<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Food</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:09:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:09:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام یا شامی؟ کباب کے اصل نام پر بحث چھڑ گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30490440/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کبھی کبھی ایک معمولی سی بات، معمولی سے شرارت اور بے معنی سے الفاظ دنیا بھر میں موضوعِ بحث بن جاتے ہیں۔ اس بار شامی کباب کے نام نے یہ کام کیاہے۔ وہی خوشبودار، نرم مگر خستہ کباب جو ہر افطار، دعوت اور نانی، دادی کے باورچی خانے کی شان ہوتا ہے آج اپنی لذت سے زیادہ اپنے نام کی کہانی پر گفتگو کا حصہ ہے۔ آخر یہ لفظ ”شامی“ کباب کا حصہ کیسے بنا؟۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک دادی کے باورچی خانے سے، جو انسٹاگرام پر ”دادی کُک“ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان سے پوچھا گیا، ”دادی، یہ شامی کباب شامی کیوں کہلاتا ہے؟“ دادی نے مسکراتے ہوئے نظریں اٹھائیں اور بولیں، ”ارے بیٹا، شام کے وقت بننے والے کباب تھے، شام کا کباب بس یوں یہ شامی کباب کہلائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادی نے بتایا کہ ان کے بچپن میں شام ڈھلے جب پورا گھر افطار کی تیاریوں میں مصروف ہوتا، تو باورچی خانے میں چنے کی دال اور قیمہ کی خوشبو ہر کونے میں پھیل جاتی تھی۔ ان کی ماں توے  پر سنہری کباب تل رہی ہوتیں، اور باہر صحن میں بچے لیموں اور پیاز کے ساتھ ان کے انتظار میں۔ ان کے بقول، یہ محض ایک ڈش نہیں تھی، ایک یاد، ایک تسلی، ایک محبت کی علامت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف کچھ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.slurrp.com/article/history-and-origin-of-shami-kabab-a-nawabi-delight-from-lucknow-up-1726388221465"&gt;مورخین کا کہنا ہے کہ&lt;/a&gt; ”شامی“ دراصل ”شام“ یعنی ملک شام سے آیا ہے۔ عرب تاجروں اور مغل دور کی ہجرتوں نے جب یہ ذائقہ ہندوستان تک پہنچایا تو اس میں برصغیر کی مٹی، مصالحوں اور محبت نے ایک نیا رنگ بھر دیا۔ یوں ”شامِی“ کباب، جس کی جڑیں دمشق  تک جاتی تھیں، لکھنؤ کے نوابوں کی میز پر نئی شناخت کے ساتھ جگمگانے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;اور آج، صدیوں بعد، یہی شامی کباب بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کوئی اسے دن ڈھلے کی ”شام کا کباب“ مانتا ہے تو کوئی ”شامِی“ یعنی ملک شام کی سوغات۔ مگر سچ یہ ہے کہ دونوں کہانیاں ایک ہی ذائقے پر جا ملتی ہیں،  وہ ذائقہ جو ہر نوالے میں محبت، روایت اور یادوں کا امتزاج لے کر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شامی کباب شاید نام میں تقسیم ہو، مگر ذائقے میں سب کو جوڑ دیتا ہے۔ چاہے وہ دادی کے باورچی خانے کی محبت ہو یا لکھنؤ کے نواب کی نفاست، یا پھر ملکِ شام سے آیا ہوا شامی کباب ہو، اس کباب میں ایک ہی بات مشترک ہے اور وہ ہے گھر کی خوشبو، خاندان کی محبت کی گرمی، اور روایت کا وہ ذائقہ جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ شاید یہ ذائقے سے زیادہ جذبے کی کہانی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کبھی کبھی ایک معمولی سی بات، معمولی سے شرارت اور بے معنی سے الفاظ دنیا بھر میں موضوعِ بحث بن جاتے ہیں۔ اس بار شامی کباب کے نام نے یہ کام کیاہے۔ وہی خوشبودار، نرم مگر خستہ کباب جو ہر افطار، دعوت اور نانی، دادی کے باورچی خانے کی شان ہوتا ہے آج اپنی لذت سے زیادہ اپنے نام کی کہانی پر گفتگو کا حصہ ہے۔ آخر یہ لفظ ”شامی“ کباب کا حصہ کیسے بنا؟۔</strong></p>
<p>یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک دادی کے باورچی خانے سے، جو انسٹاگرام پر ”دادی کُک“ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان سے پوچھا گیا، ”دادی، یہ شامی کباب شامی کیوں کہلاتا ہے؟“ دادی نے مسکراتے ہوئے نظریں اٹھائیں اور بولیں، ”ارے بیٹا، شام کے وقت بننے والے کباب تھے، شام کا کباب بس یوں یہ شامی کباب کہلائے۔“</p>
<p>دادی نے بتایا کہ ان کے بچپن میں شام ڈھلے جب پورا گھر افطار کی تیاریوں میں مصروف ہوتا، تو باورچی خانے میں چنے کی دال اور قیمہ کی خوشبو ہر کونے میں پھیل جاتی تھی۔ ان کی ماں توے  پر سنہری کباب تل رہی ہوتیں، اور باہر صحن میں بچے لیموں اور پیاز کے ساتھ ان کے انتظار میں۔ ان کے بقول، یہ محض ایک ڈش نہیں تھی، ایک یاد، ایک تسلی، ایک محبت کی علامت تھی۔</p>
<p>دوسری طرف کچھ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.slurrp.com/article/history-and-origin-of-shami-kabab-a-nawabi-delight-from-lucknow-up-1726388221465">مورخین کا کہنا ہے کہ</a> ”شامی“ دراصل ”شام“ یعنی ملک شام سے آیا ہے۔ عرب تاجروں اور مغل دور کی ہجرتوں نے جب یہ ذائقہ ہندوستان تک پہنچایا تو اس میں برصغیر کی مٹی، مصالحوں اور محبت نے ایک نیا رنگ بھر دیا۔ یوں ”شامِی“ کباب، جس کی جڑیں دمشق  تک جاتی تھیں، لکھنؤ کے نوابوں کی میز پر نئی شناخت کے ساتھ جگمگانے لگا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>اور آج، صدیوں بعد، یہی شامی کباب بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کوئی اسے دن ڈھلے کی ”شام کا کباب“ مانتا ہے تو کوئی ”شامِی“ یعنی ملک شام کی سوغات۔ مگر سچ یہ ہے کہ دونوں کہانیاں ایک ہی ذائقے پر جا ملتی ہیں،  وہ ذائقہ جو ہر نوالے میں محبت، روایت اور یادوں کا امتزاج لے کر آتا ہے۔</p>
<p>شامی کباب شاید نام میں تقسیم ہو، مگر ذائقے میں سب کو جوڑ دیتا ہے۔ چاہے وہ دادی کے باورچی خانے کی محبت ہو یا لکھنؤ کے نواب کی نفاست، یا پھر ملکِ شام سے آیا ہوا شامی کباب ہو، اس کباب میں ایک ہی بات مشترک ہے اور وہ ہے گھر کی خوشبو، خاندان کی محبت کی گرمی، اور روایت کا وہ ذائقہ جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ شاید یہ ذائقے سے زیادہ جذبے کی کہانی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30490440</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Nov 2025 12:44:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/11/031145065dd35d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/11/031145065dd35d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گولیاں نہ کھائیں، پرسکون اور گہری نیند کا راز آپ کی پلیٹ میں موجود ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30489180/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ سونے سے پہلے جڑی بوٹیوں والی چائے، جیسے کیمومائل یا لیونڈر چائے پینے کے باوجود نیند کی وادی میں نہیں جا پاتے تو مسئلہ شاید آپ کی چائے میں نہیں بلکہ آپ کی روزمرہ غذا میں ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ہم جو کھاتے ہیں، وہ براہِ راست ہماری نیند کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسن اور کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ مشترکہ تحقیق ہے، جو حال ہی میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedaily.com/releases/2025/10/251025084557.htm"&gt; ”سلیپ ہیلتھ: دی جرنل آف دی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن“&lt;/a&gt; میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج کے مطابق جو لوگ زیادہ پھل، سبزیاں اور مکمل اناج کھاتے ہیں، وہ زیادہ گہری، طویل اور پرسکون نیند لیتے ہیں۔ اس تحقیق میں بھی جن شرکاء کی پلیٹ رنگ برنگے پھلوں، تازہ سبزیوں اور فائبر سے بھرپور اجزاء سے سجی تھی، وہ رات کے دوران شاذ و نادر ہی جاگے اور زیادہ وقت گہری نیند میں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے اس تحقیق میں صحت مند نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی روزمرہ غذا ایک موبائل ایپ میں درج کریں، جبکہ ان کی نیند پر نظر رکھنے کے لیے کلائی پر ایسے آلات پہنائے گئے جو نیند کے دورانیے اور معیار کو ریکارڈ کرتے تھے۔ ماہرین نے خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا کہ رات کے دوران کوئی شخص کتنی مرتبہ نیند سے جاگتا ہے یا ہلکی اور گہری نیند کے درمیان کتنی بار تبدیلی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریسرچ میں جن افراد نے روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ سرونگز  پھل اور سبزیاں کھائیں، ان کی نیند کے معیار میں 16 فیصد بہتری دیکھی گئی، اور یہ فرق صرف چوبیس گھنٹوں میں واضح ہو گیا۔ ڈاکٹر اسما تسالی کے مطابق سولہ فیصد بہتری ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ فرق اتنے قلیل وقت میں نظر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میری پیئر سینٹ اونج کا کہنا ہے کہ معمولی سی تبدیلیاں بھی نیند پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  یہ جان کر حوصلہ ملتا ہے کہ بہتر نیند ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا غذا براہِ راست نیند کو بہتر بناتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی حیاتیاتی عمل کارفرما ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج واضح ہیں کہ جتنی رنگین آپ کی پلیٹ ہوگی، اتنے میٹھے ہوں گے آپ کے خواب ہونگے،  یعنی یہ نہ صرف جسم بلکہ دماغ اور نیند کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ سونے سے پہلے جڑی بوٹیوں والی چائے، جیسے کیمومائل یا لیونڈر چائے پینے کے باوجود نیند کی وادی میں نہیں جا پاتے تو مسئلہ شاید آپ کی چائے میں نہیں بلکہ آپ کی روزمرہ غذا میں ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ہم جو کھاتے ہیں، وہ براہِ راست ہماری نیند کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسن اور کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ مشترکہ تحقیق ہے، جو حال ہی میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedaily.com/releases/2025/10/251025084557.htm"> ”سلیپ ہیلتھ: دی جرنل آف دی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن“</a> میں شائع ہوئی۔</p>
<p>نتائج کے مطابق جو لوگ زیادہ پھل، سبزیاں اور مکمل اناج کھاتے ہیں، وہ زیادہ گہری، طویل اور پرسکون نیند لیتے ہیں۔ اس تحقیق میں بھی جن شرکاء کی پلیٹ رنگ برنگے پھلوں، تازہ سبزیوں اور فائبر سے بھرپور اجزاء سے سجی تھی، وہ رات کے دوران شاذ و نادر ہی جاگے اور زیادہ وقت گہری نیند میں رہے۔</p>
<p>ماہرین نے اس تحقیق میں صحت مند نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی روزمرہ غذا ایک موبائل ایپ میں درج کریں، جبکہ ان کی نیند پر نظر رکھنے کے لیے کلائی پر ایسے آلات پہنائے گئے جو نیند کے دورانیے اور معیار کو ریکارڈ کرتے تھے۔ ماہرین نے خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا کہ رات کے دوران کوئی شخص کتنی مرتبہ نیند سے جاگتا ہے یا ہلکی اور گہری نیند کے درمیان کتنی بار تبدیلی آتی ہے۔</p>
<p>اس ریسرچ میں جن افراد نے روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ سرونگز  پھل اور سبزیاں کھائیں، ان کی نیند کے معیار میں 16 فیصد بہتری دیکھی گئی، اور یہ فرق صرف چوبیس گھنٹوں میں واضح ہو گیا۔ ڈاکٹر اسما تسالی کے مطابق سولہ فیصد بہتری ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ فرق اتنے قلیل وقت میں نظر آیا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میری پیئر سینٹ اونج کا کہنا ہے کہ معمولی سی تبدیلیاں بھی نیند پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  یہ جان کر حوصلہ ملتا ہے کہ بہتر نیند ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>ماہرین اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا غذا براہِ راست نیند کو بہتر بناتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی حیاتیاتی عمل کارفرما ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج واضح ہیں کہ جتنی رنگین آپ کی پلیٹ ہوگی، اتنے میٹھے ہوں گے آپ کے خواب ہونگے،  یعنی یہ نہ صرف جسم بلکہ دماغ اور نیند کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30489180</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 12:56:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/27124344a4ee1fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/27124344a4ee1fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈے فریج میں رکھیں یا نہیں؟ محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30489197/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈے ہماری روزمرہ غذا کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ناشتے میں آملیٹ ہو یا بیکنگ کے لیے کیک، ان کے بغیر بہت سی ترکیبیں ادھوری لگتی ہیں۔ لیکن ایک سادہ سا سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ کیا انڈوں کو فریج میں رکھنا چاہیے یا کمرے کے درجہ حرارت پر؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تحقیق جو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.researchgate.net/publication/284471186_Effect_of_storage_time_and_temperature_on_the_quality_characteristics_of_chicken_eggs"&gt;ریسرچ گیٹ&lt;/a&gt; میں شائع ہوئی، اس میں مختلف درجہ حرارت پر انڈوں کے معیار اور بیکٹیریا کے خطرے کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ فریج میں رکھے گئے انڈوں کی زردی زیادہ گاڑھی رہتی ہے اور سفید حصہ تازہ محسوس ہوتا ہے، جبکہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے انڈوں کا معیار وقت کے ساتھ کم ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC8429434/?utm_source=chatgpt.com"&gt;نیشنل لائبریری آف میڈیسن&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر انڈے زیادہ درجہ حرارت پر رکھے جائیں یا ٹھنڈے انڈوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر لایا جائے تو ان پر نمی بن سکتی ہے، جس سے سالمونیلا جیسے بیکٹیریا کے انڈے کے اندر داخل ہونے یا بڑھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پچیس ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھے گئے انڈوں سے چوہوں میں بیماری پائی گئی، جبکہ پانچ ڈگری پر رکھے گئے انڈوں سے ایسا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے محکمہ زراعت اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن دونوں کا کہنا ہے کہ انڈوں کو چالیس فارن ہائیٹ یعنی چار ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم درجہ حرارت پر رکھا جائے تاکہ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/271440567e9b340.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/271440567e9b340.webp'  alt='  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزمرہ استعمال کے لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ انڈوں کو ہمیشہ ان کے ڈبے میں ہی رکھیں تاکہ وہ دوسرے کھانوں کی بو جذب نہ کریں۔ فریج کے دروازے میں رکھنے سے گریز کریں کیونکہ وہاں درجہ حرارت میں زیادہ تبدیلی آتی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30489180/"&gt;گولیاں نہ کھائیں، پرسکون اور گہری نیند کا راز آپ کی پلیٹ میں موجود ہے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کچھ ممالک میں انڈوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا عام بات ہے، مگر سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ یہی ہے کہ انہیں فریج میں رکھا جائے۔ درست ذخیرہ انڈوں کی تازگی، ذائقہ اور غذائیت کو برقرار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈے-محفوظ-رکھنے-کے-بہترین-طریقے" href="#انڈے-محفوظ-رکھنے-کے-بہترین-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انڈے محفوظ رکھنے کے بہترین طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;انڈے محفوظ رکھنے کے لیے چند آسان باتوں کا خیال رکھیں۔ انڈے ہمیشہ اپنے اصل ڈبے میں رکھیں تاکہ وہ دوسری چیزوں کی بو نہ کھینچیں اور تاریخ بھی واضح رہے۔ انہیں فریج کے اندرونی حصے میں رکھیں، دروازے میں نہیں، کیونکہ درجہ حرارت میں تبدیلی ان کے خراب ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریج کا درجہ حرارت 40 چالیس فارن ہائیٹ یا اس سے کم رکھنا بہتر ہے تاکہ انڈے زیادہ دیر تازہ رہیں۔ بازار سے خریدے گئے انڈے دھو کر نہ رکھیں کیونکہ اس سے ان کی قدرتی حفاظتی تہہ اتر جاتی ہے۔ پہلے پرانے انڈے استعمال کریں تاکہ تازگی برقرار رہے، اور اگر انڈے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے ہوں تو انہیں جلد استعمال کریں یا فریج میں رکھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;فریج سے نکالے گئے انڈے زیادہ دیر باہر نہ رہنے دیں، دو گھنٹے سے زیادہ نہیں، اور اگر موسم گرم ہو تو ایک گھنٹے کے اندر استعمال کریں۔ زیادہ دنوں کے لیے رکھنے ہوں تو انڈے فریز کریں لیکن چھلکوں سمیت نہیں، کیونکہ ان کے اندر موجود مائع جم کر پھیل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیکنگ یا پکانے سے پہلے انڈے صرف استعمال سے کچھ دیر پہلے باہر نکالیں تاکہ وہ کمرے کے درجہ حرارت پر آجائیں۔ اگر انڈے سے بدبو آئے، یا زردی اور سفیدی کا رنگ بدلا ہوا لگے، تو فوراً پھینک دیں، کیونکہ خراب انڈے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈے ہماری روزمرہ غذا کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ناشتے میں آملیٹ ہو یا بیکنگ کے لیے کیک، ان کے بغیر بہت سی ترکیبیں ادھوری لگتی ہیں۔ لیکن ایک سادہ سا سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ کیا انڈوں کو فریج میں رکھنا چاہیے یا کمرے کے درجہ حرارت پر؟</strong></p>
<p>ایک تحقیق جو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.researchgate.net/publication/284471186_Effect_of_storage_time_and_temperature_on_the_quality_characteristics_of_chicken_eggs">ریسرچ گیٹ</a> میں شائع ہوئی، اس میں مختلف درجہ حرارت پر انڈوں کے معیار اور بیکٹیریا کے خطرے کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ فریج میں رکھے گئے انڈوں کی زردی زیادہ گاڑھی رہتی ہے اور سفید حصہ تازہ محسوس ہوتا ہے، جبکہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے انڈوں کا معیار وقت کے ساتھ کم ہونے لگتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC8429434/?utm_source=chatgpt.com">نیشنل لائبریری آف میڈیسن</a> میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر انڈے زیادہ درجہ حرارت پر رکھے جائیں یا ٹھنڈے انڈوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر لایا جائے تو ان پر نمی بن سکتی ہے، جس سے سالمونیلا جیسے بیکٹیریا کے انڈے کے اندر داخل ہونے یا بڑھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پچیس ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھے گئے انڈوں سے چوہوں میں بیماری پائی گئی، جبکہ پانچ ڈگری پر رکھے گئے انڈوں سے ایسا نہیں ہوا۔</p>
<p>امریکہ کے محکمہ زراعت اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن دونوں کا کہنا ہے کہ انڈوں کو چالیس فارن ہائیٹ یعنی چار ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم درجہ حرارت پر رکھا جائے تاکہ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/271440567e9b340.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/10/271440567e9b340.webp'  alt='  ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>روزمرہ استعمال کے لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ انڈوں کو ہمیشہ ان کے ڈبے میں ہی رکھیں تاکہ وہ دوسرے کھانوں کی بو جذب نہ کریں۔ فریج کے دروازے میں رکھنے سے گریز کریں کیونکہ وہاں درجہ حرارت میں زیادہ تبدیلی آتی رہتی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30489180/">گولیاں نہ کھائیں، پرسکون اور گہری نیند کا راز آپ کی پلیٹ میں موجود ہے</a></p>
<p>اگرچہ کچھ ممالک میں انڈوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنا عام بات ہے، مگر سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ یہی ہے کہ انہیں فریج میں رکھا جائے۔ درست ذخیرہ انڈوں کی تازگی، ذائقہ اور غذائیت کو برقرار رکھتا ہے۔</p>
<h1><a id="انڈے-محفوظ-رکھنے-کے-بہترین-طریقے" href="#انڈے-محفوظ-رکھنے-کے-بہترین-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انڈے محفوظ رکھنے کے بہترین طریقے</strong></h1>
<p>انڈے محفوظ رکھنے کے لیے چند آسان باتوں کا خیال رکھیں۔ انڈے ہمیشہ اپنے اصل ڈبے میں رکھیں تاکہ وہ دوسری چیزوں کی بو نہ کھینچیں اور تاریخ بھی واضح رہے۔ انہیں فریج کے اندرونی حصے میں رکھیں، دروازے میں نہیں، کیونکہ درجہ حرارت میں تبدیلی ان کے خراب ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>فریج کا درجہ حرارت 40 چالیس فارن ہائیٹ یا اس سے کم رکھنا بہتر ہے تاکہ انڈے زیادہ دیر تازہ رہیں۔ بازار سے خریدے گئے انڈے دھو کر نہ رکھیں کیونکہ اس سے ان کی قدرتی حفاظتی تہہ اتر جاتی ہے۔ پہلے پرانے انڈے استعمال کریں تاکہ تازگی برقرار رہے، اور اگر انڈے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے ہوں تو انہیں جلد استعمال کریں یا فریج میں رکھ دیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>فریج سے نکالے گئے انڈے زیادہ دیر باہر نہ رہنے دیں، دو گھنٹے سے زیادہ نہیں، اور اگر موسم گرم ہو تو ایک گھنٹے کے اندر استعمال کریں۔ زیادہ دنوں کے لیے رکھنے ہوں تو انڈے فریز کریں لیکن چھلکوں سمیت نہیں، کیونکہ ان کے اندر موجود مائع جم کر پھیل سکتا ہے۔</p>
<p>بیکنگ یا پکانے سے پہلے انڈے صرف استعمال سے کچھ دیر پہلے باہر نکالیں تاکہ وہ کمرے کے درجہ حرارت پر آجائیں۔ اگر انڈے سے بدبو آئے، یا زردی اور سفیدی کا رنگ بدلا ہوا لگے، تو فوراً پھینک دیں، کیونکہ خراب انڈے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30489197</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 14:41:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/27141452c79243f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/27141452c79243f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کو الرجی سے بچانے کے لیے مونگ پھلی کب کھلائی جائے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30488179/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک دہائی قبل شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مطالعے نے ثابت کیا تھا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی یا مونگ پھلی سے بنی مصنوعات کھلانے سے مستقبل میں جان لیوا الرجی ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اب نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس سفارش پر عمل کرنے سے حقیقت میں بھی  کئی بچوں کو فائدہ پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/peanut-allergy-children-infants-anaphylaxis-9a6df6377a622d05e47c340c5a9cffc8"&gt;  ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/a&gt;  میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 امریکہ میں بچوں کو صرف 4 ماہ کی عمر سے مونگ پھلی دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد  پیدائش سے  3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد سے زیادہ کم ہوئی اور 2017 میں سفارشات کو بڑھانے کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے زائد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30487348/"&gt;باتھ روم کے شاور میں موجود ہزاروں جراثیم، جو پانی کھولتے ہی آپ پر برس پڑتے ہیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 40,000 بچے مونگ پھلی الرجی سے بچ گئے، جبکہ آج بھی تقریباً 8 فیصد بچوں کو کسی نہ کسی خوراک سے الرجی ہے۔ جن میں سے 2 فیصد سے زائد کو مونگ پھلی الرجی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ڈیوڈ ہل، الرجی ماہر اور فلڈیلفیا کے چائلڈرن ہسپتال کے محقق کا کہنا ہے کہ، ’ہم آج کہہ سکتے ہیں کہ اس پبلک ہیلتھ اقدام کی وجہ سے اب زیادہ بچے خوراک کی الرجی کا شکار نہیں ہو رہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30487799/"&gt;ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرانے وقتوں میں ڈاکٹر بچوں کو مونگ پھلی اور دیگر الرجی پیدا کرنے والی غذائیں 3 سال کی عمر تک دینے سے منع کرتے تھے۔ مگر 2015 میں کنگز کالج لندن کے محقق گیڈین لیک نے ”Learning Early About Peanut Allergy (LEAP)“ مطالعے کے ذریعے ثابت کیا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی مصنوعات دینے سے مستقبل میں الرجی کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتداء میں والدین اور ڈاکٹر دونوں اس نئے طریقے پر عمل کرنے میں محتاط تھے کیونکہ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے 2017 میں توسیع شدہ سفارشات کے باوجود، صرف تقریباً 29 فیصد پیڈیاٹریشنز اور 65 فیصد الرجی ماہرین نے اس پر عمل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;2021 میں سفارشات میں مزید وضاحت کی گئی کہ بچوں کو 4 سے 6 ماہ کی عمر کے دوران مونگ پھلی اور دیگر اہم الرجی پیدا کرنے والی غذائیں بغیر کسی ابتدائی ٹیسٹ کے متعارف کرائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ہل نے کہا، ’بچوں کو تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی کا مکھن، دودھ یا سویا بیسڈ دہی دینا محفوظ طریقہ ہے جس سے مدافعتی نظام کو غذائی الرجین سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری لینڈ کی ڈائٹیشن ٹیفنی لیون نے بھی اپنے دو بچوں کو وقت سے پہلے مونگ پھلی دی اور کہا کہ یہ مکمل طور پر محفوظ اور فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ وقت پر مونگ پھلی متعارف کرانے سے بچوں میں الرجی کے خطرات میں نمایاں کمی ممکن ہے لیکن والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک کے حوالے سے پیڈیاٹریشن سے مشورہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک دہائی قبل شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مطالعے نے ثابت کیا تھا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی یا مونگ پھلی سے بنی مصنوعات کھلانے سے مستقبل میں جان لیوا الرجی ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اب نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس سفارش پر عمل کرنے سے حقیقت میں بھی  کئی بچوں کو فائدہ پہنچا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/peanut-allergy-children-infants-anaphylaxis-9a6df6377a622d05e47c340c5a9cffc8">  ایسوسی ایٹڈ پریس</a>  میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 امریکہ میں بچوں کو صرف 4 ماہ کی عمر سے مونگ پھلی دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد  پیدائش سے  3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد سے زیادہ کم ہوئی اور 2017 میں سفارشات کو بڑھانے کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے زائد ہو گئی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30487348/">باتھ روم کے شاور میں موجود ہزاروں جراثیم، جو پانی کھولتے ہی آپ پر برس پڑتے ہیں</a></p>
<p>تقریباً 40,000 بچے مونگ پھلی الرجی سے بچ گئے، جبکہ آج بھی تقریباً 8 فیصد بچوں کو کسی نہ کسی خوراک سے الرجی ہے۔ جن میں سے 2 فیصد سے زائد کو مونگ پھلی الرجی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر ڈیوڈ ہل، الرجی ماہر اور فلڈیلفیا کے چائلڈرن ہسپتال کے محقق کا کہنا ہے کہ، ’ہم آج کہہ سکتے ہیں کہ اس پبلک ہیلتھ اقدام کی وجہ سے اب زیادہ بچے خوراک کی الرجی کا شکار نہیں ہو رہے۔‘</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30487799/">ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم </a></p>
<p>پرانے وقتوں میں ڈاکٹر بچوں کو مونگ پھلی اور دیگر الرجی پیدا کرنے والی غذائیں 3 سال کی عمر تک دینے سے منع کرتے تھے۔ مگر 2015 میں کنگز کالج لندن کے محقق گیڈین لیک نے ”Learning Early About Peanut Allergy (LEAP)“ مطالعے کے ذریعے ثابت کیا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی مصنوعات دینے سے مستقبل میں الرجی کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ابتداء میں والدین اور ڈاکٹر دونوں اس نئے طریقے پر عمل کرنے میں محتاط تھے کیونکہ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے 2017 میں توسیع شدہ سفارشات کے باوجود، صرف تقریباً 29 فیصد پیڈیاٹریشنز اور 65 فیصد الرجی ماہرین نے اس پر عمل کیا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>2021 میں سفارشات میں مزید وضاحت کی گئی کہ بچوں کو 4 سے 6 ماہ کی عمر کے دوران مونگ پھلی اور دیگر اہم الرجی پیدا کرنے والی غذائیں بغیر کسی ابتدائی ٹیسٹ کے متعارف کرائی جائیں۔</p>
<p>ڈاکٹر ہل نے کہا، ’بچوں کو تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی کا مکھن، دودھ یا سویا بیسڈ دہی دینا محفوظ طریقہ ہے جس سے مدافعتی نظام کو غذائی الرجین سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔‘</p>
<p>میری لینڈ کی ڈائٹیشن ٹیفنی لیون نے بھی اپنے دو بچوں کو وقت سے پہلے مونگ پھلی دی اور کہا کہ یہ مکمل طور پر محفوظ اور فائدہ مند ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ وقت پر مونگ پھلی متعارف کرانے سے بچوں میں الرجی کے خطرات میں نمایاں کمی ممکن ہے لیکن والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک کے حوالے سے پیڈیاٹریشن سے مشورہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30488179</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 14:28:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/21140332c9fb8ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/21140332c9fb8ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف کیلشیم نہیں، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ غذائیں بھی ضروری ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30488155/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدیوں سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ دودھ پینا ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق اور ماہرین کے مطابق کیلشیم اکیلا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے متعدد غذائی اجزاء اور صحت مند عادات ضروری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کیلشیم ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ انسانی ڈھانچے کے پیچیدہ نظام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30487830/"&gt;
