<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Living</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 22:31:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 22:31:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چہرے کو سوٹ اور نظروں کی حفاظت کرنے والے چشموں کا چناؤ کیسے کریں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30477002/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھوپ کے چشمے نہ صرف آپ کے انداز کو نکھارتے ہیں بلکہ آنکھوں کو نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ قبل از وقت بڑھاپے، موتیا اور دیگر بینائی کے مسائل سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جانیں کہ اپنی ضرورت اور فیشن کے مطابق دھوپ کے چشمے منتخب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوپ کے چشمے  آپ کی شخصیت میں جدت اور اسٹائل کا تاثر لاتے ہیں۔ لیکن صرف فیشن کے لوازمات سے بڑھ کر، ان کے پہننے کے بے شمار صحت بخش فوائد بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30463967"&gt;جوتے، سن گلاسز، جینز اور ہر چیز کی آرائش کے لیے زیورات ضروری کیوں؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دھوپ-کے-چشموں-کے-5-اہم-فوائد" href="#دھوپ-کے-چشموں-کے-5-اہم-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;دھوپ کے چشموں کے 5 اہم فوائد&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین امراض چشم کے مطابق، ایک اچھے معیار کے دھوپ کے چشموں میں سرمایہ کاری طویل عرصے تک آپ کی آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”یو وی شعاعوں سے بچاؤ کرنے والے سن گلاسز صرف ٹھنڈا نظر آنے کے لیے نہیں بلکہ بصری قوت میں اضافےاور آنکھوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30374208"&gt;چمکتی جلد کے لیے چند آسان ترین تجاویز&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نقصان-دہ-یو-وی-شعاعوں-سے-مؤثر-تحفظ" href="#نقصان-دہ-یو-وی-شعاعوں-سے-مؤثر-تحفظ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نقصان دہ یو وی شعاعوں سے مؤثر تحفظ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دھوپ کے چشمے آپ کی آنکھوں کو سورج کی الٹرا وائلٹ  شعاعوں سے بچاتے ہیں، جو موتیا بند، میکولر انحطاط اور پلکوں کے گرد جلد کے کینسر جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔ اعلیٰ معیار کے چشمے یو وی اے اور یو وی بی دونوں شعاعوں کو 99 سے 100 فیصد تک روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آنکھوں-کی-بیماریوں-سے-حفاطت" href="#آنکھوں-کی-بیماریوں-سے-حفاطت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آنکھوں کی بیماریوں سے حفاطت&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;باقاعدگی سے دھوپ کے چشمے پہننے سے فوٹوکیریٹائٹس، پٹیریجیم اور پنگیوکولا جیسی بیماریوں کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ یہ چشمے تیز روشنی اور یو وی تابکاری سے آنکھوں کی پہلی دفاعی لائن کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آنکھوں-کو-ٹھنڈک-اور-سکون-پہنچاتے-ہیں" href="#آنکھوں-کو-ٹھنڈک-اور-سکون-پہنچاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آنکھوں کو ٹھنڈک اور سکون پہنچاتے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تیز روشنی اور چمک آنکھوں کو تکلیف دیتی ہے، خاص طور پر ڈرائیونگ یا باہر کھیلتے وقت۔ پولرائزڈ لینز چمک کو کم کر کے آپ کی مرئیت کو بہتر بناتے ہیں اوربیرونی ماحول کو محفوظ اور خوشگوار بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آنکھوں-کے-گرد-جلد-کی-قبل-از-وقت-عمر-رسیدگی-کی-روک-تھام" href="#آنکھوں-کے-گرد-جلد-کی-قبل-از-وقت-عمر-رسیدگی-کی-روک-تھام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آنکھوں کے گرد جلد کی قبل از وقت عمر رسیدگی کی روک تھام&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آنکھوں کے گرد کی نازک جلد پریووی شعاعوں کا زیادہ اثر جھریوں اور باریک لکیروں کا سبب بنتا ہے۔ دھوپ کے چشمے پہن کر آپ اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس حساس جلد کی بھی حفاظت کرتے ہیں، جو آپ کو جوان اور تروتازہ دکھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آنکھوں-کےسکون-میں-اضافہ" href="#آنکھوں-کےسکون-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آنکھوں کےسکون میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ نے حال ہی میں آنکھ کی سرجری کروائی ہے یا آپ کی آنکھیں روشنی کے لیے حساس ہیں، تو دھوپ کے چشمے تیز روشنی، ہوا اور گردوغبار سے بچا کر آرام فراہم کرتے ہیں۔ یہ حساسیت یا درد شقیقہ کے شکار افراد کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مختلف-چہرے-کی-شکلوں-کے-لیے-بہترین-دھوپ-کے-چشمے" href="#مختلف-چہرے-کی-شکلوں-کے-لیے-بہترین-دھوپ-کے-چشمے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مختلف چہرے کی شکلوں کے لیے بہترین دھوپ کے چشمے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر چہرے کی ساخت کے لیے چشمے کا ایک مخصوص انداز بہتر ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چشمہ چہرے کی شکل کے مطابق منتخب کیا جائے تو یہ نہ صرف بہتر دکھائی دیتا ہے بلکہ چہرے کے نقوش کو بھی ابھارتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گول-چہرہ-چوکور-یا-مستطیل-فریمز-بہترین" href="#گول-چہرہ-چوکور-یا-مستطیل-فریمز-بہترین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گول چہرہ: چوکور یا مستطیل فریمز بہترین&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کا چہرہ گول ہے یعنی لمبائی اور چوڑائی تقریباً برابر ہے، تو آپ کے لیے چوکور یا مستطیل فریمز بہترین انتخاب ہیں۔ یہ فریمز چہرے کو پتلا دکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ گول فریمز سے پرہیز کریں کیونکہ یہ چہرے کی گولائی کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیضوی-چہرہ-ہراسٹائل-جچتا-ہے" href="#بیضوی-چہرہ-ہراسٹائل-جچتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیضوی چہرہ:  ہراسٹائل جچتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بیضوی (اوول) چہرہ متوازن ساخت رکھتا ہے جس میں ماتھا قدرے چوڑا اور ٹھوڑی پتلی ہوتی ہے۔ اس چہرے پر تقریباً ہر قسم کے سن گلاسز جچتے ہیں۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ چشمے کا سائز چہرے کے تناسب میں ہو، نہ بہت بڑا، نہ بہت چھوٹا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چوکور-چہرہ-گول-یا-بیضوی-فریمز-کا-انتخاب-کریں" href="#چوکور-چہرہ-گول-یا-بیضوی-فریمز-کا-انتخاب-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;چوکور چہرہ: گول یا بیضوی فریمز کا انتخاب کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چوکور چہرے میں جبڑا نمایاں اور ماتھا چوڑا ہوتا ہے۔ اسے  کم کرنے کے لیے گول یا بیضوی فریمز کا انتخاب کریں۔ یہ فریمز چہرے کی سختی کو متوازن کرتے ہیں اورایک دوستانہ، نرم تاثر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="دل-نما-چہرہ-کیٹ-آئی-اسٹائل-موزوں" href="#دل-نما-چہرہ-کیٹ-آئی-اسٹائل-موزوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;دل نما چہرہ: کیٹ آئی اسٹائل موزوں&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے چہرے کا اوپر والا حصہ چوڑا اور ٹھوڑی پتلی ہے تو یہ دل نما چہرے کی نشانی ہے۔ اس ساخت کے لیے کیٹ آئی فریمز یا ایسے ڈیزائن بہتر ہیں جو نچلے حصے میں قدرے چوڑائی دیتے ہوں۔ یہ چشمے چہرے میں توازن پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کو اپنی آنکھوں کی صحت اور فیشن دونوں کا خیال رکھنا ہے تو دھوپ کے چشمے آپ کے لیے بہترین انتخاب ہیں، جو آپ کی بینائی کو محفوظ رکھ کر آپ کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ اپنے چہرے کی مناسبت سے صحیح فریم منتخب کریں اور اپنے انداز کو نیا رنگ دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دھوپ کے چشمے نہ صرف آپ کے انداز کو نکھارتے ہیں بلکہ آنکھوں کو نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ قبل از وقت بڑھاپے، موتیا اور دیگر بینائی کے مسائل سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جانیں کہ اپنی ضرورت اور فیشن کے مطابق دھوپ کے چشمے منتخب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔</strong></p>
<p>دھوپ کے چشمے  آپ کی شخصیت میں جدت اور اسٹائل کا تاثر لاتے ہیں۔ لیکن صرف فیشن کے لوازمات سے بڑھ کر، ان کے پہننے کے بے شمار صحت بخش فوائد بھی ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30463967">جوتے، سن گلاسز، جینز اور ہر چیز کی آرائش کے لیے زیورات ضروری کیوں؟</a></p>
<h1><a id="دھوپ-کے-چشموں-کے-5-اہم-فوائد" href="#دھوپ-کے-چشموں-کے-5-اہم-فوائد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>دھوپ کے چشموں کے 5 اہم فوائد</strong></h1>
<p>ماہرین امراض چشم کے مطابق، ایک اچھے معیار کے دھوپ کے چشموں میں سرمایہ کاری طویل عرصے تک آپ کی آنکھوں کی صحت کو محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”یو وی شعاعوں سے بچاؤ کرنے والے سن گلاسز صرف ٹھنڈا نظر آنے کے لیے نہیں بلکہ بصری قوت میں اضافےاور آنکھوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔“</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30374208">چمکتی جلد کے لیے چند آسان ترین تجاویز</a></p>
<h1><a id="نقصان-دہ-یو-وی-شعاعوں-سے-مؤثر-تحفظ" href="#نقصان-دہ-یو-وی-شعاعوں-سے-مؤثر-تحفظ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نقصان دہ یو وی شعاعوں سے مؤثر تحفظ</strong></h1>
<p>دھوپ کے چشمے آپ کی آنکھوں کو سورج کی الٹرا وائلٹ  شعاعوں سے بچاتے ہیں، جو موتیا بند، میکولر انحطاط اور پلکوں کے گرد جلد کے کینسر جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔ اعلیٰ معیار کے چشمے یو وی اے اور یو وی بی دونوں شعاعوں کو 99 سے 100 فیصد تک روکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="آنکھوں-کی-بیماریوں-سے-حفاطت" href="#آنکھوں-کی-بیماریوں-سے-حفاطت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آنکھوں کی بیماریوں سے حفاطت</strong></h1>
<p>باقاعدگی سے دھوپ کے چشمے پہننے سے فوٹوکیریٹائٹس، پٹیریجیم اور پنگیوکولا جیسی بیماریوں کے خطرات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ یہ چشمے تیز روشنی اور یو وی تابکاری سے آنکھوں کی پہلی دفاعی لائن کا کام کرتے ہیں۔</p>
<h1><a id="آنکھوں-کو-ٹھنڈک-اور-سکون-پہنچاتے-ہیں" href="#آنکھوں-کو-ٹھنڈک-اور-سکون-پہنچاتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آنکھوں کو ٹھنڈک اور سکون پہنچاتے ہیں</strong></h1>
<p>تیز روشنی اور چمک آنکھوں کو تکلیف دیتی ہے، خاص طور پر ڈرائیونگ یا باہر کھیلتے وقت۔ پولرائزڈ لینز چمک کو کم کر کے آپ کی مرئیت کو بہتر بناتے ہیں اوربیرونی ماحول کو محفوظ اور خوشگوار بناتے ہیں۔</p>
<h1><a id="آنکھوں-کے-گرد-جلد-کی-قبل-از-وقت-عمر-رسیدگی-کی-روک-تھام" href="#آنکھوں-کے-گرد-جلد-کی-قبل-از-وقت-عمر-رسیدگی-کی-روک-تھام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آنکھوں کے گرد جلد کی قبل از وقت عمر رسیدگی کی روک تھام</strong></h1>
<p>آنکھوں کے گرد کی نازک جلد پریووی شعاعوں کا زیادہ اثر جھریوں اور باریک لکیروں کا سبب بنتا ہے۔ دھوپ کے چشمے پہن کر آپ اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس حساس جلد کی بھی حفاظت کرتے ہیں، جو آپ کو جوان اور تروتازہ دکھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<h1><a id="آنکھوں-کےسکون-میں-اضافہ" href="#آنکھوں-کےسکون-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آنکھوں کےسکون میں اضافہ</strong></h1>
<p>اگر آپ نے حال ہی میں آنکھ کی سرجری کروائی ہے یا آپ کی آنکھیں روشنی کے لیے حساس ہیں، تو دھوپ کے چشمے تیز روشنی، ہوا اور گردوغبار سے بچا کر آرام فراہم کرتے ہیں۔ یہ حساسیت یا درد شقیقہ کے شکار افراد کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہوتے ہیں۔</p>
<h1><a id="مختلف-چہرے-کی-شکلوں-کے-لیے-بہترین-دھوپ-کے-چشمے" href="#مختلف-چہرے-کی-شکلوں-کے-لیے-بہترین-دھوپ-کے-چشمے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مختلف چہرے کی شکلوں کے لیے بہترین دھوپ کے چشمے</strong></h1>
<p>کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر چہرے کی ساخت کے لیے چشمے کا ایک مخصوص انداز بہتر ہوتا ہے؟</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چشمہ چہرے کی شکل کے مطابق منتخب کیا جائے تو یہ نہ صرف بہتر دکھائی دیتا ہے بلکہ چہرے کے نقوش کو بھی ابھارتا ہے ۔</p>
<h1><a id="گول-چہرہ-چوکور-یا-مستطیل-فریمز-بہترین" href="#گول-چہرہ-چوکور-یا-مستطیل-فریمز-بہترین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گول چہرہ: چوکور یا مستطیل فریمز بہترین</strong></h1>
<p>اگر آپ کا چہرہ گول ہے یعنی لمبائی اور چوڑائی تقریباً برابر ہے، تو آپ کے لیے چوکور یا مستطیل فریمز بہترین انتخاب ہیں۔ یہ فریمز چہرے کو پتلا دکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ گول فریمز سے پرہیز کریں کیونکہ یہ چہرے کی گولائی کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔</p>
<h1><a id="بیضوی-چہرہ-ہراسٹائل-جچتا-ہے" href="#بیضوی-چہرہ-ہراسٹائل-جچتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیضوی چہرہ:  ہراسٹائل جچتا ہے</strong></h1>
<p>بیضوی (اوول) چہرہ متوازن ساخت رکھتا ہے جس میں ماتھا قدرے چوڑا اور ٹھوڑی پتلی ہوتی ہے۔ اس چہرے پر تقریباً ہر قسم کے سن گلاسز جچتے ہیں۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ چشمے کا سائز چہرے کے تناسب میں ہو، نہ بہت بڑا، نہ بہت چھوٹا۔</p>
<h1><a id="چوکور-چہرہ-گول-یا-بیضوی-فریمز-کا-انتخاب-کریں" href="#چوکور-چہرہ-گول-یا-بیضوی-فریمز-کا-انتخاب-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>چوکور چہرہ: گول یا بیضوی فریمز کا انتخاب کریں</strong></h1>
<p>چوکور چہرے میں جبڑا نمایاں اور ماتھا چوڑا ہوتا ہے۔ اسے  کم کرنے کے لیے گول یا بیضوی فریمز کا انتخاب کریں۔ یہ فریمز چہرے کی سختی کو متوازن کرتے ہیں اورایک دوستانہ، نرم تاثر دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="دل-نما-چہرہ-کیٹ-آئی-اسٹائل-موزوں" href="#دل-نما-چہرہ-کیٹ-آئی-اسٹائل-موزوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>دل نما چہرہ: کیٹ آئی اسٹائل موزوں</strong></h2>
<p>اگر آپ کے چہرے کا اوپر والا حصہ چوڑا اور ٹھوڑی پتلی ہے تو یہ دل نما چہرے کی نشانی ہے۔ اس ساخت کے لیے کیٹ آئی فریمز یا ایسے ڈیزائن بہتر ہیں جو نچلے حصے میں قدرے چوڑائی دیتے ہوں۔ یہ چشمے چہرے میں توازن پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر آپ کو اپنی آنکھوں کی صحت اور فیشن دونوں کا خیال رکھنا ہے تو دھوپ کے چشمے آپ کے لیے بہترین انتخاب ہیں، جو آپ کی بینائی کو محفوظ رکھ کر آپ کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ اپنے چہرے کی مناسبت سے صحیح فریم منتخب کریں اور اپنے انداز کو نیا رنگ دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30477002</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Aug 2025 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/12124534ed5f6f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/12124534ed5f6f4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بھاری وزن اٹھانے سے کچھ نہیں ہوگا‘، تیزی سے ڈولے شولے بنانے کا صحیح طریقہ جانئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476578/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گر آپ سوشل میڈیا پر مسلز بنانے سے متعلق مشورے تلاش کریں تو ایک ہی پیغام بار بار سامنے آتا ہے: جم جائیں، اتنا وزنی لوہا اٹھائیں کہ آخری ریپ مکمل کرنا بھی مشکل ہو جائے۔ مگر یونیورسٹی آف لیسٹر کے ماہر فزیالوجی پروفیسر لی برین کے مطابق یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کے مطابق پروفیسر برین کہتے ہیں کہ عضلات (ٹشوز) اُس وقت بڑھتے ہیں جب ہم ان پر روزمرہ زندگی سے ہٹ کر کوئی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ باقاعدگی سے ڈالا جائے تو عضلات اس کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں اور مضبوط اور بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ عضلات نہیں جانتے کہ یہ دباؤ بھاری وزن سے آیا ہے یا ہلکے وزن سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر برین کا دعویٰ ہے کہ ’آپ گھر پر بھی مسلز بنا سکتے ہیں‘، خاص طور پر اگر آپ نے ابھی باڈی بلڈنگ شروع ہی کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ  ’ریزیسٹنس بینڈز یا صرف اپنے جسم کے وزن سے ورزش جیسے پُش اپس، اسکواٹس، ڈِپس، اور لنجز ہفتے میں دو یا زیادہ بار کافی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہلکے وزن استعمال کر کے بھی عضلات بنائے جا سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بات یہ ہے کہ آپ کے مسلز پر مستقل دباؤ پڑے اور یہ دباؤ وقت کے ساتھ بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر برین وضاحت کرتے ہیں کہ مسلز کی تربیت کے حجم کو آہستہ آہستہ بڑھانا کامیابی کی کنجی ہے۔ مثلاً اگر آپ نے 5 کلو کا ڈمبل اٹھانا شروع کیا ہے، تو وقت کے ساتھ ریپٹیشنز 10 سے بڑھا کر 15 یا 20 کر دیجیے، جیسے جیسے وہ آسان محسوس ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ’آپ کے مسلز کو تھکاوٹ کا احساس ہونا چاہیے، جیسے کہ آپ مزید ریپس کر ہی نہ سکیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، برین خبردار کرتے ہیں کہ صحت مند نوجوانوں کے لیے باڈی ویٹ ٹریننگ صرف ایک حد تک فائدہ دیتی ہے، اس کے بعد عضلات میں مزید بہتری کے لیے جم کا ماحول زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ٹریننگ میں جمود نہ آئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’چاہے آپ ویٹ لفٹنگ کریں، ریزسٹنس بینڈز استعمال کریں یا باڈی ویٹ سے ورزش کریں، ایک ہی ورزش پر زیادہ دیر نہ رکیں۔ ہر چند ماہ بعد ورزش تبدیل کریں یا کسی نہ کسی طریقے سے اسے مزید مشکل بنائیں۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گر آپ سوشل میڈیا پر مسلز بنانے سے متعلق مشورے تلاش کریں تو ایک ہی پیغام بار بار سامنے آتا ہے: جم جائیں، اتنا وزنی لوہا اٹھائیں کہ آخری ریپ مکمل کرنا بھی مشکل ہو جائے۔ مگر یونیورسٹی آف لیسٹر کے ماہر فزیالوجی پروفیسر لی برین کے مطابق یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کے مطابق پروفیسر برین کہتے ہیں کہ عضلات (ٹشوز) اُس وقت بڑھتے ہیں جب ہم ان پر روزمرہ زندگی سے ہٹ کر کوئی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ باقاعدگی سے ڈالا جائے تو عضلات اس کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں اور مضبوط اور بڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ عضلات نہیں جانتے کہ یہ دباؤ بھاری وزن سے آیا ہے یا ہلکے وزن سے۔</p>
<p>پروفیسر برین کا دعویٰ ہے کہ ’آپ گھر پر بھی مسلز بنا سکتے ہیں‘، خاص طور پر اگر آپ نے ابھی باڈی بلڈنگ شروع ہی کی ہو۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ  ’ریزیسٹنس بینڈز یا صرف اپنے جسم کے وزن سے ورزش جیسے پُش اپس، اسکواٹس، ڈِپس، اور لنجز ہفتے میں دو یا زیادہ بار کافی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہلکے وزن استعمال کر کے بھی عضلات بنائے جا سکتے ہیں۔‘</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ آپ کے مسلز پر مستقل دباؤ پڑے اور یہ دباؤ وقت کے ساتھ بڑھایا جائے۔</p>
<p>پروفیسر برین وضاحت کرتے ہیں کہ مسلز کی تربیت کے حجم کو آہستہ آہستہ بڑھانا کامیابی کی کنجی ہے۔ مثلاً اگر آپ نے 5 کلو کا ڈمبل اٹھانا شروع کیا ہے، تو وقت کے ساتھ ریپٹیشنز 10 سے بڑھا کر 15 یا 20 کر دیجیے، جیسے جیسے وہ آسان محسوس ہو۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ’آپ کے مسلز کو تھکاوٹ کا احساس ہونا چاہیے، جیسے کہ آپ مزید ریپس کر ہی نہ سکیں‘۔</p>
<p>تاہم، برین خبردار کرتے ہیں کہ صحت مند نوجوانوں کے لیے باڈی ویٹ ٹریننگ صرف ایک حد تک فائدہ دیتی ہے، اس کے بعد عضلات میں مزید بہتری کے لیے جم کا ماحول زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ٹریننگ میں جمود نہ آئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’چاہے آپ ویٹ لفٹنگ کریں، ریزسٹنس بینڈز استعمال کریں یا باڈی ویٹ سے ورزش کریں، ایک ہی ورزش پر زیادہ دیر نہ رکیں۔ ہر چند ماہ بعد ورزش تبدیل کریں یا کسی نہ کسی طریقے سے اسے مزید مشکل بنائیں۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476578</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 13:39:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/04133827314404e.jpg?r=133954" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/04133827314404e.jpg?r=133954"/>
        <media:title>تصویر: میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمیوں میں کوڑے دان کی بدبو سے چھٹکارا، یہ ٹپس آزمائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476302/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موسم چاہے گرم ہویا سرد  گھروں خاص طور پر کچن میں کوڑے دان کی بدبو ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اپنے  گھر کوجتنا بھی صاف اور چمکدار رکھیں اگر کوڑے دان میں سے بدبوآرہی ہوتو سارا ماحول متاثر ہو جاتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ماہرین کی کچھ آزمودہ تجاویز کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30476065/"&gt;زیرہ پانی یا سونف پانی، اپنی صبح کا آغاز کس کے ساتھ کرنا بہتر ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے پاس کچن کے کوڑے دان کو کہیں اور منتقل کرنے کی جگہ نہیں، تب بھی آپ ان آسان طریقوں سے بدبو کو دور رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کوڑے-دان-کو-روزانہ-یا-باقاعدگی-سے-خالی-کریں" href="#کوڑے-دان-کو-روزانہ-یا-باقاعدگی-سے-خالی-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کوڑے دان کو روزانہ یا باقاعدگی سے خالی کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;روزانہ کی بنیاد پر اور سب سے پہلاکام یہ کریں کہ کوڑے دان کو باقاعدگی سے خالی کریں۔  ماہرین صحت کہتے ہیں،”روزانہ یا ہر دو دن بعد کوڑے دان کو خالی کرنا بدبو کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ اگر آپ کا گھر بڑا ہے تو روزانہ کوڑا نکالنا زیادہ بہتر ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30475699/"&gt;آپ کے جوتے ہی آپ کے دشمن؟ آرتھو پیڈک ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوڑے کا تھیلا پھٹ جائے تو یہ نہ صرف کوڑے دان کو آلودہ کرتا ہے بلکہ صفائی کا کام بھی دوگنا کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہر-بار-کوڑے-دان-صاف-کریں" href="#ہر-بار-کوڑے-دان-صاف-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہر بار کوڑے دان صاف کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق کوڑے دان کو ہر بار خالی کرنے کے بعد اندر سے صاف بھی کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر بار کوڑا نکالنے کے بعد کپڑے سے نمی صاف کریں، پھر ڈس انفیکٹینٹ اسپرے کریں اور اچھی طرح صفائی کریں، خاص طور پر ڈھکن پر توجہ دیں کیونکہ یہاں جراثیم زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بیکنگ-سوڈا-چھڑکیں" href="#بیکنگ-سوڈا-چھڑکیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیکنگ سوڈا چھڑکیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس صفائی کے ایجنٹ کے اندر قدرتی طور پر بدبو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوڑے دان کے نیچے تھوڑی مقدار میں بیکنگ سوڈا چھڑکنے سے نمی اور بدبو کم رہتی ہے۔ ہر بار صفائی کے بعد نیا بیکنگ سوڈا استعمال کریں۔
یہ طریقہ نہایت سستا اور مؤثر ہے اور گھر میں پہلے سے موجود اشیاء سے کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کوڑے-دان-کو-ٹھنڈی-جگہ-پر-رکھیں" href="#کوڑے-دان-کو-ٹھنڈی-جگہ-پر-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کوڑے دان کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گرمی بدبو کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کوڑے دان کو دھوپ یا گرمی والی جگہ پر نہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوڑے دان کو ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر رکھیں، کیونکہ سورج کی روشنی کھانے کے فضلے کو جلدی خراب کرتی ہے اور مکھیاں یا کیڑے کھینچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ خاص طور پر کچن کے اندر موجود کوڑے دان کو کبھی بھی دھوپ کے قریب نہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قدرتی-خوشبو-کا-استعمال-کریں" href="#قدرتی-خوشبو-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قدرتی خوشبو کا استعمال کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کوڑے دان کی بدبو کو قابو کرنے کے لیے قدرتی خوشبو والی اشیاء جیسے کہ لیموں کے چھلکے یا ایسینشل آئل سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئی کے پیڈ پر ایسینشل آئل کے چند قطرے ڈال کر کوڑے دان کے نیچے رکھیں۔ ہر صفائی کے بعد نیا پیڈ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گھریلو-ڈی-اوڈورائزر-کیسے-بنائیں" href="#گھریلو-ڈی-اوڈورائزر-کیسے-بنائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گھریلو ڈی اوڈورائزر کیسے بنائیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بیکنگ سوڈا، خشک لیموں یا سنگترے کے چھلکے اور چند قطرے ایسینشل آئل مکس کریں۔ اس آمیزے کو کسی کپڑے یا صاف جراب میں باندھ کر کوڑے دان کے نیچے رکھیں۔ ہر بار کوڑا نکالتے وقت نیا ساشے رکھنا بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی ان سادہ لیکن مؤثر تجاویز پر عمل کر کے آپ نہ صرف بدبو سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے گھر کو ہر وقت تروتازہ رکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موسم چاہے گرم ہویا سرد  گھروں خاص طور پر کچن میں کوڑے دان کی بدبو ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتی ہے۔</strong></p>
<p>آپ اپنے  گھر کوجتنا بھی صاف اور چمکدار رکھیں اگر کوڑے دان میں سے بدبوآرہی ہوتو سارا ماحول متاثر ہو جاتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ماہرین کی کچھ آزمودہ تجاویز کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30476065/">زیرہ پانی یا سونف پانی، اپنی صبح کا آغاز کس کے ساتھ کرنا بہتر ہے؟</a></p>
<p>اگر آپ کے پاس کچن کے کوڑے دان کو کہیں اور منتقل کرنے کی جگہ نہیں، تب بھی آپ ان آسان طریقوں سے بدبو کو دور رکھ سکتی ہیں۔</p>
<h3><a id="کوڑے-دان-کو-روزانہ-یا-باقاعدگی-سے-خالی-کریں" href="#کوڑے-دان-کو-روزانہ-یا-باقاعدگی-سے-خالی-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کوڑے دان کو روزانہ یا باقاعدگی سے خالی کریں</strong></h3>
<p>روزانہ کی بنیاد پر اور سب سے پہلاکام یہ کریں کہ کوڑے دان کو باقاعدگی سے خالی کریں۔  ماہرین صحت کہتے ہیں،”روزانہ یا ہر دو دن بعد کوڑے دان کو خالی کرنا بدبو کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ اگر آپ کا گھر بڑا ہے تو روزانہ کوڑا نکالنا زیادہ بہتر ہے۔“</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30475699/">آپ کے جوتے ہی آپ کے دشمن؟ آرتھو پیڈک ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟</a></p>
<p>اگر کوڑے کا تھیلا پھٹ جائے تو یہ نہ صرف کوڑے دان کو آلودہ کرتا ہے بلکہ صفائی کا کام بھی دوگنا کر دیتا ہے۔</p>
<h3><a id="ہر-بار-کوڑے-دان-صاف-کریں" href="#ہر-بار-کوڑے-دان-صاف-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہر بار کوڑے دان صاف کریں</strong></h3>
<p>ماہرین کے مطابق کوڑے دان کو ہر بار خالی کرنے کے بعد اندر سے صاف بھی کرنا چاہیے۔</p>
<p>ہر بار کوڑا نکالنے کے بعد کپڑے سے نمی صاف کریں، پھر ڈس انفیکٹینٹ اسپرے کریں اور اچھی طرح صفائی کریں، خاص طور پر ڈھکن پر توجہ دیں کیونکہ یہاں جراثیم زیادہ ہوتے ہیں۔</p>
<h3><a id="بیکنگ-سوڈا-چھڑکیں" href="#بیکنگ-سوڈا-چھڑکیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیکنگ سوڈا چھڑکیں</strong></h3>
<p>اس صفائی کے ایجنٹ کے اندر قدرتی طور پر بدبو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔</p>
<p>کوڑے دان کے نیچے تھوڑی مقدار میں بیکنگ سوڈا چھڑکنے سے نمی اور بدبو کم رہتی ہے۔ ہر بار صفائی کے بعد نیا بیکنگ سوڈا استعمال کریں۔
یہ طریقہ نہایت سستا اور مؤثر ہے اور گھر میں پہلے سے موجود اشیاء سے کیا جا سکتا ہے۔</p>
<h3><a id="کوڑے-دان-کو-ٹھنڈی-جگہ-پر-رکھیں" href="#کوڑے-دان-کو-ٹھنڈی-جگہ-پر-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کوڑے دان کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں</strong></h3>
<p>گرمی بدبو کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کوڑے دان کو دھوپ یا گرمی والی جگہ پر نہ رکھیں۔</p>
<p>کوڑے دان کو ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر رکھیں، کیونکہ سورج کی روشنی کھانے کے فضلے کو جلدی خراب کرتی ہے اور مکھیاں یا کیڑے کھینچ سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ خاص طور پر کچن کے اندر موجود کوڑے دان کو کبھی بھی دھوپ کے قریب نہ رکھیں۔</p>
<h3><a id="قدرتی-خوشبو-کا-استعمال-کریں" href="#قدرتی-خوشبو-کا-استعمال-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قدرتی خوشبو کا استعمال کریں</strong></h3>
<p>کوڑے دان کی بدبو کو قابو کرنے کے لیے قدرتی خوشبو والی اشیاء جیسے کہ لیموں کے چھلکے یا ایسینشل آئل سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔</p>
<p>روئی کے پیڈ پر ایسینشل آئل کے چند قطرے ڈال کر کوڑے دان کے نیچے رکھیں۔ ہر صفائی کے بعد نیا پیڈ رکھیں۔</p>
<h3><a id="گھریلو-ڈی-اوڈورائزر-کیسے-بنائیں" href="#گھریلو-ڈی-اوڈورائزر-کیسے-بنائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گھریلو ڈی اوڈورائزر کیسے بنائیں؟</strong></h3>
