<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 02:20:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 02:20:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے متنازع اینکر ارنب گوسوامی نئی مشکل میں پھنس گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/256794/بھارت کے متنازع اینکر ارنب گوسوامی نئی مشکل میں پھنس گئے</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;img class="size-full wp-image-256795 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-7.png" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے متنازع صحافی اور ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اپنے ایک ٹی وی بیان کے بعد مشکلات کے بھنور میں پھنس گئے، ان کیخلاف مختلف شہروں میں سو سے زیادہ ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;بھارت کے نجی نیوز چینل ری پبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی گزشتہ دو دنوں سے خود خبروں کی زد میں ہیں اور اب تک ان کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں 100 سے زیادہ ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ریپبلک ٹی وی کے ایک پروگرام "پوچھتا ہے بھارت" میں انڈیا کی اہم سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے حوالے سے ارنب کی جانب سے متنازع بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;کانگریس رہنماؤں نے ری پبلک ٹی وی انتظامیہ اور اس کے مدیر ارنب گوسوامی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا تو دوسری جانب بنگلور کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;درخواست میں ری پبلک ٹی وی کے براڈ کاسٹ اور ارنب گوسوامی کے ذریعے کچھ بھی براڈ کاسٹ کرنے پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ میں مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے ممبر بھائی جگتاپ اور مہاراشٹر یوتھ کانگریس کے نائب صدر سورج ٹھاکر نے درخواستیں دائر کی ہیں جبکہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماجی کارکن اور بنگلور کے آر ٹی آئی کارکن محمد عارف جمیل نے بھی درخواست دائر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;دونوں درخواست گزاروں نے عدالت سے پال گھر میں دو سادھوؤں اور ان کے ڈرائیور کی پیٹ پیٹ کر مارڈالنے کے معاملے کو غلط طریقے سے فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اس واقعہ کو لے کر کانگریس صدرسونیا گاندھی پر الزام لگانے کے لیے ارنب گوسوامی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;ان ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ارنب گوسوامی کو تین ہفتوں کے لیے گرفتاری سے روکا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایم آر شاہ پر مشتمل بینچ نے ارنب کی درخواست پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="direction: rtl;"&gt;دو ججز کے بینچ نے ایف آئی آرز کو ختم کیے جانے کا فیصلہ تو نہیں سنایا لیکن انھیں تین ہفتوں کی مہلت ضرور مل گئی ہے، اس دوران وہ ضمانت قبل از گرفتاری کرا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><img class="size-full wp-image-256795 aligncenter" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-7.png" alt="" width="800" height="480" /></p>
<p style="direction: rtl;"><strong>بھارت کے متنازع صحافی اور ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اپنے ایک ٹی وی بیان کے بعد مشکلات کے بھنور میں پھنس گئے، ان کیخلاف مختلف شہروں میں سو سے زیادہ ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔</strong></p>
<p style="direction: rtl;">بھارت کے نجی نیوز چینل ری پبلک ٹی وی کے مدیر ارنب گوسوامی گزشتہ دو دنوں سے خود خبروں کی زد میں ہیں اور اب تک ان کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں 100 سے زیادہ ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں۔</p>
<p style="direction: rtl;">ریپبلک ٹی وی کے ایک پروگرام "پوچھتا ہے بھارت" میں انڈیا کی اہم سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے حوالے سے ارنب کی جانب سے متنازع بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">کانگریس رہنماؤں نے ری پبلک ٹی وی انتظامیہ اور اس کے مدیر ارنب گوسوامی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ کا رخ کیا تو دوسری جانب بنگلور کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔</p>
<p style="direction: rtl;">درخواست میں ری پبلک ٹی وی کے براڈ کاسٹ اور ارنب گوسوامی کے ذریعے کچھ بھی براڈ کاسٹ کرنے پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ میں مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے ممبر بھائی جگتاپ اور مہاراشٹر یوتھ کانگریس کے نائب صدر سورج ٹھاکر نے درخواستیں دائر کی ہیں جبکہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماجی کارکن اور بنگلور کے آر ٹی آئی کارکن محمد عارف جمیل نے بھی درخواست دائر کی ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">دونوں درخواست گزاروں نے عدالت سے پال گھر میں دو سادھوؤں اور ان کے ڈرائیور کی پیٹ پیٹ کر مارڈالنے کے معاملے کو غلط طریقے سے فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اس واقعہ کو لے کر کانگریس صدرسونیا گاندھی پر الزام لگانے کے لیے ارنب گوسوامی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p style="direction: rtl;">ان ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے ارنب گوسوامی کو تین ہفتوں کے لیے گرفتاری سے روکا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایم آر شاہ پر مشتمل بینچ نے ارنب کی درخواست پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کی۔</p>
<p style="direction: rtl;">دو ججز کے بینچ نے ایف آئی آرز کو ختم کیے جانے کا فیصلہ تو نہیں سنایا لیکن انھیں تین ہفتوں کی مہلت ضرور مل گئی ہے، اس دوران وہ ضمانت قبل از گرفتاری کرا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/256794</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2020 06:51:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-7-768x461.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/04/Untitled-1-7-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
