<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Latest News</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 02:26:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 02:26:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 1430 ہو گئیں، لاکھوں افراد امداد کے منتظر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506856/venezuela-earthquake-death-toll-rises-aid-operations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا میں دو طاقت ور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 430 ہو گئی ہے، جب کہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 67 لاکھ 60 ہزار تک افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کے روز آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں نے ملک کے شمالی ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز کے مطابق اب تک 3 ہزار 238 افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کے مطابق کم از کم 17 ممالک کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے بھی امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے فوجی طیاروں کے ذریعے امدادی سامان اور 250 سے زائد اہلکار وینزویلا روانہ کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک رن وے بحال کر دیا گیا ہے، جہاں امریکی سی-17 طیارے لینڈ کر رہے ہیں، جب کہ ایک امریکی بحری جہاز بھی وینزویلا کے ساحل پر پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506844/earthquake-in-islamabad-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506844"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ساحلی علاقے لا گوائیرا میں امدادی کارکنوں نے زلزلے کے تقریباً 32 گھنٹے بعد ملبے تلے سے ایک شیر خوار بچے کو زندہ نکال لیا، جسے امدادی کارروائیوں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ لاکھوں افراد کو ہنگامی پناہ گاہوں، صاف پانی، حفظان صحت، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی امدادی اشیا کی فوری ضرورت ہے، جب کہ زلزلوں سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ 6.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ شہریوں نے حکومت کی امدادی کارروائیوں پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کو ملبے سے خود نکالنا پڑا کیونکہ بروقت سرکاری امداد نہیں پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی حمایت یافتہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا ہے کہ وینزویلا اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا میں دو طاقت ور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 430 ہو گئی ہے، جب کہ ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 67 لاکھ 60 ہزار تک افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کے روز آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں نے ملک کے شمالی ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز کے مطابق اب تک 3 ہزار 238 افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ 50 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کے مطابق کم از کم 17 ممالک کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے بھی امدادی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے فوجی طیاروں کے ذریعے امدادی سامان اور 250 سے زائد اہلکار وینزویلا روانہ کیے ہیں۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک رن وے بحال کر دیا گیا ہے، جہاں امریکی سی-17 طیارے لینڈ کر رہے ہیں، جب کہ ایک امریکی بحری جہاز بھی وینزویلا کے ساحل پر پہنچ چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506844/earthquake-in-islamabad-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506844"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ساحلی علاقے لا گوائیرا میں امدادی کارکنوں نے زلزلے کے تقریباً 32 گھنٹے بعد ملبے تلے سے ایک شیر خوار بچے کو زندہ نکال لیا، جسے امدادی کارروائیوں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ لاکھوں افراد کو ہنگامی پناہ گاہوں، صاف پانی، حفظان صحت، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی امدادی اشیا کی فوری ضرورت ہے، جب کہ زلزلوں سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ 6.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔</p>
<p>متاثرہ شہریوں نے حکومت کی امدادی کارروائیوں پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کو ملبے سے خود نکالنا پڑا کیونکہ بروقت سرکاری امداد نہیں پہنچی۔</p>
<p>امریکا کی حمایت یافتہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا ہے کہ وینزویلا اس مشکل وقت میں تنہا نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506856</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 23:29:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/272338058f2937e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/272338058f2937e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: یونیورسٹی روڈ پر دھماکا اور فائرنگ، واقعے کی نوعیت واضح نہ ہو سکی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506855/karachi-university-road-blast-firing-mosamiyat-chowrangi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی اطلاعات کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، تاہم ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کے کوئی شواہد نہیں مل سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق گلستانِ جوہر، موسمیات چورنگی کے قریب فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر اہلکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں ضرور سنی گئیں، تاہم تاحال فائرنگ کے درست مقام کا تعین نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب تک دھماکے سے متعلق کوئی شواہد سامنے نہیں آئے، جب کہ نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ پولیس نے اطراف کے علاقوں میں سرچ اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی نوعیت کا فوری تعین کیا جائے اور پولیس تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی اطلاعات کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، تاہم ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کے کوئی شواہد نہیں مل سکے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق گلستانِ جوہر، موسمیات چورنگی کے قریب فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر اہلکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں ضرور سنی گئیں، تاہم تاحال فائرنگ کے درست مقام کا تعین نہیں ہو سکا۔</p>
<p>پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب تک دھماکے سے متعلق کوئی شواہد سامنے نہیں آئے، جب کہ نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع ملنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ پولیس نے اطراف کے علاقوں میں سرچ اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔</p>
<p>دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔</p>
<p>ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی نوعیت کا فوری تعین کیا جائے اور پولیس تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506855</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 00:10:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انور)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/272050396ef58d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/272050396ef58d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 5.9 ریکارڈ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506844/earthquake-in-islamabad-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد، لاہور سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے کوہ ہندوکش کے علاقے میں 191 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ہفتے کی شام اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں لاہور، شرقپور، اٹک، اوکاڑہ، پھالیہ، حسن ابدال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، بھلوال، ننکانہ صاحب سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گہرائی 191 کلومیٹر جب کہ مرکز ہندوکش ریجن تھا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، لوئردیر، دیربالا، باجوڑ، مردان، سوات، صوابی، بنوں، مردان، چارسدہ، چترال اور لکی مروت سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا میں زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 7 ریکارڈ کی گئی جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا جاری اجلاس بھی روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی ایک ہی دن میں تین مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس زلزلے کے نتیجے میں بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری کے علاقے کلی چاپ اور گرد و نواح میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے بتایا کہ زلزلے سے 90 سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہیں، جن میں متعدد کچے مکانات مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں سے مزید نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے سروے جاری ہے، جبکہ مزید آفٹر شاکس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد، لاہور سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے کوہ ہندوکش کے علاقے میں 191 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔</strong></p>
<p>پاکستان میں ہفتے کی شام اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔</p>
<p>پنجاب میں لاہور، شرقپور، اٹک، اوکاڑہ، پھالیہ، حسن ابدال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، بھلوال، ننکانہ صاحب سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔</p>
<p>پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گہرائی 191 کلومیٹر جب کہ مرکز ہندوکش ریجن تھا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، لوئردیر، دیربالا، باجوڑ، مردان، سوات، صوابی، بنوں، مردان، چارسدہ، چترال اور لکی مروت سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا میں زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 7 ریکارڈ کی گئی جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا جاری اجلاس بھی روک دیا گیا۔</p>
<p>جمعے کے روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی ایک ہی دن میں تین مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس زلزلے کے نتیجے میں بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل کنگری کے علاقے کلی چاپ اور گرد و نواح میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔</p>
<p>کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ نے بتایا کہ زلزلے سے 90 سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہیں، جن میں متعدد کچے مکانات مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں سے مزید نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔</p>
<p>انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے سروے جاری ہے، جبکہ مزید آفٹر شاکس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506844</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 23:53:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2713294474d2e3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2713294474d2e3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506854/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے برج (کنٹرول روم) کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/iran-says-it-hits-us-linked-targets-bahrain-reports-drone-attack-2026-06-27/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ واقعات کے بعد بین الاقوامی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بحری سیکیورٹی خطرے کی سطح مزید بلند کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو کے ایم ٹی او کے مطابق حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یہ ادارہ برطانیہ کا فوجی ادارہ ہے جو عالمی بحری راستوں کی نگرانی اور بحری سیکیورٹی سے متعلق اطلاعات جاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کو جواز بنا کر ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2070833741522461136'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2070833741522461136"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلااشتعال جارحیت جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق تازہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں اور سوئٹزرلینڈ میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے رات گئے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک اہداف پر جوابی حملے کیے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ دوسرا فریق عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2070607101207232829'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2070607101207232829"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال نہیں کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد متعدد جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنا شروع کر دی، تاہم تہران نے کسی مخصوص تجارتی جہاز پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بحرین نے اپنے علاقے پر ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جب کہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکا لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا، جس سے معاہدہ متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے یہ بیان ہفتے کی صبح اس وقت جاری کیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Ebrahimazizi33/status/2070624911786406045'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Ebrahimazizi33/status/2070624911786406045"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم عزیزی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ ان کے بقول ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ انھیں نہ تو مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی پاسداری کا کوئی احساس۔ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی، ہمیشہ کی طرح، بالآخر ان کے لیے پسپائی اور ندامت کا باعث بنے گی۔ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے بھی جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں، امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2070495994303648069'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2070495994303648069"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی حملوں کے ردعمل میں امریکا سے منسلک اہداف پردفاعی کارروائیاں کیں، خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/JDVance/status/2070630231023792362'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/JDVance/status/2070630231023792362"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق کوئی اعتراض ہے تو وہ براہِ راست رابطہ کرے، تاہم تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق 25 جون کو ایران نے کمرشل جہاز پر ڈرون سے حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے برج (کنٹرول روم) کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/iran-says-it-hits-us-linked-targets-bahrain-reports-drone-attack-2026-06-27/">رائٹرز</a>‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ واقعات کے بعد بین الاقوامی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بحری سیکیورٹی خطرے کی سطح مزید بلند کر دی ہے۔</p>
<p>یو کے ایم ٹی او کے مطابق حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یہ ادارہ برطانیہ کا فوجی ادارہ ہے جو عالمی بحری راستوں کی نگرانی اور بحری سیکیورٹی سے متعلق اطلاعات جاری کرتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کو جواز بنا کر ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2070833741522461136'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2070833741522461136"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلااشتعال جارحیت جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق تازہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں اور سوئٹزرلینڈ میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔</p>
<p>امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے رات گئے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک اہداف پر جوابی حملے کیے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ دوسرا فریق عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2070607101207232829'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2070607101207232829"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال نہیں کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد متعدد جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنا شروع کر دی، تاہم تہران نے کسی مخصوص تجارتی جہاز پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔</p>
<p>دوسری جانب بحرین نے اپنے علاقے پر ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جب کہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکا لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا، جس سے معاہدہ متاثر ہوا۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔</p>
<p>انھوں نے یہ بیان ہفتے کی صبح اس وقت جاری کیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Ebrahimazizi33/status/2070624911786406045'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Ebrahimazizi33/status/2070624911786406045"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ابراہیم عزیزی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ ان کے بقول ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ انھیں نہ تو مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی پاسداری کا کوئی احساس۔ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی، ہمیشہ کی طرح، بالآخر ان کے لیے پسپائی اور ندامت کا باعث بنے گی۔ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔</p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے بھی جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں، امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2070495994303648069'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2070495994303648069"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی حملوں کے ردعمل میں امریکا سے منسلک اہداف پردفاعی کارروائیاں کیں، خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/JDVance/status/2070630231023792362'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/JDVance/status/2070630231023792362"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق کوئی اعتراض ہے تو وہ براہِ راست رابطہ کرے، تاہم تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق 25 جون کو ایران نے کمرشل جہاز پر ڈرون سے حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506854</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 19:14:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271844523533809.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271844523533809.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: کچلاک بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ، معروف تاجر محمد ہاشم جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506853/quetta-trader-muhammad-hashim-khan-killed-in-firing</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ کے علاقے کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے، جب کہ قتل کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں کچلاک بائی پاس پر پیش آیا، جہاں معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان اپنی ذاتی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ شہر آ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی محمد ہاشم خان کے سر جب کہ دو گولیاں ان کے بازوؤں پر لگیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ورثا نے کسی ذاتی دشمنی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، تاہم قتل کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506830/major-operation-by-security-forces-in-mastung-and-kharan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد مقتول کے ورثا، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بلیلی کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کو چمن، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملانے والی قومی شاہراہ بلاک کر دی، جس سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاع ملنے پر رکن بلوچستان اسمبلی ملک نعیم بازئی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا اور شاہراہ کھلوانے کے لیے مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے کیس اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کرنے اور شفاف و مؤثر تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں کوئٹہ میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا، جہاں میاں غنڈی کے قریب قیدیوں کو لے جانے والی پولیس گاڑی کے نزدیک دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ کے علاقے کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے، جب کہ قتل کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں کچلاک بائی پاس پر پیش آیا، جہاں معروف تاجر اور ہوٹل کے مالک محمد ہاشم خان اپنی ذاتی ویگو گاڑی میں کچلاک سے کوئٹہ شہر آ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔</p>
