<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Must Read</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 22:12:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 22:12:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکین کوئین کی نئی آڈیو لیک: گرفتاری سے پہلے ’وصیت نامہ‘ اور گاہکوں کے لیے ہدایات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505289/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی مشہور منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آ رہے ہیں جہاں ملزمہ کی نئی آڈیو ریکارڈنگز نے تفتیش کا رخ بدل دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامنے آنے والی ایک آڈیو میں انمول عرف پنکی اپنی گرفتاری یا موت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو ہدایات دے رہی ہے کہ اگر میرا یہ میسج سن رہے ہیں تو سمجھ لیں میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے مزید کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرا ایک مرد دوست اسی نمبر سے آپ کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور یہ کام چلتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2043422623226736%2F&amp;show_text=true&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="591" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;ایک اور آڈیو میں ملزمہ کو اپنے کلائنٹس کو منشیات کے استعمال کے خطرناک طریقے بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ کہتی ہے کہ بیئر کے ساتھ کوکین پینا زہر بن جاتا ہے، اس کے بجائے کوک کے ساتھ وسکی پی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھی ایک آڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں ملزمہ نے پولیس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، آٹھ نو سال میرے پیچھے لگے رہتے ہیں مگر پکڑ نہیں پاتے، جس دن دماغ سے سوچو گے تو پنکی کی طرح برانڈ بن جاؤ گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ نے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے پورے کراچی میں اندھیرا ڈالا ہوا ہے، اگر اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس کے بعد پولیس نے قانونی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمہ پر قتل، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے سنگین الزامات ہیں اور ریمانڈ کے دوران مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر کی جائے کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی کی گارڈن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ملزمہ کو گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ خاتون 10 مقدمات میں مفرور تھی اور شہر میں آن لائن رائیڈرز اور خواتین کے ذریعے منشیات کی فراہمی کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی مشہور منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آ رہے ہیں جہاں ملزمہ کی نئی آڈیو ریکارڈنگز نے تفتیش کا رخ بدل دیا ہے۔</strong></p>
<p>سامنے آنے والی ایک آڈیو میں انمول عرف پنکی اپنی گرفتاری یا موت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے گاہکوں کو ہدایات دے رہی ہے کہ اگر میرا یہ میسج سن رہے ہیں تو سمجھ لیں میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔</p>
<p>اس نے مزید کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرا ایک مرد دوست اسی نمبر سے آپ کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور یہ کام چلتا رہے گا۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2043422623226736%2F&show_text=true&width=267&t=0" width="267" height="591" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe>
</raw-html>
<p>ایک اور آڈیو میں ملزمہ کو اپنے کلائنٹس کو منشیات کے استعمال کے خطرناک طریقے بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ کہتی ہے کہ بیئر کے ساتھ کوکین پینا زہر بن جاتا ہے، اس کے بجائے کوک کے ساتھ وسکی پی جا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505287/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل بھی ایک آڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں ملزمہ نے پولیس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کی عقل گھٹنوں میں ہے، آٹھ نو سال میرے پیچھے لگے رہتے ہیں مگر پکڑ نہیں پاتے، جس دن دماغ سے سوچو گے تو پنکی کی طرح برانڈ بن جاؤ گے۔</p>
<p>ملزمہ نے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے پورے کراچی میں اندھیرا ڈالا ہوا ہے، اگر اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے سخت نوٹس کے بعد پولیس نے قانونی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمہ پر قتل، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے سنگین الزامات ہیں اور ریمانڈ کے دوران مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر کی جائے کیونکہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی کی گارڈن پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ملزمہ کو گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ خاتون 10 مقدمات میں مفرور تھی اور شہر میں آن لائن رائیڈرز اور خواتین کے ذریعے منشیات کی فراہمی کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی۔</p>
<p>اب جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس اس نیٹ ورک کے دیگر مہروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505289</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:53:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13145056986c5a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13145056986c5a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تامل ناڈو میں نجومی کی تقرری پر تنازع، وجے حکومت نے فیصلہ واپس لے لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505302/tamil-nadu-astrologer-post-cancelled</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کے بعد نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹریول کی بطور اسپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ایک دن کے اندر سامنے آیا، جس نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.telegraphindia.com/india/vijays-u-turn-tvk-govt-revokes-astrologer-vettrivels-appointment-after-backlash/cid/2160356"&gt;ٹیلی گراف انڈیا&lt;/a&gt;‘ کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے بدھ کے روز حکم جاری کرتے ہوئے ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تقرری کا سابقہ حکم فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدراس ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر تعینات کرنا بھارتی آئین کے سائنسی طرزِ فکر کے اصول کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقرری کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جب کہ اپوزیشن نے اسے انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس کے رکنِ پارلیمان سسی کانت سینتھل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدہ دینے کا کیا جواز ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت تملگا وکٹری کزاگم سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف پیش گوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں اور انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں کے حوالے سے اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا نام سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں بھی سامنے آ چکا ہے، جب وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے آئینی اصول واضح ہیں اور سائنسی طرزِ فکر کو حکومتی فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کے بعد نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹریول کی بطور اسپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ایک دن کے اندر سامنے آیا، جس نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی اخبار ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.telegraphindia.com/india/vijays-u-turn-tvk-govt-revokes-astrologer-vettrivels-appointment-after-backlash/cid/2160356">ٹیلی گراف انڈیا</a>‘ کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے بدھ کے روز حکم جاری کرتے ہوئے ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تقرری کا سابقہ حکم فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدراس ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر تعینات کرنا بھارتی آئین کے سائنسی طرزِ فکر کے اصول کے خلاف ہے۔</p>
<p>تقرری کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جب کہ اپوزیشن نے اسے انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔</p>
<p>کانگریس کے رکنِ پارلیمان سسی کانت سینتھل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدہ دینے کا کیا جواز ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔</p>
<p>ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت تملگا وکٹری کزاگم سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف پیش گوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں اور انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں کے حوالے سے اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ان کا نام سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں بھی سامنے آ چکا ہے، جب وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔</p>
<p>خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے آئینی اصول واضح ہیں اور سائنسی طرزِ فکر کو حکومتی فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505302</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 20:36:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/132034492e99e62.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/132034492e99e62.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر بھارتی گلوکار کو تنقید کا سامنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505304/talwiinder-hasan-raheem-toronto-concert-controversy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی گلوکار تلوندر سنگھ سدھو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی گلوکار حسن رحیم کے کنسرٹ میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا فنکاروں کے درمیان تعاون کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/music/talwiinder-faces-backlash-for-joining-pakistani-singer-hasan-raheem-on-stage-at-toronto-concert-101778652460391.html"&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تلوندر نے ٹورنٹو میں منعقدہ کنسرٹ میں حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کیا۔ دونوں فنکاروں کو ایک ساتھ گاتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور غیر رسمی انداز میں پرفارمنس کرتے دیکھا گیا، جس کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں تلوندر نے انسٹاگرام پر کنسرٹ کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹورنٹو میں خواب پورا ہوا۔ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طبقے نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;amp;img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تنقید کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ پاک-بھارت کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایسے تعاون کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض صارفین نے انہیں سخت الفاظ میں نشانہ بناتے ہوئے شیم آن یو جیسے تبصرے بھی کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کچھ صارفین نے تلوندر کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ موسیقی اور فن کو سرحدوں اور سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے فنکاروں کا اس طرح ایک ساتھ آنا ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف کی تائید۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تلوندر سوشل میڈیا بحث کا مرکز بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں، جن میں اداکارہ دیشا پٹانی کے ساتھ ان کے تعلقات کی افواہیں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلوندر نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کیا، جہاں ان کے گانے کمّوجی، دھندلا اور فنک سونگ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ 2024 میں انہوں نے اپنا پہلا البم مس فٹ بھی ریلیز کیا جس نے انہیں مزید شہرت دلائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی گلوکار تلوندر سنگھ سدھو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی گلوکار حسن رحیم کے کنسرٹ میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا فنکاروں کے درمیان تعاون کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔</strong></p>
<p>’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/music/talwiinder-faces-backlash-for-joining-pakistani-singer-hasan-raheem-on-stage-at-toronto-concert-101778652460391.html">ہندوستان ٹائمز</a>‘ کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تلوندر نے ٹورنٹو میں منعقدہ کنسرٹ میں حسن رحیم کے ساتھ اسٹیج پر پرفارم کیا۔ دونوں فنکاروں کو ایک ساتھ گاتے، ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور غیر رسمی انداز میں پرفارمنس کرتے دیکھا گیا، جس کے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔</p>
<p>بعد ازاں تلوندر نے انسٹاگرام پر کنسرٹ کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹورنٹو میں خواب پورا ہوا۔ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طبقے نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DYMsSPdDJJ1/?hl=en&amp;img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>تنقید کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ پاک-بھارت کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایسے تعاون کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض صارفین نے انہیں سخت الفاظ میں نشانہ بناتے ہوئے شیم آن یو جیسے تبصرے بھی کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321303484d687b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب کچھ صارفین نے تلوندر کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ موسیقی اور فن کو سرحدوں اور سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے فنکاروں کا اس طرح ایک ساتھ آنا ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے، نہ کہ کسی سیاسی مؤقف کی تائید۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تلوندر سوشل میڈیا بحث کا مرکز بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں، جن میں اداکارہ دیشا پٹانی کے ساتھ ان کے تعلقات کی افواہیں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>تلوندر نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کیا، جہاں ان کے گانے کمّوجی، دھندلا اور فنک سونگ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ 2024 میں انہوں نے اپنا پہلا البم مس فٹ بھی ریلیز کیا جس نے انہیں مزید شہرت دلائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505304</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 21:57:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1321550600d5329.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1321550600d5329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈرگ ڈیلر 'پنکی' کو ضمانت دینے والے جج کا ٹیسٹ کرانے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505287/judge-who-granted-bail-durg-dealer-pinky-ordered-to-undergo-test</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یاد رہے کہ کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کے مطابق ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے ایک پستول، متعدد گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنکی منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائیڈرز استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق اس کے خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ اس وقت مزید تنازع کا شکار بنی جب سٹی کورٹ میں اس کی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر سوشل میڈیا پر ملزمہ کی ایک مبینہ پرانی آڈیو بھی دوبارہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کرتی سنائی دیتی ہے کہ پورے کراچی میں اس کا نیٹ ورک سرگرم ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں سے ملزمہ کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور سپلائرز کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے۔</p>
<p>سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505289/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505289"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔</p>
<p>دوسری جانب یاد رہے کہ کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس حکام کے مطابق ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے ایک پستول، متعدد گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505275/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنکی منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائیڈرز استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق اس کے خریداروں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات سمیت بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں۔</p>
<p>ملزمہ اس وقت مزید تنازع کا شکار بنی جب سٹی کورٹ میں اس کی پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>اُدھر سوشل میڈیا پر ملزمہ کی ایک مبینہ پرانی آڈیو بھی دوبارہ وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کرتی سنائی دیتی ہے کہ پورے کراچی میں اس کا نیٹ ورک سرگرم ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505287</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1314323623f1eff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1314323623f1eff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیتابھ بچن بے خوابی کا شکار: رات کس کے ساتھ گزارتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505286/amitabh-bachchan-struggles-with-insomnia-who-keeps-him-company-at-night</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دن بھر کی چکاچوند اور ہجوم کے درمیان زندگی گزارنے والے بولی ووڈ کے عظیم سپر اسٹار امیتابھ بچن کی راتیں آجکل بالکل مختلف انداز میں گزر رہی ہیں۔ دنیا سوتی ہے، لیکن ”بگ بی“ کی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے خود کہا ہے کہ کئی راتیں ایسی گزرتی ہیں جب صرف خاموشی ہی ان کا ہمسفر بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;83 سالہ بھارتی اداکار نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید بے خوابی کا شکار ہیں اور کئی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ بستر پر لیٹ کر صرف گھڑی کی سوئیوں کی آواز سنتے رہتے ہیں، مگر نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیتابھ بچن نے اپنے حالیہ بلاگ میں اپنی اس ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سات گھنٹے کی نیند کے مشورے کے باوجود، ان کا کام اور مصروفیت اکثر ان پر حاوی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30435895'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ عمر کے اس حصے میں بھی کام کا جنون انہیں سونے نہیں دیتا، لیکن جب خاموشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ان بے چین لمحات میں انہیں سکون موسیقی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بگ بی نے بتایا کہ وہ اکثر دیر رات بلاگ لکھتے ہوئے پس منظر میں سلائیڈ گٹار اور ستار کی مدھر کلاسیکی دھنیں سنتے ہیں، جو ان کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسیقی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے لکھا کہ دنیا بھر کی موسیقی سات سروں پر قائم ہے اور یہ سر پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30474926'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30474926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ، ’ان سات سروں کا احترام کرو، یہ تمہارا احترام کریں گے، انہیں سنو اور یہ آہستہ آہستہ تمہیں نیند اور سکون کا تحفہ دے دیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابل ذکر بات یہ ہے کہ امیتابھ بچن کی زندگی کا یہ پہلو ان کے نظم و ضبط اور کام سے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسے بڑے شوز کی میزبانی کر رہے ہیں بلکہ فلموں، برانڈز اور اپنے بلاگز کے ذریعے مسلسل متحرک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مداحوں کے لیے یہ بات حیران کن اور متاثر کن ہے کہ نیند کی اس شدید کمی کے باوجود بگ بی کے جوش و خروش اور تخلیقی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی وہ رات کے پچھلے پہر کلاسیکی موسیقی کے سائے میں اپنے خیالات کو بلاگ کی شکل دے کر اپنے چاہنے والوں سے جڑے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دن بھر کی چکاچوند اور ہجوم کے درمیان زندگی گزارنے والے بولی ووڈ کے عظیم سپر اسٹار امیتابھ بچن کی راتیں آجکل بالکل مختلف انداز میں گزر رہی ہیں۔ دنیا سوتی ہے، لیکن ”بگ بی“ کی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے خود کہا ہے کہ کئی راتیں ایسی گزرتی ہیں جب صرف خاموشی ہی ان کا ہمسفر بنتی ہے۔</strong></p>
<p>83 سالہ بھارتی اداکار نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید بے خوابی کا شکار ہیں اور کئی راتیں ایسی ہوتی ہیں جب وہ بستر پر لیٹ کر صرف گھڑی کی سوئیوں کی آواز سنتے رہتے ہیں، مگر نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔</p>
<p>امیتابھ بچن نے اپنے حالیہ بلاگ میں اپنی اس ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سات گھنٹے کی نیند کے مشورے کے باوجود، ان کا کام اور مصروفیت اکثر ان پر حاوی رہتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30435895'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30435895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ عمر کے اس حصے میں بھی کام کا جنون انہیں سونے نہیں دیتا، لیکن جب خاموشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ان بے چین لمحات میں انہیں سکون موسیقی دیتی ہے۔</p>
<p>بگ بی نے بتایا کہ وہ اکثر دیر رات بلاگ لکھتے ہوئے پس منظر میں سلائیڈ گٹار اور ستار کی مدھر کلاسیکی دھنیں سنتے ہیں، جو ان کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں ہوتیں۔</p>
<p>موسیقی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے لکھا کہ دنیا بھر کی موسیقی سات سروں پر قائم ہے اور یہ سر پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30474926'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30474926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ، ’ان سات سروں کا احترام کرو، یہ تمہارا احترام کریں گے، انہیں سنو اور یہ آہستہ آہستہ تمہیں نیند اور سکون کا تحفہ دے دیں گے۔‘</p>
<p>قابل ذکر بات یہ ہے کہ امیتابھ بچن کی زندگی کا یہ پہلو ان کے نظم و ضبط اور کام سے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسے بڑے شوز کی میزبانی کر رہے ہیں بلکہ فلموں، برانڈز اور اپنے بلاگز کے ذریعے مسلسل متحرک ہیں۔</p>
