<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Must Read</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 01:54:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 01:54:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال میچ کے دوران وائرل ہونے والی خاتون کی حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506850/ai-or-natural-beauty-what-is-the-truth-behind-the-woman-who-went-viral-during-a-fifa-world-cup-match</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیٹ پر فٹبال کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک خوبصورت خاتون کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے اس فٹبال میچ کے ایک کلپ میں مذکورہ خاتون کو اسٹیڈیم میں بیٹھے کیمرے کی طرف دیکھ کر معصومیت سے مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سحر انگیز مسکراہٹ اور سادگی پر میچ کے کمنٹیٹر بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے خاتون کے شرمیلے انداز اور دلفریب مسکراہٹ کو دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگ ان پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے مسلم خواتین کے حسن کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی رہی ہیں اور ان کی یہ سادگی ہی ان کا اصل حسن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ حلقوں میں اسے ایک عیسائی خاتون کی قبولِ اسلام کے بعد کے چہرے کا نور قرار دے کر بھی شیئر کیا جانے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کچھ افراد یہ بھی ذکر کرتے دکھائی دیے کہ کہیں یہ چہرہ اور ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال تو نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کی غیر معمولی خوبصورتی اور پرفیکشن کی وجہ سے بہت سے صارفین کو یہ گمان ہونے لگا کہ یہ کوئی حقیقی خاتون نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک فرضی ڈیجیٹل کریکٹر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے اپنے اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ایلون مسک کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کو ٹیگ کر کے پوچھ ہی لیا کہ یہ خاتون کون ہیں، کس ملک سے ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں، تو ’گروک‘ نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی کردی اور بتایا کہ یہ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، بلکہ عراق کی مقامی فٹ بال لیگ میں ’اربیل بمقابلہ النفط‘ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک عام فین ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گروک نے تو اسے حقیقی خاتون کریکٹر قرار دے دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر متحرک بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’زویا خان‘ نامی اکاؤنٹ سے ہی شیئر کی گئی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہی خاتون انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ میں اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں انہیں اسی لباس میں مختلف کھیلوں کے ایونٹس میں ملبوس دکھایا گیا ہے، جس میں کہیں وہ کسی چینل کی اسکرین پر دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں اسٹیڈیم میں تماشائیوں میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ویڈیوز میں متضاد اور غیر حقیقی کیمرہ شوٹس کی وجہ سے محمد زبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/zoo_bear/status/2070849026002423836'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/zoo_bear/status/2070849026002423836"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اکاؤنٹ سے اسی خاتون کریکٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بالکل اسی لباس اور ملبوس نظر خود یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ وہ ایک اے آئی کریکٹر ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل میڈیا ماہرین اور فیکٹ چیکرز مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود وائرل مواد پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فیکٹ چیکنگ کے لیے کسی ایک اے آئی ٹول پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی بھی خبر یا مواد کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیٹ پر فٹبال کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک خوبصورت خاتون کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے اس فٹبال میچ کے ایک کلپ میں مذکورہ خاتون کو اسٹیڈیم میں بیٹھے کیمرے کی طرف دیکھ کر معصومیت سے مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سحر انگیز مسکراہٹ اور سادگی پر میچ کے کمنٹیٹر بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے خاتون کے شرمیلے انداز اور دلفریب مسکراہٹ کو دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔</p>
<p>ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگ ان پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔</p>
<p>کچھ صارفین نے مسلم خواتین کے حسن کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی رہی ہیں اور ان کی یہ سادگی ہی ان کا اصل حسن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MuslimHuman77/status/2070411499471024547"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کچھ حلقوں میں اسے ایک عیسائی خاتون کی قبولِ اسلام کے بعد کے چہرے کا نور قرار دے کر بھی شیئر کیا جانے لگا ہے۔</p>
<p>اسی دوران کچھ افراد یہ بھی ذکر کرتے دکھائی دیے کہ کہیں یہ چہرہ اور ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال تو نہیں؟</p>
<p>ویڈیو کی غیر معمولی خوبصورتی اور پرفیکشن کی وجہ سے بہت سے صارفین کو یہ گمان ہونے لگا کہ یہ کوئی حقیقی خاتون نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک فرضی ڈیجیٹل کریکٹر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AnjaliLearn/status/2070681332519518567"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے اپنے اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ایلون مسک کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کو ٹیگ کر کے پوچھ ہی لیا کہ یہ خاتون کون ہیں، کس ملک سے ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں، تو ’گروک‘ نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی کردی اور بتایا کہ یہ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، بلکہ عراق کی مقامی فٹ بال لیگ میں ’اربیل بمقابلہ النفط‘ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک عام فین ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TurgayEvren1/status/2070769772711518694"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گروک نے تو اسے حقیقی خاتون کریکٹر قرار دے دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر متحرک بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔</p>
<p>اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’زویا خان‘ نامی اکاؤنٹ سے ہی شیئر کی گئی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہی خاتون انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ میں اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں انہیں اسی لباس میں مختلف کھیلوں کے ایونٹس میں ملبوس دکھایا گیا ہے، جس میں کہیں وہ کسی چینل کی اسکرین پر دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں اسٹیڈیم میں تماشائیوں میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔</p>
<p>ان ویڈیوز میں متضاد اور غیر حقیقی کیمرہ شوٹس کی وجہ سے محمد زبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/zoo_bear/status/2070849026002423836'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/zoo_bear/status/2070849026002423836"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور اکاؤنٹ سے اسی خاتون کریکٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بالکل اسی لباس اور ملبوس نظر خود یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ وہ ایک اے آئی کریکٹر ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/momentmemori/status/2070812399591112846/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈیجیٹل میڈیا ماہرین اور فیکٹ چیکرز مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود وائرل مواد پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فیکٹ چیکنگ کے لیے کسی ایک اے آئی ٹول پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی بھی خبر یا مواد کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506850</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 18:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271501247787026.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271501247787026.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کیا شامل ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506836/inside-the-israel-lebanon-14-point-framework-agreement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے لبنانی محاذ پر جاری جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی، جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے واپس جائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/middle-east/2026/06/27/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86-14-%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D8%A8%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D8%A7%DB%81%D8%AF%DB%81-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%81%D8%B5%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%A7%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA"&gt;العربیہ&lt;/a&gt; اور الحدث کو موصول ہونے والی معاہدے کی تفصیلات کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریم ورک معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے پاس ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506816/lebanon-israel-and-the-us-sign-framework-for-peace-agreement'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق دونوں ممالک ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی اور انخلا کا ذکر ہے، تاہم اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی ذرائع نے مزید بتایا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی یا پائلٹ علاقوں کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا اور اسرائیل یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کے روز فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پانچ ادوار کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506821/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستخط کی تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم خودمختار لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہیہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی، دشمنی کے مستقل خاتمے اور بے گھر لبنانی شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو منظر سے باہر کر دیتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506805/japan-annoucned-15million-dollars-aid-for-iran-lebanon-and-west-bank'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران کے اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے واضح کیا ہے کہ اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جنوبی لبنان سے بغیر کسی شرط کے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے لبنانی محاذ پر جاری جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی، جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے واپس جائیں گی۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.alarabiya.net/middle-east/2026/06/27/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%84%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86-14-%D8%B4%D9%82%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D8%A8%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D8%A7%DB%81%D8%AF%DB%81-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%81%D8%B5%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%A7%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA">العربیہ</a> اور الحدث کو موصول ہونے والی معاہدے کی تفصیلات کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔</p>
<p>فریم ورک معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے پاس ہوگا۔</p>
<p>معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506816/lebanon-israel-and-the-us-sign-framework-for-peace-agreement'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستاویز کے مطابق دونوں ممالک ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیں گے۔</p>
<p>ادھر لبنانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی اور انخلا کا ذکر ہے، تاہم اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔</p>
<p>لبنانی ذرائع نے مزید بتایا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی یا پائلٹ علاقوں کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا اور اسرائیل یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کے روز فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پانچ ادوار کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ ان مذاکرات کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506821/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستخط کی تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہم خودمختار لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت سے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہیہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔</p>
<p>واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی، دشمنی کے مستقل خاتمے اور بے گھر لبنانی شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔</p>
<p>اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کو منظر سے باہر کر دیتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506805/japan-annoucned-15million-dollars-aid-for-iran-lebanon-and-west-bank'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لبنان میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران کے اتحادی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے۔ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ فریم ورک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے واضح کیا ہے کہ اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جنوبی لبنان سے بغیر کسی شرط کے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506836</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 11:21:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27112105cac2d7e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27112105cac2d7e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلسل کمی کے بعد سونے کی پھر اونچی اُڑان، ہزاروں روپے مہنگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506851/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں سونا 11.87 ڈالر اور پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 1187 روپے مہنگا ہو گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 1187 روپے اضافے سے 4 لاکھ 31 ہزار 323 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 989 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 68 ہزار 74 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506383/gold-rate-today-in-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی مارکیٹ  میں سونے کی قیمت 11.87 ڈالرز بڑھ کر 4088 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں سونا 11.87 ڈالر اور پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 1187 روپے مہنگا ہو گیا۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 1187 روپے اضافے سے 4 لاکھ 31 ہزار 323 روپے ہو گئی۔</p>
<p>اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 989 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 68 ہزار 74 روپے ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506383/gold-rate-today-in-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عالمی مارکیٹ  میں سونے کی قیمت 11.87 ڈالرز بڑھ کر 4088 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔</p>
<br>
<br>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506851</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 15:12:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27150847994152d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27150847994152d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: مصر کے خلاف وی اے آر نے ایران کو کس طرح جیت سے محروم کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506848/fifa-world-cup-var-denies-iran-late-win-against-egypt</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی میچ کے آخری لمحات میں اس وقت بڑا دھچکا لگا، جب ان کے فاتحانہ گول کو ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) نے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ایران اور مصر کے درمیان میچ 1-1 سے برابر ہوا جس کے بعد ایران کو اب ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی مقابلے میں 1-1 سے ڈرا کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ مصر نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر پہلے ہی راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ کھیل کے صرف پانچویں منٹ میں محمود صابر نے گول کر کے مصر کو برتری دلائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے میں محمد صلاح نے اہم کردار ادا کیا، جن کی بائیں پاؤں سے لگائی گئی کِک محمود صابر تک پہنچی اور بال ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند کے ہاتھوں سے پھسل کر جال میں جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران نے گول کے بعد میچ میں جلد ہی واپسی کی کوشش کی۔ مہدی طارمی نے پینلٹی حاصل کی، لیکن مصر کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار انداز میں اس کا دفاع کیا۔ تاہم اسی حملے کے دوران رامین رضائیان نے ری باؤنڈ پر تنگ زاویے سے گیند کو جال میں پہنچا کر 14ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تیز رفتار کھیل کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نسبتاً سست ہو گیا اور واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے۔ چونکہ مصر پہلے ہی اگلے مرحلے میں جگہ بنا چکا تھا، اس لیے وہ محتاط انداز میں کھیل رہا تھا، جبکہ ایران نے آہستہ آہستہ دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ مہدی طارمی کا ایک ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا، جس کے بعد 93ویں منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے اچانک گول کردیا جس پر ایرانی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی ٹیم نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم چند لمحوں بعد وی اے آر نے گول کا جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ ایرانی کھلاڑی شجاع خلیل زادہ معمولی آف سائیڈ پر تھے، جس کے باعث گول مسترد کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں کی خوشی مایوسی میں بدل گئی اور میچ 1-1 سے ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نتیجے کے بعد مصر 5 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اگرچہ اس کے اور بیلجیم کے پوائنٹس برابر ہیں، لیکن بہتر گول فرق کی بنیاد پر بیلجیم پہلے نمبر پر رہا۔ مصر اب 3 جولائی کو ڈیلاس میں آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کا میچ کھیلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران تین پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور اب اسے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا وہ بہترین آٹھ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506843/football-france-fifa-hattrick-fifa-worldcup-2026-ousmanedembele-norwayvsfrance'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے دوران اسٹیڈیم میں مصری شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم ایرانی شائقین بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" href="#ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران راؤنڈ آف 32 میں کیسے پہنچے گا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال کے مطابق ایران نے تیسرے نمبر پر رہنے والی تین ٹیموں، جنوبی کوریا، یوراگوئے اور اسکاٹ لینڈ سے بہتر پوزیشن حاصل کی تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی یقینی بنانے کے لیے ایران کو صرف ایک اور ایسی ٹیم درکار ہے جو تیسرے نمبر کی درجہ بندی میں اس سے نیچے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی قسمت اب دیگر گروپس کے آخری میچوں کے نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک نتیجہ سامنے آتا ہے تو ایران راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کروشیا کسی بھی فرق سے گھانا کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے تو ایران اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر الجزائر کسی بھی فرق سے آسٹریا سے ہار جاتا ہے تو بھی ایران کو ناک آؤٹ مرحلے کی ٹکٹ مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اگر آسٹریا الجزائر کے خلاف شکست کھا جاتا ہے تو بھی ایران کی راہ ہموار ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کانگو اور ازبکستان کے درمیان میچ برابر ختم ہوتا ہے تو ایران کو فائدہ ہوگا اور وہ اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اگر ازبکستان کانگو کو شکست تو دے، لیکن جیت کا فرق چھ گول سے کم ہو، تب بھی ایران بہترین تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ٹیم اور اس کے شائقین اب ان تمام مقابلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ صرف ایک سازگار نتیجہ انہیں ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 میں پہنچانے کے لیے کافی ہوگا۔ دوسری جانب اگر ان میں سے کوئی بھی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو ایران کا ورلڈ کپ سفر گروپ مرحلے پر ہی ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی میچ کے آخری لمحات میں اس وقت بڑا دھچکا لگا، جب ان کے فاتحانہ گول کو ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) نے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ایران اور مصر کے درمیان میچ 1-1 سے برابر ہوا جس کے بعد ایران کو اب ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ میں ایران کو مصر کے خلاف ڈرامائی مقابلے میں 1-1 سے ڈرا کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے لیے دیگر نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا، جبکہ مصر نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔</p>
<p>مصر پہلے ہی راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ کھیل کے صرف پانچویں منٹ میں محمود صابر نے گول کر کے مصر کو برتری دلائی۔</p>
<p>اس حملے میں محمد صلاح نے اہم کردار ادا کیا، جن کی بائیں پاؤں سے لگائی گئی کِک محمود صابر تک پہنچی اور بال ایران کے گول کیپر علی رضا بیرانوند کے ہاتھوں سے پھسل کر جال میں جا پہنچی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506838/fifa-worldcup-2026-mohamedsalah-lionelmessi-playerofthematch-footballnews-fifa-trophy-muslim-repect'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران نے گول کے بعد میچ میں جلد ہی واپسی کی کوشش کی۔ مہدی طارمی نے پینلٹی حاصل کی، لیکن مصر کے گول کیپر مصطفیٰ شوبیر نے شاندار انداز میں اس کا دفاع کیا۔ تاہم اسی حملے کے دوران رامین رضائیان نے ری باؤنڈ پر تنگ زاویے سے گیند کو جال میں پہنچا کر 14ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔</p>
<p>ابتدائی تیز رفتار کھیل کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ نسبتاً سست ہو گیا اور واضح مواقع کم دیکھنے کو ملے۔ چونکہ مصر پہلے ہی اگلے مرحلے میں جگہ بنا چکا تھا، اس لیے وہ محتاط انداز میں کھیل رہا تھا، جبکہ ایران نے آہستہ آہستہ دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ مہدی طارمی کا ایک ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا، جس کے بعد 93ویں منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے اچانک گول کردیا جس پر ایرانی کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی ٹیم نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ArashMarkazi/status/2070734776525537764?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070742818641870972%7Ctwgr%5E3f37dfc063738355071dc100210efcf8debd5e86%7Ctwcon%5Es2_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwenews.pk%2Fnews%2F478256%2F"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم چند لمحوں بعد وی اے آر نے گول کا جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ ایرانی کھلاڑی شجاع خلیل زادہ معمولی آف سائیڈ پر تھے، جس کے باعث گول مسترد کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں کی خوشی مایوسی میں بدل گئی اور میچ 1-1 سے ختم ہوا۔</p>
<p>اس نتیجے کے بعد مصر 5 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا۔ اگرچہ اس کے اور بیلجیم کے پوائنٹس برابر ہیں، لیکن بہتر گول فرق کی بنیاد پر بیلجیم پہلے نمبر پر رہا۔ مصر اب 3 جولائی کو ڈیلاس میں آسٹریلیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کا میچ کھیلے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران تین پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور اب اسے انتظار کرنا ہوگا کہ آیا وہ بہترین آٹھ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506843/football-france-fifa-hattrick-fifa-worldcup-2026-ousmanedembele-norwayvsfrance'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506843"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے دوران اسٹیڈیم میں مصری شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم ایرانی شائقین بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔</p>
<h1><a id="ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" href="#ایران-راؤنڈ-آف-32-میں-کیسے-پہنچے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران راؤنڈ آف 32 میں کیسے پہنچے گا؟</h1>
<p>موجودہ صورتحال کے مطابق ایران نے تیسرے نمبر پر رہنے والی تین ٹیموں، جنوبی کوریا، یوراگوئے اور اسکاٹ لینڈ سے بہتر پوزیشن حاصل کی تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی یقینی بنانے کے لیے ایران کو صرف ایک اور ایسی ٹیم درکار ہے جو تیسرے نمبر کی درجہ بندی میں اس سے نیچے رہے۔</p>
<p>ایران کی قسمت اب دیگر گروپس کے آخری میچوں کے نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر درج ذیل میں سے کوئی ایک نتیجہ سامنے آتا ہے تو ایران راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔</p>
<p>اگر کروشیا کسی بھی فرق سے گھانا کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے تو ایران اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اگر الجزائر کسی بھی فرق سے آسٹریا سے ہار جاتا ہے تو بھی ایران کو ناک آؤٹ مرحلے کی ٹکٹ مل جائے گی۔</p>
<p>اسی طرح اگر آسٹریا الجزائر کے خلاف شکست کھا جاتا ہے تو بھی ایران کی راہ ہموار ہو جائے گی۔</p>
<p>اگر کانگو اور ازبکستان کے درمیان میچ برابر ختم ہوتا ہے تو ایران کو فائدہ ہوگا اور وہ اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ اگر ازبکستان کانگو کو شکست تو دے، لیکن جیت کا فرق چھ گول سے کم ہو، تب بھی ایران بہترین تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں شامل ہو جائے گا۔</p>
<p>ایرانی ٹیم اور اس کے شائقین اب ان تمام مقابلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ صرف ایک سازگار نتیجہ انہیں ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 میں پہنچانے کے لیے کافی ہوگا۔ دوسری جانب اگر ان میں سے کوئی بھی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو ایران کا ورلڈ کپ سفر گروپ مرحلے پر ہی ختم ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506848</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 15:49:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2714103885b0bb8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2714103885b0bb8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک میچ میں 5 گول: سینیگال کا یہ کارنامہ نیا ریکارڈ کیسے ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506819/fifa-worldcup2026-senegal-iraq-france-ousmanedembele-sadiomane-footballnews</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹورنٹو اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچ میں سینیگال نے عراق کو پانچ صفر سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ سینیگال ایک ہی ورلڈ کپ میچ میں پانچ گول کرنے والی افریقی براعظم کی پہلی ٹیم بن گئی، جبکہ عراقی ٹیم پورے میچ میں کوئی بھی گول اسکور نہ کر سکی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شاندار فتح کے ساتھ سینیگال نے نہ صرف اہم ریکارڈ اپنے نام کیا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کی اپنی امیدوں کو بھی برقرار رکھا۔ میچ کے دوران سینیگال نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور عراق کو کسی بھی مرحلے پر واپسی کا موقع نہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور میچ میں فرانس نے ناروے کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول کر کے شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کی، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506802/germany-defeated-as-ecuador-qualify-for-fifa-world-cup-2026-knockout-stage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کا آغاز سینیگال کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ حبیب دیارا نے چوتھے ہی منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ اس کے بعد تیرہویں منٹ میں عراق کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب دفاعی کھلاڑی ریبن سلاکا نے ساڈیو مانے کو واضح گول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفری انتھونی ٹیلر نے ابتدا میں پیلا کارڈ دکھایا، تاہم ویڈیو ریویو دیکھنے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ریڈ کارڈ جاری کر دیا، جس کے نتیجے میں عراق کو بقیہ میچ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلے ہاف میں ایک گول کی برتری کے باوجود سینیگال مزید گول نہ کر سکا، لیکن دوسرے ہاف میں اس کی جارحانہ حکمت عملی نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ 56 ویں منٹ میں اسماعیلا سار نے لامین کامارا کی عمدہ پاس پر ٹورنامنٹ کا اپنا تیسرا گول اسکور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف تین منٹ بعد 59 ویں منٹ میں  پاپے گیئے نے شاندار لانگ رینج شاٹ کے ذریعے تیسرا گول کیا۔ 71 ویں منٹ میں پاپے گیئے نے ایک اور زبردست نصف والی کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا چوتھا گول اسکور کیا، جبکہ 82 ویں منٹ میں ایلیمان ندیائے نے دور سے خوبصورت شاٹ لگا کر سینیگال کی 0-5 کی بڑی فتح مکمل کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عراق کی ٹیم مسلسل تیسرے میچ میں بھی شکست سے دوچار ہوئی اور بغیر کوئی پوائنٹ حاصل کیے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ یہ عراق کی ورلڈ کپ میں دوسری شرکت تھی اور 1986 کے بعد پہلی بار عالمی کپ کھیلنے کا موقع ملا تھا، تاہم ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506814/big-upset-in-t20-ireland-creates-history-by-defeating-india-for-the-first-time'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور اہم مقابلے میں فرانس نے ناروے کو 1-4 سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کیا اور صرف 32 منٹ کے اندر شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ انہوں نے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول اسکور کیے۔ ان کی یہ ہیٹ ٹرک فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے، جس نے اس کامیابی کو مزید یادگار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں سینیگال اور فرانس کی یہ فتوحات نہ صرف ان کی مضبوط فارم کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ٹورنامنٹ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر گئی ہیں، جس سے آئندہ مرحلے کے مقابلے مزید دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹورنٹو اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میچ میں سینیگال نے عراق کو پانچ صفر سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ سینیگال ایک ہی ورلڈ کپ میچ میں پانچ گول کرنے والی افریقی براعظم کی پہلی ٹیم بن گئی، جبکہ عراقی ٹیم پورے میچ میں کوئی بھی گول اسکور نہ کر سکی۔</strong></p>
<p>اس شاندار فتح کے ساتھ سینیگال نے نہ صرف اہم ریکارڈ اپنے نام کیا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کی اپنی امیدوں کو بھی برقرار رکھا۔ میچ کے دوران سینیگال نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور عراق کو کسی بھی مرحلے پر واپسی کا موقع نہ دیا۔</p>