<p>فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی محمد ہاشم خان کے سر جب کہ دو گولیاں ان کے بازوؤں پر لگیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p>اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ورثا نے کسی ذاتی دشمنی سے لاعلمی ظاہر کی ہے، تاہم قتل کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506830/major-operation-by-security-forces-in-mastung-and-kharan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد مقتول کے ورثا، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بلیلی کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کو چمن، خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملانے والی قومی شاہراہ بلاک کر دی، جس سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔</p>
<p>اطلاع ملنے پر رکن بلوچستان اسمبلی ملک نعیم بازئی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا اور شاہراہ کھلوانے کے لیے مذاکرات کیے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے کیس اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کرنے اور شفاف و مؤثر تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>بعدازاں کوئٹہ میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا، جہاں میاں غنڈی کے قریب قیدیوں کو لے جانے والی پولیس گاڑی کے نزدیک دھماکا ہوا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506853</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 17:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2717133608e29ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2717133608e29ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال میچ کے دوران وائرل ہونے والی خاتون کی حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506850/ai-or-natural-beauty-what-is-the-truth-behind-the-woman-who-went-viral-during-a-fifa-world-cup-match</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیٹ پر فٹبال کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک خوبصورت خاتون کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے اس فٹبال میچ کے ایک کلپ میں مذکورہ خاتون کو اسٹیڈیم میں بیٹھے کیمرے کی طرف دیکھ کر معصومیت سے مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سحر انگیز مسکراہٹ اور سادگی پر میچ کے کمنٹیٹر بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے خاتون کے شرمیلے انداز اور دلفریب مسکراہٹ کو دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگ ان پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے مسلم خواتین کے حسن کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی رہی ہیں اور ان کی یہ سادگی ہی ان کا اصل حسن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ حلقوں میں اسے ایک عیسائی خاتون کی قبولِ اسلام کے بعد کے چہرے کا نور قرار دے کر بھی شیئر کیا جانے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کچھ افراد یہ بھی ذکر کرتے دکھائی دیے کہ کہیں یہ چہرہ اور ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال تو نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کی غیر معمولی خوبصورتی اور پرفیکشن کی وجہ سے بہت سے صارفین کو یہ گمان ہونے لگا کہ یہ کوئی حقیقی خاتون نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک فرضی ڈیجیٹل کریکٹر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے اپنے اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ایلون مسک کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کو ٹیگ کر کے پوچھ ہی لیا کہ یہ خاتون کون ہیں، کس ملک سے ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں، تو ’گروک‘ نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی کردی اور بتایا کہ یہ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، بلکہ عراق کی مقامی فٹ بال لیگ میں ’اربیل بمقابلہ النفط‘ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک عام فین ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گروک نے تو اسے حقیقی خاتون کریکٹر قرار دے دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر متحرک بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’زویا خان‘ نامی اکاؤنٹ سے ہی شیئر کی گئی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہی خاتون انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ میں اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں انہیں اسی لباس میں مختلف کھیلوں کے ایونٹس میں ملبوس دکھایا گیا ہے، جس میں کہیں وہ کسی چینل کی اسکرین پر دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں اسٹیڈیم میں تماشائیوں میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ویڈیوز میں متضاد اور غیر حقیقی کیمرہ شوٹس کی وجہ سے محمد زبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/zoo_bear/status/2070849026002423836'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/zoo_bear/status/2070849026002423836"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اکاؤنٹ سے اسی خاتون کریکٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بالکل اسی لباس اور ملبوس نظر خود یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ وہ ایک اے آئی کریکٹر ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل میڈیا ماہرین اور فیکٹ چیکرز مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود وائرل مواد پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فیکٹ چیکنگ کے لیے کسی ایک اے آئی ٹول پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی بھی خبر یا مواد کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیٹ پر فٹبال کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک خوبصورت خاتون کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے اس فٹبال میچ کے ایک کلپ میں مذکورہ خاتون کو اسٹیڈیم میں بیٹھے کیمرے کی طرف دیکھ کر معصومیت سے مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سحر انگیز مسکراہٹ اور سادگی پر میچ کے کمنٹیٹر بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے خاتون کے شرمیلے انداز اور دلفریب مسکراہٹ کو دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔</p>
<p>ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگ ان پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔</p>
<p>کچھ صارفین نے مسلم خواتین کے حسن کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی رہی ہیں اور ان کی یہ سادگی ہی ان کا اصل حسن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کچھ حلقوں میں اسے ایک عیسائی خاتون کی قبولِ اسلام کے بعد کے چہرے کا نور قرار دے کر بھی شیئر کیا جانے لگا ہے۔</p>
<p>اسی دوران کچھ افراد یہ بھی ذکر کرتے دکھائی دیے کہ کہیں یہ چہرہ اور ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال تو نہیں؟</p>
<p>ویڈیو کی غیر معمولی خوبصورتی اور پرفیکشن کی وجہ سے بہت سے صارفین کو یہ گمان ہونے لگا کہ یہ کوئی حقیقی خاتون نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک فرضی ڈیجیٹل کریکٹر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے اپنے اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ایلون مسک کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کو ٹیگ کر کے پوچھ ہی لیا کہ یہ خاتون کون ہیں، کس ملک سے ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں، تو ’گروک‘ نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی کردی اور بتایا کہ یہ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، بلکہ عراق کی مقامی فٹ بال لیگ میں ’اربیل بمقابلہ النفط‘ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک عام فین ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گروک نے تو اسے حقیقی خاتون کریکٹر قرار دے دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر متحرک بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔</p>
<p>اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’زویا خان‘ نامی اکاؤنٹ سے ہی شیئر کی گئی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہی خاتون انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ میں اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں انہیں اسی لباس میں مختلف کھیلوں کے ایونٹس میں ملبوس دکھایا گیا ہے، جس میں کہیں وہ کسی چینل کی اسکرین پر دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں اسٹیڈیم میں تماشائیوں میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔</p>
<p>ان ویڈیوز میں متضاد اور غیر حقیقی کیمرہ شوٹس کی وجہ سے محمد زبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/zoo_bear/status/2070849026002423836'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/zoo_bear/status/2070849026002423836"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور اکاؤنٹ سے اسی خاتون کریکٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بالکل اسی لباس اور ملبوس نظر خود یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ وہ ایک اے آئی کریکٹر ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈیجیٹل میڈیا ماہرین اور فیکٹ چیکرز مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود وائرل مواد پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فیکٹ چیکنگ کے لیے کسی ایک اے آئی ٹول پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی بھی خبر یا مواد کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506850</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 18:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271501247787026.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271501247787026.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلسل کمی کے بعد سونے کی پھر اونچی اُڑان، ہزاروں روپے مہنگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506851/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں سونا 11.87 ڈالر اور پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 1187 روپے مہنگا ہو گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 1187 روپے اضافے سے 4 لاکھ 31 ہزار 323 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 989 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 68 ہزار 74 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506383/gold-rate-today-in-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی مارکیٹ  میں سونے کی قیمت 11.87 ڈالرز بڑھ کر 4088 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں سونا 11.87 ڈالر اور پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 1187 روپے مہنگا ہو گیا۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 1187 روپے اضافے سے 4 لاکھ 31 ہزار 323 روپے ہو گئی۔</p>
<p>اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 989 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 68 ہزار 74 روپے ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506383/gold-rate-today-in-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عالمی مارکیٹ  میں سونے کی قیمت 11.87 ڈالرز بڑھ کر 4088 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔</p>
<br>
<br>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506851</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 15:12:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27150847994152d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27150847994152d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: اب تک کونسی ٹیمیں 'راؤنڈ آف 32' میں جگہ بنا چکی ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کے اختتام کے قریب ناک آؤٹ مرحلے کی تصویر تقریباً واضح ہو گئی ہے۔ اب تک 48 میں سے 28 ٹیمیں راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ صرف چار نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔ ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز 28 جون سے ہوگا اور 3 جولائی تک راؤنڈ آف 32 کے مقابلے کھیلے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے والی ٹیموں میں میزبان میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس، ناروے، کولمبیا، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا، برازیل، مراکش، جنوبی افریقہ، ایکواڈور، آئیوری کوسٹ، نیدرلینڈز، جاپان، سویڈن، آسٹریلیا، پیراگوئے، بیلجیم، مصر، اسپین، کیپ ورڈے، سینیگال، پرتگال، انگلینڈ اور گھانا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070735102947004803'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070735102947004803"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے آسٹریا کے خلاف دو گول اسکور کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچایا۔ میسی نے اس کامیابی کے ساتھ ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر 18 گول مکمل کیے اور آل ٹائم ٹاپ اسکورر بھی بن گئے۔ اس سے قبل الجزائر کے خلاف پہلے میچ میں انہوں نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر کی پہلی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس نے عراق کو 0-3 سے شکست دے کر اگلے مرحلے میں جگہ بنائی، جہاں کائلیان ایمباپے نے دو گول کیے۔ اس سے پہلے بھی سینیگال کے خلاف فتح میں ایمباپے نے دو گول اسکور کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل نے اپنے آخری گروپ میچ میں اسکاٹ لینڈ کو 0-3 سے ہرایا تھا، جس میں وینیسیئس جونیئر نے دو گول کیے اور ٹیم سات پوائنٹس کے ساتھ گروپ کی سرفہرست رہی۔ جنوبی افریقہ نے جنوبی کوریا کو 0-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپ ورڈے نے بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ مصر نے بھی پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506848/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506848"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کئی ٹیموں کا سفر گروپ مرحلے ہی میں اختتام پزیر ہو گیا ہے۔ ہیٹی سب سے پہلے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیم تھی، جبکہ ترکیہ، تیونس، اردن، پاناما، قطر، چیکیا، کیوراساؤ، نیوزی لینڈ، یوراگوئے، سعودی عرب اور عراق بھی اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے میزبان قطر کو اپنے آخری گروپ میچ میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے ہاتھوں 1-3 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ اپنے گروپ میں آخری نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سعودی عرب اور یوراگوئے بھی اپنے اپنے گروپس سے آگے نہ بڑھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرتبہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوئیں، جس کے باعث ناک آؤٹ مرحلے میں بھی توسیع کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئے فارمیٹ کے مطابق 12 گروپس کی پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہِ راست اگلے مرحلے میں پہنچتی ہیں، جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیمیں بھی راؤنڈ آف 32 میں جگہ بناتی ہیں۔ اس کے بعد راؤنڈ آف 16، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل، تیسری پوزیشن کا میچ اور پھر 19 جولائی کو فائنل کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اس ورلڈ کپ میں پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں درجہ بندی کا طریقہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سب سے پہلے متعلقہ ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچوں کا ریکارڈ دیکھا جائے گا، جبکہ گول کے فرق کو بعد میں اہمیت دی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود فیصلہ نہ ہو سکے تو مجموعی گول فرق، کیے گئے گول، ڈسپلن ریکارڈ اور آخر میں فیفا ورلڈ رینکنگ کو مدنظر رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کے اختتام کے قریب ناک آؤٹ مرحلے کی تصویر تقریباً واضح ہو گئی ہے۔ اب تک 48 میں سے 28 ٹیمیں راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ صرف چار نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔ ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز 28 جون سے ہوگا اور 3 جولائی تک راؤنڈ آف 32 کے مقابلے کھیلے جائیں گے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے والی ٹیموں میں میزبان میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس، ناروے، کولمبیا، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا، برازیل، مراکش، جنوبی افریقہ، ایکواڈور، آئیوری کوسٹ، نیدرلینڈز، جاپان، سویڈن، آسٹریلیا، پیراگوئے، بیلجیم، مصر، اسپین، کیپ ورڈے، سینیگال، پرتگال، انگلینڈ اور گھانا شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070735102947004803'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070735102947004803"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی نے آسٹریا کے خلاف دو گول اسکور کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچایا۔ میسی نے اس کامیابی کے ساتھ ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر 18 گول مکمل کیے اور آل ٹائم ٹاپ اسکورر بھی بن گئے۔ اس سے قبل الجزائر کے خلاف پہلے میچ میں انہوں نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر کی پہلی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کی تھی۔</p>
<p>فرانس نے عراق کو 0-3 سے شکست دے کر اگلے مرحلے میں جگہ بنائی، جہاں کائلیان ایمباپے نے دو گول کیے۔ اس سے پہلے بھی سینیگال کے خلاف فتح میں ایمباپے نے دو گول اسکور کیے تھے۔</p>
<p>برازیل نے اپنے آخری گروپ میچ میں اسکاٹ لینڈ کو 0-3 سے ہرایا تھا، جس میں وینیسیئس جونیئر نے دو گول کیے اور ٹیم سات پوائنٹس کے ساتھ گروپ کی سرفہرست رہی۔ جنوبی افریقہ نے جنوبی کوریا کو 0-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کی۔</p>
<p>کیپ ورڈے نے بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ مصر نے بھی پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506848/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506848"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب کئی ٹیموں کا سفر گروپ مرحلے ہی میں اختتام پزیر ہو گیا ہے۔ ہیٹی سب سے پہلے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیم تھی، جبکہ ترکیہ، تیونس، اردن، پاناما، قطر، چیکیا، کیوراساؤ، نیوزی لینڈ، یوراگوئے، سعودی عرب اور عراق بھی اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہوئیں۔</p>
<p>2022 کے میزبان قطر کو اپنے آخری گروپ میچ میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے ہاتھوں 1-3 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ اپنے گروپ میں آخری نمبر پر رہا۔</p>
<p>اسی طرح سعودی عرب اور یوراگوئے بھی اپنے اپنے گروپس سے آگے نہ بڑھ سکے۔</p>
<p>اس مرتبہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہوئیں، جس کے باعث ناک آؤٹ مرحلے میں بھی توسیع کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نئے فارمیٹ کے مطابق 12 گروپس کی پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہِ راست اگلے مرحلے میں پہنچتی ہیں، جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیمیں بھی راؤنڈ آف 32 میں جگہ بناتی ہیں۔ اس کے بعد راؤنڈ آف 16، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل، تیسری پوزیشن کا میچ اور پھر 19 جولائی کو فائنل کھیلا جائے گا۔</p>