<p>بیکنگ سوڈا، خشک لیموں یا سنگترے کے چھلکے اور چند قطرے ایسینشل آئل مکس کریں۔ اس آمیزے کو کسی کپڑے یا صاف جراب میں باندھ کر کوڑے دان کے نیچے رکھیں۔ ہر بار کوڑا نکالتے وقت نیا ساشے رکھنا بہتر ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کی ان سادہ لیکن مؤثر تجاویز پر عمل کر کے آپ نہ صرف بدبو سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے گھر کو ہر وقت تروتازہ رکھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476302</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 15:16:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/02151342c00c53d.jpg?r=151349" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/02151342c00c53d.jpg?r=151349"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شخصیت کو بدل دینے والا ’بٹر فلائی ہیئر کٹ‘ گھر پر کیسے بنائیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30467844/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا فیشن کی ہو یا بیوٹی کی، ہر سال نئے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ کچھ اسٹائل آتے ہیں اور جلد ہی ماضی بن جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف آنکھوں کو بھاتے ہیں بلکہ دلوں کو چھو جاتے ہیں۔ بٹر فلائی ہیئر کٹ آج کل ایک ایسا ہی اسٹائل ہے جو نہ صرف ٹرینڈنگ میں ہے بلکہ ہر لڑکی کا خواب بنتا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بٹر فلائی ہیئر کٹ کیا ہے؟ یہ ایک لیئرڈ اسٹائل ہے جس میں بالوں کو اس طرح کاٹا جاتا ہے کہ وہ تتلی کے پروں کی طرح کھلتے ہیں۔ سامنے کی طرف چھوٹے لیئرز چہرے کو فریم کرتے ہیں اور پیچھے کی جانب لمبے لیئرز بالوں کو گھنا اور ’باؤنس والا‘ یا والیوم لُک دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/06/25110347012218c.jpg'  alt='  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوں ہے بٹر فلائی ہیئر کٹ ٹرینڈنگ میں؟ یا سوشل میڈیا پر چھایا ہوا؟ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب ہر جگہ سیلبریٹیز، انفلوئنسرز اور عام خواتین سب اسے بہت پسند کررہی ہیں اور یہ اسٹائل ہر دور میں اِن کیوں رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وجہ یہ ہے کہ یہ ہیئر اسٹائل ہر چہرے پر جچتا ہے، گول چہرہ ہو، لمبا، یا چوکور، یہ کٹ سب پر مختلف مگر دلکش انداز میں نکھرتا ہے اور بہترین والیوم اور لُک دیتا ہے
زیادہ وقت یا پروڈکٹس لگائے بغیر بھی آپ فیشن ایبل لگ سکتی ہیں یعنی ایفورٹ لیس بیوٹی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30389283/"&gt;گھنگھریالے بالوں کی دیکھ بھال کیسے کریں &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوے کی دہائی  کے کلاسک blowout لیئرز کی جھلک اس کٹ میں ہے، جو ناسٹیلجیا لوورز یا پرانی یادوں یا ادوار سے محبت کرنے والے کے لیے ایک ٹریٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30467241/"&gt;دو منہ والے بالوں سے نجات حاصل کریں اور پائیں خوبصورت گھنے بال&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ خواتین جن کے بال درمیانے یا لمبے ہیں اور انہیں والیوم یا گھنا پن چاہیے تو انہیں اس ہیئرکٹ کو ضرور آزمانا چاہیے۔  اس کے علاوہ وہ خواتین  جو اپنے بالوں میں کوئی نیا پن لانا چاہتی ہیں اور وہ بھی جو بغیر مستقل تبدیلی کے کوئی اسٹائل آزمانا چاہیں تو یہ ایک مطمئن کرنے والا خوبصورت ہیئرکٹ ہوگا۔  اگر آپ پرفیکشن چاہتی ہیں 2025 میں کچھ نیا، کچھ اسٹائلش اور مکمل طور پر ٹرینڈنگ تو یقینا بٹر فلائی ہیئر کٹ آپ کے لیے بہترین انتخاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا فیشن کی ہو یا بیوٹی کی، ہر سال نئے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ کچھ اسٹائل آتے ہیں اور جلد ہی ماضی بن جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف آنکھوں کو بھاتے ہیں بلکہ دلوں کو چھو جاتے ہیں۔ بٹر فلائی ہیئر کٹ آج کل ایک ایسا ہی اسٹائل ہے جو نہ صرف ٹرینڈنگ میں ہے بلکہ ہر لڑکی کا خواب بنتا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>بٹر فلائی ہیئر کٹ کیا ہے؟ یہ ایک لیئرڈ اسٹائل ہے جس میں بالوں کو اس طرح کاٹا جاتا ہے کہ وہ تتلی کے پروں کی طرح کھلتے ہیں۔ سامنے کی طرف چھوٹے لیئرز چہرے کو فریم کرتے ہیں اور پیچھے کی جانب لمبے لیئرز بالوں کو گھنا اور ’باؤنس والا‘ یا والیوم لُک دیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/06/25110347012218c.jpg'  alt='  ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کیوں ہے بٹر فلائی ہیئر کٹ ٹرینڈنگ میں؟ یا سوشل میڈیا پر چھایا ہوا؟ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب ہر جگہ سیلبریٹیز، انفلوئنسرز اور عام خواتین سب اسے بہت پسند کررہی ہیں اور یہ اسٹائل ہر دور میں اِن کیوں رہتا ہے۔</p>
<p>وجہ یہ ہے کہ یہ ہیئر اسٹائل ہر چہرے پر جچتا ہے، گول چہرہ ہو، لمبا، یا چوکور، یہ کٹ سب پر مختلف مگر دلکش انداز میں نکھرتا ہے اور بہترین والیوم اور لُک دیتا ہے
زیادہ وقت یا پروڈکٹس لگائے بغیر بھی آپ فیشن ایبل لگ سکتی ہیں یعنی ایفورٹ لیس بیوٹی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30389283/">گھنگھریالے بالوں کی دیکھ بھال کیسے کریں </a></p>
<p>نوے کی دہائی  کے کلاسک blowout لیئرز کی جھلک اس کٹ میں ہے، جو ناسٹیلجیا لوورز یا پرانی یادوں یا ادوار سے محبت کرنے والے کے لیے ایک ٹریٹ ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30467241/">دو منہ والے بالوں سے نجات حاصل کریں اور پائیں خوبصورت گھنے بال</a></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وہ خواتین جن کے بال درمیانے یا لمبے ہیں اور انہیں والیوم یا گھنا پن چاہیے تو انہیں اس ہیئرکٹ کو ضرور آزمانا چاہیے۔  اس کے علاوہ وہ خواتین  جو اپنے بالوں میں کوئی نیا پن لانا چاہتی ہیں اور وہ بھی جو بغیر مستقل تبدیلی کے کوئی اسٹائل آزمانا چاہیں تو یہ ایک مطمئن کرنے والا خوبصورت ہیئرکٹ ہوگا۔  اگر آپ پرفیکشن چاہتی ہیں 2025 میں کچھ نیا، کچھ اسٹائلش اور مکمل طور پر ٹرینڈنگ تو یقینا بٹر فلائی ہیئر کٹ آپ کے لیے بہترین انتخاب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30467844</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 12:11:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/2510353800d1e65.jpg?r=110526" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/2510353800d1e65.jpg?r=110526"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی تعلیم کے خواب خطرے میں، بیرون ملک نوکریاں ملنی بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30461208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے گڑگاؤں کے معروف کاروباری شخصیت راجیش ساونی نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے بھارتی طلباء اور ان کے والدین کو ایک سخت وارننگ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے ملازمت کے مواقع تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان ممالک کے امیگریشن قوانین اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجیش ساونی جو جی ایس ایف ایکسیلیریٹر کے بانی اور سی ای او ہیں، خود ہارورڈ بزنس اسکول اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا: امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے نوکریاں نہیں ہیں۔ ہنی مون ختم ہو چکا ہے، والدین کو مہنگی تعلیم پر کروڑوں خرچ کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خاص طور پر انجینئرنگ کے طلباء، خاص کر آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل طلباء کے بارے میں کہا کہ پہلے ان کے لیے ایک ”آسان ہیک“ تھا امریکہ جا کر ماسٹرز کرنا اور فوری طور پر 2 لاکھ ڈالر کی نوکری حاصل کرنا لیکن اب یہ طریقہ کار مزید کارگر نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/rajeshsawhney/status/1924090684631322695?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1924090684631322695%7Ctwgr%5Eb6ee51539eba22151902c6052dc5127aa1051d6e%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.timesnownews.com%2Fviral%2Fno-jobs-abroad-gurugram-entrepreneur-warns-indian-parents-against-costly-foreign-degrees-article-151671763"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا: ”سچ ہے! میں 2017 میں وہاں تھا، لوگ تعلیم کے پہلے کوارٹر میں ہی ڈیدھ لاکھ ڈالر کی آفر حاصل کر رہے تھے۔ اب وہی شخص گوگل میں ہے اور خوفزدہ ہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125829e06d6a8.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے اُمید افزا رویہ اپناتے ہوئے کہا: ”میں ان انجینئرز کے لیے زیادہ پر امید ہوں جو واپس بھارت آئیں گے اور اربوں ڈالر کی اسٹارٹ اپ کمپنیاں بنائیں گے۔ سوچیں ان تمام YC اسٹارٹ اپس کا جو بھارتی ہیں اور بھارت سے دنیا کے لیے بنا رہے ہیں یہ واقعی لیجنڈری ہو گا!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125835fa01fef.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے گڑگاؤں کے معروف کاروباری شخصیت راجیش ساونی نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے بھارتی طلباء اور ان کے والدین کو ایک سخت وارننگ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے ملازمت کے مواقع تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان ممالک کے امیگریشن قوانین اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p>راجیش ساونی جو جی ایس ایف ایکسیلیریٹر کے بانی اور سی ای او ہیں، خود ہارورڈ بزنس اسکول اور لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا: امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے نوکریاں نہیں ہیں۔ ہنی مون ختم ہو چکا ہے، والدین کو مہنگی تعلیم پر کروڑوں خرچ کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔“</p>
<p>انہوں نے خاص طور پر انجینئرنگ کے طلباء، خاص کر آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل طلباء کے بارے میں کہا کہ پہلے ان کے لیے ایک ”آسان ہیک“ تھا امریکہ جا کر ماسٹرز کرنا اور فوری طور پر 2 لاکھ ڈالر کی نوکری حاصل کرنا لیکن اب یہ طریقہ کار مزید کارگر نہیں رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/rajeshsawhney/status/1924090684631322695?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1924090684631322695%7Ctwgr%5Eb6ee51539eba22151902c6052dc5127aa1051d6e%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.timesnownews.com%2Fviral%2Fno-jobs-abroad-gurugram-entrepreneur-warns-indian-parents-against-costly-foreign-degrees-article-151671763"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا: ”سچ ہے! میں 2017 میں وہاں تھا، لوگ تعلیم کے پہلے کوارٹر میں ہی ڈیدھ لاکھ ڈالر کی آفر حاصل کر رہے تھے۔ اب وہی شخص گوگل میں ہے اور خوفزدہ ہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے!“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125829e06d6a8.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور صارف نے اُمید افزا رویہ اپناتے ہوئے کہا: ”میں ان انجینئرز کے لیے زیادہ پر امید ہوں جو واپس بھارت آئیں گے اور اربوں ڈالر کی اسٹارٹ اپ کمپنیاں بنائیں گے۔ سوچیں ان تمام YC اسٹارٹ اپس کا جو بھارتی ہیں اور بھارت سے دنیا کے لیے بنا رہے ہیں یہ واقعی لیجنڈری ہو گا!“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/20125835fa01fef.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30461208</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 13:05:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/20130029ea93922.webp?r=130530" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/20130029ea93922.webp?r=130530"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مڈل کلاس ’برانڈز‘ کے پیچھے کیوں بھاگتی ہے؟ ماہرین نے بتا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30460788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک وقت تھا جب لگژری برانڈز جیسے کہ لوئی ویٹون، رولیکس، اور گوچی صرف امیر ترین لوگوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج کل یہ عام بات ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، تنخواہ دار پروفیشنلز، فری لانسرز اور انفلوئنسرز مہنگے برانڈز استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اور مارکیٹ ماہر ابھیجیت چوکسی کے مطابق لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ مڈل کلاس کو امیر دکھنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’لگژری اشیاء کی 75 فیصد خریداری مڈل کلاس سے آتی ہے۔ 1995 میں لوئی ویٹون کا 40 ہزار روپے والا بیگ صرف پیسے والوں کے لیے ہوتا تھا۔ 2025 میں وہی برانڈ 2.8 لاکھ روپے کا بیگ 30 سالہ تنخواہ دار افراد کو قسطوں پر بیچ رہا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30457552/"&gt;خود کو چھپا کر رکھنے والے دولت مند کو پہچاننے کے آسان خفیہ طریقے &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ متوسط طبقہ امیر دکھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی آمدنی میں اضافے کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ سوشل میڈیا، ہوشیار مارکیٹنگ، اور معاشرتی دباؤ نے یہ خواہش پیدا کی کہ لوگ کامیاب نظر آئیں چاہے وہ حقیقت نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوکسی کا کہنا تھا کہ لگژری انڈسٹری نے لوگوں کی ”اسٹیٹس“ اور مقبولیت کی خواہش کو اپنی مارکیٹنگ کا ہتھیار بنایا۔ آج کل لوگ مہنگی گھڑیاں، ڈیزائنر بیگز یا برانڈڈ کپڑے آرام یا معیار کے لیے نہیں بلکہ تصویریں پوسٹ کرنے، فالوورز بڑھانے اور نمایاں ہونے کے لیے خریدتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30366647/"&gt;یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ اور پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے ’میرا برانڈ پاکستان‘ نمائش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس سب کے پیچھے ایک خفیہ قیمت بھی ہے۔ کئی لوگ یہ قیمتی اشیاء قسطوں یا کریڈٹ کارڈز پر خرید رہے ہیں جس سے قرض بڑھ رہا ہے اور بچت یا سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک وقت تھا جب لگژری برانڈز جیسے کہ لوئی ویٹون، رولیکس، اور گوچی صرف امیر ترین لوگوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج کل یہ عام بات ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، تنخواہ دار پروفیشنلز، فری لانسرز اور انفلوئنسرز مہنگے برانڈز استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔</strong></p>
<p>سرمایہ کار اور مارکیٹ ماہر ابھیجیت چوکسی کے مطابق لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ مڈل کلاس کو امیر دکھنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’لگژری اشیاء کی 75 فیصد خریداری مڈل کلاس سے آتی ہے۔ 1995 میں لوئی ویٹون کا 40 ہزار روپے والا بیگ صرف پیسے والوں کے لیے ہوتا تھا۔ 2025 میں وہی برانڈ 2.8 لاکھ روپے کا بیگ 30 سالہ تنخواہ دار افراد کو قسطوں پر بیچ رہا ہے۔‘</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30457552/">خود کو چھپا کر رکھنے والے دولت مند کو پہچاننے کے آسان خفیہ طریقے </a></strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ متوسط طبقہ امیر دکھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی آمدنی میں اضافے کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ سوشل میڈیا، ہوشیار مارکیٹنگ، اور معاشرتی دباؤ نے یہ خواہش پیدا کی کہ لوگ کامیاب نظر آئیں چاہے وہ حقیقت نہ ہو۔</p>
<p>چوکسی کا کہنا تھا کہ لگژری انڈسٹری نے لوگوں کی ”اسٹیٹس“ اور مقبولیت کی خواہش کو اپنی مارکیٹنگ کا ہتھیار بنایا۔ آج کل لوگ مہنگی گھڑیاں، ڈیزائنر بیگز یا برانڈڈ کپڑے آرام یا معیار کے لیے نہیں بلکہ تصویریں پوسٹ کرنے، فالوورز بڑھانے اور نمایاں ہونے کے لیے خریدتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30366647/">یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ اور پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے ’میرا برانڈ پاکستان‘ نمائش</a></strong></p>
<p>لیکن اس سب کے پیچھے ایک خفیہ قیمت بھی ہے۔ کئی لوگ یہ قیمتی اشیاء قسطوں یا کریڈٹ کارڈز پر خرید رہے ہیں جس سے قرض بڑھ رہا ہے اور بچت یا سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30460788</guid>
      <pubDate>Sat, 17 May 2025 11:37:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/171030478fa7637.webp?r=103330" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/171030478fa7637.webp?r=103330"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شادی شدہ جوڑوں کا لڑائی جھگڑا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30460231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ نے ایک دیسی گھرانے میں پرورش پائی ہے تو امکانات ہیں کہ آپ نے اپنے والدین یا کسی قریبی فرد کو آپس میں لڑتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔ اور اکثر، جھگڑے کے بعد ایک مشہور فقرہ سننے کو ملتا ہے، ’گھروں میں یہ سب تو ہوتا ہی ہے‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیسی گھروں میں ذاتی معاملات کو علیحدہ کمرے میں جا کر سلجھانے کا رجحان خاصا کم ہوتا ہے۔ دراصل، یہاں کچھ بھی ’ذاتی‘ نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن اس وقت ہم پرائیویسی کے مسئلے پر نہیں بلکہ ’جھگڑوں‘ پر بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جھگڑے - ایک عام مگر اہم معاملہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلانا، چیخنا، اور کبھی کبھار تھوڑا سا ڈراما۔ یہ سب ہمیں شاید معمول کا حصہ لگے ہوں، کیونکہ ہم اسی ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جھگڑنے کا بھی ایک درست طریقہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، یہ بات صحیح ہے کہ کبھی کبھار کی نوک جھونک یا جھگڑا کسی تعلق کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ میاں بیوی جب ایک دوسرے سے جھگڑا کر بیٹھتے ہیں تو غصے کے ٹھنڈا ہونے پر احساس کی شدت زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ پھر ایک دوسرے کے نزدیک پہلے سے زیادہ محبت کے ساتھ آتے ہیں، ان کا رشتہ زیادہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اور اہم بات یہ کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ جھگڑا یا تلخی ہمیشہ ہی یا تادیر برقرار رہے، بلکہ اسے اچھی نہج اور اچھے پیرائے میں محبت بڑھانے کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ یعنی، جھگڑا ضروری نہیں کہ ہمیشہ برائی ہی لے کر آئے، بعض حالات میں یہ تعلق کو مضبوط بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2012 میں ’سوسائٹی فار پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکلوجی‘ کی ایک تحقیق کے مطابق، کسی رومانوی ساتھی سے غصے کا اظہار وقتی طور پر بے چینی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ ایماندارانہ مکالمے کو فروغ دیتا ہے، جو رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو سوال یہ ہے،  جھگڑنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="میں-کا-استعمال-کریں-تم-نہیں" href="#میں-کا-استعمال-کریں-تم-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’میں‘ کا استعمال کریں، ’تم‘ نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، سب سے اہم بات یہ ہے کہ الزام تراشی سے بچا جائے۔ ”میں“ کہہ کر اپنی بات کا آغاز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر پویترا شنکر کہتی ہیں، ایسا کہنا کہ ’مجھے الجھن ہوتی ہے جب پلانز اچانک بدلتے ہیں‘ زیادہ بہتر ہے بنسبت یہ کہ ’تم ہر چیز بگاڑ دیتے ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شہزین شیوداسانی کہتی ہیں، ’نام لے کر الزام نہ دیں۔ کہیں ’مجھے یوں محسوس ہوتا ہے‘ بجائے اس کے کہ ’تم کبھی سمجھتے ہی نہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیت-صاف-رکھیں" href="#نیت-صاف-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نیت صاف رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جو بات ہم اب کرنے جارہے ہیں ہم وہ سب سے اہم ہے اور وہ یہ کہ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ’آپ جھگڑ کیوں رہے ہیں؟‘ آیا ایک دوسرے سے؟ یا ایک دوسرے کے لیے؟ ’مقصد مسئلے کو حل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائف کوچ اور ریلیشن شپ ایکسپرٹ کے مطابق، بہترین جھگڑے وہ ہوتے ہیں جن میں جیتنے یا درست ثابت ہونے کا جذبہ نہ ہو، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور جڑنے کی خواہش ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سوال کریں، کیا میں یہ چاہتا یا چاہتی ہوں کہ مجھے سُنا جائے؟ یا میں تنہا محسوس نہیں کرنا چاہتی یا چاہتا؟ یا صرف بدلہ لینے یا دِل دکھانے کی کوشش ہے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیت کی صفائی لڑائی کو ردعمل سے نکال کر ایک تعلقاتی سطح پر لے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وقفہ-لیں--stop-کریں" href="#وقفہ-لیں--stop-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;وقفہ لیں ۔ ’STOP‘ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جب ماحول زیادہ گرم ہو جائے یا جذبات حد سے بڑھ جائیں، تو بات کو روک دینا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھگڑا بگڑنے لگے تو STOP کریں، کیسے ؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;S – Stop&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;T – Take a break&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;O – Observe your feelings&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;P – Plan your words&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم بات کہ  مشکل باتیں ایسے وقت پر نہ چھیڑیں جب سامنے والے کو بھوک لگ رہی ہو، مصروف ہو یا پہلے سے ناراض ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="احترام--ہر-حال-میں" href="#احترام--ہر-حال-میں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;احترام ۔  ہر حال میں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہر ماہر کا اس پر اتفاق ہے، جھگڑا ہو سکتا ہے، لیکن عزت ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ جھگڑتے ہیں یا نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جھگڑا کیسے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رشتے میں جھگڑے ضروری ہیں تاکہ آپ جان سکیں کہ اختلاف کی صورت میں آپ کیسی شخصیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب عزت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اختتام-مثبت-رکھیں" href="#اختتام-مثبت-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اختتام مثبت رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جھگڑے کے بعد ایک نرم، محبت والا انداز اختیار کریں۔ تعلق کو دوبارہ سے جوڑنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مسئلہ مکمل حل نہ بھی ہو، تو بھی ایک مثبت اشارہ، جیسے ایک چھوٹا سا لمس یا نرم بات رشتے کو سنوار سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھگڑے رشتوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان سے بچنا ممکن نہیں، لیکن انھیں بہتر انداز سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ مسئلہ آپ کے خلاف نہیں، آپ دونوں کے بیچ ہے۔ سیکھنے والی بات یہ ہے کہ جھگڑا کرنے کا انداز ہی بتاتا ہے کہ رشتہ مضبوط ہو رہا ہے یا کمزور۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو آئندہ جب بھی جھگڑا ہو، یاد رکھیں، ’لڑیں ضرور، مگر دل سے، دماغ سے، اور عزت سے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ نے ایک دیسی گھرانے میں پرورش پائی ہے تو امکانات ہیں کہ آپ نے اپنے والدین یا کسی قریبی فرد کو آپس میں لڑتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔ اور اکثر، جھگڑے کے بعد ایک مشہور فقرہ سننے کو ملتا ہے، ’گھروں میں یہ سب تو ہوتا ہی ہے‘۔</strong></p>
<p>دیسی گھروں میں ذاتی معاملات کو علیحدہ کمرے میں جا کر سلجھانے کا رجحان خاصا کم ہوتا ہے۔ دراصل، یہاں کچھ بھی ’ذاتی‘ نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن اس وقت ہم پرائیویسی کے مسئلے پر نہیں بلکہ ’جھگڑوں‘ پر بات کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>جھگڑے - ایک عام مگر اہم معاملہ</strong></p>
<p>چلانا، چیخنا، اور کبھی کبھار تھوڑا سا ڈراما۔ یہ سب ہمیں شاید معمول کا حصہ لگے ہوں، کیونکہ ہم اسی ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جھگڑنے کا بھی ایک درست طریقہ ہوتا ہے۔</p>
<p>جی ہاں، یہ بات صحیح ہے کہ کبھی کبھار کی نوک جھونک یا جھگڑا کسی تعلق کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ میاں بیوی جب ایک دوسرے سے جھگڑا کر بیٹھتے ہیں تو غصے کے ٹھنڈا ہونے پر احساس کی شدت زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ پھر ایک دوسرے کے نزدیک پہلے سے زیادہ محبت کے ساتھ آتے ہیں، ان کا رشتہ زیادہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اور اہم بات یہ کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ جھگڑا یا تلخی ہمیشہ ہی یا تادیر برقرار رہے، بلکہ اسے اچھی نہج اور اچھے پیرائے میں محبت بڑھانے کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ یعنی، جھگڑا ضروری نہیں کہ ہمیشہ برائی ہی لے کر آئے، بعض حالات میں یہ تعلق کو مضبوط بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>2012 میں ’سوسائٹی فار پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکلوجی‘ کی ایک تحقیق کے مطابق، کسی رومانوی ساتھی سے غصے کا اظہار وقتی طور پر بے چینی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر یہ ایماندارانہ مکالمے کو فروغ دیتا ہے، جو رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>تو سوال یہ ہے،  جھگڑنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔</p>
<h3><a id="میں-کا-استعمال-کریں-تم-نہیں" href="#میں-کا-استعمال-کریں-تم-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’میں‘ کا استعمال کریں، ’تم‘ نہیں</strong></h3>
<p>ماہرین کے مطابق، سب سے اہم بات یہ ہے کہ الزام تراشی سے بچا جائے۔ ”میں“ کہہ کر اپنی بات کا آغاز کریں۔</p>
<p>ڈاکٹر پویترا شنکر کہتی ہیں، ایسا کہنا کہ ’مجھے الجھن ہوتی ہے جب پلانز اچانک بدلتے ہیں‘ زیادہ بہتر ہے بنسبت یہ کہ ’تم ہر چیز بگاڑ دیتے ہو‘۔</p>
<p>اسی طرح شہزین شیوداسانی کہتی ہیں، ’نام لے کر الزام نہ دیں۔ کہیں ’مجھے یوں محسوس ہوتا ہے‘ بجائے اس کے کہ ’تم کبھی سمجھتے ہی نہیں‘۔</p>
<h3><a id="نیت-صاف-رکھیں" href="#نیت-صاف-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نیت صاف رکھیں</strong></h3>
<p>جو بات ہم اب کرنے جارہے ہیں ہم وہ سب سے اہم ہے اور وہ یہ کہ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ’آپ جھگڑ کیوں رہے ہیں؟‘ آیا ایک دوسرے سے؟ یا ایک دوسرے کے لیے؟ ’مقصد مسئلے کو حل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا۔‘</p>
<p>لائف کوچ اور ریلیشن شپ ایکسپرٹ کے مطابق، بہترین جھگڑے وہ ہوتے ہیں جن میں جیتنے یا درست ثابت ہونے کا جذبہ نہ ہو، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور جڑنے کی خواہش ہو۔</p>
<p>’سوال کریں، کیا میں یہ چاہتا یا چاہتی ہوں کہ مجھے سُنا جائے؟ یا میں تنہا محسوس نہیں کرنا چاہتی یا چاہتا؟ یا صرف بدلہ لینے یا دِل دکھانے کی کوشش ہے؟‘</p>
<p>نیت کی صفائی لڑائی کو ردعمل سے نکال کر ایک تعلقاتی سطح پر لے آتی ہے۔</p>
<h3><a id="وقفہ-لیں--stop-کریں" href="#وقفہ-لیں--stop-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>وقفہ لیں ۔ ’STOP‘ کریں</strong></h3>
<p>جب ماحول زیادہ گرم ہو جائے یا جذبات حد سے بڑھ جائیں، تو بات کو روک دینا بہتر ہے۔</p>
<p>جھگڑا بگڑنے لگے تو STOP کریں، کیسے ؟</p>
<p>S – Stop</p>
<p>T – Take a break</p>
<p>O – Observe your feelings</p>
<p>P – Plan your words</p>
<p>ایک اور اہم بات کہ  مشکل باتیں ایسے وقت پر نہ چھیڑیں جب سامنے والے کو بھوک لگ رہی ہو، مصروف ہو یا پہلے سے ناراض ہو۔</p>
<h3><a id="احترام--ہر-حال-میں" href="#احترام--ہر-حال-میں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>احترام ۔  ہر حال میں</strong></h3>
<p>ہر ماہر کا اس پر اتفاق ہے، جھگڑا ہو سکتا ہے، لیکن عزت ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ جھگڑتے ہیں یا نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جھگڑا کیسے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رشتے میں جھگڑے ضروری ہیں تاکہ آپ جان سکیں کہ اختلاف کی صورت میں آپ کیسی شخصیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب عزت کے دائرے میں ہونا چاہیے۔</p>
<h3><a id="اختتام-مثبت-رکھیں" href="#اختتام-مثبت-رکھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اختتام مثبت رکھیں</strong></h3>
<p>جھگڑے کے بعد ایک نرم، محبت والا انداز اختیار کریں۔ تعلق کو دوبارہ سے جوڑنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>اگر مسئلہ مکمل حل نہ بھی ہو، تو بھی ایک مثبت اشارہ، جیسے ایک چھوٹا سا لمس یا نرم بات رشتے کو سنوار سکتا ہے۔</p>
<p>جھگڑے رشتوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان سے بچنا ممکن نہیں، لیکن انھیں بہتر انداز سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ مسئلہ آپ کے خلاف نہیں، آپ دونوں کے بیچ ہے۔ سیکھنے والی بات یہ ہے کہ جھگڑا کرنے کا انداز ہی بتاتا ہے کہ رشتہ مضبوط ہو رہا ہے یا کمزور۔</p>
<p>تو آئندہ جب بھی جھگڑا ہو، یاد رکھیں، ’لڑیں ضرور، مگر دل سے، دماغ سے، اور عزت سے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30460231</guid>