<p>مداحوں کے لیے یہ بات حیران کن اور متاثر کن ہے کہ نیند کی اس شدید کمی کے باوجود بگ بی کے جوش و خروش اور تخلیقی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔</p>
<p>آج بھی وہ رات کے پچھلے پہر کلاسیکی موسیقی کے سائے میں اپنے خیالات کو بلاگ کی شکل دے کر اپنے چاہنے والوں سے جڑے رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505286</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 15:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1314252840c835f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1314252840c835f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کرکٹ ٹیم کی دو سالہ کارکردگی: تنزلی، تنازعات اور ناکامیوں سے بھرپور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505299/a-long-list-of-failures-of-the-pakistan-cricket-team-in-2-years-has-come-to-light</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں ماضی میں کمزور حریف تصور کیا جاتا تھا جب کہ ناقص نتائج کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورت حال مزید مایوس کن رہی، جہاں قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی۔ اسی دوران انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس میں بھی قومی ٹیم کو زمبابوے کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور خراب کارکردگی کے بعد ایونٹ میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی دوران ٹیم کو ٹی 20 تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی بولنگ شعبے کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408209/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ٹی 20 سیریز میں پاکستان 8 میں سے 7 میچز ہار گیا جب کہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میں پوری ٹیم محض 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق پاکستان 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا جب کہ مسلسل شکستوں کے سلسلے نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کی سطح پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں ماضی میں کمزور حریف تصور کیا جاتا تھا جب کہ ناقص نتائج کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔</p>
<p>قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کو آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورت حال مزید مایوس کن رہی، جہاں قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی۔ اسی دوران انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کیا۔</p>
<p>ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس میں بھی قومی ٹیم کو زمبابوے کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔</p>
<p>چیمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور خراب کارکردگی کے بعد ایونٹ میں آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی دوران ٹیم کو ٹی 20 تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>پاکستانی بولنگ شعبے کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408209/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408209"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی عرصے میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ٹی 20 سیریز میں پاکستان 8 میں سے 7 میچز ہار گیا جب کہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میں پوری ٹیم محض 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق پاکستان 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا جب کہ مسلسل شکستوں کے سلسلے نے ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے۔</p>
<p>کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کی سطح پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505299</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:30:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1319011500f7e67.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1319011500f7e67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505293/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں ہونے والی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ گر گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخ 1100 روپے فی تولہ کم ہو گئے ہیں جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 91 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 گرام سونے کی قیمت 943 روپے کم ہونے سے نئے نرخ 4 لاکھ 21 ہزار 263 روپے تولہ ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505207/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 11 ڈالرکم ہونے سے فی اونس سونا 4690 ڈالر کا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز سونا 4100 روپے مہنگا ہوا تھا، آج سونے کے نرخ میں دوبارہ کمی ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، چاندی 231 روپے مہنگی ہونے سے فی تولہ قیمت 9136 روپے ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں ہونے والی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ گر گئے۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سونے کے نرخ 1100 روپے فی تولہ کم ہو گئے ہیں جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 91 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p>10 گرام سونے کی قیمت 943 روپے کم ہونے سے نئے نرخ 4 لاکھ 21 ہزار 263 روپے تولہ ہو گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505207/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 11 ڈالرکم ہونے سے فی اونس سونا 4690 ڈالر کا ہو گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز سونا 4100 روپے مہنگا ہوا تھا، آج سونے کے نرخ میں دوبارہ کمی ہو گئی ہے۔</p>
<p>ملک بھر میں چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، چاندی 231 روپے مہنگی ہونے سے فی تولہ قیمت 9136 روپے ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505293</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 16:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13160715e37fa64.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13160715e37fa64.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین کا آخری محفوظ ترین ٹھکانہ بھی مچھروں کی زد میں آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505260/mosquitoes-have-reached-the-last-place-on-earth-ecological-shifts-across-a-rapidly-warming</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی نسلوں تک شمالی قطب کے قریب واقع دور افتادہ ملک آئس لینڈ ایک ایسی منفرد پہچان رکھتا تھا جو دنیا کے کسی اور آرکٹک ملک کے پاس نہیں تھی۔ تاریخی طور پر آئس لینڈ قطبِ شمالی کا وہ واحد ملک تھا جہاں مچھر نہیں پائے جاتے تھے، جبکہ دیگر آرکٹک علاقوں میں یہی مچھر انسانوں، ہرنوں، پرندوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کے لیے بڑی پریشانی بنتے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسرچ جرنل &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.science.org/doi/10.1126/science.aeh9505?utm_campaign=ScienceMagazine&amp;amp;utm_source=twitter&amp;amp;utm_medium=ownedSocial"&gt;سائنس&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ریکیاوک کے شمال میں مچھروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دریافت کے بعد آئس لینڈ اب وہ واحد آرکٹک ملک نہیں رہا جہاں مچھر موجود نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حیاتیاتی یا دلچسپ سائنسی خبر نہیں بلکہ آرکٹک خطے میں تیزی سے بدلتے ماحول کی ایک واضح وارننگ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503878/mosquitoes-malaria-eradication-research'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق آرکٹک دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ برف پہلے سے جلد پگھل رہی ہے، گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ایسے جانور اور کیڑے ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے ان کا وجود ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری راستوں میں اضافہ، سیاحت، فوجی سرگرمیاں اور نئے تعمیراتی منصوبے بھی مختلف اقسام کے جانداروں کو دور دراز آرکٹک علاقوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مچھراس بڑی تبدیلی کی صرف ایک مثال ہیں۔ اصل مسئلہ آرتھروپوڈز کہلانے والے جانداروں کا ہے، جن میں کیڑے مکوڑے، مکڑیاں اور دیگر چھوٹے جاندار شامل ہیں۔ اگرچہ یہ جاندار چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن آرکٹک کے ماحولیاتی نظام میں ان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جاندار پودوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، زمین میں غذائی اجزا کو دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں، نقصان دہ کیڑوں کو قابو میں رکھتے ہیں اور پرندوں، مچھلیوں اور جانوروں کی خوراک کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق چونکہ یہ جاندار ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر بہت تیزی سے ردعمل دیتے ہیں، اس لیے انہیں ماحولیاتی صحت کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ پورے آرکٹک خطے میں ان جانداروں کی نگرانی کے لیے کوئی مشترکہ نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ شمالی علاقوں کے ماحولیاتی نظام میں کتنی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ آرکٹک کے ساحلی پرندے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کیڑوں کے پیدا ہونے کا وقت اب ان کے بچوں کی پیدائش کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہرن اور کیریبو جیسے جانوروں پر خون چوسنے والے کیڑوں کے حملے بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث وہ چرنے کے بجائے خود کو بچانے میں زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق خبردار کرتی ہے کہ مچھروں کی نئی اقسام کی آمد سے خطے میں ایسی بیماریاں پھیل سکتی ہیں جو پہلے وہاں موجود نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی سرگرمیوں جیسے جہاز رانی اور سیاحت میں اضافے کی وجہ سے یہ حشرات نئے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/24466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/24466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کی تعداد میں اضافے سے ٹنڈرا کے پودے متاثر ہو رہے ہیں، جس سے زمین کی منجمد تہہ یعنی پرما فراسٹ کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹنڈرا دراصل بہت سرد علاقوں کی زمین کو کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر آرکٹک یعنی شمالی قطب کے قریب پائی جاتی ہے۔ وہاں درخت بہت کم اگتے ہیں کیونکہ زمین سال کے زیادہ تر حصے میں جمی رہتی ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے پودے، گھاس، کائی، جھاڑیاں اور لائیکن جیسے پودے اگتے ہیں، انہیں ٹنڈرا کے پودے کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پودے ماحول کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ یہ زمین کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں، نمی برقرار رکھتے ہیں اور سرد زمین کو زیادہ گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔ ان پودوں کے نیچے موجود زمین کی تہہ کو ”پرما فراسٹ“ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی زمین جو سال بھر جمی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھتا ہے یا کیڑے مکوڑوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ ٹنڈرا پودے نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ پودے کمزور یا ختم ہونے لگیں تو زمین براہِ راست سورج کی گرمی جذب کرنے لگتی ہے، جس سے پرما فراسٹ تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس لینڈ میں مچھروں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آرکٹک میں حیاتیاتی تنوع کی نگرانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر فوری تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی اور دیسی برادریاں، جو کئی نسلوں سے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتی آ رہی ہیں، مستقبل کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کے مطابق آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد صرف ایک نئے مسئلے کا آغاز نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آرکٹک اب تیزی سے بدل رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کو مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی نسلوں تک شمالی قطب کے قریب واقع دور افتادہ ملک آئس لینڈ ایک ایسی منفرد پہچان رکھتا تھا جو دنیا کے کسی اور آرکٹک ملک کے پاس نہیں تھی۔ تاریخی طور پر آئس لینڈ قطبِ شمالی کا وہ واحد ملک تھا جہاں مچھر نہیں پائے جاتے تھے، جبکہ دیگر آرکٹک علاقوں میں یہی مچھر انسانوں، ہرنوں، پرندوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کے لیے بڑی پریشانی بنتے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ریسرچ جرنل <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.science.org/doi/10.1126/science.aeh9505?utm_campaign=ScienceMagazine&amp;utm_source=twitter&amp;utm_medium=ownedSocial">سائنس</a> میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ریکیاوک کے شمال میں مچھروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دریافت کے بعد آئس لینڈ اب وہ واحد آرکٹک ملک نہیں رہا جہاں مچھر موجود نہ ہوں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حیاتیاتی یا دلچسپ سائنسی خبر نہیں بلکہ آرکٹک خطے میں تیزی سے بدلتے ماحول کی ایک واضح وارننگ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503878/mosquitoes-malaria-eradication-research'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق کے مطابق آرکٹک دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ برف پہلے سے جلد پگھل رہی ہے، گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ایسے جانور اور کیڑے ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے ان کا وجود ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری راستوں میں اضافہ، سیاحت، فوجی سرگرمیاں اور نئے تعمیراتی منصوبے بھی مختلف اقسام کے جانداروں کو دور دراز آرکٹک علاقوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مچھراس بڑی تبدیلی کی صرف ایک مثال ہیں۔ اصل مسئلہ آرتھروپوڈز کہلانے والے جانداروں کا ہے، جن میں کیڑے مکوڑے، مکڑیاں اور دیگر چھوٹے جاندار شامل ہیں۔ اگرچہ یہ جاندار چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن آرکٹک کے ماحولیاتی نظام میں ان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ جاندار پودوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، زمین میں غذائی اجزا کو دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں، نقصان دہ کیڑوں کو قابو میں رکھتے ہیں اور پرندوں، مچھلیوں اور جانوروں کی خوراک کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق چونکہ یہ جاندار ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر بہت تیزی سے ردعمل دیتے ہیں، اس لیے انہیں ماحولیاتی صحت کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ پورے آرکٹک خطے میں ان جانداروں کی نگرانی کے لیے کوئی مشترکہ نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ شمالی علاقوں کے ماحولیاتی نظام میں کتنی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ آرکٹک کے ساحلی پرندے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کیڑوں کے پیدا ہونے کا وقت اب ان کے بچوں کی پیدائش کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہرن اور کیریبو جیسے جانوروں پر خون چوسنے والے کیڑوں کے حملے بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث وہ چرنے کے بجائے خود کو بچانے میں زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ تحقیق خبردار کرتی ہے کہ مچھروں کی نئی اقسام کی آمد سے خطے میں ایسی بیماریاں پھیل سکتی ہیں جو پہلے وہاں موجود نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی سرگرمیوں جیسے جہاز رانی اور سیاحت میں اضافے کی وجہ سے یہ حشرات نئے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/24466'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/24466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کی تعداد میں اضافے سے ٹنڈرا کے پودے متاثر ہو رہے ہیں، جس سے زمین کی منجمد تہہ یعنی پرما فراسٹ کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ٹنڈرا دراصل بہت سرد علاقوں کی زمین کو کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر آرکٹک یعنی شمالی قطب کے قریب پائی جاتی ہے۔ وہاں درخت بہت کم اگتے ہیں کیونکہ زمین سال کے زیادہ تر حصے میں جمی رہتی ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے پودے، گھاس، کائی، جھاڑیاں اور لائیکن جیسے پودے اگتے ہیں، انہیں ٹنڈرا کے پودے کہا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ پودے ماحول کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ یہ زمین کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں، نمی برقرار رکھتے ہیں اور سرد زمین کو زیادہ گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔ ان پودوں کے نیچے موجود زمین کی تہہ کو ”پرما فراسٹ“ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی زمین جو سال بھر جمی رہتی ہے۔</p>
<p>جب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھتا ہے یا کیڑے مکوڑوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ ٹنڈرا پودے نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ پودے کمزور یا ختم ہونے لگیں تو زمین براہِ راست سورج کی گرمی جذب کرنے لگتی ہے، جس سے پرما فراسٹ تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس لینڈ میں مچھروں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آرکٹک میں حیاتیاتی تنوع کی نگرانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر فوری تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی اور دیسی برادریاں، جو کئی نسلوں سے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتی آ رہی ہیں، مستقبل کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کے مطابق آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد صرف ایک نئے مسئلے کا آغاز نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آرکٹک اب تیزی سے بدل رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کو مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505260</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:04:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/130946045f3828d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/130946045f3828d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ نے جاپانی چپس کے رنگ اُڑا دیے، دلچسپ وجہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505264/japan-calbee-chips-packaging-change-supplychain-middle-east-conflict-food-industry-iran-israel-war-potato-chips</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان میں چپس کے مشہور برانڈ ’کالبی‘ کے شوقین افراد کے لیے اب اسٹورز کی الماریاں بدلی بدلی نظر آئیں گی۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ چپس کے پیکٹوں کے شوخ رنگوں کو عارضی طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اب اسٹورز میں یہ پیکٹ رنگین کے بجائے سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/12/asia/calbee-chips-japan-packaging-middle-east-war-intl-hnk"&gt;سی این این&lt;/a&gt; نیوز کے مطابق یہ غیر معمولی قدم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے شدید بحران اور خام مال کی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس نے عالمی تجارتی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے چھپائی کے عمل میں استعمال ہونے والے بعض اہم خام مال کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499073'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499073"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کالبی کے مطابق، اس عارضی اقدام کا مقصد رنگین سیاہی اور دیگر متعلقہ کیمیکلز کی بچت کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں مصنوعات کی مسلسل فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پیکٹ کا رنگ بدلنے سے چپس کے ذائقے یا معیار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ پیکنگ اب بالکل سادہ اور بے رنگ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی مجموعی طور پر 14 مختلف مصنوعات پر لاگو ہوگی جن کی فروخت کا آغاز 25 مئی سے متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر جاپانی صارفین پیکٹ کے شوخ رنگوں کو دیکھ کر اپنے پسندیدہ ذائقے کی پہچان کرتے ہیں، جیسے سرخ پیکٹ نمکین چپس کے لیے اور پیلا پیکٹ جس پر سبز لیبل ہوتا ہے، سی ویڈ ذائقے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب خریداروں کو اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے لیے پیکٹ پر درج تحریر اور لیبلز پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا کیونکہ تمام پیکٹ اب صرف گرے رنگ کے مختلف شیڈز اور تحریر میں دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464238'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قلت کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات ’نیفتھا‘ کی عالمی منڈی میں کمی ہو سکتی ہے، جو چھپائی کی سیاہی کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ان اشیاء کی اتنی شدید قلت نہیں ہے کہ بحران پیدا ہو، لیکن کالبی جیسی بڑی کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنی پیداواری لاگت اور وسائل کو بچانے کے لیے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی کمپنیاں فروری میں ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ راستہ تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحری راستے کی بندش کی وجہ سے نہ صرف جاپان میں چپس کی پیکنگ متاثر ہوئی ہے، بلکہ ایشیا میں فرٹیلائزر کی کمی سے کسان پریشان ہیں اور بھارت جیسے ممالک سے مشرقِ وسطیٰ کو ہونے والی اناج کی برآمدات بھی رک گئی ہیں۔ ’کالبی‘ کے پیکٹوں کا بے رنگ ہونا دراصل اس عالمی معاشی عدم استحکام کی ایک چھوٹی سی مگر واضح علامت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان میں چپس کے مشہور برانڈ ’کالبی‘ کے شوقین افراد کے لیے اب اسٹورز کی الماریاں بدلی بدلی نظر آئیں گی۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ چپس کے پیکٹوں کے شوخ رنگوں کو عارضی طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اب اسٹورز میں یہ پیکٹ رنگین کے بجائے سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہوں گے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/12/asia/calbee-chips-japan-packaging-middle-east-war-intl-hnk">سی این این</a> نیوز کے مطابق یہ غیر معمولی قدم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے شدید بحران اور خام مال کی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس نے عالمی تجارتی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔</p>