<p>فیفا نے اس ورلڈ کپ میں پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں درجہ بندی کا طریقہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>اب سب سے پہلے متعلقہ ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچوں کا ریکارڈ دیکھا جائے گا، جبکہ گول کے فرق کو بعد میں اہمیت دی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود فیصلہ نہ ہو سکے تو مجموعی گول فرق، کیے گئے گول، ڈسپلن ریکارڈ اور آخر میں فیفا ورلڈ رینکنگ کو مدنظر رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506845</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:52:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271451552078e9e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271451552078e9e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی: دو معصوم بچوں کی جان بچانے والے پاکستانی نوجوان کے لیے سرکاری اعزاز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی کے شہر بریشیا میں گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ پاکستانی نوجوان نوید اسلم نے بہادری کی ایسی شاندار مثال قائم کی ہے جس نے نہ صرف اٹلی بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل بریشیا کے ایک پارک میں معصوم بچے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک نائجیرین شہری نے ان پر حملہ کر دیا اور بچوں کی گردن دبانے کی کوشش کی۔ اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہی وہاں موجود نوید اسلم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور پر جھپٹ پڑے اور اسے دبوچ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پولیس کے آنے تک اس وحشی حملہ آور کو پوری طرح قابو میں رکھا۔ بچوں کو بچانے کی اس جدوجہد کے دوران نوید اسلم خود بھی زخمی ہوئے لیکن انہوں نے معصوم بچوں پر آنچ نہیں آنے دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioGenoa/status/2067989753970983370/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RadioGenoa/status/2067989753970983370/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی نوجوان کی اس غیر معمولی بہادری اور انسانی خدمت کے اعتراف میں بریشیا شہر کی میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کو اپنے دفتر بلایا اور انہیں خصوصی اعزازی شیلڈ سے نوازا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کی جرات کو دل کھول کر سراہا اور کہا کہ نوید اسلم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر معصوم بچوں کو بچایا، ان کی یہ غیر معمولی بہادری اور بروقت انسانی خدمت واقعی تعریف کے قابل ہے جس پر پورا شہر ان کا شکر گزار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اعزاز حاصل کرنے کے بعد گجرات کے شیر دل نوجوان نوید اسلم نے انتہائی سادگی اور عاجزی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان بچوں کی جان بچانا ان کی انسانی ذمہ داری تھی، انہوں نے کچھ الگ نہیں کیا بلکہ جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کرنا چاہیے، وہی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری نے بھی اپنے اس ہیرو کا شاندار استقبال کیا ہے اور سب کا کہنا ہے کہ نوید اسلم نے دیارِ غیر میں پاکستان کا نام روشن کر کے سب کے دل جیت لیے ہیں اور وہ پوری قوم کا فخر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی کے شہر بریشیا میں گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ پاکستانی نوجوان نوید اسلم نے بہادری کی ایسی شاندار مثال قائم کی ہے جس نے نہ صرف اٹلی بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>چند روز قبل بریشیا کے ایک پارک میں معصوم بچے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک نائجیرین شہری نے ان پر حملہ کر دیا اور بچوں کی گردن دبانے کی کوشش کی۔ اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہی وہاں موجود نوید اسلم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور پر جھپٹ پڑے اور اسے دبوچ لیا۔</p>
<p>انہوں نے پولیس کے آنے تک اس وحشی حملہ آور کو پوری طرح قابو میں رکھا۔ بچوں کو بچانے کی اس جدوجہد کے دوران نوید اسلم خود بھی زخمی ہوئے لیکن انہوں نے معصوم بچوں پر آنچ نہیں آنے دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RadioGenoa/status/2067989753970983370/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RadioGenoa/status/2067989753970983370/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستانی نوجوان کی اس غیر معمولی بہادری اور انسانی خدمت کے اعتراف میں بریشیا شہر کی میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کو اپنے دفتر بلایا اور انہیں خصوصی اعزازی شیلڈ سے نوازا۔</p>
<p>تقریب کے دوران میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کی جرات کو دل کھول کر سراہا اور کہا کہ نوید اسلم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر معصوم بچوں کو بچایا، ان کی یہ غیر معمولی بہادری اور بروقت انسانی خدمت واقعی تعریف کے قابل ہے جس پر پورا شہر ان کا شکر گزار ہے۔</p>
<p>اس موقع پر اعزاز حاصل کرنے کے بعد گجرات کے شیر دل نوجوان نوید اسلم نے انتہائی سادگی اور عاجزی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان بچوں کی جان بچانا ان کی انسانی ذمہ داری تھی، انہوں نے کچھ الگ نہیں کیا بلکہ جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کرنا چاہیے، وہی کیا۔</p>
<p>اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری نے بھی اپنے اس ہیرو کا شاندار استقبال کیا ہے اور سب کا کہنا ہے کہ نوید اسلم نے دیارِ غیر میں پاکستان کا نام روشن کر کے سب کے دل جیت لیے ہیں اور وہ پوری قوم کا فخر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506849</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 15:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271446311ada98e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271446311ada98e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: مصر کے خلاف وی اے آر نے ایران کو کس طرح جیت سے محروم کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506848/fifa-world-cup-var-denies-iran-late-win-against-egypt</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی میچ کے آخری لمحات میں اس وقت بڑا دھچکا لگا، جب ان کے فاتحانہ گول کو ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) نے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ایران اور مصر کے درمیان میچ 1-1 سے برابر ہوا جس کے بعد ایران کو اب ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی مقابلے میں 1-1 سے ڈرا کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ مصر نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر پہلے ہی راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ کھیل کے صرف پانچویں منٹ میں محمود صابر نے گول کر کے مصر کو برتری دلائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے میں محمد صلاح نے اہم کردار ادا کیا، جن کی بائیں پاؤں سے لگائی گئی کِک محمود صابر تک پہنچی اور بال ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند کے ہاتھوں سے پھسل کر جال میں جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران نے گول کے بعد میچ میں جلد ہی واپسی کی کوشش کی۔ مہدی طارمی نے پینلٹی حاصل کی، لیکن مصر کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار انداز میں اس کا دفاع کیا۔ تاہم اسی حملے کے دوران رامین رضائیان نے ری باؤنڈ پر تنگ زاویے سے گیند کو جال میں پہنچا کر 14ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تیز رفتار کھیل کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نسبتاً سست ہو گیا اور واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے۔ چونکہ مصر پہلے ہی اگلے مرحلے میں جگہ بنا چکا تھا، اس لیے وہ محتاط انداز میں کھیل رہا تھا، جبکہ ایران نے آہستہ آہستہ دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ مہدی طارمی کا ایک ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا، جس کے بعد 93ویں منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے اچانک گول کردیا جس پر ایرانی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی ٹیم نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم چند لمحوں بعد وی اے آر نے گول کا جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ ایرانی کھلاڑی شجاع خلیل زادہ معمولی آف سائیڈ پر تھے، جس کے باعث گول مسترد کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں کی خوشی مایوسی میں بدل گئی اور میچ 1-1 سے ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نتیجے کے بعد مصر 5 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اگرچہ اس کے اور بیلجیم کے پوائنٹس برابر ہیں، لیکن بہتر گول فرق کی بنیاد پر بیلجیم پہلے نمبر پر رہا۔ مصر اب 3 جولائی کو ڈیلاس میں آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کا میچ کھیلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران تین پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور اب اسے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا وہ بہترین آٹھ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506843/football-france-fifa-hattrick-fifa-worldcup-2026-ousmanedembele-norwayvsfrance'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے دوران اسٹیڈیم میں مصری شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم ایرانی شائقین بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" href="#ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران راؤنڈ آف 32 میں کیسے پہنچے گا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال کے مطابق ایران نے تیسرے نمبر پر رہنے والی تین ٹیموں، جنوبی کوریا، یوراگوئے اور اسکاٹ لینڈ سے بہتر پوزیشن حاصل کی تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی یقینی بنانے کے لیے ایران کو صرف ایک اور ایسی ٹیم درکار ہے جو تیسرے نمبر کی درجہ بندی میں اس سے نیچے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی قسمت اب دیگر گروپس کے آخری میچوں کے نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک نتیجہ سامنے آتا ہے تو ایران راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کروشیا کسی بھی فرق سے گھانا کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے تو ایران اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر الجزائر کسی بھی فرق سے آسٹریا سے ہار جاتا ہے تو بھی ایران کو ناک آؤٹ مرحلے کی ٹکٹ مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اگر آسٹریا الجزائر کے خلاف شکست کھا جاتا ہے تو بھی ایران کی راہ ہموار ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کانگو اور ازبکستان کے درمیان میچ برابر ختم ہوتا ہے تو ایران کو فائدہ ہوگا اور وہ اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اگر ازبکستان کانگو کو شکست تو دے، لیکن جیت کا فرق چھ گول سے کم ہو، تب بھی ایران بہترین تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ٹیم اور اس کے شائقین اب ان تمام مقابلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ صرف ایک سازگار نتیجہ انہیں ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 میں پہنچانے کے لیے کافی ہوگا۔ دوسری جانب اگر ان میں سے کوئی بھی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو ایران کا ورلڈ کپ سفر گروپ مرحلے پر ہی ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی میچ کے آخری لمحات میں اس وقت بڑا دھچکا لگا، جب ان کے فاتحانہ گول کو ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) نے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ایران اور مصر کے درمیان میچ 1-1 سے برابر ہوا جس کے بعد ایران کو اب ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی مقابلے میں 1-1 سے ڈرا کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ مصر نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔</p>
<p>مصر پہلے ہی راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ کھیل کے صرف پانچویں منٹ میں محمود صابر نے گول کر کے مصر کو برتری دلائی۔</p>
<p>اس حملے میں محمد صلاح نے اہم کردار ادا کیا، جن کی بائیں پاؤں سے لگائی گئی کِک محمود صابر تک پہنچی اور بال ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند کے ہاتھوں سے پھسل کر جال میں جا پہنچی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران نے گول کے بعد میچ میں جلد ہی واپسی کی کوشش کی۔ مہدی طارمی نے پینلٹی حاصل کی، لیکن مصر کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار انداز میں اس کا دفاع کیا۔ تاہم اسی حملے کے دوران رامین رضائیان نے ری باؤنڈ پر تنگ زاویے سے گیند کو جال میں پہنچا کر 14ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔</p>
<p>ابتدائی تیز رفتار کھیل کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نسبتاً سست ہو گیا اور واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے۔ چونکہ مصر پہلے ہی اگلے مرحلے میں جگہ بنا چکا تھا، اس لیے وہ محتاط انداز میں کھیل رہا تھا، جبکہ ایران نے آہستہ آہستہ دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ مہدی طارمی کا ایک ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا، جس کے بعد 93ویں منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے اچانک گول کردیا جس پر ایرانی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی ٹیم نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم چند لمحوں بعد وی اے آر نے گول کا جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ ایرانی کھلاڑی شجاع خلیل زادہ معمولی آف سائیڈ پر تھے، جس کے باعث گول مسترد کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں کی خوشی مایوسی میں بدل گئی اور میچ 1-1 سے ختم ہوا۔</p>
<p>اس نتیجے کے بعد مصر 5 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اگرچہ اس کے اور بیلجیم کے پوائنٹس برابر ہیں، لیکن بہتر گول فرق کی بنیاد پر بیلجیم پہلے نمبر پر رہا۔ مصر اب 3 جولائی کو ڈیلاس میں آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کا میچ کھیلے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران تین پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور اب اسے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا وہ بہترین آٹھ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506843/football-france-fifa-hattrick-fifa-worldcup-2026-ousmanedembele-norwayvsfrance'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے دوران اسٹیڈیم میں مصری شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم ایرانی شائقین بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔</p>
<h1><a id="ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" href="#ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران راؤنڈ آف 32 میں کیسے پہنچے گا؟</h1>
<p>موجودہ صورتحال کے مطابق ایران نے تیسرے نمبر پر رہنے والی تین ٹیموں، جنوبی کوریا، یوراگوئے اور اسکاٹ لینڈ سے بہتر پوزیشن حاصل کی تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی یقینی بنانے کے لیے ایران کو صرف ایک اور ایسی ٹیم درکار ہے جو تیسرے نمبر کی درجہ بندی میں اس سے نیچے رہے۔</p>
<p>ایران کی قسمت اب دیگر گروپس کے آخری میچوں کے نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک نتیجہ سامنے آتا ہے تو ایران راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔</p>
<p>اگر کروشیا کسی بھی فرق سے گھانا کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے تو ایران اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اگر الجزائر کسی بھی فرق سے آسٹریا سے ہار جاتا ہے تو بھی ایران کو ناک آؤٹ مرحلے کی ٹکٹ مل جائے گی۔</p>
<p>اسی طرح اگر آسٹریا الجزائر کے خلاف شکست کھا جاتا ہے تو بھی ایران کی راہ ہموار ہو جائے گی۔</p>
<p>اگر کانگو اور ازبکستان کے درمیان میچ برابر ختم ہوتا ہے تو ایران کو فائدہ ہوگا اور وہ اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ اگر ازبکستان کانگو کو شکست تو دے، لیکن جیت کا فرق چھ گول سے کم ہو، تب بھی ایران بہترین تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو جائے گا۔</p>
<p>ایرانی ٹیم اور اس کے شائقین اب ان تمام مقابلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ صرف ایک سازگار نتیجہ انہیں ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 میں پہنچانے کے لیے کافی ہوگا۔ دوسری جانب اگر ان میں سے کوئی بھی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو ایران کا ورلڈ کپ سفر گروپ مرحلے پر ہی ختم ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506848</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 15:49:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2714103885b0bb8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2714103885b0bb8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اب ’’گرین اسپین پُٹ‘‘ کو خیرباد کہنے کا وقت آ گیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506847/us-federal-reserve-kevin-warsh-ben-bernanke-greenspan-bernanke-put-us-chip-stocks-technological-investment-fed-chairman</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟</strong></p>
<p>اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔</p>
<p>امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔</p>
<p>گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔</p>
<p>گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔</p>
<p>یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔</p>
<p>گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔</p>
<p>بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔</p>
<p>منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔</p>
<p>گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔</p>
<p>یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔</p>
<p>یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔</p>
<p>یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p>اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔</p>
<p>ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔</p>
<p>یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔</p>
<p>کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔</p>
<p>شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔</p>
<p>لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p>اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟</p>
<p>یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔</p>
