<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 02:18:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 02:18:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں میں کورونا سے موت کا خطرہ کتنا؟ تحقیق میں اہم انکشاف
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30242936/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس سے بچوں میں شدید بیماری اور موت کا امکان بہت کم ہوتا ہے تاہم انہیں بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں کرونا وائرس کے ایک فیصد سے بھی کم کیسز بچوں میں سامنے آئے جبکہ ان سے ہلاکتوں کی شرح ایک فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متعدد برطانوی اداروں نے اس تحقیق میں 19 سال سے کم عمر 651 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جو برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں جنوری سے جولائی کے دوران 138 اسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں زیر علاج رہنے والے تمام مریضوں میں سے ان کم عمر مریضوں کی شرح 0.9 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ان کم عمر مریضوں میں سے 6 یا ایک فیصد کا اسپتال میں انتقال ہوا جبکہ دیگر عمر کے کرونا مریضوں میں اس عرصے کے دوران یہ شرح 27 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 18 فیصد بچوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی جبکہ ان میں سے سے عام علامات بخار، کھانسی، دل متلانا یا قے اور سانس لینے میں مشکلات تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 11 فیصد مریضوں میں ملٹی سسٹم انفلیمٹری سینڈروم یا ایم آئی ایس سی کو دیکھا گیا جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصے پھول جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ بیشتر بچوں میں اس بیماری کی شدت اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ انہیں ہسپتال میں زیرعلاج رہنا پڑے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس سے بچوں میں شدید بیماری اور موت کا امکان بہت کم ہوتا ہے تاہم انہیں بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔</p>

<p>برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں کرونا وائرس کے ایک فیصد سے بھی کم کیسز بچوں میں سامنے آئے جبکہ ان سے ہلاکتوں کی شرح ایک فیصد تھی۔</p>

<p>متعدد برطانوی اداروں نے اس تحقیق میں 19 سال سے کم عمر 651 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جو برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں جنوری سے جولائی کے دوران 138 اسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں زیر علاج رہنے والے تمام مریضوں میں سے ان کم عمر مریضوں کی شرح 0.9 فیصد تھی۔</p>

<p>جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ان کم عمر مریضوں میں سے 6 یا ایک فیصد کا اسپتال میں انتقال ہوا جبکہ دیگر عمر کے کرونا مریضوں میں اس عرصے کے دوران یہ شرح 27 فیصد رہی۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 18 فیصد بچوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی جبکہ ان میں سے سے عام علامات بخار، کھانسی، دل متلانا یا قے اور سانس لینے میں مشکلات تھیں۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 11 فیصد مریضوں میں ملٹی سسٹم انفلیمٹری سینڈروم یا ایم آئی ایس سی کو دیکھا گیا جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصے پھول جاتے ہیں۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ بیشتر بچوں میں اس بیماری کی شدت اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ انہیں ہسپتال میں زیرعلاج رہنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30242936</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Aug 2020 10:34:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/08/5f4c8bed5d7fd.png" type="image/png" medium="image" height="675" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/08/5f4c8bed5d7fd.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
