<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 17:24:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 17:24:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/259373/'ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے'</link>
      <description>&lt;caption id="attachment_259252" align="aligncenter" width="800"&gt;&lt;a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/06/hafeez.jpg"&gt;&lt;img class="size-full wp-image-259252" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/06/hafeez.jpg" alt="" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt; مشیر خزانہ حفیظ شیخ- فائل فوتو&lt;/caption&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کہتے ہیں کہ ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے، ماضی کےقرض واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے دوران عبدالحفیظ شیخ نےکہاکہ کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت قرضہ لے رہی ہے۔ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے، ماضی کے قرض واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہمیں ماضی کے قرضوں کوادا کرنے کےلئے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کریں گےتوقرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کرنے پڑے ہیں۔ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں 2700 ارب دینے پڑے۔صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس تقریبا 2 ہزار ارب ہوتے ہیں جب کہ قرضوں کی مد میں 2900 ارب روپے دینے ہیں۔ حکومت اقتدار میں آئی تو قرضوں کا بوجھ تھا، ایک وقت آیا کہ ہمارے پاس ڈالرز ختم ہوگئے تھے،ہم نے کوشش کی کہ اپنے اخراجات کو سختی سےروکیں، ہم نے جان بوجھ کر درآمدات کو کم کیا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر 3ارب ڈالر تک لائے۔کسی بھی ادارے کو ضمنی گرانٹ نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم کورونا کا بہانا نہیں بنارہے، کورونا نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا ہے، اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے،صنعتیں ، کارخانے اور دکانیں بند ہوئیں۔ کاروبار بند ہوئے تو ایف بی آر کی ٹیکسوں کی مدمیں وصولی بھی متاثرہوئی۔رواں سال کےپہلے 9 ماہ میں حکومت نےبڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔کورونا سے پہلےٹیکس محاصل میں17 فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف 1100 ارب روپےرکھاگیاتھااور ہم نے 1600ارب روپے حاصل کیے۔بیرونی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا۔موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ کو بڑھایا تھا، کورونا کی وجہ سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی بھی متاثر ہوئی اور ہم بمشکل 3900ارب روپے تک پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا سے معیشت کو 3 ہزارارب روپے کا نقصان ہوگا۔کورونا مزید کتنے وقت تک چلے گا اور کب چیزیں نارمل ہوں گی، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔لاک ڈاؤن سے بے روزگاری بڑھی اورغربت میں اضافہ ہوا۔حکومت نےکوروناسےنمٹنےکےلئے 1200ارب روپےکا پیکج دیا۔ اس مشکل حالات میں ایک کروڑ60لاکھ لوگوں تک نقدرقم پہنچانے کا فیصلہ کیا۔عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کومنتقل کیا گیا۔کورونا کی صورت حال کے تناظر میں کاروباری طبقے کےلئے متعدد اقدامات کیے، 6لاکھ بزنس انٹرپرائزز کو فائدہ پہنچایا گیا۔صارفین کے یوٹیلیٹی بلز کو بھی 6ماہ کےلئے موخر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;آئندہ بجٹ کےحوالےسےمشیر خزانہ نےکہاکہ عوام کےلئے یہ ریلیف والابجٹ ہےکیونکہ اس میں ٹیکس بہت کم کیےگئے ہیں،ہم نےمشکلات کےباوجودنئےٹیکس نہیں لگائے۔166ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی ہے، 200 ٹیرف لائنز پرڈیوٹی کوکم کیا جارہا ہے۔افراط زر کا ہدف ساڑھے 6 فیصد رکھا گیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ ہونے جارہی ہے، گیس کی قیمتوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ ہونے جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;مشیر خزانہ کاکہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لوگوں پر ظلم کرنےکےلئے نہیں بنایاگیا۔اقوام متحدہ کی طرح پوری دنیا کے لوگوں نے مل کر آئی ایم ایف بنایا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ایسا تعلق نہیں ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے تابعدار ہے اور نہ پاکستان آئی ایم ایف کے حکم کا پابند ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، کچھ چیزوں پرآئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کاموقف ہوتا ہے کہ آمدنی کے مطابق اخراجات کریں۔پتانہیں کیوں آئی ایم ایف کے معاملے کو توڑ مروڑ کرپیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<caption id="attachment_259252" align="aligncenter" width="800"><a href="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/06/hafeez.jpg"><img class="size-full wp-image-259252" src="http://www.aaj.tv/wp-content/uploads/2020/06/hafeez.jpg" alt="" width="800" height="480" /></a> مشیر خزانہ حفیظ شیخ- فائل فوتو</caption>
