<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Latest News</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 23:22:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 23:22:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو کا خفیہ یو اے ای کا دورہ منظرِ عام پر آ گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505307/netanyahu-secret-uae-visit-iran-war</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کے اس اعتراف نے خطے میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی اخبار ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.timesofisrael.com/liveblog_entry/netanyahu-reveals-he-secretly-visited-the-uae-during-war-with-iran/"&gt;ٹائمز آف اسرائیل&lt;/a&gt;‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے مارچ میں ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے خفیہ ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس ملاقات نے اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے قبل امریکی حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504667'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504667"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/04/world/live-news/iran-war-hormuz-trump?post-id=cmorgyat2000u3b6raszcsqnf"&gt;سی این این&lt;/a&gt;‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں نصب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے ایران کی جانب سے داغے گئے مبینہ میزائل حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے چارمیزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق پیٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا، حملے کے بعد آئل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے بعد دبئی اور شارجہ کے درمیان فلائٹ آپریشن معطل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی ایران جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا تاکہ جنگی صورتِ حال اور سیکیورٹی تعاون پر رابطہ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز پر کارروائی کے معاملے میں بھی باہمی رابطہ رکھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جب کہ اس سے قبل 2018 میں بھی نیتن یاہو کے خفیہ طور پر یو اے ای جانے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کے اس اعتراف نے خطے میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی اخبار ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.timesofisrael.com/liveblog_entry/netanyahu-reveals-he-secretly-visited-the-uae-during-war-with-iran/">ٹائمز آف اسرائیل</a>‘ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے مارچ میں ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے خفیہ ملاقات کی تھی۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس ملاقات نے اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے قبل امریکی حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504667'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504667"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/04/world/live-news/iran-war-hormuz-trump?post-id=cmorgyat2000u3b6raszcsqnf">سی این این</a>‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں نصب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے ایران کی جانب سے داغے گئے مبینہ میزائل حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے چارمیزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔</p>
<p>فجیرہ میڈیا آفس کے مطابق پیٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا، حملے کے بعد آئل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے بعد دبئی اور شارجہ کے درمیان فلائٹ آپریشن معطل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی ایران جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا تاکہ جنگی صورتِ حال اور سیکیورٹی تعاون پر رابطہ رکھا جا سکے۔</p>
<p>امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز پر کارروائی کے معاملے میں بھی باہمی رابطہ رکھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جب کہ اس سے قبل 2018 میں بھی نیتن یاہو کے خفیہ طور پر یو اے ای جانے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505307</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 23:16:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13225611c98ccbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13225611c98ccbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی دھمکی آمیز رویہ اور اشتعال انگیز بیان بازی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے: عباس عراقچی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505306/us-threatening-behavior-and-provocative-rhetoric-are-an-obstacle-to-peace-abbas-araqchi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کا دھمکی آمیز رویہ، اشتعال انگیز بیان بازی اور  بے ایمانی کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا اصل مسئلہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضوابط تیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں، دنیا بربریت اور تسلط کو مسترد کرتی ہے تو ایران کے حق میں آواز بلند کرے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505099/us-is-fueling-military-tensions-by-repeatedly-undermining-diplomatic-effo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کویت میں گرفتار 4 ایرانی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ کویت نے خلیج فارس میں ایک ایرانی کشتی پر غیرقانونی حملہ کیا اور 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2054600369796481046?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/2054600369796481046?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اُس جزیرے کے قریب پیش آیا جسے امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کویت کی جانب سے کی گئی غیرقانونی کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کویت ایران پر الزام عائد کر چکا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر بوبیان جزیرے میں دراندازی کی کوشش کی۔ کویتی حکام کے مطابق واقعہ شط العرب کے دہانے اور ایرانی سرحد کے قریب شمال مغربی خلیج فارس میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ گرفتار افراد معمول کی بحری گشت پر تھے اور نیویگیشن سسٹم میں خرابی کے باعث کویتی حدود میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کویتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں قونصلر رسائی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505022/iran-us-proposal-no-final-decision-foreign-ministry-spokesperson-statement'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا حق “واضح اور طے شدہ” ہے اور اس معاملے پر مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق محمد رضا عارف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی آبنائے ہرمز سے متعلق پوزیشن واضح ہے اور اس حوالے سے معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں اپنی پالیسیاں اور منصوبہ بندی دشمن ممالک کی پابندیوں اور دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی تھیں تاہم اب ترجیحات تبدیل کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی نائب صدر کے مطابق ایران اب خطے کی سلامتی اور اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اپنی اقتصادی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے باوجود قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے اور حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل کی جنگ سے  پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں، امریکا کے ساتھ جنگ بندی برقرار  ہے، ایرانی افواج تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ کنٹرول کرتی ہے، آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کو ایران کی بحری افواج کنٹرول کرتی ہیں، جنگ کے دوران ایرانی فوج نے دشمن کو کسی بھی ہدف تک پہنچنے سے روکا، جنگ کے دوران پورے مشرق وسطیٰ میں اڈوں پر امریکی فوجی ساز و سامان کو تباہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی آئل ٹینکر ایران کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا اور ضرورت پڑنے پر یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے قبرستان بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے ثقافتی و نفسیاتی آپریشنز کے نائب کیپٹن سعید سرانی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج کو خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام اور حکام حکم دیں تو ایران آبنائے ہرمز سے ایک لیٹر تیل بھی اپنی اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹن سعید سرانی نے مزید کہا کہ اگرچہ مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی، تاہم ایران نے ’اسمارٹ ناکہ بندی‘ نافذ کر رکھی ہے اور غیر روایتی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505298/iran-will-not-let-even-a-liter-of-oil-pass-strait-of-hormuz-could-become-a-graveyard-for-america'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیےامریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ جس ملک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیں انہیں ایران کی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا تاکہ محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب ایرانی افواج کے ’اسٹریٹجک کنٹرول‘ میں ہے جہاں مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کا دھمکی آمیز رویہ، اشتعال انگیز بیان بازی اور  بے ایمانی کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا اصل مسئلہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضوابط تیار کر رہا ہے۔</p>
<p>ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں، دنیا بربریت اور تسلط کو مسترد کرتی ہے تو ایران کے حق میں آواز بلند کرے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505099/us-is-fueling-military-tensions-by-repeatedly-undermining-diplomatic-effo'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505099"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کویت میں گرفتار 4 ایرانی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ کویت نے خلیج فارس میں ایک ایرانی کشتی پر غیرقانونی حملہ کیا اور 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2054600369796481046?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/2054600369796481046?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اُس جزیرے کے قریب پیش آیا جسے امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کویت کی جانب سے کی گئی غیرقانونی کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل کویت ایران پر الزام عائد کر چکا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر بوبیان جزیرے میں دراندازی کی کوشش کی۔ کویتی حکام کے مطابق واقعہ شط العرب کے دہانے اور ایرانی سرحد کے قریب شمال مغربی خلیج فارس میں پیش آیا۔</p>
<p>تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ گرفتار افراد معمول کی بحری گشت پر تھے اور نیویگیشن سسٹم میں خرابی کے باعث کویتی حدود میں داخل ہوئے۔</p>
<p>ایران نے کویتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں قونصلر رسائی فراہم کی جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505022/iran-us-proposal-no-final-decision-foreign-ministry-spokesperson-statement'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا حق “واضح اور طے شدہ” ہے اور اس معاملے پر مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق محمد رضا عارف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی آبنائے ہرمز سے متعلق پوزیشن واضح ہے اور اس حوالے سے معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں اپنی پالیسیاں اور منصوبہ بندی دشمن ممالک کی پابندیوں اور دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی تھیں تاہم اب ترجیحات تبدیل کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>ایرانی نائب صدر کے مطابق ایران اب خطے کی سلامتی اور اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اپنی اقتصادی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے باوجود قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے اور حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>ادھر ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل کی جنگ سے  پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں، امریکا کے ساتھ جنگ بندی برقرار  ہے، ایرانی افواج تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ کنٹرول کرتی ہے، آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کو ایران کی بحری افواج کنٹرول کرتی ہیں، جنگ کے دوران ایرانی فوج نے دشمن کو کسی بھی ہدف تک پہنچنے سے روکا، جنگ کے دوران پورے مشرق وسطیٰ میں اڈوں پر امریکی فوجی ساز و سامان کو تباہ کیا۔</p>
<p>ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی آئل ٹینکر ایران کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا اور ضرورت پڑنے پر یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے قبرستان بن سکتی ہے۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے ثقافتی و نفسیاتی آپریشنز کے نائب کیپٹن سعید سرانی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج کو خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام اور حکام حکم دیں تو ایران آبنائے ہرمز سے ایک لیٹر تیل بھی اپنی اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دے گا۔</p>
<p>کیپٹن سعید سرانی نے مزید کہا کہ اگرچہ مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی، تاہم ایران نے ’اسمارٹ ناکہ بندی‘ نافذ کر رکھی ہے اور غیر روایتی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505298/iran-will-not-let-even-a-liter-of-oil-pass-strait-of-hormuz-could-become-a-graveyard-for-america'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیےامریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ جس ملک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیں انہیں ایران کی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا تاکہ محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب ایرانی افواج کے ’اسٹریٹجک کنٹرول‘ میں ہے جہاں مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505306</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 22:52:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13223830670307f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13223830670307f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکین کوئین پنکی سے متعلق مزید انکشافات، پولیس تفتیش سوالیہ نشان بن گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505305/more-shocking-revelations-emerge-regarding-cocaine-queen-pinky-arrested-in-lahore</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں گرفتار ہونے والی کوکین کوئن انمول عرف پنکی کے تانے بانے کس کس سے ملتے ہیں، اس حوالے سے مزید ہوشربا انکشافات سامنے آگئے، منشیات کے دھندے سے قتل کے مقدمہ تک پولیس تفتیش سوالیہ نشان بن گئی، جس فلیٹ سے پنکی کی گرفتاری ظاہرکی گئی، وہاں 15 سال سے کوئی اورخاندان مقیم ہے، ملزمہ پر قتل کے مقدمے کی ایف آئی آر میں لاش ملنے کی تاریخ میں بھی تضاد، ایک جگہ لاش ملنے کی تاریخ 7 اپریل دوسری جگہ 7 مئی درج کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے پراسرار کردار کی گرہیں تاحال نہیں کھل سکیں۔ لاہور میں ایک شخص سے دوسری شادی کی بات تو ہو رہی ہے لیکن پولیس شوہر کا نام سامنے نہیں لارہی، لاہور میں کوئی جائیداد سامنے آئی نہ گاڑی۔ انسداد منشیات پر کام کرنے والا حساس ادارہ اس تک پہنچ گیا لیکن لاہور پولیس کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے انمول عرف پنکی کو چند روز قبل نواب ٹاون لاہور سے حراست میں لیا، انمول عرف پنکی کو واٹس ایپ لوکیٹر کی مدد سے لاہور سے ٹریس کیا۔ کراچی کے منشیات مقدمات میں اشتہاری ہونے کے باعث اسے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انمول عرف پنکی نے لاہور میں ایک شخص سے دوسری شادی کی ہوئی تھی اور اسی نے اپنے نام پر اسے گھر کرائے پر لے کر دیا ہوا تھا۔ پنکی گھر میں منشیات بناتی تھی،  جہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات قبضے میں لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں انمول عرف پنکی کے بھائی ریاض بلوچ کو لاہور کوٹ لکھپت پولیس نے گاڑی میں منشیات سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تاہم اس دوران اس کی بہن انمول عرف پنکی تیزی سے گاڑی بھگا فرار ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوران تفتیش ریاض بلوچ نے پولیس کو بتایا کہ گاڑی میں جو خاتون فرار ہوئی ہے، وہ اس کی بہن انمول عرف پنکی ہے۔ پولیس نے اس کے بھائی کے خلاف سب انسپکٹر امجد رضا کی مدعیت میں 9 سی کا مقدمہ درج کیا اور چالان مکمل کرکے اسے جیل بھجوا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر نمبر 73 میں اس کا بھائی نامزد ہے، ایف آئی آر میں انمول عرف پنکی کا نام بھی درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا نام ایف آئی آر میں ہونے کے باوجود چار سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر لاہور پولیس نے اسے اشتہاری قرار نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں پنکی کراچی والی کے نام سے جانی جاتی تھی، پنکی کے نام کی نہ تو جائیداد لاہور میں ابھی تک سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی گاڑی اور نہ ابھی تک اس کے خاوند کا نام بتایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کوکین کوئن انمول پنکی کہاں سے گرفتار ہوئی، ایف آئی آر پر شکوک وشبہات سامنے آگئے، ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں جس مقام کو پنکی کی گرفتاری کا مقام ظاہر کیا گیا، وہ  گارڈن کے ایک فلیٹ کا ہے جہاں محمد رضوان لاکھانی نامی گٹکا فروش رہائش پذیر ہے، رضوان لاکھانی ماضی میں گٹکا اور ماوے کی غیر قانونی فروخت کے مقدمات میں جیل بھی جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پتہ ڈسٹرکٹ سٹی میں تعینات سب انسپکٹر بشیر کی مبینہ ملی بھگت سے درج کیا گیا، پولیس کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں گرفتار ہونے والی کوکین کوئن انمول عرف پنکی کے تانے بانے کس کس سے ملتے ہیں، اس حوالے سے مزید ہوشربا انکشافات سامنے آگئے، منشیات کے دھندے سے قتل کے مقدمہ تک پولیس تفتیش سوالیہ نشان بن گئی، جس فلیٹ سے پنکی کی گرفتاری ظاہرکی گئی، وہاں 15 سال سے کوئی اورخاندان مقیم ہے، ملزمہ پر قتل کے مقدمے کی ایف آئی آر میں لاش ملنے کی تاریخ میں بھی تضاد، ایک جگہ لاش ملنے کی تاریخ 7 اپریل دوسری جگہ 7 مئی درج کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے پراسرار کردار کی گرہیں تاحال نہیں کھل سکیں۔ لاہور میں ایک شخص سے دوسری شادی کی بات تو ہو رہی ہے لیکن پولیس شوہر کا نام سامنے نہیں لارہی، لاہور میں کوئی جائیداد سامنے آئی نہ گاڑی۔ انسداد منشیات پر کام کرنے والا حساس ادارہ اس تک پہنچ گیا لیکن لاہور پولیس کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے انمول عرف پنکی کو چند روز قبل نواب ٹاون لاہور سے حراست میں لیا، انمول عرف پنکی کو واٹس ایپ لوکیٹر کی مدد سے لاہور سے ٹریس کیا۔ کراچی کے منشیات مقدمات میں اشتہاری ہونے کے باعث اسے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>انمول عرف پنکی نے لاہور میں ایک شخص سے دوسری شادی کی ہوئی تھی اور اسی نے اپنے نام پر اسے گھر کرائے پر لے کر دیا ہوا تھا۔ پنکی گھر میں منشیات بناتی تھی،  جہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات قبضے میں لی گئی۔</p>
<p>2022 میں انمول عرف پنکی کے بھائی ریاض بلوچ کو لاہور کوٹ لکھپت پولیس نے گاڑی میں منشیات سپلائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تاہم اس دوران اس کی بہن انمول عرف پنکی تیزی سے گاڑی بھگا فرار ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوران تفتیش ریاض بلوچ نے پولیس کو بتایا کہ گاڑی میں جو خاتون فرار ہوئی ہے، وہ اس کی بہن انمول عرف پنکی ہے۔ پولیس نے اس کے بھائی کے خلاف سب انسپکٹر امجد رضا کی مدعیت میں 9 سی کا مقدمہ درج کیا اور چالان مکمل کرکے اسے جیل بھجوا دیا۔</p>
<p>ایف آئی آر نمبر 73 میں اس کا بھائی نامزد ہے، ایف آئی آر میں انمول عرف پنکی کا نام بھی درج ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا نام ایف آئی آر میں ہونے کے باوجود چار سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر لاہور پولیس نے اسے اشتہاری قرار نہیں دیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں پنکی کراچی والی کے نام سے جانی جاتی تھی، پنکی کے نام کی نہ تو جائیداد لاہور میں ابھی تک سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی گاڑی اور نہ ابھی تک اس کے خاوند کا نام بتایا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب کوکین کوئن انمول پنکی کہاں سے گرفتار ہوئی، ایف آئی آر پر شکوک وشبہات سامنے آگئے، ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں جس مقام کو پنکی کی گرفتاری کا مقام ظاہر کیا گیا، وہ  گارڈن کے ایک فلیٹ کا ہے جہاں محمد رضوان لاکھانی نامی گٹکا فروش رہائش پذیر ہے، رضوان لاکھانی ماضی میں گٹکا اور ماوے کی غیر قانونی فروخت کے مقدمات میں جیل بھی جاچکا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پتہ ڈسٹرکٹ سٹی میں تعینات سب انسپکٹر بشیر کی مبینہ ملی بھگت سے درج کیا گیا، پولیس کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505305</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 22:12:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1322085781ba68f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1322085781ba68f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک لیٹر تیل بھی جانے نہیں دیں گے، آبنائے ہرمز امریکا کے لیے قبرستان بن سکتی ہے: ایران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505298/iran-will-not-let-even-a-liter-of-oil-pass-strait-of-hormuz-could-become-a-graveyard-for-america</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے “قبرستان” بن سکتی ہے، کسی بھی آئل ٹینکر کو اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار سعید سارانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو خطے کی صورت حال پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اگر اعلیٰ سطح سے حکم جاری کیا گیا تو ایک لیٹر تیل بھی اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران نے اسمارٹ ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے تاہم مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید سارانی کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور خطے میں ایرانی فوجی موجودگی مؤثر انداز میں فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کی بحری اور دفاعی حکمتِ عملی کا مقصد خطے میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی وجہ سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آبنائے-ہرمز-سے-امریکی-ہتھیار-منتقل-کرنے-نہیں-دیں-گے-ایرانی-فوج" href="#آبنائے-ہرمز-سے-امریکی-ہتھیار-منتقل-کرنے-نہیں-دیں-گے-ایرانی-فوج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیار منتقل کرنے نہیں دیں گے: ایرانی فوج&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی ہتھیار منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/05/13/3590021/iran-blocking-us-arms-in-hormuz-strait-army-spokesman"&gt;تسنیم&lt;/a&gt; کے مطابق بدھ کو ایرانی شہر مشہد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے پر اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نیوی جب کہ مشرقی حصے پر ایرانی بحریہ کا کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503259/trump-warns-iran-arms-suppliers'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں فورسز کے درمیان مربوط اور مشترکہ کنٹرول نے خطے میں ایران کی نگرانی اور اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ان کے مطابق اس کنٹرول سے ایران کو اتنی آمدن حاصل ہوسکتی ہے جو ملک کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن سے دوگنا تک ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوجی ترجمان نے غیر ملکی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی اسلحہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ اگر ماضی میں امریکی ہتھیار خطے میں موجود فوجی اڈوں پر رکھے گئے تھے تو ان میں سے بیشتر اب تباہ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نہ تو آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیاروں کی گزرگاہ کی اجازت دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف پابندیوں کو قبول کرے گا۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500310/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500310"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جن کا مقصد ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا تھا۔ ان حملوں کے وقت امریکا اور ایران کے درمیان جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات بھی جاری تھے۔ ایران نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 مارچ کو جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا تھا، جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 مارچ کو ایران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر ناکہ بندی کر دی تھی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505219/president-trump-hints-at-restarting-project-freedom-in-the-strait-of-hormuz'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505219"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں پاکستان کی ثالثی سے توسیع بھی کی گئی تھی جب کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جس کا مقصد ایران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔ 20 اور 21 اپریل کو مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں طے تھا تاہم امریکی صدر نے وفد کے دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس دور میں شرکت سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے “قبرستان” بن سکتی ہے، کسی بھی آئل ٹینکر کو اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار سعید سارانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو خطے کی صورت حال پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اگر اعلیٰ سطح سے حکم جاری کیا گیا تو ایک لیٹر تیل بھی اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران نے اسمارٹ ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے تاہم مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی۔</p>
