<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 13:37:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 13:37:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی انتخابات: بورس جانسن کی واضح اکثریت کے ساتھ ڈاؤننگ اسٹریٹ واپسی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/247308/%d8%a7%db%8c%da%af%d8%b2%d9%b9-%d9%be%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%86%d8%b2%d8%b1%d9%88%db%8c%d9%b9%d9%88-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8</link>
      <description>&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-247309" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے لیبر پارٹی کو ان کی پکی نشستوں پر شکست دینے کے بعد بورس جانسن بڑی اکثریت کے ساتھ ڈاؤننگ اسٹریٹ واپس آئیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;ٹوریز نےعام انتخابات میں 326نشستوں کی سادہ اکثریت کی حد عبور کرتے ہوئے معرکہ اپنے نام کرلیا ہے۔ تاہم ابھی چند نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;بورس جانس نے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی واضح اکژریت کو بریگزٹ کا عمل کیے جانے کا مینڈٹ قرار دےدیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ میں ہونے والےعام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نےمخالف لیبر پارٹی کی مضبوط سیٹیں بھی ہتھیالیں۔ 650&lt;/strong&gt;&lt;strong&gt;میں سے 649نشستوں کے نتائج کے بعد ٹوریز 364سیٹیں حاصل کرکے سرفہرست ہے۔ جبکہ لیبر پارٹی 203 سیٹیں جیت سکی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ٹوریز کی جانب سے چھینی جانے والی لیبر پارٹی کی مضبوط سیٹوں میں  ڈرہم نارتھ، بشپ آکلینڈ،سیج فیلڈ ورکنگٹن، اسٹراؤڈ، یائنس مون، بیسٹ لا، ڈان ویلے، بیرو اینڈ فرنس اورہائی پیک کی سیٹیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;دوسری جانب اسکاٹش نیشنل پارٹی 48نشستوں کے ساتھ تیسرے جبکہ لبرل ڈیموکریٹس 8 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;لیبر پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امید وار کا کہنا ہے کہ یہ رات لیبر پارٹی کے لئے مایوس کن تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;انہوں نے آئندہ الیکشن نہ لڑنے کا بھی اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;لیکن اسکاٹ لینڈ میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی تقریباً اپنے تمام حریفوں سے نشستیں لیتے ہوئے بساط لپیٹنے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ٹوریز کی اکثریت سے ایک آئینی بحث -بریگزٹ- تو ختم جائے گی  لیکن دوسری آئینی بحث -اسکاٹ لینڈ کی آزادی- تیار کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;بی بی سی، آئی ٹی وی اور اسکائی نیوز کے ایک ایگزٹ پول کے مطابق ان عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو برطانوی پارلیمان میں مجموعی طور پر 64 سیٹوں سے اکثریت متوقع ہے،جو پہلے 86 بتائی گئی تھی۔تاہم اب کہا جارہا ہے کہ یہ سبقت 74سیٹوں تک جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ان عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو اپنی الیکشن مہم کا مرکز و محور قرار دیا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اور سنہ 2019 کے عام انتخابات میں ایک اور موقع دیا گیا تو وہ 31 جنوری 2020 تک برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جبکہ ان کے سیاسی حریف اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت نے حکومت بنائی تو وہ بریگزٹ کے معاملے پر ایک اور عوامی ریفرنڈم منعقد کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="text-align: right;"><a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-247309" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex.jpg" alt="" width="800" height="480" /></a></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے لیبر پارٹی کو ان کی پکی نشستوں پر شکست دینے کے بعد بورس جانسن بڑی اکثریت کے ساتھ ڈاؤننگ اسٹریٹ واپس آئیں گے۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>ٹوریز نےعام انتخابات میں 326نشستوں کی سادہ اکثریت کی حد عبور کرتے ہوئے معرکہ اپنے نام کرلیا ہے۔ تاہم ابھی چند نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>بورس جانس نے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی واضح اکژریت کو بریگزٹ کا عمل کیے جانے کا مینڈٹ قرار دےدیا۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>برطانیہ میں ہونے والےعام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نےمخالف لیبر پارٹی کی مضبوط سیٹیں بھی ہتھیالیں۔ 650</strong><strong>میں سے 649نشستوں کے نتائج کے بعد ٹوریز 364سیٹیں حاصل کرکے سرفہرست ہے۔ جبکہ لیبر پارٹی 203 سیٹیں جیت سکی۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">ٹوریز کی جانب سے چھینی جانے والی لیبر پارٹی کی مضبوط سیٹوں میں  ڈرہم نارتھ، بشپ آکلینڈ،سیج فیلڈ ورکنگٹن، اسٹراؤڈ، یائنس مون، بیسٹ لا، ڈان ویلے، بیرو اینڈ فرنس اورہائی پیک کی سیٹیں شامل ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">دوسری جانب اسکاٹش نیشنل پارٹی 48نشستوں کے ساتھ تیسرے جبکہ لبرل ڈیموکریٹس 8 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">لیبر پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امید وار کا کہنا ہے کہ یہ رات لیبر پارٹی کے لئے مایوس کن تھی۔</p>
<p style="direction: rtl;">انہوں نے آئندہ الیکشن نہ لڑنے کا بھی اعلان کیا۔</p>
<p style="direction: rtl;">لیکن اسکاٹ لینڈ میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی تقریباً اپنے تمام حریفوں سے نشستیں لیتے ہوئے بساط لپیٹنے کے قریب ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ٹوریز کی اکثریت سے ایک آئینی بحث -بریگزٹ- تو ختم جائے گی  لیکن دوسری آئینی بحث -اسکاٹ لینڈ کی آزادی- تیار کھڑی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بی بی سی، آئی ٹی وی اور اسکائی نیوز کے ایک ایگزٹ پول کے مطابق ان عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو برطانوی پارلیمان میں مجموعی طور پر 64 سیٹوں سے اکثریت متوقع ہے،جو پہلے 86 بتائی گئی تھی۔تاہم اب کہا جارہا ہے کہ یہ سبقت 74سیٹوں تک جاسکتی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ان عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کو اپنی الیکشن مہم کا مرکز و محور قرار دیا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اور سنہ 2019 کے عام انتخابات میں ایک اور موقع دیا گیا تو وہ 31 جنوری 2020 تک برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">جبکہ ان کے سیاسی حریف اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت نے حکومت بنائی تو وہ بریگزٹ کے معاملے پر ایک اور عوامی ریفرنڈم منعقد کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/247308</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Dec 2019 16:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/brex-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
