ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے نیند متاثر ہوسکتی ہے، منہ سے سانس لینا پڑتا ہے اور صبح اٹھنے پر منہ خشک یا گلا خراب محسوس ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ ناک بند ہونے کو صرف نزلہ یا زکام سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/living-healthy/why-does-your-nose-get-blocked-only-at-night-the-possible-causes-of-nasal-congestion-11883741?pfrom=home-ndtv_icymistories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق اس بارے میں ایسٹر وائٹ فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ رات کو سونے کے دوران ہمارے جسم کے اندر کچھ قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں جن کی وجہ سے ناک بند ہونے کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرسبراتا داس کے مطابق سونے کی پوزیشن سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔ دن میں جب انسان  سیدھا کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو کشش ثقل ناک میں بننے والی رطوبت کو باہر نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جب انسان لیٹ جاتا ہے تو رطوبت ناک کے اندر زیادہ جمع ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510997/why-do-headaches-occur-upon-waking-up-key-causes-and-easy-prevention-tips'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رات کے وقت ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے جسم میں سوجن کو کم کرنے والا ہارمون رات کے وقت قدرتی طور پر کم بنتا ہے، جس کی وجہ سے ناک کے اندر کی سوجن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ناک میں سوزش یا الرجی کا مسئلہ ہوتا ہے، ان میں رات کے وقت ناک بند ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناک کے اندر موجود خون کی نالیوں اور رطوبت بنانے والے ٹشوز پر اعصابی نظام بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ رات کے وقت اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے ناک میں رطوبت کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ناک بھری بھری محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو ناک بند ہونے کی ایک بڑی وجہ الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرے کے اندر موجود دھول مٹی، گدوں، تکیوں، پردوں اور قالینوں میں پائے جانے والے باریک کیڑے یعنی ڈسٹ مائٹس الرجی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کمرے کی دیواروں پر نمی یا سیلن کی وجہ سے پھپھوندی لگی ہو تو اس کی وجہ سے بھی رات کو ناک بند ہو سکتی ہے اور چھینکیں يا خارش شروع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی وجہ معدے کی تیزابیت بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دن کے وقت جب ہم سیدھے ہوتے ہیں تو خوراک اور تیزابیت معدے میں ہی رہتی ہے۔ لیکن رات کو کھانا کھا کر فوراً لیٹنے سے معدے کا تیزاب گلے کی طرف آنے لگتا ہے جس سے گلے میں جلن اور ناک بند ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر ناک بند ہونے کے ساتھ سینے میں جلن، منہ میں کھٹا ذائقہ، بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت یا صبح کے وقت گلے میں جلن بھی محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو ناک بند ہونے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہے تو ڈاکٹر علامات کے مطابق ناک کے اسپرے یا دوسری دوا تجویز کرسکتے ہیں۔ گھر میں دھول کم رکھنا، بستر اور تکیوں کی صفائی کرنا اور پھپھوندی یا نمی کو ختم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر ناک بند محسوس ہو تو عام درجہ حرارت کے پانی سے ناک کی صفائی کرنی چاہیے۔ ایک نتھنے میں پانی ڈال کر دوسرے سے نکالنے سے جمع شدہ بلغم صاف ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گلے میں خرابی ہو تو نیم گرم نمک کے پانی سے غرارے کرنے سے بھی آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا اثر بھی ناک پر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسلسل ناک بند رہنے کی صورت میں صرف گھریلو علاج پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ناک ہر رات بند ہوتی ہے، نیند بار بار خراب ہوتی ہے یا اس کے ساتھ مسلسل چھینکیں، چہرے میں درد، سر درد، بخار، سانس لینے میں مشکل یا ناک سے مسلسل رطوبت آتی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھار ناک بند ہونا عام بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل راتوں کو ہو رہا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کرنے سے نیند اور سانس لینے دونوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ دن کے وقت بالکل ٹھیک سانس لیتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو بستر پر لیٹتے ہیں، ناک بند ہونا شروع ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے نیند متاثر ہوسکتی ہے، منہ سے سانس لینا پڑتا ہے اور صبح اٹھنے پر منہ خشک یا گلا خراب محسوس ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ ناک بند ہونے کو صرف نزلہ یا زکام سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/living-healthy/why-does-your-nose-get-blocked-only-at-night-the-possible-causes-of-nasal-congestion-11883741?pfrom=home-ndtv_icymistories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق اس بارے میں ایسٹر وائٹ فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ رات کو سونے کے دوران ہمارے جسم کے اندر کچھ قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں جن کی وجہ سے ناک بند ہونے کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرسبراتا داس کے مطابق سونے کی پوزیشن سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔ دن میں جب انسان  سیدھا کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو کشش ثقل ناک میں بننے والی رطوبت کو باہر نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جب انسان لیٹ جاتا ہے تو رطوبت ناک کے اندر زیادہ جمع ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510997/why-do-headaches-occur-upon-waking-up-key-causes-and-easy-prevention-tips'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رات کے وقت ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے جسم میں سوجن کو کم کرنے والا ہارمون رات کے وقت قدرتی طور پر کم بنتا ہے، جس کی وجہ سے ناک کے اندر کی سوجن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ناک میں سوزش یا الرجی کا مسئلہ ہوتا ہے، ان میں رات کے وقت ناک بند ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ناک کے اندر موجود خون کی نالیوں اور رطوبت بنانے والے ٹشوز پر اعصابی نظام بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ رات کے وقت اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے ناک میں رطوبت کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ناک بھری بھری محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>رات کو ناک بند ہونے کی ایک بڑی وجہ الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>کمرے کے اندر موجود دھول مٹی، گدوں، تکیوں، پردوں اور قالینوں میں پائے جانے والے باریک کیڑے یعنی ڈسٹ مائٹس الرجی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کمرے کی دیواروں پر نمی یا سیلن کی وجہ سے پھپھوندی لگی ہو تو اس کی وجہ سے بھی رات کو ناک بند ہو سکتی ہے اور چھینکیں يا خارش شروع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایک اور بڑی وجہ معدے کی تیزابیت بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دن کے وقت جب ہم سیدھے ہوتے ہیں تو خوراک اور تیزابیت معدے میں ہی رہتی ہے۔ لیکن رات کو کھانا کھا کر فوراً لیٹنے سے معدے کا تیزاب گلے کی طرف آنے لگتا ہے جس سے گلے میں جلن اور ناک بند ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر ناک بند ہونے کے ساتھ سینے میں جلن، منہ میں کھٹا ذائقہ، بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت یا صبح کے وقت گلے میں جلن بھی محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>رات کو ناک بند ہونے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہے تو ڈاکٹر علامات کے مطابق ناک کے اسپرے یا دوسری دوا تجویز کرسکتے ہیں۔ گھر میں دھول کم رکھنا، بستر اور تکیوں کی صفائی کرنا اور پھپھوندی یا نمی کو ختم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر ناک بند محسوس ہو تو عام درجہ حرارت کے پانی سے ناک کی صفائی کرنی چاہیے۔ ایک نتھنے میں پانی ڈال کر دوسرے سے نکالنے سے جمع شدہ بلغم صاف ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اگر گلے میں خرابی ہو تو نیم گرم نمک کے پانی سے غرارے کرنے سے بھی آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا اثر بھی ناک پر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم مسلسل ناک بند رہنے کی صورت میں صرف گھریلو علاج پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ناک ہر رات بند ہوتی ہے، نیند بار بار خراب ہوتی ہے یا اس کے ساتھ مسلسل چھینکیں، چہرے میں درد، سر درد، بخار، سانس لینے میں مشکل یا ناک سے مسلسل رطوبت آتی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔</p>
<p>کبھی کبھار ناک بند ہونا عام بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل راتوں کو ہو رہا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کرنے سے نیند اور سانس لینے دونوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512240</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 12:47:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09124653e1d2aa7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09124653e1d2aa7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناریل پانی کتنی دیر میں خراب ہو جاتا ہے؟ نشانیاں اور محفوظ رکھنے کا طریقہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512109/coconut-water-how-long-does-it-stay-fresh-signs-of-spoilage-and-storage-tips</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناریل پانی گرمی کے موسم میں پیاس بجھانے کے لیے ایک مقبول مشروب ہے۔ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور  قدرتی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی اور لو سے بچاتے ہیں، گردوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ناریل سے نکلنے کے بعد یہ پانی کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ کیا جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ ناریل کا پانی نکالنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے پی لینا چاہیے۔ عام گرم موسم میں اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو صرف 2 سے 4 گھنٹے کے اندر اس کی تازگی متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ناریل کھولنے کے بعد پانی کو زیادہ دیر باہر رکھنے کے بجائے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ناریل پانی فوری طور پر نہیں پینا تو اسے فریج میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پانی کو ایک صاف اور ہوا بند ڈبے میں ڈال کر جتنی جلدی ممکن ہو فریج میں رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناریل پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسے ہمیشہ صاف اور اچھی طرح بند ہونے والے برتن میں رکھیں۔ ناریل سے پانی نکالتے ہی اسے فریج میں منتقل کردیں اور اسے گرمی یا براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔ بار بار ڈبہ کھولنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ اس سے باہر کی ہوا اور آلودگی کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناریل پانی پینے سے پہلے اس کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ اگر اس کی بو یا ذائقہ معمول سے مختلف محسوس ہو تو اسے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ناریل پانی کو ایک یا دو دن سے زیادہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے فریزر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوڈ گریڈ ڈبہ یا آئس کیوب ٹرے استعمال کی جاسکتی ہے۔ فریزر میں ناریل پانی تقریباً ایک سے دو ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم استعمال سے کچھ دیر پہلے اسے باہر نکال کر عام درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ فریز کرنے سے اس کے ذائقے اور غذائیت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بازار میں ملنے والے پیک شدہ ڈبے والے ناریل پانی کی میعاد اور قدرتی ناریل پانی کی پائیداری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ ڈبے والے پانی میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ دن چلتا ہے، جب کہ قدرتی پانی بہت جلدی خراب ہوتا ہے۔ ناریل خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ناریل باہر سے بالکل خشک ہو اور ہلانے پر اندر سے پانی کی اچھی آواز آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ناریل کے پانی سے کھٹا یا خمیر جیسا ذائقہ آئے، عجیب بدبو محسوس ہو، اس کا رنگ بدل جائے یا اس میں جھاگ بننے لگے تو اسے ہرگز نہ پیئیں۔ ایسا خراب پانی پینے سے پیٹ کی شدید بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر کہ ناریل پانی قدرتی اور صحت بخش مشروب ہے، اسے خراب ہونے کے بعد پینا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی بنیادی ہدایت یہی ہے کہ تازہ ناریل پانی فوراً پی لیا جائے، جبکہ بچ جانے والے پانی کو جلد از جلد صاف، بند برتن میں ڈال کر فریج میں رکھا جائے اور بہتر ذائقے اور معیار کے لیے ایک دن کے اندر استعمال کرلیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناریل پانی گرمی کے موسم میں پیاس بجھانے کے لیے ایک مقبول مشروب ہے۔ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور  قدرتی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی اور لو سے بچاتے ہیں، گردوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ناریل سے نکلنے کے بعد یہ پانی کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ کیا جائے؟</strong></p>
<p>ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ ناریل کا پانی نکالنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے پی لینا چاہیے۔ عام گرم موسم میں اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو صرف 2 سے 4 گھنٹے کے اندر اس کی تازگی متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ناریل کھولنے کے بعد پانی کو زیادہ دیر باہر رکھنے کے بجائے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>اگر ناریل پانی فوری طور پر نہیں پینا تو اسے فریج میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پانی کو ایک صاف اور ہوا بند ڈبے میں ڈال کر جتنی جلدی ممکن ہو فریج میں رکھنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ناریل پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسے ہمیشہ صاف اور اچھی طرح بند ہونے والے برتن میں رکھیں۔ ناریل سے پانی نکالتے ہی اسے فریج میں منتقل کردیں اور اسے گرمی یا براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔ بار بار ڈبہ کھولنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ اس سے باہر کی ہوا اور آلودگی کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ناریل پانی پینے سے پہلے اس کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ اگر اس کی بو یا ذائقہ معمول سے مختلف محسوس ہو تو اسے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>اگر ناریل پانی کو ایک یا دو دن سے زیادہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے فریزر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوڈ گریڈ ڈبہ یا آئس کیوب ٹرے استعمال کی جاسکتی ہے۔ فریزر میں ناریل پانی تقریباً ایک سے دو ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>تاہم استعمال سے کچھ دیر پہلے اسے باہر نکال کر عام درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ فریز کرنے سے اس کے ذائقے اور غذائیت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق بازار میں ملنے والے پیک شدہ ڈبے والے ناریل پانی کی میعاد اور قدرتی ناریل پانی کی پائیداری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ ڈبے والے پانی میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ دن چلتا ہے، جب کہ قدرتی پانی بہت جلدی خراب ہوتا ہے۔ ناریل خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ناریل باہر سے بالکل خشک ہو اور ہلانے پر اندر سے پانی کی اچھی آواز آئے۔</p>
<p>غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ناریل کے پانی سے کھٹا یا خمیر جیسا ذائقہ آئے، عجیب بدبو محسوس ہو، اس کا رنگ بدل جائے یا اس میں جھاگ بننے لگے تو اسے ہرگز نہ پیئیں۔ ایسا خراب پانی پینے سے پیٹ کی شدید بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر کہ ناریل پانی قدرتی اور صحت بخش مشروب ہے، اسے خراب ہونے کے بعد پینا مناسب نہیں۔</p>
<p>ماہرین کی بنیادی ہدایت یہی ہے کہ تازہ ناریل پانی فوراً پی لیا جائے، جبکہ بچ جانے والے پانی کو جلد از جلد صاف، بند برتن میں ڈال کر فریج میں رکھا جائے اور بہتر ذائقے اور معیار کے لیے ایک دن کے اندر استعمال کرلیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512109</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 11:22:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/081122200f26383.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/081122200f26383.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہائی یا لو بلڈ پریشر میں کتنا نمک کھانا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511991/how-much-salt-should-you-eat-in-high-or-low-blood-pressure-know-the-right-amount</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل بلڈ پریشر یعنی خون کے دباؤ کا مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے اور ہر دوسرا شخص یا تو ہائی بی پی سے پریشان ہے یا پھر لو بی پی کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا نمک کھانا چاہیے کیونکہ نمک کا براہ راست تعلق انسان کے بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے طبی ماہرین نے نمک کی صحیح مقدار اور اس کے استعمال کے بارے میں آسان معلومات فراہم کی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/how-much-salt-intake-in-high-or-low-blood-pressure-is-safe-health-expert-reveals-201785979665441.html"&gt;ہندوستان ڈاٹ کام&lt;/a&gt; کے مطابق معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ ہائی بی پی کے مریض ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو نمک بالکل ہی بند کر دینا چاہیے، کیونکہ نمک جسم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کا طریقہ بتایا کہ انسان نمک کے معاملے میں کتنا حساس ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ پہلے تین دن اپنا بی پی چیک کریں، پھر اگلے تین دن کھانا تھوڑا زیادہ نمک کی مقدار میں معمولی اضافہ کر کے بی پی کی ریڈنگ لیں اور اس کے بعد کم نمک کھا کر بی پی چیک کریں۔ یہ ریڈنگ آپ کو بتا دے گی کہ نمک سے آپ کا بی پی متاثر ہوتا ہے یا نہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بمل کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بی پی کیوں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ جن کو اپنے بی پی کی صورتحال معلوم ہے وہ یہ تجربہ نہ کریں اور صرف نمک کی صحیح مقدار استعمال کریں۔ اگر بی پی لو رہتا ہو تو نمک کی مناسب مقدار لیں اور اگر ہائی رہتا ہو تو تھوڑا کم کھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/publications/i/item/9789241504836"&gt; ڈبلیو ایچ او&lt;/a&gt; کے مطابق ایک عام اور تندرست انسان کو دن بھر میں پانچ گرام سے کم یعنی تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر ہی نمک کھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق جب کسی انسان کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں پانی میں نمک ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سوڈیم اور پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ جب جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے بی پی گر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472643/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472643"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ہائی بلڈ پریشر میں جسم میں زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہائی بی پی کے مریضوں کو نمک کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق لو بلڈ پریشر کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہو سکتا ہے جبکہ ہائی بی پی ہونے پر سر میں شدید درد رہتا ہے، چکر آتے ہیں، دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار ہر شخص کی صحت، عمر اور بیماری کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل بلڈ پریشر یعنی خون کے دباؤ کا مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے اور ہر دوسرا شخص یا تو ہائی بی پی سے پریشان ہے یا پھر لو بی پی کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا نمک کھانا چاہیے کیونکہ نمک کا براہ راست تعلق انسان کے بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے طبی ماہرین نے نمک کی صحیح مقدار اور اس کے استعمال کے بارے میں آسان معلومات فراہم کی ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/how-much-salt-intake-in-high-or-low-blood-pressure-is-safe-health-expert-reveals-201785979665441.html">ہندوستان ڈاٹ کام</a> کے مطابق معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ ہائی بی پی کے مریض ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو نمک بالکل ہی بند کر دینا چاہیے، کیونکہ نمک جسم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کا طریقہ بتایا کہ انسان نمک کے معاملے میں کتنا حساس ہے</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ پہلے تین دن اپنا بی پی چیک کریں، پھر اگلے تین دن کھانا تھوڑا زیادہ نمک کی مقدار میں معمولی اضافہ کر کے بی پی کی ریڈنگ لیں اور اس کے بعد کم نمک کھا کر بی پی چیک کریں۔ یہ ریڈنگ آپ کو بتا دے گی کہ نمک سے آپ کا بی پی متاثر ہوتا ہے یا نہیں۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر بمل کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بی پی کیوں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ جن کو اپنے بی پی کی صورتحال معلوم ہے وہ یہ تجربہ نہ کریں اور صرف نمک کی صحیح مقدار استعمال کریں۔ اگر بی پی لو رہتا ہو تو نمک کی مناسب مقدار لیں اور اگر ہائی رہتا ہو تو تھوڑا کم کھائیں۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/publications/i/item/9789241504836"> ڈبلیو ایچ او</a> کے مطابق ایک عام اور تندرست انسان کو دن بھر میں پانچ گرام سے کم یعنی تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر ہی نمک کھانا چاہیے۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق جب کسی انسان کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں پانی میں نمک ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سوڈیم اور پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ جب جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے بی پی گر جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472643/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472643"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس ہائی بلڈ پریشر میں جسم میں زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہائی بی پی کے مریضوں کو نمک کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق لو بلڈ پریشر کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہو سکتا ہے جبکہ ہائی بی پی ہونے پر سر میں شدید درد رہتا ہے، چکر آتے ہیں، دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار ہر شخص کی صحت، عمر اور بیماری کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511991</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 13:16:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/071326374636af4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/071326374636af4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لمبے وقفے کے بعد ورزش؟ ایک غلطی آپ کو اسپتال پہنچا سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511964/working-out-after-a-long-break-one-mistake-could-land-you-in-the-hospital</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ نے کام کی مصروفیت، ذہنی دباؤ یا کسی بھی وجہ سے کافی عرصے سے ورزش یا ورزش کی روٹین چھوڑ رکھی تھی اور اب دوبارہ جم جانے یا ورزش شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پہلے جیسی سخت ورزش فوراً شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔  ڈاکٹرز کے مطابق جسم کو دوبارہ جسمانی سرگرمی کا عادی ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ورنہ پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور یہاں تک کہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصروف دفتری زندگی، ذہنی دباؤ، لمبی میٹنگز یا دیگر ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم جب وہ دوبارہ ورزش شروع کرتے ہیں تو اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے والی رفتار اور شدت سے ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق لمبے وقفے کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا خاصا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ جب انسان کافی عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو اس سے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جسم کو پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے اچانک سخت ورزش شروع  کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے پرانی رفتار کے بجائے آہستہ آہستہ شروعات کرنا ہی محفوظ طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹنس ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک فزیو تھراپسٹ یا ماہر کا کام روزانہ کی معمول کی ورزشیں کروانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جِم میں کیا کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے جسم کو اسٹریچنگ کے ذریعے تیار کرنا چاہیے تاکہ پٹھوں کی اکڑن کم ہو اور جسم حرکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد ہلکی کارڈیو ورزش کی جائے تاکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور برداشت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467816/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بنیادی ویٹ ٹریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو بہتر سہارا ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی بے حد اہم ہے تاکہ غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ آغاز کرتے وقت پٹھوں کی لچک بڑھانے کے لیے کھنچاؤ کی ورزشیں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ہلکی واک یا کارڈیو، پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہلکا وزن اٹھانا اور اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنانا بہت ضروری ہے۔  ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، وافر پانی پینا اور پرسکون نیند لینا بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو ورزش دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ نے کام کی مصروفیت، ذہنی دباؤ یا کسی بھی وجہ سے کافی عرصے سے ورزش یا ورزش کی روٹین چھوڑ رکھی تھی اور اب دوبارہ جم جانے یا ورزش شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پہلے جیسی سخت ورزش فوراً شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔  ڈاکٹرز کے مطابق جسم کو دوبارہ جسمانی سرگرمی کا عادی ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ورنہ پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور یہاں تک کہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔</strong></p>
<p>مصروف دفتری زندگی، ذہنی دباؤ، لمبی میٹنگز یا دیگر ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم جب وہ دوبارہ ورزش شروع کرتے ہیں تو اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے والی رفتار اور شدت سے ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق لمبے وقفے کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا خاصا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ جب انسان کافی عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو اس سے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جسم کو پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے اچانک سخت ورزش شروع  کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے پرانی رفتار کے بجائے آہستہ آہستہ شروعات کرنا ہی محفوظ طریقہ ہے۔</p>
<p>فٹنس ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک فزیو تھراپسٹ یا ماہر کا کام روزانہ کی معمول کی ورزشیں کروانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جِم میں کیا کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے جسم کو اسٹریچنگ کے ذریعے تیار کرنا چاہیے تاکہ پٹھوں کی اکڑن کم ہو اور جسم حرکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد ہلکی کارڈیو ورزش کی جائے تاکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور برداشت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467816/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ بنیادی ویٹ ٹریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو بہتر سہارا ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی بے حد اہم ہے تاکہ غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہوں۔</p>
<p>دوبارہ آغاز کرتے وقت پٹھوں کی لچک بڑھانے کے لیے کھنچاؤ کی ورزشیں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ہلکی واک یا کارڈیو، پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہلکا وزن اٹھانا اور اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنانا بہت ضروری ہے۔  ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، وافر پانی پینا اور پرسکون نیند لینا بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ:</strong> یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو ورزش دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511964</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 10:21:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/070954307ccdee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/070954307ccdee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بارشوں میں دفاتر کے اندر تیزی سے پھیلنے والی 6 بیماریاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511851/8-diseases-that-spread-rapidly-inside-offices-during-the-monsoon</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مون سون کے دوران دفاتر میں روزانہ آنا جانا، پرہجوم لفٹ، مشترکہ میزیں، ایئرکنڈیشنڈ میٹنگ رومز، آفس کچن اور ساتھی ملازمین سے قریبی رابطہ جراثیم، وائرس اور فنگس کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق نم کپڑے، خراب ہوا کی آمدورفت، درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلی اور مشترکہ اشیا کا استعمال دفاتر کو انفیکشنز کے لیے موزوں جگہ بنا دیتا ہے۔ لوگ عام طور پر مون سون کی بیماریوں کو صرف مچھروں یا آلودہ پانی سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں دفاتر بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کی اہم جگہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مون سون میں کون سی بیماریاں زیادہ پھیلتی ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اس موسم میں خاص طور پر 6 بیماریاں ایسی ہیں جو دفتر میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511668/why-does-eye-flu-spread-during-the-monsoon-symptoms-and-easy-ways-to-prevent-it'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موسمی فلو یا انفلوئنزا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمی فلو یا انفلوئنزا چھینکنے، کھانسنے اور ایک ہی میز یا لفٹ کے استعمال سے پھیلتی ہے۔ اس میں تیز بخار، جسم میں درد، گلے کی خرابی اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہاتھ بار بار دھونے، بخار کی صورت میں گھر پر رہنے، دفاتر میں ہوا کی بہتر آمدورفت رکھنے اور سالانہ فلو ویکسین لگوانے سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کووڈ 19&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کووڈ 19 اب عالمی صحت کی ایمرجنسی نہیں رہا، لیکن اس کا وائرس اب بھی موجود ہے۔ ایسی صورت میں بخار، کھانسی یا گلے میں درد کی صورت میں دفتر آنے سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ علامات ہونے پر ماسک پہننا اور ویکسین کو اپ ڈیٹ رکھنا بھی مفید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آنکھوں کی بیماریاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے خبردار کیا کہ وائرل آشوب چشم متاثرہ شخص کے ذریعے مشترکہ سطحوں کو چھونے کے بعد دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں آنکھوں کی سرخی، پانی آنا، جلن، پلکوں کی سوجن اور آنکھوں سے رطوبت خارج ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہاضمہ کی خرابی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آفس کچن یا مشترکہ کھانے کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو وائرل معدے کی بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں، جن سے اسہال، قے، پیٹ میں درد، بخار اور جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنگس اور لیپٹو اسپائروسس کا بھی خطرہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ نم جوتے، گیلی جرابیں اور زیادہ نمی جلد پر فنگس پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں خارش، سرخ دھبے اور جلد اترنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے لیپٹو اسپائروسس کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ یہ بیماری ساتھی ملازمین سے نہیں بلکہ بارش یا سیلاب کے آلودہ پانی میں چلنے سے منتقل ہوتی ہے، جہاں چوہوں کے فضلات سے آلودہ پانی میں موجود بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں تیز بخار، شدید پٹھوں کا درد، سر درد، آنکھوں کی سرخی، قے اور شدید صورت میں یرقان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511169/quick-and-easy-home-remedies-to-relieve-itchy-feet-caused-by-rainwater'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کون سی عادتیں بیماری کا خطرہ بڑھاتی ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق دفتر میں میز پر کھانا کھانا، پانی کی بوتل یا برتن دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا، مشترکہ کمپیوٹر یا دیگر سامان استعمال کرنے کے بعد چہرے کو ہاتھ لگانا، میٹنگ رومز میں خراب وینٹیلیشن اور بخار یا اسہال کے باوجود دفتر آنا بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کا کہنا ہے، ”بارش خود بیماری کا سبب نہیں بنتی، بلکہ بند جگہیں، خراب وینٹیلیشن، نمی اور مشترکہ سطحیں جراثیم کے پھیلاؤ کو آسان بنا دیتی ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”ہاتھوں کی صفائی، بیمار ہونے پر گھر پر رہنا، دفتر میں صاف ستھرا ماحول رکھنا، تازہ کھانا کھانا، ذاتی اشیا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کرنا اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہ صرف اپنی بلکہ پورے دفتر کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ معلومات صرف عام آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بھی بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مون سون کے دوران دفاتر میں روزانہ آنا جانا، پرہجوم لفٹ، مشترکہ میزیں، ایئرکنڈیشنڈ میٹنگ رومز، آفس کچن اور ساتھی ملازمین سے قریبی رابطہ جراثیم، وائرس اور فنگس کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق نم کپڑے، خراب ہوا کی آمدورفت، درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلی اور مشترکہ اشیا کا استعمال دفاتر کو انفیکشنز کے لیے موزوں جگہ بنا دیتا ہے۔ لوگ عام طور پر مون سون کی بیماریوں کو صرف مچھروں یا آلودہ پانی سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں دفاتر بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کی اہم جگہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>مون سون میں کون سی بیماریاں زیادہ پھیلتی ہیں؟</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اس موسم میں خاص طور پر 6 بیماریاں ایسی ہیں جو دفتر میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511668/why-does-eye-flu-spread-during-the-monsoon-symptoms-and-easy-ways-to-prevent-it'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>موسمی فلو یا انفلوئنزا</strong></p>
