<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 10:30:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 10:30:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپ لوگوں کی مہربانی سے کراچی میں 55  فیصد کچی آبادی ہے ،چیف جسٹس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/251512/%d8%a2%d9%be-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%db%81%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b3%db%92-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-55-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af</link>
      <description>&lt;caption id="attachment_246565" align="aligncenter" width="800"&gt;&lt;a href="http://www.aaj.tv/latest/246564/attachment/gulzar-jusic-2/" rel="attachment wp-att-246565"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-246565" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/gulzar-jusic-2.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt; فائل فوٹو&lt;/caption&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;کراچی : چیف جسٹس گلزار احمد نے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کی مہربانی سے کراچی میں 55  فیصد کچی آبادی ہے ، یہ سب کے ایم سی، کے ڈی اے، ڈی ایچ اے سب کی مہربانی سے ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;  سپریم کورٹ رجسٹری رجسٹری میں شہر میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس کا کہنا شہر میں کچی آبادیوں کی بھرمار ہے، آپ لوگوں کی مہربانی سے کراچی میں 55  فیصد کچی آبادی ہے، یہ سب کچھ کے ایم سی ، کے ڈی اے اور  ڈی ایچ اے کی ہی مہربانیوں سے ہوا  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جسٹس گلزار احمد نےریمارکس دیئے کہ کیا فیڈرل گورنمنٹ صرف بین بجائے گی؟ طارق روڈ پر صرف 2 ہوٹل اور یو بی ایل ہوا کرتا تھا اب دیکھیں کیا حال ہوگیا ہے ،جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا کہ تھوڑا وقت دے دیں میں رپورٹ پیش کروں گا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;چیف جسٹس نے  کہا یہ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ،باہر سے سٹی پلانر بلانا پڑے گا، لائنز ایریا کا حشر برا کردیا ہے، خداد کالونی پر پورا قبضہ ہورہا ہے، یہ سب قائد اعظم کے مزار  کے ماتھے کا جھومر بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;عدالت نے شہر بھر سے کچی آبادیاں ختم کرنے  کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لائنز ایریا والوں کو ملٹی اسٹوریز بنا کر بتائیں،  قائد اعظم کے  مزار کے سامنے فلائی اوور بنادیا ہے اب شاہراہ قائدین سے نظر بھی نہیں آتا ،شاہراہ قائدین کا کچھ اور نام رکھ دیتے اب وہ قائدین کی روڈ تو نہیں رہی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اٹارنی جنرل نے کہا یہ معاملہ پل کی وجہ سے نہیں عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے مزار قائد چھپا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt; چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جہانگیر روڈ والوں کو کہیں اور لے جائیں حکومت اپنی زمین فوری خالی کرائے ،جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا مجھے وقت دے دیں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ  کوئی حل نکالیں گے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;عدالت نے کہا نہ شہری حکومت کام کررہی ہے نہ وفاقی اور صوبائی حکومت کام کررہی ہے، کوئی حکومت کام نہیں کررہی کیا کریں کسے بلائیں ؟ ۔جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا سندھ حکومت اور ملٹری لینڈ کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt; جسٹس فیصل عرب نے کہا متبادل کے لیے تو 5ہزار کی جگہ 15ہزار کلیم آجائیں گے، مسلہ یہ ہے کہ وِل نہیں کام کرنا ہی نہیں چاہتے آپ ، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اتنے سالوں سے  جو کچھ ہوتا رہا ہے اب بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کچی  آبادیاں شہر کے وسط اور دل میں قائم ہیں، غیرقانونی آبادیوں میں بھی یوٹیلیٹیز فراہم کی گئیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt; ایڈوکیٹ جنرل نے تجویز دی کہ غیرقانونی تعمیرات کے جائزے کیلئے کمیٹی بنا دیں، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا آپ وفاقی یا صوبائی افسران پر انحصار نہیں کرسکتے آپ تک  صحیح بات نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا یہ سب خود بخود نہیں ہوتا ،  ڈی ایچ اے مین صرف اینٹیں گھر کے باہر رکھ کر دیکھیں، کنٹونمنٹ بورڈ سے جو پلاٹ چاہیں  کمرشلائز کرالیں ، ایئرپورٹ کے پاس جس کو چاہیں چار منزلہ عمارت کی اجازت دیں جسے  چاہیں نہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی گھر گرا دیا جائے تو مائیں بہنیں سڑکوں پر آجاتی ہیں،  جس پر عدالت نے کہا غیرقانونی تعمیرات کی اجازت کون دیتا ہے وہ ذمہ دار ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<caption id="attachment_246565" align="aligncenter" width="800"><a href="http://www.aaj.tv/latest/246564/attachment/gulzar-jusic-2/" rel="attachment wp-att-246565"><img class="size-full wp-image-246565" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2019/12/gulzar-jusic-2.jpg" alt="" width="800" height="480" /></a> فائل فوٹو</caption>
