<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 17:44:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 17:44:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی عدالت نے علی بابا کمپنی کے سی ای او کو سنسرشپ کے الزام میں طلب کرلیا
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30240502/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی عدالت نے چین کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے سی ای او کو سنسرشپ کے الزام میں طلب کرلیا ہے، سابق انڈین ملازم نے کمپنی کے خلاف دعویٰ دائر کیا کہ علی بابا کی دوموبائل ایپس کی جعلی خبروں اورمواد کی سنسرشپ کی نشاندہی پر کمپنی نے مجھے برطرف کردیاتھا، یہ الزام ایسے وقت میں لگایا جب بھارت نے کشیدگی کے باعث چینی موبائل ایپس پر پابندی عائد کررکھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیرملکی میڈیا کے مطابق چین کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے خلاف سابق انڈین ملازم نے موبائل ایپ کے مواد کو سنسرکرنے پر کیس دائر کردیا ہے۔ جس کے باعث بھارتی عدالت نے علی بابا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جیک ما کو 29 جولائی 2020ء کو طلب کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے علی بابا کے سابق انڈین ملازم کی جانب یہ مقدمہ یا ہرجانے کا دعویٰ اس وقت دائر کیا گیا ہے جب چین اور بھارت کی کشیدگی عروج پر ہے، اور انڈیا نے چین کے موبائل ایپس پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق ملازم کی جانب سے یہ کیس 20جولائی کو دائر کیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل کوئی درخواست تک نہیں دی گئی۔جس سے ملازم کے الزام کی تصدیق کی جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کی ڈسٹرکٹ کورٹ گوروگرام کی سول جج سونیا نے جیک ما کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ جس میں سابق ملازم کی جانب سے علی بابا کی دو موبائل ایپ یوسی نیوز اور یوسی براؤزر سے متعلق الزام عائد کیا گیا ہے کہ علی بابا کی یوسی ویب جہاں موبائل ایپ کو تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہاں پر فرم چین کیخلاف شرم ناک مواد کو دیکھنے کے بعد سنسر کردیتی ہے، جس سے پتا چلا کہ اس کی موبائل سروسز جعلی خبریں پھیلاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملازم نے بتایا کہ میں یوسی ویب آفس گروگرام میں اکتوبر 2017ء تک بطور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کام کرتا رہا۔لیکن مجھے علی بابا کمپنی نے اس وقت برطرف کردیا جب میں نے جعلی خبروں اور سنسرشپ کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی عدالت نے چین کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے سی ای او کو سنسرشپ کے الزام میں طلب کرلیا ہے، سابق انڈین ملازم نے کمپنی کے خلاف دعویٰ دائر کیا کہ علی بابا کی دوموبائل ایپس کی جعلی خبروں اورمواد کی سنسرشپ کی نشاندہی پر کمپنی نے مجھے برطرف کردیاتھا، یہ الزام ایسے وقت میں لگایا جب بھارت نے کشیدگی کے باعث چینی موبائل ایپس پر پابندی عائد کررکھی ہے۔</strong></p>

<p>غیرملکی میڈیا کے مطابق چین کی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے خلاف سابق انڈین ملازم نے موبائل ایپ کے مواد کو سنسرکرنے پر کیس دائر کردیا ہے۔ جس کے باعث بھارتی عدالت نے علی بابا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جیک ما کو 29 جولائی 2020ء کو طلب کرلیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے علی بابا کے سابق انڈین ملازم کی جانب یہ مقدمہ یا ہرجانے کا دعویٰ اس وقت دائر کیا گیا ہے جب چین اور بھارت کی کشیدگی عروج پر ہے، اور انڈیا نے چین کے موبائل ایپس پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے۔</p>

<p>سابق ملازم کی جانب سے یہ کیس 20جولائی کو دائر کیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل کوئی درخواست تک نہیں دی گئی۔جس سے ملازم کے الزام کی تصدیق کی جاسکے۔</p>

<p>بھارت کی ڈسٹرکٹ کورٹ گوروگرام کی سول جج سونیا نے جیک ما کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ جس میں سابق ملازم کی جانب سے علی بابا کی دو موبائل ایپ یوسی نیوز اور یوسی براؤزر سے متعلق الزام عائد کیا گیا ہے کہ علی بابا کی یوسی ویب جہاں موبائل ایپ کو تیار کیا جاتا ہے۔</p>

<p>وہاں پر فرم چین کیخلاف شرم ناک مواد کو دیکھنے کے بعد سنسر کردیتی ہے، جس سے پتا چلا کہ اس کی موبائل سروسز جعلی خبریں پھیلاتی ہیں۔</p>

<p>ملازم نے بتایا کہ میں یوسی ویب آفس گروگرام میں اکتوبر 2017ء تک بطور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کام کرتا رہا۔لیکن مجھے علی بابا کمپنی نے اس وقت برطرف کردیا جب میں نے جعلی خبروں اور سنسرشپ کی نشاندہی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30240502</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2020 12:37:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/07/5f1e83f7e4308.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="3129" width="4694">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/07/5f1e83f7e4308.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