&lt;strong&gt;ہارٹ اٹیک سے قبل دکھنے والی 4 بڑی علامات، جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری ہڈیاں وہ متحرک ڈھانچے ہیں جو اپنی طاقت اور لچک برقرار رکھنے کے لیے کئی غذائی اجزاء پر منحصر ہوتی ہیں، جن میں وٹامن ڈی، میگنیشیم، پروٹین اور وٹامن کے 2 شامل ہیں۔ اگر یہ غذائی اجزاء موجود نہ ہوں تو سب سے بہترین کیلشیم بھی ہڈیوں کی مکمل حفاظت نہیں کر پائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہڈیوں کے ڈھانچے میں تقریباً 50 فیصد پروٹین اور باقی کیلشیم اور پانی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے کیلشیم کے ساتھ پروٹین، وٹامن ڈی3، وٹامن کے2، میگنیشیم اور فاسفورس جیسے اجزاء بھی ضروری ہیں تاکہ ہڈیاں مضبوط اور لچکدار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news18.com/lifestyle/health-and-fitness/more-than-calcium-heres-what-your-bones-actually-need-to-stay-strong-ws-l-9646033.html"&gt;نیوز18&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق مانیپال اسپتال، گووا آرٹھوپیڈک اور ٹراما سرجن، ڈاکٹر سوشانت کہتے ہیں، ’وٹامن ڈی3 کیلشیم کو آنتوں سے ہڈیوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور پروٹین خاص طور پر کولیجن ہڈیوں کی مرمت اور ساخت کے لیے نہایت اہم ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30487799/"&gt;ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹامن کے 2 وٹامن ڈی3 کے ساتھ مل کر نرم ٹشو یا خون میں جمع ہونے کی بجائے کیلشیم کو ہڈیوں میں جمع ہونے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اجزاء فرمنٹڈ غذائیں اور خاص قسم کے پنیر میں پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میگنیشیم، جو سبز پتوں والی سبزیوں، گری دار میوے اور مکمل اناج میں موجود ہوتا ہے، وٹامن ڈی کو فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح کیلشیم اور دیگر معدنیات کے توازن کے لیے کیلا اور آلو جیسے غذائی اجزاء بھی مفید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سمارتھ آریا، آرٹھوپیڈکس کنسلٹنٹ، مانیپال اسپتال، اولڈ ایئرپورٹ روڈ کہتے ہیں، ’چھوٹی عمر سے متوازن غذائیت ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور اوسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;صحت مند ہڈیوں کے لیے صرف غذا کافی نہیں۔ وزن اٹھانے والی ورزشیں جیسے چلنا، دوڑنا اور ریزسٹنس ٹریننگ ہڈیوں کی ساخت کو مضبوط کرتی ہیں۔ اس کے برعکس نمک کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کیلشیم کے جذب کو متاثر کر کے ہڈیوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط ہڈیوں کے لیے روزانہ  ایک گلاس دودھ پینا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی ایک مکمل توازن ہے جو کیلشیم، دیگر ضروری غذائی اجزاء اور صحت مند طرز زندگی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبز پتوں والی سبزیاں، گری دار میوے، مچھلی، فرمنٹڈ غذائیں، مناسب ورزش اور ذہنی و جسمانی توازن ہڈیوں کو طویل عرصے تک مضبوط اور لچکدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدیوں سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ دودھ پینا ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق اور ماہرین کے مطابق کیلشیم اکیلا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے متعدد غذائی اجزاء اور صحت مند عادات ضروری ہیں۔</strong></p>
<p>اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کیلشیم ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ انسانی ڈھانچے کے پیچیدہ نظام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30487830/">
<strong>ہارٹ اٹیک سے قبل دکھنے والی 4 بڑی علامات، جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں</strong></a></p>
<p>ہماری ہڈیاں وہ متحرک ڈھانچے ہیں جو اپنی طاقت اور لچک برقرار رکھنے کے لیے کئی غذائی اجزاء پر منحصر ہوتی ہیں، جن میں وٹامن ڈی، میگنیشیم، پروٹین اور وٹامن کے 2 شامل ہیں۔ اگر یہ غذائی اجزاء موجود نہ ہوں تو سب سے بہترین کیلشیم بھی ہڈیوں کی مکمل حفاظت نہیں کر پائے گا۔</p>
<p>ہڈیوں کے ڈھانچے میں تقریباً 50 فیصد پروٹین اور باقی کیلشیم اور پانی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے کیلشیم کے ساتھ پروٹین، وٹامن ڈی3، وٹامن کے2، میگنیشیم اور فاسفورس جیسے اجزاء بھی ضروری ہیں تاکہ ہڈیاں مضبوط اور لچکدار رہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news18.com/lifestyle/health-and-fitness/more-than-calcium-heres-what-your-bones-actually-need-to-stay-strong-ws-l-9646033.html">نیوز18</a> کی رپورٹ کے مطابق مانیپال اسپتال، گووا آرٹھوپیڈک اور ٹراما سرجن، ڈاکٹر سوشانت کہتے ہیں، ’وٹامن ڈی3 کیلشیم کو آنتوں سے ہڈیوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور پروٹین خاص طور پر کولیجن ہڈیوں کی مرمت اور ساخت کے لیے نہایت اہم ہے۔‘</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30487799/">ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم </a></p>
<p>وٹامن کے 2 وٹامن ڈی3 کے ساتھ مل کر نرم ٹشو یا خون میں جمع ہونے کی بجائے کیلشیم کو ہڈیوں میں جمع ہونے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اجزاء فرمنٹڈ غذائیں اور خاص قسم کے پنیر میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>میگنیشیم، جو سبز پتوں والی سبزیوں، گری دار میوے اور مکمل اناج میں موجود ہوتا ہے، وٹامن ڈی کو فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح کیلشیم اور دیگر معدنیات کے توازن کے لیے کیلا اور آلو جیسے غذائی اجزاء بھی مفید ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر سمارتھ آریا، آرٹھوپیڈکس کنسلٹنٹ، مانیپال اسپتال، اولڈ ایئرپورٹ روڈ کہتے ہیں، ’چھوٹی عمر سے متوازن غذائیت ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور اوسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔‘</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>صحت مند ہڈیوں کے لیے صرف غذا کافی نہیں۔ وزن اٹھانے والی ورزشیں جیسے چلنا، دوڑنا اور ریزسٹنس ٹریننگ ہڈیوں کی ساخت کو مضبوط کرتی ہیں۔ اس کے برعکس نمک کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کیلشیم کے جذب کو متاثر کر کے ہڈیوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مضبوط ہڈیوں کے لیے روزانہ  ایک گلاس دودھ پینا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی ایک مکمل توازن ہے جو کیلشیم، دیگر ضروری غذائی اجزاء اور صحت مند طرز زندگی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سبز پتوں والی سبزیاں، گری دار میوے، مچھلی، فرمنٹڈ غذائیں، مناسب ورزش اور ذہنی و جسمانی توازن ہڈیوں کو طویل عرصے تک مضبوط اور لچکدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30488155</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 12:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/2112363313e3ace.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/2112363313e3ace.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں کوئلے سے کھانا بنانے پر پابندی، محفوظ طریقے سے بار بی کیو کیسے بنائیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30487336/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے ریسٹورنٹس میں لکڑی اور کوئلے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تحفظِ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/"&gt;
&lt;strong&gt;صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں تمام ریسٹورنٹ مالکان کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے جس کے دوران وہ اپنے کچن اور باربی کیو ایریاز میں جدید ”سکشن ہُوڈز“ نصب کریں تاکہ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کا اخراج کم سے کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جو سردیوں میں اسموگ کی شدت میں اضافے کا بڑا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گرلنگ-کا-ذائقہ-یا-صحت-کا-خطرہ" href="#گرلنگ-کا-ذائقہ-یا-صحت-کا-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گرلنگ کا ذائقہ یا صحت کا خطرہ؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گوشت کو خاص طور پر کوئلے یا کھلی آگ پرگرل کرنا،  نہ صرف ذائقے میں اضافہ کرتا ہے  بلکہ اسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ مگر حالیہ تحقیق کے مطابق، یہ ذائقہ بعض اوقات صحت کے سنگین خطرات بھی ساتھ لاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت یا شعلے پر گوشت پکانے سے ایسے کیمیائی مادے بنتے ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر پیدا کر سکتے ہیں، جیسے آنت، لبلبہ، پروسٹیٹ اور ملاشی کا کینسر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30487307/"&gt;مٹھائیوں پر لگایا جانے والا چاندی کا ورق ’نان ویجیٹیرین‘ ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا سے منسلک ڈاکٹر ڈینیئل کہتے ہیں، ’یہ خطرہ ایک بار گوشت کھانے سے نہیں ہوتا، بلکہ طویل عرصے تک بار بار ایسے طریقے سے گوشت پکانے سے جسم میں زہریلے مادوں کا جمع ہونا پریشانی کن ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گرلنگ-کو-محفوظ-بنانے-کے-آسان-طریقے" href="#گرلنگ-کو-محفوظ-بنانے-کے-آسان-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گرلنگ کو محفوظ بنانے کے آسان طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق آپ کو گرل گوشت سے مکمل پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند آسان تدابیر اپنا کر اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گوشت-کو-میرینیٹ-کریں" href="#گوشت-کو-میرینیٹ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گوشت کو میرینیٹ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کو مصالحے اور دہی یا لیموں جیسے اجزاء میں کم از کم 30 منٹ تک میری نیٹ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس عمل سے کینسر پیدا کرنے والے مرکبات کی مقدار میں 90٪ تک کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گوشت-کو-بار-بار-پلٹیں" href="#گوشت-کو-بار-بار-پلٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گوشت کو بار بار پلٹیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گوشت کو یکساں طور پر پکانے اور جلنے سے بچانے کے لیے اسے وقفے وقفے سے پلٹتے رہیں، تاکہ ایک طرف کا حصہ زیادہ نہ جلے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="براہِ-راست-شعلے-سے-گریز-کریں" href="#براہِ-راست-شعلے-سے-گریز-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;براہِ راست شعلے سے گریز کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;براہِ راست کوئلے یا گیس کی آگ پر پکانے کے بجائے ”ان ڈائریکٹ گرلنگ“  اپنائیں۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو پہلے اوون میں ہلکا سا پکا لیں، پھر آخر میں مختصر وقت کے لیے گرل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جلے-ہوئے-حصے-نکال-دیں" href="#جلے-ہوئے-حصے-نکال-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جلے ہوئے حصے نکال دیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گرلنگ کے دوران اگر گوشت کا کوئی حصہ جل جائے یا اس پر کالک جم جائے تو اسے فوراً کاٹ دیں۔ ایسی باقیات میں زہریلے مادے زیادہ ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کم-چکنائی-والا-گوشت-استعمال-کریں" href="#کم-چکنائی-والا-گوشت-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کم چکنائی والا گوشت استعمال کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چکن یا مچھلی جیسے گوشت میں چربی کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گرل کرتے وقت شعلے پر چکنائی ٹپکنے کا امکان کم ہوتا ہے، اور زہریلا دھواں نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="درمیانی-آنچ-کا-استعمال-کریں" href="#درمیانی-آنچ-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;درمیانی آنچ کا استعمال کریں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تیز آگ کے بجائے اعتدال درجہ حرارت کو ترجیح دیں۔ مستقل اور درمیانی آنچ گوشت کو بہتر طریقے سے پکاتی ہے اور نقصان دہ مرکبات کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ صرف کھانے کا معیار ہی نہیں بلکہ پکانے کا طریقہ بھی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ تیز آنچ یا بار بار فرائنگ سے نہ صرف گوشت کے غذائی اجزاء متاثر ہوتے ہیں بلکہ مہلک بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ابال کر، بھاپ میں یا ہلکی آنچ پر تیار کردہ کھانے نہ صرف محفوظ بلکہ جسم کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں کے موسم میں اسموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک بلند شعلے پر پکایا جانے والا کھانا بھی ہے، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ، پی ایم 2.5ذرات اور دیگر خطرناک گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی تازہ کارروائی نہ صرف صحت بلکہ فضا کی صفائی کے لیے بھی اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے ریسٹورنٹس میں لکڑی اور کوئلے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ تحفظِ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/">
<strong>صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟</strong></a></p>
<p>نوٹیفکیشن میں تمام ریسٹورنٹ مالکان کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے جس کے دوران وہ اپنے کچن اور باربی کیو ایریاز میں جدید ”سکشن ہُوڈز“ نصب کریں تاکہ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کا اخراج کم سے کم ہو۔</p>
<p>یہ اقدام شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جو سردیوں میں اسموگ کی شدت میں اضافے کا بڑا سبب بنتا ہے۔</p>
<h1><a id="گرلنگ-کا-ذائقہ-یا-صحت-کا-خطرہ" href="#گرلنگ-کا-ذائقہ-یا-صحت-کا-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گرلنگ کا ذائقہ یا صحت کا خطرہ؟</strong></h1>
<p>گوشت کو خاص طور پر کوئلے یا کھلی آگ پرگرل کرنا،  نہ صرف ذائقے میں اضافہ کرتا ہے  بلکہ اسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ مگر حالیہ تحقیق کے مطابق، یہ ذائقہ بعض اوقات صحت کے سنگین خطرات بھی ساتھ لاتا ہے۔</p>
<p>امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت یا شعلے پر گوشت پکانے سے ایسے کیمیائی مادے بنتے ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر پیدا کر سکتے ہیں، جیسے آنت، لبلبہ، پروسٹیٹ اور ملاشی کا کینسر۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30487307/">مٹھائیوں پر لگایا جانے والا چاندی کا ورق ’نان ویجیٹیرین‘ ہے؟</a></p>
<p>یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا سے منسلک ڈاکٹر ڈینیئل کہتے ہیں، ’یہ خطرہ ایک بار گوشت کھانے سے نہیں ہوتا، بلکہ طویل عرصے تک بار بار ایسے طریقے سے گوشت پکانے سے جسم میں زہریلے مادوں کا جمع ہونا پریشانی کن ہے۔‘</p>
<h1><a id="گرلنگ-کو-محفوظ-بنانے-کے-آسان-طریقے" href="#گرلنگ-کو-محفوظ-بنانے-کے-آسان-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گرلنگ کو محفوظ بنانے کے آسان طریقے</strong></h1>
<p>اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق آپ کو گرل گوشت سے مکمل پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند آسان تدابیر اپنا کر اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="گوشت-کو-میرینیٹ-کریں" href="#گوشت-کو-میرینیٹ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گوشت کو میرینیٹ کریں</strong></h1>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کو مصالحے اور دہی یا لیموں جیسے اجزاء میں کم از کم 30 منٹ تک میری نیٹ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس عمل سے کینسر پیدا کرنے والے مرکبات کی مقدار میں 90٪ تک کمی آ سکتی ہے۔</p>
<h1><a id="گوشت-کو-بار-بار-پلٹیں" href="#گوشت-کو-بار-بار-پلٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گوشت کو بار بار پلٹیں</strong></h1>
<p>گوشت کو یکساں طور پر پکانے اور جلنے سے بچانے کے لیے اسے وقفے وقفے سے پلٹتے رہیں، تاکہ ایک طرف کا حصہ زیادہ نہ جلے۔</p>
<h1><a id="براہِ-راست-شعلے-سے-گریز-کریں" href="#براہِ-راست-شعلے-سے-گریز-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>براہِ راست شعلے سے گریز کریں</strong></h1>
<p>براہِ راست کوئلے یا گیس کی آگ پر پکانے کے بجائے ”ان ڈائریکٹ گرلنگ“  اپنائیں۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو پہلے اوون میں ہلکا سا پکا لیں، پھر آخر میں مختصر وقت کے لیے گرل کریں۔</p>
<h1><a id="جلے-ہوئے-حصے-نکال-دیں" href="#جلے-ہوئے-حصے-نکال-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جلے ہوئے حصے نکال دیں</strong></h1>
<p>گرلنگ کے دوران اگر گوشت کا کوئی حصہ جل جائے یا اس پر کالک جم جائے تو اسے فوراً کاٹ دیں۔ ایسی باقیات میں زہریلے مادے زیادہ ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="کم-چکنائی-والا-گوشت-استعمال-کریں" href="#کم-چکنائی-والا-گوشت-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کم چکنائی والا گوشت استعمال کریں</strong></h1>
<p>چکن یا مچھلی جیسے گوشت میں چربی کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گرل کرتے وقت شعلے پر چکنائی ٹپکنے کا امکان کم ہوتا ہے، اور زہریلا دھواں نہیں بنتا۔</p>
<h1><a id="درمیانی-آنچ-کا-استعمال-کریں" href="#درمیانی-آنچ-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>درمیانی آنچ کا استعمال کریں</h1>
<p>زیادہ تیز آگ کے بجائے اعتدال درجہ حرارت کو ترجیح دیں۔ مستقل اور درمیانی آنچ گوشت کو بہتر طریقے سے پکاتی ہے اور نقصان دہ مرکبات کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ صرف کھانے کا معیار ہی نہیں بلکہ پکانے کا طریقہ بھی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ تیز آنچ یا بار بار فرائنگ سے نہ صرف گوشت کے غذائی اجزاء متاثر ہوتے ہیں بلکہ مہلک بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ابال کر، بھاپ میں یا ہلکی آنچ پر تیار کردہ کھانے نہ صرف محفوظ بلکہ جسم کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>سردیوں کے موسم میں اسموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک بلند شعلے پر پکایا جانے والا کھانا بھی ہے، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ، پی ایم 2.5ذرات اور دیگر خطرناک گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی تازہ کارروائی نہ صرف صحت بلکہ فضا کی صفائی کے لیے بھی اہم قدم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30487336</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 14:40:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/16114245697a9a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/16114245697a9a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مٹھائیوں پر لگایا جانے والا چاندی کا ورق ’نان ویجیٹیرین‘ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30487307/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میٹھوں میں چاندی کے پتلے ورق کا استعمال ایک عام روایت ہے، جو انہیں نہ صرف خوبصورت بناتا ہے بلکہ تہواروں کی شان بھی بڑھاتا ہے۔ مگر کیا یہ چاندی کا ورق غیر نباتاتی (نان ویجیٹیرین) ہوتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاندی کا ورق،  ایک انتہائی باریک چاندی کی پرت ہوتی ہے جو کھانے کے لیے بالکل محفوظ، بے رنگ اور بے ذائقہ ہوتا ہے۔ یہ میٹھے کی ظاہری خوبصورتی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ میٹھا زیادہ دلکش اور شاندار لگے۔ یہ ورق اتنا باریک ہوتا ہے کہ صرف ایک سانس سے بھی یہ پھٹ سکتا ہے، اس لیے اسے خاص کاغذ کے بیچ میں رکھا جاتا ہے تاکہ نقصان نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486666/"&gt;&lt;strong&gt;بنا آنسوؤں کے پیاز کاٹنے کا طریقہ، سائنس نے معمہ حل کرلیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چاندی-کا-ورق-پہلے-کیسے-بنتا-تھا" href="#چاندی-کا-ورق-پہلے-کیسے-بنتا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;چاندی کا ورق پہلے کیسے بنتا تھا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر چاندی کا ورق بنانے کے لیے خالص چاندی کو دھات کے پتلے ورق میں پیسا جاتا تھا۔ مگر ایک بات جو سبزی خوروں کے لیے تشویش کا باعث بنی، وہ یہ تھی کہ ورق بنانے کے عمل میں جانوروں کی جلد یا گٹ (مثلاً بیل یا گائے کی کھال) استعمال ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جانوروں کے یہ حصے چاندی کو آسانی سے پتلا اور ورق میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کیوں-سبزی-خوروں-کو-مسئلہ-تھا" href="#کیوں-سبزی-خوروں-کو-مسئلہ-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیوں سبزی خوروں کو مسئلہ تھا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ جانوروں کی جلد کا استعمال سبزی خوروں کے لیے ناقابل قبول تھا کیونکہ وہ جانوروں سے بنے کسی بھی چیز کو نہیں کھاتے۔ لہٰذا، چاندی کے ورق والے میٹھے خاص طور پر تہواروں کے دوران، جن میں سبزی خور خاندان بھی شامل ہوتے ہیں، انہیں کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی۔ اس سے چاندی کے ورق والے میٹھوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486660/"&gt;
سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟ &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آج-چاندی-کا-ورق-کیسے-بنتا-ہے" href="#آج-چاندی-کا-ورق-کیسے-بنتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آج چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آج کل زیادہ تر چاندی کا ورق مشینی طریقے سے بنتا ہے جہاں جانوروں کی کوئی چیز استعمال نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے پرفارمنس کاغذ یا مصنوعی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے جو چاندی کو آسانی سے ورق میں تبدیل کرنے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔ بہت سے مشہور برانڈز صارفین کی یقین دہانی کے لئے اب چاندی کے ورق پر’نان ویجیٹیرین’  سرٹیفیکیشن بھی دیتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کیسے-یقینی-بنائیں-کہ-آپ-کا-میٹھا-نان-ویجیٹیرینہے" href="#کیسے-یقینی-بنائیں-کہ-آپ-کا-میٹھا-نان-ویجیٹیرینہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیسے یقینی بنائیں کہ آپ کا میٹھا ’نان ویجیٹیرین‘ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیبل چیک کریں:&lt;/strong&gt; زیادہ تر پیک شدہ میٹھے کے برانڈز اپنی پروڈکٹ پر چاندی کے ورق کی سبزی خور سرٹیفیکیشن ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دکاندار سے پوچھیں:&lt;/strong&gt; اگر آپ مقامی حلوائی کی دوکان  سے میٹھا خرید رہے ہیں، تو ان سے ورق کی تیاری کے بارے میں پوچھنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔ ایماندار دکاندار آپ کو وضاحت ضرور دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورق کے بغیر میٹھے کا انتخاب:&lt;/strong&gt; کچھ دکانیں بغیر چاندی کے ورق والے میٹھے بھی فروخت کرتی ہیں، جو ذائقے میں کم نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج جب آپ اپنے پسندیدہ میٹھوں پر چمکتی ہوئی چاندی کا ورق دیکھیں، تو اس بات پر یقین رکھیں کہ یہ اب سبزی خوروں کے لیے بھی محفوظ اور مناسب ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کی ہدایات اور جدید تکنیکوں کی بدولت چاندی کے ورق نے اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے سبزی خوروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، اگلی بار جب آپ کسی تہوار کی مٹھائی کھائیں، تو اس کے چمکتے ہوئے چاندی کے ورق کو بغیر کسی تشویش کے لطف اندوز ہوں، کیونکہ یہ چمک اب اخلاقی اور صحت کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میٹھوں میں چاندی کے پتلے ورق کا استعمال ایک عام روایت ہے، جو انہیں نہ صرف خوبصورت بناتا ہے بلکہ تہواروں کی شان بھی بڑھاتا ہے۔ مگر کیا یہ چاندی کا ورق غیر نباتاتی (نان ویجیٹیرین) ہوتا ہے؟</strong></p>
<p>چاندی کا ورق،  ایک انتہائی باریک چاندی کی پرت ہوتی ہے جو کھانے کے لیے بالکل محفوظ، بے رنگ اور بے ذائقہ ہوتا ہے۔ یہ میٹھے کی ظاہری خوبصورتی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ میٹھا زیادہ دلکش اور شاندار لگے۔ یہ ورق اتنا باریک ہوتا ہے کہ صرف ایک سانس سے بھی یہ پھٹ سکتا ہے، اس لیے اسے خاص کاغذ کے بیچ میں رکھا جاتا ہے تاکہ نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486666/"><strong>بنا آنسوؤں کے پیاز کاٹنے کا طریقہ، سائنس نے معمہ حل کرلیا</strong></a></p>
<h1><a id="چاندی-کا-ورق-پہلے-کیسے-بنتا-تھا" href="#چاندی-کا-ورق-پہلے-کیسے-بنتا-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>چاندی کا ورق پہلے کیسے بنتا تھا؟</strong></h1>
<p>روایتی طور پر چاندی کا ورق بنانے کے لیے خالص چاندی کو دھات کے پتلے ورق میں پیسا جاتا تھا۔ مگر ایک بات جو سبزی خوروں کے لیے تشویش کا باعث بنی، وہ یہ تھی کہ ورق بنانے کے عمل میں جانوروں کی جلد یا گٹ (مثلاً بیل یا گائے کی کھال) استعمال ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جانوروں کے یہ حصے چاندی کو آسانی سے پتلا اور ورق میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے تھے۔</p>
<h1><a id="کیوں-سبزی-خوروں-کو-مسئلہ-تھا" href="#کیوں-سبزی-خوروں-کو-مسئلہ-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیوں سبزی خوروں کو مسئلہ تھا؟</strong></h1>
<p>یہ جانوروں کی جلد کا استعمال سبزی خوروں کے لیے ناقابل قبول تھا کیونکہ وہ جانوروں سے بنے کسی بھی چیز کو نہیں کھاتے۔ لہٰذا، چاندی کے ورق والے میٹھے خاص طور پر تہواروں کے دوران، جن میں سبزی خور خاندان بھی شامل ہوتے ہیں، انہیں کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی۔ اس سے چاندی کے ورق والے میٹھوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486660/">
سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟ </a></p>
<h1><a id="آج-چاندی-کا-ورق-کیسے-بنتا-ہے" href="#آج-چاندی-کا-ورق-کیسے-بنتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آج چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟</strong></h1>
<p>آج کل زیادہ تر چاندی کا ورق مشینی طریقے سے بنتا ہے جہاں جانوروں کی کوئی چیز استعمال نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے پرفارمنس کاغذ یا مصنوعی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے جو چاندی کو آسانی سے ورق میں تبدیل کرنے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔ بہت سے مشہور برانڈز صارفین کی یقین دہانی کے لئے اب چاندی کے ورق پر’نان ویجیٹیرین’  سرٹیفیکیشن بھی دیتے ہیں ۔</p>
<h1><a id="کیسے-یقینی-بنائیں-کہ-آپ-کا-میٹھا-نان-ویجیٹیرینہے" href="#کیسے-یقینی-بنائیں-کہ-آپ-کا-میٹھا-نان-ویجیٹیرینہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیسے یقینی بنائیں کہ آپ کا میٹھا ’نان ویجیٹیرین‘ہے؟</strong></h1>
<p><strong>لیبل چیک کریں:</strong> زیادہ تر پیک شدہ میٹھے کے برانڈز اپنی پروڈکٹ پر چاندی کے ورق کی سبزی خور سرٹیفیکیشن ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>دکاندار سے پوچھیں:</strong> اگر آپ مقامی حلوائی کی دوکان  سے میٹھا خرید رہے ہیں، تو ان سے ورق کی تیاری کے بارے میں پوچھنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔ ایماندار دکاندار آپ کو وضاحت ضرور دیں گے۔</p>
<p><strong>ورق کے بغیر میٹھے کا انتخاب:</strong> کچھ دکانیں بغیر چاندی کے ورق والے میٹھے بھی فروخت کرتی ہیں، جو ذائقے میں کم نہیں ہوتے۔</p>
<p>آج جب آپ اپنے پسندیدہ میٹھوں پر چمکتی ہوئی چاندی کا ورق دیکھیں، تو اس بات پر یقین رکھیں کہ یہ اب سبزی خوروں کے لیے بھی محفوظ اور مناسب ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی کی ہدایات اور جدید تکنیکوں کی بدولت چاندی کے ورق نے اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے سبزی خوروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، اگلی بار جب آپ کسی تہوار کی مٹھائی کھائیں، تو اس کے چمکتے ہوئے چاندی کے ورق کو بغیر کسی تشویش کے لطف اندوز ہوں، کیونکہ یہ چمک اب اخلاقی اور صحت کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30487307</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Oct 2025 10:51:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/16103936b9a8cd6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/16103936b9a8cd6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا روزانہ اسپغول لینا محفوظ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کی تیز رفتار زندگی، فاسٹ فوڈ، کھانے کے اوقات میں بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ نے معدے کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ گیس، قبض، بدہضمی اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تکالیف سے نجات کے لیے لوگ صدیوں پرانے ایک قدرتی نسخے ”اسپغول“ کا سہارا لیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپغول ایک قدرتی فائبر ہے اور پلانٹیگو اوویٹا کے خشک بیجوں کے چھلکے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسپغول کو پانی یا چھاچھ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر قبض کی شکایت دور کرنے میں بہت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا مگر اثر بھرپور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486787/"&gt;&lt;strong&gt;دل کے درد کی دوا سے دل کو خطرہ؟ تجربہ کار کارڈیولوجسٹ کا بڑا انکشاف&lt;/strong&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اسپغول صرف قبض کا علاج ہی نہیں بلکہ کئی دیگر طبی فوائد بھی رکھتا ہے۔ یہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے۔آنتوں کی صفائی کرتا ہے۔ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول کو کم کرنے میں مؤثر ہے اوروزن گھٹانے والوں کے لیے مفیدہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسپغول کو روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ اسپغول لینا واقعی محفوظ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق، اگر کبھی کبھار قبض کی شکایت ہو تو اسپغول لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اسے اپنا معلوم  بنالینا یا روزانہ یا طویل مدت تک استعمال کرنا حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بالکل مناسب نہیں، خاص طور پر اگر اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لیا جائے۔ اگر آپ طویل عرصے تک اسپغول یا کسی بھی بیرونی فائبر پر انحصار کرتے ہیں تو یہ آپ کے قدرتی نظامِ ہضم کو کمزور کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/"&gt;