<p>موسمی فلو یا انفلوئنزا چھینکنے، کھانسنے اور ایک ہی میز یا لفٹ کے استعمال سے پھیلتی ہے۔ اس میں تیز بخار، جسم میں درد، گلے کی خرابی اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہاتھ بار بار دھونے، بخار کی صورت میں گھر پر رہنے، دفاتر میں ہوا کی بہتر آمدورفت رکھنے اور سالانہ فلو ویکسین لگوانے سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>کووڈ 19</strong></p>
<p>اگرچہ کووڈ 19 اب عالمی صحت کی ایمرجنسی نہیں رہا، لیکن اس کا وائرس اب بھی موجود ہے۔ ایسی صورت میں بخار، کھانسی یا گلے میں درد کی صورت میں دفتر آنے سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ علامات ہونے پر ماسک پہننا اور ویکسین کو اپ ڈیٹ رکھنا بھی مفید ہے۔</p>
<p><strong>آنکھوں کی بیماریاں</strong></p>
<p>ماہرین نے خبردار کیا کہ وائرل آشوب چشم متاثرہ شخص کے ذریعے مشترکہ سطحوں کو چھونے کے بعد دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں آنکھوں کی سرخی، پانی آنا، جلن، پلکوں کی سوجن اور آنکھوں سے رطوبت خارج ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔</p>
<p><strong>ہاضمہ کی خرابی</strong></p>
<p>اسی طرح آفس کچن یا مشترکہ کھانے کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو وائرل معدے کی بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں، جن سے اسہال، قے، پیٹ میں درد، بخار اور جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>فنگس اور لیپٹو اسپائروسس کا بھی خطرہ</strong></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ نم جوتے، گیلی جرابیں اور زیادہ نمی جلد پر فنگس پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں خارش، سرخ دھبے اور جلد اترنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے لیپٹو اسپائروسس کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ یہ بیماری ساتھی ملازمین سے نہیں بلکہ بارش یا سیلاب کے آلودہ پانی میں چلنے سے منتقل ہوتی ہے، جہاں چوہوں کے فضلات سے آلودہ پانی میں موجود بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں تیز بخار، شدید پٹھوں کا درد، سر درد، آنکھوں کی سرخی، قے اور شدید صورت میں یرقان شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511169/quick-and-easy-home-remedies-to-relieve-itchy-feet-caused-by-rainwater'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>کون سی عادتیں بیماری کا خطرہ بڑھاتی ہیں؟</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق دفتر میں میز پر کھانا کھانا، پانی کی بوتل یا برتن دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا، مشترکہ کمپیوٹر یا دیگر سامان استعمال کرنے کے بعد چہرے کو ہاتھ لگانا، میٹنگ رومز میں خراب وینٹیلیشن اور بخار یا اسہال کے باوجود دفتر آنا بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>ماہرین صحت کا کہنا ہے، ”بارش خود بیماری کا سبب نہیں بنتی، بلکہ بند جگہیں، خراب وینٹیلیشن، نمی اور مشترکہ سطحیں جراثیم کے پھیلاؤ کو آسان بنا دیتی ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”ہاتھوں کی صفائی، بیمار ہونے پر گھر پر رہنا، دفتر میں صاف ستھرا ماحول رکھنا، تازہ کھانا کھانا، ذاتی اشیا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کرنا اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہ صرف اپنی بلکہ پورے دفتر کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔“</p>
<p>نوٹ: یہ معلومات صرف عام آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بھی بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511851</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 14:57:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/06145636cf872e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/06145636cf872e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: ہری مرچوں اور سلاد کے پتوں میں خطرناک وائرس کا انکشاف، کئی ریاستیں متاثر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511801/united-states-mexico-outbreak-lettuce-epidemic-food-safety-salmonella-cyclospora-jalapeno</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی آئس برگ لیٹس اور جلاپینو مرچوں سے پیٹ کے انفیکشنز سے ہزاروں افراد بیمار ہو گئے ہیں، جس کے بعد خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صحت کے دو مختلف اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان آلودہ سبزیوں سے پھیلنے والی بیماریاں سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا ہیں جن سے ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور متعدد کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/cyclosporiasis-cases-michigan-climb-over-12000-state-health-officials-say-2026-08-05/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; ان وباؤں کے خطرناک پھیلاؤ کے بعد امریکی  صحت کے اداروں ایف ڈی اے اور سی ڈی سی نے اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور ان دونوں صحت کے اداروں کے مطابق سائیکلوسپوریاسس کی تحقیقات اب 15 ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ تازہ شامل ہونے والی ریاستوں میں مسوری، آرکنساس، آئیووا، نیبراسکا، نیو ہیمپشائر اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت حکام کے مطابق اس قدر وسیع پیمانے پر وبا کے پھیلاؤ سے اب تک 6 ہزار 358 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 278 مریض اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی رپورٹس میں وقت لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق اس وبا کا تعلق میکسیکو کے وسطی علاقے سے درآمد کی گئی آئس برگ لیٹس (سلاد کے پتوں) سے ہے، جو ٹاکو بیل کے بعض ریسٹورنٹس میں استعمال ہوئی تھی۔ بعد ازاں حکام نے میکسیکو میں ٹیلر فارمز کی تنصیبات کو اس لیٹس کا ذریعہ قرار دیا، تاہم دیگر ممکنہ ذرائع کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458196'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائیکلوسپوریاسس ایک آنتوں کی بیماری ہے جو فضلے سے آلودہ خوراک اور پانی، خصوصاً کچی سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے پھیل سکتی ہے۔ اس کے باعث اسہال، متلی، پیٹ میں درد اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق دیگر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشی گن اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے، جہاں کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق وبا سے منسلک دو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں، تاہم دونوں افراد پہلے سے دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صحت حکام میکسیکو سے درآمد ہونے والی جلاپینو مرچوں سے منسلک سالمونیلا کے پھیلاؤ کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 27 ریاستوں میں 345 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 36 مریضوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس وبا میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510828/why-did-anthony-fauci-invoke-the-fifth-amendment-senate-hearing-explained'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایف ڈی اے کے مطابق سالمونیلا کا تعلق میکسیکو کی ریاست سینالوا میں اگائی جانے والی جلاپینو مرچوں سے ہے، جنہیں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے امریکا میں مختلف ریسٹورنٹس کو فراہم کیا گیا تھا۔ کمپنی نے متاثرہ مرچیں واپس منگوانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ صارفین کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ جلاپینو مرچیں چیپوٹلے اور کیوڈوبا سمیت بعض ریسٹورنٹس تک بھی پہنچی تھیں۔ ایف ڈی اے کے مطابق چیپوٹلے نے 20 جولائی سے جلاپینو مرچوں کے سپلائر کو تبدیل کر دیا، جبکہ کیوڈوبا نے 28 جولائی سے ان کا استعمال بند کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد ان ریسٹورنٹس سے صارفین کو اس وبا کے حوالے سے کسی موجودہ خطرے کا سامنا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506619/outbreak-siberia-oldest-plague-years-ago-in-ancientplague'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سالمونیلا انفیکشن عام طور پر اسہال، بخار اور پیٹ میں درد کا باعث بنتا ہے اور یہ بیماری بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وباؤں کے بعد امریکا میں خوراک کے تحفظ اور درآمدی زرعی مصنوعات کی نگرانی پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور بیماریوں کے ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کے لیے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی آئس برگ لیٹس اور جلاپینو مرچوں سے پیٹ کے انفیکشنز سے ہزاروں افراد بیمار ہو گئے ہیں، جس کے بعد خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صحت کے دو مختلف اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان آلودہ سبزیوں سے پھیلنے والی بیماریاں سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا ہیں جن سے ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور متعدد کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/cyclosporiasis-cases-michigan-climb-over-12000-state-health-officials-say-2026-08-05/">رائٹرز کے مطابق</a> ان وباؤں کے خطرناک پھیلاؤ کے بعد امریکی  صحت کے اداروں ایف ڈی اے اور سی ڈی سی نے اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور ان دونوں صحت کے اداروں کے مطابق سائیکلوسپوریاسس کی تحقیقات اب 15 ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ تازہ شامل ہونے والی ریاستوں میں مسوری، آرکنساس، آئیووا، نیبراسکا، نیو ہیمپشائر اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔</p>
<p>صحت حکام کے مطابق اس قدر وسیع پیمانے پر وبا کے پھیلاؤ سے اب تک 6 ہزار 358 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 278 مریض اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی رپورٹس میں وقت لگتا ہے۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق اس وبا کا تعلق میکسیکو کے وسطی علاقے سے درآمد کی گئی آئس برگ لیٹس (سلاد کے پتوں) سے ہے، جو ٹاکو بیل کے بعض ریسٹورنٹس میں استعمال ہوئی تھی۔ بعد ازاں حکام نے میکسیکو میں ٹیلر فارمز کی تنصیبات کو اس لیٹس کا ذریعہ قرار دیا، تاہم دیگر ممکنہ ذرائع کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458196'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائیکلوسپوریاسس ایک آنتوں کی بیماری ہے جو فضلے سے آلودہ خوراک اور پانی، خصوصاً کچی سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے پھیل سکتی ہے۔ اس کے باعث اسہال، متلی، پیٹ میں درد اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق دیگر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مشی گن اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے، جہاں کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق وبا سے منسلک دو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں، تاہم دونوں افراد پہلے سے دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی صحت حکام میکسیکو سے درآمد ہونے والی جلاپینو مرچوں سے منسلک سالمونیلا کے پھیلاؤ کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 27 ریاستوں میں 345 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 36 مریضوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس وبا میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510828/why-did-anthony-fauci-invoke-the-fifth-amendment-senate-hearing-explained'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایف ڈی اے کے مطابق سالمونیلا کا تعلق میکسیکو کی ریاست سینالوا میں اگائی جانے والی جلاپینو مرچوں سے ہے، جنہیں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے امریکا میں مختلف ریسٹورنٹس کو فراہم کیا گیا تھا۔ کمپنی نے متاثرہ مرچیں واپس منگوانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ صارفین کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ جلاپینو مرچیں چیپوٹلے اور کیوڈوبا سمیت بعض ریسٹورنٹس تک بھی پہنچی تھیں۔ ایف ڈی اے کے مطابق چیپوٹلے نے 20 جولائی سے جلاپینو مرچوں کے سپلائر کو تبدیل کر دیا، جبکہ کیوڈوبا نے 28 جولائی سے ان کا استعمال بند کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد ان ریسٹورنٹس سے صارفین کو اس وبا کے حوالے سے کسی موجودہ خطرے کا سامنا نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506619/outbreak-siberia-oldest-plague-years-ago-in-ancientplague'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سالمونیلا انفیکشن عام طور پر اسہال، بخار اور پیٹ میں درد کا باعث بنتا ہے اور یہ بیماری بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>دونوں وباؤں کے بعد امریکا میں خوراک کے تحفظ اور درآمدی زرعی مصنوعات کی نگرانی پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور بیماریوں کے ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کے لیے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511801</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 09:24:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/06091023b780232.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/06091023b780232.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینسر کے مریض ہیئر کلر کب اور کیسے استعمال کریں؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511683/breast-cancer-hair-dye-womens-health-cancer-research-permanent-hair-dye-chemical-hair-straighteners-nih-study</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینسر کے علاج کے دوران یا علاج مکمل ہونے کے بعد جب مریض کے بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صرف ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ صحت یابی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے مریض اپنے سفید بال چھپانے یا بالوں کو نیا رنگ دینے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینسر کے علاج میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کا مقصد جسم میں تیزی سے بڑھنے والے کینسر کے خلیات کو ختم کرنا ہوتا ہے، لیکن اس عمل کے دوران بالوں کی جڑیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بال جھڑ جاتے ہیں یا بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ جب علاج کے بعد نئے بال اگتے ہیں تو وہ پہلے کی نسبت زیادہ نازک، خشک اور حساس ہوتے ہیں جبکہ سر کی جلد بھی آسانی سے متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/141714'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/141714"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی کے دوران اور علاج ختم ہونے کے کئی ماہ بعد تک سر کی جلد انتہائی حساس رہتی ہے۔ اس عرصے میں عام مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے جلد پر جلن، کیمیائی زخم، الرجی اور بالوں کی جڑوں کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے بالوں کی صحت مند نشوونما بھی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیئر ڈائی کے ممکنہ خطرات جاننے کے لیے مختلف تحقیقی اداروں نے کئی مطالعات کیے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل ہیلتھ سائنسز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nih.gov/news-events/news-releases/permanent-hair-dye-straighteners-may-increase-breast-cancer-risk"&gt;“سسٹر اسٹڈی“&lt;/a&gt; میں 46 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ مستقل ہیئر ڈائی اور کیمیکل ہیئر اسٹریٹنر باقاعدگی سے استعمال کرنے والی خواتین میں بعض اقسام کے بریسٹ کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا، خاص طور پر ان خواتین میں جو بار بار مستقل رنگ استعمال کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bmj.com/content/bmj/370/bmj.m2942.full.pdf"&gt;ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ&lt;/a&gt; کی 36 سالہ تحقیق، جس میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ خواتین شامل تھیں، کے مطابق مجموعی طور پر ہیئر ڈائی کے استعمال سے زیادہ تر کینسرز کا خطرہ نہیں بڑھا، تاہم طویل عرصے تک مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے والی بعض خواتین میں جلد، بیضہ دانی اور بریسٹ کینسر کی چند مخصوص اقسام کا خطرہ معمولی حد تک زیادہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے بھی ہیئر ڈائی کے استعمال کا جائزہ لیا۔ ادارے کے مطابق ذاتی استعمال کے حوالے سے موجود شواہد کی بنیاد پر ہیئر ڈائی کو انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ہیئر ڈریسرز اور نائیوں جیسے افراد، جو پیشہ ورانہ طور پر ان کیمیکلز کے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، ان کے لیے خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ہیئر ڈائی خریدتے وقت اس کے اجزاء ضرور پڑھنے چاہییں۔ خاص طور پر پیرا فینائلین ڈائی امین (پی پی ڈی)، امونیا، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، پیرا بینز اور فیتھالیٹس جیسے کیمیکلز حساس جلد اور نئے اگنے والے بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز عام طور پر مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کیموتھراپی مکمل ہونے کے کم از کم چھ ماہ بعد ہی مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے پر غور کریں۔ اس دوران بالوں کو مضبوط ہونے اور سر کی جلد کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اگر کوئی مریض علاج کے دوران اسکالپ کولنگ کروا رہا ہو یا سر پر ریڈی ایشن دی گئی ہو تو اسے اپنے معالج کی واضح اجازت کے بغیر ہیئر ڈائی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364689'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد پہلے چھ ماہ تک کیمیائی رنگوں سے گریز کیا جائے اور سر کی جلد کو نمی فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔ چھ ماہ بعد بھی ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے پہلے اپنے آنکولوجسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ بالوں اور سر کی جلد کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مریض بالوں کو رنگنا چاہتا ہے تو نسبتاً محفوظ متبادل بھی موجود ہیں۔ ان میں خالص مہندی یا دیگر قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ رنگ شامل ہیں، بشرطیکہ ان میں مصنوعی کیمیکلز شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ امونیا اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سے پاک سیمی پرمننٹ رنگ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ عارضی روٹ پاؤڈر یا کلر مسکارا بھی ایک ایسا آپشن ہے جو ایک بار شیمپو کرنے سے صاف ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی رنگ کے استعمال سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے تاکہ الرجی یا جلن کی صورت میں بروقت معلوم ہو سکے۔ جہاں ممکن ہو، رنگ کو براہ راست سر کی جلد پر لگانے کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن میں رنگ جلد سے کم سے کم رابطے میں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق کینسر کے علاج کے بعد بالوں کی دیکھ بھال دوبارہ شروع کرنا مریض کے لیے ایک خوش آئند مرحلہ ہوتا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ جلد بازی سے گریز کیا جائے، محفوظ متبادل اختیار کیے جائیں اور کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کیا جائے تاکہ صحت یابی کا عمل متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینسر کے علاج کے دوران یا علاج مکمل ہونے کے بعد جب مریض کے بال دوبارہ اگنا شروع ہوتے ہیں تو یہ صرف ظاہری تبدیلی نہیں بلکہ صحت یابی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے مریض اپنے سفید بال چھپانے یا بالوں کو نیا رنگ دینے کے بارے میں سوچتے ہیں، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>کینسر کے علاج میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کا مقصد جسم میں تیزی سے بڑھنے والے کینسر کے خلیات کو ختم کرنا ہوتا ہے، لیکن اس عمل کے دوران بالوں کی جڑیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بال جھڑ جاتے ہیں یا بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ جب علاج کے بعد نئے بال اگتے ہیں تو وہ پہلے کی نسبت زیادہ نازک، خشک اور حساس ہوتے ہیں جبکہ سر کی جلد بھی آسانی سے متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/141714'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/141714"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>این ڈی ٹی وی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی کے دوران اور علاج ختم ہونے کے کئی ماہ بعد تک سر کی جلد انتہائی حساس رہتی ہے۔ اس عرصے میں عام مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے جلد پر جلن، کیمیائی زخم، الرجی اور بالوں کی جڑوں کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے بالوں کی صحت مند نشوونما بھی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ہیئر ڈائی کے ممکنہ خطرات جاننے کے لیے مختلف تحقیقی اداروں نے کئی مطالعات کیے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل ہیلتھ سائنسز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nih.gov/news-events/news-releases/permanent-hair-dye-straighteners-may-increase-breast-cancer-risk">“سسٹر اسٹڈی“</a> میں 46 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ مستقل ہیئر ڈائی اور کیمیکل ہیئر اسٹریٹنر باقاعدگی سے استعمال کرنے والی خواتین میں بعض اقسام کے بریسٹ کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا، خاص طور پر ان خواتین میں جو بار بار مستقل رنگ استعمال کرتی تھیں۔</p>
<p>اسی طرح <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bmj.com/content/bmj/370/bmj.m2942.full.pdf">ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ</a> کی 36 سالہ تحقیق، جس میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ خواتین شامل تھیں، کے مطابق مجموعی طور پر ہیئر ڈائی کے استعمال سے زیادہ تر کینسرز کا خطرہ نہیں بڑھا، تاہم طویل عرصے تک مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے والی بعض خواتین میں جلد، بیضہ دانی اور بریسٹ کینسر کی چند مخصوص اقسام کا خطرہ معمولی حد تک زیادہ دیکھا گیا۔</p>
<p>عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے بھی ہیئر ڈائی کے استعمال کا جائزہ لیا۔ ادارے کے مطابق ذاتی استعمال کے حوالے سے موجود شواہد کی بنیاد پر ہیئر ڈائی کو انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ہیئر ڈریسرز اور نائیوں جیسے افراد، جو پیشہ ورانہ طور پر ان کیمیکلز کے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، ان کے لیے خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ہیئر ڈائی خریدتے وقت اس کے اجزاء ضرور پڑھنے چاہییں۔ خاص طور پر پیرا فینائلین ڈائی امین (پی پی ڈی)، امونیا، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، پیرا بینز اور فیتھالیٹس جیسے کیمیکلز حساس جلد اور نئے اگنے والے بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹرز عام طور پر مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کیموتھراپی مکمل ہونے کے کم از کم چھ ماہ بعد ہی مستقل ہیئر ڈائی استعمال کرنے پر غور کریں۔ اس دوران بالوں کو مضبوط ہونے اور سر کی جلد کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اگر کوئی مریض علاج کے دوران اسکالپ کولنگ کروا رہا ہو یا سر پر ریڈی ایشن دی گئی ہو تو اسے اپنے معالج کی واضح اجازت کے بغیر ہیئر ڈائی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364689'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد پہلے چھ ماہ تک کیمیائی رنگوں سے گریز کیا جائے اور سر کی جلد کو نمی فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔ چھ ماہ بعد بھی ہیئر ڈائی استعمال کرنے سے پہلے اپنے آنکولوجسٹ سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ بالوں اور سر کی جلد کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>اگر مریض بالوں کو رنگنا چاہتا ہے تو نسبتاً محفوظ متبادل بھی موجود ہیں۔ ان میں خالص مہندی یا دیگر قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ رنگ شامل ہیں، بشرطیکہ ان میں مصنوعی کیمیکلز شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ امونیا اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سے پاک سیمی پرمننٹ رنگ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ عارضی روٹ پاؤڈر یا کلر مسکارا بھی ایک ایسا آپشن ہے جو ایک بار شیمپو کرنے سے صاف ہو جاتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی رنگ کے استعمال سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے تاکہ الرجی یا جلن کی صورت میں بروقت معلوم ہو سکے۔ جہاں ممکن ہو، رنگ کو براہ راست سر کی جلد پر لگانے کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن میں رنگ جلد سے کم سے کم رابطے میں آئے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق کینسر کے علاج کے بعد بالوں کی دیکھ بھال دوبارہ شروع کرنا مریض کے لیے ایک خوش آئند مرحلہ ہوتا ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ جلد بازی سے گریز کیا جائے، محفوظ متبادل اختیار کیے جائیں اور کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کیا جائے تاکہ صحت یابی کا عمل متاثر نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511683</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 13:35:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/05120007c1fe8df.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/05120007c1fe8df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برسات میں آنکھوں کا فلو کیوں پھیلتا ہے؟ علامات اور بچاؤ کے آسان طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511668/why-does-eye-flu-spread-during-the-monsoon-symptoms-and-easy-ways-to-prevent-it</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برسات کے موسم  میں کئی بیماریاں بھی تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں۔ اس موسم میں نزلہ، زکام اور بخار کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی ایک خاص بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے، جسے عام زبان میں آئی فلو یا پنک آئی اور طبی زبان میں کنجیکٹیوائٹس کہتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسات میں ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے جراثیم اور وائرس زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس کے باعث آنکھوں کے فلو کے کیسز میں اچانک اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گندے ہاتھوں سے بار بار آنکھوں کو چھونا، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور متاثرہ شخص کے قریبی رابطے میں رہنا بھی اس انفیکشن کو ایک سے دوسرے شخص تک منتقل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین امراض چشم کے مطابق اگر اس بیماری کی علامات کو نظر انداز کیا جائے تو بعض صورتوں میں مسئلہ سنگین بھی ہو سکتا ہے، اس لیے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511169/quick-and-easy-home-remedies-to-relieve-itchy-feet-caused-by-rainwater'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بیماری آنکھ کے اندرونی سفید حصے اور پلکوں کے نیچے موجود باریک اور شفاف جھلی میں سوزش یا انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب یہ انفیکشن ہوتا ہے تو آنکھیں لال یا گلابی ہو جاتی ہیں اور ان میں جلن، خارش اور مسلسل پانی بہنے کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلودہ ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونا، گندگی، زیادہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور کسی متاثرہ شخص کے قریب جانا اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت آنکھوں کا سرخ یا گلابی ہو جانا ہے۔ سوزش کی وجہ سے آنکھ کا سفید حصہ سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آنکھوں سے مسلسل پانی بہنا، آنکھ میں خارش ہونا اور ایسا محسوس ہونا جیسے آنکھ میں ریت یا مٹی کا ذرہ چلا گیا ہو۔ کچھ لوگوں کی آنکھوں سے گاڑھا یا زرد رنگ کا پانی بھی نکلتا ہے جس کی وجہ سے صبح سو کر اٹھنے پر پلکیں آپس میں چپک جاتی ہیں اور پلکوں میں سوجن بھی آ سکتی ہے۔ یہ کیفیت مسلسل بے آرامی پیدا کرتی ہے اور روزمرہ کے کام متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا جانا یا دھندلا نظر آنا بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔ اگر دھندلا پن زیادہ ہو جائے یا آنکھ میں شدید درد شروع ہو جائے تو فوری طور پر ماہر چشم سے معائنہ کرانا چاہیے۔ اس دوران موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینوں کا استعمال بھی کم رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احتیاطی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیماری سے بچنے اور اسے دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہیلتھ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ لوگ کنجیکٹیوائٹس ہونے کے بعد بھی کچھ لاپروائی کرتے ہیں، جس سے یہ مسئلہ کئی دنوں تک بنا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انفیکشن کی صورت میں اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو بالکل نہ چھوئیں۔ کسی دوسرے شخص کا تولیا یا رومال استعمال کرنے سے گریز کریں اور اگر اپ کنٹیکٹ لینز پہنتے ہیں تو تکلیف دور ہونے تک ان کا استعمال روک دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آنکھوں میں درد، جلن یا دھندلاپن زیادہ محسوس ہو تو خود سے علاج کرنے کے بجائے فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ جب تک تکلیف برقرار رہے  ٹی وی اور موبائل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے تاکہ آنکھوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا، متاثرہ افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے بچنا اور درد، جلن، خارش یا سرخی ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اس بیماری سے بچاؤ کے مؤثر طریقوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ&lt;/strong&gt;: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو آنکھوں میں شدید تکلیف، نظر دھندلی ہونے یا علامات میں مسلسل اضافہ محسوس ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر یا ماہر چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برسات کے موسم  میں کئی بیماریاں بھی تیزی سے پھیلنے لگتی ہیں۔ اس موسم میں نزلہ، زکام اور بخار کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی ایک خاص بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے، جسے عام زبان میں آئی فلو یا پنک آئی اور طبی زبان میں کنجیکٹیوائٹس کہتے ہیں۔</strong></p>
<p>برسات میں ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے جراثیم اور وائرس زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس کے باعث آنکھوں کے فلو کے کیسز میں اچانک اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گندے ہاتھوں سے بار بار آنکھوں کو چھونا، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور متاثرہ شخص کے قریبی رابطے میں رہنا بھی اس انفیکشن کو ایک سے دوسرے شخص تک منتقل کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین امراض چشم کے مطابق اگر اس بیماری کی علامات کو نظر انداز کیا جائے تو بعض صورتوں میں مسئلہ سنگین بھی ہو سکتا ہے، اس لیے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511169/quick-and-easy-home-remedies-to-relieve-itchy-feet-caused-by-rainwater'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511169"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ بیماری آنکھ کے اندرونی سفید حصے اور پلکوں کے نیچے موجود باریک اور شفاف جھلی میں سوزش یا انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب یہ انفیکشن ہوتا ہے تو آنکھیں لال یا گلابی ہو جاتی ہیں اور ان میں جلن، خارش اور مسلسل پانی بہنے کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔</p>
<p>آلودہ ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونا، گندگی، زیادہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا اور کسی متاثرہ شخص کے قریب جانا اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>اس بیماری کی سب سے نمایاں علامت آنکھوں کا سرخ یا گلابی ہو جانا ہے۔ سوزش کی وجہ سے آنکھ کا سفید حصہ سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آنکھوں سے مسلسل پانی بہنا، آنکھ میں خارش ہونا اور ایسا محسوس ہونا جیسے آنکھ میں ریت یا مٹی کا ذرہ چلا گیا ہو۔ کچھ لوگوں کی آنکھوں سے گاڑھا یا زرد رنگ کا پانی بھی نکلتا ہے جس کی وجہ سے صبح سو کر اٹھنے پر پلکیں آپس میں چپک جاتی ہیں اور پلکوں میں سوجن بھی آ سکتی ہے۔ یہ کیفیت مسلسل بے آرامی پیدا کرتی ہے اور روزمرہ کے کام متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا جانا یا دھندلا نظر آنا بھی اس کی علامات میں شامل ہے۔ اگر دھندلا پن زیادہ ہو جائے یا آنکھ میں شدید درد شروع ہو جائے تو فوری طور پر ماہر چشم سے معائنہ کرانا چاہیے۔ اس دوران موبائل فون، ٹی وی اور دیگر اسکرینوں کا استعمال بھی کم رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>احتیاطی تدابیر</strong></p>
<p>اس بیماری سے بچنے اور اسے دوسروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہیلتھ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ لوگ کنجیکٹیوائٹس ہونے کے بعد بھی کچھ لاپروائی کرتے ہیں، جس سے یہ مسئلہ کئی دنوں تک بنا رہتا ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انفیکشن کی صورت میں اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو بالکل نہ چھوئیں۔ کسی دوسرے شخص کا تولیا یا رومال استعمال کرنے سے گریز کریں اور اگر اپ کنٹیکٹ لینز پہنتے ہیں تو تکلیف دور ہونے تک ان کا استعمال روک دیں۔</p>