      <pubDate>Sun, 11 May 2025 15:53:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/11154257b94e2fd.webp?r=154323" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/11154257b94e2fd.webp?r=154323"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیڈروم یا لاؤنج میں اسنیک پلانٹ رکھنے کے 5 حیرت انگیز فائدے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30459208/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل، شہری زندگی میں آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی کثرت، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، اور صنعتی ترقی کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ہمارے باہر کی فضا کو ہی متاثر نہیں کرتا، بلکہ ماحول کی آلودگی کا یہ اثر ہمارے گھروں میں بھی پڑتا ہے۔ آپ اپنے گھر میں کتنی ہی صفائی کریں، لیکن آپ کی داخلی ہوا میں آلودگی کا اثر برقرار رہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری روزمرہ کی زندگی میں، ہم زیادہ تر وقت اپنے گھروں میں گزارتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچے، لہٰذا گھر میں ہوا کی کیفیت ہماری صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، زیادہ تر گھروں میں ہوا کا بہاؤ محدود ہوتا ہے اور قدرتی آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ ’اسنیک پلانٹ‘ آپ کے کمرے کی ہوا کو صاف کرنے میں کس قدر مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ ’اسنیک پلانٹ‘ یا سانپ کا پودا ایک منفرد اور فائدے مند پودا ہے جو نہ صرف آپ کے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے، بلکہ آپ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔۔ اس کے فوائد کے بارے میں جان کر آپ اپنی زندگی میں ایک نئی تازگی محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ منفرد پودا کیسے آپ کے کمرے کو خوشگوار اور صحت مند بنا سکتا ہے، اور آپ کی نیند، صحت، اور خوشی میں اضافہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فضائی معیار کو بہتر بناتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ قدرتی طور پر ہوا کی صفائی کرتا ہے۔ یہ پودا کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور آکسیجن خارج کرتا ہے، جس سے کمرے کی ہوا صاف اور بہتر ہوتی ہے۔ یہ فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر انڈور اسپیسز میں جہاں تازہ ہوا کا گزرنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ رات کو بھی آکسیجن چھوڑتا ہے، لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دن اور رات دونوں وقت مختلف طریقوں سے آکسیجن اور دیگر گیسوں کا تبادلہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر پودے دن کے وقت قدرتی طور پر فوٹوسنتھیسز کرتے ہیں، جس میں وہ سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اسنیک پلانٹ میں ایک خاصیت ہے جسے ’کریسٹوینن سائیکل‘ کہتے ہیں۔ یہ عمل پودوں کو رات کے وقت بھی آکسیجن چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ دوسرے پودے رات کو صرف آکسیجن کو جذب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی، اسنیک پلانٹ دن اور رات دونوں وقت آکسیجن خارج کرتا  ہے، اور اس کی یہ خصوصیت اسے خاص طور پر کمرے یا بیڈروم میں رکھنے کے لیے فائدے مند بناتی ہے کیونکہ یہ رات کے وقت بھی ہوا کو تازہ اور صحت مند رکھتا ہے، جبکہ دوسرے پودے رات کو آکسیجن کا اخراج نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کم دیکھ بھال کی ضرورت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ کم دیکھ بھال کا تقاضا کرتا ہے، جو اسے ایک مثالی پودا بناتا ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں وقت کی کمی یا پودوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتیں۔ اسے زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ کم روشنی میں بھی بہتر طریقے سے زندہ رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ اپنے لمبے اور سیدھے پتوں کے ساتھ کسی بھی کمرے میں ایک جدید اور سلیقے سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ اس کا منفرد ڈیزائن اور شکل آپ کے کمرے کے جمالیاتی حسن کو بڑھاتا ہے اور اسے مزید دلکش بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فضا کی نمی کو بڑھاتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ قدرتی طور پر ہوا میں نمی چھوڑتا ہے، جس سے خاص طور پر خشک موسمی حالات میں کمرے کی ہوا میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہ عمل آپ کے کمرے میں ایک معتدل اور آرام دہ ماحول پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیند کی کیفیت کو بہتر بناتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسنیک پلانٹ آپ کے کمرے میں نہ صرف فضا کو بہتر کرتا ہے بلکہ آپ کی نیند کی کیفیت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ کیونکہ رات کے وقت یہ پودا آکسیجن چھوڑتا ہے اور فضاء میں توازن پیدا کرتا ہے، جو بہتر نیند کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو جناب اسنیک پلانٹ نہ صرف آپ کے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ آپ کی صحت اور آرام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے مختلف فوائد کے سبب یہ آپ کے گھر کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ گھر میں یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں موڈ اور مزاج پر بہت اچھا اثر ڈالتی ہیں۔ تو اب وقت ہے کہ آپ بھی اس شاندار پودے کو اپنے لاؤنج یا بیڈروم کا حصہ بنائیں اور ان تمام فوائد کا فائدہ اٹھائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل، شہری زندگی میں آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی کثرت، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، اور صنعتی ترقی کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صرف ہمارے باہر کی فضا کو ہی متاثر نہیں کرتا، بلکہ ماحول کی آلودگی کا یہ اثر ہمارے گھروں میں بھی پڑتا ہے۔ آپ اپنے گھر میں کتنی ہی صفائی کریں، لیکن آپ کی داخلی ہوا میں آلودگی کا اثر برقرار رہتا ہے۔</strong></p>
<p>ہماری روزمرہ کی زندگی میں، ہم زیادہ تر وقت اپنے گھروں میں گزارتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچے، لہٰذا گھر میں ہوا کی کیفیت ہماری صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، زیادہ تر گھروں میں ہوا کا بہاؤ محدود ہوتا ہے اور قدرتی آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کریں۔</p>
<p>کیا آپ جانتے ہیں کہ ’اسنیک پلانٹ‘ آپ کے کمرے کی ہوا کو صاف کرنے میں کس قدر مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ ’اسنیک پلانٹ‘ یا سانپ کا پودا ایک منفرد اور فائدے مند پودا ہے جو نہ صرف آپ کے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے، بلکہ آپ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔۔ اس کے فوائد کے بارے میں جان کر آپ اپنی زندگی میں ایک نئی تازگی محسوس کریں گے۔</p>
<p>آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ منفرد پودا کیسے آپ کے کمرے کو خوشگوار اور صحت مند بنا سکتا ہے، اور آپ کی نیند، صحت، اور خوشی میں اضافہ کر سکتا ہے۔</p>
<p><strong>فضائی معیار کو بہتر بناتا ہے</strong></p>
<p>اسنیک پلانٹ قدرتی طور پر ہوا کی صفائی کرتا ہے۔ یہ پودا کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور آکسیجن خارج کرتا ہے، جس سے کمرے کی ہوا صاف اور بہتر ہوتی ہے۔ یہ فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر انڈور اسپیسز میں جہاں تازہ ہوا کا گزرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>اسنیک پلانٹ رات کو بھی آکسیجن چھوڑتا ہے، لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دن اور رات دونوں وقت مختلف طریقوں سے آکسیجن اور دیگر گیسوں کا تبادلہ کرتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر پودے دن کے وقت قدرتی طور پر فوٹوسنتھیسز کرتے ہیں، جس میں وہ سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اسنیک پلانٹ میں ایک خاصیت ہے جسے ’کریسٹوینن سائیکل‘ کہتے ہیں۔ یہ عمل پودوں کو رات کے وقت بھی آکسیجن چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ دوسرے پودے رات کو صرف آکسیجن کو جذب کرتے ہیں۔</p>
<p>یعنی، اسنیک پلانٹ دن اور رات دونوں وقت آکسیجن خارج کرتا  ہے، اور اس کی یہ خصوصیت اسے خاص طور پر کمرے یا بیڈروم میں رکھنے کے لیے فائدے مند بناتی ہے کیونکہ یہ رات کے وقت بھی ہوا کو تازہ اور صحت مند رکھتا ہے، جبکہ دوسرے پودے رات کو آکسیجن کا اخراج نہیں کرتے۔</p>
<p><strong>کم دیکھ بھال کی ضرورت</strong></p>
<p>اسنیک پلانٹ کم دیکھ بھال کا تقاضا کرتا ہے، جو اسے ایک مثالی پودا بناتا ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں وقت کی کمی یا پودوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتیں۔ اسے زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ کم روشنی میں بھی بہتر طریقے سے زندہ رہتا ہے۔</p>
<p><strong>کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے</strong></p>
<p>اسنیک پلانٹ اپنے لمبے اور سیدھے پتوں کے ساتھ کسی بھی کمرے میں ایک جدید اور سلیقے سے بھرپور دکھائی دیتا ہے۔ اس کا منفرد ڈیزائن اور شکل آپ کے کمرے کے جمالیاتی حسن کو بڑھاتا ہے اور اسے مزید دلکش بناتا ہے۔</p>
<p><strong>فضا کی نمی کو بڑھاتا ہے</strong></p>
<p>اسنیک پلانٹ قدرتی طور پر ہوا میں نمی چھوڑتا ہے، جس سے خاص طور پر خشک موسمی حالات میں کمرے کی ہوا میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہ عمل آپ کے کمرے میں ایک معتدل اور آرام دہ ماحول پیدا کرتا ہے۔</p>
<p><strong>نیند کی کیفیت کو بہتر بناتا ہے</strong></p>
<p>اسنیک پلانٹ آپ کے کمرے میں نہ صرف فضا کو بہتر کرتا ہے بلکہ آپ کی نیند کی کیفیت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ کیونکہ رات کے وقت یہ پودا آکسیجن چھوڑتا ہے اور فضاء میں توازن پیدا کرتا ہے، جو بہتر نیند کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>تو جناب اسنیک پلانٹ نہ صرف آپ کے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ آپ کی صحت اور آرام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس کے مختلف فوائد کے سبب یہ آپ کے گھر کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ گھر میں یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں موڈ اور مزاج پر بہت اچھا اثر ڈالتی ہیں۔ تو اب وقت ہے کہ آپ بھی اس شاندار پودے کو اپنے لاؤنج یا بیڈروم کا حصہ بنائیں اور ان تمام فوائد کا فائدہ اٹھائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30459208</guid>
      <pubDate>Mon, 05 May 2025 15:32:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/0515181428254ba.webp?r=151824" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/0515181428254ba.webp?r=151824"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دال کے بنا ’دال‘۔۔۔؟ نئی ریسیپی نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30452225/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دال پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی گھروں کی ایک اہم ڈش ہے جس کی مختلف اقسام ہر علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ دال تڑکہ سے لے کر دال مکھنی تک، ہر قسم کا ذائقہ اور ساخت منفرد ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی دال بغیر دال کے آزمائی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے آپ کو متعارف کراتے ہیں ”آلو کی دال“ سے، جو ایک کم معروف مگر لذیذ ڈش ہے جو بالکل آلو سے تیار کی جاتی ہے اور روایتی دال کی طرح ہی دل کو تسکین دینے والا اور لذیذ ذائقہ پیش کرتی ہے۔ اس منفرد ریسیپی کو انسٹاگرام پیج @cookwithshivangi_ نے شیئر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ بھی یہ بنانا چاہتے ہیں؟ تو پڑھتے رہیے!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو کی دال کیا ہے؟ اور کیوں اس کو آزمانا چاہئے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلو کی دال ایک منفرد آلو پر مبنی سالن ہے جو روایتی دال کی نقل لگتا ہے، لیکن بغیر دال استعمال کیے۔ اس کے بھرپور ذائقے اور کریمی ساخت کی وجہ سے یہ ایک تسکین بخش اور لذیذ ڈش بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو کی دال صحت بخش ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ آلو کی دال بنیادی طور پر آلو سے تیار ہوتی ہے، اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔ تاہم، آپ اس کو زیادہ صحت بخش بنا سکتے ہیں اگر کم تیل استعمال کریں اور اسے فائبر سے بھرپور غذاؤں جیسے کہ گندم کی روٹی یا براؤن چاول کے ساتھ پیش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آلو کی دال بغیر آلو اُبالے بنائی جا سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں، آپ آلو کو سالن میں براہ راست پکاکر بھی تیار کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں الگ سے اُبالا جائے۔ بس انہیں باریک کاٹ کر سالن میں ڈالیں اور مصالحے کے مکسچر میں اُبلنے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو کی دال کے ساتھ کیا پیش کیا جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلو کی دال کو اُبلے چاول، زیرا چاول یا روٹی کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ آپ اسے کرسپ پاپڑ، پسندیدہ اچار اور تازہ دہی کے ساتھ بھی مکمل کھانے کے طور پر کھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو کی دال بنانے کا طریقہ، گھر پر کیسے بنائیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;سب سے پہلے آلو اُبال کر اچھی طرح میش کر لیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اب اُبلے ہوئے پانی کا اضافہ کریں اور اچھی طرح مکس کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تڑکے کے لیے، کڑاہی میں سرسوں کا تیل گرم کریں، پھر اس میں سرسوں کے بیج، میتھی، ہینگ، تیز پتے، اور خشک لال مرچیں ڈال کر اچھی طرح بھونیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پھر کٹی ہوئی پیاز اور سبز مرچیں ڈال کر سنہری ہونے تک بھونیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جب پیاز سنہری ہو جائے، اس میں کُٹا ہوا ادرک، لہسن، اور مرچیں ڈالیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پھر ہلدی اور لال مرچ پاؤڈر ڈالیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اب میش آلو کا مکسچر ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اگر ضرورت ہو تو مزید اُبلے ہوئے پانی کا اضافہ کریں تاکہ سالن کی ساخت مناسب ہو سکے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اس کو 10-15 منٹ تک اُبلنے دیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;آخر میں گرم مصالحہ اور تازہ دھنیا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔ گرم گرم پیش کریں!&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;آلو کی دال ایک آسان مگر مزیدار نسخہ ہے جو آپ کے دوپہر یا رات کے کھانے کو مزید دلچسپ بنا دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دال پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی گھروں کی ایک اہم ڈش ہے جس کی مختلف اقسام ہر علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ دال تڑکہ سے لے کر دال مکھنی تک، ہر قسم کا ذائقہ اور ساخت منفرد ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی دال بغیر دال کے آزمائی ہے؟</strong></p>
<p>آئیے آپ کو متعارف کراتے ہیں ”آلو کی دال“ سے، جو ایک کم معروف مگر لذیذ ڈش ہے جو بالکل آلو سے تیار کی جاتی ہے اور روایتی دال کی طرح ہی دل کو تسکین دینے والا اور لذیذ ذائقہ پیش کرتی ہے۔ اس منفرد ریسیپی کو انسٹاگرام پیج @cookwithshivangi_ نے شیئر کیا۔</p>
<p>کیا آپ بھی یہ بنانا چاہتے ہیں؟ تو پڑھتے رہیے!</p>
<p><strong>آلو کی دال کیا ہے؟ اور کیوں اس کو آزمانا چاہئے؟</strong></p>
<p>آلو کی دال ایک منفرد آلو پر مبنی سالن ہے جو روایتی دال کی نقل لگتا ہے، لیکن بغیر دال استعمال کیے۔ اس کے بھرپور ذائقے اور کریمی ساخت کی وجہ سے یہ ایک تسکین بخش اور لذیذ ڈش بنتی ہے۔</p>
<p><strong>آلو کی دال صحت بخش ہے؟</strong></p>
<p>کیونکہ آلو کی دال بنیادی طور پر آلو سے تیار ہوتی ہے، اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور پروٹین کی کمی ہوتی ہے۔ تاہم، آپ اس کو زیادہ صحت بخش بنا سکتے ہیں اگر کم تیل استعمال کریں اور اسے فائبر سے بھرپور غذاؤں جیسے کہ گندم کی روٹی یا براؤن چاول کے ساتھ پیش کریں۔</p>
<p><strong>کیا آلو کی دال بغیر آلو اُبالے بنائی جا سکتی ہے؟</strong></p>
<p>جی ہاں، آپ آلو کو سالن میں براہ راست پکاکر بھی تیار کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں الگ سے اُبالا جائے۔ بس انہیں باریک کاٹ کر سالن میں ڈالیں اور مصالحے کے مکسچر میں اُبلنے دیں۔</p>
<p><strong>آلو کی دال کے ساتھ کیا پیش کیا جائے؟</strong></p>
<p>آلو کی دال کو اُبلے چاول، زیرا چاول یا روٹی کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔ آپ اسے کرسپ پاپڑ، پسندیدہ اچار اور تازہ دہی کے ساتھ بھی مکمل کھانے کے طور پر کھا سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>آلو کی دال بنانے کا طریقہ، گھر پر کیسے بنائیں؟</strong></p>
<ol>
<li>سب سے پہلے آلو اُبال کر اچھی طرح میش کر لیں۔</li>
<li>اب اُبلے ہوئے پانی کا اضافہ کریں اور اچھی طرح مکس کریں۔</li>
<li>تڑکے کے لیے، کڑاہی میں سرسوں کا تیل گرم کریں، پھر اس میں سرسوں کے بیج، میتھی، ہینگ، تیز پتے، اور خشک لال مرچیں ڈال کر اچھی طرح بھونیں۔</li>
<li>پھر کٹی ہوئی پیاز اور سبز مرچیں ڈال کر سنہری ہونے تک بھونیں۔</li>
<li>جب پیاز سنہری ہو جائے، اس میں کُٹا ہوا ادرک، لہسن، اور مرچیں ڈالیں۔</li>
<li>پھر ہلدی اور لال مرچ پاؤڈر ڈالیں۔</li>
<li>اب میش آلو کا مکسچر ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔</li>
<li>اگر ضرورت ہو تو مزید اُبلے ہوئے پانی کا اضافہ کریں تاکہ سالن کی ساخت مناسب ہو سکے۔</li>
<li>اس کو 10-15 منٹ تک اُبلنے دیں۔</li>
<li>آخر میں گرم مصالحہ اور تازہ دھنیا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔ گرم گرم پیش کریں!</li>
</ol>
<p>آلو کی دال ایک آسان مگر مزیدار نسخہ ہے جو آپ کے دوپہر یا رات کے کھانے کو مزید دلچسپ بنا دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30452225</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Apr 2025 11:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/0611083159fa615.webp?r=110847" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/0611083159fa615.webp?r=110847"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے وزن میں 30 پاؤنڈ کی حیرت انگیز کمی!!! راز کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30446943/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکریٹری برائے صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تقریباً 30 پاؤنڈ (13 کلو) وزن کم کر لیا ہے، حالانکہ ان کی جنک فوڈ کی محبت اب بھی برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کے ساتھ فلوریڈا کے ایک اسٹیک اینڈ شیک ریسٹورنٹ میں گفتگو کے دوران، کینیڈی نے کہا، ’میں نے کل ہی انہیں دیکھا، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے 30 پاؤنڈ وزن کم کیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینیٹی نے اس بات پر حیرانی ظاہر کرنے کے بجائے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ’وہ واقعی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اب اگر وہ برگر کھاتے بھی ہیں تو بغیر بن کے کھاتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈی نے جواب میں کہا، ’اوہ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی خوراک میں واقعی تبدیلی لا رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کے-وزن-میں-کمی-کا-راز-محنت-یا-مصروفیت" href="#ٹرمپ-کے-وزن-میں-کمی-کا-راز-محنت-یا-مصروفیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کے وزن میں کمی کا راز: محنت یا مصروفیت؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنی خوراک کے بارے میں کم ہی بات کی ہے، لیکن جب وہ اگست 2023 میں جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی جیل میں اپنی مگ شاٹ کے لیے پیش ہوئے، تو ان کا وزن 215 پاؤنڈ درج کیا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں ایک اور انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’کام کے ذریعے‘ 20 پاؤنڈ کم کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا، ’میں اتنا مصروف رہا ہوں کہ زیادہ کھانے کا وقت نہیں ملتا، میں عام لوگوں کی طرح بیٹھ کر کھانے نہیں کھا سکتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فاسٹ-فوڈ-سے-محبت-برقرار-مگر-وزن-کم-کیسے-ہوا" href="#فاسٹ-فوڈ-سے-محبت-برقرار-مگر-وزن-کم-کیسے-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فاسٹ فوڈ سے محبت برقرار، مگر وزن کم کیسے ہوا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کینیڈی اور ہینیٹی نے گفتگو کے دوران ٹرمپ کی مشہور جنک فوڈ عادات پر بھی تبصرہ کیا، جس میں کے ایف سی، پیزا، ڈائیٹ کوک، اور میکڈونلڈز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں کلیمسن ٹائیگرز فٹبال ٹیم کے لیے فاسٹ فوڈ کا شاہی ضیافت سجایا تھا اور پنسلوانیا میں میکڈونلڈز کے ایک آؤٹ لیٹ پر خود فرائیر پر کام کرتے اور ڈرائیو تھرو میں آرڈرز لیتے دیکھے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے مذاق کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ کو میکڈونلڈز پسند نہیں، تو آپ کو ٹرمپ کے جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہیے!‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب انہوں نے اس مشہور تصویر کا حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ، ایلون مسک، ٹرمپ جونیئر اور امریکی اسپیکر مائیک جانسن ایک جہاز میں بیگ میکس اور چکن نگٹس کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصویر شاید ٹرمپ کی جانب سے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے خلاف ایک ہلکا سا انتقامی وار تھی، کیونکہ کینیڈی نے کچھ دن پہلے ہی ایک پوڈکاسٹ میں ٹرمپ کی خوراک کو ”زہر“ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈی نے کہا تھا، ’وہ جو کچھ کھاتے ہیں، وہ بہت نقصان دہ ہوتا ہے، یہ انتخابی مہم کی خوراک بھی نہیں، بلکہ ایک خطرناک غذا ہے!‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کینیڈی-کی-صحت-سے-متعلق-پالیسیز" href="#کینیڈی-کی-صحت-سے-متعلق-پالیسیز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کینیڈی کی صحت سے متعلق پالیسیز&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہینیٹی نے انٹرویو میں یہ بھی پوچھا کہ کیا کینیڈی اپنے ”Make America Healthy Again“ ایجنڈے کے تحت چینی والے مشروبات پر پابندی لگائیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈی نے جواب دیا، ’میں انہیں لوگوں سے نہیں چھینوں گا، لیکن حکومت کو ان کی سبسڈی نہیں دینی چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان کے ایک اور متنازعہ بیان نے بحث چھیڑ دی جب انہوں نے خسرہ ویکسین کے نقصانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’یہ ویکسین ہر سال کچھ اموات کا سبب بنتی ہے اور انہی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جن سے خسرہ خود متاثر کرتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اصل-سوال-کیا-ٹرمپ-واقعی-صحت-مند-ہو-رہے-ہیں" href="#اصل-سوال-کیا-ٹرمپ-واقعی-صحت-مند-ہو-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اصل سوال: کیا ٹرمپ واقعی صحت مند ہو رہے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا وزن واقعی ان کی خوراک میں تبدیلی کے باعث کم ہوا ہے یا محض ان کی مصروفیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ایک چیز طے ہے—فاسٹ فوڈ کی محبت اور وزن میں کمی کا یہ امتزاج ہر کسی کو حیران کر رہا ہے!&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکریٹری برائے صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تقریباً 30 پاؤنڈ (13 کلو) وزن کم کر لیا ہے، حالانکہ ان کی جنک فوڈ کی محبت اب بھی برقرار ہے۔</strong></p>
<p>فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کے ساتھ فلوریڈا کے ایک اسٹیک اینڈ شیک ریسٹورنٹ میں گفتگو کے دوران، کینیڈی نے کہا، ’میں نے کل ہی انہیں دیکھا، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے 30 پاؤنڈ وزن کم کیا ہے۔‘</p>
<p>ہینیٹی نے اس بات پر حیرانی ظاہر کرنے کے بجائے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ’وہ واقعی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اب اگر وہ برگر کھاتے بھی ہیں تو بغیر بن کے کھاتے ہیں۔‘</p>
<p>کینیڈی نے جواب میں کہا، ’اوہ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی خوراک میں واقعی تبدیلی لا رہے ہیں۔‘</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کے-وزن-میں-کمی-کا-راز-محنت-یا-مصروفیت" href="#ٹرمپ-کے-وزن-میں-کمی-کا-راز-محنت-یا-مصروفیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹرمپ کے وزن میں کمی کا راز: محنت یا مصروفیت؟</strong></h3>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنی خوراک کے بارے میں کم ہی بات کی ہے، لیکن جب وہ اگست 2023 میں جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی جیل میں اپنی مگ شاٹ کے لیے پیش ہوئے، تو ان کا وزن 215 پاؤنڈ درج کیا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں ایک اور انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’کام کے ذریعے‘ 20 پاؤنڈ کم کر چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا، ’میں اتنا مصروف رہا ہوں کہ زیادہ کھانے کا وقت نہیں ملتا، میں عام لوگوں کی طرح بیٹھ کر کھانے نہیں کھا سکتا۔‘</p>
<h3><a id="فاسٹ-فوڈ-سے-محبت-برقرار-مگر-وزن-کم-کیسے-ہوا" href="#فاسٹ-فوڈ-سے-محبت-برقرار-مگر-وزن-کم-کیسے-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فاسٹ فوڈ سے محبت برقرار، مگر وزن کم کیسے ہوا؟</strong></h3>
<p>کینیڈی اور ہینیٹی نے گفتگو کے دوران ٹرمپ کی مشہور جنک فوڈ عادات پر بھی تبصرہ کیا، جس میں کے ایف سی، پیزا، ڈائیٹ کوک، اور میکڈونلڈز شامل ہیں۔</p>
<p>یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں کلیمسن ٹائیگرز فٹبال ٹیم کے لیے فاسٹ فوڈ کا شاہی ضیافت سجایا تھا اور پنسلوانیا میں میکڈونلڈز کے ایک آؤٹ لیٹ پر خود فرائیر پر کام کرتے اور ڈرائیو تھرو میں آرڈرز لیتے دیکھے گئے تھے۔</p>
<p>رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے مذاق کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ کو میکڈونلڈز پسند نہیں، تو آپ کو ٹرمپ کے جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہیے!‘</p>
<p>یہ بات اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب انہوں نے اس مشہور تصویر کا حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ، ایلون مسک، ٹرمپ جونیئر اور امریکی اسپیکر مائیک جانسن ایک جہاز میں بیگ میکس اور چکن نگٹس کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔</p>
<p>یہ تصویر شاید ٹرمپ کی جانب سے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے خلاف ایک ہلکا سا انتقامی وار تھی، کیونکہ کینیڈی نے کچھ دن پہلے ہی ایک پوڈکاسٹ میں ٹرمپ کی خوراک کو ”زہر“ قرار دیا تھا۔</p>
<p>کینیڈی نے کہا تھا، ’وہ جو کچھ کھاتے ہیں، وہ بہت نقصان دہ ہوتا ہے، یہ انتخابی مہم کی خوراک بھی نہیں، بلکہ ایک خطرناک غذا ہے!‘</p>
<h3><a id="کینیڈی-کی-صحت-سے-متعلق-پالیسیز" href="#کینیڈی-کی-صحت-سے-متعلق-پالیسیز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کینیڈی کی صحت سے متعلق پالیسیز</strong></h3>
<p>ہینیٹی نے انٹرویو میں یہ بھی پوچھا کہ کیا کینیڈی اپنے ”Make America Healthy Again“ ایجنڈے کے تحت چینی والے مشروبات پر پابندی لگائیں گے؟</p>
<p>کینیڈی نے جواب دیا، ’میں انہیں لوگوں سے نہیں چھینوں گا، لیکن حکومت کو ان کی سبسڈی نہیں دینی چاہیے۔‘</p>
<p>تاہم، ان کے ایک اور متنازعہ بیان نے بحث چھیڑ دی جب انہوں نے خسرہ ویکسین کے نقصانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’یہ ویکسین ہر سال کچھ اموات کا سبب بنتی ہے اور انہی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جن سے خسرہ خود متاثر کرتا ہے۔‘</p>
<h3><a id="اصل-سوال-کیا-ٹرمپ-واقعی-صحت-مند-ہو-رہے-ہیں" href="#اصل-سوال-کیا-ٹرمپ-واقعی-صحت-مند-ہو-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اصل سوال: کیا ٹرمپ واقعی صحت مند ہو رہے ہیں؟</strong></h3>
