<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 08:22:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 08:22:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کے مریضوں کے لیے انوکھے بستر تیار
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30238481/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں ایک جانب جہاں کورونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں اور بندشوں میں نرمی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب تیزی سے بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اسپتال قائم کرنے کی غرض سے گتے کے بنے ہوئے بستر تیار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQepdqa25ncWplapp6ZI9olqtnk2pvm2lhmZKXfG2ld5R1mmpxla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;AFP&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گتے سے بنائے جانے والے بیڈز کی خصوصی طور پر کیمیکلز سے کوٹنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ یہ بیڈ پانی کی وجہ سے خراب نہ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گتے سے بنائے گئے یہ بیڈز 300 کلو تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کی رپورٹ کے مطابق یہ بیڈ ڈیزائن کرنے والے وِکرم دھون کا کہنا ہے کہ ان بیڈز کا وزن انتہائی کم ہے اسے ایک شخص باآسانی اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQdqdtbGZ9fGVlZpRxd49okZp5k2p6qmNhl6KWanCpeJl6nnJqla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;AFP&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وِکرم دھون راجستھان کے بھیواڑی شہر میں قائم اپنے کارخانے میں بڑے پیمانے پر یہ بیڈز تیار کرنے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُن کے بقول، یہ بیڈز گتے کے مختلف حصوں کو جوڑ کر چند منٹ میں بنائے جا سکتے ہیں جب کہ یہ کافی پائدار اور کم وزن کے بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQZZ17bHp5aW5lZpV9ao9omZxrk3RynWJhk5aZanqbapNkqml6la5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;AFP&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے پانچ لاکھ 66 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ حکام نے 17 ہزار کے قریب ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQaJZye3l6enhlbZNraY9opJ5nk3RvpWdhmJeWZ3mYZ5FrnHpxla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;AFP&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کیسز کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں 26 لاکھ، برازیل میں 13 لاکھ جب کہ روس میں 6 لاکھ متاثرہ مریض موجود ہیں۔			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی کی ریاستی حکومت کی جانب سے شہر کے مضافات میں دس ہزار بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال بنایا جا رہا ہے۔ اس اسپتال میں صرف کورونا وائرس کے مریضوں کو رکھا جائے گا۔ اس اسپتال میں بھی گتے کے ان بیڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ممبئی میں بھی اسپتالوں میں جگہ کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں شہر کے اسپتالوں میں ان بیڈز کا استعمال شروع کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وِکرم دھون کے مطابق سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ کورونا وائرس صرف 24 گھنٹے ہی گتے کی سطح پر رہتا ہے۔ دیگر دھاتوں جیسے لوہا، لکڑی یا پلاسٹک کی سطح پر یہ تین سے چار دن تک رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے مارچ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی تھی کہ یہ وائرس پلاسٹک پر تین دن تک رہ سکتا ہے جب کہ گتے پر یہ صرف 24 گھنٹے ہی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ بیڈز بنانے والے وِکرم دھون نے اس کی لاگت کے حوالے سے نہیں بتایا تاہم بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک بیڈ کی لاگت 10 ڈالرز کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وِکرم دھون کا خیال ہے کہ اگر کورونا وائرس ختم بھی ہو جائے تو ان بیڈز کی مانگ مارکیٹ میں موجود ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں ایک جانب جہاں کورونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں اور بندشوں میں نرمی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب تیزی سے بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>

<p>بھارت میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اسپتال قائم کرنے کی غرض سے گتے کے بنے ہوئے بستر تیار کیے جا رہے ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQepdqa25ncWplapp6ZI9olqtnk2pvm2lhmZKXfG2ld5R1mmpxla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">AFP</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بھارتی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گتے سے بنائے جانے والے بیڈز کی خصوصی طور پر کیمیکلز سے کوٹنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ یہ بیڈ پانی کی وجہ سے خراب نہ ہوں۔</p>

<p>رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گتے سے بنائے گئے یہ بیڈز 300 کلو تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>

<p>خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کی رپورٹ کے مطابق یہ بیڈ ڈیزائن کرنے والے وِکرم دھون کا کہنا ہے کہ ان بیڈز کا وزن انتہائی کم ہے اسے ایک شخص باآسانی اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQdqdtbGZ9fGVlZpRxd49okZp5k2p6qmNhl6KWanCpeJl6nnJqla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">AFP</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وِکرم دھون راجستھان کے بھیواڑی شہر میں قائم اپنے کارخانے میں بڑے پیمانے پر یہ بیڈز تیار کرنے میں مصروف ہیں۔</p>

<p>اُن کے بقول، یہ بیڈز گتے کے مختلف حصوں کو جوڑ کر چند منٹ میں بنائے جا سکتے ہیں جب کہ یہ کافی پائدار اور کم وزن کے بھی ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQZZ17bHp5aW5lZpV9ao9omZxrk3RynWJhk5aZanqbapNkqml6la5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">AFP</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے پانچ لاکھ 66 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ حکام نے 17 ہزار کے قریب ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="http://us6.proxysite.one/index.php?q=oKrWqaWcY5DMmMhgr9OTosbY1WSa0qKQaJZye3l6enhlbZNraY9opJ5nk3RvpWdhmJeWZ3mYZ5FrnHpxla5qamiV1GmR1WLL1Zs"  alt="AFP" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">AFP</figcaption>
			</figure>
<p>بھارت کیسز کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں 26 لاکھ، برازیل میں 13 لاکھ جب کہ روس میں 6 لاکھ متاثرہ مریض موجود ہیں۔			</p>

<p>نئی دہلی کی ریاستی حکومت کی جانب سے شہر کے مضافات میں دس ہزار بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال بنایا جا رہا ہے۔ اس اسپتال میں صرف کورونا وائرس کے مریضوں کو رکھا جائے گا۔ اس اسپتال میں بھی گتے کے ان بیڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>

<p>ممبئی میں بھی اسپتالوں میں جگہ کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں شہر کے اسپتالوں میں ان بیڈز کا استعمال شروع کیا جا چکا ہے۔</p>

<p>وِکرم دھون کے مطابق سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ کورونا وائرس صرف 24 گھنٹے ہی گتے کی سطح پر رہتا ہے۔ دیگر دھاتوں جیسے لوہا، لکڑی یا پلاسٹک کی سطح پر یہ تین سے چار دن تک رہتا ہے۔</p>

<p>خیال رہے مارچ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی تھی کہ یہ وائرس پلاسٹک پر تین دن تک رہ سکتا ہے جب کہ گتے پر یہ صرف 24 گھنٹے ہی رہتا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ یہ بیڈز بنانے والے وِکرم دھون نے اس کی لاگت کے حوالے سے نہیں بتایا تاہم بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایک بیڈ کی لاگت 10 ڈالرز کے قریب ہے۔</p>

<p>وِکرم دھون کا خیال ہے کہ اگر کورونا وائرس ختم بھی ہو جائے تو ان بیڈز کی مانگ مارکیٹ میں موجود ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30238481</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2020 06:49:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5efd3d35caf83.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="675" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5efd3d35caf83.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