<p>اگر آنکھوں میں درد، جلن یا دھندلاپن زیادہ محسوس ہو تو خود سے علاج کرنے کے بجائے فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ جب تک تکلیف برقرار رہے  ٹی وی اور موبائل کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے تاکہ آنکھوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا، متاثرہ افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے بچنا اور درد، جلن، خارش یا سرخی ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اس بیماری سے بچاؤ کے مؤثر طریقوں میں شامل ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ</strong>: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو آنکھوں میں شدید تکلیف، نظر دھندلی ہونے یا علامات میں مسلسل اضافہ محسوس ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر یا ماہر چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511668</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 09:35:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/05092858966335f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/05092858966335f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے موٹاپے کے علاج کے لیے نئی دوا کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511566/saudi-arabia-healthcare-obesity-weight-loss-foundayo-orforglipron-glp-1-heavy-weight-mapa</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا ”فاونڈائیو“ (اورفورگلیپرون) کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موٹاپے کے شکار افراد کے لیے علاج کے مزید مؤثر آپشنز فراہم کرنا اور صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے تحت ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے اہداف کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/lifestyle/health/new-weight-loss-pill-approved-in-saudi-arabia-health-regulator-issues-guidelines?_refresh=true"&gt;خلیج ٹائمز کے مطابق&lt;/a&gt; اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دوا موٹاپے کا شکار بالغ افراد اور ایسے لوگوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جو زیادہ وزن کے ساتھ وزن سے متعلق کم از کم ایک بیماری میں مبتلا ہوں۔ دوا کا مقصد اضافی وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک وزن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس دوا کی تجویز کردہ خوراک میں روزانہ صرف ایک گولی کھائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”فاونڈایو“ (Foundayo) جسم میں موجود گلوکاکون جیسے پیپٹائڈ (جی ایل پی - 1) رسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے، جو بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس کے نتیجے میں بھوک کم محسوس ہوتی ہے، خوراک کی مقدار گھٹتی ہے اور متوازن غذا و باقاعدہ ورزش کے ساتھ وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511417/pakistan-uae-visa-policy-qatar-dubai-oman-travel-agents-uae-visit-visa-pakistani-travellers-dubai-travel-pakistanies'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں موٹاپے کی شرح 20.2 فیصد جبکہ زیادہ وزن کی شرح 38.2 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں موٹاپے کی شرح 21.4 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 19.2 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوا کی منظوری کلینیکل مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی گئی۔ ان مطالعات سے ظاہر ہوا کہ یہ دوا ہدف بنائے گئے مریضوں میں وزن کم کرنے کی مؤثر صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جائزے میں تیسرے مرحلے کی دو بنیادی کلینیکل اسٹڈیز شامل تھیں، جو 72 ہفتوں تک جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی تحقیق میں موٹاپے کا شکار 3,127 ایسے بالغ افراد شامل تھے جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے۔ نتائج کے مطابق 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے جسمانی وزن میں اوسطاً 11.2 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پلاسیبوافیکٹ لینے والے گروپ میں یہ کمی صرف 2.1 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 1,613 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے شرکاء کے جسمانی وزن میں اوسطاً 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاسیبو گروپ میں وزن میں اوسط کمی 2.5 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489565'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں بھی اپریل 2026 میں امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے ”فاونڈائیو“ کی منظوری دی تھی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں اور اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق دوا شروع کرنے سے پہلے مریض کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے، جس میں وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، خون میں شوگر کی مقدار، چکنائی کی سطح، جگر، گردوں اور تھائیرائیڈ کے افعال کا جائزہ اور مریض کی ذاتی و خاندانی طبی تاریخ شامل ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کی حالت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے بتایا کہ دوا کے عام مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، قے، بدہضمی، پیٹ میں درد، اپھارہ، تھکاوٹ اور بعض افراد میں بال گرنے کی شکایت شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا ایسے افراد کے لیے موزوں نہیں جنہیں خود یا ان کے خاندان میں کسی فرد کو تھائیرائیڈ کینسر کی بعض اقسام یا ان سے متعلق موروثی بیماریاں رہی ہوں۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ دوا کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے اور علاج کے دوران مریض کا باقاعدہ طبی معائنہ جاری رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب کی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا ”فاونڈائیو“ (اورفورگلیپرون) کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موٹاپے کے شکار افراد کے لیے علاج کے مزید مؤثر آپشنز فراہم کرنا اور صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے تحت ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے اہداف کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/lifestyle/health/new-weight-loss-pill-approved-in-saudi-arabia-health-regulator-issues-guidelines?_refresh=true">خلیج ٹائمز کے مطابق</a> اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دوا موٹاپے کا شکار بالغ افراد اور ایسے لوگوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جو زیادہ وزن کے ساتھ وزن سے متعلق کم از کم ایک بیماری میں مبتلا ہوں۔ دوا کا مقصد اضافی وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک وزن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس دوا کی تجویز کردہ خوراک میں روزانہ صرف ایک گولی کھائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>”فاونڈایو“ (Foundayo) جسم میں موجود گلوکاکون جیسے پیپٹائڈ (جی ایل پی - 1) رسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے، جو بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس کے نتیجے میں بھوک کم محسوس ہوتی ہے، خوراک کی مقدار گھٹتی ہے اور متوازن غذا و باقاعدہ ورزش کے ساتھ وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511417/pakistan-uae-visa-policy-qatar-dubai-oman-travel-agents-uae-visit-visa-pakistani-travellers-dubai-travel-pakistanies'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سعودی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں موٹاپے کی شرح 20.2 فیصد جبکہ زیادہ وزن کی شرح 38.2 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں موٹاپے کی شرح 21.4 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 19.2 فیصد ہے۔</p>
<p>سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوا کی منظوری کلینیکل مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی گئی۔ ان مطالعات سے ظاہر ہوا کہ یہ دوا ہدف بنائے گئے مریضوں میں وزن کم کرنے کی مؤثر صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جائزے میں تیسرے مرحلے کی دو بنیادی کلینیکل اسٹڈیز شامل تھیں، جو 72 ہفتوں تک جاری رہیں۔</p>
<p>پہلی تحقیق میں موٹاپے کا شکار 3,127 ایسے بالغ افراد شامل تھے جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے۔ نتائج کے مطابق 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے جسمانی وزن میں اوسطاً 11.2 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پلاسیبوافیکٹ لینے والے گروپ میں یہ کمی صرف 2.1 فیصد رہی۔</p>
<p>دوسری تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 1,613 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے شرکاء کے جسمانی وزن میں اوسطاً 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاسیبو گروپ میں وزن میں اوسط کمی 2.5 فیصد رہی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489565'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں بھی اپریل 2026 میں امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے ”فاونڈائیو“ کی منظوری دی تھی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں اور اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق دوا شروع کرنے سے پہلے مریض کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے، جس میں وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، خون میں شوگر کی مقدار، چکنائی کی سطح، جگر، گردوں اور تھائیرائیڈ کے افعال کا جائزہ اور مریض کی ذاتی و خاندانی طبی تاریخ شامل ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کی حالت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے بتایا کہ دوا کے عام مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، قے، بدہضمی، پیٹ میں درد، اپھارہ، تھکاوٹ اور بعض افراد میں بال گرنے کی شکایت شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا ایسے افراد کے لیے موزوں نہیں جنہیں خود یا ان کے خاندان میں کسی فرد کو تھائیرائیڈ کینسر کی بعض اقسام یا ان سے متعلق موروثی بیماریاں رہی ہوں۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ دوا کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے اور علاج کے دوران مریض کا باقاعدہ طبی معائنہ جاری رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511566</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 14:38:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/041635431d5b0ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/041635431d5b0ff.webp"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔ اے آئی جنریٹڈ</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پھیپھڑوں کو تندرست رکھنے کے لیے روزانہ کتنے منٹ کی چہل قدمی ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511256/how-many-minutes-should-you-walk-daily-to-keep-your-lungs-healthy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھیپھڑے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں، کیونکہ یہی ہر سانس کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان کی صحت متاثر ہو جائے یا  ان میں کوئی خرابی ہوجائے تو روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مشکل ہو سکتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق آج کی ہنگامہ خیز زندگی میں فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہی عوامل وقت کے ساتھ سانس کی مختلف بیماریوں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنا چاہتا ہے تو اسے روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے پیدل چلنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ورزش کا عادی نہیں ہے تو وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کر سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30409244'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ روزانہ تیز چلنے سے پھیپھڑوں کی آکسیجن جذب کرنے کی طاقت بڑھتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے والے افراد میں سانس پھولنے کی شکایت نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے جبکہ جسمانی قوت برداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف پیدل چلنا ہی کافی نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، تازہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، روزانہ سانس کی مشقیں اور یوگا کرنا، معیاری نیند لینا اور وزن کو قابو میں رکھنا بھی پھیپھڑوں کی بہتر صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لمبی سانسیں لینے کی مشقیں کرنا بھی پھیپھڑوں کی صفائی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار سانس کا انفیکشن یا کھانسی کے ساتھ خون آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص کئی سنگین بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ&lt;/strong&gt;: صحت سے متعلق یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو پہلے سے سانس، دل یا کسی اور بیماری کا سامنا ہے تو ورزش یا معمولات میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پھیپھڑے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں، کیونکہ یہی ہر سانس کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان کی صحت متاثر ہو جائے یا  ان میں کوئی خرابی ہوجائے تو روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مشکل ہو سکتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق آج کی ہنگامہ خیز زندگی میں فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہی عوامل وقت کے ساتھ سانس کی مختلف بیماریوں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنا چاہتا ہے تو اسے روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے پیدل چلنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ورزش کا عادی نہیں ہے تو وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کر سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30409244'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ روزانہ تیز چلنے سے پھیپھڑوں کی آکسیجن جذب کرنے کی طاقت بڑھتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے والے افراد میں سانس پھولنے کی شکایت نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے جبکہ جسمانی قوت برداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف پیدل چلنا ہی کافی نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، تازہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، روزانہ سانس کی مشقیں اور یوگا کرنا، معیاری نیند لینا اور وزن کو قابو میں رکھنا بھی پھیپھڑوں کی بہتر صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لمبی سانسیں لینے کی مشقیں کرنا بھی پھیپھڑوں کی صفائی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار سانس کا انفیکشن یا کھانسی کے ساتھ خون آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص کئی سنگین بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ</strong>: صحت سے متعلق یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو پہلے سے سانس، دل یا کسی اور بیماری کا سامنا ہے تو ورزش یا معمولات میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511256</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Aug 2026 10:41:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/02103905ec67f4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/02103905ec67f4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بارش کے پانی سے پاؤں کی خارش دور کرنے کے فوری اور آسان گھریلو طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511169/quick-and-easy-home-remedies-to-relieve-itchy-feet-caused-by-rainwater</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مون سون کے موسم میں بارش کا پانی جلد کی کئی بیماریوں اور پریشانیوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس موسم میں سب سے عام اور تکلیف دہ مسئلہ بارش کے گندے پانی، نمی اور زیادہ دیر تک گیلے جوتے یا موزے پہننے کی وجہ سے پیروں میں اچانک خارش، سرخ دانے اور جلن کا ہونا ہے۔ اگر ان علامات کو شروع ہی میں نظر انداز کر دیا جائے تو معمولی خارش بھی شدید انفیکشن کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بھی بارش کے دنوں میں پیروں کی جلن اور خارش سے پریشان ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے گھر میں موجود چند عام اور قدرتی اشیا کی مدد سے اس مسئلے سے فوری نجات حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناریل کا تیل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناریل کا تیل جلد کی بیماریوں کے لیے ایک بہترین قدرتی تحفہ ہے۔ اگر بارش کے پانی سے پیروں میں خارش ہو رہی ہو تو سب سے پہلے پاؤں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھوکر نرم تولیے سے مکمل خشک کریں۔ اس کے بعد ناریل کا تیل لگانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ناریل کے تیل میں قدرتی اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو جلد کو نرم رکھنے کے ساتھ جراثیم کی افزائش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور جلد کی جلن کو فوری طور پر ختم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلو ویرا جیل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر خارش کے ساتھ پاؤں میں جلن محسوس ہو رہی ہو تو ایلو ویرا جیل کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ تازہ ایلو ویرا کا گودا نکال کر متاثرہ جگہ پر لگانے سے جلد کو ٹھنڈک ملتی ہے اور خارش میں فوری آرام آتا ہے۔ ایلو ویرا ہماری جلد کو نرم رکھتا ہے اور انفیکشن کو بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیم کا پیسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلد کے مسائل اور جراثیم کو ختم کرنے کے لیے نیم کا استعمال سالہا سال سے کیا جا رہا ہے۔ نیم کے تازہ پتوں کو تھوڑے سے پانی کے ساتھ پیس کر ایک گاڑھا لیپ یا پیسٹ بنا لیں۔ اس پیسٹ کو پاؤں پر خارش والی جگہ پر لگانے سے معمولی خارش اور الرجی میں بھی آرام مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;کولڈ کمپریس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پیروں میں بہت شدید خارش یا سوجن ہو رہی ہو تو ٹھنڈی سیک یعنی کولڈ کمپریس کا طریقہ اپنائیں۔ اس کے لیے ایک صاف کپڑے میں برف کا ٹکڑا لپیٹ کر تقریباً 10  منٹ تک متاثرہ حصے پر رکھا جائے۔ یاد رہے کہ برف کو کبھی بھی براہ راست اپنی جلد پر نہ رگڑیں بلکہ کپڑے میں لپیٹ کر ہی استعمال کریں۔ اس سے خارش اور سوجن میں فوری کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے پاس قدرتی جڑی بوٹیاں موجود نہ ہوں تو آپ بازار میں دستیاب معیاری موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ لوشن لگانے سے جلد کی خشک سالی ختم ہوتی ہے اور پاؤں کی جلن اور خارش میں آرام ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دیگراحتیاطی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش میں بھیگنے کے بعد جوتے اور موزے فوراً تبدیل کریں، روزانہ صاف اور خشک موزے پہنیں، گیلے جوتے دوبارہ استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو سانس لینے کے قابل جوتوں کا انتخاب کریں۔ اگر پاؤں میں زیادہ پسینہ آتا ہو تو اینٹی فنگل پاؤڈر بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارش کئی دن تک برقرار رہے، پیروں میں شدید سوجن، پیپ، زخم، تیز درد یا بخار جیسی علامات ظاہر ہوں، یا متاثرہ حصہ تیزی سے پھیلنے لگے تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر جلد کے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بعض صورتوں میں اینٹی فنگل یا دیگر ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں یہ گھریلو طریقے صرف ابتدائی اور ہلکی نوعیت کی تکلیف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں بروقت طبی معائنہ ہی محفوظ اور مؤثر حل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مون سون کے موسم میں بارش کا پانی جلد کی کئی بیماریوں اور پریشانیوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس موسم میں سب سے عام اور تکلیف دہ مسئلہ بارش کے گندے پانی، نمی اور زیادہ دیر تک گیلے جوتے یا موزے پہننے کی وجہ سے پیروں میں اچانک خارش، سرخ دانے اور جلن کا ہونا ہے۔ اگر ان علامات کو شروع ہی میں نظر انداز کر دیا جائے تو معمولی خارش بھی شدید انفیکشن کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>اگر آپ بھی بارش کے دنوں میں پیروں کی جلن اور خارش سے پریشان ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے گھر میں موجود چند عام اور قدرتی اشیا کی مدد سے اس مسئلے سے فوری نجات حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ناریل کا تیل</strong></p>
<p>ناریل کا تیل جلد کی بیماریوں کے لیے ایک بہترین قدرتی تحفہ ہے۔ اگر بارش کے پانی سے پیروں میں خارش ہو رہی ہو تو سب سے پہلے پاؤں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھوکر نرم تولیے سے مکمل خشک کریں۔ اس کے بعد ناریل کا تیل لگانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ناریل کے تیل میں قدرتی اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو جلد کو نرم رکھنے کے ساتھ جراثیم کی افزائش کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور جلد کی جلن کو فوری طور پر ختم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>ایلو ویرا جیل</strong></p>
<p>اگر خارش کے ساتھ پاؤں میں جلن محسوس ہو رہی ہو تو ایلو ویرا جیل کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ تازہ ایلو ویرا کا گودا نکال کر متاثرہ جگہ پر لگانے سے جلد کو ٹھنڈک ملتی ہے اور خارش میں فوری آرام آتا ہے۔ ایلو ویرا ہماری جلد کو نرم رکھتا ہے اور انفیکشن کو بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>
<p><strong>نیم کا پیسٹ</strong></p>
<p>جلد کے مسائل اور جراثیم کو ختم کرنے کے لیے نیم کا استعمال سالہا سال سے کیا جا رہا ہے۔ نیم کے تازہ پتوں کو تھوڑے سے پانی کے ساتھ پیس کر ایک گاڑھا لیپ یا پیسٹ بنا لیں۔ اس پیسٹ کو پاؤں پر خارش والی جگہ پر لگانے سے معمولی خارش اور الرجی میں بھی آرام مل سکتا ہے۔</p>
<p><br><strong>کولڈ کمپریس</strong></p>
<p>اگر پیروں میں بہت شدید خارش یا سوجن ہو رہی ہو تو ٹھنڈی سیک یعنی کولڈ کمپریس کا طریقہ اپنائیں۔ اس کے لیے ایک صاف کپڑے میں برف کا ٹکڑا لپیٹ کر تقریباً 10  منٹ تک متاثرہ حصے پر رکھا جائے۔ یاد رہے کہ برف کو کبھی بھی براہ راست اپنی جلد پر نہ رگڑیں بلکہ کپڑے میں لپیٹ کر ہی استعمال کریں۔ اس سے خارش اور سوجن میں فوری کمی آتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن</strong></p>
<p>اگر آپ کے پاس قدرتی جڑی بوٹیاں موجود نہ ہوں تو آپ بازار میں دستیاب معیاری موئسچرائزنگ یا اینٹی سیپٹک لوشن کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ لوشن لگانے سے جلد کی خشک سالی ختم ہوتی ہے اور پاؤں کی جلن اور خارش میں آرام ملتا ہے۔</p>
<p><strong>دیگراحتیاطی تدابیر</strong></p>
<p>بارش میں بھیگنے کے بعد جوتے اور موزے فوراً تبدیل کریں، روزانہ صاف اور خشک موزے پہنیں، گیلے جوتے دوبارہ استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو سانس لینے کے قابل جوتوں کا انتخاب کریں۔ اگر پاؤں میں زیادہ پسینہ آتا ہو تو اینٹی فنگل پاؤڈر بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارش کئی دن تک برقرار رہے، پیروں میں شدید سوجن، پیپ، زخم، تیز درد یا بخار جیسی علامات ظاہر ہوں، یا متاثرہ حصہ تیزی سے پھیلنے لگے تو گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر جلد کے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بعض صورتوں میں اینٹی فنگل یا دیگر ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>یاد رکھیں یہ گھریلو طریقے صرف ابتدائی اور ہلکی نوعیت کی تکلیف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں بروقت طبی معائنہ ہی محفوظ اور مؤثر حل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511169</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 15:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/011506450957573.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/011506450957573.webp"/>
        <media:title>تصویر/ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویارک میں نایاب اور خطرناک وائرس کا پھیلاؤ، نہ کوئی علاج، نہ کوئی ویکسین</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511118/rare-and-dangerous-virus-spreads-in-new-york-no-treatment-no-vaccine-available</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی ریاست نیویارک میں پہلی بار ٹِکس  کے کاٹنے سے پھیلنے والے نایاب اور ممکنہ طور پر جان لیوا بوربن وائرس کے ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف نہ کوئی ویکسین موجود ہے، نہ اس کی تشخیص کے لیے عام ٹیسٹ دستیاب ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص علاج ہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/07/30/health/first-case-of-potentially-fatal-bourbon-virus-confirmed-in-new-york/"&gt;نیویارک پوسٹ&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق 67 سالہ مائیکل لارکن نیویارک کے سفوک کاؤنٹی میں کھلے ماحول میں کام کر رہے تھے، جہاں انہیں دو ”لون اسٹار ٹِکس“ نے کاٹا۔ بعد ازاں وہ بوربن وائرس سے متاثر ہو گئے۔ چونکہ اس بیماری کی علامات لائم بیماری سمیت دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں سے بہت ملتی جلتی ہیں، اس لیے ابتدا میں ڈاکٹروں نے انہیں لائم بیماری سمجھ کر اینٹی بایوٹک دوا دی، لیکن اس کا بوربن وائرس پر کوئی اثر نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلط تشخیص کے باعث وائرس جسم میں پھیلتا گیا اور مائیکل لارکن کو جسم پر سرخ دھبے، تیز بخار، رات کے وقت شدید پسینہ آنے اور ناقابل برداشت سر درد جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پانچ روز تک اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506026/why-do-asthma-patients-fear-inhalers'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506026"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق امریکا میں اب تک کنساس، اوکلاہوما، میسوری اور اب نیویارک سمیت چند ہی ریاستوں میں اس وائرس کے انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اوسطاً سال میں ایک سے بھی کم مریض سامنے آتا ہے، جبکہ اب تک تصدیق شدہ مریضوں میں سے دو افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل لارکن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لوئس مارکوس نے کہا ہے کہ اب ہم جان چکے ہیں کہ یہ وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ کم از کم لانگ آئی لینڈ میں لون اسٹار ٹِکس کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور سچ کہوں توتو یہ شاید اس بڑے خطرے کا صرف ایک چھوٹا سا اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”ہمارے خیال میں ہمارے علاقے میں بوربن وائرس کے کیسز ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشخیص نہیں ہو رہی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر لوئس مارکوس کے مطابق، ”اگر ہم کسی انفیکشن کی اصل وجہ ہی معلوم نہ کر سکیں تو درست تشخیصی ٹیسٹ یا مؤثر علاج تیار کرنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں اس وائرس کے حقیقی اثرات کو پہلے اچھی طرح سمجھا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوربن وائرس پہلی بار 2014 میں امریکی ریاست کنساس کے بوربن کاؤنٹی میں سامنے آیا تھا، جہاں متعدد ٹِکس کے کاٹنے کے بعد ایک شخص پراسرار بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گیا تھا۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ اسی وائرس کا شکار تھا۔ اسی علاقے کے نام پر اس وائرس کو ”بوربن وائرس“ کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وائرس ”تھوگوٹو وائرسز“نامی گروپ سے تعلق رکھتا ہے، جو انفلوئنزا وائرس سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ لون اسٹار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ٹِکس کی پہچان ان کی پشت پر موجود سفید دھبہ ہے، اسی وجہ سے انہیں ”لون اسٹار ٹِک“ کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً جنگلات، اونچی گھاس اور جھاڑیوں والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ ٹِکس زیادہ تر سفید دم والے ہرنوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں پھیلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں ہرنوں کی آبادی بڑھنے اور موسم گرم رہنے کی وجہ سے یہ کیڑے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس سے اس وائرس کا خطرہ بڑھ گیا ہے  جبکہ قدرتی شکاریوں کی کمی، نسبتاً گرم موسم اور ہلکی سردیوں کی وجہ سے ٹِکس کی تعداد اور ان کا پھیلاؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505916/how-can-you-protect-yourself-from-future-deadly-viruses-experts-share-essential-prevention-tips'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس وائرس کے مزید کیسز بھی ماضی میں سامنے آئے ہوں، لیکن چونکہ اس کی علامات دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں، خصوصاً لائم بیماری، سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، اس لیے بہت سے مریضوں کو دوسری بیماری سمجھ لیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات عام طور پر متاثرہ ٹِک کے کاٹنے کے چند دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں تیز بخار، شدید تھکن، کمزوری، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، بھوک نہ لگنا، متلی، قے اور بعض اوقات جسم پر سرخ دھبے یا خارش شامل ہیں۔ شدید حالت میں مریض کے جسم میں سفید خون کے خلیوں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو سکتی ہے، جگر متاثر ہو سکتا ہے، سانس لینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے اور مریض کو اسپتال میں داخل کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیماری کی تشخیص بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کے لیے عام لیبارٹریوں میں کوئی ٹیسٹ موجود نہیں۔ اس کی جانچ صرف مخصوص سرکاری یا جدید طبی لیبارٹریوں میں کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر ابتدا میں لائم بیماری یا ٹِکس سے پھیلنے والی دیگر عام بیماریوں کا علاج شروع کر دیتے ہیں، اور جب مریض کی حالت بہتر نہیں ہوتی تو پھر بوربن وائرس کا شبہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بوربن وائرس کے خلاف نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے، نہ کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا اور نہ ہی اس کا کوئی معیاری علاج دستیاب ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کی پوری توجہ مریض کی علامات کم کرنے پر ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈرپ لگائی جاتی ہے، بخار اور درد کی ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ سانس لینے میں دشواری کی صورت میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے تاکہ جسم خود وائرس کا مقابلہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کوئی بھی شخص متاثرہ ٹِک کے کاٹنے سے اس وائرس کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن کھلے میدانوں میں کام کرنے والے افراد، کسان، باغبانی کرنے والے، جنگلات یا گھاس والے علاقوں میں جانے والے افراد، شکاری، عمر رسیدہ افراد اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے لوگوں میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس وائرس کی بروقت شناخت کے لیے بہتر نگرانی، جدید تشخیصی ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ اس بیماری سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں، اس لیے ماہرین کے نزدیک ٹِکس کے کاٹنے سے بچنا ہی سب سے مؤثر حفاظتی طریقہ ہے۔ باہر جاتے وقت پورے بازو والے کپڑے پہنیں، اونچی گھاس، جھاڑیوں اور جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں، اگر ایسے علاقوں میں جانا ضروری ہو تو راستے کے درمیان چلیں اور کپڑوں پر پرمیتھرین یا منظور شدہ کیڑوں سے بچاؤ کا اسپرے استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مزید ہدایت کی ہے کہ گھاس یا جنگلاتی علاقوں سے واپس آنے کے بعد اپنے جسم، کپڑوں اور سامان کو اچھی طرح چیک کریں، جلد نہائیں اور اگر جسم سے کوئی ٹِک چمٹا ہوا ہو تو اسے باریک چمٹی کی مدد سے احتیاط سے نکال دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ٹِک کے کاٹنے کے بعد بخار، شدید تھکن، جسم میں درد یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو بغیر کسی تاخیر کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی بیماری یا علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا متعلقہ طبی ماہر سے ضرور مشورہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی ریاست نیویارک میں پہلی بار ٹِکس  کے کاٹنے سے پھیلنے والے نایاب اور ممکنہ طور پر جان لیوا بوربن وائرس کے ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف نہ کوئی ویکسین موجود ہے، نہ اس کی تشخیص کے لیے عام ٹیسٹ دستیاب ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص علاج ہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/07/30/health/first-case-of-potentially-fatal-bourbon-virus-confirmed-in-new-york/">نیویارک پوسٹ</a> کی رپورٹ کے مطابق 67 سالہ مائیکل لارکن نیویارک کے سفوک کاؤنٹی میں کھلے ماحول میں کام کر رہے تھے، جہاں انہیں دو ”لون اسٹار ٹِکس“ نے کاٹا۔ بعد ازاں وہ بوربن وائرس سے متاثر ہو گئے۔ چونکہ اس بیماری کی علامات لائم بیماری سمیت دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں سے بہت ملتی جلتی ہیں، اس لیے ابتدا میں ڈاکٹروں نے انہیں لائم بیماری سمجھ کر اینٹی بایوٹک دوا دی، لیکن اس کا بوربن وائرس پر کوئی اثر نہ ہوا۔</p>
<p>غلط تشخیص کے باعث وائرس جسم میں پھیلتا گیا اور مائیکل لارکن کو جسم پر سرخ دھبے، تیز بخار، رات کے وقت شدید پسینہ آنے اور ناقابل برداشت سر درد جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پانچ روز تک اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506026/why-do-asthma-patients-fear-inhalers'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506026"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق امریکا میں اب تک کنساس، اوکلاہوما، میسوری اور اب نیویارک سمیت چند ہی ریاستوں میں اس وائرس کے انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اوسطاً سال میں ایک سے بھی کم مریض سامنے آتا ہے، جبکہ اب تک تصدیق شدہ مریضوں میں سے دو افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔</p>
<p>مائیکل لارکن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لوئس مارکوس نے کہا ہے کہ اب ہم جان چکے ہیں کہ یہ وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ کم از کم لانگ آئی لینڈ میں لون اسٹار ٹِکس کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور سچ کہوں توتو یہ شاید اس بڑے خطرے کا صرف ایک چھوٹا سا اشارہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”ہمارے خیال میں ہمارے علاقے میں بوربن وائرس کے کیسز ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشخیص نہیں ہو رہی۔“</p>
<p>ڈاکٹر لوئس مارکوس کے مطابق، ”اگر ہم کسی انفیکشن کی اصل وجہ ہی معلوم نہ کر سکیں تو درست تشخیصی ٹیسٹ یا مؤثر علاج تیار کرنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں اس وائرس کے حقیقی اثرات کو پہلے اچھی طرح سمجھا جائے۔“</p>
<p>بوربن وائرس پہلی بار 2014 میں امریکی ریاست کنساس کے بوربن کاؤنٹی میں سامنے آیا تھا، جہاں متعدد ٹِکس کے کاٹنے کے بعد ایک شخص پراسرار بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گیا تھا۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ اسی وائرس کا شکار تھا۔ اسی علاقے کے نام پر اس وائرس کو ”بوربن وائرس“ کہا گیا۔</p>
<p>یہ وائرس ”تھوگوٹو وائرسز“نامی گروپ سے تعلق رکھتا ہے، جو انفلوئنزا وائرس سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ لون اسٹار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔</p>
<p>ان ٹِکس کی پہچان ان کی پشت پر موجود سفید دھبہ ہے، اسی وجہ سے انہیں ”لون اسٹار ٹِک“ کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً جنگلات، اونچی گھاس اور جھاڑیوں والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ ٹِکس زیادہ تر سفید دم والے ہرنوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں پھیلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں ہرنوں کی آبادی بڑھنے اور موسم گرم رہنے کی وجہ سے یہ کیڑے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس سے اس وائرس کا خطرہ بڑھ گیا ہے  جبکہ قدرتی شکاریوں کی کمی، نسبتاً گرم موسم اور ہلکی سردیوں کی وجہ سے ٹِکس کی تعداد اور ان کا پھیلاؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505916/how-can-you-protect-yourself-from-future-deadly-viruses-experts-share-essential-prevention-tips'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس وائرس کے مزید کیسز بھی ماضی میں سامنے آئے ہوں، لیکن چونکہ اس کی علامات دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں، خصوصاً لائم بیماری، سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، اس لیے بہت سے مریضوں کو دوسری بیماری سمجھ لیا گیا ہو۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات عام طور پر متاثرہ ٹِک کے کاٹنے کے چند دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں تیز بخار، شدید تھکن، کمزوری، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، بھوک نہ لگنا، متلی، قے اور بعض اوقات جسم پر سرخ دھبے یا خارش شامل ہیں۔ شدید حالت میں مریض کے جسم میں سفید خون کے خلیوں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو سکتی ہے، جگر متاثر ہو سکتا ہے، سانس لینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے اور مریض کو اسپتال میں داخل کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اس بیماری کی تشخیص بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کے لیے عام لیبارٹریوں میں کوئی ٹیسٹ موجود نہیں۔ اس کی جانچ صرف مخصوص سرکاری یا جدید طبی لیبارٹریوں میں کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر ابتدا میں لائم بیماری یا ٹِکس سے پھیلنے والی دیگر عام بیماریوں کا علاج شروع کر دیتے ہیں، اور جب مریض کی حالت بہتر نہیں ہوتی تو پھر بوربن وائرس کا شبہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بوربن وائرس کے خلاف نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے، نہ کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا اور نہ ہی اس کا کوئی معیاری علاج دستیاب ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کی پوری توجہ مریض کی علامات کم کرنے پر ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈرپ لگائی جاتی ہے، بخار اور درد کی ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ سانس لینے میں دشواری کی صورت میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے تاکہ جسم خود وائرس کا مقابلہ کر سکے۔</p>
<p>اگرچہ کوئی بھی شخص متاثرہ ٹِک کے کاٹنے سے اس وائرس کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن کھلے میدانوں میں کام کرنے والے افراد، کسان، باغبانی کرنے والے، جنگلات یا گھاس والے علاقوں میں جانے والے افراد، شکاری، عمر رسیدہ افراد اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے لوگوں میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس وائرس کی بروقت شناخت کے لیے بہتر نگرانی، جدید تشخیصی ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>چونکہ اس بیماری سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں، اس لیے ماہرین کے نزدیک ٹِکس کے کاٹنے سے بچنا ہی سب سے مؤثر حفاظتی طریقہ ہے۔ باہر جاتے وقت پورے بازو والے کپڑے پہنیں، اونچی گھاس، جھاڑیوں اور جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں، اگر ایسے علاقوں میں جانا ضروری ہو تو راستے کے درمیان چلیں اور کپڑوں پر پرمیتھرین یا منظور شدہ کیڑوں سے بچاؤ کا اسپرے استعمال کریں۔</p>