&lt;strong&gt;صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، زیادہ فائبر لینے سے بعض اوقات جسم میں ضروری غذائی اجزاء کی جذب ہونے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور اگر اسپغول لینے کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار نہ پی جائے تو پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور قبض کی شکایت مزید بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اس-کا-طویل-مدت-تک-استعمال-کب-کرنا-چاہیے" href="#اس-کا-طویل-مدت-تک-استعمال-کب-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اس کا طویل مدت تک استعمال کب  کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر قبض شدید اور مستقل ہو، تو ڈاکٹر کے مشورے سے اسپغول کو طویل مدت تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے صحیح خوراک، استعمال کا طریقہ اور دورانیہ جاننا بہت ضروری ہے۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے طویل استعمال سے پرہیز کریں، کیونکہ اسپغول کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قدرتی-غذا-کو-ترجیح-دیں" href="#قدرتی-غذا-کو-ترجیح-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قدرتی غذا کو ترجیح دیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ دائمی قبض یا ہاضمے کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے خوراک میں بہتری لانا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔ اپنی روزمرہ غذا میں فائبر سے بھرپور سبزیاں، پھل، اور دلیے جیسے غذائیں شامل کریں، اور وافر مقدار میں پانی پینا نہ بھولیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف وقتی ضرورت پڑنے پر اسپغول کا استعمال کریں اور روزانہ استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کی تیز رفتار زندگی، فاسٹ فوڈ، کھانے کے اوقات میں بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ نے معدے کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ گیس، قبض، بدہضمی اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تکالیف سے نجات کے لیے لوگ صدیوں پرانے ایک قدرتی نسخے ”اسپغول“ کا سہارا لیتے ہیں۔</strong></p>
<p>اسپغول ایک قدرتی فائبر ہے اور پلانٹیگو اوویٹا کے خشک بیجوں کے چھلکے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسپغول کو پانی یا چھاچھ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر قبض کی شکایت دور کرنے میں بہت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا مگر اثر بھرپور ہوتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486787/"><strong>دل کے درد کی دوا سے دل کو خطرہ؟ تجربہ کار کارڈیولوجسٹ کا بڑا انکشاف</strong> </a></p>
<p>ماہرین کے مطابق اسپغول صرف قبض کا علاج ہی نہیں بلکہ کئی دیگر طبی فوائد بھی رکھتا ہے۔ یہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے۔آنتوں کی صفائی کرتا ہے۔ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول کو کم کرنے میں مؤثر ہے اوروزن گھٹانے والوں کے لیے مفیدہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسپغول کو روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ اسپغول لینا واقعی محفوظ ہے؟</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ماہرین صحت کے مطابق، اگر کبھی کبھار قبض کی شکایت ہو تو اسپغول لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اسے اپنا معلوم  بنالینا یا روزانہ یا طویل مدت تک استعمال کرنا حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بالکل مناسب نہیں، خاص طور پر اگر اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لیا جائے۔ اگر آپ طویل عرصے تک اسپغول یا کسی بھی بیرونی فائبر پر انحصار کرتے ہیں تو یہ آپ کے قدرتی نظامِ ہضم کو کمزور کر سکتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/">
<strong>صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟</strong></a></p>
<p>اس کے علاوہ، زیادہ فائبر لینے سے بعض اوقات جسم میں ضروری غذائی اجزاء کی جذب ہونے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور اگر اسپغول لینے کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار نہ پی جائے تو پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور قبض کی شکایت مزید بڑھ سکتی ہے۔</p>
<h1><a id="اس-کا-طویل-مدت-تک-استعمال-کب-کرنا-چاہیے" href="#اس-کا-طویل-مدت-تک-استعمال-کب-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اس کا طویل مدت تک استعمال کب  کرنا چاہیے؟</strong></h1>
<p>اگر قبض شدید اور مستقل ہو، تو ڈاکٹر کے مشورے سے اسپغول کو طویل مدت تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے صحیح خوراک، استعمال کا طریقہ اور دورانیہ جاننا بہت ضروری ہے۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے طویل استعمال سے پرہیز کریں، کیونکہ اسپغول کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="قدرتی-غذا-کو-ترجیح-دیں" href="#قدرتی-غذا-کو-ترجیح-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قدرتی غذا کو ترجیح دیں</strong></h1>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ دائمی قبض یا ہاضمے کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے خوراک میں بہتری لانا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔ اپنی روزمرہ غذا میں فائبر سے بھرپور سبزیاں، پھل، اور دلیے جیسے غذائیں شامل کریں، اور وافر مقدار میں پانی پینا نہ بھولیں۔</p>
<p>صرف وقتی ضرورت پڑنے پر اسپغول کا استعمال کریں اور روزانہ استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486914</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 09:29:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/140914363793a78.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/140914363793a78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنا آنسوؤں کے پیاز کاٹنے کا طریقہ، سائنس نے معمہ حل کرلیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ بھی ہر بار پیاز کاٹنے پر آنکھوں میں آنسو لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، تو اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ سائنسدانوں نے اس روزمرہ کے مسئلے کو حل کرنے کا سائنسی طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ پیاز کاتتے ہوئے ہماری آنکھوں سے پانی کیوں بہنےلگتا ہے اور بغیر تیراکی کے چشمے پہنے اس مسئلے سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486660/"&gt;
&lt;strong&gt;سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟&lt;/strong&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق، آنکھوں میں آنسو لانے والے سلفر کے مرکبات (پیاز کو کاٹنے کے انداز پر منحصر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہو نے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ تیز چاقو استعمال کریں اور آہستہ آہستہ پیاز کاٹیں تو یہ مرکبات کم مقدار میں خارج ہوتے ہیں، جس سے آنکھوں میں جلن کم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اگر آپ پیاز کاٹنے سے پہلے اسے ہلکی سی تیل کی تہہ میں لپیٹ دیں، تو یہ ہوا میں اٹھنے والے مالیکیولز کے پھیلاؤ کو بھی روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30485515/"&gt;بچوں کا قد بڑھانے میں موثر 5 سبزیاں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے کے دوران سائنسدانوں نے الٹرا ہائی اسپیڈ کیمرے اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ مشاہدہ کیا کہ جب چاقو پیاز کی تہوں میں داخل ہوتا ہے، تو اس کے خلیوں کے اندر موجود دباؤ اچانک خارج ہوتا ہے اور باریک سلفر والے چھینٹے تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باہر نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چھینٹے ایک گیس بناتے ہیں جسے پروپین تھیئل ایس-آکسائیڈ کہا جاتا ہے، جو آنکھوں میں جلن اور آنسو پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محقق سنگھوان جونگ کے مطابق، اگر پیاز کی بیرونی تہہ آلودہ ہو تو یہ چھینٹے باورچی خانے میں بیکٹیریا پھیلانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پیاز سے خارج ہونے والے مالیکیولز کی رفتار کھانسی کے دوران خارج ہونے والے ذرات سے دوگنی ہو سکتی ہے، جو باورچی خانے میں حفظانِ صحت کے اصولوں کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق پیاز کاٹتے وقت ان آسان اصولوں پر عمل کر کے آپ آنسوؤں سے نجات پا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیز اور صاف چاقو استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیاز کو آہستگی سے اور زیادہ دباؤ ڈالے بغیر کاٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاٹنے سے پہلے پیاز پر تیل کی ہلکی تہہ لگا لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیاز کو کاٹنے سے قبل تھوڑا ٹھنڈا کر لیں تاکہ مرکبات کا اخراج کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاقو اور کاٹنے والے تختے کو باقاعدگی سے صاف کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ہم پیاز کے ساتھ سائنسی طریقے سے پیش آئیں، تو آنسو بہانا ماضی کی بات ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پیاز کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنا چاقو تیز کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ بھی ہر بار پیاز کاٹنے پر آنکھوں میں آنسو لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، تو اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ سائنسدانوں نے اس روزمرہ کے مسئلے کو حل کرنے کا سائنسی طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ پیاز کاتتے ہوئے ہماری آنکھوں سے پانی کیوں بہنےلگتا ہے اور بغیر تیراکی کے چشمے پہنے اس مسئلے سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486660/">
<strong>سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟</strong> </a></p>
<p>سائنسدانوں کے مطابق، آنکھوں میں آنسو لانے والے سلفر کے مرکبات (پیاز کو کاٹنے کے انداز پر منحصر ہوتے ہیں۔</p>
<p>نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہو نے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ تیز چاقو استعمال کریں اور آہستہ آہستہ پیاز کاٹیں تو یہ مرکبات کم مقدار میں خارج ہوتے ہیں، جس سے آنکھوں میں جلن کم ہوتی ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ اگر آپ پیاز کاٹنے سے پہلے اسے ہلکی سی تیل کی تہہ میں لپیٹ دیں، تو یہ ہوا میں اٹھنے والے مالیکیولز کے پھیلاؤ کو بھی روکتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30485515/">بچوں کا قد بڑھانے میں موثر 5 سبزیاں</a></p>
<p>مطالعے کے دوران سائنسدانوں نے الٹرا ہائی اسپیڈ کیمرے اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ مشاہدہ کیا کہ جب چاقو پیاز کی تہوں میں داخل ہوتا ہے، تو اس کے خلیوں کے اندر موجود دباؤ اچانک خارج ہوتا ہے اور باریک سلفر والے چھینٹے تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باہر نکلتے ہیں۔</p>
<p>یہ چھینٹے ایک گیس بناتے ہیں جسے پروپین تھیئل ایس-آکسائیڈ کہا جاتا ہے، جو آنکھوں میں جلن اور آنسو پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>محقق سنگھوان جونگ کے مطابق، اگر پیاز کی بیرونی تہہ آلودہ ہو تو یہ چھینٹے باورچی خانے میں بیکٹیریا پھیلانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق پیاز سے خارج ہونے والے مالیکیولز کی رفتار کھانسی کے دوران خارج ہونے والے ذرات سے دوگنی ہو سکتی ہے، جو باورچی خانے میں حفظانِ صحت کے اصولوں کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>تحقیق کے مطابق پیاز کاٹتے وقت ان آسان اصولوں پر عمل کر کے آپ آنسوؤں سے نجات پا سکتے ہیں۔</p>
<p>تیز اور صاف چاقو استعمال کریں۔</p>
<p>پیاز کو آہستگی سے اور زیادہ دباؤ ڈالے بغیر کاٹیں۔</p>
<p>کاٹنے سے پہلے پیاز پر تیل کی ہلکی تہہ لگا لیں۔</p>
<p>پیاز کو کاٹنے سے قبل تھوڑا ٹھنڈا کر لیں تاکہ مرکبات کا اخراج کم ہو۔</p>
<p>چاقو اور کاٹنے والے تختے کو باقاعدگی سے صاف کریں۔</p>
<p>سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ہم پیاز کے ساتھ سائنسی طریقے سے پیش آئیں، تو آنسو بہانا ماضی کی بات ہو سکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پیاز کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنا چاقو تیز کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486666</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Oct 2025 14:23:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/12141125be5d2f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/12141125be5d2f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30486660/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیشتر ایواکاڈو پسند کرنے والے افراد کو ایک عام مسئلے کا سامنا رہتا ہے۔ پھل کاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے اور وہ سبز سے بھورے یا کالے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا رنگ بدلنے کے بعد بھی ایواکاڈو کھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، ایواکاڈو کے بھورے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جن میں آکسیڈیشن، زیادہ پک جانا، ٹھنڈ سے نقصان، یا بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30485499/"&gt;
&lt;strong&gt;شہد کو کبھی بھی گرم کیوں نہیں کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایواکاڈو کاٹنے کے بعد ہوا میں رکھ دیا جائے تو اس میں انزیمیٹک براؤننگ نامی عمل شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں پھل کے اندر موجود انزائمز اور مرکبات آکسیجن کے ساتھ مل کر میلانن پیدا کرتے ہیں یہی وہ مادہ ہے جو رنگ کو بھورا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا ایواکاڈو کھانے کے لیے محفوظ ہوتا ہے، لیکن اس کا ذائقہ قدرے کڑوا یا بدمزہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیادہ-پکنے-یا-خراب-ہونے-کی-علامات" href="#زیادہ-پکنے-یا-خراب-ہونے-کی-علامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زیادہ پکنے یا خراب ہونے کی علامات&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جب ایواکاڈو ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے تو اس کے خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/"&gt;&lt;strong&gt;صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں پھل کے اندر بھورے یا کالے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، بدبو آتی ہے اور ساخت نرم یا چپچپی محسوس ہوتی ہے۔
اگر ایواکاڈو سے کھٹی یا ناگوار بو آئے، تو بہتر ہے اسے فوراً ضائع کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹھنڈ-سے-ہونے-والا-نقصان" href="#ٹھنڈ-سے-ہونے-والا-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر ایواکاڈو کو پکنے سے پہلے بہت کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جائے تو اس پر بھورے یا سرمئی دھبے بن سکتے ہیں۔
ایسا پھل صحت کے لیے خطرناک تو نہیں ہوتا، مگر ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قدرتی-خرابی-اور-پھپھوندی" href="#قدرتی-خرابی-اور-پھپھوندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قدرتی خرابی اور پھپھوندی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایواکاڈو میں نمی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس میں پھپھوندی  آسانی سے پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر چھلکے پر بھی پھپھوندی نظر آئے  چاہے گودا متاثر نہ ہوا ہو تو اسے ہر صورت پھینک دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اگرایواکاڈو-صرف-آکسیڈیشن-سے-بھورا-ہوا-ہے-تو-کیا-کریں" href="#اگرایواکاڈو-صرف-آکسیڈیشن-سے-بھورا-ہوا-ہے-تو-کیا-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اگرایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہوا ہے تو کیا کریں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کو ایواکاڈو کی بو معمول کے مطابق لگے اور ساخت بھی درست محسوس ہو تو آپ اسے اطمینان سے کھا سکتے ہیں۔
آپ چاہیں تو بھورا حصہ الگ کر دیں یا اسے ایواکاڈو ڈِپ، اسموتھی یا میٹھے پکوان میں استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیادہ-دیر-تازہ-رکھنے-کا-طریقہ" href="#زیادہ-دیر-تازہ-رکھنے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زیادہ دیر تازہ رکھنے کا طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھورا ہونے سے بچانے کے لیے ایواکاڈو کو لیموں کے رس یا زیتون کے تیل کے ساتھ مکس کر کے ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرج میں محفوظ رکھنے سے اس کی تازگی کچھ دن تک برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں ، مگر اگر رنگت کے ساتھ بو اور ساخت بھی بدل جائے، تو بہتر ہے صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اسے استعمال نہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیشتر ایواکاڈو پسند کرنے والے افراد کو ایک عام مسئلے کا سامنا رہتا ہے۔ پھل کاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے اور وہ سبز سے بھورے یا کالے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا رنگ بدلنے کے بعد بھی ایواکاڈو کھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق، ایواکاڈو کے بھورے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جن میں آکسیڈیشن، زیادہ پک جانا، ٹھنڈ سے نقصان، یا بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش شامل ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30485499/">
<strong>شہد کو کبھی بھی گرم کیوں نہیں کرنا چاہیے؟</strong></a></p>
<p>اگر ایواکاڈو کاٹنے کے بعد ہوا میں رکھ دیا جائے تو اس میں انزیمیٹک براؤننگ نامی عمل شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس عمل میں پھل کے اندر موجود انزائمز اور مرکبات آکسیجن کے ساتھ مل کر میلانن پیدا کرتے ہیں یہی وہ مادہ ہے جو رنگ کو بھورا کرتا ہے۔</p>
<p>ایسا ایواکاڈو کھانے کے لیے محفوظ ہوتا ہے، لیکن اس کا ذائقہ قدرے کڑوا یا بدمزہ ہو سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="زیادہ-پکنے-یا-خراب-ہونے-کی-علامات" href="#زیادہ-پکنے-یا-خراب-ہونے-کی-علامات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زیادہ پکنے یا خراب ہونے کی علامات</strong></h1>
<p>جب ایواکاڈو ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے تو اس کے خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30486165/"><strong>صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟</strong></a></p>
<p>ایسی صورت میں پھل کے اندر بھورے یا کالے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، بدبو آتی ہے اور ساخت نرم یا چپچپی محسوس ہوتی ہے۔
اگر ایواکاڈو سے کھٹی یا ناگوار بو آئے، تو بہتر ہے اسے فوراً ضائع کر دیا جائے۔</p>
<h1><a id="ٹھنڈ-سے-ہونے-والا-نقصان" href="#ٹھنڈ-سے-ہونے-والا-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان</strong></h1>
<p>اگر ایواکاڈو کو پکنے سے پہلے بہت کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جائے تو اس پر بھورے یا سرمئی دھبے بن سکتے ہیں۔
ایسا پھل صحت کے لیے خطرناک تو نہیں ہوتا، مگر ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="قدرتی-خرابی-اور-پھپھوندی" href="#قدرتی-خرابی-اور-پھپھوندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قدرتی خرابی اور پھپھوندی</strong></h1>
<p>ایواکاڈو میں نمی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس میں پھپھوندی  آسانی سے پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اگر چھلکے پر بھی پھپھوندی نظر آئے  چاہے گودا متاثر نہ ہوا ہو تو اسے ہر صورت پھینک دینا چاہیے۔</p>
<h1><a id="اگرایواکاڈو-صرف-آکسیڈیشن-سے-بھورا-ہوا-ہے-تو-کیا-کریں" href="#اگرایواکاڈو-صرف-آکسیڈیشن-سے-بھورا-ہوا-ہے-تو-کیا-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اگرایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہوا ہے تو کیا کریں؟</strong></h1>
<p>اگر آپ کو ایواکاڈو کی بو معمول کے مطابق لگے اور ساخت بھی درست محسوس ہو تو آپ اسے اطمینان سے کھا سکتے ہیں۔
آپ چاہیں تو بھورا حصہ الگ کر دیں یا اسے ایواکاڈو ڈِپ، اسموتھی یا میٹھے پکوان میں استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="زیادہ-دیر-تازہ-رکھنے-کا-طریقہ" href="#زیادہ-دیر-تازہ-رکھنے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زیادہ دیر تازہ رکھنے کا طریقہ</strong></h1>
<p>بھورا ہونے سے بچانے کے لیے ایواکاڈو کو لیموں کے رس یا زیتون کے تیل کے ساتھ مکس کر کے ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھیں۔</p>
<p>فرج میں محفوظ رکھنے سے اس کی تازگی کچھ دن تک برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں ، مگر اگر رنگت کے ساتھ بو اور ساخت بھی بدل جائے، تو بہتر ہے صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اسے استعمال نہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30486660</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Oct 2025 13:59:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/12134433e529358.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/12134433e529358.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کا قد بڑھانے میں موثر 5 سبزیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30485515/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ ایسے والدین ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بچوں کا قد صرف جینیاتی عوامل پر منحصر ہے، تو آپ کا یہ تصوربالکل غلط ہے۔ بچوں کا قد نہ صرف جینیات بلکہ نیند، ورزش، طرزِ زندگی، متوازن غذا اور غذائی اجزاء پر بھی منحصر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ نہ صرف صحت مند ہو بلکہ اس کا قد  کاٹھ بھی اچھا ہو، تاکہ وہ خوداعتمادی کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھے اورترقی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435170/"&gt;والدین کی یہ عادتیں بچوں کے دماغ کو کمزور کردیتی ہیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے بچے کا قد اس کے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں کم ہے، تو کچھ خاص سبزیاں ان کی خوراک میں شامل کر کے اس مسئلے کو دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ سبزیاں بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط کر کے گروتھ ہارمون کو متحرک کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پالک" href="#پالک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پالک&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پالک کیلشیم، آئرن، اور وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہڈیوں کو مضبوط کرنے اور جسم کے مجموعی نشوونما میں مددگار ہے۔ اسے بچوں کے سوپ، سبزی یا اسموتھی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435537/"&gt;بدتمیز بچوں کو بنا مار پیٹ کے کیسے سدھارا جائے؟ والدین کیلئے اہم مشورے &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گاجر" href="#گاجر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گاجر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گاجر میں موجود وٹامن اے اور بیٹا-کیروٹین ہڈیوں اور بافتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ یہ بچوں کے گروتھ ہارمون کے بننے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ گاجر کو سلاد، جوس یا سبزی کے طور پر بچوں کو دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بروکولی" href="#بروکولی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بروکولی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بروکولی میں وٹامن سی، کے، اور کیلشیم پایا جاتا ہے، جو بچوں کی مدافعتی نظام کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی اور نشوونما میں مددگار ہے۔ بچوں کو یہ سبزی بھاپ میں پکائی ہوئی یا سوپ میں شامل کر کے دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مٹر" href="#مٹر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مٹر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مٹر پروٹین، وٹامنز، اور منرلز کا بہترین ذریعہ ہے، جو پٹھوں اور ہڈیوں کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ اسے سبزی یا پراٹھے میں شامل کر کے بچوں کو دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شکر-قندی" href="#شکر-قندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;شکر قندی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شکرقندی میں وٹامن اے، سی، اور فائبر موجود ہوتا ہے، جو بچوں کی مجموعی نشوونما اور مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ بچوں کو اسے ابال کر یا بھون کر دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سبزیاں نہ صرف بچوں کی ہڈیوں اور عضلات کی مضبوطی میں مدد کرتی ہیں بلکہ ان کے قد اور مجموعی نشوونما کے لیے بھی بہت مؤثر ہیں۔ والدین اپنی بچوں کی خوراک میں یہ سبزیاں شامل کر کے ان کی صحت اور قد کو بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ ایسے والدین ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بچوں کا قد صرف جینیاتی عوامل پر منحصر ہے، تو آپ کا یہ تصوربالکل غلط ہے۔ بچوں کا قد نہ صرف جینیات بلکہ نیند، ورزش، طرزِ زندگی، متوازن غذا اور غذائی اجزاء پر بھی منحصر ہے۔</strong></p>
<p>ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ نہ صرف صحت مند ہو بلکہ اس کا قد  کاٹھ بھی اچھا ہو، تاکہ وہ خوداعتمادی کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھے اورترقی کرے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30435170/">والدین کی یہ عادتیں بچوں کے دماغ کو کمزور کردیتی ہیں</a></p>
<p>اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے بچے کا قد اس کے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں کم ہے، تو کچھ خاص سبزیاں ان کی خوراک میں شامل کر کے اس مسئلے کو دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ سبزیاں بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط کر کے گروتھ ہارمون کو متحرک کرتی ہیں۔</p>
<h1><a id="پالک" href="#پالک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پالک</strong></h1>
<p>پالک کیلشیم، آئرن، اور وٹامن اے اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہڈیوں کو مضبوط کرنے اور جسم کے مجموعی نشوونما میں مددگار ہے۔ اسے بچوں کے سوپ، سبزی یا اسموتھی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30435537/">بدتمیز بچوں کو بنا مار پیٹ کے کیسے سدھارا جائے؟ والدین کیلئے اہم مشورے </a></p>
<h1><a id="گاجر" href="#گاجر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گاجر</h1>
<p>گاجر میں موجود وٹامن اے اور بیٹا-کیروٹین ہڈیوں اور بافتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ یہ بچوں کے گروتھ ہارمون کے بننے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ گاجر کو سلاد، جوس یا سبزی کے طور پر بچوں کو دیا جا سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="بروکولی" href="#بروکولی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بروکولی</strong></h1>
<p>بروکولی میں وٹامن سی، کے، اور کیلشیم پایا جاتا ہے، جو بچوں کی مدافعتی نظام کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی اور نشوونما میں مددگار ہے۔ بچوں کو یہ سبزی بھاپ میں پکائی ہوئی یا سوپ میں شامل کر کے دی جا سکتی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="مٹر" href="#مٹر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مٹر</strong></h1>
<p>مٹر پروٹین، وٹامنز، اور منرلز کا بہترین ذریعہ ہے، جو پٹھوں اور ہڈیوں کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ اسے سبزی یا پراٹھے میں شامل کر کے بچوں کو دیا جا سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="شکر-قندی" href="#شکر-قندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>شکر قندی</strong></h1>
<p>شکرقندی میں وٹامن اے، سی، اور فائبر موجود ہوتا ہے، جو بچوں کی مجموعی نشوونما اور مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ بچوں کو اسے ابال کر یا بھون کر دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ سبزیاں نہ صرف بچوں کی ہڈیوں اور عضلات کی مضبوطی میں مدد کرتی ہیں بلکہ ان کے قد اور مجموعی نشوونما کے لیے بھی بہت مؤثر ہیں۔ والدین اپنی بچوں کی خوراک میں یہ سبزیاں شامل کر کے ان کی صحت اور قد کو بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30485515</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 13:30:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/05133616603977d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/05133616603977d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہد کو کبھی بھی گرم کیوں نہیں کرنا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30485499/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھریلوعلاج اور روزمرہ کی خوراک میں  شہد کے استعمال کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ یہ مشروبات، میٹھے اور گھریلو نسخوں میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔ مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ شہد کو زیادہ گرم کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیورویدک ہیلتھ کوچ ڈمپل جانگڑا نے حال ہی میں ایک انسٹاگرام ویڈیو میں بتایا کہ شہد کو پکانے یا زیادہ گرم کرنے سے اس کے کیمیائی اجزاء بدل جاتے ہیں اور 5-ہائڈروکسی میتھیل فیورفورل (ایچ ایم ایف) نامی ایک زہریلا مرکب پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدیم طریقہ علاج بھی گرم شدہ شہد سے پیدا ہونے والے نقصان دہ اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہیں اور اسے جسم کے لیے  ہضم نہ ہونے والا زہر قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/lifestyle/health/why-you-should-never-heat-honey-10272504/"&gt;انڈین ایکسپریس&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پریانکا شُکلا، ہیڈ آف ڈائیٹکس اور سینئر کنسلٹنٹ، راماکریشنا کیئر ہسپتال، رائے پور، نے اس کی تصدیق کی کہ، شہد کو 60 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر گرم کرنے سے (ایچ ایم ایف پیدا) ہوسکتا ہے، جو بڑی مقدار میں زہریلا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس عمل سے شہد کے فائدہ مند اینزائمز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر فعال اجزاء بھی ختم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، شہد کو صرف 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہلکا گرم کرنا محفوظ ہے تاکہ کرسٹالائز شدہ شہد کو دوبارہ مائع کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر شُکلا نے مزید بتایا کہ شہد میں قدرتی طور پر اینزائمز، اینٹی آکسیڈنٹس اور پولن موجود ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