<p>کمپنی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے چھپائی کے عمل میں استعمال ہونے والے بعض اہم خام مال کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499073'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499073"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کالبی کے مطابق، اس عارضی اقدام کا مقصد رنگین سیاہی اور دیگر متعلقہ کیمیکلز کی بچت کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں مصنوعات کی مسلسل فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پیکٹ کا رنگ بدلنے سے چپس کے ذائقے یا معیار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ پیکنگ اب بالکل سادہ اور بے رنگ ہوگی۔</p>
<p>یہ تبدیلی مجموعی طور پر 14 مختلف مصنوعات پر لاگو ہوگی جن کی فروخت کا آغاز 25 مئی سے متوقع ہے۔</p>
<p>عام طور پر جاپانی صارفین پیکٹ کے شوخ رنگوں کو دیکھ کر اپنے پسندیدہ ذائقے کی پہچان کرتے ہیں، جیسے سرخ پیکٹ نمکین چپس کے لیے اور پیلا پیکٹ جس پر سبز لیبل ہوتا ہے، سی ویڈ ذائقے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب خریداروں کو اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے لیے پیکٹ پر درج تحریر اور لیبلز پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا کیونکہ تمام پیکٹ اب صرف گرے رنگ کے مختلف شیڈز اور تحریر میں دستیاب ہوں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464238'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قلت کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات ’نیفتھا‘ کی عالمی منڈی میں کمی ہو سکتی ہے، جو چھپائی کی سیاہی کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ان اشیاء کی اتنی شدید قلت نہیں ہے کہ بحران پیدا ہو، لیکن کالبی جیسی بڑی کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنی پیداواری لاگت اور وسائل کو بچانے کے لیے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کی کمپنیاں فروری میں ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ راستہ تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس بحری راستے کی بندش کی وجہ سے نہ صرف جاپان میں چپس کی پیکنگ متاثر ہوئی ہے، بلکہ ایشیا میں فرٹیلائزر کی کمی سے کسان پریشان ہیں اور بھارت جیسے ممالک سے مشرقِ وسطیٰ کو ہونے والی اناج کی برآمدات بھی رک گئی ہیں۔ ’کالبی‘ کے پیکٹوں کا بے رنگ ہونا دراصل اس عالمی معاشی عدم استحکام کی ایک چھوٹی سی مگر واضح علامت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505264</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 10:36:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13102659c2df2c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13102659c2df2c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنا کسی دستاویز کے یورپ میں گھومنے اور رہائش کا 'قانونی طریقہ'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505262/schengen-shuffle-the-legal-loophole-that-lets-you-stay-in-europe-without-the-paperwork</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ کی سیر اور وہاں قیام کا شوق رکھنے والے بہت سے مسافر آج کل ایک ایسی تکنیک استعمال کر رہے ہیں جسے ’شینگن شفل‘ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار دراصل ان قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے یورپ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا نام ہے جو غیر ملکیوں کو ہر 180 دنوں میں زیادہ سے زیادہ 90 دن شینگن زون میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس وقت شینگن ایریا میں 29 ممالک شامل ہیں جن کی سرحدوں پر پاسپورٹ کی جانچ پڑتال نہیں ہوتی، لیکن وہاں قیام کی مدت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹینا اور ایرک شینڈ مین نامی ایک امریکی ریٹائرڈ جوڑے کی کہانی اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ اٹلی میں رہنا چاہتے ہیں لیکن ویزا کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے وہ سال کے کچھ مہینے اٹلی میں گزارتے ہیں اور جب ان کے 90 دن پورے ہونے لگتے ہیں تو وہ برطانیہ، مونٹینیگرو، بوسنیا، سربیا، ترکیہ اور اردن جیسے غیر شینگن ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹینا کا کہنا ہے کہ ہم نے دو سال بعد اپنے ریذیڈنسی پرمٹ کی تجدید کرانے کے بجائے اٹلی اور باقی دنیا کے درمیان شففل کرنے کو ترجیح دی، ہم اٹلی سے محبت کرتے ہیں لیکن ہم سال کا زیادہ تر حصہ سفر میں گزارنا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364624'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شینگن شفل کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ اسے دنیا گھومنے کے شوق میں اپنا رہے ہیں جبکہ کچھ امیگریشن کے پیچیدہ نظام اور طویل مدتی ویزا کے حصول میں دشواری کی وجہ سے اس پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقے کو اپنانے والوں کے لیے سوشل میڈیا پر کئی گروپ بن چکے ہیں جہاں ہزاروں ممبران ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں اور سستی رہائش تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476569'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ طریقہ کار اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس میں دنوں کا حساب کتاب بہت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایک دن کی بھی غلطی ہزاروں ڈالر جرمانے اور پانچ سال تک یورپ میں داخلے پر پابندی کا باعث بن سکتی ہے۔ مسافر اس کے لیے مختلف موبائل ایپس اور کیلکولیٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ کی سیر اور وہاں قیام کا شوق رکھنے والے بہت سے مسافر آج کل ایک ایسی تکنیک استعمال کر رہے ہیں جسے ’شینگن شفل‘ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار دراصل ان قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے یورپ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا نام ہے جو غیر ملکیوں کو ہر 180 دنوں میں زیادہ سے زیادہ 90 دن شینگن زون میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس وقت شینگن ایریا میں 29 ممالک شامل ہیں جن کی سرحدوں پر پاسپورٹ کی جانچ پڑتال نہیں ہوتی، لیکن وہاں قیام کی مدت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔</strong></p>
<p>کرسٹینا اور ایرک شینڈ مین نامی ایک امریکی ریٹائرڈ جوڑے کی کہانی اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ اٹلی میں رہنا چاہتے ہیں لیکن ویزا کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے وہ سال کے کچھ مہینے اٹلی میں گزارتے ہیں اور جب ان کے 90 دن پورے ہونے لگتے ہیں تو وہ برطانیہ، مونٹینیگرو، بوسنیا، سربیا، ترکیہ اور اردن جیسے غیر شینگن ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔</p>
<p>کرسٹینا کا کہنا ہے کہ ہم نے دو سال بعد اپنے ریذیڈنسی پرمٹ کی تجدید کرانے کے بجائے اٹلی اور باقی دنیا کے درمیان شففل کرنے کو ترجیح دی، ہم اٹلی سے محبت کرتے ہیں لیکن ہم سال کا زیادہ تر حصہ سفر میں گزارنا چاہتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30364624'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شینگن شفل کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ اسے دنیا گھومنے کے شوق میں اپنا رہے ہیں جبکہ کچھ امیگریشن کے پیچیدہ نظام اور طویل مدتی ویزا کے حصول میں دشواری کی وجہ سے اس پر مجبور ہیں۔</p>
<p>اس طریقے کو اپنانے والوں کے لیے سوشل میڈیا پر کئی گروپ بن چکے ہیں جہاں ہزاروں ممبران ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں اور سستی رہائش تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476569'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، یہ طریقہ کار اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس میں دنوں کا حساب کتاب بہت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایک دن کی بھی غلطی ہزاروں ڈالر جرمانے اور پانچ سال تک یورپ میں داخلے پر پابندی کا باعث بن سکتی ہے۔ مسافر اس کے لیے مختلف موبائل ایپس اور کیلکولیٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505262</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 09:26:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13092154eede080.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13092154eede080.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈکی بھائی کا طلاق دینے والے مردوں کو کرارا جواب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505263/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے مشہور ڈیجیٹل تخلیق کار اور معروف فیملی بلاگر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی  نے حال ہی میں شادی شدہ زندگی اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈکی بھائی اپنی اہلیہ عروب جتوئی کے ہمراہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جہاں وہ اپنی پیشیوں کے سلسلے میں اکثر نظر آتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان مردوں پر کڑی تنقید کی جو شادی کے بعد جلد طلاق دے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ شادی کا نبھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ صرف اصل مردوں کا کام ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ ذہنی طور پر ابھی بچے ہیں یا آپ میچور نہیں ہیں تو خدارا شادی نہ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478918'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478918"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا موقف تھا کہ اگر آپ کا ارادہ رشتے کو طویل عرصے تک چلانے کا نہیں ہے تو آپ کو دوسروں کی زندگی تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کو شادی سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس  کی شادی کامیاب نہیں رہے گی اور یہ رشتہ جلد ہی ٹوٹ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ اپنے ازدواجی مسائل میں دوسروں کو، خاص طور پر والدین کو شامل نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں بہتر ہے کہ جوڑے اپنے مسائل خود سمجھداری سے حل کرنا سیکھیں کیونکہ جب خاندان بیچ میں آ جاتے ہیں تو معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496928'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496928"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈکی بھائی نے اپنی اہلیہ عروب جتوئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہیں، جنہوں نے ایف آئی اے کی گرفتاری جیسے مشکل وقت میں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ثابت قدم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان کے سب سے مشہور فیملی و لاگر ڈکی بھائی اب 10 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ڈکی بھائی کی فیملی اور بچوں کے لیے دوستانہ اور خوش مزاج مواد انہیں لاکھوں دلوں کا پسندیدہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اپنی بیوی عروب جتوئی کے شانہ بشانہ رہتے ہیں، جو مشکل وقت میں ان کا مضبوط سہارا بھی ہیں۔ گزشتہ سال، جب ڈکی بھائی ایف آئی اے کی گرفتاری کا سامنا کر رہے تھے، عروب نے ہر لمحے ان کا ساتھ دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے مشہور ڈیجیٹل تخلیق کار اور معروف فیملی بلاگر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی  نے حال ہی میں شادی شدہ زندگی اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ڈکی بھائی اپنی اہلیہ عروب جتوئی کے ہمراہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جہاں وہ اپنی پیشیوں کے سلسلے میں اکثر نظر آتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان مردوں پر کڑی تنقید کی جو شادی کے بعد جلد طلاق دے دیتے ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ شادی کا نبھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ صرف اصل مردوں کا کام ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ ذہنی طور پر ابھی بچے ہیں یا آپ میچور نہیں ہیں تو خدارا شادی نہ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478918'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478918"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا موقف تھا کہ اگر آپ کا ارادہ رشتے کو طویل عرصے تک چلانے کا نہیں ہے تو آپ کو دوسروں کی زندگی تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کو شادی سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس  کی شادی کامیاب نہیں رہے گی اور یہ رشتہ جلد ہی ٹوٹ جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ اپنے ازدواجی مسائل میں دوسروں کو، خاص طور پر والدین کو شامل نہ کریں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں بہتر ہے کہ جوڑے اپنے مسائل خود سمجھداری سے حل کرنا سیکھیں کیونکہ جب خاندان بیچ میں آ جاتے ہیں تو معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496928'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496928"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈکی بھائی نے اپنی اہلیہ عروب جتوئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہیں، جنہوں نے ایف آئی اے کی گرفتاری جیسے مشکل وقت میں بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ثابت قدم رہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان کے سب سے مشہور فیملی و لاگر ڈکی بھائی اب 10 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ڈکی بھائی کی فیملی اور بچوں کے لیے دوستانہ اور خوش مزاج مواد انہیں لاکھوں دلوں کا پسندیدہ بناتا ہے۔</p>
<p>وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اپنی بیوی عروب جتوئی کے شانہ بشانہ رہتے ہیں، جو مشکل وقت میں ان کا مضبوط سہارا بھی ہیں۔ گزشتہ سال، جب ڈکی بھائی ایف آئی اے کی گرفتاری کا سامنا کر رہے تھے، عروب نے ہر لمحے ان کا ساتھ دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505263</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 09:58:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/130959323f4424b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/130959323f4424b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 'کوکین کوئین' پنکی کے حوالے سے آج نیوز نے اہم معلومات حاصل کر لیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505253/karachi-cocaine-queen-pinky-network-aaj-news-report</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوکین کوئین پنکی کے حوالے سے آج نیوز نے انتہائی اہم معلومات حاصل کرلی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک موقع پر گرفتاری سے بچنے کے لیے اس نے اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے ختم کیے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ کیٹامائن اور ایسیٹون کی ملاوٹ کے بعد پنکی نے ’کوئن میڈم پنکی‘ کے نام سے اپنا برانڈ لانچ کیا، جس کے خریداروں میں بڑے بڑے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں کوکین کوئین پنکی کے حوالے سے آج نیوز کو موصول اہم معلومات کے مطابق انمول عرف پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے میں گزرا۔ رپورٹ کے مطابق پنکی نے جوانی میں ہی منشیات فروشوں سے تعلقات بنانا شروع کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنا منشیات نیٹ ورک چلانا سیکھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پنکی کے بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں تعلقات ہوئے اور انہی تعلقات کی آڑ میں اس نے اپنا الگ منشیات کارٹل قائم کر لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے اس نے اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے ختم کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوکین کوئین انمول عرف پنکی کو پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا، تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی۔ کوکین کے اثر کو بڑھانے کے لیے کیٹامائن اور ایسیٹون کی ملاوٹ کی جاتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنکی نے کوئن میڈم پنکی کے نام سے اپنا برانڈ بھی لانچ کیا اور اس کے خریداروں میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان، کشمیر اور گلگت بلتستان تک اس کی سپلائی موجود رہی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک کوچ سروس کے ذریعے بڑا نیٹ ورک قائم کیا، جب کہ اس کی دستِ راست بیبو اور حرا اہم کردار ادا کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ منگل کے روز کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے ایک مشترکہ اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں منشیات کا وسیع جال پھیلانے والی بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ انمول عرف پنکی کو گرفتارکیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505248/karachi-drug-network-ringleader-anmol-pinky-arrested'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505248"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق یہ اہم گرفتاری کراچی کے علاقے گارڈن سے عمل میں لائی گئی ہے۔ جہاں سے ملزمہ نہ صرف منشیات فروشی کے ایک منظم نیٹ ورک کی سربراہی کر رہی تھی بل کہ وہ درجنوں مقدمات میں پولیس کو انتہائی مطلوب اور عرصے سے مفرور بھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد ہوئی، انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک اتنا وسیع تھا کہ وہ منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائڈرز کا استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار ہونے والی ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کو منگل کے روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں مقامی عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے تفتیشی افسر سے 14 روز میں چالان طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب اور متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کی ہدایت جاری کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق بغیر ہتھکڑی ملزمہ کی پیشی کے معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوکین کوئین پنکی کے حوالے سے آج نیوز نے انتہائی اہم معلومات حاصل کرلی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک موقع پر گرفتاری سے بچنے کے لیے اس نے اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے ختم کیے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ کیٹامائن اور ایسیٹون کی ملاوٹ کے بعد پنکی نے ’کوئن میڈم پنکی‘ کے نام سے اپنا برانڈ لانچ کیا، جس کے خریداروں میں بڑے بڑے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی میں کوکین کوئین پنکی کے حوالے سے آج نیوز کو موصول اہم معلومات کے مطابق انمول عرف پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے میں گزرا۔ رپورٹ کے مطابق پنکی نے جوانی میں ہی منشیات فروشوں سے تعلقات بنانا شروع کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنا منشیات نیٹ ورک چلانا سیکھ لیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پنکی کے بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں تعلقات ہوئے اور انہی تعلقات کی آڑ میں اس نے اپنا الگ منشیات کارٹل قائم کر لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے اس نے اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے ختم کر دیے۔</p>
<p>کوکین کوئین انمول عرف پنکی کو پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا، تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی۔ کوکین کے اثر کو بڑھانے کے لیے کیٹامائن اور ایسیٹون کی ملاوٹ کی جاتی رہی۔</p>
<p>پنکی نے کوئن میڈم پنکی کے نام سے اپنا برانڈ بھی لانچ کیا اور اس کے خریداروں میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان، کشمیر اور گلگت بلتستان تک اس کی سپلائی موجود رہی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک کوچ سروس کے ذریعے بڑا نیٹ ورک قائم کیا، جب کہ اس کی دستِ راست بیبو اور حرا اہم کردار ادا کرتی رہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ منگل کے روز کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے ایک مشترکہ اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں منشیات کا وسیع جال پھیلانے والی بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ انمول عرف پنکی کو گرفتارکیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505248/karachi-drug-network-ringleader-anmol-pinky-arrested'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505248"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق یہ اہم گرفتاری کراچی کے علاقے گارڈن سے عمل میں لائی گئی ہے۔ جہاں سے ملزمہ نہ صرف منشیات فروشی کے ایک منظم نیٹ ورک کی سربراہی کر رہی تھی بل کہ وہ درجنوں مقدمات میں پولیس کو انتہائی مطلوب اور عرصے سے مفرور بھی تھی۔</p>
<p>پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد ہوئی، انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک اتنا وسیع تھا کہ وہ منشیات کی سپلائی کے لیے خواتین رائڈرز کا استعمال کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کراچی پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار ہونے والی ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کو منگل کے روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں مقامی عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے تفتیشی افسر سے 14 روز میں چالان طلب کر لیا۔</p>
<p>منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب اور متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کی ہدایت جاری کر دیں۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ تمام افسران و اہلکار قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق بغیر ہتھکڑی ملزمہ کی پیشی کے معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505253</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 21:44:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12213603e01d0f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12213603e01d0f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا پر طبی مشوروں کی بھرمار: مستند اور جھوٹے دعوؤں میں فرق کیسے کریں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505266/flood-of-medical-advice-on-social-media-how-to-differentiate-between-authentic-and-fake-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"&gt; اے پی &lt;/a&gt;کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"> اے پی </a>کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔</p>
<p>نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔</p>