<p>یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا وزن واقعی ان کی خوراک میں تبدیلی کے باعث کم ہوا ہے یا محض ان کی مصروفیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ایک چیز طے ہے—فاسٹ فوڈ کی محبت اور وزن میں کمی کا یہ امتزاج ہر کسی کو حیران کر رہا ہے!</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30446943</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Mar 2025 09:55:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/1309545900d13db.webp?r=095543" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/1309545900d13db.webp?r=095543"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شارک ٹینک میں شامل معروف بزنس وومن نے ’زہریلے مینیجر‘ کی 5 نشانیاں بتا دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30442865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی برانڈ ”ماما ارتھ“ کی شریک بانی اور شارک ٹینک کیی سابق ’شارک“ غزل الگھ نے ”ٹاکسِک مینیجرز“ (زہریلے مینیجرز) کی پانچ اہم نشانیاں شیئر کی ہیں۔ ان کے مطابق، زہریلے مینیجرز پیداواری صلاحیت کے بجائے صرف کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزل الگھ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایسے مینیجرز ٹیلنٹ کی بجائے ایسے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو نظریات کو چیلنج کرنے اور جدت طرازی کرنے کے بجائے صرف حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزل کے مطابق ایسے مینیجرز سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، جس سے ٹیم کی ترقی سست ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ کمزور رہنما آراء سے ڈرتے ہیں اور مشکل بات چیت سے بچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزل الگھ کے مطابق، یہ پانچ نشانیاں ہیں جو آپ کو زہریلے مینیجرز کی شناخت میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کنٹرول-کے-لیے-خدمات-حاصل-کرنا" href="#کنٹرول-کے-لیے-خدمات-حاصل-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کنٹرول کے لیے خدمات حاصل کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;زہریلے مینیجرز ٹیلنٹ کی تلاش نہیں کرتے، وہ صرف فرمانبرداری چاہتے ہیں۔ وہ ایسے افراد کو ملازمت دیتے ہیں جو ان کا حکم ماننے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ مینیجرز مسائل حل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حوصلہ-شکنی-کرنے-والے" href="#حوصلہ-شکنی-کرنے-والے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;حوصلہ شکنی کرنے والے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ان کے ماتحت کام کرنے والے لوگ اپنے خیالات ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں، جو ٹیم کی ترقی کو روکتا ہے۔ حقیقی قیادت تجسس اور سوالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="منظوری-کا-انتظار" href="#منظوری-کا-انتظار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;منظوری کا انتظار&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایسا کلچر جہاں صرف مینیجر کی منظوری کو اہمیت دی جاتی ہے، جمود پیدا کرتی ہے۔ عظیم ٹیمیں نئے آئیڈیاز اور اختراعات کو فروغ دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="فیڈ-بیک-سے-ڈرنا" href="#فیڈ-بیک-سے-ڈرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فیڈ بیک سے ڈرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کمزور مینیجر رائے لینے سے بچتے ہیں، جبکہ مضبوط رہنما اپنے ٹیم سے پوچھتے ہیں، ’ہم کس طرح کام کو بہتر کر سکتے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہاں-میں-ہاں-ملانے-والے-لوگوں-کی-ٹیمیں-بنانا" href="#ہاں-میں-ہاں-ملانے-والے-لوگوں-کی-ٹیمیں-بنانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کی ٹیمیں بنانا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;غزل کے مطابق کامیابی ان لوگوں سے حاصل نہیں ہوتیں جو ہمیشہ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ یہ کامیابی متنوع ذہنوں سے حاصل ہوتی ہے جو چیلنج کرتے ہیں کہ کیا کام نہیں کر رہا اور اسے بہتر بنانے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزل الگھ نے اس پوسٹ میں یہ بھی بتایا کہ ہر کامیاب برانڈ کی ایک خاص خصوصیت ہوتی ہے، ایک ”دشمن“، جو مدمقابل نہیں ہوتا بلکہ ایک پست ذہنیت رکھتا ہے  اور برانڈ کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زہریلا-مینیجر-toxic-manager-کیا-ہوتا-ہے" href="#زہریلا-مینیجر-toxic-manager-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زہریلا مینیجر (Toxic Manager) کیا ہوتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مختصراً اور آسان الفاظ میں کہیں تو زہریلا مینیجر (Toxic Manager) ایک ایسا سربراہ ہوتا ہے جو اپنی قیادت کے انداز سے کام کی جگہ پر منفی اور دباؤ والا ماحول پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے مینیجرز کی خصوصیات میں بدتمیزی، غیر منصفانہ رویہ، ضرورت سے زیادہ کنٹرول، دوسروں کے کریڈٹ پر قبضہ کرنا، اور ملازمین کو نیچا دکھانے کی عادت شامل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زہریلے-مینیجر-کی-نشانیاں" href="#زہریلے-مینیجر-کی-نشانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;em&gt;زہریلے مینیجر کی نشانیاں&lt;/em&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنقید برائے تنقید:&lt;/strong&gt; ہمیشہ دوسروں کی غلطیاں نکالنا، لیکن اصلاح یا حوصلہ افزائی نہ کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تعریف سے گریز:&lt;/strong&gt; ملازمین کی محنت کو نظر انداز کرنا اور ان کی کامیابیوں کا اعتراف نہ کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دباؤ ڈالنا:&lt;/strong&gt; غیر ضروری ڈیڈ لائنز دینا، زیادہ کام کا بوجھ ڈالنا، اور غیر حقیقی توقعات رکھنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مائیکرو مینیجمنٹ:&lt;/strong&gt; ہر چھوٹے کام میں مداخلت کرنا اور ملازمین پر غیر ضروری کنٹرول رکھنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھوکہ اور سیاست:&lt;/strong&gt; اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنا، ٹیم میں تفریق پیدا کرنا اور سازشی ماحول بنانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذاتی حملے کرنا:&lt;/strong&gt; کام کے بجائے ملازمین کی شخصیت اور کردار پر تنقید کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دہشت اور خوف کا ماحول:&lt;/strong&gt; ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دینا یا ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زہریلے-مینیجرز-کے-اثرات" href="#زہریلے-مینیجرز-کے-اثرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زہریلے مینیجرز کے اثرات&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایسے مینیجرز کی وجہ سے کام کی جگہ پر دباؤ اور بے چینی میں اضافہ  ہوتا ہے، ملازمین کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیت میں کمی  پیدا ہوتی ہے، ٹیم ورک اور تعاون میں کمی  آتی ہے، ساتھ ہی ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور نوکری چھوڑنے کا رجحان  بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زہریلے-مینیجر-سے-نمٹنے-کے-طریقے" href="#زہریلے-مینیجر-سے-نمٹنے-کے-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زہریلے مینیجر سے نمٹنے کے طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اپنی حدود کا تعین کریں اور غیر ضروری دباؤ کو قبول نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی کامیابیوں اور کام کی تفصیلات ریکارڈ میں رکھیں تاکہ غلط الزامات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثبت رویہ برقرار رکھیں اور اپنے پیشہ ورانہ رویے پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صورت حال خراب ہو تو ایچ آر یا سینئر مینجمنٹ سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ممکن ہو تو بہتر اور مثبت ماحول والی نوکری کی تلاش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زہریلے مینیجرز نہ صرف ملازمین بلکہ پوری کمپنی کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایک اچھی قیادت وہی ہوتی ہے جو ملازمین کی عزت کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے، اور ایک مثبت اور پروڈکٹیو ماحول فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی برانڈ ”ماما ارتھ“ کی شریک بانی اور شارک ٹینک کیی سابق ’شارک“ غزل الگھ نے ”ٹاکسِک مینیجرز“ (زہریلے مینیجرز) کی پانچ اہم نشانیاں شیئر کی ہیں۔ ان کے مطابق، زہریلے مینیجرز پیداواری صلاحیت کے بجائے صرف کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔</strong></p>
<p>غزل الگھ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایسے مینیجرز ٹیلنٹ کی بجائے ایسے افراد کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو نظریات کو چیلنج کرنے اور جدت طرازی کرنے کے بجائے صرف حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔</p>
<p>غزل کے مطابق ایسے مینیجرز سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، جس سے ٹیم کی ترقی سست ہو جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کمزور رہنما آراء سے ڈرتے ہیں اور مشکل بات چیت سے بچتے ہیں۔</p>
<p>غزل الگھ کے مطابق، یہ پانچ نشانیاں ہیں جو آپ کو زہریلے مینیجرز کی شناخت میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<h3><a id="کنٹرول-کے-لیے-خدمات-حاصل-کرنا" href="#کنٹرول-کے-لیے-خدمات-حاصل-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کنٹرول کے لیے خدمات حاصل کرنا</strong></h3>
<p>زہریلے مینیجرز ٹیلنٹ کی تلاش نہیں کرتے، وہ صرف فرمانبرداری چاہتے ہیں۔ وہ ایسے افراد کو ملازمت دیتے ہیں جو ان کا حکم ماننے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ مینیجرز مسائل حل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<h3><a id="حوصلہ-شکنی-کرنے-والے" href="#حوصلہ-شکنی-کرنے-والے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>حوصلہ شکنی کرنے والے</strong></h3>
<p>ان کے ماتحت کام کرنے والے لوگ اپنے خیالات ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں، جو ٹیم کی ترقی کو روکتا ہے۔ حقیقی قیادت تجسس اور سوالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔</p>
<h3><a id="منظوری-کا-انتظار" href="#منظوری-کا-انتظار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>منظوری کا انتظار</strong></h3>
<p>ایسا کلچر جہاں صرف مینیجر کی منظوری کو اہمیت دی جاتی ہے، جمود پیدا کرتی ہے۔ عظیم ٹیمیں نئے آئیڈیاز اور اختراعات کو فروغ دیتی ہیں۔</p>
<h2><a id="فیڈ-بیک-سے-ڈرنا" href="#فیڈ-بیک-سے-ڈرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فیڈ بیک سے ڈرنا</strong></h2>
<p>کمزور مینیجر رائے لینے سے بچتے ہیں، جبکہ مضبوط رہنما اپنے ٹیم سے پوچھتے ہیں، ’ہم کس طرح کام کو بہتر کر سکتے ہیں؟‘</p>
<h3><a id="ہاں-میں-ہاں-ملانے-والے-لوگوں-کی-ٹیمیں-بنانا" href="#ہاں-میں-ہاں-ملانے-والے-لوگوں-کی-ٹیمیں-بنانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کی ٹیمیں بنانا</strong></h3>
<p>غزل کے مطابق کامیابی ان لوگوں سے حاصل نہیں ہوتیں جو ہمیشہ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ یہ کامیابی متنوع ذہنوں سے حاصل ہوتی ہے جو چیلنج کرتے ہیں کہ کیا کام نہیں کر رہا اور اسے بہتر بنانے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>غزل الگھ نے اس پوسٹ میں یہ بھی بتایا کہ ہر کامیاب برانڈ کی ایک خاص خصوصیت ہوتی ہے، ایک ”دشمن“، جو مدمقابل نہیں ہوتا بلکہ ایک پست ذہنیت رکھتا ہے  اور برانڈ کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔</p>
<h3><a id="زہریلا-مینیجر-toxic-manager-کیا-ہوتا-ہے" href="#زہریلا-مینیجر-toxic-manager-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زہریلا مینیجر (Toxic Manager) کیا ہوتا ہے؟</strong></h3>
<p>مختصراً اور آسان الفاظ میں کہیں تو زہریلا مینیجر (Toxic Manager) ایک ایسا سربراہ ہوتا ہے جو اپنی قیادت کے انداز سے کام کی جگہ پر منفی اور دباؤ والا ماحول پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ایسے مینیجرز کی خصوصیات میں بدتمیزی، غیر منصفانہ رویہ، ضرورت سے زیادہ کنٹرول، دوسروں کے کریڈٹ پر قبضہ کرنا، اور ملازمین کو نیچا دکھانے کی عادت شامل ہوتی ہیں۔</p>
<h3><a id="زہریلے-مینیجر-کی-نشانیاں" href="#زہریلے-مینیجر-کی-نشانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><em>زہریلے مینیجر کی نشانیاں</em></h3>
<p><strong>تنقید برائے تنقید:</strong> ہمیشہ دوسروں کی غلطیاں نکالنا، لیکن اصلاح یا حوصلہ افزائی نہ کرنا۔</p>
<p><strong>تعریف سے گریز:</strong> ملازمین کی محنت کو نظر انداز کرنا اور ان کی کامیابیوں کا اعتراف نہ کرنا۔</p>
<p><strong>دباؤ ڈالنا:</strong> غیر ضروری ڈیڈ لائنز دینا، زیادہ کام کا بوجھ ڈالنا، اور غیر حقیقی توقعات رکھنا۔</p>
<p><strong>مائیکرو مینیجمنٹ:</strong> ہر چھوٹے کام میں مداخلت کرنا اور ملازمین پر غیر ضروری کنٹرول رکھنا۔</p>
<p><strong>دھوکہ اور سیاست:</strong> اپنی ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنا، ٹیم میں تفریق پیدا کرنا اور سازشی ماحول بنانا۔</p>
<p><strong>ذاتی حملے کرنا:</strong> کام کے بجائے ملازمین کی شخصیت اور کردار پر تنقید کرنا۔</p>
<p><strong>دہشت اور خوف کا ماحول:</strong> ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دینا یا ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنا۔</p>
<h3><a id="زہریلے-مینیجرز-کے-اثرات" href="#زہریلے-مینیجرز-کے-اثرات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زہریلے مینیجرز کے اثرات</strong></h3>
<p>ایسے مینیجرز کی وجہ سے کام کی جگہ پر دباؤ اور بے چینی میں اضافہ  ہوتا ہے، ملازمین کی کارکردگی اور تخلیقی صلاحیت میں کمی  پیدا ہوتی ہے، ٹیم ورک اور تعاون میں کمی  آتی ہے، ساتھ ہی ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور نوکری چھوڑنے کا رجحان  بڑھ جاتا ہے۔</p>
<h3><a id="زہریلے-مینیجر-سے-نمٹنے-کے-طریقے" href="#زہریلے-مینیجر-سے-نمٹنے-کے-طریقے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زہریلے مینیجر سے نمٹنے کے طریقے</strong></h3>
<p>اپنی حدود کا تعین کریں اور غیر ضروری دباؤ کو قبول نہ کریں۔</p>
<p>اپنی کامیابیوں اور کام کی تفصیلات ریکارڈ میں رکھیں تاکہ غلط الزامات سے بچا جا سکے۔</p>
<p>مثبت رویہ برقرار رکھیں اور اپنے پیشہ ورانہ رویے پر توجہ دیں۔</p>
<p>اگر صورت حال خراب ہو تو ایچ آر یا سینئر مینجمنٹ سے رجوع کریں۔</p>
<p>اگر ممکن ہو تو بہتر اور مثبت ماحول والی نوکری کی تلاش کریں۔</p>
<p>زہریلے مینیجرز نہ صرف ملازمین بلکہ پوری کمپنی کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایک اچھی قیادت وہی ہوتی ہے جو ملازمین کی عزت کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے، اور ایک مثبت اور پروڈکٹیو ماحول فراہم کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30442865</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Feb 2025 11:16:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/22111605abd9879.jpg?r=111610" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/22111605abd9879.jpg?r=111610"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوکری کے پہلے دن بھاگ جانا، جین زی کا نیا رجحان ”کیرئیر کیٹ فشنگ“ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30442463/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں ملازمتوں کے حصول کا رجحان بدل رہا ہے، اور جین زی (جنریشن زیڈ) کے نوجوان ایک منفرد طریقہ اپنا رہے ہیں جسے ”کیرئیر کیٹ فشنگ“ کہا جا رہا ہے۔ اس طریقے میں امیدوار نوکری کے لیے درخواست دیتے ہیں، انٹرویو میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، ملازمت قبول بھی کر لیتے ہیں، لیکن پہلے ہی دن دفتر نہیں جاتے اور جاتے بھی ہیں تو پہلے دن کے بعد غائب ہوجاتے ہیں اس کے بعد کبھی نظر نہیں آتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/money/2025/feb/19/career-catfishing-why-gen-z-accept-job-offers-then-ghost-their-new-employers"&gt;”دی گارڈین“&lt;/a&gt; نے ایک تازہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 34 فیصد جین زی  امیدواروں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ حیرت انگیز طور پر 24 فیصد ملینیئلز، 11 فیصد جنریشن ایکس اور 7 فیصد بومرز بھی اسی رجحان کا حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایسا-کیوں-ہو-رہا-ہے" href="#ایسا-کیوں-ہو-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایسا کیوں ہو رہا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ رجحان نوکری کے پیچیدہ اور طویل بھرتی کے عمل کا ردعمل ہے۔ ملازمت کے متلاشی افراد کو اکثر 100 سے 200 درخواستیں بھیجنے کے بعد ایک آفر ملتی ہے، جس کے بعد کئی انٹرویوز اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر امیدوار کو بہتر موقع مل جائے یا وہ اپنی رائے بدل لے، تو وہ سیدھے طریقے سے انکار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ امیدوار ایسا اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ کمپنیوں کا رویہ بھی مثالی نہیں ہوتا۔کئی بار ادارے امیدواروں کو متعدد انٹرویوز کے بعد اچانک غائب ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ منتخب کیے گئے افراد سے بھی کوئی رابطہ نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گھوسٹ-جابز-اور-پروفیشنل-گھوسٹنگ" href="#گھوسٹ-جابز-اور-پروفیشنل-گھوسٹنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;”گھوسٹ جابز“ اور ”پروفیشنل گھوسٹنگ“&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک اور عنصر ”گھوسٹ جابز“ بھی ہے، جس میں کمپنیاں ایسی نوکریوں کے اشتہارات دیتی ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں ہوتیں۔ ایسا یا تو اپنی ترقی کا جھوٹا تاثر دینے کے لیے کیا جاتا ہے یا موجودہ ملازمین کو دباؤ میں رکھنے کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کیرئیر کیٹ فشنگ“ کمپنیوں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ ایک طرح کا انتقام بھی سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد کا ماننا ہے کہ جب ادارے خود ”پروفیشنل گھوسٹنگ“ کرتے ہیں، یعنی امیدواروں کو طویل مراحل میں ڈال کر اچانک غائب ہو جاتے ہیں، تو پھر انہیں بھی اسی کا سامنا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آگے-کیا-ہوگا" href="#آگے-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آگے کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو مستقبل میں ”گھوسٹ جابز“ کے لیے ”گھوسٹ ایمپلائز“ کا دور شروع ہو سکتا ہے، جہاں ادارے جعلی نوکریاں پیش کریں گے اور امیدوار انہیں قبول کر کے کبھی دفتر نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ کہنے کو تو یہ ایک مذاق لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی روزگار کا منظرنامہ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں ملازمتوں کے حصول کا رجحان بدل رہا ہے، اور جین زی (جنریشن زیڈ) کے نوجوان ایک منفرد طریقہ اپنا رہے ہیں جسے ”کیرئیر کیٹ فشنگ“ کہا جا رہا ہے۔ اس طریقے میں امیدوار نوکری کے لیے درخواست دیتے ہیں، انٹرویو میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، ملازمت قبول بھی کر لیتے ہیں، لیکن پہلے ہی دن دفتر نہیں جاتے اور جاتے بھی ہیں تو پہلے دن کے بعد غائب ہوجاتے ہیں اس کے بعد کبھی نظر نہیں آتے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/money/2025/feb/19/career-catfishing-why-gen-z-accept-job-offers-then-ghost-their-new-employers">”دی گارڈین“</a> نے ایک تازہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 34 فیصد جین زی  امیدواروں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ حیرت انگیز طور پر 24 فیصد ملینیئلز، 11 فیصد جنریشن ایکس اور 7 فیصد بومرز بھی اسی رجحان کا حصہ بن چکے ہیں۔</p>
<h3><a id="ایسا-کیوں-ہو-رہا-ہے" href="#ایسا-کیوں-ہو-رہا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایسا کیوں ہو رہا ہے؟</strong></h3>
<p>ماہرین کے مطابق یہ رجحان نوکری کے پیچیدہ اور طویل بھرتی کے عمل کا ردعمل ہے۔ ملازمت کے متلاشی افراد کو اکثر 100 سے 200 درخواستیں بھیجنے کے بعد ایک آفر ملتی ہے، جس کے بعد کئی انٹرویوز اور جانچ پڑتال سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر امیدوار کو بہتر موقع مل جائے یا وہ اپنی رائے بدل لے، تو وہ سیدھے طریقے سے انکار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔</p>
<p>کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ امیدوار ایسا اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ کمپنیوں کا رویہ بھی مثالی نہیں ہوتا۔کئی بار ادارے امیدواروں کو متعدد انٹرویوز کے بعد اچانک غائب ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ منتخب کیے گئے افراد سے بھی کوئی رابطہ نہیں کرتے۔</p>
<h3><a id="گھوسٹ-جابز-اور-پروفیشنل-گھوسٹنگ" href="#گھوسٹ-جابز-اور-پروفیشنل-گھوسٹنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>”گھوسٹ جابز“ اور ”پروفیشنل گھوسٹنگ“</strong></h3>
<p>ایک اور عنصر ”گھوسٹ جابز“ بھی ہے، جس میں کمپنیاں ایسی نوکریوں کے اشتہارات دیتی ہیں جو درحقیقت موجود ہی نہیں ہوتیں۔ ایسا یا تو اپنی ترقی کا جھوٹا تاثر دینے کے لیے کیا جاتا ہے یا موجودہ ملازمین کو دباؤ میں رکھنے کے لیے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کیرئیر کیٹ فشنگ“ کمپنیوں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ ایک طرح کا انتقام بھی سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>کچھ افراد کا ماننا ہے کہ جب ادارے خود ”پروفیشنل گھوسٹنگ“ کرتے ہیں، یعنی امیدواروں کو طویل مراحل میں ڈال کر اچانک غائب ہو جاتے ہیں، تو پھر انہیں بھی اسی کا سامنا کرنا چاہیے۔</p>
<h3><a id="آگے-کیا-ہوگا" href="#آگے-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آگے کیا ہوگا؟</strong></h3>
<p>اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو مستقبل میں ”گھوسٹ جابز“ کے لیے ”گھوسٹ ایمپلائز“ کا دور شروع ہو سکتا ہے، جہاں ادارے جعلی نوکریاں پیش کریں گے اور امیدوار انہیں قبول کر کے کبھی دفتر نہیں آئیں گے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ کہنے کو تو یہ ایک مذاق لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی روزگار کا منظرنامہ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30442463</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Feb 2025 13:28:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/201327536a574ae.webp?r=132830" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/201327536a574ae.webp?r=132830"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھریلو خواتین گھر کے لئے مالی منصوبہ بندی کس طرح کر سکتی ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30442035/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین شادی کے بعد جاب نہیں کرتیں، خاص طور پر وہ خواتین جو اچھی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بچوں کی پرورش، گھریلو معاملات کی دیکھ بھال، اور ایک پر سکون اور منظم گھر کی مثال قائم کرنا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، مالی استحکام بھی ایک اہم پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زندگی کے دیگر پہلوؤں کی طرح مالی معاملات میں بھی بات چیت اور سمجھداری کے ساتھ فیصلے کرنا ضروری ہیں۔ گھریلو خواتین، جو اکثر بجٹ بنانے اور اخراجات کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اگر اپنے شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مالی امور پر گفتگو کریں اور اپنی رائے مؤثر انداز میں پیش کریں تو وہ اپنے گھر کے مالی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے آئیے جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مالی معاملات پر بات چیت کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی منصوبہ بندی میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ کھل کر مالی امور پر گفتگو کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435715/"&gt;خواتین کی معاشی خودمختاری بڑھانے کے پانچ مؤثر طریقے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کی تیاری میں گھر کے ماہانہ اخراجات اور آمدنی پر بات کریں اور ایک واضح بجٹ بنائیں۔
مالی مقاصد یا ترجیحات طے کریں، بچت، سرمایہ کاری، اور ہنگامی فنڈز کے لیے مشترکہ اہداف مقرر کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات سامنے رکھیں اور ہر ماہ کے ضروری اور غیر ضروری اخراجات کی فہرست بنائیں تاکہ غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھریلو بجٹ کو منظم کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ مینجمنٹ ایک ایسی مہارت ہے جو خواتین کو گھریلو معیشت کو کامیابی سے چلانے میں مدد دیتی ہے۔
ضروری اور غیر ضروری اخراجات میں فرق کریں یہ سب سے اہم پہلو ہے۔  پہلے ضروری اخراجات (کھانے پینے، بچوں کی تعلیم، بلز) پورے کریں، پھر اضافی اخراجات پر غور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ اور سالانہ بجٹ تیار کریں، مختصر اور طویل مدتی مالی اہداف کا تعین کریں، جیسے بچوں کی تعلیم، گھر کی تزئین و آرائش، یا ہنگامی فنڈ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکاؤنٹس اور سیلز کا فائدہ اٹھائیں اور معلومات رکھیں، خریداری کے دوران بچت کے اصولوں کو مدنظر رکھیں تاکہ کم خرچ میں زیادہ فائدہ حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چھوٹی سطح پر بچت شروع کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاب نہ کرنے والی خواتین کے لیے سب سے مؤثر مالی حکمت عملی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
ہنگامی فنڈ  ضرور بنائیں، ہر ماہ تھوڑی سی رقم الگ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سہولت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیورات یا سونے میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے، اگر ممکن ہو تو بچت کو سونے یا چاندی میں تبدیل کریں، کیونکہ یہ وقت کے ساتھ بڑھنے والی سرمایہ کاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزمرہ کی چھوٹی بچتوں کو نظر انداز نہ کریں جیسے بجلی، پانی، اور گیس کے بلوں میں کمی، گھریلو سامان کی دانشمندانہ خریداری، اور غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنا طویل مدتی مالی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گھریلو آمدنی بڑھانے کے آسان طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ خواتین جاب نہیں کرتیں، لیکن وہ اپنے گھریلو مصروفیات کے ساتھ کچھ اضافی آمدنی حاصل کرنے کے طریقے اپنا سکتی ہیں، جیسے کہ، فری لانسنگ اور آن لائن کام، گھر بیٹھے آن لائن لکھائی، گرافک ڈیزائن، یا ٹیوشنز دے کر آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوم بیسڈ بزنس بھی کیا جاسکتا ہے اس پر ضرورغور کریں۔ کپڑوں کا چھوٹا کاروبار، ہوم بیکنگ، بیوٹی سروسز، یا آرٹ اینڈ کرافٹ کی فروخت کے ذریعے گھر سے کمائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب چینل یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ سے انکم میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اپنی مہارت یا تجربات کو یوٹیوب ویڈیوز یا انسٹاگرام پر شیئر کر کے پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی لاکھوں خواتین گھر بیٹھے ہزاروں نہیں لاکھوں کما رہی ہیں بس تھوڑی سی توجہ ، منصوبہ بندی اور طرزِزندگی میں تبدیلی کے ساتھ آپ بھی یہ بحسن وخوبی نہ صرف گھر کومینیج کرسکتی ہیں بلکہ گھرکا بجٹ اور مزید انکم کے ذرائع پیدا کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی تعلیم اور شعور کو فروغ دیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کسی کام میں مہارت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو ضرور حاصل کریں، یہ چھوٹے کورسز آن لائن بھی کروائے جاتے ہیں لہذا مالیاتی معاملات میں متعلقہ یا جس میں آپ دلچسپی رکھتی ہیں ہنر حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30440863/"&gt;خواتین کے لئے بنائے گئے قوانین پر مکمل عمل نہیں ہورہا ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ اور انویسٹمنٹ سیکھیں، تاکہ مختلف مالیاتی منصوبوں، بچت اکاؤنٹس، اور انویسٹمنٹ کے بارے میں جانیں تاکہ مالی طور پر خود مختار ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس اور ریٹائرمنٹ پلاننگ بہت اہم ہے، شوہر کے ساتھ مل کر انشورنس یا پنشن اسکیم میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بڑھاپے میں مالی مشکلات نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل ایپس اور ٹولز کا استعمال کریں اور بجٹ پلاننگ اور اخراجات کی نگرانی کے لیے جدید ایپس سے فائدہ اٹھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی استحکام کے لیے ضروری نہیں کہ صرف کمایا جائے بلکہ گھر پر رہ کر خواتین بہترین مالی منصوبہ بندی، خرچ میں احتیاط، اور دانشمندانہ بچت کرکے ایک خوشحال زندگی سے لطف اندوز ہوسکتی ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مل کر سمجھداری سے بجٹ تیار کریں، بچت کے اصولوں پر عمل کریں، اور اگر ممکن ہو تو گھریلو سطح پر کچھ اضافی آمدنی کے ذرائع پیدا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر خواتین ان اصولوں کو اپنائیں، تو وہ اپنے گھر کو مالی طور پر مستحکم، پرسکون اور خوشحال جگہ بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین شادی کے بعد جاب نہیں کرتیں، خاص طور پر وہ خواتین جو اچھی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بچوں کی پرورش، گھریلو معاملات کی دیکھ بھال، اور ایک پر سکون اور منظم گھر کی مثال قائم کرنا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، مالی استحکام بھی ایک اہم پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔</strong></p>
<p>زندگی کے دیگر پہلوؤں کی طرح مالی معاملات میں بھی بات چیت اور سمجھداری کے ساتھ فیصلے کرنا ضروری ہیں۔ گھریلو خواتین، جو اکثر بجٹ بنانے اور اخراجات کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اگر اپنے شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مالی امور پر گفتگو کریں اور اپنی رائے مؤثر انداز میں پیش کریں تو وہ اپنے گھر کے مالی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے آئیے جانتے ہیں۔</p>
<p><strong>شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مالی معاملات پر بات چیت کریں</strong></p>
<p>مالی منصوبہ بندی میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ کھل کر مالی امور پر گفتگو کی جائے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30435715/">خواتین کی معاشی خودمختاری بڑھانے کے پانچ مؤثر طریقے</a></strong></p>
<p>بجٹ کی تیاری میں گھر کے ماہانہ اخراجات اور آمدنی پر بات کریں اور ایک واضح بجٹ بنائیں۔
مالی مقاصد یا ترجیحات طے کریں، بچت، سرمایہ کاری، اور ہنگامی فنڈز کے لیے مشترکہ اہداف مقرر کریں۔</p>
<p>آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات سامنے رکھیں اور ہر ماہ کے ضروری اور غیر ضروری اخراجات کی فہرست بنائیں تاکہ غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p><strong>گھریلو بجٹ کو منظم کریں</strong></p>
<p>بجٹ مینجمنٹ ایک ایسی مہارت ہے جو خواتین کو گھریلو معیشت کو کامیابی سے چلانے میں مدد دیتی ہے۔
ضروری اور غیر ضروری اخراجات میں فرق کریں یہ سب سے اہم پہلو ہے۔  پہلے ضروری اخراجات (کھانے پینے، بچوں کی تعلیم، بلز) پورے کریں، پھر اضافی اخراجات پر غور کریں۔</p>
<p>ماہانہ اور سالانہ بجٹ تیار کریں، مختصر اور طویل مدتی مالی اہداف کا تعین کریں، جیسے بچوں کی تعلیم، گھر کی تزئین و آرائش، یا ہنگامی فنڈ۔</p>
<p>ڈسکاؤنٹس اور سیلز کا فائدہ اٹھائیں اور معلومات رکھیں، خریداری کے دوران بچت کے اصولوں کو مدنظر رکھیں تاکہ کم خرچ میں زیادہ فائدہ حاصل ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>چھوٹی سطح پر بچت شروع کریں</strong></p>
<p>جاب نہ کرنے والی خواتین کے لیے سب سے مؤثر مالی حکمت عملی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
ہنگامی فنڈ  ضرور بنائیں، ہر ماہ تھوڑی سی رقم الگ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سہولت ہو۔</p>
<p>زیورات یا سونے میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے، اگر ممکن ہو تو بچت کو سونے یا چاندی میں تبدیل کریں، کیونکہ یہ وقت کے ساتھ بڑھنے والی سرمایہ کاری ہے۔</p>
<p>روزمرہ کی چھوٹی بچتوں کو نظر انداز نہ کریں جیسے بجلی، پانی، اور گیس کے بلوں میں کمی، گھریلو سامان کی دانشمندانہ خریداری، اور غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنا طویل مدتی مالی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>گھریلو آمدنی بڑھانے کے آسان طریقے</strong></p>
<p>اگرچہ یہ خواتین جاب نہیں کرتیں، لیکن وہ اپنے گھریلو مصروفیات کے ساتھ کچھ اضافی آمدنی حاصل کرنے کے طریقے اپنا سکتی ہیں، جیسے کہ، فری لانسنگ اور آن لائن کام، گھر بیٹھے آن لائن لکھائی، گرافک ڈیزائن، یا ٹیوشنز دے کر آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ہوم بیسڈ بزنس بھی کیا جاسکتا ہے اس پر ضرورغور کریں۔ کپڑوں کا چھوٹا کاروبار، ہوم بیکنگ، بیوٹی سروسز، یا آرٹ اینڈ کرافٹ کی فروخت کے ذریعے گھر سے کمائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>یوٹیوب چینل یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ سے انکم میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اپنی مہارت یا تجربات کو یوٹیوب ویڈیوز یا انسٹاگرام پر شیئر کر کے پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>آج بھی لاکھوں خواتین گھر بیٹھے ہزاروں نہیں لاکھوں کما رہی ہیں بس تھوڑی سی توجہ ، منصوبہ بندی اور طرزِزندگی میں تبدیلی کے ساتھ آپ بھی یہ بحسن وخوبی نہ صرف گھر کومینیج کرسکتی ہیں بلکہ گھرکا بجٹ اور مزید انکم کے ذرائع پیدا کرسکتی ہیں۔</p>
<p><strong>مالی تعلیم اور شعور کو فروغ دیں</strong></p>
<p>اگر آپ کسی کام میں مہارت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو ضرور حاصل کریں، یہ چھوٹے کورسز آن لائن بھی کروائے جاتے ہیں لہذا مالیاتی معاملات میں متعلقہ یا جس میں آپ دلچسپی رکھتی ہیں ہنر حاصل کریں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30440863/">خواتین کے لئے بنائے گئے قوانین پر مکمل عمل نہیں ہورہا ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ</a></strong></p>
