<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 22:47:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 02 Jun 2026 22:47:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگوٹھا چھاپ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/227266/%d8%a7%d9%86%da%af%d9%88%d9%b9%da%be%d8%a7-%da%86%da%be%d8%a7%d9%be</link>
      <description>&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/06/thumb.png"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-227269" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/06/thumb.png" alt="thumb" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt; انگوٹھا چھاپ کسی کوکہہ کر تو دیکھیں، برا مانے گا۔غصے کا اظہار کرے گا۔ لیکن کیا کریں ہم ہیں ہی انگوٹھا چھاپ، حبیب جالب نے کہا تھا کہ یہ جو دس کروڑ ہیں، جہل کانچوڑہیں۔ اب جہل کا نچوڑ ہوں یا نہ ہوں، لیکن ہیں ہم انگوٹھا چھاپ۔ ہم نے خواندہ اور ناخواندہ کی تعریف میں سنا تھا کہ جو دستخط کرنا جانتا ہے، اور اپنے دستخط کرسکتا ہے، وہ پڑھے لکھوں میں شمار ہوگا، لیکن اب تو اچھے اچھے پڑھے لکھوں کو انگوٹھا چھاپ بنا دیا گیا ہے۔ہر روز بنک والوں کا پیغام آتا ہے، اپنے انگوٹھے کی تصدیق کرادیں، ورنہ اکاونٹ بند ہوجائے گا۔  ہر جگہ بورڈ لگا ہے۔آئیے  اپنے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کردیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ بنک والے ہمارے دستخط کی تصدیق کریں، ہم نے انگوٹھا لگا کر اکاونٹ نہیں کھولا تھا۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ اہل قلم مارے مارے پھریں اور انگوٹھا چھاپ موٹروں پر گشت کریں۔کہنے والے  'انگوٹھا چھاپ' کوجہالت کی علامت سمجھتے ہیں۔  بعض لوگ اسے تحقیر کے انداز  میں بھی بیان کرتے ہیں۔لیکن انگوٹھے کی چھاپ جدید ترین دور میں بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی  ہے اور ابھی تک اس کا  سائنسی نعم البدل نہیں مل سکا ہے۔ دنیا بھر میں اب انسانی شناخت کو انگوٹھے کے نشانات  سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں تو اب ہر چیز کی شناخت کا دارومدار انگوٹھے کی چھاپ پرہی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر  پہلے موبائل کی سم خریدنے سے قبل دیگر کوائف کے ساتھ انگو ٹھے کی چھاپ یعنی انگوٹھے کانشان ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔ پھر نادرا کو بھی خیال آگیا کہ اب ہمارے دستخط سے زیادہ اہم ہمارے انگوٹھے کا نشان ہے۔جب سے اکاونٹ میں اربوں روپے ڈالےجانے اور نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور کراچی کے ایک  غریب شہری کے اکاؤنٹ کا منی لانڈرنگ کےلئے استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ہمارے لیے یہ خبر مسرت انگیز ہے کہ ایک  انگوٹھا چھاپ شربت فروش ارب پتی بن گیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں سوا 2 ارب روپے کی موجودگی کے انکشاف کے بعد وہ وی آئی پی ہوگیا ہے کہ اس کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی۔اب ہم بھی کسی ایسے ہی معجزے کے انتظار میں ہیں کہ کب ہمارے اکاونٹ میں ایک ارب روپے آتے ہیں، اس امید پر ہم بار بار بنک جاتے ہیں اور اپنا اکاونٹ چیک کرتے ہیں۔ اکاونٹ ہولڈر عبدالقادر کے مطابق وہ بالکل ان پڑھ ہے اور اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتا، انگلش میں دستخط کیسے کرے گا؟ اسے پتہ نہیں ہے کہ اب دستخط نہیں انگوٹھے کا زمانہ ہے۔ پہلے شائد انگوٹھا دکھانا، ٹھینگا دکھانا بری بات تھی۔شاعر نے کہا  تھا ہجر میں عشق نے ٹھینگے کے سوا کچھ نہ دیا۔ اب بات بات پر انگوٹھا دکھا کر اظہار مسرت اور کامیابی کا اظہار کیا جاتا ہے۔مسینجر میں تو بات کرنے کے بجائے انگوٹھا دکھا دینے ہی سے بہت سے معاملات حل ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ابھی تو انگوٹھے کے استعمال کے نئے نئے انداز سامنے آرہے ہیں۔ معروف میسیجنگ سروس واٹس اپ نے اپنے اینڈرائیڈ صارفین کی سہولت کےلئے نیا فیچر 'فنگر پرنٹ اسکینر' متعارف کروا دیا ہے۔واٹس ایپ بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ نے فنگر پرنٹ کے ذریعے اینڈ رائیڈ موبائل سیکورٹی کا فیچراپنے اینڈرائیڈکے تازہ ترین ورژن میں متعارف کروایاہے۔اس فیچر کےاستعمال سے اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین کے فنگر پرنٹ اسکینر سے کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی واٹس ایپلی کیشن نہ کھول سکے گا اور نہ ہی واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکے گا۔ اس سے پہلے سام سنگ، ون پلس سمیت متعدد کمپنیاں اپنے نئے ہینڈ سیٹ میں فنگر پرنٹ آپشن متعارف کروا چکے ہیں۔آئی فون صارفین کے پاس فنگر پرنٹ فیچر کےعلاوہ فیس آئی ڈی، ٹچ آئی ڈی کےفیچرز پہلے ہی موجود ہیں۔میسیجنگ کی موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ دنیا بھر میں پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کے علاوہ وائس کال اور ویڈیو کال کےلئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ٹیکنالوجی سے نکل کردیکھیں توسیاست میں بھی انگوٹھے کا بہت عمل دخل ہے۔نئے پاکستان کی نئی حکومت تو انگوٹھے کی کے بل پر وجود میں آئی ہے۔ شائد اسی لیے مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ انگوٹھا چھاپ وزیراعظم ہم پر مسلط کیا گیا ہے اب چاہے جو بھی ہو ہم اپنے انگوٹھے کی حفاظت کےلئے بہت فکر مند ہیں، کہیں سوتے میں کوئی ہمارا انگوٹھا (اس کے نشانات) نہ چرالےجائے، اگر یہ ہوا تو ہمارا سب کچھ لٹ جائے گا، کہ ہم انگوٹھا چھاپ ہونے کی وجہ ہی سے تو اتنے معتبر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;div&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div class="gptslot" data-adunitid="5"&gt;&lt;/div&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="text-align: right;"><a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/06/thumb.png"><img class="aligncenter size-full wp-image-227269" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/06/thumb.png" alt="thumb" width="800" height="480" /></a></p>
<p style="text-align: right;"> انگوٹھا چھاپ کسی کوکہہ کر تو دیکھیں، برا مانے گا۔غصے کا اظہار کرے گا۔ لیکن کیا کریں ہم ہیں ہی انگوٹھا چھاپ، حبیب جالب نے کہا تھا کہ یہ جو دس کروڑ ہیں، جہل کانچوڑہیں۔ اب جہل کا نچوڑ ہوں یا نہ ہوں، لیکن ہیں ہم انگوٹھا چھاپ۔ ہم نے خواندہ اور ناخواندہ کی تعریف میں سنا تھا کہ جو دستخط کرنا جانتا ہے، اور اپنے دستخط کرسکتا ہے، وہ پڑھے لکھوں میں شمار ہوگا، لیکن اب تو اچھے اچھے پڑھے لکھوں کو انگوٹھا چھاپ بنا دیا گیا ہے۔ہر روز بنک والوں کا پیغام آتا ہے، اپنے انگوٹھے کی تصدیق کرادیں، ورنہ اکاونٹ بند ہوجائے گا۔  ہر جگہ بورڈ لگا ہے۔آئیے  اپنے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کردیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ بنک والے ہمارے دستخط کی تصدیق کریں، ہم نے انگوٹھا لگا کر اکاونٹ نہیں کھولا تھا۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ اہل قلم مارے مارے پھریں اور انگوٹھا چھاپ موٹروں پر گشت کریں۔کہنے والے  'انگوٹھا چھاپ' کوجہالت کی علامت سمجھتے ہیں۔  بعض لوگ اسے تحقیر کے انداز  میں بھی بیان کرتے ہیں۔لیکن انگوٹھے کی چھاپ جدید ترین دور میں بھی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی  ہے اور ابھی تک اس کا  سائنسی نعم البدل نہیں مل سکا ہے۔ دنیا بھر میں اب انسانی شناخت کو انگوٹھے کے نشانات  سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں تو اب ہر چیز کی شناخت کا دارومدار انگوٹھے کی چھاپ پرہی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر  پہلے موبائل کی سم خریدنے سے قبل دیگر کوائف کے ساتھ انگو ٹھے کی چھاپ یعنی انگوٹھے کانشان ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔ پھر نادرا کو بھی خیال آگیا کہ اب ہمارے دستخط سے زیادہ اہم ہمارے انگوٹھے کا نشان ہے۔