<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 04:28:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 04:28:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرے، کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/247918/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%92%d8%8c-%da%a9%d8%a6</link>
      <description>&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;img class="aligncenter size-full wp-image-247919" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/protestfb-1.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں متنازعہ شہریت کے قانون کیخلاف احتجاج میں شدت کی لہر آگئی ہے اور آسام ، نئی دہلی ، مغربی بنگال، اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں بتدریج مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے ۔ اور کئی شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس لگادی گئی ہے جبکہ کئی مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;پہلے نئی دہلی میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا گیا جس کےبعد اب اترپردیش اور کرناٹک میں احتجاج کو روکنے کیلئے دفعہ ایک چوالیس لگادی گئی ہے۔ اور یہاں پر کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;نئی دہلی میں  دفعہ ایک سوچوالیس کے نفاذ کے باوجود لال قلعہ کے قریب مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہے اور کانگریس کی حمایت یافتہ این جی اوز کے گروپ کا احتجاج بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;بھارت میں سیاسی جماعتوں کی کال پر شہری سڑکوں پر نکل ہوئے ہیں اور مودی سرکار کے متنازعہ شہریت کے قانون کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اس سے پہلے نئی دہلی کے علاقے سیلامپور میں ہی احتجاج کے دوران اکیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار نے متنازعہ شہریت کے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مسلمان تارکین وطن کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کے تارکین وطن کو بھارت میں شہریت دی جائیگی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;مودی سرکار کا موقف ہے کہ اس سے اقلیتو پر ڈھائے جانیوالے مظالم میں کمی واقع ہوگی تاہم اس حوالے مسلمان رہنماوں کا ماننا ہے کہ مودی سرکار کے نئے قانون سے بھارت کا سیکولر ریاست ہونے کا تشخص متاثر ہوا ہے کیونکہ اس قانون سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="text-align: right;"><img class="aligncenter size-full wp-image-247919" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/protestfb-1.jpg" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="text-align: right;"><strong>بھارت میں متنازعہ شہریت کے قانون کیخلاف احتجاج میں شدت کی لہر آگئی ہے اور آسام ، نئی دہلی ، مغربی بنگال، اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں بتدریج مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے ۔ اور کئی شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس لگادی گئی ہے جبکہ کئی مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">پہلے نئی دہلی میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا گیا جس کےبعد اب اترپردیش اور کرناٹک میں احتجاج کو روکنے کیلئے دفعہ ایک چوالیس لگادی گئی ہے۔ اور یہاں پر کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ۔</p>
<p style="text-align: right;">نئی دہلی میں  دفعہ ایک سوچوالیس کے نفاذ کے باوجود لال قلعہ کے قریب مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہے اور کانگریس کی حمایت یافتہ این جی اوز کے گروپ کا احتجاج بھی جاری ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">بھارت میں سیاسی جماعتوں کی کال پر شہری سڑکوں پر نکل ہوئے ہیں اور مودی سرکار کے متنازعہ شہریت کے قانون کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے پہلے نئی دہلی کے علاقے سیلامپور میں ہی احتجاج کے دوران اکیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار نے متنازعہ شہریت کے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مسلمان تارکین وطن کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کے تارکین وطن کو بھارت میں شہریت دی جائیگی ۔</p>
<p style="text-align: right;">مودی سرکار کا موقف ہے کہ اس سے اقلیتو پر ڈھائے جانیوالے مظالم میں کمی واقع ہوگی تاہم اس حوالے مسلمان رہنماوں کا ماننا ہے کہ مودی سرکار کے نئے قانون سے بھارت کا سیکولر ریاست ہونے کا تشخص متاثر ہوا ہے کیونکہ اس قانون سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/247918</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Dec 2019 17:11:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ھمیر رانا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/protestfb-1-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/protestfb-1-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