<p>بینکنگ اور انویسٹمنٹ سیکھیں، تاکہ مختلف مالیاتی منصوبوں، بچت اکاؤنٹس، اور انویسٹمنٹ کے بارے میں جانیں تاکہ مالی طور پر خود مختار ہو سکیں۔</p>
<p>انشورنس اور ریٹائرمنٹ پلاننگ بہت اہم ہے، شوہر کے ساتھ مل کر انشورنس یا پنشن اسکیم میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بڑھاپے میں مالی مشکلات نہ آئیں۔</p>
<p>موبائل ایپس اور ٹولز کا استعمال کریں اور بجٹ پلاننگ اور اخراجات کی نگرانی کے لیے جدید ایپس سے فائدہ اٹھائیں۔</p>
<p>مالی استحکام کے لیے ضروری نہیں کہ صرف کمایا جائے بلکہ گھر پر رہ کر خواتین بہترین مالی منصوبہ بندی، خرچ میں احتیاط، اور دانشمندانہ بچت کرکے ایک خوشحال زندگی سے لطف اندوز ہوسکتی ہیں-</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لہٰذا شوہر یا گھر کے سربراہ کے ساتھ مل کر سمجھداری سے بجٹ تیار کریں، بچت کے اصولوں پر عمل کریں، اور اگر ممکن ہو تو گھریلو سطح پر کچھ اضافی آمدنی کے ذرائع پیدا کریں۔</p>
<p>اگر خواتین ان اصولوں کو اپنائیں، تو وہ اپنے گھر کو مالی طور پر مستحکم، پرسکون اور خوشحال جگہ بنا سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30442035</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Feb 2025 18:02:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/18152626a24845a.webp?r=152643" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/18152626a24845a.webp?r=152643"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سماجی دباؤ اور خواہشات، مردوں میں ڈپریشن کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30440330/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی معاشرہ مرد کو ہمیشہ سے ایک مضبوط، نڈر، اور کفیل کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ایک مرد کے لیے زندگی کی دوڑ میں کامیابی محض ایک خواہش نہیں، بلکہ ایک سماجی فرض سمجھا جاتا ہے۔ آج کا مرد شدید معاشی اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ مردوں کو جذباتی، سماجی، اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ تاہم، یہ مسئلہ اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ مردوں کے جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ٹی وی کے مارننگ شو ”آج پاکستان“ میں ’سماجی دباؤ اور خواہشات، مردوں میں ڈپریشن کی بڑی وجوہات‘ پر بات کی گئی۔ جس میں پروگرام کی میزبان سدرہ اقبال نے پینلسٹ سے بھر پور سوالات کئے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے ان کی آراء جاننے کے لئے تفصیلی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30413696/"&gt;خواتین کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ دل کے دورے کیوں پڑتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مردوں کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ’مرد روتے نہیں‘ اور ’مضبوط رہنا ان کی ذمہ داری ہے۔‘ اس سوچ نے مردوں کو مزید اندرونی طور پر اضطراب، پریشانی، اور تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ امبرین عسکری (ماہر تعلیم) اورعافیہ ابراہیم (ماہر نفسیات) نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارننگ شو ’آج پاکستان‘ میں میزبان سدرہ اقبال نے اس حوالے سے کہا، ’ہم خواتین کو ایک نرم گوشہ دیتے ہیں، لیکن مردوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہر حال میں مضبوط رہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ مردوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ مرد اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ انہیں کمزور سمجھا جانے کا خوف ہوتا ہے۔ نتیجتاً، وہ اپنے اندر ہی اندر ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں، جو بعد میں غصے، چڑچڑاہٹ، اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے سنگین نتائج کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حالیہ معاشی بحران نے مردوں کے لیے مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ سدرہ اقبال نے کہا ’ہم نے گزشتہ برسوں میں بے روزگاری کی بلند ترین شرح دیکھی ہے، کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں، اور نوکری کی غیر یقینی صورتحال مردوں کے ذہنوں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خوف کہ نوکری ختم ہو جائے گی، کاروبار بند ہو جائے گا، یا گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے، مردوں کو مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ماہر تعلیم امبرین عسکری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے مرد اپنا مسئلہ گھر میں بتانے سے گریز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عمران (چیف ڈیجیٹل آفیسر) نے کہا کہ گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے کے مطابق، ملک میں 17 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں، لیکن مردوں میں یہ مسئلہ زیادہ گہرا ہے کیونکہ وہ مدد لینے سے کتراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانی توقعات اور کفیل ہونے کا دباؤ بہت بڑھتا جارہا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹرعمران نے ایک واقعہ بھی شئیر کیا اور کہا کہ لائف پارٹنر یا بیوی کو بہت زیادہ مددگار اور شوہر کو سمجھنے والا ہونا چاہیے -&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی معاشرے میں ایک مرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بیوی بچوں بلکہ والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی بھی مالی کفالت کرے۔ اس دباؤ کے تحت وہ اپنی خواہشات اور جذبات کو دبانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنے مسائل کسی سے شیئر نہیں کرتا تو اس کا ذہنی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے، جس کا اثر اس کے رویے اور صحت پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/166537"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم اس مسئلے کے حل کے لیے رویوں اور خاندانی سمجھ بوجھ پر زور دیا- اور کہا کہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی بہت ضروری ہے- مرد بھی جذبات رکھتے ہیں، اور انہیں اپنے احساسات کے اظہار کا پورا حق ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ صرف خواتین کو جذباتی سہارا دیا جائے اور مرد ہر حال میں مضبوط رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مردوں کے لیے ایک محبت بھرا اور سکون بخش گھریلو ماحول ضروری ہے، جہاں وہ اپنے مسائل پر اپنے جیون ساتھی سے بات کرسکیں اور انہیں جذباتی طور پر سپورٹ کیا جائے۔ یاد رکھیں مردوں کے لئے سماجی دباؤ ایک خاموش قاتل سے کم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30362539/"&gt;مرد مظلوم ہوتے ہیں یا خواتین، جذبات سے کھیلنے کا ذمہ دار کون ؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مردوں کی ذہنی صحت ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک متوازن اور صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں مردوں کے جذباتی، سماجی، اور نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کو سمجھنا ہوگا اور ان کے ذہنی دباؤ میں ان کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ گھر اور روزگار کٓے معاملات سے بہ حسن و خوبی نمٹا جاسکے-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مردوں میں بھی ذہنی صحت کے حوالے سے یہ آگاہی پیدا کرنی ہوگی تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی معاشرہ مرد کو ہمیشہ سے ایک مضبوط، نڈر، اور کفیل کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ایک مرد کے لیے زندگی کی دوڑ میں کامیابی محض ایک خواہش نہیں، بلکہ ایک سماجی فرض سمجھا جاتا ہے۔ آج کا مرد شدید معاشی اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہے</strong></p>
<p>یہی وجہ ہے کہ مردوں کو جذباتی، سماجی، اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ تاہم، یہ مسئلہ اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ مردوں کے جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔</p>
<p>آج ٹی وی کے مارننگ شو ”آج پاکستان“ میں ’سماجی دباؤ اور خواہشات، مردوں میں ڈپریشن کی بڑی وجوہات‘ پر بات کی گئی۔ جس میں پروگرام کی میزبان سدرہ اقبال نے پینلسٹ سے بھر پور سوالات کئے اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے ان کی آراء جاننے کے لئے تفصیلی گفتگو کی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30413696/">خواتین کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ دل کے دورے کیوں پڑتے ہیں؟</a></strong></p>
<p>پاکستانی مردوں کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ’مرد روتے نہیں‘ اور ’مضبوط رہنا ان کی ذمہ داری ہے۔‘ اس سوچ نے مردوں کو مزید اندرونی طور پر اضطراب، پریشانی، اور تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ امبرین عسکری (ماہر تعلیم) اورعافیہ ابراہیم (ماہر نفسیات) نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا-</p>
<p>مارننگ شو ’آج پاکستان‘ میں میزبان سدرہ اقبال نے اس حوالے سے کہا، ’ہم خواتین کو ایک نرم گوشہ دیتے ہیں، لیکن مردوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہر حال میں مضبوط رہیں۔‘</p>
<p>یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ مردوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ مرد اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ انہیں کمزور سمجھا جانے کا خوف ہوتا ہے۔ نتیجتاً، وہ اپنے اندر ہی اندر ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں، جو بعد میں غصے، چڑچڑاہٹ، اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے سنگین نتائج کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں حالیہ معاشی بحران نے مردوں کے لیے مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ سدرہ اقبال نے کہا ’ہم نے گزشتہ برسوں میں بے روزگاری کی بلند ترین شرح دیکھی ہے، کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں، اور نوکری کی غیر یقینی صورتحال مردوں کے ذہنوں پر بھاری دباؤ ڈال رہی ہے۔‘</p>
<p>یہ خوف کہ نوکری ختم ہو جائے گی، کاروبار بند ہو جائے گا، یا گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے، مردوں کو مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ماہر تعلیم امبرین عسکری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے مرد اپنا مسئلہ گھر میں بتانے سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر عمران (چیف ڈیجیٹل آفیسر) نے کہا کہ گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے کے مطابق، ملک میں 17 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں، لیکن مردوں میں یہ مسئلہ زیادہ گہرا ہے کیونکہ وہ مدد لینے سے کتراتے ہیں۔</p>
<p>خاندانی توقعات اور کفیل ہونے کا دباؤ بہت بڑھتا جارہا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹرعمران نے ایک واقعہ بھی شئیر کیا اور کہا کہ لائف پارٹنر یا بیوی کو بہت زیادہ مددگار اور شوہر کو سمجھنے والا ہونا چاہیے -</p>
<p>پاکستانی معاشرے میں ایک مرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بیوی بچوں بلکہ والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی بھی مالی کفالت کرے۔ اس دباؤ کے تحت وہ اپنی خواہشات اور جذبات کو دبانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب وہ اپنے مسائل کسی سے شیئر نہیں کرتا تو اس کا ذہنی دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے، جس کا اثر اس کے رویے اور صحت پر پڑتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/166537"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم اس مسئلے کے حل کے لیے رویوں اور خاندانی سمجھ بوجھ پر زور دیا- اور کہا کہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی بہت ضروری ہے- مرد بھی جذبات رکھتے ہیں، اور انہیں اپنے احساسات کے اظہار کا پورا حق ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ صرف خواتین کو جذباتی سہارا دیا جائے اور مرد ہر حال میں مضبوط رہیں۔</p>
<p>مردوں کے لیے ایک محبت بھرا اور سکون بخش گھریلو ماحول ضروری ہے، جہاں وہ اپنے مسائل پر اپنے جیون ساتھی سے بات کرسکیں اور انہیں جذباتی طور پر سپورٹ کیا جائے۔ یاد رکھیں مردوں کے لئے سماجی دباؤ ایک خاموش قاتل سے کم نہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30362539/">مرد مظلوم ہوتے ہیں یا خواتین، جذبات سے کھیلنے کا ذمہ دار کون ؟</a></strong></p>
<p>پاکستان میں مردوں کی ذہنی صحت ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک متوازن اور صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں مردوں کے جذباتی، سماجی، اور نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کو سمجھنا ہوگا اور ان کے ذہنی دباؤ میں ان کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ گھر اور روزگار کٓے معاملات سے بہ حسن و خوبی نمٹا جاسکے-</p>
<p>مردوں میں بھی ذہنی صحت کے حوالے سے یہ آگاہی پیدا کرنی ہوگی تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30440330</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Feb 2025 15:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/10153751e31e3c5.webp?r=154610" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/10153751e31e3c5.webp?r=154610"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/gulKPWZr84A/maxresdefault.jpg?r=154610" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/gulKPWZr84A/mqdefault.jpg?r=154610"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=gulKPWZr84A"/>
        <media:title>Societal Pressure &amp;amp; Burden of Social Expectations -A Major Cause of Depression in Men - Aaj Pakistan
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ڈبلیو ڈی 40 سے گاڑیوں کی دھندلی ہیڈ لائٹ چمکائی جا سکتی ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30437688/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈبلیو ڈی 40 (WD-40) کو آج کل ہر چیز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، چاہے وہ زنگ آلود چیزیں صاف کرنا ہو یا دروازے کی چوں چوں ختم کرنا۔ اسے چیونگ گم ہٹانے اور گاڑی کے پینلز پر چپکی گندگی صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ پرانی دھندلی ہیڈلائٹس کو بھی صاف کر سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں!  لیکن کسی حد تک۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈی 40 کے آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، ہیڈلائٹس صاف کرنے کا یہ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ کے مطابق پہلے ایک گیلے کپڑے سے ہیڈلائٹس پر جمی گرد اور مٹی صاف کریں۔ اب ہیڈلائٹس پر اچھی مقدار میں ڈبلیو ڈی 40  اسپرے کریں اور 5 سے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں تاکہ یہ میل اور گندگی  پر اثر دکھا سکے۔  پھر ایک نرم لوفہ یا کپڑے سے آہستہ آہستہ رگڑیں اور آخر میں کسی صاف کپڑے سے پونچھ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ اسے براہ راست کپڑے پر لگا کر ہیڈلائٹس پر نرمی سے مساج کرتے ہیں، لیکن دونوں طریقے ایک ہی کام کرتے ہیں یعنی گندگی اور میل صاف کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈبلیو-ڈی-40-کا-فائدہ-اور-نقصان" href="#ڈبلیو-ڈی-40-کا-فائدہ-اور-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈبلیو ڈی 40 کا فائدہ اور نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈی 40 کا آئل بیسڈ فارمولا عام کلیننگ لکوئڈز کے مقابلے میں ایک اضافی فائدہ دیتا ہے، کیونکہ یہ ہیڈلائٹس کی چھوٹی خراشوں اور آکسیڈیشن کے نشانات کو بھر کر انہیں چمکدار اور نیا جیسا بنا دیتا ہے۔ لیکن یہ اثر صرف عارضی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ڈبلیو ڈی 40 ایک آئل بیسڈ پراڈکٹ ہے، اس لیے یہ نئی گندگی اور مٹی کو جذب کر سکتا ہے، جس سے کچھ ہی دنوں بعد ہیڈلائٹس دوبارہ دھندلی لگنے لگتی ہیں۔ مزید یہ کہ، وقت کے ساتھ یہ مائع دھل کر اتر جاتا ہے اور خراشیں دوبارہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہیڈلائٹس-کے-لیے-بہترین-مستقل-حل-کیا-ہے" href="#ہیڈلائٹس-کے-لیے-بہترین-مستقل-حل-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہیڈلائٹس کے لیے بہترین مستقل حل کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہیڈلائٹس کی دھندلاہٹ زیادہ تر سورج کی یو وی شعاعوں کے نقصان کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اس کو روکنے کے لیے ہیڈلائٹس پر ایک نئی یو وی پروٹیکشن کوٹنگ لگانا ضروری ہوتا ہے، جو ڈبلیو ڈی 40 فراہم نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ مستقل حل چاہتے ہیں تو کسی پروفیشنل کلیننگ کٹ کا استعمال کریں، جس میں سینڈ پیپر، پالشنگ کمپاؤنڈز اور یو وی سیلر شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک لمبے عرصے تک ہیڈلائٹس کو صاف اور چمکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="احتیاط-کیڑے-مار-اسپرے-کا-استعمال-ہرگز-نہ-کریں" href="#احتیاط-کیڑے-مار-اسپرے-کا-استعمال-ہرگز-نہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;احتیاط: کیڑے مار اسپرے کا استعمال ہرگز نہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ کیڑے مار اسپرے کو ہیڈلائٹس کی صفائی کے لیے تجویز کرتے ہیں، لیکن یہ ایک خطرناک طریقہ ہے کیونکہ اس میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو ہیڈلائٹس کی سطح کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، اگر آپ کو جلدی میں ایک سستا اور آسان حل چاہیے تو ڈبلیو ڈی 40 ایک عارضی آپشن ہو سکتا ہے، لیکن مستقل چمک کے لیے پروفیشنل صفائی بہتر رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈبلیو ڈی 40 (WD-40) کو آج کل ہر چیز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، چاہے وہ زنگ آلود چیزیں صاف کرنا ہو یا دروازے کی چوں چوں ختم کرنا۔ اسے چیونگ گم ہٹانے اور گاڑی کے پینلز پر چپکی گندگی صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ پرانی دھندلی ہیڈلائٹس کو بھی صاف کر سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں!  لیکن کسی حد تک۔</strong></p>
<p>ڈبلیو ڈی 40 کے آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، ہیڈلائٹس صاف کرنے کا یہ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے:</p>
<p>ویب سائٹ کے مطابق پہلے ایک گیلے کپڑے سے ہیڈلائٹس پر جمی گرد اور مٹی صاف کریں۔ اب ہیڈلائٹس پر اچھی مقدار میں ڈبلیو ڈی 40  اسپرے کریں اور 5 سے 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں تاکہ یہ میل اور گندگی  پر اثر دکھا سکے۔  پھر ایک نرم لوفہ یا کپڑے سے آہستہ آہستہ رگڑیں اور آخر میں کسی صاف کپڑے سے پونچھ لیں۔</p>
<p>کچھ لوگ اسے براہ راست کپڑے پر لگا کر ہیڈلائٹس پر نرمی سے مساج کرتے ہیں، لیکن دونوں طریقے ایک ہی کام کرتے ہیں یعنی گندگی اور میل صاف کرنا۔</p>
<h3><a id="ڈبلیو-ڈی-40-کا-فائدہ-اور-نقصان" href="#ڈبلیو-ڈی-40-کا-فائدہ-اور-نقصان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈبلیو ڈی 40 کا فائدہ اور نقصان</strong></h3>
<p>ڈبلیو ڈی 40 کا آئل بیسڈ فارمولا عام کلیننگ لکوئڈز کے مقابلے میں ایک اضافی فائدہ دیتا ہے، کیونکہ یہ ہیڈلائٹس کی چھوٹی خراشوں اور آکسیڈیشن کے نشانات کو بھر کر انہیں چمکدار اور نیا جیسا بنا دیتا ہے۔ لیکن یہ اثر صرف عارضی ہوتا ہے۔</p>
<p>چونکہ ڈبلیو ڈی 40 ایک آئل بیسڈ پراڈکٹ ہے، اس لیے یہ نئی گندگی اور مٹی کو جذب کر سکتا ہے، جس سے کچھ ہی دنوں بعد ہیڈلائٹس دوبارہ دھندلی لگنے لگتی ہیں۔ مزید یہ کہ، وقت کے ساتھ یہ مائع دھل کر اتر جاتا ہے اور خراشیں دوبارہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔</p>
<h3><a id="ہیڈلائٹس-کے-لیے-بہترین-مستقل-حل-کیا-ہے" href="#ہیڈلائٹس-کے-لیے-بہترین-مستقل-حل-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہیڈلائٹس کے لیے بہترین مستقل حل کیا ہے؟</strong></h3>
<p>ہیڈلائٹس کی دھندلاہٹ زیادہ تر سورج کی یو وی شعاعوں کے نقصان کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اس کو روکنے کے لیے ہیڈلائٹس پر ایک نئی یو وی پروٹیکشن کوٹنگ لگانا ضروری ہوتا ہے، جو ڈبلیو ڈی 40 فراہم نہیں کر سکتا۔</p>
<p>اگر آپ مستقل حل چاہتے ہیں تو کسی پروفیشنل کلیننگ کٹ کا استعمال کریں، جس میں سینڈ پیپر، پالشنگ کمپاؤنڈز اور یو وی سیلر شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک لمبے عرصے تک ہیڈلائٹس کو صاف اور چمکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<h3><a id="احتیاط-کیڑے-مار-اسپرے-کا-استعمال-ہرگز-نہ-کریں" href="#احتیاط-کیڑے-مار-اسپرے-کا-استعمال-ہرگز-نہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>احتیاط: کیڑے مار اسپرے کا استعمال ہرگز نہ کریں</strong></h3>
<p>بہت سے لوگ کیڑے مار اسپرے کو ہیڈلائٹس کی صفائی کے لیے تجویز کرتے ہیں، لیکن یہ ایک خطرناک طریقہ ہے کیونکہ اس میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو ہیڈلائٹس کی سطح کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا، اگر آپ کو جلدی میں ایک سستا اور آسان حل چاہیے تو ڈبلیو ڈی 40 ایک عارضی آپشن ہو سکتا ہے، لیکن مستقل چمک کے لیے پروفیشنل صفائی بہتر رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30437688</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jan 2025 14:16:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/291415305b691eb.webp?r=141619" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/291415305b691eb.webp?r=141619"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے یہ 8 کام لازمی کریں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30435506/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر آنے والا نیا سال سب ہی کے لیے ایک امید اور خوشی کا پیغام لاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو زیادہ خوشگوار کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس مضمون میں چند عملی نکات پیش کیے جا رہے ہیں، جنہیں اپنانے سے آپ اپنی زندگی میں خوشی اور سکون کا اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خوشیوں کو یادگار بنائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کو یاد رکھنا اور لکھنا روحانی سکون کا ذریعہ ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ تین ایسی باتیں لکھنا جن سے آپ کو خوشی ملی، آپ کے مزاج کو بہتر بناتا ہے۔ چاہے وہ کسی امتحان میں کامیابی ہو یا کسی عزیز کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار لمحات۔ یہ عادت آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ازدواجی زندگی میں بحث مباحثہ مثبت بنائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ازدواجی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لانے کے لیے بہتر بات چیت ضروری ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جو لوگ خوش مزاج نہیں ہوتے، وہ بھی اپنی عادات میں تبدیلی لا کر زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435467/"&gt;شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کی پہلی آواز ریکارڈ، ویڈیو منظرعام پر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوستی کو اہمیت دیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوستی کا تعلق ہر عمر میں اہم ہے، لیکن زندگی کے بعد کے مراحل میں یہ مزید ضروری ہو جاتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ لوگ اپنے قریبی اور مخلص دوستوں کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہ تعلق ان کی خوشی میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسروں کی خوشی میں شریک ہوں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھنا تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرتا ہے۔ اس رویے سے نہ صرف آپ کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ آپ کو خود بھی سکون اور خوشی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پُرلطف سرگرمیوں کو اپنائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی زندگی میں تفریحی اور خوشگوار سرگرمیوں کو شامل کریں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ معمول سے ہٹ کر سرگرمیاں، جیسے کہ گاڑی کی طویل ڈرائیو یا پسندیدہ موسیقی سننا، ذہنی سکون کا ذریعہ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرسکون رہنا سیکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوشی کے پیچھے بھاگنے سے مایوسی بڑھ سکتی ہے۔ اپنی توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھیں اور جو میسر ہو، اس میں خوش رہنے کی عادت ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزرگوں سے رابطہ بحال رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خاندان کی تاریخ جاننا اور بزرگوں سے تعلق رکھنا آپ کو زندگی کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ اس سے آپ زیادہ مطمئن اور خوداعتماد محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30435407/"&gt;پاکستان میں چینی چھوڑ کر لوگ گڑ استعمال کرنے لگے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلاحی خدمات انجام دیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضاکارانہ کام کرنے سے نہ صرف آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں بلکہ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت میں بھی بہتری لاتے ہیں۔ باغبانی، جانوروں کی دیکھ بھال، یا ضرورت مندوں کی مدد جیسے کام آپ کو خوشی اور سکون فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے ان عادات کو اپنائیں اور چھوٹی خوشیوں کو بڑی نعمت سمجھیں۔ سکون اور خوشی حاصل کرنے کا راز چھوٹی باتوں میں پوشیدہ ہے، بس ان کا شعور پیدا کریں۔ نئے سال کو خوشگوار بنانے کے لیے یہ عادات اپنانا شروع کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر آنے والا نیا سال سب ہی کے لیے ایک امید اور خوشی کا پیغام لاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو زیادہ خوشگوار کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس مضمون میں چند عملی نکات پیش کیے جا رہے ہیں، جنہیں اپنانے سے آپ اپنی زندگی میں خوشی اور سکون کا اضافہ کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p><strong>خوشیوں کو یادگار بنائیں</strong></p>
<p>اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کو یاد رکھنا اور لکھنا روحانی سکون کا ذریعہ ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ تین ایسی باتیں لکھنا جن سے آپ کو خوشی ملی، آپ کے مزاج کو بہتر بناتا ہے۔ چاہے وہ کسی امتحان میں کامیابی ہو یا کسی عزیز کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار لمحات۔ یہ عادت آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔</p>
<p><strong>ازدواجی زندگی میں بحث مباحثہ مثبت بنائیں</strong></p>
<p>ازدواجی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لانے کے لیے بہتر بات چیت ضروری ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جو لوگ خوش مزاج نہیں ہوتے، وہ بھی اپنی عادات میں تبدیلی لا کر زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30435467/">شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کی پہلی آواز ریکارڈ، ویڈیو منظرعام پر</a></strong></p>
<p><strong>دوستی کو اہمیت دیں</strong></p>
<p>دوستی کا تعلق ہر عمر میں اہم ہے، لیکن زندگی کے بعد کے مراحل میں یہ مزید ضروری ہو جاتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ لوگ اپنے قریبی اور مخلص دوستوں کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہ تعلق ان کی خوشی میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>دوسروں کی خوشی میں شریک ہوں</strong></p>
<p>دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھنا تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرتا ہے۔ اس رویے سے نہ صرف آپ کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ آپ کو خود بھی سکون اور خوشی ملتی ہے۔</p>
<p><strong>پُرلطف سرگرمیوں کو اپنائیں</strong></p>
<p>اپنی زندگی میں تفریحی اور خوشگوار سرگرمیوں کو شامل کریں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ معمول سے ہٹ کر سرگرمیاں، جیسے کہ گاڑی کی طویل ڈرائیو یا پسندیدہ موسیقی سننا، ذہنی سکون کا ذریعہ بنتی ہیں۔</p>
<p><strong>پرسکون رہنا سیکھیں</strong></p>
<p>خوشی کے پیچھے بھاگنے سے مایوسی بڑھ سکتی ہے۔ اپنی توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھیں اور جو میسر ہو، اس میں خوش رہنے کی عادت ڈالیں۔</p>
<p><strong>بزرگوں سے رابطہ بحال رکھیں</strong></p>
<p>اپنے خاندان کی تاریخ جاننا اور بزرگوں سے تعلق رکھنا آپ کو زندگی کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ اس سے آپ زیادہ مطمئن اور خوداعتماد محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30435407/">پاکستان میں چینی چھوڑ کر لوگ گڑ استعمال کرنے لگے</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>فلاحی خدمات انجام دیں</strong></p>
<p>رضاکارانہ کام کرنے سے نہ صرف آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں بلکہ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت میں بھی بہتری لاتے ہیں۔ باغبانی، جانوروں کی دیکھ بھال، یا ضرورت مندوں کی مدد جیسے کام آپ کو خوشی اور سکون فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے ان عادات کو اپنائیں اور چھوٹی خوشیوں کو بڑی نعمت سمجھیں۔ سکون اور خوشی حاصل کرنے کا راز چھوٹی باتوں میں پوشیدہ ہے، بس ان کا شعور پیدا کریں۔ نئے سال کو خوشگوار بنانے کے لیے یہ عادات اپنانا شروع کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30435506</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jan 2025 09:58:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/190903210c28ca0.webp?r=090820" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/190903210c28ca0.webp?r=090820"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر عمر کی خواتین کی صحتمند متوازن زندگی کیلئے بہترین راز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30434754/</link>