<p>ماہرین نے مزید ہدایت کی ہے کہ گھاس یا جنگلاتی علاقوں سے واپس آنے کے بعد اپنے جسم، کپڑوں اور سامان کو اچھی طرح چیک کریں، جلد نہائیں اور اگر جسم سے کوئی ٹِک چمٹا ہوا ہو تو اسے باریک چمٹی کی مدد سے احتیاط سے نکال دیں۔</p>
<p>اگر ٹِک کے کاٹنے کے بعد بخار، شدید تھکن، جسم میں درد یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو بغیر کسی تاخیر کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p>نوٹ: یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی بیماری یا علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا متعلقہ طبی ماہر سے ضرور مشورہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511118</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 09:10:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0109061999e207d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0109061999e207d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صبح اٹھتے ہی سر درد کیوں ہوتا ہے؟ اہم وجوہات اور بچاؤ کے آسان طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510997/why-do-headaches-occur-upon-waking-up-key-causes-and-easy-prevention-tips</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر لوگ جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو ان کا سر بھاری ہوتا ہے یا شدید درد کر رہا ہوتا ہے۔ عام طور پر رات کو اچھی اور پوری نیند کے بعد انسان کو صبح کے وقت خود کو تازہ دم اور توانا محسوس کرنا چاہیے، لیکن صبح کا آغاز ہی اگر سر کے بوجھ اور تھکن سے ہو تو پورا دن خراب گزرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح آنکھ کھلتے ہی اگر سر میں درد، بوجھ یا تھکن محسوس ہو تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ روزمرہ کی کچھ عادات یا جسم میں ہونے والی بعض خرابیوں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صبح کے وقت سر درد بار بار ہو رہا ہو تو اپنی روزمرہ زندگی اور خوراک پر توجہ دینا ضروری ہے اور اگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/258700'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/258700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیند کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اچھی اور مکمل نیند نہ لینا صبح کے سر درد کی ایک عام وجہ ہے۔ اگر کسی شخص کی نیند بار بار ٹوٹتی ہو یا وہ رات  دیر تک جاگتا رہے تو دماغ کو مناسب آرام نہیں ملتا، جس کے باعث صبح اٹھتے ہی سر بھاری محسوس ہو سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسم میں پانی کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح کے وقت سر درد کی ایک بڑی وجہ جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ رات بھر کئی گھنٹوں تک بغیر پانی پئے سوئے رہنے سے جسم میں پانی کی کمی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے صبح اٹھتے ہی چکر آنے یا سر میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا اور صبح اٹھتے ہی ایک یا دو گلاس پانی پینے کی عادت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رات دیر سے کھانا یا خالی پیٹ سونا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو بہت دیر سے کھانا کھانا یا بھوکے سو جانا بھی صبح کے سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صبح جسم میں طاقت کی کمی ہو جاتی ہے جس سے سر درد، کمزوری اور چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خراٹے اور سانس کی رکاوٹ سے سر درد کا خطرہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض لوگوں کو سوتے وقت خراٹے لینے یا سانس رکنے کی بیماری ہوتی ہے اس کے باعث جسم اور دماغ کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی، جس کا اثر صبح تھکن، سستی اور سر درد کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ بار بار پیش آئے تو طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیادہ چائے اور کافی  کا استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ چائے یا کافی پینے کی عادت بھی صبح کے سر درد کا سبب بنتی ہے۔ اگر جسم روزانہ کیفین کی زیادہ مقدار کا عادی ہو جائے اور مقررہ وقت پر یہ نہ ملے تو سر درد شروع ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30339412'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذہنی دباؤ اور پریشانی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہنی دباؤ اور پریشانی بھی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ کام کا دباؤ، مسلسل فکر یا کسی معاملے پر زیادہ سوچنے سے رات کی نیند متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر اگلی صبح سر درد اور بوجھ کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کچھ اور عام وجوہات بھی صبح کے سر درد کا باعث بنتی ہیں۔ جیسے سوتے وقت بہت اونچا یا سخت تکیہ استعمال کرنا، جس سے گردن کے پٹھوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سوتے میں دانت پیسنے کی عادت ہوتی ہے جس سے جبڑے اور سر میں درد ہوتا ہے۔ صبح کے وقت بلڈ پریشر کا بڑھ جانا یا بلڈ شوگر کا کم ہو جانا بھی سر کے بوجھل ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ سونے سے پہلے موبائل اسکرین کا استعمال بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ایک یا دو گلاس سادہ پانی پیئیں، رات کا کھانا سونے سے دو تین گھنٹے پہلے کھائیں اور گردن کو آرام دینے کے لیے مناسب تکیہ استعمال کریں۔ اگر صبح سر میں درد ہو تو کھلی ہوا میں لمبی سانسیں لیں اور سر کا ہلکا مساج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر درد کئی دنوں تک مسلسل رہے، بہت تیز ہو، الٹی یا چکر آئیں یا دوا لینے کے بعد بھی آرام نہ ملے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ بیماری کی صحیح وجہ کا پتہ چل سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر لوگ جب صبح سو کر اٹھتے ہیں تو ان کا سر بھاری ہوتا ہے یا شدید درد کر رہا ہوتا ہے۔ عام طور پر رات کو اچھی اور پوری نیند کے بعد انسان کو صبح کے وقت خود کو تازہ دم اور توانا محسوس کرنا چاہیے، لیکن صبح کا آغاز ہی اگر سر کے بوجھ اور تھکن سے ہو تو پورا دن خراب گزرتا ہے۔</strong></p>
<p>صبح آنکھ کھلتے ہی اگر سر میں درد، بوجھ یا تھکن محسوس ہو تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ روزمرہ کی کچھ عادات یا جسم میں ہونے والی بعض خرابیوں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگر صبح کے وقت سر درد بار بار ہو رہا ہو تو اپنی روزمرہ زندگی اور خوراک پر توجہ دینا ضروری ہے اور اگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/258700'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/258700"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>نیند کی کمی</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق اچھی اور مکمل نیند نہ لینا صبح کے سر درد کی ایک عام وجہ ہے۔ اگر کسی شخص کی نیند بار بار ٹوٹتی ہو یا وہ رات  دیر تک جاگتا رہے تو دماغ کو مناسب آرام نہیں ملتا، جس کے باعث صبح اٹھتے ہی سر بھاری محسوس ہو سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت ہونا چاہیے۔</p>
<p><strong>جسم میں پانی کی کمی</strong></p>
<p>صبح کے وقت سر درد کی ایک بڑی وجہ جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ رات بھر کئی گھنٹوں تک بغیر پانی پئے سوئے رہنے سے جسم میں پانی کی کمی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے صبح اٹھتے ہی چکر آنے یا سر میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا اور صبح اٹھتے ہی ایک یا دو گلاس پانی پینے کی عادت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>رات دیر سے کھانا یا خالی پیٹ سونا</strong></p>
<p>رات کو بہت دیر سے کھانا کھانا یا بھوکے سو جانا بھی صبح کے سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صبح جسم میں طاقت کی کمی ہو جاتی ہے جس سے سر درد، کمزوری اور چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>خراٹے اور سانس کی رکاوٹ سے سر درد کا خطرہ</strong></p>
<p>بعض لوگوں کو سوتے وقت خراٹے لینے یا سانس رکنے کی بیماری ہوتی ہے اس کے باعث جسم اور دماغ کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی، جس کا اثر صبح تھکن، سستی اور سر درد کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ بار بار پیش آئے تو طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔</p>
<p><strong>زیادہ چائے اور کافی  کا استعمال</strong></p>
<p>زیادہ چائے یا کافی پینے کی عادت بھی صبح کے سر درد کا سبب بنتی ہے۔ اگر جسم روزانہ کیفین کی زیادہ مقدار کا عادی ہو جائے اور مقررہ وقت پر یہ نہ ملے تو سر درد شروع ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30339412'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ذہنی دباؤ اور پریشانی</strong></p>
<p>ذہنی دباؤ اور پریشانی بھی اس مسئلے کی ایک اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔ کام کا دباؤ، مسلسل فکر یا کسی معاملے پر زیادہ سوچنے سے رات کی نیند متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر اگلی صبح سر درد اور بوجھ کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کچھ اور عام وجوہات بھی صبح کے سر درد کا باعث بنتی ہیں۔ جیسے سوتے وقت بہت اونچا یا سخت تکیہ استعمال کرنا، جس سے گردن کے پٹھوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سوتے میں دانت پیسنے کی عادت ہوتی ہے جس سے جبڑے اور سر میں درد ہوتا ہے۔ صبح کے وقت بلڈ پریشر کا بڑھ جانا یا بلڈ شوگر کا کم ہو جانا بھی سر کے بوجھل ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ سونے سے پہلے موبائل اسکرین کا استعمال بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ایک یا دو گلاس سادہ پانی پیئیں، رات کا کھانا سونے سے دو تین گھنٹے پہلے کھائیں اور گردن کو آرام دینے کے لیے مناسب تکیہ استعمال کریں۔ اگر صبح سر میں درد ہو تو کھلی ہوا میں لمبی سانسیں لیں اور سر کا ہلکا مساج کریں۔</p>
<p>اگر درد کئی دنوں تک مسلسل رہے، بہت تیز ہو، الٹی یا چکر آئیں یا دوا لینے کے بعد بھی آرام نہ ملے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ بیماری کی صحیح وجہ کا پتہ چل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510997</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 10:07:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/31100740901d0e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/31100740901d0e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک دن میں کتنے انڈے کھانا خطرناک ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510901/how-many-eggs-a-day-is-considered-dangerous</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن برسوں سے اس کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی اسے کولیسٹرول بڑھانے والا قرار دیا گیا تو کبھی اسے مکمل اور صحت بخش غذا کہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آج بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا روزانہ انڈے کھانا محفوظ ہے، زردی کھانی چاہیے یا نہیں، اسے ابال کر کھانا بہتر ہے یا فرائی کر کے اور ایک دن میں کتنے انڈے کھانا مناسب ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ انڈا طاقت کا خزانہ ہے۔ یہ متعدد اہم غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور جسم کو کئی طرح کے فوائد پہنچاتا ہے۔ ایک انڈے میں تقریبا 6 سے 7 گرام تک بہترین پروٹین پایا جاتا ہے جبکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام نو امائنو ایسڈز بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انڈا وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، سیلینیم، کولین اور صحت بخش چکنائی کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔  بہت سے لوگ زردی کو پھینک دینے کی غلطی کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انڈے کی زردی میں وٹامن اے، ڈی، ای اور بی12جیسے اہم ترین وٹامنز دماغ اور آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440675'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال کہ ایک دن میں کتنے انڈے کھائے جائیں تو اس کا جواب ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم اعتدال ضروری ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تندرست بالغ انسان متوازن غذا کے ساتھ ہفتے میں تین سے چار بار روزانہ ایک انڈا کھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کی نشوونما کے لیے انہیں روزانہ ایک انڈا دیا جا سکتا ہے، جبکہ دل کے مریضوں یا جن کا کولیسٹرول زیادہ رہتا ہو، انہیں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے انڈے کی تعداد طے کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://professional.heart.org/en/science-news/dietary-cholesterol-and-cardiovascular-risk/top-things-to-know"&gt;امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن&lt;/a&gt; کی تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ ایک صحت مند انسان کے لیے روزانہ ایک انڈا کھانا بالکل محفوظ ہے۔ ایک پورا انڈا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس کی مجموعی غذا متوازن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈا پکانے کا طریقہ بھی اس کی غذائیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انڈے کو ابال کر یا ہلکا سا بھون کر کھانا سب سے بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس میں اضافی گھی یا تیل کا استعمال نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ انڈے کو سبزیوں، دلیہ یا روٹی کے ساتھ  کھانا چاہیے تاکہ جسم کو فائبر بھی مل سکے۔ اس کے علاوہ خام یا کچا انڈا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پکا ہوا انڈا ہضم کرنا آسان ہوتا ہے اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے نجات ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477941'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477941"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک انڈے کو دل کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا رہا، لیکن امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر انڈا ایک حد میں رہ کر اور متوازن غذا کے ساتھ کھایا جائے تو اس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں بڑھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ صحت کے مطابق کسی بھی غذائی شے کا حد سے زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہوتا اور انڈے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کوئی شخص صرف انڈوں پر انحصار کرے اور دیگر پروٹین والی غذاؤں کو نظر انداز کر دے تو اس کی غذا میں توازن برقرار نہیں رہتا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت زیادہ انڈے کھانے اور فائبر والی چیزیں نہ لینے سے پیٹ پھولنے اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔ انڈے سے کچھ لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے اثرات ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈا ایک انتہائی مفید اورغذائیت سے بھرپور خوراک ہے، جسے مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انڈے کس طرح پکائے جاتے ہیں، کن غذاؤں کے ساتھ کھائے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر انسان کی روزمرہ خوراک کتنی متوازن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن برسوں سے اس کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی اسے کولیسٹرول بڑھانے والا قرار دیا گیا تو کبھی اسے مکمل اور صحت بخش غذا کہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آج بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا روزانہ انڈے کھانا محفوظ ہے، زردی کھانی چاہیے یا نہیں، اسے ابال کر کھانا بہتر ہے یا فرائی کر کے اور ایک دن میں کتنے انڈے کھانا مناسب ہے؟</strong></p>
<p>ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ انڈا طاقت کا خزانہ ہے۔ یہ متعدد اہم غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور جسم کو کئی طرح کے فوائد پہنچاتا ہے۔ ایک انڈے میں تقریبا 6 سے 7 گرام تک بہترین پروٹین پایا جاتا ہے جبکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام نو امائنو ایسڈز بھی موجود ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ انڈا وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، سیلینیم، کولین اور صحت بخش چکنائی کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔  بہت سے لوگ زردی کو پھینک دینے کی غلطی کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انڈے کی زردی میں وٹامن اے، ڈی، ای اور بی12جیسے اہم ترین وٹامنز دماغ اور آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440675'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ سوال کہ ایک دن میں کتنے انڈے کھائے جائیں تو اس کا جواب ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم اعتدال ضروری ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تندرست بالغ انسان متوازن غذا کے ساتھ ہفتے میں تین سے چار بار روزانہ ایک انڈا کھا سکتا ہے۔</p>
<p>بچوں کی نشوونما کے لیے انہیں روزانہ ایک انڈا دیا جا سکتا ہے، جبکہ دل کے مریضوں یا جن کا کولیسٹرول زیادہ رہتا ہو، انہیں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے انڈے کی تعداد طے کرنی چاہیے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://professional.heart.org/en/science-news/dietary-cholesterol-and-cardiovascular-risk/top-things-to-know">امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن</a> کی تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ ایک صحت مند انسان کے لیے روزانہ ایک انڈا کھانا بالکل محفوظ ہے۔ ایک پورا انڈا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس کی مجموعی غذا متوازن ہو۔</p>
<p>انڈا پکانے کا طریقہ بھی اس کی غذائیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انڈے کو ابال کر یا ہلکا سا بھون کر کھانا سب سے بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس میں اضافی گھی یا تیل کا استعمال نہیں ہوتا۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ انڈے کو سبزیوں، دلیہ یا روٹی کے ساتھ  کھانا چاہیے تاکہ جسم کو فائبر بھی مل سکے۔ اس کے علاوہ خام یا کچا انڈا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پکا ہوا انڈا ہضم کرنا آسان ہوتا ہے اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے نجات ملتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477941'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477941"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برسوں تک انڈے کو دل کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا رہا، لیکن امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر انڈا ایک حد میں رہ کر اور متوازن غذا کے ساتھ کھایا جائے تو اس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں بڑھتا۔</p>
<p>ماہرینِ صحت کے مطابق کسی بھی غذائی شے کا حد سے زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہوتا اور انڈے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کوئی شخص صرف انڈوں پر انحصار کرے اور دیگر پروٹین والی غذاؤں کو نظر انداز کر دے تو اس کی غذا میں توازن برقرار نہیں رہتا۔<br></p>
<p>بہت زیادہ انڈے کھانے اور فائبر والی چیزیں نہ لینے سے پیٹ پھولنے اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔ انڈے سے کچھ لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے اثرات ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں ۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈا ایک انتہائی مفید اورغذائیت سے بھرپور خوراک ہے، جسے مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انڈے کس طرح پکائے جاتے ہیں، کن غذاؤں کے ساتھ کھائے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر انسان کی روزمرہ خوراک کتنی متوازن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510901</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 15:18:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/3015164579d6ecd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/3015164579d6ecd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گردوں کو ناکارہ بنانے والے 5 عام مشروبات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510875/5-common-drinks-that-can-lead-to-kidney-failure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گردے انسانی جسم کے خاموش محافظ ہیں، جو دن رات خون کو صاف کرنے، جسم سے فاضل مادے خارج کرنے اور پانی و نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم جدید طرزِ زندگی میں کثرت سے استعمال کیے جانے والے چند عام مشروبات انسان کے گردوں کو خاموشی سے شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان کا حد سے زیادہ استعمال گردوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں تھکن، ٹانگوں میں سوجن، پیشاب کی مقدار میں تبدیلی اور بلڈ پریشر میں اضافہ شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے روزمرہ استعمال ہونے والے مشروبات کے انتخاب میں احتیاط کو صحت مند زندگی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معتبر سائنسی جائزوں اور بین الاقوامی طبی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے مطابق، ہمارے روزمرہ کے ڈرنکس پینے کے انتخاب گردے کی فلٹریشن کی صلاحیت اور جسمانی توازن پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/162541'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/162541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار ’دی مرر‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماہرینِ صحت اور نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن نے ان 5 مشروبات کی نشاندہی کی ہے جو انسان کو گردوں کے خطرناک امراض میں مبتلا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاربونیٹڈ اور سوفٹ ڈرنکس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاربونیٹڈ یا سافٹ ڈرنکس کو گردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ مشروبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میٹھی اور گیس والی بوتلوں میں موجود زیادہ شکر، فرکٹوز اور کیمیکل اجزا نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق جو افراد روزانہ سافٹ ڈرنکس پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں گردوں کی دائمی بیماریوں کے امکانات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انرجی ڈرنکس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری توانائی اور چستی کے لیے استعمال کیے جانے والے انرجی ڈرنکس پروسیسڈ غذاؤں کی زمرے میں آتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انرجی ڈرنکس وقتی طور پر جسم کو چست اور متحرک محسوس کراتی ہیں، لیکن ان میں موجود کیفین، شکر اور مصنوعی اجزا گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں ان مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب انہیں روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478653'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الکحل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ الکحل کا زیادہ استعمال نہ صرف جگر بلکہ گردوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ الکحل جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے، جس سے گردوں کو خون صاف کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسلسل ڈی ہائیڈریشن گردوں کے افعال کو کمزور کر سکتی ہے اور طویل مدت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپورٹس ڈرنکس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اسپورٹس ڈرنکس کو صحت بخش اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور بتا کر بیچا جاتا ہے، لیکن عام انسان کے لیے ان کا روزانہ کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ہے۔ ان میں سوڈیم، کیلشیم اور مصنوعی رنگوں کی اتنی بھاری مقدار ہوتی ہے کہ سخت محنت یا پسینہ نہ بہانے والے عام افراد کے گردے ان اضافی نمکیات کو فلٹر کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور ان کا فلٹریشن سسٹم متاثر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھلوں کے رس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر صحت بخش نظر آنے والے پھلوں کے جوسز گردوں کے لیے ایک دھوکا ثابت ہو سکتے ہیں۔ بازار میں ملنے والے 100 فیصد خالص جوسز میں بھی پوٹاشیم اور شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک خوراک میں 200 ملی گرام سے زائد پوٹاشیم ہوتا ہے جسے چھاننا گردے کے مریضوں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار کے جوسز سے بہتر ہے کہ بغیر چینی کے تازہ گھر کے بنے جوسز استعمال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق’’جرنل آف رینل نیوٹریشن‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ پھلوں کے جوس کے حوالے سے ماہرین کی رائے مکمل طور پر یکساں نہیں ہے۔ اگرچہ بعض جوس غذائیت فراہم کرتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں دستیاب کئی پیک شدہ جوسز میں اضافی چینی، مصنوعی ذائقے اور محفوظ رکھنے والے اجزا شامل ہوتے ہیں، جو مسلسل استعمال کی صورت میں گردوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345465'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صرف نقصان دہ مشروبات سے پرہیز ہی کافی نہیں، بلکہ پانی کا مناسب استعمال بھی بے حد ضروری ہے۔ تاہم پانی کی زیادتی بھی بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ پانی پینے سے جسم میں سوڈیم کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہو سکتی ہے، جسے ”ہائپوناٹریمیا“ کہا جاتا ہے، اور یہ ایک خطرناک طبی حالت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیمیکلز، اضافی شکر اور مصنوعی الیکٹرولائٹس والے مشروبات سے پرہیز کرنا ہی سب سے بہترین علاج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی شخص کو پہلے سے گردوں، ذیابیطس یا بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہو تو اسے اپنے روزمرہ مشروبات کے انتخاب میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ مسلسل تھکن، جسم میں سوجن یا پیشاب سے متعلق غیر معمولی علامات محسوس کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ گردوں کی بیماری کی بروقت تشخیص مستقبل میں بڑے مسائل سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گردے انسانی جسم کے خاموش محافظ ہیں، جو دن رات خون کو صاف کرنے، جسم سے فاضل مادے خارج کرنے اور پانی و نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم جدید طرزِ زندگی میں کثرت سے استعمال کیے جانے والے چند عام مشروبات انسان کے گردوں کو خاموشی سے شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان کا حد سے زیادہ استعمال گردوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں تھکن، ٹانگوں میں سوجن، پیشاب کی مقدار میں تبدیلی اور بلڈ پریشر میں اضافہ شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے روزمرہ استعمال ہونے والے مشروبات کے انتخاب میں احتیاط کو صحت مند زندگی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>معتبر سائنسی جائزوں اور بین الاقوامی طبی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کے مطابق، ہمارے روزمرہ کے ڈرنکس پینے کے انتخاب گردے کی فلٹریشن کی صلاحیت اور جسمانی توازن پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/162541'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/162541"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی اخبار ’دی مرر‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ماہرینِ صحت اور نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن نے ان 5 مشروبات کی نشاندہی کی ہے جو انسان کو گردوں کے خطرناک امراض میں مبتلا کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>کاربونیٹڈ اور سوفٹ ڈرنکس</strong></p>
<p>کاربونیٹڈ یا سافٹ ڈرنکس کو گردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ مشروبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میٹھی اور گیس والی بوتلوں میں موجود زیادہ شکر، فرکٹوز اور کیمیکل اجزا نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق جو افراد روزانہ سافٹ ڈرنکس پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں گردوں کی دائمی بیماریوں کے امکانات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے ہیں۔</p>
<p><strong>انرجی ڈرنکس</strong></p>
<p>فوری توانائی اور چستی کے لیے استعمال کیے جانے والے انرجی ڈرنکس پروسیسڈ غذاؤں کی زمرے میں آتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انرجی ڈرنکس وقتی طور پر جسم کو چست اور متحرک محسوس کراتی ہیں، لیکن ان میں موجود کیفین، شکر اور مصنوعی اجزا گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں ان مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب انہیں روزانہ کی بنیاد پر استعمال کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478653'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>الکحل</strong></p>
<p>ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ الکحل کا زیادہ استعمال نہ صرف جگر بلکہ گردوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ الکحل جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے، جس سے گردوں کو خون صاف کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسلسل ڈی ہائیڈریشن گردوں کے افعال کو کمزور کر سکتی ہے اور طویل مدت میں سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p><strong>اسپورٹس ڈرنکس</strong></p>
<p>اگرچہ اسپورٹس ڈرنکس کو صحت بخش اور الیکٹرولائٹس سے بھرپور بتا کر بیچا جاتا ہے، لیکن عام انسان کے لیے ان کا روزانہ کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ہے۔ ان میں سوڈیم، کیلشیم اور مصنوعی رنگوں کی اتنی بھاری مقدار ہوتی ہے کہ سخت محنت یا پسینہ نہ بہانے والے عام افراد کے گردے ان اضافی نمکیات کو فلٹر کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور ان کا فلٹریشن سسٹم متاثر ہو جاتا ہے۔</p>
<p><strong>پھلوں کے رس</strong></p>
<p>بظاہر صحت بخش نظر آنے والے پھلوں کے جوسز گردوں کے لیے ایک دھوکا ثابت ہو سکتے ہیں۔ بازار میں ملنے والے 100 فیصد خالص جوسز میں بھی پوٹاشیم اور شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک خوراک میں 200 ملی گرام سے زائد پوٹاشیم ہوتا ہے جسے چھاننا گردے کے مریضوں کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار کے جوسز سے بہتر ہے کہ بغیر چینی کے تازہ گھر کے بنے جوسز استعمال کیے جائیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق’’جرنل آف رینل نیوٹریشن‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ پھلوں کے جوس کے حوالے سے ماہرین کی رائے مکمل طور پر یکساں نہیں ہے۔ اگرچہ بعض جوس غذائیت فراہم کرتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں دستیاب کئی پیک شدہ جوسز میں اضافی چینی، مصنوعی ذائقے اور محفوظ رکھنے والے اجزا شامل ہوتے ہیں، جو مسلسل استعمال کی صورت میں گردوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345465'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صرف نقصان دہ مشروبات سے پرہیز ہی کافی نہیں، بلکہ پانی کا مناسب استعمال بھی بے حد ضروری ہے۔ تاہم پانی کی زیادتی بھی بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ پانی پینے سے جسم میں سوڈیم کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہو سکتی ہے، جسے ”ہائپوناٹریمیا“ کہا جاتا ہے، اور یہ ایک خطرناک طبی حالت ہے۔</p>
<p>گردوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیمیکلز، اضافی شکر اور مصنوعی الیکٹرولائٹس والے مشروبات سے پرہیز کرنا ہی سب سے بہترین علاج ہے۔</p>
<p>اگر کسی شخص کو پہلے سے گردوں، ذیابیطس یا بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہو تو اسے اپنے روزمرہ مشروبات کے انتخاب میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ مسلسل تھکن، جسم میں سوجن یا پیشاب سے متعلق غیر معمولی علامات محسوس کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ گردوں کی بیماری کی بروقت تشخیص مستقبل میں بڑے مسائل سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510875</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 15:08:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30134344167fc5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30134344167fc5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میعاد ختم ہونے کی تاریخ پر کھانا کیوں نہیں پھینکنا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510838/why-shouldnt-you-throw-away-food-just-because-the-expiration-date-has-passed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھر میں دودھ، دہی، بسکٹ یا دیگر اشیائے خورونوش کے پیکٹس پر لکھی تاریخ گزرنے کے بعد اکثر لوگ انہیں فوراً کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ہر صورت میں ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سی غذائیں تاریخ گزرنے کے بعد بھی قابلِ استعمال ہوتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی غلط فہمی اور خوراک کا بلاوجہ ضیاع ہے۔ پیکیجنگ پر لکھی زیادہ تر تاریخوں کا تعلق خوراک کے خراب ہونے سے نہیں بلکہ اس کے ذائقے اور معیار سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0956053X19300194#article"&gt;جانز ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ &lt;/a&gt;کی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 80 فیصد سے زیادہ صارفین کم از کم کبھی کبھار ایسی خوراک ضائع کر دیتے ہیں جس کے پیکٹ پر درج تاریخ قریب آ چکی ہو یا گزرنے والی ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510706/labubu-doll-enters-the-bakery-fascinating-and-surprising-cakes-take-center-stage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ”بیسٹ بی فور“، ”بیسٹ بائے“، ”یوز بائے“، “انجوائے بائے “ اور ”سیل بائے“ جیسی اصطلاحات لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی روٹگرز یونیورسٹی کے خوراک کی حفاظت کے ماہر ڈونلڈ شافنر کا کہنا ہے کہ ڈبوں پر لکھی یہ تاریخیں صرف اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ اس وقت تک چیز کا معیار اور ذائقہ سب سے بہترین رہے گا، ان تاریخوں کا تعلق کسی خوراک کے زہریلا یا ناپاک ہونے سے نہیں ہوتا اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے بعد وہ کھانے کے قابل نہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کو اپنی عقل اور حواس کا استعمال کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کہیں چیز میں سے بدبو تو نہیں آ رہی، اس کا رنگ تو نہیں بدلا یا اس پر فنگس تو نہیں لگی، اگر یہ سب نہیں ہے تو خوراک استعمال کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سان فرانسسکو کی فوڈ سائنٹسٹ ریچل زیمسر کا کہنا ہے کہ ڈبہ بند غذائیں جیسے مٹر، ٹماٹر، پھل، دالیں یا خشک بسکٹ اور ڈبل روٹی تاریخ گزرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک خراب نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نمی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے جراثیم آسانی سے پیدا نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خشک بسکٹ یا کریکرز پرانے ہونے پر شاید اپنا کرکرا پن کھو دیں اور ان کا ذائقہ تھوڑا بدل جائے، لیکن وہ آپ کو بیمار نہیں کریں گے۔ البتہ انہوں نے گوشت، مرغی اور مچھلی کے معاملے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان چیزوں میں نمی ہوتی ہے اس لیے تاریخ ختم ہونے سے پہلے انہیں فریز کر لینا چاہیے تاکہ وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ڈبہ بند غذائیں، جیسے لوبیا، ٹماٹر، پھل اور سبزیاں، اپنی پیکنگ کی وجہ سے کئی سال تک محفوظ رہ سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا ڈبہ خراب یا پھولا ہوا نہ ہو۔ اسی طرح سویا اور بادام کے دودھ کے بند ڈبے بھی طویل عرصے تک استعمال کے قابل رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510558/johnson-amp-johnson-jnj-baby-powder-talc-ovarian-cancer-lawsuit-talcum-powder'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس الجھن کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک نیا قانون بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ ڈبوں پر لکھی بے شمار تاریخوں کے بجائے صرف دو طرح کی تاریخیں لکھی جائیں، ایک تازگی کے لیے اور دوسری استعمال کی آخری حد کے لیے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلیفورنیا گروسرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نیٹ روز نے بتایا کہ دکانوں پر لکھی تاریخیں اکثر دکانداروں کے لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ وقت پر سامان شیلف پر لگائیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ تاریخ کے بعد وہ کھانا زہر بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق وفاقی سطح پر امریکا میں صرف بچوں کے دودھ (انفینٹ فارمولا) کے لیے ایکسپائری تاریخ لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں موجود غذائیت کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ شیفنر نے کہا، بچوں کے لیے فارمولا دودھ غذائیت کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی مدت ختم ہونے کے بعد استعمال بچے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چیز سے بدبو نہ آئے اور اس کی رنگت ٹھیک ہو تو اسے پھینک کر پیسے اور خوراک ضائع کرنے کے بجائے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ شیفنر نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ضرورت کے مطابق خریداری کریں اور گھر میں خوراک کو مناسب طریقے سے استعمال کریں، کیونکہ آخر کون خراب معیار کا کھانا کھانا پسند کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گھر میں دودھ، دہی، بسکٹ یا دیگر اشیائے خورونوش کے پیکٹس پر لکھی تاریخ گزرنے کے بعد اکثر لوگ انہیں فوراً کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ہر صورت میں ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سی غذائیں تاریخ گزرنے کے بعد بھی قابلِ استعمال ہوتی ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی غلط فہمی اور خوراک کا بلاوجہ ضیاع ہے۔ پیکیجنگ پر لکھی زیادہ تر تاریخوں کا تعلق خوراک کے خراب ہونے سے نہیں بلکہ اس کے ذائقے اور معیار سے ہوتا ہے۔</p>
