<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:41:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:41:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آبادہائیکورٹ کاپاکستان نیوی کی کمرشل بلڈنگ کو سیل کرنےکاحکم
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30240231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان نیوی کی کمرشل بلڈنگ کو سیل کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے اوربورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کرلئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کیس پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ممبر سی ڈی اے نے بتایاکہ وزیراعظم پاکستان نے راول جھیل کے قریب تعمیرات کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے زمین کا الاٹمنٹ لیٹر سے متعلق پوچھا تو ممبر بورڈ سی ڈی اے نے الاٹمنٹ لیٹرنہ ہونے کا بتایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کی کارروائی سے متعلق پوچھا تو ممبر بورڈ نے نوٹسزجاری کرنے کا جواب دیا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے ممبربورڈ کے جواب پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کیا کہ غیرقانونی عمارت کوگرائیں ،نیوی سیلنگ کلب کی عمارت قانونی ہے یا غیرقانونی؟،جس پر ممبرسی ڈی اے نے بتایا کہ نیوی سیلنگ کلب غیرمنظورشدہ ہے ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہاکہ غیرمنظورشدہ کیا ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرقانونی ہے، سیکرٹری کابینہ ڈویژن سیلنگ کلب سیل کریں اور آئندہ سماعت تک سیل رہے، معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے بھی رکھیں ،قانون کی بالادستی ہو گی کوئی قانون سے بالاترنہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے روال جھیل کے کنارے پاکستان نیوی کی کمرشل عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور سی ڈی اے بورڈ ممبران حلف نامے جمع کرائیں، کیوں نہ مبینہ غفلت کی وجہ سے سی ڈی اے کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان نیوی کی کمرشل بلڈنگ کو سیل کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے اوربورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کرلئے۔</strong></p>

<p>اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کیس پر سماعت کی۔</p>

<p>ممبر سی ڈی اے نے بتایاکہ وزیراعظم پاکستان نے راول جھیل کے قریب تعمیرات کی اجازت دی۔</p>

<p>چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے زمین کا الاٹمنٹ لیٹر سے متعلق پوچھا تو ممبر بورڈ سی ڈی اے نے الاٹمنٹ لیٹرنہ ہونے کا بتایا۔</p>

<p>چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کی کارروائی سے متعلق پوچھا تو ممبر بورڈ نے نوٹسزجاری کرنے کا جواب دیا ۔</p>

<p>جسٹس اطہر من اللہ نے ممبربورڈ کے جواب پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کیا کہ غیرقانونی عمارت کوگرائیں ،نیوی سیلنگ کلب کی عمارت قانونی ہے یا غیرقانونی؟،جس پر ممبرسی ڈی اے نے بتایا کہ نیوی سیلنگ کلب غیرمنظورشدہ ہے ۔</p>

<p>چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہاکہ غیرمنظورشدہ کیا ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرقانونی ہے، سیکرٹری کابینہ ڈویژن سیلنگ کلب سیل کریں اور آئندہ سماعت تک سیل رہے، معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے بھی رکھیں ،قانون کی بالادستی ہو گی کوئی قانون سے بالاترنہیں ہے۔ </p>

<p>اسلام آباد ہائیکورٹ نے روال جھیل کے کنارے پاکستان نیوی کی کمرشل عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔</p>

<p>چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور سی ڈی اے بورڈ ممبران حلف نامے جمع کرائیں، کیوں نہ مبینہ غفلت کی وجہ سے سی ڈی اے کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے۔</p>

<p>بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول جھیل کے قریب غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30240231</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2020 12:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Sajid Siddique)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5f193e1cda763.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5f193e1cda763.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
