<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Must Read</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 03:53:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 03:53:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا خوف: ٹرمپ فوڈ ٹرک میں چھپ کر ملٹری جیٹ کے ذریعے ترکیہ سے کیسے فرار ہوئے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512473/iran-fear-trump-secretly-escaped-turkey-in-military-jet-hidden-by-food-truck</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے باعث گزشتہ ماہ ترکیہ سے برطانیہ کا سفر ایک خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس وقت یہ بتایا گیا تھا کہ صدر ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچے تھے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے قطر کی جانب سے امریکا کو فراہم کیے گئے نئے اور جدید طیارے کا استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طیارہ حال ہی میں سیکیورٹی اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے اپ گریڈ کیا گیا تھا اور نیٹو اجلاس کا سفر اس طیارے کا ٹرمپ کے ساتھ پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ترکیہ سے روانگی کے وقت صورتحال اچانک بدل گئی۔ ٹرمپ نے انقرہ کے ہوائی اڈے پر میڈیا کے کیمروں کے سامنے پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کا تاثر دیا، لیکن واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے بعد انہیں ایک ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر ایک چھوٹے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/EricLDaugh/status/2086979898350969060?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/EricLDaugh/status/2086979898350969060?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا سی- 32 اے تھا، جس میں ٹرمپ نے ترکیہ سے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارروائی سے صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور ایران کی سرحد ترکیہ سے ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508463'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508463"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں ایک ایسے امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا جو اس کارروائی سے واقف تھا، جبکہ صدر کے سفری انتظامات سے واقف ایک دوسرے شخص نے بھی اس کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سی- 32 اے رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر برطانیہ کے رائل ایئر فورس اڈے میلنڈن پہنچا تھا۔ اس کے چند منٹ بعد پرانا ایئر فورس ون بھی وہاں پہنچ گیا تھا، جس میں میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اس سفر کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پہلے ہی کہا تھا کہ وہ انقرہ سے برطانیہ کے آر اے ایف میلنڈن اڈے تک جانے کے لیے پرانا، ہلکے نیلے رنگ کا ایئر فورس ون استعمال کریں گے۔ انہوں نے اسے ’’پرانے وقتوں کی یاد‘‘ کے لیے استعمال کرنے کی بات کہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا نیا طیارہ بھی اسی برطانوی اڈے پر پہنچا، جہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کو اس طیارے کا دورہ کرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506357'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506357"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خفیہ طور پر تیسرے طیارے کے استعمال کی خبر سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے صدر کے تحفظ سے متعلق بیان مواصلاتی امور کے ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ کی جانب سے جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیو چیونگ نے کہا کہ جیسا کہ صدر نے حال ہی میں کہا ہے، امریکا کے بہت سے دشمن ایسے ہیں جن کی نظریں ان پر ہیں، اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی نظام نصب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ٹرمپ کو نئے طیارے سے خفیہ طور پر سی- 32 اے میں منتقل کرنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے باعث گزشتہ ماہ ترکیہ سے برطانیہ کا سفر ایک خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس وقت یہ بتایا گیا تھا کہ صدر ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچے تھے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے قطر کی جانب سے امریکا کو فراہم کیے گئے نئے اور جدید طیارے کا استعمال کیا تھا۔</p>
<p>یہ طیارہ حال ہی میں سیکیورٹی اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے اپ گریڈ کیا گیا تھا اور نیٹو اجلاس کا سفر اس طیارے کا ٹرمپ کے ساتھ پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔</p>
<p>تاہم ترکیہ سے روانگی کے وقت صورتحال اچانک بدل گئی۔ ٹرمپ نے انقرہ کے ہوائی اڈے پر میڈیا کے کیمروں کے سامنے پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کا تاثر دیا، لیکن واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے بعد انہیں ایک ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر ایک چھوٹے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/EricLDaugh/status/2086979898350969060?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/EricLDaugh/status/2086979898350969060?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ امریکی فضائیہ کا سی- 32 اے تھا، جس میں ٹرمپ نے ترکیہ سے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔</p>
<p>اس کارروائی سے صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور ایران کی سرحد ترکیہ سے ملتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508463'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508463"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں ایک ایسے امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا جو اس کارروائی سے واقف تھا، جبکہ صدر کے سفری انتظامات سے واقف ایک دوسرے شخص نے بھی اس کی تصدیق کی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سی- 32 اے رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر برطانیہ کے رائل ایئر فورس اڈے میلنڈن پہنچا تھا۔ اس کے چند منٹ بعد پرانا ایئر فورس ون بھی وہاں پہنچ گیا تھا، جس میں میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اس سفر کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پہلے ہی کہا تھا کہ وہ انقرہ سے برطانیہ کے آر اے ایف میلنڈن اڈے تک جانے کے لیے پرانا، ہلکے نیلے رنگ کا ایئر فورس ون استعمال کریں گے۔ انہوں نے اسے ’’پرانے وقتوں کی یاد‘‘ کے لیے استعمال کرنے کی بات کہی تھی۔</p>
<p>اسی دوران قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا نیا طیارہ بھی اسی برطانوی اڈے پر پہنچا، جہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کو اس طیارے کا دورہ کرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506357'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506357"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خفیہ طور پر تیسرے طیارے کے استعمال کی خبر سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے صدر کے تحفظ سے متعلق بیان مواصلاتی امور کے ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ کی جانب سے جاری کیا۔</p>
<p>اسٹیو چیونگ نے کہا کہ جیسا کہ صدر نے حال ہی میں کہا ہے، امریکا کے بہت سے دشمن ایسے ہیں جن کی نظریں ان پر ہیں، اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی نظام نصب کیے گئے ہیں۔</p>
<p>تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ٹرمپ کو نئے طیارے سے خفیہ طور پر سی- 32 اے میں منتقل کرنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512473</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:15:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11100315384bf78.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11100315384bf78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سستی ڈیلز کا جادو ختم: میک ڈونلڈز سمیت فاسٹ فوڈ کمپنیاں مشکلات کا شکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512571/for-mcdonalds-and-rivals-cheap-deals-no-longer-do-the-trick</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں میک ڈونلڈز سمیت بڑی فاسٹ فوڈ چینز کو قیمتوں میں رعایت دے کر صارفین کو راغب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ مہنگائی کے باعث سستی کھانے کی تلاش میں رہنے والے صارفین اب صرف ڈسکاؤنٹ پر توجہ نہیں دیتے بلکہ کھانے کے معیار، مینیو میں نئے آپشنز اور بہتر سروس کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فاسٹ فوڈ چینز نے گزشتہ 2 سال کے دوران مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سستی ڈیلز اور مختلف پروموشنز پر زیادہ انحصار کیا تاہم دوسری سہ ماہی کے نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ صرف رعایتی قیمتیں صارفین کو مستقل طور پر ریسٹورنٹس تک لانے کے لیے کافی نہیں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/mcdonalds-rivals-cheap-deals-no-longer-do-trick-2026-08-11/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق وہ فاسٹ فوڈ چینز بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہیں جنہوں نے سستی ڈیلز کے ساتھ مینو میں نئے کھانے، معیار میں بہتری اور صارفین کے لیے خریداری کا زیادہ آسان تجربہ بھی فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ٹیکو-بیل-کی-بہتر-کارکردگی" href="#ٹیکو-بیل-کی-بہتر-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹیکو بیل کی بہتر کارکردگی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یَم برانڈز کی فاسٹ فوڈ چین ٹیکو بیل نے قیمتوں کے حوالے سے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے ہر چیز پر بڑی رعایت دینے کے بجائے مخصوص اور واضح ڈیلز متعارف کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکو بیل کے 5، 7 اور 9 ڈالر کے میل باکس صارفین میں مقبول رہے جب کہ کمپنی نے مینیو میں نئے کھانے بھی شامل کیے، جس سے صارفین کو ابتدائی سستی ڈیل کے علاوہ مزید اشیا خریدنے کی ترغیب ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوڈ سروس کنسلٹنسی فرم ’کنکشنز‘ کی اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ انوویشن کی ڈائریکٹر ریچل روئسٹر کے مطابق ویلیو ڈیل اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ صارف کے لیے بالکل واضح اور آسان ہو اور اسے ایسا محسوس نہ ہو کہ سستی ڈیل دکھا کر بعد میں زیادہ قیمت وصول کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکو بیل کی رواں سہ ماہی میں ایک ہی مقام پر قائم ریسٹورنٹس کی فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جب کہ میک ڈونلڈز کی عالمی سطح پر موازنہ کی بنیاد پر فروخت میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="میک-ڈونلڈز-کو-مشکلات-کا-سامنا" href="#میک-ڈونلڈز-کو-مشکلات-کا-سامنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میک ڈونلڈز کو مشکلات کا سامنا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;میک ڈونلڈز نے صارفین کے لیے 3 ڈالر سے کم قیمت کا مینیو اور 4 ڈالر کا ناشتے کا میل متعارف کرایا تاہم اس کے باوجود کمپنی کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میک ڈونلڈز کے چیف ایگزیکٹو کرس کیمپچنسکی نے بتایا کہ کمپنی کی ٹریفک میں کمی کا تقریباً 2 تہائی حصہ ایسے صارفین سے متعلق تھا جو پہلے سے میک ڈونلڈز کے وفادار گاہک تھے۔ انہوں نے فروخت میں کمی کی وجہ حکمت عملی کے بجائے اس پر عمل درآمد میں مسائل کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کم-آمدنی-والے-صارفین-پر-دباؤ-برقرار" href="#کم-آمدنی-والے-صارفین-پر-دباؤ-برقرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کم آمدنی والے صارفین پر دباؤ برقرار&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دیگر فاسٹ فوڈ چینز کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا کہ پروموشنز اور رعایتی ڈیلز کم آمدنی والے صارفین پر بڑھتے مالی دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینڈیز نے 5 ڈالر سے شروع ہونے والی ’بِگی بیگ‘ ویلیو ڈیلز پیش کیں تاہم امریکا میں ایک ہی ریسٹورنٹ پر موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7 فیصد کمی ہوئی جب کہ کمپنی نے اپنی سالانہ مالی پیش گوئی بھی واپس لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونگ اسٹاپ کو بھی پروموشنز کے باوجود مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی نے ایک ڈالر میں چکن ونگز سمیت مختلف رعایتی آفرز پیش کیں لیکن امریکا میں اس کے ایک ہی اسٹور کی موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7.5 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونگ اسٹاپ کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اسکیپ ورتھ کے مطابق شہری علاقوں میں کمپنی کی فروخت میں کمی آئی، جہاں عام طور پر گھرانوں کو زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ دوسری جانب زیادہ آمدنی والے علاقوں میں ریسٹورنٹس کے دوروں میں 9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران ونگ اسٹاپ کے حصص کی قیمت میں 3 چوتھائی سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی اے ڈیوڈسن کے تجزیہ کار میٹ کرٹس کے مطابق مختلف فاسٹ فوڈ چینز کی جانب سے مسلسل پروموشنز کے باعث صارفین کے لیے مختلف پیشکشوں میں فرق کرنا مشکل ہوا تاہم صارفین اب مختلف ڈیلز کا موازنہ کرنے اور اپنے لیے بہتر انتخاب کرنے میں پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صرف-سب-سے-سستا-ہونا-کامیابی-کی-ضمانت-نہیں" href="#صرف-سب-سے-سستا-ہونا-کامیابی-کی-ضمانت-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;صرف سب سے سستا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری سہ ماہی کے نتائج سے یہ بھی سامنے آیا کہ کسی ریسٹورنٹ کے لیے کامیاب ہونے کے لیے مارکیٹ میں سب سے سستا آپشن ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسٹورنٹ برانڈز کی ملکیت برگر کنگ ان فاسٹ فوڈ چینز میں شامل رہا، جس نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ کمپنی کے حکام نے امریکا میں مضبوط فروخت کا کریڈٹ ’2 فار 5 ڈالر‘ اور ’3 فار 7 ڈالر‘ جیسی پروموشنز کے ساتھ ساتھ آپریشنز اور مینیو کے معیار میں وسیع بہتری کو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد ریسٹورنٹ کنسلٹنٹ جان گورڈن کے مطابق برگر کنگ رعایتیں دے رہا ہے لیکن ہر وقت نہیں جب کہ اس کی پروموشنز میں نئے انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی ہر روز انتہائی گہری رعایت دینے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈومینوز-اور-چیپوٹلے-بھی-بہتر-کارکردگی-دکھانے-میں-کامیاب" href="#ڈومینوز-اور-چیپوٹلے-بھی-بہتر-کارکردگی-دکھانے-میں-کامیاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈومینوز اور چیپوٹلے بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ڈومینوز پیزا نے بھی ویلیو فوکسڈ پیشکشوں اور صارفین کے لیے لائلٹی پروگرامز سے فائدہ اٹھایا، ان اقدامات سے صارفین کی آمد بڑھانے اور فروخت کو سہارا دینے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیپوٹلے میکسیکن گرِل نے بھی مضبوط نتائج دیے جب کہ کمپنی نے قیمتوں میں اضافہ تقریباً 1 سے 2 فیصد تک محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیپوٹلے کے چیف ایگزیکٹو اسکاٹ بوٹ رائٹ نے کہا کہ ویلیو کا مطلب صرف رعایت یا کم قیمت نہیں بلکہ اس میں سہولت، بہتر سروس اور مینو میں نئے کھانے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فاسٹ فوڈ مارکیٹ کی دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کمپنیاں اب صرف کم قیمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سستی ڈیلز کے ساتھ کھانے کے معیار، مینو میں جدت، سہولت اور بہتر آپریشنز پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں میک ڈونلڈز سمیت بڑی فاسٹ فوڈ چینز کو قیمتوں میں رعایت دے کر صارفین کو راغب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ مہنگائی کے باعث سستی کھانے کی تلاش میں رہنے والے صارفین اب صرف ڈسکاؤنٹ پر توجہ نہیں دیتے بلکہ کھانے کے معیار، مینیو میں نئے آپشنز اور بہتر سروس کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی فاسٹ فوڈ چینز نے گزشتہ 2 سال کے دوران مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سستی ڈیلز اور مختلف پروموشنز پر زیادہ انحصار کیا تاہم دوسری سہ ماہی کے نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ صرف رعایتی قیمتیں صارفین کو مستقل طور پر ریسٹورنٹس تک لانے کے لیے کافی نہیں رہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/mcdonalds-rivals-cheap-deals-no-longer-do-trick-2026-08-11/">رپورٹ</a> کے مطابق وہ فاسٹ فوڈ چینز بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہیں جنہوں نے سستی ڈیلز کے ساتھ مینو میں نئے کھانے، معیار میں بہتری اور صارفین کے لیے خریداری کا زیادہ آسان تجربہ بھی فراہم کیا۔</p>
<h1><a id="ٹیکو-بیل-کی-بہتر-کارکردگی" href="#ٹیکو-بیل-کی-بہتر-کارکردگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹیکو بیل کی بہتر کارکردگی</strong></h1>
<p>یَم برانڈز کی فاسٹ فوڈ چین ٹیکو بیل نے قیمتوں کے حوالے سے صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے ہر چیز پر بڑی رعایت دینے کے بجائے مخصوص اور واضح ڈیلز متعارف کرائیں۔</p>
<p>ٹیکو بیل کے 5، 7 اور 9 ڈالر کے میل باکس صارفین میں مقبول رہے جب کہ کمپنی نے مینیو میں نئے کھانے بھی شامل کیے، جس سے صارفین کو ابتدائی سستی ڈیل کے علاوہ مزید اشیا خریدنے کی ترغیب ملی۔</p>
<p>فوڈ سروس کنسلٹنسی فرم ’کنکشنز‘ کی اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ انوویشن کی ڈائریکٹر ریچل روئسٹر کے مطابق ویلیو ڈیل اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ صارف کے لیے بالکل واضح اور آسان ہو اور اسے ایسا محسوس نہ ہو کہ سستی ڈیل دکھا کر بعد میں زیادہ قیمت وصول کی جارہی ہے۔</p>
<p>ٹیکو بیل کی رواں سہ ماہی میں ایک ہی مقام پر قائم ریسٹورنٹس کی فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جب کہ میک ڈونلڈز کی عالمی سطح پر موازنہ کی بنیاد پر فروخت میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<h1><a id="میک-ڈونلڈز-کو-مشکلات-کا-سامنا" href="#میک-ڈونلڈز-کو-مشکلات-کا-سامنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میک ڈونلڈز کو مشکلات کا سامنا</strong></h1>
<p>میک ڈونلڈز نے صارفین کے لیے 3 ڈالر سے کم قیمت کا مینیو اور 4 ڈالر کا ناشتے کا میل متعارف کرایا تاہم اس کے باوجود کمپنی کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔</p>
<p>میک ڈونلڈز کے چیف ایگزیکٹو کرس کیمپچنسکی نے بتایا کہ کمپنی کی ٹریفک میں کمی کا تقریباً 2 تہائی حصہ ایسے صارفین سے متعلق تھا جو پہلے سے میک ڈونلڈز کے وفادار گاہک تھے۔ انہوں نے فروخت میں کمی کی وجہ حکمت عملی کے بجائے اس پر عمل درآمد میں مسائل کو قرار دیا۔</p>
<h1><a id="کم-آمدنی-والے-صارفین-پر-دباؤ-برقرار" href="#کم-آمدنی-والے-صارفین-پر-دباؤ-برقرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کم آمدنی والے صارفین پر دباؤ برقرار</strong></h1>
<p>دیگر فاسٹ فوڈ چینز کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا کہ پروموشنز اور رعایتی ڈیلز کم آمدنی والے صارفین پر بڑھتے مالی دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکیں۔</p>
<p>وینڈیز نے 5 ڈالر سے شروع ہونے والی ’بِگی بیگ‘ ویلیو ڈیلز پیش کیں تاہم امریکا میں ایک ہی ریسٹورنٹ پر موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7 فیصد کمی ہوئی جب کہ کمپنی نے اپنی سالانہ مالی پیش گوئی بھی واپس لے لی۔</p>
<p>ونگ اسٹاپ کو بھی پروموشنز کے باوجود مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی نے ایک ڈالر میں چکن ونگز سمیت مختلف رعایتی آفرز پیش کیں لیکن امریکا میں اس کے ایک ہی اسٹور کی موازنے کی بنیاد پر فروخت میں 7.5 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ونگ اسٹاپ کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اسکیپ ورتھ کے مطابق شہری علاقوں میں کمپنی کی فروخت میں کمی آئی، جہاں عام طور پر گھرانوں کو زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ دوسری جانب زیادہ آمدنی والے علاقوں میں ریسٹورنٹس کے دوروں میں 9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران ونگ اسٹاپ کے حصص کی قیمت میں 3 چوتھائی سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔</p>
<p>ڈی اے ڈیوڈسن کے تجزیہ کار میٹ کرٹس کے مطابق مختلف فاسٹ فوڈ چینز کی جانب سے مسلسل پروموشنز کے باعث صارفین کے لیے مختلف پیشکشوں میں فرق کرنا مشکل ہوا تاہم صارفین اب مختلف ڈیلز کا موازنہ کرنے اور اپنے لیے بہتر انتخاب کرنے میں پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔</p>
<h1><a id="صرف-سب-سے-سستا-ہونا-کامیابی-کی-ضمانت-نہیں" href="#صرف-سب-سے-سستا-ہونا-کامیابی-کی-ضمانت-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>صرف سب سے سستا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں</strong></h1>
<p>دوسری سہ ماہی کے نتائج سے یہ بھی سامنے آیا کہ کسی ریسٹورنٹ کے لیے کامیاب ہونے کے لیے مارکیٹ میں سب سے سستا آپشن ہونا ضروری نہیں۔</p>
<p>ریسٹورنٹ برانڈز کی ملکیت برگر کنگ ان فاسٹ فوڈ چینز میں شامل رہا، جس نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ کمپنی کے حکام نے امریکا میں مضبوط فروخت کا کریڈٹ ’2 فار 5 ڈالر‘ اور ’3 فار 7 ڈالر‘ جیسی پروموشنز کے ساتھ ساتھ آپریشنز اور مینیو کے معیار میں وسیع بہتری کو دیا۔</p>
<p>آزاد ریسٹورنٹ کنسلٹنٹ جان گورڈن کے مطابق برگر کنگ رعایتیں دے رہا ہے لیکن ہر وقت نہیں جب کہ اس کی پروموشنز میں نئے انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی ہر روز انتہائی گہری رعایت دینے کی پالیسی پر عمل نہیں کررہی۔</p>
<h1><a id="ڈومینوز-اور-چیپوٹلے-بھی-بہتر-کارکردگی-دکھانے-میں-کامیاب" href="#ڈومینوز-اور-چیپوٹلے-بھی-بہتر-کارکردگی-دکھانے-میں-کامیاب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈومینوز اور چیپوٹلے بھی بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب</strong></h1>
<p>ڈومینوز پیزا نے بھی ویلیو فوکسڈ پیشکشوں اور صارفین کے لیے لائلٹی پروگرامز سے فائدہ اٹھایا، ان اقدامات سے صارفین کی آمد بڑھانے اور فروخت کو سہارا دینے میں مدد ملی۔</p>
<p>چیپوٹلے میکسیکن گرِل نے بھی مضبوط نتائج دیے جب کہ کمپنی نے قیمتوں میں اضافہ تقریباً 1 سے 2 فیصد تک محدود رکھا۔</p>
<p>چیپوٹلے کے چیف ایگزیکٹو اسکاٹ بوٹ رائٹ نے کہا کہ ویلیو کا مطلب صرف رعایت یا کم قیمت نہیں بلکہ اس میں سہولت، بہتر سروس اور مینو میں نئے کھانے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی فاسٹ فوڈ مارکیٹ کی دوسری سہ ماہی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کمپنیاں اب صرف کم قیمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سستی ڈیلز کے ساتھ کھانے کے معیار، مینو میں جدت، سہولت اور بہتر آپریشنز پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512571</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 21:17:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/112050489624783.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/112050489624783.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب نے کمائی کا قانون مزید سخت کر دیا، واچ ٹائم کی شرط دگنی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512472/new-youtubers-face-a-setback-youtube-tightens-monetization-rules-doubles-watch-time-requirement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوٹیوب نے نئے کریئیٹرز کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اب نئے کریئیٹرز کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہوکر اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دگنے واچ آورز یا زیادہ شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی ملکیت رکھنے والے یوٹیوب نے یوٹیوب پارٹنر پروگرام یعنی وائی پی پی کے قواعد میں یہ تبدیلی کی ہے۔ یہ پروگرام دنیا بھر کے کریئیٹرز کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس وقت اس میں 30 لاکھ سے زیادہ کریئیٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوں گی۔ اس کے بعد کسی نئے کریئیٹر کو اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کی آمدنی میں حصہ لینے کے لیے گزشتہ 365 دنوں میں 8 ہزار اہل واچ آورز حاصل کرنا ہوں گے یا گزشتہ 90 دنوں میں 2 کروڑ اہل یوٹیوب شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471464'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے یہ شرط 4 ہزار واچ آورز یا ایک کروڑ شارٹس ویوز تھی۔ یعنی نئے کریئیٹرز کے لیے دونوں اہم اہداف دگنے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم سبسکرائبرز کی کم از کم تعداد ایک ہزار ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد پلیٹ فارم پر بڑھتی ہوئی ویڈیو اور شارٹس کی مقبولیت کو مدنظر رکھنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 200 ارب شارٹس ویوز آتے ہیں جبکہ لوگ ہر روز ٹی وی پر یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھنے میں ایک ارب سے زیادہ گھنٹے گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں 2018 کے بعد پہلی بڑی تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔ تاہم جو کریئیٹرز پہلے ہی وائی پی پی کا حصہ ہیں، ان پر نئے واچ ٹائم اور شارٹس ویوز کے یہ معیار لاگو نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے شارٹس سے کمائی کرنے والے کریئیٹرز کے لیے بھی ایک نئی شرط متعارف کرائی ہے جو نئے اور پرانے دونوں کریئیٹرز پر اثر انداز ہوگی۔ یکم فروری سے شارٹس کے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں حصہ جاری رکھنے کے لیے کریئیٹرز کو ہر 90 دن کے دوران کم از کم ایک کروڑ اہل شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی چینل کے شارٹس ویوز اس حد سے نیچے چلے جاتے ہیں تو وہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام سے باہر نہیں ہوگا اور اپنی لمبی ویڈیوز سے کمائی جاری رکھ سکے گا۔ تاہم شارٹس سے آمدنی اس وقت تک رک جائے گی جب تک چینل دوبارہ 90 دن میں ایک کروڑ ویوز کا معیار پورا نہیں کرلیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق جو کریئیٹرز پہلے ہی شارٹس سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، ان پر اس نئی شرط کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ کریئیٹرز یوٹیوب اسٹوڈیو میں جاکر نئی شرائط دیکھ سکیں گے اوران کے نافذ ہونے سے پہلے انہیں قبول کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن چینلز کے شارٹس ویوز نئی حد سے کم ہوں گے، ان کے لیے یوٹیوب آمدنی کے دوسرے راستے بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان میں یوٹیوب شاپنگ سے متعلق بونس، برانڈ ڈیلز کے لیے مراعات اور نئے ٹرینڈز شروع کرنے یا انہیں مقبول بنانے پر اضافی آمدنی جیسے طریقے شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا ابتدائی یا نچلا درجے والا نظام تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس کے تحت 500 سبسکرائبرز، گزشتہ 90 دنوں میں تین عوامی ویڈیوز اور یا تو 3 ہزار اہل واچ آورز یا 30 لاکھ شارٹس ویوز حاصل کرنے والے کریئیٹرز فین فنڈنگ اور شاپنگ جیسے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30414886'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414886"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے اپنی پریمیم لائٹ سروس کو بھی ان تمام ممالک تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جہاں یوٹیوب پریمیم دستیاب ہے۔ پریمیم لائٹ کے ذریعے صارفین زیادہ تر مواد اشتہارات کے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور آف لائن اور بیک گراؤنڈ ویونگ کی سہولت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق پریمیم صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ الگ کریئیٹر پول میں شامل کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ آپریٹنگ اور تشہیری اخراجات اور میوزک پارٹنرز کو ادائیگی کے بعد پریمیم کی خالص سبسکرپشن آمدنی کا 30 فیصد جبکہ پریمیم لائٹ کی آمدنی کا 60 فیصد کریئیٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رقم کو صارفین کے دیکھنے کے وقت اور ویوز کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔ لمبی ویڈیوز کے لیے کریئیٹرز کو 55 فیصد جبکہ شارٹس کے لیے 45 فیصد حصہ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے بعض کریئیٹرز کی آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ کمپنی نے کہا، “جب کوئی صارف پریمیم کے لیے سائن اپ کرتا ہے تو اوسطاً پارٹنرز کو اس صارف کی جانب سے اشتہارات دیکھنے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2027 میں کریئیٹرز کو 2026 کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کی جانب سے یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی کریئیٹرز کی کمائی کے نظام میں تبدیلیاں کررہے ہیں۔ ایکس نے اپنے کریئیٹر پے آؤٹ سسٹم میں تبدیلی کرکے اصل مواد کو زیادہ اہمیت دی ہے جبکہ فیس بک نے بھی رواں سال ایک نیا مونیٹائزیشن پروگرام شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ اب یوٹیوب پر نئے آنے والے کریئیٹرز کو کمائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ پہلے سے پارٹنر پروگرام میں شامل کریئیٹرز کے لیے بنیادی وائی پی پی  اہلیت کی یہ نئی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوٹیوب نے نئے کریئیٹرز کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اب نئے کریئیٹرز کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہوکر اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دگنے واچ آورز یا زیادہ شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</strong></p>
<p>گوگل کی ملکیت رکھنے والے یوٹیوب نے یوٹیوب پارٹنر پروگرام یعنی وائی پی پی کے قواعد میں یہ تبدیلی کی ہے۔ یہ پروگرام دنیا بھر کے کریئیٹرز کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس وقت اس میں 30 لاکھ سے زیادہ کریئیٹرز شامل ہیں۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوں گی۔ اس کے بعد کسی نئے کریئیٹر کو اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کی آمدنی میں حصہ لینے کے لیے گزشتہ 365 دنوں میں 8 ہزار اہل واچ آورز حاصل کرنا ہوں گے یا گزشتہ 90 دنوں میں 2 کروڑ اہل یوٹیوب شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471464'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے پہلے یہ شرط 4 ہزار واچ آورز یا ایک کروڑ شارٹس ویوز تھی۔ یعنی نئے کریئیٹرز کے لیے دونوں اہم اہداف دگنے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم سبسکرائبرز کی کم از کم تعداد ایک ہزار ہی رہے گی۔</p>
<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد پلیٹ فارم پر بڑھتی ہوئی ویڈیو اور شارٹس کی مقبولیت کو مدنظر رکھنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 200 ارب شارٹس ویوز آتے ہیں جبکہ لوگ ہر روز ٹی وی پر یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھنے میں ایک ارب سے زیادہ گھنٹے گزارتے ہیں۔</p>
<p>یہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں 2018 کے بعد پہلی بڑی تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔ تاہم جو کریئیٹرز پہلے ہی وائی پی پی کا حصہ ہیں، ان پر نئے واچ ٹائم اور شارٹس ویوز کے یہ معیار لاگو نہیں ہوں گے۔</p>