<p>2019 میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0956053X19300194#article">جانز ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ </a>کی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 80 فیصد سے زیادہ صارفین کم از کم کبھی کبھار ایسی خوراک ضائع کر دیتے ہیں جس کے پیکٹ پر درج تاریخ قریب آ چکی ہو یا گزرنے والی ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510706/labubu-doll-enters-the-bakery-fascinating-and-surprising-cakes-take-center-stage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ”بیسٹ بی فور“، ”بیسٹ بائے“، ”یوز بائے“، “انجوائے بائے “ اور ”سیل بائے“ جیسی اصطلاحات لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p>امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی روٹگرز یونیورسٹی کے خوراک کی حفاظت کے ماہر ڈونلڈ شافنر کا کہنا ہے کہ ڈبوں پر لکھی یہ تاریخیں صرف اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ اس وقت تک چیز کا معیار اور ذائقہ سب سے بہترین رہے گا، ان تاریخوں کا تعلق کسی خوراک کے زہریلا یا ناپاک ہونے سے نہیں ہوتا اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے بعد وہ کھانے کے قابل نہ رہیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کو اپنی عقل اور حواس کا استعمال کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کہیں چیز میں سے بدبو تو نہیں آ رہی، اس کا رنگ تو نہیں بدلا یا اس پر فنگس تو نہیں لگی، اگر یہ سب نہیں ہے تو خوراک استعمال کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح سان فرانسسکو کی فوڈ سائنٹسٹ ریچل زیمسر کا کہنا ہے کہ ڈبہ بند غذائیں جیسے مٹر، ٹماٹر، پھل، دالیں یا خشک بسکٹ اور ڈبل روٹی تاریخ گزرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک خراب نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نمی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے جراثیم آسانی سے پیدا نہیں ہوتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خشک بسکٹ یا کریکرز پرانے ہونے پر شاید اپنا کرکرا پن کھو دیں اور ان کا ذائقہ تھوڑا بدل جائے، لیکن وہ آپ کو بیمار نہیں کریں گے۔ البتہ انہوں نے گوشت، مرغی اور مچھلی کے معاملے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان چیزوں میں نمی ہوتی ہے اس لیے تاریخ ختم ہونے سے پہلے انہیں فریز کر لینا چاہیے تاکہ وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکیں۔</p>
<p>ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ڈبہ بند غذائیں، جیسے لوبیا، ٹماٹر، پھل اور سبزیاں، اپنی پیکنگ کی وجہ سے کئی سال تک محفوظ رہ سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا ڈبہ خراب یا پھولا ہوا نہ ہو۔ اسی طرح سویا اور بادام کے دودھ کے بند ڈبے بھی طویل عرصے تک استعمال کے قابل رہ سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510558/johnson-amp-johnson-jnj-baby-powder-talc-ovarian-cancer-lawsuit-talcum-powder'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس الجھن کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک نیا قانون بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ ڈبوں پر لکھی بے شمار تاریخوں کے بجائے صرف دو طرح کی تاریخیں لکھی جائیں، ایک تازگی کے لیے اور دوسری استعمال کی آخری حد کے لیے۔<br></p>
<p>کیلیفورنیا گروسرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نیٹ روز نے بتایا کہ دکانوں پر لکھی تاریخیں اکثر دکانداروں کے لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ وقت پر سامان شیلف پر لگائیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ تاریخ کے بعد وہ کھانا زہر بن گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق وفاقی سطح پر امریکا میں صرف بچوں کے دودھ (انفینٹ فارمولا) کے لیے ایکسپائری تاریخ لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں موجود غذائیت کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ڈونلڈ شیفنر نے کہا، بچوں کے لیے فارمولا دودھ غذائیت کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی مدت ختم ہونے کے بعد استعمال بچے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چیز سے بدبو نہ آئے اور اس کی رنگت ٹھیک ہو تو اسے پھینک کر پیسے اور خوراک ضائع کرنے کے بجائے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ڈونلڈ شیفنر نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ضرورت کے مطابق خریداری کریں اور گھر میں خوراک کو مناسب طریقے سے استعمال کریں، کیونکہ آخر کون خراب معیار کا کھانا کھانا پسند کرتا ہے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510838</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 13:08:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30113533c552e00.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30113533c552e00.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کون سی ادویات کے ساتھ ملٹی وٹامنز لینا خطرناک ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510832/which-medications-are-dangerous-to-take-with-multivitamins</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل بہت سے لوگ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ مختلف قسم کی وٹامن کی گولیاں، آئرن، کیلشیم اور زنک ایک ساتھ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک اچھی عادت لگتی ہے، لیکن ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے مختلف وٹامنز کو ایک ساتھ ملانا صحت کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/mixing-vitamins-uae-doctors-explain-risky-supplement-combinations-1.500624679"&gt;گلف نیوز&lt;/a&gt; کی ایک رپورٹ کے مطابق  متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحیح وٹامن صحیح وقت پر نہ لی جائے تو یہ جسم کو فائدہ پہنچانے کے بجائے دواؤں کے اثر کو ختم کر سکتی ہے یا دیگر بیماریاں پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ روزانہ ناشتے کے ساتھ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، آئرن، کیلشیم، زنک اور بالوں یا جلد کے لیے مختلف سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سب صحت بہتر بنانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن ان کے ایک ساتھ استعمال سے بعض وٹامنز اور معدنیات ایک دوسرے کے اثرات کم کر سکتے ہیں یا ادویات کے ساتھ ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510303/new-formula-discovered-to-boost-the-power-of-antibiotics'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آر اے کے ہسپتال کی انٹرنل میڈیسن  اسپیشلسٹ ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر وٹامنز کو معمولی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بغیر کسی نسخے کے مل جاتی ہیں، لیکن یہ دوائیوں کی طرح ہی طاقتور ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر وٹامنز کا استعمال اکثر اصل بیماری یا مسئلے کو چھپا دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کئی دوائیاں اور وٹامنز ایک ساتھ کھائی جاتی ہیں تو وہ جسم کے اندر دیگر ضروری غذائیت کی جذب ہونے کی صلاحیت کو روک دیتی ہیں، جس سے شدید نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز نے وضاحت کی ہے کہ آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ایک ساتھ کھانے سے آئرن صحیح طریقے سے جسم میں جذب نہیں ہوتا، جس سے خون کی کمی کا علاج متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تھائیرائیڈ کی دوا لیوو تھائروکسین اور آئرن کو ایک ساتھ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس سے تھائیرائیڈ کی بیماری پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے وٹامن کے اور خون پتلا کرنے والی دوا وارفرین کے امتزاج پر بھی خبردار کیا ہے کیونکہ اس سے جسم میں خون کے لوتھڑے بننے یا خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509364/risk-to-life-why-is-it-important-to-throw-away-medicine-one-month-after-opening'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509364"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے، ”یہ دونوں ایک دوسرے کے الٹ کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے خون جمنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹامن ای کے حوالے سے بھی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہا ہو تو وٹامن ای کا زیادہ استعمال خون بہنے کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح زنک اور کاپر جیسے معدنیات بھی ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں رہتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر زنک زیادہ مقدار میں لیا جائے تو جسم میں کاپر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق والیو ہیلتھ کے ماہر جیمی رچرڈز کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم ایک توازن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی ایک وٹامن یا منرل کی ضرورت سے زیادہ مقدار لیتے ہیں تو وہ جسم میں موجود دیگر ضروری وٹامنز کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے جسم کے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ زیادہ مقدار میں جمع ہو جائیں تو گردوں اور جگر پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ تھکاوٹ محسوس ہونے پر خود ہی آئرن یا وٹامن بی12 کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ کی وجہ ہمیشہ وٹامن کی کمی نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ نیند کی کمی یا کوئی اور بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ خود سے وٹامن کھانے سے اصل بیماری کا بروقت پتہ نہیں چل پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمی رچرڈز نے اس حوالے سے کہا، ”کبھی کبھی لوگ ایک مسئلے کے حل کے لیے سپلیمنٹ لینا شروع کرتے ہیں، لیکن بعد میں اسی سپلیمنٹ کی زیادتی ایک نئی بیماری کا سبب بن جاتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود سے مختلف دوائیاں اور وٹامنز ملا کر کھانے کے بجائے ہمیشہ پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ٹیسٹ کی روشنی میں صرف وہی وٹامن لیں جس کی جسم کو واقعی ضرورت ہو۔ کیونکہ صحت مند رہنے کے لیے صرف وٹامنز ہی نہیں بلکہ ان کا درست اور متوازن استعمال بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل بہت سے لوگ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ مختلف قسم کی وٹامن کی گولیاں، آئرن، کیلشیم اور زنک ایک ساتھ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک اچھی عادت لگتی ہے، لیکن ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے مختلف وٹامنز کو ایک ساتھ ملانا صحت کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/mixing-vitamins-uae-doctors-explain-risky-supplement-combinations-1.500624679">گلف نیوز</a> کی ایک رپورٹ کے مطابق  متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحیح وٹامن صحیح وقت پر نہ لی جائے تو یہ جسم کو فائدہ پہنچانے کے بجائے دواؤں کے اثر کو ختم کر سکتی ہے یا دیگر بیماریاں پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ روزانہ ناشتے کے ساتھ ملٹی وٹامن، وٹامن ڈی، آئرن، کیلشیم، زنک اور بالوں یا جلد کے لیے مختلف سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سب صحت بہتر بنانے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن ان کے ایک ساتھ استعمال سے بعض وٹامنز اور معدنیات ایک دوسرے کے اثرات کم کر سکتے ہیں یا ادویات کے ساتھ ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510303/new-formula-discovered-to-boost-the-power-of-antibiotics'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آر اے کے ہسپتال کی انٹرنل میڈیسن  اسپیشلسٹ ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر وٹامنز کو معمولی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بغیر کسی نسخے کے مل جاتی ہیں، لیکن یہ دوائیوں کی طرح ہی طاقتور ہوتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر وٹامنز کا استعمال اکثر اصل بیماری یا مسئلے کو چھپا دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کئی دوائیاں اور وٹامنز ایک ساتھ کھائی جاتی ہیں تو وہ جسم کے اندر دیگر ضروری غذائیت کی جذب ہونے کی صلاحیت کو روک دیتی ہیں، جس سے شدید نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز نے وضاحت کی ہے کہ آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ایک ساتھ کھانے سے آئرن صحیح طریقے سے جسم میں جذب نہیں ہوتا، جس سے خون کی کمی کا علاج متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تھائیرائیڈ کی دوا لیوو تھائروکسین اور آئرن کو ایک ساتھ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس سے تھائیرائیڈ کی بیماری پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے وٹامن کے اور خون پتلا کرنے والی دوا وارفرین کے امتزاج پر بھی خبردار کیا ہے کیونکہ اس سے جسم میں خون کے لوتھڑے بننے یا خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509364/risk-to-life-why-is-it-important-to-throw-away-medicine-one-month-after-opening'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509364"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر جسپریت کور کا کہنا ہے، ”یہ دونوں ایک دوسرے کے الٹ کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے خون جمنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔“</p>
<p>وٹامن ای کے حوالے سے بھی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہا ہو تو وٹامن ای کا زیادہ استعمال خون بہنے کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح زنک اور کاپر جیسے معدنیات بھی ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں رہتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر زنک زیادہ مقدار میں لیا جائے تو جسم میں کاپر کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق والیو ہیلتھ کے ماہر جیمی رچرڈز کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم ایک توازن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی ایک وٹامن یا منرل کی ضرورت سے زیادہ مقدار لیتے ہیں تو وہ جسم میں موجود دیگر ضروری وٹامنز کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے جسم کے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ زیادہ مقدار میں جمع ہو جائیں تو گردوں اور جگر پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اکثر لوگ تھکاوٹ محسوس ہونے پر خود ہی آئرن یا وٹامن بی12 کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھکاوٹ کی وجہ ہمیشہ وٹامن کی کمی نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ نیند کی کمی یا کوئی اور بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ خود سے وٹامن کھانے سے اصل بیماری کا بروقت پتہ نہیں چل پاتا۔</p>
<p>جیمی رچرڈز نے اس حوالے سے کہا، ”کبھی کبھی لوگ ایک مسئلے کے حل کے لیے سپلیمنٹ لینا شروع کرتے ہیں، لیکن بعد میں اسی سپلیمنٹ کی زیادتی ایک نئی بیماری کا سبب بن جاتی ہے۔“</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود سے مختلف دوائیاں اور وٹامنز ملا کر کھانے کے بجائے ہمیشہ پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ٹیسٹ کی روشنی میں صرف وہی وٹامن لیں جس کی جسم کو واقعی ضرورت ہو۔ کیونکہ صحت مند رہنے کے لیے صرف وٹامنز ہی نہیں بلکہ ان کا درست اور متوازن استعمال بھی ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510832</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 14:06:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30094827dcc261f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30094827dcc261f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برسات کے موسم میں وائرل بخار سے کیسے بچیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمی کے بعد جیسے ہی بارش کا موسم شروع ہوتا ہے، مختلف بیماریاں بھی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیتی ہیں۔ اس موسم میں زیادہ تر لوگ وائرل بخار کا شکار ہو جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش اور بدلتے موسم کے باعث لوگوں کو پہلے گلے میں خرابی اور زکام ہوتا ہے اور اس کے بعد بخار پانچ سے چھ دن کے لیے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بخار کی وجہ سے جسم میں شدید کمزوری ہو جاتی ہے اور سر، سینے اور گلے میں درد رہتا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کو اس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بنیادی اور آسان باتوں پر عمل کر کے خود کو اس برسات کے موسم میں وائرل بخار سے آسانی سے محفوظ رکھاجا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہاتھوں کی صفائی اور سینیٹائزر کا استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسات کے دنوں میں جراثیم اور وائرس گھر کے دروازوں کے ہینڈل، موبائل فون، ریلنگ اور دیگر جگہوں پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باہر سے واپس گھر آنے کے بعد، کھانا کھانے سے پہلے اور واش روم استعمال کرنے کے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ ضرور دھوئیں۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو الکحل سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ بغیر ہاتھ دھوئے آنکھ، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صحت بخش غذا اور قوتِ مدافعت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موسم میں کھانا پینا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط قوتِ مدافعت وائرل بخار سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے لیے روزمرہ خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، دودھ، دہی، انڈے، ہلدی، ادرک اور لہسن شامل کریں۔ وٹامن سی اور زنک والی چیزیں کھائیں اور زیادہ تلی ہوئی یا باہر کی گندی چیزیں کھانے سے بچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابلا ہوا صاف پانی اور پانی کی مقدار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارش کے موسم میں پانی سے پھیلنے والے انفیکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی پینا چاہیے۔ باہر ملنے والے کھلے مشروبات اور برف کے استعمال سے بچیں اور دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور جسم انفیکشن سے محفوظ رہ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346704/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بارش میں بھیگنے کے بعد احتیاط&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بارش میں بھیگ جائیں تو فوری طور پر گیلے کپڑے بدل لیں اور بال اچھی طرح خشک کرلیں۔ گیلے کپڑوں میں زیادہ دیر رہنے سے جسم کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو نیم گرم پانی سے نہا لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مکمل نیند اور جسمانی آرام&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین کے مطابق مناسب نیند بھی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم کی طاقت کم ہو جاتی ہے جس سے نزلہ زکام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے سوئیں، زیادہ پریشانی نہ لیں اور ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کریں۔ چہل قدمی کو معمول بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھیڑ بھاڑ اور بیمار افراد سے فاصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں کھانسی، چھینک یا قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بیمار افراد اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے تھوڑا فاصلہ رکھیں۔ اگر ضرورت پڑے تو ماسک پہنیں۔ کسی بیمار شخص کا تولیا، برتن یا پانی کی بوتل استعمال نہ کریں اور کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منہ اور ناک کو رومال یا کہنی سے ڈھانپیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابتدائی علامات اور ادویات میں احتیاط&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کو بخار، گلے میں خرابی، سر درد، ناک بہنا یا جسم میں درد محسوس ہو تو شروعاتی علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ فوری طور پر آرام کریں اور نیم گرم پانی پیئیں اور اگر بخار تیز ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بغیر طبی مشورے کے اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بخار 102 ڈگری فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہو، تین دن سے زائد برقرار رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، بار بار قے آ رہی ہو یا مریض کو بے ہوشی اور شدید کمزوری محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارشوں کا موسم اگرچہ خوشگوار سمجھا جاتا ہے، لیکن معمولی احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ کئی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور علامات پر توجہ دے کر وائرل بخار کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرمی کے بعد جیسے ہی بارش کا موسم شروع ہوتا ہے، مختلف بیماریاں بھی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیتی ہیں۔ اس موسم میں زیادہ تر لوگ وائرل بخار کا شکار ہو جاتے ہیں۔</strong></p>
<p>بارش اور بدلتے موسم کے باعث لوگوں کو پہلے گلے میں خرابی اور زکام ہوتا ہے اور اس کے بعد بخار پانچ سے چھ دن کے لیے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔</p>
<p>اس بخار کی وجہ سے جسم میں شدید کمزوری ہو جاتی ہے اور سر، سینے اور گلے میں درد رہتا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کو اس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>کچھ بنیادی اور آسان باتوں پر عمل کر کے خود کو اس برسات کے موسم میں وائرل بخار سے آسانی سے محفوظ رکھاجا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ہاتھوں کی صفائی اور سینیٹائزر کا استعمال</strong></p>
<p>برسات کے دنوں میں جراثیم اور وائرس گھر کے دروازوں کے ہینڈل، موبائل فون، ریلنگ اور دیگر جگہوں پر موجود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔</p>
<p>باہر سے واپس گھر آنے کے بعد، کھانا کھانے سے پہلے اور واش روم استعمال کرنے کے بعد صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ ضرور دھوئیں۔ اگر پانی موجود نہ ہو تو الکحل سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ بغیر ہاتھ دھوئے آنکھ، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کریں۔</p>
<p><strong>صحت بخش غذا اور قوتِ مدافعت</strong></p>
<p>اس موسم میں کھانا پینا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط قوتِ مدافعت وائرل بخار سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے لیے روزمرہ خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، دودھ، دہی، انڈے، ہلدی، ادرک اور لہسن شامل کریں۔ وٹامن سی اور زنک والی چیزیں کھائیں اور زیادہ تلی ہوئی یا باہر کی گندی چیزیں کھانے سے بچیں۔</p>
<p><strong>ابلا ہوا صاف پانی اور پانی کی مقدار</strong></p>
<p>بارش کے موسم میں پانی سے پھیلنے والے انفیکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی پینا چاہیے۔ باہر ملنے والے کھلے مشروبات اور برف کے استعمال سے بچیں اور دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور جسم انفیکشن سے محفوظ رہ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346704/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>بارش میں بھیگنے کے بعد احتیاط</strong></p>
<p>اگر آپ بارش میں بھیگ جائیں تو فوری طور پر گیلے کپڑے بدل لیں اور بال اچھی طرح خشک کرلیں۔ گیلے کپڑوں میں زیادہ دیر رہنے سے جسم کا درجہ حرارت گر جاتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو نیم گرم پانی سے نہا لیں۔</p>
<p><strong>مکمل نیند اور جسمانی آرام</strong></p>
<p>صحت کے ماہرین کے مطابق مناسب نیند بھی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم کی طاقت کم ہو جاتی ہے جس سے نزلہ زکام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے سوئیں، زیادہ پریشانی نہ لیں اور ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کریں۔ چہل قدمی کو معمول بنائیں۔</p>
<p><strong>بھیڑ بھاڑ اور بیمار افراد سے فاصلہ</strong></p>
<p>وائرل بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں کھانسی، چھینک یا قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بیمار افراد اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے تھوڑا فاصلہ رکھیں۔ اگر ضرورت پڑے تو ماسک پہنیں۔ کسی بیمار شخص کا تولیا، برتن یا پانی کی بوتل استعمال نہ کریں اور کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منہ اور ناک کو رومال یا کہنی سے ڈھانپیں۔</p>
<p><strong>ابتدائی علامات اور ادویات میں احتیاط</strong></p>
<p>اگر آپ کو بخار، گلے میں خرابی، سر درد، ناک بہنا یا جسم میں درد محسوس ہو تو شروعاتی علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ فوری طور پر آرام کریں اور نیم گرم پانی پیئیں اور اگر بخار تیز ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بغیر طبی مشورے کے اینٹی بائیوٹک ادویات استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔<br></p>
<p>اگر بخار 102 ڈگری فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہو، تین دن سے زائد برقرار رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، بار بار قے آ رہی ہو یا مریض کو بے ہوشی اور شدید کمزوری محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔</p>
<p>بارشوں کا موسم اگرچہ خوشگوار سمجھا جاتا ہے، لیکن معمولی احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ کئی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور علامات پر توجہ دے کر وائرل بخار کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510699</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 10:12:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/29100906648ec38.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/29100906648ec38.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینٹی بائیوٹکس کو طاقت دینے والا نیا فارمولا دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510303/new-formula-discovered-to-boost-the-power-of-antibiotics</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم روز بروز زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں اور عام ادویات جنہیں اینٹی بائیوٹک کہا جاتا ہے، اب ان پر اثر نہیں کر رہیں۔ ان جراثیموں کو سپربگز کا نام دیا جاتا ہے جو دواؤں کے اثر کو زائل کرنے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں۔ اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک نیا اور آسان طریقہ تلاش کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد ایسے انفیکشنز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کا علاج پہلے عام اینٹی بائیوٹکس سے ممکن تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام بیماریوں بلکہ سرجری، کینسر کے علاج اور ہسپتالوں میں کیے جانے والے کئی طبی مراحل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سائنسدانوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک امید افزا پیش رفت کی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، مکمل طور پر نئی اینٹی بائیوٹک تیار کرنے کے بجائے موجودہ ادویات کو دوبارہ طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”اینٹی بائیوٹک ایڈجوونٹس“ نامی خاص مرکبات استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خود بیکٹیریا کو نہیں مارتے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503325'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cshl.edu/a-secret-weapon-against-superbugs/"&gt;کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری (سی ایس ایچ ایل) &lt;/a&gt; کی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک خاص مرکب ”پی جی ایچ آئی-4“ دریافت کیا، جسے وینکومائسین نامی طاقتور اینٹی بائیوٹک کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ امتزاج ان بیکٹیریا کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوا جو پہلے وینکومائسین کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینکومائسین کو سنگین انفیکشنز، خصوصاً ایم آر ایس اے اور کلسٹریڈیئم ڈیفیسائل جیسے جراثیم کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ بعض بیکٹیریا نے اس دوا کے خلاف بھی دفاعی صلاحیت پیدا کر لی، جس کے بعد انہیں ”سپر بگز“ کا نام دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ پی جی ایچ آئی-4 بیکٹیریا کے ایک اہم خامرے ”سیگریٹڈ اینٹی جن اے“ کو غیر فعال کر دیتا ہے۔ اس سے بیکٹیریا کی حفاظتی دیوار کمزور ہو جاتی ہے اور وینکومائسین دوبارہ انہیں ختم کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ لیبارٹری تجربات میں دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ”ای فیشیم“ بیکٹیریا کو کامیابی سے ختم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے پروفیسر جان موسس نے کہا، یہ دریافت بنیادی کیمیائی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ کیمیائی عمل کی تیاری کے دوران ایک ایسے مادے کی دریافت ممکن ہوئی جو دواؤں کے خلاف جراثیم کی مزاحمت میں شامل انزائم کو روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358191'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358191"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام کیمیا کے ایسے عمل کو ظاہر کرتا ہے جو دواؤں کی دریافت کو تیز بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور قابلِ اعتماد کیمیائی تجربات کی مدد سے ہم نئے اور موثر مالیکیول بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے ”ڈائیورسٹی اورینٹڈ کلکنگ“ (ڈی او ایس) نامی ایک جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے 150 سے زائد کیمیائی مرکبات پر مشتمل ایک لائبریری تیار کی ہے، جس سے نہ صرف اینٹی بائیوٹک مزاحمت بلکہ کینسر سے متعلق تحقیقات میں بھی مدد مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ مزید کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں تپ دق (ٹی بی) سمیت دیگر خطرناک اور دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری اور غلط استعمال نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وہ عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور دوا کا مکمل کورس کیا جائے تاکہ بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں اور جراثیم دواؤں کے خلاف خود کو طاقتور نہ بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل کی بڑی طبی کامیابیاں ہمیشہ ہسپتالوں میں نہیں بلکہ لیبارٹریوں میں جنم لیتی ہیں، جہاں سائنسدان نئی دریافتوں کے ذریعے انسانیت کے لیے امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم روز بروز زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں اور عام ادویات جنہیں اینٹی بائیوٹک کہا جاتا ہے، اب ان پر اثر نہیں کر رہیں۔ ان جراثیموں کو سپربگز کا نام دیا جاتا ہے جو دواؤں کے اثر کو زائل کرنے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں۔ اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک نیا اور آسان طریقہ تلاش کیا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد ایسے انفیکشنز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کا علاج پہلے عام اینٹی بائیوٹکس سے ممکن تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام بیماریوں بلکہ سرجری، کینسر کے علاج اور ہسپتالوں میں کیے جانے والے کئی طبی مراحل کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
<p>اب سائنسدانوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک امید افزا پیش رفت کی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، مکمل طور پر نئی اینٹی بائیوٹک تیار کرنے کے بجائے موجودہ ادویات کو دوبارہ طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”اینٹی بائیوٹک ایڈجوونٹس“ نامی خاص مرکبات استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خود بیکٹیریا کو نہیں مارتے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503325'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>امریکا کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cshl.edu/a-secret-weapon-against-superbugs/">کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری (سی ایس ایچ ایل) </a> کی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک خاص مرکب ”پی جی ایچ آئی-4“ دریافت کیا، جسے وینکومائسین نامی طاقتور اینٹی بائیوٹک کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ امتزاج ان بیکٹیریا کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوا جو پہلے وینکومائسین کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے تھے۔</p>
<p>وینکومائسین کو سنگین انفیکشنز، خصوصاً ایم آر ایس اے اور کلسٹریڈیئم ڈیفیسائل جیسے جراثیم کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ بعض بیکٹیریا نے اس دوا کے خلاف بھی دفاعی صلاحیت پیدا کر لی، جس کے بعد انہیں ”سپر بگز“ کا نام دیا گیا۔</p>
<p>تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا کہ پی جی ایچ آئی-4 بیکٹیریا کے ایک اہم خامرے ”سیگریٹڈ اینٹی جن اے“ کو غیر فعال کر دیتا ہے۔ اس سے بیکٹیریا کی حفاظتی دیوار کمزور ہو جاتی ہے اور وینکومائسین دوبارہ انہیں ختم کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ لیبارٹری تجربات میں دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ”ای فیشیم“ بیکٹیریا کو کامیابی سے ختم کیا گیا۔</p>