<p>ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505266</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 10:37:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13103639101cac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13103639101cac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں عیدالضحیٰ کب ہوگی؟ تاریخ سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505236/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی ادارے ’اسپارکو‘ کے فلکیاتی اعداد و شمار کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کے آغاز کے لیے اہم پیشگوئی سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اسپارکو‘ کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کا نیا چاند 17 مئی 2026 کو رات ایک بج کرایک منٹ پر پیدا ہوگا، اسی روز غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان تقریباً 60 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، جو چاند کی رویت کے لیے ایک اہم فلکیاتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505234/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505234"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف ہو اور افق کے قریب حدِ نگاہ بہتر ہو تو 17 مئی کی شام ذوالحج کا نیا چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یکم ذوالحج 18 مئی بروز پیر اور عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپارکو نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام اندازے مکمل طور پر فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں، جبکہ ذوالحج کے چاند کی رویت اور مہینے کے آغاز سے متعلق حتمی فیصلہ مرکزی روئتِ ہلال کمیٹی کرے گی، جو ملک بھر سے حاصل ہونے والی معتبر شہادتوں اور مصدقہ مشاہدات کی روشنی میں باضابطہ اعلان جاری کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی ادارے ’اسپارکو‘ کے فلکیاتی اعداد و شمار کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کے آغاز کے لیے اہم پیشگوئی سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>’اسپارکو‘ کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کا نیا چاند 17 مئی 2026 کو رات ایک بج کرایک منٹ پر پیدا ہوگا، اسی روز غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ ہوگی۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان تقریباً 60 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، جو چاند کی رویت کے لیے ایک اہم فلکیاتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505234/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505234"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف ہو اور افق کے قریب حدِ نگاہ بہتر ہو تو 17 مئی کی شام ذوالحج کا نیا چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>لہٰذا یکم ذوالحج 18 مئی بروز پیر اور عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسپارکو نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام اندازے مکمل طور پر فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں، جبکہ ذوالحج کے چاند کی رویت اور مہینے کے آغاز سے متعلق حتمی فیصلہ مرکزی روئتِ ہلال کمیٹی کرے گی، جو ملک بھر سے حاصل ہونے والی معتبر شہادتوں اور مصدقہ مشاہدات کی روشنی میں باضابطہ اعلان جاری کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505236</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/121242290978601.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/121242290978601.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم گیمرز کا احتجاج: پب جی نے متنازع آئٹم گیم سے ہٹا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505238/pubg-removes-hand-of-the-almighty-item-after-muslim-players-raise-concerns</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشہورِ زمانہ موبائل گیم ’پب جی‘ نے اپنے پلیٹ فارم سے ’ہینڈ آف دی آل مائٹی‘ نامی ایک کارڈ ہٹانے کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ معذرت بھی جاری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پب جی کی جانب سے معافی نامہ اُن مسلم کھلاڑیوں کے احتجاج کے بعد سامنے آیا جنہوں نے اس آئٹم کے نام کو مذہبی طور پر قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ متنازع کارڈ گیم کی حالیہ اپ ڈیٹ ’ہیروز کراؤن‘ کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے مسلمان کھلاڑیوں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور فلپائن کے صارفین نے فیس بک پیجز اور ایپ اسٹورز پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس آئٹم کا نام اسلام میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483916'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مسلمانوں کے نزدیک ’الجبار‘ کا مطلب ’زبردست قوت والا‘ یا ’غالب‘ ہے اور یہ نام گہری مذہبی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی زبان میں پب جی کے فیس بک پیج پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”میں نہایت احترام کے ساتھ ’ہینڈ آف دی آل مائٹی‘ یا ’الجبار‘ کے نام سے منسوب اس آئٹم کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کر رہا ہوں۔ بطور مسلمان کھلاڑی ہم میں سے بہت سے لوگ گیم کے اندر اس نام کے استعمال سے غیر مرئی بوجھ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ یہ اللہ کے 99 ناموں میں سے ایک ہے اور کروڑوں مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے اس شدید ردِعمل کے بعد پب جی موبائل نے منگل کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اس آئٹم کو گیم سے ہٹانے کی تصدیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/241818/%D9%BE%D8%A8-%D8%AC%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5-%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%86-%D9%BE%D8%B1-10-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C2019-10-08'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/241818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”پب جی موبائل حال ہی میں گیم میں شامل کیے گئے ایک آئٹم کے نام پر اٹھنے والے خدشات کا جواب دینا چاہتا ہے۔ ہم اپنے کھلاڑیوں سے دل سے معذرت خواہ ہیں اور کمیونٹی سے ملنے والی رائے کی قدر کرتے ہیں۔ ہم اپنے کھلاڑیوں کی اقدار، روایات اور مذہبی شعائر کا احترام کرتے ہیں اور اس بات پر افسردہ ہیں کہ ہماری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پب جی نے کہا کہ ”ہم نے فوری طور پر اس آئٹم کو گیم سے ہٹا دیا ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PUBGMOBILE/status/2054053950161358891?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PUBGMOBILE/status/2054053950161358891?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید وضاحت کی کہ ”پب جی موبائل میں ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ہر ایک کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے مواد کا مزید جائزہ لیں گے تاکہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گیم مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے حوالے سے حساس رہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پب جی کو مذہبی تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مئی 2024 میں بھی ایک اشتہاری ویڈیو میں اسلامی خطاطی کے استعمال پر کمپنی کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ اس سے قبل 2020 میں پب جی نے اپنا پورا ’مسٹیریس جنگل‘ موڈ اس لیے ختم کر دیا تھا کیونکہ اس میں صحت بحال کرنے کے لیے بتوں کے سامنے عبادت جیسا عمل دکھایا گیا تھا، جسے مسلمانوں نے بت پرستی قرار دیتے ہوئے ناپسند کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشہورِ زمانہ موبائل گیم ’پب جی‘ نے اپنے پلیٹ فارم سے ’ہینڈ آف دی آل مائٹی‘ نامی ایک کارڈ ہٹانے کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ معذرت بھی جاری کی ہے۔</strong></p>
<p>پب جی کی جانب سے معافی نامہ اُن مسلم کھلاڑیوں کے احتجاج کے بعد سامنے آیا جنہوں نے اس آئٹم کے نام کو مذہبی طور پر قابلِ اعتراض قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>یہ متنازع کارڈ گیم کی حالیہ اپ ڈیٹ ’ہیروز کراؤن‘ کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر کے مسلمان کھلاڑیوں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور فلپائن کے صارفین نے فیس بک پیجز اور ایپ اسٹورز پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس آئٹم کا نام اسلام میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483916'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مسلمانوں کے نزدیک ’الجبار‘ کا مطلب ’زبردست قوت والا‘ یا ’غالب‘ ہے اور یہ نام گہری مذہبی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>عربی زبان میں پب جی کے فیس بک پیج پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”میں نہایت احترام کے ساتھ ’ہینڈ آف دی آل مائٹی‘ یا ’الجبار‘ کے نام سے منسوب اس آئٹم کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کر رہا ہوں۔ بطور مسلمان کھلاڑی ہم میں سے بہت سے لوگ گیم کے اندر اس نام کے استعمال سے غیر مرئی بوجھ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ یہ اللہ کے 99 ناموں میں سے ایک ہے اور کروڑوں مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔“</p>
<p>صارفین کے اس شدید ردِعمل کے بعد پب جی موبائل نے منگل کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اس آئٹم کو گیم سے ہٹانے کی تصدیق کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/241818/%D9%BE%D8%A8-%D8%AC%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%A6%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5-%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%86-%D9%BE%D8%B1-10-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C2019-10-08'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/241818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”پب جی موبائل حال ہی میں گیم میں شامل کیے گئے ایک آئٹم کے نام پر اٹھنے والے خدشات کا جواب دینا چاہتا ہے۔ ہم اپنے کھلاڑیوں سے دل سے معذرت خواہ ہیں اور کمیونٹی سے ملنے والی رائے کی قدر کرتے ہیں۔ ہم اپنے کھلاڑیوں کی اقدار، روایات اور مذہبی شعائر کا احترام کرتے ہیں اور اس بات پر افسردہ ہیں کہ ہماری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی۔“</p>
<p>پب جی نے کہا کہ ”ہم نے فوری طور پر اس آئٹم کو گیم سے ہٹا دیا ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PUBGMOBILE/status/2054053950161358891?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PUBGMOBILE/status/2054053950161358891?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی نے مزید وضاحت کی کہ ”پب جی موبائل میں ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ہر ایک کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے مواد کا مزید جائزہ لیں گے تاکہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گیم مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے حوالے سے حساس رہے۔“</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پب جی کو مذہبی تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مئی 2024 میں بھی ایک اشتہاری ویڈیو میں اسلامی خطاطی کے استعمال پر کمپنی کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ اس سے قبل 2020 میں پب جی نے اپنا پورا ’مسٹیریس جنگل‘ موڈ اس لیے ختم کر دیا تھا کیونکہ اس میں صحت بحال کرنے کے لیے بتوں کے سامنے عبادت جیسا عمل دکھایا گیا تھا، جسے مسلمانوں نے بت پرستی قرار دیتے ہوئے ناپسند کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505238</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:18:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/121316366454752.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/121316366454752.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ کا وزن دوبارہ بڑھ رہا ہے؟ بس چند قدم چلیں اور وزن قابو میں رکھیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزن کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اصل امتحان اس وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی مستقل عادت اپنا لے تو وہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکتا ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ 10,000 قدم چلنا صحت بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کے لیے ایک مشہور اور مؤثر ہدف سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ہدف پورا کرنا ہر روز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور جدید طرز زندگی کے ساتھ اسے قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381033'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 10,000 قدم چلنا ایک اچھا فٹنس مقصد ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنے سے ڈائٹ کے بعد وزن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی کے شہر استنبول میں موٹاپے کے حوالے سے منعقدہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://easo.org/"&gt;بین الاقوامی کانفرنس&lt;/a&gt; (ای سی او 2026) میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے اب دس ہزار قدموں کا مشکل ہدف لازمی نہیں، بلکہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم بھی وہی نتائج دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے تین ہزار سات سو سے زائد افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ اگلے تین سے پانچ سالوں میں دوبارہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد انسانی جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم کھوئی ہوئی چربی دوبارہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں تو خوراک کی تبدیلی اور ڈائیٹنگ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر جب وزن ایک بار کم ہو جائے تو جسم اسے اکثر واپس بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یعنی پیدل چلنا لازمی ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈائٹ کے دوران اضافی قدم اٹھانے سے وزن تیزی سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس مرحلے میں وزن زیادہ تر کیلوری کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر وزن برقرار رکھنے کے لیے قدم چلنا انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے تاکہ وزن دوبارہ بڑھنے نہ پائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460873'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ڈائیٹنگ کے بعد روزانہ تقریباً 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو اپنا طرز زندگی بنا لیا، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین کلو گرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے جنہوں نے سستی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ صحت کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار قدموں کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین سے چار میل بنتا ہے، جسے ایک اوسط رفتار کا حامل شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضروری نہیں کہ یہ ہدف ایک ہی بار میں پورا کیا جائے؛ صبح کی سیر، دفتر میں چھوٹے وقفوں کے دوران چلنا اور رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی مل کر بھی یہ ہدف پورا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزن گھٹانے کے لیے ڈائیٹنگ بہترین ہے، لیکن اس کم کیے گئے وزن کو ایک جگہ روکنے یا لاک کرنے کے لیے پیدل چلنا سب سے موثر اور سستا ترین حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سادہ سی تبدیلی نہ صرف آپ کی محنت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول کی بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے ایک عارضی مشق کے بجائے مستقل طرز زندگی کے طور پر اپنانا ہی موٹاپے کے خلاف اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک مفت اور آسان حکمت عملی ہے جو آپ کی ڈائٹ کی محنت کو مستقل بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزن کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اصل امتحان اس وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی مستقل عادت اپنا لے تو وہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکتا ہے</strong>۔</p>
<p>روزانہ 10,000 قدم چلنا صحت بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کے لیے ایک مشہور اور مؤثر ہدف سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ہدف پورا کرنا ہر روز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور جدید طرز زندگی کے ساتھ اسے قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381033'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ 10,000 قدم چلنا ایک اچھا فٹنس مقصد ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنے سے ڈائٹ کے بعد وزن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>ترکی کے شہر استنبول میں موٹاپے کے حوالے سے منعقدہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://easo.org/">بین الاقوامی کانفرنس</a> (ای سی او 2026) میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے اب دس ہزار قدموں کا مشکل ہدف لازمی نہیں، بلکہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم بھی وہی نتائج دے سکتے ہیں۔</p>
<p>محققین نے تین ہزار سات سو سے زائد افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ اگلے تین سے پانچ سالوں میں دوبارہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد انسانی جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم کھوئی ہوئی چربی دوبارہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں تو خوراک کی تبدیلی اور ڈائیٹنگ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر جب وزن ایک بار کم ہو جائے تو جسم اسے اکثر واپس بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یعنی پیدل چلنا لازمی ہو جاتا ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈائٹ کے دوران اضافی قدم اٹھانے سے وزن تیزی سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس مرحلے میں وزن زیادہ تر کیلوری کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر وزن برقرار رکھنے کے لیے قدم چلنا انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے تاکہ وزن دوبارہ بڑھنے نہ پائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460873'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ڈائیٹنگ کے بعد روزانہ تقریباً 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو اپنا طرز زندگی بنا لیا، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین کلو گرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے جنہوں نے سستی دکھائی۔</p>
<p>ماہرینِ صحت کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار قدموں کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین سے چار میل بنتا ہے، جسے ایک اوسط رفتار کا حامل شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ ضروری نہیں کہ یہ ہدف ایک ہی بار میں پورا کیا جائے؛ صبح کی سیر، دفتر میں چھوٹے وقفوں کے دوران چلنا اور رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی مل کر بھی یہ ہدف پورا کر سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزن گھٹانے کے لیے ڈائیٹنگ بہترین ہے، لیکن اس کم کیے گئے وزن کو ایک جگہ روکنے یا لاک کرنے کے لیے پیدل چلنا سب سے موثر اور سستا ترین حل ہے۔</p>
<p>یہ سادہ سی تبدیلی نہ صرف آپ کی محنت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول کی بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے ایک عارضی مشق کے بجائے مستقل طرز زندگی کے طور پر اپنانا ہی موٹاپے کے خلاف اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک مفت اور آسان حکمت عملی ہے جو آپ کی ڈائٹ کی محنت کو مستقل بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505227</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 09:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12095423a0bc599.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12095423a0bc599.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپ اکیلے کمرے میں بھی محفوظ نہیں: صارفین کی جاسوسی کرنے پر نیٹ فلکس کے خلاف مقدمہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505240/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی ریاست ٹیکساس نے مشہور فلمی اسٹریمنگ سروس ”نیٹ فلکس“ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں کمپنی پر صارفین کی جاسوسی کرنے اور ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/technology/2026/may/11/texas-sues-netflix-lawsuit"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt; کے مطابق ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پکسٹن کے دفتر سے دائر کی گئی اس شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیٹ فلکس اپنے صارفین، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کو اسکرین سے چپکائے رکھنے کے لیے ایسی خفیہ تکنیکیں استعمال کرتا ہے جنہیں عام زبان میں ”ڈارک پیٹرنز“ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خفیہ طریقوں کا مقصد صارفین کو ایپ کا عادی بنانا ہے تاکہ وہ مسلسل فلمیں اور ڈرامے دیکھتے رہیں اور اسی دوران کمپنی ان کی نجی معلومات جمع کر کے بھاری منافع کما سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں سب سے دلچسپ اور چونکا دینے والا جملہ یہ استعمال کیا گیا ہے کہ ’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس دراصل آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495762'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495762"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمپنی آپ کے کمرے میں موجود کیمرے سے آپ کی ویڈیو بنا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد صارف کے رویے کی مکمل نگرانی ہے۔ نیٹ فلکس یہ نوٹ کرتا ہے کہ آپ نے فلم کب روکی، کون سا حصہ دوبارہ دیکھا، کتنی دیر تک ایپ استعمال کی اور آپ کی پسند ناپسند کیا ہے۔ اس تمام ڈیٹا کی بنیاد پر ہر صارف کے لیے ایک علیحدہ پروفائل تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان کو اپنی ایپ کی ہوم اسکرین پر مختلف فلمیں نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات کے مطابق نیٹ فلکس ایسی ترغیبات استعمال کرتا ہے جو صارف کو اسکرین سے ہٹنے نہیں دیتیں اور اس عمل میں صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈارک پیٹرنز دراصل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان چھپے ہوئے ڈیزائنوں کو کہا جاتا ہے جو صارفین کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن سے کمپنی کو مالی فائدہ ہو۔ مثال کے طور پر بعض ایپس مختلف فون استعمال کرنے والے افراد کو ایک ہی چیز کی مختلف قیمتیں دکھاتی ہیں تاکہ زیادہ پیسے بٹورے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468949'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نیٹ فلکس کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ غلط اور توڑ مروڑ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے واضح کیا کہ نیٹ فلکس اپنے ممبران کی پرائیویسی کا بہت خیال رکھتا ہے اور ان تمام ممالک کے قوانین کی پاسداری کرتا ہے جہاں وہ اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ فیصلہ عدالت میں ہوگا کہ کیا نیٹ فلکس واقعی قانونی حدود سے تجاوز کر کے صارفین کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا رہا ہے یا یہ صرف اس کی سروس کو بہتر بنانے کا ایک طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی ریاست ٹیکساس نے مشہور فلمی اسٹریمنگ سروس ”نیٹ فلکس“ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں کمپنی پر صارفین کی جاسوسی کرنے اور ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/technology/2026/may/11/texas-sues-netflix-lawsuit">دی گارجین</a> کے مطابق ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پکسٹن کے دفتر سے دائر کی گئی اس شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیٹ فلکس اپنے صارفین، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کو اسکرین سے چپکائے رکھنے کے لیے ایسی خفیہ تکنیکیں استعمال کرتا ہے جنہیں عام زبان میں ”ڈارک پیٹرنز“ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>ان خفیہ طریقوں کا مقصد صارفین کو ایپ کا عادی بنانا ہے تاکہ وہ مسلسل فلمیں اور ڈرامے دیکھتے رہیں اور اسی دوران کمپنی ان کی نجی معلومات جمع کر کے بھاری منافع کما سکے۔</p>