<p>ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506847</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:18:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271416372dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271416372dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ 'من و عن عوام کو پہنچانے' کا دعویٰ، قیمتیں کم نہ کرنے پر حکومت زیرِ تنقید</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506846/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آنے کے باوجود وفاقی حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونی والی کمی کا فائدہ عوام تک من وعن پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ روز حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا، اور پیٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا اور پیٹرولیم کمپنیوں کی مبینہ اجارہ داری کی وجہ سے عام شہری مہنگی ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعتِ اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یعنی بھاری ٹیکس لگا کر ”پیٹرول کو پیسہ بنانے کا غیر قانونی ذریعہ“ بنا رہی ہے، جو مہنگائی کے ستائے عوام پر بہت بڑا بوجھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر جب تنقید بڑھی تو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا چارٹ شیئر کیا اور کہا کہ حکومت نہ تو کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر ناجائز بوجھ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliPervaiz450/status/2070732247939051890?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AliPervaiz450/status/2070732247939051890?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے عالمی معاہدوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم نے حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اب تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر تک کی بڑی کمی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اس مؤقف کے برعکس، سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر آنے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اب بھی 300 روپے فی لیٹر کیوں ہے، یہ فائدہ عوام کو کیوں نہیں دیا جا رہا، کون منافع کما رہا ہے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Real_MZubair/status/2070776463482142808?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Real_MZubair/status/2070776463482142808?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں 72 ڈالر فی بیرل گر چکی ہیں لیکن پاکستان کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے سستے اسٹاک پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا گیا اور اب پھر وہی کیا جا رہا ہے، عوام نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ کرپٹ لوگ اپنے فائدے کا تحفظ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/HaleemAdil/status/2070715233065423279?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HaleemAdil/status/2070715233065423279?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح صحافی زاہد گشکوری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کمپنیاں، ٹینکر مالکان اور بڑے ڈیلر جیت گئے ہیں اور عوام ہار گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ZahidGishkori/status/2070585959167770718?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ZahidGishkori/status/2070585959167770718?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے حکومت اور پاکستان کی تیل کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کے حساب کتاب پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے الزام عائد کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی قیمتوں کا غلط حساب لگا کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ضرورت سے زیادہ کم کر دیں، جس سے کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہفتہ قبل پیٹرول کی قیمت اصل حساب سے گیارہ روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت تقریباً پینتالیس روپے فی لیٹر زیادہ کم کی گئی تھی۔ تاہم اوگرا کی طرف سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی سرکاری جواب سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کے راستے بند ہونے کے خدشات کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہوا تھا، جس کے بعد حکومت نے ہر جمعہ کی رات پیٹرول کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینا شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے مہینے میں پیٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جس پر شدید عوامی غصے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے چوبیس گھنٹوں کے اندرپیٹرولیم لیوی پر 80 روپے کم کر کے پیٹرول 378 روپےفی لیٹر کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب حکومت عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے، لیکن عوام تاحال سستے پیٹرول کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آنے کے باوجود وفاقی حکومت کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونی والی کمی کا فائدہ عوام تک من وعن پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ روز حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا، اور پیٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی۔</p>
<p>ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا اور پیٹرولیم کمپنیوں کی مبینہ اجارہ داری کی وجہ سے عام شہری مہنگی ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>جماعتِ اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یعنی بھاری ٹیکس لگا کر ”پیٹرول کو پیسہ بنانے کا غیر قانونی ذریعہ“ بنا رہی ہے، جو مہنگائی کے ستائے عوام پر بہت بڑا بوجھ ہے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر جب تنقید بڑھی تو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا چارٹ شیئر کیا اور کہا کہ حکومت نہ تو کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر ناجائز بوجھ ڈال رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AliPervaiz450/status/2070732247939051890?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AliPervaiz450/status/2070732247939051890?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے عالمی معاہدوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم نے حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اب تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر تک کی بڑی کمی کر چکے ہیں۔</p>
<p>حکومت کے اس مؤقف کے برعکس، سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر آنے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اب بھی 300 روپے فی لیٹر کیوں ہے، یہ فائدہ عوام کو کیوں نہیں دیا جا رہا، کون منافع کما رہا ہے؟</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Real_MZubair/status/2070776463482142808?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Real_MZubair/status/2070776463482142808?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں 72 ڈالر فی بیرل گر چکی ہیں لیکن پاکستان کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے سستے اسٹاک پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا گیا اور اب پھر وہی کیا جا رہا ہے، عوام نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ کرپٹ لوگ اپنے فائدے کا تحفظ کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/HaleemAdil/status/2070715233065423279?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HaleemAdil/status/2070715233065423279?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح صحافی زاہد گشکوری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کمپنیاں، ٹینکر مالکان اور بڑے ڈیلر جیت گئے ہیں اور عوام ہار گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ZahidGishkori/status/2070585959167770718?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ZahidGishkori/status/2070585959167770718?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ ہفتے حکومت اور پاکستان کی تیل کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کے حساب کتاب پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے الزام عائد کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی قیمتوں کا غلط حساب لگا کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ضرورت سے زیادہ کم کر دیں، جس سے کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھا۔</p>
<p>کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہفتہ قبل پیٹرول کی قیمت اصل حساب سے گیارہ روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت تقریباً پینتالیس روپے فی لیٹر زیادہ کم کی گئی تھی۔ تاہم اوگرا کی طرف سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی سرکاری جواب سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کے راستے بند ہونے کے خدشات کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہوا تھا، جس کے بعد حکومت نے ہر جمعہ کی رات پیٹرول کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینا شروع کیا تھا۔</p>
<p>اپریل کے مہینے میں پیٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جس پر شدید عوامی غصے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے چوبیس گھنٹوں کے اندرپیٹرولیم لیوی پر 80 روپے کم کر کے پیٹرول 378 روپےفی لیٹر کر دیا تھا۔</p>
<p>اب حکومت عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے، لیکن عوام تاحال سستے پیٹرول کے منتظر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506846</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:29:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271358277cb7929.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271358277cb7929.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس کے فٹبالر عثمان ڈیمبیلے کی برق رفتار ہیٹ ٹرک، ورلڈ کپ میں نیا ریکارڈ قائم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506843/football-france-fifa-hattrick-fifa-worldcup-2026-ousmanedembele-norwayvsfrance</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں فرانس کے فارورڈ عثمان ڈیمبیلے نے ناروے کے خلاف گروپ آئی کے میچ میں شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کرتے ہوئے ایک اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوسٹن میں کھیلے گئے اس مقابلے میں ڈیمبیلے نے صرف 32 منٹ میں تین گول اسکور کیے اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں 1994 کے بعد پہلے ایسے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پہلے ہاف کے دوران ہی اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیمبیلے نے میچ کے ساتویں منٹ میں دائیں پاؤں سے زبردست شاٹ کے ذریعے پہلا گول کیا، جو سیدھا جال کے بائیں کونے میں گیا۔ اس کے بعد انہوں نے 20ویں منٹ میں پنالٹی ایریا سے باہر سے ایک خوبصورت شاٹ لگا کر دوسرا گول اسکور کیا۔ صرف 12 منٹ بعد انہوں نے ناروے کے گول کیپر کو شکست دیتے ہوئے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے اپنا تیسرا گول مکمل کیا اور ہیٹ ٹرک اپنے نام کر لی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کارکردگی کے ساتھ عثمان ڈیمبیلے فیفا ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے فرانس کے صرف تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل یہ اعزاز جسٹ فونٹین اور کیلیان ایمباپے کے پاس تھا۔ فرانسیسی فٹبال کے عظیم اسٹرائیکر جسٹ فونٹین نے 1958 کے ورلڈ کپ میں دو ہیٹ ٹرکس کی تھیں، جن میں ایک پیراگوئے اور دوسری مغربی جرمنی کے خلاف تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کیلیان ایمباپے نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی۔ اگرچہ اس میچ کا مقررہ اور اضافی وقت 3-3 سے برابر ختم ہوا تھا، تاہم فرانس کو بعد ازاں پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں یہ اب تک کی دوسری ہیٹ ٹرک ہے۔ اس سے پہلے کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے ’گروپ بی‘ میں قطر کے خلاف میچ کے دوران ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیمبیلے کی یہ شاندار کارکردگی نہ صرف فرانس کے لیے اہم ثابت ہوئی بلکہ انہوں نے اپنی تیز رفتار ہیٹ ٹرک کے ذریعے ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں فرانس کے فارورڈ عثمان ڈیمبیلے نے ناروے کے خلاف گروپ آئی کے میچ میں شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کرتے ہوئے ایک اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔</strong></p>
<p>بوسٹن میں کھیلے گئے اس مقابلے میں ڈیمبیلے نے صرف 32 منٹ میں تین گول اسکور کیے اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں 1994 کے بعد پہلے ایسے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پہلے ہاف کے دوران ہی اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔</p>
<p>ڈیمبیلے نے میچ کے ساتویں منٹ میں دائیں پاؤں سے زبردست شاٹ کے ذریعے پہلا گول کیا، جو سیدھا جال کے بائیں کونے میں گیا۔ اس کے بعد انہوں نے 20ویں منٹ میں پنالٹی ایریا سے باہر سے ایک خوبصورت شاٹ لگا کر دوسرا گول اسکور کیا۔ صرف 12 منٹ بعد انہوں نے ناروے کے گول کیپر کو شکست دیتے ہوئے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے اپنا تیسرا گول مکمل کیا اور ہیٹ ٹرک اپنے نام کر لی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کارکردگی کے ساتھ عثمان ڈیمبیلے فیفا ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے فرانس کے صرف تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل یہ اعزاز جسٹ فونٹین اور کیلیان ایمباپے کے پاس تھا۔ فرانسیسی فٹبال کے عظیم اسٹرائیکر جسٹ فونٹین نے 1958 کے ورلڈ کپ میں دو ہیٹ ٹرکس کی تھیں، جن میں ایک پیراگوئے اور دوسری مغربی جرمنی کے خلاف تھی۔</p>
<p>دوسری جانب کیلیان ایمباپے نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی۔ اگرچہ اس میچ کا مقررہ اور اضافی وقت 3-3 سے برابر ختم ہوا تھا، تاہم فرانس کو بعد ازاں پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں یہ اب تک کی دوسری ہیٹ ٹرک ہے۔ اس سے پہلے کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے ’گروپ بی‘ میں قطر کے خلاف میچ کے دوران ٹورنامنٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی۔</p>
<p>ڈیمبیلے کی یہ شاندار کارکردگی نہ صرف فرانس کے لیے اہم ثابت ہوئی بلکہ انہوں نے اپنی تیز رفتار ہیٹ ٹرک کے ذریعے ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506843</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 13:36:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2713222719c183a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2713222719c183a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیریک بندرگاہ پر حالیہ امریکی حملوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا: ایرانی میڈیا کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506842/no-damage-caused-by-us-attack-at-sirik-port-say-iranian-media</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے امریکی حملوں میں ایران کی کسی بندرگاہ پر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے مشرقی ہرمزگان کی بندرگاہوں کے سربراہ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی تازہ بمباری کے باوجود سریک بندرگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امریکی حملہ ایک دن پہلے ایک مال بردار جہاز کو ایرانی ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں تو سنی گئیں، لیکن وہاں تمام کام معمول کے مطابق چل رہا ہے اور کسی بھی مشینری یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 17 جون کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد امریکا نے ایران کے اندر فوجی ٹھکانوں، ڈرون اور میزائلوں کے گوداموں اور ساحلی ریڈاروں پر پہلی بار فضائی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506817/iran-repelled-the-us-attack-and-targeted-us-military-bases-in-the-region-claims-revolutionary-guards'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فوجی کارروائی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ سفارت کاری اور جنگ بندی کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو بات چیت کے اصولوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کا خیال رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم عزیزی نے وارننگ دی کہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح خود امریکا کے لیے ہی پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی اور اب الزام تراشی کا کھیل مزید نہیں چلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ایران کی سب سے بڑی فوجی قوت یعنی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506839/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو کنٹرول کرنے کا پورا حق تہران حکومت کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے ملک کے جنوبی حصوں پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں ان کی بحری فوج نے پورے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے اس سے قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں ایرانی مقامات پر بمباری کے مناظر دکھائے گئے تھے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر جنگ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے امریکی حملوں میں ایران کی کسی بندرگاہ پر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔</strong></p>
<p>ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی نے مشرقی ہرمزگان کی بندرگاہوں کے سربراہ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی تازہ بمباری کے باوجود سریک بندرگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔</p>
<p>یہ امریکی حملہ ایک دن پہلے ایک مال بردار جہاز کو ایرانی ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا گیا تھا۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں تو سنی گئیں، لیکن وہاں تمام کام معمول کے مطابق چل رہا ہے اور کسی بھی مشینری یا سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 17 جون کو ہونے والے امن معاہدے کے بعد امریکا نے ایران کے اندر فوجی ٹھکانوں، ڈرون اور میزائلوں کے گوداموں اور ساحلی ریڈاروں پر پہلی بار فضائی حملے کیے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506817/iran-repelled-the-us-attack-and-targeted-us-military-bases-in-the-region-claims-revolutionary-guards'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس فوجی کارروائی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ سفارت کاری اور جنگ بندی کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں کرتی۔</p>
<p>انہوں نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو بات چیت کے اصولوں کو مانتے ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کا خیال رکھتے ہیں۔</p>
<p>ابراہیم عزیزی نے وارننگ دی کہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح خود امریکا کے لیے ہی پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی اور اب الزام تراشی کا کھیل مزید نہیں چلے گا۔</p>
<p>دوسری طرف ایران کی سب سے بڑی فوجی قوت یعنی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506839/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو کنٹرول کرنے کا پورا حق تہران حکومت کے پاس ہے۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے ملک کے جنوبی حصوں پر ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں ان کی بحری فوج نے پورے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>امریکا نے اس سے قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں ایرانی مقامات پر بمباری کے مناظر دکھائے گئے تھے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر جنگ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506842</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 12:52:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27125049e31b59a.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27125049e31b59a.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمی کے اس شدید موسم میں موبائل فون کو محفوظ رکھنے کے طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506840/how-to-protect-your-smartphone-during-extreme-summer-heat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بند گاڑی میں فون نہ رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے</strong><br>اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔</p>
<p><strong>بند گاڑی میں فون نہ رکھیں</strong></p>
<p>تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔</p>
<p><strong>سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں</strong></p>
<p>گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>
<p><strong>تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں</strong></p>
<p>چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال</strong></p>
<p>دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔</p>
<p><strong>باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں</strong></p>
<p>جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p><br><strong>فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں</strong></p>
<p>فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔</p>
<p><strong>بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں</strong></p>
<p>گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔</p>