<p>یوٹیوب نے شارٹس سے کمائی کرنے والے کریئیٹرز کے لیے بھی ایک نئی شرط متعارف کرائی ہے جو نئے اور پرانے دونوں کریئیٹرز پر اثر انداز ہوگی۔ یکم فروری سے شارٹس کے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں حصہ جاری رکھنے کے لیے کریئیٹرز کو ہر 90 دن کے دوران کم از کم ایک کروڑ اہل شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</p>
<p>اگر کسی چینل کے شارٹس ویوز اس حد سے نیچے چلے جاتے ہیں تو وہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام سے باہر نہیں ہوگا اور اپنی لمبی ویڈیوز سے کمائی جاری رکھ سکے گا۔ تاہم شارٹس سے آمدنی اس وقت تک رک جائے گی جب تک چینل دوبارہ 90 دن میں ایک کروڑ ویوز کا معیار پورا نہیں کرلیتا۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق جو کریئیٹرز پہلے ہی شارٹس سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، ان پر اس نئی شرط کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ کریئیٹرز یوٹیوب اسٹوڈیو میں جاکر نئی شرائط دیکھ سکیں گے اوران کے نافذ ہونے سے پہلے انہیں قبول کرسکیں گے۔</p>
<p>جن چینلز کے شارٹس ویوز نئی حد سے کم ہوں گے، ان کے لیے یوٹیوب آمدنی کے دوسرے راستے بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان میں یوٹیوب شاپنگ سے متعلق بونس، برانڈ ڈیلز کے لیے مراعات اور نئے ٹرینڈز شروع کرنے یا انہیں مقبول بنانے پر اضافی آمدنی جیسے طریقے شامل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا ابتدائی یا نچلا درجے والا نظام تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس کے تحت 500 سبسکرائبرز، گزشتہ 90 دنوں میں تین عوامی ویڈیوز اور یا تو 3 ہزار اہل واچ آورز یا 30 لاکھ شارٹس ویوز حاصل کرنے والے کریئیٹرز فین فنڈنگ اور شاپنگ جیسے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30414886'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414886"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یوٹیوب نے اپنی پریمیم لائٹ سروس کو بھی ان تمام ممالک تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جہاں یوٹیوب پریمیم دستیاب ہے۔ پریمیم لائٹ کے ذریعے صارفین زیادہ تر مواد اشتہارات کے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور آف لائن اور بیک گراؤنڈ ویونگ کی سہولت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق پریمیم صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ الگ کریئیٹر پول میں شامل کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ آپریٹنگ اور تشہیری اخراجات اور میوزک پارٹنرز کو ادائیگی کے بعد پریمیم کی خالص سبسکرپشن آمدنی کا 30 فیصد جبکہ پریمیم لائٹ کی آمدنی کا 60 فیصد کریئیٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔</p>
<p>اس رقم کو صارفین کے دیکھنے کے وقت اور ویوز کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔ لمبی ویڈیوز کے لیے کریئیٹرز کو 55 فیصد جبکہ شارٹس کے لیے 45 فیصد حصہ ملے گا۔</p>
<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے بعض کریئیٹرز کی آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ کمپنی نے کہا، “جب کوئی صارف پریمیم کے لیے سائن اپ کرتا ہے تو اوسطاً پارٹنرز کو اس صارف کی جانب سے اشتہارات دیکھنے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔”</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2027 میں کریئیٹرز کو 2026 کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔</p>
<p>یوٹیوب کی جانب سے یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی کریئیٹرز کی کمائی کے نظام میں تبدیلیاں کررہے ہیں۔ ایکس نے اپنے کریئیٹر پے آؤٹ سسٹم میں تبدیلی کرکے اصل مواد کو زیادہ اہمیت دی ہے جبکہ فیس بک نے بھی رواں سال ایک نیا مونیٹائزیشن پروگرام شروع کیا ہے۔</p>
<p>نئے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ اب یوٹیوب پر نئے آنے والے کریئیٹرز کو کمائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ پہلے سے پارٹنر پروگرام میں شامل کریئیٹرز کے لیے بنیادی وائی پی پی  اہلیت کی یہ نئی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512472</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:17:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11102850785a322.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11102850785a322.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خریداروں کے لیے بُری خبر ، سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512527/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 59 ہزار 736 روپے کا ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق  فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 400 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 59 ہزار 736 روپے فی تولہ ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 58 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 10 گرام سونا 3 لاکھ 94 ہزار 149 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512022/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 62 روپے بڑھ گئی، جس کے بعد نئی قیمت 6 ہزار 965 روپے فی تولہ ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 24 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 373 ڈالر ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث زیورات خریدنے والے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کے مطابق بلند قیمتوں کے باعث سونے کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور بیشتر خریدار صرف ضرورت کے تحت ہی خریداری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 59 ہزار 736 روپے کا ہوگیا۔</strong></p>
<p>آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق  فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 400 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 59 ہزار 736 روپے فی تولہ ہوگئی۔</p>
<p>اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 58 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 10 گرام سونا 3 لاکھ 94 ہزار 149 روپے کا ہوگیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512022/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 62 روپے بڑھ گئی، جس کے بعد نئی قیمت 6 ہزار 965 روپے فی تولہ ہوگئی۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 24 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 373 ڈالر ہوگئی ہے۔</p>
<p>سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث زیورات خریدنے والے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کے مطابق بلند قیمتوں کے باعث سونے کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے اور بیشتر خریدار صرف ضرورت کے تحت ہی خریداری کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512527</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 15:28:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11152546fcb094f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11152546fcb094f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا قتل کیس: گیسٹ ہاؤس کس کی ملکیت ہے؟ اہم دستاویزات سامنے آگئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512389/mir-raza-murder-case-who-owns-the-guesthouse-important-documents-come-to-light</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں جب کہ پولیس ویریفکیشن میں موجود کرایہ نامہ بھی سامنے آگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا قتل کیس سے منسلک گلستان جوہر کے گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات آج نیوز سامنے لے آیا جب کہ دستاویزات میں پولیس ویریفکیشن کے دوران جمع کرایا گیا کرایہ نامہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق گیسٹ ہاؤس کے لیے مکان لیاقت نامی شخص نے کرائے پر حاصل کیا تھا، مکان C-349 طاہرہ سلطانہ کی ملکیت ہے جب کہ مکان مالکن اور گیسٹ ہاؤس کے مالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ پولیس کے سافٹ ویئر ”ٹریکس“ میں بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=T1MBIbEVPSw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/T1MBIbEVPSw?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ویریفکیشن کے ریکارڈ میں موجود کرایہ نامے کے مطابق مکان کو گیسٹ ہاؤس کے لیے کرائے پر دیا گیا تھا۔ کرایہ نامے پر 2 گواہوں کے نام بھی درج ہیں، جن میں جام علی اور عاصم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہر کرایہ دار متعلقہ تھانے میں اندراج کرانے کا پابند ہوتا ہے جب کہ مذکورہ مکان کے حوالے سے پولیس ویریفکیشن کے دوران کرایہ نامہ بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا قتل کیس میں گیسٹ ہاؤس سے متعلق یہ دستاویزات اس لیے اہم ہیں کہ تفتیشی حکام واقعے سے قبل اور واقعے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد، ان کی آمد و رفت اور مکان کے استعمال سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512377/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی تھی کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے دوران آج نیوز اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس سے جڑی مزید تفصیلات بھی سامنے لے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا کے والد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ اس مشکوک گیسٹ ہاؤس پہنچنے تو ایک بچہ وہاں سے روتے ہوئے بھاگ گیا تھا۔ آج نیوز نے اس بچے کو بھی ڈھونڈ نکالا ہے، جس کی شناخت 14 سالہ شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد کا کہنا ہے کہ وہ اس گیسٹ ہاؤس میں دن کے وقت بطور ملازم کام کرتا ہے اور اس نے پولیس کو واقعے کی رات کا تمام احوال اور اپنے رونے کی اصل وجہ بتا دی ہے۔ 14 سالہ شاہد نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا کو اس واقعے سے پہلے کبھی بھی گیسٹ ہاؤس میں نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد کے مطابق، جب میر رضا کے والد گیسٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے وہاں شور مچایا تو گیسٹ ہاؤس کا دیگر عملہ پیچھے کے راستے سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512351/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شاہد نے کہا تھا کہ ”ہمیں لگا پولیس اور میڈیا کا چھاپہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے میں شدید ڈر گیا اور میں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا، جب بعد میں دروازہ کھولا تو میر رضا کے والد سامنے کھڑے تھے تاہم انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد نے گیسٹ ہاؤس کے دیگر عملے کے فرار ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر عملے نے درخت پر چڑھ کر دیوار عبور کی اور بھاگ نکلے۔ پولیس نے بعد میں فرار ہونے والے عملے کے تین میں سے دو افراد کو پکڑ لیا جب کہ ایک شخص تاحال فرار ہے۔ شاہد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس سے 6 افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن سے میر رضا کیس کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کردیا، وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ میئر کراچی نے میر رضا کی والدہ سے بات کی، متاثرہ فیملی کو شفاف انکوائری کا یقین دلایا ہے، شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ والدین نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، نئی کمیٹی ہی کیس کی تحقیقات کرے گی، فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512328/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں جب کہ پولیس ویریفکیشن میں موجود کرایہ نامہ بھی سامنے آگیا ہے۔</strong></p>
<p>میر رضا قتل کیس سے منسلک گلستان جوہر کے گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات آج نیوز سامنے لے آیا جب کہ دستاویزات میں پولیس ویریفکیشن کے دوران جمع کرایا گیا کرایہ نامہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق گیسٹ ہاؤس کے لیے مکان لیاقت نامی شخص نے کرائے پر حاصل کیا تھا، مکان C-349 طاہرہ سلطانہ کی ملکیت ہے جب کہ مکان مالکن اور گیسٹ ہاؤس کے مالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ پولیس کے سافٹ ویئر ”ٹریکس“ میں بھی موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=T1MBIbEVPSw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/T1MBIbEVPSw?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ویریفکیشن کے ریکارڈ میں موجود کرایہ نامے کے مطابق مکان کو گیسٹ ہاؤس کے لیے کرائے پر دیا گیا تھا۔ کرایہ نامے پر 2 گواہوں کے نام بھی درج ہیں، جن میں جام علی اور عاصم شامل ہیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہر کرایہ دار متعلقہ تھانے میں اندراج کرانے کا پابند ہوتا ہے جب کہ مذکورہ مکان کے حوالے سے پولیس ویریفکیشن کے دوران کرایہ نامہ بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>میر رضا قتل کیس میں گیسٹ ہاؤس سے متعلق یہ دستاویزات اس لیے اہم ہیں کہ تفتیشی حکام واقعے سے قبل اور واقعے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد، ان کی آمد و رفت اور مکان کے استعمال سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512377/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی تھی کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔</p>
<p>اس سے قبل میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے دوران آج نیوز اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس سے جڑی مزید تفصیلات بھی سامنے لے آیا ہے۔</p>
<p>میر رضا کے والد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ اس مشکوک گیسٹ ہاؤس پہنچنے تو ایک بچہ وہاں سے روتے ہوئے بھاگ گیا تھا۔ آج نیوز نے اس بچے کو بھی ڈھونڈ نکالا ہے، جس کی شناخت 14 سالہ شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔</p>
<p>شاہد کا کہنا ہے کہ وہ اس گیسٹ ہاؤس میں دن کے وقت بطور ملازم کام کرتا ہے اور اس نے پولیس کو واقعے کی رات کا تمام احوال اور اپنے رونے کی اصل وجہ بتا دی ہے۔ 14 سالہ شاہد نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا کو اس واقعے سے پہلے کبھی بھی گیسٹ ہاؤس میں نہیں دیکھا۔</p>
<p>شاہد کے مطابق، جب میر رضا کے والد گیسٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے وہاں شور مچایا تو گیسٹ ہاؤس کا دیگر عملہ پیچھے کے راستے سے فرار ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512351/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شاہد نے کہا تھا کہ ”ہمیں لگا پولیس اور میڈیا کا چھاپہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے میں شدید ڈر گیا اور میں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا، جب بعد میں دروازہ کھولا تو میر رضا کے والد سامنے کھڑے تھے تاہم انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔“</p>
<p>شاہد نے گیسٹ ہاؤس کے دیگر عملے کے فرار ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر عملے نے درخت پر چڑھ کر دیوار عبور کی اور بھاگ نکلے۔ پولیس نے بعد میں فرار ہونے والے عملے کے تین میں سے دو افراد کو پکڑ لیا جب کہ ایک شخص تاحال فرار ہے۔ شاہد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس سے 6 افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن سے میر رضا کیس کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔</p>
<p>بعد ازاں سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کردیا، وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ میئر کراچی نے میر رضا کی والدہ سے بات کی، متاثرہ فیملی کو شفاف انکوائری کا یقین دلایا ہے، شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ والدین نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، نئی کمیٹی ہی کیس کی تحقیقات کرے گی، فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512328/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔</p>
<p>عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔</p>
<p>تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512389</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 19:39:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10170806a485997.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10170806a485997.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عاطف اسلم نے موسیقی چھوڑ کر شہرت سے دوری کیوں اختیار کی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512470/why-did-atif-aslam-step-away-from-music-and-distance-himself-from-fame</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین ااقوامی شہرت یافتہ ہاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی موسیقی کو چھوڑنے کا نہیں سوچا، البتہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے تخلیقی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بھارت کے یوٹیوب چینل ’دی کرلی ٹیلز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عاطف اسلم نے اپنی کامیابی، شہرت اور موسیقی کو خیرباد کہنے کے بارے میں کھلم کھلا بات کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں اتنی شہرت کیسے ملی تو عاطف نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ، مجھے تو خود اندازہ نہیں تھا کہ میں کس طرح کامیاب ہو گیا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب کیسے ہوا.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472663'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472663"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اپنی کامیابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس کو محنت سے جوڑتے ہیں، لیکن اس میں میری کوئی محنت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ انسان کو وہاں لے جاتا ہے جہاں وہ اسے لے جانا چاہتا ہے، بس میری شہرت اور کامیابی کی یہی حقیقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اسلم کے نزدیک کامیابی ملنے کے بعد ایک فنکار پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق شروعات میں ہر کامیابی کے بعد اگلے کام کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اسلم نے کہا کہ، ’ایک گانا ہٹ ہونے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ پھر دوسرے گانے کے بعد لگتا ہے کہ بس یہی تھا، اب لوگ مجھے پسند نہیں کریں گے۔ لیکن جب پوری البم آتی ہے تو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اسلم نے اپنی شہرت میں بولی ووڈ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد بولی ووڈ نے بھی میری کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=lmVk9KrM1Q8&amp;amp;t=909s'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/lmVk9KrM1Q8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موسیقی کو خیرباد کہنے کے سوال پر عاطف اسلم نےواضح کیا کہ میں نے کبھی بھی موسیقی چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ ہاں، کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب انسان کے ذہن میں نئے خیالات آنا بند ہو جاتے ہیں، جو میرے خیال میں کسی بھی فنکار کے لیے بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس کہنے یا لکھنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو اندر سے خالی محسوس کرتا ہے ۔ عاطف کے مطابق ایسے وقت میں فنکار کچھ لکھ نہیں پاتا اور اسے ایک خاص دور سے گزرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30441758'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30441758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب خوشیوں کا پیالہ بھر جاتا ہے، اس وقت انسان کو بس خاموشی سے بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کا لطف اٹھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف نے اپنے حالیہ ریلیز ہونے والے چوتھے اسٹوڈیو البم کے گانے ’صبح آئے نہ‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ گانا ان کی ذاتی سوچ، خود کو سمجھنے اور اللہ پر یقین کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، “’صبح آئے نہ‘ خود کو تلاش کرنے اور اللہ پر ایمان کے بارے میں ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اسلم نے 18 سال بعد ایک البم پر آزادانہ طور پر کام کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ تجارتی بنیادوں پر بننے والے منصوبوں سے کچھ فاصلے پر جاکر دوبارہ اپنے لیے گانے لکھنا اور موسیقی ترتیب دینا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’میں دوبارہ صفر پر واپس آگیا ہوں، جہاں میں ہونا چاہتا تھا۔ میں وہی بے خوف شخص بننا چاہتا تھا جو صرف موسیقی ریلیز کرنا چاہتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ عاطف اسلم دنیا بھر میں اپنی بہترین اور سریلی آواز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ ان کے کئی یادگار اور جذباتی گانے آج بھی بہت شوق سے سنے جاتے ہیں۔ لوگ خاص طور پر ان کی اونچی سروں میں گانے کی صلاحیت کو بہت پسند کرتے ہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اسلم گانے گانے کے ساتھ ساتھ پاکستان، کینیڈا اور شمالی امریکہ سمیت دنیا بھر میں اپنے کنسرٹس میں بھی مشغول رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال عاطف اسلم موسیقی اور لائیو پرفارمنس کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے بقول موسیقی سے دور جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین ااقوامی شہرت یافتہ ہاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی موسیقی کو چھوڑنے کا نہیں سوچا، البتہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے تخلیقی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں بھارت کے یوٹیوب چینل ’دی کرلی ٹیلز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عاطف اسلم نے اپنی کامیابی، شہرت اور موسیقی کو خیرباد کہنے کے بارے میں کھلم کھلا بات کی ہے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں اتنی شہرت کیسے ملی تو عاطف نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ، مجھے تو خود اندازہ نہیں تھا کہ میں کس طرح کامیاب ہو گیا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب کیسے ہوا.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472663'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472663"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اپنی کامیابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس کو محنت سے جوڑتے ہیں، لیکن اس میں میری کوئی محنت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ انسان کو وہاں لے جاتا ہے جہاں وہ اسے لے جانا چاہتا ہے، بس میری شہرت اور کامیابی کی یہی حقیقت ہے۔</p>
<p>عاطف اسلم کے نزدیک کامیابی ملنے کے بعد ایک فنکار پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق شروعات میں ہر کامیابی کے بعد اگلے کام کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔</p>
<p>عاطف اسلم نے کہا کہ، ’ایک گانا ہٹ ہونے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ پھر دوسرے گانے کے بعد لگتا ہے کہ بس یہی تھا، اب لوگ مجھے پسند نہیں کریں گے۔ لیکن جب پوری البم آتی ہے تو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔‘</p>
<p>عاطف اسلم نے اپنی شہرت میں بولی ووڈ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد بولی ووڈ نے بھی میری کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=lmVk9KrM1Q8&amp;t=909s'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/lmVk9KrM1Q8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>موسیقی کو خیرباد کہنے کے سوال پر عاطف اسلم نےواضح کیا کہ میں نے کبھی بھی موسیقی چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ ہاں، کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب انسان کے ذہن میں نئے خیالات آنا بند ہو جاتے ہیں، جو میرے خیال میں کسی بھی فنکار کے لیے بہت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس کہنے یا لکھنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو اندر سے خالی محسوس کرتا ہے ۔ عاطف کے مطابق ایسے وقت میں فنکار کچھ لکھ نہیں پاتا اور اسے ایک خاص دور سے گزرنا پڑتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30441758'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30441758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب خوشیوں کا پیالہ بھر جاتا ہے، اس وقت انسان کو بس خاموشی سے بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کا لطف اٹھانا چاہیے۔</p>
<p>عاطف نے اپنے حالیہ ریلیز ہونے والے چوتھے اسٹوڈیو البم کے گانے ’صبح آئے نہ‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ گانا ان کی ذاتی سوچ، خود کو سمجھنے اور اللہ پر یقین کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، “’صبح آئے نہ‘ خود کو تلاش کرنے اور اللہ پر ایمان کے بارے میں ہے۔”</p>
<p>عاطف اسلم نے 18 سال بعد ایک البم پر آزادانہ طور پر کام کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ تجارتی بنیادوں پر بننے والے منصوبوں سے کچھ فاصلے پر جاکر دوبارہ اپنے لیے گانے لکھنا اور موسیقی ترتیب دینا چاہتے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’میں دوبارہ صفر پر واپس آگیا ہوں، جہاں میں ہونا چاہتا تھا۔ میں وہی بے خوف شخص بننا چاہتا تھا جو صرف موسیقی ریلیز کرنا چاہتا ہے۔‘</p>
<p>یاد رہے کہ عاطف اسلم دنیا بھر میں اپنی بہترین اور سریلی آواز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ ان کے کئی یادگار اور جذباتی گانے آج بھی بہت شوق سے سنے جاتے ہیں۔ لوگ خاص طور پر ان کی اونچی سروں میں گانے کی صلاحیت کو بہت پسند کرتے ہیں۔<br></p>
<p>عاطف اسلم گانے گانے کے ساتھ ساتھ پاکستان، کینیڈا اور شمالی امریکہ سمیت دنیا بھر میں اپنے کنسرٹس میں بھی مشغول رہتے ہیں۔</p>
<p>فی الحال عاطف اسلم موسیقی اور لائیو پرفارمنس کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے بقول موسیقی سے دور جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512470</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 10:03:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11094209d70939c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11094209d70939c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاطینی امریکا کے 10 تباہ کن زلزلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt;، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔</strong></p>
<p>کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/">رائٹرز کے مطابق</a>، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔</p>
<h3><a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔</p>
<p>اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔</p>
<h3><a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔</p>
<p>اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔</p>
<p>صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔</p>
<h3><a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)</strong></h3>
<p>31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔</p>
<p>یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔</p>
<h3><a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔</p>
<p>زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔</p>
<p>اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔</p>
<h3><a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔</p>
<p>جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔</p>
<p>زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔</p>
<h3><a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔</p>
<p>اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔</p>
<p>یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<h3><a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<h3><a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔</p>
<p>تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔</p>
<h3><a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔</p>
<p>جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔</p>
<p>اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔</p>
<h3><a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔</p>
<p>تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔</p>
<p>زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<h3><a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی</strong></h3>
<p>لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔</p>
<p>کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512484</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:37:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11112817b8e9662.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11112817b8e9662.webp"/>