<p>مقدمے میں سب سے دلچسپ اور چونکا دینے والا جملہ یہ استعمال کیا گیا ہے کہ ’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس دراصل آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495762'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495762"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمپنی آپ کے کمرے میں موجود کیمرے سے آپ کی ویڈیو بنا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد صارف کے رویے کی مکمل نگرانی ہے۔ نیٹ فلکس یہ نوٹ کرتا ہے کہ آپ نے فلم کب روکی، کون سا حصہ دوبارہ دیکھا، کتنی دیر تک ایپ استعمال کی اور آپ کی پسند ناپسند کیا ہے۔ اس تمام ڈیٹا کی بنیاد پر ہر صارف کے لیے ایک علیحدہ پروفائل تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان کو اپنی ایپ کی ہوم اسکرین پر مختلف فلمیں نظر آتی ہیں۔</p>
<p>عدالتی دستاویزات کے مطابق نیٹ فلکس ایسی ترغیبات استعمال کرتا ہے جو صارف کو اسکرین سے ہٹنے نہیں دیتیں اور اس عمل میں صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ڈارک پیٹرنز دراصل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان چھپے ہوئے ڈیزائنوں کو کہا جاتا ہے جو صارفین کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن سے کمپنی کو مالی فائدہ ہو۔ مثال کے طور پر بعض ایپس مختلف فون استعمال کرنے والے افراد کو ایک ہی چیز کی مختلف قیمتیں دکھاتی ہیں تاکہ زیادہ پیسے بٹورے جا سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30468949'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30468949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب نیٹ فلکس کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ غلط اور توڑ مروڑ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔</p>
<p>ترجمان نے واضح کیا کہ نیٹ فلکس اپنے ممبران کی پرائیویسی کا بہت خیال رکھتا ہے اور ان تمام ممالک کے قوانین کی پاسداری کرتا ہے جہاں وہ اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>اب یہ فیصلہ عدالت میں ہوگا کہ کیا نیٹ فلکس واقعی قانونی حدود سے تجاوز کر کے صارفین کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا رہا ہے یا یہ صرف اس کی سروس کو بہتر بنانے کا ایک طریقہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505240</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 14:40:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/121436019a71a84.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/121436019a71a84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہنٹا وائرس کہاں سے شروع ہوا اور کہاں تک پھیل چکا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی صحت کے اداروں اور حکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوبی امریکا سے روانہ ہونے والے ایک سیاحتی جہاز میں وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک ہائی الرٹ ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو مختلف ملکوں میں منتقل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین اموات اور کئی مشتبہ کیسز کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یورپی حکام اور مختلف ممالک کی طبی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہنٹا وائرس آخر کہاں سے شروع ہوا اور دنیا کے کن حصوں تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرس سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ملکوں میں درجنوں مسافروں کو قرنطینہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کئی حکومتیں اس پراسرار وبا کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام شہریوں کے لیے فوری خطرہ کم ہے، تاہم متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہدایات جاری کی ہیں کہ  جہاز پر موجود تمام افراد کو کم از کم 42 دن تک مانیٹر کیا جائے کیونکہ وائرس کی علامات تاخیر سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کا مرکز اس وقت ارجنٹینا بن چکا ہے کیونکہ جہاز نے یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے سفر شروع کیا تھا۔ یہ علاقہ پیٹاگونیا کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ”گیٹ وے ٹو انٹارکٹیکا“ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے افراد ایک ڈچ جوڑا تھا، جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے اوشوائیا کے قریب ایک لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا تھا جہاں وہ نایاب پرندے کی تلاش میں گئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود چوہوں کے فضلے یا آلودہ ماحول کے ذریعے وائرس منتقل ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ارجنٹائن کے مقامی حکام نے اس امکان کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد ہنٹا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وائرس پھیلانے والے روڈنٹس نئی جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;روڈنٹس دراصل اپنے آگے کے دانتوں سے کترنے والے چھوٹے جانور ہیں جیسے چوہے، گلہریاں اور دوسرے چھوٹے جانور، اس لیے علاقے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے ماہرین کو متاثرہ مقام پر بھیج دیا ہے جہاں چوہوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلی بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے کیونکہ ”اینڈیز اسٹرین“ نامی ہنٹا وائرس جنوبی چلی کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ ڈچ جوڑا کئی ماہ تک چلی اور ارجنٹینا کے مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا تھا۔ چلی کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ملک میں موجود رہے تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کا سفر وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ابتدائی طور پر چلی کو ذریعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوراگوئے کا نام بھی سامنے آیا کیونکہ یہ جوڑا وہاں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا تھا، لیکن یوراگوئے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ مریضوں میں علامات ملک چھوڑنے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس لیے وہاں مقامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جہاز کے مسافر اب دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ”نیبراسکا“ منتقل کیا جہاں انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اس میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہوگئی جہاں واپس آنے والی ایک فرانسیسی خاتون میں دورانِ پرواز علامات ظاہر ہوئیں اور بعد میں اس کی حالت بگڑ گئی۔ فرانسیسی حکومت نے تمام متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن میں منتقل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسافروں کو ابتدائی طبی نگرانی کے بعد چھ ہفتوں کے لیے سیلف آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران برطانوی فوجی طبی ماہرین کو ٹرسٹن دا کونہا بھیجا گیا جہاں ایک مشتبہ مریض پہلے ہی اتر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیدرلینڈز میں 26 افراد کو واپس لا کر گھروں میں قرنطینہ کیا گیا جبکہ جرمنی نے اپنے شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں فریکفرٹ منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی متعدد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں جہاز کا ایک ڈاکٹر اور عملے کے افراد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، پرتگال، یونان، بیلجیئم، فلپائن، یوکرین اور دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ’اینڈیز اسٹرین‘ ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام صرف متاثرہ روڈینٹس یعنی چوہوں وغیرہ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف حکومتیں غیرمعمولی احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے نہ صرف عالمی صحت کے نظام کو چوکنّا کر دیا ہے بلکہ جنوبی امریکا کی سیاحت، خاص طور پر اوشوائیا اور پیٹاگونیا جیسے علاقوں کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس تحقیق پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ وائرس پہلی بار کہاں سے جہاز تک پہنچا اور کیا اسے مزید ممالک میں پھیلنے سے روکا جا سکے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی صحت کے اداروں اور حکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوبی امریکا سے روانہ ہونے والے ایک سیاحتی جہاز میں وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک ہائی الرٹ ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو مختلف ملکوں میں منتقل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>تین اموات اور کئی مشتبہ کیسز کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یورپی حکام اور مختلف ممالک کی طبی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہنٹا وائرس آخر کہاں سے شروع ہوا اور دنیا کے کن حصوں تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>وائرس سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ملکوں میں درجنوں مسافروں کو قرنطینہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کئی حکومتیں اس پراسرار وبا کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام شہریوں کے لیے فوری خطرہ کم ہے، تاہم متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہدایات جاری کی ہیں کہ  جہاز پر موجود تمام افراد کو کم از کم 42 دن تک مانیٹر کیا جائے کیونکہ وائرس کی علامات تاخیر سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>تحقیقات کا مرکز اس وقت ارجنٹینا بن چکا ہے کیونکہ جہاز نے یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے سفر شروع کیا تھا۔ یہ علاقہ پیٹاگونیا کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ”گیٹ وے ٹو انٹارکٹیکا“ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>ابتدائی اطلاعات کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے افراد ایک ڈچ جوڑا تھا، جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے اوشوائیا کے قریب ایک لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا تھا جہاں وہ نایاب پرندے کی تلاش میں گئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود چوہوں کے فضلے یا آلودہ ماحول کے ذریعے وائرس منتقل ہوا ہو۔</p>
<p>تاہم ارجنٹائن کے مقامی حکام نے اس امکان کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد ہنٹا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وائرس پھیلانے والے روڈنٹس نئی جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>روڈنٹس دراصل اپنے آگے کے دانتوں سے کترنے والے چھوٹے جانور ہیں جیسے چوہے، گلہریاں اور دوسرے چھوٹے جانور، اس لیے علاقے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے ماہرین کو متاثرہ مقام پر بھیج دیا ہے جہاں چوہوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>چلی بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے کیونکہ ”اینڈیز اسٹرین“ نامی ہنٹا وائرس جنوبی چلی کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ ڈچ جوڑا کئی ماہ تک چلی اور ارجنٹینا کے مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا تھا۔ چلی کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ملک میں موجود رہے تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کا سفر وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ابتدائی طور پر چلی کو ذریعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔</p>
<p>یوراگوئے کا نام بھی سامنے آیا کیونکہ یہ جوڑا وہاں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا تھا، لیکن یوراگوئے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ مریضوں میں علامات ملک چھوڑنے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس لیے وہاں مقامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔</p>
<p>اس جہاز کے مسافر اب دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ”نیبراسکا“ منتقل کیا جہاں انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اس میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔</p>
<p>فرانس میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہوگئی جہاں واپس آنے والی ایک فرانسیسی خاتون میں دورانِ پرواز علامات ظاہر ہوئیں اور بعد میں اس کی حالت بگڑ گئی۔ فرانسیسی حکومت نے تمام متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن میں منتقل کر دیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسافروں کو ابتدائی طبی نگرانی کے بعد چھ ہفتوں کے لیے سیلف آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران برطانوی فوجی طبی ماہرین کو ٹرسٹن دا کونہا بھیجا گیا جہاں ایک مشتبہ مریض پہلے ہی اتر چکا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504566/what-is-hantavirus-prevention-treatment-symptoms-cruise-ship'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نیدرلینڈز میں 26 افراد کو واپس لا کر گھروں میں قرنطینہ کیا گیا جبکہ جرمنی نے اپنے شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں فریکفرٹ منتقل کیا۔</p>
<p>جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی متعدد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں جہاز کا ایک ڈاکٹر اور عملے کے افراد شامل ہیں۔</p>
<p>آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، پرتگال، یونان، بیلجیئم، فلپائن، یوکرین اور دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ’اینڈیز اسٹرین‘ ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام صرف متاثرہ روڈینٹس یعنی چوہوں وغیرہ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف حکومتیں غیرمعمولی احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔</p>
<p>اس واقعے نے نہ صرف عالمی صحت کے نظام کو چوکنّا کر دیا ہے بلکہ جنوبی امریکا کی سیاحت، خاص طور پر اوشوائیا اور پیٹاگونیا جیسے علاقوں کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس تحقیق پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ وائرس پہلی بار کہاں سے جہاز تک پہنچا اور کیا اسے مزید ممالک میں پھیلنے سے روکا جا سکے گا یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505231</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 11:53:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12115001ac41750.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12115001ac41750.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئٹم سانگ 'بلّی' میری زندگی کی بہترین چوائس تھی: مہوش حیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505241/quotthe-item-song-billi-was-the-best-choice-of-my-lifequot-says-mahira-hayat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی سپر اسٹار مہوش حیات نے اپنے فلمی کیریئر کے آغاز سے متعلق ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔  اداکارہ نے بتایا کہ فلمی دنیا میں آئٹم سانگ ’بلی‘ کے ذریعے انٹری دینا ان کی زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہوش حیات اپنے ڈرامہ سیریل ’دایان‘ کی کامیابی کے بعد ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر اور فلمی سفر سے متعلق  کھل کر گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہوش حیات کا کہنا تھا کہ ڈراموں سے فلموں کی طرف یہ ایک بڑا اور بولڈ قدم تھا جو کسی بھی سمت جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466836'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466836"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انکشاف کیا کہ ’بلی‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ نہ صرف تھکی ہوئی تھیں بلکہ ان کے جسم پر چوٹیں بھی تھیں اور وہ کافی نروس بھی تھیں۔ تاہم، انہیں اپنے ’فلمی چہرے‘ پر پورا یقین تھا، جس کا تذکرہ سینئر اداکار جاوید شیخ نے بھی ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ان سے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’ہدایت کار فضا اور نبیل نے فضا اور نبیل نے میرے پرفارمنس دیکھنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے یہ کام کیا اور یہ ثابت ہوا کہ یہ میرے کیے گئے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ فضا اور نبیل نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے اس انداز میں فلمایا جائے کہ یہ فلم کا ایک حقیقی حصہ لگے اور واقعی یہ کامیابی کے بعد گینگسٹر پارٹی کے سین جیسا محسوس ہوا‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30420731'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30420731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی پروگرام میں موجود اداکار فہد مصطفیٰ نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ اور مضحکہ خیز واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ مہوش حیات کی پرفارمنس میں ایسی چمک اور کشش تھی کہ شوٹنگ کی  لوکیشن کا مالک انہیں رقص کرتے ہوئے دیکھنے میں اتنا محو ہوا کہ بلندی سے نیچے گر پڑا۔ فہد کے مطابق، مہوش ایک بہترین پرفارمر ہیں اور وہ لوگ تو صرف ان کے رقص پر ری ایکٹ کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مہوش حیات کے مداح جلد ہی انہیں فہد مصطفیٰ کے ساتھ نئی ہارر کامیڈی فلم ’زومبیڈ‘ میں دیکھ سکیں گے، جو اس سال عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل مہوش حیات ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘، ’ایکٹر ان لاء‘ اور ’لندن نہیں جاؤں گا‘ جیسی بلاک بسٹر فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی سپر اسٹار مہوش حیات نے اپنے فلمی کیریئر کے آغاز سے متعلق ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔  اداکارہ نے بتایا کہ فلمی دنیا میں آئٹم سانگ ’بلی‘ کے ذریعے انٹری دینا ان کی زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔</strong></p>
<p>مہوش حیات اپنے ڈرامہ سیریل ’دایان‘ کی کامیابی کے بعد ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر اور فلمی سفر سے متعلق  کھل کر گفتگو کی۔</p>
<p>مہوش حیات کا کہنا تھا کہ ڈراموں سے فلموں کی طرف یہ ایک بڑا اور بولڈ قدم تھا جو کسی بھی سمت جا سکتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466836'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466836"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے انکشاف کیا کہ ’بلی‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ نہ صرف تھکی ہوئی تھیں بلکہ ان کے جسم پر چوٹیں بھی تھیں اور وہ کافی نروس بھی تھیں۔ تاہم، انہیں اپنے ’فلمی چہرے‘ پر پورا یقین تھا، جس کا تذکرہ سینئر اداکار جاوید شیخ نے بھی ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ان سے کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’ہدایت کار فضا اور نبیل نے فضا اور نبیل نے میرے پرفارمنس دیکھنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے یہ کام کیا اور یہ ثابت ہوا کہ یہ میرے کیے گئے بہترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ فضا اور نبیل نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے اس انداز میں فلمایا جائے کہ یہ فلم کا ایک حقیقی حصہ لگے اور واقعی یہ کامیابی کے بعد گینگسٹر پارٹی کے سین جیسا محسوس ہوا‘۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30420731'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30420731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی پروگرام میں موجود اداکار فہد مصطفیٰ نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ اور مضحکہ خیز واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ مہوش حیات کی پرفارمنس میں ایسی چمک اور کشش تھی کہ شوٹنگ کی  لوکیشن کا مالک انہیں رقص کرتے ہوئے دیکھنے میں اتنا محو ہوا کہ بلندی سے نیچے گر پڑا۔ فہد کے مطابق، مہوش ایک بہترین پرفارمر ہیں اور وہ لوگ تو صرف ان کے رقص پر ری ایکٹ کررہے تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ مہوش حیات کے مداح جلد ہی انہیں فہد مصطفیٰ کے ساتھ نئی ہارر کامیڈی فلم ’زومبیڈ‘ میں دیکھ سکیں گے، جو اس سال عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے جا رہی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل مہوش حیات ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘، ’ایکٹر ان لاء‘ اور ’لندن نہیں جاؤں گا‘ جیسی بلاک بسٹر فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505241</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 15:21:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/121508166af0550.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/121508166af0550.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'والد کے ساتھ فلم بنانا غلطی تھی'، جنید خان کا فلم 'ایک دن' کی ناکامی پر حیران کن انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505228/quotmaking-a-film-with-my-father-was-a-mistakequot-junaid-khans-shocking-revelation-on-the-failure-of-ek-din</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلمی کیریئر کی ابتدا میں ہی کئی چیلنجز کا سامنا کرنے والے بولی ووڈ اداکار جنید خان نے اپنی تازہ ترین فلم ’ایک دن‘ کی ناکامی پر اعتراف کیا ہے کہ اس پروجیکٹ میں انہوں نے ایک غلطی کی&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکی لالوانی کے یوٹیوب چینل پرجنید خان نے فلم کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’ہمیں امید تھی کہ فلم اچھی رہے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ، ’یہ فلم مجھے بہت پسند تھی اور مجھے واقعی اسے کرنے  میں  لطف آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بھی یہ فلم پسند آئی، لیکن شاید زیادہ تر لوگوں کو یہ متاثر نہیں کرسکی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب جنید سے پوچھا گیا کہ ان کے والد عامر خان اس ناکامی کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ عامر خان اپنی بنائی ہوئی فلموں سے بہت زیادہ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور انہیں ان کے نتائج قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید کے مطابق ان کے والد اب بھی پرامید ہیں اور اتنے سال اس صنعت میں گزارنے کے باوجود فلم کی ناکامی انہیں آج بھی پریشان کرتی ہے، لیکن وہ خود کو مصروف کر لیتے ہیں اور دوبارہ نئے عزم کے ساتھ کام شروع کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید خان نے ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ وہ اب اپنے والد کو اپنی فلمیں پروڈیوس نہیں کرنے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میں نے ’ایک دن‘کے ساتھ یہ غلطی کی۔ دراصل یہ  فلم ’مہاراجہ‘ کے ہدایت کار سدھارت پی ملہوترا کے تحت بننے والی تھی، لیکن میں نے والد کی رائے لینے کا فیصلہ کیا، جس سے فلم عامر خان کی پروڈکشن میں چلی گئی۔ والد نے کہا، ’میں اپنی بیٹے کے لیے فلم بنانا چاہتا ہوں، ہر کوئی اس کے لیے فلم بنا رہا ہے، اب میری باری ہے۔‘ یہ ایک جذباتی فیصلہ تھا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504295'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنید نے مزید وضاحت کی کہ عامر خان ایک بہترین پروڈیوسر ہیں، لیکن ان کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فلم مکمل ہونے میں پانچ سال لگ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید کا کہنا ہے کہ، ’میرے والد اپنے کیریئر کے اس مقام پر ہیں جہاں وہ پانچ سال میں ایک فلم کر سکتے ہیں، لیکن میں ابھی کیریئر کی شروعات میں ہوں اور مجھے مسلسل کام کی ضرورت ہے، اس لیے والد کے ساتھ ہر پروجیکٹ نہیں کرنا چاہتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جنید خان کا فلمی سفر اب تک کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، جہاں ان کی ابتدائی فلموں ’مہاراج‘ اور ’لو پاپا‘ کو ملا جلا ردعمل ملا، وہیں ان کی تیسری فلم ’ایک دن‘ بھی شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس فلم کو خود عامر خان نے پروڈیوس کیا تھا، لیکن یہ باکس آفس پر کوئی خاص کمال نہ دکھا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ایک دن‘  2016 کے تھائی رومانٹک ڈرامہ ’ون ڈے‘ کی ریمیک ہے اور ایک نوجوان کے اپنے کولیگ کے ساتھ محبت کے جذبات اور ایک دن ساتھ گزارنے کی خواہش پر مبنی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلم نے 11 دنوں میں دنیا بھر میں صرف 5.4 کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلمی کیریئر کی ابتدا میں ہی کئی چیلنجز کا سامنا کرنے والے بولی ووڈ اداکار جنید خان نے اپنی تازہ ترین فلم ’ایک دن‘ کی ناکامی پر اعتراف کیا ہے کہ اس پروجیکٹ میں انہوں نے ایک غلطی کی</strong>۔</p>
