<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 21:45:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 21:45:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹے بچے دانت نکلنے پر کاٹتے کیوں ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/246215/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%aa-%d9%86%da%a9%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d8%aa%db%92-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;img class="size-full wp-image-246220 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/11/Untitled-1-47.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;کمسن بچوں کے دانت نکلنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ کاٹنا شروع کردیتے ہیں، بچوں کا یہ فطری عمل کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ ماہرین نے تلاش کرلی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;امریکی یونیورسٹی آف مشیگن ہیلتھ سسٹم کے ماہرین اس بات کی وجہ کو کافی عرصے سے تلاش کررہے تھے، البتہ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ وجہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ماہرین نے اس حوالے سے ایک مطالعاتی تحقیق کی، اس دوران دانت نکلنے والے بچوں کا بغور مشاہدہ کیا گیا اور اُن کے کاٹنے کے عمل پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچوں کے دانت آنا شروع ہوتے ہیں تو اُن کا دوسروں کو کاٹنا فطری عمل ہے، البتہ یہ اس بات کی بھی نشانی ہے کہ جن بچوں میں پیدائشی طور پر مایوسی، دباؤ یا طاقت کی کمی ہوتی ہے وہ یہ سب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ماہرین کے مطابق بچوں کو تکلیف میں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ اظہار کس طرح کریں تو وہ قدرتی طور پر کاٹنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے جواب میں ملنے والا ردعمل کمسن کو مزید طاقتور بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;دوسری جانب ماہرین نے تحقیق میں پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کا بھی ڈیٹا جمع کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں میں صبر نہیں ہوتا یا اپنی بات منوانے کی ضد سوار ہوتی ہے تو وہ دوسرے کو کاٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><img class="size-full wp-image-246220 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/11/Untitled-1-47.jpg" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>کمسن بچوں کے دانت نکلنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ کاٹنا شروع کردیتے ہیں، بچوں کا یہ فطری عمل کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ ماہرین نے تلاش کرلی۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">امریکی یونیورسٹی آف مشیگن ہیلتھ سسٹم کے ماہرین اس بات کی وجہ کو کافی عرصے سے تلاش کررہے تھے، البتہ اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ وجہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ماہرین نے اس حوالے سے ایک مطالعاتی تحقیق کی، اس دوران دانت نکلنے والے بچوں کا بغور مشاہدہ کیا گیا اور اُن کے کاٹنے کے عمل پر غور کیا گیا۔</p>
<p style="direction: rtl;">تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچوں کے دانت آنا شروع ہوتے ہیں تو اُن کا دوسروں کو کاٹنا فطری عمل ہے، البتہ یہ اس بات کی بھی نشانی ہے کہ جن بچوں میں پیدائشی طور پر مایوسی، دباؤ یا طاقت کی کمی ہوتی ہے وہ یہ سب کرتے ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">ماہرین کے مطابق بچوں کو تکلیف میں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ اظہار کس طرح کریں تو وہ قدرتی طور پر کاٹنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے جواب میں ملنے والا ردعمل کمسن کو مزید طاقتور بناتا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">دوسری جانب ماہرین نے تحقیق میں پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کا بھی ڈیٹا جمع کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں میں صبر نہیں ہوتا یا اپنی بات منوانے کی ضد سوار ہوتی ہے تو وہ دوسرے کو کاٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/246215</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Nov 2019 06:30:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/11/Untitled-1-47-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/11/Untitled-1-47-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