<p>سعید سارانی کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور خطے میں ایرانی فوجی موجودگی مؤثر انداز میں فعال ہے۔</p>
<p>ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کی بحری اور دفاعی حکمتِ عملی کا مقصد خطے میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی وجہ سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<h1><a id="آبنائے-ہرمز-سے-امریکی-ہتھیار-منتقل-کرنے-نہیں-دیں-گے-ایرانی-فوج" href="#آبنائے-ہرمز-سے-امریکی-ہتھیار-منتقل-کرنے-نہیں-دیں-گے-ایرانی-فوج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیار منتقل کرنے نہیں دیں گے: ایرانی فوج</strong></h1>
<p>دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی ہتھیار منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/05/13/3590021/iran-blocking-us-arms-in-hormuz-strait-army-spokesman">تسنیم</a> کے مطابق بدھ کو ایرانی شہر مشہد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے پر اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نیوی جب کہ مشرقی حصے پر ایرانی بحریہ کا کنٹرول ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503259/trump-warns-iran-arms-suppliers'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں فورسز کے درمیان مربوط اور مشترکہ کنٹرول نے خطے میں ایران کی نگرانی اور اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ان کے مطابق اس کنٹرول سے ایران کو اتنی آمدن حاصل ہوسکتی ہے جو ملک کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن سے دوگنا تک ہو۔</p>
<p>ایرانی فوجی ترجمان نے غیر ملکی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی اسلحہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ اگر ماضی میں امریکی ہتھیار خطے میں موجود فوجی اڈوں پر رکھے گئے تھے تو ان میں سے بیشتر اب تباہ ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نہ تو آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیاروں کی گزرگاہ کی اجازت دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف پابندیوں کو قبول کرے گا۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500310/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500310"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جن کا مقصد ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا تھا۔ ان حملوں کے وقت امریکا اور ایران کے درمیان جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات بھی جاری تھے۔ ایران نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔</p>
<p>2 مارچ کو جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا تھا، جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔</p>
<p>4 مارچ کو ایران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر ناکہ بندی کر دی تھی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505219/president-trump-hints-at-restarting-project-freedom-in-the-strait-of-hormuz'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505219"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں پاکستان کی ثالثی سے توسیع بھی کی گئی تھی جب کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔</p>
<p>13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جس کا مقصد ایران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔ 20 اور 21 اپریل کو مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں طے تھا تاہم امریکی صدر نے وفد کے دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس دور میں شرکت سے گریز کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505298</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 21:44:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13214153c7cb470.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13214153c7cb470.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر بھارتی گلوکار کو تنقید کا سامنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505304/talwiinder-hasan-raheem-toronto-concert-controversy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی گلوکار تلوندر سنگھ سدھو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی گلوکار حسن رحیم کے کنسرٹ میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا فنکاروں کے درمیان تعاون کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/music/talwiinder-faces-backlash-for-joining-pakistani-singer-hasan-raheem-on-stage-at-toronto-concert-101778652460391.html"&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تلوندر نے ٹورنٹو میں منعقدہ کنسرٹ میں حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کیا۔ دونوں فنکاروں کو ایک ساتھ گاتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور غیر رسمی انداز میں پرفارمنس کرتے دیکھا گیا، جس کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں تلوندر نے انسٹاگرام پر کنسرٹ کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹورنٹو میں خواب پورا ہوا۔ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طبقے نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تنقید کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ پاک-بھارت کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایسے تعاون کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض صارفین نے انہیں سخت الفاظ میں نشانہ بناتے ہوئے شیم آن یو جیسے تبصرے بھی کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کچھ صارفین نے تلوندر کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ موسیقی اور فن کو سرحدوں اور سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے فنکاروں کا اس طرح ایک ساتھ آنا ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف کی تائید۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تلوندر سوشل میڈیا بحث کا مرکز بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں، جن میں اداکارہ دیشا پٹانی کے ساتھ ان کے تعلقات کی افواہیں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلوندر نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کیا، جہاں ان کے گانے کمّوجی، دھندلا اور فنک سونگ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ 2024 میں انہوں نے اپنا پہلا البم مس فٹ بھی ریلیز کیا جس نے انہیں مزید شہرت دلائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی گلوکار تلوندر سنگھ سدھو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی گلوکار حسن رحیم کے کنسرٹ میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا فنکاروں کے درمیان تعاون کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔</strong></p>
<p>’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/music/talwiinder-faces-backlash-for-joining-pakistani-singer-hasan-raheem-on-stage-at-toronto-concert-101778652460391.html">ہندوستان ٹائمز</a>‘ کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تلوندر نے ٹورنٹو میں منعقدہ کنسرٹ میں حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کیا۔ دونوں فنکاروں کو ایک ساتھ گاتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور غیر رسمی انداز میں پرفارمنس کرتے دیکھا گیا، جس کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔</p>
<p>بعد ازاں تلوندر نے انسٹاگرام پر کنسرٹ کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹورنٹو میں خواب پورا ہوا۔ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طبقے نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>تنقید کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ پاک-بھارت کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایسے تعاون کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض صارفین نے انہیں سخت الفاظ میں نشانہ بناتے ہوئے شیم آن یو جیسے تبصرے بھی کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب کچھ صارفین نے تلوندر کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ موسیقی اور فن کو سرحدوں اور سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے فنکاروں کا اس طرح ایک ساتھ آنا ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف کی تائید۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تلوندر سوشل میڈیا بحث کا مرکز بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں، جن میں اداکارہ دیشا پٹانی کے ساتھ ان کے تعلقات کی افواہیں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>تلوندر نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کیا، جہاں ان کے گانے کمّوجی، دھندلا اور فنک سونگ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ 2024 میں انہوں نے اپنا پہلا البم مس فٹ بھی ریلیز کیا جس نے انہیں مزید شہرت دلائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505304</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 21:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321550600d5329.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1321550600d5329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں کون سا آٹا کتنے میں ملے گا؟ کمشنر کراچی نے نئی قیمتیں مقرر کردیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505303/commissioner-karachi-fixes-flour-price</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں مہنگائی سے پریشان شہریوں کے لیے ایک اور بُری خبر ہے کہ شہر میں آٹے کی قیمتوں کا نیا سرکاری نرخ نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی کی جانب سے تین ماہ بعد جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں بعض اقسام کے آٹے کی قیمتوں میں کمی جب کہ بعض میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو مختلف سطح پر ریلیف اور مہنگائی دونوں کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز کمشنر کراچی نے آٹے کی قیمت کا تعین کرتے ہوئے پورے تین ماہ بعد آٹے کی قیمتوں کی نئی فہرست کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا کہ کراچی میں آٹے کی سرکاری قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق ڈھائی نمبر ریگولر آٹے کی ہول سیل اور ریٹیل دونوں سطح پر فی کلو قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈھائی نمبر ریگولر آٹے کی قیمت 105 روپے سے بڑھ کر 110 روپے فی کلو جب کہ ریٹیل قیمت 107 روپے سے بڑھ کر 113 روپے فی کلو مقرر کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فائن آٹے کی فی کلو قیمت میں عوام کو 11 روپے کا بڑا ریلیف دیا گیا ہے، جس کی ہول سیل قیمت 129 روپے سے کم ہو کر 118 روپے فی کلو جب کہ ریٹیل قیمت 132 روپے سے کم ہو کر 121 روپے فی کلو کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح چکی کے آٹے کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے، چکی کے آٹے کی قیمت 140 روپے سے بڑھ کر 145 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر کراچی کے مطابق یہ نیا نرخ نامہ 3 ماہ بعد جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف اقسام کے آٹے کی قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں مہنگائی سے پریشان شہریوں کے لیے ایک اور بُری خبر ہے کہ شہر میں آٹے کی قیمتوں کا نیا سرکاری نرخ نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی کی جانب سے تین ماہ بعد جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں بعض اقسام کے آٹے کی قیمتوں میں کمی جب کہ بعض میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو مختلف سطح پر ریلیف اور مہنگائی دونوں کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز کمشنر کراچی نے آٹے کی قیمت کا تعین کرتے ہوئے پورے تین ماہ بعد آٹے کی قیمتوں کی نئی فہرست کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا کہ کراچی میں آٹے کی سرکاری قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق ڈھائی نمبر ریگولر آٹے کی ہول سیل اور ریٹیل دونوں سطح پر فی کلو قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈھائی نمبر ریگولر آٹے کی قیمت 105 روپے سے بڑھ کر 110 روپے فی کلو جب کہ ریٹیل قیمت 107 روپے سے بڑھ کر 113 روپے فی کلو مقرر کردی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فائن آٹے کی فی کلو قیمت میں عوام کو 11 روپے کا بڑا ریلیف دیا گیا ہے، جس کی ہول سیل قیمت 129 روپے سے کم ہو کر 118 روپے فی کلو جب کہ ریٹیل قیمت 132 روپے سے کم ہو کر 121 روپے فی کلو کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اسی طرح چکی کے آٹے کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے، چکی کے آٹے کی قیمت 140 روپے سے بڑھ کر 145 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔</p>
<p>کمشنر کراچی کے مطابق یہ نیا نرخ نامہ 3 ماہ بعد جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف اقسام کے آٹے کی قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505303</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 20:53:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1320500127ef8fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1320500127ef8fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تامل ناڈو میں نجومی کی تقرری پر تنازع، وجے حکومت نے فیصلہ واپس لے لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505302/tamil-nadu-astrologer-post-cancelled</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کے بعد نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹریول کی بطور اسپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ایک دن کے اندر سامنے آیا، جس نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.telegraphindia.com/india/vijays-u-turn-tvk-govt-revokes-astrologer-vettrivels-appointment-after-backlash/cid/2160356"&gt;ٹیلی گراف انڈیا&lt;/a&gt;‘ کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے بدھ کے روز حکم جاری کرتے ہوئے ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تقرری کا سابقہ حکم فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدراس ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر تعینات کرنا بھارتی آئین کے سائنسی طرزِ فکر کے اصول کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقرری کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جب کہ اپوزیشن نے اسے انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کے رکنِ پارلیمان سسی کانت سینتھل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدہ دینے کا کیا جواز ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت تملگا وکٹری کزاگم سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف پیش گوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں اور انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں کے حوالے سے اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا نام سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں بھی سامنے آ چکا ہے، جب وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے آئینی اصول واضح ہیں اور سائنسی طرزِ فکر کو حکومتی فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کے بعد نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹریول کی بطور اسپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ایک دن کے اندر سامنے آیا، جس نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی اخبار ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.telegraphindia.com/india/vijays-u-turn-tvk-govt-revokes-astrologer-vettrivels-appointment-after-backlash/cid/2160356">ٹیلی گراف انڈیا</a>‘ کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے بدھ کے روز حکم جاری کرتے ہوئے ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تقرری کا سابقہ حکم فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدراس ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر تعینات کرنا بھارتی آئین کے سائنسی طرزِ فکر کے اصول کے خلاف ہے۔</p>
<p>تقرری کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جب کہ اپوزیشن نے اسے انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔</p>
<p>کانگریس کے رکنِ پارلیمان سسی کانت سینتھل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدہ دینے کا کیا جواز ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔</p>
<p>ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت تملگا وکٹری کزاگم سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف پیش گوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں اور انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں کے حوالے سے اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ان کا نام سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں بھی سامنے آ چکا ہے، جب وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔</p>
<p>خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے آئینی اصول واضح ہیں اور سائنسی طرزِ فکر کو حکومتی فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505302</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 20:36:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/132034492e99e62.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/132034492e99e62.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505301/how-is-sanctioned-marco-rubio-travelled-china-with-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین پہنچ گئے ہیں۔ مارکو روبیو اب بھی چین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں تاہم چینی حکام کی ایک معمولی مگر دلچسپ حکمت عملی نے ان کی چین آمد کا سفارتی راستہ ڈھونڈ نکالا، جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ چین کے دورے پر پہنچ چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بدھ کی شام صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں بیجنگ پہنچے ہیں۔ ان کی بیجنگ آمد سے ایک انوکھی سفارتی صورتِ حال نے جنم لیا ہے، کیوں کہ تکنیکی طور پر ان پر چین میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/us-news/2026/may/13/marco-rubio-china-visit-new-character-name-trump-summit"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt; کے مطابق مارکو روبیو امریکی تاریخ کے پہلے وزیرِ خارجہ بن گئے ہیں جو بیجنگ کی جانب سے عائد سفری اور سفارتی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہونے کے باوجود سرکاری دورے پر چین پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کی چین کی جانب سفر کے دوران ’ایئر فورس ون‘ کے اندر سے سامنے آنے والی تصویر بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہے، جس میں وہ سرمئی رنگ کے ٹریک سوٹ میں ملبوس نظر آ رہے ہیں۔ یہ لباس بالکل ویسا ہے جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی فوجی آپریشن کے بعد گرفتاری کے وقت زیب تن کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054573308125794819'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054573308125794819"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کا آبائی تعلق کیوبا سے ہے اور طویل عرصے تک چین کے سخت ترین ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی سینیٹر کے طور پر چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً ایغور مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک اور ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے کانگریس میں چین مخالف قانون سازیوں میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا نے چین پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جواب میں چین نے جولائی 2020 میں مارکو روبیو کو بلیک لسٹ میں شامل کرکے چین میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں اگست 2020 میں ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر کے خلاف بیانات پر چین نے مارکو روبیو کو دوبارہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صدر ٹرمپ کے موجودہ دورۂ چین سے قبل چینی حکام اور سرکاری میڈیا نے مارکو روبیو کے دورے کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی مگر دلچسپ حل نکالا اور چینی زبان میں ان کے نام کے ہجّے تبدیل کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوں کہ مارکو روبیو پرعائد پابندیاں ان کے پرانے چینی نام کے ہجّے پر درج تھیں، اس لیے چین نے پابندی کو تکنیکی طور پر ختم کیے بغیر صرف نام کا کریکٹر بدل کر انہیں بیجنگ آنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Newsforce/status/2054572579680141455'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Newsforce/status/2054572579680141455"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چینی حکام نے امریکی وزیرِ خارجہ کے خاندانی نام ’روبیو‘ کا پہلا لفظ تبدیل کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ناموں کا تلفظ تقریباً ایکی سا ہی ہے، لیکن لکھتے وقت ذرا سی تبدیلی نے قانونی اور سفارتی طور پر اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے انہیں چینی زبان میں (Lú bǐ ào) لکھا جاتا تھا، اب تبدیلی کے بعد سرکاری دستاویزات اور میڈیا میں انہیں (Lǔ bǐ ào) لکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مارکو روبیو کے معاملے میں چینی زبان کے ایک حرف کی تبدیلی بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے، لیکن سفارت کاری میں بعض اوقات ایسے ’لسانی حل‘ بڑے سیاسی تعطل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی تھی تاکہ امریکی وزیر خارجہ کے داخلے پر عائد پابندیوں کے باوجود انہیں اسٹیٹ وزٹ کا حصہ بننے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505297/trump-china-visit'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے بھی اس حوالے سے واضح کیا کہ چینی پابندیاں ’مارکو روبیو‘ کے ان بیانات اور کاموں کی وجہ سے تھیں جو انہوں نے بطور امریکی سینیٹر چین کے خلاف دیے تھے تاہم اب چین ان کے ماضی کے افعال کی بنیاد پر دورے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماضی میں مارکو روبیو ’اینٹی چائنہ‘ مؤقف کے حامل اور کمیونزم کے سخت مخالف رہے ہیں، لیکن سیکرٹری آف اسٹیٹ بننے کے بعد سے وہ صدر ٹرمپ کی انسانی حقوق کے بجائے تجارتی تعلقات اور معاشی مفادات کو ترجیح کی پالیسی کے حامی نظر آتے ہیں۔ تاہم تائیوان کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے تائیوان کی جمہوری خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور چینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مارکو روبیو کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات میں تجارت، تائیوان، مصنوعی ذہانت، ایران جنگ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین پہنچ گئے ہیں۔ مارکو روبیو اب بھی چین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں تاہم چینی حکام کی ایک معمولی مگر دلچسپ حکمت عملی نے ان کی چین آمد کا سفارتی راستہ ڈھونڈ نکالا، جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ چین کے دورے پر پہنچ چکے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بدھ کی شام صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں بیجنگ پہنچے ہیں۔ ان کی بیجنگ آمد سے ایک انوکھی سفارتی صورتِ حال نے جنم لیا ہے، کیوں کہ تکنیکی طور پر ان پر چین میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔</p>