<p>دوسری جانب بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور میچ میں فرانس نے ناروے کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول کر کے شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کی، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506802/germany-defeated-as-ecuador-qualify-for-fifa-world-cup-2026-knockout-stage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میچ کا آغاز سینیگال کے لیے انتہائی شاندار رہا۔ حبیب دیارا نے چوتھے ہی منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ اس کے بعد تیرہویں منٹ میں عراق کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب دفاعی کھلاڑی ریبن سلاکا نے ساڈیو مانے کو واضح گول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ریفری انتھونی ٹیلر نے ابتدا میں پیلا کارڈ دکھایا، تاہم ویڈیو ریویو دیکھنے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ریڈ کارڈ جاری کر دیا، جس کے نتیجے میں عراق کو بقیہ میچ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلے ہاف میں ایک گول کی برتری کے باوجود سینیگال مزید گول نہ کر سکا، لیکن دوسرے ہاف میں اس کی جارحانہ حکمت عملی نے میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ 56 ویں منٹ میں اسماعیلا سار نے لامین کامارا کی عمدہ پاس پر ٹورنامنٹ کا اپنا تیسرا گول اسکور کیا۔</p>
<p>صرف تین منٹ بعد 59 ویں منٹ میں  پاپے گیئے نے شاندار لانگ رینج شاٹ کے ذریعے تیسرا گول کیا۔ 71 ویں منٹ میں پاپے گیئے نے ایک اور زبردست نصف والی کے ذریعے اپنا دوسرا اور ٹیم کا چوتھا گول اسکور کیا، جبکہ 82 ویں منٹ میں ایلیمان ندیائے نے دور سے خوبصورت شاٹ لگا کر سینیگال کی 0-5 کی بڑی فتح مکمل کر دی۔</p>
<p>دوسری جانب عراق کی ٹیم مسلسل تیسرے میچ میں بھی شکست سے دوچار ہوئی اور بغیر کوئی پوائنٹ حاصل کیے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ یہ عراق کی ورلڈ کپ میں دوسری شرکت تھی اور 1986 کے بعد پہلی بار عالمی کپ کھیلنے کا موقع ملا تھا، تاہم ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506814/big-upset-in-t20-ireland-creates-history-by-defeating-india-for-the-first-time'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر بوسٹن میں کھیلے گئے ایک اور اہم مقابلے میں فرانس نے ناروے کو 1-4 سے شکست دے دی۔ فرانس کی کامیابی میں عثمان ڈیمبیلے نے مرکزی کردار ادا کیا اور صرف 32 منٹ کے اندر شاندار ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ انہوں نے ساتویں، بیسویں اور بتیسویں منٹ میں گول اسکور کیے۔ ان کی یہ ہیٹ ٹرک فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین ہیٹ ٹرک بھی قرار دی جا رہی ہے، جس نے اس کامیابی کو مزید یادگار بنا دیا۔</p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں سینیگال اور فرانس کی یہ فتوحات نہ صرف ان کی مضبوط فارم کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ٹورنامنٹ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر گئی ہیں، جس سے آئندہ مرحلے کے مقابلے مزید دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506819</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 09:26:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/270916507ae3ce1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/270916507ae3ce1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ میں گرمی کا قہر: پیرس فیشن ویک میں ہیٹ ویو نے تباہی مچا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506823/europe-heatwave-historic-heat-wave-havoc-at-paris-fashion-week</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503943'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے پیرس میں کئی فیشن ہاؤسز نے کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی طرح ٹھنڈا رکھا جائے، مگر بعض مقامات پر پانی کم پڑ گیا اور ہوا کا نظام بھی ناکافی رہا۔ دلچسپ اور متضاد صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب اس شدید گرمی میں ماڈلز کو ریمپ پر چمڑے، نیوپرین اور اون سے بنے بھاری ملبوسات پہن کر واک کرنی پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شو دیکھنے آئے فیشن کے طالب علم تھامس لیوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس شدید تپش میں ماڈلز نے لیدر اور بھاری وول کے کوٹ پہن کر کیسے واک کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیزائنرز گرمی کا حل صرف اسٹیج اور ہال تک محدود رکھتے ہیں، کپڑوں میں نہیں۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گرمی کی شدت کے پیش نظر ’ڈائر‘ سمیت کئی بڑے برانڈز نے اپنے شوز کے اوقات کار دوپہر کے بجائے صبح 9 بجے منتقل کر دیے، تاہم ہالز میں اے سی نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا اور کئی مہمانوں کی طبیعت ناساز ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشہور فیشن ڈیزائنر جوناتھن اینڈرسن نے اس صورتحال پر کہا، ’یہ کیلنڈر سمجھ میں نہیں آتا۔‘ ان کے مطابق یہ شوز ’اسپرنگ سمر‘ کے نام پر ہوتے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ اور امیر طبقے کی مانگ کے باعث ان میں سردیوں کے بھاری کپڑے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے خریدار زیادہ تر وقت اے سی والے ماحول میں گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30319472'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319472"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=sJgzJ9uhtMg'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/sJgzJ9uhtMg?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ میں جاری حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو نے پیرس فیشن ویک کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جہاں کئی شوز کے مقامات پر ایئر کنڈیشننگ کا نظام فیل ہو گیا، وہیں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت دیکھی گئی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی فیشن انڈسٹری بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟</strong></p>
<p>فیشن ویک کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کو گرمی سے بچانے کے لیے منفرد طریقے اپنائے گئے۔ شو میں آنے والے معروف برانڈز کے مہمانوں کی تواضع چاندی کی پلیٹوں میں رکھی آئسڈ ایوان واٹر، برف کے پیکٹس اور مسٹ مشینوں سے کی گئی، لیکن یہ تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔</p>
<p>ایک برطانوی فیشن نقاد بین فری مین نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔‘ ان کے مطابق گرمی اتنی زیادہ تھی کہ برداشت مشکل ہو گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503943'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>اس ہفتے پیرس میں کئی فیشن ہاؤسز نے کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی طرح ٹھنڈا رکھا جائے، مگر بعض مقامات پر پانی کم پڑ گیا اور ہوا کا نظام بھی ناکافی رہا۔ دلچسپ اور متضاد صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملی جب اس شدید گرمی میں ماڈلز کو ریمپ پر چمڑے، نیوپرین اور اون سے بنے بھاری ملبوسات پہن کر واک کرنی پڑی۔</p>
<p>شو دیکھنے آئے فیشن کے طالب علم تھامس لیوی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس شدید تپش میں ماڈلز نے لیدر اور بھاری وول کے کوٹ پہن کر کیسے واک کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیزائنرز گرمی کا حل صرف اسٹیج اور ہال تک محدود رکھتے ہیں، کپڑوں میں نہیں۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2069898358597063005?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گرمی کی شدت کے پیش نظر ’ڈائر‘ سمیت کئی بڑے برانڈز نے اپنے شوز کے اوقات کار دوپہر کے بجائے صبح 9 بجے منتقل کر دیے، تاہم ہالز میں اے سی نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا اور کئی مہمانوں کی طبیعت ناساز ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/amiparis/status/2069844802770804913?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مشہور فیشن ڈیزائنر جوناتھن اینڈرسن نے اس صورتحال پر کہا، ’یہ کیلنڈر سمجھ میں نہیں آتا۔‘ ان کے مطابق یہ شوز ’اسپرنگ سمر‘ کے نام پر ہوتے ہیں لیکن عالمی مارکیٹ اور امیر طبقے کی مانگ کے باعث ان میں سردیوں کے بھاری کپڑے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے خریدار زیادہ تر وقت اے سی والے ماحول میں گزارتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30319472'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319472"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیشن ویک میں کچھ ڈیزائنرز نے گرمی کو ہی انداز کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ سینٹ لورینٹ کے شو میں دھند اور بھاپ کے اثرات استعمال کیے گئے، جبکہ ماڈلز ہلکے اور نرم کپڑوں میں نظر آئے۔ لیکن اسی شو میں کچھ بھاری اور چمڑے کے لباس بھی پیش کیے گئے، جو گرمی کے باوجود فیشن کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش لگ رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=sJgzJ9uhtMg'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/sJgzJ9uhtMg?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کی ’ہاؤٹ کواٹیو فیشن فیڈریشن‘ کے سربراہ پاسکل مورانڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہیٹ ویو پلان پر عمل کر رہے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق فیشن ویک کے تجربے کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ صرف فیشن ویک ہی نہیں، بلکہ پیرس کا تاریخی عجائب گھر ’لوور‘ بھی شدید گرمی کی وجہ سے اپنے اوقات کار تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، کیونکہ پرانی عمارتیں اس شدید ہیٹ ویو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506823</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:18:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271002515d8798d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271002515d8798d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیرہ سالہ بچی راجستھان کے شاہی خاندان کی سربراہ نامزد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506832/a-13-year-old-girl-has-made-history-by-becoming-the-first-heir-crown-princess-of-a-royal-family-in-rajasthan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر ایک روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ مردوں کو ہی خاندان کا وارث بنایا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب کھیروا گڑھ قلعے میں منعقد ہوئی، جو 17ویں صدی کا تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں سینکڑوں دیہاتیوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506275/haryanawedding-weddingcancelled-viralnews-socialmediadebate-culturalclash'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب میں تیرہ سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کے مرنے کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا وارث تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روایتی رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے بٹھایا گیا۔ بعد میں ان کے سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر ذمہ داری سنبھال رہی ہیں اور ماتھے پر تلک لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ تھا۔ اس رسم کے تحت خاندان کے سربراہ کے مرنے کے بعد گھر کی چابی اور ذمہ داری نئے وارث کو سونپی جاتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کو پہنائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506299/viral-video-gurugram-rs-370-biryani-controversy-himanshu-jangra-social-media-backlash-company-termination-instagram-viral-video-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس خاندان میں پچھلے65 سال سے یہ رسم اسی لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی لوگوں نے اس فیصلے کو بہت سراہا اور اسے بدلتے وقت کی ایک اچھی علامت قرار دیا جہاں پرانی روایات کو بھی برقرار رکھا گیا اور لڑکیوں کو برابری کا حق بھی دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیجسوی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی پورا کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی کے لیے دیکھا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع پالی میں برسوں پرانی شاہی روایت ٹوٹ گئی ہے جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کو باقاعدہ طور پر ایک روایتی شاہی خاندان کا وارث قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>راجستھان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بڑا قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ مردوں کو ہی خاندان کا وارث بنایا جاتا تھا۔</p>
<p>یہ تقریب کھیروا گڑھ قلعے میں منعقد ہوئی، جو 17ویں صدی کا تاریخی مقام سمجھا جاتا ہے۔ تقریب میں سینکڑوں دیہاتیوں نے شرکت کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506275/haryanawedding-weddingcancelled-viralnews-socialmediadebate-culturalclash'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506275"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تقریب میں تیرہ سالہ تیجسوی کماری جودھا کو ان کے والد ہریش چندر جودھا کے مرنے کے بعد کھیروا گڑھ خاندان کا نیا وارث تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>اس روایتی رسم کے دوران مذہبی منتر پڑھے گئے اور تیجسوی کو سب کے سامنے بٹھایا گیا۔ بعد میں ان کے سر پر روایتی گلابی پگڑی رکھی گئی، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب وہ سوگ کے مرحلے سے نکل کر ذمہ داری سنبھال رہی ہیں اور ماتھے پر تلک لگایا گیا۔</p>
<p>یہ پگڑی جودھپور مارواڑ کے سابق شاہی خاندان کی طرف سے بھیجی گئی تھی، کیونکہ یہ علاقہ پرانے زمانے میں جودھپور سلطنت کا حصہ تھا۔ اس رسم کے تحت خاندان کے سربراہ کے مرنے کے بعد گھر کی چابی اور ذمہ داری نئے وارث کو سونپی جاتی ہے، مگر تاریخ میں پہلی بار یہ پگڑی کسی لڑکی کو پہنائی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506299/viral-video-gurugram-rs-370-biryani-controversy-himanshu-jangra-social-media-backlash-company-termination-instagram-viral-video-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ تیجسوی کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس خاندان میں پچھلے65 سال سے یہ رسم اسی لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہیں تھا۔</p>
<p>مقامی لوگوں نے اس فیصلے کو بہت سراہا اور اسے بدلتے وقت کی ایک اچھی علامت قرار دیا جہاں پرانی روایات کو بھی برقرار رکھا گیا اور لڑکیوں کو برابری کا حق بھی دیا گیا۔</p>
<p>تیجسوی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر جو نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، انہیں بھی پورا کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے والد کے اس خواب کو پورا کرنے کی کوشش کریں گی جو انہوں نے گاؤں کی ترقی کے لیے دیکھا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506832</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:45:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27103141f0957a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27103141f0957a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمپنی کو 'بریک اَپ' کرانے والے افسر کی تلاش، تنخواہ 8 لاکھ روپے سے زائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506826/technology-relationships-chief-breakup-officer-dating-app-jobs-relationship-trends-modern-dating-breakup-culture-emotional-intelligence</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ایک عالمی پلیٹ فارم نے ایک منفرد ملازمت کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جس میں منتخب شخص کو لوگوں کے رشتے ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ اس منفرد عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 3 ہزار امریکی ڈالر یعنی 8 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق چیف بریک اپ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ لوگوں کی جانب سے ان کے تعلقات کو باوقار اور ہمدردانہ انداز میں ختم کرنے میں مدد کرے۔ اس ملازمت کے لیے ایسے امیدوار کی تلاش کی جا رہی ہے جس میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی مہارت اور جدید دور کے تعلقات کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص کو ان افراد کی طرف سے فون یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے رشتہ ختم ہونے کا پیغام دینا ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہو لیکن خود یہ مشکل گفتگو کرنے سے گریز کر رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس عہدے کی ایک دلچسپ شرط یہ بھی ہے کہ امیدوار اپنی زندگی میں کم از کم تین بریک اپس کا تجربہ رکھتا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد تعلقات کے جذباتی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ملازمت میں مختلف کیسز کا جائزہ لینا اور یہ اندازہ لگانا بھی شامل ہوگا کہ علیحدگی کا معاملہ آسان ہے، پیچیدہ ہے یا انتہائی مشکل۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس نئی سروس کا مقصد لوگوں کو بغیر کسی وضاحت کے اچانک تعلق ختم کرنے، یعنی ”گھوسٹنگ“، کے رجحان سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ملینیئل نسل کے 84 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے ہی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں رشتہ ختم کرنے کے بجائے دوسرا فریق خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ رشتے کا اختتام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اس کی شروعات، اس لیے لوگوں کو مناسب انداز میں اختتام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی ڈیٹنگ ماہر جیمی برونسٹین کے مطابق اگرچہ بہتر یہی ہے کہ دونوں افراد خود ایک دوسرے سے بات کریں، لیکن کئی بار مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کسی ذریعے سے واضح پیغام پہنچ جانا زیادہ مناسب ہوتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کو غیر یقینی صورتحال میں نہ رہنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تعلقات کے ماہرین اس خیال پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بریک اپ صرف ایک اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا، دوسرے شخص کے جذبات کو سمجھنا اور تعلق کے اچھے یا برے پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی شامل ہوتا ہے، کسی تیسرے شخص کے ذریعے رشتہ ختم کرانا اس جذباتی ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504587'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی تعلق میں جذباتی تشدد، دھونس یا سلامتی کے حقیقی خدشات موجود ہوں تو ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی مدد لینا مناسب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہر مشکل گفتگو دوسروں کے سپرد کرنے لگیں تو وہ اپنی بات مؤثر انداز میں کرنے اور تعلقات کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی خدمات بڑھانے کے بجائے لوگوں کو بہتر ابلاغ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی ملازمت اگرچہ غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں آن لائن ڈیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ایک عالمی پلیٹ فارم نے ایک منفرد ملازمت کا اعلان کیا ہے، جس نے سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے ”چیف بریک اپ آفیسر“ کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں، جس میں منتخب شخص کو لوگوں کے رشتے ختم کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ اس منفرد عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 3 ہزار امریکی ڈالر یعنی 8 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق چیف بریک اپ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ لوگوں کی جانب سے ان کے تعلقات کو باوقار اور ہمدردانہ انداز میں ختم کرنے میں مدد کرے۔ اس ملازمت کے لیے ایسے امیدوار کی تلاش کی جا رہی ہے جس میں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے کی مہارت اور جدید دور کے تعلقات کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ ہو۔</p>
<p>اس شخص کو ان افراد کی طرف سے فون یا دیگر ذرائع سے رابطہ کر کے رشتہ ختم ہونے کا پیغام دینا ہوگا، جنہوں نے پہلے ہی علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہو لیکن خود یہ مشکل گفتگو کرنے سے گریز کر رہے ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271027431f162b7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس عہدے کی ایک دلچسپ شرط یہ بھی ہے کہ امیدوار اپنی زندگی میں کم از کم تین بریک اپس کا تجربہ رکھتا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد تعلقات کے جذباتی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ملازمت میں مختلف کیسز کا جائزہ لینا اور یہ اندازہ لگانا بھی شامل ہوگا کہ علیحدگی کا معاملہ آسان ہے، پیچیدہ ہے یا انتہائی مشکل۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/27102744977c504.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق اس نئی سروس کا مقصد لوگوں کو بغیر کسی وضاحت کے اچانک تعلق ختم کرنے، یعنی ”گھوسٹنگ“، کے رجحان سے بچانا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جین زی اور ملینیئل نسل کے 84 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے ہی رویے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں رشتہ ختم کرنے کے بجائے دوسرا فریق خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ رشتے کا اختتام بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اس کی شروعات، اس لیے لوگوں کو مناسب انداز میں اختتام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کمپنی کی ڈیٹنگ ماہر جیمی برونسٹین کے مطابق اگرچہ بہتر یہی ہے کہ دونوں افراد خود ایک دوسرے سے بات کریں، لیکن کئی بار مکمل خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کسی ذریعے سے واضح پیغام پہنچ جانا زیادہ مناسب ہوتا ہے، تاکہ دوسرے شخص کو غیر یقینی صورتحال میں نہ رہنا پڑے۔</p>
<p>دوسری جانب تعلقات کے ماہرین اس خیال پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ بریک اپ صرف ایک اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ اس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا، دوسرے شخص کے جذبات کو سمجھنا اور تعلق کے اچھے یا برے پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی شامل ہوتا ہے، کسی تیسرے شخص کے ذریعے رشتہ ختم کرانا اس جذباتی ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504587'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی تعلق میں جذباتی تشدد، دھونس یا سلامتی کے حقیقی خدشات موجود ہوں تو ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی مدد لینا مناسب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہر مشکل گفتگو دوسروں کے سپرد کرنے لگیں تو وہ اپنی بات مؤثر انداز میں کرنے اور تعلقات کو باوقار طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت کبھی نہیں سیکھ پائیں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی خدمات بڑھانے کے بجائے لوگوں کو بہتر ابلاغ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی تربیت دینے کی ہے۔</p>
<p>یہ نئی ملازمت اگرچہ غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس نے جدید دور میں تعلقات، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506826</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 10:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271053590e45b0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271053590e45b0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمی کے اس شدید موسم میں موبائل فون کو محفوظ رکھنے کے طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506840/how-to-protect-your-smartphone-during-extreme-summer-heat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بند گاڑی میں فون نہ رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے</strong><br>اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔</p>
<p><strong>بند گاڑی میں فون نہ رکھیں</strong></p>
<p>تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔</p>
<p><strong>سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں</strong></p>
<p>گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>
<p><strong>تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں</strong></p>
<p>چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال</strong></p>
<p>دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔</p>
<p><strong>باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں</strong></p>
<p>جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p><br><strong>فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں</strong></p>
<p>فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔</p>
<p><strong>بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں</strong></p>
<p>گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔</p>
<p><br>اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506840</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 12:51:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27124701f64b42c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27124701f64b42c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طلاق کے بعد عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کا جھگڑا، سابقہ اہلیہ کے سنگین الزامات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506835/imad-wasim-and-sannia-ashfaqs-post-divorce-dispute-intensifies-as-the-former-wife-makes-serious-allegations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی اور علیحدگی سے متعلق سنگین الزامات اور تفصیلات شیئر کی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان طلاق کے بعد کے معاملات اب سوشل میڈیا پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ثانیہ اشفاق نے الزام لگایا ہے کہ عماد وسیم نے اس وقت ان کے ساتھ دھوکا کیا جب وہ تیسری بار امید سے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ عماد وسیم نے فروری 2026 میں نائلہ راجہ نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی تھی اور تب سے وہ دونوں اپنی نئی زندگی کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، دوسری طرف عماد وسیم انہیں قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اپنا اپارٹمنٹ خالی کر دیں اور بچوں کو ان کے حوالے کر دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497682'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنی کہانی دنیا کے سامنے لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے اپنی شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عماد وسیم ان پر بہت زیادہ پابندیاں لگاتے تھے اور ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عماد وسیم بچوں کے خرچے دینے یا ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ بچے انہیں واپس مل جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس شخص کی ہمت تو دیکھیں، اس نے میرے اور ہمارے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے بعد بھی ایسی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان کی نئی بیوی کے ساتھ کہانی کب شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق عماد وسیم نے مجھ سے اس وقت دھوکا کیا جب میں ان کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ میری حمل کے دوران ان کے سخت رویے نے میری زندگی بہت مشکل بنا دی تھی۔ وہ جولائی 2025 میں برطانیہ میں اپنے برے برتاؤ اور گھریلو تشدد کے الزامات کی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے تھے، اور یہ خدشہ تھا کہ وہ میرے بچے مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499922'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس دوران سوشل سروسز بھی شامل ہو گئیں اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں اور ان کی اسی حرکت کی وجہ سے وہاں کے سماجی بہبود کے ادارے بھی اس معاملے میں شامل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سماجی ورکرز نے عماد وسیم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا اور کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ میری زندگی اس امید پر مشکل بنا رہے ہیں کہ میں بچے ان کے حوالے کر دوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہاکہ، ’ایک ماں کے طور پر یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے بچوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی، تو آپ انہیں اس دنیا میں لائے ہی کیوں؟ اور پھر آپ لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے آپ کو بچوں سے بات کرنے سے روکا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ثانیہ اشفاق نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گی اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آپ میری زندگی جتنی بھی مشکل بنا لیں، میں ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی رہوں گی اور ان کی حفاظت کروں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سچ سامنے آئے گا اور آپ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا، تاکہ سب دیکھ سکیں کہ آپ کا رویہ کیسا رہا ہے اور آپ اصل میں کون ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی اور علیحدگی سے متعلق سنگین الزامات اور تفصیلات شیئر کی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان طلاق کے بعد کے معاملات اب سوشل میڈیا پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ثانیہ اشفاق نے الزام لگایا ہے کہ عماد وسیم نے اس وقت ان کے ساتھ دھوکا کیا جب وہ تیسری بار امید سے تھیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ عماد وسیم نے فروری 2026 میں نائلہ راجہ نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی تھی اور تب سے وہ دونوں اپنی نئی زندگی کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، دوسری طرف عماد وسیم انہیں قانونی نوٹس بھیج رہے ہیں تاکہ وہ اپنا اپارٹمنٹ خالی کر دیں اور بچوں کو ان کے حوالے کر دیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497682'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنی کہانی دنیا کے سامنے لانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔</p>
<p>ثانیہ اشفاق نے اپنی شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عماد وسیم ان پر بہت زیادہ پابندیاں لگاتے تھے اور ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عماد وسیم بچوں کے خرچے دینے یا ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ بچے انہیں واپس مل جائیں۔</p>
<p>ثانیہ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس شخص کی ہمت تو دیکھیں، اس نے میرے اور ہمارے بچوں کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے بعد بھی ایسی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان کی نئی بیوی کے ساتھ کہانی کب شروع ہوئی۔</p>
<p>ان کے مطابق عماد وسیم نے مجھ سے اس وقت دھوکا کیا جب میں ان کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ میری حمل کے دوران ان کے سخت رویے نے میری زندگی بہت مشکل بنا دی تھی۔ وہ جولائی 2025 میں برطانیہ میں اپنے برے برتاؤ اور گھریلو تشدد کے الزامات کی وجہ سے گرفتار بھی ہوئے تھے، اور یہ خدشہ تھا کہ وہ میرے بچے مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499922'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499922"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق اس دوران سوشل سروسز بھی شامل ہو گئیں اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں اور ان کی اسی حرکت کی وجہ سے وہاں کے سماجی بہبود کے ادارے بھی اس معاملے میں شامل ہو گئے۔</p>
<p>ثانیہ اشفاق نے مزید بتایا کہ حال ہی میں سماجی ورکرز نے عماد وسیم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا اور کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔</p>