<p style="text-align: right;"><strong>کراچی : چیف جسٹس گلزار احمد نے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کی مہربانی سے کراچی میں 55  فیصد کچی آبادی ہے ، یہ سب کے ایم سی، کے ڈی اے، ڈی ایچ اے سب کی مہربانی سے ہوا ہے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">  سپریم کورٹ رجسٹری رجسٹری میں شہر میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس کا کہنا شہر میں کچی آبادیوں کی بھرمار ہے، آپ لوگوں کی مہربانی سے کراچی میں 55  فیصد کچی آبادی ہے، یہ سب کچھ کے ایم سی ، کے ڈی اے اور  ڈی ایچ اے کی ہی مہربانیوں سے ہوا  ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">جسٹس گلزار احمد نےریمارکس دیئے کہ کیا فیڈرل گورنمنٹ صرف بین بجائے گی؟ طارق روڈ پر صرف 2 ہوٹل اور یو بی ایل ہوا کرتا تھا اب دیکھیں کیا حال ہوگیا ہے ،جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا کہ تھوڑا وقت دے دیں میں رپورٹ پیش کروں گا ۔</p>
<p style="text-align: right;">چیف جسٹس نے  کہا یہ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ،باہر سے سٹی پلانر بلانا پڑے گا، لائنز ایریا کا حشر برا کردیا ہے، خداد کالونی پر پورا قبضہ ہورہا ہے، یہ سب قائد اعظم کے مزار  کے ماتھے کا جھومر بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">عدالت نے شہر بھر سے کچی آبادیاں ختم کرنے  کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لائنز ایریا والوں کو ملٹی اسٹوریز بنا کر بتائیں،  قائد اعظم کے  مزار کے سامنے فلائی اوور بنادیا ہے اب شاہراہ قائدین سے نظر بھی نہیں آتا ،شاہراہ قائدین کا کچھ اور نام رکھ دیتے اب وہ قائدین کی روڈ تو نہیں رہی ۔</p>
<p style="text-align: right;">اٹارنی جنرل نے کہا یہ معاملہ پل کی وجہ سے نہیں عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے مزار قائد چھپا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;"> چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جہانگیر روڈ والوں کو کہیں اور لے جائیں حکومت اپنی زمین فوری خالی کرائے ،جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا مجھے وقت دے دیں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ  کوئی حل نکالیں گے ۔</p>
<p style="text-align: right;">عدالت نے کہا نہ شہری حکومت کام کررہی ہے نہ وفاقی اور صوبائی حکومت کام کررہی ہے، کوئی حکومت کام نہیں کررہی کیا کریں کسے بلائیں ؟ ۔جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا سندھ حکومت اور ملٹری لینڈ کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;"> جسٹس فیصل عرب نے کہا متبادل کے لیے تو 5ہزار کی جگہ 15ہزار کلیم آجائیں گے، مسلہ یہ ہے کہ وِل نہیں کام کرنا ہی نہیں چاہتے آپ ، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اتنے سالوں سے  جو کچھ ہوتا رہا ہے اب بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔</p>
<p style="text-align: right;">چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کچی  آبادیاں شہر کے وسط اور دل میں قائم ہیں، غیرقانونی آبادیوں میں بھی یوٹیلیٹیز فراہم کی گئیں ۔</p>
<p style="text-align: right;"> ایڈوکیٹ جنرل نے تجویز دی کہ غیرقانونی تعمیرات کے جائزے کیلئے کمیٹی بنا دیں، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا آپ وفاقی یا صوبائی افسران پر انحصار نہیں کرسکتے آپ تک  صحیح بات نہیں آتی۔</p>
<p style="text-align: right;">جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا یہ سب خود بخود نہیں ہوتا ،  ڈی ایچ اے مین صرف اینٹیں گھر کے باہر رکھ کر دیکھیں، کنٹونمنٹ بورڈ سے جو پلاٹ چاہیں  کمرشلائز کرالیں ، ایئرپورٹ کے پاس جس کو چاہیں چار منزلہ عمارت کی اجازت دیں جسے  چاہیں نہ دیں۔</p>
<p style="text-align: right;">ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی گھر گرا دیا جائے تو مائیں بہنیں سڑکوں پر آجاتی ہیں،  جس پر عدالت نے کہا غیرقانونی تعمیرات کی اجازت کون دیتا ہے وہ ذمہ دار ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/251512</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Feb 2020 11:00:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Sajid Siddique)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