<p><br>اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506840</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 12:51:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27124701f64b42c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27124701f64b42c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا نے مسلمان فٹبالرز کے لیے 'مین آف دی میچ' ٹرافی تبدیل کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جہاں ایک طرف گولز کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، وہیں آف دی فیلڈ کچھ اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ فیفا نے ورلڈ کپ کے دوران ایک اہم اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ آف دی فیلڈ ایک رپورٹ کے مطابق فیفا نے مسلمان کھلاڑیوں کے مذہبی جذبات اور عقائد کا احترام کرتے ہوئے مین آف دی میچ کی ٹرافی میں تبدیلی کی ہے۔ اب مسلمان فٹ بالرز کو دی جانے والی ٹرافی سے شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اسپورٹس میڈیا پلیٹ فارم ’ای اایس پی این یوکے‘ سوشل میڈیا پوسٹ اور دوسرے پلیٹ فارمز میں سامنے آنے والی تصاویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کے محمد صلاح, میسی اور برازیل کے وینیسیئس جونیئر کو ملنے والی ٹرافیوں میں نمایاں فرق موجود ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم فٹبالرز کے لیے ورلڈ کپ کی ’پلیئر آف دی میچ‘ ٹرافی سے الکوحل برانڈ کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ان کے مذہبی عقائد کا احترام کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ESPNUK/status/2070194100918239559?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ESPNUK/status/2070194100918239559?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NextGen_Morocco/status/2070460798686638084?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NextGen_Morocco/status/2070460798686638084?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگر میدان کے اندر کے کھیلوں کی بات کی جائے تو جاری ورلڈ کپ اب تک کی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور منفرد ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی پہلے مرحلے یعنی گروپ اسٹیج کے میچ بھی ختم نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود یہ ورلڈ کپ فٹ بال کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والا ٹورنامنٹ بن چکا ہے۔ یہ نیا ریکارڈ امریکا اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران اس وقت بنا جب میچ کا پہلا گول ہوا، جو اس ٹورنامنٹ کا 173 واں گول تھا اور اس نے قطر ورلڈ کپ کے 172 گولز کا پچھلا ریکارڈ توڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ارجنٹائن کے شہرہ آفاق فٹبالرلیونل میسی اس ٹورنامنٹ میں ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں، اور یہ پچھلے 68 سالوں میں سب سے تیزی سے 100 گولز تک پہنچنے والا ورلڈ کپ بھی بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میدان میں بڑھتے ہوئے اس سنسنی خیز مقابلے کے درمیان اب مصر اور ایران کی ٹیمیں اپنے آخری گروپ میچ میں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے نتیجے سے ہی فیصلہ ہوگا کہ کون سی ٹیم اگلے مرحلے یعنی راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند نے میچ سے پہلے مصری ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر ایک انتہائی مضبوط ٹیم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصری اسکواڈ میں شامل تمام 26 کھلاڑی اتنے ہی باصلاحیت ہیں جتنا کہ ان کے اسٹار کھلاڑی محمد صلاح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی گول کیپر نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم کا پورا دھیان صرف اپنے ملک کے لوگوں کو خوشی فراہم کرنا ہے اور وہ ایک اچھے نتیجے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ ایران کی ٹیم اب تک اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہی ہے، جہاں اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ دو دو سے برابر کھیلا اور بیلجیئم کے خلاف میچ بغیر کسی گول کے برابری پر ختم کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جہاں ایک طرف گولز کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، وہیں آف دی فیلڈ کچھ اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ فیفا نے ورلڈ کپ کے دوران ایک اہم اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ آف دی فیلڈ ایک رپورٹ کے مطابق فیفا نے مسلمان کھلاڑیوں کے مذہبی جذبات اور عقائد کا احترام کرتے ہوئے مین آف دی میچ کی ٹرافی میں تبدیلی کی ہے۔ اب مسلمان فٹ بالرز کو دی جانے والی ٹرافی سے شراب بنانے والی کمپنی کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی اسپورٹس میڈیا پلیٹ فارم ’ای اایس پی این یوکے‘ سوشل میڈیا پوسٹ اور دوسرے پلیٹ فارمز میں سامنے آنے والی تصاویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کے محمد صلاح, میسی اور برازیل کے وینیسیئس جونیئر کو ملنے والی ٹرافیوں میں نمایاں فرق موجود ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم فٹبالرز کے لیے ورلڈ کپ کی ’پلیئر آف دی میچ‘ ٹرافی سے الکوحل برانڈ کا لوگو ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ان کے مذہبی عقائد کا احترام کیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ESPNUK/status/2070194100918239559?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ESPNUK/status/2070194100918239559?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/NextGen_Morocco/status/2070460798686638084?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NextGen_Morocco/status/2070460798686638084?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب اگر میدان کے اندر کے کھیلوں کی بات کی جائے تو جاری ورلڈ کپ اب تک کی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور منفرد ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>ابھی پہلے مرحلے یعنی گروپ اسٹیج کے میچ بھی ختم نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود یہ ورلڈ کپ فٹ بال کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والا ٹورنامنٹ بن چکا ہے۔ یہ نیا ریکارڈ امریکا اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران اس وقت بنا جب میچ کا پہلا گول ہوا، جو اس ٹورنامنٹ کا 173 واں گول تھا اور اس نے قطر ورلڈ کپ کے 172 گولز کا پچھلا ریکارڈ توڑ دیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ارجنٹائن کے شہرہ آفاق فٹبالرلیونل میسی اس ٹورنامنٹ میں ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں، اور یہ پچھلے 68 سالوں میں سب سے تیزی سے 100 گولز تک پہنچنے والا ورلڈ کپ بھی بن گیا ہے۔</p>
<p>میدان میں بڑھتے ہوئے اس سنسنی خیز مقابلے کے درمیان اب مصر اور ایران کی ٹیمیں اپنے آخری گروپ میچ میں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے نتیجے سے ہی فیصلہ ہوگا کہ کون سی ٹیم اگلے مرحلے یعنی راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنائے گی۔</p>
<p>ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند نے میچ سے پہلے مصری ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر ایک انتہائی مضبوط ٹیم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصری اسکواڈ میں شامل تمام 26 کھلاڑی اتنے ہی باصلاحیت ہیں جتنا کہ ان کے اسٹار کھلاڑی محمد صلاح ہیں۔</p>
<p>ایرانی گول کیپر نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم کا پورا دھیان صرف اپنے ملک کے لوگوں کو خوشی فراہم کرنا ہے اور وہ ایک اچھے نتیجے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ ایران کی ٹیم اب تک اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہی ہے، جہاں اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ دو دو سے برابر کھیلا اور بیلجیئم کے خلاف میچ بغیر کسی گول کے برابری پر ختم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506838</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 13:18:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2712450642435c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2712450642435c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بااثر افراد نے 14 سالہ بچے کو زیادتی کے بعد زندہ دفنا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506841/people-buried-14-years-old-boy-alive-in-sargodha</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرگودھا میں 14 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کی شکایت کرنے پر زندہ دفن کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ بچے کو کھیت سے زندہ برآمد کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق غلام رسول ولد مظہر گزشتہ روز سے لاپتا تھا۔ بعد ازاں ایک کھیت سے اس کے رونے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر قریب موجود کسانوں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور بچے کو نکال کر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سرگودھا منتقل کیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچے کے لواحقین کا الزام ہے کہ چند روز قبل بچے نے اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کی شکایت کی تھی، جس کے بعد ملزمان نے اسے زندہ مٹی میں دفن کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506791/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506791"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا مزید کہنا ہے کہ لواحقین کی درخواست کی روشنی میں مقدمے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; اس خبر میں زیادتی سے متعلق دعویٰ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرگودھا میں 14 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کی شکایت کرنے پر زندہ دفن کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ بچے کو کھیت سے زندہ برآمد کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق غلام رسول ولد مظہر گزشتہ روز سے لاپتا تھا۔ بعد ازاں ایک کھیت سے اس کے رونے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر قریب موجود کسانوں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال دیکھی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔</p>
<p>اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور بچے کو نکال کر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سرگودھا منتقل کیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔</p>
<p>متاثرہ بچے کے لواحقین کا الزام ہے کہ چند روز قبل بچے نے اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کی شکایت کی تھی، جس کے بعد ملزمان نے اسے زندہ مٹی میں دفن کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506791/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506791"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔</p>
<p>پولیس کا مزید کہنا ہے کہ لواحقین کی درخواست کی روشنی میں مقدمے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p><strong>نوٹ:</strong> اس خبر میں زیادتی سے متعلق دعویٰ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506841</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 13:06:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271317460f331f6.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271317460f331f6.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد سمندری راستے پوری دنیا کی ضرورت ہیں: وزیراعظم شہباز شریف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506839/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سمندر میں جہازوں کے آنے جانے کی آزادی اور بحری راستوں کی حفاظت کو پوری دنیا کے لیے بے حد ضروری قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے اس بات کو سب سے زیادہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی معیشت اور دنیا بھر میں سامان کی سپلائی کے نظام کو چلانے کے لیے سمندروں کا امن اور سیکیورٹی کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر کے سمندری راستوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سمندر سے آزادانہ گزرنے کا حق اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی آزادی اب کوئی عیاشی یا اضافی سہولت نہیں رہی، بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک لازمی ضرورت بن چکی ہے جس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر سمندری راستے محفوظ نہیں ہوں گے تو دنیا بھر کی تجارت اور معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار بن کر کھڑا ہے اور ایران امریکا امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ پاکستان نیوی نے معرکۂ حق میں شاندار کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کی بحری فوج کی صلاحیتوں کی تعریف کی اور پاک بحریہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی نیوی ایک ایسی طاقتور فورس ہے جو نہ صرف ہمارے ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ اس اہم سمندری خطے میں امن و امان قائم رکھنے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک مضبوط اور مددگار قوت کے طور پر بھی اپنا کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498664/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم شہباز شریف تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا استقبال کیا، جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ تقریب میں پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کا حلف اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار بن کر کھڑا ہے اور ایران امریکا امن معاہدہ پاکستان کے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے لیے فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی، جس پر وہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2070752799831506996/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2070752799831506996/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نیوی کا کردار انتہائی شاندار رہا، جبکہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل عزم کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498697'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بحرین، عراق اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کے نوجوانوں کی پاکستان میں تربیت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران وزیراعظم نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات بھی تقسیم کیے۔ مڈشپ مین عمر مختار کو بہترین مجموعی کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا، جبکہ آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد نے چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آفیسر کیڈٹ الویرا حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل دیا گیا، جبکہ اکیڈمی ڈرک مڈشپ مین ہادی عباس خان کے حصے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سمندر میں جہازوں کے آنے جانے کی آزادی اور بحری راستوں کی حفاظت کو پوری دنیا کے لیے بے حد ضروری قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے اس بات کو سب سے زیادہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی معیشت اور دنیا بھر میں سامان کی سپلائی کے نظام کو چلانے کے لیے سمندروں کا امن اور سیکیورٹی کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر کے سمندری راستوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سمندر سے آزادانہ گزرنے کا حق اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی آزادی اب کوئی عیاشی یا اضافی سہولت نہیں رہی، بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک لازمی ضرورت بن چکی ہے جس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر سمندری راستے محفوظ نہیں ہوں گے تو دنیا بھر کی تجارت اور معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار بن کر کھڑا ہے اور ایران امریکا امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ پاکستان نیوی نے معرکۂ حق میں شاندار کردار ادا کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کی بحری فوج کی صلاحیتوں کی تعریف کی اور پاک بحریہ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی نیوی ایک ایسی طاقتور فورس ہے جو نہ صرف ہمارے ملک کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ اس اہم سمندری خطے میں امن و امان قائم رکھنے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک مضبوط اور مددگار قوت کے طور پر بھی اپنا کام کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498664/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم شہباز شریف تھے۔</p>
<p>وزیراعظم کی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے ان کا استقبال کیا، جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ تقریب میں پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے مادرِ وطن کے دفاع کے عزم کا حلف اٹھایا۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار بن کر کھڑا ہے اور ایران امریکا امن معاہدہ پاکستان کے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے لیے فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی، جس پر وہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2070752799831506996/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2070752799831506996/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نیوی کا کردار انتہائی شاندار رہا، جبکہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل عزم کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498697'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بحرین، عراق اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کے نوجوانوں کی پاکستان میں تربیت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی عکاس ہے۔</p>
<p>تقریب کے دوران وزیراعظم نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات بھی تقسیم کیے۔ مڈشپ مین عمر مختار کو بہترین مجموعی کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا، جبکہ آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد نے چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آفیسر کیڈٹ الویرا حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈ میڈل دیا گیا، جبکہ اکیڈمی ڈرک مڈشپ مین ہادی عباس خان کے حصے میں آئی۔</p>
<p>تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506839</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 12:39:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271238236e142f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271238236e142f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے آپریشن سندور میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتیں تسلیم کرلیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکومت نے 7 مئی 2025 کے آپریشن سندور میں ہلاکتوں کا باضابطہ اعتراف  کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والے مزید چھ فوجیوں کے نام سرکاری طور پر نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی ہلاکتوں کا سرکاری طور پر اعتراف کرتے ہوئے ان کے نام نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تسلیم کی گئی ہلاکتوں میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے اہل خانہ کے مسلسل احتجاج اور دباؤ کے بعد بھارتی حکومت ان ہلاکتوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے اور نام ظاہر کرنے پر مجبور ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان اعترافات سے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارتی افواج کو نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ بھارت مرحلہ وار اپنے نقصانات منظرعام پر لا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم ایس کے مطابق پاکستان نے آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی 10 انفنٹری بریگیڈ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ہلاک ہونے والے صوبیدار میجر پون کمار کا تعلق بھی اسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ادھم پور میں نصب ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ کے ایم ایس کے مطابق سارجنٹ سریندر کمار ادھم پور میں ہلاک ہوئے تھے اور بعد ازاں انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا، جبکہ بھارت نے اس مقام پر ہونے والے نقصانات کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایم ایس کا دعویٰ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور بھارتی ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ فارورڈ بیس شدید متاثر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل، میراج 2000 اور دیگر طیاروں کو مار گرانے کے دعووں سے متعلق مختلف رپورٹس شائع کیں، جبکہ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو چھپا کر فوج کے مورال کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی ماہرین کے حوالے سے کے ایم ایس نے کہا ہے کہ بھارتی اپوزیشن آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات پر مودی حکومت سے مسلسل سوالات کر رہی ہے، جبکہ حکومت فوجی اور سیاسی نقصانات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے آپریشن سندور جاری رکھنے کے دعوے دراصل ان سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو مستقبل میں دیگر فوجی نقصانات سے متعلق بھی وضاحت کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکومت نے 7 مئی 2025 کے آپریشن سندور میں ہلاکتوں کا باضابطہ اعتراف  کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والے مزید چھ فوجیوں کے نام سرکاری طور پر نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔</p>
<p>کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والے چھ فوجیوں کی ہلاکتوں کا سرکاری طور پر اعتراف کرتے ہوئے ان کے نام نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تسلیم کی گئی ہلاکتوں میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔</p>
<p>کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے اہل خانہ کے مسلسل احتجاج اور دباؤ کے بعد بھارتی حکومت ان ہلاکتوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے اور نام ظاہر کرنے پر مجبور ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ان اعترافات سے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت ملتی ہے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارتی افواج کو نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ بھارت مرحلہ وار اپنے نقصانات منظرعام پر لا رہا ہے۔</p>