<p>ثانیہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو بچوں سے بات کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ میری زندگی اس امید پر مشکل بنا رہے ہیں کہ میں بچے ان کے حوالے کر دوں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہاکہ، ’ایک ماں کے طور پر یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے بچوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی، تو آپ انہیں اس دنیا میں لائے ہی کیوں؟ اور پھر آپ لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے آپ کو بچوں سے بات کرنے سے روکا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/271051264f8b4c8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ثانیہ اشفاق نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اپنے بچوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گی اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آپ میری زندگی جتنی بھی مشکل بنا لیں، میں ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی رہوں گی اور ان کی حفاظت کروں گی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سچ سامنے آئے گا اور آپ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا، تاکہ سب دیکھ سکیں کہ آپ کا رویہ کیسا رہا ہے اور آپ اصل میں کون ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506835</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 11:13:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2711115858590a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2711115858590a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی 20 میں بڑا اپ سیٹ: آئرلینڈ نے پہلی مرتبہ بھارت کو شکست دے کر تاریخ رقم کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506814/big-upset-in-t20-ireland-creates-history-by-defeating-india-for-the-first-time</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں آئرلینڈ نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آئرش ٹیم نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں بھارت کو شکست دے کر اپ سیٹ کیا جب کہ اس فتح کے ساتھ میزبان ٹیم نے سیریز کا فاتحانہ آغاز بھی کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو بیلفاسٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹی 20 میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر آئرلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی، میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آئرلینڈ کا آغاز اچھا نہ رہا اور پاور پلے کے اختتام تک ٹیم 36 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسویں اوور کے اختتام تک آئرلینڈ کا اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 68 رنز ہوگیا، اس کے بعد آئرش کپتان اور وکٹ کیپر لورکن ٹکر نے گیریتھ ڈیلانی کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی اننگز سنبھال لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لورکن ٹکر نے 35 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 50 رنز کی اننگز کھیلی، ان کی اننگز میں 5 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ اس کے علاوہ گیریتھ ڈیلانی نے بھی 32 گیندوں پر 49 رنز بنائے، جس میں 3 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ نے 13ویں اوور میں 100 رنز مکمل کیے جب کہ آخری اوورز میں تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 16.4 اوورز میں 150 رنز کا ہندسہ عبور کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricketireland/status/2070513312165478553?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricketireland/status/2070513312165478553?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی جانب سے ہرشت رانا نے 3، ارشدیب سنگھ اور اکشر پٹیل نے 2،2 اور شیوم ڈونے ایک وکٹ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ کی جانب سے دیے گئے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت نے دھواں دار آغاز کیا، اوپنر ابھیشیک شرما نے صرف 20 گیندوں پر برق رفتار 49 رنز کی اننگز کھیلی اور بھارتی ٹیم نے محض 3.5 اوورز میں 50 رنز مکمل کر لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور پلے کے اختتام پر بھارت کا اسکور 68 رنز پر 3 وکٹیں تھا، جس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم آسانی سے ہدف حاصل کرلے گی تاہم آئرلینڈ کے بولرز نے درمیانی اوورز میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے مسلسل وکٹیں حاصل کیں اور بھارتی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے 11.5 اوورز میں 100 رنز مکمل کیے لیکن وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے باعث مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی بلے بازوں میں شیوم ڈوبے 25، تلک ورما 19 اور اکشر پٹیل 15 رنز بنائے، اس کے علاوہ دیگر بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے جب کہ بھارتی ٹیم کے 7 بلے باز ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح بھارتی ٹیم 18.5 اوورز میں 148 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی اور آئرلینڈ نے 34 رنز سے تاریخی کامیابی اپنے نام  کرتے ہوئے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BCCI/status/2070541314241016231?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BCCI/status/2070541314241016231?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ کی جانب سے میٹ ہولارڈ نے انتہائی مؤثر بولنگ کرتے ہوئے 4 اوورز میں 28 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں جب کہ میتھیو ہمفریز نے بھی 3 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کی آخری وکٹیں گرا کر میچ آئرلینڈ کے نام کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے خلاف یہ جیت آئرلینڈ کی ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ میزبان ٹیم نے صرف انفرادی کارکردگی پر انحصار کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ بیٹنگ، منظم بولنگ اور دباؤ میں بہترین اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط ترین ٹی 20 ٹیموں میں شامل بھارت کو پہلی مرتبہ ٹی 20 انٹرنیشنل میں شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricketireland/status/2070540082264588545?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricketireland/status/2070540082264588545?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں آئرلینڈ نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آئرش ٹیم نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں بھارت کو شکست دے کر اپ سیٹ کیا جب کہ اس فتح کے ساتھ میزبان ٹیم نے سیریز کا فاتحانہ آغاز بھی کیا۔</strong></p>
<p>جمعے کو بیلفاسٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹی 20 میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر آئرلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی، میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آئرلینڈ کا آغاز اچھا نہ رہا اور پاور پلے کے اختتام تک ٹیم 36 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی۔</p>
<p>دسویں اوور کے اختتام تک آئرلینڈ کا اسکور 4 وکٹوں کے نقصان پر 68 رنز ہوگیا، اس کے بعد آئرش کپتان اور وکٹ کیپر لورکن ٹکر نے گیریتھ ڈیلانی کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی اننگز سنبھال لی۔</p>
<p>لورکن ٹکر نے 35 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 50 رنز کی اننگز کھیلی، ان کی اننگز میں 5 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ اس کے علاوہ گیریتھ ڈیلانی نے بھی 32 گیندوں پر 49 رنز بنائے، جس میں 3 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔</p>
<p>آئرلینڈ نے 13ویں اوور میں 100 رنز مکمل کیے جب کہ آخری اوورز میں تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 16.4 اوورز میں 150 رنز کا ہندسہ عبور کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricketireland/status/2070513312165478553?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricketireland/status/2070513312165478553?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارت کی جانب سے ہرشت رانا نے 3، ارشدیب سنگھ اور اکشر پٹیل نے 2،2 اور شیوم ڈونے ایک وکٹ حاصل کی۔</p>
<p>آئرلینڈ کی جانب سے دیے گئے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت نے دھواں دار آغاز کیا، اوپنر ابھیشیک شرما نے صرف 20 گیندوں پر برق رفتار 49 رنز کی اننگز کھیلی اور بھارتی ٹیم نے محض 3.5 اوورز میں 50 رنز مکمل کر لیے۔</p>
<p>پاور پلے کے اختتام پر بھارت کا اسکور 68 رنز پر 3 وکٹیں تھا، جس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم آسانی سے ہدف حاصل کرلے گی تاہم آئرلینڈ کے بولرز نے درمیانی اوورز میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے مسلسل وکٹیں حاصل کیں اور بھارتی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔</p>
<p>بھارت نے 11.5 اوورز میں 100 رنز مکمل کیے لیکن وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے باعث مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔</p>
<p>بھارتی بلے بازوں میں شیوم ڈوبے 25، تلک ورما 19 اور اکشر پٹیل 15 رنز بنائے، اس کے علاوہ دیگر بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے جب کہ بھارتی ٹیم کے 7 بلے باز ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔</p>
<p>اس طرح بھارتی ٹیم 18.5 اوورز میں 148 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی اور آئرلینڈ نے 34 رنز سے تاریخی کامیابی اپنے نام  کرتے ہوئے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BCCI/status/2070541314241016231?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BCCI/status/2070541314241016231?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئرلینڈ کی جانب سے میٹ ہولارڈ نے انتہائی مؤثر بولنگ کرتے ہوئے 4 اوورز میں 28 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں جب کہ میتھیو ہمفریز نے بھی 3 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کی آخری وکٹیں گرا کر میچ آئرلینڈ کے نام کردیا۔</p>
<p>بھارت کے خلاف یہ جیت آئرلینڈ کی ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ میزبان ٹیم نے صرف انفرادی کارکردگی پر انحصار کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ بیٹنگ، منظم بولنگ اور دباؤ میں بہترین اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی مضبوط ترین ٹی 20 ٹیموں میں شامل بھارت کو پہلی مرتبہ ٹی 20 انٹرنیشنل میں شکست دے کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricketireland/status/2070540082264588545?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricketireland/status/2070540082264588545?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506814</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 21:51:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2621500794765dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2621500794765dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کی پاکستان ویمنز ٹیم کی کھلاڑی کو وارننگ، وجہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506809/t20-world-cup-icc-warns-pakistan-womens-team-player</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان ویمنز ٹیم کی بیٹر گل فیروزہ کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کرتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گل فیروزہ کو آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی لیول ون خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق گل فیروزہ نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی کی، جس کا تعلق بین الاقوامی میچ کے دوران کرکٹ کے سامان، لباس، گراؤنڈ کے آلات یا دیگر سہولیات کے ساتھ نامناسب یا جارحانہ رویہ اختیار کرنے سے ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506647/bangladesh-beat-pakistan-womens-t20-world-cup'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ پاکستان کی اننگز کے دوسرے اوور میں پیش آیا، جب آؤٹ ہونے کے بعد گل فیروزہ نے ٹیم ڈگ آؤٹ کے قریب غصے میں اپنا بیٹ اور گلوز جارحانہ انداز میں پھینک دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق گزشتہ 24 ماہ کے دوران یہ ان کی پہلی خلاف ورزی ہے، جس کے باعث ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل فیروزہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی انٹرنیشنل پینل کے میچ ریفری مچل پریرا کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل فیروزہ پر الزام آن فیلڈ امپائرز سو ریڈفرن اور ورندا راتھی، تھرڈ امپائر جیکولین ولیمز اور فورتھ امپائر شاتھیرا جاکر جیسی نے عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506517/pakistan-womens-team-faces-icc-criticism-after-defeat-to-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق لیول ون خلاف ورزی کی کم از کم سزا سرکاری سرزنش جب کہ زیادہ سے زیادہ سزا میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے کے اس میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 113 رنز سے شکست دی تھی جب کہ پاکستانی ٹیم ایونٹ میں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان ویمنز ٹیم کی بیٹر گل فیروزہ کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وارننگ جاری کرتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گل فیروزہ کو آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی لیول ون خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق گل فیروزہ نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی کی، جس کا تعلق بین الاقوامی میچ کے دوران کرکٹ کے سامان، لباس، گراؤنڈ کے آلات یا دیگر سہولیات کے ساتھ نامناسب یا جارحانہ رویہ اختیار کرنے سے ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506647/bangladesh-beat-pakistan-womens-t20-world-cup'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506647"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ واقعہ پاکستان کی اننگز کے دوسرے اوور میں پیش آیا، جب آؤٹ ہونے کے بعد گل فیروزہ نے ٹیم ڈگ آؤٹ کے قریب غصے میں اپنا بیٹ اور گلوز جارحانہ انداز میں پھینک دیے۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق گزشتہ 24 ماہ کے دوران یہ ان کی پہلی خلاف ورزی ہے، جس کے باعث ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>گل فیروزہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی انٹرنیشنل پینل کے میچ ریفری مچل پریرا کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔<br></p>
<p>گل فیروزہ پر الزام آن فیلڈ امپائرز سو ریڈفرن اور ورندا راتھی، تھرڈ امپائر جیکولین ولیمز اور فورتھ امپائر شاتھیرا جاکر جیسی نے عائد کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506517/pakistan-womens-team-faces-icc-criticism-after-defeat-to-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی سی سی کے مطابق لیول ون خلاف ورزی کی کم از کم سزا سرکاری سرزنش جب کہ زیادہ سے زیادہ سزا میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس ہو سکتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے کے اس میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 113 رنز سے شکست دی تھی جب کہ پاکستانی ٹیم ایونٹ میں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506809</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 17:28:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2617264802c2449.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2617264802c2449.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکواڈور جرمنی کو ہرا کر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506802/germany-defeated-as-ecuador-qualify-for-fifa-world-cup-2026-knockout-stage</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایکواڈور نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے گروپ ای کے میچ میں جرمنی کو 1-2 سے شکست دے دی، جبکہ گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ای کے اہم مقابلے میں ایکواڈور نے جرمنی کو 1-2 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ مرحلے کے اختتام پر ایکواڈور نے تیسری پوزیشن حاصل کی، تاہم بہترین تیسری پوزیشن رکھنے والی ٹیموں میں شامل ہونے کی بنیاد پر وہ ناک آؤٹ راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070267220756660426?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070267220756660426%7Ctwgr%5E1b2d81401c4370c47168f17c1e4816ab6ce43d30%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F436800-'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070267220756660426?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070267220756660426%7Ctwgr%5E1b2d81401c4370c47168f17c1e4816ab6ce43d30%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F436800-"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جرمنی کی ٹیم اس شکست کے باوجود پہلے ہی اپنے ابتدائی دو میچز جیت کر ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرچکی تھی، اس لیے اس میچ کے نتیجے سے اس کی اگلے مرحلے میں جگہ متاثر نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر گروپ ای سے آئیوری کوسٹ نے بھی ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ آئیوری کوسٹ نے اپنے آخری گروپ میچ میں کیوراساو کو شکست دے کر گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر فیفا ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا نے گروپ ڈی کے اپنے آخری میچ میں پیراگوئے کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر مقابلہ کھیل کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نتیجے کے بعد آسٹریلیا نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں رسائی حاصل کرلی، جبکہ پیراگوئے بھی بہترین تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں شامل ہونے کی وجہ سے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے شہر سانتا کلارا میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے اہم میچ میں آسٹریلیا اور پیراگوئے کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، تاہم دونوں ٹیمیں مقررہ وقت میں کوئی گول نہ کرسکیں اور میچ صفر، صفر سے برابر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایک پوائنٹ کی بدولت آسٹریلیا نے گروپ میں دوسری پوزیشن اپنے نام کی اور فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070358641535017293'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070358641535017293"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا نے ایونٹ کا آغاز ترکیہ کے خلاف فتح سے کیا تھا، تاہم دوسرے میچ میں اسے امریکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود آخری گروپ میچ میں اہم پوائنٹ حاصل کرکے ٹیم نے اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سات ورلڈ کپ شرکتوں میں صرف تیسرا موقع ہے کہ آسٹریلیا گروپ مرحلہ عبور کرکے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا ہے، جو ٹیم کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506774/fifa-world-cup-who-will-win-the-golden-boot-messi-mbappe-and-holland-in-the-running'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیراگوئے اگرچہ گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل نہ کرسکا، تاہم صفر، صفر کے اس ڈرا کے بعد وہ بہترین تیسری پوزیشن رکھنے والی آٹھ ٹیموں میں شامل ہونے کی مضبوط پوزیشن میں آگیا ہے، جس کے باعث اس کی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکا گروپ ڈی میں پہلے ہی سرفہرست ٹیم کے طور پر ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرچکا تھا۔ اگرچہ اسے لاس اینجلس میں کھیلے گئے اپنے آخری گروپ میچ میں ترکیہ کے ہاتھوں 3-2 سے شکست ہوئی، تاہم اس کے باوجود وہ گروپ کی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایکواڈور نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے گروپ ای کے میچ میں جرمنی کو 1-2 سے شکست دے دی، جبکہ گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ای کے اہم مقابلے میں ایکواڈور نے جرمنی کو 1-2 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔</p>
<p>گروپ مرحلے کے اختتام پر ایکواڈور نے تیسری پوزیشن حاصل کی، تاہم بہترین تیسری پوزیشن رکھنے والی ٹیموں میں شامل ہونے کی بنیاد پر وہ ناک آؤٹ راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070267220756660426?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070267220756660426%7Ctwgr%5E1b2d81401c4370c47168f17c1e4816ab6ce43d30%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F436800-'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070267220756660426?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2070267220756660426%7Ctwgr%5E1b2d81401c4370c47168f17c1e4816ab6ce43d30%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.geonewsurdu.tv%2Flatest%2F436800-"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب جرمنی کی ٹیم اس شکست کے باوجود پہلے ہی اپنے ابتدائی دو میچز جیت کر ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرچکی تھی، اس لیے اس میچ کے نتیجے سے اس کی اگلے مرحلے میں جگہ متاثر نہیں ہوئی۔</p>
<p>ادھر گروپ ای سے آئیوری کوسٹ نے بھی ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ آئیوری کوسٹ نے اپنے آخری گروپ میچ میں کیوراساو کو شکست دے کر گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنالی۔</p>
<p>اُدھر فیفا ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا نے گروپ ڈی کے اپنے آخری میچ میں پیراگوئے کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر مقابلہ کھیل کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506794/neymar-jr-cried-after-returning-to-the-brazilian-team-after-981-days'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس نتیجے کے بعد آسٹریلیا نے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے آخری 32 ٹیموں میں رسائی حاصل کرلی، جبکہ پیراگوئے بھی بہترین تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں شامل ہونے کی وجہ سے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے قریب ہے۔</p>
<p>امریکا کے شہر سانتا کلارا میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے اہم میچ میں آسٹریلیا اور پیراگوئے کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، تاہم دونوں ٹیمیں مقررہ وقت میں کوئی گول نہ کرسکیں اور میچ صفر، صفر سے برابر رہا۔</p>
<p>اس ایک پوائنٹ کی بدولت آسٹریلیا نے گروپ میں دوسری پوزیشن اپنے نام کی اور فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAWorldCup/status/2070358641535017293'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAWorldCup/status/2070358641535017293"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آسٹریلیا نے ایونٹ کا آغاز ترکیہ کے خلاف فتح سے کیا تھا، تاہم دوسرے میچ میں اسے امریکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود آخری گروپ میچ میں اہم پوائنٹ حاصل کرکے ٹیم نے اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرلی۔</p>
<p>یہ سات ورلڈ کپ شرکتوں میں صرف تیسرا موقع ہے کہ آسٹریلیا گروپ مرحلہ عبور کرکے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا ہے، جو ٹیم کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506774/fifa-world-cup-who-will-win-the-golden-boot-messi-mbappe-and-holland-in-the-running'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب پیراگوئے اگرچہ گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل نہ کرسکا، تاہم صفر، صفر کے اس ڈرا کے بعد وہ بہترین تیسری پوزیشن رکھنے والی آٹھ ٹیموں میں شامل ہونے کی مضبوط پوزیشن میں آگیا ہے، جس کے باعث اس کی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ادھر امریکا گروپ ڈی میں پہلے ہی سرفہرست ٹیم کے طور پر ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرچکا تھا۔ اگرچہ اسے لاس اینجلس میں کھیلے گئے اپنے آخری گروپ میچ میں ترکیہ کے ہاتھوں 3-2 سے شکست ہوئی، تاہم اس کے باوجود وہ گروپ کی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506802</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 10:24:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/261023326786a92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/261023326786a92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا: زلزلہ آنے سے پہلے ہی گوگل کا الرٹ؛ آخر گوگل کو کیسے پتہ چلا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506788/venezuela-earthquake-google-alert-how-did-google-know-before-the-quake</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مختلف علاقوں میں شدید نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 7.1 اور 7.5 شدت کے یہ زلزلے گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس تباہی کے بعد ایک اور سوال بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا کہ گوگل نے زلزلہ محسوس ہونے سے پہلے ہی بعض صارفین کو خبردار کیسے کر دیا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی صارفین نے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن میں گوگل کی جانب سے زلزلے کی پیشگی وارننگ موصول ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے بتایا کہ اسے زلزلہ آنے سے چند لمحے قبل گوگل کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن ملا جس میں تقریباً 6.2 شدت کے زلزلے کا انتباہ دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ زلزلہ تقریباً 341 کلومیٹر دور ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25113919ac77c2a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25113919ac77c2a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا تعلق براہِ راست اسمارٹ فونز سے ہے۔ ہر جدید اسمارٹ فون میں ایک خاص سینسر موجود ہوتا ہے جسے ایکسیلرومیٹر کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہی سینسر فون کی اسکرین کو گھمانے یا حرکت کو محسوس کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ زمین میں پیدا ہونے والی لرزش کو بھی شناخت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کسی اینڈرائیڈ فون کو ایسی لرزش محسوس ہوتی ہے جو زلزلے کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے تو فون گوگل کے اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم کو ایک سگنل بھیج دیتا ہے۔ اس سگنل کے ساتھ مقام کی عمومی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506777/venezuela-7-5-magnitude-earthquake-buildings-destroyed-feared-multiple-casualties'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے سرورز پھر اسی علاقے میں موجود دیگر فونز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں فونز ایک جیسی لرزش ریکارڈ کریں تو سسٹم اندازہ لگا لیتا ہے کہ زلزلہ آ رہا ہے اور فوراً وارننگ جاری کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب سے زیادہ اینڈرائیڈ فونز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ نظام دنیا کا سب سے بڑا تقسیم شدہ زلزلہ نگرانی کا نظام بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر زلزلہ آ ہی رہا ہو تو گوگل لوگوں کو پہلے کیسے خبردار کر دیتا ہے؟ ماہرین کے مطابق زلزلہ ایک ہی جھٹکے کی صورت میں نہیں آتا بلکہ مختلف قسم کی لہروں کی شکل میں سفر کرتا ہے۔ ابتدائی لہریں، جنہیں پی ویوز کہا جاتا ہے، تقریباً 6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں اور نسبتاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس کے بعد آنے والی ایس ویوز زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں لیکن ان کی رفتار تقریباً 3 سے 4 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینڈرائیڈ فونز ان ابتدائی پی ویوز کو محسوس کر لیتے ہیں اور فوراً گوگل کے سرورز کو اطلاع بھیج دیتے ہیں۔ چونکہ ڈیجیٹل سگنلز روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہیں، اس لیے گوگل کو چند قیمتی سیکنڈ مل جاتے ہیں جن میں وہ صورتحال کا جائزہ لے کر متاثرہ علاقوں کے صارفین کو خبردار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”ہم بنیادی طور پر روشنی کی رفتار اور زلزلے کی رفتار کے درمیان دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں، اور خوش قسمتی سے روشنی کی رفتار زلزلے کی لہروں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر زلزلے کا مرکز کسی شخص سے 341 کلومیٹر دور ہو تو گوگل کے سرورز زلزلے کے ابتدائی سگنلز وصول کر کے ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور اصل جھٹکے پہنچنے سے پہلے الرٹ جاری کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506229/78-magnitude-earthquake-wreaks-havoc-in-the-philippines-killing-32-people-dozens-missing'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506229"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینڈرائیڈ سسٹم میں زلزلے کے لیے دو مختلف قسم کے الرٹس موجود ہیں۔ ”بی اویئر الرٹ“ ہلکی شدت کے جھٹکوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جبکہ ”ٹیک ایکشن الرٹ“ درمیانی یا شدید زلزلے سے پہلے خبردار کرتا ہے تاکہ لوگ حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان الرٹس پر کلک کرنے سے زلزلے کے دوران اور بعد میں احتیاطی تدابیر، مقام اور شدت کے ابتدائی اندازوں سمیت مزید معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام بھارت میں 2023 سے اینڈرائیڈ 5 یا اس سے جدید ورژنز پر فعال ہے۔ تاہم الرٹس موصول کرنے کے لیے موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کنکشن کا فعال ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف ایسی وارننگز وصول نہیں کرنا چاہتا تو وہ اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر زلزلے کے الرٹس بند بھی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام زلزلوں کو پہلے سے پیش گوئی نہیں کرتا، لیکن ابتدائی جھٹکوں کا پتہ لگا کر چند سیکنڈ پہلے خبردار کر دینا بھی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مختلف علاقوں میں شدید نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 7.1 اور 7.5 شدت کے یہ زلزلے گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس تباہی کے بعد ایک اور سوال بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا کہ گوگل نے زلزلہ محسوس ہونے سے پہلے ہی بعض صارفین کو خبردار کیسے کر دیا؟</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی صارفین نے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن میں گوگل کی جانب سے زلزلے کی پیشگی وارننگ موصول ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔</p>
<p>ایک صارف نے بتایا کہ اسے زلزلہ آنے سے چند لمحے قبل گوگل کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن ملا جس میں تقریباً 6.2 شدت کے زلزلے کا انتباہ دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ زلزلہ تقریباً 341 کلومیٹر دور ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25113919ac77c2a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25113919ac77c2a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا تعلق براہِ راست اسمارٹ فونز سے ہے۔ ہر جدید اسمارٹ فون میں ایک خاص سینسر موجود ہوتا ہے جسے ایکسیلرومیٹر کہا جاتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر یہی سینسر فون کی اسکرین کو گھمانے یا حرکت کو محسوس کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ زمین میں پیدا ہونے والی لرزش کو بھی شناخت کر سکتا ہے۔</p>
<p>جب کسی اینڈرائیڈ فون کو ایسی لرزش محسوس ہوتی ہے جو زلزلے کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے تو فون گوگل کے اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم کو ایک سگنل بھیج دیتا ہے۔ اس سگنل کے ساتھ مقام کی عمومی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506777/venezuela-7-5-magnitude-earthquake-buildings-destroyed-feared-multiple-casualties'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گوگل کے سرورز پھر اسی علاقے میں موجود دیگر فونز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا موازنہ کرتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں فونز ایک جیسی لرزش ریکارڈ کریں تو سسٹم اندازہ لگا لیتا ہے کہ زلزلہ آ رہا ہے اور فوراً وارننگ جاری کر دیتا ہے۔</p>
<p>گوگل کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب سے زیادہ اینڈرائیڈ فونز اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ نظام دنیا کا سب سے بڑا تقسیم شدہ زلزلہ نگرانی کا نظام بن چکا ہے۔</p>
<p>سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر زلزلہ آ ہی رہا ہو تو گوگل لوگوں کو پہلے کیسے خبردار کر دیتا ہے؟ ماہرین کے مطابق زلزلہ ایک ہی جھٹکے کی صورت میں نہیں آتا بلکہ مختلف قسم کی لہروں کی شکل میں سفر کرتا ہے۔ ابتدائی لہریں، جنہیں پی ویوز کہا جاتا ہے، تقریباً 6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں اور نسبتاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس کے بعد آنے والی ایس ویوز زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں لیکن ان کی رفتار تقریباً 3 سے 4 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اینڈرائیڈ فونز ان ابتدائی پی ویوز کو محسوس کر لیتے ہیں اور فوراً گوگل کے سرورز کو اطلاع بھیج دیتے ہیں۔ چونکہ ڈیجیٹل سگنلز روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہیں، اس لیے گوگل کو چند قیمتی سیکنڈ مل جاتے ہیں جن میں وہ صورتحال کا جائزہ لے کر متاثرہ علاقوں کے صارفین کو خبردار کر سکتا ہے۔</p>
<p>گوگل نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”ہم بنیادی طور پر روشنی کی رفتار اور زلزلے کی رفتار کے درمیان دوڑ لگا رہے ہوتے ہیں، اور خوش قسمتی سے روشنی کی رفتار زلزلے کی لہروں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔“</p>