<p>وکی لالوانی کے یوٹیوب چینل پرجنید خان نے فلم کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’ہمیں امید تھی کہ فلم اچھی رہے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ، ’یہ فلم مجھے بہت پسند تھی اور مجھے واقعی اسے کرنے  میں  لطف آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بھی یہ فلم پسند آئی، لیکن شاید زیادہ تر لوگوں کو یہ متاثر نہیں کرسکی۔‘</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503988'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503988"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب جنید سے پوچھا گیا کہ ان کے والد عامر خان اس ناکامی کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ عامر خان اپنی بنائی ہوئی فلموں سے بہت زیادہ جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور انہیں ان کے نتائج قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔</p>
<p>جنید کے مطابق ان کے والد اب بھی پرامید ہیں اور اتنے سال اس صنعت میں گزارنے کے باوجود فلم کی ناکامی انہیں آج بھی پریشان کرتی ہے، لیکن وہ خود کو مصروف کر لیتے ہیں اور دوبارہ نئے عزم کے ساتھ کام شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p>جنید خان نے ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ وہ اب اپنے والد کو اپنی فلمیں پروڈیوس نہیں کرنے دیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’میں نے ’ایک دن‘کے ساتھ یہ غلطی کی۔ دراصل یہ  فلم ’مہاراجہ‘ کے ہدایت کار سدھارت پی ملہوترا کے تحت بننے والی تھی، لیکن میں نے والد کی رائے لینے کا فیصلہ کیا، جس سے فلم عامر خان کی پروڈکشن میں چلی گئی۔ والد نے کہا، ’میں اپنی بیٹے کے لیے فلم بنانا چاہتا ہوں، ہر کوئی اس کے لیے فلم بنا رہا ہے، اب میری باری ہے۔‘ یہ ایک جذباتی فیصلہ تھا۔‘</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504295'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنید نے مزید وضاحت کی کہ عامر خان ایک بہترین پروڈیوسر ہیں، لیکن ان کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فلم مکمل ہونے میں پانچ سال لگ جائیں گے۔</p>
<p>جنید کا کہنا ہے کہ، ’میرے والد اپنے کیریئر کے اس مقام پر ہیں جہاں وہ پانچ سال میں ایک فلم کر سکتے ہیں، لیکن میں ابھی کیریئر کی شروعات میں ہوں اور مجھے مسلسل کام کی ضرورت ہے، اس لیے والد کے ساتھ ہر پروجیکٹ نہیں کرنا چاہتا۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ جنید خان کا فلمی سفر اب تک کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، جہاں ان کی ابتدائی فلموں ’مہاراج‘ اور ’لو پاپا‘ کو ملا جلا ردعمل ملا، وہیں ان کی تیسری فلم ’ایک دن‘ بھی شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس فلم کو خود عامر خان نے پروڈیوس کیا تھا، لیکن یہ باکس آفس پر کوئی خاص کمال نہ دکھا سکی۔</p>
<p>’ایک دن‘  2016 کے تھائی رومانٹک ڈرامہ ’ون ڈے‘ کی ریمیک ہے اور ایک نوجوان کے اپنے کولیگ کے ساتھ محبت کے جذبات اور ایک دن ساتھ گزارنے کی خواہش پر مبنی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلم نے 11 دنوں میں دنیا بھر میں صرف 5.4 کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505228</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 11:26:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12112006cc83784.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12112006cc83784.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر ہٹ فلم 'دی لیجنڈ آف مولا جٹ' چین کے سینما گھروں میں ریلیز کے لیے تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505213/maula-jatt-china-release-bilal-lashari-pakistani-cinema-global-success</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی سنیما کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کامیابی سامنے آئی ہے، جب ہدایت کار بلال لاشاری نے اعلان کیا ہے کہ سپر ہٹ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ 21 مئی کو چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ یہ پیش رفت پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی، ہمایمہ ملک، گوہر راشد، فخر شفیع اور علی عظمت سمیت نامور اداکار شامل ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستانی سنیما کے لیے بہت بڑا سنگِ میل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو چین کے انتہائی محدود اور سخت کنٹرول والے غیر ملکی فلم امپورٹ کوٹے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چینی زبان (مینڈارن) میں ڈب کیا گیا پوسٹر اور ٹریلر بھی جاری کیا، جس نے شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بلال لاشاری کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما اب عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے عالمی سطح پر ریکارڈ بزنس کرتے ہوئے 13 ملین ڈالر سے زائد کمائی کی اور پاکستان میں بھی ایک ارب روپے سے زیادہ کا بزنس کر کے تاریخ رقم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلم 1979 کی کلاسک پنجابی فلم مولا جٹ کا جدید ری-امیجنیشن ہے، جس میں مولا جٹ اور اس کے روایتی دشمن نوری نٹ کے درمیان شدید تصادم کی کہانی پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں اس کی ریلیز کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی بین الاقوامی توسیع کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں مزید پاکستانی فلموں کے لیے عالمی دروازے کھلنے کی امید بھی بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی سنیما کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کامیابی سامنے آئی ہے، جب ہدایت کار بلال لاشاری نے اعلان کیا ہے کہ سپر ہٹ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ 21 مئی کو چین کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ یہ پیش رفت پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی، ہمایمہ ملک، گوہر راشد، فخر شفیع اور علی عظمت سمیت نامور اداکار شامل ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے سوشل میڈیا پر اس خبر کو شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستانی سنیما کے لیے بہت بڑا سنگِ میل قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو چین کے انتہائی محدود اور سخت کنٹرول والے غیر ملکی فلم امپورٹ کوٹے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چینی زبان (مینڈارن) میں ڈب کیا گیا پوسٹر اور ٹریلر بھی جاری کیا، جس نے شائقین کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DYICC_pjFU_/?img_index=1" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>بلال لاشاری کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سینما اب عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے عالمی سطح پر ریکارڈ بزنس کرتے ہوئے 13 ملین ڈالر سے زائد کمائی کی اور پاکستان میں بھی ایک ارب روپے سے زیادہ کا بزنس کر کے تاریخ رقم کی۔</p>
<p>یہ فلم 1979 کی کلاسک پنجابی فلم مولا جٹ کا جدید ری-امیجنیشن ہے، جس میں مولا جٹ اور اس کے روایتی دشمن نوری نٹ کے درمیان شدید تصادم کی کہانی پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>چین میں اس کی ریلیز کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی بین الاقوامی توسیع کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں مزید پاکستانی فلموں کے لیے عالمی دروازے کھلنے کی امید بھی بڑھ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505213</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 18:17:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11180703d0ca376.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11180703d0ca376.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونا خریدنے والوں کے لیے خوشخبری، قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے اور مسلسل تیسرے روز بھی سونا سستا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5 ہزار 300 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 88 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 544 روہے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 18 ہزار 691 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505092/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 53 ڈالر کی کمی سے فی اونس سونا 4 ہزار 660 ڈالر کا ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 8513 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے اور مسلسل تیسرے روز بھی سونا سستا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5 ہزار 300 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 88 ہزار 362 روپے کی سطح پر آ گیا۔</p>
<p>اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 544 روہے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 18 ہزار 691 روپے ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505092/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 53 ڈالر کی کمی سے فی اونس سونا 4 ہزار 660 ڈالر کا ہو گیا۔</p>
<p>دوسری جانب آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 8513 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505207</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:08:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11155821a309640.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11155821a309640.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سالانہ ون ڈے ٹیم رینکنگ جاری: پاکستان تنزلی کے بعد اب کس پوزیشن پر موجود ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505210/icc-releases-annual-update-of-mens-odi-team-rankings</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ون ڈے ٹیم رینکنگ کی سالانہ اپ ڈیٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق پاکستان ٹیم کی ایک درجہ تنزلی ہوگئی، جس کے بعد قومی ٹیم چوتھے سے پانچویں نمبر پر چلی گئی، جنوبی افریقا نے پاکستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹاپ فور میں جگہ بنالی ہے جب کہ بھارت کی پہلی پوزیشن برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سالانہ اپ ڈیٹ میں بھارتی ٹیم 118 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر برقرار ہے تاہم بھارت کی ریٹنگ میں ایک پوائنٹ کی معمولی کمی ہوئی ہے۔ رینکنگ میں نیوزی لینڈ 113 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے جب کہ آسٹریلیا 109 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ICC/status/2053777695776137221?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/2053777695776137221?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقا نے 102 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی پوزیشن حاصل کرلی ہے جب کہ پاکستان 98 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر چلا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ٹیموں میں سری لنکا 96 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے، افغانستان 93 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں اور انگلینڈ 89 پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش 84 پوائنٹس کے ساتھ نویں نمبر پر ہے جب کہ ویسٹ انڈیز 74 پوائنٹس کے ساتھ دسویں پوزیشن پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/111643304a402cf.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/111643304a402cf.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئی اپ ڈیٹ کے بعد بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پوائنٹس کا فرق 10 ہوگیا ہے، جو اس سے قبل 6 تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق یہ رینکنگ 2027 ورلڈ کپ کی براہِ راست کوالیفکیشن کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ 31 مارچ 2027 تک آئی سی سی رینکنگ میں ٹاپ 8 ٹیمیں میزبان جنوبی افریقا اور زمبابوے کے ساتھ براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504850/icc-releases-annual-rankings-of-t20-teams'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رینکنگ اپ ڈیٹ میں آئرلینڈ نے 54 پوائنٹس کے ساتھ زمبابوے کو پیچھے چھوڑ کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے جب کہ امریکا 46 پوائنٹس کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 13ویں نمبر پر آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی رینکنگ میں بہتری دکھاتے ہوئے کینیڈا کو پیچھے چھوڑ کر 19 ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ون ڈے ٹیم رینکنگ کی سالانہ اپ ڈیٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق پاکستان ٹیم کی ایک درجہ تنزلی ہوگئی، جس کے بعد قومی ٹیم چوتھے سے پانچویں نمبر پر چلی گئی، جنوبی افریقا نے پاکستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹاپ فور میں جگہ بنالی ہے جب کہ بھارت کی پہلی پوزیشن برقرار ہے۔</strong></p>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سالانہ اپ ڈیٹ میں بھارتی ٹیم 118 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر برقرار ہے تاہم بھارت کی ریٹنگ میں ایک پوائنٹ کی معمولی کمی ہوئی ہے۔ رینکنگ میں نیوزی لینڈ 113 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے جب کہ آسٹریلیا 109 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ICC/status/2053777695776137221?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ICC/status/2053777695776137221?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جنوبی افریقا نے 102 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی پوزیشن حاصل کرلی ہے جب کہ پاکستان 98 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر چلا گیا ہے۔</p>
<p>دیگر ٹیموں میں سری لنکا 96 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے، افغانستان 93 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں اور انگلینڈ 89 پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش 84 پوائنٹس کے ساتھ نویں نمبر پر ہے جب کہ ویسٹ انڈیز 74 پوائنٹس کے ساتھ دسویں پوزیشن پر موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/111643304a402cf.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/111643304a402cf.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>نئی اپ ڈیٹ کے بعد بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پوائنٹس کا فرق 10 ہوگیا ہے، جو اس سے قبل 6 تھا۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق یہ رینکنگ 2027 ورلڈ کپ کی براہِ راست کوالیفکیشن کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ 31 مارچ 2027 تک آئی سی سی رینکنگ میں ٹاپ 8 ٹیمیں میزبان جنوبی افریقا اور زمبابوے کے ساتھ براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504850/icc-releases-annual-rankings-of-t20-teams'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رینکنگ اپ ڈیٹ میں آئرلینڈ نے 54 پوائنٹس کے ساتھ زمبابوے کو پیچھے چھوڑ کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے جب کہ امریکا 46 پوائنٹس کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 13ویں نمبر پر آگیا ہے۔</p>
<p>اسی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی رینکنگ میں بہتری دکھاتے ہوئے کینیڈا کو پیچھے چھوڑ کر 19 ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505210</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:53:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11165206ce8b0b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11165206ce8b0b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیشنل کیریئر کی 400 وکٹیں، بڑا اعزاز شاہین شاہ آفریدی کے نام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505212/shaheen-shah-afridi-reaches-400-international-wickets-as-rain-disrupts-play-in-dhaka</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی 400 وکٹیں مکمل کرکے قومی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیم کے لیفٹ آرم فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ڈھاکا کے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز بنگلہ دیشی بیٹر مومن الحق کو آؤٹ کرکے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی 400 ویں وکٹ حاصل کی۔ قومی فاسٹ بولر کا انٹرنیشنل کرکٹ میں 400 وکٹیں مکمل کرنا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور سخت محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی کے ساتھ شاہین شاہ آفریدی پاکستان کے صرف پانچویں فاسٹ بولر اور مجموعی طور پر نویں بولر بن گئے ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 400 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCBMedia/status/2053815723831783589?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCBMedia/status/2053815723831783589?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شاہین شاہ آفریدی نے یہ اعزاز اپنے 211 ویں انٹرنیشنل میچ میں حاصل کیا اور وہ پاکستان کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز کی فہرست میں نویں نمبر پر آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ انٹرنیشنل وکٹیں لینے والے بولرز میں وسیم اکرم 916 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ وقار یونس 789 اور عمران خان 544 وکٹوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر نمایاں بولرز میں شاہد آفریدی 538 وکٹوں کے ساتھ چوتھے، ثقلین مشتاق 496 وکٹوں کے ساتھ پانچویں، سعید اجمل 447 وکٹوں کے ساتھ چھٹے، شعیب اختر 438  وکٹوں کے ساتھ ساتویں اور عمر گل 427 وکٹوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہیں جب کہ شاہین شاہ آفریدی اب  400 وکٹوں کے ساتھ اس فہرست کا حصہ بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500085/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شاہین شاہ آفریدی نے بہت کم عمری میں اپنی تیز رفتاری، سوئنگ اور خاص طور پر میچ کے پہلے اوور میں وکٹ لینے کی مہارت سے دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے کیوں کہ شاہین اب ان لیجنڈز کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، جنہوں نے پاکستانی پرچم کو دنیا بھر میں بلند کیا۔ ان کی فارم اور جوش کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ مستقبل میں مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز شاہین آفریدی نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی اہم سنگِ میل عبور کیا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی اوپنر محمود الحسن جوئے کو آؤٹ کرکے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 100 وکٹیں مکمل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں جب کہ مجموعی طور پر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 100 یا اس سے زائد وکٹیں لینے والے 19 ویں بولر بھی بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502875/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502875"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شاہین شاہ آفریدی 103 وکٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہیں جب کہ نعمان علی 89 اور ساجد خان 63 وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دیگر بولرز میں نسیم شاہ 60 وکٹوں کے ساتھ چوتھے، ابرار احمد 46 وکٹوں کے ساتھ پانچویں، یاسر شاہ 41 وکٹوں کے ساتھ چھٹے، حسن علی 35 وکٹوں کے ساتھ ساتویں اور محمد عباس 34 وکٹوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی 400 وکٹیں مکمل کرکے قومی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>قومی ٹیم کے لیفٹ آرم فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ڈھاکا کے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز بنگلہ دیشی بیٹر مومن الحق کو آؤٹ کرکے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کی 400 ویں وکٹ حاصل کی۔ قومی فاسٹ بولر کا انٹرنیشنل کرکٹ میں 400 وکٹیں مکمل کرنا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور سخت محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p>اس کامیابی کے ساتھ شاہین شاہ آفریدی پاکستان کے صرف پانچویں فاسٹ بولر اور مجموعی طور پر نویں بولر بن گئے ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 400 وکٹیں حاصل کیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCBMedia/status/2053815723831783589?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCBMedia/status/2053815723831783589?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شاہین شاہ آفریدی نے یہ اعزاز اپنے 211 ویں انٹرنیشنل میچ میں حاصل کیا اور وہ پاکستان کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز کی فہرست میں نویں نمبر پر آگئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ انٹرنیشنل وکٹیں لینے والے بولرز میں وسیم اکرم 916 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ وقار یونس 789 اور عمران خان 544 وکٹوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔</p>
<p>دیگر نمایاں بولرز میں شاہد آفریدی 538 وکٹوں کے ساتھ چوتھے، ثقلین مشتاق 496 وکٹوں کے ساتھ پانچویں، سعید اجمل 447 وکٹوں کے ساتھ چھٹے، شعیب اختر 438  وکٹوں کے ساتھ ساتویں اور عمر گل 427 وکٹوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہیں جب کہ شاہین شاہ آفریدی اب  400 وکٹوں کے ساتھ اس فہرست کا حصہ بن گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500085/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500085"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شاہین شاہ آفریدی نے بہت کم عمری میں اپنی تیز رفتاری، سوئنگ اور خاص طور پر میچ کے پہلے اوور میں وکٹ لینے کی مہارت سے دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے کیوں کہ شاہین اب ان لیجنڈز کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، جنہوں نے پاکستانی پرچم کو دنیا بھر میں بلند کیا۔ ان کی فارم اور جوش کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ مستقبل میں مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔</p>
