<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 06:41:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 06:41:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترک عدالت نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30239335/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکی کی عدالت نے عجائب گھر آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے تجویز دی تھی کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مسجد کا درجہ بحال کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترکی کی سب سے اعلیٰ انتظامی عدالت، کونسل آف سٹیٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں لکھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تصفیے کی دستاویز میں اسے مسجد کے لیے مختص کیا گیا لہذا قانونی طور پر اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے 1934 کا کابینہ کا فیصلہ جس میں اس عمارت کے مسجد کے کردار کو ختم کر کے میوزیم میں تبدیل کیا گیا وہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آیا صوفیہ جو کہ 16ویں صدی کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے مسیحیوں کی بازنطینی اور مسلمانوں کی سلطنتِ عثمانی دونوں کے لیے اہم تھا اور اب ترکی کی وہ یادگار ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد جاتے ہیں۔ ایا صوفیہ کی موجودہ عمارت ڈیڑھ ہزار سال قبل 538 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ترکی کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ امریکی، روسی یونانی افسران اور مسیحی رہنماؤں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکی کی عدالت نے عجائب گھر آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی۔</p>

<p>تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے تجویز دی تھی کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مسجد کا درجہ بحال کیا جائے۔</p>

<p>ترکی کی سب سے اعلیٰ انتظامی عدالت، کونسل آف سٹیٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں لکھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تصفیے کی دستاویز میں اسے مسجد کے لیے مختص کیا گیا لہذا قانونی طور پر اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>

<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے 1934 کا کابینہ کا فیصلہ جس میں اس عمارت کے مسجد کے کردار کو ختم کر کے میوزیم میں تبدیل کیا گیا وہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔‘</p>

<p>عدالتی فیصلے کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔</p>

<p>یاد رہے کہ آیا صوفیہ جو کہ 16ویں صدی کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے مسیحیوں کی بازنطینی اور مسلمانوں کی سلطنتِ عثمانی دونوں کے لیے اہم تھا اور اب ترکی کی وہ یادگار ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد جاتے ہیں۔ ایا صوفیہ کی موجودہ عمارت ڈیڑھ ہزار سال قبل 538 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی۔</p>

<p>تاہم ترکی کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ امریکی، روسی یونانی افسران اور مسیحی رہنماؤں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30239335</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2020 00:59:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مہدی قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5f08c872329d1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5f08c872329d1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