<p>مثال کے طور پر اگر زلزلے کا مرکز کسی شخص سے 341 کلومیٹر دور ہو تو گوگل کے سرورز زلزلے کے ابتدائی سگنلز وصول کر کے ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور اصل جھٹکے پہنچنے سے پہلے الرٹ جاری کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506229/78-magnitude-earthquake-wreaks-havoc-in-the-philippines-killing-32-people-dozens-missing'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506229"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اینڈرائیڈ سسٹم میں زلزلے کے لیے دو مختلف قسم کے الرٹس موجود ہیں۔ ”بی اویئر الرٹ“ ہلکی شدت کے جھٹکوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جبکہ ”ٹیک ایکشن الرٹ“ درمیانی یا شدید زلزلے سے پہلے خبردار کرتا ہے تاکہ لوگ حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان الرٹس پر کلک کرنے سے زلزلے کے دوران اور بعد میں احتیاطی تدابیر، مقام اور شدت کے ابتدائی اندازوں سمیت مزید معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ نظام بھارت میں 2023 سے اینڈرائیڈ 5 یا اس سے جدید ورژنز پر فعال ہے۔ تاہم الرٹس موصول کرنے کے لیے موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کنکشن کا فعال ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف ایسی وارننگز وصول نہیں کرنا چاہتا تو وہ اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر زلزلے کے الرٹس بند بھی کر سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام زلزلوں کو پہلے سے پیش گوئی نہیں کرتا، لیکن ابتدائی جھٹکوں کا پتہ لگا کر چند سیکنڈ پہلے خبردار کر دینا بھی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506788</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 11:41:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2511383132aa839.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2511383132aa839.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین کیوں کانپتی ہے؟ زلزلے اور سونامی سے جڑی کہانیاں اور حقیقت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسان کی پوری تاریخ میں جتنا نقصان زلزلوں نے پہنچایا ہے، اتنا کسی اور قدرتی آفت نے نہیں پہنچایا۔ پرانے وقتوں میں جب سائنس اور مشینوں کا وجود نہیں تھا اور دنیا کی سچائیوں کو جاننے کے لیے تحقیق نہیں ہوئی تھی، تو الگ الگ ادوار میں مختلف لوگ زلزلوں کے بارے میں عجیب و غریب باتیں اور قصے کہانیاں بتاتے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر چلی کی ایک قوم کا ماننا تھا کہ ایک بہت بڑی چھپکلی نے پوری زمین کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ ہلتی ہے تو زمین کانپنے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذہبی عقیدے رکھنے والے لوگ سمجھتے تھے کہ خدا اپنے نافرمان بندوں کو ڈرانے کے لیے زمین ہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ہندوؤں کی پرانی کہانیوں میں یہ تصور تھا کہ زمین کو ایک گائے نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر اپنا سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونان کے پرانے فلاسفروں ارسطو اور افلاطون کے خیالات کچھ حد تک سائنسی تھے، ان کا کہنا تھا کہ زمین کے اندر موجود ہوا جب گرم ہو کر باہر نکلنے کے لیے زمین کی تہوں کو توڑتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506777/venezuela-7-5-magnitude-earthquake-buildings-destroyed-feared-multiple-casualties'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، پرانے خیالات جھوٹے ثابت ہوتے گئے اور ہر نئے حادثے نے انسان کو حقیقت کے قریب کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ اتنی خاموشی سے آتا ہے کہ کسی کو پہلے سے کانوں کان خبر نہیں ہوتی، اور انسان کو پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے پیچھے تباہی اور بربادی مچا چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایسی مشینیں ضرور بن چکی ہیں جو زلزلے کے دوران اس کی طاقت، اس کے مرکز اور اس کے بعد آنے والے جھٹکوں کی معلومات دے دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین کے بارے میں جاننے والے ماہرین ارضیات بتاتے ہیں کہ زلزلے آنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی وجہ زمین کے اندر موجود بڑی بڑی چٹانوں یا پلیٹوں کا ٹوٹنا ہے، اور دوسری وجہ آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری زمین کے اندر مختلف گہرائیوں میں پتھر کی بڑی بڑی تہیں یا پلیٹیں موجود ہیں جنہیں ٹیکٹونک پلیٹس کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پلیٹوں کے نیچے ایک پگھلا ہوا گرم مادہ ہوتا ہے جسے ’میگما‘ کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میگما کی گرمی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو زمین کے اندر ایک بجلی جیسا کرنٹ پیدا ہوتا ہے، جس سے یہ پلیٹیں ہلنے لگتی ہیں اور آپس میں ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوٹنے کے بعد ان پلیٹوں کا کچھ حصہ اس پگھلے ہوئے مادے میں دھنس جاتا ہے اور کچھ حصہ اوپر کو ابھر آتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر رہنے والے انسانوں اور جانوروں کو سطح پر شدید جھٹکے اور ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25105745fa09c18.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25105745fa09c18.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کا دورانیہ اور اس کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ زمین کے اندر کتنی گرمی تھی اور پلیٹیں کتنی برے طریقے سے ٹوٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جب زمین کے نیچے سے گرم لاوا پوری طاقت کے ساتھ زمین کی تہوں کو پھاڑتا ہوا باہر نکلتا ہے، تو اندرونی پلیٹوں میں شدید قسم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زمین کے نیچے تین سے پندرہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی تیز رفتار سے سفر کرتی ہیں اور انہیں چار اقسام میں بانٹا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو لہریں زمین کی اوپر کی سطح کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں جبکہ باقی دو لہریں زمین کے اندر ہی سفر کرتی ہیں، جنہیں پرائمری اور سیکنڈری لہریں کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائمری لہریں آواز کی لہروں کی طرح زمین کے اندر موجود چٹانوں اور پانی جیسی مائع چیزوں سے گزر جاتی ہیں۔ سیکنڈری لہروں کی رفتار تھوڑی کم ہوتی ہے اور وہ صرف سخت چٹانوں سے گزر سکتی ہیں اور مائع چیزوں میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ سیکنڈری لہریں جب چٹانوں سے گزرتی ہیں تو ایک نئی لہر بناتی ہیں جو زمین کے مرکز کو ہلا کر زلزلے کا سبب بنتی ہے۔ یہ لہریں جتنی تیز ہوں گی، زمین پر اتنا ہی بڑا زلزلہ محسوس ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ ہے کہ سونامی کیسے آتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو اگر یہی زلزلہ زمین کے بجائے سمندر کے نیچے آ جائے، تو زلزلے کی پوری طاقت پانی میں شدید ہلچل اور بڑی بڑی لہریں پیدا کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لہریں سمندر کی سطح پر پانچ سو سے ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، بغیر اپنی طاقت کم کیے، ہزاروں میل دور خشکی کی طرف دوڑتی ہیں اور ساحل سے ٹکرا کر ایسی تباہی پھیلاتی ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے بڑی مثال سال 2004 میں انڈونیشیا میں آنے والا زلزلہ اور سونامی ہے، جس کی اونچی لہروں نے ہندوستان اور سری لنکا جیسے دور دراز ملکوں کے ساحلوں پر بھی ایسی ہولناک تباہی مچائی تھی جس کی گونج آج بھی ان علاقوں میں سنائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسان کی پوری تاریخ میں جتنا نقصان زلزلوں نے پہنچایا ہے، اتنا کسی اور قدرتی آفت نے نہیں پہنچایا۔ پرانے وقتوں میں جب سائنس اور مشینوں کا وجود نہیں تھا اور دنیا کی سچائیوں کو جاننے کے لیے تحقیق نہیں ہوئی تھی، تو الگ الگ ادوار میں مختلف لوگ زلزلوں کے بارے میں عجیب و غریب باتیں اور قصے کہانیاں بتاتے تھے۔</strong></p>
<p>مثال کے طور پر چلی کی ایک قوم کا ماننا تھا کہ ایک بہت بڑی چھپکلی نے پوری زمین کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ ہلتی ہے تو زمین کانپنے لگتی ہے۔</p>
<p>مذہبی عقیدے رکھنے والے لوگ سمجھتے تھے کہ خدا اپنے نافرمان بندوں کو ڈرانے کے لیے زمین ہلاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح ہندوؤں کی پرانی کہانیوں میں یہ تصور تھا کہ زمین کو ایک گائے نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر اپنا سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔</p>
<p>یونان کے پرانے فلاسفروں ارسطو اور افلاطون کے خیالات کچھ حد تک سائنسی تھے، ان کا کہنا تھا کہ زمین کے اندر موجود ہوا جب گرم ہو کر باہر نکلنے کے لیے زمین کی تہوں کو توڑتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506777/venezuela-7-5-magnitude-earthquake-buildings-destroyed-feared-multiple-casualties'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506777"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، پرانے خیالات جھوٹے ثابت ہوتے گئے اور ہر نئے حادثے نے انسان کو حقیقت کے قریب کر دیا۔</p>
<p>زلزلہ اتنی خاموشی سے آتا ہے کہ کسی کو پہلے سے کانوں کان خبر نہیں ہوتی، اور انسان کو پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے پیچھے تباہی اور بربادی مچا چکا ہوتا ہے۔</p>
<p>اب ایسی مشینیں ضرور بن چکی ہیں جو زلزلے کے دوران اس کی طاقت، اس کے مرکز اور اس کے بعد آنے والے جھٹکوں کی معلومات دے دیتی ہیں۔</p>
<p>زمین کے بارے میں جاننے والے ماہرین ارضیات بتاتے ہیں کہ زلزلے آنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>پہلی وجہ زمین کے اندر موجود بڑی بڑی چٹانوں یا پلیٹوں کا ٹوٹنا ہے، اور دوسری وجہ آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا ہے۔</p>
<p>ہماری زمین کے اندر مختلف گہرائیوں میں پتھر کی بڑی بڑی تہیں یا پلیٹیں موجود ہیں جنہیں ٹیکٹونک پلیٹس کہتے ہیں۔</p>
<p>ان پلیٹوں کے نیچے ایک پگھلا ہوا گرم مادہ ہوتا ہے جسے ’میگما‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>جب میگما کی گرمی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو زمین کے اندر ایک بجلی جیسا کرنٹ پیدا ہوتا ہے، جس سے یہ پلیٹیں ہلنے لگتی ہیں اور آپس میں ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>ٹوٹنے کے بعد ان پلیٹوں کا کچھ حصہ اس پگھلے ہوئے مادے میں دھنس جاتا ہے اور کچھ حصہ اوپر کو ابھر آتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر رہنے والے انسانوں اور جانوروں کو سطح پر شدید جھٹکے اور ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25105745fa09c18.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/25105745fa09c18.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>زلزلے کا دورانیہ اور اس کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ زمین کے اندر کتنی گرمی تھی اور پلیٹیں کتنی برے طریقے سے ٹوٹیں۔</p>
<p>اسی طرح جب زمین کے نیچے سے گرم لاوا پوری طاقت کے ساتھ زمین کی تہوں کو پھاڑتا ہوا باہر نکلتا ہے، تو اندرونی پلیٹوں میں شدید قسم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زمین کے نیچے تین سے پندرہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی تیز رفتار سے سفر کرتی ہیں اور انہیں چار اقسام میں بانٹا گیا ہے۔</p>
<p>دو لہریں زمین کی اوپر کی سطح کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں جبکہ باقی دو لہریں زمین کے اندر ہی سفر کرتی ہیں، جنہیں پرائمری اور سیکنڈری لہریں کہتے ہیں۔</p>
<p>پرائمری لہریں آواز کی لہروں کی طرح زمین کے اندر موجود چٹانوں اور پانی جیسی مائع چیزوں سے گزر جاتی ہیں۔ سیکنڈری لہروں کی رفتار تھوڑی کم ہوتی ہے اور وہ صرف سخت چٹانوں سے گزر سکتی ہیں اور مائع چیزوں میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ سیکنڈری لہریں جب چٹانوں سے گزرتی ہیں تو ایک نئی لہر بناتی ہیں جو زمین کے مرکز کو ہلا کر زلزلے کا سبب بنتی ہے۔ یہ لہریں جتنی تیز ہوں گی، زمین پر اتنا ہی بڑا زلزلہ محسوس ہو گا۔</p>
<p>اب سوال یہ ہے کہ سونامی کیسے آتا ہے؟</p>
<p>تو اگر یہی زلزلہ زمین کے بجائے سمندر کے نیچے آ جائے، تو زلزلے کی پوری طاقت پانی میں شدید ہلچل اور بڑی بڑی لہریں پیدا کر دیتی ہے۔</p>
<p>یہ لہریں سمندر کی سطح پر پانچ سو سے ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، بغیر اپنی طاقت کم کیے، ہزاروں میل دور خشکی کی طرف دوڑتی ہیں اور ساحل سے ٹکرا کر ایسی تباہی پھیلاتی ہیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔</p>
<p>اس کی سب سے بڑی مثال سال 2004 میں انڈونیشیا میں آنے والا زلزلہ اور سونامی ہے، جس کی اونچی لہروں نے ہندوستان اور سری لنکا جیسے دور دراز ملکوں کے ساحلوں پر بھی ایسی ہولناک تباہی مچائی تھی جس کی گونج آج بھی ان علاقوں میں سنائی دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506786</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 11:13:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2510475758a7e01.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2510475758a7e01.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹھٹھہ میں محرم کی صدیوں پرانی روایت، مجلس سے پہلے نقارہ کیوں بجایا جاتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506779/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کی قدیم امام بارگاہوں میں صدیوں پرانی روایات ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہیں۔ مجالس اور جلوسوں کے آغاز کے اعلان کے لیے نقارہ بجانے کی روایت آج بھی اسی عقیدت اور احترام کے ساتھ نبھائی جا رہی ہے، جس نے ماضی اور حال کو ایک خوبصورت ثقافتی اور مذہبی رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ٹھٹھہ، مکلی اور سندھ کے دیگر تاریخی علاقوں میں واقع امام بارگاہوں سے نقاروں کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ صدیوں پر محیط یہ روایت آج بھی عزاداری کے ایام میں پوری عقیدت کے ساتھ برقرار رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں جب مواصلات کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے تو نقارہ محرم الحرام کے آغاز، مجالس کے انعقاد اور ماتمی جلوسوں کے اوقات سے عوام کو آگاہ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ زندگی کے بیشتر شعبوں میں اپنی جگہ بنا لی، تاہم ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عزاداری کے منتظمین کے مطابق محرم کے دنوں میں مخصوص اوقات پر نقارہ بجایا جاتا ہے جس سے اہلِ علاقہ کو مجالس اور جلوسوں کے آغاز کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف مذہبی اہمیت کی حامل ہے بلکہ سندھ کے ثقافتی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نقارہ نوازی کی یہ روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے اور نئی نسل بھی اسے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ محرم الحرام کے دوران نقاروں کی آواز علاقے کے لوگوں کے لیے عقیدت، احترام اور تاریخ سے جڑے رہنے کی علامت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں محرم کے ایام میں گونجنے والے یہ نقارے آج بھی ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صدیوں پرانی مذہبی روایات جدید دور میں بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کی قدیم امام بارگاہوں میں صدیوں پرانی روایات ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہیں۔ مجالس اور جلوسوں کے آغاز کے اعلان کے لیے نقارہ بجانے کی روایت آج بھی اسی عقیدت اور احترام کے ساتھ نبھائی جا رہی ہے، جس نے ماضی اور حال کو ایک خوبصورت ثقافتی اور مذہبی رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔</strong></p>
<p>محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ٹھٹھہ، مکلی اور سندھ کے دیگر تاریخی علاقوں میں واقع امام بارگاہوں سے نقاروں کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ صدیوں پر محیط یہ روایت آج بھی عزاداری کے ایام میں پوری عقیدت کے ساتھ برقرار رکھی گئی ہے۔</p>
<p>ماضی میں جب مواصلات کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے تو نقارہ محرم الحرام کے آغاز، مجالس کے انعقاد اور ماتمی جلوسوں کے اوقات سے عوام کو آگاہ کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ زندگی کے بیشتر شعبوں میں اپنی جگہ بنا لی، تاہم ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے۔</p>
<p>عزاداری کے منتظمین کے مطابق محرم کے دنوں میں مخصوص اوقات پر نقارہ بجایا جاتا ہے جس سے اہلِ علاقہ کو مجالس اور جلوسوں کے آغاز کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف مذہبی اہمیت کی حامل ہے بلکہ سندھ کے ثقافتی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نقارہ نوازی کی یہ روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے اور نئی نسل بھی اسے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ محرم الحرام کے دوران نقاروں کی آواز علاقے کے لوگوں کے لیے عقیدت، احترام اور تاریخ سے جڑے رہنے کی علامت بن چکی ہے۔</p>
<p>ٹھٹھہ کی تاریخی امام بارگاہوں میں محرم کے ایام میں گونجنے والے یہ نقارے آج بھی ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صدیوں پرانی مذہبی روایات جدید دور میں بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506779</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 09:11:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امر لال)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/25085339eba8f76.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/25085339eba8f76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرآباد میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مزار کی شبیہہ بنا دی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506781/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرآباد کے نواحی قصبے سید نگر میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت کی ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک عقیدت مند نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مزار اقدس سے مشابہ ”امام بارگاہ فاتح شام“ تعمیر کروا دی۔ دو سالہ مسلسل محنت کے بعد مکمل ہونے والی یہ امام بارگاہ اب دور دراز علاقوں سے آنے والے زائرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پور چٹھہ سے منسلک قصبہ سید نگر میں اہلِ بیت اطہارؑ سے محبت اور عقیدت کا ایک منفرد اظہار دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک مقامی رہائشی نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مزار اقدس سے مشابہ ”امام بارگاہ فاتح شام“ تعمیر کروا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امام بارگاہ کی تعمیر کے پیچھے کسی ادارے یا بڑی تنظیم کا نہیں بلکہ ایک فرد کی دیرینہ خواہش اور عقیدت کارفرما ہے۔ تعمیر کنندہ کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظیم قربانیوں، صبر اور پیغامِ کربلا سے محبت نے انہیں اس منصوبے کی تکمیل پر آمادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اس امام بارگاہ کی تعمیر کا کام تقریباً دو برس تک جاری رہا اور اب تک اس پر 15 کروڑ روپے سے زائد لاگت آ چکی ہے۔ تعمیر میں فنِ تعمیر کے حسین نمونوں، نفیس نقش و نگاری اور دیدہ زیب آرائش کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امام بارگاہ کا سنہری گنبد اور اس کی طرزِ تعمیر شام میں واقع حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک کی یاد تازہ کرتی ہے۔ زائرین کا کہنا ہے کہ عمارت کی خوبصورتی اور روحانی فضا انہیں عقیدت و احترام کے جذبات سے سرشار کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کے مطابق امام بارگاہ فاتح شام کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی ہے اور مختلف شہروں سے عقیدت مند یہاں حاضری دینے اور اس منفرد تعمیر کو دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ”امام بارگاہ فاتح شام“ ایک فرد کے خواب اور عقیدت کا ایسا عملی اظہار ہے جو آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی ایک یادگار مثال بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرآباد کے نواحی قصبے سید نگر میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت کی ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک عقیدت مند نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مزار اقدس سے مشابہ ”امام بارگاہ فاتح شام“ تعمیر کروا دی۔ دو سالہ مسلسل محنت کے بعد مکمل ہونے والی یہ امام بارگاہ اب دور دراز علاقوں سے آنے والے زائرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔</strong></p>
<p>علی پور چٹھہ سے منسلک قصبہ سید نگر میں اہلِ بیت اطہارؑ سے محبت اور عقیدت کا ایک منفرد اظہار دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک مقامی رہائشی نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مزار اقدس سے مشابہ ”امام بارگاہ فاتح شام“ تعمیر کروا دی ہے۔</p>
<p>امام بارگاہ کی تعمیر کے پیچھے کسی ادارے یا بڑی تنظیم کا نہیں بلکہ ایک فرد کی دیرینہ خواہش اور عقیدت کارفرما ہے۔ تعمیر کنندہ کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظیم قربانیوں، صبر اور پیغامِ کربلا سے محبت نے انہیں اس منصوبے کی تکمیل پر آمادہ کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اس امام بارگاہ کی تعمیر کا کام تقریباً دو برس تک جاری رہا اور اب تک اس پر 15 کروڑ روپے سے زائد لاگت آ چکی ہے۔ تعمیر میں فنِ تعمیر کے حسین نمونوں، نفیس نقش و نگاری اور دیدہ زیب آرائش کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔</p>
<p>امام بارگاہ کا سنہری گنبد اور اس کی طرزِ تعمیر شام میں واقع حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک کی یاد تازہ کرتی ہے۔ زائرین کا کہنا ہے کہ عمارت کی خوبصورتی اور روحانی فضا انہیں عقیدت و احترام کے جذبات سے سرشار کر دیتی ہے۔</p>
<p>مقامی افراد کے مطابق امام بارگاہ فاتح شام کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی ہے اور مختلف شہروں سے عقیدت مند یہاں حاضری دینے اور اس منفرد تعمیر کو دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ”امام بارگاہ فاتح شام“ ایک فرد کے خواب اور عقیدت کا ایسا عملی اظہار ہے جو آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی ایک یادگار مثال بن گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506781</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 10:33:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید مظفر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/25090527562809c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/25090527562809c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برازیل کی تین بہنوں میں چھپا طویل عمری کا راز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506785/the-secret-to-logevity-hidden-in-three-brazilian-sisters</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسانی عمر دراز ہونے کا راز کیا ہے؟ برازیل کی تین بہنیں، جن کی مجموعی عمر 316 برس ہے، اس سوال کا جواب دینے میں سائنس دانوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کی اس جوڑی پر ہونے والی تحقیق سے ماہرین امید کر رہے ہیں کہ طویل اور صحت مند زندگی کے جینیاتی عوامل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کی تین بہنیں، جنہیں رواں ماہ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کے گروپ کا اعزاز دیا، اب سائنسی تحقیق کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے تحت جاری ”ڈی این اے لونگیوو پروجیکٹ“ میں سائنس دان عمر رسیدگی اور طویل زندگی کے حیاتیاتی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ سائنس دان مایانا زاٹس کے مطابق اس مطالعے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ بعض افراد انتہائی زیادہ عمر میں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر متحرک اور صحت مند کیوں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران 90 اور 100 برس سے زائد عمر کے افراد کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا جائے گا جو کمزوری، ذہنی تنزلی یا دائمی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین ان خصوصیات کی تلاش میں ہیں جو طویل عمر اور بہتر صحت سے منسلک ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مایانا زاٹس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ایسے جینز تلاش کیے جا رہے ہیں جو انسان کو بیماریوں اور عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جتنے زیادہ سو سال سے زائد عمر کے افراد، خصوصاً ایک ہی خاندان کے افراد، تحقیق میں شامل ہوں گے اتنے ہی درست نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506575/somaticbreathing-workplaceburnout-stressmanagement-neurology-breathingtechniques-workplace-wellness'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کا مرکز بننے والی تین بہنیں لیویتا ڈی دیوس نونیس 109 سال، زورائیڈ ڈی دیوس موٹا 104 سال اور زولینا ڈی دیوس نونیس 103 سال کی ہیں۔ تینوں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں رہتی ہیں۔ ان کی شناخت عالمی ادارے لونگوی کویسٹ نے کی، جو طویل العمر افراد کے ریکارڈ کی تصدیق کرتا ہے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ شراکت دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لونگوی کویسٹ کے چیف ایگزیکٹو بین میئرز کے مطابق جب ایک ہی خاندان کی کئی بہنیں اتنی زیادہ عمر تک پہنچ جائیں تو یہ جینیاتی عوامل کے مضبوط کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک خاندانی تعاون اور سماجی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ بہنیں ایک دوسرے کے قریب رہتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر خاندان کی مدد انہیں حاصل رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں بہنیں اپنی طویل عمر کا راز سادہ اور صحت مند طرزِ زندگی کو قرار دیتی ہیں۔ زولینا کے مطابق ان کا بچپن دریا میں تیراکی اور مچھلی پکڑنے میں گزرا، جبکہ اس دور میں تازہ خوراک استعمال ہوتی تھی اور گھروں میں فریج بھی موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506730/psychology-oxytocin-neuroscience-hormones-lovehormone-humanbiology-emotionalbonding'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زورائیڈ کا کہنا ہے کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانا صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تینوں بہنوں نے عام زندگی گزاری۔ لیویتا نے دستکاری اور بعد ازاں ایک ٹی وی نیٹ ورک میں کام کیا، زورائیڈ نرس رہیں اور پانچ بچوں کی پرورش کی، جبکہ زولینا نے گھریلو خاتون کی حیثیت سے اپنے چھ بچوں کی تربیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;109 سالہ لیویتا اپنی زندگی کو اطمینان سے یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کا بچپن اور جوانی خوشگوار رہی اور انہیں اپنی زندگی سے کوئی شکایت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کون سے جینیاتی عوامل دل، عضلات اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھاپے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ منصوبے سے وابستہ محقق جواؤ پاؤلو گیلیرم کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ تحقیق میں 500 ایسے افراد کو شامل کیا جائے جن کی عمر 100 برس یا اس سے زیادہ ہو، تاکہ طویل عمر کے بارے میں مزید حتمی نتائج اخذ کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسانی عمر دراز ہونے کا راز کیا ہے؟ برازیل کی تین بہنیں، جن کی مجموعی عمر 316 برس ہے، اس سوال کا جواب دینے میں سائنس دانوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کی اس جوڑی پر ہونے والی تحقیق سے ماہرین امید کر رہے ہیں کہ طویل اور صحت مند زندگی کے جینیاتی عوامل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔</strong></p>
<p>برازیل کی تین بہنیں، جنہیں رواں ماہ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کی معمر ترین زندہ بہنوں کے گروپ کا اعزاز دیا، اب سائنسی تحقیق کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے تحت جاری ”ڈی این اے لونگیوو پروجیکٹ“ میں سائنس دان عمر رسیدگی اور طویل زندگی کے حیاتیاتی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ سائنس دان مایانا زاٹس کے مطابق اس مطالعے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ بعض افراد انتہائی زیادہ عمر میں بھی جسمانی اور ذہنی طور پر متحرک اور صحت مند کیوں رہتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے دوران 90 اور 100 برس سے زائد عمر کے افراد کا موازنہ ایسے لوگوں سے کیا جائے گا جو کمزوری، ذہنی تنزلی یا دائمی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماہرین ان خصوصیات کی تلاش میں ہیں جو طویل عمر اور بہتر صحت سے منسلک ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مایانا زاٹس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ایسے جینز تلاش کیے جا رہے ہیں جو انسان کو بیماریوں اور عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جتنے زیادہ سو سال سے زائد عمر کے افراد، خصوصاً ایک ہی خاندان کے افراد، تحقیق میں شامل ہوں گے اتنے ہی درست نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506575/somaticbreathing-workplaceburnout-stressmanagement-neurology-breathingtechniques-workplace-wellness'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق کا مرکز بننے والی تین بہنیں لیویتا ڈی دیوس نونیس 109 سال، زورائیڈ ڈی دیوس موٹا 104 سال اور زولینا ڈی دیوس نونیس 103 سال کی ہیں۔ تینوں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں رہتی ہیں۔ ان کی شناخت عالمی ادارے لونگوی کویسٹ نے کی، جو طویل العمر افراد کے ریکارڈ کی تصدیق کرتا ہے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ شراکت دار ہے۔</p>
<p>لونگوی کویسٹ کے چیف ایگزیکٹو بین میئرز کے مطابق جب ایک ہی خاندان کی کئی بہنیں اتنی زیادہ عمر تک پہنچ جائیں تو یہ جینیاتی عوامل کے مضبوط کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ان کے نزدیک خاندانی تعاون اور سماجی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ بہنیں ایک دوسرے کے قریب رہتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر خاندان کی مدد انہیں حاصل رہتی ہے۔</p>
<p>تینوں بہنیں اپنی طویل عمر کا راز سادہ اور صحت مند طرزِ زندگی کو قرار دیتی ہیں۔ زولینا کے مطابق ان کا بچپن دریا میں تیراکی اور مچھلی پکڑنے میں گزرا، جبکہ اس دور میں تازہ خوراک استعمال ہوتی تھی اور گھروں میں فریج بھی موجود نہیں تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506730/psychology-oxytocin-neuroscience-hormones-lovehormone-humanbiology-emotionalbonding'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زورائیڈ کا کہنا ہے کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانا صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تینوں بہنوں نے عام زندگی گزاری۔ لیویتا نے دستکاری اور بعد ازاں ایک ٹی وی نیٹ ورک میں کام کیا، زورائیڈ نرس رہیں اور پانچ بچوں کی پرورش کی، جبکہ زولینا نے گھریلو خاتون کی حیثیت سے اپنے چھ بچوں کی تربیت کی۔</p>
<p>109 سالہ لیویتا اپنی زندگی کو اطمینان سے یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کا بچپن اور جوانی خوشگوار رہی اور انہیں اپنی زندگی سے کوئی شکایت نہیں۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کون سے جینیاتی عوامل دل، عضلات اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھاپے کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ منصوبے سے وابستہ محقق جواؤ پاؤلو گیلیرم کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ تحقیق میں 500 ایسے افراد کو شامل کیا جائے جن کی عمر 100 برس یا اس سے زیادہ ہو، تاکہ طویل عمر کے بارے میں مزید حتمی نتائج اخذ کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506785</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 10:55:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/251047156c24b54.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/251047156c24b54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>15 سالہ سوریا ونشی کے دورہ انگلینڈ میں بھارتی ٹیم کے ساتھ رہنے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506772/15-year-old-surya-vanshi-banned-from-accompanying-indian-team-on-england-tour</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے 15 سالہ کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی کو انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹی 20 سیریز کے دوران خصوصی قوانین کے تحت اپنی ٹیم سے الگ ڈریسنگ روم استعمال کرنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/vaibhav-sooryavanshi-to-use-separate-dressing-room-during-india-s-t20i-series-in-england-1542721"&gt;رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق 15 سالہ نوجوان بھارتی کھلاڑی کے لیے یہ انتظام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حفاظتی ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے، جو 16 سال سے کم عمر کھلاڑیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thecricketgully/status/2069746517230186781?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/thecricketgully/status/2069746517230186781?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کم عمر کھلاڑیوں کے لیے نافذ حفاظتی ضوابط کے تحت ویبھو سوریا ونشی میچز اور ٹیم میٹنگز کے دوران بھارتی اسکواڈ کے ساتھ موجود رہیں گے تاہم کپڑے تبدیل کرنے اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے لیے انہیں علیحدہ ڈریسنگ روم فراہم کیا جائے گا۔ یہ ضابطہ انگلینڈ میں کھیلی جانے والی پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوران نافذ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضوابط کے مطابق متبادل انتظام کے طور پر وہ مرکزی ڈریسنگ روم میں بھی الگ وقت پر کپڑے تبدیل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس وقت دیگر سینئر کھلاڑی وہاں موجود نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506670/15-year-old-surya-vanshis-fastest-half-century-sets-new-world-record'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق یہی ضوابط آئرلینڈ کے خلاف بیلفاسٹ میں کھیلے جانے والے دو ٹی 20 میچوں کے دوران بھی لاگو ہوں گے۔ بھارتی ٹیم کو اس مقصد کے لیے اسٹیڈیم کے پویلین میں 3 علیحدہ کمرے فراہم کیے گئے ہیں اور ٹیم انتظامیہ کو متعلقہ قوانین سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ چونکہ یہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں ہونے والا ایونٹ ہے، اس لیے آئی سی سی کے حفاظتی طریقہ کار نافذ ہوں گے جب کہ ای سی بی کی سیف ہینڈز پالیسی بھی ہر وقت لاگو رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق کرکٹ ریگولیٹر بھارتی ٹیم کے ٹیم لائژن آفیسر کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ برطانیہ میں قیام کے دوران کھلاڑی سے متعلق تمام حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ متعلقہ گراؤنڈز کے سیف گارڈنگ افسران بھی ٹیم انتظامیہ کے ساتھ مل کر انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی کا کہنا ہے کہ ویبھو سوریا ونشی کے والدین پورے دورے میں ان کے ساتھ رہیں گے۔ ان کی کم عمری کے پیش نظر خصوصی اجازت کے تحت والدین بھی اسی ہوٹل میں قیام کریں گے جہاں بھارتی ٹیم مقیم ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506604/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506604"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ سوریا ونشی کے والدین پورے دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے، جس کے اخراجات بھارتی کرکٹ بورڈ برداشت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویبھو سوریا ونشی اس سے قبل آئی پی ایل میں راجستھان رائلز، بھارت اے اور ڈومیسٹک کرکٹ ٹیموں کے ڈریسنگ رومز کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اگر وہ آئرلینڈ یا انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 انٹرنیشنل میں ڈیبیو کرتے ہیں تو وہ 16 سال اور 205 دن کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بھارت کے کم عمر ترین مرد کرکٹر بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے 15 سالہ کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی کو انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹی 20 سیریز کے دوران خصوصی قوانین کے تحت اپنی ٹیم سے الگ ڈریسنگ روم استعمال کرنا ہوگا۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/vaibhav-sooryavanshi-to-use-separate-dressing-room-during-india-s-t20i-series-in-england-1542721">رپورٹس</a> کے مطابق 15 سالہ نوجوان بھارتی کھلاڑی کے لیے یہ انتظام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حفاظتی ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے، جو 16 سال سے کم عمر کھلاڑیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thecricketgully/status/2069746517230186781?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/thecricketgully/status/2069746517230186781?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کم عمر کھلاڑیوں کے لیے نافذ حفاظتی ضوابط کے تحت ویبھو سوریا ونشی میچز اور ٹیم میٹنگز کے دوران بھارتی اسکواڈ کے ساتھ موجود رہیں گے تاہم کپڑے تبدیل کرنے اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے لیے انہیں علیحدہ ڈریسنگ روم فراہم کیا جائے گا۔ یہ ضابطہ انگلینڈ میں کھیلی جانے والی پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوران نافذ ہوگا۔</p>
