<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 05:00:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 05:00:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کا انوکھا کارنامہ ، پیاز فحش قرار
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30245589/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیس بُک نے پیاز کی کچھ تصویروں کو "بچوں کےلیے نامناسب" قرار دیتے  ہوئے بلاک کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://futurism.com/the-byte/facebook-algorithm-flags-onions-overtly-sexualized"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کینیڈا کے ایک زرعی ادارے نے فیس بک کو اپنا اشتہار دیا جس میں سبزیوں کی ٹوکری میں پیاز کا ڈھیر دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن فیس بُک میں فحش، برہنہ اور بچوں کےلیے نامناسب تصویروں کی نشاندہی کرنے والے الگورتھم آٹومیٹک سسٹم  نے شوخ رنگت والے پیاز کو ’’جنسی مواد‘‘ کے طور پر پر سمجھ کر پوسٹ کو اپروو کرنے سے انکار کردیا ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حیران کن طور پر  گیز سیڈ کمپنی نے بھی اپنے اشتہار کی عبارت میں بہت مبہم زبان استعمال کرتے ہوئے صرف انتہائی میٹھی، نرم اور بڑی جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے اور یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ پیاز یا زراعت سے متعلق مصنوعات فروخت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ اگلے روز فیس بک کی جانب سے اس کمپنی کو مطلع کیا گیا کہ ان کے دیئے گئے اشتہار میں ’’انتہائی فحش‘‘ تصویر استعمال کی گئی ہے لہذا ویب سائٹ پر ان کا اشتہار ڈسپلے نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/TheSeedCompanyNL/photos/a.1563339357262302/2683163615279865/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیاز کے اشتہار میں کیا فحاشی تھی؟ اس بات پر فیس بُک انتظامیہ اور گیز کمپنی میں بحث جاری ہے۔ البتہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مضحکہ خیز واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ابھی خودکار کمپیوٹر پروگرام اتنے ’’ذہین‘‘ نہیں ہوئے ہیں کہ ہر کام اور ہر معاملے میں ان پر بھروسہ کیا جانے لگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ خبر مزاحیہ ضرور ہے لیکن انسان کی بنائی ہوئی جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت کی خامیوں کو ظاہر بھی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیس بُک نے پیاز کی کچھ تصویروں کو "بچوں کےلیے نامناسب" قرار دیتے  ہوئے بلاک کردیا۔</strong></p>

<p><a href="https://futurism.com/the-byte/facebook-algorithm-flags-onions-overtly-sexualized"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کینیڈا کے ایک زرعی ادارے نے فیس بک کو اپنا اشتہار دیا جس میں سبزیوں کی ٹوکری میں پیاز کا ڈھیر دکھایا گیا تھا۔</p>

<p>لیکن فیس بُک میں فحش، برہنہ اور بچوں کےلیے نامناسب تصویروں کی نشاندہی کرنے والے الگورتھم آٹومیٹک سسٹم  نے شوخ رنگت والے پیاز کو ’’جنسی مواد‘‘ کے طور پر پر سمجھ کر پوسٹ کو اپروو کرنے سے انکار کردیا ۔ </p>

<p>حیران کن طور پر  گیز سیڈ کمپنی نے بھی اپنے اشتہار کی عبارت میں بہت مبہم زبان استعمال کرتے ہوئے صرف انتہائی میٹھی، نرم اور بڑی جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے اور یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ پیاز یا زراعت سے متعلق مصنوعات فروخت کررہے ہیں۔</p>

<p>کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ اگلے روز فیس بک کی جانب سے اس کمپنی کو مطلع کیا گیا کہ ان کے دیئے گئے اشتہار میں ’’انتہائی فحش‘‘ تصویر استعمال کی گئی ہے لہذا ویب سائٹ پر ان کا اشتہار ڈسپلے نہیں ہوگا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/TheSeedCompanyNL/photos/a.1563339357262302/2683163615279865/" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پیاز کے اشتہار میں کیا فحاشی تھی؟ اس بات پر فیس بُک انتظامیہ اور گیز کمپنی میں بحث جاری ہے۔ البتہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مضحکہ خیز واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ابھی خودکار کمپیوٹر پروگرام اتنے ’’ذہین‘‘ نہیں ہوئے ہیں کہ ہر کام اور ہر معاملے میں ان پر بھروسہ کیا جانے لگے۔</p>

<p>یہ خبر مزاحیہ ضرور ہے لیکن انسان کی بنائی ہوئی جدید ترین ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت کی خامیوں کو ظاہر بھی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30245589</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Oct 2020 08:54:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2020/10/5f7e8d4e8ba3f.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2020/10/5f7e8d4e8ba3f.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