<p>کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے پروفیسر جان موسس نے کہا، یہ دریافت بنیادی کیمیائی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ کیمیائی عمل کی تیاری کے دوران ایک ایسے مادے کی دریافت ممکن ہوئی جو دواؤں کے خلاف جراثیم کی مزاحمت میں شامل انزائم کو روکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358191'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358191"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام کیمیا کے ایسے عمل کو ظاہر کرتا ہے جو دواؤں کی دریافت کو تیز بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور قابلِ اعتماد کیمیائی تجربات کی مدد سے ہم نئے اور موثر مالیکیول بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>سائنسدانوں نے ”ڈائیورسٹی اورینٹڈ کلکنگ“ (ڈی او ایس) نامی ایک جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے 150 سے زائد کیمیائی مرکبات پر مشتمل ایک لائبریری تیار کی ہے، جس سے نہ صرف اینٹی بائیوٹک مزاحمت بلکہ کینسر سے متعلق تحقیقات میں بھی مدد مل رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ مزید کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں تپ دق (ٹی بی) سمیت دیگر خطرناک اور دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری اور غلط استعمال نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وہ عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹکس صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائیں اور دوا کا مکمل کورس کیا جائے تاکہ بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں اور جراثیم دواؤں کے خلاف خود کو طاقتور نہ بنا سکیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل کی بڑی طبی کامیابیاں ہمیشہ ہسپتالوں میں نہیں بلکہ لیبارٹریوں میں جنم لیتی ہیں، جہاں سائنسدان نئی دریافتوں کے ذریعے انسانیت کے لیے امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510303</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 09:47:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/26092400116fa4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/26092400116fa4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھوک نہ ہونے کے باوجود بار بار فریج کھولنا؛ دماغ کیا ڈھونڈتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509917/opening-the-fridge-again-and-again-without-being-hungry-what-is-your-brain-looking-for</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ فریج کا دروازہ کھولیں، چند سیکنڈ اندر جھانکیں اور پھر بغیر کچھ لیے واپس آ جائیں اور پھر دس منٹ بعد دوبارہ وہی کام کریں؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار فریج کھولنا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ انسان کو بھوک لگی ہے، بلکہ اس کے پیچھے انسان کے دماغ کی کچھ الگ عادتیں اور نفسیاتی وجوہات چھپی ہوتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ جب لوگ اکتاہٹ یا بوریت کا شکار ہوتے ہیں، تو ان کا دماغ کسی خوشگوار اور دلچسپ چیز کی تلاش میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھانے کی چیزیں، خاص طور پر جن میں چینی، چکنائی یا نمک زیادہ ہو، دماغ کو ایک سکون اور خوشی کا احساس دیتی ہیں۔ اسی لیے جب انسان کام سے وقفہ لیتا ہے یا بیزار ہوتا ہے تو وہ بے دھیانی میں فریج کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ عمل جسمانی بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغ کے سکون اور تفریح حاصل کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفسیات کی دنیا میں دو طرح کی بھوک بتائی جاتی ہے۔ ایک وہ جو جسم کو واقعی طاقت اور توانائی کی ضرورت ہو اور دوسری وہ بھوک جو صرف دل کی خوشی، چٹخارے یا وقت گزارنے کے لیے ہوتی ہے۔ جسے ”ہیڈونک ہنگر“ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کوئی شخص کمپیوٹر پر کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے یا فارغ بیٹھا ہوتا ہے، تو فریج کھولنا اس کے لیے ایک قسم کا وقفہ اور معمول بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فریج انسان کو ایک امید اور امکان دیتا ہے۔ انسان کا دماغ سوچتا ہے کہ شاید اندر کوئی بچی ہوئی مٹھائی مل جائے، شاید کوئی آئس کریم رکھی ہو یا کوئی ایسی چیز مل جائے جو پہلے نظر نہ آئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے لوگ بار بار اپنا موبائل فون کھول کر نوٹیفکیشن یا میسج چیک کرتے ہیں، حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ شاید کچھ نیا نہ آیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادتیں عموماً ایک خاص انداز میں بنتی ہیں، جسے ”کیو، روٹین اور ریوارڈ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے کوئی اشارہ یا صورتحال سامنے آتی ہے، پھر انسان ایک مخصوص عمل دہراتا ہے اور آخر میں اسے کسی نہ کسی صورت میں اطمینان یا خوشی محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کام کے دوران چند منٹ کا وقفہ لے تو وہ غیر ارادی طور پر فریج کھول سکتا ہے۔ چاہے وہ کچھ کھائے نہ بھی، لیکن فریج دیکھنے کا عمل ہی اس کے دماغ کو وقتی سکون یا دلچسپی فراہم کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوریت بھی اکثر بھوک جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔ گھر سے کام کرنے والے افراد یا وہ لوگ جو زیادہ وقت اکیلے گزارتے ہیں، عموماً اس عادت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک کام ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کے درمیان اگر چند منٹ مل جائیں تو بہت سے لوگ خود بخود کچن کی طرف چل پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کے اردگرد کا ماحول اس کے رویے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر کچن روشن ہو، فریج راستے میں ہو یا کھانے پینے کی چیزیں آسانی سے نظر آ رہی ہوں، تو فریج کھولنے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اگلی بار جب آپ ایک ہی گھنٹے میں تیسری بار فریج کا دروازہ کھولیں تو خود سے ایک آسان سا سوال پوچھیں کہ کیا واقعی آپ کو بھوک لگی ہے یا پھر آپ کا دماغ صرف کسی دلچسپ بات یا تبدیلی کی تلاش میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب اکثر لوگوں کے لیے حیران کن ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ فریج کا دروازہ کھولیں، چند سیکنڈ اندر جھانکیں اور پھر بغیر کچھ لیے واپس آ جائیں اور پھر دس منٹ بعد دوبارہ وہی کام کریں؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار فریج کھولنا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ انسان کو بھوک لگی ہے، بلکہ اس کے پیچھے انسان کے دماغ کی کچھ الگ عادتیں اور نفسیاتی وجوہات چھپی ہوتی ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ جب لوگ اکتاہٹ یا بوریت کا شکار ہوتے ہیں، تو ان کا دماغ کسی خوشگوار اور دلچسپ چیز کی تلاش میں ہوتا ہے۔</p>
<p>کھانے کی چیزیں، خاص طور پر جن میں چینی، چکنائی یا نمک زیادہ ہو، دماغ کو ایک سکون اور خوشی کا احساس دیتی ہیں۔ اسی لیے جب انسان کام سے وقفہ لیتا ہے یا بیزار ہوتا ہے تو وہ بے دھیانی میں فریج کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ عمل جسمانی بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغ کے سکون اور تفریح حاصل کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہوتا ہے۔</p>
<p>نفسیات کی دنیا میں دو طرح کی بھوک بتائی جاتی ہے۔ ایک وہ جو جسم کو واقعی طاقت اور توانائی کی ضرورت ہو اور دوسری وہ بھوک جو صرف دل کی خوشی، چٹخارے یا وقت گزارنے کے لیے ہوتی ہے۔ جسے ”ہیڈونک ہنگر“ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>جب کوئی شخص کمپیوٹر پر کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے یا فارغ بیٹھا ہوتا ہے، تو فریج کھولنا اس کے لیے ایک قسم کا وقفہ اور معمول بن جاتا ہے۔</p>
<p>ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فریج انسان کو ایک امید اور امکان دیتا ہے۔ انسان کا دماغ سوچتا ہے کہ شاید اندر کوئی بچی ہوئی مٹھائی مل جائے، شاید کوئی آئس کریم رکھی ہو یا کوئی ایسی چیز مل جائے جو پہلے نظر نہ آئی ہو۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے لوگ بار بار اپنا موبائل فون کھول کر نوٹیفکیشن یا میسج چیک کرتے ہیں، حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ شاید کچھ نیا نہ آیا ہو۔</p>
<p>عادتیں عموماً ایک خاص انداز میں بنتی ہیں، جسے ”کیو، روٹین اور ریوارڈ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے کوئی اشارہ یا صورتحال سامنے آتی ہے، پھر انسان ایک مخصوص عمل دہراتا ہے اور آخر میں اسے کسی نہ کسی صورت میں اطمینان یا خوشی محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کام کے دوران چند منٹ کا وقفہ لے تو وہ غیر ارادی طور پر فریج کھول سکتا ہے۔ چاہے وہ کچھ کھائے نہ بھی، لیکن فریج دیکھنے کا عمل ہی اس کے دماغ کو وقتی سکون یا دلچسپی فراہم کر دیتا ہے۔</p>
<p>بوریت بھی اکثر بھوک جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔ گھر سے کام کرنے والے افراد یا وہ لوگ جو زیادہ وقت اکیلے گزارتے ہیں، عموماً اس عادت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک کام ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کے درمیان اگر چند منٹ مل جائیں تو بہت سے لوگ خود بخود کچن کی طرف چل پڑتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کے اردگرد کا ماحول اس کے رویے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر کچن روشن ہو، فریج راستے میں ہو یا کھانے پینے کی چیزیں آسانی سے نظر آ رہی ہوں، تو فریج کھولنے کی خواہش مزید بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>اس لیے اگلی بار جب آپ ایک ہی گھنٹے میں تیسری بار فریج کا دروازہ کھولیں تو خود سے ایک آسان سا سوال پوچھیں کہ کیا واقعی آپ کو بھوک لگی ہے یا پھر آپ کا دماغ صرف کسی دلچسپ بات یا تبدیلی کی تلاش میں ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب اکثر لوگوں کے لیے حیران کن ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509917</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 13:13:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/231306560e03a1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/231306560e03a1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جان کا خطرہ: کھُلنے کے ایک مہینے بعد دوائی کو پھینک دینا کیوں ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509364/risk-to-life-why-is-it-important-to-throw-away-medicine-one-month-after-opening</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوا اس تاریخ تک محفوظ رہے گی۔ لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کچھ دوائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی حفاظت اور اثر کھولنے کے بعد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، چاہے ان کی ایکسپائری ڈیٹ باقی ہی کیوں نہ ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم میں سے اکثر لوگ گھروں میں کھانسی کا شربت یا آنکھ میں ڈالنے والے قطرے ایک بار استعمال کرنے کے بعد الماری میں رکھ دیتے ہیں۔ کچھ ہفتوں یا مہینوں بعد جب دوبارہ ضرورت پڑتی ہے، تو ہم صرف اس کی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر اسے دوبارہ استعمال کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ بعض دوائیاں ایسی ہوتی ہیں جو کھلنے کے چند دنوں یا ہفتوں کے اندر ہی اپنی طاقت کھو دیتی ہیں یا پھر خراب ہو کر نقصان دہ بن جاتی ہیں۔ اس لیے صرف لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کے مطابق جب بھی ہم کسی دوا کی شیشی، ٹیوب یا ڈراپر کا ڈھکن کھولتے ہیں، تو اس کے اندر باہر کی ہوا، نمی اور جراثیم چلے جاتے ہیں۔ بار بار ڈھکن کھولنے سے دوا کو جراثیم سے بچانے والے کیمیکل کمزور پڑ جاتے ہیں اور شربت یا قطرے میں باریک جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شربت کا رنگ یا بو بدل جائے، کوئی کریم پھٹ جائے یا گولی نرم ہو کر چورا ہونے لگے، تو سمجھ جائیں کہ یہ اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر دوا کھولنے کے ایک مہینے بعد پھینک دینی چاہیے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ قانون ہر دوا پر لاگو نہیں ہوتا۔ &lt;a href="https://about:blank"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی دہلی کے شعبہ اطفال اور نیونیٹولوجی کے سربراہ ڈاکٹر سنجے کے جین کا کہنا ہے کہ ہر دوا کے لیے ایک ہی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق کئی عام استعمال کی جانے والی دوائیں مناسب طریقے سے محفوظ رکھنے پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جین نے کہا، ”کچھ سیرپ جیسے کھانسی کی دوا، پیراسیٹامول سیرپ، وٹامن سیرپ اور دیگر عام دستیاب سیرپ عام طور پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح طریقے سے رکھا گیا ہو اور ان کے رنگ، بو یا شکل میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ گولیاں اور کیپسول بھی اکثر اپنی اصل پیکنگ، خاص طور پر بلیسٹر پیک میں، محفوظ رہتے ہیں اور انہیں ہدایات کے مطابق رکھنے کی صورت میں ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کی مدت کھولنے کے بعد بہت کم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ اینٹی بایوٹک سیرپ جو پاؤڈر کی شکل میں ہوتے ہیں اور استعمال سے پہلے ان میں پانی ملانا پڑتا ہے، انہیں زیادہ دن تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506034/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایسی اینٹی بایوٹک دوائیوں کو تیار ہونے کے بعد صرف 7 سے 14 دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوا باقی بھی ہو تو اسے پھینک دینا چاہیے۔ اگر ایسی دوا کا رنگ بدل جائے یا بوتل کے اندر ذرات نظر آئیں تو اسے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آئی ڈراپس اور انسولین کے ٹیکوں کا معاملہ بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ آنکھ کے قطرے کھولنے کے بعد عام طور پر 28 دنوں کے اندر ختم یا ضائع کر دینے چاہئیں کیونکہ بار بار آنکھ کے قریب لے جانے سے دوا کی نوک پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسولین اور کچھ انجیکشن والی دواؤں کے لیے بھی الگ ہدایات ہوتی ہیں۔ انہیں مخصوص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور کھولنے کے بعد ان کے استعمال کی مدت محدود ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ دوا استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ اس کے لیبل یا پیکٹ پر دی گئی ہدایات ضرور پڑھیں۔ خاص طور پر آنکھوں کے قطرے، انسولین، لیکویڈ اینٹی بایوٹک اور فریج میں رکھنے والی دواؤں کے معاملے میں زیادہ احتیاط ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر میں موجود پرانی یا کھلی ہوئی دواؤں کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اگر کسی دوا کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ اب بھی محفوظ ہے یا نہیں، تو اسے استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا کافی نہیں، کیونکہ کچھ دواؤں کے لیے اصل وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب بوتل یا پیکٹ پہلی بار کھولا جاتا ہے۔ اسی لیے دوا کھولنے کی تاریخ نوٹ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کی آخری تاریخ دیکھنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کبھی کسی دوا کے بارے میں شک ہو کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں، تو خطرہ مول لینے کے بجائے اسے پھینک دینا ہی سب سے بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر لوگ دوا کی بوتل یا پیکٹ پر لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوا اس تاریخ تک محفوظ رہے گی۔ لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کچھ دوائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی حفاظت اور اثر کھولنے کے بعد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، چاہے ان کی ایکسپائری ڈیٹ باقی ہی کیوں نہ ہو۔</strong></p>
<p>ہم میں سے اکثر لوگ گھروں میں کھانسی کا شربت یا آنکھ میں ڈالنے والے قطرے ایک بار استعمال کرنے کے بعد الماری میں رکھ دیتے ہیں۔ کچھ ہفتوں یا مہینوں بعد جب دوبارہ ضرورت پڑتی ہے، تو ہم صرف اس کی ایکسپائری ڈیٹ دیکھ کر اسے دوبارہ استعمال کر لیتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ بعض دوائیاں ایسی ہوتی ہیں جو کھلنے کے چند دنوں یا ہفتوں کے اندر ہی اپنی طاقت کھو دیتی ہیں یا پھر خراب ہو کر نقصان دہ بن جاتی ہیں۔ اس لیے صرف لکھی ہوئی ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹروں کے مطابق جب بھی ہم کسی دوا کی شیشی، ٹیوب یا ڈراپر کا ڈھکن کھولتے ہیں، تو اس کے اندر باہر کی ہوا، نمی اور جراثیم چلے جاتے ہیں۔ بار بار ڈھکن کھولنے سے دوا کو جراثیم سے بچانے والے کیمیکل کمزور پڑ جاتے ہیں اور شربت یا قطرے میں باریک جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی شربت کا رنگ یا بو بدل جائے، کوئی کریم پھٹ جائے یا گولی نرم ہو کر چورا ہونے لگے، تو سمجھ جائیں کہ یہ اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔</p>
<p>بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر دوا کھولنے کے ایک مہینے بعد پھینک دینی چاہیے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ قانون ہر دوا پر لاگو نہیں ہوتا۔ <a href="https://about:blank">انڈیا ٹوڈے</a> نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی دہلی کے شعبہ اطفال اور نیونیٹولوجی کے سربراہ ڈاکٹر سنجے کے جین کا کہنا ہے کہ ہر دوا کے لیے ایک ہی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق کئی عام استعمال کی جانے والی دوائیں مناسب طریقے سے محفوظ رکھنے پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر جین نے کہا، ”کچھ سیرپ جیسے کھانسی کی دوا، پیراسیٹامول سیرپ، وٹامن سیرپ اور دیگر عام دستیاب سیرپ عام طور پر ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح طریقے سے رکھا گیا ہو اور ان کے رنگ، بو یا شکل میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔“</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ گولیاں اور کیپسول بھی اکثر اپنی اصل پیکنگ، خاص طور پر بلیسٹر پیک میں، محفوظ رہتے ہیں اور انہیں ہدایات کے مطابق رکھنے کی صورت میں ایکسپائری ڈیٹ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم کچھ دوائیں ایسی ہیں جن کی مدت کھولنے کے بعد بہت کم ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ اینٹی بایوٹک سیرپ جو پاؤڈر کی شکل میں ہوتے ہیں اور استعمال سے پہلے ان میں پانی ملانا پڑتا ہے، انہیں زیادہ دن تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506034/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایسی اینٹی بایوٹک دوائیوں کو تیار ہونے کے بعد صرف 7 سے 14 دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوا باقی بھی ہو تو اسے پھینک دینا چاہیے۔ اگر ایسی دوا کا رنگ بدل جائے یا بوتل کے اندر ذرات نظر آئیں تو اسے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔</p>
<p>اسی طرح آئی ڈراپس اور انسولین کے ٹیکوں کا معاملہ بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ آنکھ کے قطرے کھولنے کے بعد عام طور پر 28 دنوں کے اندر ختم یا ضائع کر دینے چاہئیں کیونکہ بار بار آنکھ کے قریب لے جانے سے دوا کی نوک پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔</p>
<p>انسولین اور کچھ انجیکشن والی دواؤں کے لیے بھی الگ ہدایات ہوتی ہیں۔ انہیں مخصوص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور کھولنے کے بعد ان کے استعمال کی مدت محدود ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ دوا استعمال کرنے سے پہلے ہمیشہ اس کے لیبل یا پیکٹ پر دی گئی ہدایات ضرور پڑھیں۔ خاص طور پر آنکھوں کے قطرے، انسولین، لیکویڈ اینٹی بایوٹک اور فریج میں رکھنے والی دواؤں کے معاملے میں زیادہ احتیاط ضروری ہے۔</p>
<p>گھر میں موجود پرانی یا کھلی ہوئی دواؤں کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اگر کسی دوا کے بارے میں یقین نہ ہو کہ وہ اب بھی محفوظ ہے یا نہیں، تو اسے استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایکسپائری ڈیٹ دیکھنا کافی نہیں، کیونکہ کچھ دواؤں کے لیے اصل وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب بوتل یا پیکٹ پہلی بار کھولا جاتا ہے۔ اسی لیے دوا کھولنے کی تاریخ نوٹ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس کی آخری تاریخ دیکھنا۔</p>
<p>اگر کبھی کسی دوا کے بارے میں شک ہو کہ یہ ٹھیک ہے یا نہیں، تو خطرہ مول لینے کے بجائے اسے پھینک دینا ہی سب سے بہتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509364</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 12:32:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/191226396eb8e5b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/191226396eb8e5b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اسٹنٹ ڈلنے کے بعد بھی ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508877/healthy-lifestyle-heart-health-cardiology-coronary-artery-disease-angioplasty-heart-attack-risk-heart-stent</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دل کی شریان میں اسٹنٹ لگوانا بہت سے مریضوں کے لیے زندگی بدل دینے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار، جسے اینجیو پلاسٹی کے ساتھ اسٹنٹ لگانا کہا جاتا ہے، بند شریان کو کھول کر خون کی روانی بحال کرتا ہے، سینے کے درد میں آرام دیتا ہے اور کئی صورتوں میں دل کے دورے کے دوران مریض کی زندگی کا محافظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ اسٹنٹ لگنے کے بعد دل کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین امراض قلب کے مطابق اِسٹنٹ صرف اس شریان کو کھولتا ہے جہاں رکاوٹ پیدا ہو چکی ہو، لیکن یہ اس بنیادی بیماری کا علاج نہیں کرتا جس کی وجہ سے شریانوں میں چکنائی اور دیگر مادے جمع ہو کر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اگر مریض اپنی صحت کا خیال نہ رکھے اور خطرے کے عوامل پر قابو نہ پائے تو مستقبل میں نئی شریانیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/can-you-still-have-a-heart-attack-after-a-stent-what-patients-need-to-know-2947609-2026-07-15"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کے مطابق سی کے بِرلا اسپتال دہلی کے ڈائریکٹر برائے کارڈیالوجی ڈاکٹر انشول کمار جین کے مطابق اسٹنٹ کو مستقل علاج کے بجائے مجموعی علاج کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسٹنٹ ایک چھوٹے دھاتی سہارے کی طرح کام کرتا ہے جو بند شریان کو کھول دیتا ہے تاکہ خون دوبارہ آسانی سے بہہ سکے، لیکن یہ شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو نہیں روک سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سگریٹ نوشی، بے قابو ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، غیر صحت بخش غذا یا دواؤں میں لاپرواہی جاری رہے تو وقت کے ساتھ نئی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473085'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ امراض قلب کا کہنا ہے کہ دل کی شریانوں کو گھریلو پانی کی پائپ لائن کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بند حصہ کھول بھی دیا جائے لیکن نقصان دہ مادے مسلسل نظام میں شامل ہوتے رہیں تو دوسری جگہوں پر بھی رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جدید اسٹنٹ کافی مؤثر ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ ایک وجہ ”ری اسٹینوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر زخم کا ٹشو بننے لگتا ہے اور شریان دوبارہ تنگ ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جدید دوا خارج کرنے والے اسٹنٹس نے اس خطرے کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، لیکن یہ مسئلہ بعض مریضوں میں اب بھی سامنے آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سنگین پیچیدگی ”اسٹنٹ تھرومبوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ یہ نسبتاً کم ہوتا ہے، لیکن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خون پتلا کرنے والی تجویز کردہ دوائیں بند کر دے تو اس خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دل کی شریانوں کی بیماری وقت کے ساتھ بڑھنے والی بیماری ہے۔ اگرچہ اسٹنٹ لگی ہوئی شریان کھلی رہ سکتی ہے، لیکن دل کی دوسری شریانوں میں نئی چکنائی جمع ہو سکتی ہے، جس سے نئی رکاوٹیں پیدا ہونے اور دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض اگر اپنے علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کریں تو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ تمام دوائیں، خاص طور پر خون پتلا کرنے اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات، باقاعدگی سے استعمال کی جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30280205'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30280205"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ سگریٹ نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا اختیار کرنا، ڈاکٹر کی اجازت کے بعد باقاعدہ ورزش کرنا، مناسب وزن برقرار رکھنا اور ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی اہم ہے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ مریض باقاعدگی سے اپنے معالج سے معائنہ کراتے رہیں تاکہ کسی بھی نئی پیچیدگی کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کے مطابق اگر اسٹنٹ لگنے کے بعد بھی سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ آنا، چکر آنا، بے ہوشی، درد کا بازو، جبڑے یا کمر تک پھیل جانا یا مسلسل غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ بروقت علاج سنگین پیچیدگیوں سے بچانے اور جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹنٹ دل کی بند شریان کھول کر جان بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے، لیکن دل کی بیماری سے مکمل تحفظ کے لیے صرف یہ طریقہ کافی نہیں۔ ادویات کا باقاعدہ استعمال، صحت مند طرز زندگی اپنانا اور نئی علامات کو نظر انداز نہ کرنا ہی دل کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے کا مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دل کی شریان میں اسٹنٹ لگوانا بہت سے مریضوں کے لیے زندگی بدل دینے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار، جسے اینجیو پلاسٹی کے ساتھ اسٹنٹ لگانا کہا جاتا ہے، بند شریان کو کھول کر خون کی روانی بحال کرتا ہے، سینے کے درد میں آرام دیتا ہے اور کئی صورتوں میں دل کے دورے کے دوران مریض کی زندگی کا محافظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ اسٹنٹ لگنے کے بعد دل کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین امراض قلب کے مطابق اِسٹنٹ صرف اس شریان کو کھولتا ہے جہاں رکاوٹ پیدا ہو چکی ہو، لیکن یہ اس بنیادی بیماری کا علاج نہیں کرتا جس کی وجہ سے شریانوں میں چکنائی اور دیگر مادے جمع ہو کر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اگر مریض اپنی صحت کا خیال نہ رکھے اور خطرے کے عوامل پر قابو نہ پائے تو مستقبل میں نئی شریانیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/health/story/can-you-still-have-a-heart-attack-after-a-stent-what-patients-need-to-know-2947609-2026-07-15">انڈیا ٹوڈے</a> کے مطابق سی کے بِرلا اسپتال دہلی کے ڈائریکٹر برائے کارڈیالوجی ڈاکٹر انشول کمار جین کے مطابق اسٹنٹ کو مستقل علاج کے بجائے مجموعی علاج کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسٹنٹ ایک چھوٹے دھاتی سہارے کی طرح کام کرتا ہے جو بند شریان کو کھول دیتا ہے تاکہ خون دوبارہ آسانی سے بہہ سکے، لیکن یہ شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو نہیں روک سکتا۔</p>
<p>اگر سگریٹ نوشی، بے قابو ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، غیر صحت بخش غذا یا دواؤں میں لاپرواہی جاری رہے تو وقت کے ساتھ نئی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473085'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرینِ امراض قلب کا کہنا ہے کہ دل کی شریانوں کو گھریلو پانی کی پائپ لائن کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بند حصہ کھول بھی دیا جائے لیکن نقصان دہ مادے مسلسل نظام میں شامل ہوتے رہیں تو دوسری جگہوں پر بھی رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق جدید اسٹنٹ کافی مؤثر ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ ایک وجہ ”ری اسٹینوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر زخم کا ٹشو بننے لگتا ہے اور شریان دوبارہ تنگ ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جدید دوا خارج کرنے والے اسٹنٹس نے اس خطرے کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، لیکن یہ مسئلہ بعض مریضوں میں اب بھی سامنے آ سکتا ہے۔</p>
<p>ایک اور سنگین پیچیدگی ”اسٹنٹ تھرومبوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ یہ نسبتاً کم ہوتا ہے، لیکن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خون پتلا کرنے والی تجویز کردہ دوائیں بند کر دے تو اس خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ دل کی شریانوں کی بیماری وقت کے ساتھ بڑھنے والی بیماری ہے۔ اگرچہ اسٹنٹ لگی ہوئی شریان کھلی رہ سکتی ہے، لیکن دل کی دوسری شریانوں میں نئی چکنائی جمع ہو سکتی ہے، جس سے نئی رکاوٹیں پیدا ہونے اور دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض اگر اپنے علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کریں تو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ تمام دوائیں، خاص طور پر خون پتلا کرنے اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات، باقاعدگی سے استعمال کی جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30280205'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30280205"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے ساتھ سگریٹ نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا اختیار کرنا، ڈاکٹر کی اجازت کے بعد باقاعدہ ورزش کرنا، مناسب وزن برقرار رکھنا اور ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی اہم ہے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ مریض باقاعدگی سے اپنے معالج سے معائنہ کراتے رہیں تاکہ کسی بھی نئی پیچیدگی کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔</p>
<p>ڈاکٹروں کے مطابق اگر اسٹنٹ لگنے کے بعد بھی سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ آنا، چکر آنا، بے ہوشی، درد کا بازو، جبڑے یا کمر تک پھیل جانا یا مسلسل غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ بروقت علاج سنگین پیچیدگیوں سے بچانے اور جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹنٹ دل کی بند شریان کھول کر جان بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے، لیکن دل کی بیماری سے مکمل تحفظ کے لیے صرف یہ طریقہ کافی نہیں۔ ادویات کا باقاعدہ استعمال، صحت مند طرز زندگی اپنانا اور نئی علامات کو نظر انداز نہ کرنا ہی دل کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے کا مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508877</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 15:59:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1515523340b7c46.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1515523340b7c46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مون سون میں انسولین رکھنے والے کون سی جان لیوا غلطی کرتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508550/diabetes-monsoon-health-tips-insulin-blood-sugar-diabetes-care-insulin-storage</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مون سون کی بارشیں گرمی سے تو راحت دیتی ہیں، لیکن ذیابیطس کے مریضوں، خاص طور پر انسولین استعمال کرنے والوں کے لیے نمی اور موسم کی تبدیلی ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق زیادہ نمی صرف خوراک یا پانی کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اگر انسولین کو درست طریقے سے محفوظ نہ رکھا جائے تو اس کی تاثیر بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح بے قابو ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/family-health/high-humidity-warning-the-critical-insulin-storage-mistakes-diabetics-make-in-monsoon-11761370"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق ماہر امراضِ ذیابیطس ڈاکٹر سمیر بھردواج کے مطابق زیادہ نمی انسولین کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مریض صرف یہ سمجھتے ہیں کہ انسولین کو دھوپ سے بچانا کافی ہے، جبکہ حقیقت میں مون سون کے دوران ہوا میں موجود زیادہ نمی بھی انسولین کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیر کے مطابق اگر انسولین اپنی اصل تاثیر کھو دے تو مریض بظاہر معمول کے مطابق انجیکشن لگاتا رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود خون میں شوگر کی سطح غیر متوقع طور پر بڑھ سکتی ہے، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ انسولین ایک حساس پروٹین ہارمون ہے، جسے مخصوص درجہ حرارت اور مناسب ماحول میں محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے زیادہ نمی یا بار بار بدلتے ہوئے درجہ حرارت میں رکھا جائے تو اس کی کیمیائی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ بظاہر اس کا رنگ یا شکل تبدیل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30405159'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405159"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران انسولین محفوظ رکھنے میں تین عام غلطیاں اکثر دیکھی جاتی ہیں۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ بعض افراد ٹھنڈک فراہم کرنے والے خصوصی بیگ یا کولنگ والیٹ پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ ایسے بیگ خشک موسم میں تو مؤثر رہتے ہیں، لیکن زیادہ نمی کی وجہ سے ان میں پانی کے بخارات خارج نہیں ہو پاتے، جس کے باعث مطلوبہ ٹھنڈک برقرار نہیں رہتی اور انسولین متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری عام غلطی انسولین کو فریج کے دروازے میں رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق فریج کا دروازہ بار بار کھلنے اور بند ہونے سے اندر کا درجہ حرارت مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے اور گرم و مرطوب ہوا انسولین تک پہنچتی رہتی ہے، جس سے اس کی تاثیر کم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے بجائے انسولین کو فریج کی درمیانی شیلف پر رکھنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری غلطی یہ ہے کہ لوگ صرف انسولین کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کے محفوظ ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کئی مرتبہ انسولین کا رنگ، شفافیت یا شکل تبدیل نہیں ہوتی، لیکن اس کی طبی تاثیر کم ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مریض معمول کی مقدار استعمال کرنے کے باوجود خون میں شوگر بڑھنے کا سامنا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346704'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمیر کا کہنا ہے کہ اگر خوراک اور دوا کے معمول پر عمل کرنے کے باوجود کھانے کے بعد شوگر کی سطح بار بار غیر متوقع طور پر بڑھ رہی ہو تو صرف انسولین کی مقدار بڑھانے کے بجائے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں استعمال ہونے والی انسولین متاثر تو نہیں ہو گئی۔ ایسی صورت میں نئی اور درست طریقے سے محفوظ رکھی گئی انسولین استعمال کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ مون سون کے دوران انسولین کے پین یا شیشی کو ہوا بند پلاسٹک یا شیشے کے صاف ڈبے میں رکھیں تاکہ نمی اندر نہ جا سکے۔ اس کے علاوہ انسولین کو ہمیشہ مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جائے اور استعمال سے پہلے اس کی حالت کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں انسولین کو صحیح طریقے سے محفوظ رکھنا شوگر کے مریضوں کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا وقت پر دوا لینا، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی خون میں شوگر کی سطح کو غیر متوازن کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مون سون کی بارشیں گرمی سے تو راحت دیتی ہیں، لیکن ذیابیطس کے مریضوں، خاص طور پر انسولین استعمال کرنے والوں کے لیے نمی اور موسم کی تبدیلی ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق زیادہ نمی صرف خوراک یا پانی کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اگر انسولین کو درست طریقے سے محفوظ نہ رکھا جائے تو اس کی تاثیر بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح بے قابو ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/family-health/high-humidity-warning-the-critical-insulin-storage-mistakes-diabetics-make-in-monsoon-11761370">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق ماہر امراضِ ذیابیطس ڈاکٹر سمیر بھردواج کے مطابق زیادہ نمی انسولین کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مریض صرف یہ سمجھتے ہیں کہ انسولین کو دھوپ سے بچانا کافی ہے، جبکہ حقیقت میں مون سون کے دوران ہوا میں موجود زیادہ نمی بھی انسولین کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر سمیر کے مطابق اگر انسولین اپنی اصل تاثیر کھو دے تو مریض بظاہر معمول کے مطابق انجیکشن لگاتا رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود خون میں شوگر کی سطح غیر متوقع طور پر بڑھ سکتی ہے، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ انسولین ایک حساس پروٹین ہارمون ہے، جسے مخصوص درجہ حرارت اور مناسب ماحول میں محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے زیادہ نمی یا بار بار بدلتے ہوئے درجہ حرارت میں رکھا جائے تو اس کی کیمیائی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، حالانکہ بظاہر اس کا رنگ یا شکل تبدیل نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30405159'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405159"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران انسولین محفوظ رکھنے میں تین عام غلطیاں اکثر دیکھی جاتی ہیں۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ بعض افراد ٹھنڈک فراہم کرنے والے خصوصی بیگ یا کولنگ والیٹ پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ ایسے بیگ خشک موسم میں تو مؤثر رہتے ہیں، لیکن زیادہ نمی کی وجہ سے ان میں پانی کے بخارات خارج نہیں ہو پاتے، جس کے باعث مطلوبہ ٹھنڈک برقرار نہیں رہتی اور انسولین متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری عام غلطی انسولین کو فریج کے دروازے میں رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق فریج کا دروازہ بار بار کھلنے اور بند ہونے سے اندر کا درجہ حرارت مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے اور گرم و مرطوب ہوا انسولین تک پہنچتی رہتی ہے، جس سے اس کی تاثیر کم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے بجائے انسولین کو فریج کی درمیانی شیلف پر رکھنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔</p>