<p>ضوابط کے مطابق متبادل انتظام کے طور پر وہ مرکزی ڈریسنگ روم میں بھی الگ وقت پر کپڑے تبدیل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس وقت دیگر سینئر کھلاڑی وہاں موجود نہ ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506670/15-year-old-surya-vanshis-fastest-half-century-sets-new-world-record'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اطلاعات کے مطابق یہی ضوابط آئرلینڈ کے خلاف بیلفاسٹ میں کھیلے جانے والے دو ٹی 20 میچوں کے دوران بھی لاگو ہوں گے۔ بھارتی ٹیم کو اس مقصد کے لیے اسٹیڈیم کے پویلین میں 3 علیحدہ کمرے فراہم کیے گئے ہیں اور ٹیم انتظامیہ کو متعلقہ قوانین سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ چونکہ یہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں ہونے والا ایونٹ ہے، اس لیے آئی سی سی کے حفاظتی طریقہ کار نافذ ہوں گے جب کہ ای سی بی کی سیف ہینڈز پالیسی بھی ہر وقت لاگو رہے گی۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق کرکٹ ریگولیٹر بھارتی ٹیم کے ٹیم لائژن آفیسر کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ برطانیہ میں قیام کے دوران کھلاڑی سے متعلق تمام حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ متعلقہ گراؤنڈز کے سیف گارڈنگ افسران بھی ٹیم انتظامیہ کے ساتھ مل کر انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ای سی بی کا کہنا ہے کہ ویبھو سوریا ونشی کے والدین پورے دورے میں ان کے ساتھ رہیں گے۔ ان کی کم عمری کے پیش نظر خصوصی اجازت کے تحت والدین بھی اسی ہوٹل میں قیام کریں گے جہاں بھارتی ٹیم مقیم ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506604/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506604"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ سوریا ونشی کے والدین پورے دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے، جس کے اخراجات بھارتی کرکٹ بورڈ برداشت کرے گا۔</p>
<p>ویبھو سوریا ونشی اس سے قبل آئی پی ایل میں راجستھان رائلز، بھارت اے اور ڈومیسٹک کرکٹ ٹیموں کے ڈریسنگ رومز کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اگر وہ آئرلینڈ یا انگلینڈ کے خلاف ٹی 20 انٹرنیشنل میں ڈیبیو کرتے ہیں تو وہ 16 سال اور 205 دن کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بھارت کے کم عمر ترین مرد کرکٹر بن جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506772</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 19:17:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/241909127ccd3ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/241909127ccd3ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: گولڈن بوٹ کسے ملے گا؟ میسی، ایمباپے اور ہالینڈ دوڑ میں شامل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506774/fifa-world-cup-who-will-win-the-golden-boot-messi-mbappe-and-holland-in-the-running</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں صرف دو گروپ میچوں کے بعد ہی گولڈن بوٹ کی دوڑ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ارجنٹائن کے لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ میں گولز کی غیر معمولی رفتار نے اس امکان کو بھی مضبوط کر دیا ہے کہ اس بار گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے 2 ہندسوں میں گولز درکار ہو سکتے ہیں، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جارہے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ اب تک کی دلچسپ ترین دوڑ بنتی جا رہی ہے، جہاں دنیا کے بڑے اسٹارز ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو میچوں کے بعد ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سب سے آگے ہیں جب کہ کیلیان فرانس کے ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے ڈینیز اونداو 3 گولز کر چکے ہیں جب کہ کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے قطر کے خلاف ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے بعد اپنے گولز کی تعداد بھی 3 کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مزید 20 کھلاڑی ایسے ہیں، جنہوں نے ابتدائی دو میچوں میں دو، دو گول کیے ہیں۔ ان میں انگلینڈ کے ہیری کین، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، برازیل کے ونیسیئس جونیئر اور اسپین کے میکل اویارزابال بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کیا-دو-ہندسوں-میں-گولز-کا-ریکارڈ-بن-سکتا-ہے" href="#کیا-دو-ہندسوں-میں-گولز-کا-ریکارڈ-بن-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا دو ہندسوں میں گولز کا ریکارڈ بن سکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 میں اب تک ہونے والی گول اسکورنگ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے  ممکنہ طور پر 10 یا اس سے زیادہ گولز درکار ہوں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک صرف 3 کھلاڑی ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے ایک ہی ایڈیشن میں 10 یا اس سے زیادہ گولز اسکور کیے۔ 1954 کے ورلڈ کپ میں ہنگری کے سینڈور کوچیش نے یہ کارنامہ انجام دیا، 1958 میں فرانس کے جسٹ فونٹین نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گولز کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، جو انہوں نے صرف 6 میچوں میں بنایا تھا اور آج بھی قائم ہے  جب کہ 1970 کے ورلڈ کپ میں جرمنی کے گیرڈ مولر بھی دو ہندسوں میں گولز کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 ورلڈ کپ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث سیمی فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں کو 8 میچ کھیلنے کا موقع ملے گا، یوں گولز کے نئے ریکارڈ بننے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گزشتہ-ورلڈ-کپس-میں-گولڈن-بوٹ-کتنے-گولز-پر-جیتی-گئی" href="#گزشتہ-ورلڈ-کپس-میں-گولڈن-بوٹ-کتنے-گولز-پر-جیتی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ورلڈ کپس میں گولڈن بوٹ کتنے گولز پر جیتی گئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;2006 کے جرمنی ورلڈ کپ اور 2010 کے جنوبی افریقا ورلڈ کپ میں صرف پانچ گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ جیتی گئی تھی، اس کے علاوہ گزشتہ 13 ورلڈ کپ ایڈیشنز کے دوران کوئی بھی کھلاڑی 8 سے زیادہ گولز اسکور نہیں کر سکا۔ اس عرصے میں صرف 2 کھلاڑی 8 گولز کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں برازیل کے رونالڈو نے 2002 کے ورلڈ کپ میں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں یہ سنگِ میل عبور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="2026-ورلڈ-کپ-میں-اتنے-زیادہ-گول-کیوں-ہو-رہے-ہیں" href="#2026-ورلڈ-کپ-میں-اتنے-زیادہ-گول-کیوں-ہو-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;2026 ورلڈ کپ میں اتنے زیادہ گول کیوں ہو رہے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس ورلڈ کپ میں صرف 33 میچوں میں 100 گولز مکمل ہو گئے، جو 1954 کے بعد تیز ترین رفتار ہے۔ پرتگال کی ازبکستان کے خلاف 5-0 فتح کے بعد پہلے 45 میچوں میں مجموعی طور پر 139 گولز ہو چکے ہیں، جو گروپ مرحلے میں کسی بھی ورلڈ کپ کے پہلے 45 میچوں کا نیا ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2014 برازیل ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران 136 گولز ہوئے تھے  تاہم اس مرتبہ یہ ریکارڈ 3 میچ پہلے ہی ٹوٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ &lt;strong&gt;172 گولز&lt;/strong&gt; کا ریکارڈ قطر میں ہونے والے &lt;strong&gt;2022 فیفا ورلڈ کپ&lt;/strong&gt; میں قائم ہوا تھا جہاں مجموعی طور پر &lt;strong&gt;64 میچوں&lt;/strong&gt; میں یہ گولز اسکور کیے گئے تھے تاہم 2026 کے ورلڈ کپ میں گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں &lt;strong&gt;40 اضافی میچز&lt;/strong&gt; شامل کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ مجموعی گولز کا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="زیادہ-گولز-کی-وجوہات-کیا-ہیں" href="#زیادہ-گولز-کی-وجوہات-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زیادہ گولز کی وجوہات کیا ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس بار گولز کی تعداد بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس کی نئی &lt;strong&gt;ٹریونڈا (Trionda)&lt;/strong&gt; گیند متعارف کرائی ہے، جس میں ایسی تکنیکی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو اسے زیادہ تیز رفتار اور مستحکم بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کہا کہ یہ گیند ”توپ کے گولے“ کی طرح تیز ہے اور اگر درست انداز میں کک کی جائے تو گول کیپر کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ہر ہاف میں واٹر بریک (Hydration Break) شامل کیے جانے سے کھلاڑی زیادہ دیر تک مکمل فٹنس کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جس کے باعث خاص طور پر آخری لمحات میں گولز کی تعداد بڑھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث ابتدائی مرحلے میں نسبتاً کمزور اور مضبوط ٹیموں کے درمیان مقابلے بھی زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں، جس سے بڑے اسکور سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا کے کوچ نیسٹر لورینزو کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ریفریز کی جانب سے اٹیکنگ کھلاڑیوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تحفظ حاصل ہے، جبکہ 20 یا 30 سال پہلے سخت جسمانی کھیل عام تھا، جس سے فارورڈز کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گولڈن-بوٹ-جیتنے-کا-مضبوط-امیدوار-کون" href="#گولڈن-بوٹ-جیتنے-کا-مضبوط-امیدوار-کون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گولڈن بوٹ جیتنے کا مضبوط امیدوار کون؟&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے لیونل میسی گولڈن بوٹ جیتنے کے سب سے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ 38 سالہ میسی نے گزشتہ ورلڈ کپ میں 7 گولز کیے تھے اور اب مسلسل 6 ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ قطر ورلڈ کپ کے تمام ناک آؤٹ میچوں میں گول کرنے کے بعد انہوں نے اس ایڈیشن کے پہلے دو میچوں میں بھی گول کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آسٹریا کے خلاف وہ ایک پنالٹی بھی ضائع کر بیٹھے، بصورت دیگر وہ مسلسل دوسری ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر سکتے تھے۔ ارجنٹائن اپنا آخری گروپ میچ پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہونے والی اردن کے خلاف کھیلے گا تاہم گروپ میں پہلی پوزیشن یقینی ہونے کے باعث میسی کو آرام دیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹائن کو نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے، جہاں آخری 32 میں یوراگوئے یا کیپ وردے، پری کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا یا ایران جب کہ کوارٹر فائنل میں کروشیا یا کولمبیا سے مقابلہ متوقع ہے۔ سیمی فائنل میں ممکنہ طور پر انگلینڈ، برازیل، جاپان، ناروے یا میکسیکو جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلیان ایمباپے بھی گولڈن بوٹ کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ فرانس کا آخری گروپ میچ ناروے کے خلاف ہوگا، جو گروپ آئی میں پہلی پوزیشن کا فیصلہ کرے گا۔ اگر فرانس گروپ فاتح بنتا ہے تو اسے ناک آؤٹ مرحلے میں نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آنے کی صورت میں آئیوری کوسٹ، برازیل، جاپان اور ممکنہ طور پر انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرلنگ ہالینڈ نے ناروے کے لیے 52 بین الاقوامی میچوں میں 59 گولز کر رکھے ہیں تاہم ان کی گولڈن بوٹ کی امیدوں کا انحصار بھی ناروے کی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے ہیری کین پاناما کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنی گولز کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے جب کہ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کے لیے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں واپسی آسان دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ان کے سامنے کولمبیا، گھانا اور ممکنہ طور پر اسپین جیسے سخت حریف آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برازیل کے ونیسیئس جونیئر اسکاٹ لینڈ کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنے دو گولز میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے لیے مقابلہ زیادہ سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں صرف دو گروپ میچوں کے بعد ہی گولڈن بوٹ کی دوڑ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ارجنٹائن کے لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ میں گولز کی غیر معمولی رفتار نے اس امکان کو بھی مضبوط کر دیا ہے کہ اس بار گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے 2 ہندسوں میں گولز درکار ہو سکتے ہیں، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جارہے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ اب تک کی دلچسپ ترین دوڑ بنتی جا رہی ہے، جہاں دنیا کے بڑے اسٹارز ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>دو میچوں کے بعد ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سب سے آگے ہیں جب کہ کیلیان فرانس کے ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔</p>
<p>جرمنی کے ڈینیز اونداو 3 گولز کر چکے ہیں جب کہ کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے قطر کے خلاف ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے بعد اپنے گولز کی تعداد بھی 3 کر لی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ مزید 20 کھلاڑی ایسے ہیں، جنہوں نے ابتدائی دو میچوں میں دو، دو گول کیے ہیں۔ ان میں انگلینڈ کے ہیری کین، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، برازیل کے ونیسیئس جونیئر اور اسپین کے میکل اویارزابال بھی شامل ہیں۔</p>
<h1><a id="کیا-دو-ہندسوں-میں-گولز-کا-ریکارڈ-بن-سکتا-ہے" href="#کیا-دو-ہندسوں-میں-گولز-کا-ریکارڈ-بن-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا دو ہندسوں میں گولز کا ریکارڈ بن سکتا ہے؟</strong></h1>
<p>ورلڈ کپ 2026 میں اب تک ہونے والی گول اسکورنگ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے  ممکنہ طور پر 10 یا اس سے زیادہ گولز درکار ہوں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک صرف 3 کھلاڑی ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے ایک ہی ایڈیشن میں 10 یا اس سے زیادہ گولز اسکور کیے۔ 1954 کے ورلڈ کپ میں ہنگری کے سینڈور کوچیش نے یہ کارنامہ انجام دیا، 1958 میں فرانس کے جسٹ فونٹین نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گولز کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، جو انہوں نے صرف 6 میچوں میں بنایا تھا اور آج بھی قائم ہے  جب کہ 1970 کے ورلڈ کپ میں جرمنی کے گیرڈ مولر بھی دو ہندسوں میں گولز کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل تھے۔</p>
<p>2026 ورلڈ کپ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث سیمی فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں کو 8 میچ کھیلنے کا موقع ملے گا، یوں گولز کے نئے ریکارڈ بننے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<h1><a id="گزشتہ-ورلڈ-کپس-میں-گولڈن-بوٹ-کتنے-گولز-پر-جیتی-گئی" href="#گزشتہ-ورلڈ-کپس-میں-گولڈن-بوٹ-کتنے-گولز-پر-جیتی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گزشتہ ورلڈ کپس میں گولڈن بوٹ کتنے گولز پر جیتی گئی؟</strong></h1>
<p>2006 کے جرمنی ورلڈ کپ اور 2010 کے جنوبی افریقا ورلڈ کپ میں صرف پانچ گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ جیتی گئی تھی، اس کے علاوہ گزشتہ 13 ورلڈ کپ ایڈیشنز کے دوران کوئی بھی کھلاڑی 8 سے زیادہ گولز اسکور نہیں کر سکا۔ اس عرصے میں صرف 2 کھلاڑی 8 گولز کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں برازیل کے رونالڈو نے 2002 کے ورلڈ کپ میں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں یہ سنگِ میل عبور کیا تھا۔</p>
<h1><a id="2026-ورلڈ-کپ-میں-اتنے-زیادہ-گول-کیوں-ہو-رہے-ہیں" href="#2026-ورلڈ-کپ-میں-اتنے-زیادہ-گول-کیوں-ہو-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>2026 ورلڈ کپ میں اتنے زیادہ گول کیوں ہو رہے ہیں؟</strong></h1>
<p>اس ورلڈ کپ میں صرف 33 میچوں میں 100 گولز مکمل ہو گئے، جو 1954 کے بعد تیز ترین رفتار ہے۔ پرتگال کی ازبکستان کے خلاف 5-0 فتح کے بعد پہلے 45 میچوں میں مجموعی طور پر 139 گولز ہو چکے ہیں، جو گروپ مرحلے میں کسی بھی ورلڈ کپ کے پہلے 45 میچوں کا نیا ریکارڈ ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 2014 برازیل ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران 136 گولز ہوئے تھے  تاہم اس مرتبہ یہ ریکارڈ 3 میچ پہلے ہی ٹوٹ گیا۔</p>
<p>ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ <strong>172 گولز</strong> کا ریکارڈ قطر میں ہونے والے <strong>2022 فیفا ورلڈ کپ</strong> میں قائم ہوا تھا جہاں مجموعی طور پر <strong>64 میچوں</strong> میں یہ گولز اسکور کیے گئے تھے تاہم 2026 کے ورلڈ کپ میں گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں <strong>40 اضافی میچز</strong> شامل کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ مجموعی گولز کا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔</p>
<h1><a id="زیادہ-گولز-کی-وجوہات-کیا-ہیں" href="#زیادہ-گولز-کی-وجوہات-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زیادہ گولز کی وجوہات کیا ہیں؟</strong></h1>
<p>ماہرین کے مطابق اس بار گولز کی تعداد بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس کی نئی <strong>ٹریونڈا (Trionda)</strong> گیند متعارف کرائی ہے، جس میں ایسی تکنیکی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو اسے زیادہ تیز رفتار اور مستحکم بناتی ہیں۔</p>
<p>آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کہا کہ یہ گیند ”توپ کے گولے“ کی طرح تیز ہے اور اگر درست انداز میں کک کی جائے تو گول کیپر کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ہر ہاف میں واٹر بریک (Hydration Break) شامل کیے جانے سے کھلاڑی زیادہ دیر تک مکمل فٹنس کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جس کے باعث خاص طور پر آخری لمحات میں گولز کی تعداد بڑھی ہے۔</p>
<p>48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث ابتدائی مرحلے میں نسبتاً کمزور اور مضبوط ٹیموں کے درمیان مقابلے بھی زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں، جس سے بڑے اسکور سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>کولمبیا کے کوچ نیسٹر لورینزو کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ریفریز کی جانب سے اٹیکنگ کھلاڑیوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تحفظ حاصل ہے، جبکہ 20 یا 30 سال پہلے سخت جسمانی کھیل عام تھا، جس سے فارورڈز کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں۔</p>
<h1><a id="گولڈن-بوٹ-جیتنے-کا-مضبوط-امیدوار-کون" href="#گولڈن-بوٹ-جیتنے-کا-مضبوط-امیدوار-کون" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گولڈن بوٹ جیتنے کا مضبوط امیدوار کون؟</strong></h1>
<p>موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے لیونل میسی گولڈن بوٹ جیتنے کے سب سے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ 38 سالہ میسی نے گزشتہ ورلڈ کپ میں 7 گولز کیے تھے اور اب مسلسل 6 ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ قطر ورلڈ کپ کے تمام ناک آؤٹ میچوں میں گول کرنے کے بعد انہوں نے اس ایڈیشن کے پہلے دو میچوں میں بھی گول کیے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آسٹریا کے خلاف وہ ایک پنالٹی بھی ضائع کر بیٹھے، بصورت دیگر وہ مسلسل دوسری ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر سکتے تھے۔ ارجنٹائن اپنا آخری گروپ میچ پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہونے والی اردن کے خلاف کھیلے گا تاہم گروپ میں پہلی پوزیشن یقینی ہونے کے باعث میسی کو آرام دیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔</p>
<p>ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹائن کو نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے، جہاں آخری 32 میں یوراگوئے یا کیپ وردے، پری کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا یا ایران جب کہ کوارٹر فائنل میں کروشیا یا کولمبیا سے مقابلہ متوقع ہے۔ سیمی فائنل میں ممکنہ طور پر انگلینڈ، برازیل، جاپان، ناروے یا میکسیکو جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کیلیان ایمباپے بھی گولڈن بوٹ کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ فرانس کا آخری گروپ میچ ناروے کے خلاف ہوگا، جو گروپ آئی میں پہلی پوزیشن کا فیصلہ کرے گا۔ اگر فرانس گروپ فاتح بنتا ہے تو اسے ناک آؤٹ مرحلے میں نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آنے کی صورت میں آئیوری کوسٹ، برازیل، جاپان اور ممکنہ طور پر انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ایرلنگ ہالینڈ نے ناروے کے لیے 52 بین الاقوامی میچوں میں 59 گولز کر رکھے ہیں تاہم ان کی گولڈن بوٹ کی امیدوں کا انحصار بھی ناروے کی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی پر ہوگا۔</p>
<p>انگلینڈ کے ہیری کین پاناما کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنی گولز کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے جب کہ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کے لیے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں واپسی آسان دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ان کے سامنے کولمبیا، گھانا اور ممکنہ طور پر اسپین جیسے سخت حریف آ سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب برازیل کے ونیسیئس جونیئر اسکاٹ لینڈ کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنے دو گولز میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے لیے مقابلہ زیادہ سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506774</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 21:44:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/24214303ace8500.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/24214303ace8500.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'آسمان پر خلائی مخلوق جیسا غول دیکھا': ایران میں تباہ ہونے والے امریکی جہاز کے پائلٹ کا بیان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506754/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران میں تباہ ہونے والے امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے پائلٹ کے ایک حیران کن بیان نے امریکی انٹیلی جنس اداروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے انکشاف کیا ہے کہ طیارے سے نکلنے سے چند سیکنڈ قبل اس نے آسمان میں ایرانی ڈرونز کی ایک ایسی غیرمعمولی فارمیشن دیکھی جو ایک ”جیلی فش“ یا خلائی مخلوق کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ اس دعوے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی اور خفیہ پیش رفت کر لی ہے جس کا امریکا کو بھی اندازہ نہیں تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/06/23/politics/iran-drones-f-15-pilot-intelligence"&gt; سی این این&lt;/a&gt; کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اپریل میں ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کے پائلٹ نے ریسکیو کے بعد انٹیلی جنس حکام کو دی گئی بریفنگ میں ایک غیرمعمولی منظر بیان کیا، جس نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ طیارے سے ایجیکٹ ہونے سے چند لمحے پہلے اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو ایک ساتھ مربوط انداز میں حرکت کرتے دیکھا۔ اس کے بقول بڑے ڈرونز کے نیچے چھوٹے ڈرونز ایسے معلق تھے جیسے ٹانگیں ہوں، اور پوری فارمیشن ایک ”جیلی فش“ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھی۔ پائلٹ کے بیان کو جاننے والے ایک ذریعے نے اس منظر کو ”بالکل خلائی مخلوق جیسا“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506747/us-and-iran-dispute-whether-tehran-has-agreed-to-nuclear-inspections'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506747"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق یہ بیان سامنے آنے کے بعد امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ اگر پائلٹ نے واقعی وہی دیکھا جو اس نے بیان کیا تو یہ ایران کی ڈرون صلاحیتوں میں ایک بڑی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ حتمی طور پر طے نہیں ہو سکا کہ ایف-15 طیارہ کس طرح مار گرایا گیا، تاہم ابتدائی جائزوں میں یہ امکان زیر غور ہے کہ ڈرونز کی اس غیرمعمولی فارمیشن نے کسی نہ کسی انداز میں ایرانی فضائی دفاع کو مدد فراہم کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے درمیان اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ کچھ انٹیلی جنس اہلکاروں نے پائلٹ کے بیان کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ حادثے کے دوران پائلٹ کو چوٹ بھی آئی تھی اور وہ شدید دباؤ کی حالت میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کی رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پائلٹ نے ممکنہ طور پر ایک ایسے ڈرون نیٹ ورک کو دیکھا ہو جو باہم منسلک ہو کر ایک یونٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس قسم کی ”میش نیٹ ورکنگ“ ٹیکنالوجی ایک آپریٹر کو متعدد ڈرونز کو بیک وقت کنٹرول کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506746/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506746"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایف-15 میں دو اہلکار سوار تھے، جن میں ایک پائلٹ اور ایک ویپنز سسٹم آفیسر شامل تھا۔ پائلٹ کو چند گھنٹوں کے اندر امریکی اسپیشل فورسز نے بحفاظت نکال لیا، جبکہ دوسرے اہلکار نے ایک دن سے زیادہ عرصہ ایرانی علاقے میں گرفتاری سے بچتے ہوئے گزارا اور بعد میں اسے بھی ریسکیو کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام تاحال اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ ایران کی کسی نئی اور جدید ڈرون صلاحیت کا ثبوت ہے یا پھر جنگی حالات میں پیش آنے والا کوئی اور غیرمعمولی منظر تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران میں تباہ ہونے والے امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے پائلٹ کے ایک حیران کن بیان نے امریکی انٹیلی جنس اداروں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے انکشاف کیا ہے کہ طیارے سے نکلنے سے چند سیکنڈ قبل اس نے آسمان میں ایرانی ڈرونز کی ایک ایسی غیرمعمولی فارمیشن دیکھی جو ایک ”جیلی فش“ یا خلائی مخلوق کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ اس دعوے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی اور خفیہ پیش رفت کر لی ہے جس کا امریکا کو بھی اندازہ نہیں تھا۔</strong></p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/06/23/politics/iran-drones-f-15-pilot-intelligence"> سی این این</a> کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اپریل میں ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کے پائلٹ نے ریسکیو کے بعد انٹیلی جنس حکام کو دی گئی بریفنگ میں ایک غیرمعمولی منظر بیان کیا، جس نے امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ طیارے سے ایجیکٹ ہونے سے چند لمحے پہلے اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو ایک ساتھ مربوط انداز میں حرکت کرتے دیکھا۔ اس کے بقول بڑے ڈرونز کے نیچے چھوٹے ڈرونز ایسے معلق تھے جیسے ٹانگیں ہوں، اور پوری فارمیشن ایک ”جیلی فش“ کی شکل اختیار کیے ہوئے تھی۔ پائلٹ کے بیان کو جاننے والے ایک ذریعے نے اس منظر کو ”بالکل خلائی مخلوق جیسا“ قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506747/us-and-iran-dispute-whether-tehran-has-agreed-to-nuclear-inspections'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506747"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سی این این کے مطابق یہ بیان سامنے آنے کے بعد امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ اگر پائلٹ نے واقعی وہی دیکھا جو اس نے بیان کیا تو یہ ایران کی ڈرون صلاحیتوں میں ایک بڑی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور یہ حتمی طور پر طے نہیں ہو سکا کہ ایف-15 طیارہ کس طرح مار گرایا گیا، تاہم ابتدائی جائزوں میں یہ امکان زیر غور ہے کہ ڈرونز کی اس غیرمعمولی فارمیشن نے کسی نہ کسی انداز میں ایرانی فضائی دفاع کو مدد فراہم کی ہو۔</p>
<p>امریکی حکام کے درمیان اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ کچھ انٹیلی جنس اہلکاروں نے پائلٹ کے بیان کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ حادثے کے دوران پائلٹ کو چوٹ بھی آئی تھی اور وہ شدید دباؤ کی حالت میں تھا۔</p>
<p>سی این این کی رپورٹ کے مطابق بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پائلٹ نے ممکنہ طور پر ایک ایسے ڈرون نیٹ ورک کو دیکھا ہو جو باہم منسلک ہو کر ایک یونٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس قسم کی ”میش نیٹ ورکنگ“ ٹیکنالوجی ایک آپریٹر کو متعدد ڈرونز کو بیک وقت کنٹرول کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506746/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506746"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق ایف-15 میں دو اہلکار سوار تھے، جن میں ایک پائلٹ اور ایک ویپنز سسٹم آفیسر شامل تھا۔ پائلٹ کو چند گھنٹوں کے اندر امریکی اسپیشل فورسز نے بحفاظت نکال لیا، جبکہ دوسرے اہلکار نے ایک دن سے زیادہ عرصہ ایرانی علاقے میں گرفتاری سے بچتے ہوئے گزارا اور بعد میں اسے بھی ریسکیو کر لیا گیا۔</p>
