<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 04:04:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 04:04:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس کو "کووِڈ-19" کا نام کیوں دیا گیا، اس کا کیا مطلب ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/254554/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d9%88-%da%a9%d9%88%d9%88%d9%90%da%88-19-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%af%db%8c%d8%a7</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;img class="size-full wp-image-254556 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/03/Untitled-1-66.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;لندن: دنیا میں اب شاید شاذ و نادر ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جو "کورونا وائرس" (Coronavirus) اور "کووِڈ-19"  (COVID-19) جیسے الفاظ کو نہ جانتا ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ نوول کورونا وائرس کا نیا نام "COVID-19" کیوں رکھا گیا اور یہ کس کا مخفف ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;برطانوی جریدے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.theverge.com/2020/1/23/21078457/coronavirus-outbreak-china-wuhan-quarantine-who-sars-cdc-symptoms-risk"&gt;دی مرر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ لفظ دراصل تین الفاظ "کورونا وائرس ڈیزیز" (Corona Virus Disease) کامخفف ہے اور اس کے ساتھ لگا 19 سال 2019ء کی غمازی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;رپورٹ کے مطابق سال 2019ء سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی اس موذی وباء کے لیے اس نام کا انتخاب عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) نے کیا۔ نام کے اس انتخاب میں "او آئی ای اینیمل ہیلتھ" اور ایف اے او نے بھی عالمی ادارہ صحت کی معاونت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;اس حوالے سے عالمی ادارہ برائے صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایدہینم گیبریاسس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس وباء کے لیے کوئی ایسا نام ڈھونڈنا چاہتے تھے جو کسی ایک ملک، علاقے، جانور، کسی شخص یا گروپ وغیرہ سے منسوب نہ ہو۔ کوئی ایسا نام ہو جو پوری دنیا کے لیے یکساں ہو اور کسی ایک ملک یا علاقے سے منسوب ہو کر اس کے لیے شرمندگی کا سبب نہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بولنے میں آسان اور اس بیماری سے متعلق بھی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;واضح رہے کہ عالمی ادارہ برائے صحت کی طرف سے اس نام کے اعلان سے قبل دنیا بھر میں سائنس دان اس وباء کو "2019n-CoV" کے نام سے لکھتے اور پکارتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><img class="size-full wp-image-254556 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/03/Untitled-1-66.jpg" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>لندن: دنیا میں اب شاید شاذ و نادر ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جو "کورونا وائرس" (Coronavirus) اور "کووِڈ-19"  (COVID-19) جیسے الفاظ کو نہ جانتا ہو۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ نوول کورونا وائرس کا نیا نام "COVID-19" کیوں رکھا گیا اور یہ کس کا مخفف ہے؟</p>
<p style="direction: rtl;">برطانوی جریدے <strong><a href="https://www.theverge.com/2020/1/23/21078457/coronavirus-outbreak-china-wuhan-quarantine-who-sars-cdc-symptoms-risk">دی مرر</a></strong> کے مطابق یہ لفظ دراصل تین الفاظ "کورونا وائرس ڈیزیز" (Corona Virus Disease) کامخفف ہے اور اس کے ساتھ لگا 19 سال 2019ء کی غمازی کرتا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">رپورٹ کے مطابق سال 2019ء سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی اس موذی وباء کے لیے اس نام کا انتخاب عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) نے کیا۔ نام کے اس انتخاب میں "او آئی ای اینیمل ہیلتھ" اور ایف اے او نے بھی عالمی ادارہ صحت کی معاونت کی۔</p>
<p style="direction: rtl;">اس حوالے سے عالمی ادارہ برائے صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایدہینم گیبریاسس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس وباء کے لیے کوئی ایسا نام ڈھونڈنا چاہتے تھے جو کسی ایک ملک، علاقے، جانور، کسی شخص یا گروپ وغیرہ سے منسوب نہ ہو۔ کوئی ایسا نام ہو جو پوری دنیا کے لیے یکساں ہو اور کسی ایک ملک یا علاقے سے منسوب ہو کر اس کے لیے شرمندگی کا سبب نہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بولنے میں آسان اور اس بیماری سے متعلق بھی ہو۔</p>
<p style="direction: rtl;">واضح رہے کہ عالمی ادارہ برائے صحت کی طرف سے اس نام کے اعلان سے قبل دنیا بھر میں سائنس دان اس وباء کو "2019n-CoV" کے نام سے لکھتے اور پکارتے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/254554</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2020 15:42:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/03/Untitled-1-66-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/03/Untitled-1-66-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