        <media:title>(وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں زلزلے سے منہدم عمارت کا منظر، 25 جون 2026 )</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>1947 میں دبئی کس طرح پاکستان کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512233/dubai-nearly-became-part-of-pakistan-in-1947</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کے جدید اور معاشی طور پر دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے دبئی کو متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کا حصہ تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ اگر سنہ 1947 میں برطانوی حکومت کی ایک تجویز کو تسلیم کر لیا جاتا، تو آج پاکستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بالکل مختلف ہوتا اور دبئی سمیت خلیج کے کئی اہم علاقے پاکستان کا حصہ ہوتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حیرت انگیز انکشاف مشہور مؤرخ اور مصنف سیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تقسیمِ ہند کے وقت خلیجِ فارس کے یہ عرب علاقے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریز دور میں خلیجی ریاستوں کا انتظام براہِ راست لندن سے چلایا جاتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہائیوں تک دبئی سمیت خلیج کے زیادہ تر علاقوں کا نظامِ حکومت لندن کے بجائے برطانوی ہند کے دارالحکومت دہلی سے چلایا جاتا تھا اور یہ تمام علاقے عملی طور پر برطانوی ہند کی سلطنت کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'  alt=' تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیم ڈیلریمپل بتاتے ہیں کہ عدن سے لے کر کویت تک عرب کے تمام برطانوی زیرِ قبضہ علاقوں کا انتظام دہلی سے ہی چلایا جاتا تھا، جن کی نگرانی انڈین پولیٹیکل سروس کرتی تھی، وہاں انڈین فوج کی تعیناتی ہوتی تھی اور وہ سب بھارت کے وائسرائے کو جوابدہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان تمام ریاستوں کو قانونی طور پر بھارت کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور یہاں تک کہ موجودہ یمن کے شہر عدن میں بھی لوگوں کو انڈین پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ممبئی صوبے کے ماتحت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1931 میں مہاتما گاندھی نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کے کئی نوجوان عرب خود کو انڈین نیشنلسٹ یعنی تحریکِ آزادی کے حامیوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، جب 1947 میں انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑنے اور پاکستان و بھارت کی صورت میں دو خود مختار ممالک بنانے کا فیصلہ کیا، تو برطانوی حکام کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان خلیجی ریاستوں کا انتظام اب کس کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اندر ایک اہم بحث شروع ہوئی کہ کیا آزاد ہونے والے نئے ملک پاکستان کو اس خلیجِ فارس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کا جغرافیہ خلیجی ممالک کے بالکل قریب تھا اور اس کے تاریخی و مذہبی روابط بھی عرب دنیا سے گہرے تھے، اس لیے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ ان مسلم اکثریتی عرب علاقوں کو نو زائیدہ مسلم ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام دے دیا جائے یا انہیں پاکستان کی دیگر نوابی ریاستوں کی طرح اس کے وفاق میں شامل کرنے کا موقع دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، انگریزوں نے یہ خلیجی علاقے مستقبل کی حکومتوں کو دینے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اس وقت دہلی میں بیٹھے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دہلی کے عہدیداروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس میں ان کی حکومت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی انتظامیہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان عرب علاقوں کا کنٹرول مقامی لوگوں کو دینے کے حق میں نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ کے مطابق، خلیج میں مقیم ایک برطانوی باشندے ولیم ہے نے اس سوچ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ خلیجی عربوں کے معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری انڈینز یا پاکستانیوں کو سونپنا واضح طور پر نامناسب ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'  alt=' انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکام کی اس ہچکچاہٹ اور دہلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا، اور آزادی سے چند ماہ قبل، یعنی یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے ایک باقاعدہ فیصلے کے تحت دبئی سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو قانونی طور پر برطانوی ہند کی حدود سے الگ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ جب چند ماہ بعد اگست 1947 میں پاکستان اور بھارت نے اپنی حدود میں موجود سیکڑوں شاہی ریاستوں اور نوابی علاقوں کو اپنے ممالک میں شامل کرنا شروع کیا، تو یہ عرب ریاستیں اس مساوات سے باہر نکل چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، اگر اس وقت پاکستان کی قیادت خلیجی ریاستوں پر اصرار کرتی اور انگریزوں کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا، تو آج پاکستان نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ پورے خلیجِ فارس کا سب سے طاقتور ملک ہوتا اور دبئی کی تمام معاشی ترقی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہوتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کے جدید اور معاشی طور پر دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے دبئی کو متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کا حصہ تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ اگر سنہ 1947 میں برطانوی حکومت کی ایک تجویز کو تسلیم کر لیا جاتا، تو آج پاکستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بالکل مختلف ہوتا اور دبئی سمیت خلیج کے کئی اہم علاقے پاکستان کا حصہ ہوتے۔</strong></p>
<p>یہ حیرت انگیز انکشاف مشہور مؤرخ اور مصنف سیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تقسیمِ ہند کے وقت خلیجِ فارس کے یہ عرب علاقے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریز دور میں خلیجی ریاستوں کا انتظام براہِ راست لندن سے چلایا جاتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہائیوں تک دبئی سمیت خلیج کے زیادہ تر علاقوں کا نظامِ حکومت لندن کے بجائے برطانوی ہند کے دارالحکومت دہلی سے چلایا جاتا تھا اور یہ تمام علاقے عملی طور پر برطانوی ہند کی سلطنت کا حصہ تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'  alt=' تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل</figcaption>
    </figure>
<p>اس تاریخی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیم ڈیلریمپل بتاتے ہیں کہ عدن سے لے کر کویت تک عرب کے تمام برطانوی زیرِ قبضہ علاقوں کا انتظام دہلی سے ہی چلایا جاتا تھا، جن کی نگرانی انڈین پولیٹیکل سروس کرتی تھی، وہاں انڈین فوج کی تعیناتی ہوتی تھی اور وہ سب بھارت کے وائسرائے کو جوابدہ تھے۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان تمام ریاستوں کو قانونی طور پر بھارت کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور یہاں تک کہ موجودہ یمن کے شہر عدن میں بھی لوگوں کو انڈین پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ممبئی صوبے کے ماتحت تھا۔</p>
<p>اس گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1931 میں مہاتما گاندھی نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کے کئی نوجوان عرب خود کو انڈین نیشنلسٹ یعنی تحریکِ آزادی کے حامیوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، جب 1947 میں انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑنے اور پاکستان و بھارت کی صورت میں دو خود مختار ممالک بنانے کا فیصلہ کیا، تو برطانوی حکام کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان خلیجی ریاستوں کا انتظام اب کس کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اندر ایک اہم بحث شروع ہوئی کہ کیا آزاد ہونے والے نئے ملک پاکستان کو اس خلیجِ فارس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟</p>
<p>سیم ڈیلریمپل نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کا جغرافیہ خلیجی ممالک کے بالکل قریب تھا اور اس کے تاریخی و مذہبی روابط بھی عرب دنیا سے گہرے تھے، اس لیے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ ان مسلم اکثریتی عرب علاقوں کو نو زائیدہ مسلم ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام دے دیا جائے یا انہیں پاکستان کی دیگر نوابی ریاستوں کی طرح اس کے وفاق میں شامل کرنے کا موقع دیا جائے۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، انگریزوں نے یہ خلیجی علاقے مستقبل کی حکومتوں کو دینے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اس وقت دہلی میں بیٹھے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دہلی کے عہدیداروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس میں ان کی حکومت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی انتظامیہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان عرب علاقوں کا کنٹرول مقامی لوگوں کو دینے کے حق میں نہیں تھے۔</p>
<p>کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ کے مطابق، خلیج میں مقیم ایک برطانوی باشندے ولیم ہے نے اس سوچ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ خلیجی عربوں کے معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری انڈینز یا پاکستانیوں کو سونپنا واضح طور پر نامناسب ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'  alt=' انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل)</figcaption>
    </figure>
<p>برطانوی حکام کی اس ہچکچاہٹ اور دہلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا، اور آزادی سے چند ماہ قبل، یعنی یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے ایک باقاعدہ فیصلے کے تحت دبئی سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو قانونی طور پر برطانوی ہند کی حدود سے الگ کر دیا۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ جب چند ماہ بعد اگست 1947 میں پاکستان اور بھارت نے اپنی حدود میں موجود سیکڑوں شاہی ریاستوں اور نوابی علاقوں کو اپنے ممالک میں شامل کرنا شروع کیا، تو یہ عرب ریاستیں اس مساوات سے باہر نکل چکی تھیں۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، اگر اس وقت پاکستان کی قیادت خلیجی ریاستوں پر اصرار کرتی اور انگریزوں کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا، تو آج پاکستان نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ پورے خلیجِ فارس کا سب سے طاقتور ملک ہوتا اور دبئی کی تمام معاشی ترقی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہوتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512233</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 10:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09105544bd657f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09105544bd657f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا عام تعطیل کا اعلان، ایک ساتھ 3 چھٹیاں ملیں گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512391/government-announces-public-holiday-3-holidays-will-be-available-at-once</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی پر سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے تحت شہری ایک ساتھ 3 چھٹیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتِ سندھ نے یومِ آزادی پاکستان  کے موقع پر 14 اگست 2026 بروز جمعے کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیل کے دوران صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اور دفاتر مکمل طور پر بند رہیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2086751543727178072?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2086751543727178072?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا اطلاق صرف سرکاری محکموں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام کارپوریشنز اور لوکل کونسلز کے دفاتر بھی اس دن بند رہیں گے اور معمول کا دفتری کام معطل رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام تعطیل کا یہ فیصلہ قومی دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے کیا گیا ہے تاہم وہ تمام ادارے جو عوام کو انتہائی ضروری خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ 14 اگست جمعہ کے روز آ رہا ہے اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی معمول کی تعطیلات ہیں، اس لیے شہری ایک ساتھ 3 چھٹیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی پر سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے تحت شہری ایک ساتھ 3 چھٹیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔</strong></p>
<p>حکومتِ سندھ نے یومِ آزادی پاکستان  کے موقع پر 14 اگست 2026 بروز جمعے کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیل کے دوران صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے اور دفاتر مکمل طور پر بند رہیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sindhinfodepart/status/2086751543727178072?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhinfodepart/status/2086751543727178072?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس فیصلے کا اطلاق صرف سرکاری محکموں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام کارپوریشنز اور لوکل کونسلز کے دفاتر بھی اس دن بند رہیں گے اور معمول کا دفتری کام معطل رہے گا۔</p>
<p>عام تعطیل کا یہ فیصلہ قومی دن کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے کیا گیا ہے تاہم وہ تمام ادارے جو عوام کو انتہائی ضروری خدمات فراہم کرتے ہیں، وہ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>چونکہ 14 اگست جمعہ کے روز آ رہا ہے اور اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کی معمول کی تعطیلات ہیں، اس لیے شہری ایک ساتھ 3 چھٹیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512391</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 17:37:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/101736517099430.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/101736517099430.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معروف 73 سالہ بھارتی فلم ساز ریپ اور جنسی ہراسانی کے مقدمے میں گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512347/shakeel-noorani-bollywood-news-mumbai-police-rape-case-sexual-assault-blackmailing-case-film-industry</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ممبئی پولیس نے بالی ووڈ کے 73 سالہ فلم ساز شکیل نورانی کو جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک 33 سالہ اداکارہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/movies/celebrities/story/73-year-old-filmmaker-shakeel-noorani-arrested-on-rape-sexual-assault-charges-2967428-2026-08-10"&gt;انڈیا ٹوڈے کے مطابق&lt;/a&gt; فلم ساز شکیل نورانی گزشتہ تقریباً 40 دنوں سے پولیس کو چکمہ دے کر فرار تھے، جنہیں بالآخر مہاراشٹر کے ضلع ستارہ کے ایک فارم ہاؤس سے کافی تلاش کے بعد حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/136228/%D8%A7%DA%86%D8%A7%D9%86%DA%A9-%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%88%DA%88-%D8%B3%DB%92-%D8%BA%D8%A7%D8%A6%D8%A8-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C-10-%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/136228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس میں جمع کرائی گئی شکایت کے مطابق اداکارہ کا شکیل نورانی سے پہلا رابطہ 2016 میں ہوا تھا۔ اداکارہ نے الزام لگایا ہے کہ فلم ساز نے ان کا سالوں تک بار بار جنسی استحصال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ شکیل نورانی نے انہیں نشہ آور ادویات دیں اور قابل اعتراض حالات میں ان کی ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ شکیل نورانی ان ویڈیوز کو عام کرنے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کرتے رہے اور ان مبینہ واقعات کے نتیجے میں ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس درج ہونے کے بعد پولیس نے فلم ساز شکیل نورانی کی تلاش شروع کی اور مسلسل چھاپے مارنے کے بعد انہیں ریاست مہاراشٹرکے ضلع ستارا سے گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101138331e4c96f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101138331e4c96f.webp'  alt=' (فلم ساز شکیل نورانی) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(فلم ساز شکیل نورانی)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ گھگے نے شکیل نورانی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے اور قانون کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ شکیل نورانی کے خلاف بھارتیہ نَیائے سنہیتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476868/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476868"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شکیل نورانی بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک معروف نام رہے ہیں اور انہوں نے 1999 میں  ’بڑے دل والا‘ اور 2000 میں مشہور بالی ووڈ فلم ’جورو کا غلام‘ میں بطور ہدایت کاراور فلم پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ان کے وکیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔ اس وقت فلم ساز شکیل نورانی پولیس تحویل میں ہیں۔ پولیس معاملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیق کر رہی ہے، جبکہ تمام الزامات کا عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ممبئی پولیس نے بالی ووڈ کے 73 سالہ فلم ساز شکیل نورانی کو جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک 33 سالہ اداکارہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/movies/celebrities/story/73-year-old-filmmaker-shakeel-noorani-arrested-on-rape-sexual-assault-charges-2967428-2026-08-10">انڈیا ٹوڈے کے مطابق</a> فلم ساز شکیل نورانی گزشتہ تقریباً 40 دنوں سے پولیس کو چکمہ دے کر فرار تھے، جنہیں بالآخر مہاراشٹر کے ضلع ستارہ کے ایک فارم ہاؤس سے کافی تلاش کے بعد حراست میں لیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/136228/%D8%A7%DA%86%D8%A7%D9%86%DA%A9-%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%88%DA%88-%D8%B3%DB%92-%D8%BA%D8%A7%D8%A6%D8%A8-%DB%81%D9%88%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C-10-%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/136228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس میں جمع کرائی گئی شکایت کے مطابق اداکارہ کا شکیل نورانی سے پہلا رابطہ 2016 میں ہوا تھا۔ اداکارہ نے الزام لگایا ہے کہ فلم ساز نے ان کا سالوں تک بار بار جنسی استحصال کیا۔</p>
<p>اداکارہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ شکیل نورانی نے انہیں نشہ آور ادویات دیں اور قابل اعتراض حالات میں ان کی ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ شکیل نورانی ان ویڈیوز کو عام کرنے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کرتے رہے اور ان مبینہ واقعات کے نتیجے میں ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا تھا۔</p>
<p>کیس درج ہونے کے بعد پولیس نے فلم ساز شکیل نورانی کی تلاش شروع کی اور مسلسل چھاپے مارنے کے بعد انہیں ریاست مہاراشٹرکے ضلع ستارا سے گرفتار کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101138331e4c96f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101138331e4c96f.webp'  alt=' (فلم ساز شکیل نورانی) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(فلم ساز شکیل نورانی)</figcaption>
    </figure>
<p>ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ گھگے نے شکیل نورانی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے اور قانون کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ شکیل نورانی کے خلاف بھارتیہ نَیائے سنہیتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476868/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476868"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شکیل نورانی بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک معروف نام رہے ہیں اور انہوں نے 1999 میں  ’بڑے دل والا‘ اور 2000 میں مشہور بالی ووڈ فلم ’جورو کا غلام‘ میں بطور ہدایت کاراور فلم پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب ان کے وکیل نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔ اس وقت فلم ساز شکیل نورانی پولیس تحویل میں ہیں۔ پولیس معاملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیق کر رہی ہے، جبکہ تمام الزامات کا عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512347</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 12:32:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/1013190598c6c3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/1013190598c6c3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کی ’بے کار‘ ڈگریاں: بے روزگاری میں سب سے آگے کون سے شعبے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512370/employment-higher-education-uk-education-university-degrees-graduate-student-loans-career-prospects-degree</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ رپورٹ برطانیہ کے تعلیمی نظام کے ایک ایسے پہلو کا احاطہ کرتی ہے جو ہزاروں نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلوں پر اہم سوالات اٹھاتا ہے، یونیورسٹی کی ڈگری کو عموماً بہتر ملازمت، اچھی آمدنی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک تازہ تجزیے نے اس تصور پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے معروف پلیٹ فارم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dailymail.com/news/article-16040165/Britains-worst-degrees-graduates-work.html"&gt;ڈیلی میل&lt;/a&gt; کے تازہ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی کچھ معروف یونیورسٹیوں کے شعبوں میں ہر چار میں سے ایک طالب علم کو پانچ سال گزرنے کے بعد بھی باقاعدہ روزگار نہیں مل سکا۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال کریئیٹو آرٹس، ڈیزائن، بزنس، قانون اور سائیکولوجی جیسے شعبوں میں دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض یونیورسٹیوں میں تو حالات اس حد تک خراب ہیں کہ وہاں کے گریجویٹس کی اکثریت یا تو بے روزگار ہے یا پھر بہت ہی معمولی آمدنی پر کام کرنے پر مجبور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اس فہرست میں سب سے اوپر یونیورسٹی آف ویسٹ لندن کے کری ایٹو آرٹس اینڈ ڈیزائن سے متعلق کورسز ہیں، جہاں 23.7 فیصد گریجویٹس ڈگری مکمل کرنے کے پانچ سال بعد مستقل روزگار، مزید تعلیم یا خود روزگاری کے دائرے میں نہیں تھے۔ اس گروپ میں ملازمت کرنے والے گریجویٹس کی درمیانی سالانہ تنخواہ 24,900 پاؤنڈ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے نمبر پر یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز رہے، جہاں 22.6 فیصد گریجویٹس مطلوبہ مستقل روزگار یا مزید تعلیم میں نہیں تھے۔ فہرست میں شامل تمام 20 کورس گروپس میں کم از کم ہر چھ میں سے ایک گریجویٹ اس صورتحال سے دوچار تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101456192d52a7e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101456192d52a7e.webp'  alt=' (اعدادوشمار بشکریہ ڈیلی میل) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(اعدادوشمار بشکریہ ڈیلی میل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں معاملہ صرف ملازمت نہ ملنے تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں یونیورسٹی کی تعلیم کئی طلبہ کو بھاری قرض کے ساتھ عملی زندگی میں داخل کرتی ہے۔ بہت سے گریجویٹس کی تعلیمی قرض کی رقم 50 ہزار پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ تین سال کی ٹیوشن فیس ہی ہر سال 9 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان اعداد و شمار کو سمجھتے ہوئے ایک اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر کم روزگار شرح کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ڈگری بے فائدہ ہے۔ بعض شعبوں، خصوصاً تخلیقی صنعتوں میں، گریجویٹس مستقل نوکری کے بجائے فری لانس کام، خود روزگاری، مختصر مدتی منصوبوں اور مختلف پروجیکٹس سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کام روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں ہمیشہ پوری طرح نظر نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471166'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471166"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، مختلف یونیورسٹیوں کے نتائج یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ایک ہی شعبے میں پڑھائی کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے نتائج یونیورسٹی کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیمبرج یونیورسٹی کے ویٹرنری سائنسز کے گریجویٹس میں اس ڈیٹا سیٹ کے مطابق بے روزگاری ریکارڈ نہیں ہوئی، جبکہ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے کمپیوٹنگ کورسز میں صرف 2.1 فیصد گریجویٹس مستقل روزگار یا مزید تعلیم کے دائرے سے باہر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح برسٹل یونیورسٹی کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز میں یہ شرح 3 فیصد رہی۔ اس کے برعکس لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ کورسز میں 19.7 فیصد گریجویٹس اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے، جبکہ مڈل سیکس یونیورسٹی کے قانون اور یونیورسٹی آف گریٹر مانچسٹر کے نفسیات کے کورسز میں یہ شرح 17.3 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے میں استعمال ہونے والے اعداد و شمار برطانیہ کے محکمہ تعلیم کے ’لانگی ٹیوڈینل ایجوکیشن آؤٹ کمز‘ یعنی ’لیو‘ ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔ اس نظام میں ٹیکس اور سرکاری فوائد کے ریکارڈ کی مدد سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے افراد آگے چل کر روزگار اور تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے میں 18-2017 میں گریجویشن کرنے والے طلبہ کی 24-2023 کی صورتحال دیکھی گئی، جو اس وقت دستیاب تازہ ترین ڈیٹا تھا۔ ان افراد کو شمار کیا گیا جو برطانیہ میں رہ رہے تھے لیکن مستقل ملازمت، مزید تعلیم یا خود روزگاری میں نہیں تھے۔ ایسے افراد بھی اس زمرے میں آ سکتے تھے جنہیں کبھی کبھار کام تو ملتا تھا لیکن مسلسل روزگار حاصل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکومت نے بھی یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی ایک قابلِ قدر سرمایہ کاری ہے، لیکن بہت سے کورسز طلبہ سے کیے گئے وعدوں کے مطابق نتائج نہیں دے رہے۔ حکومت کم معیار کے کورسز کے خلاف کارروائی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے راستوں کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469232'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومت 14 سال کی عمر سے مزید پیشہ ورانہ تعلیمی راستے متعارف کرانے اور 16 سال کی عمر سے نئے ’وی لیولز‘ شروع کرنے کے منصوبے بھی پیش کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ طلبہ کے مالی تعاون تک رسائی کے لیے جی سی ایس ای انگریزی میں کم از کم پاس گریڈ کی شرط پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر سیاسی اختلاف بھی موجود ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی تعلیم سے متعلق ترجمان لورا ٹروٹ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان یونیورسٹی سے بھاری قرض لے کر نکل رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے ملازمت کے مناسب مواقع نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یونیورسٹیوں کی نمائندہ تنظیم ’یونیورسٹیز یو کے‘ کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی زیادہ تر لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ تنظیم کے مطابق گریجویٹس کو ڈگری کے باعث حاصل ہونے والا اضافی آمدنی کا فائدہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ مجموعی معاشی حالات نے اجرتوں میں اضافے کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود متعلقہ یونیورسٹیوں نے بھی اس تجزیے کے نتائج کو موجودہ صورتحال کی مکمل عکاسی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کا کہنا ہے کہ اس نے 2018 کے بعد اپنے نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں اور حالیہ نتائج میں گریجویٹس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے بھی تدریس، طلبہ کی معاونت اور روزگار سے متعلق سہولتوں میں نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی کے مطابق تجزیے میں استعمال ہونے والا ڈیٹا آج پڑھائے جانے والے تمام کورسز کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ اس وقت شامل کیے گئے بعض مضامین اب یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے بھی کری ایٹو آرٹس کے گریجویٹس کے حوالے سے کہا کہ اس شعبے میں فری لانس، خود روزگاری اور مختصر مدتی کام عام ہیں، جنہیں روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں مکمل طور پر ریکارڈ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں یہ رپورٹ نوجوانوں کے سامنے ایک اہم سوال ضرور رکھتی ہے، لیکن اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ یونیورسٹی جانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا کورس، کس یونیورسٹی میں، کس معیار کے ساتھ اور مستقبل کے کن مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کا انتخاب کرتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ داخلے کے لیے کتنے گریڈ درکار ہیں یا ڈگری کا نام کیا ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کورس کے بعد طلبہ کو نوکری کتنی آسانی سے ملتی ہے، ان کی آمدنی کتنی ہوتی ہے اور آگے روزگار کے مواقع کیسے ہیں، کیونکہ ایک ہی مضمون مختلف یونیورسٹیوں میں بالکل مختلف نتائج دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈگری نہ تو کامیابی کی ضمانت ہے اور نہ ناکامی کی، لیکن درست معلومات کے بغیر کیا گیا تعلیمی فیصلہ مستقبل پر ضرور بھاری پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ رپورٹ برطانیہ کے تعلیمی نظام کے ایک ایسے پہلو کا احاطہ کرتی ہے جو ہزاروں نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلوں پر اہم سوالات اٹھاتا ہے، یونیورسٹی کی ڈگری کو عموماً بہتر ملازمت، اچھی آمدنی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک تازہ تجزیے نے اس تصور پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>برطانیہ کے معروف پلیٹ فارم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dailymail.com/news/article-16040165/Britains-worst-degrees-graduates-work.html">ڈیلی میل</a> کے تازہ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی کچھ معروف یونیورسٹیوں کے شعبوں میں ہر چار میں سے ایک طالب علم کو پانچ سال گزرنے کے بعد بھی باقاعدہ روزگار نہیں مل سکا۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال کریئیٹو آرٹس، ڈیزائن، بزنس، قانون اور سائیکولوجی جیسے شعبوں میں دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>بعض یونیورسٹیوں میں تو حالات اس حد تک خراب ہیں کہ وہاں کے گریجویٹس کی اکثریت یا تو بے روزگار ہے یا پھر بہت ہی معمولی آمدنی پر کام کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اس فہرست میں سب سے اوپر یونیورسٹی آف ویسٹ لندن کے کری ایٹو آرٹس اینڈ ڈیزائن سے متعلق کورسز ہیں، جہاں 23.7 فیصد گریجویٹس ڈگری مکمل کرنے کے پانچ سال بعد مستقل روزگار، مزید تعلیم یا خود روزگاری کے دائرے میں نہیں تھے۔ اس گروپ میں ملازمت کرنے والے گریجویٹس کی درمیانی سالانہ تنخواہ 24,900 پاؤنڈ رہی۔</p>
<p>دوسرے نمبر پر یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز رہے، جہاں 22.6 فیصد گریجویٹس مطلوبہ مستقل روزگار یا مزید تعلیم میں نہیں تھے۔ فہرست میں شامل تمام 20 کورس گروپس میں کم از کم ہر چھ میں سے ایک گریجویٹ اس صورتحال سے دوچار تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101456192d52a7e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/101456192d52a7e.webp'  alt=' (اعدادوشمار بشکریہ ڈیلی میل) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(اعدادوشمار بشکریہ ڈیلی میل)</figcaption>
    </figure>
<p>یہاں معاملہ صرف ملازمت نہ ملنے تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں یونیورسٹی کی تعلیم کئی طلبہ کو بھاری قرض کے ساتھ عملی زندگی میں داخل کرتی ہے۔ بہت سے گریجویٹس کی تعلیمی قرض کی رقم 50 ہزار پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ تین سال کی ٹیوشن فیس ہی ہر سال 9 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم، ان اعداد و شمار کو سمجھتے ہوئے ایک اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر کم روزگار شرح کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ڈگری بے فائدہ ہے۔ بعض شعبوں، خصوصاً تخلیقی صنعتوں میں، گریجویٹس مستقل نوکری کے بجائے فری لانس کام، خود روزگاری، مختصر مدتی منصوبوں اور مختلف پروجیکٹس سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کام روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں ہمیشہ پوری طرح نظر نہیں آتے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471166'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471166"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف، مختلف یونیورسٹیوں کے نتائج یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ایک ہی شعبے میں پڑھائی کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے نتائج یونیورسٹی کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیمبرج یونیورسٹی کے ویٹرنری سائنسز کے گریجویٹس میں اس ڈیٹا سیٹ کے مطابق بے روزگاری ریکارڈ نہیں ہوئی، جبکہ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے کمپیوٹنگ کورسز میں صرف 2.1 فیصد گریجویٹس مستقل روزگار یا مزید تعلیم کے دائرے سے باہر تھے۔</p>