<p>امریکی حکام تاحال اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ ایران کی کسی نئی اور جدید ڈرون صلاحیت کا ثبوت ہے یا پھر جنگی حالات میں پیش آنے والا کوئی اور غیرمعمولی منظر تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506754</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:32:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/241128453c2eec8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/241128453c2eec8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونالڈو کا نیا ریکارڈ: چھ ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول کرنے والے پہلے فٹبالر بن گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506741/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرتگال کے مشہور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے 41 سال کی عمر میں فٹبال کی دنیا میں ہلچل مچا دی، وہ چھ مختلف ورلڈکپ ایڈیشنز میں گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 کے ایک اہم میچ میں پرتگال نے ازبکستان کو صفر کے مقابلے میں پانچ گول سے شکست دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے آغاز سے ہی پرتگال کی ٹیم نے جارحانہ انداز اپنایا اور پہلے ہی ہاف میں ازبکستان پر مکمل برتری حاصل کر لی۔ میچ کے چھٹے منٹ میں 41 سالہ رونالڈو نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ اس کے بعد 17ویں منٹ میں نونو مینڈس نے فری کک پر ایک بہترین لو شاٹ مار کر اسکور 0-2 کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے 29ویں منٹ میں ازبکستان نے طویل فاصلے سے ایک گول اسکور کیا، مگر فاؤل کی بنا پر گول منسوخ کر دیا گیا۔ کھیل کے 39ویں منٹ میں رونالڈو نے اپنا دوسرا گول کر کے پرتگال کی برتری کو 0-3 کر دیا اور ہاف ٹائم تک اپنی ٹیم کو انتہائی مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے ہاف کے آغاز میں بھی پرتگال نے ازبکستان پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے 60ویں منٹ میں برونو فرنانڈز کے کارنر پر جواؤ فیلکس نے گیند کو گول میں ڈالنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں گیند ازبکستان کے کھلاڑی خوشانوف سے ٹکرا کر ان کے اپنے ہی جال میں چلی گئی اور یوں پرتگال کو ایک اون گول کی مدد سے چوتھی کامیابی مل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیل کے اختتامی لمحات میں یعنی 87ویں منٹ میں رافائل لیاؤ نے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے اسکور 0-5 کر دیا۔ میچ کے اضافی وقت میں رونالڈو اپنی ہیٹ ٹرک کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے مگر آخری موقع ضائع ہو گیا اور میچ پرتگال کے مکمل کنٹرول کے ساتھ ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارکردگی پر بعد بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن یعنی فیفا نے بھی سوشل میڈیا پر رونالڈو کو ان کی اس تاریخی کامیابی پر زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ فیفا کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں بھی رونالڈو کو اپنے روایتی انداز میں ہوا میں اچھل کر جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2069524717858394516?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2069524717858394516?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس بڑی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر رونالڈو نے بھی اپنے مداحوں کے لیے پرتگالی زبان میں ایک پیغام شیئر کیا جس کا مطلب ہے کہ ”ہم یہاں ہیں۔“ انہوں نے میچ کی دو تصاویر بھی لگائیں جن میں سے ایک میں وہ اپنی مشہور سات نمبر کی جرسی پہنے میدان میں موجود ہیں اور دوسری تصویر میں وہ اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ گلے مل کر مسکراتے ہوئے جیت کی خوشی منا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Cristiano/status/2069498273346310313?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Cristiano/status/2069498273346310313?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے پورے کیریئر کے مجموعی گولز کی تعداد 974 سے 975 تک پہنچ گئی ہے اس کے ساتھ ہی فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ وہ دنیا کے پہلے ایسے فٹبالر بن گئے ہیں جنہوں نے 6 مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول اسکور کیے ہیں۔ پرتگال کے کپتان نے یہ کارنامہ 2006، 2010، 2014، 2018، 2022 اور اب 2026 کے ورلڈ کپ میں گول کر کے انجام دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 41 سالہ رونالڈو ورلڈ کپ کی تاریخ کے دوسرے معمر ترین گول اسکورر بھی بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پرتگال کے مشہور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے 41 سال کی عمر میں فٹبال کی دنیا میں ہلچل مچا دی، وہ چھ مختلف ورلڈکپ ایڈیشنز میں گول کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ 2026 کے ایک اہم میچ میں پرتگال نے ازبکستان کو صفر کے مقابلے میں پانچ گول سے شکست دے دی ہے۔</p>
<p>میچ کے آغاز سے ہی پرتگال کی ٹیم نے جارحانہ انداز اپنایا اور پہلے ہی ہاف میں ازبکستان پر مکمل برتری حاصل کر لی۔ میچ کے چھٹے منٹ میں 41 سالہ رونالڈو نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ اس کے بعد 17ویں منٹ میں نونو مینڈس نے فری کک پر ایک بہترین لو شاٹ مار کر اسکور 0-2 کر دیا۔</p>
<p>میچ کے 29ویں منٹ میں ازبکستان نے طویل فاصلے سے ایک گول اسکور کیا، مگر فاؤل کی بنا پر گول منسوخ کر دیا گیا۔ کھیل کے 39ویں منٹ میں رونالڈو نے اپنا دوسرا گول کر کے پرتگال کی برتری کو 0-3 کر دیا اور ہاف ٹائم تک اپنی ٹیم کو انتہائی مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔</p>
<p>دوسرے ہاف کے آغاز میں بھی پرتگال نے ازبکستان پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے 60ویں منٹ میں برونو فرنانڈز کے کارنر پر جواؤ فیلکس نے گیند کو گول میں ڈالنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں گیند ازبکستان کے کھلاڑی خوشانوف سے ٹکرا کر ان کے اپنے ہی جال میں چلی گئی اور یوں پرتگال کو ایک اون گول کی مدد سے چوتھی کامیابی مل گئی۔</p>
<p>کھیل کے اختتامی لمحات میں یعنی 87ویں منٹ میں رافائل لیاؤ نے ایک شاندار شاٹ کے ذریعے اسکور 0-5 کر دیا۔ میچ کے اضافی وقت میں رونالڈو اپنی ہیٹ ٹرک کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے مگر آخری موقع ضائع ہو گیا اور میچ پرتگال کے مکمل کنٹرول کے ساتھ ختم ہوا۔</p>
<p>اس کارکردگی پر بعد بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن یعنی فیفا نے بھی سوشل میڈیا پر رونالڈو کو ان کی اس تاریخی کامیابی پر زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ فیفا کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں بھی رونالڈو کو اپنے روایتی انداز میں ہوا میں اچھل کر جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2069524717858394516?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2069524717858394516?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس بڑی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر رونالڈو نے بھی اپنے مداحوں کے لیے پرتگالی زبان میں ایک پیغام شیئر کیا جس کا مطلب ہے کہ ”ہم یہاں ہیں۔“ انہوں نے میچ کی دو تصاویر بھی لگائیں جن میں سے ایک میں وہ اپنی مشہور سات نمبر کی جرسی پہنے میدان میں موجود ہیں اور دوسری تصویر میں وہ اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ گلے مل کر مسکراتے ہوئے جیت کی خوشی منا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Cristiano/status/2069498273346310313?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Cristiano/status/2069498273346310313?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان کے پورے کیریئر کے مجموعی گولز کی تعداد 974 سے 975 تک پہنچ گئی ہے اس کے ساتھ ہی فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ وہ دنیا کے پہلے ایسے فٹبالر بن گئے ہیں جنہوں نے 6 مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول اسکور کیے ہیں۔ پرتگال کے کپتان نے یہ کارنامہ 2006، 2010، 2014، 2018، 2022 اور اب 2026 کے ورلڈ کپ میں گول کر کے انجام دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 41 سالہ رونالڈو ورلڈ کپ کی تاریخ کے دوسرے معمر ترین گول اسکورر بھی بن گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506741</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 13:22:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/24091657d2d747e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/24091657d2d747e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شعیب اختر کے گھر سے افسوسناک خبر سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506760/sad-news-emerges-from-shoaib-akhtars-family</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے  بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خبر کی تصدیق خود شعیب اختر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعیب اختر نے اپنے بیان میں کہا، ”مجھے بہت دکھ کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ میرے پیارے بڑے بھائی شاہد اختر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور واپس چلے گئے ہیں۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241417138d36f3f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241417138d36f3f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم شاہد اختر کی نمازِ جنازہ آج اسلام آباد کے H-8 قبرستان میں ادا کی جائے گی، جہاں ان کے اہل خانہ، قریبی رشتہ دار، دوست احباب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد اختر کے انتقال کی خبر سن کر ملک بھر سے شعیب اختر کے مداحوں، سابق کرکٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے افسوس کا اظہار اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کرکٹ کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے  بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ہیں۔</p>
<p>اس خبر کی تصدیق خود شعیب اختر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کی۔</p>
<p>شعیب اختر نے اپنے بیان میں کہا، ”مجھے بہت دکھ کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ میرے پیارے بڑے بھائی شاہد اختر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور واپس چلے گئے ہیں۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241417138d36f3f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241417138d36f3f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم شاہد اختر کی نمازِ جنازہ آج اسلام آباد کے H-8 قبرستان میں ادا کی جائے گی، جہاں ان کے اہل خانہ، قریبی رشتہ دار، دوست احباب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت کا امکان ہے۔</p>
<p>شاہد اختر کے انتقال کی خبر سن کر ملک بھر سے شعیب اختر کے مداحوں، سابق کرکٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے افسوس کا اظہار اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506760</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 14:22:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2414184922fc803.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2414184922fc803.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درختوں پر جامنوں کی بھر مار آنے والے قحط کی نشانی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506755/climatechange-jamun-abundance-fruiting-drought-warning-traditional-wisdom-elnino-plantbotany-jamun-gamn-pl</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمیوں کے موسم میں جب درخت گہرے جامنی رنگ کے رسیلے جامنوں سے لَد جاتے ہیں اور مارکیٹس میں ان کی بھرمار ہو جاتی ہے، تو جہاں ایک طرف یہ پھل مٹھاس اور فرحت کا احساس لاتا ہے، وہاں دوسری طرف یہ اپنے ساتھ ایک قدیم بحث بھی چھیڑ دیتا ہے کہ کیا درختوں پر جامنوں کی بہتات مستقبل میں قحط کا اعلان ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدیم زمانے سے بزرگوں کی روایات اور لوک داستانوں میں جامن کی غیر معمولی پیداوار کو ایک گہرا اور تشویشناک اشارہ مانا جاتا رہا ہے۔ اجداد کی حکمت، جدید نباتیات اور موسمیاتی حقائق کے درمیان یہ تعلق جتنا دلچسپ ہے، اتنا ہی فکر انگیز بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="قدیم-عقیدہ-اور-عوامی-متھ" href="#قدیم-عقیدہ-اور-عوامی-متھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قدیم عقیدہ اور عوامی متھ&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر برصغیر کے دیہی علاقوں میں، یہ روایتی عقیدہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی سال جامن کے درختوں پر معمول سے زیادہ پھل آئے اور وہ کثرت سے زمین پر گرنے لگیں، تو یہ آنے والے شدید قحط یا خشک سالی کی قبل از وقت تنبیہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413213172ea263.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413213172ea263.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ قدرت انسانوں اور جانوروں کو آنے والے کٹھن وقت سے پہلے ہی ایک ایسی خوراک وافر مقدار میں فراہم کر دیتی ہے جو سخت جان ہوتی ہے اور جسے مشکل حالات میں بقا کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس دانش کے پیچھے یہ نظریہ کارفرما رہا ہے کہ درخت زمین کے اندرونی حالات کو بھانپ کر مستقبل کا احوال بتا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سائنسی-حقیقت-کیا-ہے" href="#سائنسی-حقیقت-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سائنسی حقیقت کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جب جدید سائنس کی نظر سے اس رجحان کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی مشاہدہ تو درست تھا، لیکن اس کی وجہ وہ نہیں جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی حقیقت مستقبل کی پیشگوئی کے بجائے ماضی اور حال کے موسم پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامن کے درخت پر بہار کے آخر میں پھول آتے ہیں۔ اگر اس دوران ہلکی سی بھی بے وقت بارش ہو جائے، تو پھول جھڑ جاتے ہیں اور زرِ گل  ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر قبل از مون سون کا موسم انتہائی خشک اور گرم رہے، تو پولینیشن کا عمل سو فیصد کامیاب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درختوں پر بمپر فصل اترتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446942'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نباتیات کے ماہرین کے مطابق، جب کوئی درخت پانی کی کمی یا زمین کے گرتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے دباؤ محسوس کرتا ہے، تو اس کا مدافعتی نظام بیدار ہو جاتا ہے۔ بقا کی جنگ کے طور پر، درخت اپنی تمام تر توانائی اپنی نسل کو آگے بڑھانے یعنی بیج اور پھل پیدا کرنے میں لگا دیتا ہے تاکہ وہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پھل پیدا کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نباتیات کا یہ اصول پودوں کی جینیات کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کے مطابق جب بھی کسی درخت کو پانی کی شدید کمی یا درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی جیسے سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ اپنی بقا کے لیے اضطراری یا ہنگامی افزائشِ نسل کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران درخت اپنی تمام تر توانائی کو بچانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ پھول اور بیج پیدا کرنے پر لگا دیتا ہے تاکہ وہ ختم ہونے سے پہلے اپنی نسل کو آگے بڑھا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413291099c5969.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413291099c5969.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ، جامن کی کثرت یہ نہیں بتاتی کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ درخت نے حال ہی میں ایک شدید خشک اور گرم موسم کا سامنا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان صرف جامن میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں سیب، آم، اور صنوبر کے درختوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ شدید خشک سالی سے ٹھیک پہلے یا اس کے دوران وہ ریکارڈ پیداوار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے سائنس اور روایتی عقیدہ ایک نکتے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ اگرچہ جامن کا درخت مستقبل کی پیشگوئی نہیں کر رہا، لیکن جس ’خشک بہار‘ کی وجہ سے جامن کی فصل اتنی شاندار ہوتی ہے، وہی خشک اور گرم موسم آگے چل کر مون سون کی اہم بارشوں کو روک دیتا ہے۔ جب یہ بارشیں نہیں ہوتیں، تو ’پانی کی شدید قلت‘ ہو جاتی ہے جو آخر کار قحط سالی کا سبب بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241321311b36a33.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241321311b36a33.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی تبدیلیوں اور ’ایل نینو‘  جیسے عالمی ماحولیاتی مظاہر کی وجہ سے اب گرمی کے موسم طویل اور خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ عارضی طور پر تو یہ صورتحال جامن جیسے سخت جان درختوں کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے اور مارکیٹیں پھلوں سے بھر جاتی ہیں، لیکن ماہرینِ ماحولیات شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30398800'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی موسمیاتی تنظیم جیسے ”ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن“ بھی مسلسل اس بات پر ڈیٹا فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ’ایل نینو‘ کے آنے سے دنیا کے کئی حصوں میں طویل خشک سالی پیدا ہوتی ہے، جو درختوں کے اس طرح کے ڈیفنسو میکانزم یا دفاعی نظام کو بیدار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر زمین کے نیچے پانی کی سطح مستقل طور پر گرتی چلی گئی، تو ایک وقت ایسا آئے گا جب جامن جیسا ماحول دوست اور مضبوط درخت بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پائے گا اور سوکھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامن کے لیے جو خشک موسم ”تحفہ“ ثابت ہوتا ہے، وہی موسم دیگر فصلوں جیسے چاول، کپاس اور سبزیوں کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوک داستانوں کا یہ کہنا کہ جامن کی کثرت قحط کی نشانی ہے دراصل سائنسی طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ پھل ہمیں اس بدلتے ہوئے موسم کی سنگینی کا احساس دلاتا ہے جو دنیا کو خشک سالی کی طرف دھکیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرمیوں کے موسم میں جب درخت گہرے جامنی رنگ کے رسیلے جامنوں سے لَد جاتے ہیں اور مارکیٹس میں ان کی بھرمار ہو جاتی ہے، تو جہاں ایک طرف یہ پھل مٹھاس اور فرحت کا احساس لاتا ہے، وہاں دوسری طرف یہ اپنے ساتھ ایک قدیم بحث بھی چھیڑ دیتا ہے کہ کیا درختوں پر جامنوں کی بہتات مستقبل میں قحط کا اعلان ہے؟</strong></p>
<p>قدیم زمانے سے بزرگوں کی روایات اور لوک داستانوں میں جامن کی غیر معمولی پیداوار کو ایک گہرا اور تشویشناک اشارہ مانا جاتا رہا ہے۔ اجداد کی حکمت، جدید نباتیات اور موسمیاتی حقائق کے درمیان یہ تعلق جتنا دلچسپ ہے، اتنا ہی فکر انگیز بھی ہے۔</p>
<h2><a id="قدیم-عقیدہ-اور-عوامی-متھ" href="#قدیم-عقیدہ-اور-عوامی-متھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قدیم عقیدہ اور عوامی متھ</strong></h2>
<p>دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر برصغیر کے دیہی علاقوں میں، یہ روایتی عقیدہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے کہ اگر کسی سال جامن کے درختوں پر معمول سے زیادہ پھل آئے اور وہ کثرت سے زمین پر گرنے لگیں، تو یہ آنے والے شدید قحط یا خشک سالی کی قبل از وقت تنبیہ ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413213172ea263.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413213172ea263.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ قدرت انسانوں اور جانوروں کو آنے والے کٹھن وقت سے پہلے ہی ایک ایسی خوراک وافر مقدار میں فراہم کر دیتی ہے جو سخت جان ہوتی ہے اور جسے مشکل حالات میں بقا کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس دانش کے پیچھے یہ نظریہ کارفرما رہا ہے کہ درخت زمین کے اندرونی حالات کو بھانپ کر مستقبل کا احوال بتا دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="سائنسی-حقیقت-کیا-ہے" href="#سائنسی-حقیقت-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سائنسی حقیقت کیا ہے؟</strong></h2>
<p>جب جدید سائنس کی نظر سے اس رجحان کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی مشاہدہ تو درست تھا، لیکن اس کی وجہ وہ نہیں جو عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی حقیقت مستقبل کی پیشگوئی کے بجائے ماضی اور حال کے موسم پر منحصر ہے۔</p>
<p>جامن کے درخت پر بہار کے آخر میں پھول آتے ہیں۔ اگر اس دوران ہلکی سی بھی بے وقت بارش ہو جائے، تو پھول جھڑ جاتے ہیں اور زرِ گل  ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر قبل از مون سون کا موسم انتہائی خشک اور گرم رہے، تو پولینیشن کا عمل سو فیصد کامیاب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درختوں پر بمپر فصل اترتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446942'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نباتیات کے ماہرین کے مطابق، جب کوئی درخت پانی کی کمی یا زمین کے گرتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے دباؤ محسوس کرتا ہے، تو اس کا مدافعتی نظام بیدار ہو جاتا ہے۔ بقا کی جنگ کے طور پر، درخت اپنی تمام تر توانائی اپنی نسل کو آگے بڑھانے یعنی بیج اور پھل پیدا کرنے میں لگا دیتا ہے تاکہ وہ مرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پھل پیدا کر سکے۔</p>
<p>نباتیات کا یہ اصول پودوں کی جینیات کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کے مطابق جب بھی کسی درخت کو پانی کی شدید کمی یا درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی جیسے سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ اپنی بقا کے لیے اضطراری یا ہنگامی افزائشِ نسل کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران درخت اپنی تمام تر توانائی کو بچانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ پھول اور بیج پیدا کرنے پر لگا دیتا ہے تاکہ وہ ختم ہونے سے پہلے اپنی نسل کو آگے بڑھا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413291099c5969.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/2413291099c5969.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>چنانچہ، جامن کی کثرت یہ نہیں بتاتی کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ درخت نے حال ہی میں ایک شدید خشک اور گرم موسم کا سامنا کیا ہے۔</p>
<p>یہ رجحان صرف جامن میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں سیب، آم، اور صنوبر کے درختوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ شدید خشک سالی سے ٹھیک پہلے یا اس کے دوران وہ ریکارڈ پیداوار دیتے ہیں۔</p>
<p>یہیں سے سائنس اور روایتی عقیدہ ایک نکتے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ اگرچہ جامن کا درخت مستقبل کی پیشگوئی نہیں کر رہا، لیکن جس ’خشک بہار‘ کی وجہ سے جامن کی فصل اتنی شاندار ہوتی ہے، وہی خشک اور گرم موسم آگے چل کر مون سون کی اہم بارشوں کو روک دیتا ہے۔ جب یہ بارشیں نہیں ہوتیں، تو ’پانی کی شدید قلت‘ ہو جاتی ہے جو آخر کار قحط سالی کا سبب بنتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241321311b36a33.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241321311b36a33.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>موسمیاتی تبدیلیوں اور ’ایل نینو‘  جیسے عالمی ماحولیاتی مظاہر کی وجہ سے اب گرمی کے موسم طویل اور خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ عارضی طور پر تو یہ صورتحال جامن جیسے سخت جان درختوں کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے اور مارکیٹیں پھلوں سے بھر جاتی ہیں، لیکن ماہرینِ ماحولیات شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30398800'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی موسمیاتی تنظیم جیسے ”ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن“ بھی مسلسل اس بات پر ڈیٹا فراہم کرتی ہے کہ کس طرح ’ایل نینو‘ کے آنے سے دنیا کے کئی حصوں میں طویل خشک سالی پیدا ہوتی ہے، جو درختوں کے اس طرح کے ڈیفنسو میکانزم یا دفاعی نظام کو بیدار کرتی ہے۔</p>
<p>اگر زمین کے نیچے پانی کی سطح مستقل طور پر گرتی چلی گئی، تو ایک وقت ایسا آئے گا جب جامن جیسا ماحول دوست اور مضبوط درخت بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پائے گا اور سوکھ جائے گا۔</p>
<p>جامن کے لیے جو خشک موسم ”تحفہ“ ثابت ہوتا ہے، وہی موسم دیگر فصلوں جیسے چاول، کپاس اور سبزیوں کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔</p>
<p>لوک داستانوں کا یہ کہنا کہ جامن کی کثرت قحط کی نشانی ہے دراصل سائنسی طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ پھل ہمیں اس بدلتے ہوئے موسم کی سنگینی کا احساس دلاتا ہے جو دنیا کو خشک سالی کی طرف دھکیل رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506755</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 13:32:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/241317494a6b8d9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/241317494a6b8d9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجی تصاویر وائرل ہونے کے بعد عائشہ عمر پر کیا بیتی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506757/what-did-ayesha-omar-go-through-after-her-private-photos-went-viral</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر نجی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے کے واقعے نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کرتے ہوئے ان کے تعلقات اور کیریئر کو تباہ کیا، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے انہیں شدید کرب میں مبتلا رکھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی سے ایک  گفتگو میں عائشہ عمر نے سوشل میڈیا کمپنیوں اور  قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سخت غصے کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات متاثرہ خواتین کے لیے طویل المدتی ذہنی اور سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ انٹرویو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’چین‘ کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی 64 متاثرہ خواتین کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30323901'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30323901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے ماضی کا ایک تلخ واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ چند برس قبل تھائی لینڈ میں دوستوں کے ساتھ تعطیلات کے دوران لی گئی ان کی بعض ذاتی تصاویر مبینہ طور پر ان کی اجازت کے بغیر ان کے لیپ ٹاپ سے حاصل کرکے انٹرنیٹ پر شیئر کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان تصاویر میں کوئی نامناسب یا غیر اخلاقی مواد موجود نہیں تھا، بلکہ یہ عام سیاحتی اور تفریحی تصاویر تھیں اور وہ بس عام لباس میں تفریح کررہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ عمر نے کہا، ”یہ واقعہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اس کے بعد میری نجی زندگی اور کیریئر دونوں متاثر ہوئے اور کئی تجارتی معاہدے بھی ختم ہوگئے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس ایک واقعے سے  میرے کیریئر کو سخت دھچکا لگا اور کئی تجارتی برانڈز نے مجھ سے اپنے اشتہارات اور کام واپس لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، معاشرے میں خواتین کے بارے میں مخصوص تصورات کی وجہ سے ایسے واقعات کا بوجھ زیادہ تر خواتین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482555'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482555"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صدمے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور ان کے اندر ہر وقت ایک خوف اور بے چینی کی کیفیت رہنے لگی۔ اس تنظیم کی بانی حرا حسین نے عائشہ عمر کے ساتھ مل کر اس سوچ کو بدلنے پر کام کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہراسانی کا مطلب صرف نازیبا تصاویر نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حرا حسین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ہمارے جیسے قدامت پسند معاشروں میں کسی بھی خاتون کی عام سی نجی تصویر بھی اگر اس کی مرضی کے بغیر وائرل کر دی جائے، تو اسے بدنام اور ہراساں کیا جا سکتا ہے، اس لیے اصل مسئلہ تصویر کا نہیں بلکہ عورت کی مرضی اور اجازت کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ میں پاکستان کی ایک اور 32 سالہ خاتون ماہ نور کا واقعہ بھی شامل ہے، جن کے سابق شوہر نے طلاق کے بعد بدلہ لینے کے لیے ان کی مغربی لباس والی عام تصاویر انٹرنیٹ پر پھیلا دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور کے مطابق اس حرکت کی وجہ سے ان کی موجودہ شادی شدہ زندگی خراب ہو گئی، رشتہ داروں اور دوستوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے بچوں پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں خواتین کو درپیش آن لائن خطرات صرف نجی تصاویر کے افشا تک محدود نہیں رہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے تصاویر میں ردوبدل کرکے جھوٹے تاثر پیدا کرنا اور ساکھ کو نقصان پہنچانا بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر نجی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے کے واقعے نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر کرتے ہوئے ان کے تعلقات اور کیریئر کو تباہ کیا، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے انہیں شدید کرب میں مبتلا رکھا۔</strong></p>
<p>بی بی سی سے ایک  گفتگو میں عائشہ عمر نے سوشل میڈیا کمپنیوں اور  قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سخت غصے کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات متاثرہ خواتین کے لیے طویل المدتی ذہنی اور سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا یہ انٹرویو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’چین‘ کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی 64 متاثرہ خواتین کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30323901'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30323901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اداکارہ نے ماضی کا ایک تلخ واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ چند برس قبل تھائی لینڈ میں دوستوں کے ساتھ تعطیلات کے دوران لی گئی ان کی بعض ذاتی تصاویر مبینہ طور پر ان کی اجازت کے بغیر ان کے لیپ ٹاپ سے حاصل کرکے انٹرنیٹ پر شیئر کر دی گئیں۔</p>
<p>اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان تصاویر میں کوئی نامناسب یا غیر اخلاقی مواد موجود نہیں تھا، بلکہ یہ عام سیاحتی اور تفریحی تصاویر تھیں اور وہ بس عام لباس میں تفریح کررہی تھیں۔</p>
<p>عائشہ عمر نے کہا، ”یہ واقعہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اس کے بعد میری نجی زندگی اور کیریئر دونوں متاثر ہوئے اور کئی تجارتی معاہدے بھی ختم ہوگئے۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس ایک واقعے سے  میرے کیریئر کو سخت دھچکا لگا اور کئی تجارتی برانڈز نے مجھ سے اپنے اشتہارات اور کام واپس لے لیا۔</p>
<p>ان کے بقول، معاشرے میں خواتین کے بارے میں مخصوص تصورات کی وجہ سے ایسے واقعات کا بوجھ زیادہ تر خواتین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482555'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482555"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس صدمے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور ان کے اندر ہر وقت ایک خوف اور بے چینی کی کیفیت رہنے لگی۔ اس تنظیم کی بانی حرا حسین نے عائشہ عمر کے ساتھ مل کر اس سوچ کو بدلنے پر کام کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہراسانی کا مطلب صرف نازیبا تصاویر نہیں ہوتا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DZ5DrCsiG7K/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=ArhCAWvR1eqEcFSs3qwE6d3" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>حرا حسین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ہمارے جیسے قدامت پسند معاشروں میں کسی بھی خاتون کی عام سی نجی تصویر بھی اگر اس کی مرضی کے بغیر وائرل کر دی جائے، تو اسے بدنام اور ہراساں کیا جا سکتا ہے، اس لیے اصل مسئلہ تصویر کا نہیں بلکہ عورت کی مرضی اور اجازت کا ہے۔</p>
<p>اس رپورٹ میں پاکستان کی ایک اور 32 سالہ خاتون ماہ نور کا واقعہ بھی شامل ہے، جن کے سابق شوہر نے طلاق کے بعد بدلہ لینے کے لیے ان کی مغربی لباس والی عام تصاویر انٹرنیٹ پر پھیلا دیں۔</p>
