<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 07:51:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 07:51:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اُلّو کے بچے پیٹ کے بَل کیوں سوتے ہیں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30237963/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید آپ نے کبھی یہ دیکھا نہ ہو ، لیکن اُلو کے بچے ہمیشہ اوندھے منہ سوتے ہیں اور اس کی وجہ کوئی نہیں جانتا تھا۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان دنوں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہوئی ہے جس میں بالآخر اس کی وجہ بتا دی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ ویڈیو معروف صحافی اور مصنف مارک ریس نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں الو کے ایک بچے کو اوندھے منہ سوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو کے کیپشن میں مارک ریس بتاتے ہیں کہ 'مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ الو کے بچے اوندھے منہ کیوں سوتے ہیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/reviewwales/status/1274645239509254146"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارک ریس لکھتے ہیں کہ 'اس کی وجہ یہ ہے کہ الو کے بچوں کا سر بہت وزنی ہوتا ہے لیکن اس کی مناسب سے ان کا جسم بہت کمزور، جو ان کے سر کا وزن نہیں اٹھا پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ الو کے بچے اوندھے منہ سوتے ہیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارک ریس کی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اس پر بھانت بھانت کے تبصرے کر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک صارف نے لکھا ہے کہ 'آپ کی ٹویٹ معلوماتی بھی ہے اور افسوس میں مبتلا کردینے والی بھی۔' &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ٹویٹ کے بعد وہ الوﺅں کے متعلق گوگل پر سرچ کررہے ہیں جو انہوں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید آپ نے کبھی یہ دیکھا نہ ہو ، لیکن اُلو کے بچے ہمیشہ اوندھے منہ سوتے ہیں اور اس کی وجہ کوئی نہیں جانتا تھا۔</strong> </p>

<p>ان دنوں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہوئی ہے جس میں بالآخر اس کی وجہ بتا دی گئی ہے۔ </p>

<p>انڈیا ٹائمز کے مطابق یہ ویڈیو معروف صحافی اور مصنف مارک ریس نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں الو کے ایک بچے کو اوندھے منہ سوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ </p>

<p>ویڈیو کے کیپشن میں مارک ریس بتاتے ہیں کہ 'مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ الو کے بچے اوندھے منہ کیوں سوتے ہیں۔'</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/reviewwales/status/1274645239509254146"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p> 			</p>

<p>مارک ریس لکھتے ہیں کہ 'اس کی وجہ یہ ہے کہ الو کے بچوں کا سر بہت وزنی ہوتا ہے لیکن اس کی مناسب سے ان کا جسم بہت کمزور، جو ان کے سر کا وزن نہیں اٹھا پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ الو کے بچے اوندھے منہ سوتے ہیں۔'</p>

<p>مارک ریس کی یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اس پر بھانت بھانت کے تبصرے کر رہے ہیں۔ </p>

<p>ایک صارف نے لکھا ہے کہ 'آپ کی ٹویٹ معلوماتی بھی ہے اور افسوس میں مبتلا کردینے والی بھی۔' </p>

<p>کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس ٹویٹ کے بعد وہ الوﺅں کے متعلق گوگل پر سرچ کررہے ہیں جو انہوں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30237963</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Jun 2020 11:19:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/06/5ef4409ed2e08.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/06/5ef4409ed2e08.jpg"/>
        <media:title>-File
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