تاہم، نوزائیدہ بچوں کے لیے شہد میں موجود کلوسٹریڈیم بوٹولینمسپورز خطرناک ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولن الرجی والے افراد میں بھی ردعمل ممکن ہے اور ماحول سے بھاری دھاتیں یا کیمیکلز جذب ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شہد-کو-محفوظ-طریقے-سے-استعمال-کرنے-کے-اصول" href="#شہد-کو-محفوظ-طریقے-سے-استعمال-کرنے-کے-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;شہد کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کے اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق شہد کا استعمال محفوظ اور فائدہ مند رکھنے کے لیے چند آسان اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہد کو زیادہ گرم پانی یا مشروبات میں نہ ڈالیں۔ اگر چائے یا کافی میں استعمال کر رہے ہیں تو چند منٹ ٹھنڈا ہونے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہد کو دہی، اسموتھی یا سلاد ڈریسنگ میں بغیر حرارت کے استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے محفوظ اور فائدہ مند طریقہ یہ ہے کہ شہد کچا استعمال کریں۔مثلاً دہی، اوٹ میل، ٹوسٹ یا پھلوں کے اوپر چھڑکیں۔ اس طرح انزائمز اور اینٹی آکسیڈنٹس برقرار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیادہ-مقدار-میں-یا-خوراک-کے-ساتھ-ملا-کر-استعمال-کرنے-کے-خطرات" href="#زیادہ-مقدار-میں-یا-خوراک-کے-ساتھ-ملا-کر-استعمال-کرنے-کے-خطرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زیادہ مقدار میں یا  خوراک کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے کے خطرات&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ لوگ شکر کی بجائے شہد کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن زیادہ مقدار میں استعمال وزن میں اضافہ، بلڈ شوگر میں اضافے اور دانتوں کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر شُکلّا کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو شہد کا استعمال محتاط طریقے سے کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ فرکٹوز کی وجہ سے آئی بی ایس یا فرکٹوزمالابسورپشن والے افراد میں پیٹ پھولنا، گیس یا درد کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں شہد کو گرم کرتے وقت احتیاط سے درجہ حرارت اور مدت کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ فوائد اور نقصانات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم درجہ حرارت پر معتدل گرم کرنا شہد کے فائدہ مند اجزاء کو برقرار رکھنے اور نقصان دہ مرکبات کے بننے کے امکانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گھریلوعلاج اور روزمرہ کی خوراک میں  شہد کے استعمال کی روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ یہ مشروبات، میٹھے اور گھریلو نسخوں میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔ مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ شہد کو زیادہ گرم کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>آیورویدک ہیلتھ کوچ ڈمپل جانگڑا نے حال ہی میں ایک انسٹاگرام ویڈیو میں بتایا کہ شہد کو پکانے یا زیادہ گرم کرنے سے اس کے کیمیائی اجزاء بدل جاتے ہیں اور 5-ہائڈروکسی میتھیل فیورفورل (ایچ ایم ایف) نامی ایک زہریلا مرکب پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>قدیم طریقہ علاج بھی گرم شدہ شہد سے پیدا ہونے والے نقصان دہ اثرات کے بارے میں خبردار کرتے ہیں اور اسے جسم کے لیے  ہضم نہ ہونے والا زہر قرار دیتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/lifestyle/health/why-you-should-never-heat-honey-10272504/">انڈین ایکسپریس</a> کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پریانکا شُکلا، ہیڈ آف ڈائیٹکس اور سینئر کنسلٹنٹ، راماکریشنا کیئر ہسپتال، رائے پور، نے اس کی تصدیق کی کہ، شہد کو 60 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر گرم کرنے سے (ایچ ایم ایف پیدا) ہوسکتا ہے، جو بڑی مقدار میں زہریلا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس عمل سے شہد کے فائدہ مند اینزائمز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر فعال اجزاء بھی ختم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق، شہد کو صرف 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہلکا گرم کرنا محفوظ ہے تاکہ کرسٹالائز شدہ شہد کو دوبارہ مائع کیا جا سکے۔</p>
<p>ڈاکٹر شُکلا نے مزید بتایا کہ شہد میں قدرتی طور پر اینزائمز، اینٹی آکسیڈنٹس اور پولن موجود ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
تاہم، نوزائیدہ بچوں کے لیے شہد میں موجود کلوسٹریڈیم بوٹولینمسپورز خطرناک ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پولن الرجی والے افراد میں بھی ردعمل ممکن ہے اور ماحول سے بھاری دھاتیں یا کیمیکلز جذب ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔</p>
<h1><a id="شہد-کو-محفوظ-طریقے-سے-استعمال-کرنے-کے-اصول" href="#شہد-کو-محفوظ-طریقے-سے-استعمال-کرنے-کے-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>شہد کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کے اصول</strong></h1>
<p>ماہرین کے مطابق شہد کا استعمال محفوظ اور فائدہ مند رکھنے کے لیے چند آسان اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>شہد کو زیادہ گرم پانی یا مشروبات میں نہ ڈالیں۔ اگر چائے یا کافی میں استعمال کر رہے ہیں تو چند منٹ ٹھنڈا ہونے دیں۔</p>
<p>شہد کو دہی، اسموتھی یا سلاد ڈریسنگ میں بغیر حرارت کے استعمال کریں۔</p>
<p>سب سے محفوظ اور فائدہ مند طریقہ یہ ہے کہ شہد کچا استعمال کریں۔مثلاً دہی، اوٹ میل، ٹوسٹ یا پھلوں کے اوپر چھڑکیں۔ اس طرح انزائمز اور اینٹی آکسیڈنٹس برقرار رہتے ہیں۔</p>
<h1><a id="زیادہ-مقدار-میں-یا-خوراک-کے-ساتھ-ملا-کر-استعمال-کرنے-کے-خطرات" href="#زیادہ-مقدار-میں-یا-خوراک-کے-ساتھ-ملا-کر-استعمال-کرنے-کے-خطرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زیادہ مقدار میں یا  خوراک کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے کے خطرات</strong></h1>
<p>اگرچہ لوگ شکر کی بجائے شہد کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن زیادہ مقدار میں استعمال وزن میں اضافہ، بلڈ شوگر میں اضافے اور دانتوں کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر شُکلّا کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو شہد کا استعمال محتاط طریقے سے کرنا چاہیے۔</p>
<p>زیادہ فرکٹوز کی وجہ سے آئی بی ایس یا فرکٹوزمالابسورپشن والے افراد میں پیٹ پھولنا، گیس یا درد کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یاد رکھیں شہد کو گرم کرتے وقت احتیاط سے درجہ حرارت اور مدت کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ فوائد اور نقصانات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔</p>
<p>کم درجہ حرارت پر معتدل گرم کرنا شہد کے فائدہ مند اجزاء کو برقرار رکھنے اور نقصان دہ مرکبات کے بننے کے امکانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30485499</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 12:11:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/051205197b1fd5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/051205197b1fd5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مچھلی کو توڑے بغیر فرائی کرنے کے آسان طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30485225/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرائیڈ فش اکثر آنکھوں کو بھلی لگتی ہے،  لیکن باورچی خانے میں اکثر یہی خوشنما فرائی فش ٹوٹ کر یا چپچپی نکلتی ہے۔ اسکِن پین سے چپک جانا، پلٹتے وقت مچھلی کا ٹوٹ جانا یا کرسٹ کا صحیح نہ بننا روزمرہ کے مسائل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرائی میں سب سے اہم چیز مچھلی کا صحیح انتخاب ہے۔  گوشت والی مچھلی جیسے سرمائی، پمفریٹ، روہو یا کیٹ فش فرائی کے لیے بہترین ہیں، جبکہ نازک مچھلیاں جیسے ہلسا یا سول اسٹیم زیادہ تر کری یا بھاپ کے لیے بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484352/"&gt;
’صحت کے لیے مفید‘: ڈیری مصنوعات کے بارے میں 5 افواہیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مچھلی-کی-صفائی-اور-کاٹنے-کا-درست-طریقہ" href="#مچھلی-کی-صفائی-اور-کاٹنے-کا-درست-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مچھلی کی صفائی اور کاٹنے کا درست طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اضافی ہڈیاں اور اسکالز نکالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک کم از کم 1–1.5 انچ موٹے رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکساں سائز کے فلٹس کا انتخاب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھنڈے پانی سے دھو کر خشک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچھلی کو مکمل خشک کرنا ضروری ہے کیونکہ نمی کرسٹ کو نرم کر دیتی ہے۔ مارینیڈ کے لیے عام طور پر ادرک-لہسن کا پیسٹ، ہلدی، لال مرچ، لیموں کا رس اور نمک استعمال کریں۔ مزید کرنچ کے لیے چاول کا آٹا یا بیسن کی کوٹنگ کریں اور 10–15 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484206/"&gt;بچی ہوئی چائے کی پتی کے 6 حیرت انگیز استعمال &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فرائی-کیسے-کریں" href="#فرائی-کیسے-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فرائی کیسے کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مچھلی کو احتیاط سے تیل میں ڈالیں اور اپنے جسم سے دور رکھیں تاکہ چھینٹے نہ لگیں۔ فورا نہ پلٹائیں۔ دو سے تین منٹ کے لیے یوں ہی رہنے دیں تاکہ کرسٹ خود بخود بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچھلی کو تب ہی پلٹائیں جب اس کے کنارے سنہری ہو جائیں اور مچھلی خود ہی تیل سے الگ ہونے لگے۔ اگر اسٹیک موٹے ہوں تو پلٹنے کے بعد آنچ تھوڑی کم کر دیں تاکہ اندر کا گوشت بھی اچھی طرح پک جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرائی کرنے کے بعد ہمیشہ مچھلی کو کچن پیپر یا بہتر طریقے سے وائر ریک پر نکالیں تاکہ بھاپ کرسٹ کو نرم نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مشورے-اور-احتیاط" href="#مشورے-اور-احتیاط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مشورے اور احتیاط&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مچھلی گیلی نہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پین کو پہلے گرم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پین میں زیادہ مچھلی نہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلدی پلٹنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فرائی فش ٹوٹ جائے، تو اسے پلاؤ، سلاد یا فش رول میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بچ-جانے-والی-فرائی-شدہ-مچھلی-کو-کیسے-محفوظ-کیا-جائے" href="#بچ-جانے-والی-فرائی-شدہ-مچھلی-کو-کیسے-محفوظ-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بچ جانے والی فرائی شدہ مچھلی کو کیسے محفوظ کیا جائے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فرائی شدہ مچھلی تازہ کھانے میں سب سے مزیدار ہوتی ہے، لیکن بچی ہوئی مچھلی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچھلی کو ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھ کر فریج میں زیادہ سے زیادہ 2 دن تک محفوظ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ گرم کرنے کے لیے اوون یا ایئر فرائر استعمال کریں تاکہ کرسٹ دوبارہ کرنچی بن جائے۔ مائیکروویو استعمال کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچی ہوئی مچھلی کو پلاؤ، سلاد یا سینڈوچ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فش کو فریز کرنا ممکن ہے، لیکن یہ مشورہ عمومانہیں دیا جاتا کیونکہ مچھلی کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر فریز کریں، تو اسے مضبوطی سے فویل میں لپیٹ کر اوون میں دوبارہ گرم کرلیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرائیڈ فش اکثر آنکھوں کو بھلی لگتی ہے،  لیکن باورچی خانے میں اکثر یہی خوشنما فرائی فش ٹوٹ کر یا چپچپی نکلتی ہے۔ اسکِن پین سے چپک جانا، پلٹتے وقت مچھلی کا ٹوٹ جانا یا کرسٹ کا صحیح نہ بننا روزمرہ کے مسائل ہیں۔</strong></p>
<p>فرائی میں سب سے اہم چیز مچھلی کا صحیح انتخاب ہے۔  گوشت والی مچھلی جیسے سرمائی، پمفریٹ، روہو یا کیٹ فش فرائی کے لیے بہترین ہیں، جبکہ نازک مچھلیاں جیسے ہلسا یا سول اسٹیم زیادہ تر کری یا بھاپ کے لیے بہتر ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484352/">
’صحت کے لیے مفید‘: ڈیری مصنوعات کے بارے میں 5 افواہیں</a></p>
<h1><a id="مچھلی-کی-صفائی-اور-کاٹنے-کا-درست-طریقہ" href="#مچھلی-کی-صفائی-اور-کاٹنے-کا-درست-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مچھلی کی صفائی اور کاٹنے کا درست طریقہ</strong></h1>
<p>اضافی ہڈیاں اور اسکالز نکالیں۔</p>
<p>اسٹیک کم از کم 1–1.5 انچ موٹے رکھیں۔</p>
<p>یکساں سائز کے فلٹس کا انتخاب کریں۔</p>
<p>ٹھنڈے پانی سے دھو کر خشک کریں۔</p>
<p>مچھلی کو مکمل خشک کرنا ضروری ہے کیونکہ نمی کرسٹ کو نرم کر دیتی ہے۔ مارینیڈ کے لیے عام طور پر ادرک-لہسن کا پیسٹ، ہلدی، لال مرچ، لیموں کا رس اور نمک استعمال کریں۔ مزید کرنچ کے لیے چاول کا آٹا یا بیسن کی کوٹنگ کریں اور 10–15 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484206/">بچی ہوئی چائے کی پتی کے 6 حیرت انگیز استعمال </a></p>
<h1><a id="فرائی-کیسے-کریں" href="#فرائی-کیسے-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فرائی کیسے کریں</strong></h1>
<p>مچھلی کو احتیاط سے تیل میں ڈالیں اور اپنے جسم سے دور رکھیں تاکہ چھینٹے نہ لگیں۔ فورا نہ پلٹائیں۔ دو سے تین منٹ کے لیے یوں ہی رہنے دیں تاکہ کرسٹ خود بخود بن جائے۔</p>
<p>مچھلی کو تب ہی پلٹائیں جب اس کے کنارے سنہری ہو جائیں اور مچھلی خود ہی تیل سے الگ ہونے لگے۔ اگر اسٹیک موٹے ہوں تو پلٹنے کے بعد آنچ تھوڑی کم کر دیں تاکہ اندر کا گوشت بھی اچھی طرح پک جائے۔</p>
<p>فرائی کرنے کے بعد ہمیشہ مچھلی کو کچن پیپر یا بہتر طریقے سے وائر ریک پر نکالیں تاکہ بھاپ کرسٹ کو نرم نہ کرے۔</p>
<h1><a id="مشورے-اور-احتیاط" href="#مشورے-اور-احتیاط" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مشورے اور احتیاط</h1>
<p>مچھلی گیلی نہ رکھیں۔</p>
<p>پین کو پہلے گرم کریں۔</p>
<p>پین میں زیادہ مچھلی نہ رکھیں۔</p>
<p>جلدی پلٹنے سے گریز کریں۔</p>
<p>اگر فرائی فش ٹوٹ جائے، تو اسے پلاؤ، سلاد یا فش رول میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="بچ-جانے-والی-فرائی-شدہ-مچھلی-کو-کیسے-محفوظ-کیا-جائے" href="#بچ-جانے-والی-فرائی-شدہ-مچھلی-کو-کیسے-محفوظ-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بچ جانے والی فرائی شدہ مچھلی کو کیسے محفوظ کیا جائے؟</h1>
<p>اگرچہ فرائی شدہ مچھلی تازہ کھانے میں سب سے مزیدار ہوتی ہے، لیکن بچی ہوئی مچھلی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے:</p>
<p>مچھلی کو ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھ کر فریج میں زیادہ سے زیادہ 2 دن تک محفوظ کریں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>دوبارہ گرم کرنے کے لیے اوون یا ایئر فرائر استعمال کریں تاکہ کرسٹ دوبارہ کرنچی بن جائے۔ مائیکروویو استعمال کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>بچی ہوئی مچھلی کو پلاؤ، سلاد یا سینڈوچ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فش کو فریز کرنا ممکن ہے، لیکن یہ مشورہ عمومانہیں دیا جاتا کیونکہ مچھلی کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر فریز کریں، تو اسے مضبوطی سے فویل میں لپیٹ کر اوون میں دوبارہ گرم کرلیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30485225</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 11:41:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/03113609dffed39.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/03113609dffed39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روز ’ماچا‘ پینے والی خاتون شدید بیمار ہو کر اسپتال پہنچ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30485094/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کی مشہور گرین ٹی پاؤڈر ماچا نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہے، مگر حال ہی میں ایک نوجوان خاتون کی صحت پر اس کے اثرات نے خبروں میں جگہ بنالی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/lifestyle/matcha-every-day-why-it-sent-one-woman-to-the-hospital-and-whos-at-risk-9371066?pfrom=home-ndtv_lifestyle"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی 28 سالہ نرس لین شازین نے ہفتے میں ایک بار ماچا پینے کا آغاز کیا تاکہ اس کے اینٹی انفلیمیٹری فوائد حاصل کر سکیں۔ لیکن تین ماہ کے اندر، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں انتہائی تھکن، مسلسل خارش اور غیر معمولی سردی ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484330/"&gt;چین میں لوگ اُنگلیوں کے تراشے گئے ناخنوں کو آن لائن فروخت کیوں کررہے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سے مشورے اور خون کے ٹیسٹ کے بعد شازین کو معلوم ہوا کہ وہ شدید اینیمیا میں مبتلا ہیں اور ماچا نے ان کی حالت کو مزید بگاڑ دیا۔ پہلے ہی جسم میں آئرن کم ہونے کی وجہ سے وہ آئرن انفیوژن لے رہی تھیں، لیکن اب انہیں آئرن سپلیمنٹس اور وٹامن C لینے کی ہدایت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تک ان کے آئرن کی سطح اتنی کم ہو گئی کہ انہوں نے ماچا کو مکمل طور پر چھوڑکے عام چائے  پینی شروع کردی جس کے بعد ان کی توانائی کی سطح بہتر ہوئی اور خارش میں بھی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484904/"&gt;
ہائی بلڈ پریشر یا شوگر: گردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ کیا؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچا، جو جاپان میں پہلے رسمی رسومات کا حصہ تھا، اب امریکہ، یورپ اور بھارت کے کیفے کلچر میں بھی جگہ بنا چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس کے مقبول ہونے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پرماچا لیٹ، بیوٹی ہیکس اور ویلنیس انفلوئنسرز کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ندی ناہٹا، نیوٹریشنسٹ اور لائف اسٹائل کوچ، کہتی ہیں: ”ماچا کے فوائد ہیں، مگر زیادہ استعمال جسمانی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس میں موجود کیفین بے چینی، نیند میں خلل، ہاضمہ کے مسائل اور دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مزید کہتی ہیں کہ آئرن کی کمی والے افراد ماچا سے پرہیز کریں
امرین شیخ، چیف ڈائیٹیشن کے آئی ایم ایس ہسپتال، تھانے کے مطابق: ”ماچا میں موجود ای جی سی جی  کیٹچنز دل، میٹابولزم اور فوکس کے لیے مفید ہیں، لیکن روزانہ 3-4 کپ سے زیادہ  پینا بے خوابی، ہاضمے کے مسائل اور دل کی دھڑکن تیز کر سکتا ہے۔ خالی پیٹ پینے سے معدے میں بھی خرابی ہو سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="احتیاطی-تدابیر" href="#احتیاطی-تدابیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;احتیاطی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماچا کو کھانے کے دوران یا آئرن والے کھانے کے ساتھ پینا خطرناک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینیمیا یا آئرن کی کمی والے افراد اسے مکمل ترک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین محدود مقدار میں استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگ جو خون پتلا کرنے والی دوائیں لے رہے ہیں، پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماچا اینٹی آکسیڈینٹس، ہلکی کیفین، اور میٹابولزم سپورٹ کے لیے واقعی فائدے مند ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ہر شخص کے لیے موزوں نہیں۔ شازین کے کیس سے یہ واضح ہے کہ ذاتی صحت اور محدود مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کی مشہور گرین ٹی پاؤڈر ماچا نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہے، مگر حال ہی میں ایک نوجوان خاتون کی صحت پر اس کے اثرات نے خبروں میں جگہ بنالی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/lifestyle/matcha-every-day-why-it-sent-one-woman-to-the-hospital-and-whos-at-risk-9371066?pfrom=home-ndtv_lifestyle">این ڈی ٹی وی</a> کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی 28 سالہ نرس لین شازین نے ہفتے میں ایک بار ماچا پینے کا آغاز کیا تاکہ اس کے اینٹی انفلیمیٹری فوائد حاصل کر سکیں۔ لیکن تین ماہ کے اندر، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں انتہائی تھکن، مسلسل خارش اور غیر معمولی سردی ہو رہی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484330/">چین میں لوگ اُنگلیوں کے تراشے گئے ناخنوں کو آن لائن فروخت کیوں کررہے ہیں؟</a></p>
<p>ڈاکٹر سے مشورے اور خون کے ٹیسٹ کے بعد شازین کو معلوم ہوا کہ وہ شدید اینیمیا میں مبتلا ہیں اور ماچا نے ان کی حالت کو مزید بگاڑ دیا۔ پہلے ہی جسم میں آئرن کم ہونے کی وجہ سے وہ آئرن انفیوژن لے رہی تھیں، لیکن اب انہیں آئرن سپلیمنٹس اور وٹامن C لینے کی ہدایت دی گئی۔</p>
<p>جولائی تک ان کے آئرن کی سطح اتنی کم ہو گئی کہ انہوں نے ماچا کو مکمل طور پر چھوڑکے عام چائے  پینی شروع کردی جس کے بعد ان کی توانائی کی سطح بہتر ہوئی اور خارش میں بھی کمی آئی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484904/">
ہائی بلڈ پریشر یا شوگر: گردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ کیا؟</a></p>
<p>ماچا، جو جاپان میں پہلے رسمی رسومات کا حصہ تھا، اب امریکہ، یورپ اور بھارت کے کیفے کلچر میں بھی جگہ بنا چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس کے مقبول ہونے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پرماچا لیٹ، بیوٹی ہیکس اور ویلنیس انفلوئنسرز کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔</p>
<p>ندی ناہٹا، نیوٹریشنسٹ اور لائف اسٹائل کوچ، کہتی ہیں: ”ماچا کے فوائد ہیں، مگر زیادہ استعمال جسمانی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس میں موجود کیفین بے چینی، نیند میں خلل، ہاضمہ کے مسائل اور دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہے۔“</p>
<p>وہ مزید کہتی ہیں کہ آئرن کی کمی والے افراد ماچا سے پرہیز کریں
امرین شیخ، چیف ڈائیٹیشن کے آئی ایم ایس ہسپتال، تھانے کے مطابق: ”ماچا میں موجود ای جی سی جی  کیٹچنز دل، میٹابولزم اور فوکس کے لیے مفید ہیں، لیکن روزانہ 3-4 کپ سے زیادہ  پینا بے خوابی، ہاضمے کے مسائل اور دل کی دھڑکن تیز کر سکتا ہے۔ خالی پیٹ پینے سے معدے میں بھی خرابی ہو سکتی ہے۔“</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="احتیاطی-تدابیر" href="#احتیاطی-تدابیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>احتیاطی تدابیر</strong></h1>
<p>ماچا کو کھانے کے دوران یا آئرن والے کھانے کے ساتھ پینا خطرناک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اینیمیا یا آئرن کی کمی والے افراد اسے مکمل ترک کریں۔</p>
<p>حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین محدود مقدار میں استعمال کریں۔</p>
<p>وہ لوگ جو خون پتلا کرنے والی دوائیں لے رہے ہیں، پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔</p>
<p>ماچا اینٹی آکسیڈینٹس، ہلکی کیفین، اور میٹابولزم سپورٹ کے لیے واقعی فائدے مند ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ہر شخص کے لیے موزوں نہیں۔ شازین کے کیس سے یہ واضح ہے کہ ذاتی صحت اور محدود مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30485094</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 14:09:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/10/0213263524ce403.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/10/0213263524ce403.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موٹاپے اور شوگر سے بچنے کے لیے دال چاول کیسے کھائیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484472/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دال چاول ایک متوازن غذا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اسے کھاتے وقت بڑی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے وزن بڑھنے اور شوگر کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔  وہ عام غلطی  کیا ہے اور اس کا آسان حل کیا ہوسکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دال چاول سب سے پسندیدہ کھانوں میں سے ایک ہے۔ دن کے کھانے سے لے کر رات کے کھانے تک زیادہ تر خاندانوں کے غذائی مینو میں اسے ضرور شامل کیا جاتا ہے۔  چاول بنیادی طور پر کاربوہائیڈریٹس کا ذریعہ ہے، جبکہ دال پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر ایک متوازن غذا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484352/"&gt;’صحت کے لیے مفید‘: ڈیری مصنوعات کے بارے میں 5 افواہیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ جب ڈاکٹر کے پاس وزن بڑھنے یا شوگر جیسی بیماریوں کی شکایت لے کر آتے ہیں تو انہیں دال چاول سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/"&gt;
کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ظاہری طور پر متوازن کھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ دال چاول میں نہیں بلکہ اسے کھانے کے طریقے میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹرملہار نے اس موضوع پر تفصیل سے بات کی ہے اور ویڈیو پوسٹ کے ذریعے سمجھایا ہے کہ صحیح طریقہ کیا ہونا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ملہار کے مطابق دال چاول کھاتے وقت سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کی مقدار کا صحیح خیال نہیں رکھتے۔ زیادہ تر لوگ  پلیٹ میں چاول زیادہ ہوتے ہیں جبکہ دال یا دیگر پروٹین کے ذرائع بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کے مطابق جاپانی اور کورین لوگ اس لیے صحت مند اور فٹ رہتے ہیں کہ وہ چاول بڑی پلیٹ میں نہیں بلکہ چھوٹے پیالے میں لیتے ہیں، جبکہ پروٹین کے ذرائع جیسے گوشت، دال یا دیگر پروٹین بڑی پلیٹ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے ان کے کھانے میں پروٹین کی مقدار کاربوہائیڈریٹس کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے، جو جسم کے لیے بہتر توازن پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;ہمارا روایتی طریقہ غلط ہے،  ہم چاول کو بڑی پلیٹ میں لیتے ہیں اور پروٹین کے ذرائع کو چھوٹے پیالے میں رکھتے ہیں۔ اس سے جسم کو ضرورت سے زیادہ کاربوہائیڈریٹس ملتے ہیں، جو چربی کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں اور بلڈ شوگر کو بڑھا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحیح طریقہ یہ ہے کہ چاول کو چھوٹے پیالے میں لیں اور دال، گوشت یا دیگر پروٹین کے ذرائع کو بڑی پلیٹ یا پیالے میں رکھیں۔ اس سے پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کا توازن قائم رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دال چاول کو اکیلے کھانے سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ ایک یا دو موسمی سبزیاں شامل کریں یا سلاد کھائیں۔ دال میں ایک چمچ دیسی گھی ڈالنے سے صحت مند چکنائی بھی ملتی ہے اور کھانے کا گلیسیمک انڈیکس کم ہو جاتا ہے۔ دال کے اوپر گھی کا تڑکا بھی ڈالا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول اور پروٹین کی صحیح مقدار اور پلیٹ کے سائز کا خیال رکھنے سے دال چاول نہ صرف مزید صحت بخش بن سکتا ہے بلکہ وزن بڑھنے اور شوگر کے خطرے سے بھی بچا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دال چاول ایک متوازن غذا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اسے کھاتے وقت بڑی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے وزن بڑھنے اور شوگر کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔  وہ عام غلطی  کیا ہے اور اس کا آسان حل کیا ہوسکتا ہے؟</strong></p>
<p>دال چاول سب سے پسندیدہ کھانوں میں سے ایک ہے۔ دن کے کھانے سے لے کر رات کے کھانے تک زیادہ تر خاندانوں کے غذائی مینو میں اسے ضرور شامل کیا جاتا ہے۔  چاول بنیادی طور پر کاربوہائیڈریٹس کا ذریعہ ہے، جبکہ دال پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر ایک متوازن غذا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484352/">’صحت کے لیے مفید‘: ڈیری مصنوعات کے بارے میں 5 افواہیں</a></p>
<p>لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ جب ڈاکٹر کے پاس وزن بڑھنے یا شوگر جیسی بیماریوں کی شکایت لے کر آتے ہیں تو انہیں دال چاول سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/">
کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟</a></p>
<p>سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ظاہری طور پر متوازن کھانے میں کیا مسئلہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ دال چاول میں نہیں بلکہ اسے کھانے کے طریقے میں ہے۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹرملہار نے اس موضوع پر تفصیل سے بات کی ہے اور ویڈیو پوسٹ کے ذریعے سمجھایا ہے کہ صحیح طریقہ کیا ہونا چاہیے؟</p>