<p>ماہ نور کے مطابق اس حرکت کی وجہ سے ان کی موجودہ شادی شدہ زندگی خراب ہو گئی، رشتہ داروں اور دوستوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے بچوں پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑا۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں خواتین کو درپیش آن لائن خطرات صرف نجی تصاویر کے افشا تک محدود نہیں رہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے تصاویر میں ردوبدل کرکے جھوٹے تاثر پیدا کرنا اور ساکھ کو نقصان پہنچانا بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506757</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 12:55:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/24124951ce0cce6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/24124951ce0cce6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے سی کیسے کام کرتا ہے اور جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے؟ جاننا ضروری ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506753/how-does-an-air-conditioner-work-and-what-effects-does-it-have-on-the-body-important-to-know</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگ اس شدید گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی کا استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی جہاں ہمیں شدید گرمی سے بچاتا ہے اور سکون فراہم کرتا ہے، وہیں یہ ہوا سے نمی کو بھی ختم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جلد خشک ہو سکتی ہے اور اس میں خارش یا جلن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/23/how-does-air-conditioning-work-and-how-does-it-affect-your-body"&gt;الجزیرہ &lt;/a&gt;میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اے سی کیسے کام کرتا ہے، اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اور گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506363'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506363"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگر ہم اس بات پر نظر ڈالیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اے سی کمرے کے اندر کی گرم ہوا اور نمی کو کھینچ کر باہر پھینکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کمرے کی گرم ہوا اے سی کے اندر لگی ٹھنڈی پائپوں سے گزرتی ہے تو اس کے اندر موجود گیس گرمی کو جذب کر لیتی ہے اور ہوا ٹھنڈی ہو کر دوبارہ کمرے میں چلی جاتی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے جس سے کمرہ ٹھنڈا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جدید مشین کو بنانے کا سہرا امریکی انجینئر ویلس کیریئر کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1902 میں پہلی بار نیویارک کے ایک پرنٹنگ پلانٹ کے لیے نمی کو کنٹرول کرنے والا نظام تیار کیا تھا۔ اس موقع پر ولیس کیریئر نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جو اندرونی ماحول کو زیادہ بہتر اور قابلِ استعمال بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1931 میں کھڑکیوں میں لگنے والے اے سی متعارف ہوئے جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی اور یہ گھروں اور دفاتر تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ماحولیاتی خدشات کے باعث اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا استعمال کم کیا گیا اور نسبتاً ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے وہ علاقے جہاں گرمی اور حبس زیادہ ہوتا ہے، وہاں اے سی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب ٹھنڈک نہ ملنے کی صورت میں لوگ ہیٹ اسٹریس یا گرمی کے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477091'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی کا دباؤ موسم سے متعلق اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمی کا سب سے خطرناک روپ ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنا ہے، جس میں انسان کے جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور اگر فوری علاج نہ ملے تو جان بھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ماہرین نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے زیادہ پانی پینے، دھوپ سے بچنے، ہلکے اور سوتی کپڑے پہننے، دوپہر کے وقت غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے اور رہائشی جگہ کو ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اگر کسی کو لو لگ جائے تو اسے فوری طور پر دھوپ سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ پر لٹائیں، اس کے پاؤں تھوڑے اوپر رکھیں، تنگ کپڑے ڈھیلے کردینے چاہیے اور پنکھے یا اے سی کی مدد سے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اے سی کے مسلسل استعمال سے انسانی جسم پر کچھ اثرات بھی پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اے سی کی ٹھنڈی اور خشک ہوا سے جلد اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں، جس سے بچنے کے لیے کریم اور آنکھوں کے قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ دیر ٹھنڈ میں رہنے سے سر درد بھی ہو سکتا ہے، اس لیے دن بھر پانی پیتے رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اے سی کی کم نمی کی وجہ سے ناک اور گلا خشک ہو سکتا ہے، جس کے لیے نمکین پانی کا اسپرے فائدہ مند رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اے سی کے فلٹرز صاف نہ ہوں تو گردوغبار، پھپھوندی اور جراثیم ہوا میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے دمہ کے مریضوں کی تکلیف بڑھ سکتی ہے، اس لیے سال میں کم از کم ایک بار اے سی کی سروس ضرور کرانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھنڈی ہوا سے پٹھے اور جوڑ بھی اکڑ سکتے ہیں، اس لیے اے سی کے بالکل سامنے بیٹھنے سے بچنا چاہیے۔ نیند کے لیے کمرے کا درجہ حرارت 16 سے 18 ڈگری کے درمیان رکھنا اور ہلکا کمبل اوڑھنا سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان لوگوں کے لیے جو اے سی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا بجلی کا بل بچانا چاہتے ہیں، وہ گھر پر ہی دیسی طریقے سے ٹھنڈک کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تھرموپول کے ایک ڈبے میں برف رکھ کر اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا پنکھا لگا کر عارضی طور پر ٹھنڈی ہوا حاصل کی جا سکتی ہے، جو گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کو عارضی ہی سہی لیکن کچھ راحت ضرور پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی گرمی کے ساتھ ٹھنڈک کے ذرائع کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، تاہم صحت مند رہنے کے لیے اے سی کا متوازن استعمال، مناسب صفائی اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگ اس شدید گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی کا استعمال کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی جہاں ہمیں شدید گرمی سے بچاتا ہے اور سکون فراہم کرتا ہے، وہیں یہ ہوا سے نمی کو بھی ختم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جلد خشک ہو سکتی ہے اور اس میں خارش یا جلن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/23/how-does-air-conditioning-work-and-how-does-it-affect-your-body">الجزیرہ </a>میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اے سی کیسے کام کرتا ہے، اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اور گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506363'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506363"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق اگر ہم اس بات پر نظر ڈالیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اے سی کمرے کے اندر کی گرم ہوا اور نمی کو کھینچ کر باہر پھینکتا ہے۔</p>
<p>جب کمرے کی گرم ہوا اے سی کے اندر لگی ٹھنڈی پائپوں سے گزرتی ہے تو اس کے اندر موجود گیس گرمی کو جذب کر لیتی ہے اور ہوا ٹھنڈی ہو کر دوبارہ کمرے میں چلی جاتی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے جس سے کمرہ ٹھنڈا رہتا ہے۔</p>
<p>اس جدید مشین کو بنانے کا سہرا امریکی انجینئر ویلس کیریئر کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1902 میں پہلی بار نیویارک کے ایک پرنٹنگ پلانٹ کے لیے نمی کو کنٹرول کرنے والا نظام تیار کیا تھا۔ اس موقع پر ولیس کیریئر نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جو اندرونی ماحول کو زیادہ بہتر اور قابلِ استعمال بنا سکے۔</p>
<p>1931 میں کھڑکیوں میں لگنے والے اے سی متعارف ہوئے جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی اور یہ گھروں اور دفاتر تک پہنچ گئے۔</p>
<p>بعد ازاں ماحولیاتی خدشات کے باعث اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کا استعمال کم کیا گیا اور نسبتاً ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔</p>
<p>دنیا کے وہ علاقے جہاں گرمی اور حبس زیادہ ہوتا ہے، وہاں اے سی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب ٹھنڈک نہ ملنے کی صورت میں لوگ ہیٹ اسٹریس یا گرمی کے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30477091'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30477091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی کا دباؤ موسم سے متعلق اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ یہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔</p>
<p>گرمی کا سب سے خطرناک روپ ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنا ہے، جس میں انسان کے جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر چلا جاتا ہے اور اگر فوری علاج نہ ملے تو جان بھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ماہرین نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے زیادہ پانی پینے، دھوپ سے بچنے، ہلکے اور سوتی کپڑے پہننے، دوپہر کے وقت غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنے اور رہائشی جگہ کو ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔</p>
<p>اسی طرح اگر کسی کو لو لگ جائے تو اسے فوری طور پر دھوپ سے ہٹا کر ٹھنڈی جگہ پر لٹائیں، اس کے پاؤں تھوڑے اوپر رکھیں، تنگ کپڑے ڈھیلے کردینے چاہیے اور پنکھے یا اے سی کی مدد سے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اے سی کے مسلسل استعمال سے انسانی جسم پر کچھ اثرات بھی پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اے سی کی ٹھنڈی اور خشک ہوا سے جلد اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں، جس سے بچنے کے لیے کریم اور آنکھوں کے قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ دیر ٹھنڈ میں رہنے سے سر درد بھی ہو سکتا ہے، اس لیے دن بھر پانی پیتے رہنا چاہیے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اے سی کی کم نمی کی وجہ سے ناک اور گلا خشک ہو سکتا ہے، جس کے لیے نمکین پانی کا اسپرے فائدہ مند رہتا ہے۔</p>
<p>اگر اے سی کے فلٹرز صاف نہ ہوں تو گردوغبار، پھپھوندی اور جراثیم ہوا میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے دمہ کے مریضوں کی تکلیف بڑھ سکتی ہے، اس لیے سال میں کم از کم ایک بار اے سی کی سروس ضرور کرانی چاہیے۔</p>
<p>ٹھنڈی ہوا سے پٹھے اور جوڑ بھی اکڑ سکتے ہیں، اس لیے اے سی کے بالکل سامنے بیٹھنے سے بچنا چاہیے۔ نیند کے لیے کمرے کا درجہ حرارت 16 سے 18 ڈگری کے درمیان رکھنا اور ہلکا کمبل اوڑھنا سب سے بہتر مانا جاتا ہے۔</p>
<p>ان لوگوں کے لیے جو اے سی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا بجلی کا بل بچانا چاہتے ہیں، وہ گھر پر ہی دیسی طریقے سے ٹھنڈک کا انتظام کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تھرموپول کے ایک ڈبے میں برف رکھ کر اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا پنکھا لگا کر عارضی طور پر ٹھنڈی ہوا حاصل کی جا سکتی ہے، جو گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کو عارضی ہی سہی لیکن کچھ راحت ضرور پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی گرمی کے ساتھ ٹھنڈک کے ذرائع کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، تاہم صحت مند رہنے کے لیے اے سی کا متوازن استعمال، مناسب صفائی اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506753</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:25:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/24112244e7660a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/24112244e7660a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیراگوئے کے فٹبالر کو میچ کے دوران منہ چھپانے پر سزا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506751/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میچ کے دوران منہ چھپانے پر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیرون کو یہ سزا اس وقت دی گئی جب انہیں ترکیہ کے کھلاڑی میرٹ مولدور کے ساتھ تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپنے پر ریڈ کارڈ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے منگل کو تصدیق کی کہ المیرون جمعرات کو ہونے والے پیراگوئے کے آخری گروپ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف حصہ نہیں لے سکیں گے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ جمعہ کو پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا، جہاں پیراگوئے نے ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ میچ کے پہلے ہاف کے آخری لمحات میں المیرون اور مولدور کے درمیان بحث ہوئی، جس کے دوران المیرون نے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ نئے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو اس طرح منہ چھپانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کے قوانین بنانے والے ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے رواں سال اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی دوسرے کھلاڑی سے بحث کے دوران اپنا منہ چھپاتا ہے تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون لازمی نہیں ہے، لیکن مقابلوں کا انعقاد کرنے والی تنظیمیں، جن میں فیفا بھی شامل ہے، اسے نافذ کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منہ چھپانے کا معاملہ احترام اور کھیل کے اچھے رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو اسے بات کرتے وقت اپنا منہ نہیں ڈھانپنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون ایک ایسے واقعے کے بعد مزید توجہ میں آیا تھا جب چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں بینفیکا کے کھلاڑی گیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے ریال میڈرڈ کے ونیسیئس جونیئر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں چھپانے کی کوشش کی۔ بعد میں یورپی فٹبال حکام نے پریستیانی پر پابندی عائد کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، المیرون کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر تنقید کرنے والے پیراگوئے کے صحافی جارج چیپی ویرا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ فیفا نے ان کی ورلڈ کپ ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی، جس کے باعث وہ اب اس ٹورنامنٹ کی کوریج اسٹیڈیم کے اندر یا باہر نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506624'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صحافی جارج ویرا نے پیراگوئے اور ترکی کے میچ کے دوران براہ راست نشریات میں شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ریفری اور فیفا کے حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزامات لگائے تھے کہ فیصلے سے پیراگوئے کی ٹیم کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں صحافی نے اپنے رویے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قومی ٹیم کے کھلاڑی کو باہر کیے جانے پر جذباتی ہو گئے تھے اور انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو قابل قبول نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قانون یا ریفری کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اپنا کنٹرول کھونا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویرا نے بتایا کہ پابندی کے بعد وہ اپنے میڈیا ادارے کے لیے ورلڈ کپ سے متعلق کسی بھی قسم کی کوریج میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انہوں نے فیفا، اسپانسرز اور اپنے ادارے سے بھی معذرت کی اور اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی جانب سے صحافی کے خلاف کارروائی پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کی جانب سے صحافیوں پر ایسی پابندیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم ماضی میں بھی بعض صحافیوں کو فیفا کے معاملات پر تنقید کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میچ کے دوران منہ چھپانے پر ایک میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>المیرون کو یہ سزا اس وقت دی گئی جب انہیں ترکیہ کے کھلاڑی میرٹ مولدور کے ساتھ تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپنے پر ریڈ کارڈ ملا۔</p>
<p>فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے منگل کو تصدیق کی کہ المیرون جمعرات کو ہونے والے پیراگوئے کے آخری گروپ میچ میں آسٹریلیا کے خلاف حصہ نہیں لے سکیں گے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔</p>
<p>یہ واقعہ جمعہ کو پیراگوئے اور ترکی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا، جہاں پیراگوئے نے ایک گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ میچ کے پہلے ہاف کے آخری لمحات میں المیرون اور مولدور کے درمیان بحث ہوئی، جس کے دوران المیرون نے اپنا منہ ڈھانپ لیا۔ نئے قوانین کے تحت کھلاڑیوں کو اس طرح منہ چھپانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>فٹبال کے قوانین بنانے والے ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے رواں سال اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی دوسرے کھلاڑی سے بحث کے دوران اپنا منہ چھپاتا ہے تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون لازمی نہیں ہے، لیکن مقابلوں کا انعقاد کرنے والی تنظیمیں، جن میں فیفا بھی شامل ہے، اسے نافذ کر سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/241115286e68c21.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ منہ چھپانے کا معاملہ احترام اور کھیل کے اچھے رویے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو اسے بات کرتے وقت اپنا منہ نہیں ڈھانپنا چاہیے۔</p>
<p>یہ قانون ایک ایسے واقعے کے بعد مزید توجہ میں آیا تھا جب چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں بینفیکا کے کھلاڑی گیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے ریال میڈرڈ کے ونیسیئس جونیئر کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں چھپانے کی کوشش کی۔ بعد میں یورپی فٹبال حکام نے پریستیانی پر پابندی عائد کی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب، المیرون کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر تنقید کرنے والے پیراگوئے کے صحافی جارج چیپی ویرا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ فیفا نے ان کی ورلڈ کپ ایکریڈیٹیشن منسوخ کر دی، جس کے باعث وہ اب اس ٹورنامنٹ کی کوریج اسٹیڈیم کے اندر یا باہر نہیں کر سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506624'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506624"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صحافی جارج ویرا نے پیراگوئے اور ترکی کے میچ کے دوران براہ راست نشریات میں شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ریفری اور فیفا کے حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزامات لگائے تھے کہ فیصلے سے پیراگوئے کی ٹیم کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>بعد میں صحافی نے اپنے رویے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قومی ٹیم کے کھلاڑی کو باہر کیے جانے پر جذباتی ہو گئے تھے اور انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو قابل قبول نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قانون یا ریفری کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اپنا کنٹرول کھونا درست نہیں۔</p>
<p>ویرا نے بتایا کہ پابندی کے بعد وہ اپنے میڈیا ادارے کے لیے ورلڈ کپ سے متعلق کسی بھی قسم کی کوریج میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ انہوں نے فیفا، اسپانسرز اور اپنے ادارے سے بھی معذرت کی اور اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کی۔</p>
<p>فیفا کی جانب سے صحافی کے خلاف کارروائی پر تاحال کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ فٹبال کی عالمی تنظیم کی جانب سے صحافیوں پر ایسی پابندیاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم ماضی میں بھی بعض صحافیوں کو فیفا کے معاملات پر تنقید کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506751</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:29:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/241124422edab3b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/241124422edab3b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026: اب تک کون سی ٹیمیں ایونٹ سے باہر ہوچکی ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506735/fifa-world-cup-2026-which-teams-will-be-eliminated-in-the-next-round</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے کی تصویر واضح ہونا شروع ہو گئی ہے، جہاں پہلی بار ٹورنامنٹ کے توسیعی فارمیٹ کے تحت راؤنڈ آف 32 متعارف کرایا گیا ہے، وہی اگلے مرحلے کے لیے میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس اور ناروے نے کوالیفائی کرلیا ہے جب کہ ہیٹی، ترکیہ، تیونس اور اردن کی ٹیمیں پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کا مرحلہ وار شیڈول اس طرح ہے کہ گروپ اسٹیج کے میچز 11 جون سے 27 جون تک جاری رہیں گے جب کہ ایونٹ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیموں کے فارمیٹ کے باعث ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز راؤنڈ آف 32 سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناک آؤٹ مرحلے کا نیا فارمیٹ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر 12 گروپس میں سے ٹاپ 2 ٹیمیں اور ہر گروپ سے بہترین کارکردگی دکھانے والی 8 تھرڈ پوزیشن ٹیمیں اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی جب کہ راؤنڈ آف 32 کا آغاز 28 جون سے ہوگا جو 3 جولائی تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد راؤنڈ آف 16 کے میچز 4 سے 7 جولائی کے درمیان  کھیلے جائیں گے، کوارٹر فائنلز 9 سے 11 جولائی تک اور سیمی فائنلز 14 اور 15 جولائی کو ہوں گے۔ اسی طرح  تیسری پوزیشن کا میچ 18 جولائی کو ہوگا جب کہ ورلڈ کپ 2026 کا فائنل 19 جولائی کو کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹائی-بریکر-رولز-میں-تبدیلی" href="#ٹائی-بریکر-رولز-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹائی بریکر رولز میں تبدیلی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی جانب سے پہلی بار ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں ٹیموں کی درجہ بندی کے لیے مرحلہ وار ٹائی بریکر سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں وہ ٹیم اوپر ہوگی، جس کے سب سے زیادہ پوائنٹس ہوں گے جب کہ اگر پوائنٹس برابر ہوں تو متعلقہ ٹیموں کے درمیان ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں بہتر گول ڈیفرینس رکھنے والی ٹیم کو برتری دی جائے گی۔ اگر اس کے بعد بھی برابری برقرار رہے تو ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں زیادہ گول کرنے والی ٹیم کو آگے رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس مرحلے کے بعد بھی ٹیموں کے درمیان فرق نہ کیا جا سکے تو دوسرا مرحلہ نافذ ہوگا، جس میں تمام گروپ میچز کے مجموعی گول ڈیفرینس کو دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد مجموعی طور پر زیادہ گول کرنے والی ٹیم کو فوقیت دی جائے گی جب کہ تیسری ترجیح کھلاڑیوں اور آفیشلز کے یلو اور ریڈ کارڈز کی بنیاد پر ٹیم کے ڈسپلن اسکور کو دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پھر بھی ٹیموں میں فرق ممکن نہ ہو تو تیسرے مرحلے میں فیفا ورلڈ رینکنگ کو بنیاد بنایا جائے گا، جس کے مطابق تازہ ترین درجہ بندی میں بہتر پوزیشن رکھنے والی ٹیم کو برتری حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بہترین تھرڈ پوزیشن ٹیموں کے انتخاب کے لیے بھی الگ معیار مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام گروپ میچز میں حاصل کردہ پوائنٹس سب سے پہلے دیکھے جائیں گے۔ اس کے بعد مجموعی گول ڈیفرینس، پھر مجموعی گولز اور پھر ڈسپلن ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے باوجود بھی برابری برقرار رہے تو حتمی فیصلہ فیفا کی تازہ ترین ورلڈ رینکنگ کے مطابق کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="راؤنڈ-آف-32-میں-پہنچنے-والی-ٹیمیں" href="#راؤنڈ-آف-32-میں-پہنچنے-والی-ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;راؤنڈ آف 32 میں پہنچنے والی ٹیمیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں 11 جون سے  23 جون تک کھیلے گئے میچز کے مطابق اب تک ٹورنامنٹ کے راؤنڈ آف 32 میں کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس اور ناروے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میکسیکو-گروپ-a" href="#میکسیکو-گروپ-a" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میکسیکو (گروپ A)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;میکسیکو ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی، میزبان ملک نے گروپ اے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 18 جون کو جنوبی کوریا کے خلاف 0-1 سے کامیابی حاصل کی۔ میکسیکو نے اپنی مہم کا آغاز جنوبی افریقا کے خلاف 0-2 کی شاندار فتح سے کیا تھا، جس کے بعد ٹیم نے گروپ میں برتری برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="امریکا-گروپ-d" href="#امریکا-گروپ-d" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکا (گروپ D)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی ٹیم نے دوسری ٹیم کے طور پر راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کیا، امریکی ٹیم نے 19 جون کو آسٹریلیا کو 0-2 سے شکست دے کر گروپ ڈی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس سے قبل امریکا نے اپنی مہم کا آغاز پیراگوئے کے خلاف 1-4 کی شاندار جیت سے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جرمنی-گروپ-e" href="#جرمنی-گروپ-e" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جرمنی (گروپ E)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جرمنی تیسرے نمبر پر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے والی ٹیم بنی، جرمنی نے 20 جون کو کو آئیوری کوسٹ کے خلاف 1-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے گروپ ای میں ٹاپ پوزیشن پر قبضہ جمایا۔ جرمن ٹیم نے ٹورنامنٹ کا آغاز کریاؤساو کے خلاف 1-7 کی یکطرفہ فتح سے کیا تھا تاہم اس سے قبل پچھلے 2 ورلڈ کپ (روس 2018 اور قطر 2022) میں گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھنے کے بعد اس بار بہتر کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ارجنٹینا-گروپ-j" href="#ارجنٹینا-گروپ-j" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹینا (گروپ J)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا نے 22 جون کو آسٹریا کو 0-2 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ پکی کی۔ کپتان لیونل میسی نے اس میچ میں 2 گول اسکور کیے اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 18 گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ اس سے قبل میسی نے الجزائر کے خلاف 0-3 کی فتح میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی اور دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے گروپ جے میں ٹاپ پوزیشن یقینی بنا لی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="فرانس-گروپ-i" href="#فرانس-گروپ-i" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فرانس (گروپ I)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;فرانس نے عراق کے خلاف 0-3 کی فتح کے ساتھ راؤنڈ آف 32 میں رسائی حاصل کی اور ساتھ ہی گروپ آئی میں پہلی پوزیشن حاصل کی، اس میچ میں  کیلیان ایمباپے نے  2 گول اسکور کیے۔ فرانس نے اپنے پہلے میچ میں سینیگال کو 1-3 سے شکست دی تھی، اس میچ میں بھی ایمباپے نے 2 گول کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ناروے-گروپ-i" href="#ناروے-گروپ-i" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ناروے (گروپ I)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ناروے نے سینیگال کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے کر گروپ آئی سے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔ ناروے نے اپنے پہلے میچ میں عراق کے خلاف 1-4 کی شاندار جیت کے ساتھ ٹورنامنٹ کا آغاز کیا تھا۔ یہ ٹیم 28 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے بعد اب شاندار فارم میں نظر آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹورنامنٹ-سے-باہر-ہونے-والی-ٹیمیں" href="#ٹورنامنٹ-سے-باہر-ہونے-والی-ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیمیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 11 جون سے اب تک تک کھیلے گئے میچز کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر والی ٹیموں میں ہیٹی، ترکیہ، تیونس اور اردن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہیٹی-گروپ-c" href="#ہیٹی-گروپ-c" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہیٹی (گروپ C)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ہیٹی ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی، جب اسے 19 جون کو کھیلے گئے گروپ سی کے میچ میں برازیل کے خلاف 0-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ ٹیم 1974 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شریک ہوئی تھی تاہم اپنے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف بھی اسے 0-1 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ترکیہ-گروپ-d" href="#ترکیہ-گروپ-d" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ (گروپ D)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گروپ ڈی سے ترکیہ 20 جون کو کھیلے گئے میچ میں پیراگوئے کی 10 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کے ہاتھوں 0-1 سے شکست کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے والی دوسری ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل ترکیہ کو اپنے افتتاحی میچ میں آسٹریلیا کے خلاف 0-2 کی غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ترکیہ 24 سال بعد ورلڈ کپ میں واپس آیا تھا تاہم ابتدائی دونوں میچوں میں ناکامی کے بعد ایونٹ سے باہر ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تیونس-گروپ-f" href="#تیونس-گروپ-f" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تیونس (گروپ F)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کے گروپ ایف سے تیونس تیسرے نمبر پر ایلیمینیٹ ہونے والی ٹیم بنی، جب اسے 20 جون کو جاپان کے خلاف 0-4 سے شکست ہوئی۔ اس سے قبل تیونس کو اپنے پہلے میچ میں سویڈن کے خلاف 1-5 کی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تیونس 1978 میں میکسیکو کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں میچ جیتنے والی پہلی افریقی ٹیم بنی تھی تاہم اس کے بعد وہ کبھی گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اردن-گروپ-j" href="#اردن-گروپ-j" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اردن (گروپ J)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گروپ جے سے اردن کی ٹیم بھی ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہوگئی، جب اسے 22 جون کو الجزائر کے خلاف 1-2 سے شکست ہوئی۔ یہ اس کا دوسرا گروپ میچ تھا جب کہ اپنے پہلے میچ میں اسے آسٹریا کے خلاف 1-3 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اردن اس ٹورنامنٹ کے 4 ڈیبیو کرنے والے ممالک میں سے ایک تھا تاہم ابتدائی 1 شکستوں کے بعد اس کا ایونٹ میں سفر ختم ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 میں کوالیفکیشن کا عمل جاری ہے جب کہ کئی بڑی ٹیمیں اپنی جگہ پکی کر چکی ہیں۔ نئے فارمیٹ کے تحت مقابلے زیادہ سخت اور متوازن ہو گئے ہیں، جہاں ہر گروپ سے ٹاپ ٹیموں کے ساتھ ساتھ بہترین تھرڈ پوزیشن ٹیموں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جانے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے کی تصویر واضح ہونا شروع ہو گئی ہے، جہاں پہلی بار ٹورنامنٹ کے توسیعی فارمیٹ کے تحت راؤنڈ آف 32 متعارف کرایا گیا ہے، وہی اگلے مرحلے کے لیے میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس اور ناروے نے کوالیفائی کرلیا ہے جب کہ ہیٹی، ترکیہ، تیونس اور اردن کی ٹیمیں پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کا مرحلہ وار شیڈول اس طرح ہے کہ گروپ اسٹیج کے میچز 11 جون سے 27 جون تک جاری رہیں گے جب کہ ایونٹ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیموں کے فارمیٹ کے باعث ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز راؤنڈ آف 32 سے ہوگا۔</p>
<p>ناک آؤٹ مرحلے کا نیا فارمیٹ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر 12 گروپس میں سے ٹاپ 2 ٹیمیں اور ہر گروپ سے بہترین کارکردگی دکھانے والی 8 تھرڈ پوزیشن ٹیمیں اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی جب کہ راؤنڈ آف 32 کا آغاز 28 جون سے ہوگا جو 3 جولائی تک جاری رہے گا۔</p>
<p>اس کے بعد راؤنڈ آف 16 کے میچز 4 سے 7 جولائی کے درمیان  کھیلے جائیں گے، کوارٹر فائنلز 9 سے 11 جولائی تک اور سیمی فائنلز 14 اور 15 جولائی کو ہوں گے۔ اسی طرح  تیسری پوزیشن کا میچ 18 جولائی کو ہوگا جب کہ ورلڈ کپ 2026 کا فائنل 19 جولائی کو کھیلا جائے گا۔</p>
<h1><a id="ٹائی-بریکر-رولز-میں-تبدیلی" href="#ٹائی-بریکر-رولز-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹائی بریکر رولز میں تبدیلی</strong></h1>
<p>فیفا کی جانب سے پہلی بار ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں ٹیموں کی درجہ بندی کے لیے مرحلہ وار ٹائی بریکر سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں وہ ٹیم اوپر ہوگی، جس کے سب سے زیادہ پوائنٹس ہوں گے جب کہ اگر پوائنٹس برابر ہوں تو متعلقہ ٹیموں کے درمیان ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں بہتر گول ڈیفرینس رکھنے والی ٹیم کو برتری دی جائے گی۔ اگر اس کے بعد بھی برابری برقرار رہے تو ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلوں میں زیادہ گول کرنے والی ٹیم کو آگے رکھا جائے گا۔</p>
<p>اگر اس مرحلے کے بعد بھی ٹیموں کے درمیان فرق نہ کیا جا سکے تو دوسرا مرحلہ نافذ ہوگا، جس میں تمام گروپ میچز کے مجموعی گول ڈیفرینس کو دیکھا جائے گا۔ اس کے بعد مجموعی طور پر زیادہ گول کرنے والی ٹیم کو فوقیت دی جائے گی جب کہ تیسری ترجیح کھلاڑیوں اور آفیشلز کے یلو اور ریڈ کارڈز کی بنیاد پر ٹیم کے ڈسپلن اسکور کو دی جائے گی۔</p>
<p>اگر پھر بھی ٹیموں میں فرق ممکن نہ ہو تو تیسرے مرحلے میں فیفا ورلڈ رینکنگ کو بنیاد بنایا جائے گا، جس کے مطابق تازہ ترین درجہ بندی میں بہتر پوزیشن رکھنے والی ٹیم کو برتری حاصل ہوگی۔</p>
