<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 11:28:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 11:28:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بغیر چہرے کی بچی نے منائی اپنی نویں سالگرہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/122164/%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%da%86%db%81%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%86%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%a7%d9%84%da%af</link>
      <description>&lt;caption id="attachment_122165" align="aligncenter" width="800"&gt;&lt;a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2017/09/bchi1.png"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-122165" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2017/09/bchi1.png" alt="Daily mail بشکریہ" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt; Daily mail بشکریہ&lt;/caption&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;ایک نایاب حالت کا شکار بچی، جو بغیر چہرے کے پیدا ہوئی تھی، تمام ممکنات کو پچھاڑتے ہوئے اپنی نویں سالگرہ تک پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;برازیل سے تعلق رکھنے والی وٹوریا مارکیولی کو جینیاتی بیماری ٹریچر کولنز سنڈروم ہے جس نے اس کے چہرے کی 40ہڈیوں کو باقاعدگی سے بننے سے روکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جب وہ پیدا ہوئی تو اس کی آنکھیں، ناک اور منہ جگہ پر نہیں تھا۔ ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ وہ زندگی کے شروع کے چند گھنٹے بھی نہیں گزار پائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;انہوں نے اُسے دودھ پلانے سے بھی انکار کردیاتھا اور اس کے خاندان والوں سے کہا کہ اِسے گھر لے جائیں اور اس کی موت کا انتظار کریں اور اس کی تدفین کے انتظامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;لیکن گزشتہ ماہ کے شروع میں اس نے اپنی نویں سالگرہ مناتے ہوئے تمام ڈاکٹروں کے دعووں کو رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ اس کے زندہ رہنے کی صرف ایک وجہ ہے کہ ا س کے والدین نے اس کا بے حد خیال رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اُس کے والدین رونالڈو اور جوکیلین کو ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں جی پائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اُس کے والدین کا کہنا تھا کہ ہم اِس کیلئے لڑے ہیں کہ یہ بہتر دِکھ سکے اور بہتر معیارِ زندگی پاسکے۔ ہم اس سے محبت کرتے ہیں اور اِسے زندہ پانے پر شکرگزار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اس کے والد رونالڈو نے کہا کہ ڈاکٹر نہیں بتاسکتے کہ یہ اتنا کیسے جی لی لیکن ان کا ماننا ہے کہ یہ ہمارا پیار اور خیال ہے جس نے اِسے زندہ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ٹریچر کولنز سنڈروم 50ہزار لوگوں میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="http://www.dailymail.co.uk/health/article-4839870/Girl-born-without-FACE-defies-odds-reach-9th-birthday.html"&gt;Daily mail&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;strong&gt; بشکریہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<caption id="attachment_122165" align="aligncenter" width="800"><a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2017/09/bchi1.png"><img class="size-full wp-image-122165" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2017/09/bchi1.png" alt="Daily mail بشکریہ" width="800" height="480" /></a> Daily mail بشکریہ</caption>
<p style="text-align: right;"><strong>ایک نایاب حالت کا شکار بچی، جو بغیر چہرے کے پیدا ہوئی تھی، تمام ممکنات کو پچھاڑتے ہوئے اپنی نویں سالگرہ تک پہنچ گئی۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">برازیل سے تعلق رکھنے والی وٹوریا مارکیولی کو جینیاتی بیماری ٹریچر کولنز سنڈروم ہے جس نے اس کے چہرے کی 40ہڈیوں کو باقاعدگی سے بننے سے روکا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">جب وہ پیدا ہوئی تو اس کی آنکھیں، ناک اور منہ جگہ پر نہیں تھا۔ ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ وہ زندگی کے شروع کے چند گھنٹے بھی نہیں گزار پائے گی۔</p>
<p style="text-align: right;">انہوں نے اُسے دودھ پلانے سے بھی انکار کردیاتھا اور اس کے خاندان والوں سے کہا کہ اِسے گھر لے جائیں اور اس کی موت کا انتظار کریں اور اس کی تدفین کے انتظامات کریں۔</p>
<p style="text-align: right;">لیکن گزشتہ ماہ کے شروع میں اس نے اپنی نویں سالگرہ مناتے ہوئے تمام ڈاکٹروں کے دعووں کو رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ اس کے زندہ رہنے کی صرف ایک وجہ ہے کہ ا س کے والدین نے اس کا بے حد خیال رکھا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اُس کے والدین رونالڈو اور جوکیلین کو ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں جی پائے گی۔</p>
<p style="text-align: right;">اُس کے والدین کا کہنا تھا کہ ہم اِس کیلئے لڑے ہیں کہ یہ بہتر دِکھ سکے اور بہتر معیارِ زندگی پاسکے۔ ہم اس سے محبت کرتے ہیں اور اِسے زندہ پانے پر شکرگزار ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کے والد رونالڈو نے کہا کہ ڈاکٹر نہیں بتاسکتے کہ یہ اتنا کیسے جی لی لیکن ان کا ماننا ہے کہ یہ ہمارا پیار اور خیال ہے جس نے اِسے زندہ رکھا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ٹریچر کولنز سنڈروم 50ہزار لوگوں میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;"><strong><a href="http://www.dailymail.co.uk/health/article-4839870/Girl-born-without-FACE-defies-odds-reach-9th-birthday.html">Daily mail</a></strong><strong> بشکریہ</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/122164</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Sep 2017 12:08:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content type="image/" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2017/09/bchi1-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
