<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 08:13:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 08:13:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تحفظ نسواں ایکٹ:دینی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس کل ہوگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/26161/%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%d9%86%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%8c</link>
      <description>&lt;p style="text-align: right"&gt;&lt;a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/ijlas.jpg"&gt;&lt;img class="alignnone wp-image-26162 size-full" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/ijlas.jpg" alt="ijlas" width="600" height="400" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right"&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:تحفظ نسواں ایکٹ کی منسوخی کیلئے حکومت پر دباوٴ بڑھانے کیلئے دینی جماعتوں کا ہنگامی سربراہی اجلاس کل جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ہو گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right"&gt;خواتین پر تشدد کے خاتمے سے متعلق ایکٹ پر مولانا فضل الرحمن نے شاید سب سے پہلے تنقید کا دروازہ کھولا، جن کی چوکھٹ پر بعد ازاں تمام مکاتب فکر کے علما اکھٹے ہوئے اور نوبت کل جماعتی کانفرنس بلانے تک جا پہنچی۔ مولانا فضل الرحمن نے معاملے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے کانفرنس سے قبل ہی وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کی اور انہیں ایکٹ پر نظرثانی کیلئے آمادہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right"&gt;سراج الحق، مولانا سمیع الحق اور دیگر مذہبی رہنماء پہلے ہی اپنا موٴقف دے چکے ہیں کہ ایکٹ میں ترامیم یا نظرثانی کے حوالے سے حکومتی رہنماوٴں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ مختلف مشاورتی اجلاسوں میں بھی فیصلہ ہوا کہ ایکٹ کی منسوخی کے موٴقف سے کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right"&gt;مولانا فضل الرحمن نے تو دینی جماعتوں کی طرف سے کوئی انتہائی قدم اٹھنے سے پہلے حکومت کو اس قانون پرنظرثانی کیلئے قائل تو کر لیا، مگر دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی میزبانی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں دیگر علماء اکرام مولانا کے موٴقف سے اتفاق کرتے ہیں یا الگ راستہ اختیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p style="text-align: right"><a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/ijlas.jpg"><img class="alignnone wp-image-26162 size-full" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/ijlas.jpg" alt="ijlas" width="600" height="400" /></a></p>
<p style="text-align: right"><strong>اسلام آباد:تحفظ نسواں ایکٹ کی منسوخی کیلئے حکومت پر دباوٴ بڑھانے کیلئے دینی جماعتوں کا ہنگامی سربراہی اجلاس کل جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ہو گا۔</strong></p>
<p style="text-align: right">خواتین پر تشدد کے خاتمے سے متعلق ایکٹ پر مولانا فضل الرحمن نے شاید سب سے پہلے تنقید کا دروازہ کھولا، جن کی چوکھٹ پر بعد ازاں تمام مکاتب فکر کے علما اکھٹے ہوئے اور نوبت کل جماعتی کانفرنس بلانے تک جا پہنچی۔ مولانا فضل الرحمن نے معاملے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے کانفرنس سے قبل ہی وزیراعظم اور وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کی اور انہیں ایکٹ پر نظرثانی کیلئے آمادہ کر لیا۔</p>
<p style="text-align: right">سراج الحق، مولانا سمیع الحق اور دیگر مذہبی رہنماء پہلے ہی اپنا موٴقف دے چکے ہیں کہ ایکٹ میں ترامیم یا نظرثانی کے حوالے سے حکومتی رہنماوٴں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ مختلف مشاورتی اجلاسوں میں بھی فیصلہ ہوا کہ ایکٹ کی منسوخی کے موٴقف سے کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔</p>
<p style="text-align: right">مولانا فضل الرحمن نے تو دینی جماعتوں کی طرف سے کوئی انتہائی قدم اٹھنے سے پہلے حکومت کو اس قانون پرنظرثانی کیلئے قائل تو کر لیا، مگر دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی میزبانی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں دیگر علماء اکرام مولانا کے موٴقف سے اتفاق کرتے ہیں یا الگ راستہ اختیار کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/26161</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Mar 2016 17:17:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذیشان خالد حسین)</author>
      <media:content type="image/" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/03/ijlas-150x150.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