<p>برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/us-news/2026/may/13/marco-rubio-china-visit-new-character-name-trump-summit">دی گارجین</a> کے مطابق مارکو روبیو امریکی تاریخ کے پہلے وزیرِ خارجہ بن گئے ہیں جو بیجنگ کی جانب سے عائد سفری اور سفارتی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہونے کے باوجود سرکاری دورے پر چین پہنچے ہیں۔</p>
<p>مارکو روبیو کی چین کی جانب سفر کے دوران ’ایئر فورس ون‘ کے اندر سے سامنے آنے والی تصویر بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہے، جس میں وہ سرمئی رنگ کے ٹریک سوٹ میں ملبوس نظر آ رہے ہیں۔ یہ لباس بالکل ویسا ہے جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی فوجی آپریشن کے بعد گرفتاری کے وقت زیب تن کر رکھا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054573308125794819'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054573308125794819"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو کا آبائی تعلق کیوبا سے ہے اور طویل عرصے تک چین کے سخت ترین ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی سینیٹر کے طور پر چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً ایغور مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک اور ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔</p>
<p>مارکو روبیو نے کانگریس میں چین مخالف قانون سازیوں میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا نے چین پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جواب میں چین نے جولائی 2020 میں مارکو روبیو کو بلیک لسٹ میں شامل کرکے چین میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بعد ازاں اگست 2020 میں ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر کے خلاف بیانات پر چین نے مارکو روبیو کو دوبارہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔</p>
<p>تاہم صدر ٹرمپ کے موجودہ دورۂ چین سے قبل چینی حکام اور سرکاری میڈیا نے مارکو روبیو کے دورے کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی مگر دلچسپ حل نکالا اور چینی زبان میں ان کے نام کے ہجّے تبدیل کردیے۔</p>
<p>چوں کہ مارکو روبیو پرعائد پابندیاں ان کے پرانے چینی نام کے ہجّے پر درج تھیں، اس لیے چین نے پابندی کو تکنیکی طور پر ختم کیے بغیر صرف نام کا کریکٹر بدل کر انہیں بیجنگ آنے کی اجازت دے دی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Newsforce/status/2054572579680141455'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Newsforce/status/2054572579680141455"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چینی حکام نے امریکی وزیرِ خارجہ کے خاندانی نام ’روبیو‘ کا پہلا لفظ تبدیل کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ناموں کا تلفظ تقریباً ایکی سا ہی ہے، لیکن لکھتے وقت ذرا سی تبدیلی نے قانونی اور سفارتی طور پر اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔</p>
<p>پہلے انہیں چینی زبان میں (Lú bǐ ào) لکھا جاتا تھا، اب تبدیلی کے بعد سرکاری دستاویزات اور میڈیا میں انہیں (Lǔ bǐ ào) لکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مارکو روبیو کے معاملے میں چینی زبان کے ایک حرف کی تبدیلی بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے، لیکن سفارت کاری میں بعض اوقات ایسے ’لسانی حل‘ بڑے سیاسی تعطل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمت عملی تھی تاکہ امریکی وزیر خارجہ کے داخلے پر عائد پابندیوں کے باوجود انہیں اسٹیٹ وزٹ کا حصہ بننے دیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505297/trump-china-visit'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے بھی اس حوالے سے واضح کیا کہ چینی پابندیاں ’مارکو روبیو‘ کے ان بیانات اور کاموں کی وجہ سے تھیں جو انہوں نے بطور امریکی سینیٹر چین کے خلاف دیے تھے تاہم اب چین ان کے ماضی کے افعال کی بنیاد پر دورے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔</p>
<p>اگرچہ ماضی میں مارکو روبیو ’اینٹی چائنہ‘ مؤقف کے حامل اور کمیونزم کے سخت مخالف رہے ہیں، لیکن سیکرٹری آف اسٹیٹ بننے کے بعد سے وہ صدر ٹرمپ کی انسانی حقوق کے بجائے تجارتی تعلقات اور معاشی مفادات کو ترجیح کی پالیسی کے حامی نظر آتے ہیں۔ تاہم تائیوان کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے تائیوان کی جمہوری خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرے گی۔</p>
<p>بدھ کے روز بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور چینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مارکو روبیو کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات میں تجارت، تائیوان، مصنوعی ذہانت، ایران جنگ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505301</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 20:57:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13201848df2bfa9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13201848df2bfa9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا دورۂ بیجنگ: کیا چین امریکا-ایران تنازع میں ثالث بن سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505300/us-china-summit-amid-iran-war-tensions-and-global-energy-crisis</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے درمیان بیجنگ ایک کلیدی سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے قبل چین کے ممکنہ ثالثی کردار پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ایرانی سفیر کے تازہ بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی صورتِ حال اس اہم امریکا-چین ملاقات کو محض دوطرفہ ایجنڈے سے نکال کر ایک وسیع تر عالمی بحران سے جڑے فیصلہ کن سفارتی موڑ میں تبدیل کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/13/politics/live-news/trump-china-visit-arrival-ceremony-hnk?post-id=cmp3mlwhp004e3b6r7c9amt3r"&gt;سی این این&lt;/a&gt;‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بظاہر تجارت، تائیوان، عالمی سلامتی اور معاشی تعاون جیسے روایتی موضوعات تک محدود دکھائی دیتی ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل گفتگو کا ایک بڑا حصہ ایران جنگ اور اس کے عالمی اثرات کے گرد مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس ملاقات کو محض دوطرفہ سفارتی رابطے کے بجائے ایک ایسے عالمی بحران سے جڑا موقع بنا رہی ہے جس کے اثرات توانائی، سیاست اور عالمی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کیا ہے بل کہ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی ترسیل کے نظام کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسی بحران نے چین کو ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ممکنہ پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری اسے خطے میں ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتی ہے، جو کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505252/iran-china-political-balancing-statement-iranian-ambassador-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز چین میں تعینات ایرانی سفیر نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں واضح اشارہ دیا تھا کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ چین اس بحران میں پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ عبدالرضا رحمانی فضلی کے مطابق چین صرف ایران کا معاشی شراکت دار نہیں بل کہ ایک ایسا سیاسی توازن بھی فراہم کرتا ہے جو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں تہران کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران جنگ کے کسی ممکنہ وقفے یا سفارتی حل پر بحث جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر ہنری وانگ نے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/maro0a?update=4568697"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ امریکا اور چین دونوں کے مفاد میں ہے، کیونکہ چین کی تقریباً 40 فی صد تیل کی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں اصل ضرورت جنگ کو روکنے اور ایک منصفانہ حل کی طرف بڑھنے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنری وانگ نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں اس تنازع سے تھک چکے ہیں اور انہیں ایک راستے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ اس بحران سے باعزت انداز میں نکل سکیں۔ ان کے مطابق چین اس عمل میں وہ سہارا فراہم کر سکتا ہے جو امن کی طرف واپسی کو ممکن بنائے اور اگر ضرورت پڑے تو ایک مؤثر ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر، برطانوی نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/nvidia-ceo-joins-trumps-mission-open-up-china-2026-05-13/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کا دورۂ چین بنیادی طور پر امریکا اور چین کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اندرونی سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہے، جو ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ وہ شی جن پنگ سے امریکی کمپنیوں کے لیے چین کی منڈی کھولنے کا مطالبہ کریں گے اور یہ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق اس ملاقات میں ایران جنگ بھی ایک اہم موضوع ہوگا، جہاں توقع ہے کہ ٹرمپ شی جن پنگ سے ایران پر اثر انداز ہونے کا مطالبہ کریں گے، تاہم وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو اس معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی جب کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505180/trump-rejects-irans-response-to-us-peace-proposal-as-unacceptable'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505180"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششیں دوبارہ سامنے آئیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کر رہا ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران مقابلہ کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان بدستور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جب کہ قطر سمیت دیگر ممالک بھی رابطوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505193/pakistan-iran-israel-war-us-attack-ismail-baghaei'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ ان کے ایجنڈے پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس صورتِ حال کے باوجود اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مارچ میں مجوزہ دورۂ چین اس امید پر مؤخر کر دیا تھا کہ ایران جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔ امریکی صدر خود بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی کمزور حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیجنگ ملاقات میں دونوں رہنما ایسے تجارتی معاہدے بھی سامنے لائیں جنہیں ٹرمپ اپنے ملک میں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم ایران کا معاملہ اس ملاقات پر غالب رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے چین پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے درمیان بیجنگ ایک کلیدی سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے قبل چین کے ممکنہ ثالثی کردار پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ایرانی سفیر کے تازہ بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی صورتِ حال اس اہم امریکا-چین ملاقات کو محض دوطرفہ ایجنڈے سے نکال کر ایک وسیع تر عالمی بحران سے جڑے فیصلہ کن سفارتی موڑ میں تبدیل کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/13/politics/live-news/trump-china-visit-arrival-ceremony-hnk?post-id=cmp3mlwhp004e3b6r7c9amt3r">سی این این</a>‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بظاہر تجارت، تائیوان، عالمی سلامتی اور معاشی تعاون جیسے روایتی موضوعات تک محدود دکھائی دیتی ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل گفتگو کا ایک بڑا حصہ ایران جنگ اور اس کے عالمی اثرات کے گرد مرکوز ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس ملاقات کو محض دوطرفہ سفارتی رابطے کے بجائے ایک ایسے عالمی بحران سے جڑا موقع بنا رہی ہے جس کے اثرات توانائی، سیاست اور عالمی معیشت تک پھیل چکے ہیں۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کیا ہے بل کہ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی ترسیل کے نظام کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسی بحران نے چین کو ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ممکنہ پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>چین کے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری اسے خطے میں ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتی ہے، جو کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505252/iran-china-political-balancing-statement-iranian-ambassador-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>منگل کے روز چین میں تعینات ایرانی سفیر نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں واضح اشارہ دیا تھا کہ بیجنگ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ چین اس بحران میں پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔</p>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ عبدالرضا رحمانی فضلی کے مطابق چین صرف ایران کا معاشی شراکت دار نہیں بل کہ ایک ایسا سیاسی توازن بھی فراہم کرتا ہے جو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں تہران کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران جنگ کے کسی ممکنہ وقفے یا سفارتی حل پر بحث جاری ہے۔</p>
<p>سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر ہنری وانگ نے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/maro0a?update=4568697">الجزیرہ</a>‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ امریکا اور چین دونوں کے مفاد میں ہے، کیونکہ چین کی تقریباً 40 فی صد تیل کی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں اصل ضرورت جنگ کو روکنے اور ایک منصفانہ حل کی طرف بڑھنے کی ہے۔</p>
<p>ہنری وانگ نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں اس تنازع سے تھک چکے ہیں اور انہیں ایک راستے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ اس بحران سے باعزت انداز میں نکل سکیں۔ ان کے مطابق چین اس عمل میں وہ سہارا فراہم کر سکتا ہے جو امن کی طرف واپسی کو ممکن بنائے اور اگر ضرورت پڑے تو ایک مؤثر ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر، برطانوی نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/nvidia-ceo-joins-trumps-mission-open-up-china-2026-05-13/">رائٹرز</a>‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کا دورۂ چین بنیادی طور پر امریکا اور چین کے درمیان نازک تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اندرونی سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش ہے، جو ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ وہ شی جن پنگ سے امریکی کمپنیوں کے لیے چین کی منڈی کھولنے کا مطالبہ کریں گے اور یہ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق اس ملاقات میں ایران جنگ بھی ایک اہم موضوع ہوگا، جہاں توقع ہے کہ ٹرمپ شی جن پنگ سے ایران پر اثر انداز ہونے کا مطالبہ کریں گے، تاہم وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو اس معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی جب کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505180/trump-rejects-irans-response-to-us-peace-proposal-as-unacceptable'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505180"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>9 سے 11 مئی کے دوران قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششیں دوبارہ سامنے آئیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل تھے، جنہیں امریکا نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کر رہا ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران مقابلہ کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان بدستور دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جب کہ قطر سمیت دیگر ممالک بھی رابطوں میں مصروف ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505193/pakistan-iran-israel-war-us-attack-ismail-baghaei'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505193"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وقت چین کے دورے پر ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ ان کے ایجنڈے پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس صورتِ حال کے باوجود اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے؟</p>
<p>ٹرمپ نے مارچ میں مجوزہ دورۂ چین اس امید پر مؤخر کر دیا تھا کہ ایران جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔ امریکی صدر خود بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی انتہائی کمزور حالت میں ہے۔</p>
<p>امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیجنگ ملاقات میں دونوں رہنما ایسے تجارتی معاہدے بھی سامنے لائیں جنہیں ٹرمپ اپنے ملک میں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔ تاہم ایران کا معاملہ اس ملاقات پر غالب رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے چین پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505300</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:59:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13200813f968fc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13200813f968fc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کرکٹ ٹیم کی دو سالہ کارکردگی: تنزلی، تنازعات اور ناکامیوں سے بھرپور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505299/a-long-list-of-failures-of-the-pakistan-cricket-team-in-2-years-has-come-to-light</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں ماضی میں کمزور حریف تصور کیا جاتا تھا جب کہ ناقص نتائج کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورت حال مزید مایوس کن رہی، جہاں قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی۔ اسی دوران انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس میں بھی قومی ٹیم کو زمبابوے کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور خراب کارکردگی کے بعد ایونٹ میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی دوران ٹیم کو ٹی 20 تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی بولنگ شعبے کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408209/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ٹی 20 سیریز میں پاکستان 8 میں سے 7 میچز ہار گیا جب کہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میں پوری ٹیم محض 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق پاکستان 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا جب کہ مسلسل شکستوں کے سلسلے نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کی سطح پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں ماضی میں کمزور حریف تصور کیا جاتا تھا جب کہ ناقص نتائج کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔</p>
<p>قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورت حال مزید مایوس کن رہی، جہاں قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی۔ اسی دوران انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کیا۔</p>
<p>ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس میں بھی قومی ٹیم کو زمبابوے کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔</p>
<p>چیمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور خراب کارکردگی کے بعد ایونٹ میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی دوران ٹیم کو ٹی 20 تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>پاکستانی بولنگ شعبے کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408209/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی عرصے میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ٹی 20 سیریز میں پاکستان 8 میں سے 7 میچز ہار گیا جب کہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میں پوری ٹیم محض 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق پاکستان 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا جب کہ مسلسل شکستوں کے سلسلے نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے۔</p>
<p>کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کی سطح پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505299</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:30:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1319011500f7e67.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1319011500f7e67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر ٹرمپ 9 سال بعد بیجنگ پہنچ گئے، چین کے ساتھ اہم معاہدے متوقع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505297/trump-china-visit</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی آمد پر چینی نائب صدر ہان ژینگ اور اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون کے بیجنگ پہنچنے پر تقریباً 300 بچے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے صدر ٹرمپ کو خوش آمدید کہا۔ صدر ٹرمپ نے بچوں کی جانب ہاتھ ہلایا اور وہ سرکاری موٹرکیڈ میں روانہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2054535979793310026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2054535979793310026"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک بڑا سرکاری اور غیر سرکاری وفد بھی بیجنگ پہنچا ہے، جس میں امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام، کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات اور ان کے قریبی اہل خانہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور نمائندہ خصوصی برائے تجارت جیمیسن گریئر صدر کے ہمراہ ایئر فورس ون میں بیجنگ پہنچے، جب کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ جنوبی کوریا میں چینی حکام سے ابتدائی تجارتی مذاکرات کے بعد بیجنگ پہنچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے صاحبزادے ایرک ٹرمپ اور بہو لارا ٹرمپ بھی بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ لارا ٹرمپ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی شریک چیئر رہ چکی ہیں اور اس وقت فاکس نیوز پر ایک پروگرام کی میزبانی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران 2017 کے چین دورے میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ ان کے ہمراہ تھیں، تاہم اس بار وہ اس دورے میں شریک نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی کئی مشہور شخصیات بھی اس دورے کا حصہ ہے، جن میں ’ایپل‘ کے ٹم کک، ’ٹیسلا‘ کے ایلون مسک، ’بوئنگ‘ کے کیلی اورٹبرگ اور ’میٹا‘ کی ڈینا پاول میک کارمک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بلیک راک، بلیک اسٹون، سٹی گروپ، کوہیرنٹ، جی ای ایرو اسپیس، گولڈمین ساکس، الومینا، ماسٹرکارڈ، مائیکرون، کوالکوم اور ویزا جیسے عالمی اداروں کے ایگزیکٹیوز بھی وفد میں شامل ہیں۔ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ کو بھی الاسکا میں ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ دورہ 13 مئی سے 15 مئی تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی صبح صدر شی جن پنگ ’گریٹ ہال‘ میں ٹرمپ کا باقاعدہ سرکاری استقبال کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات ہوگی۔ صدر ٹرمپ شام کو تاریخی ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ کریں گے اور چینی صدر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعزاز میں خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری ون آن ون ملاقات، چائے کی نشست اور ورکنگ لنچ ہوگا۔ اس کے بعد امریکی وفد کے کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور جمعہ کی سہ پہر صدر ٹرمپ واشنگٹن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی چین کا دورہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجز میں سے ایک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جب کہ اس تنازع کے معاشی اثرات کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے نے بھی ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-3/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور چینی قیادت کے درمیان اس ملاقات میں ممکنہ طور پر تجارتی معاہدوں کے نئے اعلانات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے نئے بورڈز کے قیام پر بھی بات ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ تجارتی معاملات پر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین امریکی زرعی اجناس اور ہوائی جہازوں کی خریداری میں اضافہ کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کی آمد پر چینی نائب صدر ہان ژینگ اور اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔</p>