<p style="text-align: right;"><strong>مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کہتے ہیں کہ ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے، ماضی کےقرض واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے دوران عبدالحفیظ شیخ نےکہاکہ کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت قرضہ لے رہی ہے۔ہم قرض عیاشی کےلئے نہیں لے رہے، ماضی کے قرض واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہمیں ماضی کے قرضوں کوادا کرنے کےلئے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کریں گےتوقرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کرنے پڑے ہیں۔ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں 2700 ارب دینے پڑے۔صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس تقریبا 2 ہزار ارب ہوتے ہیں جب کہ قرضوں کی مد میں 2900 ارب روپے دینے ہیں۔ حکومت اقتدار میں آئی تو قرضوں کا بوجھ تھا، ایک وقت آیا کہ ہمارے پاس ڈالرز ختم ہوگئے تھے،ہم نے کوشش کی کہ اپنے اخراجات کو سختی سےروکیں، ہم نے جان بوجھ کر درآمدات کو کم کیا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر 3ارب ڈالر تک لائے۔کسی بھی ادارے کو ضمنی گرانٹ نہیں دی۔</p>
<p style="text-align: right;">مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم کورونا کا بہانا نہیں بنارہے، کورونا نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا ہے، اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے،صنعتیں ، کارخانے اور دکانیں بند ہوئیں۔ کاروبار بند ہوئے تو ایف بی آر کی ٹیکسوں کی مدمیں وصولی بھی متاثرہوئی۔رواں سال کےپہلے 9 ماہ میں حکومت نےبڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔کورونا سے پہلےٹیکس محاصل میں17 فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف 1100 ارب روپےرکھاگیاتھااور ہم نے 1600ارب روپے حاصل کیے۔بیرونی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا۔موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ کو بڑھایا تھا، کورونا کی وجہ سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی بھی متاثر ہوئی اور ہم بمشکل 3900ارب روپے تک پہنچے۔</p>
<p style="text-align: right;">عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کورونا سے معیشت کو 3 ہزارارب روپے کا نقصان ہوگا۔کورونا مزید کتنے وقت تک چلے گا اور کب چیزیں نارمل ہوں گی، اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔لاک ڈاؤن سے بے روزگاری بڑھی اورغربت میں اضافہ ہوا۔حکومت نےکوروناسےنمٹنےکےلئے 1200ارب روپےکا پیکج دیا۔ اس مشکل حالات میں ایک کروڑ60لاکھ لوگوں تک نقدرقم پہنچانے کا فیصلہ کیا۔عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کومنتقل کیا گیا۔کورونا کی صورت حال کے تناظر میں کاروباری طبقے کےلئے متعدد اقدامات کیے، 6لاکھ بزنس انٹرپرائزز کو فائدہ پہنچایا گیا۔صارفین کے یوٹیلیٹی بلز کو بھی 6ماہ کےلئے موخر کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">آئندہ بجٹ کےحوالےسےمشیر خزانہ نےکہاکہ عوام کےلئے یہ ریلیف والابجٹ ہےکیونکہ اس میں ٹیکس بہت کم کیےگئے ہیں،ہم نےمشکلات کےباوجودنئےٹیکس نہیں لگائے۔166ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی ہے، 200 ٹیرف لائنز پرڈیوٹی کوکم کیا جارہا ہے۔افراط زر کا ہدف ساڑھے 6 فیصد رکھا گیا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ ہونے جارہی ہے، گیس کی قیمتوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ ہونے جارہی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">مشیر خزانہ کاکہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لوگوں پر ظلم کرنےکےلئے نہیں بنایاگیا۔اقوام متحدہ کی طرح پوری دنیا کے لوگوں نے مل کر آئی ایم ایف بنایا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ایسا تعلق نہیں ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے تابعدار ہے اور نہ پاکستان آئی ایم ایف کے حکم کا پابند ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، کچھ چیزوں پرآئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کاموقف ہوتا ہے کہ آمدنی کے مطابق اخراجات کریں۔پتانہیں کیوں آئی ایم ایف کے معاملے کو توڑ مروڑ کرپیش کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/259373</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jun 2020 14:30:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
