<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 17:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 17:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی یونیورسٹی میں ڈاکٹروں کیلئے "بھوت کورس" کا آغاز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/248588/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%a8%da%be</link>
      <description>&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-248589 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/Untitled-1-63.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;بنارس: بھارت کی ایک مشہور یونیورسٹی نے ڈاکٹروں کے لیے "بھوت کورس" شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو اگلے سال جنوری سے پڑھایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-50915414"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی رپورٹ کے مطابق بنارس ہندو یونیورسٹی کی جانب سے چھ ماہ کے سرٹیفکیٹ کورس کو بھوت ودیا (بھوت مطالعہ) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کے علاج میں مدد فراہم کرنا ہے جو کسی آسیب یا بھوت پریت کی شکایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;بنارس یونیورسٹی کے مطابق اس کورس کا مقصد ایسے امراض کی نشاندہی بھی ہے جنہیں بھوت، جن اور کسی سائے وغیرہ سے جوڑا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;یہ کورس آیورویدک ماہرین پڑھائیں گے، جس پر لوگوں نے طنز کا اظہار کیا ہے۔ اس کے لیے یونیورسٹی میں ایک علیحدہ شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;بنارس یونیورسٹی میں آیورویدک فیکلٹی سے وابستہ ماہر یمینی بھوشن نے کہا کہ بعض سائیکوسومیٹک کیفیات ذہنی دباؤ، بلڈ پریشر میں اضافہ اور قلبی اتار چڑھاؤ سے وابستہ ہوتی ہے اور بظاہر ان کی کوئی طبی وجہ نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;انوہں نے کہا کہ یہ پہلی یونیورسٹی ہے جہاں اس نوعیت کا کورس پڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کورس میں ڈاکٹروں کو بھوت پریت سے متعلق امراض کے بارے میں آیورویدک علاج سے آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;انہوں نے آیورویدک علاج کے بارے میں بتایا کہ نباتی دوائیں، غذائی تبدیلی، مساج، سانس کی مشقوں اور جسمانی ورزش سے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;واضح رہے کہ ایک سروے کے مطابق بھارت کی 14 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی خلش یا مرض کی شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھارت کی 20 فیصد آبادی کو ڈپریشن کا شکار قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="direction: rtl;"><img class="size-full wp-image-248589 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/Untitled-1-63.jpg" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>بنارس: بھارت کی ایک مشہور یونیورسٹی نے ڈاکٹروں کے لیے "بھوت کورس" شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو اگلے سال جنوری سے پڑھایا جائے گا۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;"><strong><a href="https://www.bbc.com/news/world-asia-india-50915414">بی بی سی</a></strong> کی رپورٹ کے مطابق بنارس ہندو یونیورسٹی کی جانب سے چھ ماہ کے سرٹیفکیٹ کورس کو بھوت ودیا (بھوت مطالعہ) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کے علاج میں مدد فراہم کرنا ہے جو کسی آسیب یا بھوت پریت کی شکایت کرتے ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">بنارس یونیورسٹی کے مطابق اس کورس کا مقصد ایسے امراض کی نشاندہی بھی ہے جنہیں بھوت، جن اور کسی سائے وغیرہ سے جوڑا جاتا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">یہ کورس آیورویدک ماہرین پڑھائیں گے، جس پر لوگوں نے طنز کا اظہار کیا ہے۔ اس کے لیے یونیورسٹی میں ایک علیحدہ شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">بنارس یونیورسٹی میں آیورویدک فیکلٹی سے وابستہ ماہر یمینی بھوشن نے کہا کہ بعض سائیکوسومیٹک کیفیات ذہنی دباؤ، بلڈ پریشر میں اضافہ اور قلبی اتار چڑھاؤ سے وابستہ ہوتی ہے اور بظاہر ان کی کوئی طبی وجہ نظر نہیں آتی۔</p>
<p style="direction: rtl;">انوہں نے کہا کہ یہ پہلی یونیورسٹی ہے جہاں اس نوعیت کا کورس پڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کورس میں ڈاکٹروں کو بھوت پریت سے متعلق امراض کے بارے میں آیورویدک علاج سے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p style="direction: rtl;">انہوں نے آیورویدک علاج کے بارے میں بتایا کہ نباتی دوائیں، غذائی تبدیلی، مساج، سانس کی مشقوں اور جسمانی ورزش سے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">واضح رہے کہ ایک سروے کے مطابق بھارت کی 14 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی خلش یا مرض کی شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھارت کی 20 فیصد آبادی کو ڈپریشن کا شکار قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/248588</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Dec 2019 03:52:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/Untitled-1-63-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/Untitled-1-63-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