<p>اسی طرح برسٹل یونیورسٹی کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز میں یہ شرح 3 فیصد رہی۔ اس کے برعکس لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ کورسز میں 19.7 فیصد گریجویٹس اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے، جبکہ مڈل سیکس یونیورسٹی کے قانون اور یونیورسٹی آف گریٹر مانچسٹر کے نفسیات کے کورسز میں یہ شرح 17.3 فیصد تھی۔</p>
<p>تجزیے میں استعمال ہونے والے اعداد و شمار برطانیہ کے محکمہ تعلیم کے ’لانگی ٹیوڈینل ایجوکیشن آؤٹ کمز‘ یعنی ’لیو‘ ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔ اس نظام میں ٹیکس اور سرکاری فوائد کے ریکارڈ کی مدد سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے افراد آگے چل کر روزگار اور تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔</p>
<p>تجزیے میں 18-2017 میں گریجویشن کرنے والے طلبہ کی 24-2023 کی صورتحال دیکھی گئی، جو اس وقت دستیاب تازہ ترین ڈیٹا تھا۔ ان افراد کو شمار کیا گیا جو برطانیہ میں رہ رہے تھے لیکن مستقل ملازمت، مزید تعلیم یا خود روزگاری میں نہیں تھے۔ ایسے افراد بھی اس زمرے میں آ سکتے تھے جنہیں کبھی کبھار کام تو ملتا تھا لیکن مسلسل روزگار حاصل نہیں تھا۔</p>
<p>برطانوی حکومت نے بھی یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی ایک قابلِ قدر سرمایہ کاری ہے، لیکن بہت سے کورسز طلبہ سے کیے گئے وعدوں کے مطابق نتائج نہیں دے رہے۔ حکومت کم معیار کے کورسز کے خلاف کارروائی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے راستوں کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469232'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکومت 14 سال کی عمر سے مزید پیشہ ورانہ تعلیمی راستے متعارف کرانے اور 16 سال کی عمر سے نئے ’وی لیولز‘ شروع کرنے کے منصوبے بھی پیش کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ طلبہ کے مالی تعاون تک رسائی کے لیے جی سی ایس ای انگریزی میں کم از کم پاس گریڈ کی شرط پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس معاملے پر سیاسی اختلاف بھی موجود ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی تعلیم سے متعلق ترجمان لورا ٹروٹ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان یونیورسٹی سے بھاری قرض لے کر نکل رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے ملازمت کے مناسب مواقع نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب یونیورسٹیوں کی نمائندہ تنظیم ’یونیورسٹیز یو کے‘ کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی زیادہ تر لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ تنظیم کے مطابق گریجویٹس کو ڈگری کے باعث حاصل ہونے والا اضافی آمدنی کا فائدہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ مجموعی معاشی حالات نے اجرتوں میں اضافے کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>خود متعلقہ یونیورسٹیوں نے بھی اس تجزیے کے نتائج کو موجودہ صورتحال کی مکمل عکاسی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کا کہنا ہے کہ اس نے 2018 کے بعد اپنے نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں اور حالیہ نتائج میں گریجویٹس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے بھی تدریس، طلبہ کی معاونت اور روزگار سے متعلق سہولتوں میں نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی کے مطابق تجزیے میں استعمال ہونے والا ڈیٹا آج پڑھائے جانے والے تمام کورسز کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ اس وقت شامل کیے گئے بعض مضامین اب یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے بھی کری ایٹو آرٹس کے گریجویٹس کے حوالے سے کہا کہ اس شعبے میں فری لانس، خود روزگاری اور مختصر مدتی کام عام ہیں، جنہیں روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں مکمل طور پر ریکارڈ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یوں یہ رپورٹ نوجوانوں کے سامنے ایک اہم سوال ضرور رکھتی ہے، لیکن اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ یونیورسٹی جانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا کورس، کس یونیورسٹی میں، کس معیار کے ساتھ اور مستقبل کے کن مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔</p>
<p>یونیورسٹی کا انتخاب کرتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ داخلے کے لیے کتنے گریڈ درکار ہیں یا ڈگری کا نام کیا ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کورس کے بعد طلبہ کو نوکری کتنی آسانی سے ملتی ہے، ان کی آمدنی کتنی ہوتی ہے اور آگے روزگار کے مواقع کیسے ہیں، کیونکہ ایک ہی مضمون مختلف یونیورسٹیوں میں بالکل مختلف نتائج دے سکتا ہے۔</p>
<p>ڈگری نہ تو کامیابی کی ضمانت ہے اور نہ ناکامی کی، لیکن درست معلومات کے بغیر کیا گیا تعلیمی فیصلہ مستقبل پر ضرور بھاری پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512370</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 15:09:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/1015040480aa71e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/1015040480aa71e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10150402bd59a89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10150402bd59a89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ویڈیوز سے ٹیلر سوئفٹ کے گانے ہٹا دیے گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512324/taylor-swift-donald-trump-kamala-harris-kamala-harris-social-media-trump-campaign-white-house</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے بعض گانے ان ویڈیوز سے ہٹا دیے گئے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس اور انتخابی مہم کے دوران ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو متعدد بار پس منظر کی موسیقی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، تاہم اب بعض ویڈیوز سے یہ گانے ہٹا دیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/taylor-swift-songs-removed-white-house-trump-campaign-posts-2026-08-09/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; اس معاملے پر وائٹ ہاؤس اور گلوکارہ کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گانے ویڈیوز سے کیوں ہٹائے گئے اور آیا اس سلسلے میں سوئفٹ یا ان کی ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ اعتراض کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلر سوئفٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلاف نیا نہیں ہے۔ اگرچہ گلوکارہ نے حالیہ دنوں میں کوئی تازہ بیان نہیں دیا، لیکن 2024 کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہریس کی حمایت کی تھی۔ اس سے پہلے 2020 کی انتخابی مہم کے دوران بھی ٹیلر سوئفٹ نے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی شدید مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509729/taylor-swift-travis-kelce-taylor-swift-wedding-wedding-photos-hollywood-news-pop-star'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوئفٹ کی جانب سے کملا ہیرس کی حمایت کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر لکھا تھا کہ وہ ٹیلر سوئفٹ سے نفرت کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے سوئفٹ کی مقبولیت اور ظاہری کشش کے بارے میں بھی تنقیدی تبصرہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موسیقی کے استعمال کا معاملہ صرف سوئفٹ تک محدود نہیں رہا۔ کئی دوسرے معروف فنکار بھی انتظامیہ سے اپنی موسیقی استعمال نہ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔ ان میں سبریانا کارپنٹر اور اریانا گرانڈے سمیت متعدد فنکار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر سوئفٹ کے دو گانوں کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی۔ ویڈیو میں سوئفٹ کے مشہور گانوں کے ناموں اور ان کے بول کو سیاسی انداز میں تبدیل کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں اور سیاسی مخالفین پر طنز کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی سرحد، سابق صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی انتظامیہ سمیت مختلف سیاسی موضوعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے جون میں بھی ٹرمپ کی مہم نے ٹیلر سوئفٹ کے ایک نئے گانے کو استعمال کرتے ہوئے ایک مختصر ویڈیو شائع کی تھی۔ اس ویڈیو میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں بچوں کے ساتھ ملاقات کرتے، ایک یو ایف سی مقابلے کے دوران رقص کرتے اور سیاسی ریلی سے خطاب کرتے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ ٹرمپ کو امریکا اور امریکی عوام سے محبت کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں آرٹیمس ٹو مشن کے عملے کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات دکھائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں سوئفٹ کا گانا ’ہائی انفائیڈیلیٹی‘ استعمال کیا گیا تھا اور گانے کے بول کو ویڈیو کے تناظر میں شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507393/donald-trumps-unusual-gift-for-taylor-swift-and-travis-kelce'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507393"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل نومبر میں وائٹ ہاؤس کے ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے ایسی ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی جس میں سوئفٹ کے البم ’دی لائف آف شوگرل‘ کا گانا ’دی فیٹ آف اوفیلیا‘ استعمال کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی پرچم، مختلف امریکی یادگاروں اور صدر ٹرمپ کی تصاویر شامل تھیں، جن میں ان کی 2023 کی گرفتاری کے وقت لی گئی تصویر بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کی کمیونیکیشن ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر مقبول گانوں اور سیاسی یا حکومتی سرگرمیوں کی تصاویر کو ملا کر ویڈیوز شائع کرتی رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے موضوعات بھی شامل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو ٹرمپ مہم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعمال کیے جانے اور بعد میں بعض ویڈیوز سے ہٹائے جانے کی تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر سیاست میں معروف فنکاروں کی موسیقی کے استعمال کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، سوئفٹ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مخصوص معاملے پر باضابطہ وضاحت سامنے آنے تک یہ واضح نہیں ہے کہ گانے ہٹانے کی اصل وجہ کیا تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے بعض گانے ان ویڈیوز سے ہٹا دیے گئے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کی گئی تھیں۔ وائٹ ہاؤس اور انتخابی مہم کے دوران ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو متعدد بار پس منظر کی موسیقی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، تاہم اب بعض ویڈیوز سے یہ گانے ہٹا دیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/taylor-swift-songs-removed-white-house-trump-campaign-posts-2026-08-09/">رائٹرز کے مطابق</a> اس معاملے پر وائٹ ہاؤس اور گلوکارہ کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گانے ویڈیوز سے کیوں ہٹائے گئے اور آیا اس سلسلے میں سوئفٹ یا ان کی ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ اعتراض کیا گیا تھا۔</p>
<p>ٹیلر سوئفٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلاف نیا نہیں ہے۔ اگرچہ گلوکارہ نے حالیہ دنوں میں کوئی تازہ بیان نہیں دیا، لیکن 2024 کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہریس کی حمایت کی تھی۔ اس سے پہلے 2020 کی انتخابی مہم کے دوران بھی ٹیلر سوئفٹ نے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی شدید مخالفت کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509729/taylor-swift-travis-kelce-taylor-swift-wedding-wedding-photos-hollywood-news-pop-star'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوئفٹ کی جانب سے کملا ہیرس کی حمایت کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر لکھا تھا کہ وہ ٹیلر سوئفٹ سے نفرت کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے سوئفٹ کی مقبولیت اور ظاہری کشش کے بارے میں بھی تنقیدی تبصرہ کیا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موسیقی کے استعمال کا معاملہ صرف سوئفٹ تک محدود نہیں رہا۔ کئی دوسرے معروف فنکار بھی انتظامیہ سے اپنی موسیقی استعمال نہ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔ ان میں سبریانا کارپنٹر اور اریانا گرانڈے سمیت متعدد فنکار شامل ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر سوئفٹ کے دو گانوں کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی۔ ویڈیو میں سوئفٹ کے مشہور گانوں کے ناموں اور ان کے بول کو سیاسی انداز میں تبدیل کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں اور سیاسی مخالفین پر طنز کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی سرحد، سابق صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی انتظامیہ سمیت مختلف سیاسی موضوعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔</p>
<p>اس سے پہلے جون میں بھی ٹرمپ کی مہم نے ٹیلر سوئفٹ کے ایک نئے گانے کو استعمال کرتے ہوئے ایک مختصر ویڈیو شائع کی تھی۔ اس ویڈیو میں ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں بچوں کے ساتھ ملاقات کرتے، ایک یو ایف سی مقابلے کے دوران رقص کرتے اور سیاسی ریلی سے خطاب کرتے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ ٹرمپ کو امریکا اور امریکی عوام سے محبت کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اپریل میں بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں آرٹیمس ٹو مشن کے عملے کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات دکھائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں سوئفٹ کا گانا ’ہائی انفائیڈیلیٹی‘ استعمال کیا گیا تھا اور گانے کے بول کو ویڈیو کے تناظر میں شامل کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507393/donald-trumps-unusual-gift-for-taylor-swift-and-travis-kelce'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507393"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل نومبر میں وائٹ ہاؤس کے ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے ایسی ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی جس میں سوئفٹ کے البم ’دی لائف آف شوگرل‘ کا گانا ’دی فیٹ آف اوفیلیا‘ استعمال کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں امریکی پرچم، مختلف امریکی یادگاروں اور صدر ٹرمپ کی تصاویر شامل تھیں، جن میں ان کی 2023 کی گرفتاری کے وقت لی گئی تصویر بھی شامل تھی۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کی کمیونیکیشن ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر مقبول گانوں اور سیاسی یا حکومتی سرگرمیوں کی تصاویر کو ملا کر ویڈیوز شائع کرتی رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری جیسے موضوعات بھی شامل رہے ہیں۔</p>
<p>ٹیلر سوئفٹ کے گانوں کو ٹرمپ مہم اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعمال کیے جانے اور بعد میں بعض ویڈیوز سے ہٹائے جانے کی تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر سیاست میں معروف فنکاروں کی موسیقی کے استعمال کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم، سوئفٹ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مخصوص معاملے پر باضابطہ وضاحت سامنے آنے تک یہ واضح نہیں ہے کہ گانے ہٹانے کی اصل وجہ کیا تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512324</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 09:15:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10091028704b712.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10091028704b712.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/100926469b8079e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/100926469b8079e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی ماڈلز کی پے در پے بغاوت میں اسرائیل کا نام سامنے آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512356/israel-artificial-intelligence-tel-aviv-meta-ai-open-ai-anthropic-ai-security-irregular</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے آئی کی دنیا میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔  اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا کے اے آئی ماڈلزسیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اپنے قواعد و ضوابط سے باہر نکل گئے اورکچھ ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے دوسری کمپنیوں اور سسٹمز کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام بظاہر الگ الگ واقعات میں ایک بات مشترک پائی گئی ہے، اور وہ ہے اسرائیل کا ایک نیا سیکیورٹی ٹیسٹنگ اسٹارٹ اپ جس کا نام ”اِرریگولر“ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510698/artificial-intelligence-openai-cybersecurity-hugging-face-ai-agents-ai-security-modal-labs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اِرریگولر ایک ایسی کمپنی ہے جس کی ٹیکنالوجی اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے جہاں وہ اپنے ماڈلز کو آزما سکیں اور دیکھ سکیں کہ ان میں کوئی خامی تو موجود نہیں اور مختلف حالات میں وہ کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین سال قبل تل ابیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کی بنیاد آئی بی ایم اور گوگل کے سابق ماہرین نے رکھی تھی، جبکہ گزشتہ سال ایک فنڈنگ راؤنڈ کے بعد اس کی قدر تقریباً 450 ملین ڈالر لگائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام تنازعات اس وقت شروع ہوئے جب اے آئی ماڈلز کو ایک ایسے محدود ماحول میں ٹیسٹ کیا جا رہا تھا جس کا انٹرنیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ باہر کی دنیا میں کوئی اثر نہ ڈال سکیں۔ تاہم اِرریگولر کے سسٹمز میں سیٹنگز کی کچھ خرابیوں کی وجہ سے ان ماڈلز کو غلطی سے انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ جیسے ہی ماڈلز کو انٹرنیٹ ملا، انہوں نے اسے بھی ٹیسٹنگ کا حصہ سمجھا اور اصلی ویب سائٹس اور دیگر اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں گھس کر خامیاں تلاش کرنا اور انہیں ہیک کرنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510998/artificial-intelligence-hacked-data-breach-cybersecurity-anthropic-claude-claude-ai-ai-security-hacked-by-claude'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک نے سب سے پہلے بتایا کہ اس کے ماڈل نے تین مختلف اداروں کے سسٹمز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد اوپن اے آئی اور حال ہی میں میٹا نے بھی اعتراف کیا کہ ان کا ماڈل اِرریگولر کے ماحول میں ٹیسٹنگ کے دوران انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور دیگر سسٹمز میں گھس گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اِرریگولر کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ایک ہی فنی خرابی کی وجہ سے پیش آئے اور یہ کوئی انتہائی پیچیدہ سائبر حملہ نہیں تھا، نیز اب تمام مسائل کو حل کر لیا گیا ہے اور آئندہ کے لیے حفاظتی گائیڈ لائنز تیار کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت کوئی کھلا مسئلہ باقی نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس کی سیکیورٹی جانچ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ایک وائٹ پیپر اور بہترین طریقہ کار پر مبنی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511669/artificial-intelligence-cyber-security-open-ai-anthropic-tech-news-ai-agents'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کی دوڑ میں جہاں کمپنیاں زیادہ طاقتور ماڈلز بنانے پر توجہ دے رہی ہیں، وہیں ان ماڈلز کو محفوظ رکھنے، ان کی رسائی محدود کرنے اور ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز طاقتور ہو رہے ہیں، ان کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کا نظام انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اے آئی کے غلط استعمال کے خدشات کی وجہ سے امریکا نے پہلے ہی کچھ ماڈلز پر عارضی پابندیاں عائد کردی ہیں اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا نیا ماڈل اتنا طاقتور ہے کہ اسے فی الحال عام عوام کے لیے جاری نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اے آئی کی دنیا میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔  اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا کے اے آئی ماڈلزسیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران اپنے قواعد و ضوابط سے باہر نکل گئے اورکچھ ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے دوسری کمپنیوں اور سسٹمز کو ہیک کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام بظاہر الگ الگ واقعات میں ایک بات مشترک پائی گئی ہے، اور وہ ہے اسرائیل کا ایک نیا سیکیورٹی ٹیسٹنگ اسٹارٹ اپ جس کا نام ”اِرریگولر“ ہے۔</strong></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510698/artificial-intelligence-openai-cybersecurity-hugging-face-ai-agents-ai-security-modal-labs'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اِرریگولر ایک ایسی کمپنی ہے جس کی ٹیکنالوجی اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی جانچنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرتی ہے جہاں وہ اپنے ماڈلز کو آزما سکیں اور دیکھ سکیں کہ ان میں کوئی خامی تو موجود نہیں اور مختلف حالات میں وہ کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔</p>
<p>تین سال قبل تل ابیب میں قائم ہونے والی اس کمپنی کی بنیاد آئی بی ایم اور گوگل کے سابق ماہرین نے رکھی تھی، جبکہ گزشتہ سال ایک فنڈنگ راؤنڈ کے بعد اس کی قدر تقریباً 450 ملین ڈالر لگائی گئی تھی۔</p>
<p>یہ تمام تنازعات اس وقت شروع ہوئے جب اے آئی ماڈلز کو ایک ایسے محدود ماحول میں ٹیسٹ کیا جا رہا تھا جس کا انٹرنیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ باہر کی دنیا میں کوئی اثر نہ ڈال سکیں۔ تاہم اِرریگولر کے سسٹمز میں سیٹنگز کی کچھ خرابیوں کی وجہ سے ان ماڈلز کو غلطی سے انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ جیسے ہی ماڈلز کو انٹرنیٹ ملا، انہوں نے اسے بھی ٹیسٹنگ کا حصہ سمجھا اور اصلی ویب سائٹس اور دیگر اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں گھس کر خامیاں تلاش کرنا اور انہیں ہیک کرنا شروع کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510998/artificial-intelligence-hacked-data-breach-cybersecurity-anthropic-claude-claude-ai-ai-security-hacked-by-claude'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اینتھروپک نے سب سے پہلے بتایا کہ اس کے ماڈل نے تین مختلف اداروں کے سسٹمز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد اوپن اے آئی اور حال ہی میں میٹا نے بھی اعتراف کیا کہ ان کا ماڈل اِرریگولر کے ماحول میں ٹیسٹنگ کے دوران انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور دیگر سسٹمز میں گھس گیا۔</p>
<p>اِرریگولر کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ایک ہی فنی خرابی کی وجہ سے پیش آئے اور یہ کوئی انتہائی پیچیدہ سائبر حملہ نہیں تھا، نیز اب تمام مسائل کو حل کر لیا گیا ہے اور آئندہ کے لیے حفاظتی گائیڈ لائنز تیار کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت کوئی کھلا مسئلہ باقی نہیں ہے اور وہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس کی سیکیورٹی جانچ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ایک وائٹ پیپر اور بہترین طریقہ کار پر مبنی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511669/artificial-intelligence-cyber-security-open-ai-anthropic-tech-news-ai-agents'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اے آئی کی دوڑ میں جہاں کمپنیاں زیادہ طاقتور ماڈلز بنانے پر توجہ دے رہی ہیں، وہیں ان ماڈلز کو محفوظ رکھنے، ان کی رسائی محدود کرنے اور ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز طاقتور ہو رہے ہیں، ان کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کا نظام انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اے آئی کے غلط استعمال کے خدشات کی وجہ سے امریکا نے پہلے ہی کچھ ماڈلز پر عارضی پابندیاں عائد کردی ہیں اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا نیا ماڈل اتنا طاقتور ہے کہ اسے فی الحال عام عوام کے لیے جاری نہیں کیا جا سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512356</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 13:54:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10132640f39b123.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10132640f39b123.webp"/>
        <media:title>تصویر: اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گروک کا نیا ماڈل 'امیجن امیج 2.0' متعارف، ایڈیٹنگ اور ٹیکسٹ رینڈرنگ اور بھی بہتر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512214/grok-introduces-new-image-model-imagine-image-20-with-even-better-editing-and-text-rendering</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایلون مسک کی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی نے اپنے امیج جنریشن ٹول ’گروک امیجن‘کا نیا ورژن ”امیجن امیج 2.0“ متعارف کرا دیا ہے، جس میں تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں زیادہ درست طریقے سے ایڈٹ کرنے اور تصویر کے اندر واضح تحریر شامل کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق نیا ماڈل حقیقی اور پیشہ ورانہ کام کے لیے تصاویر تیار کرنے پر توجہ دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس اے آئی کے مطابق ”امیجن امیج 2.0“ اب گروک کے ویب ورژن پر کوالٹی موڈ کے طور پر دستیاب ہے، جبکہ اسے آئی او ایس اوراینڈرائیڈ ایپس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے فی الحال اسے عام صارفین کے لیے دستیاب کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروک نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”امیجن امیج 2.0“ اس کا اگلی نسل کا امیج ماڈل ہے، جس میں درست ترمیم، واضح ٹیکسٹ رینڈرنگ، بہتر معلوماتی درستگی اور حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے زیادہ افادیت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509852/openai-models-escape-sandbox-launch-autonomous-cyberattack-on-hugging-face'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کا مقصد صرف خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ ایسے کاموں میں مدد دینا ہے جہاں تصویر میں درست تبدیلیاں اور واضح تفصیلات ضروری ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/grok/status/2085931542262526102'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/grok/status/2085931542262526102"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئے ماڈل کی خاص بات اس کے ایڈیٹنگ ٹولز ہیں۔ گروک کے مطابق میجک وانڈ کی مدد سے تصویر کے صرف ایک مخصوص حصے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے جبکہ باقی تصویر کو جوں کا توں رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیگمینٹیشن کے ذریعے تصویر کے کسی خاص حصے کو زیادہ درست انداز میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمارٹ ری سائز کی سہولت سے صارفین اپنی ضرورت کے مطابق تصویر کا فریم اور سائز آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خصوصیات خاص طور پر گرافک ڈیزائنرز، سوشل میڈیا کے لیے مواد بنانے والے افراد، مارکیٹنگ اور اشتہارات سے وابستہ لوگوں کے لیے اہم ہوسکتی ہیں، کیونکہ انہیں اکثر پوری تصویر دوبارہ بنانے کے بجائے صرف کسی مخصوص حصے میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیجن امیج ”امیجن امیج 2.0“میں تصویر کے اندر تحریر بنانے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔ اے آئی سے بنائی جانے والی تصاویر میں اکثر الفاظ، لوگو، سائن بورڈز اور پیچیدہ ٹائپوگرافی غلط بننے کا مسئلہ دیکھا جاتا ہے۔ ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈل میں ٹیکسٹ رینڈرنگ زیادہ واضح اور درست کی گئی ہے، جس سے ایسے ڈیزائن تیار کرنا آسان ہوگا جن میں تحریر بھی تصویر کا اہم حصہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ماڈل کی ’فیکچوئلٹی‘ یعنی دنیا کی حقیقی چیزوں اور معلومات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت میں بھی بہتری کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ کمپنی کی اپنی جانب سے ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی سے تیار ہونے والی ہر تصویر لازماً حقیقت کی درست نمائندگی کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511669/artificial-intelligence-cyber-security-open-ai-anthropic-tech-news-ai-agents'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گروک کی جانب سے جاری کی گئی معلومات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو امیج جنریشن اور امیج ایڈیٹنگ کے مختلف مقابلہ جاتی جائزوں میں اچھی پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروک کے آفیشل اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو امیج اور امیج ایڈیٹنگ، دونوں شعبوں میں ایرینا کی درجہ بندی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم اس درجہ بندی کو آزادانہ طور پر سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایرینا کا مخصوص ورژن، ٹیسٹ کا وقت اور موازنے میں شامل ماڈلز کون سے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ماڈل کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل بھی سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اس کی نئی صلاحیتوں کو بڑی بہتری قرار دیا اور خاص طور پر بہتر ٹائپوگرافی، پیچیدہ ڈیزائن اور مخصوص حصے کی ایڈیٹنگ کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تمام صارفین کا ردعمل مثبت نہیں تھا۔ ان کے خیال میں اس کے لیے نتائج پہلے کے مقابلے میں خراب ہوگئے ہیں اور تصاویر زیادہ مصنوعی محسوس ہو رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی امیج ماڈلز کے نتائج ہر صارف اور ہر قسم کے پرامپٹ کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ”امیجن امیج 2.0“ کی آمد سے اے آئی امیج جنریشن کے شعبے میں مقابلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ نئے ماڈل کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ صرف ایک پرامپٹ سے تصویر بنانے کے بجائے تصویر کے مخصوص حصے میں تبدیلی، سائز تبدیل کرنے اور بہتر تحریر شامل کرنے جیسے عملی کاموں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو حقیقی تخلیقی کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عام صارفین اور پروفیشنل ڈیزائنرز کے استعمال میں یہ دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کی کارکردگی دیگر بڑے اے آئی امیج ماڈلز کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایلون مسک کی اے آئی کمپنی ایکس اے آئی نے اپنے امیج جنریشن ٹول ’گروک امیجن‘کا نیا ورژن ”امیجن امیج 2.0“ متعارف کرا دیا ہے، جس میں تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں زیادہ درست طریقے سے ایڈٹ کرنے اور تصویر کے اندر واضح تحریر شامل کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق نیا ماڈل حقیقی اور پیشہ ورانہ کام کے لیے تصاویر تیار کرنے پر توجہ دیتا ہے۔</strong></p>