<p>ایئر فورس ون کے بیجنگ پہنچنے پر تقریباً 300 بچے نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے صدر ٹرمپ کو خوش آمدید کہا۔ صدر ٹرمپ نے بچوں کی جانب ہاتھ ہلایا اور وہ سرکاری موٹرکیڈ میں روانہ ہو گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2054535979793310026'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2054535979793310026"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک بڑا سرکاری اور غیر سرکاری وفد بھی بیجنگ پہنچا ہے، جس میں امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام، کاروباری دنیا کی بڑی شخصیات اور ان کے قریبی اہل خانہ شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور نمائندہ خصوصی برائے تجارت جیمیسن گریئر صدر کے ہمراہ ایئر فورس ون میں بیجنگ پہنچے، جب کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ جنوبی کوریا میں چینی حکام سے ابتدائی تجارتی مذاکرات کے بعد بیجنگ پہنچیں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے صاحبزادے ایرک ٹرمپ اور بہو لارا ٹرمپ بھی بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ لارا ٹرمپ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی شریک چیئر رہ چکی ہیں اور اس وقت فاکس نیوز پر ایک پروگرام کی میزبانی کر رہی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران 2017 کے چین دورے میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ ان کے ہمراہ تھیں، تاہم اس بار وہ اس دورے میں شریک نہیں ہیں۔</p>
<p>کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والی کئی مشہور شخصیات بھی اس دورے کا حصہ ہے، جن میں ’ایپل‘ کے ٹم کک، ’ٹیسلا‘ کے ایلون مسک، ’بوئنگ‘ کے کیلی اورٹبرگ اور ’میٹا‘ کی ڈینا پاول میک کارمک شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بلیک راک، بلیک اسٹون، سٹی گروپ، کوہیرنٹ، جی ای ایرو اسپیس، گولڈمین ساکس، الومینا، ماسٹرکارڈ، مائیکرون، کوالکوم اور ویزا جیسے عالمی اداروں کے ایگزیکٹیوز بھی وفد میں شامل ہیں۔ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹیو جینسن ہوانگ کو بھی الاسکا میں ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دیکھا گیا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس اور چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ دورہ 13 مئی سے 15 مئی تک جاری رہے گا۔</p>
<p>جمعرات کی صبح صدر شی جن پنگ ’گریٹ ہال‘ میں ٹرمپ کا باقاعدہ سرکاری استقبال کریں گے، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی باضابطہ دوطرفہ ملاقات ہوگی۔ صدر ٹرمپ شام کو تاریخی ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ کریں گے اور چینی صدر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعزاز میں خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>جمعے کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری ون آن ون ملاقات، چائے کی نشست اور ورکنگ لنچ ہوگا۔ اس کے بعد امریکی وفد کے کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور جمعہ کی سہ پہر صدر ٹرمپ واشنگٹن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔</p>
<p>امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی چین کا دورہ کیا تھا۔</p>
<p>اس دوران صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجز میں سے ایک تھا۔</p>
<p>یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جب کہ اس تنازع کے معاشی اثرات کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے نے بھی ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-3/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی اور چینی قیادت کے درمیان اس ملاقات میں ممکنہ طور پر تجارتی معاہدوں کے نئے اعلانات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے نئے بورڈز کے قیام پر بھی بات ہو سکتی ہے۔</p>
<p>چین روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ تجارتی معاملات پر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین امریکی زرعی اجناس اور ہوائی جہازوں کی خریداری میں اضافہ کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505297</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:17:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1317294467f4333.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1317294467f4333.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا گیس پر 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505296/government-decides-to-end-rs140-billion-cross-subsidy-given-to-gas-consumers</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے گیس صارفین کو دی جانے والی 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جنوری 2027 تک گیس پر دی جانے والی رعایتیں مکمل طور پر ختم کردی جائیں گی جب کہ آئندہ گیس اور بجلی پر سبسڈی استعمال کے بجائے آمدنی کی بنیاد پر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت نے گیس سیکٹر میں اصلاحات کے تحت کراس سبسڈی کا نظام ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس منصوبے کے تحت صنعتوں، سی این جی، کمرشل اور سیمنٹ سیکٹر پر موجود اضافی مالی بوجھ کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام صارفین سے یکساں اوسط گیس نرخ وصول کرنے پر غور کیا جارہا ہے جب کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کم آمدنی والے صارفین کی نشاندہی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا تاکہ مستحق خاندانوں کو سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں اوسط گیس ٹیرف 1750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے جب کہ محفوظ صارفین اب بھی کم نرخ ادا کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سبسڈی کے نظام کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے گیس صارفین کو دی جانے والی 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق جنوری 2027 تک گیس پر دی جانے والی رعایتیں مکمل طور پر ختم کردی جائیں گی جب کہ آئندہ گیس اور بجلی پر سبسڈی استعمال کے بجائے آمدنی کی بنیاد پر دی جائے گی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت نے گیس سیکٹر میں اصلاحات کے تحت کراس سبسڈی کا نظام ختم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس منصوبے کے تحت صنعتوں، سی این جی، کمرشل اور سیمنٹ سیکٹر پر موجود اضافی مالی بوجھ کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام صارفین سے یکساں اوسط گیس نرخ وصول کرنے پر غور کیا جارہا ہے جب کہ کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کم آمدنی والے صارفین کی نشاندہی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا تاکہ مستحق خاندانوں کو سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔</p>
<p>اسلام آباد میں اوسط گیس ٹیرف 1750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے جب کہ محفوظ صارفین اب بھی کم نرخ ادا کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سبسڈی کے نظام کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505296</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:40:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13163930006a53a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13163930006a53a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوڑے کے ڈھیر پر نایاب پرندے کی تصویر کس طرح دنیا میں ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505290/hantavirus-argentina-mvhondius-birdwatching-leoschilperoord-andesvirus-healthnews</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور لرزہ خیز واقعہ ہے جس نے سائنسی دنیا اور مہم جوئی کے شوقین افراد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے جنون کی ہے جو کوڑے کے ڈھیر سے شروع ہوا اور ایک بین الاقوامی میڈیکل ایمرجنسی پر ختم ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ اور ایک نئے طبی بحران کی ابتدا ارجنٹائن کے ایک دور افتادہ کوڑے کے ڈھیر سے ہوئی، جہاں ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی کوشش نے موت کا راستہ ہموار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وبائی لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ڈچ جوڑے، لیو شلپروڈ اور ان کی اہلیہ مریم شلپروڈ ’ڈارون کاراکارا‘ نامی پرندے کی تلاش میں اوشوائیا کے ایک بدبودار لینڈ فل میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیو شلپروڈ کو اطلاع ملی تھی کہ اوشوائیا کے مضافات میں واقع ایک وسیع و عریض لینڈ فل یعنی کچرا کنڈی میں ایک انتہائی نایاب پرندہ ’ڈارون کاراکارا‘ دیکھا گیا ہے۔ یہ مردار خور شکاری پرندہ عام طور پر انسانی پہنچ سے دور رہتا ہے، لیکن کوڑے کے اس پہاڑ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 مارچ 2026 کو لیو اس بدبودار اور تعفن زدہ جگہ پر پہنچے، جہاں مقامی لوگ جانے سے کتراتے تھے۔ اسی جگہ پرندے کی تصویر لینے کی کوشش کے دوران ان کا سامنا اس پوشیدہ دشمن سے ہوا جسے سائنس کی زبان میں ’ہنٹا وائرس‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نایاب پرندے کے قریب جانے کے جنون میں لیو اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ وہ جس ہوا میں سانس لے رہے ہیں، وہ چوہوں کے فضلے سے اڑنے والے مہلک وائرس کے ذرات سے بھری ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق، اس لینڈ فل میں چوہوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو ہنٹا وائرس کی مہلک ترین قسم ’انڈیز اسٹرین‘ کی حامل تھی۔ جب لیو، پرندے کی تلاش میں وہاں گھوم رہے تھے، تو انہوں نے نادانستہ طور پر چوہوں کے فضلے سے آلودہ ہوا کو ’سانس کے ذریعے‘ اپنے جسم میں اتار لیا۔ یہ وائرس کے ذرات براہِ راست ان کے پھیپھڑوں میں پہنچ گئے۔ لیو اس وائرس کے پہلے شکار یعنی ’پیشنٹ زیرو‘ بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کروز شپ ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر وباء کا پھیلاؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کے چار دن بعد یہ ڈچ جوڑا ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی کروز جہاز پر سوار ہوا اور یہیں سے اس وائرس نے انسانی بستیوں کا رخ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفر کے دوران لیو کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ انہیں شدید بخار، پیٹ میں درد اور اسہال کی شکایت ہوئی۔ جہاز کے عملے نے اسے عام بیماری سمجھا، لیکن 6 اپریل تک ان کی حالت تشویشناک ہو گئی اور وہ جہاز پر ہی انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دی نیویارک پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 70 سالہ شلپروڈ، کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ سے منسلک مہلک ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ میں ’پیشنٹ زیرو‘ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پیشنٹ زیرو‘ سے مراد وہ پہلا شخص ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اسے انفیکشن ہوا اور اس نے ممکنہ طور پر کروز جہاز سے جڑے افراد میں اسے پھیلایا۔ لہٰذا تفتیش کار دیگر متاثرہ افراد کے تعلق کا سراغ، لیو سے جوڑ رہے ہیں، جو سب سے پہلے بیمار ہوئے اور وفات پا گئے، اسی لیے انہیں ’پینٹ زیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091/hantavirus-next-pandemic-could-be-more-severe-bill-gates-claim-goes-viral'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کی موت نے جہاز پر موجود دیگر مسافروں کو بھی خطرے میں ڈال دیا، کیونکہ وہ مسلسل اپنے ساتھیوں اور اہلیہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ لیو کی ہلاکت کے بعد ان کی اہلیہ مریم، اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر اتریں تاکہ وہاں سے نیدرلینڈز واپس جا سکیں۔ لیکن وائرس ان کے جسم میں بھی سرایت کر چکا تھا۔ جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈے پر وہ اچانک گر پڑیں اور اگلے ہی دن دم توڑ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دی نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ان کی موت کی وجہ بھی وہی ہنٹا وائرس تھا جو انہیں اپنے شوہر سے منتقل ہوا تھا اور اس ایک واقعے نے 19 ممالک کے مسافروں کو خطرے میں ڈال دیا اور اب تک آٹھ کیسز اور تین اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یوں کوڑے کے ڈھیر پر ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی تڑپ دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے بین الاقوامی طبی برادری میں کھلبلی مچا دی۔ ’ایم وی ہونڈیئس‘ کو اسپین کے کینری جزائر پر روک لیا گیا اور تمام مسافروں کا سخت طبی معائنہ کیا گیا۔ اب تک مختلف ممالک کے مسافروں میں سے 8 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور لرزہ خیز واقعہ ہے جس نے سائنسی دنیا اور مہم جوئی کے شوقین افراد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے جنون کی ہے جو کوڑے کے ڈھیر سے شروع ہوا اور ایک بین الاقوامی میڈیکل ایمرجنسی پر ختم ہوا۔</strong></p>
<p>دنیا میں ہنٹا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ اور ایک نئے طبی بحران کی ابتدا ارجنٹائن کے ایک دور افتادہ کوڑے کے ڈھیر سے ہوئی، جہاں ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی کوشش نے موت کا راستہ ہموار کر دیا۔</p>
<p>اس وبائی لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ڈچ جوڑے، لیو شلپروڈ اور ان کی اہلیہ مریم شلپروڈ ’ڈارون کاراکارا‘ نامی پرندے کی تلاش میں اوشوائیا کے ایک بدبودار لینڈ فل میں داخل ہوئے۔</p>
<p>لیو شلپروڈ کو اطلاع ملی تھی کہ اوشوائیا کے مضافات میں واقع ایک وسیع و عریض لینڈ فل یعنی کچرا کنڈی میں ایک انتہائی نایاب پرندہ ’ڈارون کاراکارا‘ دیکھا گیا ہے۔ یہ مردار خور شکاری پرندہ عام طور پر انسانی پہنچ سے دور رہتا ہے، لیکن کوڑے کے اس پہاڑ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔</p>
<p>27 مارچ 2026 کو لیو اس بدبودار اور تعفن زدہ جگہ پر پہنچے، جہاں مقامی لوگ جانے سے کتراتے تھے۔ اسی جگہ پرندے کی تصویر لینے کی کوشش کے دوران ان کا سامنا اس پوشیدہ دشمن سے ہوا جسے سائنس کی زبان میں ’ہنٹا وائرس‘ کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نایاب پرندے کے قریب جانے کے جنون میں لیو اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ وہ جس ہوا میں سانس لے رہے ہیں، وہ چوہوں کے فضلے سے اڑنے والے مہلک وائرس کے ذرات سے بھری ہوئی ہے۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق، اس لینڈ فل میں چوہوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو ہنٹا وائرس کی مہلک ترین قسم ’انڈیز اسٹرین‘ کی حامل تھی۔ جب لیو، پرندے کی تلاش میں وہاں گھوم رہے تھے، تو انہوں نے نادانستہ طور پر چوہوں کے فضلے سے آلودہ ہوا کو ’سانس کے ذریعے‘ اپنے جسم میں اتار لیا۔ یہ وائرس کے ذرات براہِ راست ان کے پھیپھڑوں میں پہنچ گئے۔ لیو اس وائرس کے پہلے شکار یعنی ’پیشنٹ زیرو‘ بن گئے۔</p>
<p><strong>کروز شپ ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر وباء کا پھیلاؤ</strong></p>
<p>اس دورے کے چار دن بعد یہ ڈچ جوڑا ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی کروز جہاز پر سوار ہوا اور یہیں سے اس وائرس نے انسانی بستیوں کا رخ کیا۔</p>
<p>سفر کے دوران لیو کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ انہیں شدید بخار، پیٹ میں درد اور اسہال کی شکایت ہوئی۔ جہاز کے عملے نے اسے عام بیماری سمجھا، لیکن 6 اپریل تک ان کی حالت تشویشناک ہو گئی اور وہ جہاز پر ہی انتقال کر گئے۔</p>
<p>’دی نیویارک پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 70 سالہ شلپروڈ، کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ سے منسلک مہلک ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ میں ’پیشنٹ زیرو‘ بنے۔</p>
<p>’پیشنٹ زیرو‘ سے مراد وہ پہلا شخص ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اسے انفیکشن ہوا اور اس نے ممکنہ طور پر کروز جہاز سے جڑے افراد میں اسے پھیلایا۔ لہٰذا تفتیش کار دیگر متاثرہ افراد کے تعلق کا سراغ، لیو سے جوڑ رہے ہیں، جو سب سے پہلے بیمار ہوئے اور وفات پا گئے، اسی لیے انہیں ’پینٹ زیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091/hantavirus-next-pandemic-could-be-more-severe-bill-gates-claim-goes-viral'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کی موت نے جہاز پر موجود دیگر مسافروں کو بھی خطرے میں ڈال دیا، کیونکہ وہ مسلسل اپنے ساتھیوں اور اہلیہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔</p>
<p>المیہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ لیو کی ہلاکت کے بعد ان کی اہلیہ مریم، اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر اتریں تاکہ وہاں سے نیدرلینڈز واپس جا سکیں۔ لیکن وائرس ان کے جسم میں بھی سرایت کر چکا تھا۔ جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈے پر وہ اچانک گر پڑیں اور اگلے ہی دن دم توڑ گئیں۔</p>
<p>’دی نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ان کی موت کی وجہ بھی وہی ہنٹا وائرس تھا جو انہیں اپنے شوہر سے منتقل ہوا تھا اور اس ایک واقعے نے 19 ممالک کے مسافروں کو خطرے میں ڈال دیا اور اب تک آٹھ کیسز اور تین اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یوں کوڑے کے ڈھیر پر ایک نایاب پرندے کی تصویر لینے کی تڑپ دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن گئی۔</p>
<p>اس واقعے نے بین الاقوامی طبی برادری میں کھلبلی مچا دی۔ ’ایم وی ہونڈیئس‘ کو اسپین کے کینری جزائر پر روک لیا گیا اور تمام مسافروں کا سخت طبی معائنہ کیا گیا۔ اب تک مختلف ممالک کے مسافروں میں سے 8 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505290</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:13:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13160552db4630a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13160552db4630a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر ٹرمپ کا دورۂ چین: ایران جنگ سمیت کون کون سے بڑے معاملات زیرِ غور آئیں گے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505295/donald-trump-china-visit-meeting-xi-jinping</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔ آخری دفعہ چین کا دورہ کرنے والے امریکی صدر بھی ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جو 2017 میں پہلی مدتِ صدارت میں چین پہنچے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2017 میں اپنے پہلے دورۂ &lt;u&gt;چین&lt;/u&gt; کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجوں میں سے ایک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کی شام صدر ٹرمپ دوسرے مرتبہ بیجنگ پہنچے ہیں، جہاں اپنے قیام کے دوران وہ صدر شی جن پنگ سے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران وہ تاریخی مقام ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کریں گے جب کہ ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054444047704445235'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054444047704445235"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیاسی یا سرکاری وفد کے علاوہ معروف کاروباری افراد پر مشتمل تجارتی وفد بھی چین پہنچا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود ہیں، جن کی سربراہی میں امریکی وفد چینی حکام کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم مذاکرات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے اعلان میں بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے وفد میں 17 بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز شامل ہوں گے۔ یہ وفد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرے گا، جن میں ٹیکنالوجی، مالیات، ہوابازی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے میں شامل نمایاں شخصیات میں ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا کے ایلون مسک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بلیک راک کے لیری فنک، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن اور میٹا کی صدر و نائب چیئر ڈینا پاول شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/anadoluagency/status/2054502053913793015'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/anadoluagency/status/2054502053913793015"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سرمایہ کاری، توانائی، تائیوان اور عالمی سلامتی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے چین کو تخفیفِ اسلحہ کے نئے ممکنہ معاہدوں میں شامل کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث داخلی سطح پر عوامی مقبولیت میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تجارت" href="#تجارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تجارت&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا بنیادی ایجنڈا تجارت ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ امریکی مصنوعات، بشمول بوئنگ طیارے، گوشت اور سویابین کی خریداری میں اضافہ کرے۔ دوسری جانب چین چاہتا ہے کہ امریکہ جدید ’چپس‘ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ہوائی اڈے پر چینی نائب وزیراعظم ہی لائفینگ کے ساتھ تین گھنٹے طویل ’غیر رسمی‘ مگر اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد گزشتہ سال دونوں معیشتوں کے درمیان ہونے والے نازک تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054494584617767259'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054494584617767259"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف ختم کیے تھے جب کہ صدر شی جن پنگ نے دفاعی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے ناگزیر ’نایاب معدنیات‘ کی عالمی سپلائی بحال رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ٹیکنالوجی-اور-نایاب-معدنیات" href="#ٹیکنالوجی-اور-نایاب-معدنیات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ عروج پر ہے۔ امریکا نے حالیہ برسوں میں چین کو جدید سیمی کنڈکٹرز اور چِپ بنانے والے آلات کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد چین کی فوجی اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی رفتار کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چین نایاب معدنیات کی عالمی ریفائننگ کا تقریباً 90 فیصد کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، دفاعی سازوسامان، اسمارٹ فونز اور جدید الیکٹرانکس کی تیاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IEA/status/2053773376905232894'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IEA/status/2053773376905232894"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ نے امریکی پابندیوں کے جواب میں متعدد اہم معدنیات کی برآمد پر سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں، جس کے باعث امریکی آٹو موبائل اور ایرو اسپیس صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ویڈیا ان کمپنیوں میں شامل ہے جو چین میں اپنے کاروباری مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کمپنی کو اپنی جدید ’ایچ 200‘ چِپس چین میں فروخت کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ سربراہی اجلاس میں چین امریکا سے ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کرے گا۔ دوسری طرف واشنگٹن چین پر زور دے گا کہ وہ نایاب معدنیات اور اہم خام مال کی برآمدات دوبارہ بحال کرے تاکہ امریکی صنعتوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تائیوان-تنازع" href="#تائیوان-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تائیوان تنازع&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کا معاملہ بھی اس دورے کے حساس ترین موضوعات میں شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کا معاملہ چین کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ کے ذریعے تائیوان کے تحفظ اور اس کے ساتھ تعلقات کو اپنے قانون کا حصہ بنایا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین تائیوان کو حالیہ برسوں میں 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی امریکا سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ مسئلہ طویل عرصے سے کشیدگی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کی جیل میں قید میڈیا ٹائیکون اور جمہوریت نواز شخصیت ’جمی لائی‘ کا معاملہ بھی شی جن پنگ کے سامنے اٹھائیں گے۔ جمی لائی کو رواں برس بیجنگ کے قومی سلامتی قانون کے تحت سزا سنائی گئی تھی، جس پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ میں تائیوان امور کے دفتر نے بدھ کے روز بیان میں کہا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا مؤقف چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور جمی لائی سے متعلق چین کا موقف بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054483896767844453'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2054483896767844453"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ایران-جنگ" href="#ایران-جنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حالات میں ایران جنگ کو اس سمٹ کا سب سے اہم پہلو قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز چین کے دورے سے قبل گفتگو میں کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ سے متعلق بات چیت ضرور کریں گے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ انہیں جنگ رکوانے کے لیے شی جن پنگ کی مدد کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن بیجنگ پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے کیوں کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اسے محفوظ بنانے میں مدد کرے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکا اور چین اسٹریٹجک حریف ہیں لیکن دونوں معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ امریکا کو سستی مینوفیکچرنگ کے لیے چین کی ضرورت ہے، جب کہ چین کو امریکی مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور ڈالر پر مبنی عالمی معیشت تک رسائی درکار ہے۔ یعنی واشنگٹن اقتصادی فائدے چاہتا ہے جبکہ بیجنگ پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی واضح کیا ہے کہ تائیوان، انسانی حقوق اور داخلی معاملات چین کی ریڈ لائنز ہیں اور ان میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ایران جنگ نے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا ہے، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی برتری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ چین سے بڑی تجارتی معاہدے کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔ آخری دفعہ چین کا دورہ کرنے والے امریکی صدر بھی ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جو 2017 میں پہلی مدتِ صدارت میں چین پہنچے تھے۔</strong></p>
<p>امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2017 میں اپنے پہلے دورۂ <u>چین</u> کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجوں میں سے ایک تھا۔</p>
<p>بدھ کی شام صدر ٹرمپ دوسرے مرتبہ بیجنگ پہنچے ہیں، جہاں اپنے قیام کے دوران وہ صدر شی جن پنگ سے ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں ملاقات کریں گے۔ اس دوران وہ تاریخی مقام ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کریں گے جب کہ ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054444047704445235'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054444047704445235"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ کے ہمراہ سیاسی یا سرکاری وفد کے علاوہ معروف کاروباری افراد پر مشتمل تجارتی وفد بھی چین پہنچا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود ہیں، جن کی سربراہی میں امریکی وفد چینی حکام کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم مذاکرات کرے گا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے اعلان میں بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین جانے والے وفد میں 17 بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز شامل ہوں گے۔ یہ وفد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی نمائندگی کرے گا، جن میں ٹیکنالوجی، مالیات، ہوابازی، توانائی اور ادائیگیوں کے نظام سے وابستہ ادارے شامل ہیں۔</p>
<p>اس دورے میں شامل نمایاں شخصیات میں ایپل کے ٹم کک، ٹیسلا کے ایلون مسک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بلیک راک کے لیری فنک، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن اور میٹا کی صدر و نائب چیئر ڈینا پاول شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/anadoluagency/status/2054502053913793015'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/anadoluagency/status/2054502053913793015"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سرمایہ کاری، توانائی، تائیوان اور عالمی سلامتی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے چین کو تخفیفِ اسلحہ کے نئے ممکنہ معاہدوں میں شامل کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث داخلی سطح پر عوامی مقبولیت میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<h2><a id="تجارت" href="#تجارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تجارت</strong></h2>
<p>الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا بنیادی ایجنڈا تجارت ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ امریکی مصنوعات، بشمول بوئنگ طیارے، گوشت اور سویابین کی خریداری میں اضافہ کرے۔ دوسری جانب چین چاہتا ہے کہ امریکہ جدید ’چپس‘ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل ان کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ہوائی اڈے پر چینی نائب وزیراعظم ہی لائفینگ کے ساتھ تین گھنٹے طویل ’غیر رسمی‘ مگر اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد گزشتہ سال دونوں معیشتوں کے درمیان ہونے والے نازک تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054494584617767259'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054494584617767259"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف ختم کیے تھے جب کہ صدر شی جن پنگ نے دفاعی اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے ناگزیر ’نایاب معدنیات‘ کی عالمی سپلائی بحال رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔</p>
<h2><a id="ٹیکنالوجی-اور-نایاب-معدنیات" href="#ٹیکنالوجی-اور-نایاب-معدنیات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات</strong></h2>
<p>دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ عروج پر ہے۔ امریکا نے حالیہ برسوں میں چین کو جدید سیمی کنڈکٹرز اور چِپ بنانے والے آلات کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد چین کی فوجی اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی رفتار کو محدود کرنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چین نایاب معدنیات کی عالمی ریفائننگ کا تقریباً 90 فیصد کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، دفاعی سازوسامان، اسمارٹ فونز اور جدید الیکٹرانکس کی تیاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IEA/status/2053773376905232894'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IEA/status/2053773376905232894"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیجنگ نے امریکی پابندیوں کے جواب میں متعدد اہم معدنیات کی برآمد پر سخت پالیسیاں نافذ کی ہیں، جس کے باعث امریکی آٹو موبائل اور ایرو اسپیس صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>این ویڈیا ان کمپنیوں میں شامل ہے جو چین میں اپنے کاروباری مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کمپنی کو اپنی جدید ’ایچ 200‘ چِپس چین میں فروخت کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ بیجنگ سربراہی اجلاس میں چین امریکا سے ٹیکنالوجی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کرے گا۔ دوسری طرف واشنگٹن چین پر زور دے گا کہ وہ نایاب معدنیات اور اہم خام مال کی برآمدات دوبارہ بحال کرے تاکہ امریکی صنعتوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔</p>
<h2><a id="تائیوان-تنازع" href="#تائیوان-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تائیوان تنازع</strong></h2>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کا معاملہ بھی اس دورے کے حساس ترین موضوعات میں شامل ہوگا۔</p>
<p>تائیوان کا معاملہ چین کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ کے ذریعے تائیوان کے تحفظ اور اس کے ساتھ تعلقات کو اپنے قانون کا حصہ بنایا ہوا ہے۔</p>
<p>چین تائیوان کو حالیہ برسوں میں 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی امریکا سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ مسئلہ طویل عرصے سے کشیدگی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کی جیل میں قید میڈیا ٹائیکون اور جمہوریت نواز شخصیت ’جمی لائی‘ کا معاملہ بھی شی جن پنگ کے سامنے اٹھائیں گے۔ جمی لائی کو رواں برس بیجنگ کے قومی سلامتی قانون کے تحت سزا سنائی گئی تھی، جس پر مغربی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔</p>
<p>بیجنگ میں تائیوان امور کے دفتر نے بدھ کے روز بیان میں کہا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا مؤقف چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت اور جمی لائی سے متعلق چین کا موقف بدستور برقرار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2054483896767844453'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2054483896767844453"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<h2><a id="ایران-جنگ" href="#ایران-جنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایران جنگ</strong></h2>
<p>موجودہ حالات میں ایران جنگ کو اس سمٹ کا سب سے اہم پہلو قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز چین کے دورے سے قبل گفتگو میں کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ سے متعلق بات چیت ضرور کریں گے، لیکن انہیں نہیں لگتا کہ انہیں جنگ رکوانے کے لیے شی جن پنگ کی مدد کی ضرورت ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن بیجنگ پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے کیوں کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اسے محفوظ بنانے میں مدد کرے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکا اور چین اسٹریٹجک حریف ہیں لیکن دونوں معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ امریکا کو سستی مینوفیکچرنگ کے لیے چین کی ضرورت ہے، جب کہ چین کو امریکی مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور ڈالر پر مبنی عالمی معیشت تک رسائی درکار ہے۔ یعنی واشنگٹن اقتصادی فائدے چاہتا ہے جبکہ بیجنگ پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے۔</p>
<p>چین نے ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی واضح کیا ہے کہ تائیوان، انسانی حقوق اور داخلی معاملات چین کی ریڈ لائنز ہیں اور ان میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ایران جنگ نے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا ہے، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی برتری خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ چین سے بڑی تجارتی معاہدے کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کی جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505295</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عبدالرحمٰن)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13161748553a1b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13161748553a1b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>150 ممالک کو ادویات کی برآمدگی: پاکستان ڈبلیو ایچ او کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے منگل کو بتایا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے مقامی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اپنی برآمدات میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آنے والے مہینوں میں ڈبلیو ایچ او لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس سے فارماسوٹیکل برآمدات کی رسائی موجودہ 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں تک ہو جائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہی، جہاں پاکستانی اور چینی ادویات ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کے خام مال (اے پی آئی) کی مقامی تیاری، ویکسین کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 8 مقامی کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح پر معتبر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن اور دیگر اہم عالمی اداروں کی منظوری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کامیابیوں نے مقامی کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت ریگولیٹڈ عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق، آئندہ ایک سے دو سالوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیوں کو ایسی عالمی سرٹیفیکیشنز ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فارماسوٹیکل برآمدات نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد نمو حاصل کی، جس سے یہ ملک کی تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک منڈیوں میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی فروخت بڑھ کر 45.7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے منگل کو بتایا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے مقامی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اپنی برآمدات میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔</strong></p>
<p>وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آنے والے مہینوں میں ڈبلیو ایچ او لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس سے فارماسوٹیکل برآمدات کی رسائی موجودہ 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں تک ہو جائے گی۔“</p>
<p>وفاقی وزیر نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہی، جہاں پاکستانی اور چینی ادویات ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کے خام مال (اے پی آئی) کی مقامی تیاری، ویکسین کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔</p>
<p>گزشتہ سال پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 8 مقامی کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح پر معتبر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن اور دیگر اہم عالمی اداروں کی منظوری شامل ہے۔</p>
<p>ان کامیابیوں نے مقامی کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت ریگولیٹڈ عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق، آئندہ ایک سے دو سالوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیوں کو ایسی عالمی سرٹیفیکیشنز ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>پاکستان کی فارماسوٹیکل برآمدات نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد نمو حاصل کی، جس سے یہ ملک کی تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک منڈیوں میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی فروخت بڑھ کر 45.7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505294</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1316094233d8ec0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1316094233d8ec0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505293/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں ہونے والی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ گر گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخ 1100 روپے فی تولہ کم ہو گئے ہیں جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 91 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 گرام سونے کی قیمت 943 روپے کم ہونے سے نئے نرخ 4 لاکھ 21 ہزار 263 روپے تولہ ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505207/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 11 ڈالرکم ہونے سے فی اونس سونا 4690 ڈالر کا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز سونا 4100 روپے مہنگا ہوا تھا، آج سونے کے نرخ میں دوبارہ کمی ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، چاندی 231 روپے مہنگی ہونے سے فی تولہ قیمت 9136 روپے ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں ہونے والی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ گر گئے۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخ 1100 روپے فی تولہ کم ہو گئے ہیں جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 91 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p>10 گرام سونے کی قیمت 943 روپے کم ہونے سے نئے نرخ 4 لاکھ 21 ہزار 263 روپے تولہ ہو گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505207/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 11 ڈالرکم ہونے سے فی اونس سونا 4690 ڈالر کا ہو گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز سونا 4100 روپے مہنگا ہوا تھا، آج سونے کے نرخ میں دوبارہ کمی ہو گئی ہے۔</p>
<p>ملک بھر میں چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، چاندی 231 روپے مہنگی ہونے سے فی تولہ قیمت 9136 روپے ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505293</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13160715e37fa64.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13160715e37fa64.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادویات کے خام مال اور ویکسین کی مقامی تیاری: پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505292/pakistan-china-sign-10-mous-for-local-production-of-medicine-raw-material-vaccines</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے چینی فرموں کے ساتھ 10 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ادویات کے خام مال  کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان معاہدوں سے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے باہمی تعاون قائم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑے معاہدوں میں یونیکم فارماسوٹیکل پاکستان اور چین کے ’ژنژو‘ گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی شراکت داری شامل ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر ادویات سازی کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے سے اہم طبی خام مال بشمول ’اومیپرازول اے پی آئی‘ کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی، جس کا تقریباً 95 فیصد حصہ اب تک پاکستان میں درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ادویات کی مقامی فراہمی میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا معاہدہ لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسے پاکستان کی فارماسوٹیکل صنعت اور صحت کے شعبے، خاص طور پر خام مال کی مقامی تیاری کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جس کا پاکستان کو کئی سالوں سے انتظار تھا اور صحت کے شعبے میں خود انحصاری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تزویراتی صنعتی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر خام مال کی پیداوار کے آغاز سے ادویات کی قیمتوں اور طویل مدتی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں مرغیوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 45 لاکھ ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر ویکسین کی سبسڈی کے انتظامات 2030 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنے مالی وسائل سے خریدنی پڑے گی جس کے لیے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت 2030 سے پہلے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اموات کو کم کرنے میں ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے مستقبل میں آنے والی ویکسینز صحت کے شعبے کے نتائج کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں نے چینی فرموں کے ساتھ 10 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ادویات کے خام مال  کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان معاہدوں سے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے باہمی تعاون قائم کرنے میں مدد ملے گی۔</strong></p>
<p>وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بڑے معاہدوں میں یونیکم فارماسوٹیکل پاکستان اور چین کے ’ژنژو‘ گروپ کے درمیان تقریباً 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی شراکت داری شامل ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر ادویات سازی کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس منصوبے سے اہم طبی خام مال بشمول ’اومیپرازول اے پی آئی‘ کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی، جس کا تقریباً 95 فیصد حصہ اب تک پاکستان میں درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور ادویات کی مقامی فراہمی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>ایک اور بڑا معاہدہ لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہوا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔</p>
<p>اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسے پاکستان کی فارماسوٹیکل صنعت اور صحت کے شعبے، خاص طور پر خام مال کی مقامی تیاری کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔</p>
<p>وزیر صحت نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جس کا پاکستان کو کئی سالوں سے انتظار تھا اور صحت کے شعبے میں خود انحصاری صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تزویراتی صنعتی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر خام مال کی پیداوار کے آغاز سے ادویات کی قیمتوں اور طویل مدتی فراہمی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>تقریب میں مرغیوں کی ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 45 لاکھ ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بچوں کو 13 بیماریوں کی ویکسین مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر ویکسین کی سبسڈی کے انتظامات 2030 تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنے مالی وسائل سے خریدنی پڑے گی جس کے لیے سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس لیے حکومت 2030 سے پہلے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ بیرونی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>کرونا وبا کا ذکر کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ اموات کو کم کرنے میں ویکسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کینسر جیسی بیماریوں کے لیے مستقبل میں آنے والی ویکسینز صحت کے شعبے کے نتائج کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔</p>
<p>اس تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے تعاون سے کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505292</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:06:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1316030006d68b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1316030006d68b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505291/</link>