<p>ڈاکٹر ملہار کے مطابق دال چاول کھاتے وقت سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین کی مقدار کا صحیح خیال نہیں رکھتے۔ زیادہ تر لوگ  پلیٹ میں چاول زیادہ ہوتے ہیں جبکہ دال یا دیگر پروٹین کے ذرائع بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کے مطابق جاپانی اور کورین لوگ اس لیے صحت مند اور فٹ رہتے ہیں کہ وہ چاول بڑی پلیٹ میں نہیں بلکہ چھوٹے پیالے میں لیتے ہیں، جبکہ پروٹین کے ذرائع جیسے گوشت، دال یا دیگر پروٹین بڑی پلیٹ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے ان کے کھانے میں پروٹین کی مقدار کاربوہائیڈریٹس کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے، جو جسم کے لیے بہتر توازن پیدا کرتی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>ہمارا روایتی طریقہ غلط ہے،  ہم چاول کو بڑی پلیٹ میں لیتے ہیں اور پروٹین کے ذرائع کو چھوٹے پیالے میں رکھتے ہیں۔ اس سے جسم کو ضرورت سے زیادہ کاربوہائیڈریٹس ملتے ہیں، جو چربی کی شکل میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں اور بلڈ شوگر کو بڑھا دیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DM7RJ9bSqbG/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>صحیح طریقہ یہ ہے کہ چاول کو چھوٹے پیالے میں لیں اور دال، گوشت یا دیگر پروٹین کے ذرائع کو بڑی پلیٹ یا پیالے میں رکھیں۔ اس سے پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کا توازن قائم رہتا ہے۔</p>
<p>دال چاول کو اکیلے کھانے سے بہتر ہے کہ اس کے ساتھ ایک یا دو موسمی سبزیاں شامل کریں یا سلاد کھائیں۔ دال میں ایک چمچ دیسی گھی ڈالنے سے صحت مند چکنائی بھی ملتی ہے اور کھانے کا گلیسیمک انڈیکس کم ہو جاتا ہے۔ دال کے اوپر گھی کا تڑکا بھی ڈالا جاسکتا ہے۔</p>
<p>چاول اور پروٹین کی صحیح مقدار اور پلیٹ کے سائز کا خیال رکھنے سے دال چاول نہ صرف مزید صحت بخش بن سکتا ہے بلکہ وزن بڑھنے اور شوگر کے خطرے سے بھی بچا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484472</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Sep 2025 12:06:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/28115851111153a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/28115851111153a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’صحت کے لیے مفید‘: ڈیری مصنوعات کے بارے میں 5 افواہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484352/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیری مصنوعات دنیا بھرمیں پسند کی جاتی ہیں اوران کی غذائی اہمیت کو بھی زمانہ قدیم سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ڈیری مصنوعات کے بارے میں کئی افواہیں اور غلط فہمیاں گردش کرتی رہتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ڈیری مصنوعات کے غذائی فوائد کے بارے میں کئی باتیں غلط سمجھتے ہیں اور یہ بھی نہیں جان پاتے کہ یہ ہماری صحت کے لیے کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچے وہ پانچ عام غلط فہمیاں بیان کی گئی ہیں جو غذائیت کے ماہرین اکثر سنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30483686/"&gt;جسم میں پانی کی کمی دور کرنے والا نیا سوشل میڈیا ٹرینڈ ’لوڈِڈ واٹر‘ کیا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غلط-فہمی-نمبر-1-دودھ-صحت-مند-غذا-کا-لازمی-حصہ-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-1-دودھ-صحت-مند-غذا-کا-لازمی-حصہ-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غلط فہمی نمبر 1: دودھ صحت مند غذا کا لازمی حصہ ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دودھ کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ لازمی غذا ہے، حالانکہ تحقیق اس کی حمایت نہیں کرتی۔ دودھ کو ہمیشہ مضبوط اور صحت مند ہڈیوں کے لیے ضروری بتایا جاتا رہا ہے کیونکہ اس میں کیلشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، ایک کپ کم چکنائی والا دودھ تقریباً 300 ملی گرام کیلشیم فراہم کرتا ہے، جو بالغوں کی روزانہ کی ضرورت کا ایک تہائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484206/"&gt;بچی ہوئی چائے کی پتی کے 6 حیرت انگیز استعمال &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں 20 مطالعات کے تجزیے سے پتہ چلا کہ دودھ زیادہ پینے والے اور کم پینے والے لوگوں میں ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دودھ کے متبادل کئی غذائیں ہیں جو پروٹین، وٹامن B12، فاسفورس اور کیلشیم فراہم کرتی ہیں، جیسے ہڈیوں والی مچھلی، سبز پتوں والی سبزیاں اور گوشت۔ بہت سے لوگ یہ غذائی اجزاء فورٹیفائیڈ پیک شدہ خوراک اور مشروبات سے بھی حاصل کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غلط-فہمی-نمبر-2-کم-چکنائی-والا-دودھ-ہمیشہ-صحت-بخش-ہوتا-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-2-کم-چکنائی-والا-دودھ-ہمیشہ-صحت-بخش-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غلط فہمی نمبر 2: کم چکنائی والا دودھ ہمیشہ صحت بخش ہوتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں سے غذائی ماہرین مشورہ دیتے رہیں ہیں کہ  کم چکنائی والے دودھ کا استعمال  کیا جائے تاکہ زیادہ چکنائی دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو نہ بڑھائے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس سفارش کے پیچھے مضبوط شواہد نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ مطالعات میں کم چکنائی والے دودھ کے فوائد دیکھے گئے ہیں، جبکہ کچھ میں عام دودھ کے بھی فائدے ظاہر ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جن لوگوں کے خون میں دودھ کی چکنائی زیادہ تھی، وہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے کم خطرے کا شکار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/"&gt;
کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟ &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کے ایک جائزے میں محققین نے کہا کہ ابھی تک یہ کہنا مشکل ہے کہ کس دودھ کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس لیے دودھ کا انتخاب آپ کی صحت اور ذائقے کی ترجیحات پر منحصر ہونا چاہیے: اگر آپ کم کیلوریز کے ساتھ زیادہ پروٹین اور کیلشیم چاہتے ہیں تو کم چکنائی والا دودھ بہتر ہے، جبکہ کچھ لوگ عام دودھ کا ذائقہ اور ساخت پسند کرتے ہیں، حالانکہ اس میں پروٹین اور کیلشیم تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں مگر کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غلط-فہمی-نمبر-3-پودوں-پر-مبنی-دودھ-زیادہ-غذائیت-بخش-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-3-پودوں-پر-مبنی-دودھ-زیادہ-غذائیت-بخش-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غلط فہمی نمبر 3: پودوں پر مبنی دودھ زیادہ غذائیت بخش ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ پودوں سے بنے دودھ جیسے سویابین، بادام یا جو کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ غذائیت بخش ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہمیشہ درست نہیں ہے۔ پودوں کے دودھ میں وہ اہم وٹامنز اور معدنیات، جیسے پروٹین، کیلشیم، پوٹاشیم اور وٹامن B اور D، ہمیشہ نہیں پائے جاتے، اس لیے یہ گائے کے دودھ کا متبادل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض پودوں کے دودھ میں اضافی شکر اور نمک بھی شامل ہوتے ہیں، جو زیادہ مقدار میں صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ پروٹین کی کوالٹی بھی مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ کچھ پودوں کے دودھ میں ضروری امینو ایسڈز کی کمی ہوتی ہے، جبکہ گائے کا دودھ اور سویابین کا دودھ مکمل پروٹین فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غلط-فہمی-نمبر-4-لیکٹوز-برداشت-نہ-کرنے-والے-افراد-کو-ڈیری-مصنوعات-سے-پرہیز-کرنا-چاہیے" href="#غلط-فہمی-نمبر-4-لیکٹوز-برداشت-نہ-کرنے-والے-افراد-کو-ڈیری-مصنوعات-سے-پرہیز-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غلط فہمی نمبر 4: لیکٹوز برداشت نہ کرنے والے افراد کو ڈیری مصنوعات سے پرہیز کرنا چاہیے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو لیکٹوز انٹولرنس ہے تو وہ دودھ اور ڈیری مصنوعات بالکل نہیں کھا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ لیکٹوز انٹولرنس میں جسم دودھ کی قدرتی شکر، لیکٹوز، کو ہضم نہیں کر پاتا کیونکہ لیکٹیز انزائم کم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دودھ یا ڈیری مصنوعات کھانے پر پیٹ میں گیس، اپھارہ یا دست ہو سکتے ہیں۔ مگر کچھ ڈیری مصنوعات میں لیکٹوز بہت کم ہوتا ہے، جیسے سخت پنیر، مکھن، دہی اور کھٹی کریم، اور یہ تھوڑی مقدار میں کھانے سے عام طور پر مسائل نہیں  پیدا کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;جو چیزیں زیادہ  نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے دودھ، کاٹیج پنیر اور فیٹا پنیر، غذائی ماہرین اس کا استعمال بھی مکمل طور پر منع نہیں کرتے ہیں۔ آپ لیکٹوز انزائم سپلیمنٹ لے کر ان کھانوں کے بعد ہونے والے مسائل کم کر سکتے ہیں۔ مارکیٹ میں لیکٹوز فری دودھ، دہی، پنیر اور آئس کریم بھی دستیاب ہیں، جو عام ڈیری کی طرح ہوتے ہیں لیکن لیکٹوز انٹولرنس والے لوگوں کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غلط-فہمی-نمبر-5-کچا-دودھ-صحت-کے-لیے-بہتر-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-5-کچا-دودھ-صحت-کے-لیے-بہتر-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غلط فہمی نمبر 5: کچا دودھ صحت کے لیے بہتر ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچا دودھ زیادہ صحت مند ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ سوچتے ہیں کہ پیسچورائزیشن (دودھ کو گرم کر کے جراثیم ختم کرنا) اس کے فائدے کم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بات درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیسچورائزیشن سے دودھ میں چند غذائی اجزاء کی معمولی کمی آ سکتی ہے، لیکن یہ اس کی صحت بخش خصوصیات پر زیادہ اثر نہیں ڈالتی۔ جبکہ کچا دودھ خطرناک بیکٹیریا جیسے سالمونیلا، ای کولی اور لسٹیریا لے جا سکتا ہے، جو بیماری یا حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے کچا دودھ پینا محفوظ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیری مصنوعات کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیں تو اعتدال اور متوازن غذا کے اصولوں پر عمل کریں۔ پاستورائزڈ دودھ اور متبادل مصنوعات محفوظ اور غذائیت بخش آپشن ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر شخص دودھ کے بغیر صحت مند نہ رہ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیری مصنوعات دنیا بھرمیں پسند کی جاتی ہیں اوران کی غذائی اہمیت کو بھی زمانہ قدیم سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ڈیری مصنوعات کے بارے میں کئی افواہیں اور غلط فہمیاں گردش کرتی رہتی ہیں۔</strong></p>
<p>ہم ڈیری مصنوعات کے غذائی فوائد کے بارے میں کئی باتیں غلط سمجھتے ہیں اور یہ بھی نہیں جان پاتے کہ یہ ہماری صحت کے لیے کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں۔</p>
<p>نیچے وہ پانچ عام غلط فہمیاں بیان کی گئی ہیں جو غذائیت کے ماہرین اکثر سنتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30483686/">جسم میں پانی کی کمی دور کرنے والا نیا سوشل میڈیا ٹرینڈ ’لوڈِڈ واٹر‘ کیا ہے؟</a></p>
<h1><a id="غلط-فہمی-نمبر-1-دودھ-صحت-مند-غذا-کا-لازمی-حصہ-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-1-دودھ-صحت-مند-غذا-کا-لازمی-حصہ-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غلط فہمی نمبر 1: دودھ صحت مند غذا کا لازمی حصہ ہے</strong></h1>
<p>دودھ کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ لازمی غذا ہے، حالانکہ تحقیق اس کی حمایت نہیں کرتی۔ دودھ کو ہمیشہ مضبوط اور صحت مند ہڈیوں کے لیے ضروری بتایا جاتا رہا ہے کیونکہ اس میں کیلشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، ایک کپ کم چکنائی والا دودھ تقریباً 300 ملی گرام کیلشیم فراہم کرتا ہے، جو بالغوں کی روزانہ کی ضرورت کا ایک تہائی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484206/">بچی ہوئی چائے کی پتی کے 6 حیرت انگیز استعمال </a></p>
<p>2022 میں 20 مطالعات کے تجزیے سے پتہ چلا کہ دودھ زیادہ پینے والے اور کم پینے والے لوگوں میں ہڈیوں کے ٹوٹنے کے خطرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دودھ کے متبادل کئی غذائیں ہیں جو پروٹین، وٹامن B12، فاسفورس اور کیلشیم فراہم کرتی ہیں، جیسے ہڈیوں والی مچھلی، سبز پتوں والی سبزیاں اور گوشت۔ بہت سے لوگ یہ غذائی اجزاء فورٹیفائیڈ پیک شدہ خوراک اور مشروبات سے بھی حاصل کر لیتے ہیں۔</p>
<h1><a id="غلط-فہمی-نمبر-2-کم-چکنائی-والا-دودھ-ہمیشہ-صحت-بخش-ہوتا-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-2-کم-چکنائی-والا-دودھ-ہمیشہ-صحت-بخش-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غلط فہمی نمبر 2: کم چکنائی والا دودھ ہمیشہ صحت بخش ہوتا ہے</strong></h1>
<p>کئی دہائیوں سے غذائی ماہرین مشورہ دیتے رہیں ہیں کہ  کم چکنائی والے دودھ کا استعمال  کیا جائے تاکہ زیادہ چکنائی دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو نہ بڑھائے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس سفارش کے پیچھے مضبوط شواہد نہیں ہیں۔</p>
<p>کچھ مطالعات میں کم چکنائی والے دودھ کے فوائد دیکھے گئے ہیں، جبکہ کچھ میں عام دودھ کے بھی فائدے ظاہر ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جن لوگوں کے خون میں دودھ کی چکنائی زیادہ تھی، وہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے کم خطرے کا شکار ہوئے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/">
کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟ </a></p>
<p>2025 کے ایک جائزے میں محققین نے کہا کہ ابھی تک یہ کہنا مشکل ہے کہ کس دودھ کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس لیے دودھ کا انتخاب آپ کی صحت اور ذائقے کی ترجیحات پر منحصر ہونا چاہیے: اگر آپ کم کیلوریز کے ساتھ زیادہ پروٹین اور کیلشیم چاہتے ہیں تو کم چکنائی والا دودھ بہتر ہے، جبکہ کچھ لوگ عام دودھ کا ذائقہ اور ساخت پسند کرتے ہیں، حالانکہ اس میں پروٹین اور کیلشیم تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں مگر کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔</p>
<h1><a id="غلط-فہمی-نمبر-3-پودوں-پر-مبنی-دودھ-زیادہ-غذائیت-بخش-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-3-پودوں-پر-مبنی-دودھ-زیادہ-غذائیت-بخش-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غلط فہمی نمبر 3: پودوں پر مبنی دودھ زیادہ غذائیت بخش ہے</strong></h1>
<p>ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ پودوں سے بنے دودھ جیسے سویابین، بادام یا جو کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ غذائیت بخش ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہمیشہ درست نہیں ہے۔ پودوں کے دودھ میں وہ اہم وٹامنز اور معدنیات، جیسے پروٹین، کیلشیم، پوٹاشیم اور وٹامن B اور D، ہمیشہ نہیں پائے جاتے، اس لیے یہ گائے کے دودھ کا متبادل نہیں ہیں۔</p>
<p>بعض پودوں کے دودھ میں اضافی شکر اور نمک بھی شامل ہوتے ہیں، جو زیادہ مقدار میں صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ پروٹین کی کوالٹی بھی مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ کچھ پودوں کے دودھ میں ضروری امینو ایسڈز کی کمی ہوتی ہے، جبکہ گائے کا دودھ اور سویابین کا دودھ مکمل پروٹین فراہم کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="غلط-فہمی-نمبر-4-لیکٹوز-برداشت-نہ-کرنے-والے-افراد-کو-ڈیری-مصنوعات-سے-پرہیز-کرنا-چاہیے" href="#غلط-فہمی-نمبر-4-لیکٹوز-برداشت-نہ-کرنے-والے-افراد-کو-ڈیری-مصنوعات-سے-پرہیز-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غلط فہمی نمبر 4: لیکٹوز برداشت نہ کرنے والے افراد کو ڈیری مصنوعات سے پرہیز کرنا چاہیے</strong></h1>
<p>اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو لیکٹوز انٹولرنس ہے تو وہ دودھ اور ڈیری مصنوعات بالکل نہیں کھا سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ لیکٹوز انٹولرنس میں جسم دودھ کی قدرتی شکر، لیکٹوز، کو ہضم نہیں کر پاتا کیونکہ لیکٹیز انزائم کم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دودھ یا ڈیری مصنوعات کھانے پر پیٹ میں گیس، اپھارہ یا دست ہو سکتے ہیں۔ مگر کچھ ڈیری مصنوعات میں لیکٹوز بہت کم ہوتا ہے، جیسے سخت پنیر، مکھن، دہی اور کھٹی کریم، اور یہ تھوڑی مقدار میں کھانے سے عام طور پر مسائل نہیں  پیدا کرتے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>جو چیزیں زیادہ  نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں، جیسے دودھ، کاٹیج پنیر اور فیٹا پنیر، غذائی ماہرین اس کا استعمال بھی مکمل طور پر منع نہیں کرتے ہیں۔ آپ لیکٹوز انزائم سپلیمنٹ لے کر ان کھانوں کے بعد ہونے والے مسائل کم کر سکتے ہیں۔ مارکیٹ میں لیکٹوز فری دودھ، دہی، پنیر اور آئس کریم بھی دستیاب ہیں، جو عام ڈیری کی طرح ہوتے ہیں لیکن لیکٹوز انٹولرنس والے لوگوں کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔</p>
<h1><a id="غلط-فہمی-نمبر-5-کچا-دودھ-صحت-کے-لیے-بہتر-ہے" href="#غلط-فہمی-نمبر-5-کچا-دودھ-صحت-کے-لیے-بہتر-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غلط فہمی نمبر 5: کچا دودھ صحت کے لیے بہتر ہے</strong></h1>
<p>اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچا دودھ زیادہ صحت مند ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ سوچتے ہیں کہ پیسچورائزیشن (دودھ کو گرم کر کے جراثیم ختم کرنا) اس کے فائدے کم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بات درست نہیں۔</p>
<p>پیسچورائزیشن سے دودھ میں چند غذائی اجزاء کی معمولی کمی آ سکتی ہے، لیکن یہ اس کی صحت بخش خصوصیات پر زیادہ اثر نہیں ڈالتی۔ جبکہ کچا دودھ خطرناک بیکٹیریا جیسے سالمونیلا، ای کولی اور لسٹیریا لے جا سکتا ہے، جو بیماری یا حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے کچا دودھ پینا محفوظ نہیں ہے۔</p>
<p>ڈیری مصنوعات کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیں تو اعتدال اور متوازن غذا کے اصولوں پر عمل کریں۔ پاستورائزڈ دودھ اور متبادل مصنوعات محفوظ اور غذائیت بخش آپشن ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر شخص دودھ کے بغیر صحت مند نہ رہ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484352</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 15:25:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/27141146cbd8f73.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/27141146cbd8f73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچی ہوئی چائے کی پتی کے 6 حیرت انگیز استعمال</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484206/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم میں سے اکثر کی صبح کا آغاز ایک کپ گرما گرم چائے کے ساتھ  ہوتا ہے۔ چائے پینے کے بعد بچی ہوئی چائے کی پتی کو سیدھا  کوڑے دان کی نذر کردینا بھی ایک عام معمول ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچی ہوئی چائے کی پتی روزمرہ زندگی میں کئی طریقوں سے مفید ہو سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق،حقیقت میں، بچی ہوئی چائے کی پتی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اسے روزمرہ زندگی میں کئی مفید طریقوں سے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں 6 آسان اور دلچسپ طریقے جس سے آپ بچی ہوئی چائے کی پتی کو دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30483686/"&gt;جسم میں پانی کی کمی دور کرنے والا نیا سوشل میڈیا ٹرینڈ ’لوڈِڈ واٹر‘ کیا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایئر-فریشر-کے-طور-پر" href="#ایئر-فریشر-کے-طور-پر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایئر فریشر کے طور پر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس کا سب سے آسان اور فوری استعمال گھر کی بدبو دور کرنا ہے ۔ بچی ہوئی چائے کی پتی کو ایک چھوٹے پیالے میں فریج میں رکھیں تاکہ کھانے کی تیز بو دور ہو جائے یا اسے جوتوں میں ڈالیں تاکہ تازگی آئے۔ مزید برآں، چائے کی پتی کو کپڑے کے چھوٹے بیگ یا ساشے میں ڈال کر الماریوں اور الماری کے درازوں میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے کپڑوں اور کمرے کی خوشبو دیر تک تازہ رہتی ہے۔ یہ نہ صرف فضا کو خوشبودار بناتا ہے بلکہ کیمیکلز کے بغیر قدرتی اور ماحول دوست طریقہ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈی-آئی-وائی-اسکن-اسکرب" href="#ڈی-آئی-وائی-اسکن-اسکرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈی آئی وائی اسکن اسکرب&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بچی ہوئی چائے کی پتی کو شہد یا دہی کے ساتھ ملا کر ایک قدرتی اسکرب تیار کریں۔ یہ مردہ جلد کو صاف کرتی ہے، جلد کو نرم اور تازہ بناتی ہے اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور چائے جلد کو ریفریش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/"&gt;کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟ &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بالوں-کے-لیے-فائدہ-مند" href="#بالوں-کے-لیے-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بالوں کے لیے فائدہ مند&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چائے کی پتی سے بالوں کے لیے قدرتی کنڈیشنر بنایا جا سکتا ہے۔ پتی کو پانی میں ابالیں، چھان کر ٹھنڈا ہونے دیں اور شیمپو کے بعد بالوں پر ڈالیں۔ یہ بالوں کو چمکدار بناتا ہے، خشکی کم کرتا ہے اور بالوں کو قدرتی طور پر نرم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چکنے-برتن-صاف-کریں" href="#چکنے-برتن-صاف-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;چکنے برتن صاف کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خشک چائے کی پتی برتنوں کی صفائی میں بھی مفید ہے۔ یہ ہلکی رگڑدیتی ہے، جس سے دیگچی، پین اور چولہے کے داغ آسانی سے صاف ہو جاتے ہیں، اور کیمیکلز کے بغیر صفائی ممکن ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قالین-اور-کارپٹ-کی-بو-دور-کریں" href="#قالین-اور-کارپٹ-کی-بو-دور-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قالین اور کارپٹ کی بو دور کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چائے کی پتی کارپٹ یا قالین کی بدبو دور کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ خشک پتی کو قالین پر چھڑکیں، 15 منٹ کے لیے چھوڑیں، اور پھر ویکیوم کریں۔ قالین صاف اور تازہ محسوس ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قدرتی-رنگ-بنانے-کے-لیے" href="#قدرتی-رنگ-بنانے-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قدرتی رنگ بنانے کے لیے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چائے کی پتی قدرتی رنگ بنانے میں بھی مددگار ہے۔ بچی ہوئی پتی کو دوبارہ ابالیں اور ہلکا بھورا رنگ حاصل کریں، جسے کپڑے، کاغذ یا حتیٰ کہ انڈوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ رنگین ٹونز دستکاری اور وِنٹیج لک کے لیے بہترین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائے کی پتی کو ضائع کرنے کے بجائے، اس کے یہ چھوٹے مگر کارآمد استعمال زندگی کو زیادہ ماحول دوست اور تخلیقی بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم میں سے اکثر کی صبح کا آغاز ایک کپ گرما گرم چائے کے ساتھ  ہوتا ہے۔ چائے پینے کے بعد بچی ہوئی چائے کی پتی کو سیدھا  کوڑے دان کی نذر کردینا بھی ایک عام معمول ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچی ہوئی چائے کی پتی روزمرہ زندگی میں کئی طریقوں سے مفید ہو سکتی ہے؟</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق،حقیقت میں، بچی ہوئی چائے کی پتی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اسے روزمرہ زندگی میں کئی مفید طریقوں سے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں 6 آسان اور دلچسپ طریقے جس سے آپ بچی ہوئی چائے کی پتی کو دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30483686/">جسم میں پانی کی کمی دور کرنے والا نیا سوشل میڈیا ٹرینڈ ’لوڈِڈ واٹر‘ کیا ہے؟</a></p>
<h1><a id="ایئر-فریشر-کے-طور-پر" href="#ایئر-فریشر-کے-طور-پر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایئر فریشر کے طور پر</strong></h1>
<p>اس کا سب سے آسان اور فوری استعمال گھر کی بدبو دور کرنا ہے ۔ بچی ہوئی چائے کی پتی کو ایک چھوٹے پیالے میں فریج میں رکھیں تاکہ کھانے کی تیز بو دور ہو جائے یا اسے جوتوں میں ڈالیں تاکہ تازگی آئے۔ مزید برآں، چائے کی پتی کو کپڑے کے چھوٹے بیگ یا ساشے میں ڈال کر الماریوں اور الماری کے درازوں میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے کپڑوں اور کمرے کی خوشبو دیر تک تازہ رہتی ہے۔ یہ نہ صرف فضا کو خوشبودار بناتا ہے بلکہ کیمیکلز کے بغیر قدرتی اور ماحول دوست طریقہ بھی ہے۔</p>
<h1><a id="ڈی-آئی-وائی-اسکن-اسکرب" href="#ڈی-آئی-وائی-اسکن-اسکرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈی آئی وائی اسکن اسکرب</strong></h1>
<p>بچی ہوئی چائے کی پتی کو شہد یا دہی کے ساتھ ملا کر ایک قدرتی اسکرب تیار کریں۔ یہ مردہ جلد کو صاف کرتی ہے، جلد کو نرم اور تازہ بناتی ہے اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور چائے جلد کو ریفریش کرتی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30484063/">کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟ </a></p>
<h1><a id="بالوں-کے-لیے-فائدہ-مند" href="#بالوں-کے-لیے-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بالوں کے لیے فائدہ مند</strong></h1>
<p>چائے کی پتی سے بالوں کے لیے قدرتی کنڈیشنر بنایا جا سکتا ہے۔ پتی کو پانی میں ابالیں، چھان کر ٹھنڈا ہونے دیں اور شیمپو کے بعد بالوں پر ڈالیں۔ یہ بالوں کو چمکدار بناتا ہے، خشکی کم کرتا ہے اور بالوں کو قدرتی طور پر نرم کرتا ہے۔</p>
<h1><a id="چکنے-برتن-صاف-کریں" href="#چکنے-برتن-صاف-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>چکنے برتن صاف کریں</strong></h1>
<p>خشک چائے کی پتی برتنوں کی صفائی میں بھی مفید ہے۔ یہ ہلکی رگڑدیتی ہے، جس سے دیگچی، پین اور چولہے کے داغ آسانی سے صاف ہو جاتے ہیں، اور کیمیکلز کے بغیر صفائی ممکن ہوتی ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="قالین-اور-کارپٹ-کی-بو-دور-کریں" href="#قالین-اور-کارپٹ-کی-بو-دور-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قالین اور کارپٹ کی بو دور کریں</strong></h1>
<p>چائے کی پتی کارپٹ یا قالین کی بدبو دور کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ خشک پتی کو قالین پر چھڑکیں، 15 منٹ کے لیے چھوڑیں، اور پھر ویکیوم کریں۔ قالین صاف اور تازہ محسوس ہوگا۔</p>
<h1><a id="قدرتی-رنگ-بنانے-کے-لیے" href="#قدرتی-رنگ-بنانے-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قدرتی رنگ بنانے کے لیے</strong></h1>
<p>چائے کی پتی قدرتی رنگ بنانے میں بھی مددگار ہے۔ بچی ہوئی پتی کو دوبارہ ابالیں اور ہلکا بھورا رنگ حاصل کریں، جسے کپڑے، کاغذ یا حتیٰ کہ انڈوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ رنگین ٹونز دستکاری اور وِنٹیج لک کے لیے بہترین ہیں۔</p>
<p>چائے کی پتی کو ضائع کرنے کے بجائے، اس کے یہ چھوٹے مگر کارآمد استعمال زندگی کو زیادہ ماحول دوست اور تخلیقی بنا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484206</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Sep 2025 13:16:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/261313085f73065.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/261313085f73065.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا روٹی پر گھی لگانا شوگر اور موٹاپا بڑھاتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30484063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل سوشل میڈیا اور عام محفلوں میں یہ بحث عام ہے کہ روٹی پر گھی لگانے سے چربی بڑھتی ہے، شوگر کا لیول اوپر جاتا ہے اور صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ کچھ لوگ تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر ہم گھی کا استعمال جاری رکھیں تو لوگ پچاس سال سے زیادہ عمر نہیں جی پائیں گے۔ لیکن کیا یہ بات حقیقت ہے یا صرف ایک غلط فہمی؟ اس سوال کا جواب ماہر غذائیت نے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دیسی-گھی-کوسپرفوڈ-کیوں-کہا-جاتا-ہے" href="#دیسی-گھی-کوسپرفوڈ-کیوں-کہا-جاتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;دیسی گھی کوسپرفوڈ کیوں کہا جاتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;غذائی ماہرین کے مطابق دیسی گھی ایک سپرفوڈ ہے جس میں وٹامنزاے، ڈی، ای اور کے کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی شامل ہوتے ہیں، جو دماغی صحت اور دل کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھی ایک ایسی صحت مند  چربی ہے جو جلد ہضم ہو جاتا ہے اور فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30483354/"&gt;زہریلے مادوں سے بچنے کے لیے نان اسٹک پین میں کھانا پکانے کا درست طریقہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="روٹی-پر-گھی-لگانے-کے-فائدے" href="#روٹی-پر-گھی-لگانے-کے-فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روٹی پر گھی لگانے کے فائدے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ اگر آپ روٹی پر تھوڑی سی مقدار میں گھی لگاتے ہیں تو اس سے کھانے کا گلیسیمک انڈیکس کم ہو جاتا ہے، یعنی خون میں شکر کی سطح تیزی سے نہیں بڑھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ گھی کھانے سے موٹاپا بڑھ جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا مغالطہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ دن میں صرف 2 سے 3 چائے کے چمچ گھی کھاتے ہیں تو یہ نہ صرف آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے بلکہ آپ کا میٹابولزم بھی تیز کرتا ہے، جو وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔ البتہ، ضرورت سے زیادہ مقدار میں گھی کھانے سے جسم میں چربی جمع ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30482679/"&gt;بھنڈی پکاتے وقت چپچپا اور لیس دار ہونے سے بچانے کے 7 زبردست ٹوٹکے &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھی جیسی غذائیں جسم کو بعض ضروری وٹامنز اور منرلز جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ خاص طور پر جب سبزیاں یا صحت بخش کھانے گھی کے ساتھ پکائے جائیں تو ان کے غذائی اجزا زیادہ بہتر طریقے سے جسم میں جذب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="استعمال-کا-صحیح-طریقہ" href="#استعمال-کا-صحیح-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;استعمال کا صحیح طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہر غذائیت کے مطابق گھی کو کھانے کے بعد شامل کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ مثال کے طور پر روٹی پر ہلکا سا گھی لگائیں۔ دال یا سبزی میں تھوڑا سا شامل کریں۔  چاول پر ایک چمچ ڈال لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;یہ عادات نہ صرف کھانے کو مزید ذائقہ دار بنائیں گی بلکہ آپ کے کھانے کو متوازن  بھی کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، روٹی پر تھوڑا سا گھی لگانا نہ تو نقصان دہ ہے اور نہ ہی یہ شوگر یا موٹاپا بڑھاتا ہے، بلکہ یہ صحت مند طریقے سے کھایا جائے تو توانائی، ہاضمہ اور میٹابولزم سب بہتر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس یاد رکھیں، ہر چیز کی طرح گھی کا استعمال بھی اعتدال میں کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل سوشل میڈیا اور عام محفلوں میں یہ بحث عام ہے کہ روٹی پر گھی لگانے سے چربی بڑھتی ہے، شوگر کا لیول اوپر جاتا ہے اور صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ کچھ لوگ تو یہ تک کہتے ہیں کہ اگر ہم گھی کا استعمال جاری رکھیں تو لوگ پچاس سال سے زیادہ عمر نہیں جی پائیں گے۔ لیکن کیا یہ بات حقیقت ہے یا صرف ایک غلط فہمی؟ اس سوال کا جواب ماہر غذائیت نے دیا ہے۔</strong></p>
