<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:41:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:41:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلانشان حیدر پانے والے کیپٹن محمد سرورشہید کاآج 72واں یوم شہادت
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30240485/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی : پہلانشان حیدر پانے والے پاکستان کے عظیم سپوت جانباز کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 72واں یوم شہادت منایا جارہا ہے،انہوں نے 1948میں جنگ کشمیر کے دوران شہادت کا جام پیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگ کشمیر1948کے ہیرو کی عظیم قربانی کوقوم کی جانب سے زبردست خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کےعظیم سپوت اورپہلا نشان حیدرپانے والے پاک فوج کے کیپٹن محمدسرورکی یوم شہادت کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ کیپٹن سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات ہمیشہ یاد ر کھی جائےگی۔
&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;Nation venerates supreme sacrifice of Capt Muhammad Sarwar Shaheed, NH, &lt;a href="https://twitter.com/hashtag/Kashmir?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;#Kashmir&lt;/a&gt; War 1948. His insurmountable courage &amp;amp; unwavering loyalty will forever be an epitome of valiance. Every bullet he took 4 country, for Kashmir, strengthens our resolve to defend Pakistan at all cost.&lt;/p&gt;&amp;mdash; DG ISPR (@OfficialDGISPR) &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/1287462952401018881?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;July 26, 2020&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے مزید لکھا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات اور وطن سے غیرمتزلزل وفاداری ہمیشہ بہادری کا استعارہ رہے گی جبکہ کشمیر اور وطن کی خاطران کے سینے پرلگی ہرگولی  دفاع وطن کے عزم کو مزید جلا بخشتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی،1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد سرور کے فوجی دستے نے گلگت بلتستان میں لداخ کی طرف بھارتی فوج کو پسپا کیا تھا جس کے بعد دشمن نے کیپٹن سرور کا راستہ خاردار تاروں سے بند کیا تو انہوں نے انہیں کاٹ ڈالا تھا، خاردار تاریں کاٹنے کے دوران گولہ باری سے کیپٹن سرور کے سینے پر زخم آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ستائیس جولائی 1948ء جب ان کی بٹالین نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی ایک اہم پوزیشن پر حملہ کیا تو اس حملے کے دوران انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، مجاہدین نے جب انہیں شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ستائیس اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مادر وطن کی خاطر بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے والے کیپٹن سرور شہید آج دہشت گردوں اور اندرونی چیلنجز سے نبرد آزما پاک فوج کے جری سپوتوں کلئے  بہادری کی روشن مثال ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی : پہلانشان حیدر پانے والے پاکستان کے عظیم سپوت جانباز کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 72واں یوم شہادت منایا جارہا ہے،انہوں نے 1948میں جنگ کشمیر کے دوران شہادت کا جام پیا۔</strong></p>

<p>جنگ کشمیر1948کے ہیرو کی عظیم قربانی کوقوم کی جانب سے زبردست خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔</p>

<p>پاکستان کےعظیم سپوت اورپہلا نشان حیدرپانے والے پاک فوج کے کیپٹن محمدسرورکی یوم شہادت کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ کیپٹن سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات ہمیشہ یاد ر کھی جائےگی۔
<blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">Nation venerates supreme sacrifice of Capt Muhammad Sarwar Shaheed, NH, <a href="https://twitter.com/hashtag/Kashmir?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#Kashmir</a> War 1948. His insurmountable courage &amp; unwavering loyalty will forever be an epitome of valiance. Every bullet he took 4 country, for Kashmir, strengthens our resolve to defend Pakistan at all cost.</p>&mdash; DG ISPR (@OfficialDGISPR) <a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/1287462952401018881?ref_src=twsrc%5Etfw">July 26, 2020</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>

<p>ترجمان پاک فوج نے مزید لکھا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی ناقابل تسخیر جرات اور وطن سے غیرمتزلزل وفاداری ہمیشہ بہادری کا استعارہ رہے گی جبکہ کشمیر اور وطن کی خاطران کے سینے پرلگی ہرگولی  دفاع وطن کے عزم کو مزید جلا بخشتی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے۔</p>

<p>محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔</p>

<p>جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔</p>

<p>قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی،1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔</p>

<p>محمد سرور کے فوجی دستے نے گلگت بلتستان میں لداخ کی طرف بھارتی فوج کو پسپا کیا تھا جس کے بعد دشمن نے کیپٹن سرور کا راستہ خاردار تاروں سے بند کیا تو انہوں نے انہیں کاٹ ڈالا تھا، خاردار تاریں کاٹنے کے دوران گولہ باری سے کیپٹن سرور کے سینے پر زخم آئے تھے۔</p>

<p>ستائیس جولائی 1948ء جب ان کی بٹالین نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی ایک اہم پوزیشن پر حملہ کیا تو اس حملے کے دوران انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، مجاہدین نے جب انہیں شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے۔</p>

<p>ستائیس اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔</p>

<p>مادر وطن کی خاطر بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے والے کیپٹن سرور شہید آج دہشت گردوں اور اندرونی چیلنجز سے نبرد آزما پاک فوج کے جری سپوتوں کلئے  بہادری کی روشن مثال ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30240485</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2020 10:49:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (Sajid Siddique)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5f1e508772c8e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5f1e508772c8e.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