<p>تیسری غلطی یہ ہے کہ لوگ صرف انسولین کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کے محفوظ ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کئی مرتبہ انسولین کا رنگ، شفافیت یا شکل تبدیل نہیں ہوتی، لیکن اس کی طبی تاثیر کم ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مریض معمول کی مقدار استعمال کرنے کے باوجود خون میں شوگر بڑھنے کا سامنا کر سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30346704'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر سمیر کا کہنا ہے کہ اگر خوراک اور دوا کے معمول پر عمل کرنے کے باوجود کھانے کے بعد شوگر کی سطح بار بار غیر متوقع طور پر بڑھ رہی ہو تو صرف انسولین کی مقدار بڑھانے کے بجائے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں استعمال ہونے والی انسولین متاثر تو نہیں ہو گئی۔ ایسی صورت میں نئی اور درست طریقے سے محفوظ رکھی گئی انسولین استعمال کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ مون سون کے دوران انسولین کے پین یا شیشی کو ہوا بند پلاسٹک یا شیشے کے صاف ڈبے میں رکھیں تاکہ نمی اندر نہ جا سکے۔ اس کے علاوہ انسولین کو ہمیشہ مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھا جائے اور استعمال سے پہلے اس کی حالت کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔</p>
<p>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں انسولین کو صحیح طریقے سے محفوظ رکھنا شوگر کے مریضوں کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا وقت پر دوا لینا، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی خون میں شوگر کی سطح کو غیر متوازن کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508550</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 12:02:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/131157013091e23.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/131157013091e23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قریب المرگ لوگ زیادہ تر کیا باتیں کرتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508214/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زندگی اور موت کے درمیان کا آخری سفر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک پراسرار حقیقت رہا ہے۔ موت کے قریب پہنچنے والے افراد کن احساسات سے گزرتے ہیں، وہ کیا دیکھتے اور کیا کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب برطانیہ کی ایک تجربہ کار نرس نے اپنے دو دہائیوں پر محیط مشاہدات کی روشنی میں دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نرس گزشتہ بیس برس سے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں جو زندگی کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر موت قدرتی طور پر واقع ہو رہی ہو تو زیادہ تر مریض ایک جیسے جسمانی اور ذہنی مراحل سے گزرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی کا کہنا ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں مریض معمول سے کہیں زیادہ سونے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، گفتگو کم ہو جاتی ہے اور وہ ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں جسم بتدریج اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ طب میں اسے موت سے پہلے کا قدرتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلِ خانہ اکثر خوف اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ ان کے بقول، خاندان کو چاہیے کہ وہ ان تبدیلیوں کو غیر معمولی سمجھنے کے بجائے صبر اور سکون کے ساتھ مریض کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مریض اپنے آخری گھنٹوں یا دنوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جو حیران کن حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وہ عزیز دکھائی دے رہے ہیں جو برسوں پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی سفر پر روانہ ہونے یا منزل کے قریب پہنچنے جیسی باتیں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508162/the-hidden-treasure-of-nutrition-in-coriander-stems-discover-it-and-youll-be-amazed-too'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے بہت سے مریض خوف کے بجائے ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں موت کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس قدرتی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں اور غیر ضروری خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، طبی تعلیم کا زیادہ تر زور مریض کی جان بچانے اور زندگی کو طول دینے پر ہوتا ہے، اسی لیے بعض اوقات موت کو ناکامی تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر اور فطری حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406065/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتی ہیں کہ بہت سے خاندان اس حقیقت کو قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیارے کی زندگی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہاسپس عملے کی ذمہ داری صرف مریض کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اہلِ خانہ کو بھی ذہنی طور پر اس مرحلے کے لیے تیار کرنا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق اگرچہ ہر انسان کا آخری سفر منفرد ہوتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں زیادہ تر مریضوں میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جن میں غیر معمولی نیند، اردگرد کے ماحول پر کم ردعمل، جسمانی کمزوری میں اضافہ اور آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ موت کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اگر اسے زندگی کے ایک قدرتی مرحلے کے طور پر سمجھا جائے تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ دونوں کے لیے اس سفر کو زیادہ سکون کے ساتھ گزارنا ممکن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زندگی اور موت کے درمیان کا آخری سفر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک پراسرار حقیقت رہا ہے۔ موت کے قریب پہنچنے والے افراد کن احساسات سے گزرتے ہیں، وہ کیا دیکھتے اور کیا کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب برطانیہ کی ایک تجربہ کار نرس نے اپنے دو دہائیوں پر محیط مشاہدات کی روشنی میں دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی نرس گزشتہ بیس برس سے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں جو زندگی کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر موت قدرتی طور پر واقع ہو رہی ہو تو زیادہ تر مریض ایک جیسے جسمانی اور ذہنی مراحل سے گزرتے ہیں۔</p>
<p>پینی کا کہنا ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں مریض معمول سے کہیں زیادہ سونے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، گفتگو کم ہو جاتی ہے اور وہ ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں جسم بتدریج اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ طب میں اسے موت سے پہلے کا قدرتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلِ خانہ اکثر خوف اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ ان کے بقول، خاندان کو چاہیے کہ وہ ان تبدیلیوں کو غیر معمولی سمجھنے کے بجائے صبر اور سکون کے ساتھ مریض کا ساتھ دیں۔</p>
<p>پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مریض اپنے آخری گھنٹوں یا دنوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جو حیران کن حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وہ عزیز دکھائی دے رہے ہیں جو برسوں پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی سفر پر روانہ ہونے یا منزل کے قریب پہنچنے جیسی باتیں کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508162/the-hidden-treasure-of-nutrition-in-coriander-stems-discover-it-and-youll-be-amazed-too'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے بہت سے مریض خوف کے بجائے ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>پینی کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں موت کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس قدرتی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں اور غیر ضروری خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول، طبی تعلیم کا زیادہ تر زور مریض کی جان بچانے اور زندگی کو طول دینے پر ہوتا ہے، اسی لیے بعض اوقات موت کو ناکامی تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر اور فطری حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406065/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وہ کہتی ہیں کہ بہت سے خاندان اس حقیقت کو قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیارے کی زندگی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہاسپس عملے کی ذمہ داری صرف مریض کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اہلِ خانہ کو بھی ذہنی طور پر اس مرحلے کے لیے تیار کرنا ہوتی ہے۔</p>
<p>پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق اگرچہ ہر انسان کا آخری سفر منفرد ہوتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں زیادہ تر مریضوں میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جن میں غیر معمولی نیند، اردگرد کے ماحول پر کم ردعمل، جسمانی کمزوری میں اضافہ اور آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کرنا شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ موت کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اگر اسے زندگی کے ایک قدرتی مرحلے کے طور پر سمجھا جائے تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ دونوں کے لیے اس سفر کو زیادہ سکون کے ساتھ گزارنا ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508214</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 15:37:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1015293686a3a9c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1015293686a3a9c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال میچز کا جوش دل کے لیے خطرناک کیوں ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507924/why-is-the-excitement-of-football-matches-dangerous-for-the-heart</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں سال فٹ بال ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں نے جہاں دنیا بھر کے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے، وہاں ان میچوں کے دوران لوگوں کے جذبات بھی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ فٹبال میچ صرف کھیل نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے لیے جذبات کا طوفان ہوتا ہے۔ ایک ہی میچ کے دوران خوشی، غم، بے چینی اور شدید سنسنی جیسے مختلف احساسات یکجا ہو جاتے ہیں۔ میچ کے آخری لمحات میں تیز رفتار حملوں، دفاع توڑنے کی کوششوں اور گول کرنے کے فیصلہ کن مواقع کے دوران جوش اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ اس کا براہِ راست اثر انسان کے دل پر پڑ سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے اس حوالے سے شائقین کے لیے کچھ اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/editor-selection/2026/07/07/%D9%81%D9%B9%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D9%88%D8%B4-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%DA%A9%D8%A8-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%D9%86%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D9%86-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-"&gt;العربیہ &lt;/a&gt;میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میتھوڈسٹ اسپتال کے شعبۂ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر ولیم زغبی کہتے ہیں کہ فٹ بال میچ دیکھتے ہوئے شدید جذباتی تناؤ، جوش اور بے چینی کی وجہ سے انسان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے نزدیک خاص طور پر وہ لوگ جنہیں پہلے سے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر یا شوگر کا مسئلہ ہو، ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں بڑے فٹبال ٹورنامنٹس کے دوران دل کے دورے کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506423/why-do-small-issues-turn-into-big-arguments-during-hot-weather'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب آخری منٹ میں گول ہو، پنالٹی ملے یا ریفری کوئی متنازع فیصلہ دے تو شائقین کے جذبات بہت تیزی سے بدلتے ہیں۔ خوشی، غصہ یا پریشانی کے یہ شدید لمحات دل کی دھڑکن اور خون کے دباؤ کو اچانک متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جسم کا ایک بالکل فطری ردِعمل ہے، جسے طبی زبان میں فائٹ اور فلائٹ یعنی لڑو یا بھاگو ردِعمل کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ نظام انسان کو خطرناک حالات کا سامنا کرنے یا دشمن سے جان بچا کر بھاگنے کے لیے تیار کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08130453e4c1ce3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08130453e4c1ce3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زغبی نے وضاحت کی کہ جب انسان کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم کے غدود ایسے ہارمون خارج کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتے ہیں تاکہ انسان مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا ہو جائے اور اسے اضافی توانائی ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شائقین کے شدید جوش و خروش پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ولیم زغبی نے کہا کہ اگرچہ فٹ بال میچ کے دوران شدید جوش بظاہر ایسا خطرہ نہیں لگتا جس کے لیے جسم اس طرح کا ردِعمل ظاہر کرے، لیکن ہمارا جسم اس فرق کو نہیں سمجھ پاتا۔ اسے صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک انتہائی دباؤ والی کیفیت سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عام لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر افراد کے لیے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ سنسنی خیز میچ دیکھتے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں یہ عارضی اضافہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتا اور یہ تبدیلیاں اتنی دیر برقرار نہیں رہتیں کہ دل پر کوئی مستقل برا اثر ڈالیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506207/why-is-watching-too-many-reels-and-shorts-dangerous-for-your-eyes-and-brain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;البتہ دل کے مریضوں کے لیے صورتحال کافی مختلف اور تشویشناک ہو سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھنے سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اسے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے دل یا شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سنسنی خیز میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، دباؤ، گھٹن یا سانس پھولنے جیسی علامات زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ولیم زغبی کے مطابق بہت کم صورتوں میں شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی تناؤ اسٹریس کارڈیو مایوپیتھی یعنی دباؤ سے ہونے والی دل کے پٹھوں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو پہلے ہی اس عارضے کا شکار ہوں اور انہیں اس کا علم نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر زغبی نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ زیادہ تر مریض اس سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن شدید ذہنی دباؤ یا غیر معمولی جوش و خروش بعض اوقات دل کے لیے خطرناک پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فٹ بال کے تمام شائقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ، خواہ صحت مند ہوں یا دل کے مریض، میچوں کے دوران اپنے دل کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ کھیل سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز انتہائی ضروری ہے تاکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیم کی حوصلہ افزائی کا یہ تجربہ صحت کے لیے محفوظ اور خوشگوار ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں میچ دیکھنا خود خطرناک نہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ جذباتی دباؤ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ میچ کے دوران پرسکون رہنا، پانی پینا، بہت زیادہ شور اور غصے سے بچنا اور اپنی صحت کی حالت کو نظر میں رکھنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دل کے مریضوں کو خاص طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، چکر یا غیر معمولی دھڑکن محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کا جوش کھیل کا حسن ہے، لیکن دل کی حفاظت کے لیے خوشی اور غصے دونوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں سال فٹ بال ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلوں نے جہاں دنیا بھر کے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے، وہاں ان میچوں کے دوران لوگوں کے جذبات بھی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ فٹبال میچ صرف کھیل نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے لیے جذبات کا طوفان ہوتا ہے۔ ایک ہی میچ کے دوران خوشی، غم، بے چینی اور شدید سنسنی جیسے مختلف احساسات یکجا ہو جاتے ہیں۔ میچ کے آخری لمحات میں تیز رفتار حملوں، دفاع توڑنے کی کوششوں اور گول کرنے کے فیصلہ کن مواقع کے دوران جوش اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ اس کا براہِ راست اثر انسان کے دل پر پڑ سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے اس حوالے سے شائقین کے لیے کچھ اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/editor-selection/2026/07/07/%D9%81%D9%B9%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D9%88%D8%B4-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%DA%A9%D8%A8-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%D9%86%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D9%86-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-">العربیہ </a>میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میتھوڈسٹ اسپتال کے شعبۂ امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر ولیم زغبی کہتے ہیں کہ فٹ بال میچ دیکھتے ہوئے شدید جذباتی تناؤ، جوش اور بے چینی کی وجہ سے انسان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے نزدیک خاص طور پر وہ لوگ جنہیں پہلے سے دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر یا شوگر کا مسئلہ ہو، ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں بڑے فٹبال ٹورنامنٹس کے دوران دل کے دورے کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506423/why-do-small-issues-turn-into-big-arguments-during-hot-weather'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب آخری منٹ میں گول ہو، پنالٹی ملے یا ریفری کوئی متنازع فیصلہ دے تو شائقین کے جذبات بہت تیزی سے بدلتے ہیں۔ خوشی، غصہ یا پریشانی کے یہ شدید لمحات دل کی دھڑکن اور خون کے دباؤ کو اچانک متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جسم کا ایک بالکل فطری ردِعمل ہے، جسے طبی زبان میں فائٹ اور فلائٹ یعنی لڑو یا بھاگو ردِعمل کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ نظام انسان کو خطرناک حالات کا سامنا کرنے یا دشمن سے جان بچا کر بھاگنے کے لیے تیار کرتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08130453e4c1ce3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08130453e4c1ce3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر زغبی نے وضاحت کی کہ جب انسان کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم کے غدود ایسے ہارمون خارج کرتے ہیں جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتے ہیں تاکہ انسان مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا ہو جائے اور اسے اضافی توانائی ملے۔</p>
<p>شائقین کے شدید جوش و خروش پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ولیم زغبی نے کہا کہ اگرچہ فٹ بال میچ کے دوران شدید جوش بظاہر ایسا خطرہ نہیں لگتا جس کے لیے جسم اس طرح کا ردِعمل ظاہر کرے، لیکن ہمارا جسم اس فرق کو نہیں سمجھ پاتا۔ اسے صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک انتہائی دباؤ والی کیفیت سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عام لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر افراد کے لیے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ سنسنی خیز میچ دیکھتے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں یہ عارضی اضافہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتا اور یہ تبدیلیاں اتنی دیر برقرار نہیں رہتیں کہ دل پر کوئی مستقل برا اثر ڈالیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506207/why-is-watching-too-many-reels-and-shorts-dangerous-for-your-eyes-and-brain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>البتہ دل کے مریضوں کے لیے صورتحال کافی مختلف اور تشویشناک ہو سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھنے سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اسے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے دل یا شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد کو سنسنی خیز میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، دباؤ، گھٹن یا سانس پھولنے جیسی علامات زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر ولیم زغبی کے مطابق بہت کم صورتوں میں شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی تناؤ اسٹریس کارڈیو مایوپیتھی یعنی دباؤ سے ہونے والی دل کے پٹھوں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے افراد میں جو پہلے ہی اس عارضے کا شکار ہوں اور انہیں اس کا علم نہ ہو۔</p>
<p>ڈاکٹر زغبی نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ زیادہ تر مریض اس سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن شدید ذہنی دباؤ یا غیر معمولی جوش و خروش بعض اوقات دل کے لیے خطرناک پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے فٹ بال کے تمام شائقین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ، خواہ صحت مند ہوں یا دل کے مریض، میچوں کے دوران اپنے دل کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ کھیل سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور سگریٹ نوشی سے پرہیز انتہائی ضروری ہے تاکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیم کی حوصلہ افزائی کا یہ تجربہ صحت کے لیے محفوظ اور خوشگوار ثابت ہو۔</p>
<p>یاد رکھیں میچ دیکھنا خود خطرناک نہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ جذباتی دباؤ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ میچ کے دوران پرسکون رہنا، پانی پینا، بہت زیادہ شور اور غصے سے بچنا اور اپنی صحت کی حالت کو نظر میں رکھنا بہتر ہے۔</p>
<p>دل کے مریضوں کو خاص طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر میچ دیکھتے ہوئے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، چکر یا غیر معمولی دھڑکن محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔</p>
<p>فٹبال کا جوش کھیل کا حسن ہے، لیکن دل کی حفاظت کے لیے خوشی اور غصے دونوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507924</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 13:05:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/08133537451d556.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/08133537451d556.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/08130453e4c1ce3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/08130453e4c1ce3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کون سی بیماری کم عمری میں بالوں کی سفیدی کا باعث بنتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507897/what-diseases-can-cause-premature-graying-of-hair</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوجوانوں اور بچوں میں وقت سے پہلے بالوں کا سفید ہونا اب ایک انتہائی عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جسے اکثر لوگ پڑھائی یا نوکری کا تناؤ، آلودگی اور خراب پانی کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وقت سے پہلے بالوں کی سفیدی کسی اندرونی اور سنگین بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بروقت طبی معائنہ کئی بیماریوں کی جلد تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کا قدرتی رنگ ”میلانن“ نامی مادے کی وجہ سے برقرار رہتا ہے۔ جب جسم میں میلانن بننے کا عمل متاثر ہو یا اس کی پیداوار کم ہو جائے تو بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تبدیلی کم عمر میں نمایاں ہونے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30362655'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ کئی اضافی عوامل کی وجہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، فضائی آلودگی، دھول مٹی، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، نیند کی کمی اور جسم میں وٹامن ڈی، آئرن اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بالوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسم میں پیدا ہونے والی چند مخصوص بیماریاں اور غذائی اجزاء کی شدید کمی بھی بالوں کو تیزی سے سفید کرنے کا سبب بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وٹامن بی12 کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی بالوں کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب جسم کو یہ اہم وٹامن نہیں ملتا تو بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی اصل رنگت کھونے لگتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے انسان کو ہر وقت تھکاوٹ، کمزوری اور چکر آنے کی شکایت بھی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائیرائیڈ کے مسائل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلے میں موجود تھائیرائیڈ گلینڈ کی خرابی بھی بالوں کی دشمن ہے۔ اگر کسی شخص کا تھائیرائیڈ لیول بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو بال نہ صرف تیزی سے گرتے ہیں بلکہ چھوٹی عمر میں ہی سفید ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خون کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خون کی کمی یعنی آئرن کی کمی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے تو بالوں کی جڑوں تک آکسیجن اور ضروری غذائیت نہیں پہنچ پاتی، جس سے بال عمر سے پہلے سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/250227'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/250227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وٹیلیگو&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم وجہ ’وٹیلیگو‘ نامی بیماری ہے جسے عام زبان میں برص کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں جلد کے ساتھ ساتھ کھوپڑی کا وہ حصہ بھی اپنی قدرتی رنگت کھو دیتا ہے جہاں یہ اثر کرتی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ حصے کے بال بالکل سفید ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلسل تناؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سب بیماریوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت کی ذہنی پریشانی اور مسلسل تناؤ بھی بالوں کی رنگت کو تیزی سے ختم کرتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک رہنے والا تناؤ بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے سفید بال جلد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کو چھوٹی عمر میں اچانک اور بہت تیزی سے بالوں کی سفیدی کا سامنا ہو یا اس کے ساتھ جسم میں شدید کمزوری، تھکاوٹ اور وزن کا اچانک گرنا یا بڑھنا محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وقت پر اصل بیماری کا پتا چل سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نوجوانوں اور بچوں میں وقت سے پہلے بالوں کا سفید ہونا اب ایک انتہائی عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جسے اکثر لوگ پڑھائی یا نوکری کا تناؤ، آلودگی اور خراب پانی کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وقت سے پہلے بالوں کی سفیدی کسی اندرونی اور سنگین بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بروقت طبی معائنہ کئی بیماریوں کی جلد تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کا قدرتی رنگ ”میلانن“ نامی مادے کی وجہ سے برقرار رہتا ہے۔ جب جسم میں میلانن بننے کا عمل متاثر ہو یا اس کی پیداوار کم ہو جائے تو بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تبدیلی کم عمر میں نمایاں ہونے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30362655'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ کئی اضافی عوامل کی وجہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، فضائی آلودگی، دھول مٹی، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، نیند کی کمی اور جسم میں وٹامن ڈی، آئرن اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بالوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>جسم میں پیدا ہونے والی چند مخصوص بیماریاں اور غذائی اجزاء کی شدید کمی بھی بالوں کو تیزی سے سفید کرنے کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p><strong>وٹامن بی12 کی کمی</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی بالوں کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب جسم کو یہ اہم وٹامن نہیں ملتا تو بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی اصل رنگت کھونے لگتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے انسان کو ہر وقت تھکاوٹ، کمزوری اور چکر آنے کی شکایت بھی رہتی ہے۔</p>
<p><strong>تھائیرائیڈ کے مسائل</strong></p>
<p>گلے میں موجود تھائیرائیڈ گلینڈ کی خرابی بھی بالوں کی دشمن ہے۔ اگر کسی شخص کا تھائیرائیڈ لیول بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو بال نہ صرف تیزی سے گرتے ہیں بلکہ چھوٹی عمر میں ہی سفید ہو جاتے ہیں۔</p>
<p><strong>خون کی کمی</strong></p>
<p>خون کی کمی یعنی آئرن کی کمی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے تو بالوں کی جڑوں تک آکسیجن اور ضروری غذائیت نہیں پہنچ پاتی، جس سے بال عمر سے پہلے سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/250227'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/250227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>وٹیلیگو</strong></p>
<p>ایک اور اہم وجہ ’وٹیلیگو‘ نامی بیماری ہے جسے عام زبان میں برص کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں جلد کے ساتھ ساتھ کھوپڑی کا وہ حصہ بھی اپنی قدرتی رنگت کھو دیتا ہے جہاں یہ اثر کرتی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ حصے کے بال بالکل سفید ہو جاتے ہیں۔</p>
<p><strong>مسلسل تناؤ</strong></p>
<p>ان سب بیماریوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت کی ذہنی پریشانی اور مسلسل تناؤ بھی بالوں کی رنگت کو تیزی سے ختم کرتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک رہنے والا تناؤ بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے سفید بال جلد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔</p>
<p>اگر آپ کو چھوٹی عمر میں اچانک اور بہت تیزی سے بالوں کی سفیدی کا سامنا ہو یا اس کے ساتھ جسم میں شدید کمزوری، تھکاوٹ اور وزن کا اچانک گرنا یا بڑھنا محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وقت پر اصل بیماری کا پتا چل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507897</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 10:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/08102938bbb412e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/08102938bbb412e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کریں: ماہرینِ امراضِ قلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507659/cardiologists-urge-people-to-monitor-blood-pressure-cholesterol-and-blood-sugar-levels-regularly</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین&amp;lt; امراضِ قلب نے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، کیونکہ جدید تکنیکوں کی مدد سے ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر راجکمار سچدوانی کے مطابق، ہارٹ فیل ہونا پاکستان سمیت دنیا بھر میں موت کی واحد سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ علاج کے جدید طریقوں نے دل کے مریضوں کو طویل عمر تک، یعنی 70 سے 80 سال کی عمر تک جینے میں مدد فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں صرف ایک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے نمبر معلوم ہونے چاہئیں جن میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمم باتیں ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی چھبیسویں سالانہ کارڈیالوجی اپڈیٹ سے خطاب کے دوران کہیں۔ اس تقریب کا عنوان ’کارڈیالوجی میں ایجادات: ثبوت سے فضیلت‘ تک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی یہ تین روزہ کانفرنس رواں ماہ کے اوائل میں بھوربن میں منعقد ہوئی تھی، جسے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا، اور اس میں متعدد سیشنز اور ورکشاپس شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;‘ایڈوانسڈ ہارٹ فیلر: مینجمنٹ اینڈ فیوچر ڈائریکشنز‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے وضاحت کی کہ نیویارک ہارٹ ایسوسی ایشن اب ہارٹ فیل ہونے والے مریضوں کو چار الگ الگ کلاسوں میں تقسیم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، کلاس ون کے تحت، دل کے مریضوں میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ البتہ، ان کی فیملی ہسٹری میں شوگر، بلڈ پریشر اور ہارٹ فیل ہونا شامل ہوتا ہے۔ کلاس ٹو کے تحت بھی مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن جب ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو ان کے دل کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلیاں تشخیص ہوتی ہیں۔ وہ غیر کنٹرول شدہ شوگر یا بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کلاس تھری میں، دل کے مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں، جن میں سانس پھولنا شامل ہے۔ جب چیک کیا جائے تو ان کا دل ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ آرام کی حالت میں تو ٹھیک رہتے ہیں، لیکن عام سے کم جسمانی سرگرمیوں میں بھی انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور کلاس فور میں، مریضوں کو سانس پھولنے کی شدید ترین صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سچدوانی نے کہا کہ ہارٹ فیل ہونے کی علامات آرام کے وقت بھی موجود ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان دنوں، ماہرینِ امراضِ قلب کلاس ون کے مریضوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور انہیں اپنی خوراک، وزن اور ورزش پر توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزن اب صرف ایک خطرہ نہیں رہا، بلکہ یہ خود ایک بیماری بن چکا ہے۔ مارکیٹ میں وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ترین ادویات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہارٹ فیل ہونا بہت خطرناک ہے۔ یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے معمولات ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتے ہیں، جو کہ ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں کے پیچھے واحد سب سے بڑی وجہ ہے، اور پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس بات سے ناواقف ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو جنگک اور گہرے تلے ہوئے کھانے کے ساتھ ساتھ شکر والے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے اور پیدل چلنے اور ورزش کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے کہا کہ روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلنے کی عام طور پر ہر ایک کو سفارش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاندان میں چالیس سال سے زائد عمر کے چار افراد ہوں تو ان میں سے ایک بلڈ پریشر کا مریض ہوگا، اور بلڈ پریشر کے تقریباً پچاس فیصد مریض اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ ایک خاموش قاتل کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اس پچاس فیصد میں سے جو لوگ واقف ہیں، ان میں سے صرف آدھے ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں، اور ان میں سے بھی صرف آدھے صحیح ادویات لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سچدوانی نے چالیس سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر کی نگرانی میں خون پتلا کرنے والی دوا، یا تو اسکارڈ یا ڈسپرین کی 75 ملی گرام کی گولی لیں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ خوراک کے نتیجے میں اندرونی خون بہنے اور انیمیا یعنی خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ پی ٹی / آئی این آر نامی خون کا ٹیسٹ خون کے پتلے پن کی نگرانی کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2016 میں تقریباً انیس فیصد اموات دل سے متعلقہ امراض کی وجہ سے ہوئیں، جو کہ اب بڑھ کر انتیس فیصد ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ہارٹ اٹیک کے تناسب پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، سال 2020 میں پاکستان میں کورونری ہارٹ ڈیزیز سے دو لاکھ 40 ہزار 720 افراد لقمہ اجل بنے، جو کہ کل اموات کا 16.49 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں اموات کی شرح فی ایک لاکھ افراد میں 193.56 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق 38.6 ملین پاکستانی بالغ افراد، جن کی عمریں 30 سے 79 سال کے درمیان ہیں، ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ جی رہے ہیں۔ یہ بالغ آبادی کے 42 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے، جو کہ 34 فیصد کی عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے صرف بارہ فیصد کی حالت کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی اور ڈائریکٹر کیتھ لیب ڈاکٹر اویس احمد نظامی نے کہا کہ معاشرے میں ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور ساٹھ سال کی عمر کے آس پاس 140/90 کی ریڈنگ بالکل ٹھیک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ 120/80 سے اوپر کے بلڈ پریشر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے ورزش، غذا میں تبدیلی یا دوا کے ذریعے کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ ورنہ، یہ کمزور ہوتی بینائی، گردے فیل ہونے اور دل کی بیماریوں کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیش ڈائیٹ بشمول پھل اور سبزیاں کھانا بلڈ پریشر کو دوا کے بغیر کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگر کوئی شخص ہائی بلڈ پریشر کے ابتدائی مراحل میں ہو۔ نمک کا استعمال بھی آہستہ آہستہ کم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نظامی نے کہا کہ ڈاکٹر نئے تشخیصی مریضوں کا اڑتالیس گھنٹے تک جائزہ لینے کے لیے ایک ایمبولیٹری بلڈ پریشر مانیٹرنگ ڈیوائس کا استعمال کرتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ آیا ان کے بلڈ پریشر کو طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے اور دوا کی ضرورت کے بغیر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کو بتایا گیا کہ شریانوں اور کورونری رگوں میں کیلشیم کے جماؤ کا علاج جدید طبی آلات جیسے کہ انٹراواسکولر لیتھو ٹرپسی اور روٹیشنل ایتھریکٹومی کے ذریعے کیلسیفائیڈ کورونری زخموں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص قسم کے کورونری زخموں کے علاج کے لیے ڈرگ ایلوٹنگ بیلونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تین روزہ کانفرنس میں اہم موضوعات کی ایک وسیع رینج پر تفصیلی بحث کی گئی، جس میں پریوینٹیو کارڈیالوجی، ہارٹ فیلر اور کارڈیک ڈیوائسز، انٹرونشنل کارڈیالوجی، ہائی بلڈ پریشر، اسٹرکچرل ہارٹ ڈیزیزز، کارڈیک امیجنگ، کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی، پیدائشی اور بچوں کی کارڈیالوجی، اور کارڈیک سرجری شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین&lt; امراضِ قلب نے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر لیول کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، کیونکہ جدید تکنیکوں کی مدد سے ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر راجکمار سچدوانی کے مطابق، ہارٹ فیل ہونا پاکستان سمیت دنیا بھر میں موت کی واحد سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ علاج کے جدید طریقوں نے دل کے مریضوں کو طویل عمر تک، یعنی 70 سے 80 سال کی عمر تک جینے میں مدد فراہم کی ہے۔</p>