<h1><a id="دیسی-گھی-کوسپرفوڈ-کیوں-کہا-جاتا-ہے" href="#دیسی-گھی-کوسپرفوڈ-کیوں-کہا-جاتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>دیسی گھی کوسپرفوڈ کیوں کہا جاتا ہے؟</strong></h1>
<p>غذائی ماہرین کے مطابق دیسی گھی ایک سپرفوڈ ہے جس میں وٹامنزاے، ڈی، ای اور کے کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی شامل ہوتے ہیں، جو دماغی صحت اور دل کے لیے بے حد فائدہ مند ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھی ایک ایسی صحت مند  چربی ہے جو جلد ہضم ہو جاتا ہے اور فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30483354/">زہریلے مادوں سے بچنے کے لیے نان اسٹک پین میں کھانا پکانے کا درست طریقہ</a></p>
<h1><a id="روٹی-پر-گھی-لگانے-کے-فائدے" href="#روٹی-پر-گھی-لگانے-کے-فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روٹی پر گھی لگانے کے فائدے</strong></h1>
<p>ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ اگر آپ روٹی پر تھوڑی سی مقدار میں گھی لگاتے ہیں تو اس سے کھانے کا گلیسیمک انڈیکس کم ہو جاتا ہے، یعنی خون میں شکر کی سطح تیزی سے نہیں بڑھتی۔</p>
<p>اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ گھی کھانے سے موٹاپا بڑھ جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا مغالطہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ دن میں صرف 2 سے 3 چائے کے چمچ گھی کھاتے ہیں تو یہ نہ صرف آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے بلکہ آپ کا میٹابولزم بھی تیز کرتا ہے، جو وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔ البتہ، ضرورت سے زیادہ مقدار میں گھی کھانے سے جسم میں چربی جمع ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال لازمی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30482679/">بھنڈی پکاتے وقت چپچپا اور لیس دار ہونے سے بچانے کے 7 زبردست ٹوٹکے </a></p>
<p>تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھی جیسی غذائیں جسم کو بعض ضروری وٹامنز اور منرلز جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ خاص طور پر جب سبزیاں یا صحت بخش کھانے گھی کے ساتھ پکائے جائیں تو ان کے غذائی اجزا زیادہ بہتر طریقے سے جسم میں جذب ہوتے ہیں۔</p>
<h1><a id="استعمال-کا-صحیح-طریقہ" href="#استعمال-کا-صحیح-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>استعمال کا صحیح طریقہ</strong></h1>
<p>ماہر غذائیت کے مطابق گھی کو کھانے کے بعد شامل کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ مثال کے طور پر روٹی پر ہلکا سا گھی لگائیں۔ دال یا سبزی میں تھوڑا سا شامل کریں۔  چاول پر ایک چمچ ڈال لیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>یہ عادات نہ صرف کھانے کو مزید ذائقہ دار بنائیں گی بلکہ آپ کے کھانے کو متوازن  بھی کریں گی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، روٹی پر تھوڑا سا گھی لگانا نہ تو نقصان دہ ہے اور نہ ہی یہ شوگر یا موٹاپا بڑھاتا ہے، بلکہ یہ صحت مند طریقے سے کھایا جائے تو توانائی، ہاضمہ اور میٹابولزم سب بہتر کرتا ہے۔</p>
<p>بس یاد رکھیں، ہر چیز کی طرح گھی کا استعمال بھی اعتدال میں کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30484063</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 14:58:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/25144757fb503a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/25144757fb503a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھنڈی پکاتے وقت چپچپا اور لیس دار ہونے سے بچانے کے 7 زبردست ٹوٹکے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30482679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھنڈی، جسےلیڈی فنگر بھی کہا جاتا ہے،  کھانوں میں ایک عام اور پسندیدہ سبزی ہے۔ سبزی کے طور پر بھنڈی کی ڈرائی سبزی تقریباً ہر گھر میں سال بھر بنتی رہتی ہے۔ مگر اکثر اسے پکاتے وقت بھنڈی چپچپی اور لیس دار ہو جاتی ہے، جس سے پکانے کا عمل مشکل اور لمبا ہو جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بھی بھنڈی پکاتے ہوئے یہ مسئلہ بار بار محسوس کرتی ہیں، تو یہ رہنما اصول آپ کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھنڈی-پکانے-کے-7سادہ-مگر-زبردست-ٹپس" href="#بھنڈی-پکانے-کے-7سادہ-مگر-زبردست-ٹپس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھنڈی پکانے کے 7سادہ مگر زبردست ٹپس&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھنڈی-کا-صحیح-انتخاب" href="#بھنڈی-کا-صحیح-انتخاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھنڈی کا صحیح انتخاب&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سلائم سے بچنے کا پہلا قدم ہے بازار سے صحیح بھنڈی منتخب کرنا۔ ہلکی نرم اور کم بیج والی بھنڈی کو ترجیح دیں۔ ہلکا سا دباؤ دے کر یہ جانچ لیں کہ بھنڈی تازہ ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھنڈی-کو-اچھی-طرح-خشک-کریں" href="#بھنڈی-کو-اچھی-طرح-خشک-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بھنڈی کو اچھی طرح خشک کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لیس زیادہ تر پانی کی وجہ سے بنتا ہے۔ دھونے کے بعد بھنڈی کو صاف تولیے پر رکھ کر مکمل خشک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دہی-یا-لیموں-کا-اضافہ-کریں" href="#دہی-یا-لیموں-کا-اضافہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;دہی یا لیموں کا اضافہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھنڈی تلنے سے پہلے ایک چمچ دہی یا چند قطرے لیموں کا رس ڈالیں۔ یہ نہ صرف چپچپا پن کم کرے گا بلکہ بھنڈی کو ہلکی کھٹی خوشبو بھی دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیسن-کا-استعمال-کریں" href="#بیسن-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیسن کا استعمال کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شروع میں تھوڑا سا بیسن بھنڈی میں شامل کریں اور بھُونیں۔ یہ طریقہ لیس پیدا ہونے سے بچاتا ہے اور بھنڈی کو مزیدار بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سرکہ" href="#سرکہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سرکہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک کپ پانی میں ¼ کپ سرکہ ملا کر بھنڈی کو چند منٹ کے لیے بھگو دیں۔ پکانے سے پہلے اچھی طرح خشک کرنا نہ بھولیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈھکن-نہ-لگائیں" href="#ڈھکن-نہ-لگائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈھکن نہ لگائیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بھنڈی پکاتے وقت پین کو ڈھکن سے ڈھانپنے سے بھاپ بنتی ہے، جولیس بڑھا سکتی ہے۔ کھلا پین استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نمک-آخر-میں-ڈالیں" href="#نمک-آخر-میں-ڈالیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نمک آخر میں ڈالیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;نمک بھی نمی پیدا کرتا ہے، اس لیے اسے بھنڈی تقریباً پکنے کے بعد شامل کریں تاکہ سلائم نہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چھوٹے چھوٹے نکات نہ صرف بھِنڈی کو چپچپا اورلیس دور ہونے سے بچائیں گے بلکہ اس کے ذائقے کو بھی بڑھائیں گے۔ اگلی بار بھِنڈی پکاتے وقت یہ ٹپس آزمائیں اور اپنی پسندیدہ سبزی کو مزیدار انداز میں تیار کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھنڈی، جسےلیڈی فنگر بھی کہا جاتا ہے،  کھانوں میں ایک عام اور پسندیدہ سبزی ہے۔ سبزی کے طور پر بھنڈی کی ڈرائی سبزی تقریباً ہر گھر میں سال بھر بنتی رہتی ہے۔ مگر اکثر اسے پکاتے وقت بھنڈی چپچپی اور لیس دار ہو جاتی ہے، جس سے پکانے کا عمل مشکل اور لمبا ہو جاتا ہے۔</strong></p>
<p>اگر آپ بھی بھنڈی پکاتے ہوئے یہ مسئلہ بار بار محسوس کرتی ہیں، تو یہ رہنما اصول آپ کے لیے ہے۔</p>
<h1><a id="بھنڈی-پکانے-کے-7سادہ-مگر-زبردست-ٹپس" href="#بھنڈی-پکانے-کے-7سادہ-مگر-زبردست-ٹپس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھنڈی پکانے کے 7سادہ مگر زبردست ٹپس</strong></h1>
<h1><a id="بھنڈی-کا-صحیح-انتخاب" href="#بھنڈی-کا-صحیح-انتخاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھنڈی کا صحیح انتخاب</strong></h1>
<p>سلائم سے بچنے کا پہلا قدم ہے بازار سے صحیح بھنڈی منتخب کرنا۔ ہلکی نرم اور کم بیج والی بھنڈی کو ترجیح دیں۔ ہلکا سا دباؤ دے کر یہ جانچ لیں کہ بھنڈی تازہ ہے یا نہیں۔</p>
<h1><a id="بھنڈی-کو-اچھی-طرح-خشک-کریں" href="#بھنڈی-کو-اچھی-طرح-خشک-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بھنڈی کو اچھی طرح خشک کریں</strong></h1>
<p>لیس زیادہ تر پانی کی وجہ سے بنتا ہے۔ دھونے کے بعد بھنڈی کو صاف تولیے پر رکھ کر مکمل خشک کریں۔</p>
<h1><a id="دہی-یا-لیموں-کا-اضافہ-کریں" href="#دہی-یا-لیموں-کا-اضافہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>دہی یا لیموں کا اضافہ کریں</strong></h1>
<p>بھنڈی تلنے سے پہلے ایک چمچ دہی یا چند قطرے لیموں کا رس ڈالیں۔ یہ نہ صرف چپچپا پن کم کرے گا بلکہ بھنڈی کو ہلکی کھٹی خوشبو بھی دے گا۔</p>
<h1><a id="بیسن-کا-استعمال-کریں" href="#بیسن-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیسن کا استعمال کریں</strong></h1>
<p>شروع میں تھوڑا سا بیسن بھنڈی میں شامل کریں اور بھُونیں۔ یہ طریقہ لیس پیدا ہونے سے بچاتا ہے اور بھنڈی کو مزیدار بناتا ہے۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="سرکہ" href="#سرکہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سرکہ</strong></h1>
<p>ایک کپ پانی میں ¼ کپ سرکہ ملا کر بھنڈی کو چند منٹ کے لیے بھگو دیں۔ پکانے سے پہلے اچھی طرح خشک کرنا نہ بھولیں۔</p>
<h1><a id="ڈھکن-نہ-لگائیں" href="#ڈھکن-نہ-لگائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈھکن نہ لگائیں</strong></h1>
<p>بھنڈی پکاتے وقت پین کو ڈھکن سے ڈھانپنے سے بھاپ بنتی ہے، جولیس بڑھا سکتی ہے۔ کھلا پین استعمال کریں۔</p>
<h1><a id="نمک-آخر-میں-ڈالیں" href="#نمک-آخر-میں-ڈالیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نمک آخر میں ڈالیں</strong></h1>
<p>نمک بھی نمی پیدا کرتا ہے، اس لیے اسے بھنڈی تقریباً پکنے کے بعد شامل کریں تاکہ سلائم نہ بنے۔</p>
<p>یہ چھوٹے چھوٹے نکات نہ صرف بھِنڈی کو چپچپا اورلیس دور ہونے سے بچائیں گے بلکہ اس کے ذائقے کو بھی بڑھائیں گے۔ اگلی بار بھِنڈی پکاتے وقت یہ ٹپس آزمائیں اور اپنی پسندیدہ سبزی کو مزیدار انداز میں تیار کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30482679</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 12:27:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/17121602556fc89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/17121602556fc89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آملیٹ دی وانچی‘ : مونا لیزا کا روپ دھارنے والا آملیٹ انٹرنیٹ پر چھا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30482482/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا نے اس حقیقیت کو قبول کرلیا تھا کہ کہ اب تخلیقی فن کی کوئی نئی شکل باقی نہیں رہی، مگر انٹرنیٹ نے ایک بار پھر اسے غلط ثابت کردیا ۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک ہنر مند فوڈ آرٹسٹ نے انڈے سے ایسا آملیٹ تیار کیا جو دیکھنے میں کسی مصوری کے شاہکار سے کم نہیں لگتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک حیرت انگیز ویڈیو نے دھوم مچا رکھی ہے جس میں ایک ماہر فوڈ آرٹسٹ نے سادہ سے انڈے کو ایسا شاہکار بنا ڈالا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تخلیقی  فنکار نے روایتی آملیٹ بنانے کی بجائے ایک ہاٹ پلیٹ (گرِڈل) پر انڈے کی زردی کو برش کی مدد سے اس انداز میں  بکھیر دیا کہ آہستہ آہستہ دنیا کے معروف مصور لیونارڈو دا ونچی کی مشہور پینٹنگ ”مونا لیزا“ کا خاکہ ابھرتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فنکار پہلے انڈہ توڑ کر زردی الگ کرتا ہے، پھر باریک برش کو زردی میں ڈبو کر پلیٹ پر نہایت نفاست سے لکیریں کھینچتا ہے۔  لکیریں انتہائی باریکی اور نفاست سے بنائی گئی ہوتی ہیں اور جیسے ہی زردی سنہری بھورے رنگ میں بدلتی ہے، وہ اوپر سے باقی انڈہ ڈال دیتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ زردی کی لکیریں مونا لیزا کے خدوخال میں ڈھل جاتی ہیں اور یوں ایک عام آملیٹ ایک فن پارے میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنکار نے اپنی ویڈیو کے کیپشن میں صرف دو الفاظ لکھے: “ آملیٹ دی وانچی“ اور یہی دو الفاظ انٹرنیٹ پر لاکھوں دل جیتنے کے لیے کافی ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ فنکار نے بتایا کہ اس نے یہ آئیڈیا کالینانی پریادرشنی  نامی اداکارہ کے مداحوں کے لیے ایک ایسے ہی آملیٹ پورٹریٹ سے متاثر ہو کر بنایا تھا جو پہلے وائرل ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;جب یہ نئی ویڈیو انٹرنیٹ پر مقبول ہوئی تو کالینانی پریادرشنی نے خود بھی پوسٹ پر تبصرہ کیا اور فنکار کی تخلیقی صلاحیت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹ نہایت باریک بینی اور کمال مہارت سے تخلیق کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک یہ ویڈیو 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا نے اس حقیقیت کو قبول کرلیا تھا کہ کہ اب تخلیقی فن کی کوئی نئی شکل باقی نہیں رہی، مگر انٹرنیٹ نے ایک بار پھر اسے غلط ثابت کردیا ۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک ہنر مند فوڈ آرٹسٹ نے انڈے سے ایسا آملیٹ تیار کیا جو دیکھنے میں کسی مصوری کے شاہکار سے کم نہیں لگتا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک حیرت انگیز ویڈیو نے دھوم مچا رکھی ہے جس میں ایک ماہر فوڈ آرٹسٹ نے سادہ سے انڈے کو ایسا شاہکار بنا ڈالا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔</p>
<p>اس تخلیقی  فنکار نے روایتی آملیٹ بنانے کی بجائے ایک ہاٹ پلیٹ (گرِڈل) پر انڈے کی زردی کو برش کی مدد سے اس انداز میں  بکھیر دیا کہ آہستہ آہستہ دنیا کے معروف مصور لیونارڈو دا ونچی کی مشہور پینٹنگ ”مونا لیزا“ کا خاکہ ابھرتا چلا گیا۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فنکار پہلے انڈہ توڑ کر زردی الگ کرتا ہے، پھر باریک برش کو زردی میں ڈبو کر پلیٹ پر نہایت نفاست سے لکیریں کھینچتا ہے۔  لکیریں انتہائی باریکی اور نفاست سے بنائی گئی ہوتی ہیں اور جیسے ہی زردی سنہری بھورے رنگ میں بدلتی ہے، وہ اوپر سے باقی انڈہ ڈال دیتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ زردی کی لکیریں مونا لیزا کے خدوخال میں ڈھل جاتی ہیں اور یوں ایک عام آملیٹ ایک فن پارے میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DOdjthUAWyk/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>فنکار نے اپنی ویڈیو کے کیپشن میں صرف دو الفاظ لکھے: “ آملیٹ دی وانچی“ اور یہی دو الفاظ انٹرنیٹ پر لاکھوں دل جیتنے کے لیے کافی ثابت ہوئے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ فنکار نے بتایا کہ اس نے یہ آئیڈیا کالینانی پریادرشنی  نامی اداکارہ کے مداحوں کے لیے ایک ایسے ہی آملیٹ پورٹریٹ سے متاثر ہو کر بنایا تھا جو پہلے وائرل ہو چکا تھا۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>جب یہ نئی ویڈیو انٹرنیٹ پر مقبول ہوئی تو کالینانی پریادرشنی نے خود بھی پوسٹ پر تبصرہ کیا اور فنکار کی تخلیقی صلاحیت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹ نہایت باریک بینی اور کمال مہارت سے تخلیق کیا گیا ہے۔</p>
<p>اب تک یہ ویڈیو 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30482482</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 09:28:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/160916473ae1df2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/160916473ae1df2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’پاکستان میرا اصل گھر ہے‘، سنجے دت کا پرانا ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30481495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت کی ایک پرانی ویڈیو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ اپنے والد سنیل دت کی پاکستان سے جذباتی وابستگی کے حوالے سے  انکشاف کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو میں سنجے دت نے بتایا کہ ان کے والد اکثر کہا کرتےتھے“پاکستان میرا گھر ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے مطابق، سنجے دت ایک بھارتی میوزیکل شو میں بطور مہمان شریک ہوئے تھے۔ وہاں انہوں نے بتایا کہ ایک رات وہ دیر سے گھر لوٹے تو انہوں نے اپنے والد کو کمرے میں اکیلے روتے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے تو وہ سمجھےکہ شاید وہ اپنی مرحومہ اہلیہ اور سنجے کی والدہ نرگس دت کو یاد کر رہے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے والد سے پوچھا، تو سنیل دت نے کہا: ”مجھے نیند نہیں آ رہی، مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنجے دت نے بتایا کہ وہ والد کے اس جملے پر حیران رہ گئے اور کہا ”یہی تو آپ کا گھر ہے“۔  لیکن سنیل دت نے جواب دیا: ”نہیں بیٹے، تو نہیں سمجھے گا، مجھے پاکستان یاد آ رہا ہے، وہی میرا اصل گھر ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;p&gt;سنجے دت کے والد سنیل دت جو خود بھی ماضی کے مشہورادا کاررہ چکے ہیں کا تعلق تقسیم ہند سے قبل راولپنڈی ڈویژن  سے تھا۔ ہجرت کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھارت آ گئے تھے، لیکن پاکستان کو ہمیشہ اپنی ”پیدائشی سرزمین“ اور ”اصل گھر“ قرار دیتے تھے اور تقسیم کے بعد اکثر اس کی یاد میں رویا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنیل دت ہندو پنجابی تھے، جبکہ ان کی اہلیہ نرگس دت کا تعلق ایک بنگالی مسلم خاندان سے تھا جن کی پیدائش کولکتہ میں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت کی ایک پرانی ویڈیو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ اپنے والد سنیل دت کی پاکستان سے جذباتی وابستگی کے حوالے سے  انکشاف کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس ویڈیو میں سنجے دت نے بتایا کہ ان کے والد اکثر کہا کرتےتھے“پاکستان میرا گھر ہے“۔</p>
<p>وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے مطابق، سنجے دت ایک بھارتی میوزیکل شو میں بطور مہمان شریک ہوئے تھے۔ وہاں انہوں نے بتایا کہ ایک رات وہ دیر سے گھر لوٹے تو انہوں نے اپنے والد کو کمرے میں اکیلے روتے دیکھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DOTiK3ykoWq/?utm_source=ig_web_copy_link&amp;igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>پہلے تو وہ سمجھےکہ شاید وہ اپنی مرحومہ اہلیہ اور سنجے کی والدہ نرگس دت کو یاد کر رہے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے والد سے پوچھا، تو سنیل دت نے کہا: ”مجھے نیند نہیں آ رہی، مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے۔“</p>
<p>سنجے دت نے بتایا کہ وہ والد کے اس جملے پر حیران رہ گئے اور کہا ”یہی تو آپ کا گھر ہے“۔  لیکن سنیل دت نے جواب دیا: ”نہیں بیٹے، تو نہیں سمجھے گا، مجھے پاکستان یاد آ رہا ہے، وہی میرا اصل گھر ہے۔“</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<p>سنجے دت کے والد سنیل دت جو خود بھی ماضی کے مشہورادا کاررہ چکے ہیں کا تعلق تقسیم ہند سے قبل راولپنڈی ڈویژن  سے تھا۔ ہجرت کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھارت آ گئے تھے، لیکن پاکستان کو ہمیشہ اپنی ”پیدائشی سرزمین“ اور ”اصل گھر“ قرار دیتے تھے اور تقسیم کے بعد اکثر اس کی یاد میں رویا کرتے تھے۔</p>
<p>سنیل دت ہندو پنجابی تھے، جبکہ ان کی اہلیہ نرگس دت کا تعلق ایک بنگالی مسلم خاندان سے تھا جن کی پیدائش کولکتہ میں ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30481495</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 15:44:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/09143542bf650f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/09143542bf650f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چپس کو کہیں بائے بائے ، پاپ کارن کو نیا پسندیدہ اسنیک بنائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30481463/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شام 4 بجے یا رات کے کسی پہر، کیا آپ کو اچانک بھوک کا احساس جاگ اٹھتا ہے؟ جب ہلکی سی بھوک محسوس ہو، تو ہم سب کی پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کچھ کرنچی، کچھ مزیداراور اکثر یہی راستہ ہمیں  کچن کی طرف لے جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر، چپس ہر کسی کا پسندیدہ اسنیک رہا ہے۔ لیکن آج کے دورمیں جب صحت سے متعلق آگاہی عروج پر ہے ایک نیا اسنیک اکثر پینٹری شیلفز پر جگہ بنا رہا ہے،  ’پاپ کارن‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاپ کارن ایر پاپڈ ہونے کی وجہ سے کم کیلوریز رکھتے ہیں، جبکہ چپس کو تیل میں تلا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ کیلوریز اورچکنائی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاپ کارن وزن کم کرنے یا صحت مند لائف اسٹائل اپنانے والوں کے لیے بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے کے مطابق ڈائیٹیشین انوائشا (اپولو کریڈل اینڈ چلڈرنز ہسپتال، بنگلورو) کہتی ہیں، سادہ ایئر پاپڈ پاپ کارن میں صرف 30-40 کیلوریز فی کپ ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، چپس کے صرف ایک مٹھی بھر حصے میں 150-170 کیلوریز ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چپس عام طور پر ریفائنڈ اسٹارچ سے بنتے ہیں، جبکہ پاپ کارن ہول گرین ہے، جس میں فائبراوروٹامنز موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاپ کارن میں فائبراور اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں، جو ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں اور جسم میں فری ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چپس میں زیادہ سوڈیم، ٹرانس فیٹ اور ایکریل امائڈ موجود ہوتا ہے، جو نہ صرف بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتا ہے بلکہ موٹاپے، کولیسٹرول میں اضافے اور ذیابیطس جیسے مسائل کا بھی باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، فائبر سے بھرپور پاپ کارن پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچاتا ہے، اس طرح وزن کے کنٹرول میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاپ کارن ایر پاپڈ اور بغیر اضافی مکھن یا تیل کے کھایا جائے تو یہ وزن کنٹرول کے لیے بہترین ہے۔ فائبر زیادہ ہونے کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ لیکن بٹر، چیز یا کیرمل والے ورژنز چپس کی طرح ہی کیلوریز سے بھرپور اور غیر صحت مند ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل کالے یا بیکڈ کیلے کے چپس بھی دستیاب ہیں۔ یہ بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن اگر تلے جائیں تو کیلوریز بڑھ جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے، سادہ پاپ کارن اب بھی سب سے زیادہ کم کیلوری اور زیادہ فائبر والا انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاپ کارن ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ بچوں کے لیے یہ چوکنگ ہیزرڈ ہو سکتا ہے۔ ہاضمے کے مسائل والے، دانتوں کے مریض، یا سرجری کے بعد کے افراد کے لیے یہ مناسب نہیں۔ مکھن یا چیز سے بھرپور پاپ کارن ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا یا کولیسٹرول والے افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ، ایئر پاپڈ پاپ کارن کم کیلوریز، زیادہ فائبر، اور صحت مند اینٹی آکسیڈنٹس کے ساتھ دل اورمجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ چپس یا گورمیٹ پاپ کارن کبھی کبھار لطف کے لیے کھایا جا سکتا ہے، لیکن اعتدال لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ صحت مند اسنیک چاہتے ہیں، تو سادہ پاپ کارن چپس سے بہتر انتخاب ہے۔ یہ کرنچی، بھرپور اور گھر پر بنانے میں آسان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شام 4 بجے یا رات کے کسی پہر، کیا آپ کو اچانک بھوک کا احساس جاگ اٹھتا ہے؟ جب ہلکی سی بھوک محسوس ہو، تو ہم سب کی پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کچھ کرنچی، کچھ مزیداراور اکثر یہی راستہ ہمیں  کچن کی طرف لے جاتا ہے۔</strong></p>
<p>روایتی طور پر، چپس ہر کسی کا پسندیدہ اسنیک رہا ہے۔ لیکن آج کے دورمیں جب صحت سے متعلق آگاہی عروج پر ہے ایک نیا اسنیک اکثر پینٹری شیلفز پر جگہ بنا رہا ہے،  ’پاپ کارن‘۔</p>
<p>پاپ کارن ایر پاپڈ ہونے کی وجہ سے کم کیلوریز رکھتے ہیں، جبکہ چپس کو تیل میں تلا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ کیلوریز اورچکنائی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاپ کارن وزن کم کرنے یا صحت مند لائف اسٹائل اپنانے والوں کے لیے بہتر انتخاب سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>انڈیا ٹوڈے کے مطابق ڈائیٹیشین انوائشا (اپولو کریڈل اینڈ چلڈرنز ہسپتال، بنگلورو) کہتی ہیں، سادہ ایئر پاپڈ پاپ کارن میں صرف 30-40 کیلوریز فی کپ ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، چپس کے صرف ایک مٹھی بھر حصے میں 150-170 کیلوریز ہوتی ہیں۔</p>
<p>چپس عام طور پر ریفائنڈ اسٹارچ سے بنتے ہیں، جبکہ پاپ کارن ہول گرین ہے، جس میں فائبراوروٹامنز موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاپ کارن میں فائبراور اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں، جو ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں اور جسم میں فری ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب چپس میں زیادہ سوڈیم، ٹرانس فیٹ اور ایکریل امائڈ موجود ہوتا ہے، جو نہ صرف بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتا ہے بلکہ موٹاپے، کولیسٹرول میں اضافے اور ذیابیطس جیسے مسائل کا بھی باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، فائبر سے بھرپور پاپ کارن پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچاتا ہے، اس طرح وزن کے کنٹرول میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر پاپ کارن ایر پاپڈ اور بغیر اضافی مکھن یا تیل کے کھایا جائے تو یہ وزن کنٹرول کے لیے بہترین ہے۔ فائبر زیادہ ہونے کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ لیکن بٹر، چیز یا کیرمل والے ورژنز چپس کی طرح ہی کیلوریز سے بھرپور اور غیر صحت مند ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>آج کل کالے یا بیکڈ کیلے کے چپس بھی دستیاب ہیں۔ یہ بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن اگر تلے جائیں تو کیلوریز بڑھ جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے، سادہ پاپ کارن اب بھی سب سے زیادہ کم کیلوری اور زیادہ فائبر والا انتخاب ہے۔</p>
<p>پاپ کارن ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ بچوں کے لیے یہ چوکنگ ہیزرڈ ہو سکتا ہے۔ ہاضمے کے مسائل والے، دانتوں کے مریض، یا سرجری کے بعد کے افراد کے لیے یہ مناسب نہیں۔ مکھن یا چیز سے بھرپور پاپ کارن ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا یا کولیسٹرول والے افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سادہ، ایئر پاپڈ پاپ کارن کم کیلوریز، زیادہ فائبر، اور صحت مند اینٹی آکسیڈنٹس کے ساتھ دل اورمجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ چپس یا گورمیٹ پاپ کارن کبھی کبھار لطف کے لیے کھایا جا سکتا ہے، لیکن اعتدال لازمی ہے۔</p>
