<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:50:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:50:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیوہیکل جاپانی روبوٹ ’گن دَم‘ متحرک
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30244669/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان میں 70 کی دہائی کی کامک انیمی سیریز میں ماڈل کے طور پر استعمال ہونے والے 18 میٹر لمبے اور 25 ٹن بھاری جاپانی روبوٹ کو کئی سالوں کی کاوشوں کے بعد حرکت میں لایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی اخبار گارجین کے مطابق انجنئیرز نے اس روبوٹ کو چھ سال قبل اس طرح ڈیزائن کرنا شروع کیا تھا کہ اس کے ایک ایک حصے کا وزن دھیان میں رکھا جائے، تاکہ اس کے پرزے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ نہ جائیں اور پورے 24 پرزے ٹھیک سے کام کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’گن دم‘ روبوٹ کو روان ہفتے جاپان کے شہر یوکوہاما میں آزمایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گن دم جاپانی فوج سے متعلق سائنس فکشن میڈیا فرنچائز ہے جس کی خصوصیت بڑے ہجم کے روبوٹس ہیں جن کا نام گن دَم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں حرکت میں آنے والے اس روبوٹ کو یکم اکتوبر کو ٹوکیو شہر میں گن دم فیکٹری یوکوہاما میں نمائش پر رکھا جانا تھا۔ تاہم سائٹ آپریٹر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اب اس روبوٹ کی  سرکاری طور پر رونمائی سال کے آخر تک ہی ہوگی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'دنیا بھر میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ فیصلہ (گن دم کے) مداحوں اور فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کی صحت کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں ان مداحوں سے معذرت کی گئی ہے جو اس دیو قامت روبوٹ کی رونمائی کی تقریب کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
'اس دوران ہم تیاریاں کریں گے کہ ہمارے تمام زائرین محفوظ ماحول میں (تقریب میں) لطف اندوز ہو سکیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گن دم کی فرنچائز میں اب فلمیں، پلاسٹک کے ماڈلز اور ویڈیو گیمز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں ہفتے مداحواں کو ایک &lt;a href="https://youtu.be/nnFhoW0fYpM"&gt;&lt;strong&gt;ویڈیو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دکھائی گئی تھی جس میں اس بڑے روبوٹ کو اپنا گھٹنا، ہاتھ اور انگلیاں ہلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان میں 70 کی دہائی کی کامک انیمی سیریز میں ماڈل کے طور پر استعمال ہونے والے 18 میٹر لمبے اور 25 ٹن بھاری جاپانی روبوٹ کو کئی سالوں کی کاوشوں کے بعد حرکت میں لایا گیا ہے۔</strong></p>

<p>برطانوی اخبار گارجین کے مطابق انجنئیرز نے اس روبوٹ کو چھ سال قبل اس طرح ڈیزائن کرنا شروع کیا تھا کہ اس کے ایک ایک حصے کا وزن دھیان میں رکھا جائے، تاکہ اس کے پرزے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ نہ جائیں اور پورے 24 پرزے ٹھیک سے کام کریں۔</p>

<p>’گن دم‘ روبوٹ کو روان ہفتے جاپان کے شہر یوکوہاما میں آزمایا گیا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ گن دم جاپانی فوج سے متعلق سائنس فکشن میڈیا فرنچائز ہے جس کی خصوصیت بڑے ہجم کے روبوٹس ہیں جن کا نام گن دَم ہے۔</p>

<p>حال ہی میں حرکت میں آنے والے اس روبوٹ کو یکم اکتوبر کو ٹوکیو شہر میں گن دم فیکٹری یوکوہاما میں نمائش پر رکھا جانا تھا۔ تاہم سائٹ آپریٹر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اب اس روبوٹ کی  سرکاری طور پر رونمائی سال کے آخر تک ہی ہوگی۔  </p>

<p>ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'دنیا بھر میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ فیصلہ (گن دم کے) مداحوں اور فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کی صحت کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔'</p>

<p>بیان میں ان مداحوں سے معذرت کی گئی ہے جو اس دیو قامت روبوٹ کی رونمائی کی تقریب کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
'اس دوران ہم تیاریاں کریں گے کہ ہمارے تمام زائرین محفوظ ماحول میں (تقریب میں) لطف اندوز ہو سکیں۔'</p>

<p>گن دم کی فرنچائز میں اب فلمیں، پلاسٹک کے ماڈلز اور ویڈیو گیمز بھی شامل ہیں۔</p>

<p>رواں ہفتے مداحواں کو ایک <a href="https://youtu.be/nnFhoW0fYpM"><strong>ویڈیو</strong></a> دکھائی گئی تھی جس میں اس بڑے روبوٹ کو اپنا گھٹنا، ہاتھ اور انگلیاں ہلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30244669</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2020 11:57:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/09/5f6c434f9075b.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/09/5f6c434f9075b.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
