<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 13:32:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 13:32:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کیخلاف پاکستان کی کارکردگی بھارت سے بہتر
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30239208/</link>
      <description>&lt;p&gt;مودی سرکار کورونا کے محاذ پر بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کورونا کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور کورونا کی اموات اور کیسز پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں بظاہر بہتر پرفارم کیا ہے اور اسی وجہ سے مودی سرکار کو اپنے ملک میں مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں پہلا کورونا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد مودی سرکار نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے پورے ملک میں سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ جس کی مدت کو کئی بار بڑھایا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب  بھارت کا غریب طبقہ مکمل تباہ ہوگیا اور کورونا کے بڑھاؤ کو بھی روکا نہ جاسکا۔ اور اب بھارت جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتا کورونا میٹر پر تیسرے نمبر پر آچکا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری طرف پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو آیا جس کے بعد لیے گئے اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ابھی کورونا میٹر میں بارہویں نمبر پر ہے۔ اس وقت بھارت میں کنفرم کیسز کی تعداد 767,296 ہے۔ پاکستان میں کنفرم کیسز 240,848 ہیں۔ بھارت میں اموات کی تعداد 21,129 اور پاکستان میں اموات 4,983 ہوچکی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت اپنی آبادی لے لحاظ سے ٹیسٹ بھی بہت کم کررہا ہے۔ بھارت ہر دس لاکھ شہریوں میں سے 7,782 افراد کا اب تک ٹیسٹ کرچکا ہے۔ جو کہ دنیا کے دوسری  سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے لیے ایک کم تعداد ہے۔ کیونکہ پاکستان اپنے ہر دس لاکھ شہریوں میں سے 6,750 افراد کا ٹیسٹ کرچکا ہے۔ اس وقت بھارت میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 275,289 اور پاکستان میں ایکٹیو کیسز کی تعداد90,554 ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مودی سرکار کورونا کے محاذ پر بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ </p>

<p>اگر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کورونا کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور کورونا کی اموات اور کیسز پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں بظاہر بہتر پرفارم کیا ہے اور اسی وجہ سے مودی سرکار کو اپنے ملک میں مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔</p>

<p>بھارت میں پہلا کورونا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد مودی سرکار نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے پورے ملک میں سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ جس کی مدت کو کئی بار بڑھایا گیا۔ </p>

<p>اب  بھارت کا غریب طبقہ مکمل تباہ ہوگیا اور کورونا کے بڑھاؤ کو بھی روکا نہ جاسکا۔ اور اب بھارت جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتا کورونا میٹر پر تیسرے نمبر پر آچکا ہے۔ </p>

<p>دوسری طرف پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو آیا جس کے بعد لیے گئے اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ابھی کورونا میٹر میں بارہویں نمبر پر ہے۔ اس وقت بھارت میں کنفرم کیسز کی تعداد 767,296 ہے۔ پاکستان میں کنفرم کیسز 240,848 ہیں۔ بھارت میں اموات کی تعداد 21,129 اور پاکستان میں اموات 4,983 ہوچکی ہیں۔ </p>

<p>بھارت اپنی آبادی لے لحاظ سے ٹیسٹ بھی بہت کم کررہا ہے۔ بھارت ہر دس لاکھ شہریوں میں سے 7,782 افراد کا اب تک ٹیسٹ کرچکا ہے۔ جو کہ دنیا کے دوسری  سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے لیے ایک کم تعداد ہے۔ کیونکہ پاکستان اپنے ہر دس لاکھ شہریوں میں سے 6,750 افراد کا ٹیسٹ کرچکا ہے۔ اس وقت بھارت میں ایکٹیو کیسز کی تعداد 275,289 اور پاکستان میں ایکٹیو کیسز کی تعداد90,554 ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30239208</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2020 22:33:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5f0754cf72421.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="475" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5f0754cf72421.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