<p>کے ایم ایس کے مطابق پاکستان نے آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی 10 انفنٹری بریگیڈ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ہلاک ہونے والے صوبیدار میجر پون کمار کا تعلق بھی اسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے بتایا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ادھم پور میں نصب ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ کے ایم ایس کے مطابق سارجنٹ سریندر کمار ادھم پور میں ہلاک ہوئے تھے اور بعد ازاں انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا، جبکہ بھارت نے اس مقام پر ہونے والے نقصانات کی تردید کی تھی۔</p>
<p>کے ایم ایس کا دعویٰ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور بھارتی ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ فارورڈ بیس شدید متاثر ہوا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل، میراج 2000 اور دیگر طیاروں کو مار گرانے کے دعووں سے متعلق مختلف رپورٹس شائع کیں، جبکہ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو چھپا کر فوج کے مورال کو متاثر کیا۔</p>
<p>سیاسی ماہرین کے حوالے سے کے ایم ایس نے کہا ہے کہ بھارتی اپوزیشن آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات پر مودی حکومت سے مسلسل سوالات کر رہی ہے، جبکہ حکومت فوجی اور سیاسی نقصانات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے آپریشن سندور جاری رکھنے کے دعوے دراصل ان سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو مستقبل میں دیگر فوجی نقصانات سے متعلق بھی وضاحت کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506837</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:35:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271140446a284b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271140446a284b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کیا شامل ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506836/inside-the-israel-lebanon-14-point-framework-agreement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے لبنانی محاذ پر جاری جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی، جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے واپس جائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/middle-east/2026/06/27/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86-14-%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D8%A8%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D8%A7%DB%81%D8%AF%DB%81-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%81%D8%B5%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%A7%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"&gt;العربیہ&lt;/a&gt; اور الحدث کو موصول ہونے والی معاہدے کی تفصیلات کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے پاس ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506816/lebanon-israel-and-the-us-sign-framework-for-peace-agreement'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق دونوں ممالک ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی اور انخلا کا ذکر ہے، تاہم اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی ذرائع نے مزید بتایا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی یا پائلٹ علاقوں کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا اور اسرائیل یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کے روز فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پانچ ادوار کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506821/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستخط کی تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم خودمختار لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہیہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی، دشمنی کے مستقل خاتمے اور بے گھر لبنانی شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو منظر سے باہر کر دیتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506805/japan-annoucned-15million-dollars-aid-for-iran-lebanon-and-west-bank'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران کے اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے واضح کیا ہے کہ اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جنوبی لبنان سے بغیر کسی شرط کے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے لبنانی محاذ پر جاری جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی، جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے واپس جائیں گی۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/middle-east/2026/06/27/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86-14-%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D8%A8%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D8%A7%DB%81%D8%AF%DB%81-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%81%D8%B5%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%A7%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA">العربیہ</a> اور الحدث کو موصول ہونے والی معاہدے کی تفصیلات کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔</p>
<p>فریم ورک معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے پاس ہوگا۔</p>
<p>معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506816/lebanon-israel-and-the-us-sign-framework-for-peace-agreement'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستاویز کے مطابق دونوں ممالک ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیں گے۔</p>
<p>ادھر لبنانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی اور انخلا کا ذکر ہے، تاہم اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔</p>
<p>لبنانی ذرائع نے مزید بتایا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی یا پائلٹ علاقوں کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا اور اسرائیل یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کے روز فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پانچ ادوار کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506821/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستخط کی تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم خودمختار لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہیہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔</p>
<p>واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی، دشمنی کے مستقل خاتمے اور بے گھر لبنانی شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔</p>
<p>اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو منظر سے باہر کر دیتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506805/japan-annoucned-15million-dollars-aid-for-iran-lebanon-and-west-bank'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران کے اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے واضح کیا ہے کہ اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جنوبی لبنان سے بغیر کسی شرط کے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506836</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 11:21:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27112105cac2d7e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27112105cac2d7e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طلاق کے بعد عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کا جھگڑا، سابقہ اہلیہ کے سنگین الزامات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506835/imad-wasim-and-sannia-ashfaqs-post-divorce-dispute-intensifies-as-the-former-wife-makes-serious-allegations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی اور علیحدگی سے متعلق سنگین الزامات اور تفصیلات شیئر کی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان طلاق کے بعد کے معاملات اب سوشل میڈیا پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ثانیہ اشفاق نے الزام لگایا ہے کہ عماد وسیم نے اس وقت ان کے ساتھ دھوکا کیا جب وہ تیسری بار امید سے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ عماد وسیم نے فروری 2026 میں نائلہ راجہ نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی تھی اور تب سے وہ دونوں اپنی نئی زندگی کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، دوسری طرف عماد وسیم انہیں قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اپنا اپارٹمنٹ خالی کر دیں اور بچوں کو ان کے حوالے کر دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497682'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنی کہانی دنیا کے سامنے لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے اپنی شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عماد وسیم ان پر بہت زیادہ پابندیاں لگاتے تھے اور ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عماد وسیم بچوں کے خرچے دینے یا ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ بچے انہیں واپس مل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس شخص کی ہمت تو دیکھیں، اس نے میرے اور ہمارے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے بعد بھی ایسی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان کی نئی بیوی کے ساتھ کہانی کب شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق عماد وسیم نے مجھ سے اس وقت دھوکا کیا جب میں ان کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ میری حمل کے دوران ان کے سخت رویے نے میری زندگی بہت مشکل بنا دی تھی۔ وہ جولائی 2025 میں برطانیہ میں اپنے برے برتاؤ اور گھریلو تشدد کے الزامات کی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے تھے، اور یہ خدشہ تھا کہ وہ میرے بچے مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499922'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس دوران سوشل سروسز بھی شامل ہو گئیں اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں اور ان کی اسی حرکت کی وجہ سے وہاں کے سماجی بہبود کے ادارے بھی اس معاملے میں شامل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سماجی ورکرز نے عماد وسیم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا اور کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ میری زندگی اس امید پر مشکل بنا رہے ہیں کہ میں بچے ان کے حوالے کر دوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہاکہ، ’ایک ماں کے طور پر یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے بچوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی، تو آپ انہیں اس دنیا میں لائے ہی کیوں؟ اور پھر آپ لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے آپ کو بچوں سے بات کرنے سے روکا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گی اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آپ میری زندگی جتنی بھی مشکل بنا لیں، میں ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی رہوں گی اور ان کی حفاظت کروں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سچ سامنے آئے گا اور آپ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا، تاکہ سب دیکھ سکیں کہ آپ کا رویہ کیسا رہا ہے اور آپ اصل میں کون ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی اور علیحدگی سے متعلق سنگین الزامات اور تفصیلات شیئر کی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان طلاق کے بعد کے معاملات اب سوشل میڈیا پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ثانیہ اشفاق نے الزام لگایا ہے کہ عماد وسیم نے اس وقت ان کے ساتھ دھوکا کیا جب وہ تیسری بار امید سے تھیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ عماد وسیم نے فروری 2026 میں نائلہ راجہ نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی تھی اور تب سے وہ دونوں اپنی نئی زندگی کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، دوسری طرف عماد وسیم انہیں قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اپنا اپارٹمنٹ خالی کر دیں اور بچوں کو ان کے حوالے کر دیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497682'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنی کہانی دنیا کے سامنے لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔</p>
<p>ثانیہ اشفاق نے اپنی شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عماد وسیم ان پر بہت زیادہ پابندیاں لگاتے تھے اور ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عماد وسیم بچوں کے خرچے دینے یا ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ بچے انہیں واپس مل جائیں۔</p>
<p>ثانیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس شخص کی ہمت تو دیکھیں، اس نے میرے اور ہمارے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے بعد بھی ایسی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان کی نئی بیوی کے ساتھ کہانی کب شروع ہوئی۔</p>
<p>ان کے مطابق عماد وسیم نے مجھ سے اس وقت دھوکا کیا جب میں ان کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ میری حمل کے دوران ان کے سخت رویے نے میری زندگی بہت مشکل بنا دی تھی۔ وہ جولائی 2025 میں برطانیہ میں اپنے برے برتاؤ اور گھریلو تشدد کے الزامات کی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے تھے، اور یہ خدشہ تھا کہ وہ میرے بچے مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499922'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق اس دوران سوشل سروسز بھی شامل ہو گئیں اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں اور ان کی اسی حرکت کی وجہ سے وہاں کے سماجی بہبود کے ادارے بھی اس معاملے میں شامل ہو گئے۔</p>
<p>ثانیہ اشفاق نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سماجی ورکرز نے عماد وسیم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا اور کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔</p>
<p>ثانیہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ میری زندگی اس امید پر مشکل بنا رہے ہیں کہ میں بچے ان کے حوالے کر دوں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہاکہ، ’ایک ماں کے طور پر یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے بچوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی، تو آپ انہیں اس دنیا میں لائے ہی کیوں؟ اور پھر آپ لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے آپ کو بچوں سے بات کرنے سے روکا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ثانیہ اشفاق نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گی اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آپ میری زندگی جتنی بھی مشکل بنا لیں، میں ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی رہوں گی اور ان کی حفاظت کروں گی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سچ سامنے آئے گا اور آپ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا، تاکہ سب دیکھ سکیں کہ آپ کا رویہ کیسا رہا ہے اور آپ اصل میں کون ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506835</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 11:13:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2711115858590a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2711115858590a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمپنی کو 'بریک اَپ' کرانے والے افسر کی تلاش، تنخواہ 8 لاکھ روپے سے زائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506826/technology-relationships-chief-breakup-officer-dating-app-jobs-relationship-trends-modern-dating-breakup-culture-emotional-intelligence</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ایک عالمی پلیٹ فارم نے ایک منفرد ملازمت کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جس میں منتخب شخص کو لوگوں کے رشتے ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ اس منفرد عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 3 ہزار امریکی ڈالر یعنی 8 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق چیف بریک اپ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ لوگوں کی جانب سے ان کے تعلقات کو باوقار اور ہمدردانہ انداز میں ختم کرنے میں مدد کرے۔ اس ملازمت کے لیے ایسے امیدوار کی تلاش کی جا رہی ہے جس میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی مہارت اور جدید دور کے تعلقات کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص کو ان افراد کی طرف سے فون یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے رشتہ ختم ہونے کا پیغام دینا ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہو لیکن خود یہ مشکل گفتگو کرنے سے گریز کر رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس عہدے کی ایک دلچسپ شرط یہ بھی ہے کہ امیدوار اپنی زندگی میں کم از کم تین بریک اپس کا تجربہ رکھتا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد تعلقات کے جذباتی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ملازمت میں مختلف کیسز کا جائزہ لینا اور یہ اندازہ لگانا بھی شامل ہوگا کہ علیحدگی کا معاملہ آسان ہے، پیچیدہ ہے یا انتہائی مشکل۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس نئی سروس کا مقصد لوگوں کو بغیر کسی وضاحت کے اچانک تعلق ختم کرنے، یعنی ”گھوسٹنگ“، کے رجحان سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ملینیئل نسل کے 84 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے ہی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں رشتہ ختم کرنے کے بجائے دوسرا فریق خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ رشتے کا اختتام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اس کی شروعات، اس لیے لوگوں کو مناسب انداز میں اختتام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی ڈیٹنگ ماہر جیمی برونسٹین کے مطابق اگرچہ بہتر یہی ہے کہ دونوں افراد خود ایک دوسرے سے بات کریں، لیکن کئی بار مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کسی ذریعے سے واضح پیغام پہنچ جانا زیادہ مناسب ہوتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کو غیر یقینی صورتحال میں نہ رہنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تعلقات کے ماہرین اس خیال پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بریک اپ صرف ایک اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا، دوسرے شخص کے جذبات کو سمجھنا اور تعلق کے اچھے یا برے پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی شامل ہوتا ہے، کسی تیسرے شخص کے ذریعے رشتہ ختم کرانا اس جذباتی ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504587'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی تعلق میں جذباتی تشدد، دھونس یا سلامتی کے حقیقی خدشات موجود ہوں تو ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی مدد لینا مناسب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہر مشکل گفتگو دوسروں کے سپرد کرنے لگیں تو وہ اپنی بات مؤثر انداز میں کرنے اور تعلقات کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی خدمات بڑھانے کے بجائے لوگوں کو بہتر ابلاغ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی ملازمت اگرچہ غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ایک عالمی پلیٹ فارم نے ایک منفرد ملازمت کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جس میں منتخب شخص کو لوگوں کے رشتے ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ اس منفرد عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 3 ہزار امریکی ڈالر یعنی 8 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق چیف بریک اپ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ لوگوں کی جانب سے ان کے تعلقات کو باوقار اور ہمدردانہ انداز میں ختم کرنے میں مدد کرے۔ اس ملازمت کے لیے ایسے امیدوار کی تلاش کی جا رہی ہے جس میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی مہارت اور جدید دور کے تعلقات کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ ہو۔</p>