<p>اگر آپ صحت مند اسنیک چاہتے ہیں، تو سادہ پاپ کارن چپس سے بہتر انتخاب ہے۔ یہ کرنچی، بھرپور اور گھر پر بنانے میں آسان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30481463</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 12:39:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/09120811e9f7a14.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/09120811e9f7a14.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگے کلینرز کو چھوڑیں، پیاز سے پائیں بہترین چمکدار شیشے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30481307/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھڑکیوں پر دھبے اور داغ دھول کے بعد صاف نہیں ہوتے، چاہے کتنے ہی کیمیکل کلینرز استعمال کریں۔ لیکن اب ایک دلچسپ اور قدرتی ٹوٹکا سوشل میڈیا پر دھوم مچا رہا ہے اور وہ ہے پیاز سے کھڑکیاں صاف کرنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، وہی عام پیاز، جسے ہم  کھانے میں استعمال کرتے ہیں اور جو روایتی ڈشوں کی تیاری کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے آپ کی کھڑکیوں کو بغیر داغ دھبے کے چمکا سکتا ہے۔ یہ ٹوٹکا ظاہر کرتا ہے کہ عام پیاز کے بھی کتنے حیرت انگیز استعمال ہو سکتے ہیں۔ پیاز میں موجود قدرتی تیزاب اور سلفر کمپاؤنڈ گریز اور میل کچیل کو آسانی سے صاف کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی ایک ہی عمل میں گھرکی کھڑکیاں بھی چمکیں، ماحول محفوظ ہو اور بجٹ بھی بچ جائے! مہنگے کیمیکل اسپرے اور دیرتک رگڑنا چھوڑ دیں، کیونکہ یہ  حربہ ثابت کرتا ہے کہ ایک سادہ سا گھریلو سامان، فینسی کلیننگ پروڈکٹس سے بھی بہتر کام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو اگر آپ اپنی شیشے کی چیزوں کو قدرتی، ماحول دوست اور دھبے سے پاک رکھنے کا آسان حل تلاش کر رہے ہیں تو پیاز کے ذریعے صفائی کا یہ چھوٹا سا جادو ضرور آزما کر دیکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صفائی-کا-طریقہ" href="#صفائی-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;صفائی کا طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پیاز کے ساتھ کھڑکیاں صاف کرنا بھی بہت آسان ہے۔ اس کے لیے آپ کو صرف ایک تازہ پیاز، کپڑا اور تھوڑا سا پانی چاہیے۔ سب سے پہلے پیاز کو درمیان سے کاٹیں اور کٹے ہوئے حصے کو شیشے پر رکھ کر ہلکے ہاتھ سے رگڑیں، خاص طور پر دھبوں، انگلیوں کے نشانات یا چکنائی والے حصوں پر ۔ رس میل کو نرم کرنا شروع کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پورا حصہ رگڑ لیا جائے، تو ایک ہلکا نم کپڑا یا پرانا اخبار لے کر پیاز کے رس کو صاف کریں، تاکہ رس یکساں پھیل جائے اور میل کچیل دور ہوجائے۔ آخر میں خشک کپڑے، جیسے مائیکروفائبر یا کاٹن کپڑا، سے شیشے کو پالش کریں۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آپ کی کھڑکیاں روشن، صاف اور دھبے سے پاک ہو جائیں گی اور پیاز کی ہلکی خوشبو جلد ختم ہو کر صرف چمک باقی رہ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پیاز-کی-صفائی-کے-فوائد" href="#پیاز-کی-صفائی-کے-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پیاز کی صفائی کے فوائد&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پیاز کے ساتھ شیشے صاف کرنے کا یہ ٹرک صرف صاف شیشے تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی اضافی فائدے بھی ہیں۔ سب سے پہلے، یہ مکمل طور پر ماحول دوست ہے کیونکہ آپ کیمیکل سپرے استعمال نہیں کر رہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ دوسرا، یہ بہت سستا ہے۔ ایک پیاز کا صرف آدھا حصہ ایک پوری کھڑکی کے لیے کافی ہے، جبکہ برانڈڈ کلینرز مہنگے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں یا پالتو جانوروں والے گھروں کے لیے یہ اور بھی مفید ہے۔ اس طریقے میں نہ تو کوئی زہریلی بھاپ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ایسے باقیات رہ جاتے ہیں جو چھوٹے ہاتھ یا پنجے چھو سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ بہت تیز کام کرتا ہے۔ جب مہمان آنے والے ہوں یا سورج کی روشنی میں کھڑکیوں کے دھبے نمایاں ہوں تو یہ طریقہ آپ کا وقت بچاتا ہے اور اسے زیادہ رگڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ صرف کھڑکیوں کے لیے نہیں بلکہ آئینوں، شیشے کی میزوں اور کار کے ونڈ شیلڈز پر بھی یکساں مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ مؤثر صفائی کے لیے ہمیشہ تازہ اور رس بھری پیاز استعمال کریں کیونکہ پرانی یا خشک پیاز کم رس چھوڑتی ہے اور کم مؤثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر شیشہ بہت زیادہ میل سے بھرا ہوا ہو، تو پیاز کے بعد ہلکا سا سرکہ اسپرے کر کے اثر بڑھایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیاز کو زیادہ دبانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ رس خود ہی میل ہٹانے کا کام کرتا ہے اور سخت رگڑنے سے دھبے رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی کھڑکیوں کو حصوں میں صاف کریں تاکہ رس یکساں پھیل جائے اور شیشہ بہتر طور پر پالش ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب بھی سورج کی روشنی میں دھبے یا انگلیوں کے نشانات دکھائی دیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بس ایک پیاز کاٹیں، شیشے پر رگڑیں اور 60 سیکنڈ میں شفاف، داغ دھبے سے پاک شیشہ حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹوٹکا سادہ، مؤثر، محفوظ اور حیرت انگیز ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی کبھی سب سے عام چیزیں سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھڑکیوں پر دھبے اور داغ دھول کے بعد صاف نہیں ہوتے، چاہے کتنے ہی کیمیکل کلینرز استعمال کریں۔ لیکن اب ایک دلچسپ اور قدرتی ٹوٹکا سوشل میڈیا پر دھوم مچا رہا ہے اور وہ ہے پیاز سے کھڑکیاں صاف کرنا۔</strong></p>
<p>جی ہاں، وہی عام پیاز، جسے ہم  کھانے میں استعمال کرتے ہیں اور جو روایتی ڈشوں کی تیاری کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے آپ کی کھڑکیوں کو بغیر داغ دھبے کے چمکا سکتا ہے۔ یہ ٹوٹکا ظاہر کرتا ہے کہ عام پیاز کے بھی کتنے حیرت انگیز استعمال ہو سکتے ہیں۔ پیاز میں موجود قدرتی تیزاب اور سلفر کمپاؤنڈ گریز اور میل کچیل کو آسانی سے صاف کر دیتے ہیں۔</p>
<p>یعنی ایک ہی عمل میں گھرکی کھڑکیاں بھی چمکیں، ماحول محفوظ ہو اور بجٹ بھی بچ جائے! مہنگے کیمیکل اسپرے اور دیرتک رگڑنا چھوڑ دیں، کیونکہ یہ  حربہ ثابت کرتا ہے کہ ایک سادہ سا گھریلو سامان، فینسی کلیننگ پروڈکٹس سے بھی بہتر کام کر سکتا ہے۔</p>
<p>تو اگر آپ اپنی شیشے کی چیزوں کو قدرتی، ماحول دوست اور دھبے سے پاک رکھنے کا آسان حل تلاش کر رہے ہیں تو پیاز کے ذریعے صفائی کا یہ چھوٹا سا جادو ضرور آزما کر دیکھیں۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="صفائی-کا-طریقہ" href="#صفائی-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>صفائی کا طریقہ</strong></h1>
<p>پیاز کے ساتھ کھڑکیاں صاف کرنا بھی بہت آسان ہے۔ اس کے لیے آپ کو صرف ایک تازہ پیاز، کپڑا اور تھوڑا سا پانی چاہیے۔ سب سے پہلے پیاز کو درمیان سے کاٹیں اور کٹے ہوئے حصے کو شیشے پر رکھ کر ہلکے ہاتھ سے رگڑیں، خاص طور پر دھبوں، انگلیوں کے نشانات یا چکنائی والے حصوں پر ۔ رس میل کو نرم کرنا شروع کر دے گا۔</p>
<p>جب پورا حصہ رگڑ لیا جائے، تو ایک ہلکا نم کپڑا یا پرانا اخبار لے کر پیاز کے رس کو صاف کریں، تاکہ رس یکساں پھیل جائے اور میل کچیل دور ہوجائے۔ آخر میں خشک کپڑے، جیسے مائیکروفائبر یا کاٹن کپڑا، سے شیشے کو پالش کریں۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آپ کی کھڑکیاں روشن، صاف اور دھبے سے پاک ہو جائیں گی اور پیاز کی ہلکی خوشبو جلد ختم ہو کر صرف چمک باقی رہ جاتی ہے۔</p>
<h1><a id="پیاز-کی-صفائی-کے-فوائد" href="#پیاز-کی-صفائی-کے-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پیاز کی صفائی کے فوائد</strong></h1>
<p>پیاز کے ساتھ شیشے صاف کرنے کا یہ ٹرک صرف صاف شیشے تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی اضافی فائدے بھی ہیں۔ سب سے پہلے، یہ مکمل طور پر ماحول دوست ہے کیونکہ آپ کیمیکل سپرے استعمال نہیں کر رہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ دوسرا، یہ بہت سستا ہے۔ ایک پیاز کا صرف آدھا حصہ ایک پوری کھڑکی کے لیے کافی ہے، جبکہ برانڈڈ کلینرز مہنگے ہوتے ہیں۔</p>
<p>بچوں یا پالتو جانوروں والے گھروں کے لیے یہ اور بھی مفید ہے۔ اس طریقے میں نہ تو کوئی زہریلی بھاپ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ایسے باقیات رہ جاتے ہیں جو چھوٹے ہاتھ یا پنجے چھو سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ بہت تیز کام کرتا ہے۔ جب مہمان آنے والے ہوں یا سورج کی روشنی میں کھڑکیوں کے دھبے نمایاں ہوں تو یہ طریقہ آپ کا وقت بچاتا ہے اور اسے زیادہ رگڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔</p>
<p>یہ طریقہ صرف کھڑکیوں کے لیے نہیں بلکہ آئینوں، شیشے کی میزوں اور کار کے ونڈ شیلڈز پر بھی یکساں مؤثر ہے۔</p>
<p>زیادہ مؤثر صفائی کے لیے ہمیشہ تازہ اور رس بھری پیاز استعمال کریں کیونکہ پرانی یا خشک پیاز کم رس چھوڑتی ہے اور کم مؤثر ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر شیشہ بہت زیادہ میل سے بھرا ہوا ہو، تو پیاز کے بعد ہلکا سا سرکہ اسپرے کر کے اثر بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پیاز کو زیادہ دبانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ رس خود ہی میل ہٹانے کا کام کرتا ہے اور سخت رگڑنے سے دھبے رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>بڑی کھڑکیوں کو حصوں میں صاف کریں تاکہ رس یکساں پھیل جائے اور شیشہ بہتر طور پر پالش ہو۔</p>
<p>اب جب بھی سورج کی روشنی میں دھبے یا انگلیوں کے نشانات دکھائی دیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بس ایک پیاز کاٹیں، شیشے پر رگڑیں اور 60 سیکنڈ میں شفاف، داغ دھبے سے پاک شیشہ حاصل کریں۔</p>
<p>یہ ٹوٹکا سادہ، مؤثر، محفوظ اور حیرت انگیز ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی کبھی سب سے عام چیزیں سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30481307</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 12:30:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/0811581199a979c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/0811581199a979c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خبردار : باسی پیزا ذائقے کے ساتھ 5 بڑی بیماریوں کی ڈش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30480556/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کے دور میں پیزا، برگر اور فاسٹ فوڈ روایتی کھانوں کی جگہ لے چکے ہیں۔  یہ ایسے  فاسٹ فوڈز ہیں جنہیں بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں لیکن اگر آپ پیزا کے اتنے دیوانے ہیں کہ رات کا بچا ہوا پیزا صبح اٹھتے ہی کھا لیتے ہیں، تو ذرا ہوشیار ہو جائیں۔ کیونکہ باسی پیزا آپ کی صحت کو پانچ بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیزا یقیناً لذیذ ہوتا ہے، لیکن اگر وہ باسی  ہوتو صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آپ واقعی پیزا کے شوقین ہیں تواسے ہمیشہ تازہ کھائیں اور بچا ہوا پیزا استعمال کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ آئیے جانتے ہیں وہ خطرناک اثرات کون سے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہاضمے-کی-خرابی" href="#ہاضمے-کی-خرابی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہاضمے کی خرابی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ دیر پڑا پیزا بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول بن جاتا ہے۔ اسے کھانے سے پیٹ درد، بدہضمی، قے اور اسہال جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیزا اگر دو گھنٹے سے زیادہ کمرے کے درجہ حرارت پر پڑا ہو تو اسے کھانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں نقصان دہ جراثیم تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فوڈ-پوائزننگ" href="#فوڈ-پوائزننگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فوڈ پوائزننگ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;باسی پیزا میں موجود بیکٹیریا یا زہریلے ٹاکسن فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بخار، کمزوری، متلی اور قے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ شدید شکل بھی اختیار کر لیتا ہے جس سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے اور مریض کو اسپتال لے جانا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر گوشت اور پنیر والی ٹاپنگز بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں اور فوڈ پوائزننگ کا خطرہ مزید بڑھا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="غذائی-کمی" href="#غذائی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;غذائی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ باسی پیزا کے غذائی اجزاء کم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کھانے کے لیے اسے بار بار گرم کرتے ہیں تو اس میں موجود وٹامنز اور منرلز تباہ ہو جاتے ہیں، جس سے یہ خوراک زیادہ نقصان دہ اور کم غذائیت والی بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بار بار گرم کرنے سے اس میں موجود تیل اور پنیر میں نقصان دہ فری ریڈیکلز پیدا ہو سکتے ہیں جو دل کی بیماریوں اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="الرجی-اور-جلدی-مسائل" href="#الرجی-اور-جلدی-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;الرجی اور جلدی مسائل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر پیزا میں فنگس پیدا ہو جائے تو اسے کھانے سے جلد پر خارش، دانے، الرجی اورسانس لینے میں دقت جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
جو انسان کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ حساس یا کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے یہ اور بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان میں انفیکشن تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔  اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر پیزا پر معمولی سا بھی پھپھوند یا عجیب بدبو محسوس ہو تو اسے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ذائقہ-اور-معیار-کا-نقصان" href="#ذائقہ-اور-معیار-کا-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ذائقہ اور معیار کا نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;باسی پیزا نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے بلکہ اس کا ذائقہ اور معیار بھی  تبدیل ہوجاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی خوشبو ختم ہو جاتی ہے، کرسٹ یا تو زیادہ سخت ہو جاتا ہے یا پھر بالکل لچھے دار اور نرم، جس سے کھانے کا لطف برباد ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دوبارہ گرم کرنے پر یہ جل بھی جاتا ہے، جس سے ذائقہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کے دور میں پیزا، برگر اور فاسٹ فوڈ روایتی کھانوں کی جگہ لے چکے ہیں۔  یہ ایسے  فاسٹ فوڈز ہیں جنہیں بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں لیکن اگر آپ پیزا کے اتنے دیوانے ہیں کہ رات کا بچا ہوا پیزا صبح اٹھتے ہی کھا لیتے ہیں، تو ذرا ہوشیار ہو جائیں۔ کیونکہ باسی پیزا آپ کی صحت کو پانچ بڑے نقصانات پہنچا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پیزا یقیناً لذیذ ہوتا ہے، لیکن اگر وہ باسی  ہوتو صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آپ واقعی پیزا کے شوقین ہیں تواسے ہمیشہ تازہ کھائیں اور بچا ہوا پیزا استعمال کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ آئیے جانتے ہیں وہ خطرناک اثرات کون سے ہیں۔</p>
<h1><a id="ہاضمے-کی-خرابی" href="#ہاضمے-کی-خرابی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہاضمے کی خرابی</strong></h1>
<p>کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ دیر پڑا پیزا بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول بن جاتا ہے۔ اسے کھانے سے پیٹ درد، بدہضمی، قے اور اسہال جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیزا اگر دو گھنٹے سے زیادہ کمرے کے درجہ حرارت پر پڑا ہو تو اسے کھانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں نقصان دہ جراثیم تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="فوڈ-پوائزننگ" href="#فوڈ-پوائزننگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فوڈ پوائزننگ</strong></h1>
<p>باسی پیزا میں موجود بیکٹیریا یا زہریلے ٹاکسن فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بخار، کمزوری، متلی اور قے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ شدید شکل بھی اختیار کر لیتا ہے جس سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے اور مریض کو اسپتال لے جانا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر گوشت اور پنیر والی ٹاپنگز بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں اور فوڈ پوائزننگ کا خطرہ مزید بڑھا دیتی ہیں۔</p>
<h1><a id="غذائی-کمی" href="#غذائی-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>غذائی کمی</strong></h1>
<p>وقت کے ساتھ باسی پیزا کے غذائی اجزاء کم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کھانے کے لیے اسے بار بار گرم کرتے ہیں تو اس میں موجود وٹامنز اور منرلز تباہ ہو جاتے ہیں، جس سے یہ خوراک زیادہ نقصان دہ اور کم غذائیت والی بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بار بار گرم کرنے سے اس میں موجود تیل اور پنیر میں نقصان دہ فری ریڈیکلز پیدا ہو سکتے ہیں جو دل کی بیماریوں اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔</p>
<h1><a id="الرجی-اور-جلدی-مسائل" href="#الرجی-اور-جلدی-مسائل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>الرجی اور جلدی مسائل</strong></h1>
<p>اگر پیزا میں فنگس پیدا ہو جائے تو اسے کھانے سے جلد پر خارش، دانے، الرجی اورسانس لینے میں دقت جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
جو انسان کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ حساس یا کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے یہ اور بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان میں انفیکشن تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔  اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر پیزا پر معمولی سا بھی پھپھوند یا عجیب بدبو محسوس ہو تو اسے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔</p>
<h1><a id="ذائقہ-اور-معیار-کا-نقصان" href="#ذائقہ-اور-معیار-کا-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ذائقہ اور معیار کا نقصان</strong></h1>
<p>باسی پیزا نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے بلکہ اس کا ذائقہ اور معیار بھی  تبدیل ہوجاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی خوشبو ختم ہو جاتی ہے، کرسٹ یا تو زیادہ سخت ہو جاتا ہے یا پھر بالکل لچھے دار اور نرم، جس سے کھانے کا لطف برباد ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دوبارہ گرم کرنے پر یہ جل بھی جاتا ہے، جس سے ذائقہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30480556</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 11:20:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/03105109fb96e84.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/03105109fb96e84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر کے مریض آلو کی جگہ یہ سبزی کھائیں، ذائقہ بھی وہی اورصحت بھی محفوظ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30480541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو عام طور پر ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہیں، مگر ان میں موجود زیادہ نشاستہ اور تیز اثر رکھنے والے کاربوہائیڈریٹس خون میں شوگر کو فوراً بڑھا دیتے ہیں۔ ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی سبزی موجود ہے جس کا ذائقہ آلو جیسا ہے لیکن وہ صحت پر بوجھ ڈالنے کے بجائے فائدہ پہنچاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوگر کے مریضوں کے لیے خوراک کا انتخاب ہمیشہ ایک چیلنج رہتا ہے۔ ذرا سی لاپرواہی خون میں شگر کی سطح کو بڑھا دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک عام سبزی ہے آلو، جسے تقریباً ہر گھر میں کھایا جاتا ہے، مگر آلو میں موجود زیادہ نشاستہ  اور سادہ کاربوہائیڈریٹس  بلڈ شوگرکی سطح کو فوراً اوپر لے جاتے ہیں۔ اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو آلو کھانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر آپ آلو کے شوقین ہیں تو پریشان نہ ہوں ایک اور سبزی آلو کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آلو-کا-بہترین-متبادل-کچا-کیلا" href="#آلو-کا-بہترین-متبادل-کچا-کیلا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آلو کا بہترین متبادل  کچا کیلا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کچا کیلا آلو جیسا ہی ذائقہ اور ٹیکسچر رکھتا ہے۔ آپ چاہیں تو اس سے سبزی، کٹلیٹ، ٹِکّی، پکوڑے یا پراٹھے بنا سکتے ہیں۔ ذائقے میں یہ آلو سے کم نہیں بلکہ کئی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/09/03091117c25c0b7.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کچے-کیلے-کے-فوائد" href="#کچے-کیلے-کے-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کچے کیلے کے فوائد&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کچے کیلے میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں موجود ریزیسٹنٹ اسٹارچ آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کے لیے خوراک کا کام کرتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچے کیلے میں میگنیشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کے درد، نیند کی کمی اور جسم کے دیگر افعال کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ ساتھ عام انسانوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آلو کھانے کی خواہش رکھتے ہیں تو کچے کیلے کو اپنی ڈائٹ میں شامل کریں۔ یہ نہ صرف آلو جیسا ذائقہ فراہم کرے گا بلکہ صحت کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آلو عام طور پر ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہیں، مگر ان میں موجود زیادہ نشاستہ اور تیز اثر رکھنے والے کاربوہائیڈریٹس خون میں شوگر کو فوراً بڑھا دیتے ہیں۔ ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی سبزی موجود ہے جس کا ذائقہ آلو جیسا ہے لیکن وہ صحت پر بوجھ ڈالنے کے بجائے فائدہ پہنچاتی ہے۔</strong></p>
<p>شوگر کے مریضوں کے لیے خوراک کا انتخاب ہمیشہ ایک چیلنج رہتا ہے۔ ذرا سی لاپرواہی خون میں شگر کی سطح کو بڑھا دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک عام سبزی ہے آلو، جسے تقریباً ہر گھر میں کھایا جاتا ہے، مگر آلو میں موجود زیادہ نشاستہ  اور سادہ کاربوہائیڈریٹس  بلڈ شوگرکی سطح کو فوراً اوپر لے جاتے ہیں۔ اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو آلو کھانے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>لیکن اگر آپ آلو کے شوقین ہیں تو پریشان نہ ہوں ایک اور سبزی آلو کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<h1><a id="آلو-کا-بہترین-متبادل-کچا-کیلا" href="#آلو-کا-بہترین-متبادل-کچا-کیلا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آلو کا بہترین متبادل  کچا کیلا</strong></h1>
<p>کچا کیلا آلو جیسا ہی ذائقہ اور ٹیکسچر رکھتا ہے۔ آپ چاہیں تو اس سے سبزی، کٹلیٹ، ٹِکّی، پکوڑے یا پراٹھے بنا سکتے ہیں۔ ذائقے میں یہ آلو سے کم نہیں بلکہ کئی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/09/03091117c25c0b7.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="کچے-کیلے-کے-فوائد" href="#کچے-کیلے-کے-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کچے کیلے کے فوائد</strong></h1>
<p>کچے کیلے میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>
<p>اس میں موجود ریزیسٹنٹ اسٹارچ آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کے لیے خوراک کا کام کرتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔</p>
<p>کچے کیلے میں میگنیشیم وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوں کے درد، نیند کی کمی اور جسم کے دیگر افعال کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>یہ ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ ساتھ عام انسانوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔</p>
<p>اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آلو کھانے کی خواہش رکھتے ہیں تو کچے کیلے کو اپنی ڈائٹ میں شامل کریں۔ یہ نہ صرف آلو جیسا ذائقہ فراہم کرے گا بلکہ صحت کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30480541</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 09:17:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/0309074657eb963.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/0309074657eb963.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بالائی کو خراب ہونے سے بچائیں! گھی بنانے سے پہلے اسے محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ جانیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30480423/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بالائی کو زیادہ دیر تک سنبھال کر رکھنے سے گھر کا بنایا ہوا گھی خراب ہوسکتا ہے۔ یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ بالائی فریج میں  کتنے دن تک تازہ رہتی ہے اور وہ ایک بڑی غلطی کون سی ہے جس سے ہر حال میں بچنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر آپ نے اپنے گھر کی بزرگ خواتین کو دودھ سے بالائی اتارتے اور اسے بعد میں استعمال کے لیے سنبھالتے دیکھا ہوگا۔ یہ بالائی صرف مزیدار پکوانوں میں ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ خالص گھریلو گھی بنانے کی اصل بنیاد بھی یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بالائی کو کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور گھی نکالنے کا درست وقت کون سا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بالائی کو صحیح طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے تو یہ خراب ہوسکتی ہے اور اس سے بننے والے گھی کے ذائقے اور معیارمیں فرق آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر فریج میں رکھی گئی بالائی 7 سے 10 دن تک تازہ رہتی ہے، اس کے بعد یہ کھٹاس پکڑ لیتی ہے اور اس کی خوشبو بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہترین ذائقے اور مہک کے لیے بہتر ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ہی گھی نکال لیا جائے۔ بالائی ہمیشہ ایئر ٹائٹ ڈبے میں رکھیں تاکہ فریج کی دوسری خوشبوئیں اس میں جذب نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زیادہ دنوں کے لیے ذخیرہ کرنا ضروری ہو تو بالائی کو فریز کیا جا سکتا ہے جو تقریباً 20 سے 25 دن تک قابل استعمال رہتی ہے، لیکن یاد رہے کہ زیادہ پرانی بالائی سے بننے والا گھی اپنی اصل خوشبو اور لذت کھو دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گھی-نکالنے-کا-مناسب-وقت" href="#گھی-نکالنے-کا-مناسب-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گھی نکالنے کا مناسب وقت&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بالائی سے گھی نکالنے کا سب سے اچھا وقت وہ ہے جب یہ ہلکی سی کھٹی یا گاڑھی ہونے لگے۔ یہ قدرتی اشارے ہیں کہ بالائی گھی بنانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس میں بدبو پیدا ہونے لگے یا رنگت پیلی ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ بالائی خراب ہونے کے قریب ہے، ایسے میں فوری طور پر گھی نکال لینا چاہیے، ورنہ تیار ہونے والا گھی استعمال کے قابل نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خالص-اور-تازہ-گھی-کے-لیے-بہترین-طریقہ" href="#خالص-اور-تازہ-گھی-کے-لیے-بہترین-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خالص اور تازہ گھی کے لیے بہترین طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ روزانہ دودھ سے بالائی جمع کرتے ہیں، ان کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ ہر 7 سے 10 دن میں گھی نکال لیا جائے۔ اس سے نہ صرف ذائقہ اور خوشبو بہتر رہتی ہے بلکہ بالائی کے خراب ہونے کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زیادہ تازگی چاہیے تو ہر تین یا چار دن بعد بھی گھی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ نسبتاً آسان ہے اور گھر میں ہمیشہ تازہ اور خالص گھی موجود رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بالائی کو زیادہ دیر تک سنبھال کر رکھنے سے گھر کا بنایا ہوا گھی خراب ہوسکتا ہے۔ یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ بالائی فریج میں  کتنے دن تک تازہ رہتی ہے اور وہ ایک بڑی غلطی کون سی ہے جس سے ہر حال میں بچنا چاہیے؟</strong></p>
<p>اکثر آپ نے اپنے گھر کی بزرگ خواتین کو دودھ سے بالائی اتارتے اور اسے بعد میں استعمال کے لیے سنبھالتے دیکھا ہوگا۔ یہ بالائی صرف مزیدار پکوانوں میں ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ خالص گھریلو گھی بنانے کی اصل بنیاد بھی یہی ہے۔</p>
<p>لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بالائی کو کتنے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور گھی نکالنے کا درست وقت کون سا ہے؟</p>
<p>اگر بالائی کو صحیح طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے تو یہ خراب ہوسکتی ہے اور اس سے بننے والے گھی کے ذائقے اور معیارمیں فرق آجاتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر فریج میں رکھی گئی بالائی 7 سے 10 دن تک تازہ رہتی ہے، اس کے بعد یہ کھٹاس پکڑ لیتی ہے اور اس کی خوشبو بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>بہترین ذائقے اور مہک کے لیے بہتر ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ہی گھی نکال لیا جائے۔ بالائی ہمیشہ ایئر ٹائٹ ڈبے میں رکھیں تاکہ فریج کی دوسری خوشبوئیں اس میں جذب نہ ہوں۔</p>
<p>اگر زیادہ دنوں کے لیے ذخیرہ کرنا ضروری ہو تو بالائی کو فریز کیا جا سکتا ہے جو تقریباً 20 سے 25 دن تک قابل استعمال رہتی ہے، لیکن یاد رہے کہ زیادہ پرانی بالائی سے بننے والا گھی اپنی اصل خوشبو اور لذت کھو دیتا ہے۔</p>
<h1><a id="گھی-نکالنے-کا-مناسب-وقت" href="#گھی-نکالنے-کا-مناسب-وقت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گھی نکالنے کا مناسب وقت</strong></h1>
<p>بالائی سے گھی نکالنے کا سب سے اچھا وقت وہ ہے جب یہ ہلکی سی کھٹی یا گاڑھی ہونے لگے۔ یہ قدرتی اشارے ہیں کہ بالائی گھی بنانے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اگر اس میں بدبو پیدا ہونے لگے یا رنگت پیلی ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ بالائی خراب ہونے کے قریب ہے، ایسے میں فوری طور پر گھی نکال لینا چاہیے، ورنہ تیار ہونے والا گھی استعمال کے قابل نہیں رہتا۔</p>
<h1><a id="خالص-اور-تازہ-گھی-کے-لیے-بہترین-طریقہ" href="#خالص-اور-تازہ-گھی-کے-لیے-بہترین-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خالص اور تازہ گھی کے لیے بہترین طریقہ</strong></h1>
