<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 03:46:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 03:46:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت فوجی سازو سامان کی 100 سے زائد مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30241450/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی وزارت دفاع نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ملک میں داخلی پیداوار بڑھانے کی کوشش کے لیے فوجی ساز و سامان کی 101 مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی کا یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت کو ’آتم  نربھر‘، یعنی ایک خود انحصار قوم بنانے کی خواہش کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اس سال کے دوران اور سن 2024  تک چند مخصوص فوجی درآمدات پر پابندی کو آہستہ آہستہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور اس فہرست کو وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ یا پھر اس میں توسیع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راج ناتھ سنگھ کے بقول یہ دفاع میں خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’ہمارا مقصد بھارتی دفاعی صنعت کو مسلح افواج کے تقاضوں کے مطابق بہتر کرنا ہے تاکہ وہ مقامی اسلحہ سازی کے مقصد کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس کے مطابق درآمدی پابندی کی فہرست میں شامل فوجی ساز و سامان میں گولہ بارود، سونارس اور ریڈار سے لے کر رائفلز ، طیارہ شکن توپوں والے جہاز، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر ٹرانسپورٹر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت، فوجی سازوسامان کا تیسرا بڑا خریدار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس برس مئی میں جب مودی نے ’آتم نربھر‘  مہم کا اعلان کیا تو نئی دہلی حکومت نے کہا کہ ایسے اسلحہ کی درآمد روک دی جائے گی جو ملک کے اندر ہی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد کورونا بحران کے دوران قومی معیشت کو خود انحصار بنانا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اپریل میں شائع ہونےوالے ایک جائزے کے مطابق، امریکا اور چین کے بعد بھارت گزشتہ سال کے دوران عسکری سازوسامان کا تیسرا بڑا خریدار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرد جنگ کے دوران، بھارت زیادہ تر فوجی سازوسامان کے لیے سابق سوویت یونین پر انحصار کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے امریکا کا رخ کیا اور تجارت کو مزید وسیع کردیا&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے لیے جدید فوجی سازوسامان کی خریداری کے لیے فروری میں وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین ارب ڈالر سے زیادہ کے معاہدے پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کورونا کی وبا کے بعد سے وزیراعظم مودی ملک میں تیار کی جانے والی اشیاء جیسے ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) کو فروغ دینے اور بھارت کی چھوٹی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے زور دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ’آتم نربھر‘  مہم کے ساتھ ساتھ اپنے ’میک ان انڈیا‘ پروگرام کا بھی آغاز کیا تھا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی وزارت دفاع نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ملک میں داخلی پیداوار بڑھانے کی کوشش کے لیے فوجی ساز و سامان کی 101 مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی۔</p>

<p>نئی دہلی کا یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت کو ’آتم  نربھر‘، یعنی ایک خود انحصار قوم بنانے کی خواہش کا حصہ ہے۔</p>

<p>وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اس سال کے دوران اور سن 2024  تک چند مخصوص فوجی درآمدات پر پابندی کو آہستہ آہستہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور اس فہرست کو وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ یا پھر اس میں توسیع کی جائے گی۔</p>

<p>راج ناتھ سنگھ کے بقول یہ دفاع میں خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’ہمارا مقصد بھارتی دفاعی صنعت کو مسلح افواج کے تقاضوں کے مطابق بہتر کرنا ہے تاکہ وہ مقامی اسلحہ سازی کے مقصد کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں۔‘‘</p>

<p>بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس کے مطابق درآمدی پابندی کی فہرست میں شامل فوجی ساز و سامان میں گولہ بارود، سونارس اور ریڈار سے لے کر رائفلز ، طیارہ شکن توپوں والے جہاز، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر ٹرانسپورٹر شامل ہیں۔</p>

<p><strong>بھارت، فوجی سازوسامان کا تیسرا بڑا خریدار</strong></p>

<p>اس برس مئی میں جب مودی نے ’آتم نربھر‘  مہم کا اعلان کیا تو نئی دہلی حکومت نے کہا کہ ایسے اسلحہ کی درآمد روک دی جائے گی جو ملک کے اندر ہی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد کورونا بحران کے دوران قومی معیشت کو خود انحصار بنانا تھا۔</p>

<p>اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اپریل میں شائع ہونےوالے ایک جائزے کے مطابق، امریکا اور چین کے بعد بھارت گزشتہ سال کے دوران عسکری سازوسامان کا تیسرا بڑا خریدار تھا۔</p>

<p>سرد جنگ کے دوران، بھارت زیادہ تر فوجی سازوسامان کے لیے سابق سوویت یونین پر انحصار کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے امریکا کا رخ کیا اور تجارت کو مزید وسیع کردیا</p>

<p>بھارت کے لیے جدید فوجی سازوسامان کی خریداری کے لیے فروری میں وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین ارب ڈالر سے زیادہ کے معاہدے پر دستخط کیے۔</p>

<p>کورونا کی وبا کے بعد سے وزیراعظم مودی ملک میں تیار کی جانے والی اشیاء جیسے ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) کو فروغ دینے اور بھارت کی چھوٹی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے زور دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ’آتم نربھر‘  مہم کے ساتھ ساتھ اپنے ’میک ان انڈیا‘ پروگرام کا بھی آغاز کیا تھا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30241450</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2020 10:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/08/5f30dba524c23.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1345" width="2100">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/08/5f30dba524c23.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