      <description>&lt;p&gt;کہتے ہیں کہ صحتمند خواتین ہی صحتمند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ خواتین کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلہ مختلف غذائی ضروریات کا تقاضا کرتا ہے۔ اچھی خوراک، مناسب ورزش، اور ذہنی سکون ہر عمر میں خواتین کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے جانتے ہیں کہ خواتین کو اپنی عمر کے مطابق کس طرح متوازن خوراک اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ صحتمند زندگی گزار سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹین ایج میں جسمانی نشوونما کے لیے غذائیت سے بھرپور غذا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹین ایج جسمانی نشوونما کی عمر ہے، جہاں غذائیت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمر میں لڑکیاں بلوغت کے مرحلے سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ آئرن، پروٹین، اور وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عمر کی ضرورت جو غذائیں ہیں ان میں آئرن سے بھرپورغذائیں جیسے پالک، دالیں، سرخ گوشت اور پروٹین سے بھرپور غذائیں یعنی انڈے، مچھلی، چکن، گری دار میوے شامل ہیں اسکے علاوہ زیتون کا تیل، ایواکاڈواور مچھلی کا تیل صحت بخش ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عموما دیکھا گیا ہے کہ اس ایج میں لڑکیا فاسٹ ٖفوڈ اور جنک فوڈ کی طرف بہت راغب ہوتی ہیں صحت کے لیے جنک فوڈ سے پرہیزبےحد ضروری ہے۔ اسکے ساتھ ہی ریفائنڈ شوگر اور ٹرانس فیٹس سے بھی دور رہیں تاکہ ہارمونل بیلنس برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;30 سال کی عمردراصل مضبوط بنیاد قائم کرنے کا وقت ہوتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سال کی عمر میں خواتین کو ہڈیوں کی مضبوطی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مرحلے پر کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مقدار کو بڑھانا ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ سورج کی روشنی کم حاصل کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/01/151504196e3dd13.webp?r=151246'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلشیم سے بھرپور غذائیں دودھ، دہی، پنیر، بادام، وٹامن D, انڈے کی زردی، مچھلی کا استعمال اپنی غذا میں لازمی رکھیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ حاملہ ہیں یا اپنے نونہال کو دودھ پلا رہی ہیں تو پروٹین، آئرن، اور وٹامن سی کو لازمی شامل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;40 سے 50 سال کی عمر کی خواتین، متحرک اور صحتمند رہنے کا دور&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عمر میٹابولک تبدیلیوں کا دور ہے، جہاں جسم کو زیادہ ریشے دار غذاؤں، اینٹی آکسیڈنٹس، اور وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس ایج میں اینٹی آکسیڈنٹسغذائیں مثلا بیریز، گرین ٹی، کوکوا کا خوب استعمال کریں-
ریشے دار غذائیں کھائیں،  دالیں، سبزیاں، پھل، وٹامن بی 12، انڈے، مچھلی، دودھ۔ کو اپنی غذاوںمیں شامل کریں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹنیس کا رازیعنی ورزش کو لازمی اہمیت دیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کو چاہیے کہ روزانہ 30 منٹ کی واک یا یوگا جسمانی اور ذہنی سکون دیتا ہے۔ اسی طرح 60 سال اور اسکے بعد صحت مند اور متحرک رہنے کا ہنرآپ کو ہمیشہ فٹ اور جوان رکھے گا-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کچھ اہم باتوں کا خیال ہر عمر کی خواتین کورکھنا چاہیے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1. پانی کا وافر استعمال&lt;/strong&gt;: جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2. اچھی نیند:&lt;/strong&gt; ذہنی سکون اور توانائی کے لیے 7-8 گھنٹے کی نیند لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3. ذہنی صحت پر توجہ:&lt;/strong&gt; مراقبہ، مثبت سوچ، اور تفریحی سرگرمیوں سے خود کو خوش رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحتمند خوراک اور طرز زندگی خواتین کو نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط بلکہ ذہنی طور پر بھی متوازن بناتی ہے۔ ہر عمر میں اپنی غذائی ضروریات کو سمجھ کر متوازن خوراک اپنائیں تاکہ آپ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں صحت مند اور خوش رہ سکیں۔ یاد رکھیں، صحتمند خواتین ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کی ضامن ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کہتے ہیں کہ صحتمند خواتین ہی صحتمند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ خواتین کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلہ مختلف غذائی ضروریات کا تقاضا کرتا ہے۔ اچھی خوراک، مناسب ورزش، اور ذہنی سکون ہر عمر میں خواتین کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>آئیے جانتے ہیں کہ خواتین کو اپنی عمر کے مطابق کس طرح متوازن خوراک اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ صحتمند زندگی گزار سکیں۔</p>
<p><strong>ٹین ایج میں جسمانی نشوونما کے لیے غذائیت سے بھرپور غذا</strong></p>
<p>ٹین ایج جسمانی نشوونما کی عمر ہے، جہاں غذائیت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمر میں لڑکیاں بلوغت کے مرحلے سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ آئرن، پروٹین، اور وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عمر کی ضرورت جو غذائیں ہیں ان میں آئرن سے بھرپورغذائیں جیسے پالک، دالیں، سرخ گوشت اور پروٹین سے بھرپور غذائیں یعنی انڈے، مچھلی، چکن، گری دار میوے شامل ہیں اسکے علاوہ زیتون کا تیل، ایواکاڈواور مچھلی کا تیل صحت بخش ہیں-</p>
<p>عموما دیکھا گیا ہے کہ اس ایج میں لڑکیا فاسٹ ٖفوڈ اور جنک فوڈ کی طرف بہت راغب ہوتی ہیں صحت کے لیے جنک فوڈ سے پرہیزبےحد ضروری ہے۔ اسکے ساتھ ہی ریفائنڈ شوگر اور ٹرانس فیٹس سے بھی دور رہیں تاکہ ہارمونل بیلنس برقرار رہے۔</p>
<p><strong>30 سال کی عمردراصل مضبوط بنیاد قائم کرنے کا وقت ہوتا ہے</strong></p>
<p>30 سال کی عمر میں خواتین کو ہڈیوں کی مضبوطی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مرحلے پر کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مقدار کو بڑھانا ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ سورج کی روشنی کم حاصل کر رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/01/151504196e3dd13.webp?r=151246'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کیلشیم سے بھرپور غذائیں دودھ، دہی، پنیر، بادام، وٹامن D, انڈے کی زردی، مچھلی کا استعمال اپنی غذا میں لازمی رکھیں-</p>
<p>اگر آپ حاملہ ہیں یا اپنے نونہال کو دودھ پلا رہی ہیں تو پروٹین، آئرن، اور وٹامن سی کو لازمی شامل کریں۔</p>
<p><strong>40 سے 50 سال کی عمر کی خواتین، متحرک اور صحتمند رہنے کا دور</strong></p>
<p>یہ عمر میٹابولک تبدیلیوں کا دور ہے، جہاں جسم کو زیادہ ریشے دار غذاؤں، اینٹی آکسیڈنٹس، اور وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس ایج میں اینٹی آکسیڈنٹسغذائیں مثلا بیریز، گرین ٹی، کوکوا کا خوب استعمال کریں-
ریشے دار غذائیں کھائیں،  دالیں، سبزیاں، پھل، وٹامن بی 12، انڈے، مچھلی، دودھ۔ کو اپنی غذاوںمیں شامل کریں-</p>
<p><strong>فٹنیس کا رازیعنی ورزش کو لازمی اہمیت دیں</strong></p>
<p>خواتین کو چاہیے کہ روزانہ 30 منٹ کی واک یا یوگا جسمانی اور ذہنی سکون دیتا ہے۔ اسی طرح 60 سال اور اسکے بعد صحت مند اور متحرک رہنے کا ہنرآپ کو ہمیشہ فٹ اور جوان رکھے گا-</p>
<p><strong>کچھ اہم باتوں کا خیال ہر عمر کی خواتین کورکھنا چاہیے</strong></p>
<p><strong>1. پانی کا وافر استعمال</strong>: جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p><strong>2. اچھی نیند:</strong> ذہنی سکون اور توانائی کے لیے 7-8 گھنٹے کی نیند لیں۔</p>
<p><strong>3. ذہنی صحت پر توجہ:</strong> مراقبہ، مثبت سوچ، اور تفریحی سرگرمیوں سے خود کو خوش رکھیں۔</p>
<p>صحتمند خوراک اور طرز زندگی خواتین کو نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط بلکہ ذہنی طور پر بھی متوازن بناتی ہے۔ ہر عمر میں اپنی غذائی ضروریات کو سمجھ کر متوازن خوراک اپنائیں تاکہ آپ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں صحت مند اور خوش رہ سکیں۔ یاد رکھیں، صحتمند خواتین ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کی ضامن ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30434754</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jan 2025 15:21:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/15150933cd1bf4f.webp?r=151019" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/15150933cd1bf4f.webp?r=151019"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025 میں پاکستان میں نوکری کیلئے بہترین ادارے کونسے؟ عالمی فہرست جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30434684/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجی ادارے ”ورک ایل“ کی جانب سے دنیا میں کام کی سب سے خوشگوار جگہوں (ورلڈز ہیپیسٹ ورک پلیسز 2025) کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں پاکستان کی وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جہاں کام کا ماحول کافی خوشگوار ہے اور وہاں کے ملازم خوش رہتے ہیں۔ ان اداروں میں نامور نیسلے، یونی لیور اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنس (پی آئی اے) جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://app.workl.com/worlds-happiest-workplaces"&gt;ورک ایل&lt;/a&gt; جو ایک ملازمین کی تجربات پر مبنی پلیٹ فارم ہے، اس نے یہ فہرست ملازمین کی خوشی اور ان کی ورک انوائرمنٹ کی بنیاد پر تیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے میں 100,000 سے زائد اداروں نے حصہ لیا، جبکہ ایک ملین سے زیادہ ملازمین نے ”ہیپی ایٹ ورک ٹیسٹ“ دیا تاکہ اپنے ادارے کو اس ایوارڈ میں شامل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خوشگوار ورک پلیسز میں بینک الفلاح، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)، یونیورسٹی آف کراچی، پاکستان اسٹیٹ آئل اور ایچ بی ایل بینک جیسے ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں نے اپنے ملازمین کی خوشی اور اطمینان کی بنیاد پر اس فہرست میں جگہ بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں 95 فیصد کی مجموعی خوشی کی درجہ بندی حاصل کرنے والے اداروں میں ٹائٹینک آفیشل، یونیک سائیکل انڈسٹری، زونگ، فضل پیپر ملز اور ایم سی بی بینک جیسے ادارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں خوشگوار ورک پلیسز کی فہرست میں جنوبی افریقہ کی ”ڈائیفیوژن ٹیکنالوجیز“ نے 100 فیصد کی خوشی کا اسکور حاصل کیا اور پہلی پوزیشن پر رہی۔ اس کے بعد ”دی پویلین شاپنگ سینٹر“ اور ”اووس بجٹ گروپ“ کا نمبر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ٹیسٹ میں ملازمین کی فلاح، کام سے اطمینان، انعامات و تعریفی نظام، معلومات کی فراہمی اور ملازمین کو اختیار دینے جیسے مختلف عوامل پر غور کیا گیا۔ جو ادارے اس ٹیسٹ میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں، وہ اس فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجی ادارے ”ورک ایل“ کی جانب سے دنیا میں کام کی سب سے خوشگوار جگہوں (ورلڈز ہیپیسٹ ورک پلیسز 2025) کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں پاکستان کی وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جہاں کام کا ماحول کافی خوشگوار ہے اور وہاں کے ملازم خوش رہتے ہیں۔ ان اداروں میں نامور نیسلے، یونی لیور اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنس (پی آئی اے) جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://app.workl.com/worlds-happiest-workplaces">ورک ایل</a> جو ایک ملازمین کی تجربات پر مبنی پلیٹ فارم ہے، اس نے یہ فہرست ملازمین کی خوشی اور ان کی ورک انوائرمنٹ کی بنیاد پر تیار کی ہے۔</p>
<p>اس سروے میں 100,000 سے زائد اداروں نے حصہ لیا، جبکہ ایک ملین سے زیادہ ملازمین نے ”ہیپی ایٹ ورک ٹیسٹ“ دیا تاکہ اپنے ادارے کو اس ایوارڈ میں شامل کر سکیں۔</p>
<p>پاکستان کے خوشگوار ورک پلیسز میں بینک الفلاح، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)، یونیورسٹی آف کراچی، پاکستان اسٹیٹ آئل اور ایچ بی ایل بینک جیسے ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں نے اپنے ملازمین کی خوشی اور اطمینان کی بنیاد پر اس فہرست میں جگہ بنائی۔</p>
<p>اس فہرست میں 95 فیصد کی مجموعی خوشی کی درجہ بندی حاصل کرنے والے اداروں میں ٹائٹینک آفیشل، یونیک سائیکل انڈسٹری، زونگ، فضل پیپر ملز اور ایم سی بی بینک جیسے ادارے شامل ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں خوشگوار ورک پلیسز کی فہرست میں جنوبی افریقہ کی ”ڈائیفیوژن ٹیکنالوجیز“ نے 100 فیصد کی خوشی کا اسکور حاصل کیا اور پہلی پوزیشن پر رہی۔ اس کے بعد ”دی پویلین شاپنگ سینٹر“ اور ”اووس بجٹ گروپ“ کا نمبر آیا۔</p>
<p>اس ٹیسٹ میں ملازمین کی فلاح، کام سے اطمینان، انعامات و تعریفی نظام، معلومات کی فراہمی اور ملازمین کو اختیار دینے جیسے مختلف عوامل پر غور کیا گیا۔ جو ادارے اس ٹیسٹ میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرتے ہیں، وہ اس فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30434684</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jan 2025 11:31:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/15112013b0c7b2e.webp?r=112349" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/15112013b0c7b2e.webp?r=112349"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ غلطیاں جن پر ریٹائرڈ افراد اکثر پچھتاتے ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30433199/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کامیاب زندگی کی کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے لیے ایسے اہداف مقرر کرے، زندگی گزارنے کا ایسا ڈھنگ لے کر چلے کہ جو اس کی زندگی کو معنی اور سمت فراہم کریں۔ زندگی میں اپنے گولز  کا تعین کرنا بہت ضروری ہے تاکہ زندگی کے کسی بھی مقام پر پچھتانا نہ پڑے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشتر ریٹائرڈ افراد اس خواہش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ کاش انہوں نے اپنی جوانی کے دنوں میں مزید بچت کی ہوتی، وہ اپنے ماضی کے فیصلوں پر افسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاہو فنانس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس کا جائزہ العربیہ بزنس نے لیا، ریٹائرڈ افراد اپنی زندگی کے چند اہم پہلوؤں پر نظرثانی کرتے ہوئے پچھتاتے ہیں۔ یہ نکات نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہو سکتے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں بلکہ دوسرے افراد جن کا آگے جاکر واسطہ ریٹائرمنٹ سے بہرحال پڑنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30432818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بچت کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دو تہائی ریٹائرڈ افراد اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش وہ اپنے کام کے دنوں میں زیادہ باقاعدگی سے بچت کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تحقیق کے مطابق، رئیل اسٹیٹ کے اثاثے چھوڑ کر، زیادہ تر گھرانے ریٹائرمنٹ کے وقت کم ہی بچت کر پاتے ہیں، جو اکثر معاشی عدم تحفظ کا سبب بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر خواتین میں یہ مسئلہ نمایاں ہے۔ 10 میں سے 6 ریٹائرڈ خواتین پچھتاتی ہیں کہ انہوں نے بچت اور سرمایہ کاری میں دیر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف ایک چوتھائی خواتین 18 سے 29 سال کی عمر میں بچت شروع کرتی ہیں، جبکہ 40 فیصد خواتین 41 سال یا اس کے بعد اس کا آغاز کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سماجی تحفظ کے فوائد جلد حاصل کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ریٹائرڈ افراد کو سماجی تحفظ یا فوائد جلد لینے کا افسوس ہوتا ہے۔ جلدی فیصلے کی وجہ سے فوائد میں کمی ہوتی ہے۔ اگر مطلوبہ وقت یا سالوں کی عمر تک انتظار کیا جائے تو سالانہ فوائد میں کئی فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قرض کے ساتھ ریٹائر ہونا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً نصف ریٹائرڈ افراد کے مطابق، قرض ان کی بچت میں رکاوٹ ثابت ہوا۔ 10 میں سے 7 افراد کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جو ان کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غلط وقت پر ریٹائر ہونا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تہائی افراد کو اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جلدی کیا۔ اضافی سال کام کرنے سے نہ صرف بچت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مالی حالات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کا فقدان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی افراد کے پاس ریٹائرمنٹ کے لیے جذباتی اور عملی منصوبہ نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں مایوسی اور نقصان کا احساس بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کام سے ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک واضح منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریٹائرمنٹ کے باوجود خوشی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنجز اور پچھتاوے کے باوجود، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کئی افراد ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی توقع سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔ 40 فیصد افراد نے زندگی کے معیار میں بہتری، عمر بڑھنے کے مثبت پہلو، اور ایک فعال سماجی زندگی گزاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30432944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئے سال کے لیے ماہرین کا مشورہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناخوش ریٹائرڈ افراد کو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایک تحریری مالی منصوبہ تیار کریں۔ یہ منصوبہ اخراجات، بچت، اور سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جائے، جبکہ صحت، انشورنس، طویل مدتی دیکھ بھال، اور ٹیکس جیسے پہلوؤں کو بھی شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات نہ صرف مالی مشکلات سے بچنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کو پرسکون اور خوشگوار بنانے کا ذریعہ بھی ہیں-&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کامیاب زندگی کی کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے لیے ایسے اہداف مقرر کرے، زندگی گزارنے کا ایسا ڈھنگ لے کر چلے کہ جو اس کی زندگی کو معنی اور سمت فراہم کریں۔ زندگی میں اپنے گولز  کا تعین کرنا بہت ضروری ہے تاکہ زندگی کے کسی بھی مقام پر پچھتانا نہ پڑے۔</strong></p>
<p>بیشتر ریٹائرڈ افراد اس خواہش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ کاش انہوں نے اپنی جوانی کے دنوں میں مزید بچت کی ہوتی، وہ اپنے ماضی کے فیصلوں پر افسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>یاہو فنانس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس کا جائزہ العربیہ بزنس نے لیا، ریٹائرڈ افراد اپنی زندگی کے چند اہم پہلوؤں پر نظرثانی کرتے ہوئے پچھتاتے ہیں۔ یہ نکات نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہو سکتے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں بلکہ دوسرے افراد جن کا آگے جاکر واسطہ ریٹائرمنٹ سے بہرحال پڑنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30432818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>بچت کی کمی</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق دو تہائی ریٹائرڈ افراد اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش وہ اپنے کام کے دنوں میں زیادہ باقاعدگی سے بچت کرتے۔</p>
<p>ایک تحقیق کے مطابق، رئیل اسٹیٹ کے اثاثے چھوڑ کر، زیادہ تر گھرانے ریٹائرمنٹ کے وقت کم ہی بچت کر پاتے ہیں، جو اکثر معاشی عدم تحفظ کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p>خاص طور پر خواتین میں یہ مسئلہ نمایاں ہے۔ 10 میں سے 6 ریٹائرڈ خواتین پچھتاتی ہیں کہ انہوں نے بچت اور سرمایہ کاری میں دیر کی۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف ایک چوتھائی خواتین 18 سے 29 سال کی عمر میں بچت شروع کرتی ہیں، جبکہ 40 فیصد خواتین 41 سال یا اس کے بعد اس کا آغاز کرتی ہیں۔</p>
<p><strong>سماجی تحفظ کے فوائد جلد حاصل کرنا</strong></p>
<p>بہت سے ریٹائرڈ افراد کو سماجی تحفظ یا فوائد جلد لینے کا افسوس ہوتا ہے۔ جلدی فیصلے کی وجہ سے فوائد میں کمی ہوتی ہے۔ اگر مطلوبہ وقت یا سالوں کی عمر تک انتظار کیا جائے تو سالانہ فوائد میں کئی فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>قرض کے ساتھ ریٹائر ہونا</strong></p>
<p>تقریباً نصف ریٹائرڈ افراد کے مطابق، قرض ان کی بچت میں رکاوٹ ثابت ہوا۔ 10 میں سے 7 افراد کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جو ان کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p><strong>غلط وقت پر ریٹائر ہونا</strong></p>
<p>ایک تہائی افراد کو اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جلدی کیا۔ اضافی سال کام کرنے سے نہ صرف بچت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مالی حالات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کا فقدان</strong></p>
<p>کئی افراد کے پاس ریٹائرمنٹ کے لیے جذباتی اور عملی منصوبہ نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں مایوسی اور نقصان کا احساس بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کام سے ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک واضح منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p><strong>ریٹائرمنٹ کے باوجود خوشی</strong></p>
<p>چیلنجز اور پچھتاوے کے باوجود، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ کئی افراد ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی توقع سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔ 40 فیصد افراد نے زندگی کے معیار میں بہتری، عمر بڑھنے کے مثبت پہلو، اور ایک فعال سماجی زندگی گزاری۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30432944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>نئے سال کے لیے ماہرین کا مشورہ</strong></p>
<p>ناخوش ریٹائرڈ افراد کو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایک تحریری مالی منصوبہ تیار کریں۔ یہ منصوبہ اخراجات، بچت، اور سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جائے، جبکہ صحت، انشورنس، طویل مدتی دیکھ بھال، اور ٹیکس جیسے پہلوؤں کو بھی شامل کیا جائے۔</p>
<p>یہ اقدامات نہ صرف مالی مشکلات سے بچنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کو پرسکون اور خوشگوار بنانے کا ذریعہ بھی ہیں-</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30433199</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jan 2025 10:06:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/01/08100229fcfa086.webp?r=100318" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/01/08100229fcfa086.webp?r=100318"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ کی واشنگ مشین بھی ’جھوٹ‘ بولتی ہے؟ وجہ جانئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30428950/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ واشنگ مشینوں میں سیٹ کیا گیا ٹائمر واشنگ سائیکل کو پورا کرنے میں توقع سے زیادہ وقت لگاتا ہے، لوگوں نے اسے واشنگ مشینوں کی دروغ گوئی قرار دیا ہے اور اس کی وجہ جاننے کیلئے بے تاب ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیٹرن سے پریشان ایک ”ریڈ اِٹ“ (Reddit) صارف نے اپنا یہ مدعا سوشل میڈیا کے سامنے اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریڈ اٹ پر لکھا کہ ’اس طرح کی وضاحت کریں جیسے میں پانچ سال کا بچہ ہوں، واشنگ مشین کا آخری منٹ پورا ہونے میں ہمیشہ کئی منٹ کیوں لگتے ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں نے واش ٹائمر لگایا جس کے دکھایا کہ 40 منٹ باقی ہیں۔ میں تقریباً اتنے ہی وقت میں واپس آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ ایک منٹ باقی ہے، اس لیے میں کپڑے کو ڈرائر یا ریک میں منتقل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومتا رہتا ہوں، کئی منٹ بعدواپس جاتو ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں ابھی بھی ایک منٹ ہی باقی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’مشین آخری منٹ میں وقت کا احساس کیوں کھو دیتی ہے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہوم اینڈ گارڈنز“ کے مطابق ، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ”ایچ ٹو او پلمبنگ“ کے آلات کے ماہر رچ ملنز کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر جدید واشنگ مشینوں پر منحصر ہے جو فیبرک، سوئل لیول اور ڈٹرجنٹ کی بنیاد پر سائیکل کی لمبائی کو سیٹ کرنے کے قابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ ’لوڈ کا سائز، کپڑے کی قسم، پانی کا درجہ حرارت، اور کپڑوں پر مٹی کی سطح جیسے عوامل سائیکل کی مدت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ ”جھوٹ“ کی صورت میں نکلتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایڈجسٹمنٹ کپڑے کی بہترین صفائی اور دیکھ بھال کے لیے کی گئی ہیں، چاہے اس سے آپ کی دھلائی میں زیادہ وقت ہی کیوں نہ لگے۔ مثال کے طور پر، اگر مشین کو بھاری بوجھ محسوس ہوتا ہے، تو یہ مکمل صفائی کے لیے اضطراب یا دھلائی کے دورانیے کو بڑھا سکتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید واشنگ مشینیں آپ کے لانڈری سائیکل میں اضافی منٹ بھی لگا سکتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام صابن کو صاف کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ واشنگ مشینوں میں سیٹ کیا گیا ٹائمر واشنگ سائیکل کو پورا کرنے میں توقع سے زیادہ وقت لگاتا ہے، لوگوں نے اسے واشنگ مشینوں کی دروغ گوئی قرار دیا ہے اور اس کی وجہ جاننے کیلئے بے تاب ہیں۔</strong></p>
<p>اس پیٹرن سے پریشان ایک ”ریڈ اِٹ“ (Reddit) صارف نے اپنا یہ مدعا سوشل میڈیا کے سامنے اٹھایا۔</p>
<p>انہوں نے ریڈ اٹ پر لکھا کہ ’اس طرح کی وضاحت کریں جیسے میں پانچ سال کا بچہ ہوں، واشنگ مشین کا آخری منٹ پورا ہونے میں ہمیشہ کئی منٹ کیوں لگتے ہیں؟‘</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں نے واش ٹائمر لگایا جس کے دکھایا کہ 40 منٹ باقی ہیں۔ میں تقریباً اتنے ہی وقت میں واپس آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ ایک منٹ باقی ہے، اس لیے میں کپڑے کو ڈرائر یا ریک میں منتقل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومتا رہتا ہوں، کئی منٹ بعدواپس جاتو ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں ابھی بھی ایک منٹ ہی باقی ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’مشین آخری منٹ میں وقت کا احساس کیوں کھو دیتی ہے؟‘</p>
<p>”ہوم اینڈ گارڈنز“ کے مطابق ، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ”ایچ ٹو او پلمبنگ“ کے آلات کے ماہر رچ ملنز کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر جدید واشنگ مشینوں پر منحصر ہے جو فیبرک، سوئل لیول اور ڈٹرجنٹ کی بنیاد پر سائیکل کی لمبائی کو سیٹ کرنے کے قابل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ ’لوڈ کا سائز، کپڑے کی قسم، پانی کا درجہ حرارت، اور کپڑوں پر مٹی کی سطح جیسے عوامل سائیکل کی مدت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ ”جھوٹ“ کی صورت میں نکلتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایڈجسٹمنٹ کپڑے کی بہترین صفائی اور دیکھ بھال کے لیے کی گئی ہیں، چاہے اس سے آپ کی دھلائی میں زیادہ وقت ہی کیوں نہ لگے۔ مثال کے طور پر، اگر مشین کو بھاری بوجھ محسوس ہوتا ہے، تو یہ مکمل صفائی کے لیے اضطراب یا دھلائی کے دورانیے کو بڑھا سکتی ہے۔‘</p>
<p>جدید واشنگ مشینیں آپ کے لانڈری سائیکل میں اضافی منٹ بھی لگا سکتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام صابن کو صاف کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30428950</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Dec 2024 13:01:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/12/17130054b3cd3fb.webp?r=130133" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/12/17130054b3cd3fb.webp?r=130133"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27 سال تک چھٹی کیے بغیر کلینر کا کام کرکے بچوں کو کامیاب بنانے والا شخص</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30418624/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;والدین اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتے ہیں، اور آرام کی پرواہ نہیں کرتے۔ ملائیشیا میں ایک صفائی کرنے والے شخص ابوبکر کی کہانی اس کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے 27 سال تک بغیر کسی چھٹی کے کلینر کا کام کیا تاکہ اپنے بچوں کو کامیاب بنا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;70 سالہ ابوبکر بنگلا دیش سے تعلق رکھتے ہیں اور 31 سال پہلے ملازمت کی تلاش میں ملائیشیا آئے۔ انہوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس کام کے لیے تیار تھے جو دوسرے لوگ کرنے سے ہچکچاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا پہنچنے کے بعد وہ ہفتے میں 7 دن کام کرتے رہے اور ایک دن بھی چھٹی نہیں کی۔ ان کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وہ بنگلا دیش بھیجتے رہے، تاکہ بچوں کی تعلیم اور خاندان کے اخراجات پورے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن مقامی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں ایک کلینر کی اوسط ماہانہ تنخواہ 400 ڈالرز ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوبکر نے کہا  کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں، بنگلا دیش واپس نہیں جا سکا۔ میں اپنے خاندان کو یاد کرتا ہوں اور وہ بھی مجھے یاد کرتے ہیں، مگر میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سب کچھ کرتا ہوں۔ ان کی محنت ضائع نہیں گئی۔ ان کی بیٹی اب ایک جج، ایک بیٹا ڈاکٹر، اور دوسرا بیٹا انجینئر بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوبکر نے کہا، ”میں اپنے بچوں کی کامیابیوں پر ان کا شکر گزار ہوں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>والدین اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتے ہیں، اور آرام کی پرواہ نہیں کرتے۔ ملائیشیا میں ایک صفائی کرنے والے شخص ابوبکر کی کہانی اس کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے 27 سال تک بغیر کسی چھٹی کے کلینر کا کام کیا تاکہ اپنے بچوں کو کامیاب بنا سکیں۔</strong></p>