<p>جو لوگ روزانہ دودھ سے بالائی جمع کرتے ہیں، ان کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ ہر 7 سے 10 دن میں گھی نکال لیا جائے۔ اس سے نہ صرف ذائقہ اور خوشبو بہتر رہتی ہے بلکہ بالائی کے خراب ہونے کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اگر زیادہ تازگی چاہیے تو ہر تین یا چار دن بعد بھی گھی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ نسبتاً آسان ہے اور گھر میں ہمیشہ تازہ اور خالص گھی موجود رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30480423</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 13:42:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/02134142a821856.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/02134142a821856.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناشتہ نہ کرنا ہڈیوں کی کمزوری اور بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30480405/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت ہڈیوں کی کمزوری اور آسٹیو پوروسس کے خطرے کو نمایاں حد تک بڑھا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرنل آف دی اینڈوکرائن سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ناشتہ نہیں کرتے اور دیر سے کھانا کھاتے ہیں ان کی ہڈیاں وقت کے ساتھ کمزور پڑنے لگتی ہیں اور فریکچر کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں جاپان کے 9 لاکھ سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر صحت مند طرزِ زندگی جیسے کہ ناشتہ چھوڑنا، دیر سے کھانا، تمباکو نوشی، شراب نوشی، ورزش کی کمی اور نیند کی کمی ہڈیوں کے ٹوٹنے اور آسٹیو پوروسس کی بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ہڈیاں مسلسل ایک عمل سے گزرتی ہیں جسے ”ری ماڈلنگ“ کہا جاتا ہے، یعنی پرانی ہڈیاں ٹوٹتی ہیں اور نئی بنتی ہیں۔ اگر جسم کو صبح کے وقت کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے اہم غذائی اجزاء نہ ملیں تو یہ نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشتہ چھوڑنے والوں میں کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے، جو ہڈیوں کی کثافت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ سب سے اہم کھانے میں شمار ہوتا ہے۔ دودھ، دہی، انڈے، اناج اور گری دار میوے کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ جو لوگ مستقل ناشتہ چھوڑتے ہیں، وہ وقت کے ساتھ پروٹین اور کیلشیم کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق دن کا آغاز ایسی غذاؤں سے کرنا چاہیے جو کیلشیم سے بھرپور ہوں، جیسے دودھ، دہی، خشک میوہ جات یا فورٹیفائیڈ اناج، اور ساتھ ہی پروٹین کا کوئی ذریعہ بھی شامل ہو۔ یہاں تک کہ ہلکا پھلکا لیکن متوازن ناشتہ بھی ہڈیوں کی صحت اور مجموعی تندرستی کو بہتر بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ناشتہ نہ کرنے کی عادت ہڈیوں کی کمزوری اور آسٹیو پوروسس کے خطرے کو نمایاں حد تک بڑھا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>جرنل آف دی اینڈوکرائن سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ناشتہ نہیں کرتے اور دیر سے کھانا کھاتے ہیں ان کی ہڈیاں وقت کے ساتھ کمزور پڑنے لگتی ہیں اور فریکچر کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں جاپان کے 9 لاکھ سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر صحت مند طرزِ زندگی جیسے کہ ناشتہ چھوڑنا، دیر سے کھانا، تمباکو نوشی، شراب نوشی، ورزش کی کمی اور نیند کی کمی ہڈیوں کے ٹوٹنے اور آسٹیو پوروسس کی بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ہڈیاں مسلسل ایک عمل سے گزرتی ہیں جسے ”ری ماڈلنگ“ کہا جاتا ہے، یعنی پرانی ہڈیاں ٹوٹتی ہیں اور نئی بنتی ہیں۔ اگر جسم کو صبح کے وقت کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے اہم غذائی اجزاء نہ ملیں تو یہ نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں۔</p>
<p>ناشتہ چھوڑنے والوں میں کورٹیسول (اسٹریس ہارمون) کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے، جو ہڈیوں کی کثافت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ سب سے اہم کھانے میں شمار ہوتا ہے۔ دودھ، دہی، انڈے، اناج اور گری دار میوے کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ جو لوگ مستقل ناشتہ چھوڑتے ہیں، وہ وقت کے ساتھ پروٹین اور کیلشیم کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق دن کا آغاز ایسی غذاؤں سے کرنا چاہیے جو کیلشیم سے بھرپور ہوں، جیسے دودھ، دہی، خشک میوہ جات یا فورٹیفائیڈ اناج، اور ساتھ ہی پروٹین کا کوئی ذریعہ بھی شامل ہو۔ یہاں تک کہ ہلکا پھلکا لیکن متوازن ناشتہ بھی ہڈیوں کی صحت اور مجموعی تندرستی کو بہتر بنا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30480405</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 11:04:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/021102476ade03b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/021102476ade03b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفتر میں تیار کی گئی چاکلیٹی میٹھی ڈش نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30479790/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ نے کبھی دفتر کے پینٹری میں بیٹھ کر بسکٹ، کافی مشین اور مائیکروویو کی مدد سے ایک مزیدارڈیزرٹ تیار کرنے کا سوچا ہے؟ اگر نہیں، تو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ دلچسپ ویڈیو آپ کو حیران کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام پر ایک صارف نے ایک مختصر لیکن منفرد ریل شیئر کی ہے جس میں وہ دفتر میں دستیاب عام اشیاء کے ذریعے ایک چاکلیٹی میٹھا (ڈیزرٹ) بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ آسان ترکیب اور منفرد انداز نے ناظرین کی توجہ کھینچ لی ہے، اور اب تک 75 لاکھ سے زائد ویوز حاصل کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص چاکلیٹ کریم بسکٹ توڑ کر چائے کے ایک خالی کپ میں ڈالتا ہے۔ پھر وہ دفتر کی کافی مشین سے گرم دودھ کپ میں شامل کرتا ہے۔ اس کے بعد کچھ چینی کے ساشے اس میں ملا کر اچھی طرح ہلایا جاتا ہے تاکہ بسکٹ دودھ میں گھل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس  کپ کومائیکروویو میں رکھ دیا جاتا ہے اور چند لمحوں بعد جب کپ باہر آتا ہے تو اس میں ایک نرم و ملائم کیک جیسا آمیزہ تیار نظر آتا ہے جو کپ کی سطح تک پھول چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ابھی کچھ اور کرنا بھی باقی ہے۔  میٹھے کو حتمی ٹچ دینے کے لیے وہ شخص اوپر سے ملک اور وائٹ چاکلیٹ کے بار کے ٹکڑے ڈال دیتا ہے اور ایک بار پھر کپ کو مائیکروویو میں رکھ کر چاکلیٹ کو پگھلا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام صارفین کی جانب سے ویڈیو پر دلچسپ تبصرے کیے گئے۔ کسی نے اسے ایک لاجواب آئیڈیا قرار دیا، تو کسی نے اس میٹھے کو ”شوگر بم“ کہہ کر خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ میٹھا جلدی تیارہوجاتا ہے اور ذائقہ دار لگتا ہے، مگر کئی صارفین نے اس میں موجود چینی کی مقدار پر سوال اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اعتدال میں رہ کر ہی ایسی چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر آپ دفتر میں بیٹھ کر بیٹھے بیٹھے طرزِ زندگی گزار رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ”دفتر میں اتنی فرصت کہاں!“ تو کچھ نے کہا، ”بس دیکھ کر ہی شوگر بڑھ گئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے لکھا، ”کبھی کبھی زندگی میں تھوڑا میٹھا ہونا بھی ضروری ہے، مزے کرو!“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ نے کبھی دفتر کے پینٹری میں بیٹھ کر بسکٹ، کافی مشین اور مائیکروویو کی مدد سے ایک مزیدارڈیزرٹ تیار کرنے کا سوچا ہے؟ اگر نہیں، تو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ دلچسپ ویڈیو آپ کو حیران کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>انسٹاگرام پر ایک صارف نے ایک مختصر لیکن منفرد ریل شیئر کی ہے جس میں وہ دفتر میں دستیاب عام اشیاء کے ذریعے ایک چاکلیٹی میٹھا (ڈیزرٹ) بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ آسان ترکیب اور منفرد انداز نے ناظرین کی توجہ کھینچ لی ہے، اور اب تک 75 لاکھ سے زائد ویوز حاصل کر چکی ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص چاکلیٹ کریم بسکٹ توڑ کر چائے کے ایک خالی کپ میں ڈالتا ہے۔ پھر وہ دفتر کی کافی مشین سے گرم دودھ کپ میں شامل کرتا ہے۔ اس کے بعد کچھ چینی کے ساشے اس میں ملا کر اچھی طرح ہلایا جاتا ہے تاکہ بسکٹ دودھ میں گھل جائے۔</p>
<p>اب اس  کپ کومائیکروویو میں رکھ دیا جاتا ہے اور چند لمحوں بعد جب کپ باہر آتا ہے تو اس میں ایک نرم و ملائم کیک جیسا آمیزہ تیار نظر آتا ہے جو کپ کی سطح تک پھول چکا ہوتا ہے۔</p>
<p>لیکن ابھی کچھ اور کرنا بھی باقی ہے۔  میٹھے کو حتمی ٹچ دینے کے لیے وہ شخص اوپر سے ملک اور وائٹ چاکلیٹ کے بار کے ٹکڑے ڈال دیتا ہے اور ایک بار پھر کپ کو مائیکروویو میں رکھ کر چاکلیٹ کو پگھلا دیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DMxVzFxpHBA/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>انسٹاگرام صارفین کی جانب سے ویڈیو پر دلچسپ تبصرے کیے گئے۔ کسی نے اسے ایک لاجواب آئیڈیا قرار دیا، تو کسی نے اس میٹھے کو ”شوگر بم“ کہہ کر خبردار کیا۔</p>
<p>اگرچہ یہ میٹھا جلدی تیارہوجاتا ہے اور ذائقہ دار لگتا ہے، مگر کئی صارفین نے اس میں موجود چینی کی مقدار پر سوال اٹھایا ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اعتدال میں رہ کر ہی ایسی چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے، خاص طور پر اگر آپ دفتر میں بیٹھ کر بیٹھے بیٹھے طرزِ زندگی گزار رہے ہوں۔</p>
<p>کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ”دفتر میں اتنی فرصت کہاں!“ تو کچھ نے کہا، ”بس دیکھ کر ہی شوگر بڑھ گئی۔“</p>
<p>ایک صارف نے لکھا، ”کبھی کبھی زندگی میں تھوڑا میٹھا ہونا بھی ضروری ہے، مزے کرو!“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30479790</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 15:02:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/29150116fed8aed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/29150116fed8aed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمِ برسات میں زیرہ پانی کا استعمال کیوں ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30479779/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر موسم کی طرح مون سون  بھی اپنے ساتھ کئی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔ نمی اور سردی کی وجہ سے ہمارے جسم میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم میں سوجن اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مون سون میں ہاضمہ کی رفتارسست ہو جاتی ہے اور انفیکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں زیرہ پانی ایک قدرتی اور مؤثر نسخہ ثابت ہو سکتا ہے جو نہ صرف ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسمانی مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30476065"&gt;زیرہ پانی یا سونف پانی، اپنی صبح کا آغاز کس کے ساتھ کرنا بہتر ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیرہ-پانی-کے-مون-سون-میں-اہم-فائدے" href="#زیرہ-پانی-کے-مون-سون-میں-اہم-فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زیرہ پانی کے مون سون میں اہم فائدے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سوجن-اور-بھاری-پن-کو-کم-کرتا-ہے" href="#سوجن-اور-بھاری-پن-کو-کم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سوجن اور بھاری پن کو کم کرتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مون سون کی نمی کی وجہ سے جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے سوجن اور بھاری پن ہوتا ہے۔ زیرہ پانی پینے سے یہ پانی خارج ہونے میں مدد ملتی ہے اور جسم ہلکا محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30338667"&gt;کچن میں موجود ایک عام چیز جو آپ کیلئے امرت ثابت ہوسکتی ہے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مدافعتی-نظام-کو-تقویت-دیتا-ہے" href="#مدافعتی-نظام-کو-تقویت-دیتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;زیرہ میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں، اس لیے زیرہ پانی پینے سے آپ کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تیزابیت-اور-معدے-کی-جلن-کم-کرتا-ہے" href="#تیزابیت-اور-معدے-کی-جلن-کم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تیزابیت اور معدے کی جلن کم کرتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بارشوں کے موسم میں کھانے کی عادتیں اور نمی معدے کو متاثر کرتی ہیں جس سے تیزابیت اور جلن ہوتی ہے۔ زیرہ پانی معدے کو آرام دیتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہاضمہ-کو-تیز-کرتا-ہے" href="#ہاضمہ-کو-تیز-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہاضمہ کو تیز کرتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مون سون میں اکثر ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے جس سے پیٹ بھاری محسوس ہوتا ہے۔ زیرہ پانی ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صحت-مند-ہاضمے-کے-لیے-دیگر-ضروری-تجاویز" href="#صحت-مند-ہاضمے-کے-لیے-دیگر-ضروری-تجاویز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;صحت مند ہاضمے کے لیے دیگر ضروری تجاویز&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;صرف زیرہ پانی پینا کافی نہیں، اسے صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ ملانا ضروری ہے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے اور بار بار کھانے کھائیں۔ بڑے کھانے ہضم کرنے میں مشکل ہوتے ہیں، اس لیے دن میں 4-5 چھوٹے کھانے کریں تاکہ ہاضمہ پر بوجھ نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمک کی مقدار کم کریں۔ نمکین چیزیں جیسے نمکین نمکیاں اور فاسٹ فوڈ جسم میں پانی روکنے کا باعث بنتے ہیں، لہٰذا ان سے پرہیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال محدود کریں۔ پکوڑے، سموسے جیسے کھانے ہاضمہ کو سست کرتے ہیں، اگر کبھی کھائیں تو ساتھ زیرہ پانی ضرور لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمی پھل اور فائبر کا استعمال بڑھائیں۔ امرود، پپیتا، ناشپاتی جیسے پھل فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو قبض کو روکتے ہیں اور ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="شام-کے-بعد-کن-مشروبات-سے-پرہیز-کریں" href="#شام-کے-بعد-کن-مشروبات-سے-پرہیز-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;شام کے بعد کن مشروبات سے پرہیز کریں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;زیرہ پانی ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، لیکن کچھ مشروبات ایسے ہیں جو ہاضمہ خراب کرتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس دار مشروبات۔ یہ پیٹ میں گیس اور تیزابیت بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت زیادہ ٹھنڈے جوس اورٹھنڈے مشروبات معدے کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں جس سے ہاضمہ سست ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائے یا کافی کا استعمال کم کریں۔  زیادہ کیفین معدے کی لائننگ کو نقصان پہنچاتی ہے اور تیزابیت کو بڑھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مون سون کے موسم میں زیرہ پانی پینا ہاضمہ کے مسائل کو کم کرنے، پانی کی زیادتی کو دور کرنے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کا ایک بہترین قدرتی طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ اپنی روزمرہ کی خوراک میں صحت مند عادات شامل کریں اور زیرہ پانی کو اپنی عادت بنا لیں، تو یہ آپ کی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر موسم کی طرح مون سون  بھی اپنے ساتھ کئی تبدیلیاں لے کر آتا ہے۔ نمی اور سردی کی وجہ سے ہمارے جسم میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم میں سوجن اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>اس کے علاوہ مون سون میں ہاضمہ کی رفتارسست ہو جاتی ہے اور انفیکشنز کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں زیرہ پانی ایک قدرتی اور مؤثر نسخہ ثابت ہو سکتا ہے جو نہ صرف ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسمانی مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30476065">زیرہ پانی یا سونف پانی، اپنی صبح کا آغاز کس کے ساتھ کرنا بہتر ہے؟</a></p>
<h1><a id="زیرہ-پانی-کے-مون-سون-میں-اہم-فائدے" href="#زیرہ-پانی-کے-مون-سون-میں-اہم-فائدے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زیرہ پانی کے مون سون میں اہم فائدے</strong></h1>
<h1><a id="سوجن-اور-بھاری-پن-کو-کم-کرتا-ہے" href="#سوجن-اور-بھاری-پن-کو-کم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سوجن اور بھاری پن کو کم کرتا ہے</strong></h1>
<p>مون سون کی نمی کی وجہ سے جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے سوجن اور بھاری پن ہوتا ہے۔ زیرہ پانی پینے سے یہ پانی خارج ہونے میں مدد ملتی ہے اور جسم ہلکا محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30338667">کچن میں موجود ایک عام چیز جو آپ کیلئے امرت ثابت ہوسکتی ہے</a></p>
<h1><a id="مدافعتی-نظام-کو-تقویت-دیتا-ہے" href="#مدافعتی-نظام-کو-تقویت-دیتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے</strong></h1>
<p>زیرہ میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں، اس لیے زیرہ پانی پینے سے آپ کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے۔</p>
<h1><a id="تیزابیت-اور-معدے-کی-جلن-کم-کرتا-ہے" href="#تیزابیت-اور-معدے-کی-جلن-کم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تیزابیت اور معدے کی جلن کم کرتا ہے</strong></h1>
<p>بارشوں کے موسم میں کھانے کی عادتیں اور نمی معدے کو متاثر کرتی ہیں جس سے تیزابیت اور جلن ہوتی ہے۔ زیرہ پانی معدے کو آرام دیتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔</p>
<h1><a id="ہاضمہ-کو-تیز-کرتا-ہے" href="#ہاضمہ-کو-تیز-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہاضمہ کو تیز کرتا ہے</strong></h1>
<p>مون سون میں اکثر ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے جس سے پیٹ بھاری محسوس ہوتا ہے۔ زیرہ پانی ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے۔</p>
<h1><a id="صحت-مند-ہاضمے-کے-لیے-دیگر-ضروری-تجاویز" href="#صحت-مند-ہاضمے-کے-لیے-دیگر-ضروری-تجاویز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>صحت مند ہاضمے کے لیے دیگر ضروری تجاویز</strong></h1>
<p>صرف زیرہ پانی پینا کافی نہیں، اسے صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ ملانا ضروری ہے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں:</p>
<p>چھوٹے اور بار بار کھانے کھائیں۔ بڑے کھانے ہضم کرنے میں مشکل ہوتے ہیں، اس لیے دن میں 4-5 چھوٹے کھانے کریں تاکہ ہاضمہ پر بوجھ نہ پڑے۔</p>
<p>نمک کی مقدار کم کریں۔ نمکین چیزیں جیسے نمکین نمکیاں اور فاسٹ فوڈ جسم میں پانی روکنے کا باعث بنتے ہیں، لہٰذا ان سے پرہیز کریں۔</p>
<p>تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال محدود کریں۔ پکوڑے، سموسے جیسے کھانے ہاضمہ کو سست کرتے ہیں، اگر کبھی کھائیں تو ساتھ زیرہ پانی ضرور لیں۔</p>
<p>موسمی پھل اور فائبر کا استعمال بڑھائیں۔ امرود، پپیتا، ناشپاتی جیسے پھل فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو قبض کو روکتے ہیں اور ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔</p>
<h1><a id="شام-کے-بعد-کن-مشروبات-سے-پرہیز-کریں" href="#شام-کے-بعد-کن-مشروبات-سے-پرہیز-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>شام کے بعد کن مشروبات سے پرہیز کریں؟</strong></h1>
<p>زیرہ پانی ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے، لیکن کچھ مشروبات ایسے ہیں جو ہاضمہ خراب کرتے ہیں:</p>
<p>گیس دار مشروبات۔ یہ پیٹ میں گیس اور تیزابیت بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>بہت زیادہ ٹھنڈے جوس اورٹھنڈے مشروبات معدے کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں جس سے ہاضمہ سست ہو جاتا ہے۔</p>
<p>چائے یا کافی کا استعمال کم کریں۔  زیادہ کیفین معدے کی لائننگ کو نقصان پہنچاتی ہے اور تیزابیت کو بڑھاتی ہے۔</p>
<p>مون سون کے موسم میں زیرہ پانی پینا ہاضمہ کے مسائل کو کم کرنے، پانی کی زیادتی کو دور کرنے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کا ایک بہترین قدرتی طریقہ ہے۔</p>
<p>اگر آپ اپنی روزمرہ کی خوراک میں صحت مند عادات شامل کریں اور زیرہ پانی کو اپنی عادت بنا لیں، تو یہ آپ کی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30479779</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 14:35:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/29142940bd845b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/29142940bd845b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پالک پکانے سے اس کی غذائی افادیت کم ہوجاتی ہے؟ حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30479754/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں  کہ پالک کھانے کے بے شمار صحت بخش فوائد ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ایک سپر فوڈ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، فولک ایسڈ، وٹامن کے اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ مگر اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پکانے سے پالک کے غذائی اجزاء کم ہو جاتے ہیں؟ آئیے اس کا جواب جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30479552/"&gt;کیا دودھ اور کیلے کا شیک صحت کے لیے مفید ہے ؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نئی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ پالک پکانے کے عمل سے کچھ وٹامنز کی مقدار کم ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف پالک میں موجود فائبر، آئرن اور وٹامن جیسے اجزا برقرار رہتے ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوجاتے ہیں جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک میں وٹامن سی اور کئی دوسرے  وٹامنز،  فولک ایسیڈ شامل ہوتے ہیں جو ابالنے یا پکانے پر پانی میں گھل جاتے ہیں یا حرارت سے خراب ہوجاتے ہیں۔  خاص طور پر وٹامن سی۔ اسی وجہ سے پالک کو یا تو کچا کھانا بہتر ہوتا ہے یا ہلکی بھاپ میں پکانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وٹامن محفوظ رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30479408/"&gt;پیاز کا رس: کچن سے نکلنے والا بیوٹی سیریم بالی وُڈ کی پسندیدہ بیوٹی ٹپ بن گیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ پالک پکانے سے اس میں موجود کچھ اینٹی آکسیڈنٹس جیسے کہ بیٹا کیروٹین، لیوٹین اور زیازنتھین کی جسم میں رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ یہ کمپاؤنڈز آنکھوں کی صحت اور جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حرارت پودوں کے خلیوں کی دیواروں کو توڑتی ہے، جس سے یہ غذائی اجزاء جسم میں بہتر جذب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچا پالک آکسیلیٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو کیلشیم اور آئرن کے جذب کو کم کر دیتے ہیں۔ لیکن پکانے سے آکسیلیٹ کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معدنیات جسم میں بہتر جذب ہوتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو کچھ لحاظ سے پکایا ہوا پالک کچا پالک سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پالک کو اُبالنے کے بجائے ہلکی بھاپ میں پکانے سے زیادہ غذائی اجزاء محفوظ رہتے ہیں اور آکسیلیٹ کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ اُبالنے کی صورت میں بہت سے وٹامنز پانی میں چلے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غذائیت کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے ہلکی بھاپ یا تیز آنچ پر ہلکا سا تلنا بہتر انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پالک-کے-دیگر-فوائد-اور-استعمال" href="#پالک-کے-دیگر-فوائد-اور-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پالک کے دیگر فوائد اور استعمال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پالک کھانے کے بہت سے فائدے ہیں اور یہ جسم کے لیے بہت مفید سبزی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے مطابق ایک کپ پالک میں تقریباً 131 ملی گرام میگنیشیم پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کاربوہائیڈریٹس کے جذب کو سست کرتا ہے اور خون میں شوگر کی اچانک بڑھوتری کو روکتا ہے۔ میگنیشیم کی موجودگی انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح قابو میں رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک کو مختلف طریقوں سے کھایا جا سکتا ہے، جیسے اسے سموذیز میں ڈال کر پی سکتے ہیں یا سالن میں شامل کر کے پکایا جا سکتا ہے۔ آپ پالک کی پیوری بنا کر آٹے میں ملا کر پراٹھا یا روٹی بھی بنا سکتے ہیں، جو نہایت لذیذ اور صحت بخش ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک کی اس غذائیت بخش خصوصیات کی بدولت اسے روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا بہت مفید ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو صحت مند طرز زندگی کو اپنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالک پکانے سے کچھ حساس وٹامنز کا نقصان ضرور ہوتا ہے، لیکن اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات کی بہتر دستیابی کے باعث یہ غذائی لحاظ سے اور بھی مفید ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، پالک کو ہلکی بھاپ یا تل کر کھانا ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ زیادہ سے زیادہ غذائیت حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں  کہ پالک کھانے کے بے شمار صحت بخش فوائد ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ایک سپر فوڈ سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>پالک آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، فولک ایسڈ، وٹامن کے اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ مگر اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پکانے سے پالک کے غذائی اجزاء کم ہو جاتے ہیں؟ آئیے اس کا جواب جانتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30479552/">کیا دودھ اور کیلے کا شیک صحت کے لیے مفید ہے ؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟</a></p>
<p>ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نئی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ پالک پکانے کے عمل سے کچھ وٹامنز کی مقدار کم ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف پالک میں موجود فائبر، آئرن اور وٹامن جیسے اجزا برقرار رہتے ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوجاتے ہیں جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔</p>
<p>پالک میں وٹامن سی اور کئی دوسرے  وٹامنز،  فولک ایسیڈ شامل ہوتے ہیں جو ابالنے یا پکانے پر پانی میں گھل جاتے ہیں یا حرارت سے خراب ہوجاتے ہیں۔  خاص طور پر وٹامن سی۔ اسی وجہ سے پالک کو یا تو کچا کھانا بہتر ہوتا ہے یا ہلکی بھاپ میں پکانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وٹامن محفوظ رہ سکیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30479408/">پیاز کا رس: کچن سے نکلنے والا بیوٹی سیریم بالی وُڈ کی پسندیدہ بیوٹی ٹپ بن گیا</a></p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ پالک پکانے سے اس میں موجود کچھ اینٹی آکسیڈنٹس جیسے کہ بیٹا کیروٹین، لیوٹین اور زیازنتھین کی جسم میں رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ یہ کمپاؤنڈز آنکھوں کی صحت اور جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حرارت پودوں کے خلیوں کی دیواروں کو توڑتی ہے، جس سے یہ غذائی اجزاء جسم میں بہتر جذب ہوتے ہیں۔</p>
<p>کچا پالک آکسیلیٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو کیلشیم اور آئرن کے جذب کو کم کر دیتے ہیں۔ لیکن پکانے سے آکسیلیٹ کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معدنیات جسم میں بہتر جذب ہوتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو کچھ لحاظ سے پکایا ہوا پالک کچا پالک سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پالک کو اُبالنے کے بجائے ہلکی بھاپ میں پکانے سے زیادہ غذائی اجزاء محفوظ رہتے ہیں اور آکسیلیٹ کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ اُبالنے کی صورت میں بہت سے وٹامنز پانی میں چلے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غذائیت کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے ہلکی بھاپ یا تیز آنچ پر ہلکا سا تلنا بہتر انتخاب ہے۔</p>
<h1><a id="پالک-کے-دیگر-فوائد-اور-استعمال" href="#پالک-کے-دیگر-فوائد-اور-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پالک کے دیگر فوائد اور استعمال</h1>
<p>پالک کھانے کے بہت سے فائدے ہیں اور یہ جسم کے لیے بہت مفید سبزی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے مطابق ایک کپ پالک میں تقریباً 131 ملی گرام میگنیشیم پایا جاتا ہے۔</p>
<p>پالک میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کاربوہائیڈریٹس کے جذب کو سست کرتا ہے اور خون میں شوگر کی اچانک بڑھوتری کو روکتا ہے۔ میگنیشیم کی موجودگی انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح قابو میں رہتی ہے۔</p>
<p>پالک کو مختلف طریقوں سے کھایا جا سکتا ہے، جیسے اسے سموذیز میں ڈال کر پی سکتے ہیں یا سالن میں شامل کر کے پکایا جا سکتا ہے۔ آپ پالک کی پیوری بنا کر آٹے میں ملا کر پراٹھا یا روٹی بھی بنا سکتے ہیں، جو نہایت لذیذ اور صحت بخش ہوتا ہے۔</p>
<p>پالک کی اس غذائیت بخش خصوصیات کی بدولت اسے روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا بہت مفید ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو صحت مند طرز زندگی کو اپنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>پالک پکانے سے کچھ حساس وٹامنز کا نقصان ضرور ہوتا ہے، لیکن اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات کی بہتر دستیابی کے باعث یہ غذائی لحاظ سے اور بھی مفید ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، پالک کو ہلکی بھاپ یا تل کر کھانا ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ زیادہ سے زیادہ غذائیت حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30479754</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 12:09:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/29120652fe8d20e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/29120652fe8d20e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