<p>انہیں صرف ایک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے نمبر معلوم ہونے چاہئیں جن میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر لیول شامل ہیں۔</p>
<p>یہ تمم باتیں ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی چھبیسویں سالانہ کارڈیالوجی اپڈیٹ سے خطاب کے دوران کہیں۔ اس تقریب کا عنوان ’کارڈیالوجی میں ایجادات: ثبوت سے فضیلت‘ تک تھا۔</p>
<p>پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی یہ تین روزہ کانفرنس رواں ماہ کے اوائل میں بھوربن میں منعقد ہوئی تھی، جسے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا، اور اس میں متعدد سیشنز اور ورکشاپس شامل تھیں۔</p>
<p>‘ایڈوانسڈ ہارٹ فیلر: مینجمنٹ اینڈ فیوچر ڈائریکشنز‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے وضاحت کی کہ نیویارک ہارٹ ایسوسی ایشن اب ہارٹ فیل ہونے والے مریضوں کو چار الگ الگ کلاسوں میں تقسیم کرتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق، کلاس ون کے تحت، دل کے مریضوں میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ البتہ، ان کی فیملی ہسٹری میں شوگر، بلڈ پریشر اور ہارٹ فیل ہونا شامل ہوتا ہے۔ کلاس ٹو کے تحت بھی مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ لیکن جب ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو ان کے دل کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلیاں تشخیص ہوتی ہیں۔ وہ غیر کنٹرول شدہ شوگر یا بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کلاس تھری میں، دل کے مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں، جن میں سانس پھولنا شامل ہے۔ جب چیک کیا جائے تو ان کا دل ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ آرام کی حالت میں تو ٹھیک رہتے ہیں، لیکن عام سے کم جسمانی سرگرمیوں میں بھی انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور کلاس فور میں، مریضوں کو سانس پھولنے کی شدید ترین صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر سچدوانی نے کہا کہ ہارٹ فیل ہونے کی علامات آرام کے وقت بھی موجود ہوتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان دنوں، ماہرینِ امراضِ قلب کلاس ون کے مریضوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور انہیں اپنی خوراک، وزن اور ورزش پر توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزن اب صرف ایک خطرہ نہیں رہا، بلکہ یہ خود ایک بیماری بن چکا ہے۔ مارکیٹ میں وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ترین ادویات موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہارٹ فیل ہونا بہت خطرناک ہے۔ یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔</p>
<p>ایسے معمولات ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتے ہیں، جو کہ ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں کے پیچھے واحد سب سے بڑی وجہ ہے، اور پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس بات سے ناواقف ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو جنگک اور گہرے تلے ہوئے کھانے کے ساتھ ساتھ شکر والے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے اور پیدل چلنے اور ورزش کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔</p>
<p>ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے کہا کہ روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلنے کی عام طور پر ہر ایک کو سفارش کی جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاندان میں چالیس سال سے زائد عمر کے چار افراد ہوں تو ان میں سے ایک بلڈ پریشر کا مریض ہوگا، اور بلڈ پریشر کے تقریباً پچاس فیصد مریض اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ ایک خاموش قاتل کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اس پچاس فیصد میں سے جو لوگ واقف ہیں، ان میں سے صرف آدھے ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں، اور ان میں سے بھی صرف آدھے صحیح ادویات لیتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سچدوانی نے چالیس سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر کی نگرانی میں خون پتلا کرنے والی دوا، یا تو اسکارڈ یا ڈسپرین کی 75 ملی گرام کی گولی لیں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ خوراک کے نتیجے میں اندرونی خون بہنے اور انیمیا یعنی خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ پی ٹی / آئی این آر نامی خون کا ٹیسٹ خون کے پتلے پن کی نگرانی کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔</p>
<p>میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2016 میں تقریباً انیس فیصد اموات دل سے متعلقہ امراض کی وجہ سے ہوئیں، جو کہ اب بڑھ کر انتیس فیصد ہو چکی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں ہارٹ اٹیک کے تناسب پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، سال 2020 میں پاکستان میں کورونری ہارٹ ڈیزیز سے دو لاکھ 40 ہزار 720 افراد لقمہ اجل بنے، جو کہ کل اموات کا 16.49 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں اموات کی شرح فی ایک لاکھ افراد میں 193.56 ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق 38.6 ملین پاکستانی بالغ افراد، جن کی عمریں 30 سے 79 سال کے درمیان ہیں، ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ جی رہے ہیں۔ یہ بالغ آبادی کے 42 فیصد سے زیادہ کے برابر ہے، جو کہ 34 فیصد کی عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے صرف بارہ فیصد کی حالت کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کارڈیالوجی اور ڈائریکٹر کیتھ لیب ڈاکٹر اویس احمد نظامی نے کہا کہ معاشرے میں ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور ساٹھ سال کی عمر کے آس پاس 140/90 کی ریڈنگ بالکل ٹھیک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ 120/80 سے اوپر کے بلڈ پریشر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے ورزش، غذا میں تبدیلی یا دوا کے ذریعے کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ ورنہ، یہ کمزور ہوتی بینائی، گردے فیل ہونے اور دل کی بیماریوں کا باعث بنے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈیش ڈائیٹ بشمول پھل اور سبزیاں کھانا بلڈ پریشر کو دوا کے بغیر کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے، اگر کوئی شخص ہائی بلڈ پریشر کے ابتدائی مراحل میں ہو۔ نمک کا استعمال بھی آہستہ آہستہ کم کرنا چاہیے۔</p>
<p>ڈاکٹر نظامی نے کہا کہ ڈاکٹر نئے تشخیصی مریضوں کا اڑتالیس گھنٹے تک جائزہ لینے کے لیے ایک ایمبولیٹری بلڈ پریشر مانیٹرنگ ڈیوائس کا استعمال کرتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ آیا ان کے بلڈ پریشر کو طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے اور دوا کی ضرورت کے بغیر کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>کانفرنس کو بتایا گیا کہ شریانوں اور کورونری رگوں میں کیلشیم کے جماؤ کا علاج جدید طبی آلات جیسے کہ انٹراواسکولر لیتھو ٹرپسی اور روٹیشنل ایتھریکٹومی کے ذریعے کیلسیفائیڈ کورونری زخموں کے لیے کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص قسم کے کورونری زخموں کے علاج کے لیے ڈرگ ایلوٹنگ بیلونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>اس تین روزہ کانفرنس میں اہم موضوعات کی ایک وسیع رینج پر تفصیلی بحث کی گئی، جس میں پریوینٹیو کارڈیالوجی، ہارٹ فیلر اور کارڈیک ڈیوائسز، انٹرونشنل کارڈیالوجی، ہائی بلڈ پریشر، اسٹرکچرل ہارٹ ڈیزیزز، کارڈیک امیجنگ، کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی، پیدائشی اور بچوں کی کارڈیالوجی، اور کارڈیک سرجری شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507659</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 12:15:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/061214410244211.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/061214410244211.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلڈ شوگر کو دن بھر کیسے متوازن رکھیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507395/how-to-keep-blood-sugar-balanced-throughout-the-day</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسم میں بلڈ شوگر (خون کی شوگر) کی سطح کو متوازن رکھنا صرف ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے مریضوں ہی کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کی مجموعی صحت، ذہنی چستی اور جسمانی توانائی کے لیے ناگزیر ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، دن بھر شوگر کی سطح مستحکم رہنے سے نہ صرف تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ بے وقت کی بھوک اور میٹھا کھانے کی شدید خواہش پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی جسم میں شوگر کے اتار چڑھاؤ پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں بنیادی طور پر غذا کی نوعیت، کھانے کے اوقات، جسمانی سرگرمیاں، ذہنی تناؤ نیند کا دورانیہ اور پانی کا استعمال شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھنے کے 4 اہم ستون&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;متوازن غذا:&lt;/strong&gt; متوازن غذا اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھانے پینے کی عادات میں صرف یہ تبدیلی کہ ”کیا کھانا ہے اور کس ترتیب سے کھانا ہے“، شوگر کے اچانک اضافے کو روک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506122/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پلیٹ کی ترتیب:&lt;/strong&gt; کھانا کھاتے وقت سب سے پہلے سبزیاں (فائبر) کھائیں، اس کے بعد پروٹین اور چربی (جیسے چکن، مچھلی یا انڈے) اور سب سے آخر میں کاربوہائیڈریٹس (روٹی یا چاول) کھائیں۔ یہ ترتیب شوگر کو تیزی سے خون میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پروٹین اور صحت بخش چربی کا اضافہ:&lt;/strong&gt; اپنی خوراک میں دالیں، چنے، بادام، اخروٹ اور زیتون کا تیل شامل کریں کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو سست کر کے شوگر کو مستحکم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لو گلیسیمک انڈیکس غذا: ایسے کاربوہائیڈریٹس کا انتخاب کریں جو دیر سے ہضم ہوتے ہیں، جیسے جو ، دلیہ، براؤن رائس اور بغیر نشاستہ والی سبزیاں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2۔ کھانے کے اوقات اور مقدار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناشتے کی اہمیت:&lt;/strong&gt; صبح بیدار ہونے کے دو گھنٹے کے اندر ناشتہ لازمی کریں تاکہ دن کا آغاز ایک متوازن شوگر لیول سے ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وقفے وقفے سے کھانا:&lt;/strong&gt; ہر تین سے چار گھنٹے بعد کچھ ہلکا پھلکا اور صحت بخش کھائیں تاکہ شوگر لیول اچانک نیچے نہ گرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسمارٹ اسنیکنگ:&lt;/strong&gt; اگر آپ کوئی پھل یا کاربوہائیڈریٹ کھا رہے ہیں، تو اس کے ساتھ چند دانے بادام یا پنیر لازمی لیں تاکہ شوگر کی سطح متوازن رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ جسمانی سرگرمی اور ورزش&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;کھانے کے فوری بعد چہل قدمی: رات یا دن کے کھانے کے فوراً بعد کم از کم 10 منٹ کی واک شوگر کے اچانک ابھار کو روکنے میں جادوئی کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506122/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلز کی مضبوطی:&lt;/strong&gt; ہفتے میں کم از کم 3 بار ہلکا وزن اٹھانے کی ورزشیں  کریں اور مجموعی طور پر ہفتے میں 150 منٹ کی جسمانی سرگرمی کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ عادات انسولین کی حساسیت  کو بہتر بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ لائف اسٹائل اور ذہنی صحت&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;بھرپور نیند:&lt;/strong&gt; روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی پرسکون نیند لیں۔ نیند کی کمی انسولین کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہائیڈریشن اور ذہنی تناؤ کا خاتمہ:&lt;/strong&gt; دن بھر وافر مقدار میں پانی پیئیں تاکہ گردے اضافی شوگر کو خارج کر سکیں۔ اس کے علاوہ گہرے سانس لینے کی مشقیں یا مراقبہ کریں کیونکہ ذہنی تناؤ کے ہارمونز شوگر لیول کو تیزی سے بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اہم نوٹ:&lt;/strong&gt; اپنے خون کی شوگر کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ کون سی غذا آپ کے جسم پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔ ذیابیطس کے مریض کوئی بھی نیا معمول اپنانے سے پہلے اپنے معالج سے ذاتی مشورہ ضرور لیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جسم میں بلڈ شوگر (خون کی شوگر) کی سطح کو متوازن رکھنا صرف ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے مریضوں ہی کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کی مجموعی صحت، ذہنی چستی اور جسمانی توانائی کے لیے ناگزیر ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، دن بھر شوگر کی سطح مستحکم رہنے سے نہ صرف تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ بے وقت کی بھوک اور میٹھا کھانے کی شدید خواہش پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>انسانی جسم میں شوگر کے اتار چڑھاؤ پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں بنیادی طور پر غذا کی نوعیت، کھانے کے اوقات، جسمانی سرگرمیاں، ذہنی تناؤ نیند کا دورانیہ اور پانی کا استعمال شامل ہیں۔</p>
<p><strong>بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھنے کے 4 اہم ستون</strong><br><strong>متوازن غذا:</strong> متوازن غذا اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھانے پینے کی عادات میں صرف یہ تبدیلی کہ ”کیا کھانا ہے اور کس ترتیب سے کھانا ہے“، شوگر کے اچانک اضافے کو روک سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506122/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>پلیٹ کی ترتیب:</strong> کھانا کھاتے وقت سب سے پہلے سبزیاں (فائبر) کھائیں، اس کے بعد پروٹین اور چربی (جیسے چکن، مچھلی یا انڈے) اور سب سے آخر میں کاربوہائیڈریٹس (روٹی یا چاول) کھائیں۔ یہ ترتیب شوگر کو تیزی سے خون میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔</p>
<p><strong>پروٹین اور صحت بخش چربی کا اضافہ:</strong> اپنی خوراک میں دالیں، چنے، بادام، اخروٹ اور زیتون کا تیل شامل کریں کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو سست کر کے شوگر کو مستحکم رکھتے ہیں۔</p>
<p>لو گلیسیمک انڈیکس غذا: ایسے کاربوہائیڈریٹس کا انتخاب کریں جو دیر سے ہضم ہوتے ہیں، جیسے جو ، دلیہ، براؤن رائس اور بغیر نشاستہ والی سبزیاں۔</p>
<p><strong>2۔ کھانے کے اوقات اور مقدار</strong></p>
<p><strong>ناشتے کی اہمیت:</strong> صبح بیدار ہونے کے دو گھنٹے کے اندر ناشتہ لازمی کریں تاکہ دن کا آغاز ایک متوازن شوگر لیول سے ہو۔</p>
<p><strong>وقفے وقفے سے کھانا:</strong> ہر تین سے چار گھنٹے بعد کچھ ہلکا پھلکا اور صحت بخش کھائیں تاکہ شوگر لیول اچانک نیچے نہ گرے۔</p>
<p><strong>اسمارٹ اسنیکنگ:</strong> اگر آپ کوئی پھل یا کاربوہائیڈریٹ کھا رہے ہیں، تو اس کے ساتھ چند دانے بادام یا پنیر لازمی لیں تاکہ شوگر کی سطح متوازن رہے۔</p>
<p><strong>3۔ جسمانی سرگرمی اور ورزش</strong><br>کھانے کے فوری بعد چہل قدمی: رات یا دن کے کھانے کے فوراً بعد کم از کم 10 منٹ کی واک شوگر کے اچانک ابھار کو روکنے میں جادوئی کردار ادا کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506122/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>مسلز کی مضبوطی:</strong> ہفتے میں کم از کم 3 بار ہلکا وزن اٹھانے کی ورزشیں  کریں اور مجموعی طور پر ہفتے میں 150 منٹ کی جسمانی سرگرمی کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ عادات انسولین کی حساسیت  کو بہتر بناتی ہیں۔</p>
<p><strong>4۔ لائف اسٹائل اور ذہنی صحت</strong><br><strong>بھرپور نیند:</strong> روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی پرسکون نیند لیں۔ نیند کی کمی انسولین کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔</p>
<p><strong>ہائیڈریشن اور ذہنی تناؤ کا خاتمہ:</strong> دن بھر وافر مقدار میں پانی پیئیں تاکہ گردے اضافی شوگر کو خارج کر سکیں۔ اس کے علاوہ گہرے سانس لینے کی مشقیں یا مراقبہ کریں کیونکہ ذہنی تناؤ کے ہارمونز شوگر لیول کو تیزی سے بڑھاتے ہیں۔</p>
<p><strong>اہم نوٹ:</strong> اپنے خون کی شوگر کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ کون سی غذا آپ کے جسم پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔ ذیابیطس کے مریض کوئی بھی نیا معمول اپنانے سے پہلے اپنے معالج سے ذاتی مشورہ ضرور لیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507395</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 11:24:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/041124170d3a05f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/041124170d3a05f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مچھر کے کاٹنے پر کُھجانے کا مزہ کتنا بھاری پڑ سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506955/how-costly-can-it-be-to-scratch-a-mosquito-bite</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم سب بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ جب کوئی مچھر یا کیڑا کاٹ لے تو وہاں کھجانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے زخم خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کھجانے سے اتنی راحت ملتی ہے تو یہ بری بات کیسے ہو سکتی ہے؟ اب سائنسدانوں نے اس بات کا پتا لگا لیا ہے کہ اگر آپ ایک معمولی سی کھجلی کے سامنے ہار مان لیتے ہیں تو آپ کس طرح خود کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/scratch-itch-mosquito-rash-antihistamine-23f9217afac22f78ebd43c9aa4efa90a"&gt; اے پی&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیڑے کے کاٹنے یا الرجی کی وجہ سے ہونے والی خارش وقتی طور پر سکون دیتی ہے، لیکن یہی عمل بعد میں سوجن اور خارش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل کپلان کا کہنا ہے ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان یا جانور خارش کو مسلسل کھجاتے ہیں تو جسم میں سوزش پیدا کرنے والے خلیے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/93551'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/93551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، ’اگر آپ مچھر کے کاٹنے کو نہ چھیڑیں تو چند منٹ میں خارش ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ اسے کھجانا شروع کر دیں تو یہ ایک ہفتے تک آپ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔‘ جس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ اور زیادہ سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں شدید کھجلی ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ڈینیئل کیپلان اور ان کی ٹیم نے چوہوں پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کھجانے سے جسم کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چوہوں کے کانوں پر الرجی پیدا کرنے والی چیز لگائی جس سے انہیں کھجلی ہونے لگی۔ کچھ چوہوں کو ایسے کالر پہنائے گئے جن سے وہ خود کو کھجا نہیں سکتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن چوہوں نے نہیں کھجایا، ان کے کانوں پر سوجن اور درد بہت کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق، ہمارے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی الرجی یا درد کے وقت سب سے پہلے حرکت میں آتے ہیں۔ ان خلیوں کو ’ماسٹ سیلز‘ کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی جگہ کو تب تک کھجاتے ہیں جب تک وہاں درد نہ شروع ہو جائے، تو ہمارے جسم کی نسیں ایک خاص کیمیکل چھوڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیمیکل الرجی والے خلیوں کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے، جس سے سوجن اور کھجلی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ پرانے زمانے میں کھجانے کا فائدہ شاید یہ ہوتا تھا کہ جسم پر موجود چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے جھڑ جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466808'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چوہوں پر کیے گئے تجربے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھجانے سے ایک خاص قسم کے جراثیم سے لڑنے میں مدد ملی۔ لیکن اس چھوٹے سے فائدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کھجانا شروع کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کیپلان نے اس بات پر زور دیا کہ، ’آخر کار، کھجانا نقصان دہ ہی ہے، آپ کو کھجانے سے بچنا چاہیے۔‘ حالانکہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ایسا کرنا کہنے میں آسان ہے اور کرنے میں مشکل۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں مچھر یا کیڑوں کے کاٹنے سے ہونے والی کھجلی کا علاج بہت آسان ہے۔ اس کے لیے بازار میں ملنے والی عام اینٹی اِچ کریمیں، کیلامائن لوشن یا ٹھنڈک پہنچانے والی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کیپلان نے ایک دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ پودینے یا مینتھول والی کریمیں جلد کو یہ دھوکا دیتی ہیں کہ وہاں ٹھنڈک ہو گئی ہے، جس سے کھجلی کا احساس کچھ دیر کے لیے رک جاتا ہے اور انسان کھجانے کے اس عذاب والے چکر سے بچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم سب بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ جب کوئی مچھر یا کیڑا کاٹ لے تو وہاں کھجانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے زخم خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کھجانے سے اتنی راحت ملتی ہے تو یہ بری بات کیسے ہو سکتی ہے؟ اب سائنسدانوں نے اس بات کا پتا لگا لیا ہے کہ اگر آپ ایک معمولی سی کھجلی کے سامنے ہار مان لیتے ہیں تو آپ کس طرح خود کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/scratch-itch-mosquito-rash-antihistamine-23f9217afac22f78ebd43c9aa4efa90a"> اے پی</a> کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیڑے کے کاٹنے یا الرجی کی وجہ سے ہونے والی خارش وقتی طور پر سکون دیتی ہے، لیکن یہی عمل بعد میں سوجن اور خارش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل کپلان کا کہنا ہے ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان یا جانور خارش کو مسلسل کھجاتے ہیں تو جسم میں سوزش پیدا کرنے والے خلیے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جس سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/93551'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/93551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق، ’اگر آپ مچھر کے کاٹنے کو نہ چھیڑیں تو چند منٹ میں خارش ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ اسے کھجانا شروع کر دیں تو یہ ایک ہفتے تک آپ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔‘ جس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ اور زیادہ سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں شدید کھجلی ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کے دوران ڈینیئل کیپلان اور ان کی ٹیم نے چوہوں پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کھجانے سے جسم کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے چوہوں کے کانوں پر الرجی پیدا کرنے والی چیز لگائی جس سے انہیں کھجلی ہونے لگی۔ کچھ چوہوں کو ایسے کالر پہنائے گئے جن سے وہ خود کو کھجا نہیں سکتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن چوہوں نے نہیں کھجایا، ان کے کانوں پر سوجن اور درد بہت کم تھا۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق، ہمارے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی الرجی یا درد کے وقت سب سے پہلے حرکت میں آتے ہیں۔ ان خلیوں کو ’ماسٹ سیلز‘ کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی جگہ کو تب تک کھجاتے ہیں جب تک وہاں درد نہ شروع ہو جائے، تو ہمارے جسم کی نسیں ایک خاص کیمیکل چھوڑتی ہیں۔</p>
<p>یہ کیمیکل الرجی والے خلیوں کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے، جس سے سوجن اور کھجلی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔</p>
<p>ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ پرانے زمانے میں کھجانے کا فائدہ شاید یہ ہوتا تھا کہ جسم پر موجود چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے جھڑ جاتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466808'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چوہوں پر کیے گئے تجربے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھجانے سے ایک خاص قسم کے جراثیم سے لڑنے میں مدد ملی۔ لیکن اس چھوٹے سے فائدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کھجانا شروع کر دیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کیپلان نے اس بات پر زور دیا کہ، ’آخر کار، کھجانا نقصان دہ ہی ہے، آپ کو کھجانے سے بچنا چاہیے۔‘ حالانکہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ایسا کرنا کہنے میں آسان ہے اور کرنے میں مشکل۔‘</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں مچھر یا کیڑوں کے کاٹنے سے ہونے والی کھجلی کا علاج بہت آسان ہے۔ اس کے لیے بازار میں ملنے والی عام اینٹی اِچ کریمیں، کیلامائن لوشن یا ٹھنڈک پہنچانے والی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کیپلان نے ایک دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ پودینے یا مینتھول والی کریمیں جلد کو یہ دھوکا دیتی ہیں کہ وہاں ٹھنڈک ہو گئی ہے، جس سے کھجلی کا احساس کچھ دیر کے لیے رک جاتا ہے اور انسان کھجانے کے اس عذاب والے چکر سے بچ جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506955</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 15:09:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/3015042888a9b20.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/3015042888a9b20.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈے میں موجود سفید تار صحت کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506949/is-the-white-string-inside-an-egg-good-or-bad-for-your-health</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب بھی ہم انڈا توڑتے ہیں تو اکثر زردی کے ساتھ ایک سفید رنگ کا لچکدار تار یا دھاگے جیسی چیز لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے خون کی رگ سمجھتے ہیں، کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ انڈا خراب ہو چکا ہے اور کچھ لوگ تو اسے جراثیم یا گندگی سمجھ کر پورا انڈا ہی پھینک دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین صحت کے مطابق، یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ انڈے کے اندر نظر آنے والی یہ سفید تار نہ صرف صحت کے لیے بالکل محفوظ ہے بلکہ یہ انڈے کے تازہ ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفید دھاگے کو سائنسی زبان میں ’کلازا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ہر انڈے کے اندر قدرتی طور پر بنتی ہے اور اس کا ایک اہم کام ہوتا ہے۔ یہ کوئی گندگی یا بیماری نہیں ہے بلکہ یہ اسی پروٹین سے بنا ہوتا ہے جس سے انڈے کی باقی سفیدی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506499/can-the-habit-of-eating-too-many-eggs-cause-harm-instead-of-benefit'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پروٹین بہت زیادہ گاڑھا اور آپس میں جڑا ہوا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک رسّی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ قدرت نے ہر انڈے کے اندر ایسے دو دھاگے رکھے ہوتے ہیں جو زردی کو دونوں طرف سے جکڑ کر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفید تار کا کام انڈے کے اندر بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ زردی کو انڈے کے بالکل بیچ میں سنبھال کر رکھتا ہے تاکہ وہ ہلنے جلنے پر انڈے کے چھلکے سے ٹکرا کر ٹوٹ نہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بالکل ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے کسی جھولے کو دونوں طرف سے رسیوں سے باندھ دیا جائے تاکہ وہ اپنی جگہ قائم رہے۔ جب تک انڈا دکانوں پر یا سفر کے دوران ہلتا جلتا ہے، یہ دھاگہ زردی کو محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سو فیصد کھانے کے قابل ہے اور اس میں وہی غذائیت ہوتی ہے جو انڈے کی سفیدی میں پائی جاتی ہے۔ اس کا انڈے کے ذائقے پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور پکنے کے بعد یہ عام سفیدی کے اندر ہی گھل مل جاتا ہے، جس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410200'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410200"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سفید تار جتنا زیادہ موٹا اور واضح نظر آئے گا، انڈا اتنا ہی زیادہ تازہ ہوگا۔ جیسے جیسے انڈا پرانا ہوتا جاتا ہے، اس کی سفیدی پتلی ہونے لگتی ہے اور یہ سفید تار بھی کمزور ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اگر آپ کو انڈے میں یہ تار نظر آئے تو خوش ہو جائیں کہ آپ کا انڈا بالکل تازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پھر بھی کسی کو اسے دیکھ کر اچھا نہ لگے، تو وہ انڈا پکانے سے پہلے چمچ یا کانٹے کی مدد سے اسے آسانی سے نکال سکتا ہے، لیکن صحت کے لحاظ سے اسے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ صحت کے لیے کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب بھی ہم انڈا توڑتے ہیں تو اکثر زردی کے ساتھ ایک سفید رنگ کا لچکدار تار یا دھاگے جیسی چیز لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے خون کی رگ سمجھتے ہیں، کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ انڈا خراب ہو چکا ہے اور کچھ لوگ تو اسے جراثیم یا گندگی سمجھ کر پورا انڈا ہی پھینک دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین صحت کے مطابق، یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ انڈے کے اندر نظر آنے والی یہ سفید تار نہ صرف صحت کے لیے بالکل محفوظ ہے بلکہ یہ انڈے کے تازہ ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔</strong></p>
<p>اس سفید دھاگے کو سائنسی زبان میں ’کلازا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ہر انڈے کے اندر قدرتی طور پر بنتی ہے اور اس کا ایک اہم کام ہوتا ہے۔ یہ کوئی گندگی یا بیماری نہیں ہے بلکہ یہ اسی پروٹین سے بنا ہوتا ہے جس سے انڈے کی باقی سفیدی بنتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506499/can-the-habit-of-eating-too-many-eggs-cause-harm-instead-of-benefit'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پروٹین بہت زیادہ گاڑھا اور آپس میں جڑا ہوا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک رسّی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ قدرت نے ہر انڈے کے اندر ایسے دو دھاگے رکھے ہوتے ہیں جو زردی کو دونوں طرف سے جکڑ کر رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس سفید تار کا کام انڈے کے اندر بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ زردی کو انڈے کے بالکل بیچ میں سنبھال کر رکھتا ہے تاکہ وہ ہلنے جلنے پر انڈے کے چھلکے سے ٹکرا کر ٹوٹ نہ جائے۔</p>
<p>یہ بالکل ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے کسی جھولے کو دونوں طرف سے رسیوں سے باندھ دیا جائے تاکہ وہ اپنی جگہ قائم رہے۔ جب تک انڈا دکانوں پر یا سفر کے دوران ہلتا جلتا ہے، یہ دھاگہ زردی کو محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ سو فیصد کھانے کے قابل ہے اور اس میں وہی غذائیت ہوتی ہے جو انڈے کی سفیدی میں پائی جاتی ہے۔ اس کا انڈے کے ذائقے پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور پکنے کے بعد یہ عام سفیدی کے اندر ہی گھل مل جاتا ہے، جس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410200'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410200"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سفید تار جتنا زیادہ موٹا اور واضح نظر آئے گا، انڈا اتنا ہی زیادہ تازہ ہوگا۔ جیسے جیسے انڈا پرانا ہوتا جاتا ہے، اس کی سفیدی پتلی ہونے لگتی ہے اور یہ سفید تار بھی کمزور ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس لیے اگر آپ کو انڈے میں یہ تار نظر آئے تو خوش ہو جائیں کہ آپ کا انڈا بالکل تازہ ہے۔</p>
<p>اگر پھر بھی کسی کو اسے دیکھ کر اچھا نہ لگے، تو وہ انڈا پکانے سے پہلے چمچ یا کانٹے کی مدد سے اسے آسانی سے نکال سکتا ہے، لیکن صحت کے لحاظ سے اسے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ صحت کے لیے کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506949</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 12:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30120958ba9651c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30120958ba9651c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