      <description>&lt;h3&gt;&lt;a id="حکومت-سندھ-نے-صوبے-بھر-میں-موسمِ-گرما-کی-تعطیلات-کا-اعلان-کر-دیا-ہے-جس-کے-تحت-تمام-سرکاری-اور-نجی-تعلیمی-ادارے-یکم-جون-سے-31-جولائی-2026-تک-بند-رہیں-گے-محکمہ-اسکول-ایجوکیشن-سندھ-نے-اس-حوالے-سے-باقاعدہ-نوٹیفکیشن-بھی-جاری-کر-دیا-ہے" href="#حکومت-سندھ-نے-صوبے-بھر-میں-موسمِ-گرما-کی-تعطیلات-کا-اعلان-کر-دیا-ہے-جس-کے-تحت-تمام-سرکاری-اور-نجی-تعلیمی-ادارے-یکم-جون-سے-31-جولائی-2026-تک-بند-رہیں-گے-محکمہ-اسکول-ایجوکیشن-سندھ-نے-اس-حوالے-سے-باقاعدہ-نوٹیفکیشن-بھی-جاری-کر-دیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکومت سندھ نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے یکم جون سے 31 جولائی 2026 تک بند رہیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات یکم جون 2026 سے شروع ہوں گی جو 31 جولائی 2026 تک جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق تعطیلات کا فیصلہ شدید گرمی اور موسم کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ طلبہ، اساتذہ اور اسکول اسٹاف کو ممکنہ ہیٹ ویو اور سخت موسمی حالات سے محفوظ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ تعطیلات کے دوران اسکول انتظامیہ کو ضروری انتظامی امور مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ نئے تعلیمی سیشن اور تدریسی سرگرمیوں کا آغاز یکم اگست کے بعد شیڈول کے مطابق کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h3><a id="حکومت-سندھ-نے-صوبے-بھر-میں-موسمِ-گرما-کی-تعطیلات-کا-اعلان-کر-دیا-ہے-جس-کے-تحت-تمام-سرکاری-اور-نجی-تعلیمی-ادارے-یکم-جون-سے-31-جولائی-2026-تک-بند-رہیں-گے-محکمہ-اسکول-ایجوکیشن-سندھ-نے-اس-حوالے-سے-باقاعدہ-نوٹیفکیشن-بھی-جاری-کر-دیا-ہے" href="#حکومت-سندھ-نے-صوبے-بھر-میں-موسمِ-گرما-کی-تعطیلات-کا-اعلان-کر-دیا-ہے-جس-کے-تحت-تمام-سرکاری-اور-نجی-تعلیمی-ادارے-یکم-جون-سے-31-جولائی-2026-تک-بند-رہیں-گے-محکمہ-اسکول-ایجوکیشن-سندھ-نے-اس-حوالے-سے-باقاعدہ-نوٹیفکیشن-بھی-جاری-کر-دیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکومت سندھ نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے یکم جون سے 31 جولائی 2026 تک بند رہیں گے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔</h3>
<p>محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات یکم جون 2026 سے شروع ہوں گی جو 31 جولائی 2026 تک جاری رہیں گی۔</p>
<p>حکام کے مطابق تعطیلات کا فیصلہ شدید گرمی اور موسم کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ طلبہ، اساتذہ اور اسکول اسٹاف کو ممکنہ ہیٹ ویو اور سخت موسمی حالات سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p>محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ تعطیلات کے دوران اسکول انتظامیہ کو ضروری انتظامی امور مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ نئے تعلیمی سیشن اور تدریسی سرگرمیوں کا آغاز یکم اگست کے بعد شیڈول کے مطابق کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505291</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:50:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/131547523351b98.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/131547523351b98.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکین کوئین کی نئی آڈیو لیک: گرفتاری سے پہلے ’وصیت نامہ‘ اور گاہکوں کے لیے ہدایات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505289/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی مشہور منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آ رہے ہیں جہاں ملزمہ کی نئی آڈیو ریکارڈنگز نے تفتیش کا رخ بدل دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامنے آنے والی ایک آڈیو میں انمول عرف پنکی اپنی گرفتاری یا موت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو ہدایات دے رہی ہے کہ اگر میرا یہ میسج سن رہے ہیں تو سمجھ لیں میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے مزید کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرا ایک مرد دوست اسی نمبر سے آپ کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور یہ کام چلتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2043422623226736%2F&amp;show_text=true&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="591" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;ایک اور آڈیو میں ملزمہ کو اپنے کلائنٹس کو منشیات کے استعمال کے خطرناک طریقے بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ کہتی ہے کہ بیئر کے ساتھ کوکین پینا زہر بن جاتا ہے، اس کے بجائے کوک کے ساتھ وسکی پی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھی ایک آڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں ملزمہ نے پولیس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، آٹھ نو سال میرے پیچھے لگے رہتے ہیں مگر پکڑ نہیں پاتے، جس دن دماغ سے سوچو گے تو پنکی کی طرح برانڈ بن جاؤ گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ نے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے پورے کراچی میں اندھیرا ڈالا ہوا ہے، اگر اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس کے بعد پولیس نے قانونی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمہ پر قتل، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے سنگین الزامات ہیں اور ریمانڈ کے دوران مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر کی جائے کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی کی گارڈن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ملزمہ کو گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ خاتون 10 مقدمات میں مفرور تھی اور شہر میں آن لائن رائیڈرز اور خواتین کے ذریعے منشیات کی فراہمی کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی مشہور منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آ رہے ہیں جہاں ملزمہ کی نئی آڈیو ریکارڈنگز نے تفتیش کا رخ بدل دیا ہے۔</strong></p>
<p>سامنے آنے والی ایک آڈیو میں انمول عرف پنکی اپنی گرفتاری یا موت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو ہدایات دے رہی ہے کہ اگر میرا یہ میسج سن رہے ہیں تو سمجھ لیں میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔</p>
<p>اس نے مزید کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرا ایک مرد دوست اسی نمبر سے آپ کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور یہ کام چلتا رہے گا۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2043422623226736%2F&show_text=true&width=267&t=0" width="267" height="591" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe>
</raw-html>
<p>ایک اور آڈیو میں ملزمہ کو اپنے کلائنٹس کو منشیات کے استعمال کے خطرناک طریقے بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ کہتی ہے کہ بیئر کے ساتھ کوکین پینا زہر بن جاتا ہے، اس کے بجائے کوک کے ساتھ وسکی پی جا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل بھی ایک آڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں ملزمہ نے پولیس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، آٹھ نو سال میرے پیچھے لگے رہتے ہیں مگر پکڑ نہیں پاتے، جس دن دماغ سے سوچو گے تو پنکی کی طرح برانڈ بن جاؤ گے۔</p>
<p>ملزمہ نے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے پورے کراچی میں اندھیرا ڈالا ہوا ہے، اگر اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس کے بعد پولیس نے قانونی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمہ پر قتل، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے سنگین الزامات ہیں اور ریمانڈ کے دوران مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر کی جائے کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی کی گارڈن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ملزمہ کو گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ خاتون 10 مقدمات میں مفرور تھی اور شہر میں آن لائن رائیڈرز اور خواتین کے ذریعے منشیات کی فراہمی کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔</p>
<p>اب جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505289</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:53:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13145056986c5a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13145056986c5a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر امیدواروں کا احتجاج، معاملہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505288/spsc-sindh-public-service-commission-cce-2024-result-protest-hyderabad</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کی جانب سے مشترکہ مسابقتی امتحان (سی سی ای) 2024 کے تحریری نتائج کے اعلان کے بعد سندھ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہزاروں امیدواروں میں سے صرف 70 افراد کی کامیابی نے میرٹ کی پامالی اور بدعنوانی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے خلاف امیدوار آج حیدرآباد میں احتجاج کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کرنے والے امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ نتائج میں مبینہ اقربا پروری اور کرپشن کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور دیہی علاقوں سے ٹاپ کرنے والے امیدواروں کے دوبارہ انٹرویوز لیے جائیں تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناکام امیدواروں نے کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ پرچوں کی جانچ میں جان بوجھ کر ناانصافی کی گئی اور بااثر شخصیات کے قریبی افراد کو نوازنے کے لیے میرٹ کا قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ShamaJunejo/status/2054480961656786965?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/2054480961656786965?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امداد سومرو نے آج نیوز کے پروگرام ’نیوز انسائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں ”صحافیوں کا کوٹہ ہے، سوشل ایکٹیوسٹ کا کوٹہ ہے، جوڈیشری سے تعلق رکھنے والے افسران کا کوٹہ ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے قریبی تعلقات رکھنے والی سیہون کی راہپوٹو برادری کے 200 سے زائد افراد 17، 18 اور 19 گریڈ پر تعینات ہیں اور ایک بھی سندھ پبلک سروس کمیشن سے پاس نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں سندھ میں جتنی بھی کمیشنز ہوئیں وہ سو فیصد میرٹ پر ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی باجاری فیملی سے تعلق رکھنے والا عمیر طارق باجاری جو کورنگی میں ڈکیٹی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، وہ بحال ہو کر کراچی میں ہی ایس پی ہے اور اس کا دوسرا بھائی اسسٹنٹ کمشنر بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ فریال تالپور کا سیکریٹری مجاہد انہڑ جو سی ڈی اے میں ٹیلی فون آپریٹر تھا وہ کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے لیے اینٹی کرپشن میں ایک اسپیشل پوسٹ تخلیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/UEZmeKgPQ3c'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/UEZmeKgPQ3c?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے ان الزامات کا دفاع کرتے ہوئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جوابی کاپیوں کی جانچ کا کام مکمل طور پر آزاد ممتحن کرتے ہیں اور اس عمل میں کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے ترجمان کے مطابق امتحان لینے والے امیدواروں کی کارکردگی کی بنیاد پر آزادانہ فیصلہ کرتے ہیں، اور ایس پی ایس سی نتائج کی تیاری میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں اور ریگولیشن 161 کے تحت اپنی شکایات جمع کرائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505218'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505218"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امداد سومرا نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ہماری پٹیشن پرنسپل سیٹ یعینی کراچی میں سنی جائے کیونکہ ”حیدرآباد میں چیزیں ہمارے خلاف مینیج ہوجاتی ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملہ اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب ایس پی ایس سی کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے امیدواروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کروا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں مقیم صحافی امتیاز چانڈیو، فیاض حسین شر اور رفیع اللہ قریشی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور سائبر کرائم قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس پی ایس سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری محمد مصطفیٰ نے الزام لگایا ہے کہ ان افراد نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے امیدواروں کو اشتعال دلایا اور انہیں حیدرآباد-کراچی ہائی وے بلاک کرنے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیدواروں کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے پرچے کاٹنا دراصل حق کی آواز دبانے اور تنقید کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس ادارے پر انگلیاں اٹھی ہوں، ماضی میں بھی ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج میں ردوبدل ثابت ہونے پر امتحانات منسوخ کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ پبلک سروس کمیشن  کے تحت ہونے والے اس مشترکہ مسابقتی امتحان برائے 2023-24 کا مرحلہ وار سفر بھی کافی غیر معمولی رہا، جس میں سب سے اہم موڑ ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ کی منسوخی تھی۔ اس امتحان کا آغاز 10 اگست 2024 کو پہلے اسکریننگ ٹیسٹ سے ہوا تھا، جس کے نتائج بھی جاری کیے گئے تھے، لیکن بعد میں اس ٹیسٹ کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دسمبر 2024 میں دوبارہ سے ایک نیا اسکریننگ ٹیسٹ منعقد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکریننگ کے اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد، کامیاب امیدواروں کے لیے تحریری امتحانات کا سلسلہ سال 2025 میں شروع ہوا، جس میں انگریزی کے پرچے 15 اپریل 2025 کو لیے گئے۔ طویل انتظار اور کڑی جانچ پڑتال کے بعد، آخر کار 2 فروری 2026 کو سی سی ای 2023 (ایگزیکٹو کیڈر) کے حتمی نتائج اور میرٹ لسٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس پی ایس سی کا کہنا ہے کہ وہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کی جانب سے مشترکہ مسابقتی امتحان (سی سی ای) 2024 کے تحریری نتائج کے اعلان کے بعد سندھ بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہزاروں امیدواروں میں سے صرف 70 افراد کی کامیابی نے میرٹ کی پامالی اور بدعنوانی کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے خلاف امیدوار آج حیدرآباد میں احتجاج کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>احتجاج کرنے والے امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ نتائج میں مبینہ اقربا پروری اور کرپشن کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور دیہی علاقوں سے ٹاپ کرنے والے امیدواروں کے دوبارہ انٹرویوز لیے جائیں تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے۔</p>
<p>ناکام امیدواروں نے کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ پرچوں کی جانچ میں جان بوجھ کر ناانصافی کی گئی اور بااثر شخصیات کے قریبی افراد کو نوازنے کے لیے میرٹ کا قتل کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ShamaJunejo/status/2054480961656786965?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShamaJunejo/status/2054480961656786965?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امداد سومرو نے آج نیوز کے پروگرام ’نیوز انسائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں ”صحافیوں کا کوٹہ ہے، سوشل ایکٹیوسٹ کا کوٹہ ہے، جوڈیشری سے تعلق رکھنے والے افسران کا کوٹہ ہے“۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے قریبی تعلقات رکھنے والی سیہون کی راہپوٹو برادری کے 200 سے زائد افراد 17، 18 اور 19 گریڈ پر تعینات ہیں اور ایک بھی سندھ پبلک سروس کمیشن سے پاس نہیں ہوا۔</p>
<p>امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں سندھ میں جتنی بھی کمیشنز ہوئیں وہ سو فیصد میرٹ پر ہوئیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی باجاری فیملی سے تعلق رکھنے والا عمیر طارق باجاری جو کورنگی میں ڈکیٹی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، وہ بحال ہو کر کراچی میں ہی ایس پی ہے اور اس کا دوسرا بھائی اسسٹنٹ کمشنر بن گیا ہے۔</p>
<p>امداد سومرو نے دعویٰ کیا کہ فریال تالپور کا سیکریٹری مجاہد انہڑ جو سی ڈی اے میں ٹیلی فون آپریٹر تھا وہ کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر بن گیا اور اس کے لیے اینٹی کرپشن میں ایک اسپیشل پوسٹ تخلیق کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/UEZmeKgPQ3c'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/UEZmeKgPQ3c?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیشن نے ان الزامات کا دفاع کرتے ہوئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جوابی کاپیوں کی جانچ کا کام مکمل طور پر آزاد ممتحن کرتے ہیں اور اس عمل میں کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔</p>
<p>کمیشن کے ترجمان کے مطابق امتحان لینے والے امیدواروں کی کارکردگی کی بنیاد پر آزادانہ فیصلہ کرتے ہیں، اور ایس پی ایس سی نتائج کی تیاری میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔</p>
<p>کمیشن نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں اور ریگولیشن 161 کے تحت اپنی شکایات جمع کرائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505218'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505218"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امداد سومرا نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ہماری پٹیشن پرنسپل سیٹ یعینی کراچی میں سنی جائے کیونکہ ”حیدرآباد میں چیزیں ہمارے خلاف مینیج ہوجاتی ہیں“۔</p>
<p>معاملہ اس وقت مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب ایس پی ایس سی کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے امیدواروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کروا دیے۔</p>
<p>امریکا میں مقیم صحافی امتیاز چانڈیو، فیاض حسین شر اور رفیع اللہ قریشی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور سائبر کرائم قوانین کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔</p>
<p>ایس پی ایس سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری محمد مصطفیٰ نے الزام لگایا ہے کہ ان افراد نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے امیدواروں کو اشتعال دلایا اور انہیں حیدرآباد-کراچی ہائی وے بلاک کرنے پر اکسایا۔</p>
<p>امیدواروں کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے پرچے کاٹنا دراصل حق کی آواز دبانے اور تنقید کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس ادارے پر انگلیاں اٹھی ہوں، ماضی میں بھی ہائی کورٹ کی جانب سے نتائج میں ردوبدل ثابت ہونے پر امتحانات منسوخ کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>سندھ پبلک سروس کمیشن  کے تحت ہونے والے اس مشترکہ مسابقتی امتحان برائے 2023-24 کا مرحلہ وار سفر بھی کافی غیر معمولی رہا، جس میں سب سے اہم موڑ ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ کی منسوخی تھی۔ اس امتحان کا آغاز 10 اگست 2024 کو پہلے اسکریننگ ٹیسٹ سے ہوا تھا، جس کے نتائج بھی جاری کیے گئے تھے، لیکن بعد میں اس ٹیسٹ کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں دسمبر 2024 میں دوبارہ سے ایک نیا اسکریننگ ٹیسٹ منعقد کیا گیا۔</p>
<p>اسکریننگ کے اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد، کامیاب امیدواروں کے لیے تحریری امتحانات کا سلسلہ سال 2025 میں شروع ہوا، جس میں انگریزی کے پرچے 15 اپریل 2025 کو لیے گئے۔ طویل انتظار اور کڑی جانچ پڑتال کے بعد، آخر کار 2 فروری 2026 کو سی سی ای 2023 (ایگزیکٹو کیڈر) کے حتمی نتائج اور میرٹ لسٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔</p>
<p>ایس پی ایس سی کا کہنا ہے کہ وہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505288</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:23:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13143525c8c5cbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13143525c8c5cbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/_MsrN53j0nQ/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/_MsrN53j0nQ/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=_MsrN53j0nQ"/>
        <media:title>SPSC Recruitment Scandal | Merit System Allegations Sindh | Jobs Transparency Issue - NEWS INSIGHT</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈرگ ڈیلر 'پنکی' کو ضمانت دینے والے جج کا ٹیسٹ کرانے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یاد رہے کہ کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے ایک پستول، متعدد گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنکی منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائیڈرز استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق اس کے خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ اس وقت مزید تنازع کا شکار بنی جب سٹی کورٹ میں اس کی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر سوشل میڈیا پر ملزمہ کی ایک مبینہ پرانی آڈیو بھی دوبارہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کرتی سنائی دیتی ہے کہ پورے کراچی میں اس کا نیٹ ورک سرگرم ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے۔</p>
<p>سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔</p>
<p>دوسری جانب یاد رہے کہ کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے ایک پستول، متعدد گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنکی منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائیڈرز استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق اس کے خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں۔</p>
<p>ملزمہ اس وقت مزید تنازع کا شکار بنی جب سٹی کورٹ میں اس کی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>اُدھر سوشل میڈیا پر ملزمہ کی ایک مبینہ پرانی آڈیو بھی دوبارہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کرتی سنائی دیتی ہے کہ پورے کراچی میں اس کا نیٹ ورک سرگرم ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505287</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1314323623f1eff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1314323623f1eff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیتابھ بچن بے خوابی کا شکار: رات کس کے ساتھ گزارتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505286/amitabh-bachchan-struggles-with-insomnia-who-keeps-him-company-at-night</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دن بھر کی چکاچوند اور ہجوم کے درمیان زندگی گزارنے والے بولی ووڈ کے عظیم سپر اسٹار امیتابھ بچن کی راتیں آجکل بالکل مختلف انداز میں گزر رہی ہیں۔ دنیا سوتی ہے، لیکن ”بگ بی“ کی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے خود کہا ہے کہ کئی راتیں ایسی گزرتی ہیں جب صرف خاموشی ہی ان کا ہمسفر بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;83 سالہ بھارتی اداکار نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید بے خوابی کا شکار ہیں اور کئی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ بستر پر لیٹ کر صرف گھڑی کی سوئیوں کی آواز سنتے رہتے ہیں، مگر نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیتابھ بچن نے اپنے حالیہ بلاگ میں اپنی اس ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سات گھنٹے کی نیند کے مشورے کے باوجود، ان کا کام اور مصروفیت اکثر ان پر حاوی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30435895'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ عمر کے اس حصے میں بھی کام کا جنون انہیں سونے نہیں دیتا، لیکن جب خاموشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ان بے چین لمحات میں انہیں سکون موسیقی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بگ بی نے بتایا کہ وہ اکثر دیر رات بلاگ لکھتے ہوئے پس منظر میں سلائیڈ گٹار اور ستار کی مدھر کلاسیکی دھنیں سنتے ہیں، جو ان کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسیقی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے لکھا کہ دنیا بھر کی موسیقی سات سروں پر قائم ہے اور یہ سر پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30474926'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30474926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ، ’ان سات سروں کا احترام کرو، یہ تمہارا احترام کریں گے، انہیں سنو اور یہ آہستہ آہستہ تمہیں نیند اور سکون کا تحفہ دے دیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل ذکر بات یہ ہے کہ امیتابھ بچن کی زندگی کا یہ پہلو ان کے نظم و ضبط اور کام سے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسے بڑے شوز کی میزبانی کر رہے ہیں بلکہ فلموں، برانڈز اور اپنے بلاگز کے ذریعے مسلسل متحرک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مداحوں کے لیے یہ بات حیران کن اور متاثر کن ہے کہ نیند کی اس شدید کمی کے باوجود بگ بی کے جوش و خروش اور تخلیقی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی وہ رات کے پچھلے پہر کلاسیکی موسیقی کے سائے میں اپنے خیالات کو بلاگ کی شکل دے کر اپنے چاہنے والوں سے جڑے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دن بھر کی چکاچوند اور ہجوم کے درمیان زندگی گزارنے والے بولی ووڈ کے عظیم سپر اسٹار امیتابھ بچن کی راتیں آجکل بالکل مختلف انداز میں گزر رہی ہیں۔ دنیا سوتی ہے، لیکن ”بگ بی“ کی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے خود کہا ہے کہ کئی راتیں ایسی گزرتی ہیں جب صرف خاموشی ہی ان کا ہمسفر بنتی ہے۔</strong></p>