<p>اس کے علاوہ بہترین تھرڈ پوزیشن ٹیموں کے انتخاب کے لیے بھی الگ معیار مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام گروپ میچز میں حاصل کردہ پوائنٹس سب سے پہلے دیکھے جائیں گے۔ اس کے بعد مجموعی گول ڈیفرینس، پھر مجموعی گولز اور پھر ڈسپلن ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے باوجود بھی برابری برقرار رہے تو حتمی فیصلہ فیفا کی تازہ ترین ورلڈ رینکنگ کے مطابق کیا جائے گا۔</p>
<h1><a id="راؤنڈ-آف-32-میں-پہنچنے-والی-ٹیمیں" href="#راؤنڈ-آف-32-میں-پہنچنے-والی-ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>راؤنڈ آف 32 میں پہنچنے والی ٹیمیں</strong></h1>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں 11 جون سے  23 جون تک کھیلے گئے میچز کے مطابق اب تک ٹورنامنٹ کے راؤنڈ آف 32 میں کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں میکسیکو، امریکا، جرمنی، ارجنٹینا، فرانس اور ناروے شامل ہیں۔</p>
<h1><a id="میکسیکو-گروپ-a" href="#میکسیکو-گروپ-a" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میکسیکو (گروپ A)</strong></h1>
<p>میکسیکو ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی، میزبان ملک نے گروپ اے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 18 جون کو جنوبی کوریا کے خلاف 0-1 سے کامیابی حاصل کی۔ میکسیکو نے اپنی مہم کا آغاز جنوبی افریقا کے خلاف 0-2 کی شاندار فتح سے کیا تھا، جس کے بعد ٹیم نے گروپ میں برتری برقرار رکھی۔</p>
<h1><a id="امریکا-گروپ-d" href="#امریکا-گروپ-d" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکا (گروپ D)</strong></h1>
<p>امریکا کی ٹیم نے دوسری ٹیم کے طور پر راؤنڈ آف 32 کے لیے کوالیفائی کیا، امریکی ٹیم نے 19 جون کو آسٹریلیا کو 0-2 سے شکست دے کر گروپ ڈی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس سے قبل امریکا نے اپنی مہم کا آغاز پیراگوئے کے خلاف 1-4 کی شاندار جیت سے کیا تھا۔</p>
<h1><a id="جرمنی-گروپ-e" href="#جرمنی-گروپ-e" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جرمنی (گروپ E)</strong></h1>
<p>جرمنی تیسرے نمبر پر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے والی ٹیم بنی، جرمنی نے 20 جون کو کو آئیوری کوسٹ کے خلاف 1-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے گروپ ای میں ٹاپ پوزیشن پر قبضہ جمایا۔ جرمن ٹیم نے ٹورنامنٹ کا آغاز کریاؤساو کے خلاف 1-7 کی یکطرفہ فتح سے کیا تھا تاہم اس سے قبل پچھلے 2 ورلڈ کپ (روس 2018 اور قطر 2022) میں گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھنے کے بعد اس بار بہتر کارکردگی دکھائی۔</p>
<h1><a id="ارجنٹینا-گروپ-j" href="#ارجنٹینا-گروپ-j" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ارجنٹینا (گروپ J)</strong></h1>
<p>ارجنٹینا نے 22 جون کو آسٹریا کو 0-2 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ پکی کی۔ کپتان لیونل میسی نے اس میچ میں 2 گول اسکور کیے اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 18 گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ اس سے قبل میسی نے الجزائر کے خلاف 0-3 کی فتح میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی اور دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے گروپ جے میں ٹاپ پوزیشن یقینی بنا لی۔</p>
<h1><a id="فرانس-گروپ-i" href="#فرانس-گروپ-i" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فرانس (گروپ I)</strong></h1>
<p>فرانس نے عراق کے خلاف 0-3 کی فتح کے ساتھ راؤنڈ آف 32 میں رسائی حاصل کی اور ساتھ ہی گروپ آئی میں پہلی پوزیشن حاصل کی، اس میچ میں  کیلیان ایمباپے نے  2 گول اسکور کیے۔ فرانس نے اپنے پہلے میچ میں سینیگال کو 1-3 سے شکست دی تھی، اس میچ میں بھی ایمباپے نے 2 گول کیے تھے۔</p>
<h1><a id="ناروے-گروپ-i" href="#ناروے-گروپ-i" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ناروے (گروپ I)</strong></h1>
<p>ناروے نے سینیگال کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے کر گروپ آئی سے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔ ناروے نے اپنے پہلے میچ میں عراق کے خلاف 1-4 کی شاندار جیت کے ساتھ ٹورنامنٹ کا آغاز کیا تھا۔ یہ ٹیم 28 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے بعد اب شاندار فارم میں نظر آ رہی ہے۔</p>
<h1><a id="ٹورنامنٹ-سے-باہر-ہونے-والی-ٹیمیں" href="#ٹورنامنٹ-سے-باہر-ہونے-والی-ٹیمیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیمیں</strong></h1>
<p>اسی طرح 11 جون سے اب تک تک کھیلے گئے میچز کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر والی ٹیموں میں ہیٹی، ترکیہ، تیونس اور اردن شامل ہیں۔</p>
<h1><a id="ہیٹی-گروپ-c" href="#ہیٹی-گروپ-c" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہیٹی (گروپ C)</strong></h1>
<p>ہیٹی ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی، جب اسے 19 جون کو کھیلے گئے گروپ سی کے میچ میں برازیل کے خلاف 0-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ ٹیم 1974 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شریک ہوئی تھی تاہم اپنے پہلے میچ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف بھی اسے 0-1 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔</p>
<h1><a id="ترکیہ-گروپ-d" href="#ترکیہ-گروپ-d" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ترکیہ (گروپ D)</strong></h1>
<p>گروپ ڈی سے ترکیہ 20 جون کو کھیلے گئے میچ میں پیراگوئے کی 10 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کے ہاتھوں 0-1 سے شکست کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے والی دوسری ٹیم بن گئی۔ اس سے قبل ترکیہ کو اپنے افتتاحی میچ میں آسٹریلیا کے خلاف 0-2 کی غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ترکیہ 24 سال بعد ورلڈ کپ میں واپس آیا تھا تاہم ابتدائی دونوں میچوں میں ناکامی کے بعد ایونٹ سے باہر ہو گیا۔</p>
<h1><a id="تیونس-گروپ-f" href="#تیونس-گروپ-f" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تیونس (گروپ F)</strong></h1>
<p>ورلڈ کپ کے گروپ ایف سے تیونس تیسرے نمبر پر ایلیمینیٹ ہونے والی ٹیم بنی، جب اسے 20 جون کو جاپان کے خلاف 0-4 سے شکست ہوئی۔ اس سے قبل تیونس کو اپنے پہلے میچ میں سویڈن کے خلاف 1-5 کی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تیونس 1978 میں میکسیکو کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں میچ جیتنے والی پہلی افریقی ٹیم بنی تھی تاہم اس کے بعد وہ کبھی گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھ سکی۔</p>
<h1><a id="اردن-گروپ-j" href="#اردن-گروپ-j" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اردن (گروپ J)</strong></h1>
<p>گروپ جے سے اردن کی ٹیم بھی ورلڈ کپ 2026 سے باہر ہوگئی، جب اسے 22 جون کو الجزائر کے خلاف 1-2 سے شکست ہوئی۔ یہ اس کا دوسرا گروپ میچ تھا جب کہ اپنے پہلے میچ میں اسے آسٹریا کے خلاف 1-3 سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اردن اس ٹورنامنٹ کے 4 ڈیبیو کرنے والے ممالک میں سے ایک تھا تاہم ابتدائی 1 شکستوں کے بعد اس کا ایونٹ میں سفر ختم ہو گیا۔</p>
<p>ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 میں کوالیفکیشن کا عمل جاری ہے جب کہ کئی بڑی ٹیمیں اپنی جگہ پکی کر چکی ہیں۔ نئے فارمیٹ کے تحت مقابلے زیادہ سخت اور متوازن ہو گئے ہیں، جہاں ہر گروپ سے ٹاپ ٹیموں کے ساتھ ساتھ بہترین تھرڈ پوزیشن ٹیموں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506735</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 20:22:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/232019494f45438.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/232019494f45438.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی، موبائل فونز کتنے سستے ہونے والے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506723/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ملک میں درآمد ہونے والے مہنگے اور ہائی اینڈ موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 10 ہزار سے 14 ہزار روپے تک کمی متوقع ہے، جس سے صارفین کو براہ راست مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث درآمدی فونز کی لاگت کم ہوگی، جس کا اثر بالآخر مارکیٹ قیمتوں پر بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مہنگے درآمدی موبائل فونز کی قیمت میں فی ڈیوائس تقریباً 14 ہزار روپے تک کمی کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506404/cars-likely-to-become-more-expensive-in-the-budget-2026-27'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر نے فنانس بل 2026 کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس ڈھانچہ متوازن، منصفانہ اور حکومتی آمدن کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے، اس لیے شرحوں کے موجودہ نظام میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ مہنگے یا پریمیئم درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں وسیع پیمانے پر کمی سے زیادہ فائدہ معاشرے کے خوشحال طبقے کو ہوگا جبکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اضافی ریلیف پر غور کیا جائے تو اسے صرف 31 سے 200 ڈالر مالیت کے ابتدائی درجے کے موبائل فونز تک محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین مستفید ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اقدامات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں، تاہم یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم گیلانی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام رابطے بڑھانے کے لیے مثبت ہے اور یہ عوام کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی اچھا اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KasimGillani/status/2069305367952265714'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KasimGillani/status/2069305367952265714"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ریگولیٹری ڈیوٹی، موبائل ڈیوائس لیوی اور ودہولڈنگ ٹیکس سمیت مختلف محصولات عائد ہیں، جن کے باعث قانونی طور پر درآمد ہونے والے فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قاسم گیلانی کے مطابق ترامیم سے پہلے ایک موبائل فون کی بنیادی قیمت پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 63 فیصد تک پہنچ جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی فون کی قیمت دو لاکھ روپے ہو تو اس پر ٹیکس کی رقم تقریباً ایک لاکھ چھ ہزار روپے بنتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی فنانس کمیٹی نے مارچ میں سفارش کی تھی کہ موبائل فون کو تعیشات کے بجائے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جائے، کیونکہ جدید دور میں تعلیم، کاروبار اور روزمرہ رابطوں کے لیے موبائل فون ناگزیر ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب رواں ماہ پیش کیے گئے بجٹ میں ان سفارشات کو شامل نہیں کیا گیا تو قانون سازوں نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی اور دیگر درآمدی رکاوٹوں کو چیلنج کیا۔ طویل بحث کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متعدد تجاویز قبول کر لیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-to-expose-apple-tesla-trade-secrets'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قاسم گیلانی کے مطابق حکومت نے تمام درآمدی اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام سے مختلف قیمتوں کے موبائل فونز پر ٹیکس کا بوجھ کسی حد تک کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، ایف بی آر نے درمیانی قیمت والے موبائل فونز کے لیے بھی ایک ترمیم منظور کی ہے۔ یہ رعایت خاص طور پر 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے فونز پر لاگو ہوگی، جو پاکستانی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے فونز کے زمرے میں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس رعایت کے نتیجے میں حکومتی آمدنی پر تقریباً ایک ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 500 ڈالر سے زائد مالیت کے مہنگے اسمارٹ فونز اب بھی 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی کے دائرے میں رہیں گے اور انہیں صرف ریگولیٹری ڈیوٹی میں دی گئی 20 فیصد کمی کا فائدہ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ملک میں درآمد ہونے والے مہنگے اور ہائی اینڈ موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 10 ہزار سے 14 ہزار روپے تک کمی متوقع ہے، جس سے صارفین کو براہ راست مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کے باعث درآمدی فونز کی لاگت کم ہوگی، جس کا اثر بالآخر مارکیٹ قیمتوں پر بھی پڑے گا۔</p>
<p>اس حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مہنگے درآمدی موبائل فونز کی قیمت میں فی ڈیوائس تقریباً 14 ہزار روپے تک کمی کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506404/cars-likely-to-become-more-expensive-in-the-budget-2026-27'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیئرمین ایف بی آر نے فنانس بل 2026 کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر موجودہ ٹیکس ڈھانچہ متوازن، منصفانہ اور حکومتی آمدن کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے، اس لیے شرحوں کے موجودہ نظام میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ مہنگے یا پریمیئم درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں وسیع پیمانے پر کمی سے زیادہ فائدہ معاشرے کے خوشحال طبقے کو ہوگا جبکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی اضافی ریلیف پر غور کیا جائے تو اسے صرف 31 سے 200 ڈالر مالیت کے ابتدائی درجے کے موبائل فونز تک محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین مستفید ہوسکیں۔</p>
<p>سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی نے بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ اقدامات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں، تاہم یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔</p>
<p>قاسم گیلانی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام رابطے بڑھانے کے لیے مثبت ہے اور یہ عوام کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی اچھا اقدام ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KasimGillani/status/2069305367952265714'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KasimGillani/status/2069305367952265714"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ریگولیٹری ڈیوٹی، موبائل ڈیوائس لیوی اور ودہولڈنگ ٹیکس سمیت مختلف محصولات عائد ہیں، جن کے باعث قانونی طور پر درآمد ہونے والے فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قاسم گیلانی کے مطابق ترامیم سے پہلے ایک موبائل فون کی بنیادی قیمت پر مجموعی ٹیکس بوجھ تقریباً 63 فیصد تک پہنچ جاتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی فون کی قیمت دو لاکھ روپے ہو تو اس پر ٹیکس کی رقم تقریباً ایک لاکھ چھ ہزار روپے بنتی تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی فنانس کمیٹی نے مارچ میں سفارش کی تھی کہ موبائل فون کو تعیشات کے بجائے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جائے، کیونکہ جدید دور میں تعلیم، کاروبار اور روزمرہ رابطوں کے لیے موبائل فون ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p>جب رواں ماہ پیش کیے گئے بجٹ میں ان سفارشات کو شامل نہیں کیا گیا تو قانون سازوں نے فنانس بل میں ترامیم کے ذریعے 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی اور دیگر درآمدی رکاوٹوں کو چیلنج کیا۔ طویل بحث کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متعدد تجاویز قبول کر لیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-to-expose-apple-tesla-trade-secrets'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قاسم گیلانی کے مطابق حکومت نے تمام درآمدی اسمارٹ فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام سے مختلف قیمتوں کے موبائل فونز پر ٹیکس کا بوجھ کسی حد تک کم ہوگا۔</p>
<p>علاوہ ازیں، ایف بی آر نے درمیانی قیمت والے موبائل فونز کے لیے بھی ایک ترمیم منظور کی ہے۔ یہ رعایت خاص طور پر 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے فونز پر لاگو ہوگی، جو پاکستانی مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے فونز کے زمرے میں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس رعایت کے نتیجے میں حکومتی آمدنی پر تقریباً ایک ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم 500 ڈالر سے زائد مالیت کے مہنگے اسمارٹ فونز اب بھی 25 فیصد لگژری جی ایس ٹی کے دائرے میں رہیں گے اور انہیں صرف ریگولیٹری ڈیوٹی میں دی گئی 20 فیصد کمی کا فائدہ حاصل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506723</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:44:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2313305314f114c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2313305314f114c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>10 سال میں 7 وزرائے اعظم تبدیل، برطانیہ میں پے در پے استعفوں کی اصل کہانی کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506710/7-prime-ministers-in-10-years-story-behind-britains-successive-resignations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی سیاست میں ان دنوں ایک ایسا طوفان آیا ہوا ہے جس کی مثال پچھلی دو صدیوں میں نہیں ملتی۔ پیر کے روز جب برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے انتہائی اداس ماحول میں اپنی اہلیہ وکٹوریہ کو گلے لگایا اور روانیِ جذبات سے بھری آواز میں صرف دو سال حکومت کرنے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا، تو انہوں نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیا۔ کیئر اسٹارمر کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب برطانیہ میں وزرائے اعظم کی مدتِ ملازمت بہت چھوٹی ہو چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2016 سے لے کر اب تک، یعنی محض دس سال کے عرصے میں برطانیہ اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ وہی برطانیہ ہے جو کبھی اپنی سیاسی اور معاشی مضبوطی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھا اور جہاں مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر جیسے لیڈروں نے کئی کئی سال حکومت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب حالات یہ ہیں کہ برطانیہ کے لوگ دوسرے ملکوں کی سیاسی تبدیلیوں پر حیران ہونے کے بجائے خود اپنے ملک کے وزرائے اعظم کے آنے جانے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ہر عام شہری کے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ آخر اس ترقی یافتہ ملک میں اتنی جلدی جلدی حکومتیں اور وزرائے اعظم کیوں بدل رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/23100254ddce096.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/23100254ddce096.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پورے گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لیے چند گہرے اور بنیادی اسباب کو سیدھی اور سادہ زبان میں سمجھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا اور بڑا سبب معاشی بدحالی اور عام آدمی کی پریشانی ہے۔ برطانیہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک معاشی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پایا ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ ملک کی جی ڈی پی یونی کُل کمائی کے برابر پہنچنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک فنانس کے ماہر پال جانسن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کو بالکل سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا کہ “پچھلے چند وزرائے اعظم اس معاملے میں بدقسمت رہے، کیونکہ انہیں ایک ایسا ملک ملا جہاں پچھلے بیس سال سے لوگوں کی مالی حالت بہتر نہیں ہوئی اور وہ شدید تنگ آ چکے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  ”میرا تو بالکل سیدھا ماننا ہے معیشت ہی سیاست کو چلاتی ہے اور جب عوام ہی خوش نہیں ہوں گے تو حکمران کیسے ٹکیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے پاس عوامی کاموں کے لیے پیسے نہیں ہیں، ٹیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور پیٹرول، بجلی اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ 2022 کے بعد سے مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506677/britains-pm-starmer-announces-his-resignation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پچھلی برطانوی حکومتوں نے اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے صرف عارضی پٹیاں رکھنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اپنے حالاتِ زندگی سے شدید مایوس ہو گئے اور جو بھی وزیراعظم بنتا ہے، لوگ اس سے بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا جھٹکا برطانیہ کو ’بریگزٹ‘ یعنی یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے سے لگا۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے برطانیہ نے ایک عوامی ووٹ کے ذریعے یورپی یونین سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے اب بہت سے ماہرین ملک کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر رابرٹ پیٹمین اس بارے میں کہتے ہیں کہ “یہ فیصلہ معاشی طور پر ایک بڑی تباہی ثابت ہوا ہے، اور بہت سے لوگوں نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کردی تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ شاید 1930 کی دہائی کے بعد برطانیہ کا سب سے برا پالیسی فیصلہ تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریگزٹ کے اس فیصلے نے برطانیہ کا پورا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ سابق وزیرِ خزانہ جیرمی ہنٹ کے مطابق اس فیصلے نے ڈیوڈ کیمرون اور تھریسا مے جیسے وزرائے اعظم کی چھٹی تو کرائی ہی، ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے پکے ووٹرز کو بھی ان سے دور کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیاسی کھنچاؤ کی وجہ سے ملک میں دائیں بازو کی جماعتیں مقبول ہو کر ابھریں، جن کے دباؤ کے سامنے روایتی لیڈر ٹک نہیں پاتے اور پارلیمنٹ کے اندر ارکانِ اسمبلی اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سبب رہنماؤں کی ذاتی غلطیاں، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ اور ناممکن وعدے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506656/why-is-there-fighting-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506656"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کا پارلیمانی نظام ایسا ہے کہ اگر کسی پارٹی کو اپنے ہی لیڈر پر بھروسہ نہ رہے تو نیا الیکشن کرائے بغیر بھی وزیراعظم کو بدلا جا سکتا ہے۔ پچھلے دس سال میں ایسا پانچ بار ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی مصنف اینڈرے اسپائسر کہتے ہیں کہ ”لیڈر عوام سے اتنے زیادہ وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ وزیراعظم بنتے ہی بڑے سرکاری افسران انہیں بتاتے ہیں کہ آپ ہزاروں وعدوں میں سے صرف ایک یا دو ہی پورے کر سکتے ہیں۔ یوں امیدیں ٹوٹنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وزرائے اعظم کی اپنی حماقتیں بھی ان کے زوال کا سبب بنیں۔ بورس جانسن کرونا لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیاں کرنے کے اسکینڈل میں پھنسے، لیز ٹرس نے ایسی معاشی پالیسی بنائی کہ صرف 49 دنوں میں ملک کا دیوالیہ نکلنے لگا اور وہ برطانوی تاریخ میں سب سے کم وقت تک عہدے پر رہنے والیوزیراعظم بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر نے بھی الیکشن میں بڑے بڑے دعوے کیے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ کوئی پکا اور مضبوط فیصلہ نہ کر سکے اور میڈیا نے انہیں ایک کمزور اور بے اثر لیڈر کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506681/iran-us-talks-will-jd-vance-secure-his-path-to-the-us-presidency'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے اس دور میں اب سیاست نیٹ فلکس کے کسی شو کی طرح تیز ہو گئی ہے جہاں لوگوں کو فوراً نتیجہ چاہیے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف آکلینڈ میں گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر کرس اوگڈن نے نیوزی لینڈ کے نیوز آؤٹ لیٹ ’آر این زی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسٹارمر کو ایک ایسا ملک ملا جو گہرے معاشی اور سماجی مسائل میں گھرا ہوا تھا، اور دوسری طرف بے صبر ہو چکی عوام تھی جو سوشل میڈیا کی وجہ سے راتوں رات جادوئی تبدیلی چاہتی تھی۔ ذاتی کشش اور جاندار نظریے کی کمی نے ان کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب حالت یہ ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کا نام نئے وزیراعظم کے لیے سب سے آگے ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل اتنے سنگین ہیں کہ اگر انہوں نے جرات نہ دکھائی تو ان کا انجام بھی پرانے وزرائے اعظم جیسا ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے رپورٹر روب واٹسن نے اس بگڑتے ہوئے سیاسی موسم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”عوام ان روز روز کی تبدیلیوں اور پارٹیوں کی آپسی لڑائیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ 2008 کے بحران کے بعد سے برطانیہ پر مایوسی اور ناامیدی کا ایک گہرا بادل چھایا ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی نیا لیڈر اس موسم کو بدل پاتا ہے یا نہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی سیاست میں ان دنوں ایک ایسا طوفان آیا ہوا ہے جس کی مثال پچھلی دو صدیوں میں نہیں ملتی۔ پیر کے روز جب برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے انتہائی اداس ماحول میں اپنی اہلیہ وکٹوریہ کو گلے لگایا اور روانیِ جذبات سے بھری آواز میں صرف دو سال حکومت کرنے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا، تو انہوں نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیا۔ کیئر اسٹارمر کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب برطانیہ میں وزرائے اعظم کی مدتِ ملازمت بہت چھوٹی ہو چکی ہے۔</strong></p>
<p>جولائی 2016 سے لے کر اب تک، یعنی محض دس سال کے عرصے میں برطانیہ اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ وہی برطانیہ ہے جو کبھی اپنی سیاسی اور معاشی مضبوطی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھا اور جہاں مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر جیسے لیڈروں نے کئی کئی سال حکومت کی تھی۔</p>
<p>اب حالات یہ ہیں کہ برطانیہ کے لوگ دوسرے ملکوں کی سیاسی تبدیلیوں پر حیران ہونے کے بجائے خود اپنے ملک کے وزرائے اعظم کے آنے جانے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے ہر عام شہری کے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ آخر اس ترقی یافتہ ملک میں اتنی جلدی جلدی حکومتیں اور وزرائے اعظم کیوں بدل رہے ہیں؟</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/23100254ddce096.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/23100254ddce096.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس پورے گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لیے چند گہرے اور بنیادی اسباب کو سیدھی اور سادہ زبان میں سمجھنا ضروری ہے۔</p>
<p>سب سے پہلا اور بڑا سبب معاشی بدحالی اور عام آدمی کی پریشانی ہے۔ برطانیہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک معاشی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پایا ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ ملک کی جی ڈی پی یونی کُل کمائی کے برابر پہنچنے والا ہے۔</p>
<p>پبلک فنانس کے ماہر پال جانسن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کو بالکل سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا کہ “پچھلے چند وزرائے اعظم اس معاملے میں بدقسمت رہے، کیونکہ انہیں ایک ایسا ملک ملا جہاں پچھلے بیس سال سے لوگوں کی مالی حالت بہتر نہیں ہوئی اور وہ شدید تنگ آ چکے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ  ”میرا تو بالکل سیدھا ماننا ہے معیشت ہی سیاست کو چلاتی ہے اور جب عوام ہی خوش نہیں ہوں گے تو حکمران کیسے ٹکیں گے۔“</p>
<p>حکومت کے پاس عوامی کاموں کے لیے پیسے نہیں ہیں، ٹیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور پیٹرول، بجلی اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ 2022 کے بعد سے مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506677/britains-pm-starmer-announces-his-resignation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پچھلی برطانوی حکومتوں نے اصل بیماری کا علاج کرنے کے بجائے صرف عارضی پٹیاں رکھنے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اپنے حالاتِ زندگی سے شدید مایوس ہو گئے اور جو بھی وزیراعظم بنتا ہے، لوگ اس سے بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔</p>
<p>دوسرا بڑا جھٹکا برطانیہ کو ’بریگزٹ‘ یعنی یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے سے لگا۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے برطانیہ نے ایک عوامی ووٹ کے ذریعے یورپی یونین سے ناطہ توڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے اب بہت سے ماہرین ملک کی تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر رابرٹ پیٹمین اس بارے میں کہتے ہیں کہ “یہ فیصلہ معاشی طور پر ایک بڑی تباہی ثابت ہوا ہے، اور بہت سے لوگوں نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کردی تھی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ شاید 1930 کی دہائی کے بعد برطانیہ کا سب سے برا پالیسی فیصلہ تھا۔“</p>
<p>بریگزٹ کے اس فیصلے نے برطانیہ کا پورا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ سابق وزیرِ خزانہ جیرمی ہنٹ کے مطابق اس فیصلے نے ڈیوڈ کیمرون اور تھریسا مے جیسے وزرائے اعظم کی چھٹی تو کرائی ہی، ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے پکے ووٹرز کو بھی ان سے دور کر دیا۔</p>
<p>اس سیاسی کھنچاؤ کی وجہ سے ملک میں دائیں بازو کی جماعتیں مقبول ہو کر ابھریں، جن کے دباؤ کے سامنے روایتی لیڈر ٹک نہیں پاتے اور پارلیمنٹ کے اندر ارکانِ اسمبلی اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔</p>
<p>تیسرا سبب رہنماؤں کی ذاتی غلطیاں، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا دباؤ اور ناممکن وعدے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506656/why-is-there-fighting-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506656"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانیہ کا پارلیمانی نظام ایسا ہے کہ اگر کسی پارٹی کو اپنے ہی لیڈر پر بھروسہ نہ رہے تو نیا الیکشن کرائے بغیر بھی وزیراعظم کو بدلا جا سکتا ہے۔ پچھلے دس سال میں ایسا پانچ بار ہوا ہے۔</p>
<p>برطانوی مصنف اینڈرے اسپائسر کہتے ہیں کہ ”لیڈر عوام سے اتنے زیادہ وعدے کر لیتے ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ وزیراعظم بنتے ہی بڑے سرکاری افسران انہیں بتاتے ہیں کہ آپ ہزاروں وعدوں میں سے صرف ایک یا دو ہی پورے کر سکتے ہیں۔ یوں امیدیں ٹوٹنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔“</p>
<p>اس کے علاوہ وزرائے اعظم کی اپنی حماقتیں بھی ان کے زوال کا سبب بنیں۔ بورس جانسن کرونا لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں پارٹیاں کرنے کے اسکینڈل میں پھنسے، لیز ٹرس نے ایسی معاشی پالیسی بنائی کہ صرف 49 دنوں میں ملک کا دیوالیہ نکلنے لگا اور وہ برطانوی تاریخ میں سب سے کم وقت تک عہدے پر رہنے والیوزیراعظم بنیں۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر نے بھی الیکشن میں بڑے بڑے دعوے کیے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ کوئی پکا اور مضبوط فیصلہ نہ کر سکے اور میڈیا نے انہیں ایک کمزور اور بے اثر لیڈر کے طور پر پیش کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506681/iran-us-talks-will-jd-vance-secure-his-path-to-the-us-presidency'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے اس دور میں اب سیاست نیٹ فلکس کے کسی شو کی طرح تیز ہو گئی ہے جہاں لوگوں کو فوراً نتیجہ چاہیے ہوتا ہے۔</p>
<p>یونیورسٹی آف آکلینڈ میں گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر کرس اوگڈن نے نیوزی لینڈ کے نیوز آؤٹ لیٹ ’آر این زی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسٹارمر کو ایک ایسا ملک ملا جو گہرے معاشی اور سماجی مسائل میں گھرا ہوا تھا، اور دوسری طرف بے صبر ہو چکی عوام تھی جو سوشل میڈیا کی وجہ سے راتوں رات جادوئی تبدیلی چاہتی تھی۔ ذاتی کشش اور جاندار نظریے کی کمی نے ان کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔“</p>
<p>اب حالت یہ ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کا نام نئے وزیراعظم کے لیے سب سے آگے ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل اتنے سنگین ہیں کہ اگر انہوں نے جرات نہ دکھائی تو ان کا انجام بھی پرانے وزرائے اعظم جیسا ہی ہوگا۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے رپورٹر روب واٹسن نے اس بگڑتے ہوئے سیاسی موسم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”عوام ان روز روز کی تبدیلیوں اور پارٹیوں کی آپسی لڑائیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ 2008 کے بحران کے بعد سے برطانیہ پر مایوسی اور ناامیدی کا ایک گہرا بادل چھایا ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی نیا لیڈر اس موسم کو بدل پاتا ہے یا نہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506710</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 10:13:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23100934036bdf2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23100934036bdf2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
