<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 16:37:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 16:37:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'جن کو بچپن میں یہ ویکسین لگی وہ ممکنہ طور پر کورونا سے محفوظ رہینگے'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/255547/'جن کو بچپن میں یہ ویکسین لگی وہ ممکنہ طور پر کورونا سے محفوظ رہینگے'</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;img class="size-full wp-image-255548 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-10.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن :امریکا میں کی گئی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن ملکوں میں بچپن سے ٹیوبر کلوسس (ٹی بی) یا تپ دق سے بچاؤ کی ویکسین دی جاتی ہے ان ملکوں میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;امریکی ماہرین کی تحقیق کے مطابق بچپن میں دی گئی ٹی بی ویکسین بَسیلس کالمیٹ گیورین (بی سی جی) کورونا وائرس (کووِڈ 19) سے تحفظ فراہم کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;نیو یارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بائیومیڈیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر گونزالو اوٹازو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں یہ ویکسین اب استعمال نہیں ہوتی، ان ممالک میں امریکا، اٹلی اور نیدرلینڈز جیسے ممالک شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جہاں اب بھی اس ویکسین کا استعمال ہورہا ہے وہاں کورونا سے اموات کی شرح نمایاں حد تک کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ماہرین کے مطابق ایسے ممالک جہاں اس ویکسین کا استعمال تاخیر سے ہوا وہاں بھی اموات کی شرح زیادہ ہے اور بی سی جی ایسے بزرگ افراد کو تحفظ فراہم کررہی ہے جن کو بچپن میں یہ ویکسین استعمال کرائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;خیال رہے کہ بَسیلس کالمیٹ گیورین نامی ویکسین نومولود اور کم عمر بچوں کو ٹی بی سے بچاؤ کیلئے دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ماہرین کے مطابق ٹی بی کی ویکسین کورونا کے علاج کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے اور بعض ممالک میں بی سی جی ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><img class="size-full wp-image-255548 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-10.jpg" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>واشنگٹن :امریکا میں کی گئی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن ملکوں میں بچپن سے ٹیوبر کلوسس (ٹی بی) یا تپ دق سے بچاؤ کی ویکسین دی جاتی ہے ان ملکوں میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح کم ہے۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">امریکی ماہرین کی تحقیق کے مطابق بچپن میں دی گئی ٹی بی ویکسین بَسیلس کالمیٹ گیورین (بی سی جی) کورونا وائرس (کووِڈ 19) سے تحفظ فراہم کررہی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">نیو یارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بائیومیڈیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر گونزالو اوٹازو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں یہ ویکسین اب استعمال نہیں ہوتی، ان ممالک میں امریکا، اٹلی اور نیدرلینڈز جیسے ممالک شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جہاں اب بھی اس ویکسین کا استعمال ہورہا ہے وہاں کورونا سے اموات کی شرح نمایاں حد تک کم ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">ماہرین کے مطابق ایسے ممالک جہاں اس ویکسین کا استعمال تاخیر سے ہوا وہاں بھی اموات کی شرح زیادہ ہے اور بی سی جی ایسے بزرگ افراد کو تحفظ فراہم کررہی ہے جن کو بچپن میں یہ ویکسین استعمال کرائی گئی تھی۔</p>
<p style="direction: rtl;">خیال رہے کہ بَسیلس کالمیٹ گیورین نامی ویکسین نومولود اور کم عمر بچوں کو ٹی بی سے بچاؤ کیلئے دی جاتی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ماہرین کے مطابق ٹی بی کی ویکسین کورونا کے علاج کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے اور بعض ممالک میں بی سی جی ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/255547</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2020 07:18:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-10-768x461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-10-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
