<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 09:51:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 09:51:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام میں موسیقی حرام کیوں ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/175000/%db%8c%db%81-%d8%ae%d9%88%d9%81%d9%86%d8%a7%da%a9-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%ad-%d9%81%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%ba-%da%af%db%92</link>
      <description>&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1230.png"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-175045 aligncenter" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1230.png" alt="Untitled-1" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ قوتِ سماعت کی حفاظت کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک موسیقی نہ سنی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد ایسے نوجوان ہیں جو کلبوں اور شراب خانوں میں چلنے والی موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ڈبلیو ایچ او کے نقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔ڈاکٹر کرگ کے مطابق اگر اونچی آواز میں میوزک سنا جائے تو ایک گھنٹہ بہت زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;کتنی دیر کے لیے کتنے والیم تک کس آواز کو سنا جا سکتا ہے؟ ڈبلیو ایچ او نے آواز کے درجے کو جانچنے کے لیے معیار قائم کیا ہے جسے ڈیسیبل یا ڈی بی کہا جاتا ہے، جس کے مطابق 85 ڈی بی پر گاڑی میں شور کی آواز آٹھ گھنٹے۔ 95 ڈبی پر موٹر سائیکل کی آواز 47 منٹ۔ 105 ڈی بی پر ایم پی تھری پلیئر کو اونچی آواز میں فقط چار منٹ۔ 115 ڈی بی پر راک میوزک کنسرٹ میں 28 سیکنڈ تک۔ 120 ڈی بی پر سائرن کی آواز فقط نو سیکنڈ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 60 فیصد تک اونچی آواز تک میوزک سننا محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ڈاکٹر کرگ سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کو بھی سخت گیر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ ہیڈ فونز بنانے والی کمپنیاں اور موسیقی کی سہولت فراہم کرنے والے مقامات پر حفاظتی اقدامات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="direction: rtl;"><a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1230.png"><img class="size-full wp-image-175045 aligncenter" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1230.png" alt="Untitled-1" width="800" height="480" /></a></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ قوتِ سماعت کی حفاظت کے لیے روزانہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک موسیقی نہ سنی جائے۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ 40 فیصد ایسے نوجوان ہیں جو کلبوں اور شراب خانوں میں چلنے والی موسیقی سے متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">ڈبلیو ایچ او کے نقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔ڈاکٹر کرگ کے مطابق اگر اونچی آواز میں میوزک سنا جائے تو ایک گھنٹہ بہت زیادہ ہوگا۔</p>
<p style="direction: rtl;">کتنی دیر کے لیے کتنے والیم تک کس آواز کو سنا جا سکتا ہے؟ ڈبلیو ایچ او نے آواز کے درجے کو جانچنے کے لیے معیار قائم کیا ہے جسے ڈیسیبل یا ڈی بی کہا جاتا ہے، جس کے مطابق 85 ڈی بی پر گاڑی میں شور کی آواز آٹھ گھنٹے۔ 95 ڈبی پر موٹر سائیکل کی آواز 47 منٹ۔ 105 ڈی بی پر ایم پی تھری پلیئر کو اونچی آواز میں فقط چار منٹ۔ 115 ڈی بی پر راک میوزک کنسرٹ میں 28 سیکنڈ تک۔ 120 ڈی بی پر سائرن کی آواز فقط نو سیکنڈ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 60 فیصد تک اونچی آواز تک میوزک سننا محفوظ ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ڈاکٹر کرگ سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں حکومت کو بھی سخت گیر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ ہیڈ فونز بنانے والی کمپنیاں اور موسیقی کی سہولت فراہم کرنے والے مقامات پر حفاظتی اقدامات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/175000</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jul 2018 09:07:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content type="image/" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1229-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content type="image/" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2018/07/Untitled-1230-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