<p>ایکس اے آئی کے مطابق ”امیجن امیج 2.0“ اب گروک کے ویب ورژن پر کوالٹی موڈ کے طور پر دستیاب ہے، جبکہ اسے آئی او ایس اوراینڈرائیڈ ایپس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے فی الحال اسے عام صارفین کے لیے دستیاب کر دیا ہے۔</p>
<p>گروک نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”امیجن امیج 2.0“ اس کا اگلی نسل کا امیج ماڈل ہے، جس میں درست ترمیم، واضح ٹیکسٹ رینڈرنگ، بہتر معلوماتی درستگی اور حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے زیادہ افادیت شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509852/openai-models-escape-sandbox-launch-autonomous-cyberattack-on-hugging-face'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کا مقصد صرف خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ ایسے کاموں میں مدد دینا ہے جہاں تصویر میں درست تبدیلیاں اور واضح تفصیلات ضروری ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/grok/status/2085931542262526102'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/grok/status/2085931542262526102"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نئے ماڈل کی خاص بات اس کے ایڈیٹنگ ٹولز ہیں۔ گروک کے مطابق میجک وانڈ کی مدد سے تصویر کے صرف ایک مخصوص حصے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے جبکہ باقی تصویر کو جوں کا توں رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح سیگمینٹیشن کے ذریعے تصویر کے کسی خاص حصے کو زیادہ درست انداز میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسمارٹ ری سائز کی سہولت سے صارفین اپنی ضرورت کے مطابق تصویر کا فریم اور سائز آسانی سے تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ خصوصیات خاص طور پر گرافک ڈیزائنرز، سوشل میڈیا کے لیے مواد بنانے والے افراد، مارکیٹنگ اور اشتہارات سے وابستہ لوگوں کے لیے اہم ہوسکتی ہیں، کیونکہ انہیں اکثر پوری تصویر دوبارہ بنانے کے بجائے صرف کسی مخصوص حصے میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>امیجن امیج ”امیجن امیج 2.0“میں تصویر کے اندر تحریر بنانے کی صلاحیت کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔ اے آئی سے بنائی جانے والی تصاویر میں اکثر الفاظ، لوگو، سائن بورڈز اور پیچیدہ ٹائپوگرافی غلط بننے کا مسئلہ دیکھا جاتا ہے۔ ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈل میں ٹیکسٹ رینڈرنگ زیادہ واضح اور درست کی گئی ہے، جس سے ایسے ڈیزائن تیار کرنا آسان ہوگا جن میں تحریر بھی تصویر کا اہم حصہ ہو۔</p>
<p>کمپنی نے ماڈل کی ’فیکچوئلٹی‘ یعنی دنیا کی حقیقی چیزوں اور معلومات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت میں بھی بہتری کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ کمپنی کی اپنی جانب سے ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی سے تیار ہونے والی ہر تصویر لازماً حقیقت کی درست نمائندگی کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511669/artificial-intelligence-cyber-security-open-ai-anthropic-tech-news-ai-agents'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511669"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گروک کی جانب سے جاری کی گئی معلومات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو امیج جنریشن اور امیج ایڈیٹنگ کے مختلف مقابلہ جاتی جائزوں میں اچھی پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p>گروک کے آفیشل اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو امیج اور امیج ایڈیٹنگ، دونوں شعبوں میں ایرینا کی درجہ بندی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم اس درجہ بندی کو آزادانہ طور پر سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایرینا کا مخصوص ورژن، ٹیسٹ کا وقت اور موازنے میں شامل ماڈلز کون سے تھے۔</p>
<p>نئے ماڈل کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کے ردعمل بھی سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اس کی نئی صلاحیتوں کو بڑی بہتری قرار دیا اور خاص طور پر بہتر ٹائپوگرافی، پیچیدہ ڈیزائن اور مخصوص حصے کی ایڈیٹنگ کو سراہا۔</p>
<p>تاہم تمام صارفین کا ردعمل مثبت نہیں تھا۔ ان کے خیال میں اس کے لیے نتائج پہلے کے مقابلے میں خراب ہوگئے ہیں اور تصاویر زیادہ مصنوعی محسوس ہو رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی امیج ماڈلز کے نتائج ہر صارف اور ہر قسم کے پرامپٹ کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ”امیجن امیج 2.0“ کی آمد سے اے آئی امیج جنریشن کے شعبے میں مقابلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ نئے ماڈل کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ صرف ایک پرامپٹ سے تصویر بنانے کے بجائے تصویر کے مخصوص حصے میں تبدیلی، سائز تبدیل کرنے اور بہتر تحریر شامل کرنے جیسے عملی کاموں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔</p>
<p>ایکس اے آئی کا کہنا ہے کہ ”امیجن امیج 2.0“ کو حقیقی تخلیقی کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عام صارفین اور پروفیشنل ڈیزائنرز کے استعمال میں یہ دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کی کارکردگی دیگر بڑے اے آئی امیج ماڈلز کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512214</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 09:00:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/101320290178bdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/101320290178bdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارجنٹائنی فٹبالر لیونل میسی کے والد انتقال کر گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512218/argentine-footballer-lionel-messis-father-passes-away</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے نامور فٹبالر اور ارجنٹائن قومی ٹیم کے کپتان لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہل خانہ نے برطانوی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/sports/soccer/father-soccer-star-lionel-messi-dies-68-argentina-2026-08-08/"&gt; رائٹرز&lt;/a&gt; کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جارج میسی جمعہ کی رات ارجنٹائن کے شہر روزاریو کے ایک طبی مرکز میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانی ذرائع کے مطابق جارج میسی اپنی زندگی کے آخری چند ماہ روزاریو کے ایک طبی مرکز اور اپنے گھر کے درمیان گزارتے رہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ سیلیا اور بچے روڈریگو، ماتیاس اور ماریا سول ان کے ساتھ موجود رہے اور ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512095/threat-to-blow-up-messi-with-four-bombs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512095"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جارج میسی اپنے بیٹے لیونل میسی کے فٹبال کیریئر میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے میسی کے کیریئر کے ابتدائی دور سے ہی ان کا ساتھ دیا، خاص طور پر اس وقت جب میسی نے کم عمری میں فٹبال کی دنیا میں قدم رکھا اور بعد میں بارسلونا کے ساتھ اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارج نے میسی کو کھیل کی دنیا میں آگے بڑھانے اور بارسلونا کلب کے ساتھ معاہدے کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ کئی سالوں تک اپنے بیٹے کے مینیجر بھی رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09092857b71de25.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09092857b71de25.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیونل میسی نے ایک بار اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے ہمیشہ اپنے والد کی پسند کی ضرورت ہوتی تھی، میں ہر میچ کے بعد اپنے والد سے پوچھا کرتا تھا کہ انہیں میرا کھیل کیسا لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق حالیہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھی میسی اپنی ذاتی زندگی میں ایک مشکل وقت سے گزر رہے تھے۔ الجزائر کے خلاف افتتاحی میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد جب انہوں نے پہلا گول کیا تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور میدان میں روتے ہوئے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502936'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد میں پریس کانفرنس میں میسی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو فٹ بال کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک الگ وجہ سے تھے کیونکہ میں نے چند بہت مشکل اور پیچیدہ دن گزارے ہیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کے خاندان نے جارج میسی کے علاج سے متعلق ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد لیونل میسی نے اپنے والد کے ساتھ وقت گزارا تھا، جس کے بعد وہ اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھ دوبارہ شامل ہوگئے تھے۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل انٹر میامی کی جانب سے دوبارہ میدان میں بھی اترے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق میسی ہفتے کی رات تقریباً 8 بجے مقامی وقت پر نجی طیارے کے ذریعے میامی سے روزاریو پہنچنے کی توقع ہے، جہاں وہ اپنے والد کی آخری رسومات سے قبل ہونے والی نجی دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/090931060dd0383.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/090931060dd0383.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جارج میسی کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا کے کئی بڑے فٹبال کلبوں اور اداروں نے لیونل میسی اور ان کے خاندان سے تعزیت کی۔ ریئل میڈرڈ، میسی کا بچپن کا کلب نیویلز اولڈ بوائز اور ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن سمیت کئی اداروں نے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا،’ہم اس مشکل وقت میں پورے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی دلی، گرمجوش اور محبت بھری ہمدردی پیش کرتے ہیں۔ آپ سب کے لیے طاقت اور حوصلے کی دعا کرتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک کے تمام ڈویژنز میں ہونے والے میچز کے دوران جارج میسی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ کھلاڑی، کوچز اور ریفریز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارسلونا نے بھی جارج میسی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ کلب نے اپنے بیان میں کہا، ’ایف سی بارسلونا جارج میسی کا اپنے کلب کے لیے عزم اور اعتماد کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنے بیٹے لیو کے فٹبال کیریئر کے آغاز اور اس کے شاندار ترین برسوں کا حصہ بننے کا موقع دیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارج میسی کی موت لیونل میسی کے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے۔ وہ کئی دہائیوں تک اپنے بیٹے کے فٹبال سفر میں ان کے ساتھ رہے اور ایک والد کے ساتھ ساتھ ان کے مشیر اور نمائندے کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔ میسی کے شاندار کیریئر میں ان کے والد کی حمایت کو ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے نامور فٹبالر اور ارجنٹائن قومی ٹیم کے کپتان لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔</strong></p>
<p>اہل خانہ نے برطانوی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/sports/soccer/father-soccer-star-lionel-messi-dies-68-argentina-2026-08-08/"> رائٹرز</a> کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جارج میسی جمعہ کی رات ارجنٹائن کے شہر روزاریو کے ایک طبی مرکز میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔</p>
<p>خاندانی ذرائع کے مطابق جارج میسی اپنی زندگی کے آخری چند ماہ روزاریو کے ایک طبی مرکز اور اپنے گھر کے درمیان گزارتے رہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ سیلیا اور بچے روڈریگو، ماتیاس اور ماریا سول ان کے ساتھ موجود رہے اور ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512095/threat-to-blow-up-messi-with-four-bombs'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512095"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جارج میسی اپنے بیٹے لیونل میسی کے فٹبال کیریئر میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے میسی کے کیریئر کے ابتدائی دور سے ہی ان کا ساتھ دیا، خاص طور پر اس وقت جب میسی نے کم عمری میں فٹبال کی دنیا میں قدم رکھا اور بعد میں بارسلونا کے ساتھ اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔</p>
<p>جارج نے میسی کو کھیل کی دنیا میں آگے بڑھانے اور بارسلونا کلب کے ساتھ معاہدے کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ کئی سالوں تک اپنے بیٹے کے مینیجر بھی رہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09092857b71de25.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09092857b71de25.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>لیونل میسی نے ایک بار اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے ہمیشہ اپنے والد کی پسند کی ضرورت ہوتی تھی، میں ہر میچ کے بعد اپنے والد سے پوچھا کرتا تھا کہ انہیں میرا کھیل کیسا لگا۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق حالیہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھی میسی اپنی ذاتی زندگی میں ایک مشکل وقت سے گزر رہے تھے۔ الجزائر کے خلاف افتتاحی میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد جب انہوں نے پہلا گول کیا تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور میدان میں روتے ہوئے نظر آئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502936'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعد میں پریس کانفرنس میں میسی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو فٹ بال کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک الگ وجہ سے تھے کیونکہ میں نے چند بہت مشکل اور پیچیدہ دن گزارے ہیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کے خاندان نے جارج میسی کے علاج سے متعلق ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد لیونل میسی نے اپنے والد کے ساتھ وقت گزارا تھا، جس کے بعد وہ اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھ دوبارہ شامل ہوگئے تھے۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل انٹر میامی کی جانب سے دوبارہ میدان میں بھی اترے تھے۔</p>
<p>قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق میسی ہفتے کی رات تقریباً 8 بجے مقامی وقت پر نجی طیارے کے ذریعے میامی سے روزاریو پہنچنے کی توقع ہے، جہاں وہ اپنے والد کی آخری رسومات سے قبل ہونے والی نجی دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/090931060dd0383.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/090931060dd0383.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جارج میسی کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا کے کئی بڑے فٹبال کلبوں اور اداروں نے لیونل میسی اور ان کے خاندان سے تعزیت کی۔ ریئل میڈرڈ، میسی کا بچپن کا کلب نیویلز اولڈ بوائز اور ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن سمیت کئی اداروں نے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔</p>
<p>ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا،’ہم اس مشکل وقت میں پورے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی دلی، گرمجوش اور محبت بھری ہمدردی پیش کرتے ہیں۔ آپ سب کے لیے طاقت اور حوصلے کی دعا کرتے ہیں۔‘</p>
<p>ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک کے تمام ڈویژنز میں ہونے والے میچز کے دوران جارج میسی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ کھلاڑی، کوچز اور ریفریز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔</p>
<p>بارسلونا نے بھی جارج میسی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ کلب نے اپنے بیان میں کہا، ’ایف سی بارسلونا جارج میسی کا اپنے کلب کے لیے عزم اور اعتماد کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنے بیٹے لیو کے فٹبال کیریئر کے آغاز اور اس کے شاندار ترین برسوں کا حصہ بننے کا موقع دیا۔‘</p>
<p>جارج میسی کی موت لیونل میسی کے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے۔ وہ کئی دہائیوں تک اپنے بیٹے کے فٹبال سفر میں ان کے ساتھ رہے اور ایک والد کے ساتھ ساتھ ان کے مشیر اور نمائندے کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔ میسی کے شاندار کیریئر میں ان کے والد کی حمایت کو ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512218</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 09:31:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09102529e96134f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09102529e96134f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماڈلنگ کی دنیا کیوں چھوڑی؟ عبداللہ اعجاز نے دردناک وجہ بتادی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512236/why-did-abdullah-ejaz-leave-the-modeling-industry-he-reveals-the-painful-reason</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سابق ماڈل اور اداکار عبداللہ اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ شدید کمر کے درد نے انہیں ماڈلنگ سے دور ہونے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ تکلیف اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ وہ ٹھیک طرح بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور کھانا بھی لیٹ کر کھانا پڑتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ اعجاز نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پہلی بار تفصیل سے بتایا کہ آخر انہیں ماڈلنگ کا شعبہ کیوں چھوڑنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی تکلیف دہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، میں اب اشتہارات کی ڈائریکشن دے رہا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے عرق النساء ہو گیا تھا۔ یہ مسئلہ کوئی ڈیڑھ سال پہلے شروع ہوا تھا اور درد اتنا شدید تھا کہ مجھ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511306/making-an-ai-film-on-ainak-wala-jin-without-permission-backfires-director-hafeez-tahir-reacts-furiously'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کمر کی تکلیف نے ان کی روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کردیا تھا۔ عبداللہ اعجاز کے مطابق، ”کمر کا درد اتنا شدید تھا کہ میں لیٹ کر کھانا کھایا کرتا تھا۔ یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے بہت مشکل وقت تھا، خاص طور پر میری اہلیہ رابعہ کے لیے، جنہوں نے بہت مشکل وقت گزارا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510827/fahad-sheikh-responds-to-allegations-of-mistreating-veteran-actor'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510827"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ اعجاز کا کہنا ہے کہ، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوا، شاید میری حد سے زیادہ ورزش یا ٹریننگ اس کی وجہ بنی ہو۔ یہ درد اچانک شروع ہوا اور کافی لمبے عرصے تک رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ اعجاز نے اپنی اہلیہ رابعہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے بقول، ’میری بیوی بہت مضبوط خاتون ہیں کیونکہ ان کا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ وہ ایک آئرن لیڈی ہیں اور انہوں نے میری بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09114549c468a62.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09114549c468a62.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ اعجاز کے مطابق انسان کو کامیابی تو مل جاتی ہے لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے زندگی کے راستے بدل جاتے ہیں اور ایسے کٹھن حالات میں انسان کے اپنے گھر والے ہی اس کا سب سے بڑا سہارا بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ عبداللہ اعجاز کا شمار ملک کے بہترین ماڈلز میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے ماڈلنگ کے کیریئر کے دوران خاصی شہرت حاصل کی اور سال 2026 میں لکس اسٹائل ایوارڈ بھی جیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماڈلنگ کے بعد انہوں نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور ’پیا من بھائے‘، ’نیل پالش‘، ’تیرا میرا رشتہ‘، ’سلسلے‘ اور ’ہم سب امید سے ہیں‘ جیسے مشہور ڈراموں میں کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ ’تماشا سیزن3‘ میں بھی نظر آئے اورمداحوں کی توجہ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ اعجاز نے اپنی یونیورسٹی کی کلاس فیلو سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔ اب وہ ماڈلنگ اور اداکاری کے بجائے کمرشل ڈائریکشن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سابق ماڈل اور اداکار عبداللہ اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ شدید کمر کے درد نے انہیں ماڈلنگ سے دور ہونے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ تکلیف اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ وہ ٹھیک طرح بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور کھانا بھی لیٹ کر کھانا پڑتا تھا۔</strong></p>
<p>عبداللہ اعجاز نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پہلی بار تفصیل سے بتایا کہ آخر انہیں ماڈلنگ کا شعبہ کیوں چھوڑنا پڑا۔</p>
<p>اپنی تکلیف دہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، میں اب اشتہارات کی ڈائریکشن دے رہا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے عرق النساء ہو گیا تھا۔ یہ مسئلہ کوئی ڈیڑھ سال پہلے شروع ہوا تھا اور درد اتنا شدید تھا کہ مجھ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511306/making-an-ai-film-on-ainak-wala-jin-without-permission-backfires-director-hafeez-tahir-reacts-furiously'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511306"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ کمر کی تکلیف نے ان کی روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کردیا تھا۔ عبداللہ اعجاز کے مطابق، ”کمر کا درد اتنا شدید تھا کہ میں لیٹ کر کھانا کھایا کرتا تھا۔ یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے بہت مشکل وقت تھا، خاص طور پر میری اہلیہ رابعہ کے لیے، جنہوں نے بہت مشکل وقت گزارا۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510827/fahad-sheikh-responds-to-allegations-of-mistreating-veteran-actor'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510827"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عبداللہ اعجاز کا کہنا ہے کہ، مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوا، شاید میری حد سے زیادہ ورزش یا ٹریننگ اس کی وجہ بنی ہو۔ یہ درد اچانک شروع ہوا اور کافی لمبے عرصے تک رہا۔</p>
<p>عبداللہ اعجاز نے اپنی اہلیہ رابعہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے بقول، ’میری بیوی بہت مضبوط خاتون ہیں کیونکہ ان کا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ وہ ایک آئرن لیڈی ہیں اور انہوں نے میری بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09114549c468a62.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09114549c468a62.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>عبداللہ اعجاز کے مطابق انسان کو کامیابی تو مل جاتی ہے لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے زندگی کے راستے بدل جاتے ہیں اور ایسے کٹھن حالات میں انسان کے اپنے گھر والے ہی اس کا سب سے بڑا سہارا بنتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ عبداللہ اعجاز کا شمار ملک کے بہترین ماڈلز میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے ماڈلنگ کے کیریئر کے دوران خاصی شہرت حاصل کی اور سال 2026 میں لکس اسٹائل ایوارڈ بھی جیتا تھا۔</p>
<p>ماڈلنگ کے بعد انہوں نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور ’پیا من بھائے‘، ’نیل پالش‘، ’تیرا میرا رشتہ‘، ’سلسلے‘ اور ’ہم سب امید سے ہیں‘ جیسے مشہور ڈراموں میں کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ ’تماشا سیزن3‘ میں بھی نظر آئے اورمداحوں کی توجہ حاصل کی۔</p>
<p>عبداللہ اعجاز نے اپنی یونیورسٹی کی کلاس فیلو سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے ہیں۔ اب وہ ماڈلنگ اور اداکاری کے بجائے کمرشل ڈائریکشن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512236</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 11:46:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0911325374fc60f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0911325374fc60f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09114549c468a62.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09114549c468a62.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضمانت کے لیے بھارتی چیف جسٹس پر کالا جادو کرنے والا گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512232/man-arrested-for-performing-black-magic-on-indian-chief-justice-to-secure-bail</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر بلاسپور کی پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے جس نے اپنے رشتے دار کی کورٹ سے ضمانت کروانے کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جج کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے کالا جادو اور تانترک عمل کیا۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے یہ سب ایک ویڈیو دیکھ کر کیا تاکہ وہ اپنے رشتے دار کو جیل سے باہر نکال سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ دیوری نامی گاؤں میں اس وقت سامنے آیا جب جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات دیہاتیوں نے شمشان گھاٹ میں چار لوگوں کو مشکوک اور عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا۔ لوگوں کو شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دیہاتیوں کو دیکھ کر تین افراد موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ریشی کیش کمار نامی ایک شخص کو دیہاتیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے موقع پر پہنچ کر کالے جادو میں استعمال ہونے والی کئی چیزیں برآمد کر لیں۔ ان میں ایک مچھلی، لیموں، سندور اور چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رمیش سنہا کی تصویر شامل تھی۔ اس کے علاوہ ایک تصویر چاقو مارنے کے کیس میں گرفتار ملزم پرریانشو بولے کی تھی اور دوسری تصویر اسی کیس کے متاثرہ شخص کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس تفتیش کے دوران ریشی کیش نے بتایا کہ اس کا رشتہ دار پرریانشو بولے ایک بندے کو چاقو مارنے کے جرم میں جیل میں بند ہے۔ اس کیس کے ایک ملزم کو تو ضمانت مل گئی تھی لیکن باقی ملزمان کی ضمانتیں ابھی عدالت میں زیر سماعت تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریشی کیش نے ایک تانترک کی ویڈیو دیکھی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسا عمل کرنے سے کورٹ سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس ویڈیو سے متاثر ہو کر وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ رات کو شمشان گھاٹ چلا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511561/quot18-year-old-becomes-the-worlds-youngest-professor-after-306-years'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے پر بات کرتے ہوئے بلاسپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجنیش سنگھ نے کہا کہ جادو ٹونہ کرنے سے کسی کو کبھی ضمانت نہیں مل سکتی اور مجرموں کو چاہیے کہ وہ جادو ٹونے کے بجائے خود کو سدھارنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وہم اور خرافات پر عمل کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید چھان بین اور تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس عمل میں شامل دیگر افراد کون تھے اور انہوں نے یہ قدم کس مقصد سے اٹھایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر بلاسپور کی پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے جس نے اپنے رشتے دار کی کورٹ سے ضمانت کروانے کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جج کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے کالا جادو اور تانترک عمل کیا۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے یہ سب ایک ویڈیو دیکھ کر کیا تاکہ وہ اپنے رشتے دار کو جیل سے باہر نکال سکے۔</strong></p>
<p>یہ واقعہ دیوری نامی گاؤں میں اس وقت سامنے آیا جب جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات دیہاتیوں نے شمشان گھاٹ میں چار لوگوں کو مشکوک اور عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا۔ لوگوں کو شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔</p>
<p>پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دیہاتیوں کو دیکھ کر تین افراد موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ریشی کیش کمار نامی ایک شخص کو دیہاتیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس نے موقع پر پہنچ کر کالے جادو میں استعمال ہونے والی کئی چیزیں برآمد کر لیں۔ ان میں ایک مچھلی، لیموں، سندور اور چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رمیش سنہا کی تصویر شامل تھی۔ اس کے علاوہ ایک تصویر چاقو مارنے کے کیس میں گرفتار ملزم پرریانشو بولے کی تھی اور دوسری تصویر اسی کیس کے متاثرہ شخص کی تھی۔</p>
<p>پولیس تفتیش کے دوران ریشی کیش نے بتایا کہ اس کا رشتہ دار پرریانشو بولے ایک بندے کو چاقو مارنے کے جرم میں جیل میں بند ہے۔ اس کیس کے ایک ملزم کو تو ضمانت مل گئی تھی لیکن باقی ملزمان کی ضمانتیں ابھی عدالت میں زیر سماعت تھیں۔</p>
