<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 07:55:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 07:55:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'مسلم مخالف قانون کانفاذمیری لاش سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/247767/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d9%85%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%81-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%a7%d8%b0%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%d8%b3%db%92-%da%af%d8%b2%d8%b1</link>
      <description>&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb.jpg"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-247768" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتابینرجی کہتی ہیں مغربی بنگال میں شہریت سےمتعلق مسلم مخالف قانون کانفاذمیری لاش سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی نےشہریت سےمتعلق متنازع قانون کےخلاف احتجاجی مارچ کی قیادت کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے مودی سرکار اور متنازعہ قانون کے خلاف بینرزبھی اٹھا رکھے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;احتجاجی مارچ میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نےکہاکہ میرے ہوتےہوئےبنگال میں یہ قانون نافذنہیں ہوسکتا، جب تک میں زندہ ہوں شہریت سےمتعلق قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی لیکن آپ میں ہمت ہے تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں مگر میں اپنی ریاست میں اس کالےقانون کوہرگز نافذ ہونے نہیں دوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ کالا قانون ختم نہیں ہوجاتااور اگر یہ اس قانون پر عملدرآمد  کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کےلئے انہیں میری لاش پرسےگزرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;انہوں نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کی بقا پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست سے کسی کو بھی بے دخل نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;واضح رہے گزشتہ روز نئی دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اورعلی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے متنازعہ بل پر احتجاج کرنے پر پولیس کی جانب  سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="text-align: right;"><a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-247768" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb.jpg" alt="" width="800" height="480" /></a></p>
<p style="text-align: right;"><strong>وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتابینرجی کہتی ہیں مغربی بنگال میں شہریت سےمتعلق مسلم مخالف قانون کانفاذمیری لاش سے گزرنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی نےشہریت سےمتعلق متنازع قانون کےخلاف احتجاجی مارچ کی قیادت کی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے مودی سرکار اور متنازعہ قانون کے خلاف بینرزبھی اٹھا رکھے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">احتجاجی مارچ میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نےکہاکہ میرے ہوتےہوئےبنگال میں یہ قانون نافذنہیں ہوسکتا، جب تک میں زندہ ہوں شہریت سےمتعلق قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی لیکن آپ میں ہمت ہے تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں مگر میں اپنی ریاست میں اس کالےقانون کوہرگز نافذ ہونے نہیں دوں گی۔</p>
<p style="text-align: right;">ممتا بینرجی کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ کالا قانون ختم نہیں ہوجاتااور اگر یہ اس قانون پر عملدرآمد  کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کےلئے انہیں میری لاش پرسےگزرنا ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;">انہوں نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کی بقا پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست سے کسی کو بھی بے دخل نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">واضح رہے گزشتہ روز نئی دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اورعلی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے متنازعہ بل پر احتجاج کرنے پر پولیس کی جانب  سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/247767</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Dec 2019 18:03:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/mb-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