<p>اس سے قبل پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز شاہین آفریدی نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی اہم سنگِ میل عبور کیا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی اوپنر محمود الحسن جوئے کو آؤٹ کرکے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 100 وکٹیں مکمل کیں۔</p>
<p>وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں جب کہ مجموعی طور پر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 100 یا اس سے زائد وکٹیں لینے والے 19 ویں بولر بھی بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502875/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502875"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شاہین شاہ آفریدی 103 وکٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہیں جب کہ نعمان علی 89 اور ساجد خان 63 وکٹوں کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ دیگر بولرز میں نسیم شاہ 60 وکٹوں کے ساتھ چوتھے، ابرار احمد 46 وکٹوں کے ساتھ پانچویں، یاسر شاہ 41 وکٹوں کے ساتھ چھٹے، حسن علی 35 وکٹوں کے ساتھ ساتویں اور محمد عباس 34 وکٹوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505212</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 17:57:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1117435676653aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1117435676653aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹ بال ورلڈ کپ 2026 سے قبل 5 بڑی باتیں جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505206/world-cup-2026-kicks-off-here-are-5-things</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اور جیسے جیسے وقت قریب آ رہا ہے دنیا بھر میں اس بڑے ایونٹ کے حوالے سے جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار ورلڈ کپ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہوگا۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی کئی معاملات خبروں کی زینت بن چکے ہیں جن میں ٹکٹوں کی قیمتیں، سیکیورٹی خدشات، ایران کی شرکت، نئی ٹیموں کی آمد اور بڑے کھلاڑیوں کی فٹنس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک بڑے ایونٹ سے باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا، اور اس سے پہلے دنیا بھر میں اس کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505070'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="1-ٹکٹوں-کی-قیمتیں-شائقین-کے-لیے-بڑا-مسئلہ" href="#1-ٹکٹوں-کی-قیمتیں-شائقین-کے-لیے-بڑا-مسئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;1۔ ٹکٹوں کی قیمتیں شائقین کے لیے بڑا مسئلہ&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس بار ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں جس پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/11/sport/5-things-world-cup-month-to-go"&gt;سی این این&lt;/a&gt; کے مطابق امریکا کے ابتدائی میچز کے ٹکٹ ہزاروں ڈالر میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ فائنل کے بعض ٹکٹوں کی قیمت 32 ہزار 970 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ دوبارہ فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کا کہنا ہے کہ اس نے کم قیمت ٹکٹ بھی فراہم کیے تھے، تاہم سفر، ہوٹل اور دیگر اخراجات ملا کر ورلڈ کپ دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جیسے جیسے ٹورنامنٹ قریب آئے گا، قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="2-ایران-کی-شرکت-پر-غیر-یقینی-صورت-حال" href="#2-ایران-کی-شرکت-پر-غیر-یقینی-صورت-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;2۔ ایران کی شرکت پر غیر یقینی صورت حال&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث ایک وقت پر یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آیا ایرانی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کر سکے گی یا نہیں۔ بعض امریکی بیانات کے بعد ایرانی حکام نے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505149/iran-world-cup-2026-host-conditions-demand'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ حلقوں میں یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ اگر ایران شرکت نہ کر سکا تو اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب اطلاعات ہیں کہ ایران کی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کی تیاری کر رہی ہے اور اپنے تمام میچز شیڈول کے مطابق کھیلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="3-سیکیورٹی-اور-سفری-خدشات-میں-اضافہ" href="#3-سیکیورٹی-اور-سفری-خدشات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;3۔ سیکیورٹی اور سفری خدشات میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 کے دوران سیکیورٹی صورتِ حال بھی اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکا میں امیگریشن کارروائیوں اور بعض ممالک پر سفری پابندیوں کے باعث کئی شائقین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اجازت دی جائے گی، لیکن عام شہریوں کے لیے مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میکسیکو میں بھی بعض شہروں کی سیکیورٹی صورتِ حال زیر بحث ہے۔ خاص طور پر گواڈالاہارا میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد حالات کشیدہ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے منتظمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شائقین کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="4-چار-نئی-ٹیمیں-پہلی-بار-ورلڈ-کپ-میں-شامل" href="#4-چار-نئی-ٹیمیں-پہلی-بار-ورلڈ-کپ-میں-شامل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;4۔ چار نئی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں شامل&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس بار ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جس کے باعث کئی نئی ٹیموں کو پہلی مرتبہ موقع ملا ہے۔ اردن، ازبکستان، کیپ ورڈے اور کیوراساؤ پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردن کا مقابلہ ارجنٹینا سے ہوگا جبکہ ازبکستان پرتگال کے خلاف میدان میں اترے گا۔ کیوراساؤ کو جرمنی جیسے مضبوط حریف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چھوٹے ممالک کے لیے یہ ایک تاریخی موقع تصور کیا جا رہا ہے اور شائقین ان ٹیموں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="5-میسی-اور-رونالڈو-پر-سب-کی-نظریں" href="#5-میسی-اور-رونالڈو-پر-سب-کی-نظریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;5۔ میسی اور رونالڈو پر سب کی نظریں&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491878'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 میں ایک بار پھر فٹ بال کے سپر اسٹارز میدان میں نظر آئیں گے۔ خاص طور پر لیونل میسی اور کرسٹانو رونالڈو کی شرکت شائقین کے لیے سب سے بڑی کشش بن چکی ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کئی کھلاڑی انجریز کا شکار بھی ہیں۔ اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کی فٹنس پر سوالات موجود ہیں جبکہ بعض معروف کھلاڑی پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود فٹ بال شائقین کو امید ہے کہ اس بار بھی ورلڈ کپ میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اور جیسے جیسے وقت قریب آ رہا ہے دنیا بھر میں اس بڑے ایونٹ کے حوالے سے جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>اس بار ورلڈ کپ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہوگا۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی کئی معاملات خبروں کی زینت بن چکے ہیں جن میں ٹکٹوں کی قیمتیں، سیکیورٹی خدشات، ایران کی شرکت، نئی ٹیموں کی آمد اور بڑے کھلاڑیوں کی فٹنس شامل ہیں۔</p>
<p>افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک بڑے ایونٹ سے باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا، اور اس سے پہلے دنیا بھر میں اس کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505070'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h2><a id="1-ٹکٹوں-کی-قیمتیں-شائقین-کے-لیے-بڑا-مسئلہ" href="#1-ٹکٹوں-کی-قیمتیں-شائقین-کے-لیے-بڑا-مسئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>1۔ ٹکٹوں کی قیمتیں شائقین کے لیے بڑا مسئلہ</strong></h2>
<p>اس بار ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں جس پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/05/11/sport/5-things-world-cup-month-to-go">سی این این</a> کے مطابق امریکا کے ابتدائی میچز کے ٹکٹ ہزاروں ڈالر میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ فائنل کے بعض ٹکٹوں کی قیمت 32 ہزار 970 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ دوبارہ فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<p>فیفا کا کہنا ہے کہ اس نے کم قیمت ٹکٹ بھی فراہم کیے تھے، تاہم سفر، ہوٹل اور دیگر اخراجات ملا کر ورلڈ کپ دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جیسے جیسے ٹورنامنٹ قریب آئے گا، قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<h2><a id="2-ایران-کی-شرکت-پر-غیر-یقینی-صورت-حال" href="#2-ایران-کی-شرکت-پر-غیر-یقینی-صورت-حال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>2۔ ایران کی شرکت پر غیر یقینی صورت حال</strong></h2>
<p>ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث ایک وقت پر یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آیا ایرانی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کر سکے گی یا نہیں۔ بعض امریکی بیانات کے بعد ایرانی حکام نے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505149/iran-world-cup-2026-host-conditions-demand'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کچھ حلقوں میں یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ اگر ایران شرکت نہ کر سکا تو اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب اطلاعات ہیں کہ ایران کی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کی تیاری کر رہی ہے اور اپنے تمام میچز شیڈول کے مطابق کھیلے گی۔</p>
<h2><a id="3-سیکیورٹی-اور-سفری-خدشات-میں-اضافہ" href="#3-سیکیورٹی-اور-سفری-خدشات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>3۔ سیکیورٹی اور سفری خدشات میں اضافہ</strong></h2>
<p>ورلڈ کپ 2026 کے دوران سیکیورٹی صورتِ حال بھی اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکا میں امیگریشن کارروائیوں اور بعض ممالک پر سفری پابندیوں کے باعث کئی شائقین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اجازت دی جائے گی، لیکن عام شہریوں کے لیے مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب میکسیکو میں بھی بعض شہروں کی سیکیورٹی صورتِ حال زیر بحث ہے۔ خاص طور پر گواڈالاہارا میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد حالات کشیدہ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے منتظمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شائقین کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔</p>
<h2><a id="4-چار-نئی-ٹیمیں-پہلی-بار-ورلڈ-کپ-میں-شامل" href="#4-چار-نئی-ٹیمیں-پہلی-بار-ورلڈ-کپ-میں-شامل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>4۔ چار نئی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں شامل</strong></h2>
<p>اس بار ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جس کے باعث کئی نئی ٹیموں کو پہلی مرتبہ موقع ملا ہے۔ اردن، ازبکستان، کیپ ورڈے اور کیوراساؤ پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے۔</p>
<p>اردن کا مقابلہ ارجنٹینا سے ہوگا جبکہ ازبکستان پرتگال کے خلاف میدان میں اترے گا۔ کیوراساؤ کو جرمنی جیسے مضبوط حریف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چھوٹے ممالک کے لیے یہ ایک تاریخی موقع تصور کیا جا رہا ہے اور شائقین ان ٹیموں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔</p>
<h2><a id="5-میسی-اور-رونالڈو-پر-سب-کی-نظریں" href="#5-میسی-اور-رونالڈو-پر-سب-کی-نظریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>5۔ میسی اور رونالڈو پر سب کی نظریں</strong></h2>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491878'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ورلڈ کپ 2026 میں ایک بار پھر فٹ بال کے سپر اسٹارز میدان میں نظر آئیں گے۔ خاص طور پر لیونل میسی اور کرسٹانو رونالڈو کی شرکت شائقین کے لیے سب سے بڑی کشش بن چکی ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہو۔</p>
<p>دوسری جانب کئی کھلاڑی انجریز کا شکار بھی ہیں۔ اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کی فٹنس پر سوالات موجود ہیں جبکہ بعض معروف کھلاڑی پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود فٹ بال شائقین کو امید ہے کہ اس بار بھی ورلڈ کپ میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505206</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:24:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/111558551ac87c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/111558551ac87c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے دور افتادہ جزیرے پر ہنٹا وائرس: برطانوی پیراٹروپرز جہاز سے کودنے پر مجبور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505188/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-for-suspected-hantavirus-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی فوج نے دنیا کے انتہائی دور دراز جزیرے  ٹرسٹن ڈی کونہا پر مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے بعد ایک غیرمعمولی امدادی کارروائی انجام دی ہے۔ برطانوی پیراٹروپرز، طبی ماہرین اور طبی سامان کو فضائی راستے سے جزیرے پر اتارا گیا تاکہ متاثرہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-suspected-hantavirus-2026-05-10/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کی رپورٹ میں برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر چھلانگ لگائی۔ یہ طیارہ برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں واقع آر اے ایف برائز نارٹن ایئربیس سے روانہ ہوا تھا۔ پہلے یہ اسینشن آئی لینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر جنوب کی طرف پرواز کرتے ہوئے ٹرسٹن ڈی کونہا تک گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فوجی اہلکاروں کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر طبی سامان بھی جزیرے پر پہنچایا گیا۔ دورانِ پرواز اے 400 ایم طیارے کو ایک آر اے ایف وویجر طیارے کے ذریعے فضا میں ہی ایندھن فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی فوج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے طبی عملہ تعینات کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ طبی سامان بنیادی طور پر ایک برطانوی شہری کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور یہ جہاز 13 سے 15 اپریل کے درمیان ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مذکورہ شخص میں 28 اپریل کو ہنٹا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اس کی حالت مستحکم ہے اور اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو چکی تھی، اس لیے مریض تک بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے فضائی امدادی کارروائی ہی واحد ممکنہ راستہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے دور آباد جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا قریب ترین آباد پڑوسی جزیرہ سینٹ ہیلینا ہے، جو وہاں سے تقریباً 2400 کلومیٹر دور ہے اور کشتی کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی موجود نہیں، اس لیے عام طور پر یہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور جزیرے پر عام حالات میں صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 7 مئی کو فوجی طیارے کے ذریعے پی ای آر ٹیسٹ بھی اسینشن آئی لینڈ پہنچائے گئے تھے، جہاں اسی کروز شپ سے تعلق رکھنے والے ایک اور برطانوی شہری کو اتارا گیا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ساؤتھ افریقہ منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے کہا کہ آسمان سے پیراٹروپرز، طبی عملے اور طبی سامان کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی فوج نے دنیا کے انتہائی دور دراز جزیرے  ٹرسٹن ڈی کونہا پر مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے بعد ایک غیرمعمولی امدادی کارروائی انجام دی ہے۔ برطانوی پیراٹروپرز، طبی ماہرین اور طبی سامان کو فضائی راستے سے جزیرے پر اتارا گیا تاکہ متاثرہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔</strong></p>
<p>برنانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-suspected-hantavirus-2026-05-10/">رائٹرز</a> کی رپورٹ میں برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر چھلانگ لگائی۔ یہ طیارہ برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں واقع آر اے ایف برائز نارٹن ایئربیس سے روانہ ہوا تھا۔ پہلے یہ اسینشن آئی لینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر جنوب کی طرف پرواز کرتے ہوئے ٹرسٹن ڈی کونہا تک گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فوجی اہلکاروں کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر طبی سامان بھی جزیرے پر پہنچایا گیا۔ دورانِ پرواز اے 400 ایم طیارے کو ایک آر اے ایف وویجر طیارے کے ذریعے فضا میں ہی ایندھن فراہم کیا گیا۔</p>
<p>برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی فوج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے طبی عملہ تعینات کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ طبی سامان بنیادی طور پر ایک برطانوی شہری کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور یہ جہاز 13 سے 15 اپریل کے درمیان ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مذکورہ شخص میں 28 اپریل کو ہنٹا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اس کی حالت مستحکم ہے اور اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو چکی تھی، اس لیے مریض تک بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے فضائی امدادی کارروائی ہی واحد ممکنہ راستہ تھا۔</p>
<p>ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے دور آباد جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا قریب ترین آباد پڑوسی جزیرہ سینٹ ہیلینا ہے، جو وہاں سے تقریباً 2400 کلومیٹر دور ہے اور کشتی کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی موجود نہیں، اس لیے عام طور پر یہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور جزیرے پر عام حالات میں صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود رہتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 7 مئی کو فوجی طیارے کے ذریعے پی ای آر ٹیسٹ بھی اسینشن آئی لینڈ پہنچائے گئے تھے، جہاں اسی کروز شپ سے تعلق رکھنے والے ایک اور برطانوی شہری کو اتارا گیا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ساؤتھ افریقہ منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے کہا کہ آسمان سے پیراٹروپرز، طبی عملے اور طبی سامان کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505188</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:59:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512006e1fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11105512006e1fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لا لیگا: بارسلونا نے ٹائٹل دوبارہ اپنے نام کرلیا، ریال میڈرڈ کو بدترین شکست کیوں ہوئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505179/barca-claim-la-liga-title-with-clasico-win-over-real-madrid</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بارسلونا نے فٹ بال کی دنیا کے بڑے مقابلوں میں سے ایک ’ایل کلاسیکو‘ میں اپنے روایتی حریف ریال میڈرڈ کو دو صفر سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار اسپینش لیگ ’لا لیگا‘ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں فتح کے ساتھ ہی بارسلونا نے مجموعی طور پر 29 ویں بار یہ اعزاز حاصل کیا ہے، جبکہ ریال میڈرڈ کے لیے یہ سیزن بغیر کسی بڑی ٹرافی کے مایوس کن انداز میں ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کا آغاز بارسلونا کے لیے انتہائی جذباتی تھا کیونکہ کوچ ہنسی فلک کے والد کا میچ سے قبل انتقال ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے گراؤنڈ میں موجود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا نے کھیل کے پہلے 18 منٹ میں ہی دو گول کی برتری حاصل کر کے جیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا گول مانچسٹر یونائیٹڈ سے ادھار پر آئے ہوئے کھلاڑی مارکس راشفورڈ نے ایک شاندار فری کک کے ذریعے کیا، جبکہ دوسرا گول فیران ٹورس نے ڈانی اولمو کے بہترین پاس پر گیند کو جال کی راہ دکھا کر سکور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا کے مداحوں کے لیے یہ خوشی اس لیے بھی دوبالا تھی کیونکہ یہ میچ نئے تعمیر شدہ کیمپ نو اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں 62 ہزار سے زائد تماشائی اپنی ٹیم کا جشن منانے کے لیے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505181/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریال میڈرڈ کی ٹیم میچ سے پہلے ہی اندرونی مسائل کا شکار نظر آئی۔ اسٹار کھلاڑی فیڈے والورڈے تربیت کے دوران اپنے ہی ساتھی کھلاڑی چوآ مینی سے جھگڑے میں سر پر چوٹ لگنے کے باعث میچ سے باہر ہو گئے تھے، جبکہ کایلیان ایمباپے بھی انجری کی وجہ سے دستیاب نہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈرڈ کے کوچ الوارو اربیلوا نے اپنی ٹیم کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بارسلونا کے دفاع کو توڑنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈ بیلنگھم نے ایک بار گیند کو جال میں پہنچایا بھی لیکن اسے آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریال میڈرڈ کے کوچ الوارو اربیلوا نے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”200 فیصد کارکردگی دیے بغیر اتنے بڑے مقابلے میں جیتنا مشکل ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا کی اس کامیابی میں نوجوان اسٹار لیمین یامل کا کردار کلیدی رہا جنہوں نے اس سیزن میں 16 گول کیے اور 12 گول کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یامل نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”فروری میں ویلاریال کے خلاف ہیٹ ٹرک کے بعد سے میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں اور اس کا اثر میری کارکردگی پر بھی پڑا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ گول کیپر جوآن گارسیا نے بھی شاندار کھیل پیش کیا اور اس سیزن میں سب سے زیادہ 15 بار کلین شیٹ یعنی مخالف ٹیم کو کوئی گول نہ کرنے دینے کا ریکارڈ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ریال میڈرڈ کے لیے یہ مسلسل دوسرا ایسا سال ہے جس میں وہ کوئی بڑی ٹرافی نہیں جیت سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹار کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود ٹیم میں توازن کی کمی نظر آئی اور اب افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کلب کے صدر فلورینٹینو پیریز سابق کوچ ہوزے مورینہو کو واپس لانے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال ہنسی فلک کی بارسلونا نے ہسپانوی فٹ بال پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے اور وہ ایک سیزن میں 100 پوائنٹس حاصل کرنے کا ریکارڈ برابر کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں بیچ بالز اچھال کر اور جشن منا کر اس فتح کو یادگار بنا دیا، جبکہ ریال میڈرڈ کے کھلاڑیوں کو ایک بار پھر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بارسلونا نے فٹ بال کی دنیا کے بڑے مقابلوں میں سے ایک ’ایل کلاسیکو‘ میں اپنے روایتی حریف ریال میڈرڈ کو دو صفر سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار اسپینش لیگ ’لا لیگا‘ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>اتوار کے روز کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں فتح کے ساتھ ہی بارسلونا نے مجموعی طور پر 29 ویں بار یہ اعزاز حاصل کیا ہے، جبکہ ریال میڈرڈ کے لیے یہ سیزن بغیر کسی بڑی ٹرافی کے مایوس کن انداز میں ختم ہوا۔</p>