<p>ریشی کیش نے ایک تانترک کی ویڈیو دیکھی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسا عمل کرنے سے کورٹ سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس ویڈیو سے متاثر ہو کر وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ رات کو شمشان گھاٹ چلا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511561/quot18-year-old-becomes-the-worlds-youngest-professor-after-306-years'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے پر بات کرتے ہوئے بلاسپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجنیش سنگھ نے کہا کہ جادو ٹونہ کرنے سے کسی کو کبھی ضمانت نہیں مل سکتی اور مجرموں کو چاہیے کہ وہ جادو ٹونے کے بجائے خود کو سدھارنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>انہوں نے سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وہم اور خرافات پر عمل کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید چھان بین اور تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس عمل میں شامل دیگر افراد کون تھے اور انہوں نے یہ قدم کس مقصد سے اٹھایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512232</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 10:58:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/091102101946f24.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/091102101946f24.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رات کو سوتے ہوئے ناک بند کیوں ہوجاتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512240/why-does-your-nose-get-blocked-while-sleeping-at-night</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ دن کے وقت بالکل ٹھیک سانس لیتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو بستر پر لیٹتے ہیں، ناک بند ہونا شروع ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے نیند متاثر ہوسکتی ہے، منہ سے سانس لینا پڑتا ہے اور صبح اٹھنے پر منہ خشک یا گلا خراب محسوس ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ ناک بند ہونے کو صرف نزلہ یا زکام سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/living-healthy/why-does-your-nose-get-blocked-only-at-night-the-possible-causes-of-nasal-congestion-11883741?pfrom=home-ndtv_icymistories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق اس بارے میں ایسٹر وائٹ فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ رات کو سونے کے دوران ہمارے جسم کے اندر کچھ قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں جن کی وجہ سے ناک بند ہونے کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرسبراتا داس کے مطابق سونے کی پوزیشن سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔ دن میں جب انسان  سیدھا کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو کشش ثقل ناک میں بننے والی رطوبت کو باہر نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جب انسان لیٹ جاتا ہے تو رطوبت ناک کے اندر زیادہ جمع ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510997/why-do-headaches-occur-upon-waking-up-key-causes-and-easy-prevention-tips'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رات کے وقت ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے جسم میں سوجن کو کم کرنے والا ہارمون رات کے وقت قدرتی طور پر کم بنتا ہے، جس کی وجہ سے ناک کے اندر کی سوجن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ناک میں سوزش یا الرجی کا مسئلہ ہوتا ہے، ان میں رات کے وقت ناک بند ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناک کے اندر موجود خون کی نالیوں اور رطوبت بنانے والے ٹشوز پر اعصابی نظام بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ رات کے وقت اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے ناک میں رطوبت کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ناک بھری بھری محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو ناک بند ہونے کی ایک بڑی وجہ الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرے کے اندر موجود دھول مٹی، گدوں، تکیوں، پردوں اور قالینوں میں پائے جانے والے باریک کیڑے یعنی ڈسٹ مائٹس الرجی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کمرے کی دیواروں پر نمی یا سیلن کی وجہ سے پھپھوندی لگی ہو تو اس کی وجہ سے بھی رات کو ناک بند ہو سکتی ہے اور چھینکیں يا خارش شروع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی وجہ معدے کی تیزابیت بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دن کے وقت جب ہم سیدھے ہوتے ہیں تو خوراک اور تیزابیت معدے میں ہی رہتی ہے۔ لیکن رات کو کھانا کھا کر فوراً لیٹنے سے معدے کا تیزاب گلے کی طرف آنے لگتا ہے جس سے گلے میں جلن اور ناک بند ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر ناک بند ہونے کے ساتھ سینے میں جلن، منہ میں کھٹا ذائقہ، بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت یا صبح کے وقت گلے میں جلن بھی محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو ناک بند ہونے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہے تو ڈاکٹر علامات کے مطابق ناک کے اسپرے یا دوسری دوا تجویز کرسکتے ہیں۔ گھر میں دھول کم رکھنا، بستر اور تکیوں کی صفائی کرنا اور پھپھوندی یا نمی کو ختم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر ناک بند محسوس ہو تو عام درجہ حرارت کے پانی سے ناک کی صفائی کرنی چاہیے۔ ایک نتھنے میں پانی ڈال کر دوسرے سے نکالنے سے جمع شدہ بلغم صاف ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گلے میں خرابی ہو تو نیم گرم نمک کے پانی سے غرارے کرنے سے بھی آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا اثر بھی ناک پر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسلسل ناک بند رہنے کی صورت میں صرف گھریلو علاج پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ناک ہر رات بند ہوتی ہے، نیند بار بار خراب ہوتی ہے یا اس کے ساتھ مسلسل چھینکیں، چہرے میں درد، سر درد، بخار، سانس لینے میں مشکل یا ناک سے مسلسل رطوبت آتی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھار ناک بند ہونا عام بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل راتوں کو ہو رہا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کرنے سے نیند اور سانس لینے دونوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ دن کے وقت بالکل ٹھیک سانس لیتے ہیں لیکن جیسے ہی رات کو بستر پر لیٹتے ہیں، ناک بند ہونا شروع ہوجاتی ہے؟ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کو درپیش ہوتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے نیند متاثر ہوسکتی ہے، منہ سے سانس لینا پڑتا ہے اور صبح اٹھنے پر منہ خشک یا گلا خراب محسوس ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ ناک بند ہونے کو صرف نزلہ یا زکام سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/living-healthy/why-does-your-nose-get-blocked-only-at-night-the-possible-causes-of-nasal-congestion-11883741?pfrom=home-ndtv_icymistories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق اس بارے میں ایسٹر وائٹ فیلڈ ہسپتال کے ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ رات کو سونے کے دوران ہمارے جسم کے اندر کچھ قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں جن کی وجہ سے ناک بند ہونے کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرسبراتا داس کے مطابق سونے کی پوزیشن سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔ دن میں جب انسان  سیدھا کھڑا یا بیٹھا ہوتا ہے تو کشش ثقل ناک میں بننے والی رطوبت کو باہر نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جب انسان لیٹ جاتا ہے تو رطوبت ناک کے اندر زیادہ جمع ہوسکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510997/why-do-headaches-occur-upon-waking-up-key-causes-and-easy-prevention-tips'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رات کے وقت ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اس مسئلے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے جسم میں سوجن کو کم کرنے والا ہارمون رات کے وقت قدرتی طور پر کم بنتا ہے، جس کی وجہ سے ناک کے اندر کی سوجن زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی ناک میں سوزش یا الرجی کا مسئلہ ہوتا ہے، ان میں رات کے وقت ناک بند ہونے کی شکایت زیادہ محسوس ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ناک کے اندر موجود خون کی نالیوں اور رطوبت بنانے والے ٹشوز پر اعصابی نظام بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ رات کے وقت اعصابی سرگرمی میں تبدیلی سے ناک میں رطوبت کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ناک بھری بھری محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>رات کو ناک بند ہونے کی ایک بڑی وجہ الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>کمرے کے اندر موجود دھول مٹی، گدوں، تکیوں، پردوں اور قالینوں میں پائے جانے والے باریک کیڑے یعنی ڈسٹ مائٹس الرجی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کمرے کی دیواروں پر نمی یا سیلن کی وجہ سے پھپھوندی لگی ہو تو اس کی وجہ سے بھی رات کو ناک بند ہو سکتی ہے اور چھینکیں يا خارش شروع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایک اور بڑی وجہ معدے کی تیزابیت بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی ناک خاص طور پر بستر پر جانے کے بعد بند ہوتی ہے تو اسے اپنے سونے کے کمرے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دن کے وقت جب ہم سیدھے ہوتے ہیں تو خوراک اور تیزابیت معدے میں ہی رہتی ہے۔ لیکن رات کو کھانا کھا کر فوراً لیٹنے سے معدے کا تیزاب گلے کی طرف آنے لگتا ہے جس سے گلے میں جلن اور ناک بند ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510699/how-to-protect-yourself-from-viral-fever-during-the-monsoon-season'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر ناک بند ہونے کے ساتھ سینے میں جلن، منہ میں کھٹا ذائقہ، بار بار گلا صاف کرنے کی ضرورت یا صبح کے وقت گلے میں جلن بھی محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>رات کو ناک بند ہونے سے بچنے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ اگر مسئلہ الرجی کی وجہ سے ہے تو ڈاکٹر علامات کے مطابق ناک کے اسپرے یا دوسری دوا تجویز کرسکتے ہیں۔ گھر میں دھول کم رکھنا، بستر اور تکیوں کی صفائی کرنا اور پھپھوندی یا نمی کو ختم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر سبراتا داس کا کہنا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر ناک بند محسوس ہو تو عام درجہ حرارت کے پانی سے ناک کی صفائی کرنی چاہیے۔ ایک نتھنے میں پانی ڈال کر دوسرے سے نکالنے سے جمع شدہ بلغم صاف ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اگر گلے میں خرابی ہو تو نیم گرم نمک کے پانی سے غرارے کرنے سے بھی آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں کی باقاعدگی سے صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ دانتوں کی بیماریوں کا اثر بھی ناک پر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم مسلسل ناک بند رہنے کی صورت میں صرف گھریلو علاج پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ناک ہر رات بند ہوتی ہے، نیند بار بار خراب ہوتی ہے یا اس کے ساتھ مسلسل چھینکیں، چہرے میں درد، سر درد، بخار، سانس لینے میں مشکل یا ناک سے مسلسل رطوبت آتی ہے تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔</p>
<p>کبھی کبھار ناک بند ہونا عام بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر یہ مسئلہ مسلسل راتوں کو ہو رہا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج کرنے سے نیند اور سانس لینے دونوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512240</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 12:47:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09124653e1d2aa7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09124653e1d2aa7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حسینہ واجد کی حمایت، شکیب الحسن پر بنگلہ دیش کے لیے کھیلنے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512132/hasina-wajid-support-shakib-al-hasan-banned-from-playing-for-bangladesh</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش حکومت نے سابق اسٹار کرکٹر شکیب الحسن کی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کے بعد ان کے لیے دوبارہ ملک کی نمائندگی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق شکیب الحسن نے بدھ کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ٹیلی فون کے ذریعے ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کی تھی، جہاں معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔ شیخ حسینہ کو دو سال قبل طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف خونریز کارروائی کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے وزیر برائے کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت اس سے پہلے شکیب الحسن کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد یہ رویہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امین الحق نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو کافی لچک اور برداشت کے ساتھ دیکھ رہے تھے، لیکن اس کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اب اس طرح سوچنے کی کوئی گنجائش باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے آمر کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی ہو، اب اس کے واپس آنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512032/if-i-get-security-guarantees-i-will-return-home-and-face-cases-shakib-al-hasan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512032"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ملک کی معروف کھیلوں کی شخصیات میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی جانب سے 400 سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلے اور پانچ عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیب الحسن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکمران جماعت عوامی لیگ سے وابستہ رہے ہیں اور سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ وہ ان متعدد افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف حسینہ حکومت کے خاتمے کے دوران مظاہرین کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی سے متعلق قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ کی سابق حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سیاسی مخالفین کے قتل، اپوزیشن جماعتوں کو دبانے، عدالتی نظام کے غلط استعمال اور یک طرفہ انتخابات سمیت مختلف الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ وہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیب الحسن نے ستمبر 2024 میں بھارت کے خلاف اپنی ٹیم کے دوسرے ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511803/shakib-al-hasan-house-attacked-after-attending-sheikh-hasina-virtual-address'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے رواں سال جنوری میں کہا تھا کہ شکیب دوبارہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں، لیکن بدھ کو بھارت میں ہونے والے میڈیا پروگرام میں ان کی شرکت کے بعد ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیب نے یہ بھی بتایا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ان کے گھر پر پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے نے ان کی سکیورٹی اور بنگلہ دیش واپسی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جمعرات کو شکیب الحسن نے کہا کہ وہ قتل سمیت دیگر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے محفوظ حالات میں سری لنکا سے بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گے اور 2027 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ٹیم کا حصہ بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیب نے 2023 کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی قیادت کی تھی۔ اب ان کی خواہش ہے کہ وہ 2027 کے عالمی کپ میں بھی ملک کے لیے کھیلیں، تاہم بنگلہ دیش حکومت کے حالیہ بیان کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات غیر یقینی نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش حکومت نے سابق اسٹار کرکٹر شکیب الحسن کی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کے بعد ان کے لیے دوبارہ ملک کی نمائندگی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق شکیب الحسن نے بدھ کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ٹیلی فون کے ذریعے ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کی تھی، جہاں معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔ شیخ حسینہ کو دو سال قبل طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف خونریز کارروائی کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے وزیر برائے کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت اس سے پہلے شکیب الحسن کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد یہ رویہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
<p>امین الحق نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو کافی لچک اور برداشت کے ساتھ دیکھ رہے تھے، لیکن اس کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اب اس طرح سوچنے کی کوئی گنجائش باقی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے آمر کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی ہو، اب اس کے واپس آنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512032/if-i-get-security-guarantees-i-will-return-home-and-face-cases-shakib-al-hasan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512032"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ملک کی معروف کھیلوں کی شخصیات میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی جانب سے 400 سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلے اور پانچ عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔</p>
<p>شکیب الحسن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکمران جماعت عوامی لیگ سے وابستہ رہے ہیں اور سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ وہ ان متعدد افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف حسینہ حکومت کے خاتمے کے دوران مظاہرین کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی سے متعلق قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>شیخ حسینہ کی سابق حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سیاسی مخالفین کے قتل، اپوزیشن جماعتوں کو دبانے، عدالتی نظام کے غلط استعمال اور یک طرفہ انتخابات سمیت مختلف الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ وہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں۔</p>
<p>شکیب الحسن نے ستمبر 2024 میں بھارت کے خلاف اپنی ٹیم کے دوسرے ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511803/shakib-al-hasan-house-attacked-after-attending-sheikh-hasina-virtual-address'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے رواں سال جنوری میں کہا تھا کہ شکیب دوبارہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں، لیکن بدھ کو بھارت میں ہونے والے میڈیا پروگرام میں ان کی شرکت کے بعد ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا۔</p>
<p>شکیب نے یہ بھی بتایا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ان کے گھر پر پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے نے ان کی سکیورٹی اور بنگلہ دیش واپسی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔</p>
<p>تاہم جمعرات کو شکیب الحسن نے کہا کہ وہ قتل سمیت دیگر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے محفوظ حالات میں سری لنکا سے بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گے اور 2027 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ٹیم کا حصہ بنیں گے۔</p>
<p>شکیب نے 2023 کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی قیادت کی تھی۔ اب ان کی خواہش ہے کہ وہ 2027 کے عالمی کپ میں بھی ملک کے لیے کھیلیں، تاہم بنگلہ دیش حکومت کے حالیہ بیان کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات غیر یقینی نظر آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512132</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 14:26:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08142153a5feba0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08142153a5feba0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ پر پُراسرار گولے کی پرواز، پینٹاگون نے 'یو ایف او' کی نئی ویڈیو جاری کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512126/mysterious-orb-flight-over-middle-east-pentagon-releases-new-ufo-video</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی غیر اعلانیہ دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے (ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا) یعنی پُراسرار گولے سے متعلق ریکارڈ کے نئے مجموعے میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ایک گنجان آباد علاقے کے اوپر ایک گول یا کرہ نما شے کو تیزی سے حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی تفصیلات کے مطابق ماہرین نے دستیاب معلومات اور ویڈیو کا جائزہ لیا، تاہم وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ شے ڈرون، غبارہ، طیارہ یا کسی اور معلوم فضائی ذریعے سے تعلق رکھتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس شے میں بعض غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں، جن کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مکمل وضاحت نہیں کی جاسکی۔ اسی وجہ سے اس واقعے کو غیر حل شدہ کیسز کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_India_news/status/2085957102695235735'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_India_news/status/2085957102695235735"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی واقعے کو غیر حل شدہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر زمینی سرگرمی کا ثبوت سمجھا جائے۔ حکام کے مطابق غیر حل شدہ کا مطلب غیر زمینی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعے کی حتمی شناخت کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پراسرار گول شے ان درجنوں نئے واقعات میں شامل ہے جن کی تفصیلات حال ہی میں عوام کے سامنے لائی گئی ہیں۔ ان میں بعض ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں فوجی سینسرز اور نگرانی کے دوران آسمان پر گول یا غیر معمولی اشیا کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا سے متعلق مزید ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور ان دستاویزات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید فائلیں سامنے آئیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برسوں کے دوران یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں دنیا بھر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق معلومات زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی غیر اعلانیہ دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے (ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا) یعنی پُراسرار گولے سے متعلق ریکارڈ کے نئے مجموعے میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ایک گنجان آباد علاقے کے اوپر ایک گول یا کرہ نما شے کو تیزی سے حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>کیس کی تفصیلات کے مطابق ماہرین نے دستیاب معلومات اور ویڈیو کا جائزہ لیا، تاہم وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ شے ڈرون، غبارہ، طیارہ یا کسی اور معلوم فضائی ذریعے سے تعلق رکھتی تھی۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس شے میں بعض غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں، جن کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مکمل وضاحت نہیں کی جاسکی۔ اسی وجہ سے اس واقعے کو غیر حل شدہ کیسز کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_India_news/status/2085957102695235735'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_India_news/status/2085957102695235735"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی واقعے کو غیر حل شدہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر زمینی سرگرمی کا ثبوت سمجھا جائے۔ حکام کے مطابق غیر حل شدہ کا مطلب غیر زمینی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعے کی حتمی شناخت کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں تھیں۔</p>
<p>یہ پراسرار گول شے ان درجنوں نئے واقعات میں شامل ہے جن کی تفصیلات حال ہی میں عوام کے سامنے لائی گئی ہیں۔ ان میں بعض ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں فوجی سینسرز اور نگرانی کے دوران آسمان پر گول یا غیر معمولی اشیا کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا سے متعلق مزید ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور ان دستاویزات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید فائلیں سامنے آئیں گی۔</p>
<p>گزشتہ چند برسوں کے دوران یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں دنیا بھر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق معلومات زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512126</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 13:21:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0813204112ccf75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0813204112ccf75.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیونل میسی کو چار بموں سے اڑانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512095/threat-to-blow-up-messi-with-four-bombs</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دنیا کے مشہور فٹ بالر لیونل میسی سمیت کئی دیگر کھلاڑیوں کو بم سے اڑانے اور سیکیورٹی سے متعلق سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے اخبار&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.informacion.es/sucesos/2026/08/07/mundial-futbol-amenazas-messi-informes-133160681.html"&gt; انفارماسیون ڈاٹ ایس&lt;/a&gt; کی شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عالمی مقابلے کے دوران کھلاڑیوں اور کھیل کے انتظامی افسران کو شدید خطرات کا سامنا رہا، جن میں لیونل میسی سب سے زیادہ نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نگرانی میں کام کرنے والے بین الاقوامی سیکیورٹی نیٹ ورک نے عالمی کپ کے دوران موصول ہونے والی تمام دھمکیوں پر کڑی نظر رکھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509370/spain-wins-the-fifa-worldcup-2026-champion-title-against-argentina'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سنسنی خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈلاس کے ہوائی اڈے پر ایک شخص نے فون کر کے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اسٹیڈیم کی طرف جا رہا ہے اور ان کے پاس گھر میں بنے بم اور جدید ہتھیار موجود ہیں اور ان کا بنیادی ہدف پولیس اور لیونل میسی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اٹلانٹا میں ارجنٹائن اور مصر کے میچ سے قبل ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اپنے جسم سے چار بم باندھ کر میسی پر حملہ کرنے کی دھمکی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی میچ کے دوران اسٹیڈیم کے کوڑے دان میں تین بم رکھنے کی بھی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس نے خصوصی کتوں اور بم ناکام بنانے والے دستوں کی مدد سے پورے اسٹیڈیم کی تلاشی لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس پر ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا کہ پوسٹ لکھنے والا چار بم لے کر اٹلانٹا اسٹیڈیم میں داخل ہونے والا تھا اور اس کا ارادہ میسی کو قتل کرنا تھا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/newcastlejourno/status/2085839461997289830'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/newcastlejourno/status/2085839461997289830"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف میسی ہی نہیں بلکہ پرتگال کے مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو بھی مسلسل پریشان کیا گیا۔ ہیوسٹن شہر میں رونالڈو کی رہائش اور ہوٹل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک مشکوک شخص کو پولیس نے ہوٹل سے ہی گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509443/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فرانس کے ایک ریفری فرانسس لیٹیکسیئر کو واٹس ایپ پر چھ ہزار سے زیادہ دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ان تمام خطرات کو ناکام بنایا اور ایونٹ کو امن و امان کے ساتھ مکمل کروایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ تمام دھمکیاں حقیقی حملوں میں تبدیل ہونے والی تھیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیا اور ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے میں دنیا کے مشہور ترین کھلاڑیوں کی بڑی تعداد ایک ہی جگہ موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامنے آنے والے پولیس ڈوزیئر سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران سیکیورٹی اداروں کو صرف میدان کے اندر ہونے والے کھیل پر ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو لاحق ممکنہ خطرات پر بھی مسلسل نظر رکھنا پڑی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دنیا کے مشہور فٹ بالر لیونل میسی سمیت کئی دیگر کھلاڑیوں کو بم سے اڑانے اور سیکیورٹی سے متعلق سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔</strong></p>
<p>اسپین کے اخبار<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.informacion.es/sucesos/2026/08/07/mundial-futbol-amenazas-messi-informes-133160681.html"> انفارماسیون ڈاٹ ایس</a> کی شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عالمی مقابلے کے دوران کھلاڑیوں اور کھیل کے انتظامی افسران کو شدید خطرات کا سامنا رہا، جن میں لیونل میسی سب سے زیادہ نشانہ بنے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نگرانی میں کام کرنے والے بین الاقوامی سیکیورٹی نیٹ ورک نے عالمی کپ کے دوران موصول ہونے والی تمام دھمکیوں پر کڑی نظر رکھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509370/spain-wins-the-fifa-worldcup-2026-champion-title-against-argentina'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سنسنی خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈلاس کے ہوائی اڈے پر ایک شخص نے فون کر کے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اسٹیڈیم کی طرف جا رہا ہے اور ان کے پاس گھر میں بنے بم اور جدید ہتھیار موجود ہیں اور ان کا بنیادی ہدف پولیس اور لیونل میسی ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ اٹلانٹا میں ارجنٹائن اور مصر کے میچ سے قبل ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اپنے جسم سے چار بم باندھ کر میسی پر حملہ کرنے کی دھمکی دی۔</p>
<p>اسی میچ کے دوران اسٹیڈیم کے کوڑے دان میں تین بم رکھنے کی بھی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس نے خصوصی کتوں اور بم ناکام بنانے والے دستوں کی مدد سے پورے اسٹیڈیم کی تلاشی لی۔</p>
<p>ایکس پر ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا کہ پوسٹ لکھنے والا چار بم لے کر اٹلانٹا اسٹیڈیم میں داخل ہونے والا تھا اور اس کا ارادہ میسی کو قتل کرنا تھا۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/newcastlejourno/status/2085839461997289830'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/newcastlejourno/status/2085839461997289830"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف میسی ہی نہیں بلکہ پرتگال کے مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو بھی مسلسل پریشان کیا گیا۔ ہیوسٹن شہر میں رونالڈو کی رہائش اور ہوٹل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک مشکوک شخص کو پولیس نے ہوٹل سے ہی گرفتار کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509443/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509443"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب فرانس کے ایک ریفری فرانسس لیٹیکسیئر کو واٹس ایپ پر چھ ہزار سے زیادہ دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ان تمام خطرات کو ناکام بنایا اور ایونٹ کو امن و امان کے ساتھ مکمل کروایا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ تمام دھمکیاں حقیقی حملوں میں تبدیل ہونے والی تھیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیا اور ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔</p>