<p>70 سالہ ابوبکر بنگلا دیش سے تعلق رکھتے ہیں اور 31 سال پہلے ملازمت کی تلاش میں ملائیشیا آئے۔ انہوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس کام کے لیے تیار تھے جو دوسرے لوگ کرنے سے ہچکچاتے تھے۔</p>
<p>ملائیشیا پہنچنے کے بعد وہ ہفتے میں 7 دن کام کرتے رہے اور ایک دن بھی چھٹی نہیں کی۔ ان کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وہ بنگلا دیش بھیجتے رہے، تاکہ بچوں کی تعلیم اور خاندان کے اخراجات پورے کر سکیں۔</p>
<p>اگرچہ ان کی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن مقامی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں ایک کلینر کی اوسط ماہانہ تنخواہ 400 ڈالرز ہوتی ہے۔</p>
<p>ابوبکر نے کہا  کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں، بنگلا دیش واپس نہیں جا سکا۔ میں اپنے خاندان کو یاد کرتا ہوں اور وہ بھی مجھے یاد کرتے ہیں، مگر میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سب کچھ کرتا ہوں۔ ان کی محنت ضائع نہیں گئی۔ ان کی بیٹی اب ایک جج، ایک بیٹا ڈاکٹر، اور دوسرا بیٹا انجینئر بن چکا ہے۔</p>
<p>ابوبکر نے کہا، ”میں اپنے بچوں کی کامیابیوں پر ان کا شکر گزار ہوں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30418624</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Oct 2024 14:15:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/2414150907a3056.png?r=141521" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/2414150907a3056.png?r=141521"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین ہوشیار !!! آپ کے کاجل میں زہر ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30405531/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں تقریباً تمام ہی خواتین کاجل کا استعمال کرتی ہیں جو بے شک حسن میں چار میں سے ایک چاند کا کام کرتا ہے، یہاں تک بینائی کیلئے بہترین سمجھا جانے والا کاجل بچوں کو بھی لگایا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ کتنا خطرناک ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کا یہ محبوب کاسمیٹک پروڈکٹ صحت سے جڑے سنگین خطرات کے ساتھ آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”یکس“ پر حال ہی میں ایک پوسٹ وائرل ہوئی ہے، جس میں کاجل سے وابستہ لیڈ پوائزننگ کے خطرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان میں صحت عامہ کا بڑا بحران ہے۔ وہاں تقریباً تمام بچوں کو دائمی لیڈ پوائزننگ ہوتی ہے۔ جس نے ذہانت، علمی صلاحیتوں، سیکھنے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس کا ماخذ کاجل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد مطالعات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرمہ یا کاجل سے صحت کو اہم خطرات لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لیڈ کا استعمال رنگ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اس سے صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، خاص طور پر جب اسے آنکھوں کے قریب لگایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ منی پال ہسپتال بھونیشور ڈاکٹر آکاش اگروال کا کہنا ہے کہ کاجل واقعی لیڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30405159/"&gt;دوپہر کے کھانے سے پہلے نظر آنے والی ذیابیطس کی علامات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ ’بنیادی تشویش یہ ہے کہ کاجل کی کچھ شکلیں، خاص طور پر روایتی یا گھریلو اقسام میں لیڈ کی اعلیٰ سطح ہوتی ہے۔ جب کاجل کو باقاعدگی سے جلد یا نچلی پلکوں پر لگایا جاتا ہے، تو لیڈ خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ لیڈ جمع ہوتا ہے اور صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر کنسلٹنٹ، نیونٹولوجی اینڈ پیڈیاٹرکس، ایسٹر سی ایم آئی ہسپتال بنگلور ڈاکٹر پرملا وی تھروملیش بتاتی ہیں کہ لیڈ ایک طاقتور نیوروٹوکسن ہے۔ جب اسے کھایا جاتا ہے، سانس کے زریعے اندر لیا جاتا ہے، یا جلد کے ذریعے جذب ہوتا ہے، تو یہ اعصابی نظام کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ لیڈ پوائزننگ ایک سنگین مسئلہ ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، اثرات فرد کی عمر اور نمائش کی مدت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آکاش اگروال کہتے ہیں کہ ’بچے خاص طور پر لیڈ پوائزننگ کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم لیڈ کو زیادہ آسانی سے جذب کر لیتے ہیں، اور ان کے نشوونما پاتے دماغوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیڈ والے کاجل کا باقاعدہ استعمال صحت کے اہم مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جن میں سیکھنے میں مشکلات، یادداشت کے مسائل، چڑچڑاپن اور جارحانہ رویہ، ترقیاتی تاخیر وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بچوں کی علمی اور طرز عمل کی نشوونما پر اثرات گہرے ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل مدتی نتائج نکل سکتے ہیں جو ان کی تعلیمی کارکردگی اور سماجی تعاملات کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اگروال مزید بتاتے ہیں کہ جو بالغ افراد کاجل کے باقاعدہ استعمال سے لیڈ کا سامنا کرتے ہیں وہ بھی مضر صحت اثرات کا سامنا کر سکتے ہیں، جیسے پیٹ میں مستقل درد، گردے کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر، دل کے مسائل، اعصابی علامات جیسے سر درد اور شدید صورتوں میں پارکنسنزم سے مشابہہ حالات۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اگروال کے مطابق، حاملہ خواتین کو خاص خطرہ ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران لیڈ پوائزننگ اسقاط حمل، مردہ پیدائش اور جنین میں نشوونما کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ لیڈ پوائزننگ کی علامات کو پہچاننا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اکثر دیگر عام حالات جیسی ہوتی ہیں۔ تاہم، بعض علامات کو تشویش کا باعث بننا چاہیے، خاص طور پر اگر کاجل کو باقاعدگی سے استعمال کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں میں غیر واضح وزن میں کمی، پیٹ میں درد، قے، سر درد، پیلا پن یا خون کی کمی، رویے میں اچانک تبدیلیاں جیسے چڑچڑاپن یا جارحیت لیڈ پوائزننگ کی علامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالغوں میں مسلسل تھکاوٹ، یادداشت کا نقصان، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، ہاضمے کے مسائل علامات میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30405004/"&gt;15 سالہ نوجوان نے اسکن کینسر کے علاج میں مددگار صابن تیار کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر روبی سچدیو بتاتی ہیں کہ معروف برانڈز کے پروڈکٹس کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ وہ لیڈ فری ہیں۔ پیکیجنگ پر سرٹیفیکیشنز یا ریگولیٹری منظوریوں کی جانچ بھی مدد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اجزا کی غیر واضح فہرستوں والی مصنوعات یا مناسب حفاظتی جانچ کے بغیر درآمد کی جانے والی مصنوعات سے گریز کرنا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ اپنا کاجل گھر پر بناتے ہیں، تو ڈاکٹر آکاش اگروال کا کہنا ہے کہ سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھر میں بنی یا مقامی طور پر بنی کاجل، خاص طور پر تہواروں کے دوران مٹی کے برتنوں کو جلا کر استعمال کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ورژن مختلف مقدار میں لیڈ پر مشتمل ہوسکتے ہیں، جو انہیں طویل مدت میں صحت کے لیے خطرناک بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں تقریباً تمام ہی خواتین کاجل کا استعمال کرتی ہیں جو بے شک حسن میں چار میں سے ایک چاند کا کام کرتا ہے، یہاں تک بینائی کیلئے بہترین سمجھا جانے والا کاجل بچوں کو بھی لگایا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ کتنا خطرناک ہے؟</strong></p>
<p>خواتین کا یہ محبوب کاسمیٹک پروڈکٹ صحت سے جڑے سنگین خطرات کے ساتھ آتا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”یکس“ پر حال ہی میں ایک پوسٹ وائرل ہوئی ہے، جس میں کاجل سے وابستہ لیڈ پوائزننگ کے خطرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔</p>
<p>پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان میں صحت عامہ کا بڑا بحران ہے۔ وہاں تقریباً تمام بچوں کو دائمی لیڈ پوائزننگ ہوتی ہے۔ جس نے ذہانت، علمی صلاحیتوں، سیکھنے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس کا ماخذ کاجل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متعدد مطالعات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرمہ یا کاجل سے صحت کو اہم خطرات لاحق ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لیڈ کا استعمال رنگ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اس سے صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، خاص طور پر جب اسے آنکھوں کے قریب لگایا جائے۔</p>
<p>کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ منی پال ہسپتال بھونیشور ڈاکٹر آکاش اگروال کا کہنا ہے کہ کاجل واقعی لیڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30405159/">دوپہر کے کھانے سے پہلے نظر آنے والی ذیابیطس کی علامات</a></strong></p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ ’بنیادی تشویش یہ ہے کہ کاجل کی کچھ شکلیں، خاص طور پر روایتی یا گھریلو اقسام میں لیڈ کی اعلیٰ سطح ہوتی ہے۔ جب کاجل کو باقاعدگی سے جلد یا نچلی پلکوں پر لگایا جاتا ہے، تو لیڈ خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ لیڈ جمع ہوتا ہے اور صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔</p>
<p>سینئر کنسلٹنٹ، نیونٹولوجی اینڈ پیڈیاٹرکس، ایسٹر سی ایم آئی ہسپتال بنگلور ڈاکٹر پرملا وی تھروملیش بتاتی ہیں کہ لیڈ ایک طاقتور نیوروٹوکسن ہے۔ جب اسے کھایا جاتا ہے، سانس کے زریعے اندر لیا جاتا ہے، یا جلد کے ذریعے جذب ہوتا ہے، تو یہ اعصابی نظام کو کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ لیڈ پوائزننگ ایک سنگین مسئلہ ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، اثرات فرد کی عمر اور نمائش کی مدت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر آکاش اگروال کہتے ہیں کہ ’بچے خاص طور پر لیڈ پوائزننگ کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم لیڈ کو زیادہ آسانی سے جذب کر لیتے ہیں، اور ان کے نشوونما پاتے دماغوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔‘</p>
<p>لیڈ والے کاجل کا باقاعدہ استعمال صحت کے اہم مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جن میں سیکھنے میں مشکلات، یادداشت کے مسائل، چڑچڑاپن اور جارحانہ رویہ، ترقیاتی تاخیر وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بچوں کی علمی اور طرز عمل کی نشوونما پر اثرات گہرے ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل مدتی نتائج نکل سکتے ہیں جو ان کی تعلیمی کارکردگی اور سماجی تعاملات کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر اگروال مزید بتاتے ہیں کہ جو بالغ افراد کاجل کے باقاعدہ استعمال سے لیڈ کا سامنا کرتے ہیں وہ بھی مضر صحت اثرات کا سامنا کر سکتے ہیں، جیسے پیٹ میں مستقل درد، گردے کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر، دل کے مسائل، اعصابی علامات جیسے سر درد اور شدید صورتوں میں پارکنسنزم سے مشابہہ حالات۔</p>
<p>ڈاکٹر اگروال کے مطابق، حاملہ خواتین کو خاص خطرہ ہوتا ہے کیونکہ حمل کے دوران لیڈ پوائزننگ اسقاط حمل، مردہ پیدائش اور جنین میں نشوونما کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ لیڈ پوائزننگ کی علامات کو پہچاننا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اکثر دیگر عام حالات جیسی ہوتی ہیں۔ تاہم، بعض علامات کو تشویش کا باعث بننا چاہیے، خاص طور پر اگر کاجل کو باقاعدگی سے استعمال کیا گیا ہو۔</p>
<p>بچوں میں غیر واضح وزن میں کمی، پیٹ میں درد، قے، سر درد، پیلا پن یا خون کی کمی، رویے میں اچانک تبدیلیاں جیسے چڑچڑاپن یا جارحیت لیڈ پوائزننگ کی علامات ہیں۔</p>
<p>بالغوں میں مسلسل تھکاوٹ، یادداشت کا نقصان، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، ہاضمے کے مسائل علامات میں شامل ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30405004/">15 سالہ نوجوان نے اسکن کینسر کے علاج میں مددگار صابن تیار کرلیا</a></strong></p>
<p>ڈاکٹر روبی سچدیو بتاتی ہیں کہ معروف برانڈز کے پروڈکٹس کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ وہ لیڈ فری ہیں۔ پیکیجنگ پر سرٹیفیکیشنز یا ریگولیٹری منظوریوں کی جانچ بھی مدد کر سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم، اجزا کی غیر واضح فہرستوں والی مصنوعات یا مناسب حفاظتی جانچ کے بغیر درآمد کی جانے والی مصنوعات سے گریز کرنا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ اپنا کاجل گھر پر بناتے ہیں، تو ڈاکٹر آکاش اگروال کا کہنا ہے کہ سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھر میں بنی یا مقامی طور پر بنی کاجل، خاص طور پر تہواروں کے دوران مٹی کے برتنوں کو جلا کر استعمال کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>یہ ورژن مختلف مقدار میں لیڈ پر مشتمل ہوسکتے ہیں، جو انہیں طویل مدت میں صحت کے لیے خطرناک بنا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30405531</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Aug 2024 19:31:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/20192830b112996.webp?r=192934" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/20192830b112996.webp?r=192934"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پرفیوم کی خالی بوتلیں ضائع نہ کریں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30397646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثرپرفیوم کی خالی بوتلوں کو بے کارسمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ انہیں گھر کی سجاوٹ سے لے کر جلد کی دیکھ بھال والی مصنوعات رکھنے تک کئی طرح سے کام میں لایا جاسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اپنے گھر کو پرفیوم کی خالی بوتل سے بھی مہکا سکتی ہیں۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ پرفیوم کی خالی بوتل میں پانی ڈال دیں اور2 سے 5 پھول لگا دیں۔ پورے پھولوں کی بجائے، صرف پتیاں بھی سجا سکتے ہیں۔ لیجیے ایک خوبصورت گلدان تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30397542/"&gt;چیلنج قبول کیجئے: کتنی دیر میں تصویر موجود صابن کو تلاش کرسکتے ہیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرفیوم کی بوتلوں کے مختلف ڈیزائن اور شکلیں مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں، جو دیکھنے میں انتہائی خوبصورت لگتی ہیں۔ آپ اس میں چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پتھر ڈال کر اسے شوپیس کی شکل بھی دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرفیوم کی بوتل کے اوپری حصے کو احتیاط کے ساتھ ہٹاکر اس میں موم بتیاں ڈال دیں اور انہیں روشن کردیں تو یہ پرفیوم کی خالی بوتل ایک خوبصورت کینڈل ہولڈر میں تبدیل ہو جائیں گی اور گھر کو خوبصورت اور معطر کر دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرفیوم کی خالی بوتلوں کو اگر الماری میں کپڑوں کے ساتھ رکھ دیا جائے، تو اس سے الماری کے ساتھ ساتھ کپڑوں میں بھی خوشبو موجود رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثرپرفیوم کی خالی بوتلوں کو بے کارسمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ انہیں گھر کی سجاوٹ سے لے کر جلد کی دیکھ بھال والی مصنوعات رکھنے تک کئی طرح سے کام میں لایا جاسکتا ہے۔</strong></p>
<p>آپ اپنے گھر کو پرفیوم کی خالی بوتل سے بھی مہکا سکتی ہیں۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ پرفیوم کی خالی بوتل میں پانی ڈال دیں اور2 سے 5 پھول لگا دیں۔ پورے پھولوں کی بجائے، صرف پتیاں بھی سجا سکتے ہیں۔ لیجیے ایک خوبصورت گلدان تیار ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30397542/">چیلنج قبول کیجئے: کتنی دیر میں تصویر موجود صابن کو تلاش کرسکتے ہیں</a></p>
<p>پرفیوم کی بوتلوں کے مختلف ڈیزائن اور شکلیں مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں، جو دیکھنے میں انتہائی خوبصورت لگتی ہیں۔ آپ اس میں چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پتھر ڈال کر اسے شوپیس کی شکل بھی دے سکتے ہیں۔</p>
<p>پرفیوم کی بوتل کے اوپری حصے کو احتیاط کے ساتھ ہٹاکر اس میں موم بتیاں ڈال دیں اور انہیں روشن کردیں تو یہ پرفیوم کی خالی بوتل ایک خوبصورت کینڈل ہولڈر میں تبدیل ہو جائیں گی اور گھر کو خوبصورت اور معطر کر دیں گی۔</p>
<p>پرفیوم کی خالی بوتلوں کو اگر الماری میں کپڑوں کے ساتھ رکھ دیا جائے، تو اس سے الماری کے ساتھ ساتھ کپڑوں میں بھی خوشبو موجود رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30397646</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jul 2024 17:09:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/131538087240c88.webp?r=153813" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/131538087240c88.webp?r=153813"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگے ترین میکڈونلڈز میں ہر بار کم ترین قیمت پر پسندیدہ کھانا حاصل کرنے کی ترکیب وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30396269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں لیکن جیب اجازت نہیں دیتی تو یہاں ایک ایسی ٹرک بتائی جا رہی ہے جو آپ کو عالمی سطح پر مشہور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ”میکڈونلڈز“ کے کھانے انتہائی رعایتی قیمت پر دلا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارڈن کاکس کو برطانیہ میں“کوپن کڈ“ کہا جاتا ہے،  جو ٹی وی شوز میں بھی نظر آتے ہیں اور کم قیمت میں چیزیں حاصل کرنے کے گُر بتاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میکڈونلڈز میں کم قیمت پر کھانے کی اشیاء حاصل کرنے کی ایک لامحدود چین کا انکشاف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارڈن کاکس نے انسٹاگرام پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’اب کبھی بھی کھانے کی پوری قیمت ادا نہ کریں!‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں اس کا طریقہ بتاتے ہوئے لکھا، ’میکڈونلڈز کی ہر رسید کے اوپر، ”فوڈ فار تھاٹس“ (Food For Thoughts) کے نام سے ایک سروے ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنا کوڈ درج کریں اور سروے کو پُر کریں۔ (جس میں 1 سے 2 منٹ لگتے ہیں)، تو آپ کو ای میل کے ذریعے 2.99 پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار 70 پاکستانی روپے) کا ایک فوڈ  واؤچر موصول ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/062013373ddab3e.png'  alt=' میکڈونلڈز کی رسید پر موجود سروے کوڈ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;میکڈونلڈز کی رسید پر موجود سروے کوڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کھانے اشیاء میں ’آپ بگ میک، میک چکن، کوارٹر پاؤنڈر، چھ چکن نگٹس، فلے او فش یا میک پلانٹ کے ساتھ فرائز یا سائیڈ سلاد میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارڈن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’جب آپ ٹچ اسکرین پر اپنا ای میل واؤچر استعمال کرتے ہیں، سستے کھانے کے ساتھ اپنا آرڈر دیتے ہیں تو اس پر آپ کو ایک اور رسید ملتی ہے۔ پھر آپ اسے بھی پُر کر سکتے ہیں۔ سروے پُر کریں، اور اگلی بار کے لیے ایک اور واؤچر حاصل کریں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے میکڈونلڈز کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی رسید ہاتھ میں رکھیں اور سروے میں حصہ لینے کے لیے ہمارے کسٹمر سیٹسفیکشن سروے کا پیج دیکھیں۔ سروے کے اختتام پر، آپ کو مستقبل میں میک ڈونلڈز آنے پر استعمال کرنے کے لیے ایک تصدیقی کوڈ موصول ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگوں نے جاردن کی ویڈیو پر تبصروں میں اس ہیک کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شخص نے شیئر کیا، ’میں ہمیشہ یہ کرتا ہوں، میرے دوست ایسا کرنے والے سمجھدار نہیں،  لہٰذا میں ہمیشہ ان کی رسیدیں لیتا ہوں اور جمع رکھتا ہوں، میرے پاس فی الحال تین ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے میں حصہ لینے کیلئے آپ کو اپنی رسید کے اوپر درج 26 ہندسوں والے سروے کوڈ کو میکڈونلڈز کے کسٹمر سیٹفسفیکشن پیج پر درج کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/06201522cee75a5.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کی رسید پر سروے کوڈ نہیں تو اور دکھائی گئی تصویر میں موجود رسید کے نیچے موجود لنک پر کلک کرکے رسید کی کچھ تفصیلات درج کرنی ہوں گی جو کہ نیچے موجود تصویر میں دکھائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/062018043d2c9b8.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ’اسٹارٹ‘ پر کلک کرکے اپنا سروے مکمل کریں اور ڈسکاؤنٹ واؤچر حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ ترکیب پاکستان میں کتنی کارآمد ہے اس کا تو آپ کو آزما  کر ہی پتا چلے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں لیکن جیب اجازت نہیں دیتی تو یہاں ایک ایسی ٹرک بتائی جا رہی ہے جو آپ کو عالمی سطح پر مشہور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ”میکڈونلڈز“ کے کھانے انتہائی رعایتی قیمت پر دلا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>جارڈن کاکس کو برطانیہ میں“کوپن کڈ“ کہا جاتا ہے،  جو ٹی وی شوز میں بھی نظر آتے ہیں اور کم قیمت میں چیزیں حاصل کرنے کے گُر بتاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے میکڈونلڈز میں کم قیمت پر کھانے کی اشیاء حاصل کرنے کی ایک لامحدود چین کا انکشاف کیا ہے۔</p>
<p>جارڈن کاکس نے انسٹاگرام پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’اب کبھی بھی کھانے کی پوری قیمت ادا نہ کریں!‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371454"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں اس کا طریقہ بتاتے ہوئے لکھا، ’میکڈونلڈز کی ہر رسید کے اوپر، ”فوڈ فار تھاٹس“ (Food For Thoughts) کے نام سے ایک سروے ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنا کوڈ درج کریں اور سروے کو پُر کریں۔ (جس میں 1 سے 2 منٹ لگتے ہیں)، تو آپ کو ای میل کے ذریعے 2.99 پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار 70 پاکستانی روپے) کا ایک فوڈ  واؤچر موصول ہوگا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/062013373ddab3e.png'  alt=' میکڈونلڈز کی رسید پر موجود سروے کوڈ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>میکڈونلڈز کی رسید پر موجود سروے کوڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کھانے اشیاء میں ’آپ بگ میک، میک چکن، کوارٹر پاؤنڈر، چھ چکن نگٹس، فلے او فش یا میک پلانٹ کے ساتھ فرائز یا سائیڈ سلاد میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘</p>
<p>جارڈن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’جب آپ ٹچ اسکرین پر اپنا ای میل واؤچر استعمال کرتے ہیں، سستے کھانے کے ساتھ اپنا آرڈر دیتے ہیں تو اس پر آپ کو ایک اور رسید ملتی ہے۔ پھر آپ اسے بھی پُر کر سکتے ہیں۔ سروے پُر کریں، اور اگلی بار کے لیے ایک اور واؤچر حاصل کریں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/C8Rsq8aI4dl/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے میکڈونلڈز کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی رسید ہاتھ میں رکھیں اور سروے میں حصہ لینے کے لیے ہمارے کسٹمر سیٹسفیکشن سروے کا پیج دیکھیں۔ سروے کے اختتام پر، آپ کو مستقبل میں میک ڈونلڈز آنے پر استعمال کرنے کے لیے ایک تصدیقی کوڈ موصول ہوگا۔‘</p>
<p>بہت سے لوگوں نے جاردن کی ویڈیو پر تبصروں میں اس ہیک کی تصدیق کی۔</p>
<p>ایک شخص نے شیئر کیا، ’میں ہمیشہ یہ کرتا ہوں، میرے دوست ایسا کرنے والے سمجھدار نہیں،  لہٰذا میں ہمیشہ ان کی رسیدیں لیتا ہوں اور جمع رکھتا ہوں، میرے پاس فی الحال تین ہیں۔‘</p>
<p>اس سروے میں حصہ لینے کیلئے آپ کو اپنی رسید کے اوپر درج 26 ہندسوں والے سروے کوڈ کو میکڈونلڈز کے کسٹمر سیٹفسفیکشن پیج پر درج کرنا ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/06201522cee75a5.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر آپ کی رسید پر سروے کوڈ نہیں تو اور دکھائی گئی تصویر میں موجود رسید کے نیچے موجود لنک پر کلک کرکے رسید کی کچھ تفصیلات درج کرنی ہوں گی جو کہ نیچے موجود تصویر میں دکھائی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/07/062018043d2c9b8.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد ’اسٹارٹ‘ پر کلک کرکے اپنا سروے مکمل کریں اور ڈسکاؤنٹ واؤچر حاصل کریں۔</p>
<p>لیکن یہ ترکیب پاکستان میں کتنی کارآمد ہے اس کا تو آپ کو آزما  کر ہی پتا چلے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30396269</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jul 2024 20:28:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/06202346dbea8af.webp?r=202427" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/06202346dbea8af.webp?r=202427"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشکل ڈائٹ اور بھاری ورزش سے چھٹکارا، اب صرف ’بوسوں‘ سے وزن گھٹائیں اور اسمارٹ بن جائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30396263/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موٹاپے کا شکار یا اپنے وزن سے پریشان افراد اپنی جسمانی حالت کو نارمل کرنے کیلئے کئی جتن کرتے ہیں، جیسے مختلف ورزش کرنا یا بھوکا رہنا اور ڈائٹ کرنا، لیکن اس مشقت کے باوجود اگر وزن کم نہ ہو تو دل میں مایوسی گھر کرلیتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ محنت کے بجائے صرف محبت سے ہی اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ جولائی کو ”بوسے کے عالمی دن“ پر ڈیٹنگ گرو جیکب لوکس نے انکشاف کیا کہ اگر بنا محنت کے وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین زریعہ بوسہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیکب نے بتایا، ’لعاب میں بہت سے مادے ہوتے ہیں جو بیکٹیریا یا وائرس سے لڑ سکتے ہیں، اور بوسہ اکثر ہمارے لعاب کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے، جو ہمارے منہ، دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’یہ ہماری قوت مدافعت پر بھی اثر ڈالتا ہے، کیونکہ بوسہ ہمیں کسی دوسرے شخص کے منہ میں چھپے ہوئے ممکنہ جراثیم سے آگاہ کرتا ہے اور ہمارے بیکٹیریا کو ان سے لڑنے کی صلاحیت سے لیس کرتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30356637/"&gt;سلمان خان نے خاتون صحافی کو سر عام بوسہ دے دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’بوسہ ہمارے جسم کے متعدد عضلات کو متحرک کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور کچھ مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ 26 کیلوریز فی منٹ جلا سکتے ہیں جو کہ پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں 100 کیلوریز سے زیادہ ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، لاس اینجلس میں مقیم سیکسالوجسٹ جیا کنزباچ کا کہنا ہے کہ بوسہ کناری کا ایک دور فی منٹ 2 سے 6 کیلوریز جلا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’درحقیقت، بوسہ جتنا زیادہ پرجوش اور لمبا ہوگا، آپ اتنی ہی زیادہ کیلوریز جلائیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30379809/"&gt;عربی ناک کو بوسہ کیوں دیتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیکب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بوسے کا عمل آپ کے دماغ سے کیمیکلز کا ایک کاک ٹیل بشمول آکسیٹوسن، ڈوپامائن، اور سیروٹونن چھوڑنے کا سبب بنتا ہے، جو کہایک پرجوش احساس کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں پیار محسوس کرنے اور ساتھ رہنے کی ترغیب بھی دے سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور وہ لوگ جو ذہنی تناؤ کو کم کرنا چاہتے ہیں، جیکب نے ان کے لیے بھی اچھی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ’بوسہ جسم کے کورٹیسول لیول کو بھی کم کر سکتا ہے، جو آپ کو آرام دیتا ہے اور تناؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کورٹیسول وہ کیمیکل ہے جو آپ کا جسم لڑائی یا پرواز کے دوران خارج کرتا ہے اور یہ تناؤ اور بے چینی سے منسلک ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30384705"&gt;خاتون کی درفشاں سلیم کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حرکت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے کہا کہ ’بوسہ آپ کے دل کی دھڑکن کو بڑھا سکتا ہے جس کے نتیجے میں آپ کی خون کی شریانیں پھیل جاتی ہیں، جب ایسا ہوتا ہے تو خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور اس سے ماہواری کے درد یا درد شقیقہ کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہمارے جسم میں سیروٹونن کا اضافہ بھی ہوتا ہے جو ایک درد کو دور کرنے والا قدرتی کیمیکل کہلاتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موٹاپے کا شکار یا اپنے وزن سے پریشان افراد اپنی جسمانی حالت کو نارمل کرنے کیلئے کئی جتن کرتے ہیں، جیسے مختلف ورزش کرنا یا بھوکا رہنا اور ڈائٹ کرنا، لیکن اس مشقت کے باوجود اگر وزن کم نہ ہو تو دل میں مایوسی گھر کرلیتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ محنت کے بجائے صرف محبت سے ہی اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>چھ جولائی کو ”بوسے کے عالمی دن“ پر ڈیٹنگ گرو جیکب لوکس نے انکشاف کیا کہ اگر بنا محنت کے وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین زریعہ بوسہ ہے۔</p>
<p>جیکب نے بتایا، ’لعاب میں بہت سے مادے ہوتے ہیں جو بیکٹیریا یا وائرس سے لڑ سکتے ہیں، اور بوسہ اکثر ہمارے لعاب کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے، جو ہمارے منہ، دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’یہ ہماری قوت مدافعت پر بھی اثر ڈالتا ہے، کیونکہ بوسہ ہمیں کسی دوسرے شخص کے منہ میں چھپے ہوئے ممکنہ جراثیم سے آگاہ کرتا ہے اور ہمارے بیکٹیریا کو ان سے لڑنے کی صلاحیت سے لیس کرتا ہے۔‘</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30356637/">سلمان خان نے خاتون صحافی کو سر عام بوسہ دے دیا</a></strong></p>
<p>انہوں نے کہا، ’بوسہ ہمارے جسم کے متعدد عضلات کو متحرک کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور کچھ مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپ 26 کیلوریز فی منٹ جلا سکتے ہیں جو کہ پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں 100 کیلوریز سے زیادہ ہے۔‘</p>