<p>83 سالہ بھارتی اداکار نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید بے خوابی کا شکار ہیں اور کئی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ بستر پر لیٹ کر صرف گھڑی کی سوئیوں کی آواز سنتے رہتے ہیں، مگر نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔</p>
<p>امیتابھ بچن نے اپنے حالیہ بلاگ میں اپنی اس ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سات گھنٹے کی نیند کے مشورے کے باوجود، ان کا کام اور مصروفیت اکثر ان پر حاوی رہتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30435895'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ عمر کے اس حصے میں بھی کام کا جنون انہیں سونے نہیں دیتا، لیکن جب خاموشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ان بے چین لمحات میں انہیں سکون موسیقی دیتی ہے۔</p>
<p>بگ بی نے بتایا کہ وہ اکثر دیر رات بلاگ لکھتے ہوئے پس منظر میں سلائیڈ گٹار اور ستار کی مدھر کلاسیکی دھنیں سنتے ہیں، جو ان کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں ہوتیں۔</p>
<p>موسیقی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے لکھا کہ دنیا بھر کی موسیقی سات سروں پر قائم ہے اور یہ سر پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30474926'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30474926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ، ’ان سات سروں کا احترام کرو، یہ تمہارا احترام کریں گے، انہیں سنو اور یہ آہستہ آہستہ تمہیں نیند اور سکون کا تحفہ دے دیں گے۔‘</p>
<p>قابل ذکر بات یہ ہے کہ امیتابھ بچن کی زندگی کا یہ پہلو ان کے نظم و ضبط اور کام سے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسے بڑے شوز کی میزبانی کر رہے ہیں بلکہ فلموں، برانڈز اور اپنے بلاگز کے ذریعے مسلسل متحرک ہیں۔</p>
<p>مداحوں کے لیے یہ بات حیران کن اور متاثر کن ہے کہ نیند کی اس شدید کمی کے باوجود بگ بی کے جوش و خروش اور تخلیقی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔</p>
<p>آج بھی وہ رات کے پچھلے پہر کلاسیکی موسیقی کے سائے میں اپنے خیالات کو بلاگ کی شکل دے کر اپنے چاہنے والوں سے جڑے رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505286</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1314252840c835f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1314252840c835f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تہران میں ایک ہی رات میں 4.6 شدت کے 9 زلزلے کے جھٹکے، عمارتیں لرزاُٹھیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505285/earthquakes-hit-tehran</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے دارالحکومت تہران اور صوبہ مازندران کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی، تاہم ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گزشتہ روز تہران اور صوبہ مازندران سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گزشتہ روز تہران اور صوبہ مازندران سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ ملک کے زلزلہ پیما مرکز نے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی، جبکہ بعض ایرانی میڈیا رپورٹس میں اس کی گہرائی 8 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے زلزلہ پیما مرکز کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں خوف و ہراس کی صورتحال دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مشرقی صوبے میں رات بھر زلزلے کے متعدد جھٹکے محسوس کیے گئے، جن میں سے ایک کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق زلزلے ایسے علاقے میں محسوس کیے گئے جو ’’موشا فالٹ‘‘ کے قریب واقع ہے، جسے ایران کے سب سے زیادہ متحرک زلزلہ زونز میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں زلزلے کے جھٹکے معمول کی بات ہیں، تاہم ایک ہی رات میں مسلسل کئی جھٹکوں کا آنا غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے ماہر زلزلہ یات مہدی زارع کے حوالے سے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ جھٹکے زمین کے اندر جمع ہونے والی توانائی کے اخراج کا نتیجہ ہیں، جس سے مستقبل کا خطرہ کم ہوسکتا ہے، یا پھر یہ تہران کے قریب فالٹ لائن میں مزید شدید سرگرمی کی وارننگ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://english.aaj.tv/news/30291123/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://english.aaj.tv/news/card/30291123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مہدی زارع نے خبردار کیا کہ تہران کو خطرہ صرف متحرک فالٹ لائنز سے نہیں بلکہ گنجان آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور محدود تیاریوں سے بھی ہے۔ ان کے مطابق نسبتاً کم شدت کے زلزلے بھی کمزور انفرااسٹرکچر اور ٹریفک کے باعث دارالحکومت میں شدید خلل پیدا کرسکتے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد آبادی والا تہران شمالی تہران، موشا اور رے فالٹ سسٹمز کے قریب واقع ہے۔ ایرانی ماہرین متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر دارالحکومت کے قریب بڑا زلزلہ آیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے کا خطرہ سب سے زیادہ رہتا ہے۔ 2003 میں آنے والے تباہ کن بم زلزلے کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، جس میں 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے دارالحکومت تہران اور صوبہ مازندران کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی، تاہم ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔</strong></p>
<p>خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گزشتہ روز تہران اور صوبہ مازندران سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گزشتہ روز تہران اور صوبہ مازندران سے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ ملک کے زلزلہ پیما مرکز نے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی، جبکہ بعض ایرانی میڈیا رپورٹس میں اس کی گہرائی 8 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔</p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے زلزلہ پیما مرکز کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد شہری گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں خوف و ہراس کی صورتحال دیکھی گئی۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مشرقی صوبے میں رات بھر زلزلے کے متعدد جھٹکے محسوس کیے گئے، جن میں سے ایک کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق زلزلے ایسے علاقے میں محسوس کیے گئے جو ’’موشا فالٹ‘‘ کے قریب واقع ہے، جسے ایران کے سب سے زیادہ متحرک زلزلہ زونز میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں زلزلے کے جھٹکے معمول کی بات ہیں، تاہم ایک ہی رات میں مسلسل کئی جھٹکوں کا آنا غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے ماہر زلزلہ یات مہدی زارع کے حوالے سے بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ جھٹکے زمین کے اندر جمع ہونے والی توانائی کے اخراج کا نتیجہ ہیں، جس سے مستقبل کا خطرہ کم ہوسکتا ہے، یا پھر یہ تہران کے قریب فالٹ لائن میں مزید شدید سرگرمی کی وارننگ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://english.aaj.tv/news/30291123/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://english.aaj.tv/news/card/30291123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مہدی زارع نے خبردار کیا کہ تہران کو خطرہ صرف متحرک فالٹ لائنز سے نہیں بلکہ گنجان آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور محدود تیاریوں سے بھی ہے۔ ان کے مطابق نسبتاً کم شدت کے زلزلے بھی کمزور انفرااسٹرکچر اور ٹریفک کے باعث دارالحکومت میں شدید خلل پیدا کرسکتے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔</p>
<p>ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد آبادی والا تہران شمالی تہران، موشا اور رے فالٹ سسٹمز کے قریب واقع ہے۔ ایرانی ماہرین متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر دارالحکومت کے قریب بڑا زلزلہ آیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ایران دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے کا خطرہ سب سے زیادہ رہتا ہے۔ 2003 میں آنے والے تباہ کن بم زلزلے کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، جس میں 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505285</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:17:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13135635a3ec1eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13135635a3ec1eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویرات کوہلی کو بدنام کرنے کی کوشش: غیر ملکی انفلوئنسر کا بڑا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505284/attempt-to-defame-virat-kohli-major-revelation-by-foreign-influencer</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر لز لز نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کے خلاف بیان دینے کے لیے کچھ صحافیوں نے انہیں رقم کی پیشکش کی تھی، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ کوہلی نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لز لز اس وقت سرخیوں میں آئی تھیں جب ویرات کوہلی نے انسٹاگرام پر ان کی ایک پوسٹ کو لائک کیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب لز لز نے بتایا ہے کہ کچھ میڈیا اداروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں پیسوں کا لالچ دیا تاکہ وہ ویرات کوہلی پر غلط الزامات لگائیں اور انہیں بدنام کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503611'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503611"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق لز لز نے کہا کہ، ’کچھ صحافی مجھے رقم دے رہے تھے تاکہ میں ویرات کے خلاف باتیں کروں اور ایسا کچھ کہوں جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ لیکن میں نے یہ پیشکش فوراً مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ویرات کوہلی میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور میں ان کے ساتھ ایسا کیوں کروں گی؟ لز لز کا کہنا تھا کہ ویرات نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور نہ ہی ان کی نیت خراب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق وہ خود انڈیا کے کلچر پر ویڈیوز بناتی ہیں اور آئی پی ایل میں ویرات کی ٹیم آر سی بی کی سپورٹر بھی ہیں، شاید اسی وجہ سے ان کا مواد کوہلی کے فیڈ پر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفلوئنسر نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویرات اور ان کی جعلی اے آئی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے تو یہ سب مذاق ہے، لیکن ویرات کے لیے یہ اچھا نہیں ہے کیونکہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لز لز نے ویرات کوہلی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کے بہت بڑے آئیکون ہیں، وہ انڈیا کے میسی یا رونالڈو ہیں، اس لیے لوگوں کو ان کا نام اس طرح خراب نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویرات نے ان سے کوئی غیر مناسب رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی کو پریشان کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458722/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458722"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لز لز نے وہ دن بھی یاد کیا جب یہ خبر وائرل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں ایک صبح سوئی اٹھی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی نیٹ فلکس سیریز کے سنسنی خیز قصے کا حصہ بن گئی ہوں۔ ہر طرف میری ہی تصاویر تھیں اور جرمنی و جنوبی افریقہ کے میڈیا میں بھی اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے بعد اب ویرات کوہلی جرمنی میں بھی بہت مشہور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ اس واقعے کے بعد ایک کرکٹ میچ بھی جرمنی میں منعقد ہوا، جہاں وہ اینکر کے طور پر شامل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس تنازع کے بعد انہیں کئی ریئلٹی شوز اور اشتہارات کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے صاف کر دیا کہ وہ صرف وہی کام کریں گی جو ان کے اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب ویرات کوہلی کا انسٹاگرام ’لائیک‘ وائرل ہوا ہو۔ پہلے بھی اداکارہ اونیت کائور کے ساتھ ایسا ہوا تھا اور بعد میں ویرات کوہلی نے خود وضاحت جاری کی تھی کہ انسٹاگرام الگورتھم کی غلطی سے ایسا ہو سکتا ہے اور ان کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویرات کوہلی انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بھارتی اسٹار ہیں اور ان کی چھوٹی سی حرکت بھی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن جاتی ہے، تاہم لز لز کے اس تازہ بیان نے ان لوگوں کے منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو انہیں جان بوجھ کر بدنام کرنا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر لز لز نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کے خلاف بیان دینے کے لیے کچھ صحافیوں نے انہیں رقم کی پیشکش کی تھی، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ کوہلی نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔</strong></p>
<p>لز لز اس وقت سرخیوں میں آئی تھیں جب ویرات کوہلی نے انسٹاگرام پر ان کی ایک پوسٹ کو لائک کیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔</p>
<p>اب لز لز نے بتایا ہے کہ کچھ میڈیا اداروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں پیسوں کا لالچ دیا تاکہ وہ ویرات کوہلی پر غلط الزامات لگائیں اور انہیں بدنام کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503611'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503611"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق لز لز نے کہا کہ، ’کچھ صحافی مجھے رقم دے رہے تھے تاکہ میں ویرات کے خلاف باتیں کروں اور ایسا کچھ کہوں جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ لیکن میں نے یہ پیشکش فوراً مسترد کر دی۔</p>
<p>انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ویرات کوہلی میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور میں ان کے ساتھ ایسا کیوں کروں گی؟ لز لز کا کہنا تھا کہ ویرات نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور نہ ہی ان کی نیت خراب تھی۔</p>
<p>ان کے مطابق وہ خود انڈیا کے کلچر پر ویڈیوز بناتی ہیں اور آئی پی ایل میں ویرات کی ٹیم آر سی بی کی سپورٹر بھی ہیں، شاید اسی وجہ سے ان کا مواد کوہلی کے فیڈ پر آیا۔</p>
<p>انفلوئنسر نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویرات اور ان کی جعلی اے آئی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے تو یہ سب مذاق ہے، لیکن ویرات کے لیے یہ اچھا نہیں ہے کیونکہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔</p>
<p>لز لز نے ویرات کوہلی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ انڈیا کے بہت بڑے آئیکون ہیں، وہ انڈیا کے میسی یا رونالڈو ہیں، اس لیے لوگوں کو ان کا نام اس طرح خراب نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویرات نے ان سے کوئی غیر مناسب رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی کو پریشان کرنا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458722/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458722"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لز لز نے وہ دن بھی یاد کیا جب یہ خبر وائرل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں ایک صبح سوئی اٹھی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی نیٹ فلکس سیریز کے سنسنی خیز قصے کا حصہ بن گئی ہوں۔ ہر طرف میری ہی تصاویر تھیں اور جرمنی و جنوبی افریقہ کے میڈیا میں بھی اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے بعد اب ویرات کوہلی جرمنی میں بھی بہت مشہور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ اس واقعے کے بعد ایک کرکٹ میچ بھی جرمنی میں منعقد ہوا، جہاں وہ اینکر کے طور پر شامل ہوئیں۔</p>
<p>اگرچہ اس تنازع کے بعد انہیں کئی ریئلٹی شوز اور اشتہارات کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے صاف کر دیا کہ وہ صرف وہی کام کریں گی جو ان کے اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں جب ویرات کوہلی کا انسٹاگرام ’لائیک‘ وائرل ہوا ہو۔ پہلے بھی اداکارہ اونیت کائور کے ساتھ ایسا ہوا تھا اور بعد میں ویرات کوہلی نے خود وضاحت جاری کی تھی کہ انسٹاگرام الگورتھم کی غلطی سے ایسا ہو سکتا ہے اور ان کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔</p>
<p>ویرات کوہلی انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بھارتی اسٹار ہیں اور ان کی چھوٹی سی حرکت بھی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن جاتی ہے، تاہم لز لز کے اس تازہ بیان نے ان لوگوں کے منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے جو انہیں جان بوجھ کر بدنام کرنا چاہتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505284</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:44:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/131339269bd7ef1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/131339269bd7ef1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنوں میں عسکریت پسندوں کا بینک کی کیش وین پر حملہ، 8 کروڑ روپے سے زائد رقم لوٹ لی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505282/militants-attack-bank-cash-van-in-bannu</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنوں کے علاقے ڈومیل میں عسکریت پسندوں کی جانب سے بینک کی کیش وین پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں مبینہ طور پر 8 کروڑ روپے سے زائد رقم لوٹ لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واردات کے دوران حملہ آور نہ صرف بھاری مقدار میں نقدی لے گئے بلکہ کیش وین سے چار بندوقیں اور دو پستول بھی اپنے قبضے میں لے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا جاتا ہے کہ واقعے کے بعد حملہ آوروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیش وین کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے، جس سے واقعے کی نوعیت مزید واضح ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے ڈومیل میں پیش آنے والے اس واقعے کے دوران حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر کیش وین کے عملے کو قابو میں رکھا اور واردات مکمل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عناصر اس حملے میں ملوث ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے سرکاری طور پر تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنوں کے علاقے ڈومیل میں عسکریت پسندوں کی جانب سے بینک کی کیش وین پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں مبینہ طور پر 8 کروڑ روپے سے زائد رقم لوٹ لی۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واردات کے دوران حملہ آور نہ صرف بھاری مقدار میں نقدی لے گئے بلکہ کیش وین سے چار بندوقیں اور دو پستول بھی اپنے قبضے میں لے لیے۔</p>
<p>بتایا جاتا ہے کہ واقعے کے بعد حملہ آوروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیش وین کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے، جس سے واقعے کی نوعیت مزید واضح ہوئی ہے۔</p>
<p>مقامی ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے ڈومیل میں پیش آنے والے اس واقعے کے دوران حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر کیش وین کے عملے کو قابو میں رکھا اور واردات مکمل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔</p>
<p>ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے عناصر اس حملے میں ملوث ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے سرکاری طور پر تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505282</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:03:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1312563773eb05c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1312563773eb05c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ: بلومبرگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505281/pakistan-indicated-turkey-qatar-join-nuclear-armed-nation-mutual-defense-cooperation-pact-saudi-arabia-us-iran-war</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-05-13/pakistan-signals-turkey-qatar-may-join-saudi-defense-pact?taid=6a040a29717bd400015f0987&amp;amp;utm_campaign=trueanthem&amp;amp;utm_content=business&amp;amp;utm_medium=social&amp;amp;utm_source=twitter"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505256/saudi-arabia-launched-covert-attacks-on-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505256"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجودہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505257/iraq-pakistan-strike-energy-deals-with-iran-as-tehran-flexes-hormuz-control'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505257"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-05-13/pakistan-signals-turkey-qatar-may-join-saudi-defense-pact?taid=6a040a29717bd400015f0987&amp;utm_campaign=trueanthem&amp;utm_content=business&amp;utm_medium=social&amp;utm_source=twitter">رپورٹ</a> کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505256/saudi-arabia-launched-covert-attacks-on-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505256"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجودہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505257/iraq-pakistan-strike-energy-deals-with-iran-as-tehran-flexes-hormuz-control'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505257"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے۔</p>