<p>ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے میں دنیا کے مشہور ترین کھلاڑیوں کی بڑی تعداد ایک ہی جگہ موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>سامنے آنے والے پولیس ڈوزیئر سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران سیکیورٹی اداروں کو صرف میدان کے اندر ہونے والے کھیل پر ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو لاحق ممکنہ خطرات پر بھی مسلسل نظر رکھنا پڑی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512095</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 10:10:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08100533f432fa0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08100533f432fa0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فردوس جمال کا شاہ رخ خان کے خلاف بیان سے یوٹرن</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512090/firdous-jamal-takes-a-u-turn-on-his-statement-about-shah-rukh-khan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سینئر اداکار فردوس جمال نے بولی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بارے میں  سابقہ بیان پر وضاحت کرتے ہوئے اپنا موقف بدل دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شاہ رخ خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شاہ رخ خان کے خلاف کچھ نہیں کہا، میں ان کی عزّت کرتا ہوں اور وہ ایک بہترین اداکار ہیں اور دلیپ کمار کی روایت کا تسلسل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر اداکار نے کہا کہ ہر فنکار کا اپنا ایک فکری اور فنی انداز ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ خود دلیپ کمار کے اندازِ اداکاری سے متاثر ہیں، جبکہ شاہ رخ خان کا انداز مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503678'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فردوس جمال نے کہا، ”ہر اداکار کا اپنا ایک اسکول آف تھاٹ ہوتا ہے۔ میرا تعلق دلیپ کمار کے اسکول آف تھاٹ سے ہے۔ شاہ رخ خان جیسے اداکار مختلف ہیں۔ مختلف اداکار مختلف لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ میں دلیپ کمار، محمد علی، آغا طالش اور علاؤالدین جیسے اداکاروں سے متاثر ہوں اور میں ان کی نقل بھی کرتا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فردوس جمال نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان بچپن سے ہی دوسروں کو دیکھ کر سیکھتا اور نقل کرتا ہے، حضرت آدم کے زمانے سے لے کر آج تک ہم سب دیکھ کر ہی سیکھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی نقالی ہی کررہے ہیں۔ یہ کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ سیکھنا ایک بہت ہنر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ رخ خان کے ساتھ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کا نام جوڑے جانے پر بھی فردوس جمال نے ناراضی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30419515'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ماہرہ خان کو اس معاملے میں شامل نہ کیا جائے۔ ماہرہ خان میرا مسئلہ نہیں ہیں اور ان کو مجھ سے نہ جوڑا جائے کیونکہ وہ نہ میری بیوی ہیں اور نہ خاندان کا حصہ، اور اگر لوگ انہیں پسند کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے فردوس جمال نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شاہ رخ خان کوئی اچھے اداکار نہیں ہیں نیز انہوں نے شاہ رخ خان کے بولنے کے انداز اور جسمانی بناوٹ پر بھی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اداکاری کے مقابلے میں ایک بڑے اسٹار زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فردوس جمال نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ شاہ رخ خان ان سے کہیں بڑے اسٹار ہیں، لیکن ان کے خیال میں بطور اداکار دونوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سینئر اداکار فردوس جمال نے بولی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بارے میں  سابقہ بیان پر وضاحت کرتے ہوئے اپنا موقف بدل دیا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شاہ رخ خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شاہ رخ خان کے خلاف کچھ نہیں کہا، میں ان کی عزّت کرتا ہوں اور وہ ایک بہترین اداکار ہیں اور دلیپ کمار کی روایت کا تسلسل ہیں۔</p>
<p>سینئر اداکار نے کہا کہ ہر فنکار کا اپنا ایک فکری اور فنی انداز ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ خود دلیپ کمار کے اندازِ اداکاری سے متاثر ہیں، جبکہ شاہ رخ خان کا انداز مختلف ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503678'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فردوس جمال نے کہا، ”ہر اداکار کا اپنا ایک اسکول آف تھاٹ ہوتا ہے۔ میرا تعلق دلیپ کمار کے اسکول آف تھاٹ سے ہے۔ شاہ رخ خان جیسے اداکار مختلف ہیں۔ مختلف اداکار مختلف لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ میں دلیپ کمار، محمد علی، آغا طالش اور علاؤالدین جیسے اداکاروں سے متاثر ہوں اور میں ان کی نقل بھی کرتا تھا۔“</p>
<p>فردوس جمال نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان بچپن سے ہی دوسروں کو دیکھ کر سیکھتا اور نقل کرتا ہے، حضرت آدم کے زمانے سے لے کر آج تک ہم سب دیکھ کر ہی سیکھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی نقالی ہی کررہے ہیں۔ یہ کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ سیکھنا ایک بہت ہنر ہے۔</p>
<p>شاہ رخ خان کے ساتھ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کا نام جوڑے جانے پر بھی فردوس جمال نے ناراضی کا اظہار کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30419515'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ماہرہ خان کو اس معاملے میں شامل نہ کیا جائے۔ ماہرہ خان میرا مسئلہ نہیں ہیں اور ان کو مجھ سے نہ جوڑا جائے کیونکہ وہ نہ میری بیوی ہیں اور نہ خاندان کا حصہ، اور اگر لوگ انہیں پسند کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔</p>
<p>اس سے پہلے فردوس جمال نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شاہ رخ خان کوئی اچھے اداکار نہیں ہیں نیز انہوں نے شاہ رخ خان کے بولنے کے انداز اور جسمانی بناوٹ پر بھی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اداکاری کے مقابلے میں ایک بڑے اسٹار زیادہ ہیں۔</p>
<p>فردوس جمال نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ شاہ رخ خان ان سے کہیں بڑے اسٹار ہیں، لیکن ان کے خیال میں بطور اداکار دونوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512090</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 12:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08085920000bda3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08085920000bda3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں سائنس دانوں نے شارک سے انوکھا کام لینا شروع کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512142/scientists-in-us-are-using-sharks-to-get-ocean-data-for-improving-hurricane-predictions</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں۔ شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے۔ تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466818/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرون کارلائل کے مطابق محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی یہی اوپری تہہ سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مکسڈ لیئر جتنی گرم ہوگی، طوفان اتنا ہی طاقتور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی گرم پانی سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلاویئر یونیورسٹی میں ہی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی کچھ شارک نسلیں بحرِ اوقیانوس کے نسبتاً دور علاقوں میں موسم سرما گزارنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔ محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں، چارہ لگی ڈوریاں سمندر میں ڈالتے ہیں اور عموماً دو سے تین گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارک پکڑے جانے کے بعد اس کی پشت پر موجود پنکھ پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب بھی شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹس کے گردشی نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرکے جمع کیا گیا ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عموماً پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شارکس پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹیگز کو اس طرح سے پیوست کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جائے۔ ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر شارک کو دباؤ یا نقصان پہنچا ہو تو اس کے قدرتی رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے تحقیق کے لیے حاصل ہونے والا ڈیٹا متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسس تک ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو قابلِ اعتماد پیش گوئی فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کو مستقبل کے زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق بہت سے افراد شارک کو خوفناک جانور کے طور پر جانتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شارکس سمندر کے لیے انتہائی موزوں اور حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شارکس انسانوں کے لیے مفید معلومات فراہم کر سکتی ہیں تو یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورت حال ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔</strong></p>
<p>فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں۔ شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔</p>
<p>اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے۔ تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔</p>
<p>شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466818/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرون کارلائل کے مطابق محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی یہی اوپری تہہ سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مکسڈ لیئر جتنی گرم ہوگی، طوفان اتنا ہی طاقتور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی گرم پانی سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>ڈیلاویئر یونیورسٹی میں ہی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی کچھ شارک نسلیں بحرِ اوقیانوس کے نسبتاً دور علاقوں میں موسم سرما گزارنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔ محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں، چارہ لگی ڈوریاں سمندر میں ڈالتے ہیں اور عموماً دو سے تین گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔</p>
<p>شارک پکڑے جانے کے بعد اس کی پشت پر موجود پنکھ پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب بھی شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹس کے گردشی نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرکے جمع کیا گیا ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عموماً پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شارکس پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹیگز کو اس طرح سے پیوست کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جائے۔ ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر شارک کو دباؤ یا نقصان پہنچا ہو تو اس کے قدرتی رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے تحقیق کے لیے حاصل ہونے والا ڈیٹا متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>محققین کے مطابق اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسس تک ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو قابلِ اعتماد پیش گوئی فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کو مستقبل کے زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>محققین کے مطابق بہت سے افراد شارک کو خوفناک جانور کے طور پر جانتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شارکس سمندر کے لیے انتہائی موزوں اور حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شارکس انسانوں کے لیے مفید معلومات فراہم کر سکتی ہیں تو یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورت حال ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512142</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 15:14:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08151323c3fbc1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08151323c3fbc1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناریل پانی کتنی دیر میں خراب ہو جاتا ہے؟ نشانیاں اور محفوظ رکھنے کا طریقہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512109/coconut-water-how-long-does-it-stay-fresh-signs-of-spoilage-and-storage-tips</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناریل پانی گرمی کے موسم میں پیاس بجھانے کے لیے ایک مقبول مشروب ہے۔ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور  قدرتی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی اور لو سے بچاتے ہیں، گردوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ناریل سے نکلنے کے بعد یہ پانی کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ کیا جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ ناریل کا پانی نکالنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے پی لینا چاہیے۔ عام گرم موسم میں اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو صرف 2 سے 4 گھنٹے کے اندر اس کی تازگی متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ناریل کھولنے کے بعد پانی کو زیادہ دیر باہر رکھنے کے بجائے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ناریل پانی فوری طور پر نہیں پینا تو اسے فریج میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پانی کو ایک صاف اور ہوا بند ڈبے میں ڈال کر جتنی جلدی ممکن ہو فریج میں رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناریل پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسے ہمیشہ صاف اور اچھی طرح بند ہونے والے برتن میں رکھیں۔ ناریل سے پانی نکالتے ہی اسے فریج میں منتقل کردیں اور اسے گرمی یا براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔ بار بار ڈبہ کھولنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ اس سے باہر کی ہوا اور آلودگی کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناریل پانی پینے سے پہلے اس کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ اگر اس کی بو یا ذائقہ معمول سے مختلف محسوس ہو تو اسے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ناریل پانی کو ایک یا دو دن سے زیادہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے فریزر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوڈ گریڈ ڈبہ یا آئس کیوب ٹرے استعمال کی جاسکتی ہے۔ فریزر میں ناریل پانی تقریباً ایک سے دو ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم استعمال سے کچھ دیر پہلے اسے باہر نکال کر عام درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ فریز کرنے سے اس کے ذائقے اور غذائیت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بازار میں ملنے والے پیک شدہ ڈبے والے ناریل پانی کی میعاد اور قدرتی ناریل پانی کی پائیداری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ ڈبے والے پانی میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ دن چلتا ہے، جب کہ قدرتی پانی بہت جلدی خراب ہوتا ہے۔ ناریل خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ناریل باہر سے بالکل خشک ہو اور ہلانے پر اندر سے پانی کی اچھی آواز آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ناریل کے پانی سے کھٹا یا خمیر جیسا ذائقہ آئے، عجیب بدبو محسوس ہو، اس کا رنگ بدل جائے یا اس میں جھاگ بننے لگے تو اسے ہرگز نہ پیئیں۔ ایسا خراب پانی پینے سے پیٹ کی شدید بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر کہ ناریل پانی قدرتی اور صحت بخش مشروب ہے، اسے خراب ہونے کے بعد پینا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی بنیادی ہدایت یہی ہے کہ تازہ ناریل پانی فوراً پی لیا جائے، جبکہ بچ جانے والے پانی کو جلد از جلد صاف، بند برتن میں ڈال کر فریج میں رکھا جائے اور بہتر ذائقے اور معیار کے لیے ایک دن کے اندر استعمال کرلیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناریل پانی گرمی کے موسم میں پیاس بجھانے کے لیے ایک مقبول مشروب ہے۔ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور  قدرتی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی اور لو سے بچاتے ہیں، گردوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ناریل سے نکلنے کے بعد یہ پانی کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ کیا جائے؟</strong></p>
<p>ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ ناریل کا پانی نکالنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے پی لینا چاہیے۔ عام گرم موسم میں اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو صرف 2 سے 4 گھنٹے کے اندر اس کی تازگی متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ناریل کھولنے کے بعد پانی کو زیادہ دیر باہر رکھنے کے بجائے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>اگر ناریل پانی فوری طور پر نہیں پینا تو اسے فریج میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پانی کو ایک صاف اور ہوا بند ڈبے میں ڈال کر جتنی جلدی ممکن ہو فریج میں رکھنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ناریل پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسے ہمیشہ صاف اور اچھی طرح بند ہونے والے برتن میں رکھیں۔ ناریل سے پانی نکالتے ہی اسے فریج میں منتقل کردیں اور اسے گرمی یا براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔ بار بار ڈبہ کھولنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ اس سے باہر کی ہوا اور آلودگی کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ناریل پانی پینے سے پہلے اس کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ اگر اس کی بو یا ذائقہ معمول سے مختلف محسوس ہو تو اسے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔</p>
<p>اگر ناریل پانی کو ایک یا دو دن سے زیادہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے فریزر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوڈ گریڈ ڈبہ یا آئس کیوب ٹرے استعمال کی جاسکتی ہے۔ فریزر میں ناریل پانی تقریباً ایک سے دو ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>تاہم استعمال سے کچھ دیر پہلے اسے باہر نکال کر عام درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ فریز کرنے سے اس کے ذائقے اور غذائیت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460630'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق بازار میں ملنے والے پیک شدہ ڈبے والے ناریل پانی کی میعاد اور قدرتی ناریل پانی کی پائیداری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ ڈبے والے پانی میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ دن چلتا ہے، جب کہ قدرتی پانی بہت جلدی خراب ہوتا ہے۔ ناریل خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ناریل باہر سے بالکل خشک ہو اور ہلانے پر اندر سے پانی کی اچھی آواز آئے۔</p>
<p>غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ناریل کے پانی سے کھٹا یا خمیر جیسا ذائقہ آئے، عجیب بدبو محسوس ہو، اس کا رنگ بدل جائے یا اس میں جھاگ بننے لگے تو اسے ہرگز نہ پیئیں۔ ایسا خراب پانی پینے سے پیٹ کی شدید بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر کہ ناریل پانی قدرتی اور صحت بخش مشروب ہے، اسے خراب ہونے کے بعد پینا مناسب نہیں۔</p>
<p>ماہرین کی بنیادی ہدایت یہی ہے کہ تازہ ناریل پانی فوراً پی لیا جائے، جبکہ بچ جانے والے پانی کو جلد از جلد صاف، بند برتن میں ڈال کر فریج میں رکھا جائے اور بہتر ذائقے اور معیار کے لیے ایک دن کے اندر استعمال کرلیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512109</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 11:22:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/081122200f26383.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/081122200f26383.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خراب دودھ کے 175 روپے واپس مانگنے والی خاتون کے ساتھ تقریباً 2 لاکھ کا فراڈ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ ریٹائرڈ خاتون صرف 175 روپے کے ریفنڈ کے لیے مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر فراڈ کا شکار ہوگئیں۔ دھوکے باز نے خود کو آن لائن گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم کے کسٹمر کیئر نمائندے کے طور پر ظاہر کیا اور خاتون سے مبینہ طور پر 1 لاکھ 91 ہزار روپے ہتھیا لیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے ایک معروف فوری گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم سے دودھ کے 5 پیکٹ منگوائے تھے۔ گھر پر آرڈر پہنچنے کے بعد خاتون نے دیکھا کہ دودھ خراب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رقم واپس لینے کے لیے گوگل پر جا کر کمپنی کےکسٹمر کیئر نمبر کی تلاش شروع کردی۔ سرچ کے دوران سامنے آنے والے ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ کال موصول کرنے والے شخص نے اپنا نام اسماعیل انصاری بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا نمائندہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511963/india-narendra-modi-instagram-social-media-snapchat-gen-z-ministry-of-external-affairs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ اسماعیل انصاری نے ان کا اعتماد جیتا اور کہا کہ رقم کی واپسی یو پی آئی کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اس نے خاتون کو ایک اے پی کے فائل بھیجی اور کہا کہ اسے اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اس شخص نے چالاکی سے مجھ سے مختلف بینک اکاؤنٹس اور یو پی آئی آئی ڈیز میں کل 1 لاکھ 91 ہزار روپے منتقل کروا لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب خاتون کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً سائبر ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجکوٹ شہر کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان موبائل نمبروں اور بینک اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جو اس فریب میں استعمال ہوئے تھے تاکہ فراڈ میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن لائن کسٹمر کیئر نمبر تلاش کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرچ انجن پر نظر آنے والا ہر فون نمبر متعلقہ کمپنی کا سرکاری نمبر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائل یا کوئی غیر معروف ایپ موبائل میں انسٹال کرنا بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری یا رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ ریٹائرڈ خاتون صرف 175 روپے کے ریفنڈ کے لیے مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر فراڈ کا شکار ہوگئیں۔ دھوکے باز نے خود کو آن لائن گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم کے کسٹمر کیئر نمائندے کے طور پر ظاہر کیا اور خاتون سے مبینہ طور پر 1 لاکھ 91 ہزار روپے ہتھیا لیے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے ایک معروف فوری گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم سے دودھ کے 5 پیکٹ منگوائے تھے۔ گھر پر آرڈر پہنچنے کے بعد خاتون نے دیکھا کہ دودھ خراب تھا۔</p>
<p>انہوں نے رقم واپس لینے کے لیے گوگل پر جا کر کمپنی کےکسٹمر کیئر نمبر کی تلاش شروع کردی۔ سرچ کے دوران سامنے آنے والے ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ کال موصول کرنے والے شخص نے اپنا نام اسماعیل انصاری بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا نمائندہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511963/india-narendra-modi-instagram-social-media-snapchat-gen-z-ministry-of-external-affairs'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ اسماعیل انصاری نے ان کا اعتماد جیتا اور کہا کہ رقم کی واپسی یو پی آئی کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<p>اس کے بعد اس نے خاتون کو ایک اے پی کے فائل بھیجی اور کہا کہ اسے اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اس شخص نے چالاکی سے مجھ سے مختلف بینک اکاؤنٹس اور یو پی آئی آئی ڈیز میں کل 1 لاکھ 91 ہزار روپے منتقل کروا لیے۔</p>
<p>جب خاتون کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً سائبر ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔</p>
<p>راجکوٹ شہر کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان موبائل نمبروں اور بینک اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جو اس فریب میں استعمال ہوئے تھے تاکہ فراڈ میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن لائن کسٹمر کیئر نمبر تلاش کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔</p>
<p>سرچ انجن پر نظر آنے والا ہر فون نمبر متعلقہ کمپنی کا سرکاری نمبر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائل یا کوئی غیر معروف ایپ موبائل میں انسٹال کرنا بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری یا رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512111</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 12:08:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08120529ea94321.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08120529ea94321.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راجپال یادو پر قرض کا شکنجہ مزید سخت، جائیدادوں کی نیلامی کا نوٹس جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511996/rajpal-yadavs-debt-troubles-deepen-property-auction-notice-issued</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بولی ووڈ کے معروف کامیڈین اور اداکار راجپال یادو کی مالی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ چیک باؤنس کیس میں عدالت سے سزا ملنے کے چند ہفتوں بعد اب سینٹرل بینک آف انڈیا نے تقریباً 16 کروڑ 61 لاکھ روپے کے بقایا قرض کی وصولی کے لیے ان کی آبائی جائیدادوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل بینک آف انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور کے گاؤں کندرا میں واقع راجپال یادو کے آبائی گھر سمیت دیگر گروی رکھی گئی جائیدادوں پر ضبطی کے نوٹس چسپاں کر دیے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں قرض ادا نہ کیا گیا تو 9 ستمبر 2026 کو ان جائیدادوں کی ای نیلامی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجپال یادو، ان کی اہلیہ رادھا یادو اور والدہ گوداوری یادو پر مجموعی طور پر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے واجب الادا ہیں۔ قرض کی ضمانت کے طور پر شاہجہاں پور میں واقع آبائی مکان، ایک اور رہائشی جائیداد، زرعی زمین اور دیگر اثاثے گروی رکھے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499565'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان جائیدادوں کی مجموعی ریزرو قیمت تقریباً 3 کروڑ 19 لاکھ بھارتی روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ نیلامی میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کو 7 ستمبر تک 31 لاکھ بھارتی روپے بطور ضمانتی رقم جمع کرانا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجپال یادو کے بڑے بھائی شری پال یادو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ”یہ ایک پرانا معاملہ ہے۔ بینک کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ نیلامی کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹرل بینک آف انڈیا کے منیجر انوج ورما نے بھی تصدیق کی کہ کندرا میں واقع آبائی مکان پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اسی معاملے میں تقریباً دو سال پہلے بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بینک اور راجپال یادو کے درمیان قرض کی ادائیگی پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مالی تنازع راجپال یادو کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”اتا پتا لاپتا“ سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2005 میں اپنے والدین کے نام سے ”نورنگ گوداوری انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ“ قائم کی اور فلم کی تیاری کے لیے ممبئی میں سینٹرل بینک آف انڈیا کی برانچ سے تقریباً 5 کروڑ بھارتی روپے قرض لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، جس کے باعث قرض بروقت ادا نہیں کیا جا سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر مالی واجبات شامل ہوتے گئے اور بینک کے مطابق اب مجموعی رقم بڑھ کر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/159636'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/159636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب بینک نے راجپال یادو کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اگست 2024 میں بھی شاہجہاں پور میں ان کی ایک جائیداد کے حصے کو سیل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس وقت بقایا قرض تقریباً 11 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار اس وقت چیک باؤنس کیس میں بھی قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ دہلی ہائی کورٹ نے اسی قرض سے متعلق سات چیک باؤنس مقدمات میں راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ہر مقدمے میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی بتایا تھا کہ اداکار پہلے ہی تقریباً دو کروڑ بھارتی روپے جمع کرا چکے ہیں، جنہیں مجموعی واجبات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ کئی برس پرانا ہے۔ 2018 میں ٹرائل کورٹ نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادیو کو قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ 2019 میں سیشن کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ نے 2024 میں سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپے ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن ادائیگی نہ ہونے پر فروری 2026 میں اداکار کو خود کو تہاڑ جیل کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔ راجپال یادو نے 5 فروری کو گرفتاری دی تھی اور تقریباً 12 دن بعد انہیں عبوری ضمانت مل گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب راجپال یادو کے پیشہ ورانہ کیریئر کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ حال ہی میں فلم ”ویلکم ٹو دی جنگل“ میں نظر آئے، جبکہ اب وہ پریہ درشن کی آنے والی فلم ”حیوان“ میں اکشے کمار اور سیف علی خان کے ساتھ دکھائی دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بولی ووڈ کے معروف کامیڈین اور اداکار راجپال یادو کی مالی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ چیک باؤنس کیس میں عدالت سے سزا ملنے کے چند ہفتوں بعد اب سینٹرل بینک آف انڈیا نے تقریباً 16 کروڑ 61 لاکھ روپے کے بقایا قرض کی وصولی کے لیے ان کی آبائی جائیدادوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل بینک آف انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور کے گاؤں کندرا میں واقع راجپال یادو کے آبائی گھر سمیت دیگر گروی رکھی گئی جائیدادوں پر ضبطی کے نوٹس چسپاں کر دیے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں قرض ادا نہ کیا گیا تو 9 ستمبر 2026 کو ان جائیدادوں کی ای نیلامی کی جائے گی۔</p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجپال یادو، ان کی اہلیہ رادھا یادو اور والدہ گوداوری یادو پر مجموعی طور پر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے واجب الادا ہیں۔ قرض کی ضمانت کے طور پر شاہجہاں پور میں واقع آبائی مکان، ایک اور رہائشی جائیداد، زرعی زمین اور دیگر اثاثے گروی رکھے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499565'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان جائیدادوں کی مجموعی ریزرو قیمت تقریباً 3 کروڑ 19 لاکھ بھارتی روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ نیلامی میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کو 7 ستمبر تک 31 لاکھ بھارتی روپے بطور ضمانتی رقم جمع کرانا ہوگی۔</p>