<p>تاہم، لاس اینجلس میں مقیم سیکسالوجسٹ جیا کنزباچ کا کہنا ہے کہ بوسہ کناری کا ایک دور فی منٹ 2 سے 6 کیلوریز جلا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’درحقیقت، بوسہ جتنا زیادہ پرجوش اور لمبا ہوگا، آپ اتنی ہی زیادہ کیلوریز جلائیں گے۔‘</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30379809/">عربی ناک کو بوسہ کیوں دیتے ہیں؟</a></strong></p>
<p>جیکب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بوسے کا عمل آپ کے دماغ سے کیمیکلز کا ایک کاک ٹیل بشمول آکسیٹوسن، ڈوپامائن، اور سیروٹونن چھوڑنے کا سبب بنتا ہے، جو کہایک پرجوش احساس کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں پیار محسوس کرنے اور ساتھ رہنے کی ترغیب بھی دے سکتے ہیں۔‘</p>
<p>اور وہ لوگ جو ذہنی تناؤ کو کم کرنا چاہتے ہیں، جیکب نے ان کے لیے بھی اچھی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ’بوسہ جسم کے کورٹیسول لیول کو بھی کم کر سکتا ہے، جو آپ کو آرام دیتا ہے اور تناؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کورٹیسول وہ کیمیکل ہے جو آپ کا جسم لڑائی یا پرواز کے دوران خارج کرتا ہے اور یہ تناؤ اور بے چینی سے منسلک ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30384705">خاتون کی درفشاں سلیم کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حرکت</a></strong></p>
<p>آخر میں انہوں نے کہا کہ ’بوسہ آپ کے دل کی دھڑکن کو بڑھا سکتا ہے جس کے نتیجے میں آپ کی خون کی شریانیں پھیل جاتی ہیں، جب ایسا ہوتا ہے تو خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور اس سے ماہواری کے درد یا درد شقیقہ کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہمارے جسم میں سیروٹونن کا اضافہ بھی ہوتا ہے جو ایک درد کو دور کرنے والا قدرتی کیمیکل کہلاتا ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30396263</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jul 2024 19:44:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/07/06193729962e8f1.webp?r=194123" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/07/06193729962e8f1.webp?r=194123"/>
        <media:title>ٍعلامتی تصویر: پکسا بے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بکرے کی منفرد نسل، چلے تو ایسے جیسے ڈانس کررہا ہو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30391946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلابی رنگ، اونچا قد اور لمبے بال ، چلے تو ایسے جیسے ڈانس کررہا ہو، کراچی میں ناچی نسل کے بکرے نے بچوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناچی نسل کے بکرے پاکستان کے سندھ صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر مشہور ہیں، یہ نسل خاص طور پر تھرپارکر اور میرپورخاص کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالک کا کہنا ہے کہ ہے یہ نسل نایاب ہوتی ہے ان بکروں کی خوصوصیت یہ ہوتی ہے کہ جب چلتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ڈانس کررہے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بکرے کے مالک نے بتایا کہ 6 ماہ قبل اسے خریدا جب سے خود پال رہا ہوں گلابی رنگ میں یہ نسل بہت مشکل سے ملتی ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناچی بکرے عام طور پر درمیانے قد کے ہوتے ہیں ان کا جسم مضبوط اور خوبصورت ہوتا ہے، یہ بکرے نہایت ہوشیار اور جلدی سیکھنے والے ہوتے ہیں، ان کے کان لمبے اور نازک ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نسل نہ صرف اپنے منفرد جسمانی خواص کی بنا پر بلکہ اپنے علاقے کی موسمی حالات کے مطابق ڈھل جانے کی صلاحیت کی بنا پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلابی رنگ، اونچا قد اور لمبے بال ، چلے تو ایسے جیسے ڈانس کررہا ہو، کراچی میں ناچی نسل کے بکرے نے بچوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔</strong></p>
<p>ناچی نسل کے بکرے پاکستان کے سندھ صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر مشہور ہیں، یہ نسل خاص طور پر تھرپارکر اور میرپورخاص کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔</p>
<p>مالک کا کہنا ہے کہ ہے یہ نسل نایاب ہوتی ہے ان بکروں کی خوصوصیت یہ ہوتی ہے کہ جب چلتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ڈانس کررہے ہیں ۔</p>
<p>بکرے کے مالک نے بتایا کہ 6 ماہ قبل اسے خریدا جب سے خود پال رہا ہوں گلابی رنگ میں یہ نسل بہت مشکل سے ملتی ہے ۔</p>
<p>ناچی بکرے عام طور پر درمیانے قد کے ہوتے ہیں ان کا جسم مضبوط اور خوبصورت ہوتا ہے، یہ بکرے نہایت ہوشیار اور جلدی سیکھنے والے ہوتے ہیں، ان کے کان لمبے اور نازک ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہ نسل نہ صرف اپنے منفرد جسمانی خواص کی بنا پر بلکہ اپنے علاقے کی موسمی حالات کے مطابق ڈھل جانے کی صلاحیت کی بنا پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30391946</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Jun 2024 22:18:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر کامران)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/14221814be76875.png?r=221855" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/14221814be76875.png?r=221855"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/VxUUqgUnq6g/maxresdefault.jpg?r=221855" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/VxUUqgUnq6g/mqdefault.jpg?r=221855"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=VxUUqgUnq6g"/>
        <media:title>Goats of Nachi breed are the center of interest of children in Karachi - Aaj News
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیموں کے پانی سے وزن میں کمی، حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30389671/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیموں پانی کے ذریعے تیزی کے ساتھ وزن کم کرنے کے ٹوٹکے بتائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ کچھ پوسٹوں میں یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ اگر کم وقت میں وزن گھٹانا ہے تو لیموں پانی کو آسان غذا کے طور پر استعمال کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر کیا لیموں پانی کے ذریعے وزن کم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت شامل ہے یا بس یہ ایک ہوا میں اڑائی ہوئی ایک بات ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ورجینیا کے ماہرِ غذائیت کیرولین تھامسن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ لیموں کا پانی قدرتی طور پر نمی بخش اور تیزابیت کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ یعنی ایسی خصوصیات جس کی وجہ سے انسان کو بار بار باتھ روم جانا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نے اس کی مثال کچھ یوں دی کہ اگر کوئی شخص باتھ روم جانے سے قبل اور بعد میں اپنا وزن کرتا ہے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کے وزن میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صبح سویرے لیموں پانی کا استعمال وزن میں جادوئی کمی لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولین تھامسن کے مطابق ایسا کوئی جادوئی کھانا یا مشروب موجود نہیں جو جسم سے چربی پگھلانے میں مدد فراہم کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے بہترین غذا اور ورزش کو معمول بنانا زیادہ بہتر آپشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین غذائیت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کوئی ثبوت ایسا نہیں ملتا کہ جس سے پانی میں لیموں ملانے سے انسان کا وزن کم ہوجائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لیموں پانی کے ذریعے تیزی کے ساتھ وزن کم کرنے کے ٹوٹکے بتائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ کچھ پوسٹوں میں یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ اگر کم وقت میں وزن گھٹانا ہے تو لیموں پانی کو آسان غذا کے طور پر استعمال کریں۔</strong></p>
<p>مگر کیا لیموں پانی کے ذریعے وزن کم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت شامل ہے یا بس یہ ایک ہوا میں اڑائی ہوئی ایک بات ہے؟</p>
<p>اس حوالے سے ورجینیا کے ماہرِ غذائیت کیرولین تھامسن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ لیموں کا پانی قدرتی طور پر نمی بخش اور تیزابیت کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ یعنی ایسی خصوصیات جس کی وجہ سے انسان کو بار بار باتھ روم جانا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر نے اس کی مثال کچھ یوں دی کہ اگر کوئی شخص باتھ روم جانے سے قبل اور بعد میں اپنا وزن کرتا ہے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کے وزن میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صبح سویرے لیموں پانی کا استعمال وزن میں جادوئی کمی لائے۔</p>
<p>کیرولین تھامسن کے مطابق ایسا کوئی جادوئی کھانا یا مشروب موجود نہیں جو جسم سے چربی پگھلانے میں مدد فراہم کرسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے بہترین غذا اور ورزش کو معمول بنانا زیادہ بہتر آپشن ہے۔</p>
<p>ماہرین غذائیت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کوئی ثبوت ایسا نہیں ملتا کہ جس سے پانی میں لیموں ملانے سے انسان کا وزن کم ہوجائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30389671</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Jun 2024 07:00:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/04232507d2646f4.png?r=233402" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/04232507d2646f4.png?r=233402"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹھنڈک میں اے سی کو بھی مات دینے والا ’باہو بلی‘ ائیرکولر مارکیٹ میں آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30389421/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک طرف جہاں خطے میں سورج نے قہر ڈھایا ہوا ہے اور گرمی سے لوگوں کا برا حال ہے، وہیں لوگ اس گرمی سے چھٹکارے کیلئے حل تلاش کرنے میں جُتے ہوئے ہیں، کوئی ائیر کنڈیشن میں پڑا ہوا ہے تو کوئی پنکھے سے کام چلا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو پنکھے میں لیٹا ہے اسے گرمی سے چھٹکارہ نہیں مل پارہا اور جو اے سی میں ٹھںڈا ہورہا ہے اسے ڈر ہے کہ بجلے کے بھاری بل کیسے ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں جو بیچ کا حل بچتا ہے وہ ائیر کولر ہے، جو ٹھنڈی ہوا بھی دیتا ہے اور بجلی بھی کم خرچ کرتا ہے، ساتھ ہی سستا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں نئے نئے ماڈلز کے ائیر کولر آگئے ہیں ، جبکہ کچھ دیسی جگاڑ سے بھی بنائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک کولر ایسا بھی ہے جسے ائیر کولرز کا ”باہو بلی“ قرار دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا جرہا ہے کہ یہ ٹھنڈک میں اے سی کو بھی مات دے دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باہوبلی کولر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ٹھنڈک ہے۔ اس کا کولنگ ایفیکٹ اتنا اچھا ہے کہ یہ اے سی کی طرح کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ باہوبلی کولر بنانے والی کمپنی نے چھوٹے اور بڑے سائز کے چار ماڈل لانچ کیے ہیں۔ یہ چاروں ماڈلز اونچائی اور سائز کے حساب سے مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/0322135089a9a4a.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس باہوبلی کولر کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بجلی کے جھٹکے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ اسے زیادہ پسند کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ اس کی باڈی فائبر سے بنی ہے اس لیے اس میں کرنٹ لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دعویٰ کیا گیا ہے کہ کولنگ کے معاملے میں یہ کولر اے سی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کے سائز کے بارے میں بات کریں تو یہ دیگر کولرز کے مقابلے میں کافی ٹھیک ہے اور گھر میں بھی کم جگہ لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر آپ یہ کولر خریدنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو سرحد پار راجستھان جانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت کی بات کریں تو بازاروں میں باہوبلی کولر کی قیمت 8 ہزار بھارتی روپے سے 15 ہزار بھارتی روپے تک ہے جو کہ پاکستانی 27 سے 50 ہزار روپے بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک طرف جہاں خطے میں سورج نے قہر ڈھایا ہوا ہے اور گرمی سے لوگوں کا برا حال ہے، وہیں لوگ اس گرمی سے چھٹکارے کیلئے حل تلاش کرنے میں جُتے ہوئے ہیں، کوئی ائیر کنڈیشن میں پڑا ہوا ہے تو کوئی پنکھے سے کام چلا رہا ہے۔</strong></p>
<p>جو پنکھے میں لیٹا ہے اسے گرمی سے چھٹکارہ نہیں مل پارہا اور جو اے سی میں ٹھںڈا ہورہا ہے اسے ڈر ہے کہ بجلے کے بھاری بل کیسے ادا کرے گا۔</p>
<p>ایسے میں جو بیچ کا حل بچتا ہے وہ ائیر کولر ہے، جو ٹھنڈی ہوا بھی دیتا ہے اور بجلی بھی کم خرچ کرتا ہے، ساتھ ہی سستا بھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مارکیٹ میں نئے نئے ماڈلز کے ائیر کولر آگئے ہیں ، جبکہ کچھ دیسی جگاڑ سے بھی بنائے گئے ہیں۔</p>
<p>لیکن ایک کولر ایسا بھی ہے جسے ائیر کولرز کا ”باہو بلی“ قرار دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا جرہا ہے کہ یہ ٹھنڈک میں اے سی کو بھی مات دے دے گا۔</p>
<p>باہوبلی کولر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ٹھنڈک ہے۔ اس کا کولنگ ایفیکٹ اتنا اچھا ہے کہ یہ اے سی کی طرح کام کر رہا ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ باہوبلی کولر بنانے والی کمپنی نے چھوٹے اور بڑے سائز کے چار ماڈل لانچ کیے ہیں۔ یہ چاروں ماڈلز اونچائی اور سائز کے حساب سے مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/06/0322135089a9a4a.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اس باہوبلی کولر کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بجلی کے جھٹکے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ اسے زیادہ پسند کر رہے ہیں۔</p>
<p>کیونکہ اس کی باڈی فائبر سے بنی ہے اس لیے اس میں کرنٹ لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔</p>
<p>دعویٰ کیا گیا ہے کہ کولنگ کے معاملے میں یہ کولر اے سی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کے سائز کے بارے میں بات کریں تو یہ دیگر کولرز کے مقابلے میں کافی ٹھیک ہے اور گھر میں بھی کم جگہ لیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30388922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لیکن اگر آپ یہ کولر خریدنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو سرحد پار راجستھان جانا ہوگا۔</p>
<p>قیمت کی بات کریں تو بازاروں میں باہوبلی کولر کی قیمت 8 ہزار بھارتی روپے سے 15 ہزار بھارتی روپے تک ہے جو کہ پاکستانی 27 سے 50 ہزار روپے بنتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30389421</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jun 2024 07:30:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/06/03221723cb4a4ed.webp?r=222023" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/06/03221723cb4a4ed.webp?r=222023"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمیوں میں بیڈروم کو بغیر ایئر کنڈیشن ٹھنڈا رکھنے کی ٹپس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30387552/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے لمحہ فکر ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی سے لوگ پریشان ہیں۔ عموماً گھروں اور دفاتر میں گرمی پر قابو پانے کے لیے ایئر کنڈیشنرز لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ایئر کنڈیشنر اندر جتنا ٹھنڈا کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بجلی کا بل اور باہر گرمی بڑھا دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی میں ایئر کنڈیشنرز سے نکلنے والی گیس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تو پھر گھروں کو ٹھنڈا کرنے کا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے بھی آج کے مہنگائی کے دور میں ہر کوئی ایئر کنڈیشن اور اس کے بل کو افورڈ نہیں کر سکتا ہے، لیکن ایسے کئی طریقے موجود ہیں، جن پر عمل کر کے گرمیوں کے موسم میں اپنے گھر کے کمروں کو ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سورج-کی-شعاعوں-کو-بلاک-کر-دیں" href="#سورج-کی-شعاعوں-کو-بلاک-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سورج کی شعاعوں کو بلاک کر دیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سورج کی کرنیں کھڑکیوں کے ذریعے کمرے میں داخل ہوکر اسے گرم کر دیتی ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے، دن کے گرم اوقات میں کمرے کے پردے بند رکھیں، آپ چاہیں تو بلیک آؤٹ پردوں کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30387382/"&gt;روزانہ کی خوراک میں پودینہ شامل کرنے کے طریقے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="رات-کی-تازہ-ہوا" href="#رات-کی-تازہ-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رات کی تازہ ہوا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کی تپتی دھوپ کے بعد جب رات میں باہر کا ٹمپریچر کم ہوجائے تو دروازے اور کھڑکیوں کو کھول دیں، تاکہ باہر کی ٹھنڈی ہوائیں کمرے میں آسکیں۔ کھلی ہوئی کھڑکیوں کے پاس پنکھا رکھ کر ہوا کی سرکو لیشن کو بڑھایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="گھر-کی-لائٹوں-کو-تبدیل-کر-دیں" href="#گھر-کی-لائٹوں-کو-تبدیل-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھر کی لائٹوں کو تبدیل کر دیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیڈ روم کی لائٹوں کو بدل دیں، جو کمروں میں ہیٹ کی وجہ بن سکتی ہیں۔ ان کی جگہ ایل ای ڈی بلب لگائیں۔ فرق صاف نظر آجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ڈیوائسز-سوئچ-آف-کر-دیں" href="#ڈیوائسز-سوئچ-آف-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈیوائسز سوئچ آف کر دیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرانک ڈیوائسز ہیٹ تخلیق کرتے ہیں، اس لیے جب انہیں استعمال نہ کرنا ہو تو ان کا سوئچ آف کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کولنگ-میٹریس-پیڈ" href="#کولنگ-میٹریس-پیڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کولنگ میٹریس پیڈ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو ایک کولنگ میٹریس پیڈ آپ کے جسم کے ٹمپریچر کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ ایسے میٹریس پیڈ استعمال کریں جو پانی یا جیل سے بنے ہوں، یہ ہیٹ کر جذب کرکے دور کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="میٹریس-کو-اونچا-کردیں" href="#میٹریس-کو-اونچا-کردیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;میٹریس کو اونچا کردیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کمرے میں گرم ہوا کی لہروں سے دور رہنے کے لیے اپنے میٹریس کو تھوڑا سا اونچا کر لیں، کیونکہ گرم ہوا فرش کے اطراف میں زیادہ سیٹل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے لمحہ فکر ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی سے لوگ پریشان ہیں۔ عموماً گھروں اور دفاتر میں گرمی پر قابو پانے کے لیے ایئر کنڈیشنرز لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ایئر کنڈیشنر اندر جتنا ٹھنڈا کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ بجلی کا بل اور باہر گرمی بڑھا دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی میں ایئر کنڈیشنرز سے نکلنے والی گیس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تو پھر گھروں کو ٹھنڈا کرنے کا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30387407"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویسے بھی آج کے مہنگائی کے دور میں ہر کوئی ایئر کنڈیشن اور اس کے بل کو افورڈ نہیں کر سکتا ہے، لیکن ایسے کئی طریقے موجود ہیں، جن پر عمل کر کے گرمیوں کے موسم میں اپنے گھر کے کمروں کو ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<h2><a id="سورج-کی-شعاعوں-کو-بلاک-کر-دیں" href="#سورج-کی-شعاعوں-کو-بلاک-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سورج کی شعاعوں کو بلاک کر دیں</h2>
<p>سورج کی کرنیں کھڑکیوں کے ذریعے کمرے میں داخل ہوکر اسے گرم کر دیتی ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے، دن کے گرم اوقات میں کمرے کے پردے بند رکھیں، آپ چاہیں تو بلیک آؤٹ پردوں کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30387382/">روزانہ کی خوراک میں پودینہ شامل کرنے کے طریقے</a></strong></p>
<h2><a id="رات-کی-تازہ-ہوا" href="#رات-کی-تازہ-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رات کی تازہ ہوا</h2>
<p>گرمیوں کی تپتی دھوپ کے بعد جب رات میں باہر کا ٹمپریچر کم ہوجائے تو دروازے اور کھڑکیوں کو کھول دیں، تاکہ باہر کی ٹھنڈی ہوائیں کمرے میں آسکیں۔ کھلی ہوئی کھڑکیوں کے پاس پنکھا رکھ کر ہوا کی سرکو لیشن کو بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<h2><a id="گھر-کی-لائٹوں-کو-تبدیل-کر-دیں" href="#گھر-کی-لائٹوں-کو-تبدیل-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھر کی لائٹوں کو تبدیل کر دیں</h2>
<p>اپنے بیڈ روم کی لائٹوں کو بدل دیں، جو کمروں میں ہیٹ کی وجہ بن سکتی ہیں۔ ان کی جگہ ایل ای ڈی بلب لگائیں۔ فرق صاف نظر آجائے گا۔</p>
<h2><a id="ڈیوائسز-سوئچ-آف-کر-دیں" href="#ڈیوائسز-سوئچ-آف-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈیوائسز سوئچ آف کر دیں</h2>
<p>الیکٹرانک ڈیوائسز ہیٹ تخلیق کرتے ہیں، اس لیے جب انہیں استعمال نہ کرنا ہو تو ان کا سوئچ آف کر دیں۔</p>
<h2><a id="کولنگ-میٹریس-پیڈ" href="#کولنگ-میٹریس-پیڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کولنگ میٹریس پیڈ</h2>
<p>جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو ایک کولنگ میٹریس پیڈ آپ کے جسم کے ٹمپریچر کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ ایسے میٹریس پیڈ استعمال کریں جو پانی یا جیل سے بنے ہوں، یہ ہیٹ کر جذب کرکے دور کر دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="میٹریس-کو-اونچا-کردیں" href="#میٹریس-کو-اونچا-کردیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>میٹریس کو اونچا کردیں</h2>
<p>کمرے میں گرم ہوا کی لہروں سے دور رہنے کے لیے اپنے میٹریس کو تھوڑا سا اونچا کر لیں، کیونکہ گرم ہوا فرش کے اطراف میں زیادہ سیٹل ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30387552</guid>
      <pubDate>Sat, 25 May 2024 14:39:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/25123447a6fad04.webp?r=123452" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/25123447a6fad04.webp?r=123452"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئر کولر سے ہونے والی نمی اور چپچپاہٹ سے پریشان ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30386956/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہے، پاکستان سمیت خطے کی کئی ریاستوں میں پارہ 45 ڈگری سے اوپر جا چکا ہے، جس کی وجہ سے باہر تو چھوڑیں گھر میں بھی سکون نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ اس چلچلاتی گرمی سے بچنے کے لیے طرح طرح کے انتظامات کررہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے گھر میں پورا دن اے سی چلتا ہے تو کچھ لوگ کولر اور پنکھے سے ہی کام چلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/86892"&gt;یہ پڑھنے کے بعد  آپ اے سی  میں سونے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں گے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر کنڈیشنر میں بیٹھتے ہی گرمی تو دور بھاگتی ہے، جسم بھی پوری طرح سے خشک ہوجاتا ہے اور پسینہ کی وجہ سے ہونے والی چپچپاہٹ محسوس نہیں ہوتی ہے، لیکن جو لوگ روم کولر کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اس میں نمی کی پریشانی کافی جھیلنی پڑتی ہے، اور اسی نمی کی وجہ سے ہونے والی چپچپاہٹ کے باعث ایک منٹ بھی چین سے بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30338657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے بھی کمرے میں روم کولر یا آوٹ ڈور کولر چلانے سے نمی اور چپچپاہٹ ہوتی ہے تو اس پریشانی کو دور کرنے کی کچھ تدابیر ہیں، جن کی وجہ سے کولر سے صرف ٹھنڈی ہوا نکلے گی اور نمی کی پریشانی بھی ختم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ کمرے کے اندر کولر رکھتے ہیں، ایسا بالکل نہ کریں۔ کولر کو ہمیشہ کمرے کی کھڑکی یا دروازے کے باہر رکھیں، اس سے نمی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30385397"&gt;ایئرکنڈیشنر آپ کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرے کے بند ہونے پر کمرے میں موجود گرم ہوا اندر رہتی ہے۔ زیادہ گرمی کی وجہ سے کولر کا پانی ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نمی اور چپچپاہٹ محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی وجہ سے آپ کولر کو کمرے کے باہر کھڑکی کے پاس نہیں رکھ پا رہے تو کولر میں لگے واٹر پمپ کو بند کر دیں اور صرف پنکھا چلائیں۔ نمی صرف پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس طرح آپ کو کچھ سکون محسوس ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمی کو دور کرنے کے لیے کولر اور چھت کے پنکھے دونوں کو ایک ساتھ چلائیں۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں کو ہلکا سا کھلا رکھیں تاکہ آپ کو نمی کا احساس نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آپ چھت والا پنکھا چلائیں گے تو اس کی ہوا کمرے کے چاروں طرف پھیلے گی اور کولر کی ہوا بھی پنکھے کی وجہ سے پھیلے گی، اس سے چپچپاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30342853"&gt;بجلی کے بل میں نمایاں کمی کا سستا فارمولا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کے کمرے میں ایگزاسٹ فین لگا ہے تو اسے کولر کے ساتھ آن کریں۔ اگر کمرے میں نہیں ہے، تو آپ کمرے سے منسلک باتھ روم میں لگے ایگزاسٹ فین چلا سکتے ہیں۔ اس سے بھی نمی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30267416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولر کو میڈیم سے ہائی اسپیڈ پر چلائیں۔ اس سے کمرے میں موجود ہیومیڈیٹی بھی کافی حد تک کم ہونے لگے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ وینٹیلیشن کی وجہ سے نمی بھی کم ہو جاتی ہے۔ کولر پینل کو بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس سے ہوا کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ نمی سے بھی کچھ سکون حاصل کر سکتے ہیں اور ٹھنڈک محسوس کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی سے لوگوں کا برا حال ہے، پاکستان سمیت خطے کی کئی ریاستوں میں پارہ 45 ڈگری سے اوپر جا چکا ہے، جس کی وجہ سے باہر تو چھوڑیں گھر میں بھی سکون نہیں ہے۔</strong></p>
<p>لوگ اس چلچلاتی گرمی سے بچنے کے لیے طرح طرح کے انتظامات کررہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے گھر میں پورا دن اے سی چلتا ہے تو کچھ لوگ کولر اور پنکھے سے ہی کام چلاتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/86892">یہ پڑھنے کے بعد  آپ اے سی  میں سونے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں گے</a></strong></p>
<p>ایئر کنڈیشنر میں بیٹھتے ہی گرمی تو دور بھاگتی ہے، جسم بھی پوری طرح سے خشک ہوجاتا ہے اور پسینہ کی وجہ سے ہونے والی چپچپاہٹ محسوس نہیں ہوتی ہے، لیکن جو لوگ روم کولر کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اس میں نمی کی پریشانی کافی جھیلنی پڑتی ہے، اور اسی نمی کی وجہ سے ہونے والی چپچپاہٹ کے باعث ایک منٹ بھی چین سے بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30338657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر آپ کے بھی کمرے میں روم کولر یا آوٹ ڈور کولر چلانے سے نمی اور چپچپاہٹ ہوتی ہے تو اس پریشانی کو دور کرنے کی کچھ تدابیر ہیں، جن کی وجہ سے کولر سے صرف ٹھنڈی ہوا نکلے گی اور نمی کی پریشانی بھی ختم ہوجائے گی۔</p>
<p>کچھ لوگ کمرے کے اندر کولر رکھتے ہیں، ایسا بالکل نہ کریں۔ کولر کو ہمیشہ کمرے کی کھڑکی یا دروازے کے باہر رکھیں، اس سے نمی نہیں ہوگی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30385397">ایئرکنڈیشنر آپ کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے</a></strong></p>
<p>کمرے کے بند ہونے پر کمرے میں موجود گرم ہوا اندر رہتی ہے۔ زیادہ گرمی کی وجہ سے کولر کا پانی ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نمی اور چپچپاہٹ محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر کسی وجہ سے آپ کولر کو کمرے کے باہر کھڑکی کے پاس نہیں رکھ پا رہے تو کولر میں لگے واٹر پمپ کو بند کر دیں اور صرف پنکھا چلائیں۔ نمی صرف پانی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس طرح آپ کو کچھ سکون محسوس ہوگا۔</p>
<p>نمی کو دور کرنے کے لیے کولر اور چھت کے پنکھے دونوں کو ایک ساتھ چلائیں۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں کو ہلکا سا کھلا رکھیں تاکہ آپ کو نمی کا احساس نہ ہو۔</p>
<p>جب آپ چھت والا پنکھا چلائیں گے تو اس کی ہوا کمرے کے چاروں طرف پھیلے گی اور کولر کی ہوا بھی پنکھے کی وجہ سے پھیلے گی، اس سے چپچپاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30342853">بجلی کے بل میں نمایاں کمی کا سستا فارمولا</a></strong></p>
<p>اگر آپ کے کمرے میں ایگزاسٹ فین لگا ہے تو اسے کولر کے ساتھ آن کریں۔ اگر کمرے میں نہیں ہے، تو آپ کمرے سے منسلک باتھ روم میں لگے ایگزاسٹ فین چلا سکتے ہیں۔ اس سے بھی نمی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30267416"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کولر کو میڈیم سے ہائی اسپیڈ پر چلائیں۔ اس سے کمرے میں موجود ہیومیڈیٹی بھی کافی حد تک کم ہونے لگے گی۔</p>
<p>زیادہ وینٹیلیشن کی وجہ سے نمی بھی کم ہو جاتی ہے۔ کولر پینل کو بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس سے ہوا کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ نمی سے بھی کچھ سکون حاصل کر سکتے ہیں اور ٹھنڈک محسوس کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30386956</guid>
      <pubDate>Mon, 20 May 2024 18:34:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/05/20183051955572c.webp?r=183149" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/05/20183051955572c.webp?r=183149"/>
        <media:title>علامتی تصویر تخلیق کردہ بزریعہ میٹا اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