<p>اس شخص کو ان افراد کی طرف سے فون یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے رشتہ ختم ہونے کا پیغام دینا ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہو لیکن خود یہ مشکل گفتگو کرنے سے گریز کر رہے ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس عہدے کی ایک دلچسپ شرط یہ بھی ہے کہ امیدوار اپنی زندگی میں کم از کم تین بریک اپس کا تجربہ رکھتا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد تعلقات کے جذباتی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ملازمت میں مختلف کیسز کا جائزہ لینا اور یہ اندازہ لگانا بھی شامل ہوگا کہ علیحدگی کا معاملہ آسان ہے، پیچیدہ ہے یا انتہائی مشکل۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق اس نئی سروس کا مقصد لوگوں کو بغیر کسی وضاحت کے اچانک تعلق ختم کرنے، یعنی ”گھوسٹنگ“، کے رجحان سے بچانا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ملینیئل نسل کے 84 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے ہی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں رشتہ ختم کرنے کے بجائے دوسرا فریق خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ رشتے کا اختتام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اس کی شروعات، اس لیے لوگوں کو مناسب انداز میں اختتام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کمپنی کی ڈیٹنگ ماہر جیمی برونسٹین کے مطابق اگرچہ بہتر یہی ہے کہ دونوں افراد خود ایک دوسرے سے بات کریں، لیکن کئی بار مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کسی ذریعے سے واضح پیغام پہنچ جانا زیادہ مناسب ہوتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کو غیر یقینی صورتحال میں نہ رہنا پڑے۔</p>
<p>دوسری جانب تعلقات کے ماہرین اس خیال پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بریک اپ صرف ایک اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا، دوسرے شخص کے جذبات کو سمجھنا اور تعلق کے اچھے یا برے پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی شامل ہوتا ہے، کسی تیسرے شخص کے ذریعے رشتہ ختم کرانا اس جذباتی ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504587'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی تعلق میں جذباتی تشدد، دھونس یا سلامتی کے حقیقی خدشات موجود ہوں تو ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی مدد لینا مناسب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہر مشکل گفتگو دوسروں کے سپرد کرنے لگیں تو وہ اپنی بات مؤثر انداز میں کرنے اور تعلقات کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی خدمات بڑھانے کے بجائے لوگوں کو بہتر ابلاغ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے کی ہے۔</p>
<p>یہ نئی ملازمت اگرچہ غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506826</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271053590e45b0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271053590e45b0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیرہ سالہ بچی راجستھان کے شاہی خاندان کی سربراہ نامزد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506832/a-13-year-old-girl-has-made-history-by-becoming-the-first-heir-crown-princess-of-a-royal-family-in-rajasthan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر ایک روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ مردوں کو ہی خاندان کا وارث بنایا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب کھیروا گڑھ قلعے میں منعقد ہوئی، جو 17ویں صدی کا تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں سینکڑوں دیہاتیوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506275/haryanawedding-weddingcancelled-viralnews-socialmediadebate-culturalclash'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب میں تیرہ سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کے مرنے کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا وارث تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روایتی رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے بٹھایا گیا۔ بعد میں ان کے سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر ذمہ داری سنبھال رہی ہیں اور ماتھے پر تلک لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ تھا۔ اس رسم کے تحت خاندان کے سربراہ کے مرنے کے بعد گھر کی چابی اور ذمہ داری نئے وارث کو سونپی جاتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کو پہنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506299/viral-video-gurugram-rs-370-biryani-controversy-himanshu-jangra-social-media-backlash-company-termination-instagram-viral-video-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس خاندان میں پچھلے65 سال سے یہ رسم اسی لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی لوگوں نے اس فیصلے کو بہت سراہا اور اسے بدلتے وقت کی ایک اچھی علامت قرار دیا جہاں پرانی روایات کو بھی برقرار رکھا گیا اور لڑکیوں کو برابری کا حق بھی دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجسوی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی پورا کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی کے لیے دیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر ایک روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ مردوں کو ہی خاندان کا وارث بنایا جاتا تھا۔</p>
<p>یہ تقریب کھیروا گڑھ قلعے میں منعقد ہوئی، جو 17ویں صدی کا تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں سینکڑوں دیہاتیوں نے شرکت کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506275/haryanawedding-weddingcancelled-viralnews-socialmediadebate-culturalclash'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تقریب میں تیرہ سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کے مرنے کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا وارث تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>اس روایتی رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے بٹھایا گیا۔ بعد میں ان کے سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر ذمہ داری سنبھال رہی ہیں اور ماتھے پر تلک لگایا گیا۔</p>
<p>یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ تھا۔ اس رسم کے تحت خاندان کے سربراہ کے مرنے کے بعد گھر کی چابی اور ذمہ داری نئے وارث کو سونپی جاتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کو پہنائی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506299/viral-video-gurugram-rs-370-biryani-controversy-himanshu-jangra-social-media-backlash-company-termination-instagram-viral-video-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس خاندان میں پچھلے65 سال سے یہ رسم اسی لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔</p>
<p>مقامی لوگوں نے اس فیصلے کو بہت سراہا اور اسے بدلتے وقت کی ایک اچھی علامت قرار دیا جہاں پرانی روایات کو بھی برقرار رکھا گیا اور لڑکیوں کو برابری کا حق بھی دیا گیا۔</p>
<p>تیجسوی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی پورا کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی کے لیے دیکھا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506832</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:45:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27103141f0957a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27103141f0957a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506830/major-operation-by-security-forces-in-mastung-and-kharan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو الگ الگ کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو کامیاب آپریشن کیے، جن میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا آپریشن 25 جون کو ضلع خاران میں اس وقت کیا گیا جب دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دیگر دہشت گرد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج کے مطابق دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 26 جون کو ضلع مستونگ میں کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور &lt;strong&gt;عزمِ استحکام&lt;/strong&gt; وژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری قوت اور رفتار کے ساتھ جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو الگ الگ کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو کامیاب آپریشن کیے، جن میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا آپریشن 25 جون کو ضلع خاران میں اس وقت کیا گیا جب دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دیگر دہشت گرد زخمی ہوئے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج کے مطابق دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 26 جون کو ضلع مستونگ میں کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خودکش حملہ آور سمیت پانچ دہشت گرد مارے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور <strong>عزمِ استحکام</strong> وژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری قوت اور رفتار کے ساتھ جاری رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506830</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:34:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271023468fed5f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271023468fed5f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن؛ ٹرمپ نے اپنی ہی تصویر چھاپ دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ایک خصوصی یادگاری امریکی پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن جاری کر دیا ہے، جس میں ان کی تصویر نمایاں طور پر شامل کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پاسپورٹ کے نئے ڈیزائن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا کا نیا پاسپورٹ، جس پر لکھا ہے خوش آمدید، لیکن اچھا رویہ اختیار کریں!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کی گئی تصویر میں پاسپورٹ کے ایک صفحے پر صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کے مشہور ریزولوٹ ڈیسک پر دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں امریکا کے تاریخی اعلانِ آزادی کا متن موجود ہے۔ اسی صفحے کے نچلے حصے میں صدر ٹرمپ کے دستخط بھی شامل ہیں۔ سامنے والے صفحے پر مصور جان ٹرمبل کی مشہور پینٹنگ ”دی ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس“ کی تصویر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116818397307589675/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نئے پاسپورٹ میں استعمال کی گئی صدر ٹرمپ کی تصویر واشنگٹن میں موجود اسمتھسونین نیشنل پورٹریٹ گیلری میں موجود ان کے سرکاری پورٹریٹ سے ملتی جلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیزائن اس سال کے آغاز میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی ڈیزائن سے مختلف ہے، جس میں صدر کی دوسری تصویر استعمال کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی اسی ڈیزائن کی تصویر شیئر کی گئی، جس کے ساتھ لکھا گیا، امریکا کی 250ویں سالگرہ کی یاد میں نیا امریکی پاسپورٹ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2070625687203897369.'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2070625687203897369."&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب اس بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا یہی یادگاری پاسپورٹ کا حتمی اور سرکاری ڈیزائن ہے یا نہیں، تو وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تمام سوالات امریکی محکمہ خارجہ کی طرف بھیج دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی محکمہ خارجہ سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم خبر لکھے جانے تک کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ایک خصوصی یادگاری امریکی پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن جاری کر دیا ہے، جس میں ان کی تصویر نمایاں طور پر شامل کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پاسپورٹ کے نئے ڈیزائن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا کا نیا پاسپورٹ، جس پر لکھا ہے خوش آمدید، لیکن اچھا رویہ اختیار کریں!</p>
<p>جاری کی گئی تصویر میں پاسپورٹ کے ایک صفحے پر صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کے مشہور ریزولوٹ ڈیسک پر دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں امریکا کے تاریخی اعلانِ آزادی کا متن موجود ہے۔ اسی صفحے کے نچلے حصے میں صدر ٹرمپ کے دستخط بھی شامل ہیں۔ سامنے والے صفحے پر مصور جان ٹرمبل کی مشہور پینٹنگ ”دی ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس“ کی تصویر دی گئی ہے۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116818397307589675/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe><script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"></script>
</raw-html>
<p>رپورٹ کے مطابق نئے پاسپورٹ میں استعمال کی گئی صدر ٹرمپ کی تصویر واشنگٹن میں موجود اسمتھسونین نیشنل پورٹریٹ گیلری میں موجود ان کے سرکاری پورٹریٹ سے ملتی جلتی ہے۔</p>
<p>یہ ڈیزائن اس سال کے آغاز میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی ڈیزائن سے مختلف ہے، جس میں صدر کی دوسری تصویر استعمال کی گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی اسی ڈیزائن کی تصویر شیئر کی گئی، جس کے ساتھ لکھا گیا، امریکا کی 250ویں سالگرہ کی یاد میں نیا امریکی پاسپورٹ۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2070625687203897369.'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2070625687203897369."></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم جب اس بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا یہی یادگاری پاسپورٹ کا حتمی اور سرکاری ڈیزائن ہے یا نہیں، تو وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تمام سوالات امریکی محکمہ خارجہ کی طرف بھیج دیے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی محکمہ خارجہ سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم خبر لکھے جانے تک کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506827</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:17:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271036156a3271c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271036156a3271c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کروڑوں کے زیورات کی ڈکیتی؛ ماسٹر مائنڈ بھارتی فضائیہ کا اہلکار نکلا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506825/robbery-of-jewellery-worth-over-15-crores-india</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاست گجرات میں پولیس نے احمد آباد کی ایک جیولری شاپ میں ڈیڑھ کروڑ بھارتی روپے سے زائد مالیت کی مسلح ڈکیتی کے الزام میں بھارتی فضائیہ کے ایک کارپورل کو گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ریاست گجرات کی پولیس نے بھارتی فضائیہ کے 31 سالہ کارپورل دیپک بھوکر کو احمد آباد میں ایک جیولری شاپ پر ایک کروڑ 51 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی مسلح ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو دہلی سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ بھارتی فضائیہ کے ایک یونٹ میں تعینات تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ واردات 16 جولائی 2024 کو احمد آباد کے علاقے مانیک چوک میں پیش آئی تھی۔ ملزم دوپہر کے وقت چہرہ ڈھانپ کر اور سرخ ٹوپی پہن کر جیولری شاپ میں داخل ہوا، دکان سے ایک کروڑ 51 لاکھ بھارتی روپے مالیت کے زیورات لوٹے اور مزاحمت پر دکاندار کو گھٹنے میں گولی مار دی، جس کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم واردات کے فوراً بعد احمد آباد چھوڑ کر چلا گیا اور تقریباً دو سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچا رہا۔ تاہم جمعہ کو احمد آباد کی ایک عدالت نے اسے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506743/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینئر پولیس افسر روپل سولنکی کے مطابق تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس کو اطلاع ملی کہ جام نگر میں ایک ریٹائرڈ بھارتی فضائیہ افسر کے گھر سے چوری ہونے والا سروس ریوالور اسی ڈکیتی میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس اطلاع کے بعد لوکل کرائم برانچ اور کھاڈیا پولیس پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جام نگر میں ہونے والی چوری کے کیس کی بھی ازسرِنو تحقیقات شروع کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دونوں مقدمات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا تقابلی جائزہ لینے سے ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وارداتوں کے وقت ملزم جام نگر ایئر فورس یونٹ میں تعینات تھا، جبکہ بعد ازاں اس کا تبادلہ دہلی کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد آباد پولیس کی ٹیم نے دہلی پہنچ کر ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس کے بیرک سے واردات میں استعمال ہونے والا سروس ریوالور اور گولیاں بھی برآمد کر لیں، جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے جعلی آدھار کارڈز اور مختلف موبائل نمبرز استعمال کرتا تھا۔ ہوٹلوں میں قیام کے دوران بھی وہ جعلی شناخت اختیار کرتا رہا، جبکہ فنگر پرنٹس سے بچنے کے لیے انگلیوں پر ٹیپ لپیٹ لیتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506745/inside-one-of-uss-biggest-medicare-frauds'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ میں خدمات انجام دینے کی وجہ سے ملزم کو اسلحہ استعمال کرنے اور فائرنگ کی خصوصی تربیت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واردات کے بعد اس نے تعاقب سے بچنے کے لیے راستے میں چھ سے سات آٹو رکشے اور کئی بار کپڑے تبدیل کیے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم ماضی میں جام نگر میں شراب سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد جام نگر میں گھر میں چوری اور احمد آباد کی جیولری شاپ ڈکیتی، دونوں مقدمات کی گتھی سلجھا لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاست گجرات میں پولیس نے احمد آباد کی ایک جیولری شاپ میں ڈیڑھ کروڑ بھارتی روپے سے زائد مالیت کی مسلح ڈکیتی کے الزام میں بھارتی فضائیہ کے ایک کارپورل کو گرفتار کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی ریاست گجرات کی پولیس نے بھارتی فضائیہ کے 31 سالہ کارپورل دیپک بھوکر کو احمد آباد میں ایک جیولری شاپ پر ایک کروڑ 51 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی مسلح ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو دہلی سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ بھارتی فضائیہ کے ایک یونٹ میں تعینات تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ واردات 16 جولائی 2024 کو احمد آباد کے علاقے مانیک چوک میں پیش آئی تھی۔ ملزم دوپہر کے وقت چہرہ ڈھانپ کر اور سرخ ٹوپی پہن کر جیولری شاپ میں داخل ہوا، دکان سے ایک کروڑ 51 لاکھ بھارتی روپے مالیت کے زیورات لوٹے اور مزاحمت پر دکاندار کو گھٹنے میں گولی مار دی، جس کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔</p>
<p>تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم واردات کے فوراً بعد احمد آباد چھوڑ کر چلا گیا اور تقریباً دو سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچا رہا۔ تاہم جمعہ کو احمد آباد کی ایک عدالت نے اسے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506743/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506743"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سینئر پولیس افسر روپل سولنکی کے مطابق تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس کو اطلاع ملی کہ جام نگر میں ایک ریٹائرڈ بھارتی فضائیہ افسر کے گھر سے چوری ہونے والا سروس ریوالور اسی ڈکیتی میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس اطلاع کے بعد لوکل کرائم برانچ اور کھاڈیا پولیس پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جام نگر میں ہونے والی چوری کے کیس کی بھی ازسرِنو تحقیقات شروع کیں۔</p>