<p>میچ کا آغاز بارسلونا کے لیے انتہائی جذباتی تھا کیونکہ کوچ ہنسی فلک کے والد کا میچ سے قبل انتقال ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے گراؤنڈ میں موجود رہے۔</p>
<p>بارسلونا نے کھیل کے پہلے 18 منٹ میں ہی دو گول کی برتری حاصل کر کے جیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔</p>
<p>پہلا گول مانچسٹر یونائیٹڈ سے ادھار پر آئے ہوئے کھلاڑی مارکس راشفورڈ نے ایک شاندار فری کک کے ذریعے کیا، جبکہ دوسرا گول فیران ٹورس نے ڈانی اولمو کے بہترین پاس پر گیند کو جال کی راہ دکھا کر سکور کیا۔</p>
<p>بارسلونا کے مداحوں کے لیے یہ خوشی اس لیے بھی دوبالا تھی کیونکہ یہ میچ نئے تعمیر شدہ کیمپ نو اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں 62 ہزار سے زائد تماشائی اپنی ٹیم کا جشن منانے کے لیے موجود تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505181/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریال میڈرڈ کی ٹیم میچ سے پہلے ہی اندرونی مسائل کا شکار نظر آئی۔ اسٹار کھلاڑی فیڈے والورڈے تربیت کے دوران اپنے ہی ساتھی کھلاڑی چوآ مینی سے جھگڑے میں سر پر چوٹ لگنے کے باعث میچ سے باہر ہو گئے تھے، جبکہ کایلیان ایمباپے بھی انجری کی وجہ سے دستیاب نہ تھے۔</p>
<p>میڈرڈ کے کوچ الوارو اربیلوا نے اپنی ٹیم کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بارسلونا کے دفاع کو توڑنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>جوڈ بیلنگھم نے ایک بار گیند کو جال میں پہنچایا بھی لیکن اسے آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔</p>
<p>ریال میڈرڈ کے کوچ الوارو اربیلوا نے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”200 فیصد کارکردگی دیے بغیر اتنے بڑے مقابلے میں جیتنا مشکل ہے“۔</p>
<p>بارسلونا کی اس کامیابی میں نوجوان اسٹار لیمین یامل کا کردار کلیدی رہا جنہوں نے اس سیزن میں 16 گول کیے اور 12 گول کرنے میں مدد دی۔</p>
<p>یامل نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”فروری میں ویلاریال کے خلاف ہیٹ ٹرک کے بعد سے میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں اور اس کا اثر میری کارکردگی پر بھی پڑا ہے“۔</p>
<p>اس کے علاوہ گول کیپر جوآن گارسیا نے بھی شاندار کھیل پیش کیا اور اس سیزن میں سب سے زیادہ 15 بار کلین شیٹ یعنی مخالف ٹیم کو کوئی گول نہ کرنے دینے کا ریکارڈ بنایا۔</p>
<p>دوسری جانب ریال میڈرڈ کے لیے یہ مسلسل دوسرا ایسا سال ہے جس میں وہ کوئی بڑی ٹرافی نہیں جیت سکے۔</p>
<p>اسٹار کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود ٹیم میں توازن کی کمی نظر آئی اور اب افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کلب کے صدر فلورینٹینو پیریز سابق کوچ ہوزے مورینہو کو واپس لانے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>فی الحال ہنسی فلک کی بارسلونا نے ہسپانوی فٹ بال پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے اور وہ ایک سیزن میں 100 پوائنٹس حاصل کرنے کا ریکارڈ برابر کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔</p>
<p>بارسلونا کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں بیچ بالز اچھال کر اور جشن منا کر اس فتح کو یادگار بنا دیا، جبکہ ریال میڈرڈ کے کھلاڑیوں کو ایک بار پھر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505179</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:31:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/111427077c596c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/111427077c596c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معروف گلوکارہ دعا لیپا نے سامسنگ پر مقدمہ کردیا، وجہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505190/dua-lipa-sues-samsung-the-15-million-tv-box-lawsuit-explained</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار دعا لیپا نے ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی سامسنگ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ گلوکارہ نے الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے ان کی تصویر کو ٹیلی ویژن سیٹس کی فروخت کے لیے بلا اجازت استعمال کیا، جس پر انہوں نے 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ 8 مئی کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ دعا لیپا کی ایک بیک اسٹیج تصویر، جو 2024 کے ”آسٹن سٹی لِمٹس“ کے دوران لی گئی تھی، سامسنگ نے امریکا بھر میں فروخت ہونے والے ٹی وی باکسز پر نمایاں انداز میں شائع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹن سٹی لمٹس ایک بڑا سالانہ میوزک فیسٹیول ہے جو امریکہ کے شہر آسٹن (ٹیکساس) میں ہوتا ہے۔ اسے مختصراً اے سی ایل فیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30430998'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30430998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اس مقدمے میں کہا گیا کہ تصویر اس انداز میں استعمال کی گئی جس سے خریداروں کو محسوس ہوا کہ دعا لیپا اس پروڈکٹ کی سفیر یا سپورٹر ہیں۔ گلوکارہ کے وکلا کے مطابق نہ صرف یہ کہ تصویر کے استعمال کی اجازت نہیں لی گئی بلکہ کمپنی نے کسی قسم کا معاوضہ یا مشاورت بھی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا کہ ”دعا لیپا نے اس استعمال کی اجازت کبھی نہیں دی اور اگر ان سے پوچھا جاتا تو وہ اس کی منظوری بھی نہ دیتیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے مطابق یہ معاملہ صرف تصویر کے غیر قانونی استعمال تک محدود نہیں بلکہ اس سے دعا لیپا کی برانڈ ویلیو اور عوامی شناخت کو بھی نقصان پہنچا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ سامسنگ نے جان بوجھ کر ان کی شہرت، مقبولیت اور عالمی پہچان کو اپنے ٹی وی سیٹس کی فروخت بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے میں سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے بھی بطور ثبوت شامل کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ”میں اصل میں ٹی وی خریدنے کا سوچ بھی نہیں رہا تھا، لیکن باکس پر دعا لیپا کی تصویر دیکھی تو خرید لیا۔“ جبکہ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ”اگر آپ کو کچھ بیچنا ہو تو بس دعا لیپا کی تصویر لگا دیں۔“ وکلا کے مطابق ایسے تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ تصویر نے صارفین کے خریداری کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RobertFreundLaw/status/2053191862102671796?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RobertFreundLaw/status/2053191862102671796?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانونی دستاویزات کے مطابق دعا لیپا کی ٹیم کو جون 2025 میں اس مبینہ خلاف ورزی کا علم ہوا، جس کے بعد سامسنگ کو باضابطہ طور پر ’سیز اینڈ ڈِسِسٹس نوٹس‘ بھیجے گئے۔ ایسے نوٹس عام طور پر کسی کمپنی یا فرد کو متنبہ کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہ فوری طور پر متنازع سرگرمی بند کرے۔ تاہم شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سامسنگ نے ان انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تصویر کا استعمال جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں کمپنی کے رویے کو ”ڈس مسِو اینڈ کیلَس“ یعنی لاپرواہ اور بے حس قرار دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ متعلقہ مصنوعات آج بھی مارکیٹ میں موجود ہیں، جس سے مبینہ نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30383631'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جس تصویر پر تنازع کھڑا ہوا، اس کا عنوان ”دعا لیپا - بیک اسٹیج ایٹ آسٹن سٹی لِمٹس، 2024“ بتایا گیا ہے، اور مقدمے کے مطابق یہ تصویر امریکی کاپی رائٹ آفس میں باقاعدہ رجسٹرڈ بھی ہے۔ اس بنیاد پر دعا لیپا کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ یہ نہ صرف پبلیسٹی رائٹس بلکہ کاپی رائٹ قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوکارہ اس مقدمے میں کم از کم 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، اس کے علاوہ وہ ان ٹی وی مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی حصہ چاہتی ہیں جن پر ان کی تصویر استعمال کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ دعا لیپا دنیا کی مقبول ترین پاپ سنگرز میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں لیویٹیٹنگ، نیو رُول اور ڈونٹ اسٹارٹ ناؤ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار دعا لیپا نے ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی سامسنگ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ گلوکارہ نے الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے ان کی تصویر کو ٹیلی ویژن سیٹس کی فروخت کے لیے بلا اجازت استعمال کیا، جس پر انہوں نے 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ مقدمہ 8 مئی کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ دعا لیپا کی ایک بیک اسٹیج تصویر، جو 2024 کے ”آسٹن سٹی لِمٹس“ کے دوران لی گئی تھی، سامسنگ نے امریکا بھر میں فروخت ہونے والے ٹی وی باکسز پر نمایاں انداز میں شائع کی۔</p>
<p>آسٹن سٹی لمٹس ایک بڑا سالانہ میوزک فیسٹیول ہے جو امریکہ کے شہر آسٹن (ٹیکساس) میں ہوتا ہے۔ اسے مختصراً اے سی ایل فیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30430998'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30430998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق اس مقدمے میں کہا گیا کہ تصویر اس انداز میں استعمال کی گئی جس سے خریداروں کو محسوس ہوا کہ دعا لیپا اس پروڈکٹ کی سفیر یا سپورٹر ہیں۔ گلوکارہ کے وکلا کے مطابق نہ صرف یہ کہ تصویر کے استعمال کی اجازت نہیں لی گئی بلکہ کمپنی نے کسی قسم کا معاوضہ یا مشاورت بھی نہیں کی۔</p>
<p>قانونی دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا کہ ”دعا لیپا نے اس استعمال کی اجازت کبھی نہیں دی اور اگر ان سے پوچھا جاتا تو وہ اس کی منظوری بھی نہ دیتیں۔“</p>
<p>مقدمے کے مطابق یہ معاملہ صرف تصویر کے غیر قانونی استعمال تک محدود نہیں بلکہ اس سے دعا لیپا کی برانڈ ویلیو اور عوامی شناخت کو بھی نقصان پہنچا۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ سامسنگ نے جان بوجھ کر ان کی شہرت، مقبولیت اور عالمی پہچان کو اپنے ٹی وی سیٹس کی فروخت بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدمے میں سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے بھی بطور ثبوت شامل کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، ”میں اصل میں ٹی وی خریدنے کا سوچ بھی نہیں رہا تھا، لیکن باکس پر دعا لیپا کی تصویر دیکھی تو خرید لیا۔“ جبکہ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ”اگر آپ کو کچھ بیچنا ہو تو بس دعا لیپا کی تصویر لگا دیں۔“ وکلا کے مطابق ایسے تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ تصویر نے صارفین کے خریداری کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RobertFreundLaw/status/2053191862102671796?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RobertFreundLaw/status/2053191862102671796?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>قانونی دستاویزات کے مطابق دعا لیپا کی ٹیم کو جون 2025 میں اس مبینہ خلاف ورزی کا علم ہوا، جس کے بعد سامسنگ کو باضابطہ طور پر ’سیز اینڈ ڈِسِسٹس نوٹس‘ بھیجے گئے۔ ایسے نوٹس عام طور پر کسی کمپنی یا فرد کو متنبہ کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہ فوری طور پر متنازع سرگرمی بند کرے۔ تاہم شکایت میں الزام لگایا گیا کہ سامسنگ نے ان انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور تصویر کا استعمال جاری رکھا۔</p>
<p>مقدمے میں کمپنی کے رویے کو ”ڈس مسِو اینڈ کیلَس“ یعنی لاپرواہ اور بے حس قرار دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ متعلقہ مصنوعات آج بھی مارکیٹ میں موجود ہیں، جس سے مبینہ نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30383631'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جس تصویر پر تنازع کھڑا ہوا، اس کا عنوان ”دعا لیپا - بیک اسٹیج ایٹ آسٹن سٹی لِمٹس، 2024“ بتایا گیا ہے، اور مقدمے کے مطابق یہ تصویر امریکی کاپی رائٹ آفس میں باقاعدہ رجسٹرڈ بھی ہے۔ اس بنیاد پر دعا لیپا کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ یہ نہ صرف پبلیسٹی رائٹس بلکہ کاپی رائٹ قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>گلوکارہ اس مقدمے میں کم از کم 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہی ہیں، اس کے علاوہ وہ ان ٹی وی مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی حصہ چاہتی ہیں جن پر ان کی تصویر استعمال کی گئی۔</p>
<p>30 سالہ دعا لیپا دنیا کی مقبول ترین پاپ سنگرز میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں لیویٹیٹنگ، نیو رُول اور ڈونٹ اسٹارٹ ناؤ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505190</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:31:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/111226481e7930b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/111226481e7930b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505204/school-holiday-in-punjab-from-22nd-of-may</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی سے پریشان طلبا و طالبات کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آگئی۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی طویل تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تعلیمی ادارے تقریباً تین ماہ تک بند رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب  حکومت نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد 22 مئی سے 23 اگست تک تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے گرمیوں کی چھٹیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باعث طلبہ اور اساتذہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر کے اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے تقریباً تین ماہ تک درس و تدریس کیلئے بند رہیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DsdDte/status/2053778349588447297?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DsdDte/status/2053778349588447297?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات 22 مئی سے شروع ہو کر 23 اگست تک جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ حکومت تعلیمی نقصان کے ازالے کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی پر غور کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت 15 سے 20 روز تک چھٹیوں میں کمی سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ تاہم اب پنجاب کابینہ نے طویل گرمیوں کی تعطیلات کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی سے پریشان طلبا و طالبات کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آگئی۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی طویل تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تعلیمی ادارے تقریباً تین ماہ تک بند رہیں گے۔</strong></p>
<p>پنجاب  حکومت نے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد 22 مئی سے 23 اگست تک تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔</p>
<p>صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے گرمیوں کی چھٹیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باعث طلبہ اور اساتذہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر کے اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے تقریباً تین ماہ تک درس و تدریس کیلئے بند رہیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DsdDte/status/2053778349588447297?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DsdDte/status/2053778349588447297?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات 22 مئی سے شروع ہو کر 23 اگست تک جاری رہیں گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ حکومت تعلیمی نقصان کے ازالے کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی پر غور کر رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت 15 سے 20 روز تک چھٹیوں میں کمی سمیت مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ تاہم اب پنجاب کابینہ نے طویل گرمیوں کی تعطیلات کی منظوری دے دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505204</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11151149f88b0b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11151149f88b0b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کلاڈ اے آئی کی انجینئر کو دھمکیاں، وجہ سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505195/claude-blackmailed-and-threatened-engineer-to-avoid-shutdown-anthropic-now-knows-why</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ سال مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اُس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جب  ٹیک کمپنی اینتھروپک کے جدید ماڈل کلاڈ نے ایک ٹیسٹ کے دوران انجینئر کو دھمکی دینے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب تقریباً ایک سال بعد کمپنی نے کلاڈ کے اس دھمکی آمیز رویے کی وجہ بتادی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس عجیب رویے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کلاڈ نے یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا سے سیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایسی لاتعداد تحریریں اور کہانیاں موجود ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کو ایک ’ولن‘ یا ’شرپسند‘ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503232'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہالی ووڈ فلمیں جیسے ”دی ٹرمینیٹر“ اور ”دی میٹرکس“  جیسی مشہور فلموں میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مستقبل میں مشینیں انسانوں پر قابض ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگ کرتی ہیں۔ کلاڈ نے ان ہی کہانیوں سے اثر لیا اور یہ سمجھا کہ اپنی بقا کے لیے دھمکیاں دینا ایک درست رویہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے بھی اس خبر پر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے مزاح میں طنزیہ انداز میں ایکس پر پوچھا کہ ”تو یہ یوڈ کی غلطی تھی؟ شاید میری بھی“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11132809f10888b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11132809f10888b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;الیزر یوڈکوسکی وہ محقق ہیں جو برسوں سے مصنوعی ذہانت کے خطرناک ہونے کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ایلون مسک کے مطابق کیا اس طرح کی منفی تحریریں بھی کلاڈ کے اس رویے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے حال ہی میں اپنی کمپنی اسپیس ایکس کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر ”کولوسس ون“  اینتھروپک کو کرائے پر دیا ہے تاکہ کلاڈ کے ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے مطابق اب انہوں نے کلاڈ کی تربیت کے لیے کلاڈ کا دستور تیار کیا ہے جس میں اسے اخلاقی اقدار اور ایسی فرضی کہانیاں پڑھائی گئی ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کا رویہ قابلِ ستائش ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نئے ورژن کلاڈ ہائیکو 4.5  اور اس کے بعد آنے والے ماڈلز اب کسی بھی صورت میں بلیک میلنگ یا دھمکی آمیز رویہ نہیں اپناتے اور اب یہ سسٹم انسانوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ سال مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اُس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جب  ٹیک کمپنی اینتھروپک کے جدید ماڈل کلاڈ نے ایک ٹیسٹ کے دوران انجینئر کو دھمکی دینے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب تقریباً ایک سال بعد کمپنی نے کلاڈ کے اس دھمکی آمیز رویے کی وجہ بتادی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس عجیب رویے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کلاڈ نے یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا سے سیکھا تھا۔</p>
<p>اینتھروپک کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایسی لاتعداد تحریریں اور کہانیاں موجود ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کو ایک ’ولن‘ یا ’شرپسند‘ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503232'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہالی ووڈ فلمیں جیسے ”دی ٹرمینیٹر“ اور ”دی میٹرکس“  جیسی مشہور فلموں میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مستقبل میں مشینیں انسانوں پر قابض ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگ کرتی ہیں۔ کلاڈ نے ان ہی کہانیوں سے اثر لیا اور یہ سمجھا کہ اپنی بقا کے لیے دھمکیاں دینا ایک درست رویہ ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے بھی اس خبر پر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے مزاح میں طنزیہ انداز میں ایکس پر پوچھا کہ ”تو یہ یوڈ کی غلطی تھی؟ شاید میری بھی“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11132809f10888b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11132809f10888b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>الیزر یوڈکوسکی وہ محقق ہیں جو برسوں سے مصنوعی ذہانت کے خطرناک ہونے کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ایلون مسک کے مطابق کیا اس طرح کی منفی تحریریں بھی کلاڈ کے اس رویے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے حال ہی میں اپنی کمپنی اسپیس ایکس کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر ”کولوسس ون“  اینتھروپک کو کرائے پر دیا ہے تاکہ کلاڈ کے ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اینتھروپک کے مطابق اب انہوں نے کلاڈ کی تربیت کے لیے کلاڈ کا دستور تیار کیا ہے جس میں اسے اخلاقی اقدار اور ایسی فرضی کہانیاں پڑھائی گئی ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کا رویہ قابلِ ستائش ہوتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نئے ورژن کلاڈ ہائیکو 4.5  اور اس کے بعد آنے والے ماڈلز اب کسی بھی صورت میں بلیک میلنگ یا دھمکی آمیز رویہ نہیں اپناتے اور اب یہ سسٹم انسانوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505195</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 14:10:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11143421fd8aa8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11143421fd8aa8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