جب سے اکاونٹ میں اربوں روپے ڈالےجانے اور نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور کراچی کے ایک  غریب شہری کے اکاؤنٹ کا منی لانڈرنگ کےلئے استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ہمارے لیے یہ خبر مسرت انگیز ہے کہ ایک  انگوٹھا چھاپ شربت فروش ارب پتی بن گیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں سوا 2 ارب روپے کی موجودگی کے انکشاف کے بعد وہ وی آئی پی ہوگیا ہے کہ اس کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی۔اب ہم بھی کسی ایسے ہی معجزے کے انتظار میں ہیں کہ کب ہمارے اکاونٹ میں ایک ارب روپے آتے ہیں، اس امید پر ہم بار بار بنک جاتے ہیں اور اپنا اکاونٹ چیک کرتے ہیں۔ اکاونٹ ہولڈر عبدالقادر کے مطابق وہ بالکل ان پڑھ ہے اور اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتا، انگلش میں دستخط کیسے کرے گا؟ اسے پتہ نہیں ہے کہ اب دستخط نہیں انگوٹھے کا زمانہ ہے۔ پہلے شائد انگوٹھا دکھانا، ٹھینگا دکھانا بری بات تھی۔شاعر نے کہا  تھا ہجر میں عشق نے ٹھینگے کے سوا کچھ نہ دیا۔ اب بات بات پر انگوٹھا دکھا کر اظہار مسرت اور کامیابی کا اظہار کیا جاتا ہے۔مسینجر میں تو بات کرنے کے بجائے انگوٹھا دکھا دینے ہی سے بہت سے معاملات حل ہوجاتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">ابھی تو انگوٹھے کے استعمال کے نئے نئے انداز سامنے آرہے ہیں۔ معروف میسیجنگ سروس واٹس اپ نے اپنے اینڈرائیڈ صارفین کی سہولت کےلئے نیا فیچر 'فنگر پرنٹ اسکینر' متعارف کروا دیا ہے۔واٹس ایپ بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ نے فنگر پرنٹ کے ذریعے اینڈ رائیڈ موبائل سیکورٹی کا فیچراپنے اینڈرائیڈکے تازہ ترین ورژن میں متعارف کروایاہے۔اس فیچر کےاستعمال سے اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے صارفین کے فنگر پرنٹ اسکینر سے کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کی واٹس ایپلی کیشن نہ کھول سکے گا اور نہ ہی واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکے گا۔ اس سے پہلے سام سنگ، ون پلس سمیت متعدد کمپنیاں اپنے نئے ہینڈ سیٹ میں فنگر پرنٹ آپشن متعارف کروا چکے ہیں۔آئی فون صارفین کے پاس فنگر پرنٹ فیچر کےعلاوہ فیس آئی ڈی، ٹچ آئی ڈی کےفیچرز پہلے ہی موجود ہیں۔میسیجنگ کی موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ دنیا بھر میں پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کے علاوہ وائس کال اور ویڈیو کال کےلئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ٹیکنالوجی سے نکل کردیکھیں توسیاست میں بھی انگوٹھے کا بہت عمل دخل ہے۔نئے پاکستان کی نئی حکومت تو انگوٹھے کی کے بل پر وجود میں آئی ہے۔ شائد اسی لیے مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ انگوٹھا چھاپ وزیراعظم ہم پر مسلط کیا گیا ہے اب چاہے جو بھی ہو ہم اپنے انگوٹھے کی حفاظت کےلئے بہت فکر مند ہیں، کہیں سوتے میں کوئی ہمارا انگوٹھا (اس کے نشانات) نہ چرالےجائے، اگر یہ ہوا تو ہمارا سب کچھ لٹ جائے گا، کہ ہم انگوٹھا چھاپ ہونے کی وجہ ہی سے تو اتنے معتبر ہوئے ہیں۔</p>
<div>
<p style="direction: rtl;"><strong>نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
</div>
<div class="gptslot" data-adunitid="5"></div>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/227266</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Jun 2019 15:31:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content type="image/" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/06/thumb-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