<p>پولیس کے مطابق دونوں مقدمات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا تقابلی جائزہ لینے سے ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وارداتوں کے وقت ملزم جام نگر ایئر فورس یونٹ میں تعینات تھا، جبکہ بعد ازاں اس کا تبادلہ دہلی کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>احمد آباد پولیس کی ٹیم نے دہلی پہنچ کر ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے اس کے بیرک سے واردات میں استعمال ہونے والا سروس ریوالور اور گولیاں بھی برآمد کر لیں، جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے جعلی آدھار کارڈز اور مختلف موبائل نمبرز استعمال کرتا تھا۔ ہوٹلوں میں قیام کے دوران بھی وہ جعلی شناخت اختیار کرتا رہا، جبکہ فنگر پرنٹس سے بچنے کے لیے انگلیوں پر ٹیپ لپیٹ لیتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506745/inside-one-of-uss-biggest-medicare-frauds'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506745"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ میں خدمات انجام دینے کی وجہ سے ملزم کو اسلحہ استعمال کرنے اور فائرنگ کی خصوصی تربیت حاصل تھی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واردات کے بعد اس نے تعاقب سے بچنے کے لیے راستے میں چھ سے سات آٹو رکشے اور کئی بار کپڑے تبدیل کیے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم ماضی میں جام نگر میں شراب سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری کے بعد جام نگر میں گھر میں چوری اور احمد آباد کی جیولری شاپ ڈکیتی، دونوں مقدمات کی گتھی سلجھا لی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506825</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:35:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2709405436fc98a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2709405436fc98a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جارجیا کی پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ آرائی، ارکان ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506824/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جارجیا کی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم یراکلی کوباخیدزے کی جانب سے حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ہونے والے سوال و جواب کے سیشن کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ہنگامے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اپوزیشن جماعت فور جارجیا کے رکن جورجی شراشیدزے نے حال ہی میں آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف کے جارجیا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب صدر الہام علیئیف جارجیا آئے تھے تو پورے ملک نے وہ مناظر دیکھے تھے، جن میں آپ ایک کونے میں کھڑے تھے۔ اس سے حکومت میں آپ کی حقیقی حیثیت اور کردار واضح ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پارلیمانی کارروائی کے دوران اپوزیشن جماعت فور جارجیا اور حکمران جماعت جارجین ڈریم کے ارکان ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایک دوسرے کی جانب بڑھ گئے اور ایوان میں دھکم پیل اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2070618101402480869?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2070618101402480869?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق ایوان کا ماحول چند ہی لمحوں میں انتہائی کشیدہ ہوگیا، جہاں ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنگامہ آرائی کے باعث پارلیمانی کارروائی متاثر ہوئی، جبکہ دیگر ارکان اور عملے نے مداخلت کرکے جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505783/turkiye-political-crisis-police-forcefully-evict-opposition-leaders'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ ہنگامہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیرِ اعظم حکومت کی سالانہ کارکردگی پر ارکان کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ سیاسی اختلافات اور سخت مؤقف کے باعث ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد ازاں جسمانی تصادم کی صورت اختیار کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال اس واقعے کے حوالے سے کسی رکن کے زخمی ہونے یا تادیبی کارروائی کی سرکاری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم پارلیمنٹ میں پیش آنے والے اس واقعے نے ملک کی سیاسی فضا میں جاری کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جارجیا کی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم یراکلی کوباخیدزے کی جانب سے حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ہونے والے سوال و جواب کے سیشن کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق ہنگامے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اپوزیشن جماعت فور جارجیا کے رکن جورجی شراشیدزے نے حال ہی میں آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف کے جارجیا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب صدر الہام علیئیف جارجیا آئے تھے تو پورے ملک نے وہ مناظر دیکھے تھے، جن میں آپ ایک کونے میں کھڑے تھے۔ اس سے حکومت میں آپ کی حقیقی حیثیت اور کردار واضح ہوتا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں پارلیمانی کارروائی کے دوران اپوزیشن جماعت فور جارجیا اور حکمران جماعت جارجین ڈریم کے ارکان ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔</p>
<p>ابتدا میں دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایک دوسرے کی جانب بڑھ گئے اور ایوان میں دھکم پیل اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2070618101402480869?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2070618101402480869?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عینی شاہدین کے مطابق ایوان کا ماحول چند ہی لمحوں میں انتہائی کشیدہ ہوگیا، جہاں ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے۔</p>
<p>ہنگامہ آرائی کے باعث پارلیمانی کارروائی متاثر ہوئی، جبکہ دیگر ارکان اور عملے نے مداخلت کرکے جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505783/turkiye-political-crisis-police-forcefully-evict-opposition-leaders'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ ہنگامہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیرِ اعظم حکومت کی سالانہ کارکردگی پر ارکان کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ سیاسی اختلافات اور سخت مؤقف کے باعث ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی، جو بعد ازاں جسمانی تصادم کی صورت اختیار کر گئی۔</p>
<p>تاحال اس واقعے کے حوالے سے کسی رکن کے زخمی ہونے یا تادیبی کارروائی کی سرکاری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم پارلیمنٹ میں پیش آنے والے اس واقعے نے ملک کی سیاسی فضا میں جاری کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506824</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 09:37:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27093051d400917.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27093051d400917.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ میں گرمی کا قہر: پیرس فیشن ویک میں ہیٹ ویو نے تباہی مچا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506823/europe-heatwave-historic-heat-wave-havoc-at-paris-fashion-week</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503943'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے پیرس میں کئی فیشن ہاؤسز نے کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی طرح ٹھنڈا رکھا جائے، مگر بعض مقامات پر پانی کم پڑ گیا اور ہوا کا نظام بھی ناکافی رہا۔ دلچسپ اور متضاد صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب اس شدید گرمی میں ماڈلز کو ریمپ پر چمڑے، نیوپرین اور اون سے بنے بھاری ملبوسات پہن کر واک کرنی پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شو دیکھنے آئے فیشن کے طالب علم تھامس لیوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس شدید تپش میں ماڈلز نے لیدر اور بھاری وول کے کوٹ پہن کر کیسے واک کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیزائنرز گرمی کا حل صرف اسٹیج اور ہال تک محدود رکھتے ہیں، کپڑوں میں نہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گرمی کی شدت کے پیش نظر ’ڈائر‘ سمیت کئی بڑے برانڈز نے اپنے شوز کے اوقات کار دوپہر کے بجائے صبح 9 بجے منتقل کر دیے، تاہم ہالز میں اے سی نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا اور کئی مہمانوں کی طبیعت ناساز ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشہور فیشن ڈیزائنر جوناتھن اینڈرسن نے اس صورتحال پر کہا، ’یہ کیلنڈر سمجھ میں نہیں آتا۔‘ ان کے مطابق یہ شوز ’اسپرنگ سمر‘ کے نام پر ہوتے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ اور امیر طبقے کی مانگ کے باعث ان میں سردیوں کے بھاری کپڑے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے خریدار زیادہ تر وقت اے سی والے ماحول میں گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30319472'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319472"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=sJgzJ9uhtMg'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/sJgzJ9uhtMg?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟</strong></p>
<p>فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔</p>
<p>ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503943'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>اس ہفتے پیرس میں کئی فیشن ہاؤسز نے کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی طرح ٹھنڈا رکھا جائے، مگر بعض مقامات پر پانی کم پڑ گیا اور ہوا کا نظام بھی ناکافی رہا۔ دلچسپ اور متضاد صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب اس شدید گرمی میں ماڈلز کو ریمپ پر چمڑے، نیوپرین اور اون سے بنے بھاری ملبوسات پہن کر واک کرنی پڑی۔</p>
<p>شو دیکھنے آئے فیشن کے طالب علم تھامس لیوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس شدید تپش میں ماڈلز نے لیدر اور بھاری وول کے کوٹ پہن کر کیسے واک کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیزائنرز گرمی کا حل صرف اسٹیج اور ہال تک محدود رکھتے ہیں، کپڑوں میں نہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گرمی کی شدت کے پیش نظر ’ڈائر‘ سمیت کئی بڑے برانڈز نے اپنے شوز کے اوقات کار دوپہر کے بجائے صبح 9 بجے منتقل کر دیے، تاہم ہالز میں اے سی نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا اور کئی مہمانوں کی طبیعت ناساز ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مشہور فیشن ڈیزائنر جوناتھن اینڈرسن نے اس صورتحال پر کہا، ’یہ کیلنڈر سمجھ میں نہیں آتا۔‘ ان کے مطابق یہ شوز ’اسپرنگ سمر‘ کے نام پر ہوتے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ اور امیر طبقے کی مانگ کے باعث ان میں سردیوں کے بھاری کپڑے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے خریدار زیادہ تر وقت اے سی والے ماحول میں گزارتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30319472'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319472"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=sJgzJ9uhtMg'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/sJgzJ9uhtMg?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506823</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:18:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271002515d8798d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271002515d8798d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹنڈو محمد خان: کار پرفائرنگ سے پی پی رہنما اہلیہ سمیت جاں بحق، بچہ زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹنڈو محمد خان میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک کار پر اندھا دھند فائرنگ کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ کو قتل کر دیا، پانچ سالہ بیٹا زخمی ہو گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹنڈو محمد خان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ ثمرین مگسی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا سیف اللہ مگسی زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق واقعہ بلڑی شاہ کریم تھانے کی حدود میں سجاول روڈ پر پیش آیا، جہاں ویگو گاڑی میں سوار مسلح ملزمان نے غلام نبی مگسی کی کار کو نشانہ بنایا اور اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے نتیجے میں غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ ثمرین مگسی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا سیف اللہ مگسی زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹنڈو محمد خان میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک کار پر اندھا دھند فائرنگ کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ کو قتل کر دیا، پانچ سالہ بیٹا زخمی ہو گیا۔</strong></p>
<p>ٹنڈو محمد خان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ ثمرین مگسی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا سیف اللہ مگسی زخمی ہو گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق واقعہ بلڑی شاہ کریم تھانے کی حدود میں سجاول روڈ پر پیش آیا، جہاں ویگو گاڑی میں سوار مسلح ملزمان نے غلام نبی مگسی کی کار کو نشانہ بنایا اور اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔</p>
<p>فائرنگ کے نتیجے میں غلام نبی مگسی اور ان کی اہلیہ ثمرین مگسی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا سیف اللہ مگسی زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506822</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 09:50:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27092630c3db2d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27092630c3db2d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک میچ میں 5 گول: سینیگال کا یہ کارنامہ نیا ریکارڈ کیسے ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506819/fifa-worldcup2026-senegal-iraq-france-ousmanedembele-sadiomane-footballnews</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹورنٹو اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچ میں سینیگال نے عراق کو پانچ صفر سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ سینیگال ایک ہی ورلڈ کپ میچ میں پانچ گول کرنے والی افریقی براعظم کی پہلی ٹیم بن گئی، جبکہ عراقی ٹیم پورے میچ میں کوئی بھی گول اسکور نہ کر سکی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شاندار فتح کے ساتھ سینیگال نے نہ صرف اہم ریکارڈ اپنے نام کیا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کی اپنی امیدوں کو بھی برقرار رکھا۔ میچ کے دوران سینیگال نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور عراق کو کسی بھی مرحلے پر واپسی کا موقع نہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور میچ میں فرانس نے ناروے کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول کر کے شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کی، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506802/germany-defeated-as-ecuador-qualify-for-fifa-world-cup-2026-knockout-stage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کا آغاز سینیگال کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ حبیب دیارا نے چوتھے ہی منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ اس کے بعد تیرہویں منٹ میں عراق کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب دفاعی کھلاڑی ریبن سلاکا نے ساڈیو مانے کو واضح گول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفری انتھونی ٹیلر نے ابتدا میں پیلا کارڈ دکھایا، تاہم ویڈیو ریویو دیکھنے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ریڈ کارڈ جاری کر دیا، جس کے نتیجے میں عراق کو بقیہ میچ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلے ہاف میں ایک گول کی برتری کے باوجود سینیگال مزید گول نہ کر سکا، لیکن دوسرے ہاف میں اس کی جارحانہ حکمت عملی نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ 56 ویں منٹ میں اسماعیلا سار نے لامین کامارا کی عمدہ پاس پر ٹورنامنٹ کا اپنا تیسرا گول اسکور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف تین منٹ بعد 59 ویں منٹ میں  پاپے گیئے نے شاندار لانگ رینج شاٹ کے ذریعے تیسرا گول کیا۔ 71 ویں منٹ میں پاپے گیئے نے ایک اور زبردست نصف والی کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا چوتھا گول اسکور کیا، جبکہ 82 ویں منٹ میں ایلیمان ندیائے نے دور سے خوبصورت شاٹ لگا کر سینیگال کی 0-5 کی بڑی فتح مکمل کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عراق کی ٹیم مسلسل تیسرے میچ میں بھی شکست سے دوچار ہوئی اور بغیر کوئی پوائنٹ حاصل کیے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ یہ عراق کی ورلڈ کپ میں دوسری شرکت تھی اور 1986 کے بعد پہلی بار عالمی کپ کھیلنے کا موقع ملا تھا، تاہم ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506814/big-upset-in-t20-ireland-creates-history-by-defeating-india-for-the-first-time'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور اہم مقابلے میں فرانس نے ناروے کو 1-4 سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کیا اور صرف 32 منٹ کے اندر شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ انہوں نے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول اسکور کیے۔ ان کی یہ ہیٹ ٹرک فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے، جس نے اس کامیابی کو مزید یادگار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں سینیگال اور فرانس کی یہ فتوحات نہ صرف ان کی مضبوط فارم کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ٹورنامنٹ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر گئی ہیں، جس سے آئندہ مرحلے کے مقابلے مزید دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹورنٹو اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچ میں سینیگال نے عراق کو پانچ صفر سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ سینیگال ایک ہی ورلڈ کپ میچ میں پانچ گول کرنے والی افریقی براعظم کی پہلی ٹیم بن گئی، جبکہ عراقی ٹیم پورے میچ میں کوئی بھی گول اسکور نہ کر سکی۔</strong></p>
<p>اس شاندار فتح کے ساتھ سینیگال نے نہ صرف اہم ریکارڈ اپنے نام کیا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کی اپنی امیدوں کو بھی برقرار رکھا۔ میچ کے دوران سینیگال نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور عراق کو کسی بھی مرحلے پر واپسی کا موقع نہ دیا۔</p>
<p>دوسری جانب بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور میچ میں فرانس نے ناروے کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول کر کے شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کی، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506802/germany-defeated-as-ecuador-qualify-for-fifa-world-cup-2026-knockout-stage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میچ کا آغاز سینیگال کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ حبیب دیارا نے چوتھے ہی منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ اس کے بعد تیرہویں منٹ میں عراق کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب دفاعی کھلاڑی ریبن سلاکا نے ساڈیو مانے کو واضح گول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ریفری انتھونی ٹیلر نے ابتدا میں پیلا کارڈ دکھایا، تاہم ویڈیو ریویو دیکھنے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ریڈ کارڈ جاری کر دیا، جس کے نتیجے میں عراق کو بقیہ میچ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلے ہاف میں ایک گول کی برتری کے باوجود سینیگال مزید گول نہ کر سکا، لیکن دوسرے ہاف میں اس کی جارحانہ حکمت عملی نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ 56 ویں منٹ میں اسماعیلا سار نے لامین کامارا کی عمدہ پاس پر ٹورنامنٹ کا اپنا تیسرا گول اسکور کیا۔</p>
<p>صرف تین منٹ بعد 59 ویں منٹ میں  پاپے گیئے نے شاندار لانگ رینج شاٹ کے ذریعے تیسرا گول کیا۔ 71 ویں منٹ میں پاپے گیئے نے ایک اور زبردست نصف والی کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا چوتھا گول اسکور کیا، جبکہ 82 ویں منٹ میں ایلیمان ندیائے نے دور سے خوبصورت شاٹ لگا کر سینیگال کی 0-5 کی بڑی فتح مکمل کر دی۔</p>
<p>دوسری جانب عراق کی ٹیم مسلسل تیسرے میچ میں بھی شکست سے دوچار ہوئی اور بغیر کوئی پوائنٹ حاصل کیے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ یہ عراق کی ورلڈ کپ میں دوسری شرکت تھی اور 1986 کے بعد پہلی بار عالمی کپ کھیلنے کا موقع ملا تھا، تاہم ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506814/big-upset-in-t20-ireland-creates-history-by-defeating-india-for-the-first-time'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور اہم مقابلے میں فرانس نے ناروے کو 1-4 سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کیا اور صرف 32 منٹ کے اندر شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ انہوں نے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول اسکور کیے۔ ان کی یہ ہیٹ ٹرک فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے، جس نے اس کامیابی کو مزید یادگار بنا دیا۔</p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں سینیگال اور فرانس کی یہ فتوحات نہ صرف ان کی مضبوط فارم کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ٹورنامنٹ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر گئی ہیں، جس سے آئندہ مرحلے کے مقابلے مزید دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506819</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 09:26:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/270916507ae3ce1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/270916507ae3ce1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