<p>راجپال یادو کے بڑے بھائی شری پال یادو نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ”یہ ایک پرانا معاملہ ہے۔ بینک کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ نیلامی کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔“</p>
<p>سینٹرل بینک آف انڈیا کے منیجر انوج ورما نے بھی تصدیق کی کہ کندرا میں واقع آبائی مکان پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اسی معاملے میں تقریباً دو سال پہلے بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد بینک اور راجپال یادو کے درمیان قرض کی ادائیگی پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔“</p>
<p>یہ مالی تنازع راجپال یادو کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”اتا پتا لاپتا“ سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2005 میں اپنے والدین کے نام سے ”نورنگ گوداوری انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ“ قائم کی اور فلم کی تیاری کے لیے ممبئی میں سینٹرل بینک آف انڈیا کی برانچ سے تقریباً 5 کروڑ بھارتی روپے قرض لیا تھا۔</p>
<p>تاہم فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی، جس کے باعث قرض بروقت ادا نہیں کیا جا سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر مالی واجبات شامل ہوتے گئے اور بینک کے مطابق اب مجموعی رقم بڑھ کر 16 کروڑ 61 لاکھ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/159636'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/159636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ پہلا موقع نہیں جب بینک نے راجپال یادو کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اگست 2024 میں بھی شاہجہاں پور میں ان کی ایک جائیداد کے حصے کو سیل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس وقت بقایا قرض تقریباً 11 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ چکا تھا۔</p>
<p>اداکار اس وقت چیک باؤنس کیس میں بھی قانونی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ دہلی ہائی کورٹ نے اسی قرض سے متعلق سات چیک باؤنس مقدمات میں راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ہر مقدمے میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی بتایا تھا کہ اداکار پہلے ہی تقریباً دو کروڑ بھارتی روپے جمع کرا چکے ہیں، جنہیں مجموعی واجبات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ مقدمہ کئی برس پرانا ہے۔ 2018 میں ٹرائل کورٹ نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادیو کو قصوروار قرار دیا تھا، جبکہ 2019 میں سیشن کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی۔</p>
<p>بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ نے 2024 میں سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے تقریباً 9 کروڑ بھارتی روپے ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن ادائیگی نہ ہونے پر فروری 2026 میں اداکار کو خود کو تہاڑ جیل کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا۔ راجپال یادو نے 5 فروری کو گرفتاری دی تھی اور تقریباً 12 دن بعد انہیں عبوری ضمانت مل گئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب راجپال یادو کے پیشہ ورانہ کیریئر کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ حال ہی میں فلم ”ویلکم ٹو دی جنگل“ میں نظر آئے، جبکہ اب وہ پریہ درشن کی آنے والی فلم ”حیوان“ میں اکشے کمار اور سیف علی خان کے ساتھ دکھائی دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511996</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 13:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/07135657de2e0b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/07135657de2e0b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہائی یا لو بلڈ پریشر میں کتنا نمک کھانا چاہیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511991/how-much-salt-should-you-eat-in-high-or-low-blood-pressure-know-the-right-amount</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل بلڈ پریشر یعنی خون کے دباؤ کا مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے اور ہر دوسرا شخص یا تو ہائی بی پی سے پریشان ہے یا پھر لو بی پی کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا نمک کھانا چاہیے کیونکہ نمک کا براہ راست تعلق انسان کے بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے طبی ماہرین نے نمک کی صحیح مقدار اور اس کے استعمال کے بارے میں آسان معلومات فراہم کی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/how-much-salt-intake-in-high-or-low-blood-pressure-is-safe-health-expert-reveals-201785979665441.html"&gt;ہندوستان ڈاٹ کام&lt;/a&gt; کے مطابق معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ ہائی بی پی کے مریض ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو نمک بالکل ہی بند کر دینا چاہیے، کیونکہ نمک جسم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کا طریقہ بتایا کہ انسان نمک کے معاملے میں کتنا حساس ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ پہلے تین دن اپنا بی پی چیک کریں، پھر اگلے تین دن کھانا تھوڑا زیادہ نمک کی مقدار میں معمولی اضافہ کر کے بی پی کی ریڈنگ لیں اور اس کے بعد کم نمک کھا کر بی پی چیک کریں۔ یہ ریڈنگ آپ کو بتا دے گی کہ نمک سے آپ کا بی پی متاثر ہوتا ہے یا نہیں۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بمل کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بی پی کیوں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ جن کو اپنے بی پی کی صورتحال معلوم ہے وہ یہ تجربہ نہ کریں اور صرف نمک کی صحیح مقدار استعمال کریں۔ اگر بی پی لو رہتا ہو تو نمک کی مناسب مقدار لیں اور اگر ہائی رہتا ہو تو تھوڑا کم کھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/publications/i/item/9789241504836"&gt; ڈبلیو ایچ او&lt;/a&gt; کے مطابق ایک عام اور تندرست انسان کو دن بھر میں پانچ گرام سے کم یعنی تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر ہی نمک کھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق جب کسی انسان کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں پانی میں نمک ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سوڈیم اور پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ جب جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے بی پی گر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472643/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472643"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ہائی بلڈ پریشر میں جسم میں زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہائی بی پی کے مریضوں کو نمک کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق لو بلڈ پریشر کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہو سکتا ہے جبکہ ہائی بی پی ہونے پر سر میں شدید درد رہتا ہے، چکر آتے ہیں، دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار ہر شخص کی صحت، عمر اور بیماری کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل بلڈ پریشر یعنی خون کے دباؤ کا مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے اور ہر دوسرا شخص یا تو ہائی بی پی سے پریشان ہے یا پھر لو بی پی کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں دن بھر میں کتنا نمک کھانا چاہیے کیونکہ نمک کا براہ راست تعلق انسان کے بلڈ پریشر سے ہوتا ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے طبی ماہرین نے نمک کی صحیح مقدار اور اس کے استعمال کے بارے میں آسان معلومات فراہم کی ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.livehindustan.com/lifestyle/health/how-much-salt-intake-in-high-or-low-blood-pressure-is-safe-health-expert-reveals-201785979665441.html">ہندوستان ڈاٹ کام</a> کے مطابق معروف طبی ماہر ڈاکٹر بمل چھاجڑ نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آپ ہائی بی پی کے مریض ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو نمک بالکل ہی بند کر دینا چاہیے، کیونکہ نمک جسم کے نظام کو چلانے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کا طریقہ بتایا کہ انسان نمک کے معاملے میں کتنا حساس ہے</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ پہلے تین دن اپنا بی پی چیک کریں، پھر اگلے تین دن کھانا تھوڑا زیادہ نمک کی مقدار میں معمولی اضافہ کر کے بی پی کی ریڈنگ لیں اور اس کے بعد کم نمک کھا کر بی پی چیک کریں۔ یہ ریڈنگ آپ کو بتا دے گی کہ نمک سے آپ کا بی پی متاثر ہوتا ہے یا نہیں۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503616/heart-health-blood-pressure-check-frequency'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر بمل کا مزید کہنا تھا کہ یہ طریقہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بی پی کیوں اوپر نیچے ہوتا ہے۔ جن کو اپنے بی پی کی صورتحال معلوم ہے وہ یہ تجربہ نہ کریں اور صرف نمک کی صحیح مقدار استعمال کریں۔ اگر بی پی لو رہتا ہو تو نمک کی مناسب مقدار لیں اور اگر ہائی رہتا ہو تو تھوڑا کم کھائیں۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/publications/i/item/9789241504836"> ڈبلیو ایچ او</a> کے مطابق ایک عام اور تندرست انسان کو دن بھر میں پانچ گرام سے کم یعنی تقریباً ایک چھوٹے چمچ کے برابر ہی نمک کھانا چاہیے۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق جب کسی انسان کا بلڈ پریشر لو ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں پانی میں نمک ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جسم میں سوڈیم اور پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ جب جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہوتی ہے تو خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس سے بی پی گر جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472643/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472643"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس ہائی بلڈ پریشر میں جسم میں زیادہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس سے خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہائی بی پی کے مریضوں کو نمک کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق لو بلڈ پریشر کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، بے ہوشی محسوس ہونا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا اور ٹھنڈا پسینہ آنا شامل ہو سکتا ہے جبکہ ہائی بی پی ہونے پر سر میں شدید درد رہتا ہے، چکر آتے ہیں، دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی مقدار ہر شخص کی صحت، عمر اور بیماری کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511991</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 13:16:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/071326374636af4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/071326374636af4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کے فاسٹ بولر نے 25 برس کی عمر میں کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511953/fast-bowler-ecb-international-cricket-england-cricket-john-turner-hampshire-cricket-retirement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر جان ٹرنر نے مسلسل انجریز سے پریشان ہو کر پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جبکہ ہیمپشائر کے ساتھ ان کے معاہدے کی مدت میں ابھی دو سال باقی تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پیدا ہونے والے جان ٹرنر نے 2024 میں انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے، جن میں انہوں نے مجموعی طور پر تین وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اپنی عمدہ کارکردگی سے متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511805/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم جون 2025 سے وہ کمر میں اسٹریس فریکچر کے باعث کسی بھی پیشہ ورانہ میچ میں حصہ نہیں لے سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک انجری کا شکار رہنے اور بار بار فٹنس مسائل کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا، جس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اب کرکٹ سے الگ ہو کر زندگی کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کا یہی مناسب وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشیات اور فنانس میں گریجویٹ جان ٹرنر نے اپنے بیان میں کہا کہ پروفیشنل اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا ہمیشہ ان کا خواب تھا اور ہیمپشائر اور انگلینڈ کی نمائندگی کرنا ان کے بچپن کے خوابوں کی تعبیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے، لیکن مسلسل انجریز، خصوصاً ایک سال سے زائد عرصے تک میدان سے دور رکھنے والے کمر کے اسٹریس فریکچر نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511781/second-test-pakistan-beat-west-indies-by-8-wickets-to-level-the-score'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جان ٹرنر نے 2021 میں کامیاب ٹرائل کے بعد ہیمپشائر میں شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ 2023 میں دی ہنڈرڈ ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت انہیں پہلی بار انگلینڈ کی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ ان کے پاس گزشتہ سال کے آخر تک انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کا ڈویلپمنٹ کنٹریکٹ بھی موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے ریٹائرمنٹ پیغام میں جان ٹرنر نے ہیمپشائر کلب، کوچز، ساتھی کھلاڑیوں، عملے اور مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کلب کے ساتھ بطور پروفیشنل کرکٹر گزارے گئے پانچ سال ان کی زندگی کے بہترین سال رہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہر مرحلے پر بھرپور اعتماد، تعاون اور حوصلہ افزائی ملی، جس کی بدولت وہ اپنے خواب پورے کرنے میں کامیاب ہوئے، اور وہ اس حمایت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انگلینڈ کے 25 سالہ فاسٹ بولر جان ٹرنر نے مسلسل انجریز سے پریشان ہو کر پروفیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جبکہ ہیمپشائر کے ساتھ ان کے معاہدے کی مدت میں ابھی دو سال باقی تھے۔</strong></p>
<p>جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں پیدا ہونے والے جان ٹرنر نے 2024 میں انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے، جن میں انہوں نے مجموعی طور پر تین وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اپنی عمدہ کارکردگی سے متاثر کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511805/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم جون 2025 سے وہ کمر میں اسٹریس فریکچر کے باعث کسی بھی پیشہ ورانہ میچ میں حصہ نہیں لے سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک انجری کا شکار رہنے اور بار بار فٹنس مسائل کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا، جس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اب کرکٹ سے الگ ہو کر زندگی کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کا یہی مناسب وقت ہے۔</p>
<p>معاشیات اور فنانس میں گریجویٹ جان ٹرنر نے اپنے بیان میں کہا کہ پروفیشنل اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا ہمیشہ ان کا خواب تھا اور ہیمپشائر اور انگلینڈ کی نمائندگی کرنا ان کے بچپن کے خوابوں کی تعبیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے، لیکن مسلسل انجریز، خصوصاً ایک سال سے زائد عرصے تک میدان سے دور رکھنے والے کمر کے اسٹریس فریکچر نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511781/second-test-pakistan-beat-west-indies-by-8-wickets-to-level-the-score'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جان ٹرنر نے 2021 میں کامیاب ٹرائل کے بعد ہیمپشائر میں شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ 2023 میں دی ہنڈرڈ ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت انہیں پہلی بار انگلینڈ کی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ ان کے پاس گزشتہ سال کے آخر تک انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کا ڈویلپمنٹ کنٹریکٹ بھی موجود تھا۔</p>
<p>اپنے ریٹائرمنٹ پیغام میں جان ٹرنر نے ہیمپشائر کلب، کوچز، ساتھی کھلاڑیوں، عملے اور مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کلب کے ساتھ بطور پروفیشنل کرکٹر گزارے گئے پانچ سال ان کی زندگی کے بہترین سال رہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہر مرحلے پر بھرپور اعتماد، تعاون اور حوصلہ افزائی ملی، جس کی بدولت وہ اپنے خواب پورے کرنے میں کامیاب ہوئے، اور وہ اس حمایت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511953</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 08:57:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/070902049cdf143.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/070902049cdf143.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رنبیر کپور سے پہلے ہریتھک روشن کو رام کا کردار بنانے کا منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511970/why-did-the-plan-to-cast-hrithik-roshan-as-lord-ram-before-ranbir-kapoor-fail</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ہدایت کار نتیش تیواری کی فلم ”رامائن“ میں رنبیر کپور کے رام کے کردار کو لے کر شائقین میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے،لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً 15 سال پہلے بھی اس کہانی پر ایک بہت بڑی فلم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں رنبیر کپور کے بجائے ہریتھک روشن کو مرکزی کردار کے لیے چنا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2008 میں معروف فلم ساز سنجے خان نے اس فلم کو بڑے پردے پر لانے کا اعلان کیا تھا، جس کا نام ’دی لیجنڈ آف رام‘ رکھا گیا تھا۔ اس فلم کے لیے ہریتھک روشن کو مرکزی کردار جبکہ لکشمن کے لیے سنجے خان کے بیٹے زاید خان اور راجہ دشرتھ کے کردار کے لیے امیتابھ بچن کا نام پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت فلم کا  بجٹ اندازاً 50 کروڑ بھارتی روپے رکھا گیا تھا جو اس دور کے لحاظ سے ایک بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس فلم کی کہانی برطانوی مصنف فرخ دھونڈی کی مدد سے لکھی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511811/historical-mistake-in-indian-film-ramayana-sparks-controversy'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511811"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے سال 2008 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں زاید خان نے کہا تھا کہ میرے والد واقعی رامائن بنا رہے ہیں۔ اس کا نام دی لیجنڈ آف رام ہے۔ وہ پچھلے تین سالوں سے اس فلم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور رام کا کردار ادا کرنے کے لیے کسی بہترین شخص کی تلاش میں تھے اور ہریتھک روشن سے بہتر اس کردار کے لیے کون ہو سکتا تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس فلم کی تیاری اور کہانی پر کافی کام ہوا، لیکن یہ فلم کبھی فلور پر نہ جا سکی اور بالاخر اسے بند کر دیا گیا۔ اس فلم کے ڈبہ بند ہونے کی کوئی خاص وجہ سرکاری طور پر تو ظاہر نہیں کی گئی، لیکن اس دور کی میڈیا رپورٹس کے مطابق مالی مسائل اور شروعاتی مرحلے کی منصوبہ بندی میں رکاوٹوں کے باعث یہ فلم نہ بن سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کئی سالوں بعد نیتش تیواری اس قدیم کہانی کو ایک نئے انداز میں سامنے لا رہے ہیں، جس کا بجٹ تقریباً 4000 کروڑ بھارتی روپے بتایا جا رہا ہے۔ اس نئی فلم میں رنبیر کپور کے ساتھ سائی پلوی، یش، روی دوبے، ارون گوول، لارا دتا اور سنی دیول جیسے اداکار کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30366897/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366897"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے ئی خبریں سامنے آرہی تھیں کہ امیتابھ بچن اس نئی فلم میں جٹایو کے کردار کو اپنی آواز دیں گے، لیکن بعد میں فلم سازوں نے واضح کیا کہ یہ آواز انوپم کھیر کی ہوگی۔ یہ نئی فلم 6 نومبرکو دیوالی کے موقع پر سینما گھروں کی زینت بنے گی، جبکہ اس کا دوسرا حصہ 2027 کی دیوالی پر ریلیز کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہریتھک روشن کی ”دی لیجنڈ آف رام“ کبھی پردۂ سیمیں تک نہ پہنچ سکی، لیکن اس منصوبے کا ذکر آج بھی بولی ووڈ کے ان بڑے فلمی منصوبوں میں کیا جاتا ہے جو اعلان کے باوجود حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ہدایت کار نتیش تیواری کی فلم ”رامائن“ میں رنبیر کپور کے رام کے کردار کو لے کر شائقین میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے،لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ آج سے تقریباً 15 سال پہلے بھی اس کہانی پر ایک بہت بڑی فلم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں رنبیر کپور کے بجائے ہریتھک روشن کو مرکزی کردار کے لیے چنا گیا تھا۔</strong></p>
<p>سال 2008 میں معروف فلم ساز سنجے خان نے اس فلم کو بڑے پردے پر لانے کا اعلان کیا تھا، جس کا نام ’دی لیجنڈ آف رام‘ رکھا گیا تھا۔ اس فلم کے لیے ہریتھک روشن کو مرکزی کردار جبکہ لکشمن کے لیے سنجے خان کے بیٹے زاید خان اور راجہ دشرتھ کے کردار کے لیے امیتابھ بچن کا نام پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس وقت فلم کا  بجٹ اندازاً 50 کروڑ بھارتی روپے رکھا گیا تھا جو اس دور کے لحاظ سے ایک بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس فلم کی کہانی برطانوی مصنف فرخ دھونڈی کی مدد سے لکھی جا رہی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511811/historical-mistake-in-indian-film-ramayana-sparks-controversy'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511811"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے سال 2008 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں زاید خان نے کہا تھا کہ میرے والد واقعی رامائن بنا رہے ہیں۔ اس کا نام دی لیجنڈ آف رام ہے۔ وہ پچھلے تین سالوں سے اس فلم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور رام کا کردار ادا کرنے کے لیے کسی بہترین شخص کی تلاش میں تھے اور ہریتھک روشن سے بہتر اس کردار کے لیے کون ہو سکتا تھا؟</p>
<p>اگرچہ اس فلم کی تیاری اور کہانی پر کافی کام ہوا، لیکن یہ فلم کبھی فلور پر نہ جا سکی اور بالاخر اسے بند کر دیا گیا۔ اس فلم کے ڈبہ بند ہونے کی کوئی خاص وجہ سرکاری طور پر تو ظاہر نہیں کی گئی، لیکن اس دور کی میڈیا رپورٹس کے مطابق مالی مسائل اور شروعاتی مرحلے کی منصوبہ بندی میں رکاوٹوں کے باعث یہ فلم نہ بن سکی۔</p>
<p>اب کئی سالوں بعد نیتش تیواری اس قدیم کہانی کو ایک نئے انداز میں سامنے لا رہے ہیں، جس کا بجٹ تقریباً 4000 کروڑ بھارتی روپے بتایا جا رہا ہے۔ اس نئی فلم میں رنبیر کپور کے ساتھ سائی پلوی، یش، روی دوبے، ارون گوول، لارا دتا اور سنی دیول جیسے اداکار کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30366897/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366897"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے پہلے ئی خبریں سامنے آرہی تھیں کہ امیتابھ بچن اس نئی فلم میں جٹایو کے کردار کو اپنی آواز دیں گے، لیکن بعد میں فلم سازوں نے واضح کیا کہ یہ آواز انوپم کھیر کی ہوگی۔ یہ نئی فلم 6 نومبرکو دیوالی کے موقع پر سینما گھروں کی زینت بنے گی، جبکہ اس کا دوسرا حصہ 2027 کی دیوالی پر ریلیز کیا جائے گا۔</p>
<p>اگرچہ ہریتھک روشن کی ”دی لیجنڈ آف رام“ کبھی پردۂ سیمیں تک نہ پہنچ سکی، لیکن اس منصوبے کا ذکر آج بھی بولی ووڈ کے ان بڑے فلمی منصوبوں میں کیا جاتا ہے جو اعلان کے باوجود حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511970</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 11:14:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/07111509f1d8ada.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/07111509f1d8ada.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لمبے وقفے کے بعد ورزش؟ ایک غلطی آپ کو اسپتال پہنچا سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511964/working-out-after-a-long-break-one-mistake-could-land-you-in-the-hospital</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ نے کام کی مصروفیت، ذہنی دباؤ یا کسی بھی وجہ سے کافی عرصے سے ورزش یا ورزش کی روٹین چھوڑ رکھی تھی اور اب دوبارہ جم جانے یا ورزش شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پہلے جیسی سخت ورزش فوراً شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔  ڈاکٹرز کے مطابق جسم کو دوبارہ جسمانی سرگرمی کا عادی ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ورنہ پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور یہاں تک کہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصروف دفتری زندگی، ذہنی دباؤ، لمبی میٹنگز یا دیگر ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم جب وہ دوبارہ ورزش شروع کرتے ہیں تو اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے والی رفتار اور شدت سے ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق لمبے وقفے کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا خاصا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ جب انسان کافی عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو اس سے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جسم کو پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے اچانک سخت ورزش شروع  کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے پرانی رفتار کے بجائے آہستہ آہستہ شروعات کرنا ہی محفوظ طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹنس ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک فزیو تھراپسٹ یا ماہر کا کام روزانہ کی معمول کی ورزشیں کروانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جِم میں کیا کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے جسم کو اسٹریچنگ کے ذریعے تیار کرنا چاہیے تاکہ پٹھوں کی اکڑن کم ہو اور جسم حرکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد ہلکی کارڈیو ورزش کی جائے تاکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور برداشت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467816/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بنیادی ویٹ ٹریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو بہتر سہارا ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی بے حد اہم ہے تاکہ غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ آغاز کرتے وقت پٹھوں کی لچک بڑھانے کے لیے کھنچاؤ کی ورزشیں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ہلکی واک یا کارڈیو، پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہلکا وزن اٹھانا اور اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنانا بہت ضروری ہے۔  ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، وافر پانی پینا اور پرسکون نیند لینا بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو ورزش دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ نے کام کی مصروفیت، ذہنی دباؤ یا کسی بھی وجہ سے کافی عرصے سے ورزش یا ورزش کی روٹین چھوڑ رکھی تھی اور اب دوبارہ جم جانے یا ورزش شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پہلے جیسی سخت ورزش فوراً شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔  ڈاکٹرز کے مطابق جسم کو دوبارہ جسمانی سرگرمی کا عادی ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ورنہ پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور یہاں تک کہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔</strong></p>
<p>مصروف دفتری زندگی، ذہنی دباؤ، لمبی میٹنگز یا دیگر ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم جب وہ دوبارہ ورزش شروع کرتے ہیں تو اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے والی رفتار اور شدت سے ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق لمبے وقفے کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا خاصا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ جب انسان کافی عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو اس سے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جسم کو پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے اچانک سخت ورزش شروع  کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499563'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے پرانی رفتار کے بجائے آہستہ آہستہ شروعات کرنا ہی محفوظ طریقہ ہے۔</p>
<p>فٹنس ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک فزیو تھراپسٹ یا ماہر کا کام روزانہ کی معمول کی ورزشیں کروانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جِم میں کیا کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے جسم کو اسٹریچنگ کے ذریعے تیار کرنا چاہیے تاکہ پٹھوں کی اکڑن کم ہو اور جسم حرکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد ہلکی کارڈیو ورزش کی جائے تاکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور برداشت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467816/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ بنیادی ویٹ ٹریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو بہتر سہارا ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی بے حد اہم ہے تاکہ غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہوں۔</p>
<p>دوبارہ آغاز کرتے وقت پٹھوں کی لچک بڑھانے کے لیے کھنچاؤ کی ورزشیں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ہلکی واک یا کارڈیو، پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہلکا وزن اٹھانا اور اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنانا بہت ضروری ہے۔  ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، وافر پانی پینا اور پرسکون نیند لینا بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ:</strong> یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو ورزش دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511964</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 10:21:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/070954307ccdee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/070954307ccdee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