<p>اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505281</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 12:51:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13124544c5b2a85.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13124544c5b2a85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکین کوئین 'پنکی' کے کیس میں نیا موڑ، پولیس نے حکمتِ عملی تبدیل کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں منشیات فروشی کے بڑے کیس میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے ملزمہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہونے کے بعد پولیس نے ملزمہ کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس اور احکامات کے بعد پولیس نے قانونی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں یہ ریمانڈ حاصل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب ملزمہ سے منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحے کے ساتھ ساتھ قتل کے مقدمے میں بھی اہم تفتیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ پنکی کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ بھی سامنے آیا ہے جو سات مئی کو بغدادی کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملنے پر درج کیا گیا تھا۔ ملزمہ سے اس کیس میں بھی تفتیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ملزمہ کے ماضی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2022 میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں منشیات فروشی کے ایک چھاپے کے دوران اس کا بھائی ریاض بلوچ گرفتار ہوا تھا، تاہم پنکی اس وقت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں کرائے کے گھر میں خود منشیات تیار کرتی تھی لیکن اس کا اصل سپلائی نیٹ ورک کراچی میں سرگرم تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505248/karachi-drug-network-ringleader-anmol-pinky-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505248"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے انکوائری افسر بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اس معاملے کی انکوائری کریں گے جنہیں تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا ہے کہ سندھ حکومت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی جاری رہے گی تاکہ کیس کی شفاف تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بلوچ-پاڑے-کی-گلیوں-سے-منشیات-کے-ورک-تک" href="#بلوچ-پاڑے-کی-گلیوں-سے-منشیات-کے-ورک-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بلوچ پاڑے کی گلیوں سے منشیات کے ورک تک&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;انمول عرف پنکی کی زندگی کسی تھرلر فلم سے کم نہیں ہے۔ پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے کی گلیوں میں گزرا جہاں سے اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی منشیات فروشوں سے رابطے استوار کرنا شروع کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف اس کالے دھندے کے گر سیکھے بلکہ بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں ہونے والی ملاقاتوں کو ڈھال بنا کر اپنا ایک الگ اور طاقتور منشیات کارٹل قائم کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے تیزاب کے ذریعے اپنے فنگر پرنٹس تک ختم کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنکی کو پہلی بار 2018 میں قانون کا سامنا کرنا پڑا لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ بہت جلد ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے کوئن میڈم پنکی کے نام سے اپنا ایک باقاعدہ برانڈ لانچ کیا جس کے تحت وہ کوکین کے اثر کو مزید مہلک بنانے کے لیے اس میں کیٹامائن اور ایسیٹون جیسے کیمیکلز کی ملاوٹ کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں تھا بلکہ لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان اور کشمیر سے لے کر گلگت بلتستان تک پھیلا ہوا تھا جہاں ایک کوچ سروس کے ذریعے مال سپلائی کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پورے نیٹ ورک کو چلانے میں بیبو اور حرا نامی دو خواتین اس کی دستِ راست کے طور پر اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ منگل کو کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے ایک بڑی مشترکہ کارروائی کے دوران اس بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ کو کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نہ صرف ایک منظم گروہ کی سربراہی کر رہی تھی بلکہ وہ درجنوں مقدمات میں عرصے سے مفرور اور پولیس کو انتہائی مطلوب بھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کے لیے منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائڈرز کا استعمال کرتی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں منشیات فروشی کے بڑے کیس میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے ملزمہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہونے کے بعد پولیس نے ملزمہ کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس اور احکامات کے بعد پولیس نے قانونی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں یہ ریمانڈ حاصل کیا گیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب ملزمہ سے منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحے کے ساتھ ساتھ قتل کے مقدمے میں بھی اہم تفتیش کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزمہ پنکی کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ بھی سامنے آیا ہے جو سات مئی کو بغدادی کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملنے پر درج کیا گیا تھا۔ ملزمہ سے اس کیس میں بھی تفتیش کی جائے گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ ملزمہ کے ماضی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2022 میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں منشیات فروشی کے ایک چھاپے کے دوران اس کا بھائی ریاض بلوچ گرفتار ہوا تھا، تاہم پنکی اس وقت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ لاہور میں کرائے کے گھر میں خود منشیات تیار کرتی تھی لیکن اس کا اصل سپلائی نیٹ ورک کراچی میں سرگرم تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505248/karachi-drug-network-ringleader-anmol-pinky-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505248"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کیس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے انکوائری افسر بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اس معاملے کی انکوائری کریں گے جنہیں تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا ہے کہ سندھ حکومت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی جاری رہے گی تاکہ کیس کی شفاف تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔</p>
<h2><a id="بلوچ-پاڑے-کی-گلیوں-سے-منشیات-کے-ورک-تک" href="#بلوچ-پاڑے-کی-گلیوں-سے-منشیات-کے-ورک-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بلوچ پاڑے کی گلیوں سے منشیات کے ورک تک</h2>
<p>انمول عرف پنکی کی زندگی کسی تھرلر فلم سے کم نہیں ہے۔ پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے کی گلیوں میں گزرا جہاں سے اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی منشیات فروشوں سے رابطے استوار کرنا شروع کر دیے تھے۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف اس کالے دھندے کے گر سیکھے بلکہ بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں ہونے والی ملاقاتوں کو ڈھال بنا کر اپنا ایک الگ اور طاقتور منشیات کارٹل قائم کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملزمہ کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے تیزاب کے ذریعے اپنے فنگر پرنٹس تک ختم کر دیے تھے۔</p>
<p>پنکی کو پہلی بار 2018 میں قانون کا سامنا کرنا پڑا لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے وہ بہت جلد ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>اس نے کوئن میڈم پنکی کے نام سے اپنا ایک باقاعدہ برانڈ لانچ کیا جس کے تحت وہ کوکین کے اثر کو مزید مہلک بنانے کے لیے اس میں کیٹامائن اور ایسیٹون جیسے کیمیکلز کی ملاوٹ کرتی تھی۔</p>
<p>اس کا نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں تھا بلکہ لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان اور کشمیر سے لے کر گلگت بلتستان تک پھیلا ہوا تھا جہاں ایک کوچ سروس کے ذریعے مال سپلائی کیا جاتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پورے نیٹ ورک کو چلانے میں بیبو اور حرا نامی دو خواتین اس کی دستِ راست کے طور پر اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ منگل کو کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے ایک بڑی مشترکہ کارروائی کے دوران اس بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ کو کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کر لیا۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نہ صرف ایک منظم گروہ کی سربراہی کر رہی تھی بلکہ وہ درجنوں مقدمات میں عرصے سے مفرور اور پولیس کو انتہائی مطلوب بھی تھی۔</p>
<p>گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی ہیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینے کے لیے منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائڈرز کا استعمال کرتی تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505275</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:44:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسینریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13154958624440f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13154958624440f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/xNceR4lLG24/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/xNceR4lLG24/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=xNceR4lLG24"/>
        <media:title>Who is Cocain Queen 'PINKY' ? | Drug Dealer Anmol brought to court without handcuffs | Pakistan News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>10 مئی احتجاج کیس: پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم سمیت 74 ملزمان بری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505274/74-accused-including-pti-leader-acquite</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور کی سیشن کورٹ نے 10 مئی 2023 احتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما عرفان سلیم سمیت 74 ملزمان کو بری کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل سیشن جج فراز احمد نے کیس کی سماعت کی، عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں ملزمان براہ راست نامزد نہیں، تفتیش کے دوران ان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، ملزمان کی کوئی شناختی پریڈ نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں ملزمان کو براہ راست نامزد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ دوران تفتیش ان کے نام شامل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق کسی بھی ملزم کی شناختی پریڈ نہیں کرائی گئی، جبکہ استغاثہ کا کیس محض زبانی اور غیر ثابت شدہ الزامات پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452824/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452824"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے میں کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں، جبکہ مقتولین کے ورثا بھی ملزمان کے خلاف ٹرائل جاری رکھنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہوگا، لہٰذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 10 مئی کو پشاور کے علاقے فقیر آباد کی حدود میں پرتشدد واقعات اور فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کا مقدمہ تھانہ فقیر آباد میں درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور کی سیشن کورٹ نے 10 مئی 2023 احتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما عرفان سلیم سمیت 74 ملزمان کو بری کر دیا۔</strong></p>
<p>ایڈیشنل سیشن جج فراز احمد نے کیس کی سماعت کی، عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں ملزمان براہ راست نامزد نہیں، تفتیش کے دوران ان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، ملزمان کی کوئی شناختی پریڈ نہیں ہوئی۔</p>
<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں ملزمان کو براہ راست نامزد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ دوران تفتیش ان کے نام شامل کیے گئے۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق کسی بھی ملزم کی شناختی پریڈ نہیں کرائی گئی، جبکہ استغاثہ کا کیس محض زبانی اور غیر ثابت شدہ الزامات پر مبنی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452824/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452824"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے میں کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں، جبکہ مقتولین کے ورثا بھی ملزمان کے خلاف ٹرائل جاری رکھنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں ٹرائل چلانا وقت کا ضیاع ہوگا، لہٰذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 10 مئی کو پشاور کے علاقے فقیر آباد کی حدود میں پرتشدد واقعات اور فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کا مقدمہ تھانہ فقیر آباد میں درج کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505274</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 12:47:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سدرۃ الزّرہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13121605dafebd2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13121605dafebd2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی نے بھارتی عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیوں کی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505273/india-narendra-modi-gold-price-2026-gold-and-silver</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک میں سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد  ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ، 13 مئی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد، جبکہ زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس  کو ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہوئے روپے کو سہارا دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی مفاد میں ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں اور غیر ضروری درآمدات میں کمی لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ”شہری ایندھن کا استعمال کم کریں، غیر ملکی دورے مؤخر کریں اور قومی مفاد میں سونے کی خریداری میں تاخیر کریں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505208/petroleum-prices-petrol-prices-ali-pervaiz-malik-petroleum-levy'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505208"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں خام تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جس سے درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے زیورات کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور سونا اسمگل کرنے والے نیٹ ورک دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اور سال 2025-26 کے دوران سونے کی درآمدات پر ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جو ملک کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 9 سے 10 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505171/joseph-vijay-took-charge-as-new-cm-of-tamil-nadu'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505171"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ماہرِ معاشیات وشرت رانا کا کہنا ہے کہ ”سونے کی درآمدات میں کمی سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یہ اخراج کافی زیادہ ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نیٹیکسس کی سینئر ماہرِ معاشیات ترن نگوین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت مارکیٹ کی لبرلائزیشن یعنی آزادانہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے، حالانکہ سرمایہ کار بھارت کی اسی پالیسی کو پسند کرتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے سالانہ 20 سے 25 ارب ڈالر کا غیر ملکی زرِ مبادلہ بچایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک میں سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد  ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ، 13 مئی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد، جبکہ زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس  کو ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہوئے روپے کو سہارا دینا ہے۔</p>
<p>یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی مفاد میں ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں اور غیر ضروری درآمدات میں کمی لائیں۔</p>
<p>وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ”شہری ایندھن کا استعمال کم کریں، غیر ملکی دورے مؤخر کریں اور قومی مفاد میں سونے کی خریداری میں تاخیر کریں“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505208/petroleum-prices-petrol-prices-ali-pervaiz-malik-petroleum-levy'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505208"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بھارت میں خام تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جس سے درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>تاہم صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے زیورات کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور سونا اسمگل کرنے والے نیٹ ورک دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اور سال 2025-26 کے دوران سونے کی درآمدات پر ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جو ملک کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 9 سے 10 فیصد بنتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505171/joseph-vijay-took-charge-as-new-cm-of-tamil-nadu'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505171"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ماہرِ معاشیات وشرت رانا کا کہنا ہے کہ ”سونے کی درآمدات میں کمی سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یہ اخراج کافی زیادہ ہے“۔</p>
<p>دوسری جانب نیٹیکسس کی سینئر ماہرِ معاشیات ترن نگوین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت مارکیٹ کی لبرلائزیشن یعنی آزادانہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے، حالانکہ سرمایہ کار بھارت کی اسی پالیسی کو پسند کرتے ہیں“۔</p>
<p>حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے سالانہ 20 سے 25 ارب ڈالر کا غیر ملکی زرِ مبادلہ بچایا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505273</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:59:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1311553167d79bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1311553167d79bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معروف بھارتی اداکارہ کے شوہر پر فراڈ کا الزام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505269/fraud-allegations-against-husband-of-popular-indian-actress</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ مونی رائے اور ان کے شوہر بزنس مین سُراج نمبیار کے تعلقات کے بارے میں تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا  رپورٹس کے مطابق سُراج پر مونی کے پیسے استعمال کرنے اور انہیں شہرت کے لیے دھوکہ دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مونی یا سُراج نے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونی رائےکی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہیں۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی جب مداحوں نے غور کیا کہ دونوں نے  انسٹاگرام پرایک دوسرے کو ان فالو کر دیا ہے اور اپنی پروفائلز سے شادی کی کچھ تصاویر بھی ہٹا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505228/quotmaking-a-film-with-my-father-was-a-mistakequot-junaid-khans-shocking-revelation-on-the-failure-of-ek-din'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مونی رائے کے اکاؤنٹ پر اب بھی سورج کے ساتھ چند تصاویر موجود ہیں، لیکن سورج نمبیار نے اپنی شادی سے متعلق پوسٹس حذف کر دی ہیں اور حال ہی میں اپنا اکاؤنٹ بھی پرائیویٹ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مونی کی سب سے اچھی دوست، اداکارہ دِشا پٹانی نے بھی سُراج کے اکاؤنٹ کے ڈی ایکٹیویٹ ہونے سے پہلے انہیں انسٹاگرام پر ان فالو کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ان کے اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر مداح جوڑے کے درمیان ممکنہ علیحدگی کے بارے میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.abplive.com/entertainment/television/mouni-share-first-post-wished-birthday-to-her-sister-amid-divorce-rumours-with-husband-suraj-nambiar-3129107"&gt;اے بی پی نیوز&lt;/a&gt; کے مطابق یہ جوڑا گزشتہ چند ہفتوں سے الگ رہ رہا ہے اور سورج نمبیار اپنے مشترکہ گھر سے باہر منتقل ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ ان کی طلاق پہلے ہی ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک مونی رائے یا سورج نمبیار کی جانب سے ان الزامات یا طلاق کی خبروں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ دونوں نے تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونی رائے اور سورج نمبیار جنوری 2022 میں گوا کے مقام پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، جہاں ملیالی اور بنگالی روایات کے مطابق شادی کی تقریبات منعقد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں کی پہلی ملاقات 2019 میں دبئی میں نئے سال کی تقریبات کے دوران مشترکہ دوستوں کے ذریعے ہوئی تھی جس کے بعد ان کے درمیان دوستی اور محبت کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا سوشل میڈیا پر اپنی سفری تصاویر اور نجی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرنے کی وجہ سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول رہا ہے، لیکن اب اچانک سامنے آنے والی ان خبروں نے ان کے مداحوں کو شدید حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ مونی رائے اور ان کے شوہر بزنس مین سُراج نمبیار کے تعلقات کے بارے میں تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا  رپورٹس کے مطابق سُراج پر مونی کے پیسے استعمال کرنے اور انہیں شہرت کے لیے دھوکہ دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مونی یا سُراج نے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔</p>
<p>مونی رائےکی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہیں۔ ان افواہوں کو اس وقت تقویت ملی جب مداحوں نے غور کیا کہ دونوں نے  انسٹاگرام پرایک دوسرے کو ان فالو کر دیا ہے اور اپنی پروفائلز سے شادی کی کچھ تصاویر بھی ہٹا دی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505228/quotmaking-a-film-with-my-father-was-a-mistakequot-junaid-khans-shocking-revelation-on-the-failure-of-ek-din'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ مونی رائے کے اکاؤنٹ پر اب بھی سورج کے ساتھ چند تصاویر موجود ہیں، لیکن سورج نمبیار نے اپنی شادی سے متعلق پوسٹس حذف کر دی ہیں اور حال ہی میں اپنا اکاؤنٹ بھی پرائیویٹ کر لیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مونی کی سب سے اچھی دوست، اداکارہ دِشا پٹانی نے بھی سُراج کے اکاؤنٹ کے ڈی ایکٹیویٹ ہونے سے پہلے انہیں انسٹاگرام پر ان فالو کر دیا تھا۔</p>
<p>سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ان کے اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس گردش کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر مداح جوڑے کے درمیان ممکنہ علیحدگی کے بارے میں چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.abplive.com/entertainment/television/mouni-share-first-post-wished-birthday-to-her-sister-amid-divorce-rumours-with-husband-suraj-nambiar-3129107">اے بی پی نیوز</a> کے مطابق یہ جوڑا گزشتہ چند ہفتوں سے الگ رہ رہا ہے اور سورج نمبیار اپنے مشترکہ گھر سے باہر منتقل ہو چکے ہیں۔</p>
<p>بعض رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ ان کی طلاق پہلے ہی ہو چکی ہے، تاہم ابھی تک مونی رائے یا سورج نمبیار کی جانب سے ان الزامات یا طلاق کی خبروں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ دونوں نے تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔</p>
<p>مونی رائے اور سورج نمبیار جنوری 2022 میں گوا کے مقام پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، جہاں ملیالی اور بنگالی روایات کے مطابق شادی کی تقریبات منعقد ہوئی تھیں۔</p>
<p>ان دونوں کی پہلی ملاقات 2019 میں دبئی میں نئے سال کی تقریبات کے دوران مشترکہ دوستوں کے ذریعے ہوئی تھی جس کے بعد ان کے درمیان دوستی اور محبت کا آغاز ہوا۔</p>
<p>یہ جوڑا سوشل میڈیا پر اپنی سفری تصاویر اور نجی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرنے کی وجہ سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول رہا ہے، لیکن اب اچانک سامنے آنے والی ان خبروں نے ان کے مداحوں کو شدید حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505269</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:52:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/131149536677655.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/131149536677655.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
